Categories
نان فکشن

شانتا راما – باب 15: امرت منتھن (ترجمہ: فروا شفقت)

’’شانتاراما‘‘ برصغیر کی فلم انڈسٹری کے بانیوں میں شامل وی شانتا رام کی آپ بیتی ہے جو انھوں نے اپنی آخری عمر میں مراٹھی میں بول کر لکھوائی اور چھپوائی تھی۔ بعد میں اس کا ہندی روپ شائع ہوا۔ شانتارام جن کا پورا نام شانتارام راجارام وانکودرے تھا، 18 نومبر 1901 کو پیدا ہوئے اور 30 اکتوبر 1990 کو وفات پائی۔ مہاراشٹر کے شہر کولھاپور میں، جو برٹش راج کے دور میں ایک رجواڑے یا نوابی ریاست کا صدرمقام تھا، انھوں نے خاموش فلمیں بنانے سے آغاز کیا اور بعد میں پونا اور بمبئی میں مراٹھی اور ہندی کی بےشمار فلمیں بنائیں۔ اس طرح شانتارام کی لمبی پیشہ ورانہ زندگی کی دلچسپ داستان اس خطے کی فلمی دنیا کی تاریخ بھی ہے۔ اس تاریخ کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے کرداروں میں مختلف علاقوں، ذاتوں، زبانوں، طبقوں اور پیشوں کے لوگ شامل ہیں جنھوں نے مل کر ایک رنگارنگ منظرنامہ تیار کیا جس کی جھلکیاں اردو میں سعادت حسن منٹو کی ان تحریروں میں ملتی ہیں جن کا پس منظر 1940 کی دہائی کا بمبئی شہر اور وہاں کی فلمی دنیا ہے۔ ’’شانتاراما‘‘ میں اس دنیا کے رفتہ رفتہ بننے اور پھیلنے کی کہانی بڑے بےتکلف اور دلچسپ اسلوب میں بیان کی گئی ہے۔ شانتارام کی معروف ہندی فلموں میں سے چند کے نام یہ ہیں: ’’ڈاکٹر کوٹنِس کی امر کہانی‘‘ (1946)، ’’امر بھوپالی‘‘ (1951)، ’’جھنک جھنک پایل باجے‘‘ (1955)، ’’دو آنکھیں بارہ ہاتھ‘‘ (1957)۔ ’’شانتاراما‘‘ کا اردو روپ ہندی متن کی بنیاد پر فروا شفقت نے تیار کیا ہے جو گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں پی ایچ ڈی سکالر ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رات کے ڈھائی بجے ہوں گے۔ دور اُفق پر بمبئی بندرگاہ کی بتیاں ٹمٹماتی نظر آنے لگی تھیں۔ میں انہیں بڑی امیدبھری نظر سے دیکھ رہا تھا۔من میں آیا کہ جہاز کو ایک زور کا دھکا ماروں تاکہ وہ فوراً کنارے لگ جائے۔ جہاز سویرے ساگرکنارے پر لگنے والا تھا، لیکن میں اتنا بےصبر ہو گیا تھا کہ رات بارہ بجے ہی اٹھا اور نہا دھو کر اکیلا ہی ڈیک پر چہل قدمی کرنے لگا تھا، کسی پاگل کی طرح۔

سویرے جہاز کنارے پر لگنے لگا۔ جرمنی جاتے سمے مجھے اکیلا چھوڑ گئے لوگ اب پھر پاس آتے دکھائی دیے۔ سب سے پہلے وِمل دکھائی دی، جو کمار اور سروج کو ساتھ لیے بھیڑ میں مجھے کھوجتی نظر آئی۔ ایک الجھا سا خیال من کو چھو کر گیا کہ شاید وِنائک اور بابوراؤ پینڈھارکر کم سے کم میرا استقبال کرنے کے لیے تو بندرگاہ پر آئے ہوں گے، اس لیے میں انہیں بھی بھیڑ میں کھوجنے لگا۔ میری امید بےسود رہی۔

تبھی بابوراؤ پینڈھارکر وغیرہ لوگ جہاز پر آتے دکھائی دیے۔ اُن کے ساتھ وِمل بھی تھی۔ مجھے دیکھتے ہی وہ دوڑ کر آئی اور آس پاس کے لوگوں کا ذرا بھی لحاظ یا لجا کیے بنا ہی سیدھے آ کر مجھ سے کس کر لپٹ گئی۔ میں حیران رہ گیا۔

ایک پبلک مقام پر سدھ بدھ کھو کر اس کا میرا اس طرح سواگت کیا جانا مجھے من ہی من اچھا لگا۔ میں نے بھی اسے سینے سے لگا لیا۔ کچھ لمحوں بعد وہ خود مجھ سے دور ہو گئی۔ میں نے اس کی طرف دیکھا۔ شرم کے مارے اب وہ گڑی جا رہی تھی۔ ہمارے جیون میں سب لوگوں کے سامنے اس طرح گلے لگنے کا یہ اکلوتا منظر تھا!

بعد میں، رات کی تنہائی میں، میں نے اسے میٹھی شکایت کرتے ہوئے کہا، “تم تو ایسے لگ رہی تھیں کہ میں نہیں، تم ہی پردیس جا کر آئی ہو!”

“وہ کیسے؟”

“جہاز کے ڈیک پر کسی اینگلو لڑکی کی طرح مجھ سے کس کر لپٹ جو گئی تھیں!”

“پتا ہے؟ آپ جرمنی میں تھے، تب یہاں سب لوگ مجھے چِڑھا رہے تھے کہ لوٹتے سمے آپ ایک گوری میڈم ساتھ لانے والے ہو! آپ کو جہاز پر دیکھا، آپ کے ساتھ کوئی بھی تو نہیں آیا تھا اور پھر کیا ہوا مجھےخود ہی ہوش نہیں رہا۔”

”چھوڑو! پگلی کہیں کی!” محض کچھ کہنا ہے اس لیے کہہ تو گیا، لیکن من کہنے لگا: ”جینی میرے ساتھ بھارت آتی تو؟”

وطن پر پاؤں رکھتے ہی ایک بری خبر ملی۔ ہماری ‘سیرندھری’ رنگین فلم ناظرین کو قطعی نہیں بھائی تھی۔ اس کی رنگین کاپی پہلی بار جرمنی میں دیکھی تھی، تبھی فلم کی کامیابی کے لیے میرے من میں شبہ جاگا تھا، جو اب میری سوچ سے بھی کہیں زیادہ صحیح ثابت ہوا۔ اتنی ساری محنت، پریشانیاں، سب بےسود ہو گئے تھے!

بابوراؤ پینڈھارکر اور وِنائک نے کولہاپور دربار کی قائم کردہ ‘راجا رام مووی ٹون’ نامی نئی کمپنی میں زیادہ تنخواہ پر نوکری قبول کر لی تھی۔ یہ جان کر کہ انہوں نے صرف زیادہ تنخواہ پانے کے لیے ‘پربھات’ تیاگ دیا تھا، مجھے اور بھی برا لگا۔ اتنی تنخواہ تو انہیں ‘پربھات’ میں بھی مل سکتی تھی اور سب کی محنت سے ‘پربھات’ کو حاصل وقار کا بھی فائدہ انہیں ملتا، وہ الگ۔ اسی حوالے سے بابوراؤ پینڈھارکر نے مجھے بمبئی کے ایک اخبار میں چھپی خبر دکھائی۔ اس کی سرخی تھی: ‘پربھات کے بنیادی ستون ڈھے گئے! پربھات گر گئی۔’ اس خبر کو پڑھتے ہی میں نے یقین سے کہا، “پربھات کے سچے ستون ہیں سب کی محنت، مسلسل عمل اور ایمانداری۔ جب تک یہ سلامت ہیں، ‘پربھات’ سبھی کٹھنائیوں کو پار کرتی ہوئی کندن سی تپ کر نکھرےگی!”

میں پُونا آ گیا۔ ماں، باپو، میرے تینوں چھوٹے بھائی اور ان کے علاوہ کچھ عام کلاکار اور ٹیکنیشن کولہاپور چھوڑ کر پُونا رہنے کے لیے آ گئے تھے۔

پُونا پہنچتے ہی پہلے میں اپنے گھر گیا۔ باپو کافی تھک چکے تھے۔ ان دنوں سارے پُونا شہر میں جاڑے کے بخار کی وبا سی پھیلی ہوئی تھی۔ باپو بھی اس کی لپیٹ میں آ گئے تھے۔ انہیں جوش دلانے اور جلدی صحت مندی کی امید جگانے کے لیے میں نے کہا، “باپو، آئندہ سات آٹھ مہینوں میں آپ کے لیے اپنا مکان بن کر تیار ہونے جا رہا ہے، آپ جلدی اچھے ہو جائیے۔”

پردیس سے میرے سلامت لوٹ آنے سے ہی ان کی آدھی بیماری ٹھیک ہو گئی تھی۔ میرے منھ سے گھر کے بارے میں یہ باتیں سن کر اس حالت میں بھی ان کا حوصلہ اور بڑھا۔ لیکن پھر بھی کچھ ناامید سے ہو کر باپو نے کہا، “ارے، تب تک میں زندہ رہوں تب نا!”

میں نے فوراً کہا، “باپو، آپ نہ صرف اس بنگلے کے بننے تک، بلکہ اس کے بعد بھی کئی سال تک زندہ رہنے والے ہیں اور ایک دم صحت مند!” یہ سن کر باپو نے میرے سر پر ممتا سے ہاتھ رکھ کر آشیرواد دیا۔ میری بات جیسے پیشین گوئی ثابت ہوئی۔ ماں اور باپو اس بنگلے میں تیس برس سے بھی زیادہ سمے تک سکون سے رہے۔

میں فوراً نیا سٹوڈیو دیکھنے کے لیے کمپنی کےمقام پر گیا۔ سٹوڈیو کی تعمیر پوری ہو چکی تھی۔ فلم میکنگ کے مختلف کاموں کے لیے الگ کمرے بنائے گئے تھے، ان میں اس ڈپارٹمنٹ کی ضروریات کو دھیان میں رکھ کر مختلف قسم کی سہولتوں کا انتظام کیا گیا تھا۔ سبھی تعمیری کاموں میں داملےجی کی ہنرمند دیکھ ریکھ اور سوجھ بوجھ جگہ جگہ جھلک رہی تھی۔ میں داملےجی کے اس کام سے اتنا جذباتی ہو گیا کہ میں یہ بھول ہی گیا کہ وہ بزرگ ہیں اور میں نے ان کی پیٹھ تھپتھپا کر شاباشی دے دی۔

کمپنی کے کئی ماہرین کولہاپور چھوڑ کر پُونا نہیں آئے تھے۔ نتیجتاً ہم نے ان کے کاموں کی ذمےداری اب ہم پانچوں ساجھےداروں کے ان رشتےداروں کو سونپنے کا فیصلہ کیا جو آج تک کمپنی میں ہرفن مولا بن کر جو بھی کام نظر آتا، کرتے چلے آ رہے تھے۔

آہستہ آہستہ میں نے اپنے ساتھیوں کو جرمنی میں ہوئی ساری باتیں بتا دیں۔ میری غیرموجودگی میں ہوئے واقعات کے کارن میرے ساتھی ہمت کھوتے جا رہے تھے۔ ان کی ہمت پست ہو چلی تھی، لیکن میرے پختہ ارادے سے انہیں کافی دھیرج بندھ گئی۔ نئی فلم کی کہانی اور خیال میں نے سب کے سامنے رکھا۔ قرون وسطیٰ کے راج کے پس منظر میں اس فلم کے کہانی بنانے کا ہم نے فیصلہ کیا۔ فلم کا نام جرمنی میں ہی میں نے طے کر رکھا تھا: ‘امرت منتھن’۔ اس کے راج گرو کی آنکھوں کا بڑا کلوزاَپ لینے کے لیے لایا گیا ٹیلی فوٹو لینز میں نے سب کو دکھایا۔

فتےلال جی کی فنکارانہ پنسل بجلی کی رفتار سے پوشاک اور منظروں کی لکیریں کھینچنے لگی۔ ‘امرت منتھن’ ہم نے ہندی اور مراٹھی دونوں زبانوں میں بنانا طے کیا۔ بنیادی کہانی لکھنے کے لیے میرے عزیز ناول نگار ہری نارائن آپٹے کو میں نے پُونا بلا لیا۔ ان کے ساتھ کہانی پر بحث شروع کی۔ اس بحث سے ‘امرت منتھن‘ کا سکرپٹ اچھی طرح شکل لینے لگا۔

قرون وسطیٰ کا راجہ اور اس کی بیٹی دونوں کافی ترقی پسند خیالات کے ہوتے ہیں۔اس کے برعکس ان کا راج گرو دھرم اور قدامت کا کٹر اور سخت حامی ہوتا ہے۔ دھرم اور قدامت شکنی کرنے والے کو بےرحمی کے ساتھ اس دنیا سے ہمیشہ کے لیے وداع کر دیتا ہے۔ نہ صرف راج خاندان کے سب لوگوں کو، بلکہ دیگر بھولے بھالے لوگوں کو بھی اپنی آنکھوں کی دھاک میں رکھتا ہے۔ ایک طرف راجہ اور اس کی لڑکی کے نئے وِچار اور دوسری طرف دقیانوسی راج گرو کی قدامت پرستی، ان کی کشمکش پر ‘امرت منتھن’ کی کہانی تیار ہوئی۔ اس فلم کے ہندی مکالمے اور گیت لکھنے کے لیے اتّر ہندوستان کے ایک لیکھک محمد پوری ‘ویر’ کو بلا لیا۔

اب ہمیں مراٹھی اور ہندی دونوں فلموں میں راج گرو کی اداکاری کر سکنے والے اچھے اداکار کی تلاش تھی۔ اس کے علاوہ ایک نئے میوزک ڈائرکٹر کی بھی ضرورت تھی۔ اتفاق کی بات ہے کہ یہ سب لوگ مجھے اچانک مل گئے۔ مہاراشٹر میں ‘ناٹیہ منونتر’ نامی ایک نیا ناٹک ادارہ بنا تھا۔ اس نے’آندھلیانچی شالا’ ( نابینا سکول) ناٹک سٹیج کیا تھا۔ میں اسے دیکھنے گیا تھا۔ اس ناٹک میں میں نے اسٹیج کے مشہور اداکار کیشوراؤ داتے کی اداکاری پہلی بار دیکھی۔ میں اس سے بہت ہی متاثر ہو گیا۔ اس کے علاوہ اس ناٹک کے گیت اور بیک گراؤنڈ میوزک بھی مجھے مدھر اور نئے ڈھنگ کے لگے۔ اس کے میوزک ڈائرکٹر تھے کیشوراؤ بھولے۔ دوسرے دن میں نے ان دونوں کو ‘پربھات’ میں بلا لیا اور ان کے ساتھ معاہدہ بھی کر لیا۔ اسی سمے دلّی سے چندر موہن ووٹل نامی ایک نوجوان میرے سامنےآ کر کھڑا ہو گیا۔ کچھ سال پہلے اس سے ایک بار ملاقات ہوئی تھی۔ دلّی کی کسی فلم ڈسٹری بیوٹنگ کمپنی کی طرف سے وہ کولہاپور میں کسی کام سے آیا تھا۔ اس کمپنی میں وہ ایک معمولی کلرک تھا۔ اس کی آنکھیں بہت متجسس اور آواز بہت ہی کسی ہوئی اور رعب دار تھی۔

چندر موہن نے اپنی فلمی کیریئر کا آغاز امرت منتھن میں ولن کے کردار سے کیا

دونوں باتوں کا مجھ پر کافی اچھا اثر پڑا تھا۔ میں نے اسے اسی سمے کہا تھا، “اس کلرکی میں کہاں پڑے ہو، اس میں رکّھا ہی کیا ہے؟ ایک مکمل اداکار کے لیے ضروری سبھی باتیں تم میں ہیں۔ تم ہمارے ساتھ آ جاؤ۔ یقین دلاتا ہوں، ایک اچھے اداکار کا نام کماؤ گے!”

اُس وقت اس نے کوئی جواب نہیں دیا تھا۔ لیکن آج وہی چندرموہن میرے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا تھا۔ اسے براہ راست سامنے کھڑا پا کر مجھے تو ایسا لگا جیسے میری فلم کا ‘راج گرو’ ہی سامنے آ گیا ہے۔ ہم نے اس کے ساتھ کچھ سالوں کے لیے معاہدہ کر لیا۔ میں نے ‘امرت منتھن’ کے مراٹھی ورژن میں کیشوراؤ داتے اور ہندی میں چندرموہن کو راج گرو کا کردار دینے کا فیصلہ کیا۔

اس فلم کےوِلن راج گرو کو بہت ہی نرالی ادا میں پیش کرنا تھا۔ آج تک کی سبھی فلموں کے ولن کے لیے غصہ، کراہت کے جذبات ہی ناظرین کے من میں جاگتے تھے۔ لیکن میں نے طے کیا کہ کہانی کو میں اس طرح موڑ دوں گا کہ ‘امرت منتھن’ کے اس راج گرو کے لیے ناظرین آخر میں ایک احترام کا جذبہ لے کر جا ئیں گے، اگرچہ وہ ایک ولن ہے۔ لیکن یہ کہنا آسان تھا، کرنا بہت کٹھن۔ اسے کس طرح کیا جائے، کچھ سوجھ نہیں رہا تھا۔ نارائن راؤ آپٹے کے ساتھ میں نے اس پر کافی بحث کی۔ آخر میں مجھے ایک خیال سوجھا۔ لیکن میں نے کسی کو نہیں بتایا، اپنے تک ہی اسے محدود رکھا۔ ایسا کرنے کے بھی کچھ کارن تھے۔

اس نئی کہانی کا کام چالو تھا، تب ہم نے اپنے نئے سٹوڈیو کے لیے آڈیو ریکارڈنگ کی جدید مشینری اور کیمرا خرید لیا۔ آج تک ہم کیمیائی عمل پرانےطریقۂ کار کے مطابق کیا کرتے تھے۔ اس کی جگہ پر ہاتھ لگائے بنا ہی سارا عمل کرنے والے اور بجلی سے چلنے والے آلات ہم نے پُونا میں ہی بنوا لیے۔ صرف نیگیٹو پرنٹ بنانے والا جدید پرنٹر ہم نے غیرملکی درآمد کیا۔

امرت منتھن کا ایک پوسٹر

فطری طور اس وجہ سے فلم میکنگ کا کام شروع ہونے میں کچھ دیری ہو جاتی، لہٰذا ‘پربھات’ میں اس سمے آخر کیا چل رہا ہے اور ہماری نئی فلم ‘امرت منتھن’ کتنی محنت سے بنائی جا رہی ہے، اس کی جھلک لوگوں کو دکھانے کے لیے ایک شارٹ فلم بنانے کا خیال میرے من میں آیا۔ شارٹ فلم بھی ایسی بنانی تھی جسے دیکھ کر ناظرین کی دلچسپی برابر بڑھتی ہی رہے۔ ایسی شارٹ فلم ہم نے بنائی اور اسےگاؤں گاؤں میں پیش کیا۔

لوگ اب ہماری ‘امرت منتھن’ کا بڑی بےتابی سے انتظار کرنے لگے۔

‘امرت منتھن’ کا سکرین پلے اور مکالمے تیار ہوتے ہی میں نے سبھی کلاکاروں سے مکمل ریہرسل کرانی شروع کی۔ یہ ریہرسل ہر روز ہونے لگی۔ فلم کے گیتوں کی دھنیں بننے لگیں۔ ان دھنوں کے مطابق ‘ویر’ نے ہندی گیت لکھ دیے۔ مراٹھی فلم رائٹنگ کے لیے نارائن راؤ آپٹے کی سفارش پر ایک نوجوان شاعر شانتارام آٹھولے پربھات میں شامل ہو گیا۔

میوزک ڈائرکٹر کیشوراؤ بھولے کے پاس ہندی اور مراٹھی کے چنندہ گیتوں کے گراموفون ریکارڈز کی اچھی کولیکشن تھی۔ عام طور پر وہ انہیں ریکارڈز سے کہانی کے سین کے مطابق دھنیں تیار کر لیتے اور پھر ان دھنوں کے مطابق بول لکھواتے تھے۔ کبھی میں انہیں کسی گیت کو ایک آدھ نئی دھن دینے کے لیے کہتا تو وہ مجھے دوسرا گراموفون ریکارڈ سنواتے اور دھن پسند کرنے کے لیے کہتے۔ میوزک ڈائرکشن کا یہ سسٹم مجھے خاص پسند نہیں تھا۔ لیکن میرا ہمیشہ کا ایک دستور تھا کہ ایک بار کسی کو ساتھ لے لیا تو اس کی ہر طرح سے حوصلہ افزائی کر اس کی قابلیت کے مطابق اس سے زیادہ سے زیادہ اچھا کام کروا لینا۔ اسی لیے میں نے انہیں وقت وقت پر حوصلہ دیا اور کہانی کا جاندار سنگیت بنوا لیا۔ لیکن کہنا پڑےگا کہ فلم کے گیتوں اور آرکسٹرا کی مناسب ایڈجسمنٹ کے فن کی مکمل اپچ کیشو راؤ کے اپنے بنیادی ٹیلنٹ کا کمال تھا۔ اس کے علاوہ سین کے مطابق اس کے جذبات کو نقطۂ عروج تک لے جانے کے لیے کس انسڑومنٹ یا ساز کا استعمال کہاں کتنا کرنا چاہیے، اس کا فیصلہ کرنے والے وہ ایک ماہر میوزک ڈائرکٹر تھے۔

ایک دن بابوراؤ پینڈھارکر پُونا آئے۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ کسی سمے میرے زیر کام کرنے والےگجانن جاگیردار نے ’امرت منتھن’ کی تھیم پر ‘سنہاسن’ نامی ایک فلم جھٹ پٹ بنا لی اور اسے ریلیز بھی کر ڈالا ہے۔ اس خبر سے میں ذرا بھی سٹپٹایا نہیں، کیونکہ یہ کہانی میں کس ڈھنگ اور طریقے سے فلمانے جا رہا ہوں، اس کا راز سوا میرے کوئی نہیں جانتا تھا۔ کہانی کا آخر تو میں نے ایک راز کے روپ میں صرف اپنے ہی پاس سنجو رکھا تھا: راج گرو کی بدسلوکی سے تنگ لوگ اسے جان سے مار ڈالنے کے لیے مندر کی طرف آتے ہیں۔ ان کی قیادت کرتا ہے راج گرو کا ذاتی بھروسہ مند، لیکن اصل میں راجہ کے لیے وفادار، سردار وشواس۔ خنجر تان کر اسے اپنی طرف آتے دیکھ کر لمحہ بھر کو تو راج گرو چونک جاتا ہے، لیکن اسے ڈرا دھمکا کر پوچھتا ہے، “کون؟ وشواس، تم؟” سب کو قابو میں اور اپنی دھاک میں رکھتی آئی راج گرو کی وہ نظر وشواس کو سونگھتی نِہارتی ہے۔ پردے پر اس کی آنکھوں کی پُتلیوں میں وشواس کا عکس صاف ابھر آتا ہے۔ عکس میں اتنا ہی صاف دکھائی دیتا ہے: وشواس کا من ڈانواڈول ہو گیا ہے، خنجر تانے اس کا ہاتھ کچھ نیچےکی طرف آتا جا رہا ہے۔۔۔ پھر اس کی وفاداری جاگتی ہے۔ پھر خنجر تان کر وہ آگے آتا ہے اور اسے راج گرو کی آنکھوں میں گھونپ دیتا ہے، پوری ملامت کے ساتھ! راج گرو چیخ کر کچھ پیچھے ہٹ جاتا ہے اور اپنے ہاتھوں سے اپنی آنکھیں ڈھک لیتا ہے۔۔۔ راج گرو کی نظر میں ہمیشہ زندہ رہی دھاک ختم ہو جاتی ہے! اس کے بعد راج گرو لڑکھڑاتا ہوا اپنے نجی مندر کی طرف جاتا ہے۔ دروازہ بند کر لیتا ہے اور دیوی کے سامنے کھڑا ہو کر کہتا ہے، “ہے بھگوَتی، آج تک میں نے جو کچھ کیا اس میں میرا اپنا کوئی مفاد نہیں تھا۔ یہ سب کچھ میں نے صرف تمہارے لیے، دھرم کی حفاظت کے لیے ہی کیا تھا۔ پھر بھی میں تمہیں خوش نہیں کر سکا۔ اس لیے اب میں اپنی بَلی چڑھاتا ہوں۔ اس بلیدان سے تم خوش ہوؤ اور دھرم کی حفاظت کرو!”

مندر کے باہر ستائے ہوے لوگ مندر کا دروازہ توڑ کر اندر گھس آتے ہیں۔ سامنے کا منظر دیکھ کر وہ سب بھی خوفزدہ ہو جاتے ہیں۔ راج گرو کا سر کٹا دھڑ بھگوتی کے سامنے پڑا ہے اور اس کے ہاتھ کٹے ہوئے سر کو بھگوتی کے چرنوں پر چڑھا رہے ہیں۔ اس کے بعد وہ بےجان، شانت ہو جاتا ہے۔

مجھے یقین تھا کہ راج گرو اپنی سوچ پر کتنا اٹل، کٹّر تھا، ناظرین کے من پر اس کے اس بلیدان کی وجہ سے یہ انمٹ روپ سے نقش ہو جائے گا۔اس سین کی شوٹنگ میں نے ایک دم آخر میں کی۔ اس کے مراٹھی مکالمے میں نے خود اُس دن سویرے لکّھے اور اس کا ہندی ورژن چندرموہن سے کروا لیا۔

ہمیشہ کی طرح کمپنی میں نئی فلم کے آخری کام تیزی سے چل رہے تھے۔ جانچ کے لیے کمپنی میں ہی ‘امرت منتھن’ کی پہلی ریلیز دیکھی تو مجھے خاص اطمینان نہیں ہوا، لہٰذا اس میں پھر کچھ جوڑتوڑ کر، خرابیوں کو کم کرتے ہوئے فلم کی رفتار کو اور بڑھانے کے لیے میں پھر ایڈیٹنگ کرنے بیٹھ گیا۔ ویسے تو فلم جیسی ہے ویسی ہی ناظرین کو پسند آئے گی، اس کا نرالاپن اثردار ثابت ہو گا اور ‘پربھات’ کا فخر بڑھانے میں مددگار ہو گا، اس میں مجھے شبہ نہیں تھا، لیکن ہمارے سبھی ساتھیوں کو اس کی کامیابی کے بارے میں بھاری شبہ تھا۔

ستھِر فلم ڈپارٹمنٹ کے ہیڈ پنت دھرم ادھِکاری نے بھی ٹیسٹ ریلیز کے وقت ‘امرت منتھن’ دیکھی تھی۔ وہ اور داملےجی گہرے دوست تھے۔ انہوں نے داملےجی سے صاف لفظوں میں کہہ دیا، “مجھے ‘امرت منتھن’ قطعی پسند نہیں آئی ہے!”

داملےجی نے کہا، “شانتارام بابو اس میں کچھ کانٹ چھانٹ کر رہے ہیں۔ آپ دیکھیں گے کہ فلم زیادہ اثردار ہو گی۔”

“اجی چھوڑیے ان باتوں کو۔ کچھ بھی کریں، گدھے کا گھوڑا تھوڑے ہی بن جائےگا،”

پنت دھرم ادھِکاری نے ذلت آمیز لہجے میں کہا۔

اس دن شام کو داملےجی نے پنت دھرم ادھکاری کی باتیں انہیں کے لفظوں میں مجھے بتا دیں۔ سن کر میں قہقہہ مار کر ہنسا اور داملےجی سے میں نے کہا، “پنت جی کو اندھی عقیدت اور رجعت پسندوں پر حملہ کرنے والی یہ فلم پسند آ ہی نہیں سکتی۔ لیکن ان کے جیسے مذہبی براہمن کو وہ بھائی نہیں، اسی میں فلم کی ترقی پسندیت کی جیت ہے!”

‘امرت منتھن’ بمبئی میں پہلے ہندی میں ریلیز کی گئی۔ ٹکٹ کھڑکی پر ناظرین کی بےحد بھیڑ تھی۔ تینوں شو کے لیے تھئیٹر کے اندر اور باہر بےشمار بھیڑ جمع ہوتی اور پھر بھی ہزاروں لوگ ٹکٹ نہ ملنے کے کارن ناامید ہو کر لوٹ جاتے۔

‘امرت متھن’ کا آخری سین لوگوں کے دلوں کو چھو جاتا تھا۔ میرا اندازہ بالکل صحیح نکلا۔ ایک سیدھے سادھے نئے ڈھنگ کے ولن کی پُراثر تصویر پہلی بار فلم میں ابھر آئی تھی۔ چونکہ چندرموہن کی یہ پہلی ہی فلم تھی، اس کے کام میں کچھ نوسِکھیاپن ضرور معلوم ہوتا تھا، لیکن اس کی متجسس اور کُھبنے والی آنکھیں، آنکھوں کے بڑے بڑے کلوزاَپ اور اس کی وزن دار آواز کی انمٹ چھاپ ناظرین کے من پر نقش ہو گئی۔ چندرموہن ایک ہی رات میں شہرت کی چوٹی پر پہنچ گیا۔ چندرموہن کی طرح شانتا آپٹے بھی اس فلم کے کارن بےحد مقبول ہو گئی۔ اس فلم میں اس کے گانے اور اداکاری دونوں کو ناظرین نے سراہا۔ ‘شیام سندر’ میں اس کی بےجان اداکاری دیکھنے کے بعد لوگوں کو اس سے زیادہ امید نہیں تھی۔ اننت ہری گدرے نے تو اس کے کام کی تعریف کرتے سمے کمال کر دیا۔ اپنے ادبی میگزین ‘نربھیڈ’ میں انہوں نے ‘امرت منتھن’ کا پورے صفحے کا جائزہ لکھا۔ اس پر موٹی سرخی تھی:

“شانتا میں بھی ڈالے رام
واقعی میں ہیں شانتارام۔”

یہ منچلی سرخی مجھے قطعی پسند نہیں آئی۔ آگے چل کر ایک بار اُن سے ملاقات ہو گئی، تو اس سرخی پر میں نےاعتراض بھی اٹھایا۔ لیکن گدرےجی الٹے مجھ سے ہی اسی مدعے کو لے کر جھگڑا کرنے لگے، “آپ بھی خوب ہیں، آخراس سرخی میں غلط یا برا کیا ہے؟ ‘شیام سندر’ میں اس کے کام میں کوئی رام نہیں تھا اور اس فلم میں آپ کی ڈائرکشن کے کارن اس کے کام میں ہمیں وہ رام دکھائی دیا، اور اسی لیے ایک دم خالص جذبے سے ہی ہم نے ویسا لکھا!”

اب اس Correspondent کے سامنے کوئی کیا کہے؟ اپنا سر!

سارے دیس میں ‘امرت منتھن’ نے دھوم مچا دی۔ بمبئی میں تو وہ پورے تیس ہفتے چلی۔ ہر ہفتے کو فلم کے جیون کا ایک سال مان کر پچیسویں ہفتے میں ہمارے ڈسٹری بیوٹر بابوراؤ پینڈھارکر نے ‘امرت منتھن’ کی سلور جوبلی منائی اور زبردست پرچار کیا۔ سلور جوبلی کو پار کر اور کچھ ہفتے چلنے والی وہ پہلی ہندی فلم تھی۔

‘امرت منتھن’ نے پھر ایک بار ‘پربھات’ کا نام چوٹی پر پہنچا دیا۔ کچھ اہم لوگوں کے ‘پربھات’ چھوڑ کر چلے جانے کے کارن پربھات کے مستقبل کے بارے میں خدشے کے شکار لوگوں کو اس فلم نے منھ توڑ جواب دیا۔

اس کے بعد من میں پھر ایک بار اچھی سماجی فلم بنانے کا خیال آنے لگا۔ پہلے بھی کبھی یہ خیال آیا تھا لیکن ادھورا ہی چھوڑ دیا گیا تھا، لیکن اس بار فتےلال جی نے ضد کی کہ خاموش فلموں کے زمانے میں بنائی ‘چندر سینا’ پر ایک بولتی فلم بنائی جائے۔ اس کہانی کے لیے انہوں نے کافی نئے نئے خیالات پر مبنی سین، پوشاکیں، زیور وغیرہ کا ایک کچا چٹھا بنا لیا تھا۔ اہِراون اور مہِراون کی پاتال نگری کو اثرانگیز بنانے کے لیے انہوں نے اپنی پنسل، سنکھ سیپیوں اور موتیوں کی مدد سے ایک نرالی ہی دنیا بنا لی تھی۔ وہ فینٹسی واقعی غیرمعمولی اور دلکش تھی۔ ہم سب لوگ کافی خوشی سے ‘چندر سینا’ فلم بنانے میں لگ گئے۔ میں نے بھی سوچا کہ اس فلم کی قدیم کہانی کو اپنے سماجی وچاروں کے مطابق نیا رنگ دوں۔ خاموش فلم چندرسینا کی طرح بولتی فلم چندر سینا میں بھی موجود پیغام یہی تھا کہ لوگوں کو شراب پینے کے برے نتیجے سے بالواسطہ طریقے سے آگاہ کیا جائے۔ جنوب کے ہمارے ڈسٹری بیوٹرز کی مانگ پر ہم نے بولتی فلم ‘چندرسینا’ کے مراٹھی اور ہندی ورژنوں کےساتھ ہی تمِل ورژن بھی بنانا طےکیا۔ تمل فلم میں کام کرنے کے لیے کلاکاروں کو مدراس سے پربھات میں لایا گیا۔ ان کے ساتھ کچھ ٹیکنیشین بھی اس امید سے آئے کہ انہیں بھی کچھ نئی باتیں سیکھنے کو مل جائیں گی۔ ان میں سے کچھ لوگوں نے تو ‘پربھات’ میں اپنے قیام کے دوران فلمی فن کی اتنی باتیں سیکھیں کہ انہوں نے مدراس لوٹ کر کافی شہرت کمائی۔ رام ناتھ اور شیکھر جیسے کچھ ٹیکنیشینوں اور کہانی کاروں نے بی ریڈّی کے ساتھ مل کر ‘واہونی فلم کمپنی’، کے لیے ‘سمنگلی’ جیسی فلم بنائی۔ اس فلم کے کارن جنوب کی فلم انڈسڑی کو فنکارانہ طول و عرض اور سمت مل گئی۔

اہراؤن مہراؤن کی پاتال نگری کے محل کا سین سٹوڈیو میں بنایا گیا تھا۔ چندرموہن اہراؤن کا کام کر رہا تھا۔ شوٹنگ شروع ہوئےآٹھ دس دن ہو چکے تھے۔ ایک دن سویرے ہم لوگ اس دن کی شوٹنگ کی تیاری کر رہےتھے۔ سبھی کلاکار ٹھیک سوا نو بجے میک اپ کر سٹوڈیو میں حاضر ہوئے۔ سین کو سمجھا کر بتانے کے لیے میں نے چندرموہن کو آواز دی۔ میرے معاون راجہ نے نے ڈرتے ڈرتے بتانے لگا، “چندرموہن آج ابھی تک کام پر آیا نہیں ہے۔”

میں غصے میں چلّایا، “کیوں نہیں آیا؟”

تبھی ہمارے منیجر آئے اور انہوں نے مجھے رجسٹرڈ ڈاک سے آیا ایک لفافہ تھما دیا۔ وہ چندرموہن کی طرف سے ہمیں دیا گیا نوٹس تھا۔ وہ ہمارے ساتھ کیے گئے معاہدے سے آزاد ہونا چاہتا تھا۔

نوٹس پڑھ کر مجھے بہت ہی غصہ آیا۔ پھر بھی میں نے پاٹھک جی سے کہا، “آپ چندرموہن کے گھر جائیے اور اسے کام پر آنے کو کہیے۔ لیکن اس نے ہمارے منیجر کو یہ کہہ کر لوٹا دیا کہ “میں اب کام پر نہیں آؤں گا۔ مجھے بمبئی کے ایک بڑے پروڈیوسر نے کافی اچھی تنخواہ پر بلوا لیا ہے۔”

پاٹھک جی واپس آئے۔ سر جھکا کر انہوں نے چندرموہن کا پیغام سنایا۔

اب میں آپے سے باہر ہو گیا۔ کمپنی کے ایکٹنگ ڈپارٹمنٹ میں مستقل نوکری کر رہے ایک اداکار کو میں نے فوراً چندرموہن کے کردار کے لیے ضروری میک اپ کر آنے کو کہا۔ کسی کے بنا پربھات کا کوئی کام نہ رک پائے، اس کا تو میں نےعہد کر رکھا تھا۔ لہٰذا میں نے اسی وقت پہلے آٹھ دس دن کی شوٹنگ رد کرنے کا فیصلہ کیا اور وکیل کی معرفت چندرموہن کے نوٹس کا جواب بھجوا دیا: “تم اس طرح پربھات کے ساتھ کیے گئے معاہدے سے آزاد نہیں ہو سکتے۔ قانوناً تمہیں آئندہ فلم کے لیے کی گئی تمہاری آٹھ دس دن کی شوٹنگ کا ہرجانہ دینا پڑے گا، کیونکہ اب وہ ساری شوٹنگ رد کرنی پڑی ہے۔”

چندرموہن ہمارا جوابی نوٹس پڑھ کر کافی ہڑبڑا گیا۔ اس نے فوراً پیغام بھیجا کہ ”معاہدے سے آزاد ہونے کے لیے میں اپنے نزدیک کے رشتےدار سر تیج بہادر سپرو کی مدد لوں گا۔” یہ بیرسٹر سپرو صاحب اُس زمانے کی کافی بڑی ہستی تھے۔

لیکن میں نے چندرموہن کی دھمکی کو کوئی اہمیت نہیں دی۔ میں تو اس بات پر تُلا ہوا تھا کہ چندرموہن کی طرف سے ڈالی جا رہی اس ضرررساں روایت کو جڑ سے اکھاڑ دوں۔ کسی کلاکار کا اس طرح پیش آنا کمپنی کے لیے کافی خطرناک تھا۔

‘چندرسینا’ تیار ہو گئی۔ ٹرائل ریلیز سب نے دیکھی۔ کاپی میں کافی غلطیاں تھیں۔ فلم کا سنسر اور عام ریلیز نزدیک آ گئی تھی۔ دو تین دن ہی باقی تھے۔ دھایبر اس فلم کے فوٹوگرافر تھے۔ انہوں نے جلدی جلدی نیاپرنٹ بنایا اور بنا ٹیسٹ کیے سنسر اور ریلیز کے لیے بمبئی بھیج دیا۔

بمبئی میں ‘کرشن’ سنیما میں اس وقت ’امرت منتھن’ خوب چل رہی تھی، اس لیے ‘چندرسینا’ کا پردرش مِنروا میں کیا گیا۔ ریلیز کے وقت میں بمبئی نہیں گیا تھا۔ بمبئی سے بابوراؤ پینڈھارکر کا فون آیا کہ ”فلم کے گیت اور مکالمے ٹھیک سے سنائی نہیں دیتے۔ لگاتار ایک طرح کی گھرررر کی آواز سنائی دیتی رہتی ہے۔”

میں فوراً بمبئی گیا اور ‘چندرسینا’ کا پرنٹ اچھی طرح سے جانچا پرکھا۔ فلم کی کاپی پر ساؤنڈ ریکارڈنگ کی لکیریں بہت ہی دھندلی نقش ہوئی تھیں۔ دھایبرجی نے شاید کسی غلط فہمی کےکارن ساؤنڈ پٹی اتنی گہری اور کالی نہیں رکھی تھی جتنی کہ رکھنی چاہیے تھی۔ اسی کارن یہ سب جھمیلا ہو گیا تھا۔ مکالمے اور سنگیت ناظرین تک پہنچ ہی نہیں پا رہے تھے۔ اس کے علاوہ خاموش فلم ’چندر سینا‘ کی یاد ناظرین میں ابھی تازہ تھی، اس لیے کہانی میں انہیں کچھ بھی نیاپن شاید معلوم نہیں ہو رہا تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ سین اور پوشاک وغیرہ میں کافی فینٹسی ہونے کے باوجود لوگوں کو یہ فلم قطعی پسند نہیں آئی۔ ہم سب کا اندازہ ایک دم غلط ہو گیا۔ ساؤنڈ پٹی کو ٹھیک کر ’چندر سینا‘ کا ایک نیا پرنٹ ہم نے دو تین دن میں ہی بمبئی بھیج تو دیا، لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا اور ہماری یہ فلم بری طرح فیل ہو گئی۔

فلم چندرسینا کا پوسٹر

میرے ambitious سوبھاؤ کے کارن ہمیں ایک اور دردناک واقعے کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ بھی ایک جرأت آمیز نئے خیال سے بنی کہانی کا المناک نتیجہ تھا۔ برلن سے میں نے کارٹون فلموں کے لیے خاص مشینری خرید کر بھجوائی تھی۔ والٹ ڈِزنی کے ‘مکی ماؤس’ کے ڈھنگ کا ایک کارٹون بنانے کے ارادے سے خریدی گئی وہ مشینری اب ہمارے پاس پہنچ گئی تھی۔ کارٹون فلم کے لیے میں نے ایک تخلیقی ٹیکنیشین کا انتخاب کر طرح طرح کے تجربے کرنے شروع کیے۔ ‘مکی ماؤس’ کی طرح ہی کسی مزیدار جانور کو چن کر اس پر کارٹون بنانے کی سوچی۔ لومڑ بہت چالاک جانور مانا جاتا ہے، اس لیے ہم نے طے کیا کہ ایک فلم بنائی جائے، جس کا نام ہو ‘جمبو کاکا’۔ اس کے لیے ایک مناسب چھوٹی کہانی تیار کی۔ کہانی کی ضرورت کے مطابق کلاکاروں سے جمبو کاکا اور دیگر کرداروں کی ہلچلوں کے کئی سٹِل فوٹو سیلولائڈ پر بنوا لیے۔ شوٹنگ کے لیے لائے گئے خاص کیمرے کے ذریعے ہم نے ان سب تصویروں کو فلما لیا اور نو سو فٹ کی ایک فلم (اینیمیشن) تیار کی۔ اس پر بہت مناسب بیک گراؤنڈ میوزک کو بھی ریکارڈ کر لیا۔ اس فلم کو ٹرائل ریلیز میں پہلی بار دیکھا تو مکی ماؤس کے مقابلے میں وہ بالکل ہی نارمل معلوم ہوا، لیکن ہمارا وہ پہلا تجربہ تھا اور اس لیے تسلی بخش لگا۔

ہم نے اس ‘جمبو کاکا’ کارٹون کو بمبئی اور دوسرے شہروں میں ریلیز کیا۔ لیکن چونکہ مخصوص معزز لوگوں کے علاوہ ایسے کارٹون دیکھنےکی عادت عام ناظرین میں نہیں تھی، مخصوص ناظرین کے تاثرات ہمیں معلوم نہ ہو سکے۔

یہ فلم اگرچہ چھوٹی سی تھی، پر اس کے بنانے پر پیسہ خرچ ہوا تھا، لہٰذا ہم نے اپنی فلم دکھانے والوں سے اس فلم کی ریلیز کے لیے کُل آمدنی کا پانچ فیصد زیادہ دینے کی مانگ کی۔ لیکن ہمارے فلم دکھانے والوں نے ہمیں جوابی ڈاک سے جواب دیا کہ، ’’ناظرین آپ کی بنیادی فلموں کو دیکھنے کے لیے آتے ہیں۔ اس کارٹون فلم میں انہیں کوئی مزہ نہیں آتا۔ لہٰذا مہربانی کر کے ایسی کارٹون فلم دکھانے کے لیے نہ بھیجیں۔‘‘ ہم نے کارٹون فلموں کا کام کچھ وقت کے لیے ملتوی کر دیا اور کارٹون فلم کے ٹیکنیشنوں کو اس سسٹم کا مزید مطالعہ کر والٹ ڈزنی کی بنائی فلموں جیسے صاف کارٹون بنانے کی کوشش جاری رکھنے کو کہا۔ بھارت کی پہلی کارٹون فلم بنانے کا کریڈٹ ‘پربھات’ کو ملا تو، لیکن اس کا استقبال اتنا ٹھنڈا رہا کہ ہمارے سارے جوش پر پانی پھر گیا۔

لیکن انہیں دنوں ‘امرت منتھن’ نے عوامی ذہن پر ایسا جادوکر رکھا تھا کہ ’چندر سینا’ اور ‘جمبو کاکا’ کی ناکامی پر کسی نے دھیان نہیں دیا۔ یہی نہیں، دَھن کا جو بہاؤ ہمارے پاس چلا آ رہا تھا، اس میں ذرا بھی فرق نہیں آیا۔

ماں باپو کے لیے ایک چھوٹا سا بنگلہ بن کر تیار ہو گیا۔ تعمیر کے بعد وہ دونوں جب اس میں رہنے کے لیے گئے، تب ان کے چہرے خوشی سے کھِل اٹھےتھے۔ ان کی خوشی دیکھ کر میں بھی شادکام تھا اس کے ساتھ ہی پربھات سٹوڈیو کے سامنے والی کھلی جگہ میں ہم پانچوں ساجھےداروں کے بھی پانچ الگ بنگلے بنائے گئے۔کولہاپور چھوڑ کر ہمارے ساتھ پُونا رہنے کے لیے آئے کام کرنے والے کاریگروں کے لیے اسی احاطے میں ایک دومنزلہ مکان بنوایا گیا۔

اس طرح پربھات نگر بسانے کا میرا سپنا پورا ہو چلا تھا۔ میں نے لوہے کی گول گول شکل کی کئی طشتریاں بنوا لیں۔ ہر طشتری پر پربھات کا لوگو نقش کرا لیا۔ اس پر ‘پربھات نگر’ حروف بھی سرخیوں میں لکھوا لیے۔ پیچھے ایک تیر بھی پرنٹ کیا، جس کی نوک پربھات نگر کی طرف جانے والی سمت کا اشارہ کرتی تھی۔ پُونا کے لکڑی پل سے لے کر ہمارے سٹوڈیو تک راستے کے ہر بجلی کے کھمبے پر یہ طشتریاں میں نے فِٹ کروا دیں۔ اس راستے آتے جاتے وقت ان طشتریوں کو دیکھ کر میں ایک بچے کی طرح خوش ہو جاتا تھا۔

ہمارے ‘پربھات’ کی روشنی اب پورے دیش میں پھیل چکی تھی۔ ہمارا جدید سٹوڈیو دیکھنے کے لیے دوردور سے لوگ آنے لگے تھے۔ ملک کے کونے کونے سے آنے والے ان لوگوں کی تعداد اتنی بڑھ گئی کہ ہمارے کام میں مشکل پیدا ہونےلگی۔ آخر ہم نے اعلان کیا کہ ہمارا سٹوڈیو عوام کے دیکھنے کے لیے ہر بدھوار کو صبح کھلا رہے گا۔

انہیں دنوں اخبار میں پڑھا کہ “سبھی مراٹھی لوگوں کے پیارے گائیک اداکار نارائن راؤ راج ہنس عرف بال گندھرو نے بھاری قرض کے کارن اپنی گندھرو ناٹک منڈلی بند کر دی ہے۔”

کچھ معزز لوگوں نے ہمیں سجھاؤ دیا کہ کیوں نہ ہم بال گندھرو کو اہم کردار دے کر دو ایک فلمیں بنائیں۔ سجھاؤ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ایسی فلم پر ہوئے خرچ کے بھگتان کے بعد بچے منافعے میں ‘پربھات’ اور بال گندھرو کا آدھا آدھا ساجھا ہو۔ سچ پوچھا جائے تو ہمیں اتنے جھنجھٹ میں پڑ کر فلم بنانےکی ضرورت نہیں تھی، لیکن بال گندھرو جیسا ایک مہان کلاکار معاشی کٹھنائیوں میں پھنسا ہو، اس کی مدد کرنا اپنا فرض مان کر ہم نے بال گندھرو کے ساتھ دو فلموں کا معاہدہ کر لیا۔

بال گندھرو ناٹکوں میں عورت کا کردار کرتے رہے تھے۔ لیکن اب تو فلموں میں عورتوں کے کردار عورتیں ہی کرنے لگی تھیں۔ ایسی صورت میں انہیں عورت کردار میں پردے پر دکھانا بڑا عجیب سا لگتا۔ وہ نہ عورت، نہ مرد معلوم ہوتے تھے، لہٰذا انہیں زنانہ کردار دے کر کوئی فلم کامیاب نہیں ہو گی، اسے میں من ہی من اچھی طرح سے جان گیا تھا۔ وہ قرض سے آزاد ہونے کے لیے فلم میں کام کرنا چاہ رہے تھے۔ اس کے لیے فلم کا کاروباری نظر میں کامیاب ہونا نہایت ضروری تھا، دوسری صورت میں وہ مقصد ہی دھرا کا دھرا رہ جاتا۔ میں نے یہ بات نارائن راؤ کو اچھی طرح سے سمجھائی۔

بال گندھرو فلموں میں عورتوں کے کردار نبھاتے تھے، شانتا راما نے انہیں ایک اصلاح پسند مذہبی رہنما کے طور پر متعارف کرایا

بال گندھرو کا رنگ روپ، سوبھاؤ، سب کچھ بہت ہی شانت اور ماتحت کام کرنے والوں کے ساتھ سلوک انتہائی محبت بھرا تھا۔ میں کھوجنے لگا ان کے اسی سوبھاؤ کے مطابق اور ‘پربھات’ کی روایت کے مطابق ایک کہانی، جس میں انہیں کردار دیا جا سکے۔ کافی دنوں پہلے میرے من میں چھوت چھات کی روک تھام کے موضوع کو لےکر ایک فلم بنانے کی بات آئی تھی۔ فلم کے ذریعے سے اس مصیبت کی طرف میں سماج کا دھیان مرکوز کرانا چاہتا تھا۔کولہاپور کے راجہ شاہُو مہاراج نے اپنی ریاست میں چھوت چھات پر کافی کام کیا تھا۔ ان کے اس کام کا میرےذہن پر عجیب اثر پڑا تھا۔ اِدھر مہاتما گاندھی بھی سارے ملک میں اسی کام کے لیے عوامی بیداری کی مہم چلا رہے تھے۔

کے نارائن کالے نے اس ضمن میں میرے سامنے ایک مشورہ رکھا کہ ’’جات پات پر نہیں کوئی، ہری کو بھجے سو ہری کا کوئی(ذات پات کی بنیاد پرکوئی نہیں برتری نہیں ہے جو ہری کا جاپ کرتا ہے، ہری ہمیشہ اس کے ساتھ ہوتا ہے)، اس یقین کے ساتھ جیون بتانے والے مہاراشٹر کے سنت ایکناتھ کے جیون پر فلم بنائی جا سکتی ہے۔ سنت ایکناتھ تین سو سال پہلے اسی چھوت چھات کو مٹانے میں لگے تھے۔ ان کا یقین اور سیکھ یہی تھی کہ آدمی صرف اس لیے نیچا نہیں ہو جاتا کہ اس کا جنم مہار یا ماتنگ سماج میں ہوا ہے۔ یہی ثابت کرنے کے لیے سنت ایکناتھ ایک مہار کے گھر بھوجن کرنے گئے تھے۔ مہاراشٹر کے وہ اولین سماجی مصلح تھے۔ بات کچھ مجھے جچ گئی۔ کالےجی کا مشورہ مان لیا گیا۔ میں نے سنت ایکناتھ کے بھجن، بھاروڈ (روایتی موضوعات پر تاثراتی ڈھنگ سے رچا لوک گیت) وغیرہ لٹریچر منگوا کر پڑھ لیا اور اسی کی بنیاد پر میں نے اور کالے جی نے بیٹھ کر ایک کہانی تیار کی۔

سٹیج پر ہمیشہ ساڑھی پہن کر ہی کام کرنے والے بال گندھرو کو دھوتی اور کرتا پہنایا گیا۔ مونچھیں لگوا دی گئیں۔ سر پر چوٹی رکھ کر باقی سارا سر ان دنوں کے پنڈتوں کے ڈھنگ سے منڈوا دیا گیا۔ اوپر سے پگڑی بھی پہنا دی گئی۔ کیشوراؤ دھایبر کے سالے وِنائک راؤ گھورپڑے کی ایک بہت ہی سندر اور چلبلی لڑکی تھی، وَسنتی۔ اس کو ایک مہار کی لڑکی کا کردار دیا گیا۔

میں نے نئے میوزک ڈائرکٹر کی کھوج شروع کی۔ ہمارے میوزک ڈائرکٹر کیشوراؤ بھولے زیادہ تر پرانے مشہور گانوں کی دھنوں پر ہی نئی دھنیں بناتے تھے اور کلاسیکی موسیقی کی راگداری پر مبنی دھن بنانا تو ان کے بس کے باہر کی بات تھی۔

بال گندھرو جیسا رسیلا گایک اور سنت ایکناتھ مہاراج پر بنیادی لٹریچر لکھنا درکار ہو، تب تو میوزک ڈائرکٹر ایسا ہونا ہی چاہیے تھا جو بال گندھرو کی گائیکی مہارت کے ساتھ انصاف کر سکے۔ اس کے لیے یہ بھی ضروری تھا کہ فلم کا سنگیت بھی ایک دم اعلیٰ درجے کا ہو۔ یہی سب سوچ کر میں نے مشہور گایک اور میوزک ڈائرکٹر ماسٹر کرشن راؤ کو اس فلم کا سنگیت سنوارنے کا کام سونپا۔ اس کے علاوہ مشہور طبلہ استاد احمد جان تِھرکوا کو، جو ناٹکوں اور محفلوں میں بال گندھرو کی سنگت کرتے رہے تھے، ہماری کمپنی کے میوزک ڈپارٹمنٹ میں کام پر رکھ لیا۔

ماسٹر کرشن راؤ اصل میں نئی تخلیق کرنے والے میوزک ڈائرکٹر تھے۔ جب تک بال گندھرو اور میں مطمئن نہ ہو جائیں، وہ ایک ہی گیت کو ایک سے زائد دھنوں میں سنایا کرتے تھے۔

اس فلم کا ٹائٹل ہم نےرکھا ‘مہاتما’۔ اس کی ریہرسل تیزی سے ہونے لگی۔ بال گندھرو اتنے آزادخیال تھے اپنا بڑا ہونا بُھلا کے نئے اداکاروں کی طرح ساری باتیں مجھ سے سمجھ لیتے تھے۔ ان کے جیون میں مرد کردار کا کام کرنے کا یہ پہلا ہی موقع تھا۔ فطری طور پر ان کی چال ڈھال میں زنانہ پن آ گیا تھا، اسے دور کرنے کے لیے مجھے کافی محنت کرنی اور کروانی پڑی۔ پوری فلم میں سنت ایکناتھ کی جذباتی وقار اور عقل کے ساتھ ایک روپ ہو کر کام کرنے کی وہ بھرپور کوشش کرتے تھے۔ لیکن کبھی کسی سین کی ایکٹنگ ٹھیک سے نہ ہو پاتی، تو وہ خود مجھ سے وہ اداکاری کر دکھانےکو کہہ دیتے تھے۔

ایک دن ایک بہت ہی جذباتی سین کی ریہرسل پورے رنگ پر آ چکی تھی۔ میں نے بال گندھرو کو ایکناتھ کی اداکاری کر کے دکھائی اور دوسرے ہی لمحے ننھی وسنتی کو مہار لڑکی کی اداکاری بھی کر کے دکھائی۔ بال گندھرو میرے پاس آئے میری پیٹھ تھپتھپا کر شاباشی دیتے ہوئے انہوں نے کہا، “انا، واہ واہ! کیا کمال ہے۔ پل میں آپ ایکناتھ بن جاتے ہو، اور دوسرے ہی پل ننھا سا بالک بھی!”

بال گندھرو جیسے مہان کلاکار سے اس طرح شاباشی ملنے پر مجھے بہت اچھا لگا۔ کمپنی کے دیگر سبھی کاریگر اور کلاکار مجھے عزت سے ‘انا’ مخاطب کرتے تھے۔ لیکن بال گندھرو کے منھ سے بھی وہی خطاب سن کر میں بہت ہی مشکل میں پڑ گیا۔ میں نے شائستگی سے ان سے کہا، “میں گندھرو ناٹک منڈلی میں نوکری کرتا تھا، تب تو آپ مجھے ‘شانتا’ کہہ کر پکارا کرتے تھے۔ آج بھی آپ مجھے اسی طرح شانتا بلایا کریں، وہی اچھا لگے گا! وہ آپ کے چرنوں میں بیٹھ کر میں جو کچھ سیکھ پایا، اس کا اس انڈسٹری میں کافی استعمال ہو رہا ہے۔ آپ کےاس احسان کو جب میں دل سے قبول کرتا ہوں، آپ مجھے ‘انا’ کہیں، یہ ٹھیک نہیں!”

بال گندھرو کو میری بات قطعی منظور نہیں تھی۔ انہوں نے کہا، “بھگوَن، اس سمے آپ ‘شانتا’ تھے۔ آج آپ اپنے بل بوتے پر اور کارکردگی دکھا کر بڑے ہو گئے ہیں۔ ریہرسل کراتے سمے آپ جس طرح کھو جاتے ہیں، اسے دیکھ کر مجھے آسانی سے لگا کہ آپ کو ‘انا’ کہہ کر ہی مخاطب کروں!”

ان کی دلیل لاجواب تھی! اس پر کیا کہوں، سمجھ میں نہیں آیا۔

‘مہاتما’ کی شوٹنگ شروع ہوئی اور ایک دن اچانک ہمارے گرو بابوراؤ پینٹر سٹوڈیو میں آئے۔ ہم سب نےان کا دلی استقبال کیا۔ جل پان ہوا۔ وہ بال گندھرو سے اچھی طرح واقف تھے۔ بال گندھرو کے ‘دروپدی’ ناٹک کے سین بابوراؤ پینٹر نے تیار کیے تھے۔ بابوراؤ کی اس بےمثال ملاقات کی یاد میں ہم نے ایک فوٹو کھنچوا لیا، جس میں ان کے لیے اپنا احترام ظاہر کرنے کے لیے ان کے ساتھ کرسی پر نہ بیٹھتے ہوئے باقی سب لوگ پیچھے کھڑے رہے اور میں سامنے زمین پر ہی بیٹھ گیا تھا۔

اپنے سبھی ساتھیوں کی آنکھوں میں ایک ہی سوال ناچتا ہوا میں نے پایا۔ آخر بابوراؤ پینٹر کے اس طرح اچانک ہمارے یہاں آ دھمکنے کا کارن کیا ہو سکتا ہے؟ راز کیا ہے؟ ہم سب لوگ امید کر رہے تھے کہ سیٹھ پربھات فلم کمپنی، وہاں کی مشینری، کمپنی کا احاطہ، ہماری بنائی فلموں وغیرہ کے بارے میں کچھ تو رائے ظاہر کریں گے، ہماری حوصلہ افزائی کریں گے، لیکن ویسا کچھ بھی نہیں ہوا۔

کچھ سمے بعد وہ جانے کو تیار ہوئے۔ انہوں نے مجھے ایک طرف بلا کر کہا، “مجھے دس ایک ہزار روپے کی ضرورت ہے۔”

وہ یہ رقم فوراً چاہتے تھے۔ رقم لینے کے لیے کل آؤں گا، کہہ کر وہ چلےگئے۔ اس کے بعد میں نے ساتھیوں کو بابوراؤ کی گئی رقم کی مانگ کے بارے میں بتا دیا۔ ہم سب کو ان کا یہ طریقہ عجیب و غریب لگا۔

دوسرے دن وہ پُونا سٹوڈیو میں آئے۔ میں نے ایک لفافے میں وہ رقم انہیں دے دی۔ سیٹھ نے لفافہ جیب میں ڈالا اور بنا کسی سے کچھ بولے وہ جیسے آئے تھے ویسے ہی چلے گئے۔۔۔

‘مہاتما’ کے سکرین پلے میں میں نے ایک ڈھونگی سادھو بابا کا کردار تخلیق کیا۔ اس سادھو بابا کے کچھ کارنامے میں نے خود دیکھے تھے، اسی طرح کے ڈھکوسلاباز سادھو باباؤں کے طریقے کو جوں کا توں لے لیا تھا۔ پچھلے دنوں ایک بار دادا مہاراج کے ساتھ بیتے اس واقعے کے بعد ایک امیر بیوپاری کسی باباجی کو ہمارے یہاں لے آیا تھا۔ ان کے ساتھ ان کے چیلے چپاٹے بھی تھے۔ اس سمے کا ایک بہت ہی بھونڈا سین یاد بن کر رہ گیا تھا: اس باباجی کی مہمان نوازی کرنے کے لیے اس کے سامنےکچھ پھل ول رکھے تھے۔ انہوں نے ایک کیلا لیا، تھوڑاسا کھایا، اور بعد میں بچا ہوا کیلا پاس ہی کھڑے ایک چیلے کو دے دیا۔ اس نے اس جوٹھے کیلے کو باباجی کا پرساد مان کر ماتھے سے لگایا اور کچھ حصہ اپنے دانتوں سے کاٹ کر باقی کیلا دوسرے چیلےکو تھما دیا۔ یہی سلسلہ جاری رہا۔ وہ کیلا گھومتا ہوا آخر میرے پاس کھڑے ایک سجن کو دیا گیا۔ تب اس میں کیلا بہت کم اور چھلکا کافی زیادہ رہ گیا تھا۔ مجھے اس بھونڈے رواج پر بہت ہی گھن آ گئی۔ متلی سی آنے لگی۔ یہ دیکھ کر کہ سادھو باباجی کا وہ پرساد کھانے کی نوبت اب مجھ پر بھی آنے جا رہی ہے، کسی کام کے بہانے میں وہاں سے چپ چاپ کھسکا۔

اس گھناؤنے سین کو جوں کا توں ‘مہاتما’ میں فلمانا میں نے طے کیا۔ مراٹھی ‘مہاتما’ میں اس بھوندو سادھو کا کام میں نے اداکار کیلکر کو دیا اور ہندی ورژن میں چندرموہن کو، جی ہاں، چندرموہن کو!

’چندر سینا’ کی شوٹنگ ختم ہونے کے بعد ایک دن چندرموہن سویرے ہی میرے گھر پر آیا اور نم آنکھوں سے اس نے ایک دم میرے چرن چھو لیے۔ اپنےغلط رویے کی اس نے مجھ سے معافی مانگی۔ چندرموہن میرا بنایا ہوا کلاکار تھا۔ میں نے ہی اسے گھڑا تھا۔ وہ میرا اپنا تھا۔ میں نے دونوں ہاتھوں سے اسے اوپر اٹھایا اور کہا، “تم نے مجھ سے دلی معافی مانگی ہے، اب میرا سارا غصہ اتر گیا ہے۔”

کچھ لمحے تو چندرموہن کی سمجھ میں میری بات نہیں آئی۔ کہیں سپنا تو نہیں، یہ تاثر اس کی آنکھوں میں دکھائی دیا۔ لیکن میں نے اسے یقین دلایا، یقین دہانی کرائی۔

“معاہدے کے مطابق ‘پربھات’ کی آخری فلم کا کام پورا کر تم باہر کی فلمی دنیا میں قدم رکھو گے تو تمہارا نام یقینی ہی مقبولیت کی چوٹی پر چمکے، اسی طرح کا کردار میں تمہیں دوں گا!”

اسے دیا گیا وہ وعدہ آگے چل کر ‘امر جیوتی’ فلم میں میں نے پورا کیا۔

‘مہاتما’ فلم پُراثر بنے، اس وجہ سے میں نے اسے اپنے خاص ڈائرکشن سٹائل سے من لگا کر سجایا سنوارا تھا۔ ایک سین تھا: پیٹھن گاؤں کے مہار کی ایک لڑکی جائی کے گھر کھانے پر جانا ایکناتھ قبول کر لیتے ہیں۔ مہاراج کے دعوت نامہ قبول کر لینے کے کارن جائی تو خوشی کے مارے پاگل ہوئی جاتی ہے۔ وہ سارے گاؤں کی گلیوں سے ناچتی گاتی جاتی ہے اور راستے میں ملنے والے ہر آدمی کو بہت خوش ہو کر بتاتی پھرتی ہے، “کل آویں گے ناتھ ہمارے گھر پر، بھوجن پر۔” جائی کی ان خوشیوں کے کارن سب لوگ متاثر ہو جاتے ہیں، ان کی آنکھیں بھر آتی ہیں، خوشی کے آنسو بہنے لگتے ہیں اور خوشی کےاس نزدیکی موقعے پر ہی ‘انٹرویل’ ہوتا ہے۔

انٹرویل کےبعد فلم آگے بڑھتی ہے۔ مہار ٹولا خوشی سے مست ہو گیا ہے۔ گھر کا ہر پھٹا پرانا چیتھڑا مہار لوگ دھو دھو کر صاف کرنے میں لگے ہیں۔ عورتیں اپنی اپنی جھگی جھونپڑی کے سامنے کا گھر آنگن لیپ پوت کر چمکانے میں جٹی ہیں۔ جھاڑ پونچھ جاری ہے۔ مہار ٹولےکا بچہ بچہ کسی نالے تالاب میں نہا نہا کر صاف بننے کی کوشش میں ہے۔ جدھر دیکھو، خوشی ہی خوشی ہے۔ ایک امنگ بھرا سماں بنتا جا رہا ہے۔ یہ دونوں سین بےشمار خوشی سے بھرے تھے۔ ‘مہاتما’ کا ایک اور دل چھونے والا سین تھا:

ایکناتھ مہاراج کے گھر پر شرادھ (ختم) ہے، لیکن سبھی براہمنوں نے ان کا بائیکاٹ کر دیا ہے، اس لیے دوپہر بیت جاتی ہے، غروب سمے ٹل جاتا ہے، دیپ جلانے کا وقت آ جاتا ہے، تب بھی ایکناتھ کے پُرکھوں کی آتما کو احترام دینے کے لیے کوئی بھی براہمن کے گھر شرادھ کے لیے آتا نہیں۔ سبھی براہمن لوگ اسی اکڑ میں بیٹھے رہتے ہیں کہ بےعزتی کا مارا ایکناتھ ہاتھ جوڑ کر چرنوں میں آ گرے گا اور گڑگڑا کر منتیں کرے گا۔ ادھر ایکناتھ کے باڑے کے باہر مہار اور ماتنگ لوگ اس امید سے راہ دیکھ رہے ہیں کہ کب براہمنوں کا بھوجن ہو، اور کب انہیں جوٹھی مٹھائی وغیرہ کھانے کو ملے۔ آخر ایکناتھ مہاراج ان سب لوگوں کو اپنے باڑے میں بلاتے ہیں اور اس پرجوش جنتا کو قطاروں میں بٹھا کر پورا کھانا پروستے ہیں، جس میں ایکناتھ کی خوش اخلاق بیوی اور نوکر شریکھنڈ بھی ہاتھ بٹاتے ہیں۔

اس سین کی شوٹنگ جاری تھی، تبھی اچانک مجھے ایک اور محبت بھرا سین ڈالنے کا خیال سوجھا۔ بھوجن جاری ہے۔ بوندی کے لڈو پروسے جا رہے ہیں۔ کھانے میں بڑوں کے ساتھ دو بچے بھی شامل ہیں۔ ایک بچہ لڈو اٹھا کر منھ میں بھرتا ہے اور اسے توڑنے کی کوشش کرتا ہے۔ لڈو کچھ سخت بنے ہیں۔ بچہ اسے توڑ نہیں پاتا، اس کے پاس ہی بیٹھا دوسرا کچھ بڑا سا بچہ اس کا لڈو لے لیتا ہے اور اپنے منھ میں ڈال کر توڑتا ہے۔ اس کے ٹوٹتے ہی لڈو کا ایک ٹکڑا اس کے منھ میں آتا ہے۔ سب کو لگتا ہے کہ اب یہ بچہ پورا لڈو صاف کر جائےگا۔ تبھی وہ بچہ بڑی ممتا اور محبت سے لڈو کا وہ ٹکڑا چھوٹے بچے کے منھ میں ڈالتا ہے اور اسی طرح اس کو کھلاتا جاتا ہے۔

شبدوں کے سبھی طول و عرض کو پار کرتا ہوا ڈائرکٹر کہیں خاموش سین کو بھی بےحد پُراثر بنا سکتا ہے، اس سوچ پر میرا عقیدہ ایسےسین کی شوٹنگ کےکارن ہی روز بہ روز بڑھتا گیا۔ ساتھ ہی یہ بھی میں محسوس کرنے لگا کہ کچھ سین کو علامتی روپ دینے سے وہ بہت ہی بامعنی بن جاتے ہیں۔ ‘مہاتما’ فلم میں آخر میں ایک سین ہے کہ سنت ایکناتھ اور ان کے دیو صفت پنڈت بیٹے میں ایک مذہبی مناظرہ ہوتا ہے۔

ایکناتھ کے دیو شاستر( دینیات) میں کامیاب بیٹے کا خیال ہوتا ہےکہ اپنے قدامت شکن باپ کا منھ دیکھنے سے وہ بھرشٹ ہو جائے گا، اس لیے بحث کے وقت وہ بیچ میں ایک پردہ لگوا لیتا ہے۔ ایکناتھ روشنی کی طرف ہوتے ہیں، اس لیے ان کی پرچھائیں سامنے پڑتی ہے اور اس پرچھائیں میں سے ان کا لڑکا اپنی پنڈتائی بگھارتا دکھائی دیتا ہے۔ بھید، چاتر ورنیہ، پرانیوں میں ویاپت اچنیچتا وغیرہ (مذہبی) موضوعات پر دونوں میں کافی دھواں دھار شاستر ارتھ (مناظرہ) ہوتا ہے۔ اس منظر کے فلمانے میں یہ دکھانا چاہتا تھا کہ وہ لڑکا کتنا ہی مہان پنڈت کیوں نہ ہو، وہ اس دنیا میں اس انسان پرست مہاتما کی پرچھائیں سے زیادہ کچھ نہیں ہو سکتا ہے۔ میرے من کے اس ارادے کے اضافی اور بھی کئی معنی اس منظر سے نکالے جائیں گے، لیکن کیا کبھی کوئی تخلیقی انسان اپنی کسی سرشت کے سبھی طول و عرض کو الفاظ دے پاتا ہے؟

فلم پوری ہو گئی۔

اسے سنسر کے لیے میں خود بمبئی لے گیا۔ سنسر کے ایک ممبر نے ‘مہاتما’ دیکھی۔ اس نے فیصلہ دیا: ”چونکہ یہ فلم ذات پات جیسے متنازعہ سوال پر بنی ہے، میں اکیلا اس کو پاس کرنےکی ذمےداری نہیں لیتا۔ سنسربورڈ کے سبھی ارکان کو فلم دکھانی ہو گی۔” ممبر کا وہ فیصلہ سن کر تو میرے پیٹ میں بل پڑنے لگے۔ ‘سوراجیاچے تورن’ فلم کے سمے ہوا سارا گھٹناچکر پھر ایک بار آنکھوں کے سامنے گھومنے لگا۔ من میں خدشہ جاگ اٹھا کہ کہیں پھر ویسا ہی نہ ہو جائے۔

اور آخر میں میرا خدشہ صحیح ثابت ہوا! سنسر کے سبھی ممبروں نے فلم دیکھی اور اپنی رائے دی: اس فلم کےکارن اونچی ذاتوں کے ہندوؤں میں غصہ پھوٹ پڑےگا، ذات پرستی بڑھےگی، ملک میں بےاطمینانی پھیلےگی اور نتیجتاً امن و امان خطرے میں پڑ جائے گا! اس لیے سنسر بورڈ کا فیصلہ ہے: ‘مہاتما’ فلم پر مکمل پابندی!’
)جاری ہے(

Categories
نان فکشن

شانتا راما – باب 14: آف ویدر زہن!” (ترجمہ: فروا شفقت)

تار میں لکھا تھا، “گووندراؤ ٹیمبے، بابوراؤ پینڈھارکر، لیلابائی، وِنائک اور کچھ اور کلاکاروں اور ٹیکنیشینوں نے استعفیٰ دے دیا ہے۔ وہ پُونا آنے کے لیے تیار نہیں۔ آپ جلدی بھارت لوٹ آئیے۔” تار کے نیچے داملےجی کا نام تھا۔

کچھ لمحے تو میری سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ میں کہاں ہوں، کیا کر رہا ہوں۔ زیادہ تنخواہ دینا قبول کرنے کے بعد بھی آخر یہ سب لوگ استعفیٰ کیوں دے بیٹھے ہیں؟ خاص کر بابوراؤ پینڈھارکر اور میری بھکتی کرتے ہوئے مجھ سے محبت بھی کرنے والے ونائک جیسے لوگوں نے بھی میری غیرموجودگی میں، جب میں یہاں دور پردیس میں ہوں تب، استعفیٰ دے دیا؟

آخر کیوں؟

اُفا اور آگفا کمپنی کے بھیجے گئے موٹی موٹی رقموں کے بِل، باپو کی بیماری اور ایسے میں ہی کولہاپور کے اس تار نے تو مجھے حیران کر دیا۔ بےچین من سے میں کمرے میں ہی ایک کونے سے دوسرے کونے تک چکر کاٹتا رہا۔ تیزی سے ڈگ بھرتا رہا۔ میری دندناہٹ کے لیے وہ کمرہ چھوٹا پڑنے لگا۔ آخر میں باہر سڑک پر آ گیا اور فٹ پاتھ پر تیزی سے چہل قدمی کرنے لگا۔ چلتا ہی جا رہا تھا کہ راستے میں ایک سنیماگھر دکھائی دیا۔ وہاں ‘میڈم بٹرفلائی’ فلم لگی تھی۔ سوچا، کچھ تفریح ہو جائے گی۔

لیکن اس دن بدقسمتی ہاتھ دھو کر میرے پیچھے پڑی تھی۔ اس فلم کی کہانی ایک جاپانی عورت کی کہانی پر مبنی تھی۔ وہ جاپان میں آئے ایک امریکی فوجی سے پیار کرنے لگتی ہے۔ دونوں شادی کر لیتے ہیں۔ تبھی اس امریکی فوجی کو دیس لوٹنے کا حکم ملتا ہے۔ جاتے وقت وہ فوجی اپنی جاپانی بیوی سے وعدہ کرتا ہے کہ ملک لوٹتے ہی امریکی سرکار سے اجازت حاصل کر میں تمہیں اُدھر بلا لوں گا۔ وہ انتظار کرتی رہتی ہے۔ کافی دن بیت جاتے ہیں۔ لیکن اس سپاہی کا کوئی خط نہیں آتا۔ آخر ہار کر وہ ایک نوکیلی تلوار اپنی چھاتی میں گھونپ کر ہاراکری (خودکشی) کر لیتی ہے، جاپانی رواجوں کے مطابق۔

میں اس لیے فلم دیکھنے گیا تھا کہ دل و دماغ کو کچھ شانتی ملے گی، لیکن وہاں ٹھیک برعکس ہو گیا اور میں پہلے سے بھی کہیں زیادہ بےچین ہو کر لوٹ آیا۔ جاپان ایک مشرقی دیس ہے۔ وہاں کی وہ عورت میری بہن ہی تو ہوئی۔ ہیروئین کے ساتھ دھوکہ کیے جانے کی وجہ سے اسے ہاراکری کرنی پڑتی ہے۔۔۔ سر پھٹا جا رہا تھا۔

اس ساری گھبراہٹ سے آزادی پانےکا راستہ کیا ہے؟ کسی سے سُن رکھا تھا کہ ایسے درد کی دوا شراب ہے۔ درد بےقابو ہو گیا تو شراب کے نشے میں اسے بُھلایا جا سکتا ہے۔ میں ہمیشہ کے ہوٹل میں گیا۔ ویٹریس کھانے کا آرڈر لینے کے لیے میرے پاس آ کر کھڑی ہو گئی۔ میں نے اس سے کہا، “پہلے میرے لیے شراب لے آؤ۔” وہ جانتی تھی کہ میں کبھی شراب نہیں پیتا، لہٰذا وہ منھ پھیلائے مجھے دیکھتی رہی۔ میں اس پر لگ بھگ چلّا اٹھا، “شراب لاؤ!”

میرا چہرہ دیکھ کر وہ ڈر گئی۔ چہرے پر زبردستی ہنسی لاتے ہوئے اس نے پوچھا،
“کون سی لاؤں؟ کس برانڈ کی؟”

شراب کے ایک بھی برانڈ کا مجھےعلم نہیں تھا۔ لیکن بڑا رعب گانٹھتے ہوئے میں نے فرمایا، “کوئی سی بھی! لیکن ہو اچھی سٹرانگ! تمہاری پسند کی ایسی کوئی بھی شراب لے آؤ، جس کا نشہ فوراً سوار ہو جائے۔” وہ جلدی جلدی چلی گئی۔

کھانے کا وہ ہال لگ بھگ ستر اسی فٹ لمبا تھا۔ وہ اس کے پرلے سرے پر ایک دروازے سے اندر چلی گئی۔ میں سوچنے لگا، اب وہ شراب لے کر آئے گی۔ دو چار پیگ چڑھا لینے کے بعد ضرور مجھ پر نشہ سوار ہو جائے گا۔ پھر شانتی محسوس ہو گی۔ بہت ہی اتاؤلے من سے میں ویٹریس کی راہ دیکھنے لگا۔

کھانے کے کمرے کا وہ جھولتا دروازہ ہلا۔ ایک ٹرے میں شراب کی بوتل اور ایک بَڑھیا باریک نکیلے کنارے والا شراب پینے کا گلاس رکھے وہ چلی آ رہی تھی۔ سر میں خیالات کا چکر گھومنے لگا۔

“اب اس بوتل میں رکھی شراب میں پیوں گا۔ نشہ چڑھے گا۔ نشے میں جھوم کر میں کہیں گر پڑوں گا۔ اس کے بعد سر میں اٹھ رہا وِچاروں کا طوفان شاید شانت ہو جائے گا۔۔۔ کم سے کم کچھ سمے کے لیے تو شانت ہو ہی جائے گا۔۔۔ لیکن آج میرے سامنے جو سوال منھ کھولے کھڑے ہیں، کیا وہ اس نشے میں حل ہو جائیں گے؟ کبھی نہیں! پھر تم کیا کرو گے؟ نشہ اتر گیا تو پھر شراب پیو گے۔۔۔ پھر نشہ۔۔۔ شراب اور پھر لگاتار شراب پی پی کر سُدھ بُدھ کھو کر آخر کسی گندی نالی میں نڈھال ہو کر پڑے رہو گے! کیا یہی کرتے رہو گے؟”

“نہیں! نہیں!” میں زور سے چلّایا۔ ویٹریس میری ٹیبل کے پاس شراب کی بوتل اور گلاس لیے کھڑی تھی۔ وہ حیران سی، تذبذب میں پڑی مجھے گھور رہی تھی۔ اپنے آپ کو سنبھالتے ہوئے میں نےکہا، “اس بوتل کو واپس لے جاؤ۔ مجھے شراب نہیں چاہیے۔ یہ بوتل تمھیں انعام دیتا ہوں۔ اسے تم اپنے گھر لے جاؤ۔”

میں نے اس کی ٹرے میں شراب کی بوتل قیمت کے مارک رکھ دیے۔ اوپر ٹِپ کےطور پر اور دس مارک رکھے اور ہوٹل سے سیدھا اپنے کمرے میں آ گیا۔ جسم پر پہنے سارے کپڑے اتار پھینکے اور بستر پر بےسُدھ جا دھمکا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے اندر سے سارا جسم سائیں سائیں کرتا جل رہا ہے۔ جان تڑپ رہی تھی۔ لگاتار کروٹیں بدلتا میں بےچین ہو رہا تھا۔ کیا کروں، کیا نہ کروں۔ کیا ہو رہا تھا؟ پلنگ کے نیچے جیسے کسی نے سو سو چولہے جلا رکھے تھے اور ان کی آنچ میں روم روم جھلسا جا رہا تھا۔ جَل بِن مچھلی جیسی حالت ہو گئی تھی۔ دم گھٹتا جا رہا تھا۔ آخر میں پلنگ پر اٹھ بیٹھا اور منھ سے چیخ نکلی، “ہے بھگوان!”

آدھی اور طوفان بھری رات میں راہ بھولے مسافر کو اچانک بجلی کوندھتے ہی اس چکاچوندھ میں راستہ دکھائی دیتا ہے، بھگوان کو پکار دیتے ہی میری حالت ویسی ہی ہو گئی۔ میں ہر دن صبح نہانے کے بعد بھیگے بدن شری وشنو کی مورتی کو یاد کر یکسوئی سے ان کا دھیان کیا کرتا تھا۔ اسی کی مجھے یاد آئی۔ میں نے آنکھیں موند لیں اور عرض کرنے لگا، “ہے بھگوان، میرے من کو شانتی دو، میرا سُلگتا ماتھا شانت کرو!”

آنکھیں کھلیں تو سویرا ہو گیا تھا۔ میں اپنے بستر پر سویا ہوا تھا۔ پتا نہیں کب سو گیا تھا۔ لیکن اب مجھے ایک دم تازگی محسوس ہو رہی تھی۔ تن من کی ساری تھکان غائب ہو گئی تھی۔ من کو دکھ دینے والی ہر مصیبت کا سامنا کرنے کی شکتی جاگ اٹھی تھی۔ بھگوان کی پرارتھنا میں میرا اعتماد سو گنا ہو گیا تھا۔

اس کے ساتھ ہی جیون کا ایک مہامنتر مجھے مل گیا تھا کہ “مصیبتیں چاہے جتنی آئیں، تھک ہار کر ہمت نہیں ہارنی چاہیے، بلکہ ایسے سمے زیادہ جوش اور امنگ کے ساتھ پورے جوش سے ان مصیبتوں کا سامنا کر آگے بڑھنا ہی سچی کوشش ہے!”

ہندوستان سے بھجوائے پیسے ہاتھ آتے ہی میں نے اُفا اور آگفا کے بِل بنا کوئی بھاؤتاؤ کیے چکا دیے۔ ‘پربھات’ کے غیرمعمولی لوگوں کے استعفیٰ دینے کے کارن پیدا ہوئی صورت حال سے راستہ نکالنے کا طریقہ من میں جاگ اٹھا اور سوچا کہ اس کٹھنائی سے پار ہونے کا حل ایک ہی ہے: ایک زبردست فلم بنانا۔ میں اسی نظریے سے سوچنے لگ گیا۔

بچپن میں بَھوانی کو بکرے کی بلی چڑھائی جاتے میں نے دیکھا تھا۔ دیوی دیوتاؤں کو خوش کرنے کے لیے جانور بلی چڑھانے کا رواج آج بھی کافی جگہ پر جاری تھا۔ دیش کے کچھ حصوں میں تو نَربلی بھی دی جاتی تھی۔ یہ غیرانسانی رسم پرانے زمانے سے آج تک سارے ہندوستان کی مختلف دیوالیوں میں جاری تھی۔ سوچا کہ انہی قابلِ مذمت رواجوں پر چوٹ کرتے ہوئے لوگوں کو بیدار کرنےکی کوشش کرنے والی کہانی اپنی آئندہ فلم کے لیے چنوں۔ اس کہانی کی تخلیق میں من ہی من کرنے لگا۔

غریب اندھا اعتماد کرنے والے لوگوں پر اپنی تیکھی اور چبھتی نظر سے دھاک جمائے بیٹھا دھرم گُرو اس کہانی کا مرکزی نقطہ تھا۔ جرمنی آنے پر دھرم گرو کی آنکھوں کا بڑا کلوزاپ لینے کے لیے ضروری ٹیلی فوٹو لینز کے بارے میں مَیں نے پوچھ تاچھ شروع کر دی تھی۔ پیٹرسن مجھے ایک لینز بنانے والی کمپنی میں لے گئے۔ ان کے پاس ایک لینز تو تیار تھا، لیکن اس سے وہ نتیجہ ممکن نہ ہوتا جو میں چاہتا تھا۔ لہٰذا اسی لینز میں کچھ ترمیم تبدیلی کر، تین سو ملی میٹر والا لینز پندرہ دنوں بعد مجھے دینے کے لیے کمپنی راضی ہو گئی۔ اسی کمپنی میں کارٹون فلم بنانے کے لیے ضروری مشینری بھی تھی۔ والٹ ڈزنی کی ‘مکی ماؤس’ اور دوسری کارٹون فلم سیریز سے میں بھی کافی متاثر ہو چکا تھا۔ چاہ تھی کہ بھارتی پس منظر پر اس طرح کے کچھ نئے تجربے کروں، اس لیے کارٹون شوٹنگ کے لیے ضروری کیمرے اور دوسرے ساز و سامان کا آرڈر بھی میں نے اس کمپنی کو وہیں دے دیا۔

اب اور پندرہ دن برلن میں رکنے کے سوا کوئی حل نہیں تھا۔ ‘پربھات’ کا ساتھ چھوڑ گئے کلاکاروں کی جگہ پر قابل کلاکاروں کو لینےکا وِچار من میں آیا اور اس کے مطابق مزید قابل ناموں کی کھوج میں بیٹھے بیٹھےکرنے لگا۔

مراٹھی فلم ‘شیام سندر’ میں ایک نوجوان لڑکی شانتا آپٹے نے رادھا کا کام کیا تھا۔ اس فلم میں اس کے گائے ہوئے گیت بھی بہت اچھے تھے۔ اس کی گائیکی بھی اچھی تھی۔ لیکن اس کی اداکاری میں کوئی جان نہیں تھی۔ پردے پر تو وہ ایسی لگتی جیسے چلتی پھرتی لاش ہو۔ اخباروں نے اپنے جائزوں میں اس کے بارے میں بہت ہی بُری رائے ظاہر کی تھی۔ اس شانتا آپٹے کو ‘شیام سندر’ میں وہ کام کرنے آنے سے پہلے میں نے ایک بار دیکھا تھا۔ اس کا گانا بھی سنا تھا۔ اس سمے مجھے ایسا تو ضرور لگا تھا کہ ہو نہ ہو، اس میں کچھ خاص بات ہے، پر اس کے باوجود ہیروئن کے کام کے لیے اس کے موزوں ہونے پر مجھے شُبہ تھا۔ ہیروئن کی کھوج کرتے کرتے مجھے نلِنی ترکھڈ کی یاد آئی۔ نلِنی کبھی ایک بار مجھ سے ملی تھیں۔ اچھی پڑھی لکھی تھیں اورکافی دلکش لگتی تھیں۔

میں نے فوراً ہی داملےجی کو تفصیلی خط لکھا: “آئندہ فلم کے لیے من میں ایک بہترین اور اثردار کہانی شکل لے رہی ہے۔ اس کے لیے اب ہمیں نئے کلاکاروں کو ڈھونڈنا ہی پڑے گا۔ ‘شیام سندر’ میں رادھا کا کردار نبھانے والی شانتا آپٹے کو بلا کر اس کے ساتھ قرار کر لیجیے۔ اس کے علاوہ نلِنی ترکھڈ کا بمبئی کا پتا بابوراؤ پینڈھارکر سے معلوم کر لیجیے۔ بمبئی پہنچتے ہی میں خود ان سے بات کروں گا۔ ولن کے لیے اداکاری میں انتہائی قابل کلاکار کی ضرورت پڑے گی۔ میری کہانی میں ولن کا کردار ایک اہم کردار رہے گا، لیکن اس کے لیے فی الحال تو میری آنکھوں کے سامنے کوئی بھی لائق شخص نہیں ہے۔ ہیرو کے کام کے لیے کسی کسے ہوئے ڈیل ڈول کے نوجوان کی کھوج کرتے رہیے۔ اسے گانا ضرور آنا چاہیے۔ میوزک ڈائریکٹر کا انتخاب میرے پُونا لوٹنے کے بعد سب کی رائے سے کریں گے۔۔۔”

اب تو میں واپس وطن لوٹنے کے لیے مچلنے لگا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ کب واپس جاتا ہوں اور اپنے نئے کام کو شروع کرتا ہوں۔ اسی جوش سے برلن میں اپنے خاص کاموں کو ایک ایک کر نبٹانے میں جُٹ گیا۔ ایک دن مجھے افیفا سے خط ملا کہ ‘سیرندھری’ کی بنِا استعمال کی ہوئی نگیٹو کے ڈبے وہیں پڑے ہیں، ان کا کیا کرنا ہے؟ مجھے افیفا میں ایک بار جانا تھا ہی۔

دوسرے دن سویرے میں افِفا پہنچا۔ جینی وہیں تھی، لیکن لگتا تھا وہ غصے میں ہے۔ پچھلے کئی دنوں سے میں نے اس کا حال تک نہیں پوچھا تھا۔ وہ مجھ سے بات کرنے کو بھی تیار نہیں دکھائی دی۔ نیگیٹو کی جانچ پڑتال میں سمے ضائع نہ ہو، اس وجہ سے جینی نے فرصت کے سمے میں وہ کام پہلے ہی پورا کر رکھا تھا۔ کام کرنے کی اس کی اس تیاری کو دیکھتے ہوئے اس کی طرف اپنے طرز عمل کو میں کچھ اٹ پٹا سا محسوس کرنے لگا۔ میں اس کے پاس گیا۔ جیب سے ایک ہزار مارک کے نوٹ نکال کر اس کے سامنے کر دیے۔

اس نے پوچھا، “یہ کیا ہے؟”

میں نے کہا، “تم نے اتنے اپنے پیسے یہاں کا سارا کام کیا، اس کے لیے یہ انعام!”

اس نے غصے میں کہا، “تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہارے دیس میں اپنےپن کو انعام دیا جاتا ہے؟” پھر کچھ رُک کر بولی، “یہ نوٹ اپنی جیب میں رکھ لو۔ اب سے تمہارا کوئی بھی کام مجھ سے نہیں ہو گا! تمہاری مدد کے لیے میں کسی اور لڑکی کو بھیج دیتی ہوں!” اتنا کہہ کر وہ دروازے کی طرف جانے لگی۔

میں نے اسے پکارا، “رکو، جینی، بات سنو!” اس کے پاس جا کر میں نے اسے اپنی تکلیفوں کی ساری کہانی سنائی۔ سن کر اس نے میرا ہاتھ جذباتیت سے کس کر تھاما اور مجھ سے معافی مانگی۔ پھر ہم دونوں نیگیٹو کے ٹکڑے جانچنے کے کام میں لگ گئے۔

شام کو ایڈیٹنگ روم کے دروازے پر کسی نے دستک دی اور اس ڈپارٹمنٹ کی ہیڈ اندر آئی۔ میں نے اسے نیگیٹو کے سبھی ٹکڑوں کو جلا دینے کے لیے کہا اور افیفا کا اُس دن کا کرایہ چُکتا کر میں باہر آ گیا۔ جینی وہاں میرا انتظار کر رہی تھی۔ اس نے پوچھا، “اب کیا پانسیوں جاؤ گے؟”

“نہیں۔ اب میں یہاں سے پاس ہی ایک ہوٹل میں رہتا ہوں۔”

باتیں کرتے کرتے ہم لوگ میری کار کے پاس آ گئے۔ اب جینی پہلے سے کافی اچھی انگریزی بولنے لگی تھی۔ میں نے یہ بات اسے بتائی۔ اس پر اس نے کہا، “تمہارے ساتھ اچھی طرح باتیں کر سکوں، اس لیے میں نے رات کی انگریزی کی کلاس ‘جوائن’ کی ہے۔”

میں نے کار کا دروازہ کھولا اور جینی سے اندر بیٹھنے کے لیے کہا، “آؤ، تمہیں تمہارے گھر چھوڑ آتا ہوں۔” کار چل پڑی۔ جینی نے شوخ ادا سے پوچھا، “تمہارے ہوٹل میں کھانا تو ملتا ہے نا؟”

میں نے کہا، “جی ہاں، ملتا ہے۔”

“تو چلو، آج میں تمہیں دعوت دیتی ہوں۔ اور ہاں، تمہیں میرے ساتھ کھانا نہ کھانا ہو، تب تو مجھے میرے گھر پر چھوڑ دو!”

اب جا کر کہیں اس کی بات کا اشارہ میری سمجھ میں آیا۔

کھانے کے بعد جینی نے ہنستے ہنستے پوچھا، “تمہارا ہوٹل والا کمرہ دیکھنے کے لیے آؤں تو کیسا رہے گا؟”

“بہت اچھا، چلو،” میں نے کہا۔ ہم دونوں کمرے میں آئے۔ کمرے میں آتے ہی جینی نےمجھے کس کر گلے لگایا اور باربار، لگاتار مجھےچومتی رہی۔ “جینی،جینی” کہتے ہوئے میں نے اسے الگ کیا۔

جینی ہنس رہی تھی۔ مجھےخدشہ ہوا کہ کہیں اسے پاگل پن تو نہیں ہو گیا؟ اس نے مجھے صوفے پر بیٹھنے کے لیے کہا۔ تھوڑی دیر بعد دیکھا تو مجھے اپنی آنکھوں پر بھروسا نہیں ہو رہا تھا! وہ ایک دم برہنہ تھی! اتنی سفید سنگ مرمریں کایا میں پہلی بار دیکھ رہا تھا۔ مدہوش نظارہ بکھیرتی وہ میرے ٹھیک سامنے پاس آ کر کھڑی ہو گئی۔

ایک پل تو من میں خیال آ ہی گیا کہ میں بھی اپنے سارے کپڑے اتار کر پھینک دوں۔ اٹھوں اور جینی کی گوشت پوست کی کایا کو حصار میں باندھ لوں۔ لیکن نہیں، ایسا سوچنے سے کام نہیں چلےگا۔ مجھے اپنے من پر قابو پانا ہی ہو گا، یہ میرا راستہ نہیں۔ میرا راستہ ہے، میرا اپنا کام، میری اپنی کلا، میرا اپنا آدرش، میرا گرمایا خون دھیرے دھیرے شانت ہونے لگا۔ وہ اسی حالت میں سامنے کھڑی تھی، مدہوش نظارہ اور ہونٹوں پر ملائم مسکراہٹ لیے۔

میں نے ہڑبڑا کر پوچھا، “جینی، تمہارا ارادہ آخر کیا ہے؟”

“میں تمہیں بہت چاہتی ہوں، تم سےشادی کرنا چاہتی ہوں۔”

“لیکن جینی، یہ ناممکن ہے، نہایت ناممکن ہے!”

اب اس کی آنکھوں میں چنگاریاں چمکنےلگی تھیں۔ بولی، “تم ایک دم روکھے آدمی ہو۔ پتھر ہو۔ اپنا سب کچھ تمہیں قربان کرنے آئی لڑکی کو ٹھکرا کر تم نسائیت کی بےعزتی کر رہے ہو۔” اتنا کہہ کر وہ تلملاتی ٹائلٹ کی طرف چلی گئی۔

نسوانی کردار کا یہ نیا اظہار دیکھ کر میں بوکھلا گیا۔ میرا گلا سوکھ گیا۔ اٹھا، کمرے میں گھنٹی تھی، اسے دبایا۔ بوائے آیا۔ اس سے میں نے دو کولڈ ڈرنک لانے کے لیے کہا۔

کافی دیر تک انتظار کرتا رہا۔ آخر ٹائلٹ کے دروازے پر ہلکی سی دستک دی اور اسے پکارا۔

کچھ دیر بعد وہ باہر آئی۔ اس کی آنکھیں رو رو کر لال ہو گئی تھیں۔ میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے لا کر صوفے پر بٹھایا۔ بھنووں کے بیچ کی جگہ کو انگلیوں سے دباتے ہوئے بھاری آواز میں اس نےکہا، “مجھے پچھتاوا ہو رہا ہے، شانتارام! مجھ سے جو کچھ ہو گیا اور میں نےکٹھورتا سے تمہیں جو کچھ کہہ دیا، اس کے لیے مجھے معاف کرنا!”

میں نےاس کے ہاتھوں میں کولڈ ڈرنک کا گلاس تھما دیا۔ جرمن میں دانکے (شکر گزار ہوں) کہہ کر، وہ اسے ایک ہی سانس میں پی گئی۔

کچھ دیر بعد وہ جانے کو کھڑی ہوئی۔ میں نے اسے رُکنے کے لیے کہا۔ رات کافی ہو چکی تھی۔ ڈرائیور میری کار کو گیرج میں رکھ کر کبھی کا چلا گیا تھا۔ لہٰذا جینی کے لیے اب سُرنگی ریل سےجانا لازمی تھا۔ میں نے اوورکوٹ پہن لیا اور اسے سٹیشن تک چھوڑنے گیا۔

اس کے کچھ دن بعد ٹیلی فوٹو لینز بن کر تیار ہو گیا۔ میں نے اسے آزما کر دیکھا۔ لینز اچھا بنا تھا۔ آخر برلن سے میری رخصتی کا دن آیا۔ امیریکن ایکسپریس کمپنی نے میرا سارا بھاری سامان، ‘سیرندھری’ کے باقی پرنٹس اور میری موٹرکار سیدھے جہاز پر چڑھانے کا بندوبست کر دیا تھا۔ میں ریلوے سٹیشن پر آیا۔ میری ریزرو جگہ جس ڈبے میں تھی، جینی اس کے پاس پہلے سے ہی آ کر کھڑی تھی۔ میں اس کے پاس گیا۔ اس کا چہرہ ایک دم گمبھیر تھا۔ مجھے دیکھتے ہی اس کی آنکھیں بھر آئیں۔ میرے منھ سے بھی لفظ نہیں نکل پا رہے تھے۔ ہم دونوں ایک دوسرے کو بِنا بولے تکتے ہی رہے۔

گارڈ نے سیٹی بجائی۔ میں ڈبےکی پٹری پر چڑھنے جا ہی رہا تھا کہ جینی نے مجھے کس کر بانہوں میں لپیٹ لیا۔ بہت زیادہ جذباتی ہیجان سے اس نے مجھے چوم لیا۔ پھر اس کی گھٹتی سی آواز سنائی دی، “مجھے معاف کرنا۔۔۔ آخری کِس، تمھاری یاد میں۔۔۔ لیکن تم مجھے بُھلا دینا۔ تمہاری پتنی کو میری نیک تمنائیں!”

اس سے پہلے کہ میں کچھ جواب دیتا، گاڑی چل پڑی۔ میں ڈبے میں چڑھ گیا۔ جینی کی آنکھیں ساون بھادوں برسا رہی تھیں۔ ہاتھ سے رومال ہلاتے ہوئے گلے سے اس نے جرمن میں کہا، “آف ویدر زہن، ایٹ لیسٹ اِن دی نیکسٹ لائف!” (پھر ملیں گے، کم سے کم اگلے جنم میں!)

وداعی کے یہ لفظ سن کر میرا بھی جی بھر آیا۔ آنکھیں چھلک گئیں۔۔۔ اس کی محبت بھری اور جذباتی وداعی سے مغلوب ہو کر میں نے بھی کہا، ” آف ویدر زہن!” اور جیب سے رومال نکال کر ہاتھ اٹھا کر میں اسے ہلانے لگا۔

گاڑی نے تیز رفتار پکڑ لی۔ جینی لگاتار رومال ہلاتی جا رہی تھی اور اس سے آنکھیں بھی پونچھ رہی تھی۔ دس پندرہ سیکنڈ میں وہ آنکھوں سے اوجھل ہو گئی، لیکن اس کےالفاظ کانوں میں برابر گونجتے رہے :” آف ویدر زہن! ایٹ لیسٹ اِن دی نیکسٹ لائف!” (پھر ملیں گے، کم سے کم اگلے جنم میں!)

(جاری ہے)

Categories
نان فکشن

شانتاراما – باب 13: رنگ میں بھنگ (ترجمہ: فروا شفقت)

“شانتاراما” برصغیر کی فلم انڈسٹری کے بانیوں میں شامل وی شانتا رام کی آپ بیتی ہے جو انھوں نے اپنی آخری عمر میں مراٹھی میں بول کر لکھوائی اور چھپوائی تھی۔ بعد میں اس کا ہندی روپ شائع ہوا۔ شانتارام جن کا پورا نام شانتارام راجارام وانکودرے تھا، 18 نومبر 1901 کو پیدا ہوئے اور 30 اکتوبر 1990 کو وفات پائی۔ مہاراشٹر کے شہر کولھاپور میں، جو برٹش راج کے دور میں ایک رجواڑے یا نوابی ریاست کا صدرمقام تھا، انھوں نے خاموش فلمیں بنانے سے آغاز کیا اور بعد میں پونا اور بمبئی میں مراٹھی اور ہندی کی بےشمار فلمیں بنائیں۔ اس طرح شانتارام کی لمبی پیشہ ورانہ زندگی کی دلچسپ داستان اس خطے کی فلمی دنیا کی تاریخ بھی ہے۔ اس تاریخ کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے کرداروں میں مختلف علاقوں، ذاتوں، زبانوں، طبقوں اور پیشوں کے لوگ شامل ہیں جنھوں نے مل کر ایک رنگارنگ منظرنامہ تیار کیا جس کی جھلکیاں اردو میں سعادت حسن منٹو کی ان تحریروں میں ملتی ہیں جن کا پس منظر 1940 کی دہائی کا بمبئی شہر اور وہاں کی فلمی دنیا ہے۔ “شانتاراما” میں اس دنیا کے رفتہ رفتہ بننے اور پھیلنے کی کہانی بڑے بےتکلف اور دلچسپ اسلوب میں بیان کی گئی ہے۔ شانتارام کی معروف ہندی فلموں میں سے چند کے نام یہ ہیں: “ڈاکٹر کوٹنِس کی امر کہانی” (1946)، “امر بھوپالی” (1951)، “جھنک جھنک پایل باجے” (1955)، “دو آنکھیں بارہ ہاتھ” (1957)۔ “شانتاراما” کا اردو روپ ہندی متن کی بنیاد پر فروا شفقت نے تیار کیا ہے جو گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں پی ایچ ڈی سکالر ہیں۔

یہ ترجمہ اجمل کمال اور سہ ماہی ‘آج’ کے تعاون سے شائع کیا جا رہا ہے۔ اجمل کمال گزشتہ چار دہائیوں کے اردو ادب کا رخ متعین کرنے والوں میں سے ہے، لکھنے والوں اور پڑھنے والوں کی ایک نسل کے ذوق کی تشکیل آپ کے ہاتھوں ہوئی ہے۔ آپ اردو کے موقر ترین ادبی رسالے “آج” کے مدیر ہیں۔ آج کے اب تک 111 شمارے شائع ہو چکے ہیں جو اردو قارئین کے لیے نئے لکھنے والوں کے معیاری فن پاروں کے ساتھ ساتھ عالمی ادب کے شاہکار پہنچانے کا ذریعہ ہیں۔ ‘آج’ کے یوٹیوب چینل کو سبسکرائب کیجیے اور گھنٹی کے نشان پر کلک کیجیے تاکہ نئی ویڈیوز کا نوٹیفیکیشن مل جائے۔

سہ ماہی “آج” کو سبسرائب کرنے کے لیے عامر انصاری سے درج ذیل نمبر پر رابطہ کیجیے:
03003451649

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اپنے سوال کا جواب سننے کے لیے میں بے چین ہو گیا تھا۔ پیٹرسن نے سر جھکا لیا اور نظر چراتے ہوئے افسردگی سےکہا، “تم امید اور حوصلہ مت ہارنا! پہلے ‘اُفا’ سٹوڈیو میں چل کرہم لوگ پرنٹ دیکھتے ہیں۔ ‘اُفا’ کے کلرکیمیکل روم کے ہیڈ ڈاکٹر ولف وہاں ہمارا انتظار کر رہے ہیں۔” انہوں نے پھر میرے کندھوں پر ہاتھ رکھا اور دھیرے سے تھپتھپا دیا۔

میں کسی کٹھ پتلی کی طرح باہر کھڑی کار میں جا کر بیٹھ گیا۔ موٹر بیبلسبرگ کی جانب تیز دوڑنے لگی۔ رنگین پرنٹ دیکھنے کے لیے میں اتنا بےچین ہو رہا تھا کہ میں نے ڈرائیور کو گاڑی اور تیز چلانے کے لیےکہا۔ سپیڈ انڈیکیٹر سوئی سو کے ہندسے کو چھونے لگی۔ پورے سفر میں ہم دونوں ایک دم خاموش بیٹھے تھے۔

آخر سائیں سائیں کرتی ہوئی کار صفائی سے موڑ لے کر اُفا سٹوڈیو کے داخلی دروازے سے صحن میں جا کر رکی۔ ڈاکٹر ولف ہماری راہ ہی دیکھ رہے تھے۔

ہم تینوں ایک چھوٹے تجرباتی سنیماگھر میں گئے۔ ‘سیرندھری’ کا پہلا حصہ پردے پر دکھائی دینے لگا اور پردے پر جو کچھ دِکھ رہا تھا، وہ تو میرے تصور سے بھی بدتر تھا! رنگ میں بھنگ ہو گیا تھا۔ فلم میں سارے رنگ ایسے لگ رہے تھے جیسے پوت دیےگئے ہوں۔

دس منٹ میں پہلا حصہ ختم ہوا۔ میرے تو لفظ ہی جیسے کھو گئے تھے!

ڈاکٹر ولف کو صرف جرمن زبان ہی آتی تھی۔ وہ اور پیٹرسن آپس میں جرمن زبان میں بول رہے تھے۔ بیچ بیچ میں پیٹرسن ولف کی بات مجھےانگریزی میں سمجھاتے تھے۔ ان کی رائے تھی کہ ہم لوگوں نے شوٹنگ کے وقت رنگ کے نقطہ نظر سے کیمرے کے لینز کے لیے مناسب فلٹرز نہیں لگائے تھے۔ نتیجتاً ساری شوٹنگ کسی نوسِکھیے کی کی ہوئی لگتی تھی۔ میں نے ساری ہمت اکٹھی کر کے پیٹرسن سے پوچھا، ” کیا اس نیگیٹو کے اچھے پرنٹ نہیں بنیں گے؟”

میرے اس سوال پر پیٹرسن اور ولف آپس میں پھر بحث کرنے لگے۔ یہ جاننے کے لیے کہ آخر ان کی بحث سے کیا نتیجہ اخذ ہونے والا ہے، میں باری باری ان کے چہرے دیکھتا رہا۔

کچھ سمے بعد پیٹرسن نے بتایا، “ہم لوگ بائی پیک سسٹم کی فلم تیار کرنے والی آگفا فیکٹری کے ٹیکنیشنوں سے مشورہ کرتے ہیں۔ تمہاری اس خراب نیگیٹو کے اچھے پرنٹ بنیں، اس لیے خاص نئے املشن کی پازیٹو فلم بنانا کہاں تک ممکن ہے، دیکھتے ہیں۔‘‘

میرے چہرے پر ہوائیاں اڑتی دیکھ کر ڈاکٹر ولف نے پیٹرسن سے کہا، “شانتارام کو کہو کہ فکر کرنے کی کوئی بات نہیں ہے۔ اچھے پرنٹ بنانے کی ہم اپنی طرف سے پوری کوشش کریں گے۔ خاص نئی پازیٹو فلم بننے میں پندرہ بیس دن لگ جائیں گے۔ کہنا کہ تب تک اپنی فلم کی آگے کی گراریاں تیار کرو۔”

ولف کی یہ ہمت بندھانے والی باتیں سن کر کچھ تو جان میں جان آ گئی۔

ہم واپس برلن جانے کو نکلے۔ کار میں مَیں تو ایک دم چپ بیٹھا تھا۔ میرا دکھ جان کر پیٹرسن بھی چپ تھے۔ دماغ میں وچاروں کا طوفان اٹھا تھا: جھک ماری جو اس رنگین فلم کی جھنجھٹ میں پڑے۔ ولف نے ٹھیک ہی تو کہا کہ شوٹنگ کسی نوسکھیے کی کی ہوئی لگتی ہے۔ صرف جانکاری کی کتابیں پڑھ پڑھ کر ہی تو ہم لوگوں نے شوٹنگ کی تھی۔ یہ تو ایسا ہی ہوا کہ گرامر کی کتاب پڑھ کر کوئی ناول لکھ مارے!

ہم لوگ برلن کب پہنچے، پتا ہی نہ چلا۔ پیٹرسن سُرنگی ریل کے اسٹیشن پر اتر گئے اور میں سیدھے اپنے کمرے میں آ گیا۔

کھانے کی کوئی چاہ نہیں تھی۔ آج کے سارے واقعے کا بیان تفصیل کے ساتھ اپنے ساتھیوں کو لکھ بھیجنا میرا فرض تھا۔ بیٹھا، لیکن لکھتے لکھتے رک گیا۔ ایسی کیا خوش خبری ہو گئی ہے، جس کی خبر اپنے ساتھیوں کو دینے بیٹھا ہوں؟ جو لکھ رہا ہوں، کوئی مبارک خبر تو ہے نہیں۔ یہ دکھی خبر آج ہی انہیں معلوم ہو جائے، تو انہیں بھی اسی ناامیدی کی حالت میں رہنا پڑےگا جس میں آج میں رہ رہا ہوں۔ اور کل کو خوش قسمتی سے نئی پازیٹو پر اچھا پرنٹ بن آیا، تب تو سارا جھنجھٹ ختم ہو جائے گا۔

ادھورا لکھا پتر میں نے پھاڑ کر پھینک دیا۔

دوسرے دن میں افیفا میں اپنے ایڈیٹنگ روم میں پہنچا۔ جینی کے چہرے پر سوال صاف دکھائی دیا۔ میں نے اسے کل کا سارا واقعہ سنایا۔ سن کر اسے بھی بہت دکھ ہوا۔

جینی اپنی ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں ہمت بندھانے لگی۔ یہ جان کر کہ اس پردیس میں میرے من پر چند مدُھر لفظوں کی مرہم پٹی کرنے والا کوئی تو ہے، میں نے کافی راحت محسوس کی۔ پھر، سواے جینی کے ایسا کام کر سکنے والا اور کون تھا؟ دوسرے دن سے جینی طے شدہ وقت سے کافی پہلے دفتر آ کر کام کرنے لگی۔ اس کے لیے وہ اوورٹائم کا پیسہ نہیں لیتی تھی۔ زیادہ وقت کام تو وہ صرف اس لیے کر رہی تھی کہ ایڈیٹنگ روم کے کرائے میں میری کچھ بچت ہو سکے۔

آٹھ دن بعد پیٹرسن آفس میں ملے۔ انہوں نے بتایا کہ آگفا فیکٹری کے ٹیکنیشن ہماری نگیٹو کا معائنہ کر کےاس کے لیے مناسب قسم کے ایملشن کی پازیٹو نمونے کے طور پر بنا رہے ہیں۔ یہ خبر کافی دلاسا دینے والی تھی۔

پیٹرسن کے چلے جانے کے بعد جینی بتانے لگی، “اب تم فکر نہ کرو، سب کچھ ٹھیک ہو جائےگا۔”

ہم دونوں پھر نئے جوش سے کام میں جُٹ گئے۔ کھانے کا وقت بیت گیا۔ جینی نے یاد نہیں دلایا۔ کچھ دیر بعد میرا دھیان گھڑی کی طرف گیا۔ کام کی دُھن میں مَیں اس طرح کھو گیا تھا کہ بچاری جینی کو بھی بھوکا رہنا پڑا تھا۔ میں اسے وہاں سے پاس کے کسی ریستوران میں لے گیا۔ کافی اصرار کرتے ہوئے اسے میں نے بھرپیٹ لنچ کرایا۔ وہ ایک دم خوش ہو گئی۔

دوسرے دن میں آفس پہنچا تو پایا کہ جینی مجھ سے بھی پہلے آ کر کام میں لگ گئی ہے۔ مجھے دیکھتے ہی وہ اٹھی اور اس نے مجھے چوم لیا۔ میں آنکھیں پھاڑ کر دیکھتا ہی رہ گیا۔ پس وپیش میں مَیں نے اس سے پوچھا، “یہ کیا کِیا تم نے؟”

“کل تم نے جو لنچ دیا تھا نا، اس کے لیے شکریہ!” یوں کہہ کر وہ ہنستے ہنستے پھر کام میں جُٹ گئی۔ میں نے سوچا کہ شاید یہاں کسی کے اس طرح کھانا کھلانے پر اس کا شکریہ کرنے کا یہی طریقہ ہو گا۔

‘سیرندھری’ کا پرنٹ پتا نہیں اچھا بنتا ہے یا نہیں، اس کی فکر میں تھا، تبھی ایک بات سوجھی کہ اس کے گیتوں کے فونوگراف بنا لیے جائیں۔ اپنا تو یہ فطری دھرم ہی رہا ہے کہ چِنتا میں ڈوبا ہوں یا پریشانیوں سے گَھر جاؤں تو من نئی امنگوں کی اونچی اونچی اڑان بھرنے لگتا ہے۔ فونوگراف بنانے کا خیال اسی فطری دھرم کے مطابق من میں آیا تھا۔ فلم کی اوریجنل ساؤنڈ پٹی سے اس طرح گیتوں کا فونوگراف بنانا کہاں تک ممکن ہے، اس کی پوچھ تاچھ میں نے پیٹرسن سے کی تھی۔ پیڑسن نے محتاط انداز سے کہا تھا کہ برلن کی مشہور سیمنز کمپنی سے معلوم کرتے ہیں۔ آج دوپہر اس کام کے لیے سیمنز کمپنی میں جانا تھا۔

میں نے اپنا خیال سیمنز والوں کے سامنے رکھا۔ کمپنی کے ٹیکنیشینوں کو وہ جنچ گیا، لیکن اس کی کامیابی کے بارے میں انہیں بھی شبہ تھا۔ انہوں نے مجھے کوشش کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

دوسرے دن ہمیشہ کی طرح افیفا میں گیا اور کام میں کھو گیا۔ دوپہر کی چھٹی کا وقت ہو گیا۔ جینی میرے پاس آئی۔ اس نے مجھے کس کر پکڑ لیا اور پھر چوم لیا۔

میں نے اس سے پوچھا، “آج پھر کیا ہو گیا؟”

“آج میں نے تمھیں لنچ دیا ہے!” کہتی ہوئی شوخ بھری ہنسی ہنستے ہنستے وہ وہاں سے بھاگ گئی۔

اب تو مجھے یقین ہو گیا کہ یہ صرف آداب کا رسمی معاملہ نہیں ہے۔ لیکن جینی کا اس طرح پیش آنا مجھے قطعی پسند نہیں آیا۔ ایک بارسوچا، اُسے اُس کے ایسے طرز عمل پر اچھی پھٹکار سنا دوں۔ افیفا کے ڈائریکٹر کو بھی اس طرح کے عجیب طرزعمل کی بات بتا کر اپنے لیےکوئی اور مددگار دینےکی مانگ کروں۔ لیکن جینی کی طرح من لگا کر مہارت سے کام کرنے والی دوسری لڑکی ملنا مشکل تھا۔ پھر یہ بھی تو ممکن تھا کہ اس کا اس طرح پیش آنا سطحی ہو، کھلنڈرےپن کا اشارہ ہو۔ میں اس سے جواب طلب کروں اور اُس کے من میں ویسی کوئی بھاؤنا ہی نہ ہو، تو سُبکی کیا میری ہی نہیں ہو گی؟ جو بھی ہو، میں نے طے کیا کہ یہ معاملہ یہیں ختم کیا جائے، اور بات کو آگے قطعی بڑھنے نہ دیا جائے۔

جینی لوٹ آئی تو میں نے کہا، “میں تم سے کچھ بات کرنا چاہتا ہوں۔”

“تو کرو نا!” جینی نے کہا۔

”ابھی نہیں، شام کو کام ختم ہونے کے بعد،” اس کی طرف نہ دیکھتے ہوئے میں نے کہا اورکام میں جُٹ گیا۔

شام کو ہم دونوں پہلے ایک جرمن فلم دیکھنے گئے۔ بعد میں اسے میں برلن کے بڑے ہوٹل ‘کیمپینسکی’ میں کھانا کھلانے کے لیے لے گیا۔ کھاتے وقت میں نے اس سے پوچھا، “جینی، تم میرے ساتھ اس طرح کیوں پیش آئیں؟ مجھے کیوں چومتی ہو؟”

’’اس لیے کہ تم مجھے بھا گئے ہو!‘‘ اس نے آزادروی سے ہنستے ہوئے کہا۔

’’تو میں نے ٹھیک ہی سوچا تھا کہ تمھارے من میں یہ احساس جاگا ہے۔ لیکن دھیان سے سنو، میری شادی ہو چکی ہے۔”

اس پر اس نے فوراً کہا، ’’اس میں کیا ہرج ہو سکتا ہے؟ میں نے تمھارے دیس کے بارے میں، انڈین لوگوں کے بارے میں کافی پڑھا ہے۔ تم لوگ دو دو، تین تین عورتوں سے شادی کرتے ہو، تمھاری کتنی عورتیں ہیں؟”

میں نے کہا، “صرف ایک۔”

“تو ٹھیک ہے، میں تمھاری دوسری بیوی بنوں گی۔”

میرا نوالہ منھ میں ہی دھرا رہ گیا۔ پانی کا بڑا سا گھونٹ نگل کر میں نے کہا، “میرے دو بچے بھی ہیں۔”

“مجھ سے بھی تمھارے اور بچے ہوں گے۔” اس نے اپنے ہمیشہ سے آزاد انداز میں، بنا کسی جھجک کے کہا۔ “میں بھی بہت چاہتی ہوں کہ تمھارے جیسا براؤن رنگ کا میرے بھی ایک بچہ ہو۔”

عورت اور مرد میں ایسے موضوع پر اتنی بےجھجک باتیں ہوں، اس سے میں تو پورا لاعلم تھا۔ کیا جواب دوں، سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔ جینی کی حوصلہ شکنی کے لیے میں نے یوں ہی مذاق میں کہا، “اور وہ بچہ میرے جیسا براؤن نہ ہو کر تمھارے جیسا سفید پیدا ہو گیا، تو؟”

“تو ہم پھر کوشش کریں گے، باربار کوشش کرتے رہیں گے!”

میں تو بالکل ٹھنڈا پڑ گیا سن کر۔ ایسے جواب کے بعد پھر کبھی اس سے بحث کرنے کی جھنجھٹ میں نہ پڑنے کا فیصلہ میں نے کیا۔

کھانا ختم ہوا۔ جینی کو اس کے گھر چھوڑنے کے لیے ہم کار میں بیٹھے۔ گاڑی اس کے گھر کے پاس آئی۔ گاڑی کا دروازہ کھولنے کے لیے میں نے ہینڈل کے پاس ہاتھ بڑھایا۔ جینی نےاپنا ہاتھ میرے ہاتھ پر رکھا اور بولی: “آف ویڈرزہن!”

میں نے دل سے کہا، “آف ویڈرزہن!” پھر اس نے خود ہی پھرتی سے گاڑی کا دروازہ کھولا اور نیچے اتر گئی۔

‘سیرندھری’ کے رنگین پرنٹ برابر بنتے ہیں یا نہیں، اِس کی فکر میں مَیں تھا اور ادھر یہ ایک اور سنگین معاملہ کھڑا ہو گیا تھا!

دوسرے دن ‘اُفا’ سٹوڈیو سے پیغام آیا کہ “نئی ایملشن کی پازیٹو پر ‘سیرندھری’ کے پرنٹس بنائے جا چکے ہیں اور وہ کافی تسلی بخش ہیں۔ دیکھنے کے لیے آؤ۔”

جینی کو بھی سن کر بہت خوشی ہوئی۔ وہ میری طرف دوڑتی ہوئی آئی۔ اسے ہاتھوں سے روک کر دور ہی کھڑی کرتے ہوئے میں نے ہدایت دی، “پہلا کام! دوسری گراری تیار کرنا شروع کرو!”

وہ سہم گئی۔ اس کی طرف کوئی دھیان نہ دے کر میں فوراً لیبارٹری سے باہر آ گیا۔ کار میں جا بیٹھا اور ڈرائیور سے کہا، “بیبلسبرگ، اُفا سٹوڈیو۔”

عام راستہ پیچھے رہ گیا، اب کاروں کے لیے مخصوص سڑک پر ہماری کار دوڑ رہی تھی۔ میں بہت ہی خوشی میں تھا۔ میں نے ڈرائیور کو گاڑی روکنے کے لیے کہا۔ اس کی جگہ پر جا بیٹھا اور خود کار چلانا شروع کیا۔ بیبلسبرگ پہنچنے کی مجھے اتنی جلدی تھی کہ میں کار کی رفتار بڑھاتا ہی گیا، سو، ایک سو بیس، ایک سو چالیس، ڈیڑھ سو، سپیڈ انڈیکٹر سوئی چڑھتی جھکتی جا رہی تھی۔۔۔

تھوڑی دیر بعد میری سیٹ کے نیچے کچھ گرم گرم لگنے لگا۔ پہلے تو میں نے اس کی طرف کوئی دھیان نہیں دیا، لیکن جب سیٹ بہت زیادہ گرم ہو کر جلانے لگی تو میں نے گاڑی روکنے کی کوشش کی۔ لیکن گاڑی اتنی تیز رفتار سے بھاگی جا رہی تھی کہ اسے روکتے روکتے کچھ سمے تو لگ ہی گیا۔ دروازہ کھول کر باہر چھلانگ لگائی اور اس کے ساتھ ہی میری سیٹ کے نیچے سے آگ کی لپٹیں لپلپاتی اٹھیں۔ ڈرائیور نے پھرتی دکھا کر جلتی سیٹ نکال باہر پھینکی اور کار میں رکھا کپڑا ریڈئیٹر کی ٹنکی کے پانی میں بھگو کر آگ بجھا دی۔

گاڑی میں کیا نقص پیدا ہو گیا، اس کی چھان بین ڈرائیور کرنے لگا۔ ڈرائیور کی سیٹ کے نیچے ایگزاسٹ جام ہو گیا تھا۔ اس کی نلی صاف کروانے میں لگ بھگ ایک گھنٹہ لگ گیا۔

اُفا سٹوڈیو پہنچا تو وہاں ولف اور پیٹرسن میری راہ دیکھ رہے تھے۔ ہم نے فوراً نیا پرنٹ دیکھا۔ رنگ کی نظر سے وہ سو فیصد تو نہیں آیا تھا، لیکن کافی تسلی بخش لگ رہا تھا۔ ولف نے کہا، “نگیٹو کی جو بھی گراریاں تیار ہیں، کل یہاں لیتے آنا۔ اور ہاں، ہر روز دوپہر لنچ کے بعد پرنٹ دیکھنے کے لیے آتے رہنا۔”

میں نے ولف کو بہت بہت شکریہ کہا۔

کمرے میں آتے ہی میں نے کولہاپور کے اپنے ساتھیوں کو خط لکھا کہ پرنٹ اچھے بننے والے ہیں۔ بمبئی میں فلم ریلیز کی تاریخ پکی کرنے کے لیے بھی لکھ دیا۔

کافی دنوں بعد من پر سے سارا تناؤ ہٹ گیا تھا۔ لہٰذا اس رات میں جیسے گھوڑے بیچ کر سو گیا۔ سویرے دس بجے جاگا۔ نہانے دھونے سے نبٹ کر باہر نکلا، لنچ کے بعد مجھے اُفا سٹوڈیو میں پہنچنا تھا۔ پہلے میں افیفا گیا۔ نیا پرنٹ بہت ہی تسلی بخش آنے کی خبر جینی کو دی، وہ خوشی سے اچھل پڑی، میری طرف بڑھنے لگی۔ پوری طرح سے معلوم ہو گیا تھا کہ ایسے موقع پر وہ اب کیا کرےگی۔ لہٰذا میں تھوڑا سا ایک طرف ہٹ گیا اور جینی سے کہا، “تم آگے کی گراریاں تیار کرو۔کل گیارہ بجے میں انہیں لے کر جاؤں گا۔” اتنا کہہ کر تیار گراریوں کےکچھ ڈبے اٹھا کر میں وہاں سے چل پڑا۔ جینی میرے ساتھ ایڈیٹنگ روم کے دروازے تک آئی اور بولی، “بیبلسبرگ جانے سے پہلے لنچ کر کے جانا۔ بھوکے نہ رہنا۔”

اس کے کہنے پر عمل کرتا تو مجھے دیر ہو جاتی، لہٰذا راستے میں پھلوں کی ایک دکان سے میں نے کچھ سیب خرید لیے۔ کار میں دو تین سیب میں کھا گیا۔ آگے چل کر یہی سلسلہ میں نے چار پانچ ہفتے تک جاری رکھا۔ اس طرح روز روز سیب کھا کر میں اتنا اوب چکا تھا کہ پھر دس پندرہ سالوں تک سیبوں کو چھوا تک نہیں۔

آخر ’سیرندھری’ کا ایک پورا پرنٹ تیار ہو گیا۔ ولف نے کہہ دیا کہ اب اس سے بہتر پرنٹ نکالنا ممکن نہیں۔ چلو، یہ بھی کیا کم تھا کہ جہاں کوئی بھی پرنٹ بننے کی امید نہیں رہی تھی، کم سے کم کچھ تو تسلی بخش پرنٹ بن سکا۔ مجھے اسی کی خوشی ہو رہی تھی۔ میں نے پہلی بار ‘سیرندھری’ فلم پوری دیکھی۔ ہماری دوسری فلموں کے مقابلے میں وہ مجھے اثردار معلوم نہیں ہوئی۔ یہ پتا نہیں رنگ اتنے اچھے ابھر نہ پانے کی وجہ سے تھا یا کسی اور کارن سے۔ رہ رہ کر ایک خیال ستاتا تھا کہ پتا نہیں ناظرین اس فلم کے ساتھ ہم آہنگی محسوس کریں گے بھی یا نہیں۔ لیکن اب سوچتے رہنے سے بھی کیا ہونے والا تھا!

میں نے تار دے کر بابوراؤ پینڈھارکر (ڈسٹری بیوٹر) کو مطلع کیا کہ پرنٹ تیار ہو گیا ہے اور اسے ہوائی ڈاک کے ذریعے بمبئی بھجوا رہا ہوں۔

رنگین فلم کا پرنٹ اُفا سٹوڈیو میں جب بن رہا تھا، رنگوں کا کیمیائی عمل کس طریقہ کار سے کیا جاتا ہے، اس کا مجھے بہت تجسس تھا۔ میں نے ولف سے درخواست کی کہ وہ جانکاری مجھے دی جائے اور ساری مشینری بھی دیکھنے دی جائے۔ لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔ انہوں نے صاف لفظوں میں کہا، “یہ تحقیق ہم نے بہت محنت اور پیسہ خرچ کر کے کی ہے۔ اس کا راز ہم اور کسی کو کبھی نہیں بتائیں گے۔” میں بہت نااُمید ہو گیا۔

لیکن ہماری یہ باتیں ولف کے ایک معاون نے سن لی تھیں۔ ایک بار ولف کی غیرحاضری میں اس نے نہ صرف مجھے پورا کیمیکل روم دکھایا، بلکہ سارا اُفا سٹوڈیو اور وہاں کے ہر ڈپارٹمنٹ میں کون سا کام کس طرح ہوتا ہے، یہ بھی دکھایا۔ اُفا سٹوڈیو بہت بڑا تھا اور بےشمار جدید آلات اور سہولیات پر مشتمل بھی۔ فلم میکنگ کے ڈپارٹمنٹ میں کافی سال بِتا چکنے کے کارن میں فوراً سمجھ لیتا کہ کون سا کام کرتے سمے کیا کٹھنائی آتی ہے، اور اسے یہ لوگ یہاں کس طرح دور کر لیتے ہیں۔

ڈاکٹر ولف کے اس معاون نے سبھی ڈپارٹمنٹ ہیڈز سے میرا تعارف بھی کرایا۔ لہٰذا کبھی ‘سیرندھری’ کے کسی پارٹ کا پرنٹ تیار ہونے میں دیر ہوتی تو میں سٹوڈیو کے احاطے میں آزاد روپ سے کہیں بھی آتا جاتا تھا۔ نتیجتاً کافی باتیں سیکھنے کا موقع مجھے ملتا گیا۔ ہم لوگوں کا تجربہ یہ تھا کہ مشکل سے مشکل معلوم ہونے والی باتوں کو بنانے کے لیے ہمیں بہت زیادہ دَھن اور محنت لگانی پڑتی تھی اور پھر بھی متوقع نتیجہ ہاتھ آتا ہے، ایسا نہیں ہوتا تھا۔ لیکن یہاں اس سے کہیں کم محنت اور دَھن لگا کر معمولی چیزوں کی مدد سے اس سے بھی بہتر نتیجہ یہ لوگ حاصل کرتے تھے۔ یہ گُن سیکھنے لائق تھا۔ ہر روز سونے سے پہلے میں دن میں دیکھی ہر بات کی مجموعی جانکاری اپنی ڈائری میں نوٹ کر رکھتا تھا۔ آگے چل کر اسی ڈائری میں درج کئی نئی نئی کھوجوں کو میں پُونا میں بنے ہمارے نئے سٹوڈیو میں عمل میں لایا۔ نتیجتاً ہماری سبھی فلموں کی سطح سسٹم کے نقطہ نظر سے کافی بہترین ہو گئی تھی۔

اس بیچ سیمنز سے پیغام آیا کہ آزمائشی فونوگراف تیار ہیں۔ انہیں دیکھ کر اور سن کر میرا تن من کِھل اٹھا۔ میرا خیال سچ اور کامیاب ہو گیا تھا۔ میں نے فوراً ہر فونوگراف کی ایک ایک ہزار کاپیاں بنانے کا آرڈر دیا۔

‘سیرندھری’ کی فونوگراف پر ہر گانےکا پہلا مصرع دیوناگری میں لکھنا ضروری تھا۔ اس لیے میں نے اپنے ہاتھ سے وہ مصرع لکھ دیا اور پھر لیبلوں کے لیے ان کا بلاک بنوایا۔

آج تک بھارتی فلم کے گیتوں کا فونوگراف کسی نے نہیں بنایا تھا۔ میں نے سوچا تھا کہ یہ فونوگراف بازار میں دستیاب ہو جاتے ہیں تو ان گیتوں کے ساتھ فلم کی بھی مقبولیت بڑھےگی۔ یہی سوچ کر بھارتی فلم سنگیت کا ایک نیا جہاں میں نے کھول دیا۔ فلمی سنگیت کو آج حاصل مقبولیت، اس میں لگائی جانے والی پونجی، اور اس کا فلم انڈسٹری کو مل رہا نفع وغیرہ باتوں کا آج خیال کرنے پر لگتا ہے کہ ضرور ہی جس سمے مجھے یہ خیال سوجھا، وہ بہت ہی خوش قسمت لمحہ ہو گا!

“سیرندھری” کے گیتوں کے فونوگراف بہت زیادہ کامیاب رہے۔ پھر بھی کئی سالوں تک گراموفون کمپنیاں اوریجنل ساؤنڈ پٹی پر سے گیتوں کے گراموفون بنانے سے گریز کرتی تھیں۔ انہی گیتوں کے فونوگراف کے لیے وہ ان کلاکاروں سے دوبارہ گراموفون کمپنی میں گوا لیتی تھیں اور اس گائیکی سے فونوگراف بناتی تھیں۔ لیکن آج فلموں کے سبھی فونوگراف سیدھے فلم کی ساؤنڈپٹی سے ہی بنائے جاتے ہیں۔ اسی لیے اوریجنل ساؤنڈپٹی سے سیدھے فونوگراف بنانے کے اُن دنوں معجزاتی اور تجرباتی ظاہر ہونے والے میرے خیال پر آج مجھے سچ میں بڑا ناز ہے۔

کچھ دنوں بعد رنگین عمل اور خاص روپ سے بنائے اس پازیٹو کے بِل اُفا سٹوڈیو اور آگفا کمپنی کی طرف سے آئے۔ انہوں نے ہماری نگیٹو کی خرابیوں کا فائدہ اٹھا کر من چاہا بِل بنایا تھا۔ بِل میں موٹی رقمیں پڑھ کر میں تو بالکل ہی حیران ہو گیا۔ میرے پاس اتنے جرمن مارک نہیں تھے۔ لیکن پرنٹ تیار ہو گئے تھے اور بِلوں کی ادائیگی کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔ میں نے بمبئی تار دے کر اور مارک بھجوانے کو کہا۔

اُفا سٹوڈیو میں جا کر میں نے ڈاکٹر ولف کے ساتھ ان بِلوں کے بارے میں بات کی۔ اس سمے ولف میرے ساتھ بہت ہی روکھےپن سے پیش آئے۔ لیکن میں کیا کر سکتا تھا! میں وہاں جلابُھنا بیٹھا تھا، تو ولف نے میرے بارے میں شاید کچھ کہا۔ سن کر وہاں بیٹھے اور سبھی لوگ زور سے قہقہے لگانے لگے۔

میں نے ولف کے معاون سے سب کے ہنسنےکا کارن جاننا چاہا۔ اس نے ولف کی اجازت سے جرمن زبان میں کہے گئے اُس جملے کا مطلب مجھے بتایا: ’’ولف کہہ رہے ہیں کہ بھارت میں کلمونہے بندروں کی بہتات جو ہے۔” ولف کی اس پھبتی کا ٹارگٹ میں ہی تھا۔ میں آگ بگولا ہو گیا، لیکن چہرے پر ذرا بھی شکن نہ دکھاتے ہوئے میں نے ہنستے ہنستے کہا، “اِدھر جرمنی آنے سے پہلے میرا بھی خیال یہی تھا۔ لیکن یہاں پہنچنے پر میں نے پایا کہ بھارت میں کلمونہے بندروں کی نسبت جرمنی میں سفید مونہے بندروں کی تعداد کہیں زیادہ ہے!”

ولف کے معاون نے میری بات کا بھی جرمن زبان میں ترجمہ کر انہیں سنایا۔ لیکن چونکہ یہ طنز میں نے ہنستے ہنستے لوٹایا تھا، انہیں بھی اسے ہنس کر ہی ٹالنا پڑا۔

لیکن اس کے بعد ولف میرے ساتھ ایک دم ٹھیک طرح سے پیش آنے لگے۔

ان فونوگراف کے بنانے کے سمے میں نے سیمنز کمپنی کے پتا نہیں کتنے چکر لگائے تھے۔ وہاں میں نے ایک اچھی بات دیکھی۔ کمپنی کے ایک ڈپارٹمنٹ کے آدمی کو دوسرے ڈپارٹمنٹ میں کام کر رہے آدمی سے کوئی بات چیت کرنی ہو تو وہ انٹرکام پر بات کر لیتا تھا۔ اس سے سمے کی کافی بچت ہوتی تھی۔ اس کے علاوہ ہر کارخانے کے باہر سٹول پر بیٹھے اونگھنے والے آفس بوائے کی ضرورت نہیں رہتی تھی۔ اب ہماری ‘پربھات’ کمپنی پُونا جانے والی تھی۔ ہمارا احاطہ بھی کافی وسیع ہونے جا رہا تھا۔ ایسی حالت میں اپنی کمپنی کو جدید بنانے کے لیے ایسے ہی انٹرکام فون سسٹم کا بڑا استعمال ہونے والا تھا۔ یہی سب سوچ کر میں نے فوراً سیمنز کمپنی کو خودکار فون مشینری کا آرڈر دے دیا اور اسے جتنی جلدی ہو سکے بھارت بھجوا دینے کی ہدایات دے دیں۔

یہ سب کر کے میں اپنے پانسیوں پر واپس آیا تو وہاں گھر سے آیا ایک پتر میرا انتطار کر رہا تھا۔ پتر وِمل کا تھا۔ لکھا تھا، ‘پتاجی کی صحت پھر خراب ہے۔ حالت پریشان کن ہو گئی ہے۔ آپ جلدی لوٹ آئیے۔” میں نے خط پر لکھی تاریخ دیکھی۔ وہ تین چار ہفتے پہلےکی تھی۔ من میں طرح طرح کے خدشات اٹھنے لگے۔ باپو کے لفظ یاد آنے لگے: “شانتارام، ہم لوگوں کا سارا جیون کرائے کے مکان میں ہی گزر چکا ہے۔ من بہت چاہتا ہے کہ مرنے سے پہلے ہمارا اپنا کوئی مکان ہو۔ اب تو ایک ہی خواہش رہ گئی ہے کہ دم نکلے تو ہماری اپنی چھت کے نیچے۔۔۔” میں فوراً ڈاک گھر گیا اور بمبئی میں بابوراؤ پینڈھارکر کو تار دیا : “پُونا کے اپنے سٹوڈیو کے قریب ہی کہیں ماں اور باپو کے لیے ایک بنگلہ بنانا چاہتا ہوں، جگہ خرید لیجیے۔”

ڈاک گھر سے کمرے پر لوٹا ہی تھا کہ کسی نے دروازے پر دستک دی۔ دروازہ کھول کر دیکھا، تو پانسیوں کی مالکن ہاتھ میں تار کا ایک موٹا لفافہ لیے کھڑی تھیں۔ جرمن بھاشا میں اس کو شکریہ کہہ کر میں نے تار لے لیا۔ تار پورے دو صفحوں کا تھا اور کولہاپور سے آیا تھا۔ لکھا تھا کہ میرے لیے ضرورت سے زیادہ مارک امیریکن ایکسپریس بینک بھجوا دیے ہیں۔ پڑھ کر اچھا لگا۔ راحت بھی محسوس کی۔

تار کا پہلا صفحہ پڑھ کر پلٹ دیا۔ دوسرا پنّا پڑھنے لگا اور بجلی کا بھیانک دھچکا لگنے کا سا احساس ہوا! میں دھڑام سے پیچھے رکّھی کرسی پر بیٹھ گیا۔

Categories
نان فکشن

شانتا راما – باب 12: رنگوں کی دنیا میں (ترجمہ: فروا شفقت)

’’شانتاراما‘‘ برصغیر کی فلم انڈسٹری کے بانیوں میں شامل وی شانتا رام کی آپ بیتی ہے جو انھوں نے اپنی آخری عمر میں مراٹھی میں بول کر لکھوائی اور چھپوائی تھی۔ بعد میں اس کا ہندی روپ شائع ہوا۔ شانتارام جن کا پورا نام شانتارام راجارام وانکودرے تھا، 18 نومبر 1901 کو پیدا ہوئے اور 30 اکتوبر 1990 کو وفات پائی۔ مہاراشٹر کے شہر کولھاپور میں، جو برٹش راج کے دور میں ایک رجواڑے یا نوابی ریاست کا صدرمقام تھا، انھوں نے خاموش فلمیں بنانے سے آغاز کیا اور بعد میں پونا اور بمبئی میں مراٹھی اور ہندی کی بےشمار فلمیں بنائیں۔ اس طرح شانتارام کی لمبی پیشہ ورانہ زندگی کی دلچسپ داستان اس خطے کی فلمی دنیا کی تاریخ بھی ہے۔ اس تاریخ کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے کرداروں میں مختلف علاقوں، ذاتوں، زبانوں، طبقوں اور پیشوں کے لوگ شامل ہیں جنھوں نے مل کر ایک رنگارنگ منظرنامہ تیار کیا جس کی جھلکیاں اردو میں سعادت حسن منٹو کی ان تحریروں میں ملتی ہیں جن کا پس منظر 1940 کی دہائی کا بمبئی شہر اور وہاں کی فلمی دنیا ہے۔ “شانتاراما” میں اس دنیا کے رفتہ رفتہ بننے اور پھیلنے کی کہانی بڑے بےتکلف اور دلچسپ اسلوب میں بیان کی گئی ہے۔ شانتارام کی معروف ہندی فلموں میں سے چند کے نام یہ ہیں: “ڈاکٹر کوٹنِس کی امر کہانی” (1946)، “امر بھوپالی” (1951)، “جھنک جھنک پایل باجے” (1955)، “دو آنکھیں بارہ ہاتھ” (1957)۔ “شانتاراما” کا اردو روپ ہندی متن کی بنیاد پر فروا شفقت نے تیار کیا ہے جو گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں پی ایچ ڈی سکالر ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

” آپ نے بمبئی میں ‘مایا مچھندر’ دیکھی۔ اب بتائیے، وہ جیسی ہے ویسی ہی پیش کی گئی تو کیا لوگ اسے پسند کریں گے؟” فتےلال جی بڑی سنجیدگی سے سوال کر رہے تھے۔ دوسرے دن سویرے، داملے جی، فتےلال جی، دھایبرجی وغیرہ سب لوگ ہمارے ‘پربھات’ کے کارخانے میں بحث کر رہے تھے۔ تب بمبئی میں میرے کئے گئے فیصلے پر فتے لال جی نے شبہ ظاہر کیا۔ آج تک ایسا کبھی نہیں ہوا تھا۔ پھر آج ہی یہ بےیقینی کیوں؟

میں نے تڑاخ سےجواب دیا، “آپ کی رائے بھی گووندراؤ اور بابوراؤ جیسی ہی ہے تو جائیے، بمبئی تار دیجیے اور ‘مایا مچھندر’ کی ریلیز آگے دھکیل دیجیے۔ اس کی کاپی یہاں واپس منگا لیجیے۔ اس میں جو بھی تبدیلی کرنی ہو، شوق سےکیجیے۔” سبھی چپ رہے۔ کسی نے کوئی بات نہیں کی۔

اس واقعے کے بعد دوسرےدن داملےجی اور فتےلال جی کے واقف ایک سجن بابوراؤ ٹول کسی سادھو بابا کو کمپنی میں لے آئے۔ ان باباجی کی عظمت کی انہوں نے تعریفیں کیں۔ ان کا نام تھا دادامہاراج۔ سبھی ساجھےدار ان کے چرن چھونے کے لیے لپکے۔ میں دور سے ہی تماشا دیکھتا رہا۔

بابوراؤ ٹول میرے پاس آ کر کہنے لگے، “شانتارام بابو، آگے بڑھیےاور آپ بھی چرن چھو آئیے۔ آپ کےمن میں جو بھی سوال ہو، پوچھ لیجیے۔”

“لیکن مجھے ان سے کوئی سوال نہیں پوچھنا ہے،” میں نے کہا۔

“اجی آپ بھی کمال کرتے ہیں۔ وہ آپ کی کمپنی میں آئے ہیں۔ کمپنی میں آنے والے دوسرے لوگوں سے جس طرح ملتے ہو، نمسکار کرتے ہو، ویسا بھی نہیں کر سکتے آپ؟ محض ایک رسمی طور پر تو ملیے نا ان سے۔”

ٹول جی کی دنیاداری کچھ تو سمجھ میں آ گئی۔ ایک دم ہچکچاہٹ سے میں ان سادھو مہاراج کے سامنے گیا اور کھڑے کھڑےہی میں نے انہیں پرنام کیا۔

یہ دیکھ کر کہ پھربھی میں کچھ بول نہیں رہا ہوں، ٹول صاحب نے سادھو بابا سے کہا، “شانتارام بابو جاننا چاہتے ہیں کہ ان کی پربھات فلم کمپنی مستقبل میں کیسی چلےگی؟”

دادا مہاراج نے پوری سنجیدگی سے کہا، “انہوں نے ٹھیک سے چلائی تو ٹھیک ہی چلے گی۔”

مجھے اس بچگانے جواب پر زور کی ہنسی آ رہی تھی۔ بڑی مشکل سے میں نے اپنی ہنسی کو روکا۔

کچھ دیر بعد دادا مہاراج چلے گئے اور تب تک روکی رکھی میری ہنسی زور سے ابھر آئی۔ میں نے ہنستے ہنستے کہا، “بھئی خوب رہی! کہتے ہیں، ہم نے ٹھیک چلائی تو کمپنی ٹھیک چلےگی! لیکن یہ بتانے کے لیے ان سادھو بابا کی کیا ضرورت ہے؟”

میرا دادا مہاراج کی اس طرح کِھلی اڑانا دیگر لوگوں کو قطعی نہیں بھایا۔

‘مایا مچھندر’ بمبئی میں ریلیز ہو گئی اور اس نے بازی جیت لی۔ لوگوں کو ‘مایا مچھندر’ بہت ہی پسند آئی ہے، یہ خبر وضاحت سے دینے والا بابوراؤ پینڈھارکر کا تار آیا۔ فلم کے بارے میں میری چھٹی حس ایک دم صحیح ثابت ہوئی۔ بابوراؤ پینڈھارکر کولہاپور واپس آئے اور انہوں نے بِنا کچھ کہے میری پیٹھ تھپتھپائی۔ جن کی انگلی تھام کر میں نے اس فلمی دنیا میں پہلا قدم رکھا تھا، ان سے اس طرح خاموش شاباشی پا کر میں نے اپنے آپ کو خوش قسمت مانا۔

یہ فلم نہ صرف بمبئی میں، بلکہ سارے دیش، سبھی جاتی کے لوگوں کو بہت ہی پسند آئی۔ اس کا اینڈ دیکھ کر تو لوگ گدگدا جاتے تھے۔

گورکھ ناتھ اپنی غار میں واپس آتا ہے اور دیکھتا کیا ہےکہ اس کے گروجی مچھندر ناتھ وہیں سمادھی جمائے بیٹھے ہیں! تذبذب میں مبتلا گورکھ اپنے گروجی سے پوچھتا ہے، “ابھی کچھ لمحے پہلے تو آپ اس ستری (عورت) ریاست میں تھے اور ابھی آپ یہاں ہیں۔ تو سچ کیا ہے؟ وہ یا یہ؟”

گورکھ ناتھ کے اس سوال کا معقول جواب مکالمہ لکھتے وقت ہم میں سے کوئی نہیں کھوج پایا تھا۔ ہمارے ڈائیلاگ رائٹر نے اس پر لمبا بھاشن لکھ مارا تھا، لیکن اسے سننے کے لیے ناظرین تھئیٹر میں ہرگز نہ رُکتے۔ ہم سب نے کافی سوچا لیکن کوئی حل نہیں نکلا۔ آخر فلم میں گورکھ ناتھ کے اس سوال کو ویسا ہی لاجواب چھوڑ کر ہم لوگ باقی شوٹنگ میں جُٹ گئے۔ سوچا، شاید آگے چل کر اس کا جواب اپنے آپ اُبھر آئے گا۔

ساری فلم کی شوٹنگ پوری ہو گئی اور اب اس آخری سین کی شوٹنگ کا دن آ گیا۔ اب تو گورکھ ناتھ کےاس سوال کاجواب مزید ٹالا نہیں جا سکتا تھا۔ کیا کریں، کچھ سوجھ نہیں رہا تھا۔ آخر ہار کر میں نے مچھندر ناتھ کے منھ سے ‘چت بھی میری، پٹ بھی میری’ سٹائل میں گول مول جملہ کہلوایا :

گورکھ پوچھتا ہے،”گروجی، یہ سچ ہے، یا وہ سچ ہے؟”

“بیٹا گورکھ ناتھ، یہ بھی سچ ہے اور وہ بھی سچ ہے۔ تمہارے لیے یہ سچ، وہ مایا۔” مچھندر ناتھ بڑی گمبھیرتا سے جواب دیتا ہے۔ یہ جملہ مچھندر ناتھ سے کہلوایا۔ تب سوچا بھی نہیں تھا کہ میں نے کوئی بڑی بات کہلوائی ہے۔ لیکن ناظرین نے اس جملے میں مہان فلسفیانہ نظریہ پایا۔ کئی جذباتی ناظرین نے خط بھیج کر مجھےدلی مبارکباد دی کہ اتنا گہرا،سنجیدہ فلسفیانہ نظریہ میں نے بالکل آسان الفاظ میں آسانی کے ساتھ لوگوں کے سامنے رکھا۔

لگ بھگ اسی وقت، ‘پربھات’ کی طرف سے ہم نے ‘سیتا کلیانم’ نامی تمِل فلم بنائی۔ اس کی ڈائریکشن بابوراؤ پینڈھارکر نےکی۔ اس کام کرنے کے لیے سبھی لوگ مدراس سے لائے گئے تھے۔ کچھ ٹیکنیشین بھی وہیں سے آئے تھے۔ لیکن پروڈکشن ‘پربھات’ کی ہی تھی۔ یہ فلم مدراس صوبے میں کافی مقبول ہو گئی تھی۔

‘مایا مچھندر’ کا کام شروع ہونے سے کچھ دن پہلے اگفا کمپنی کے ہندوستان میں مشہور لائیڈن اور ریگے کولھاپور آئے تھے۔ رنگین فلم بنانے کا ایک نیا بائی پیک سسٹم انہوں نے تیار کیا تھا۔ انہوں نےاس سسٹم کی جانکاری دینے والی مشینری ہمیں دی۔ اس بائی پیک سسٹم میں کیمرے میں ایک ہی وقت میں نیگیٹو کے دو فیتے چلانے پڑتے تھے۔ ایک نیگیٹو نارنجی رنگ کے لیےاور دوسری نیلے رنگ کے لیے۔ دونوں نیگیٹوز کو ایک ہی ساتھ فلمانا پڑتا تھا۔ کیمیائی عمل تو بلیک اینڈ وائٹ نیگیٹو پر جیسا ہوتا ہے، ویسا ہی کرنا پڑتا تھا۔ بعد میں ایک ہی پازیٹو فلم پر ایک طرف نارنجی اور دوسری جانب نیلے کے نیگیٹو کے پرنٹ اس طرح لینے پڑتے تھے اور اس طرح ریلیز کا پرنٹ تیار کیا جاتا تھا۔ اس سسٹم میں پیلا رنگ آزاد روپ میں دکھائی نہیں دیتا تھا۔ نارنجی رنگ میں پیلی چمک آ جاتی تھی، اتنا ہی پیلا رنگ موجود ہوتا تھا۔ اس بائی پیک سسٹم کا استعمال کر جرمنی میں فلمایا ایک فلم رول بھی ہم نے پردے پر دیکھا۔ اس وقت تو ہم سب کو وہ بہت ہی پسند آیا۔

بھارت میں پہلی رنگین فلم بنانےکا یہ موقع نہ کھونے کا ہم نے فیصلہ کیا۔ کیمرے میں جڑواں فلم چڑھانے کا انتظام کرنے اور جرمنی سے رنگین نگیٹو آنے میں دو تین مہینے کا وقت لگنے والا تھا، لہٰذا اس بیچ خالی ہاتھ بیٹھے رہنے کے بجاے ہم لوگوں نے ایک فلم بنانے کا سوچا۔ مہاراشٹر فلم کمپنی کی ‘سنگھ گڈ’ خاموش فلم کافی مقبول ہو چکی تھی۔ اسی خاموش فلم کو بولتی فلم میں بدلنے کا ہم لوگوں نے ارادہ کیا۔ مشہور مراٹھی ناول نگار ہری نارائن آپٹے کے ناول ‘گڈ آلا، پن سنگھ گیلا’ کے مکمل حقوق ہم نے خرید لیے۔ اس فلم کو صرف مراٹھی میں ہی بنانے کا ہم نے فیصلہ کیا۔

اسی وقت کولہاپور میں مراٹھی ادبی کانفرنس ہوئی۔ اس کانفرنس میں ایک مشاعرے میں بیٹھے بیٹھے میرے من میں ایک وچار آیا۔ میں نے سبھی شاعروں کو اپنی کمپنی میں محبت سے مدعو کیا۔ کیشو کمار عرف اترے، شاعر یشونت، گریش (مراٹھی کے مشہور ناٹک کار وسنت کانیٹکر کے پتاجی)، سوپان دیو چودھری، مایدیو، سنجیونی مراٹھے وغیرہ مشہور شاعر ہمارے سٹوڈیو آئے۔ انہیں کیمرے کے سامنے کھڑا کر ہم نے ان سے ان کی کچھ نظمیں پڑھوائیں، اس کو فلما لیا اور ساؤنڈ ریکارڈنگ بھی کر لی۔ لیکن انہیں پردے پر جوں کا توں پیش نہیں کیا۔ ہمارے کلاکاروں سے مناسب بھیس میں ان نظموں کے مصرعوں کے مطابق خاموش اداکاری (مائم) کرائی۔ مثال کے لیے: شاعر یشونت کی نظم ‘نیاہاریچا وکھت جھالا میترنی بگی بگی چال’ پر ایک کسان لڑکی باجرے کی روٹیوں کی ٹوکری سر پر لیے اپنے پتی کو ناشتہ کرانے کے لیے بڑی لپک لچک کر کھیت کی طرف جا رہی ہے، ایسا سین ہم نے فلمایا۔ اسی طرح اترےکی ‘پرٹا، ییشل کدھی پرتون’- طنزیہ نظم پر ایک دھوبی اپنے گدھے پر میلے کپڑوں کی گٹھری لادے جا رہا ہے، ایسا منظر ہم نے فلمایا۔

اس مشاعرے کی ڈاکیومنٹری ہم نے ‘سنگھ گڈھ’ فلم کے ساتھ پیش کی۔ ناظرین نے اس نئے آئیڈیا کا اچھا استقبال کیا۔ نظم لکھتے وقت اہلِ نظر کے سامنے جو متاثرکن سین تھا، اسے فلمی پردے پر سچ دیکھ کر بہت لطف حاصل ہونے کی بات کی سبھی شاعروں نےخط لکھ کر ہمیں اطلاع دی۔

‘ایودھیا کا راجا’ ہماری پہلی ہندی بولتی فلم تھی۔ اسے استثنیٰ مان لیا جائے تو ہماری سبھی خاص فلمیں اچھی طرح کامیاب رہی تھیں۔ کمپنی میں خوشی اور جوش ٹھاٹھیں مار رہا تھا۔ لیکن اب ہمیں ایک کمی ستانے لگی تھی۔ بمبئی میں سبھی سٹوڈیوز میں آج کل بجلی کے طاقتور بلبوں کی تیز روشنی میں شوٹنگ ہونے لگی تھی۔ ہم نے کولھاپور کی بجلی کمپنی کے اہلکاروں کے پاس جا کر پوچھ تاچھ کی کہ کیا فلم میکنگ کے لیے ضروری بجلی وہ ہمیں دے سکیں گے؟ لیکن انھوں نے ٹکا سا جواب دیا، “دوسرے زیادہ غیرمعمولی کاموں کے لیے بجلی کا استعمال کرنا ہے، اس لیے فلم کے لیے بجلی دینا ممکن نہیں ہو گا۔”
ہم سب کے سامنے فیصلہ کن مشکل منھ کھولے کھڑی تھی: سورج کی کرنوں کو منعکس کرنے کے پرانے طریقے کے مطابق ہی شوٹنگ کرنے کے لکیر کے فقیر بنے رہیں، یا آج اور سب لوگوں کی طرح شوٹنگ کے لیے بجلی کا استعمال کرنا شروع کریں؟

دنیا سے پیچھے رہنا ہمارے لیے ناقابل برداشت تھا۔ من میں وچار آنے لگا کہ کولہاپور میں اگر بجلی کی سہولت میسر نہیں تو کیوں نہ ایسی جگہ چلا جائے جہاں وہ میسر ہو؟ بس، اپنی فلم کمپنی کو پُونا، بمبئی جیسے کسی شہر میں لے جانے کا ارادہ پکا ہونے لگا۔

اور اسی وقت ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس کی وجہ سے ہم نے اپنی ‘پربھات’ کمپنی کو دوسرے شہر لے جانے کا ارادہ پکا کر ہی ڈالا۔ بات یہ ہوئی کہ ایک دن کولہاپور کے راجا، راجارام مہاراج، ان کی بہن اکا صاحب مہاراج، ماتاجی آئی صاحب مہاراج وغیرہ، راج خاندان کے لوگ سٹوڈیو میں ہماری شوٹنگ دیکھنے کے لیے آئے۔ جاتے جاتے مہاراج نے مجھے راج محل آ کر ملنے کو کہا۔

میں راج محل پہنچا۔ مہاراج نے ہماری کمپنی کا حال پوچھا۔ ‘پربھات’ کے سبھی ساجھے داروں کے نام پوچھے۔ بعد میں باتوں باتوں میں انھوں نےکہا، “شانتارام بابو، یہ تو بہت ہی اچھی بات ہےکہ کمپنی اچھی طرح چل رہی ہے، لیکن آپ کےساجھےداروں میں دو بامن ہیں، داملے اور کُلکرنی۔ بامن جاتی کی خاصیت ہے کہ وہ اپنے فائدے کے پرے دیکھ نہیں سکتی۔ آپ سب لوگ اوپر اٹھنے کی کوشش کیے جا رہے ہیں، تب تک تو یہ لوگ آپ سے ٹھیک طرح پیش آئیں گے۔ لیکن آپ کی پانچوں انگلیاں گھی میں آتے ہی آپ کا سر کڑاہی میں ڈالنے سے یہ لوگ کبھی نہیں چوکیں گے!”

مہاراج کے برہمن بیزار رویے کے بارے میں مَیں نے سنا تو تھا، اب بات سامنے آ گئی تھی۔ انہوں نے میرےساتھیوں کے بارےمیں جو نامناسب باتیں کہی تھیں، مجھے قطعی نہیں بھائیں۔ میں نےانھیں صاف کہہ دیا، “داملےجی اور کلکرنی جی برہمن بھلے ہی ہوں، آپ بتاتے ہیں، ویسے ہرگز نہیں ہیں!”

“میری بات آپ کو آج نہیں اچھی لگی شاید، لیکن کچھ سال بعد آپ خود تجربہ کریں گے اسے!”

مہاراج کی باتیں سن کر میرے من میں شُبہ جاگا کہ کہیں یہ ہم لوگوں میں پھوٹ ڈالنے کی تو کوشش نہیں کر رہے ہیں؟

میں کمپنی میں واپس آ گیا۔ راج محل میں ہوئی ساری باتیں ساتھیوں کو بتا دیں اور اپنا پیغام بھی واضح کر دیا۔ ایسی حالت میں مہاراج نے چاہا تو وہ ہماری کمپنی کو چٹکیوں میں تباہ کر سکتے تھے!

لہٰذا ہم سب نے مکمل باہمی رضامندی سے فیصلہ کیا کہ کولھاپور سے کمپنی کا بوریا بستر اٹھا کر بمبئی کےپاس پُونا شہر میں پربھات فلم کمپنی کو نئے سرے سے شروع کیا جائے۔

ڈھیلاپن اور سستی ہم لوگ جانتے ہی نہیں تھے۔ سٹوڈیو کے قابل جگہ کی کھوج کے لیے ہم نے بابوراؤ پینڈھارکر کو پُونا بھیجا۔ انہوں نے ڈیکن جمخانہ کے آگے ایرنڈونا رستے پر سردار ناتو کی ایک کافی بڑی کھلی جگہ پسند کی۔ جگہ لگ بھگ آٹھ ایکڑ تھی۔ بابوراؤ نے زمین کا سارا حال ہمیں لکھ بھیجا۔ جگہ پسند کرنے کے لیے ہم سب کو انھوں نے پونا بلا لیا۔

پُونا میں اس جگہ پر پہنچتے ہی ہم بہت مطمئن ہوئے۔ ‘پربھات’ کے قیام کے وقت سے ہی من میں ’پربھات نگر’ بسانے کی جو بات گہری پَیٹھ چکی تھی، اسے پورا کرنے کے لیے یہ جگہ بہترین تھی۔ پھر اس کے آس پاس بھی لگ بھگ سو دو سو ایکڑ زمین خالی پڑی تھی۔ آگے چل کر اسے بھی خریدا جا سکتا ہے اور پربھات نگر بسانے کا سپنا سچ کیا جا سکتا ہے، یہ وچار مجھ پر حاوی ہو گیا اور بِنا بھاؤتاؤ کیے ہی ہم نے وہ زمین خرید لی۔ پُونا میں ایک انجینئر تھے پَوار۔ انہیں سٹوڈیو اور دوسرے شعبوں کی پوری جانکاری دی اور اس کے مطابق پلان بنانے کے لیےکہا۔ ان کےکام پر داملےجی دیکھ ریکھ کرنے لگے۔ وہ بیچ بیچ میں پُونا جاتے اور سٹوڈیو کےتعمیری کام پر نظر رکھتے تھے۔

اب تک رنگین فلم کے لیے ضروری ساری مشینری اور سازوسامان، جڑواں نگیٹو وغیرہ ہمیں مل گئے تھے۔ اس کے ساتھ ہی انگریزی میں معلوماتی کتابیں بھی آئی تھیں۔ ان سب کو میں نے پورے دھیان سے پڑھا اور ان میں دی گئی ہر بات کا باریکی سے مطالعہ کیا۔ پھر وہ ساری جانکاری میں نے مراٹھی میں دھایبر، فتے لال جی، داملےجی وغیرہ سب کو ٹھیک طرح سے سمجھا دی۔

رنگینی کاخیال کر کمپنی کےکلاکاروں کو پوشاکیں دیں، اور جانکاری کی کتابوں میں دی گئی ہر بات پر ٹھیک ٹھیک عمل کرتے ہوئے تجربے کی خاطر تھوڑی شوٹنگ کی۔ اس جڑواں نیگیٹو پر کیمیکل کا عمل پورا کر رنگین پرنٹ نکالنے کے لیے انہیں جرمنی بھجوا دیا۔

رنگین فلم کے روپ میں ایک نئی ست رنگی دنیا کا علاقہ ہمارے سامنے کھل گیا۔ رنگین فلم کے ساتھ انصاف کرنے کے لیے ہم لوگوں نے فیصلہ کیا کہ کسی قدیم موضوع کو ہی لیا جائے۔ اس لیے ‘کیچک وَدھ’ کی حکایت کو ہم لوگوں نے چنا۔ مہابھارت کی اسی کہانی پر بابوراؤ پینٹر نے ایک فلم ڈائریکٹ کی تھی۔ اس کا مجھ پر بہت اثر پڑا تھا اور اسی لیے میں نے اس علاقے میں قدم رکھا تھا۔ اس کہانی کے ذریعے سے قدیم سیاسی سوالوں کو ڈھنگ سے پھر ایک بار عوام کے سامنے ابھارا جا سکتا تھا۔ آدرشی فلم بنانے کے میرے اپنےسٹائل میں بھی یہ درست بیٹھتا تھا۔ ہم نے بھی اس فلم کا نام ‘سیہ رنگھری’ رکھنا ہی طے کیا۔

میں نے ایڈیٹنگ شروع کی۔ رنگین پرنٹ کے لیے فلم کی لمبائی کتنی ہونی چاہیے، ٹھیک سے معلوم نہ ہونے کے کارن میں نے ہر سین کی علیحدہ ایڈیٹنگ کر اسے چھوٹی چھوٹی گراریوں میں باندھا۔ اس طرح کئی گراریاں بن گئیں۔ ہر چھوٹی گراری کا ہماری تجربہ گاہ میں ہی بلیک اینڈ وائٹ پرنٹ تیار کیا اور انہیں جوڑ کر ہم نے فلم کو تجرباتی روپ میں پردے پر دیکھا۔ ایک ہی رنگ کی ہونے کے کارن اس فلم پٹی پر نقش سین پردے پر صاف دکھائی نہیں دیے، لہٰذا فلم کا کُل اثر دیکھنے والوں پر کیا پڑے گا، ہم لوگ ٹھیک سے بھانپ نہ سکے۔

اب اس جڑواں نیگیٹو سے رنگین کاپی نکالنے کا وقت آ گیا تھا۔ آج تک اس کیمیائی عمل کا سارا کام داملےجی دیکھا کرتے تھے، لہٰذا اس کام کے لیے جرمنی جانےکی ذمےداری انھی کو سونپی گئی۔ وہ سفر کی تیاری میں جُٹ گئے۔ ان کا پاسپورٹ بن کر آ گیا۔

لیکن ایک دن سویرے ہی داملے جی میرے پاس آئے اور بولے، “شانتارام بابو، جرمنی آپ ہی جائیے۔ ادھر انگریزی میں باتیں کرنا مجھ سے ٹھیک سے نہیں ہو پائے گا!”

میں نے ہنس کر کہا، “میں بھی کون بچپن سے انگریزی بول پاتا ہوں؟ ویسے انگریزی بات چیت آپ کی بھی سمجھ میں آ جاتی ہے کافی کچھ۔۔”

فیصلے کے مطابق ان کو ہی جرمنی جانا چاہیے، ایسی درخواست میں نے کافی کی، لیکن داملے جی مانتے ہی نہیں تھے۔ شاید انھوں نے نہ جانے کا من ہی من فیصلہ کر رکھا تھا۔ آخر مجھے ہی جرمنی جانے کی تیاری کرنی پڑی۔

جرمنی پہنچنے پر جہاں تک ہو سکے بھارتی لباس میں ہی رہنے کے ارادے سے میں نے شیروانیاں، چوڑی دار پاجامے، طرح طرح کی ٹوپیاں وغیرہ کپڑے بنوا لیے۔ ماں، باپو، وِمل، میرےدونوں بچے، پربھات کمار اور دو برس پہلے جنمی لڑکی سروج میرے ساتھ بمبئی آئے۔ ان کے علاوہ پربھات فلم کمپنی میں میرے ساتھی بابوراؤ پینڈھارکر، ونائک، میرے تینوں چھوٹے بھائی کیشو، رام کرشن اور اودھوت وغیرہ سب لوگ بھی بس سے بمبئی آ گئے۔ بڑا بھائی کاشی ناتھ دادا بمبئی میں ہی رہتا تھا۔ وہ، اس کے گھر کے لوگ، بابوراؤ پینڈھارکر، تورنے اور باقی مِتر بھی بندرگاہ پر مجھے الوداع کہنے آ گئے تھے۔ ‘سیرندھری’ کی نگیٹو لے کر میں نے ‘لائڈ ٹرسٹنو’ کمپنی کے جہاز پر پاؤں رکھا۔ میں باہر ڈیک پر آ کر کھڑا ہو گیا۔ بندرگاہ کے ساحل پر سارے خاندان والے کھڑے تھے۔ وہ سبھی ساتھی، متر ہاتھ ہلا ہلا کر مجھے الوداع کہہ رہے تھے۔

میں نے بھی اپنی جیب سے رومال نکال کر ہلایا۔ وِمل ہاتھ ہلا رہی تھی اور پلو سے آنکھیں بھی پونچھ رہی تھی۔ وِمل کے پاس ہی وِنائک کھڑا تھا۔ وہ بھی پاگل جیسا رو رہا تھا۔ دھیرج اور سنجیدہ سوبھاؤ کے بابوراؤ بھی بھر آئے آنسو رومال سے دھیرے سے پونچھ رہے تھے۔ میرے بچے پربھات کمار اور سروج تذبذب میں سارا حال دیکھ رہے تھے۔ حقیقت تو یہ تھی کہ اپنے کام وام میں بہت زیادہ مصروف رہنے کے کارن میں نے بچوں کی طرف خاص کوئی دھیان نہیں دیا تھا۔ نتیجتاً وہ میرے ساتھ کوئی خاص ہلے ملے نہیں تھے۔ پھر بھی اپنے دادا کو ‘با’ کہا کرتے تھے)، وہ بھی رونے لگے۔ میری بھی آنکھیں بھر آئیں۔

جہاز ساگر ساحل کو چھوڑ کر گہرے پانی میں دور دور جانے لگا۔ ساحل پر کھڑے سبھی مرد عورت چھوٹے چھوٹے دکھائی دینے لگے اور آخر میں اوجھل ہو گئے۔ تب تک میں رومال ہلا رہا تھا، اب میں نے رومال نیچے کیا اور جہاز کی ریلنگ پکڑ کر میں ڈیک پر کھڑا بندرگاہ کی سمت ایک ٹک دیکھتا گیا۔ میں سب کو چھوڑ کر کہیں دور چلا جا رہا ہوں، ایسا نہیں لگ رہا تھا بلکہ ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ سب لوگ مجھے اکیلا چھوڑ کر کہیں دور چلے جا رہے ہیں، اور میں ایک دم اکیلا رہ گیا ہوں۔ پتا نہیں کتنی دیر میں یوں ہی ڈیک پر کھڑا کھڑا کسی غیرموجود خلا میں کھوئی کھوئی نظروں سے کیا دیکھتا رہا۔۔۔۔

جہاز پر کچھ بھارتی لوگ تھے۔ ہم نے آپس میں تعارف کر لیا اور چونکہ کرنے کے لیے اور کچھ بھی نہیں تھا، گپیں لڑانے بیٹھ گئے۔ کئی بار جہاز پر کچھ کھیل ہوتے تھے۔ ہم سب لوگ ان میں شامل ہوتے۔ جہاز پر گھڑدوڑ بھی ہوتی۔ لیکن یہ گھوڑے ایک فٹ اونچے اور لکڑی کے بنے ہوتے تھے۔ میں نے گھوڑوں کی اس ریس میں خود پیسہ لگا کر کبھی حصہ نہیں لیا۔ میں صرف ناظر بن کر کھیل اور لوگوں کا تماشا دیکھا کرتا تھا۔ کئی بار یہ سب لوگ تاش کھیلنےجم جاتے۔ تاش میں میری تو قطعی کوئی مہارت نہیں تھی۔ گدھاکوٹ جیسے معمولی کھیل میں بھی ہمیشہ گدھا بننے لائق ہی میرا تاش کا علم تھا! ایک بار ان سب لوگوں نے مجھے بِرج کھیلنے کا آگرہ کیا۔ مجھے بِرج کے معمولی رولز پتا تھے اور ان کے بل پر میں بِرج کھیلنے ایسے بیٹھا جیسے بڑا ماہر ہوں۔ لیکن بعد میں میرے نوسِکھیا کھیل کی وجہ سے میرا پارٹنر مجھ پر بہت بگڑ پڑا۔ میں نے تاش کے پتے پھینک دیے اور چپ چاپ ایک اور چل دیا۔

سفر میں تین ہفتے بیت گئے اور ہمارا جہاز بندرگاہ پر جا لگا۔ مجھے لینے کے لیے امریکن ایکسپریس کمپنی کا آدمی آیا ہوا تھا۔ اس نے میرے کپڑوں کا بڑا بیگ، نگیٹو کے صندوق وغیرہ سامان برلن پہنچانے کا بندوبست کیا۔ پھر بھی میرے ساتھ دو تین بیگ تھے۔ وہاں سے ٹرین سے میں برلن پہنچا۔ اسٹیشن پر سامان اتروانے کے لیے میں قلی کا انتظار کرنے لگا۔ لیکن وہاں کوئی قلی وُلی نہیں آیا۔ آخر میں نے خود ہی اپنا سامان اتارا۔ اپنے بیگ بھی میں نے اٹھائے ہی تھے کہ اگفا کمپنی کے ڈاکٹر پیٹرسن مجھے لِوا لینے کے لیے وہاں آ گئے۔ پیٹرسن اگرچہ جرمن تھے، انگریزی اچھی بول لیتے تھے۔

میرے ٹھہرنے کاانتظام ایک بورڈنگ ہاؤس میں کیا گیا تھا۔ بورڈنگ ہاؤس کو وہاں ‘پانسیوں‘ (Pension) کہتے ہیں۔ جس پانسیوں میں ٹھہرایا گیا تھا وہ پہلی جنگ عظیم میں گزر گئے ایک فوجی کی بیوہ کا تھا۔ پیٹرسن نے اس عورت کو میرے آرام کا دھیان رکھنے کے لیے کہا۔ جاتے وقت انھوں نے کہا، “میں کل سویرے یہاں آؤں گا۔ یہاں سے ہم لوگ اُفا سٹوڈیوز کی افِیفا لیبارٹری میں جائیں گے۔ وہاں آپ اپنے نگیٹو کی ایڈیٹنگ کا کام شروع کیجیے۔” ڈاکٹر پیٹرسن جانے کو تیار ہوئے۔ انھوں نے مجھ سے ہاتھ ملایا اور کہا، “آف ویدرزہن!” میں کچھ سمجھ نہیں پایا۔ پیٹرسن نے ہنس کر کہا، “ہم جرمن لوگ ایک دوسر سے وداع ہوتےوقت ‘گڈ بائی’ نہیں کہتے، آف ویدرزہن کہتے ہیں۔ اس کا مطلب ہوتا ہے، امید ہے پھر ملیں گے۔” اس کے بعد میں نے بھی انھیں ” آف ویدرزہن” کہا۔

کل سے کام شروع کرنا ہے، لہٰذا کام چلانے لائق جرمن زبان کے لفظ تو معلوم ہونے ہی چاہییں، یہ سوچ کر بمبئی سے جرمن انگریزی لغت خرید لایا تھا، اسے میں نے اپنے بیگ سے نکالا اور پڑھنے بیٹھ گیا۔ لیکن وہ تھی نری لغت، کوئی ناول تھوڑے ہی تھا! نہ کہانیوں کی کتاب تھی! دو چار لفظوں کو یاد کرتے کرتے میری آنکھیں جھپکنے لگیں۔ آخر، کل صبح اٹھتے ہی ‘ناشتہ’ لفظ کی ضرورت پڑےگی، سوچ کر میں بریک فاسٹ لفظ کا جرمن متبادل لغت میں ڈھونڈنے لگا۔ جرمن زبان میں بریک فاسٹ کو ‘فرشسٹک’ کہتے ہیں۔ لفظ کو رٹتے رٹتے میں گہری نیند سو گیا۔

سویرے پیٹرسن آئے۔ ان کے ساتھ میں افیفا لیباریٹری جانے کے لیے نکلا۔ راستے میں کچھ جرمن نوجوانوں کے دستے بڑے جوش خروش کے ساتھ حرکت کرتے جا رہے تھے۔ میں نے جوش سے پیٹرسن سے پوچھا، “یہ کون لوگ ہیں؟”

“نازی نوجوان ہیں”، انہوں نے بتایا۔ اس وقت جرمنی پر ہٹلر کے نازی وچاروں کا اثر پڑنے لگا تھا۔ ان نوجوانوں کی شرٹ کی آستین پر لال رنگ کے سواستِک بنے پٹّے تھے۔ ہاتھوں میں بندوقیں نہیں تھیں، لکڑی کے ڈنڈے تھے۔ وہ سارا منظر دیکھ کر من میں ماضی کی جنگ عظیم کی یاد تازہ ہو گئی۔ من بہت بےچین ہو گیا۔ ہماری گاڑی آگے نکلی۔ صاف ستھرا اور ایک دم سڈول برلن شہر دیکھ کر آنکھیں نہال ہو جاتی تھیں۔ ہم لوگ لیبارٹری پہنچے۔

وہاں جاتے ہی متعلقہ افسروں سے پیٹرسن نے میرا تعارف کرایا۔

بعد میں ایڈیٹنگ کے لیےمخصوص میرا کمرہ مجھے دکھایا گیا۔ میری سرپرستی میں کام کرنےجا رہی مددگار سے میرا تعارف کرایا گیا۔ یہ تمام شروعاتی رسمیں پوری کر لینے کے بعد میں نے فلم کے پہلے حصے کی جڑواں نگیٹو کی ایڈیٹنگ شروع کی۔ شام تک میں پہلی گراری تیار کر لوں تو ایک ہفتے بعد مجھے رنگین کاپی کا رزلٹ دیکھنے کو ملنے والا تھا۔

میں پہلے نمبر کی گراری کی نگیٹو کاٹ کر دیتا جا رہا تھا۔ میری مددگار جینی پاس میں بیٹھ کر جوڑوں کو ٹھیک ڈھنگ سے ایڈٹ کرتی جا رہی تھی۔ اسے کام کو سمجھا کر بتانا میرے لیے کٹھِن ہوتا جا رہا تھا۔ اسے انگریزی معمولی آتی تھی۔ اس دن انگریزی جرمن لغت اپنے ساتھ لانا میں بھول گیا تھا، لہٰذا کئی باتیں اشاروں کے سہارے ہی اسے سمجھانے کی کوشش مجھے کرنی پڑ رہی تھی۔ پہلی جڑواں گراری تیار ہو جانے پر میں نے جینی سے سامنے والی گراری پر نارنجی اور پیچھے والی پر نیلے رنگ کی فلم (Leaders) جوڑ نے کے لیے کہا۔ کیمیائی عمل کرنے والوں کو معلومات دینے کے لیے ایسا کرنا پڑتا تھا۔ یہ بائی پیک سسٹم جرمنی میں بھی نیا تھا۔ نتیجتاً جینی کو بھی وہ معلوم نہیں تھا۔ میں اسے سمجھانے لگا کہ نگیٹو کی سامنے والی گراری کون سی ہے اور پیچھے والی کون سی۔ “دِس از فرنٹ نگیٹو، دس از بیک نگیٹو۔”

لیکن اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا۔ وہ میرا منھ تاکتی رہی۔ پھر اسی نے پوچھا، “دِس واٹ؟”

میں نے اسے پھر وہی بات سمجھائی۔

اس نے ‘اب سمجھ گئی’ کی ادا سے دونوں گراریاں ہاتھوں میں لیں اور ایک کو آگے کرتی ہوئی بولی، “دِس؟”
میں نے کہا، “فرنٹ نگیٹو” اور فوراً ہی دوسری گراری کی طرف انگلی دکھا کر اسے بتایا، “بیک نگیٹو۔”
وہ الجھن میں پڑ گئی۔

میں اس کے سامنے کھڑا ہو گیا اور اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا، “دیکھو، اب تم میرے ‘سامنے’ کھڑی ہو” اور میں نے اپنے سینے پر انگلی رکھ کر ’میرے‘ لفظ پر زور دیا۔ میں آگے اور کچھ بولنے ہی والا تھا کہ جینی بول پڑی، “اوہ!” وہ ایک دم خوش دکھائی دی اور اسی خوشی خوشی میں جرمن بھاشا میں ‘اب سمجھ گئی’ جیسا کچھ بول گئی۔ پھر اس نے میرے سینے پر انگلی رکھ کر بڑے ٹھاٹ سے کہا، “یو مین” اور وہی انگلی پھر اپنی چھاتی پر رکھ کر بولی، “آئی گرل۔”

میں نے اپنا سر پکڑ لیا اور کہا،”اس کا مجھے پتا ہے!”

اب اس کو ‘سامنے’ اور ‘پیچھے’ لفظوں کا مطلب جرمن زبان میں کس طرح سمجھاؤں، میرے سامنےمسئلہ بن گیا۔ میں نے پھر کوشش شروع کی۔ جینی کے پیچھے کھڑا ہو کر میں نے اس سے پوچھا، “اب بتاؤ، تم کہاں کھڑی ہو اور میں کہاں کھڑا ہوں؟”

“زمین پر،” اس نے میری طرف مڑ کر ہنستے ہنستے جواب دیا۔
تُنک کر میں نے کہا، “نو نو نو!” اور ہر لفظ پر زور دے کر زور سے بتایا،
“یو فرنٹ اینڈ آئی بیک۔” میں نے اس کی طرح ہی ٹوٹی پھوٹی انگریزی کا استعمال کر سمجھانا چاہا۔

لیکن اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا۔ وہ کمرے سے باہر گئی۔ میں نے سوچا، شاید انگریزی جرمن لغت لے کر آئے گی۔ لیکن لغت کے بجاے وہ اپنی طرح وہاں کام کرنے والی دو جرمن لڑکیوں کو ساتھ لے آئی۔ میری طرف سے منھ پھیرا اور وہ ان لڑکیوں کو جرمن بھاشا میں زور زور سے کچھ کہنے لگی اور وہ لڑکیاں کِھلکِھلا کر ہنسنے لگیں۔

اب پریشانی میں مَیں پڑا۔

ان میں سے ایک لڑکی آگے آئی اور میری طرف پیٹھ کیے کھڑی جینی کی طرف انگلی دکھا کر بولی، “جینی وہورڈسٹ پرنٹ۔ .پرنٹ۔ یو سٹینڈنگ روکین بیک۔ بیک۔”

میں نے جوش کے ساتھ کہا، “یس۔۔یس۔”

‘سامنے’ اور ‘پیچھے’ ان دو لفظوں کی وجہ سے کھڑا کٹھنائی کا پہاڑ ہم لوگ پار کر چکے تھے۔

دوسرے دن افیفا لیباریٹری جاتے وقت میں نے یاد سے لغت لی۔ اس کی مدد سے میں اور جینی آپس میں تھوڑا بہت بولنے لگے۔ ہم نے اگلے نمبر کی گراری جوڑنے کے لیے لی، لیکن میرا سارا دھیان کیمیکل روم میں تیار کیے جا رہے رنگین پرنٹ کے نتائج پر فوکس ہو گیا تھا۔ ہم نےرنگین فلم کا یہ جو تجربہ ہاتھ میں لیا تھا، اس کی طرف سارا ہندوستان آنکھیں لگائے بیٹھا تھا۔ میرے دل کی دھڑکن بڑھتی جا رہی تھی۔

ساتویں دن سویرے پیٹرسن میرے ایڈیٹنگ روم میں آئے۔ ان کا چہرہ سنجیدہ تھا۔ میرے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر انھوں نےکہا، “شانتارام، ویری سوری! بیڈ نیوز!”

لمحہ بھر کو ایسا لگا جیسے ساری دھرتی اور آسمان اچانک گول گھوم گئے ہیں۔

کوشش کر کے اپنے آپ کو سنبھالتے ہوئے پیٹرسن کی باتیں میں سننے لگا۔ وہ کہہ رہے تھے:

“تمہاری نیگیٹو ٹھیک طرح سے فلمائی نہیں گئی ہے۔ اس میں کافی غلطیاں ہیں اور اسی لیے اس کے رنگین پرنٹ ٹھیک سےنہیں آ پا رہے ہیں۔ اُفا کے خاص کیمیادان ڈاکٹر ولف نے تمھاری نگیٹو کے پرنٹس لینے کے لیے کئی طریقے اپنا کر دیکھ لیے، کئی تجربے بھی کیے، لیکن سب بےسود رہے! آئی ایم سوری مسٹر شانتارام!”

میرا تو گلا سوکھ گیا۔ زبان اندر ہی اندر کھنچتی چلی گئی۔ مشکل سے میں نے جیسے تیسے پیٹرسن سے پوچھا:

“تو کیا ہماری نیگیٹو کے رنگین پرنٹ بنیں گے ہی نہیں؟”

Categories
نان فکشن

شانتا راما باب 11: ان چاہی رانیوں کی گھرگرہستی

’’شانتاراما‘‘ برصغیر کی فلم انڈسٹری کے بانیوں میں شامل وی شانتا رام کی آپ بیتی ہے جو انھوں نے اپنی آخری عمر میں مراٹھی میں بول کر لکھوائی اور چھپوائی تھی۔ بعد میں اس کا ہندی روپ شائع ہوا۔ شانتارام جن کا پورا نام شانتارام راجارام وانکودرے تھا، 18 نومبر 1901 کو پیدا ہوئے اور 30 اکتوبر 1990 کو وفات پائی۔ مہاراشٹر کے شہر کولھاپور میں، جو برٹش راج کے دور میں ایک رجواڑے یا نوابی ریاست کا صدرمقام تھا، انھوں نے خاموش فلمیں بنانے سے آغاز کیا اور بعد میں پونا اور بمبئی میں مراٹھی اور ہندی کی بےشمار فلمیں بنائیں۔ اس طرح شانتارام کی لمبی پیشہ ورانہ زندگی کی دلچسپ داستان اس خطے کی فلمی دنیا کی تاریخ بھی ہے۔ اس تاریخ کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے کرداروں میں مختلف علاقوں، ذاتوں، زبانوں، طبقوں اور پیشوں کے لوگ شامل ہیں جنھوں نے مل کر ایک رنگارنگ منظرنامہ تیار کیا جس کی جھلکیاں اردو میں سعادت حسن منٹو کی ان تحریروں میں ملتی ہیں جن کا پس منظر 1940 کی دہائی کا بمبئی شہر اور وہاں کی فلمی دنیا ہے۔ “شانتاراما” میں اس دنیا کے رفتہ رفتہ بننے اور پھیلنے کی کہانی بڑے بےتکلف اور دلچسپ اسلوب میں بیان کی گئی ہے۔ شانتارام کی معروف ہندی فلموں میں سے چند کے نام یہ ہیں: “ڈاکٹر کوٹنِس کی امر کہانی” (1946)، “امر بھوپالی” (1951)، “جھنک جھنک پایل باجے” (1955)، “دو آنکھیں بارہ ہاتھ” (1957)۔ “شانتاراما” کا اردو روپ ہندی متن کی بنیاد پر فروا شفقت نے تیار کیا ہے جو گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں پی ایچ ڈی سکالر ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

‘ایودھیا کا راجا’ کے کس ورژن کو بمبئی میں ریلیز کیا جائے، اس پر ہمارے یہاں کافی بحث چھڑ گئی۔ بمبئی بہت سی زبانوں کا شہر ہے۔ وہاں کے مراٹھی بولنے والے ناظرین بھی ہندی فلموں کو اتنے ہی چاؤ سے دیکھنے جاتے ہیں۔ اس لیے پہلے چار ماہ ہندی ورژن پیش کرنا طےکیاگیااوربعدمیں مراٹھی۔ وہ دن تھا 6 فروری 1932۔

ناطرین تو پہلے شو سے ہی فلم کے ساتھ ہم آہنگی محسوس کرنے لگے تھے۔ غلاموں کے بازار کے سین میں ہرِیش چندر، تارامتی اور ان کا بیٹا روہِداس ایک دوسرے سےبچھڑ جاتے تھے۔ وہ سین دیکھ کر ناظرین کے آنسو تھامے نہیں تھمتے تھے۔ بمبئی میں ‘ایودھیا کا راجا’ دیکھنے والی ایک بار جاٹ ریاست کی راج ماتا آئی تھیں۔ بولتی فلم کے چلنے کے کچھ بعد وہ تھئیٹر سے باہر آ کر ایک بینچ پر بیٹھ گئیں۔ انھیں اس طرح باہر بیٹھا دیکھ کر مجھے لگا کہ ہو نہ ہو، راج ماتا دیکھتے دیکھتے اکتا گئی ہوں گی۔ میں نے پوچھا تو وہ بولیں، “نہیں نہیں، شانتارام بابو، ویسی کوئی بات نہیں ہے۔ غلاموں کے بازار میں ہرِیش چندر اور تارامتی کے بچھڑنے کا وہ سین میرےدل میں اتنا گہرا بیٹھ گیا کہ میں اپنی شدت سے آتی سسکیاں روک نہ سکی۔ بہت ہی برداشت سےباہر ہو گیا تو باہر آ کر بیٹھ گئی ہوں۔”

تبھی تھئیٹر میں ناظرین کا یکایک شور مچ گیا، سِیٹیوں کی آوازیں آنے لگیں۔ ‘کودو کٹکو جیو نار کے لیے، بوڑھا دولہا کھلواڑ کے لیے’ گانا شروع ہو گیا تھا، اور ناظرین نےخوشی اور مسرت کے مارے سارا تھئیٹر سر پر اٹھا لیا تھا۔ اس طرح بولتی فلم کے سکھ اور دکھ کے منظروں کا ناظرین پر صحیح اثر ہو رہا تھا۔

ہفتہ در ہفتہ سنیماگھر ناظرین سے پورا بھر جاتا۔ ہر شو میں ایسا ہی ہوتا۔ حالات ایسے ہو گئے کہ لوگوں کو اس فلم کی ٹکٹ ملنا مشکل ہونے لگی۔ ‘ایودھیچا راجا’ ہماری امید سے کہیں زیادہ جوش و خروش سے چلتی رہی۔ اس نے بارہویں ماہ میں قدم رکھا اور میجسٹک سنیما کے مالک نے ہمیں کہلا بھیجا کہ بارہویں ہفتے کے بعد ہماری بولتی فلم وہاں دکھانا بند کر دی جائے گی۔ ان کے فیصلے کا کارن ہماری سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔ بعد میں بابوراؤ پینڈھارکر سے معلوم ہوا کہ میجسٹک سنیما کے دو مالکوں میں ایک تھے ‘عالم آرا’ کے پروڈیوسر اور ڈائریکٹر اردیشِر ایرانی۔ ان کی ‘عالم آرا’ بولتی فلم سے بھی زیادہ وقت ہماری فلم چلتی، تو کاروباری نقطۂ نظر سے ان کی ناک نیچی ہو جاتی۔ ممکن ہے اسی لیے انھوں نے یہ فیصلہ کیا ہو گا۔ ‘ایودھیچا راجا’ جس جوش و خروش کےساتھ مقبول ہوتی جا رہی تھی، اسے دیکھتے ہوئے لگتا تھا کہ اگر اسے ویسا ہی چالو رکھ دیا جاتا تو یقیناً وہ اس وقت ریلیز کی گئی سبھی بولتی فلموں سے زیادہ ہفتےچل جاتی اور سب سے زیادہ وقت تک چلنے کا نیا ریکارڈ قائم کر دیتی۔

مہاراشٹر کے گاؤں گاؤں میں یہ بولتی فلم دھوم مچا رہی تھی۔ آمدنی اور مقبولیت کے سارے ریکارڈ اس نے توڑ دیے تھے۔ ‘ایودھیچاراجا’ کسی گاؤں میں لگتی تو آس پاس کے گاؤوں سے سو پچاس میل کا فاصلہ لوگ ریل یا بیل گاڑیوں سے کاٹ کر اس بولتی فلم کو دیکھنے آتے تھے۔ سنیماگھر کے باہر تو اتنی بھیڑ ہو جاتی کہ جیسےکوئی بڑا میلہ ہی لگا ہو۔ سینکڑوں ریل گاڑی میں کھڑے ہیں۔ بیل جگالی کر رہے ہیں۔ کھانے پینے اور میوہ مٹھائیوں کی دکانیں لگی ہیں۔۔ ایسا منظر دکھائی دیتا تھا۔ ناطرین کی تو ایسی بھیڑ اکٹھی ہو جاتی کہ طے شدہ تعداد سے زیادہ شو دکھانے پڑتے۔ اس پر بھی کئی لوگ ایسے ہوتے تھے، جنھیں بولتی فلم کے ٹکٹ نہیں مل پاتے تھے۔ یہ لوگ پھر اپنی اپنی بیل گاڑیوں میں یا پیڑوں کے نیچے ڈیرا ڈال دیتے اور دوسرے دن فلم دیکھنے کے بعد ہی رات میں اپنے گاؤوں کو لوٹتے تھے۔

لیکن ہماری بولتی فلم کے مراٹھی ورژن کو جو بھاری کامیابی حاصل ہوئی وہ ہندی ‘ایودھیا کاراجا’ کو گجرات، ممبئی کےعلاوہ کہیں اور نصیب نہیں ہوئی۔ ہم نے ‘ایودھیا کا راجا’ کو اُتّر بھارت میں ریلیز کیا۔ ہماری کہانی مکمل طور پر قدیم کہانی کے مطابق نہیں، یہ الزام اُتر بھارت واسی ہم پر لگا رہے تھے۔ لیکن اس کی تہہ میں اصل بات یہ تھی کہ راجا ہریش چندر کے جیون پر مبنی ایک ناٹک اُتر بھارت میں بہت ہی مقبول ہو چکا تھا۔ ناٹک کو بےحد دلچسپ بنانے کے چکر میں اس کے لکھاری نے کہانی میں اپنی طرف سے کئی خیالی سین جوڑ دیے تھے۔ ناٹک دلچسپ بنا تو تھا، لیکن اس میں بیان کردہ منظروں کا عوامی ذہن پر کچھ اتنا زیادہ اثر چھا گیا تھا کہ لوگ ناٹک میں بیان کی گئی ہر بات کو حقیقی ماننے لگے تھے۔ سارے منظر قدیم تاریخ کے مطابق ہی ہیں، یہ سوچ بنا بیٹھے تھے۔ تارامتی اپنے گلے میں پہنا منگل سوتر بھی بیچ دیتی ہے، ایسا ایک سین ناٹک میں دکھایا گیا تھا۔ چونکہ ایسے سین ہماری ہندی بولتی فلم میں نہیں تھے، ہو سکتا ہے کہ اسی لیے اُتر بھارت واسی ہماری بولتی فلم پر ناراض ہو گئے ہوں۔ جو بھی ہو، ہمارا ہندی ورژن فیل ہو گیا۔ لیکن مجھے اس کا کوئی رنج نہیں تھا۔ آمدنی کی نظر سے مراٹھی ‘ایودھیچا راجا’ ہندی ورژن میں ہو رہے گھاٹے کی کہیں زیادہ پُورتی کرتی جا رہی تھی۔

اسی معاشی بدحالی سے نجات کی وجہ سے پھر ایک بار اپنے من کی سبھی خواہشات کے مطابق ایک بَڑھیا فلم بنانے کا موقع ہاتھ آ گیا تھا۔ اب اس نئی بولتی فلم کو میں پوری طرح اپنی ہی خواہشات کے مطابق پورا کرنے جا رہا تھا۔ چاہتا تھا کہ نئی فلم صرف بولتی فلم نہ ہو، نہ ناٹک ہو، بلکہ وہ ہر طرح سے ایک موشن پکچر ہو۔ اسی فیصلے سے میں نے کام کرنا شروع کیا۔ ایک وچار یہ آیا کہ نئی فلم میں مکالمے کم سے کم ہوں، گیت بھی بس گنے چنے ہی ہوں اور سین اور ایکٹنگ پر زیادہ زور دیا گیا ہو۔ اسی کے مطابق میں اپنی نئی فلم کے لیے کہانی طے کرنے لگا۔ کہانی کے بارے میں ایک آئیڈیا میں نے گووند راؤ ٹیمبے کے سامنے رکھا۔ وہ اچھے لکھاری بھی تھے۔ انھوں نے میرے خیال کےمطابق ایک اچھی سی کہانی لکھ دی۔ اس بار تو میں نے پکی ٹھان رکھی تھی کہ نئی فلم،خاص کر اس کا ہندی ورژن اتنا پُرکشش بناؤں گا کہ سارے ہندوستان میں کھلبلی مچ جائے۔

مووی کے ہندی ورژن کو میں نے ‘جلتی نشانی’ اور مراٹھی کو ‘اگِن کنکن’ نام دیا۔ خاص کردار وِنائک، لِلا بائی چندرگری، بابوراؤ پینڈھارکر اور کملا دیوی کو دیے۔ ہندی اور مراٹھی دونوں ورژن کی میوزک ڈائریکشن گووند راؤ ٹیمبے نےکی۔ فلم کی ڈائریکشن میں مَیں نے اپنا آج تک کا سارا تجربہ داؤ پر لگا دیا۔ اس فلم کی ڈائریکشن کی کچھ خاص ڈھنگ کی خوبیوں کو ناظرین اور ناقدین نے خوب سراہا۔ کچھ خوبیاں اس طرح تھیں:

رانی اپنے نوزائیدہ راجکمار کو بُرے وزیر کے چُنگل سے بچانے کے لیے راج پاٹ چھوڑ کر بھاگ نکلتی ہے۔ وزیر کے سپاہی اس کا پیچھا کرتے ہیں۔ بھاگتے بھاگتے ہاری ہوئی رانی سڑک کے کنارے ایک گڑھے میں اپنے آپ کو چھپا لیتی ہے۔ تبھی وہ نوزائیدہ بچہ رونے لگتا ہے۔ حکمران کے سپاہی نزدیک آتے جا رہے ہیں۔ ظاہر تھا کہ راجکمار کے رونے کی آواز سے انھیں رانی کے چھپنے کی جگہ معلوم ہو جاتی۔ لہٰذا رانی اپنے بچے کا منھ بند رکھنے کے لیےہاتھ آگے بڑھاتی ہے، تاکہ سپاہیوں کو اس کے رونے کی آواز سنائی نہ دے۔ لیکن تبھی اس کا ہاتھ پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ وہ سوچتی ہے کہ منھ دبانے سے کہیں راجکمار کا دم نہ گھٹ جائے۔ رانی سوچ میں پڑ جاتی ہے۔ سپاہی اب کافی نزدیک آ گئے ہیں۔ رانی فورا آگے بڑھ کر راجکمار کو چوم لیتی ہے اور اپنے منھ سے اس کا منھ بند کر اسے اپنے منھ سےسانس دینے لگ جاتی ہے۔ راجکمار کے رونے کی آواز سپاہی نہیں سن پاتے۔ وہ آگے نکل جاتے ہیں۔

اس منظر کو دیکھنے کے بعد ناظرین نے زور سے تالیوں کی گڑگڑاہٹ کی اور کچھ شائقین، جو اب مجھے جاننے لگے تھے، چِلّا اٹھے، “واہ، شانتارام! واہ!”

آگے چل کر وہ رانی اپنے راجکمار کے ساتھ اونٹوں کے ایک غریب بوڑھے بیوپاری کی جھونپڑی میں رہنے لگتی ہے۔ راجکمار بڑا ہونے لگتا ہے۔ راجکمار بڑا ہوجائے تو اس کے لیے اپنا کھویا ہوا راج پاٹ پھر حاصل کرنےکی کوشش رانی کرتی ہے۔ ایک ایک سال گزرتاجاتا ہے۔ اپنی جدوجہد کی یاد برابر بنی رہے اس لیے ہر سال رانی جلتی سلاخ سے اپنے ہاتھ کو داغ لیتی ہے۔ اس سے دو باتیں ثابت ہو جاتی ہیں۔ ایک تو رانی کے ہاتھ پر اٹھی جلتی نشانیوں کی تعداد سے ناظرین کو یہ پتا چلتا ہے کہ کتنےسال بیت چکے ہیں اور دوسرے، رانی کے اندر انتقام کا احساس کتنا شدید تھا، اس کا بھی اندازہ انہیں ہو جاتا ہے۔ رانی اپنے آپ کو اس طرح داغ لیتی ہے، یہ سین اتنا جاندار بن گیا تھا کہ اس وقت ناظرین بھی اپنی ‘آہ!’ سے سنیماگھر کو بھر دیتے تھے۔ رانی اپنے ہاتھ پر انیسواں داغ لگا رہی ہے، اس سین سے فلم کا آغاز ہوتا تھا۔ نتیجتاً منظروں کی شدت ایک دم پہلے سین سے ہی برابر بڑھتی جاتی تھی۔

اب تک رواج تو یہی تھا کہ فلم میں موقع بہ موقع من مانی تعداد میں گیت شامل کیے جاتے۔ ‘شیریں فرہاد’، ‘لیلیٰ مجنوں’ اور یہاں تک کہ ہمارے ‘ایودھیچا راجا’ میں بھی گیتوں کی بھرمار تھی۔ ‘جلتی نشانی’ میں ہم نے گیت ایک دم گنے چنے اور سین کے مطابق ہی رکھے تھے۔ اس میں ایک سین ایسا بھی رکھا تھا کہ اپنے باپ کو جسمانی تشدد سے بچانے کے لیے ہیروئن ولن کی زبردستی کی وجہ سے ایک غمگین گیت گاتی ہے۔

اس فلم کے بارے میں مجھے ایک طرح کا اعتماد تھا، اس لیے میں نے اس کا ہندی ورژن بمبئی میں پہلے ریلیز کیا۔ عام ناظرین نے تو اس فلم کو سر پر اٹھا ہی لیا، جانے مانے دانشمند مبصرین نے بھی رائے ظاہر کی کہ بولتی فلم کیسی ہو، یہ جاننے کے لیے ‘پربھات’ کی ’جلتی نشانی’ ضرور دیکھی جائے!

کلکتہ میں ایک نیا تھئیٹر ‘نیو سنیما’ بنا تھا۔ اس کا افتتاح ہماری ‘جلتی نشانی’ فلم سے ہوا۔ نیو سنیما کے مالک تھے بنگال کے سلیبرٹی فلم میکر اور ‘نیو تھئیٹرز’ کے مالک بی این سرکار۔ بنگال میں ایک فلمی اخبار ‘فلم لینڈ’ نکلتا تھا۔ اس کا سارے ملک میں بول بالا تھا۔ اس فلمی میگزین میں ہماری ‘جلتی نشانی’ فلم کی بےحد تعریف شائع ہوئی۔ میگزین نے لکھا تھا، بنگالی فلم پروڈیوسر، ہدایت کار، فنکار، تکنیک کار وغیرہ سبھی کو چاہیے کہ وہ نہ صرف اس فلم کو دیکھیں، بلکہ اس کا باریکی کے ساتھ مطالعہ بھی کریں۔ مجھے اخبار کی یہ بات کچھ مبالغہ آمیز لگی۔

کچھ سال بعد، پُونا میں ہماری پربھات کمپنی کا کام شروع ہونے کے بعد ‘نیو تھئیٹرز’ کی طرف سے ہی مشہور بنگالی ڈائریکٹر دیوکی بوس ایک بار پربھات میں آئے تھے۔ انہوں نے وقار کے ساتھ مجھ سے کہا تھا، “شانتارام، آپ کو پتا نہیں ہو گا شاید، میں نے آپ کی ‘جلتی نشانی’ فلم دس بارہ بار دیکھی اور اس کے ہر شاٹ کا ٹھیک ٹھیک مطالعہ کیا ہے۔ ڈائریکشن کی نظر سے مجھے اس کا بہت فائدہ ہوا!”

ایک سچے کلاکار نے اس طرح من سے مجھے داد دی، اور کیا چاہیے تھا؟ اس ملاقات سے پہلے دیوکی بوس کی ڈائریکٹ کی ہوئی ‘وِدیاپتی’ میں نے پُونا میں دیکھی تھی۔ مجھے وہ اتنی پسند آئی تھی کہ بوس جی سے کچھ بھی تعارف نہ ہوتے ہوئے بھی میں نے خود ان کوخط لکھ کر دلی مبارکباد دی تھی۔

‘جلتی نشانی’ کی غیرمتوقع کامیابی کی وجہ سے سٹوڈیو کےسبھی لوگ بہت خوشیاں منا رہے تھے۔ لیکن میں اندر ہی اندر سنجیدہ ہوتاجا رہا تھا۔ ‘جلتی نشانی‘ کی لوگ کافی تعریف کیے جا رہے تھے۔ اسے دیکھنے کے لیے بھیڑ روز بروز بڑھتی ہی جا رہی تھی، لیکن اس کے ساتھ ہی ان کی امیدیں بھی بڑھ رہی تھیں۔ توقعات بھی کافی اونچی اٹھتی جا رہی تھیں۔ ‘پربھات’ کو پیار دینے والےان ناظرین کو اب اور نیا، اور اچھا دیں تو کیا دیں؟ اسی کی فکر میں میں کھو گیا تھا۔ باربار جی کرنے لگا کہ اب کی بار کوئی سماجی فلم بناؤں اور اس کے ذریعے سے کسی سُلگتی سماجی فکر کو پیش کروں۔

انھیں دنوں مراٹھی کے مقبول ڈرامہ نگار ماما وریرکر کا ‘وِدھوا کماری’ ناول میں نے پڑھا۔ مجھے وہ ناول بہت ہی پسند آیا۔ پھر تو وریرکرجی کے دیگر ناول اور ناٹک بھی میں نے پڑھ ڈالے۔ ان سب کا میرے من پر کافی اچھا اثر پڑا۔ میں نے انھیں بمبئی سے بلوا لیا اور ان سے درخواست کی کہ وہ مجھے معاصر سماجی مسئلے پر ایک اچھی سی کہانی لکھ کر دیں۔

انہوں نے قبول کیا۔ کہانی لکھنا شروع بھی کیا۔ ایک مہینہ بیت گیا۔ بعد میں انھوں نے مجھے وہ کہانی سنائی۔ لیکن کہانی سن کر مجھے اطمینان نہیں ہوا۔ انھوں نے ناٹک کے اسلوب میں پوری کہانی مکالموں کی صورت پیش کی تھی۔ میں نے اس کہانی پر ان کےساتھ تفصیل سے بحث کی اور ایک فلم ڈائریکٹر کے طور پر میں صحیح صحیح کیاچاہتا ہوں، انہیں سمجھا کر بتا دیا۔ انہوں نے اگرچہ جتایا کہ انہیں میری بات سمجھ میں آ گئی ہے، پھر بھی وہ مجھ سے کچھ ناراض بھی ہو گئے، کیونکہ میں نے ان کی کہانی جوں کی توں قبول نہیں کی تھی۔ میں نے ماما صاحب سے کہا کہ جلدی کی کوئی بات نہیں ہے، وہ آرام سے ممبئی جا کر کہانی کو پورا کر سکتے ہیں۔

لگ بھگ اسی وقت ہمارے جنوبی بھارت کے ڈسٹری بیوٹر جنیتی لال ٹھاکر کولہاپور آئے۔ انہوں نے ہمیں یہ خوشخبری دی کہ بنگلور، مدراس وغیرہ سبھی شہروں میں ‘جلتی نشانی’ کا اچھا استقبال ہو رہا ہے۔ ہماری آئندہ فلم کون سی ہے، اس کی بھی انھوں نے پوچھ تاچھ کی۔ میں نے نئی کہانی کے بارے میں اپنی کٹھنائی انھیں بتا دی۔

انھوں نے یوں ہی باتوں باتوں میں بتایا کہ گووند راؤ ٹیمبے اپنی شِوراج ناٹک منڈلی کی طرف سے ‘سِدھ سنسار’ نامی ایک ناٹک پیش کیا کرتے تھے اور اس پر ایک اچھی فلم بنائی جا سکتی ہے۔ چونکہ اصل ناٹک پر مبنی فلم بنانے کی میری کوئی خواہش نہیں تھی، میں نے ان کی باتوں کی طرف خاص دھیان نہیں دیا۔ لیکن انہوں نے زبردستی اس ناٹک کی کہانی کا کچھ حصہ سنایا۔ یہ کہانی ناتھ برادری کے سادھوں کے گرو مچھندر ناتھ کے جیون کے ایک غیرمعمولی واقعے پر مبنی تھی۔

مچھندر ناتھ ستری(عورت) ریاست میں جاتا ہے۔ اس ستری (عورت) ریاست کی رانی کِلوتلا انسانوں سے نفرت کرنے والی ہوتی ہے۔ مچھندر ناتھ کو حاصل غیرفطری طاقتوں اور اس کے دکھائے جانے والے چمتکاروں کا اس پر اثر پڑتا ہے۔ کِلوتلا مچھندر ناتھ سے شادی کر لیتی ہے۔ مچھندر ناتھ اس ستری (عورت) ریاست میں رہنے لگتا ہے۔ اسے اس محبت کے جال سے مُکت کرانے کے لیے اس کا خاص شاگرد گورکھ ناتھ مرِدنگ بجانے والے کا بھیس بنا کر اس ستری(عورت) راج میں جاتا ہے۔ کِلوتلا اور مچھندر ناتھ جب بسنت تہوار کے رنگ میں رنگے ہوتے ہیں، گورکھ ناتھ مردنگ بجانا شروع کرتا ہے۔ مردنگ سے گمبھیر آواز نکلتی ہے، “چلو مچھندر، گورکھ آیا، چلو مچھندر، گورکھ آیا”- مردنگ کے ان بولوں کو سن کر مچھندر ناتھ بےچین ہو اٹھتا ہے۔ کَلوتلا اسے چھوڑتی نہیں، گورکھ ناتھ برہم ہو کر چلا جاتا ہے اور سیدھا مچھندر ناتھ کی غار میں جا پہنچتا ہے۔ وہاں دیکھتا کیا ہے کہ مچھندر ناتھ تو سمادھی جمائے بیٹھے ہیں۔ گورکھ ناتھ کا غصہ دور ہو جاتا ہے۔ حقیقت اس کی سمجھ میں آ جاتی ہے کہ یہ تو سب اپنے گرو کی مایا ہے۔

اس کہانی کو فلم کی نظر سے میں نے کافی مضبوط پایا۔ بس میں نے طے کر لیا کہ آئندہ فلم اسی کہانی پر بنائی جائے۔ اپنے ساتھیوں اور گووند راؤ کو میں نے یہ بات بتائی۔ ‘سدھ سنسار’ ناٹک کے مکمل حقوق گووند راؤ ٹیمبے کے پاس محفوظ تھے، انھوں نے ہی فورا پتر لکھ کر ناٹک کے حقیقی لکھاری سے فلم بنانے کے لیے اجازت حاصل کر لی۔ لیکن ناٹک کہیں بھی چَھپا ہوا نہیں تھا، لہٰذا اس کے مکالمے وغیرہ کیسے ہیں، معلوم کرنا مشکل تھا۔ لیکن یہ کٹھنائی بھی منٹوں میں دور ہو گئی۔ ہماری کمپنی کے میوزک ڈپارٹمنٹ میں راجارام بابو نامی ایک آرگن پلیئر تھے۔ وہ کسی زمانے میں شِوراج ناٹک منڈلی میں کام کیا کرتے تھے۔ انھیں یہ ناٹک پورا یاد تھا۔ ہم نے ان سے ‘سِدھ سنسار’ ناٹک منظم طور پر لکھوا لیا اور اس سکرپٹ سے میں نے فلم کی کہانی اپنے من سے لکھنی شروع کی۔

اس فلم کے لیے اداکاروں کا انتخاب شروع کیا۔ مچھندر ناتھ اور کلوتلا کا کردار کرنے کے لیے پھر ‘ایودھیچا راجا’ کے ہیرو ہیروئن کی جوڑی کو ہی پسند کیا۔ گووند راؤ ٹیمبے اور دُرگا بائی کھوٹے کو وہ کام دیے گئے۔ گورکھ ناتھ ونائک کو بنایا گیا۔ فلم کا نام رکھا ‘مایا مچھندر’۔ شوٹنگ شروع ہو گئی۔

اور ایک دن مجھے بخار ہو گیا۔ بات یہ ہوئی تھی کہ دو تین دنوں سے میں بخار میں ہی شوٹنگ کرتا رہا، جس کا نتیجہ تھا کہ اب بخارکچھ زیادہ ہو گیا تھا۔ ہمارے خاندان کے ڈاکٹر پادھیے نے میری صحت کو اچھی طرح سے دیکھا بھالا، معائنہ کیا اور تشخیص کی کہ ٹائیفائڈ ہے۔ اُن دنوں آج کے طرح ٹائیفائڈ کی اکسیر دوائیاں نہیں نکلی تھیں۔ یہ بیماری کافی لوگوں کی جان لے لیتی تھی۔ عام آدمی کے لیے تو یہ بیماری جان لیوا ہی مانی جاتی تھی۔ فطری طور پر گھر کے لوگوں کے تو ہوش اڑ گئے۔ کمپنی میں بھی گھبراہٹ پھیل گئی۔ ‘مایا مچھندر’ کی شوٹنگ پورا کرنے کا کام میں نے دھایبر اور دیگر ساتھیوں کو سونپ دیا اور اس کے بعد کیا ہوا، میں نہیں جانتا۔

مجھے کچھ آرام ہو جانے کے بعد اپنی بیماری کا قصہ معلوم ہوا۔ میں کافی دن بےہوش پڑا تھا۔ ایسے میں ہی ایک دن تو میری صحت گمبھیر روپ سے گر گئی۔ ڈاکٹروں کو نبض کا پتا تک نہیں چل پا رہا تھا۔ سبھی بےحد فکرمند تھے۔ کمپنی کے سب لوگ میرے گھر کے باہر رات بھر جاگتے رہے تھے۔ لیکن وہ گھڑی ٹل گئی! دوسرے دن سےدھیرے دھیرے بخار کم ہونے لگا۔ لیکن میں بےحد کمزور ہو چکا تھا۔

کچھ صحت پکڑتے ہی میں پھر کمپنی میں جانے لگا اور ہمیشہ کی طرح جلدی جلدی کام نبٹانے میں لگ گیا۔ لیکن اب کمپنی میں میری باتوں کو لوگ مانتے نہیں تھے۔ دوپہر کے چار بجے نہیں کہ سب لوگ اپنا اپنا میک اپ اتار کر گھر جانے کی تیاری کرنے لگتے۔ دھایبر، فتے لال جی اور داملےجی کیمرا اور ساؤنڈ ریکارڈر بند کر دیتے۔ پھر تو میں مجبور ہو جاتا اور جلد ہی گھر لوٹ جاتا۔

میرے ہر دن کی غذا میں ثابت موٹھ، مٹر، چنے چھولے وغیرہ کی بہتات ہوتی تھی۔ یہ چیزیں مجھے بہت ہی مزےدار بھی لگتی تھیں۔ لیکن اب بیماری کے بعد ڈاکٹروں نے مجھے وہ غذا لینے کو منع کر دیا تھا۔ ان کی اس مناہی پر بہت سختی سے عمل کیا جاتا تھا۔ کمپنی میں دوپہر میں ہم سب لوگ ایک ساتھ بھوجن کرنے بیٹھتے تھے۔ کسی کے ڈبے میں میرے من چاہے چٹپٹے چھولے، مٹر وغیرہ ہوتے تو گووند راؤ مجھے باربار ہدایت دیتے، “شانتارام بابو، آپ کو وہ کھانا منع ہے۔”

لیکن مجھے چھولے کھانا منع کرتے کرتے گووند راؤ کے منھ میں چھولے لفظ اس طرح بیٹھ گیا تھا کہ ایک دن شوٹنگ کرتے وقت ہمیں ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہو کر شوٹنگ کو بیچ ہی میں روک دینا پڑا۔

اُس دن بسنت تہوار کے سین کی شوٹنگ چل رہی تھی۔ گورکھ ناتھ کےظاہر ہوتے ہی کِلوتلا غصے میں اس پر برس پڑتی ہے اور اس کی سمت دوڑ پڑتی ہے۔ تب مچھندرناتھ کہتا ہے، “کِلوتلے، تمھارا سوبھاؤ تو بس اچانک شعلہ برساتا ہے۔” لیکن گووند راؤ عادت سے لاچار ہو کر کہہ بیٹھے، “کِلوتلے، تمہارا سوبھاؤ تو بس اچانک چھولے برساتا ہے۔‘‘

اس طرح ہنستے ہنساتے، لیکن ہمیشہ کے برعکس کچھ دھیمی رفتار سے، ساری شوٹنگ مکمل ہو گئی۔ ایڈیٹنگ کے کام بھی پورے ہو گئے۔ بابوراؤ پینڈھارکر فلم کی ایک کاپی لے کر بمبئی سنسر کے پاس گئے۔ فلم کی پیشکش اس کے آٹھ دس دنوں بعد کی جانے والی تھی۔

بیماری کے بعد مجھے آرام کرنے کی ضرورت تھی، لہذا میں بمبئی نہیں گیا تھا۔ بابوراؤ پینڈھارکر اکیلے بمبئی گئے اور دوسرے ہی دن مجھے ان کا تار ملا: “شام کی گاڑی سے بمبئی چلے آؤ، ضروری کام آ پڑا ہے۔‘‘ تار کا مطلب میری سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔ داملےجی سے پوچھا تو کہہ دیا، “آپ ہی جائیے، میں نہیں جاؤں گا۔” بات سمجھاتے ہوئے داملےجی نے کہا، “نہیں، جانا تو آپ ہی کو ہو گا، کیونکہ آپ کو بلایا ہے۔”

جیسے تیسے میں بمبئی جانے کے لیے تیار ہو گیا۔

بمبئی پہنچتے ہی میں اسی دن سویرے بابوراؤ پینڈھارکر کے دفتر گیا۔ وہاں ٹیمبے، بابوراؤ پینڈھارکر وغیرہ لوگ بہت ہی گمبھیر انداز میں بیٹھے تھے۔ سب سے میں نے اس طرح فوراً بمبئی بلانے کا کارن جاننا چاہا، لیکن ایک نے بھی صاف جواب نہیں دیا۔ پینڈھارکر نے کہا، “چلیے، پہلے ہم لوگ تھئیٹر میں جا کر ‘مایا مچھندر’ دیکھ لیتے ہیں۔‘‘

اُن دنوں تھئیٹروں میں صبح کے شو نہیں ہوا کرتے تھے۔ تھئیٹر جاتے جاتے راستے میں میں نے بابوراؤ پینڈھارکر سے پوچھا، “آخر یہ سب ماجرا کیا ہے؟ سب کے اس طرح منہ لٹکے ہوئے کیوں ہیں؟”

میری تنک مزاجی اور ہٹِیلے سوبھاؤ سے واقف ہونے کے کارن بابوراؤ نے کچھ جھجکتے ہوئے بتایا، “سب کی رائے ہے کہ اس فلم میں دو ایک اور اچھے سین اور ایک دو گیت ڈالےجائیں، اور بعد میں ہی اسے ریلیز کیا جائے۔ کل فلم دیکھنے کے بعد گووندراؤ ٹیمبے، دُرگا بائی، تورنے، بابوراؤ پینڈھارکر وغیرہ سب کی یہی رائے رہی۔ اس حالت میں فلم اثردار نہیں لگتی۔”

“لیکن میں اس رائے کو نہیں مانتا۔ میری رائے میں فلم آج جیسی ہے، ویسی ہی کافی اثردار ہے۔ یعنی آپ لوگوں کی رائے کا مطب یہ ہوا کہ میں نے بِنا سوچے سمجھے ہی فلم یہاں بھیج دی، کیوں؟”

بابوراؤ نے شانت رویے سے کہا، “آپ ‘مایامچھندر’ کو ایک بار پھر دیکھیے تو سہی، پھر ہم لوگ بیٹھ کر بحث کریں گے۔”

ممبئی کے ‘کرشن ناٹک گرہ’ کے سنیماگھرمیں تبدیلیاں کی جانے والی تھیں، اور نئے روپ میں اس سنیماگھر کا افتتاح ہماری ‘مایا مچھندر’ کی ریلیز سے ہونے والا تھا۔ ہم سب نے وہاں اپنی فلم دیکھنی شروع کی۔

فلم کے پہلے تین حصے دیکھنے کے بعد میں اٹھ کر باہر چلا آیا۔ باقی سب لوگ بھی میرے پیچھےپیچھے باہر آ گئے۔ میں نے بابوراؤ پینڈھارکر سے کہا، “ابھی اسی وقت اس فلم کو میجِسٹک سنیما میں دیکھنےکا بندوبست کیجیے۔”

بابوراؤ پینڈھارکر نے فوراً وہ بندوبست کر دیا۔

ہم لوگ میجسٹک میں ‘مایا مچھندر’ دیکھنے لگے۔ مجھے فلم اثردار معلوم ہو رہی تھی۔ اس کی کامیابی کے بارے میں یقین ہوتا جا رہا تھا۔ فلم ختم ہوئی۔ ہم سب لوگ باہر آ گئے۔ سب کی نظریں مجھ پر لگی تھیں۔ ان کی نظروں میں امید تھی، توقع تھی۔ میں نے سب سے سوال کیا، “آپ لوگوں نے یہ فلم پہلےکرشن سنیما میں اور اب یہاں میجسٹک سنیما میں دیکھی ہے۔ اب بتائیے، کچھ فرق لگا؟ اسی فلم کو اس تھئیٹر میں دیکھنے کے بعد آپ کو کیسا لگا؟”

سب نے گووندراؤ ٹیمبےکو جواب دینے کے لیے آگے کیا۔ گووند راؤ نے کہا، “یہاں ہم لوگوں کو فلم کے گیت اور مکالمے زیادہ اچھی طرح سنائی دیے۔ لیکن، شانتارام بابو۔۔۔”

ان کی بات کو بیچ میں ہی کاٹتے ہوئے میں نے کہا، “بابوراؤ پینڈھارکر (ڈسٹری بیوٹر)، آپ تو سمجھ ہی گئے ہوں گے کہ اس کا مطلب یہی ہے کہ کرشن سنیما میں ساؤنڈ سسٹم اچھا نہیں ہے۔ وہاں کا ساؤنڈ سسٹم ُسدھارا نہیں جاتا، تب تک آپ ہماری فلم کو وہاں ریلیز نہ کریں۔ اور آپ سب لوگ اچھی طرح سے سُن لیں، میری رائے میں اس فلم میں نئے سین جوڑنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ میں اس میں کچھ بھی جوڑتوڑ کرنے والا نہیں ہوں! اسے جیسی ہے ویسی ہی ریلیز کرنا ہو گا!” پھر بابوراؤ پینڈھارکر کو مخاطب کرتے ہوئے میں نے کہا، “بابوراؤ، آج شام کی گاڑی سے میرے کولہاپور لوٹنے کا بندوبست کروا دیجیے۔”

ہو سکتا ہے، میرے اس طرح کے بول سے میرے ساتھیوں کے دل کو ٹھیس لگی ہو، لیکن اسے سمجھنے کی کوشش میں نے نہیں کی۔

جس دن صبح بمبئی پہنچا تھا، اسی دن شام کی دکن کوئین پکڑ کر میں بمبئی سے کولہاپور کی جانب چل دیا۔ بابوراؤ پینڈھارکر (ڈسٹری بیوٹر) اور پینڈھارکر دونوں مجھے رخصت کرنے کے لیے اسٹیشن پر آئے تھے۔ دونوں میرا منہ تک رہے تھے۔ میں اپنے ہی خیالوں میں کھو گیا تھا۔ گاڑی چل پڑی۔ میں ان کی طرف دیکھ کر سوکھا سا مسکرا دیا۔ وہ بھی عجیب کشمکش میں پڑ کر محض ہنس دیے۔ صبح کے سین کو لے کر میرے من میں وچاروں کا طوفان برپا ہو گیا تھا۔ میری ضد کیا صحیح تھی؟ ٹھیک تھی؟ کیا مجھے سب کی رائے مان نہیں لینی چاہیے تھی؟ میری اس ہٹ دھرمی کے کارن کل کو ‘مایا مچھندر’ نہیں چلی تو؟ کیا میرے ساجھےدار اور یہی سب لوگ میری ہٹ دھرمی کو ہی دوش نہیں دیں گے؟ اس ناکامی کا دوش میرے ہی متھے مڑھا جائےگا۔ کیا واقعی میں یہ ضدی پن یا ہٹ دھرمی تھی؟ اگرچہ نہیں! وہ تو میرے اپنے خیال میں اٹوٹ اعتماد کی علامت تھا۔ دوسروں کی بات پر میں اپنے فیصلوں کو بدلنے لگ جاؤں، تو میں اپنی خوداعتمادی کھو بیٹھوں گا اور ہمیشہ کے لیے ذہنی اپاہج پن کا شکار ہو جاؤں گا۔ خوداعتمادی کے ساتھ راستے پر چلتے چلتے ٹھوکر کھا جاؤں تو بھی ہرج نہیں، لہولہان ہو جاؤں تو بھی پروا نہیں، لیکن دوسروں کی رائےکی بیساکھیاں لے کر میں کبھی نہیں چلوں گا۔ اس کارن ‘مایا مچھندر’ کی ناکامی کا دوش میرے متھے مڑھا جانے والا ہو تو مڑھا جائے، اپنی بلا سے!

Categories
نان فکشن

شانتا راما باب 10: بھیری گونج اٹھی (ترجمہ: فروا شفقت)

’’شانتاراما‘‘ برصغیر کی فلم انڈسٹری کے بانیوں میں شامل وی شانتا رام کی آپ بیتی ہے جو انھوں نے اپنی آخری عمر میں مراٹھی میں بول کر لکھوائی اور چھپوائی تھی۔ بعد میں اس کا ہندی روپ شائع ہوا۔ شانتارام جن کا پورا نام شانتارام راجارام وانکودرے تھا، 18 نومبر 1901 کو پیدا ہوئے اور 30 اکتوبر 1990 کو وفات پائی۔ مہاراشٹر کے شہر کولھاپور میں، جو برٹش راج کے دور میں ایک رجواڑے یا نوابی ریاست کا صدرمقام تھا، انھوں نے خاموش فلمیں بنانے سے آغاز کیا اور بعد میں پونا اور بمبئی میں مراٹھی اور ہندی کی بےشمار فلمیں بنائیں۔ اس طرح شانتارام کی لمبی پیشہ ورانہ زندگی کی دلچسپ داستان اس خطے کی فلمی دنیا کی تاریخ بھی ہے۔ اس تاریخ کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے کرداروں میں مختلف علاقوں، ذاتوں، زبانوں، طبقوں اور پیشوں کے لوگ شامل ہیں جنھوں نے مل کر ایک رنگارنگ منظرنامہ تیار کیا جس کی جھلکیاں اردو میں سعادت حسن منٹو کی ان تحریروں میں ملتی ہیں جن کا پس منظر 1940 کی دہائی کا بمبئی شہر اور وہاں کی فلمی دنیا ہے۔ ’’شانتاراما‘‘ میں اس دنیا کے رفتہ رفتہ بننے اور پھیلنے کی کہانی بڑے بےتکلف اور دلچسپ اسلوب میں بیان کی گئی ہے۔ شانتارام کی معروف ہندی فلموں میں سے چند کے نام یہ ہیں: ’’ڈاکٹر کوٹنِس کی امر کہانی‘‘ (1946)، ’’امر بھوپالی‘‘ (1951)، ’’جھنک جھنک پایل باجے‘‘ (1955)، ’’دو آنکھیں بارہ ہاتھ‘‘ (1957)۔ ’’شانتاراما‘‘ کا اردو روپ ہندی متن کی بنیاد پر فروا شفقت نے تیار کیا ہے جو گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں پی ایچ ڈی سکالر ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اب پیچھے رہنے سے کام چلنے والا نہیں تھا۔ اپنی ہی بات پر بے سود اڑے رہنے سے کوئی فائدہ نہیں تھا۔  فلمی دنیا میں بولتی فلموں کے وجود کو قبول کرنےکے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔ بولتی فلموں کے مقبول ہونے کے دو کارن تھے۔ پہلا تھا ہمارے دیس میں بےانتہا ناخواندگی۔ ان دنوں ممکنہ طورپراسّی نوےفیصد لوگ ان پڑھ تھے۔ خاموش فلموں میں مکالموں کی جو تختیاں دکھائی جاتی تھیں،اَن پڑھ عوام انہیں پڑھ نہیں پاتی تھی۔اس لئے وہ خاموش فلموں کا آدھےسےزیادہ لطف نہیں لےپاتی تھی۔ اس کے برعکس بولتی فلموں کے سبھی مکالمےسیدھاسنائی دینےکی بدولت وہی اَن پڑھ عوام بولتی فلموں کے ساتھ زیادہ ہم آہنگ ہوتی تھی۔ اس کےعلاوہ بولتی فلموں میں دوسرا چارم تھا سنگیت کا۔ سنگیت بھارتی جیون کے ساتھ اس طرح گُھلا ہے کہ گھر گھر میں جنم سے لےکرموت تک ہر موقع پر گائے جانے والے گیت ہر صوبےکی زبان میں ہوتےہیں۔ خوشی کے موقع پر تو گانےاور ناچنے کا انعقاد بھارتی ثقافت کی رِیت رہا ہے۔ لہذاہم نے بھی اپنی فلموں کو ‘آواز’ دینے کا فیصلہ کیا۔

ایک بار فیصلہ کر لینے کے بعد پھر تاخیر کرنا ہمیں پسند نہیں تھا۔ہم نےفوراًاپنے ڈسٹری بیوٹرزسے کہا اورامریکہ سےطرح طرح کی ساؤنڈ مشینوں کی معلومات منگوالیں۔ بھارت میں جو پہلی بولتی فلم ‘عالم آرا’ بنائی گئی تھی، اس میں اوردیگر بولتی فلموں میں بھی، منظر فلمانےکے کیمرے میں ہی فلم کے ایک کنارے پر ساؤنڈ ریکارڈربھی ہوتا تھا۔ لہذا بولنے والوں کے ہونٹوں کی حرکات کے ساتھ ہی ان کی آواز بھی بے عیب میل کھاتی تھی۔اس میں کوئی غلطی نہیں ہو پاتی تھی۔ لیکن اس میں ایک خرابی یہ تھی کہ ایڈیٹرکو پوری آزادی نہیں مل پاتی تھی۔ ہم نے سوچا کہ اچھا ہواگر ساؤنڈریکارڈ کا انتظام کیمرے میں ہی نہ ہو،الگ ہو۔ شوٹنگ اورساؤنڈ ریکارڈ الگ الگ فلموں پر کیا جائے تاکہ ڈائریکشن اورایڈیٹنگ میں کافی آزادی مل سکے۔ اسی لئے ہم لوگوں نے طے کیا کہ ساؤنڈ ریکارڈنگ کی آزاد سہولت والی’آڈیو کمیکس’ نامی مشین منگوائی جائے۔ اس نظام میں سہولت یہ تھی کہ ساؤنڈ ریکارڈر اورکیمرہ ایک ہی ساتھ، ایک ہی رفتار میں چلائے جا سکتے تھے اور اس طرح دوگنی رفتار یعنی اِنٹرلاک موٹرزہمیں دستیاب ہوتے تھے۔

داملے ممبئی گئے۔ وہاں انہوں نے آڈیو کیمیکس ساؤنڈ ریکارڈر کے بارےمیں باریکی سےپوچھا اور ہمارے ڈسٹری بیوٹر بابوراؤ پینڈھارکرسے ساری مشینری امریکہ سے منگوانے کے لیے کہا۔ وہ مشینری جہاز کے ذریعے بھارت میں آنے میں چار مہینے لگنے والےتھے، خوش قسمتی سے اسی وقت کولہاپورمیں بجلی آ گئی، شہرکی مخصوص امیر بستیوں میں اورہائی وے پر بجلی کے دیپ روشن ہوگئےتھے۔ ہمارانیا کیمرہ اور ساؤنڈ ریکارڈر چلانے کے لیے ضروری بجلی بالکل صحیح وقت پر دستیاب ہو گئی تھی۔

اب تو کمپنی کا کام کافی بڑھ گیا تھا۔ پرانا ٹھکانہ اب ناکافی ہونے لگاتھا۔ وہ مقام بھی کولہاپور کی بیچ کی بستی میں تھا۔ وہاں ہمیشہ شوروغل ہوتا ہی رہتاتھا۔ اب ہمیں بولتی فلموں کو فلمانا تھا۔ یعنی کرداروں کے مکالمےاورگانے بھی ریکارڈ کرنے تھے۔ لہذافلمانے کے لئے شانت احاطے کی ضرورت تھی۔

مہاراشٹر فلم کمپنی کی پہلی ساجھےدارشریمنت تانی بائی کاگلکرکےگاؤں کےباہر کافی بڑے احاطے والا ایک بنگلہ تھا۔  ہمیں وہ ہرنقطہ نظر سے بہت ہی با سہولت لگا۔ اس بیچ تانی بائی نے مہاراشٹر فلم کمپنی سے اپنی ساجھےداری ہٹا لی تھی۔ پھر وہ ہمارے کیشوراؤ دھایبرکی نزدیکی رشتےدار بھی تھیں۔ نتیجتا ًوہ جگہ ہمیں مناسب کرائے پر مل گئی۔

فوراً ہی نئی جگہ پر ہم نے اپنا نیا سٹوڈیو بنانے کا کام پرشروع کر دیا۔ اس بار ہم نے سٹوڈیو پر کپڑے کی چھت نہیں ڈالی، اُس کے بجائے دھندلے شیشوں کا استعمال کیا۔ سین کھڑے کرنے والے بڑھئیوں کے لئے ایک بڑی سی جگہ پرچھت لگوا دی۔ مرکزی بنگلے میں میک اپ روم اور کاسٹیوم کےلئے الگ کمرے طے کر دیئے۔ کیمیکل روم، ایک اچھا بڑا سا کارخانہ، بابوراؤ پینڈھارکر کے لئے ایک مینجمنٹ روم، اداکاری اور سنگیت کی مشق کرنے کے لئےدودیوان خانوں وغیرہ کا بھی پربندوبست کردیا۔ اس کے علاوہ میوزک ڈائریکشن کے لئے ایک الگ کمرہ دیا۔ اس طرح سے وہ نیا بنگلہ ہم نے اپنی کمپنی کے متنوع کاموں کے لئے آراستہ کیا۔

ہماری پہلی بولتی فلم کے لیے موضوع زیر بحث آیا۔ بچپن میں، میں نے حق پرست راجا ہریش چندر کے جیون پر مبنی’ستوپریکشا’ نامی ایک ناٹک دیکھا تھا۔اس کہانی نے مجھے بہت ہی متاثرکیا تھا۔ معصوم من پراس کی انمٹ چھاپ پڑی تھی۔ بعدمیں خاموش فلموں کے نقش اول داداصاحب فالکے کی بنائی’راجا ہریش چندر’فلم بھی میں نے دیکھی تھی۔ اس وقت تو وہ مجھے بہت ہی ڈھیلی لگی تھی۔ اب میں سوچنے لگا کہ ایک ہی کہانی پر لکھے گئے ناٹک اور بنائی گئ خاموش فلم کا متضاداثر میرے من پر کیوں پڑا تھا؟ میں اسی نتیجہ پرپہنچاکہ ناٹک میں مکالمےتھے، اسی لئے اس کا اثر پڑتا تھا۔ خاموش فلم میں لکھے ہوئے مکالمے ناظرین کو پڑھنے پڑتے تھے، جن کا کوئی اثر ذہن پر نہیں پڑتا تھا، پڑنا ممکن بھی نہیں تھا۔ لہذاراجا ہریش چندر کی حق پرستی کو بولتی فلم کے ذریعے موثرروپ میں پیش کیا جا سکتا ہے۔ اس نتیجہ پر پہنچتے ہی میں نے اسی کہانی کا انتخاب ہماری پہلی بولتی فلم کے لئے کیا۔ ایسے حق پرست راجا ہریش چندر کا آدرش لوگوں کے سامنے پیش کرنے سے سماجی فلموں کے آغاز کے ہمارے مقصد کواور بھی تقویت ملنےوالی تھی۔

ہم نے طے کیا کہ ہماری یہ پہلی بولتی فلم مراٹھی اور ہندی دونوں ورژن میں بنائی جائے۔ کہانی کے انتخاب کے بعد پھر ایک بارکرداروں کے انتخاب کا سوال کھڑاہوا۔ آج تک خاموش فلموں میں کامیاب رہے ہمارے کلاکاربولتی فلموں کے لئے بیکار ہوگئے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ لِلابائی چندر گڑی اور بابوراؤپینڈھارکرکےعلاوہ باقی سارے کلاکاران پڑھ ہی تھے۔ ان کے لئے رواں مکالمہ بولنا ناممکن ہی تھا۔ پھر بولتی فلموں کے اہم کرداروں کے لئے ایسے کلاکاروں کا انتخاب کرنا ضروری تھا،جو گائیکی میں بھی قابل ہوں۔

ہم اسی سوچ میں پڑے تھے کہ ایک دن مائی نے مجھے بلا بھیجا۔ اس طرح خاص بلاوا بھیجنے کی وجہ میری سمجھ میں نہیں آئی۔مجھے دیکھتے ہی مائی نے ساڑی کا پلو آنکھوں سے لگا لیا اور لگاتار بولتی ہی گئیں، بولتی ہی گئیں۔ اس کے تیسرے بیٹے وِنائک نے کالج کی تعلیم ادھوری چھوڑ دی تھی،اورکسی اعلی آدرش سے متاثر ہوکر کولھاپورکےودیاپیٹھ ہائی سکول میں بغیرتنخواہ پڑھانے کا کام شروع کیا تھا۔ مائی کا کہنا تھا، “ارے، ہم کوئی زمیندارجاگیردارتھوڑے ہی ہیں، جو یہ دیوانہ خیراتی کام کر رہا ہے؟ گھر میں تو کئی بار دو وقت کھانے کے لالے پڑ جاتے ہیں، اور اس کے یہ ڈھنگ! شانتارام، تم ذرا اسے بلا کر اچھی طرح ڈانٹواور پوچھواس سے کہ یہ کیا تماشا لگا رکھا ہے۔ اور ہاں، تم اسے اپنی فلم کمپنی میں کوئی کام دے دو۔” وِنائک پر مجھے بھی غصہ آیا۔ میں نے
بابوراؤسےپوچھا، “تم کیوں نہیں اسے آڑےہاتھوں لیتے؟”بابوراؤ نے کہا، “وہ میری کچھ نہیں سنےگا۔ وہ تو، مجھے بھی آدرشوں کی اونچی اونچی باتیں سناتا رہتا ہے۔”

وِنائک کی آمد سے نہ صرف پربھات کو، بلکہ پوری فلمی دنیا کو ایک ملٹی ٹیلنٹڈ اور قابل فن کار مل گیا۔

میں نے وِنائک کو بلا بھیجا۔ اسےکافی پھٹکارااورکھری کھری سنا دیں۔ ونائک شروع سے ہی بہت جذباتی فطرت کاآدمی تھا۔ صحیح وقت کا بیان میں نے کافی بے رحمی کے ساتھ اس کے سامنے کیا۔ میری پھٹکار بھی ممتا سے بھری ہے، مائی سے مجھے بےحد پیاراور عزت ہے، یہ باتیں اس کے دھیان میں آ گئیں اور وہ جذبات سے مغلوب ہوکر رونے لگا۔ آخر اس نے ودیاپیٹھ میں قبول کیا ہوا کام کسی اور کےذمے کر دیا اور وہ پربھات فلم کمپنی میں کام کے لئے آ گیا۔

وِنائک کی آمد سے نہ صرف پربھات کو، بلکہ پوری فلمی دنیا کو ایک ملٹی ٹیلنٹڈ اور قابل فن کار مل گیا۔ وہ گاتا بھی اچھا تھا۔ شروع میں تو وہ بطوراداکار کمپنی میں آیا۔ لیکن گائیکی میں اس کی قابلیت کی وجہ سے گائیک اداکارکےروپ میں اس نےاپنی پہلی ہی بولتی فلم میں اچھی خاصی کمائی کی۔ ‘ایودھیا کا راجا’ فلم میں وہ لڑکی بنا تھا۔ اس میں اس کا گایا گیا گانا ‘آدپرش نارائن’ گیت بہت ہی مقبول ہو گیا۔ میں نے اسے بطورمعاون ہدایت کار کام پر لے لیا۔ میں جو بھی کام بتاتا، اسے وہ پوری اطاعت سے نبھاتا۔ میری ڈائریکشن کی شوٹنگ سے اچھی طرح واقف ہونے کےبعد کئی بار ڈائریکشن کےمعاملات میں وہ کچھ سجھاؤ بھی میرے سامنےرکھنے لگا۔ میں نےپایا کہ اس کے مخصوص سجھاؤ بہت ہی عملی اورمکمل ہوتے تھے۔

گووندراو ٹیمبے

بولتی فلموں کے کارن اب فلمی دنیا میں میوزک ڈائریکشن کی ایک نئی پوسٹ تیار ہو گئی تھی۔اسے نبھانےوالےکسی اہل شخص کی ہمیں تلاش تھی۔ مشہور ہارمونیم پلیئر اور موسیقارگووندراؤٹیمبے گندھرو ناٹک منڈلی سے کافی پہلے ہی الگ ہوگئےتھے انہوں نے اپنی ایک شِوراج سنگیت ناٹک منڈلی چلائی تھی، لیکن وہ بھی اب بند ہو گئی تھی۔ لہذاکولہاپورمیں ٹیمبے جی صرف آرام کرتے تھے۔ وہ باذوق آدمی تھے، شاعر تھےاورگیتوں کو بڑی ہی مدھردُھنیں دینےمیں ماہر بھی۔ لیکن دِقت یہ تھی کہ انہیں پربھات فلم کمپنی میں مدعو کریں تو کیسے، اور کون مدعوکرے؟ بات یہ تھی کہ انہیں گووندراؤٹیمبےکی گندھرو ناٹک کمپنی میں میں کبھی نوکر تھا، اور وہ میرےمالک۔ آج پربھات فلم کمپنی میں وہ میوزک ڈائریکٹر بن کرآتے بھی ہیں، تو وہ میرے نوکر ہو جاتے۔ کیا وہ اسے قبول کریں گے ؟ دِقت یہی تھی۔ آخر کافی سوچ وچار کے بعد انہیں مدعو کرنے کا کٹھن کام ہم نے بابوراؤ پینڈھارکر پر چھوڑدیا۔ انہوں نے اس نازک گتھی کو بخوبی سلجھالیا۔ گووندراؤنےمیوزک ڈائریکشن کی ذمہ داری بخوشی قبول کی۔ وہ کمپنی میں حسب معمول آنے لگے۔ہم لوگ بھی انہیں وہی عزت واحترام دیتے تھے،جو ناٹک کمپنی کے مالک ہونے وقت انہیں ملتا تھا۔

گووند راؤ جی ٹیمبے کے واقف شری بھولے نامی ایک گائیک اداکار کو ہم نے پونا سے ہریش چندر کا کام کرنے کے لئے بلا لیا۔ اس وقت لِلابائی کی صحت ٹھیک نہ ہونے کی وجہ سے تارامتی کے کام کے لئے کسی اور کو لینا ضروری ہو گیا تھا۔ تبھی اخباروں میں دُرگا کھوٹے نامی ایک نوجوان لڑکی کے نام کی چرچا میں نے پڑھی تھی۔ بمبئی میں”ٹریپڈ’ نامی فلم میں اس نے کام کیا تھا۔ یہ بولتی فلم فیل ہو گئی تھی،لیکن درگا کھوٹے کے کام کی سبھی اخباروں نے بڑی تعریف کی تھی۔ مجھے اس کا خیال آیا۔

درگا کھوٹے کے والد سالسیٹرلاڈ سے گووندراؤ کا اچھا تعارف تھا۔ ان کے ساتھ میں بمبئی میں لاڈ صاحب کے گھر گیا۔ مجھے باہر کے کمرےمیں بیٹھاکرگووند راؤ درگابائی سے باتیں کرنے کے لئےاندر چلے گئے۔ درگا بائی نے ہماری کمپنی کی فلم میں کام کرنا قبول کر لیا۔تب گووندر راؤ نے مجھے اندر بلا لیا۔ میں نے انہیں کیمرے کی نظر سے غور سے دیکھ لیا، ان کا ڈیل ڈول اور شکل و صورت رانی تارامتی کے کام کے لئے ایک دم موزوں معلوم ہوئی۔ لین دین کا معاملہ اور شرائط ہم نے اسی بیٹھک میں طے کر لیں۔ رانی تارامتی کے کام کے لئے تین مہینوں کے لئے ہم نے انہیں ڈھائی ہزار روپے دینا قبول کیا۔

ہم دونوں درگابائی کے گھر سے باہر آ گئے۔گووند راؤ کہنے لگے، “درگابائی پوچھ رہی تھی اس بولتی فلم کی ڈائریکشن کون کرنے والا ہے؟” تب میں نے بتا دیا، “وہ جوباہر بیٹھے ہیں نہ، وہ کریں گے۔” اس پر انہوں نے کہا، “کون؟ وہ؟ باہر بیٹھا چھوکرا؟”

اور گووند راؤ قہقہہ لگا کر ہنسنے لگے۔

ان کی یہ باتیں سن کر میں نے کہا، “اب آئندہ بولتی فلم کے لئے کسی بھی اداکارا کے یہاں جانا ہو، تو میں کمپنی سے گھنی مونچھیں اورداڑھی لگوا کرہی آؤں گا،تاکہ آپ کی طرح رعب دار دکھائی دوں۔”

ان دنوں مہاراشٹر میں ہر جگہ مہاراشٹر ‘کٹمب مالا’ نامی کتھا مالا کافی مشہور ہو چکی تھی۔ اس مشہور کتھامالا کے ایڈیٹر تھے، ن۔ وی۔ کلکرنی۔ میں نےانہیں ہماری بولتی فلم کی کہانی لکھنےکی دعوت دی۔ گیت نگاری گووندراؤنےہی کی۔

نئے سٹوڈیو کا قیام، نئے ساؤنڈسسٹم کی خرید، بولتی فلم کے لئے ضروری دیگر سازو سامان کی انسٹالیشن وغیرہ میں بولتی فلموں کے لیے ہمارا خرچ، ہماری پونجی ختم ہوتی جا رہی تھی۔ لہذا مزید ہمت نہ دکھاتے ہوئے ہم نے بمبئی میں اس سے پہلے سے ریلیز اور مشہور ہو چکے بولتی فلموں کی طرح راجا ہریش چندر کی کہانی بھی اسی ناٹک نما اسلوب میں لکھ کر تیار کی۔ ہندی ورژن کے مکالمے لکھنے کے لئے ایک اردو ناٹک کار کوبمبئی سے بلا لیا۔ ان صاحب نے دیگرتمام کمپنیوں کی طرح ہندی سکرپٹ میں شعروشاعری کی بھرمار کر دی۔ مکمل ریہرسل کےوقت انہوں نےہمارے کلاکاروں کواردو شعرو شاعری پیش کرنے کا طریقہ ٹھیک اسی ڈھنگ سے سکھایا، جیساکہ سٹیج پر خاص جوشیلی ادا میں کن الفاظ پر،زور دیا جاتاہے۔ بیچارے ہریش چندر،تارامتی، اور برہم رشی وشوامتر کو بھی ہم نے اردو میں اپنے مکالمے بولنے کے لئے مجبور کیا۔

‘گوپال کرشن’ کے بعد کے زمانے میں دھارا کے الٹ تیرنے والے ماہر تیراک کی مانند میں تیزی سے ہاتھ مارتے آگے ہی آگے بڑھتا جا رہا تھا۔ لیکن اس بار پھر ایک بار کمپنی کے وجود کا سوال منہ کھولے سامنے کھڑا ہو گیا تھا۔ لہذا منجدھارمیں مالی بدحالی کے بھنور کو ٹال کر آگے نکل جانے میں ہی عقل مندی تھی۔ اس لئے کچھ دیرتک پر دھارا کے ساتھ بہتے جانا ہی ضابطہ تھا، ضروری بھی تھا۔ میرے تخلیقی من کو اس کا خاص قلق ہوتا تھا۔

بولتی فلم کے خاص منظروں کی مکمل ریہرسل شروع ہو گئیں۔ درگابائی بہت ہی کھلے من کی اچھی پڑھی لکھی اورکھاتے پیتے گھرانے کی تھیں۔ پھر بھی کمپنی کے ہر چھوٹے بڑے کارکن کے ساتھ وہ ملنساری سے پیش آتیں۔ کام سیکھنے میں ذرا بھی نہ ہچکچاتیں۔ مکمل ریہرسل کے وقت اپنے کام کی ساری خوبیوں کو خاص ڈھنگ سے سیکھتیں اور کوئی انہیں ان کی غلطی سمجھا دیتا تواس غلطی کو سدھارنے کی دلی کوشش کرتیں۔گانا وانا انہیں خاص نہیں آتا تھا پھر بھی گانے کا ریاض اتنا من لگا کر کرتی تھیں کہ اس فلم میں ان کی گائی لوری ’بالاکا جھوپ ییئی نہ’، (منے، کاہے نہ آوے نندیا) فلم کی نمایاں خوبی بن گئی تھی۔

اس کے برعکس ہریش چندر کا کام کرنے والے گائیک اداکار گولے ریہرسل کےوقت ایک دم ہمت ہار جاتے تھے۔ میں انہیں کافی دلاسہ دیتا، لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوتا تھا۔ آخر انہوں نے وِنائک کے ذریعے مجھے کہلوا بھیجا، “مجھے نہیں لگتا،فلم میں کام کرنا میرے بس کا روگ ہے۔” میں نے انہیں سمجھانے بجھانے کی کافی کوشش کی، لیکن وہ ایک دم بد دل ہو گئے اور واپس پونا چلے ہی گئے۔اب پھر سے ایک نئی دقت آ پڑی۔ ہریش چندر کا کام کون کرے؟ فوراً خیال آیاکہ گووند راؤخود تو سٹیج کے مشہور اداکار تھے اور منجھے ہوئے گائیک بھی۔وہ فلم میں کام کرنا قبول کرتے ہیں، تو کیا ہی کہنا، سونے پرسہاگہ ہو جائےگا۔ گووند راؤ کو بابوراؤنے راضی کر لیا۔ پھر نئے سرے سے ریہرسل ہونے لگی۔

گووند راؤ کی تعریف میں کہنا ہوگا کہ اگرچہ وہ عمرمیں مجھ سے کافی بڑے تھے اورمیں عمرمیں ان سے بہت چھوٹا تھا، بطورایک ڈائریکٹرمیرے دئیے گئے سبھی احکامات کو وہ کھلے من سے قبول کرتےاوران کےمطابق ہی برابر کام کرتے تھے۔گووند راؤ کی یہ کھلی شخصیت ان ریہرسلزکےوقت اور بھی،زیادہ اجاگرہو گئی تھی۔ ہم دونوں کے بیچ ہنسی مذاق بھی ہونے لگا تھا۔ایک شام ہم لوگ اپنے اپنے گھر جا رہے تھے، انہوں نے سہج انداز سے مجھ سے پوچھا،

“شانتارام بابو، سگریٹ پیو گے؟”
“نہیں۔”
ہاتھوں کی انگلیوں سے اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے دوسرا سوال کیا، “اچھا، تھوڑی شراب تو چلتی ہے نا؟”
“نہیں! نہیں!بالکل نہیں!”

“اور سنا ہے عورت کے بارے میں آپ ایک دم سادھو ہیں؟ کیسے انسان ہیں آپ! یہ ناک کی سیدھ میں جانے والا جیون بھی کوئی جیون ہے؟ یہ تو ایک دم بجلی کے سیدھے کھمبےکا سا جیون ہوا! ورنہ مجھے دیکھو، میرا جیون ہے بے رحم فطرت کےکسی درخت کی طرح۔ ادھر سے پتے پھوٹ رہے ہیں، ادھر سے ٹہنیاں بڑھ رہی ہیں، سیدھی ہوں، ٹیڑھی ہوں، لیکن ہیں سبھی ایک دم سہج اور فطرت کے اصول کے مطابق!”

گووند راؤ کےان سہج اورفطری رنگ ڈھنگ سےاچھی طرح واقف ہونے کی وجہ میں اپنی ہنسی دبا نہیں سکا۔ سب سےمزے کی بات یہ کہ گووندراؤبھی جی کھول کر میرےساتھ ہنسنے لگے۔

آڈیو کمیکس کمپنی کا ساؤنڈریکارڈر،اس کے ساؤنڈ سسٹم کا سارا سازوسامان، ساؤنڈ اور سین شوٹنگ کی فلم پٹیوں کی ایڈیٹنگ کی سہولت فراہم کرنے والی ‘مووی اولا’ مشین وغیرہ سبھی مشینری لےکر داملے جی کولھاپورپہنچے۔ ہماری یہ ساری مشینری منگوائے جانے کی خبر ملتے ہی، اردیشِرایرانی نے ایک دندناتابیان دیا کہ اس دوہرے نظام کے ذریعے کی گئی شوٹنگ میں ہونٹوں کی جنبش اورآوازکامیل ناممکن ہے۔ سچ کہوں تو ایسے کھرے پن کی وجہ سے ہم لوگ بھی سٹپٹاہی گئےتھے۔

شوٹنگ کیمرے کے ساتھ ساتھ ساؤنڈ ریکارڈرکا ٹیسٹ کرنے کے لیے ہم نے پانچ چھ شاٹس ڈرتےڈرتےلےلیے۔ ان پر ہمارےکیمیکل روم میں کیمیائی عمل کیااوربعد میں انہیں مووی اولا پر چڑھا کرپردے پر دیکھنا شروع کیا۔ اردیشِرایرانی کی طرف سے ظاہر کیا گیا خدشہ ایک دم بے بنیاد ثابت ہوا۔ تصویراورآوازدوالگ الگ پٹیوں پرنقش کئےتھےاور اس کے باوجود کرداروں کےہونٹوں کی جنبش اوران کی آوازمیں پوراتال میل تھا۔ کہیں پرتھوڑا بھی جھول نہیں آیا تھا۔ اس سے ہمارا جوش کافی بڑھ گیا۔

لیکن ادھر معاشی کٹھنائیوں نے ہمیں گھیرلیا تھا۔ خرچہ پوراہوتاہی نہیں تھا۔ مشینری کے آلات خریدنے کے لیے قرض لیا تھا، کاریگروں اورکلاکاروں کی تنخواہ رُکی پڑی تھی، اس پر فلم میکنگ کا روزانہ خرچ۔۔۔ مختلف مصیبتیں تھیں۔ کم سےکم شوٹنگ کی نگیٹو پر ہونےوالاخرچ کم کرنے کے لیے ہم اس کا ایک انچ بھی ضائع نہ ہونے دیتے۔ اس کے لیے شوٹنگ سے پہلے میں سبھی کلاکاروں اورتکنیک کاروں سے کڑی مکمل ریہرسل کروا لیتا تھا۔ جہاں تک ہو سکے دوبارہ شاٹ لینا نہ پڑے،اس کا یہی مقصد رہتا تھا۔ اس سے فلم کا خرچ کم سے کم رکھنے میں مدد ملتی تھی۔ سمے کی بچت کے لیے ہم لوگ ہر شاٹ پہلے مراٹھی میں اور اس کے فورابعد ہندی نہیں، اردو میں لے لیا کرتے تھ۔

اس زمانے میں گانے کی ساؤنڈ ریکارڈنگ اور سین کی شوٹنگ ایک ساتھ کرنا پڑتی تھی۔ فلم میں کام کرنے والے کلاکارخود گاتےاوراداکاری بھی کیا کرتے-اہم موسیقار کرداروں کا گروہ سٹوڈیو میں ہی کیمرے کی نظر سے ہٹ کر کسی اوٹ میں کھڑا ہوتا تھا اوروہیں سے گانے والے کی سنگت کرتا تھا۔ گیت شروع ہونے اور اس کے ختم ہونے تک شوٹنگ اورساؤنڈ ریکارڈنگ دونوں کیمرے چلتے رہتے تھے۔ صرف شوٹنگ کیمرے کو ٹرالی پر رکھ کر درمیانے شاٹ، کبھی فل لینتھ، تو کبھی کلوزاپ کی ضرورت کے لیےآگے پیچھے کیا جاتا تھا۔ ہلچل بس یہی ہوتی تھی۔چار ساڑھے چار منٹ کے چلنے والے اس شروع کے شاٹ میں،کیمرہ والا، گانےوالا یا کردار تھوڑی بھی غلطی کرتا، تو پھر شروع سے آخر تک وہی سلسلہ چلانا پڑتا تھا۔

ایک دن گووندراؤ ٹیمبے کا ہریش چندر کا گیت فلمانا تھا۔ گووندراؤ اعلی پائے کے گائیک تھے۔ انہیں اسٹیج پر وقت کی قید نہ مانتے ہوئے جتنی دیر چاہا گانے کی عادت تھی۔ لیکن یہاں فلمی دنیا میں وقت کی قید بہت معانی رکھتی تھی۔ میں نے گووندراؤ کو گانا وقت پر ختم کرنے کے بارے میں اچھی طرح سے سمجھایا تھا، کہا تھا، “میں کیمرے کے پاس کھڑا رہوں گا۔ ہر ایک منٹ کے بعد میں آپ کو ایک، دو، اس طرح انگلیاں دکھا کر اشارہ کرتا رہوں گا۔ میری چار انگلیاں دکھائی جاتے ہی آپ اپنا گانا مناسب ڈھنگ سے ختم کیجئے۔”

انہوں نے میری باتیں دھیان سے سن لیں۔ اُن کو من ہی من دہرا لیا اور میری ہدایات کو اچھی طرح سے سمجھ لیا۔ اس سے مجھے یقین ہو گیا کہ اب گووندراؤوقت کے بارے میں کوئی جھنجھٹ کھڑا نہیں کریں گے۔

گانے کی ریہرسل ہو گئی۔ کیمرے کی سرگرمی بھی پکی ہو گئی۔ گووندراؤنے اپنی سنہرے فریم والی عینک اتار کر ایک طرف رکھ دی۔ میں نے چِلا کر سب کو ‘خاموش’ رہنے کا حکم دیا۔ سب لوگ اپنی اپنی مقررہ جگہ پر ٹھیک کھڑے ہوگئے۔”سٹارٹ”، میں نے اشارہ کیا۔ شوٹنگ اور ساؤنڈ ریکارڈنگ الگ دونوں کیمرے چالو ہو گئے۔ وِنائک نے سین نمبر اور شاٹ نمبر کہہ کر ‘کلیپ’ماری۔ خاص سنگیت بھی شروع ہو گیا۔ گووندراؤ کا سُر بہت ہی بڑھیا لگا تھا۔ کیمرے کی حرکت میرے خاموش اشاروں کے مطابق ہونے لگی۔ سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا۔ میں نے ایک منٹ ختم ہونے کا اشارہ دیا۔ مجھے لگا کہ گووندراؤ نے اسے دیکھ لیا ہے۔ وہ گانے میں ایک دم کھو گئے تھے۔ گانے کے بھاؤ کے مطابق ان کی اداکاری بھی بہت ٹھیک سے چل رہی تھی۔ دو منٹ ہو گئے۔ میں بہت خوش تھا۔ تیسرا منٹ بیتا۔۔۔چارمنٹ ہو گئے۔ میں نے گانا ختم کرنے کا اشارہ گووندراؤ کو کیا۔ لیکن وہ گانے میں اتنے کھو گئے تھے کہ میرے اشاروں کی طرف ان کا دھیان ہی نہیں تھا۔ اس لئے گاتے گاتے ان کی نظر جس طرف بھی جاتی، اسی سمت میں کتھک نرتک کی طرح اچھل کود کر میں انہیں گیت ختم کرنے کے اشارے کرتا گیا۔ لیکن بھگوان کا نام لو، پانچ منٹ ہوگئے، گووندراؤرکنےکا نام ہی نہیں لےرہے تھے۔میراکتھک ناچ اب تانڈو میں بدل گیا تھا۔ لیکن میں جتنا بھی کودتا پھاندتا، گووندراؤ کا گانا اور رسیلا بنتا جا رہا تھا۔ میری ساری کوششیں بیکار گئیں۔ہار کر سر دونوں ہاتھوں میں تھام کر میں مایوس ہوکر دھم سے نیچے بیٹھ گیا۔ تبھی کیمرا چلانے والے فتے لال زور سے چلائے “فلم ختم ہوگئی۔”گووندراؤ چونک کر رک گئے اور غصے میں آکر بولے، “یہ کیا مذاق بنا رکھا ہے آپ نے؟ اب جاکر کہیں میری آواز فلم کے مطابق سدھ گئی تھی، اور ادھر آپ کی فلم ختم ہو گئی؟کہاں ہے وہ شانتارام بابو؟” میں تو ان کے سامنے ہی کیمرے کے پاس گردن لٹکا کر سرتھامے بیٹھا تھا۔ گم سم، چپ!مجھے دیکھنے کے لیے گووندراؤنے اپنی عینک منگوا لی۔

ایودھیا کا راجہ کا ایک منظر

اسےوہ آنکھوں پر رکھنے جا ہی رہے تھے کہ میں نے فوراً اٹھ کر، جیسے کچھ بھی نہیں ہوا ایسے انداز سے کہا، “واہ گووندراؤ! آج تو آپ کی آواز ایک دم بڑھیا سدھی تھی۔ آپ کا گانا بےمثال رہا!”

یہ سن کر ان کا غصہ شانت ہو گیا، بولے، “تبھی تو! عینک لگی نہ ہونے کے کارن آپ کا چہرہ مجھے صاف نظر نہیں آرہا تھا، لیکن آپ ہاتھ اٹھاتے ضرور تھے، اس سے میں سمجھ گیا کہ آپ میرے گانے کی داد دے رہے ہیں اور اسی لئے میں گاتا چلا گیا۔”

میں نے من ہی من کہا، “کرم پھوٹےمیرے!”

ہماری شوٹنگ انیس دن چلتی رہی۔ شوٹنگ اور ساؤنڈ ریکارڈ دونوں کی فلموں پر کیمیکل روم میں روز کیمیائی عمل کیے جاتے تھے۔ دھایبرجی نے ان کے پرنٹس تیار کئے۔ دوسرے سین کی شوٹنگ کرنے تیاریاں ہونے تک میں نے سوچا، تصویر اور آواز پٹیوں کو ٹھیک سے ساتھ ساتھ جمع کرکے ان کی ایڈیٹنگ کیوں نہ پوری کر لی جائے۔ مووی اؤلا پر میں ایڈیٹنگ کے لیے بیٹھ گیا۔

تصویر اورآوازپٹیوں کےالگ الگ ر ولوں کو مووی اولا پر چڑھایا۔ شوٹنگ سکرپٹ کے مطابق کس شاٹ کو کہاں کاٹنا ہے، طےکرلیااورنشان بھی لگا لیے۔ پہلے ہی شاٹ میں کرداروں کےہونٹوں کی حرکت اورآواز کاتال میل نہیں بیٹھا تھا۔ مجھے لگا کہ شاید ایڈیٹنگ مشین پر رول چڑھانے میں مجھ سے کوئی بھول ہو گئی ہے۔ میں نے رول اتار لیے اورپھرٹھیک سے چڑھا دیے۔ دونوں پٹیوں کا ٹیسٹ پھرشروع کیا۔لیکن دونوں پٹیوں میں قطعی کوئی میل نہیں بیٹھتا تھا۔ ہونٹوں کی شروعات حرکت کے ساتھ آواز کو ملا لینے پر دونوں پٹیوں کی لمبائی میں فرق آ جاتا۔ میرا کلیجہ دھک سے رہ گیا۔ اس کامطلب یہ ہوا کہ اردیشرایرانی جیسے تجربہ کار فلم ڈائریکٹرنے یہ سسٹم غلط ہونے کا جو دعویٰ کیا تھا، وہ صحیح تھا؟ نہیں!

یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ شاید ایک ادھ شاٹ غلط ہو گیا ہوگا۔ من میں پھر تھوڑی امید جاگی۔ اگلا شاٹ ٹھیک سے دیکھا۔ لیکن وہی حال۔ پاگل کی طرح میں ایک کے بعد ایک شاٹ اور ایک کے بعد ایک رول جانچتا گیا۔ لیکن ایک بھی شاٹ میں تصویراورآوازکا میل نہیں بیٹھ پارہا تھا۔ میرے تو دیوتا کوچ کر گئے۔

تبھی داملے وہاں آ پہنچے۔ میں نے انہیں کچھ شاٹس دکھائے۔ انہیں دیکھتے ہی داملے ایسے بیٹھ گئے جیسے ہذیان ہو گیا ہو۔ کچھ دیر بعد پتہ نہیں انہوں نے کیا سوچا، وہ مشینری روم میں گئے۔ کیمرا اور ساؤنڈ ریکارڈرایک ساتھ چالو ہوں اس کے لیے وہاں جو اوربجلی پر چلنے والےدیگرآلات رکھے تھے،ان کا داملے ٹھیک ٹھیک معائنہ کرنے لگے۔

کچھ لمحوں بعد میں بھی اس کمرے میں پہنچ گیا۔ داملے پسینے پسینے ہو گئے تھے۔انہوں نے ساری مشینری کی پھر جانچ پڑتال کی، دیکھا بھالا۔ کسی میں کوئی نقص نظر نہیں آ رہا تھا۔داملے جی نے مجھے بے چینی سے پوچھا، “شانتا راما بابو، ہم نے تجربے کے لیے جو شروع کے شاٹس لیے تھے، ان میں تصویراورآوازکی فلمیں ایک سی لمبائی کی تو تھیں نا؟ ان میں ہونٹوں کی ہلچل کا آواز کے ساتھ برابر تال میل بیٹھا تھا نا؟”

میں نے “ہاں” کہہ تو دیا لیکن میں بھی کچھ سٹپٹاہٹ میں ہی تھا۔

ہم دونوں ایڈیٹنگ روم میں گئے۔ وہاں نئی شاٹس کی فلموں کو ہم نے پھر مووی اولا پر چڑھایا۔ ان فوٹوزمیں تصویر اور آواز کا ایک دم ٹھیک تال میل بیٹھا تھا۔ یہ دیکھ کر داملے نے کہا، “اچھا، اب آپ گھر جائیے۔ ان انٹرلاک موٹرز میں کیا خرابی آ گئی ہے، میں دیکھ لیتا ہوں۔”

میں گھر گیا۔ رات بھر سو نہیں سکا۔ کمرے میں ادھر سے ادھر، ادھر سے ادھر چکر کاٹتا رہا۔ مجھے اس طرح پریشان دیکھ کر وِمل نے پوچھا بھی، بات کیا ہے، لیکن میں نے کچھ ٹال مٹول جواب دے دیا۔ دن بھر کے کام کے مارے تھکی ماندی ہونے کے کارن وہ سو گئی۔ میں کمرے میں ٹہلتا تھا۔ بےچینی بڑھتی جا رہی تھی۔ انیس دن کی محنت، وقت، شوٹنگ، سب کچھ بے کارہوگیاتھا۔ اس کے علاوہ شوٹنگ کی گیارہ ہزار فٹ اور ساؤنڈ ریکارڈر کی بھی اتنی ہی لمبائی کی فلم بیکار گئی تھی۔ یعنی بائیس ہزار فٹ فلم ہم نے برباد کر ڈالی تھی۔ ادھر ایک ایک پیسے کے لیے کمپنی ترس رہی تھی۔ ہم بھی فلم کے ہر فٹ کاپورااستعمال کرنے کی احتیاط برت رہے تھے۔ اور ایسے میں یہ بربادی! کیا آڈیوکمیکس ساؤنڈریکارڈرکاہماراانتخاب غلط تھا؟ اگر تھا،تواب شوٹنگ اورساؤنڈ ریکارڈنگ دونوں ایک ساتھ کر سکنے والا نیا کیمرا کہاں سے لایا جائے؟ اس کےلیے ضروری رقم کہاں سے حاصل کی جائے؟ پھر نیا کیمرا لانا بھی ہو، تو امریکہ سےمنگوانا پڑےگا۔اس کے آنے میں تین چار ماہ لگ جائیں گے۔ یعنی تب تک کیا کمپنی کے لوگوں کو بنا کسی کام کے تنخواہ دی جائے گی؟ ویسے ہی پیسے کے لالے پڑرہے تھے۔ تو کیا کمپنی کو تین چار مہینے بند رکھنا ہوگا؟ میرے من میں وچاروں کا انبار لگا تھا۔ کھڑکی سے باہر کہیں دور دیکھنے کی میں کوشش کر رہا تھا۔ لیکن باہر گھنا اندھیرا چھا گیا تھا۔ میں کب بستر پر آکر لیٹ گیا اور کب آنکھ لگی، معلوم نہیں۔

سپنے میں ایک پاگل سا نوجوان سر جھکائے آگے پیچھے ڈول رہا تھا۔ اسے ہم نے اپنے بچپن میں کئی بار دیکھا تھا۔ اس کا نام تھا نیل کنٹھ۔۔ بعد میں وہ کولہاپور کی کمہار گلی میں دت سوامی کے مندر میں بیٹھا رہتا تھا۔ کسی نے کھانے کے لیے کچھ دے دیا تو کھا لیتا تھا، ورنہ بھوکا رہ کر دن بھر بس اسی طرح ڈولتا رہتا تھا۔ لوگ اسے ‘نیلو مہاراج’ کہنے لگے تھے۔ اس نیلو مہاراج کی حال ہی میں وفات ہو چکی تھی۔ سپنے میں اسی نیل کنٹھ نے سر اٹھا کر میری اور دیکھا، اور وہ کہنے لگا،”بے کار کی الجھن میں کیوں پڑتے ہو؟ فکر نہ کرو، سب کچھ ایک دم ٹھیک ہونےوالا ہے!”

یہ لفظ سن کر میں جاگ اٹھا۔ سپنے میں بات یاملاقات وغیرہ ہونے پر میرا قطعی یقین نہیں تھا، لیکن ڈوبتے کو تنکے کا سہارا جو ہوتا ہے! مجھے بھی اس سپنے نے ہمت بندھائی۔نہانے دھونے سے نبٹ کر میں فوراً مشینری روم میں پہنچا۔ داملےجی بہاں رات بھر مشین میں آئی خرابی کھوجتے رہے۔ کوشش تو وہ پوری کر رہے تھے، لیکن غلطی پکڑ میں نہیں آ رہی تھی۔سٹوڈیو میں ہریش چندر کے محل کا منظر کھڑا کیا جا رہا تھا۔ میں نے اس کام کو پہلے بند کروایا۔ اتنے دنوں سے جاری شوٹنگ سب کا سب بیکار ہو جانے کی بات کانوں کان ہر جگہ پھیل گئی تھی۔ ساری کمپنی پرڈپریشن بری طرح چھا گیا تھا۔ میں بھی ایک کمرے میں گہری فکر میں کھو گیا۔

کچھ دیر بعدایک چھوکرا بھاگتے بھاگتے مجھے کھوجتا ہوا آیا۔ اس کے چہرے پر خوشیاں ناچ رہی تھیں۔ اس نے کہا، “داملے ماما نے کہلا بھیجا ہے کہ آلے میں جو خامی تھی، اس کا پتہ چل گیا ہے۔ دونوں موٹریں اب ٹھیک چل رہی ہیں۔”

سن کر میں دوڑ کر مشینری روم میں گیا۔ داملے سارا کام ختم کر پسینہ پونچھ رہے تھے۔ میں نے داملے کو کس کر گلے لگا لیا۔ ان کے چہرے پر رات بھر کام کرنے کے کارن تھکان صاف دکھائی تو دے رہی تھی،لیکن سکون اس سے بھی زیادہ جھلک رہا تھا۔ انہوں نے مجھ سے کہا، “خاص کوئی بات نہیں تھی، شانتارام بابو۔ صرف ایک سوئچ ذرا ڈھیلا ہو گیا تھا، اسی کے کارن یہ سارا جھمیلا ہو گیا!”میں نے انہیں آرام کرنے کے لیے گھر بھیج دیا اور میں اسی دن بمبئی گیا۔

بمبئی پہنچتے ہی پہلا کام میں نے یہ کیا کہ آگفا کمپنی میں گیا۔ ریگےجی سے ملا۔ بے جھجک ہوکر انہیں سارا معاملہ بتایا۔ انہوں نے میری پیٹھ سہلاتے ہوئے ہمت بندھائی، “کوئی بات نہیں! فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ آپ کو آپ کی بولتی فلم کوپورا کرنے کے لیے جتنی بھی کچی فلم لگے، ہم آپ کو ادھار دے دیں گے۔” سن کرمیرا حوصلہ کچھ بڑھا۔ پھر میں نے ہمارے ڈسٹری بیوٹربابوراؤ پینڈھارکر کے ساتھ سوچ بچار اورمشورہ کرکےکچھ رقم کابندوبست کرلیا۔

میں کولہاپور واپس آ گیا۔ ہریش چندر کے محل کی شوٹنگ پھرسےشروع کر دی۔ اب پہلے سے بھی زیادہ احتیاط برت کرمیں ہردن شوٹنگ پوری کرنے کے بعد رات بارہ ایک بجے تک بیٹھ کراس دن کی شوٹنگ کی ایڈیٹنگ بھی پورا کر لیتا تھا۔ مقصد یہ ہوتا کہ مان لو پھر کہیں کوئی غلطی ہو بھی گئی ہو، تو فورا اسی دن اسے ٹھیک کر لیا جا سکے۔

سٹوڈیو کے باہر کے کھلے میدان میں کاشی کے غلاموں کے بازار کا منظر تیارکیا۔ بابوراؤ پینڈھارکر کو کاشی کے گنگاناتھ مہاجن کا کردار دیا۔ تہذیب کے نام پر صفائی کے ساتھ بُرے کام کرنے والے وِلن سامنے لانے کا میں نے فیصلہ کیا۔ میری یہ سوچ میں نے بابوراؤ کو بتائی۔ انہیں وہ بہت پسند آئی۔ اس خیال کو انہوں نے ڈھال لیا اور اپنی اداکارانہ مہارت سے اس میں ایسی جان ڈال دی کہ (فلم میں) گنگاناتھ مہاجن یادگاربن گیا۔

غلاموں کے بازار کی شوٹنگ ختم ہوئی۔ پھرمرگھٹ کا منظربنایاجانےلگا۔ ہریش چندر کے مرگھٹ کے مناظر کو فلمایا جانے لگا۔ ہریش چندر کا ڈوم مالک مرگھٹ کا بھی سردار تھا۔ اس ڈوم کے یہاں ایک بار ناچ گانے والوں کا ایک گروہ آتا ہے اور گانا گاتا ہے۔ اس سین کو فلماتے سمے ہی کولہاپورمیں ڈوم مداریوں کی ایک تماشہ پارٹی آئی ہوئی تھی۔ انہیں ہم نے کمپنی میں بلوا لیا اورسیدھا شوٹنگ کے لیے کھڑا کر دیا۔ ان میں ایک لڑکی سے وہیں کچھ لوک گیت سن لیے۔ ان لوک گیتوں میں سے ایک ٹھیٹھ دیہاتی،چٹخداراورپھڑکتی دھن کا لوک گیت چن لیا۔ اس گیت کی دھن پر وہ لوگ ناچنے لگے۔ لیکن فلم کے لیے مخصوص وقت کا اندازہ انہیں نہیں تھا۔ گووندراؤ ٹیمبے کی گائیکی کے بارے میں جو بُرا تجربہ ہوگیا تھا، من میں تازہ تھا۔ اس لئے ان دیہاتی فنکاراؤں کو ٹھیک وقت پر کیسے روکا جائے، ایک الجھن ہی تھی۔

میں نے اپنا ڈائریکٹر کا پہناوا بدل لیا۔ پھٹی دھوتی اور سر پر ایک مٹ میلی دھجی باندھ کر میں بھی ان میں سےایک ڈوم بن گیا۔ میں کیمرے کی طرف پیٹھ کئے کھڑا رہا۔ ہاتھ میں ایک چھوٹی گھڑی چھپا لی۔ ناچتے ناچتے بیچ بیچ میں میری طرف دیکھتے رہنے کی ہدایت انہیں دی۔ یہ بھی کہہ دیا کہ میرے ہاتھوں کا اشارہ سمجھ کر گیت گانا بند کرنا۔ شوٹنگ چالو ہو گئی۔ گانا اچھا تھا۔ رقص بھی چٹخدارتھا۔ کمپنی کے مختلف شعبوں میں کام کرنے والے کلاکار اور کاریگر ‘پربھات’ کا سخت ڈسپلن توڑ کررقص گیت کے تماشے کو دیکھنے کے لیے شوٹنگ کی جگہ پہ جمع ہو گئے تھے۔ اصل مراٹھی کے لوک گیت کے الفاظ تھے بھی بڑے مزیدار، جن کا مطلب تھا۔۔۔

“کودو کٹکی جیو نار کے لیے بوڑھا دولہا کھلواڑ کے لیے۔۔۔”

فلم کی شوٹنگ اور مراٹھی ہندی ورژن کا کام پورا ہوا۔ مراٹھی میں اس بولتی فلم کا نام “ایودھیچا راجہ” اور ہندی میں “ایودھیا کا راجہ” رکھا گیا۔

فلم کو پہلے ٹرائل روپ میں آپس میں ہی دیکھنے کا دن طے ہوا۔ رات ہو گئی۔ فلم کی مکمل کاپی تیار ہو رہی تھی۔ ہم سب لوگ بے حد اتاولے ہو رہے تھے۔ ذہنی تناؤ تو اتنا بڑھ گیا تھا کہ بیچ میں ملے وقت میں بھی ہم لوگ کسی سے بات نہیں کر رہے۔ مکمل فلم کو تیار کرتے کرتے بھور ہو گئی تھی۔ سبھی چپ چاپ بیٹھے فلم تیار کی جانے کا انتظارکر رہے تھے۔

کمپنی کے باہر والے کھلے احاطے میں ہم لوگ اپنی پہلی بولتی فلم دیکھنے کے لیے تیار ہوکر بیٹھ گئے۔ پربھات کے لوگو کا پہلا شاٹ چالو ہو گیا۔ تانپورے کی آواز سنائی دینے لگی۔ اسی جھنکار کی لے پر پربھات دیوی نے اپنی بھیری اٹھائی، وہ اسے اپنے ہونٹوں تک لے گئیں۔ اور بھیری سے نکلی دیسی راگ کی سریلی دھن نے سارے ماحول کو بھر دیا۔

خاموش فلم کے لیے بنایا گیا وہ لوگو ساؤنڈ ریکارڈ یعنی بولتی فلموں کے لیے اتنا مناسب ثابت ہوگا، کسی نے سوچا نہیں تھا۔ بھیری کو سر مل گئے۔ ہماری ‘پربھات’ کی بھیری سامنے لگے پردے پر گونج رہی تھی۔ اس خاموش لوگو سے پرزوراور پہلی سُریلی لہر سے میرا تن من پر جوش ہو گیا۔ اسی لمحے ہمارے منتخب ناظرین کےگروہ نے والہانہ داد دی، “واہ واہ!” ساتھ ہی سارااحاطہ تالیوں کی گڑگڑاہٹ سے گونج اٹھا۔ میں بھی اس میں شامل ہو گیا۔ آنکھیں بھر آئی تھیں۔۔۔۔

بولتی فلم پوری ہو گئی۔ آخرمیں پھر سے ‘پربھات’ کا لوگوپردے پر آیا۔ پربھات کی بھیری پھر ایک بار اپنا سریلا سُر ماحول میں بکھیر رہی تھی۔ میں نے پورب کی طرف دیکھا۔ مشرقی افق بھی اس وقت پربھات کی لالی سے لال لال ہو رہا تھا۔

بولتی فلم واقعی میں بہترین بنی تھی۔ اس کے مکالمے،گیت، سب کچھ بہت اچھا فلم ہو گیا تھا۔ سبھی کلاکاروں اور تکنیک کاروں نے اپنا کام پورے دل سے کیا تھا۔ لیکن۔۔۔۔من میں اتنے دن سے دبی پڑی وہی بے چینی پھر ابھر آئی۔ میری رائے میں ‘ایودھیا کا راجا’ حقیقت میں ایک فلم نہیں تھی۔ وہ ناٹک فلم تھی۔ سین اور اداکاری کے مقابلےوہ مکالموں اورگیتوں سے کھچاکھچ بھراپڑا تھا،لدا لدا سا لگ رہا تھا۔حقیقی معنی میں وہ صرف ‘بولتی فلم’ تھی۔ لیکن اس الجھے خیال کے کارن کہ اس طرح کی بولتی فلم بنائے بنا وہ کامیاب ہو ہی نہ سکےگی، میں نے پربھات فلم کمپنی کی معاشی بنیاد کو مضبوط کرنے کے لیے وہ ناٹک کی طرز کی بولتی فلم پورا کی تھی۔

ہندی ورژن ‘ایودھیا کا راجا’ تو سو فی صدی ڈرامائی تھی۔ مراٹھی ورژن کچھ کم ناٹکی تھا۔ بچوں کی کہانی ہوتی ہے نا، ٹھیک ویسی ہی تھی ان دو ورژن کی کہانی : ایک تھا راجا۔ اس کی دو رانیاں تھیں۔ ایک تھی اس کی چہیتی اور دوسری تھی اَن چاہی : لیکن میرے بارے میں یہ کہانی تھوڑی سی مختلف تھی ہندی ورژن بالکل ہی اَن چاہا تھا، تو مراٹھی ورژن تھا تواَن چاہا ہی، لیکن تھوڑا کم اَن چاہاتھا۔

میں سوچ رہا تھا کہ کیا دیکھنے والے ان دونوں ان چاہی رانیوں کو پسند کریں گے؟کمپنی کی بگڑی گرہستی (گھر)کو کیا یہ رانیاں پھر ٹھیک سے بسائیں گی؟

Categories
نان فکشن

شانتا راما باب 8: شانتا راما ٹچ کا بننا (ترجمہ: فروا شفقت)

’’شانتاراما‘‘ برصغیر کی فلم انڈسٹری کے بانیوں میں شامل وی شانتا رام کی آپ بیتی ہے جو انھوں نے اپنی آخری عمر میں مراٹھی میں بول کر لکھوائی اور چھپوائی تھی۔ بعد میں اس کا ہندی روپ شائع ہوا۔ شانتارام جن کا پورا نام شانتارام راجارام وانکودرے تھا، 18 نومبر 1901 کو پیدا ہوے اور کو پیدا ہوے اور 30 اکتوبر 1990 کو وفات پائی۔ مہاراشٹر کے شہر کولھاپور میں، جو برٹش راج کے دور میں ایک رجواڑے یا نوابی ریاست کا صدرمقام تھا، انھوں نے خاموش فلمیں بنانے سے آغاز کیا اور بعد میں پونا اور بمبئی میں مراٹھی اور ہندی کی بےشمار فلمیں بنائیں۔ اس طرح شانتارام کی لمبی پیشہ ورانہ زندگی کی دلچسپ داستان اس خطےکی فلمی دنیا کی تاریخ بھی ہے۔ اس تاریخ کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے کرداروں میں مختلف علاقوں، ذاتوں، زبانوں، طبقوں اور پیشوں کے لوگ شامل ہیں جنھوں نے مل کر ایک رنگارنگ منظرنامہ تیار کیا جس کی جھلکیاں اردو میں سعادت حسن منٹو کی ان تحریروں میں ملتی ہیں جن کا پس منظر 1940 کی دہائی کا بمبئی شہر اور وہاں کی فلمی دنیا ہے۔ ’’شانتاراما‘‘ میں اس دنیا کے رفتہ رفتہ بننے اور پھیلنے کی کہانی بڑے بےتکلف اور دلچسپ اسلوب میں بیان کی گئی ہے۔ شانتارام کی معروف ہندی فلموں میں سے چند کے نام یہ ہیں: ’’ڈاکٹر کوٹنِس کی امر کہانی‘‘ (1946)، ’’امر بھوپالی‘‘ (1951)، ’’جھنک جھنک پایل باجے‘‘ (1955)، ’’دو آنکھیں بارہ ہاتھ‘‘ (1957)۔ ’’شانتاراما‘‘ کا اردو روپ ہندی متن کی بنیاد پر فروا شفقت نے تیار کیا ہے جو گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں پی ایچ ڈی سکالر ہیں۔

……………..

‘ شانتارام، او شانتارام!’پکار بالکل کھلے من سےآئی تھی۔ میرے قدموں کی رفتار دھیمی ہو گئی۔ پیچھے مڑ کر دیکھا، بابا گزبر آوازدیتے چلے آ رہے تھے، “کیا کمپنی میں جا رہے ہو؟” اور پھر انہوں نے ہماری نئی کمپنی کا حال پوچھا۔ باتوں باتوں میں کہہ گئے، “بابوراو پینٹر تمہارے بارے میں کہہ رہے تھے کہ اور سارے مجھے چھوڑ کر چلے گئے ہوتے، تو بھی مجھے خاص کچھ بھی محسوس نہیں ہوتا،لیکن شانتارام کو میرے ساتھ ہی رہنا چاہئیے تھا ! میرے لئے اس کا بہت فائدہ تھا!’
سن کر میں صرف اداسی سے ہنس پڑا۔

بابا کچھ دیر تو چپ رہے، بعد میں بات بدل کر کہنے لگے، “ارے، شانتارام، مہاراشٹر فلم کمپنی میں ابھی ابھی تو تم اچھی تنخواہ پانے لگے تھے۔۔۔ “ان کی بات کو بیچ ہی میں کاٹ کر میں نے کہا، “بابا، ویسے دیکھا جائے تو آج بھی ہم سب کو اچھی تنخواہ مل ہی رہی ہے! ہم میں سے ہر ایک گھر خرچ کےلئے ساٹھ روپے لیتا ہے۔” “لیکن بھائی میرے، تم نے کمپنی چھوڑ دی تب میرے خیال سے تمہیں پورے ایک سو تیس روپےلے رہے تھے ۔اتنی تنخواہ پانے کے لئے تمہیں کمپنی میں نو سال کھپنا پڑا تھا۔ اب پھر،اتنی تنخواہ پانے کے لئے تمہیں یہاں بھی۔۔۔۔”

“اتنے سال نہیں لگیں گے، مجھے یقین ہے!” میں نے ان کا جملہ پورا کیا اور آگے کہا، ‘الٹے، ایک لمحہ بھی ضائع نہ کرتے ہوئے ہم لوگ جس جوش خروش کے ساتھ کام میں لگے ہیں، اسے دیکھ کر نو سال تو کیا نو مہینے بھی نہیں لگیں گے مجھے ایک سو تیس روپے پانے کے لئے۔ اور چلو مان لیتے ہیں کہ نو سال لگ جاتے ہیں، اور تب تک ہمیں آج جیسی ہی حالت میں گزارا کرنا پڑتا ہے، تو کیا ہوا؟ اپنے پاؤں پر کھڑےہوکر ، آزادی کے ساتھ کچھ نیا کام کرنے کی ہماری کوشش ہے، یہ سکون پیسوں سے زیادہ قیمتی لگتا ہے ہمیں!”

میری ایسی خود اعتمادی بھری باتیں سن کر بابا نے میری پیٹھ تھپتھپائی۔

لیکن اس کے بعد انہوں نے مجھے بہت ہی پس وپیش میں ڈالنے والا سوال کیا، ‘مان لو، بابوراو پینٹر مہاراشٹر فلم کمپنی کو چھوڑ کر تمہارے پاس آ جاتے ہیں، تو کیاانہیں قبول کر لوگے؟ وہ وہاں کے ساجھے داروں کے مارے تنگ آ گئے ہیں۔ انہوں نے ہی یہ پیشکش لےکر مجھے تمہارے پاس بھیجا ہے۔”میں سن کر دنگ رہ گیا، ساکت رہ گیا۔ سوچنے لگا ، بابوراو پینٹر میرے گرو ہیں،بڑے کلاکار ہیں، میرے لئے پوجنے لائق ہیں۔ ان کی اس پیشکش کو رد کرناناممکن ہے۔ رد نا ممکن تو تھا، لیکن قبول کرنا بھی مشکل تھا۔یہ تو انہی کی بےعملی کانتیجہ تھا کہ مہاراشٹر فلم کمپنی اتنی نہیں پنپی، جتنی پنپنی چاہئیے تھی یا پنپ سکتی تھی۔

الجھن سے اپنے آپ کو ابھارنے کے کوشش میں ایک ایک لفظ کھوجتے ہوئے دھیرےدھیرے میں نےکہا، “آپ جاکر سیٹھ سے پوچھئے کہ آج تک مہاراشٹر فلم کمپنی میں ہم لوگ ان کی ہر بات مانتے تھے، لیکن اب اگر وہ ہماری کمپنی میں آتے ہیں، تو کیا ہمارےپروگرام کے مطابق وہ چل سکیں گے؟ اگر ہاں کہتے ہیں تو مجھے آ کر بتائیے، میرے دیگر ساتھیوں سے صلاح کر کے میں آپ کو بتاؤں گا۔”

میرا یہ ٹکا سا جواب سن کر بابا بھی خاموش رہ گئے۔ پھر بھی میں نے دیکھا کہ میری بات انہیں بھی جچ گئی تھی۔ انہیں وہیں چھوڑ کر میں کمپنی کی طرف تیزی سے چلا گیا۔

اتنی ہی تیزی سے من میں وچاروں کا چکر گھومنے لگا تھا۔ مہاراشٹر فلم کمپنی کوچھوڑ کر نکل آنا صحیح تھا یا غلط، یہ خیال اب بےمعانی ہو چکا تھا، پہلےمہاراشٹر فلم کمپنی میں کام کرتے وقت من میں بس صرف ایک ہی خیال آتا تھا کہ جو کام مجھے سونپا گیا ہے، یا کرنے کو ملا ہے، اچھے سے اچھے ڈھنگ سے کس طرح پورا کیا جائے۔ لیکن اب ‘پربھات’ کے قیام کے بعد، اتنی ساری کٹھنائیوں کوپار کرتے وقت میرے من میں آج تک کا سویا عزم جاگ گیا تھا۔ میرے سپنوں کا افق وسیع ہو گیا تھا۔ اب توصرف ایک ہی دھن سوار تھی : ‘پربھات کواچھے ڈھنگ سے کس طرح فعال کیا جائے۔ عمدہ فلموں کا بنانا ہی اس کا ایک جواب تھا!

تیزی سے ڈاگ بھرتا ہوا میں کمپنی میں آ پہنچا۔ دن بھر بالکل شام ہونے تک اپنے آپ کو مختلف کاموں میں لگائے رکھا۔ شام کو ہم چاروں ساجھے دار اپنے چھوٹے سے کارخانے میں اکٹھے ہوئے۔ میں نے انہیں سویرے بابا گزبر سے ہوئی ساری باتیں بتا دیں۔

داملےجی نے زور دےکر کہا، “سیٹھ کی پیشکش کا جوجواب آپ نے دیا، وہ ایک دم مناسب تھا۔ میں نہیں سمجھتا کہ اس کے باوجود اب وہ ہماری کمپنی میں آئیں گے!” بابوراو پینٹر کو وہ مجھ سے زیادہ اچھی طرح جانتے تھے۔

لیکن بیچ ہی میں فتے لال جی نے شبہ ظاہر کیا، “سچ کہتا ہوں، ایک بات ضرور سوچنے لائق ہے کہ کہیں ہماری کمپنی کا بھی وہی حال نہ ہو جو اتنے سال کام کرنے کے بعد بھی مہاراشٹر فلم کمپنی کا ہو گیا ہے۔”میں نے فوراکہا، “ہمارا حال ویسا کبھی نہیں ہوگا، ہرگز نہیں۔ جو غلطیاں سیٹھ کرتے تھے، اگر ان سے بچنے کی کی کوشش ہم نے کی، تو ہم اچھی طرح کامیاب ہو جائیں گے۔”

“لیکن ان کے لوگ ہماری پربھات کمپنی کو دہی چاول کمپنی جو کہتے ہیں،اس کا کیا؟’ دھائبر نے کہا۔”دہی چاول؟” میں نے جوش سے کہا، ٹھیک ہے، ہماری اس طرح کھلی اڑانے والےجلد ہی جان جائیں گے کہ ہماری ‘پربھات فلم کمپنی’ ایک آدرشی فلم ادارہ ہے۔ ہم لوگ ‘پربھات’ کی پرورش کر کے اسے بڑابنائیں گے۔ آج کی اس چھوٹی سی جگہ سے اس کا گھر سنسار کافی بڑے احاطے میں لے جا کر بسائیں گے۔ہالی ووڈ کی یونیورسل کمپنی کاجیسےایک اپنا نگر بنا ہے، اسی طرح ہم لوگ بھی اپنی اس پربھات فلم کمپنی کا ‘پربھات نگر’ بنائیں گے!”

بیچ ہی میں داملے بولے اجی!اجی! شانتارام بابو،اجی جاگئے، مہاراج جاگئے ! میرے سپنوں کی فلم ٹوٹ گئی داملے جی کہے جا رہے تھے، آپ ذرا سپنے کی دنیا سے جاگ کر دھرتی پر قدم رکھئے۔

“پربھات نگر بسانے کا وچار کرنے سے پہلے ہم لوگوں کو اپنے خاندان نگری کا وچار کرنا چاہئیے!”میں نے تین دن کے سلطان کی ادا سے ان سے سوال کیا۔ اچھا، بتائیے ہم میں سے ہر ایک کے پاس کتنا روپیہ ہونا چاہئیے، تاکہ کسی کوخاندان نگری کی فکرہی نہ رہے؟ بتائیے! ”

ہرایک کے پاس ایک ایک لاکھ روپے ہو جائیں، تو ہم لوگ ایک دم بے فکر ہوجائیں گے۔ اس کا انتظام کیجیے، بعد میں آرام سے اپنے سپنوں کی دنیا دھرتی پربسانے میں لگ جائیے، ہم میں سے کوئی رکاوٹ نہیں ڈالے گا!”

ادھر اصل میں تو تھوڑا ہی کام ہوا تھا۔ سٹوڈیو کے لئے لوہے کے شہتیر کھڑےکئے جا چکے تھے۔ کیمیکل روم بن گیا تھا، میں اپ کے لئے کمرے تیار کر لئے گئےتھے۔ حساب کتاب لکھنے کے لئے ایک چھوٹے سے کمرے کا انتظام کر دیا گیا تھا۔ ہمارےپیچھے پیچھے ہمارے باپو کو بھی مہاراشٹر فلم کمپنی سے ہٹنا پڑا۔ انہیں کو ہم نےاپنی کمپنی کا لیکھا جوکھا اور پیسے کا سارا کام سنبھالنے کا کام سونپا۔

پہلی فلم کے لئے کہانی کے انتخاب کا وچار شروع ہو گیا۔ ہم لوگ چاہتے تھےکہ ہماری پہلی فلم اونچی قسم کی اور مقبول ہو، اس لئے ہم نے عام آدمی کے پسندیدہ شری کرشن کے بچپن کے مدھر منظروں پرمبنی کہانی طے کی،اندردیو کے غصے کے کارن اپیدا ہوئے طوفان میں شری کرشن گووردھن پروتن اٹھاکربرج واسیوں کی حفاظت کرتا ہے، یہ تھا ہماری فلم کا نقطہ عروج۔

فلم کاموڈ پر کیا اثر پڑے گا، میں نے پہلے سے ہی سوچ لیا تھا۔اس لئے میں چاہتا تھا کہ ‘گوپال کرشن جیسا موضوع صرف شاستروں پرانوں کے دائرے میں ہی سمٹا نہ رہے، بلکہ آج کے زمانے کے مطابق سماج اور دیس کے لئے کچھ پیغام دینے والا ہو۔ دیس میں سیاسی تحریک زور پکڑتی جا رہی تھی ۔ ہماری کولہاپر ریاست میں بھی خبریں آنے لگی تھیں کہ خودمختاری کے لئے مہاتما گاندھی زوردار تحریک شروع کرنے جا رہے ہیں۔ اس لئے میں نے اس ‘گوپال کرشن’ فلم کوسیاست کا ہلکا ٹچ دینے کا فیصلہ کیا۔

متھرا کے راجا کنس کو میں نے برٹش راج طاقت کا اور شری کرشن کو عوام کارہنما بنا کرفلمانے کا فیصلہ کیا۔ یہ بات بھی میں نے بالواسطہ روپ میں اور اصل لیجنڈری کہانی کے منظروں کو تھوڑا سابھی نقصان پہنچائے بنا فلم میں رکھا۔ یعنی سیاست کو کھلم کھلا فلمانا مشکل تھا۔ کیونکہ یہ ہماری پہلی فلم تھی اور ہم اسے سینسر کی قینچی سے بچا کرعوام کے سامنے پیش کرناچاہتے تھے۔ یہ ضروری بھی تھا۔ اس لئے میں نے اپنی آدرش پسندی اورعمل پسندی کے بیچ تال میل بٹھانے کے لئے کچھ سمجھوتے ضرور کر لئے تھے۔

ہماری کمپنی کا سارا کاروبار ہی نیا تھا۔ ہر چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی نئے سرے سے جٹانی پڑ رہی تھی۔ سب سے بڑا سردرد تھا قابل اداکاروں اور اداکاراوں کواکٹھاکرنے کا۔ گیانوبا مانے نامی ایک سڈول اور کسے جسم کے شحض کوکنس کا کام کرنے کے لئے چنا۔ سانگولے دیہات کے ایک پیارے لڑکے سریش کو شری کرشن کا کردار ادا کرنے کے لئے ڈھونڈ کر لائے تھے۔ شوٹنگ کی مدت میں وہ ہمارے گھر پر ہی کھانے کے لئے آتا۔ دیگر چھوٹے موٹے کاموں کے لئے کمپنی کے آس پاس کے گلی کوچوں میں رہنے والے ان پڑھ، اور تھوڑا سا ہی لکھ پڑھ لینے والے بیکار لوگوں کو بہت ہی معمولی پیسوں پر رکھ لیا۔

اب پرشن (سوال) تھا نئے لوگوں کا! مہاراشٹر فلم کمپنی کی ہیروئن کملا دیوی(گلاب بائی) کو فتے لال جی سے کافی پہلے ہی پیار ہو گیا تھا اور وہ بھی مہاراشٹرفلم کمپنی چھوڑ کر ہمارے ساتھ آ گئی تھیں۔ ان کا انتخاب شری کرشن کی ماتا یشودا کےکردار کے لئے کیا گیا۔ ان دنوں خاندانی عورتیں سینما میں کام کرنےنہیں آتی تھیں۔ اس لئے بہنابائی نامی ایک گوری چٹی ادھیڑ عمرکی مدد سےطوائف کا کاروبار کرنیوالی کچھ ادھیڑ عمرکی عورتوں کو لے آیا گیا۔ لیکن سوال تھا نوجوان لڑکیوں کو لانے کا۔ خصوصا رادھا کا اہم کردار کرنے کے لئےچست چالاک لڑکی ی کی ہمیں تلاش تھی۔

انہی دنوں کولہاپور میں ایک تماشا پارٹی آئی تھی۔ اس میں اہم نرتکیوں میں سے ایک لڑکی کے کافی چست و چالاک ہونے کی خبر مجھے ملی وہ ذات کی مدارن تھی۔ ہم نےاسے کمپنی میں بلا لیا۔ وہ ایک دم پکے کالے رنگ روپ کی تھی، لیکن اس ڈیل ڈول اور ناک نقشہ اچھا تھا۔ اسے بیس روپے تنخواہ پر ہم لوگوں نے رادھاکےکردارکے لئے طے کیا۔ جیسا کہ ان دنوں کا رواج تھا، فلم کے مختلف منظروں کی تعلیم دینا میں نے شروع کیا۔ ایک کملا دیوی کے علاوہ خاص سبھی لوگ ایک دم نئے ہونے کے کارن انہیں اداکاری بالکل شروع سے سکھانی پڑتی تھی۔ لہذا تعلیم ہر روز پانچ پانچ اور چھ چھ گھنٹے چلتی تھی۔ آہستہ آہستہ منتخب کئے گئےسبھی لوگوں میں اداکار اور اداکاراؤں کچھ کچھ نکھارآنے لگا۔ تھوڑے ہی دنوں میں شروع کرنا طے ہوا اور ایک دن ہمارے فلم کی رادھااچانک غائب ہو گئی۔ معلوم ہوا کہ وہ کسی کے ساتھ بھاگ گئی ہے! ہم سب لوگ ماتھا تھامے بیٹھ گئے۔

پھر سے کھوج، ایک ہیروئین کی! اب کی باربہنابائی نے خودآگے آ کرہماری مدد کی۔ وہ ٹھیک ٹھاک ڈیل ڈول کی اور اچھے ناک نقشے کی ایک اٹھارہ برس کی لڑکی کمپنی میں لے آئی۔پھر سے تعلیم شروع ہو گئی، جو واقعی میں چست تھی۔ وہ اپنا کام بہت ہی پھرتی کے ساتھ سیکھتی گئی۔

سب کا کہنا تھا کہ کوئی اچھا مہورت دیکھ کر فلمانا شروع کیا جائے۔بات یہ تھی کہ اچھا مہورت دیکھ کر کام شروع کرنے پر گوپال کرشن’ خوب چلے گی اور ہماری آئندہ لامحدود پریشانیاں کم ہو جائیں گی،لہذا سیتارام پنت کی پہچان سےکولہاپورکے ایک جوتشی کو بلایاگیا۔ انہوں نے آتے ہی ہم پانچوں ساجھےداروں کی جنم پتریاں دیکھنے کے لئے منگوائیں۔ گئے مارے! ہرایک کے نو نو یعنی ہم پانچوں کے ملا کر پورے پینتالیس گرہن کشتروں (گھروں) کا ہیل میل جس دن ہو گا، اسی دن کام پرشروع ہو سکےگا یعنی پانچ سال تو ایسا ہونا ناممکن تھا!

میں نے کچھ سوچ کر جوتشی کو سجھاؤ دیا، “پنڈت جی، اس کی توقع آپ ایسے کیجئے، جس دن ہماری یہ پربھات کمپنی شروع ہوئی، اس دن، اس وقت اورکمپنی کا نام لےکر آپ کمپنی کی ہی کنڈلی بنا لیجیے اور اس کے لئے جومبارک ہو، ایسا مہورت نکالیے۔ مہورت کمپنی کے لئے بھی تو شبھ ہونا چاہئیے۔ سبھی ساجےداروں کو میری بات پسند آئی۔ اب پینتالیس کے بجائے صرف نو گرہوں کی ہی گنتی دیکھی جانے والی تھی، لیکن وہ نو گرہ بھی پورے ٹھیک نکلے۔ پنڈت جی نے بتایا، “آج سے پیتالیسویں دن ایک دم جگ کیسری یوگ ہے۔ اس سے بڑھیا مہورت کیا ہو سکتا ہے۔ اسی دن کام شروع کیجئے۔

سب کے چہرے سوکھ گئے۔ سبھی چپ تھے۔ ہم تو پینتالیس دنوں میں ساری شوٹنگ مکمل کرنا چاہتے تھے۔ ڈیڑھ مہینہ رکنے کا مطلب ہوتا کمپنی کی کمر توڑ کر رکھ دینا! سبھی اداکاروں کو اور دیگرلوگوں کو ڈیڑھ مہینہ مفت میں تنخواہ دیتے رہیں، توپھر ہو گیا فائدہ کمپنی کا! پہلے ہی ہماری پونجی محدود، وہ یوں ہی ختم ہو جاتی اور فلم کبھی نہ بن پاتی!

اچھا بھلا کام شروع کرنے جا رہے تھے، پتہ نہیں کیا سوجھی جو اس پنڈت کو بلالائے۔ گھر بیٹھے ایک مصیبت ہی مول لے لی۔ اب کیا کیا جائے۔ کسی کو سوجھتا نہیں تھا، مہورت وہورت کی بات کو دھتکارنا بھی ممکن نہیں تھا، کیونکہ سنسکاری من پرمہورت، شبھ گھڑی وغیرہ باتوں کا اثر تھا ہی۔ میں تو اتنی اتاولی فطرت کاآدمی تھا کہ پینتالیس گھنٹے بھی کام کو روکنا مجھے منظور نہیں تھا۔ آخر میں ہمت بٹور کر میں نے کہا، “دیکھیئے، ہم نیک کام کرنے جا رہے ہیں۔ تو نیکی میں پوچھ پاچھ کیسی؟ اتنی مصیبتوں سے راہ نکالتے نکالتے ہم لوگ شوٹنگ شروع کرنے کی تیاری پوری کر چکے ہیں۔ بھگوان ہمارا سرپرست ہے،لہذا اب اور دیری نہ کی جائے۔شبھسیہ شیگھرم (جلدخوش قسمتی آئے)! کل سے ہی کام شروع کریں ۔

سیتارام پنت اور داملےجی نہ تھوڑی بحث بازی کرنی چاہی۔ کنتو(لیکن) میں بھی اپنی ضد پر اٹل رہا۔ میرا خیال ہے، میری عملی دلیل منظور تو سبھی کو تھی، اسی لئے سب نے میری بات رکھ لی اور دوسرے ہی دن صبح’پربھات’ کے لوگو کی شوٹنگ سے ہمارا کام شروع ہو گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

‘گوپال کرشن’ ریلیز ہونے تک اپنے اس ضدی فیصلے پر میں کافی پریشان رہتاتھا۔ ذرا فرصت ملی کہ دنیاداری کے ریتی رواجوں کے خلاف جاکر، وقت نا وقت کا خیال نہ کرتے ہوئے شروع کئے گئے اس فلم کی کامیابی، ناکامی کے وچاروں کی گھٹائیں من میں گھر گھر کر آتیں اور مجھے بہت ہی پریشان کرتی تھیں ۔

پربھات فلم کمپنی کا لوگو

شوٹنگ کا آغازہم نے ‘پربھات’ کے لوگو سے ہی کیا۔ فتےلال جی نے پیچھےایک پردہ لگایا، جس سے دکھائی دیتا تھا کہ سورج کی کرنیں نیچے کے افق سے اوپرکو اٹھتی آ رہی ہیں۔ پردے کے سامنے پاس ہی انہوں نے لکڑی کے ایک نیم دائرے کاچبوترہ رکھا۔ سڈول ڈیل کی گلاب بائی پربھات کا لوگو بن کر تیار ہوکرآئی۔ فتےلال جی کی بنائی گئی چتر کےمطابق انہوں ڈریسنگ کی تھی۔ گھٹنوں تک پہنی، تن چھوتی ساڑی، اس پر کمربند، بازو میں ایک چھوٹا، نیچےلٹکتا جھولتا دوپٹہ، صرف عروجوں کو ہی ڈھکنے والی انگیا، پیٹھ پر اس انگیا کی گانٹھ کا کچھ لمبا سرا، سر پر ایک نازک تاج اور پیچھے ناگن سی لمبی بل کھاتی چوٹی، ایسی سج دھج میں بن ٹھن کر آئی گلاب بائی اس چبوترےپر کھڑی ہو گئی۔ کسی نے مہورت کا ناریل پھوڑا۔ میں نے کیمرے کو ‘سٹارٹ’ کا حکم دیا۔ فتے لال جی بیل اینڈ ہاویل کیمرے کا ہینڈل گھمانے لگے۔ میں گلاب بائی کواونچی آواز میں ہدایات دینے لگا، “گلاب بائی، اب آپ ہاتھ میں تھامی بھیری کودھیرے دھیرے اوپر کو اٹھائیے اور پیچھے کمر کی طرف جھک کر اسے زور سے پھونکئے۔”

شوٹنگ خاموش فلم کی تھی۔ اس لئے کیمرے کی آواز بھی آتی اور ڈائریکٹر بھی نٹ نٹیوں کو چلا چلا کراداکاری کے بارے میں ہدایات دیتا تھا۔

گلاب بائی ایک سدھی ہوئی اداکارہ تھیں۔ انہوں نے بہت ہی شان کے ساتھ سارا کام کیا۔ میں نے زور سے ‘کٹ’ کہا۔ کیمرہ رکا۔ مہالکشمی کے مندر سے لائے گئے کولہاپور کے خاص پھیکے پیڑے سب کو بانٹے گئےڈھیر ساری مٹھائی ہم پانچوں ساجھےداروں نے ہمارےاس کارخانے میں بیٹھ کر صاف کر دی۔

دوسرے دن سٹوڈیو میں بنائے گئے کنس کے عالی شان محل کی شوٹنگ شروع کی۔ پہلوان گیانوبا مانے کمپنی میں کافی دنوں سے آئے تھے۔ لہذاانہیں اداکاری کی مکمل مشق کافی اچھی ہو گئی تھی۔ نتیجتااس سیٹ پر پینٹ کئے جانےوالے منظروں کی شوٹنگ لگ بھگ پانچ چھ دنوں میں پورا ہو گئی۔ داملے ہر روز اس شوٹنگ کے نیگیٹو کو ہمارے نئےکیمیکل روم میں کیمیکل سے دھوتے تھے۔ دھائبرانکی مدد کرتے تھے۔ کیمیائی عمل کے بعد ان کا پرنٹ نکال کر ہم نے اسےپروجیکٹر پر چڑھایا۔ شوٹنگ نہایت تسلی بخش ہوئی تھی ۔ فورا ہی اگلے سین کی شوٹنگ کے لئے ہم لوگوں نے رادھا کے گھر کا سین کھڑا کرنا شروع کیا۔

شوٹنگ کے دنوں اگلے دن کس سین کی شوٹنگ کیسے کرنی ہے، ہر رات اس کا ایک خاکہ میں لکھ کر کھینچ لیتا تھا۔شام کو گھر آنے کے بعد آدھی رات جاگ کر میں اس سوچ بچار کو لکھنے بیٹھتا تھا۔ اس رات لکھنا پورا نہ ہو سکتا،تو دوسرے دن منہ اندھیرے چار بجے اٹھ کر لکھنے بیٹھتا اور دن نکلتے ہی نہانے دھونے سے نبٹ کر بنا کچھ کھائے پیئے سٹوڈیو چلا جاتا۔ اس جھمیلے میں گھرگرہستھی اور خاص ومل سے غفلت رہنے لگی۔ دو باتیں کرنے کے لیے اس سےمیں فرصت میں نہیں مل پاتا تھا۔

ایک دن سویرے ہی میں سٹوڈیو جانے کو نکل رہا تھا کہ وِمل راستہ روک کرکھڑی ہو گئی اور بولی، “آپ کو یاد بھی ہے کہ گھر میں آپکی ایک پتنی ہے؟ مجھے دومنٹ بات کرنے کی بھی فرصت نہیں تھی، تو شادی کیوں کی ؟اس کی یہ حرکت دیکھ کر میں غصے میں آگ بگولاہو گیا۔ کوئی جواب تو میں نے نہیں دیا، لیکن اسکا ہاتھ زور سے ہٹا کر اس کی بھری آنکھوں کی طرف دیکھے بنا ہی باہر چل دیا۔ راستے میں رہ رہ کر وِمل کے آج کے طرز عمل پر سوچتا گیا۔ کیا وِمل کی بات صحیح نہیں تھی؟ جب دیکھو، میں صرف گوپال کرشن، پربھات اور سٹوڈیو کی ہی سوچتا تھا، حال ہی میں ایک بیٹے کا پتا بن چکا تھا۔ اسکا نام بھی پربھات کمپنی کے نام پر ہی میں نے پربھات کمار رکھا تھا۔ گھر خاندام، پتنی، اکلوتا منا،کسی کی طرف میرا قطعی دھیان نہیں تھا۔ میرا گھروالوں کے ساتھ اس طرح پیش آناغلط ہے، یہ بات من ہی من مجھے سوجنے لگی۔ آکھر وِمل اس گھر کی نئی نویلی بہو ہے۔ اسے کوئی دقت آ جائے، تو میرے سوا اور کس سے بات کر سکتی ہے وہ؟۔۔۔
جیسے جیسے کمپنی کے پاس آتا گیا، ان وچاروں کی جگہ آج کی شوٹنگ نےلینا شروع کر دی۔

اتفاق کی بات تھی کہ رادھا اور اس کے پتی انیے کے بیچ لگ بھگ اسی طرح کےمنظر کی شوٹنگ اس دن کرنی تھی۔ انیے کو متھرا میں کنس کے پاس جانا ہوتا ہے۔وہ رادھا کو ویسا بتا بھی دیتا ہے۔ منظرایک دم سیدھا سادہ لکھا گیا تھا۔ تبھی میرےاندر کا ڈائریکٹرجاگ اٹھا۔ میں نے سوچا، آج وِمل کے ساتھ جو کچھ ہوا، اس کی ہی ہوبہو شوٹنگ آج ہوئی تو ناطرین کو گھریلو جھگڑے کی آپ بیتی دیکھنے کا لطف آئے گا اور وہ اسے بہت پسند کریں گے ۔ مجھے اپنے اس وچار پر ہنسی بھی آئی اور غصہ بھی۔ اس لئے کہ کارگزاری کے پیچھے ہاتھ دھوکر لگے آدمی کا بھی کیا ہی عجیب حال ہوتا ہے۔ اور غصہ اس بات پر کہ میں بھی کتنا مطلبی ہوں ! اپنے گھر کی اس بات کو، گمبھیر و نہایت نجی منظر کو ایک دم بے شرمی سے اپنے کام میں استمعال کرنے کی سوچ رہا ہوں! لیکن میں نے اپنے آپ کو سمجھایا کہ آخر گھر میں اور باہر ہونے والے ایسے دل کو چھو لینے والے منظرہی تو ڈائریکشن کے لئے میری پونجی ہیں !اسی زاد راہ کے ساتھ ہی آگے کا سفر کرتے جانا ہے۔

اس دن کی شوٹنگ ختم ہونے کے بعد میں رات گھر لوٹا، اور یہ ہی ساری باتیں ہنستے ہنستے وِمل کو سنا دیں۔ سن کر وہ اور بھی زیادہ غصہ ہو بیٹھی لگ بھگ آٹھ دن تک اس نے مجھ سے ایک بھی بات نہیں کی۔ آٹھ دنوں بعد میں نے اس سے کہا،” وِمل، تم روٹھ تو گئی ہو، لیکن پتہ ہے، اس کی وجہ سے دوسرے دنوں کےسین لکھ لینےکے لئے مجھے کافی وقت مل گیا۔”

میری اس بات پر اس کا غصہ جاتا رہا۔ وہ میرے پاس آئی۔ میرے ہاتھ سے کاغذ،اور پینسل چھین کر اسے دور پھینک دیئے اور میری گود میں بیٹھ کر بولی، “ہوں ،لکھیئے نے کیا لکھنا ہے۔” – ہر روز کمپنی آنے بعد میرا پہلا کام ہوتا تھا سب کا میک اپ کرنا، اس کام میں مدد کرنے کے لیے میں نے شنکر گوڑ نامی ایک لڑکے کو رکھ لیا تھا۔ اداکاروں اور اداکاراؤں کے چہرے پر رنگ لگانے کاکام میں نے اسے سکھایا تھا۔ میں ٹھیک پونے نو بجے سفید پینٹ، سفید قمیص پہن کر شوٹنگ کے لئے تیار ہوجاتا، فتےلال، داملے اور دھائبروغیرہ لوگ بھی بنا چوکے ٹھیک وقت پر آتےاور اپنے اپنے کام پورے کر شوٹنگ کے لئے تیار رہتے ہیں۔
سبھی کلاکار ٹھیک نو بجے سیٹ پر حاضر رہ سکنے کے لئے سویرے سات بجے سے ہی میک اپ کے لئے سٹوڈیو میں آ جاتے تھے، کمپنی کے پاس ہی ایک لمبے کمرے،گلیارہ نما کمرےمیں ٹین کی پارٹیشن ڈال کر دو حصے بنائے گئے تھے شوٹنگ کے سیٹ پر جب کام نہیں ہوتا، تب اداکاراور اداکارائیں اسی جگہ پر آرام کیا کرتے تھے سویرے سب سے پہلے میں اداکاروں کو داڑھی مونچھیں وغیرہ لگاتا اورمیک اپ بھی کر دیتا تھا۔ اس کے بعد وہ سب لوگ جاکر سٹوڈیو کے کام میں داملے اور فتے لال جی کی مدد کرتے تھے کون سا ریفلیکٹر کہاں رکھنا، چھوٹی موٹی چیزیں ادھر سے ادھر لے جاکر رکھنا، وغیرہ کام وہ لوگ تب کرتے، جب سامنے جاری شوٹنگ میں ان کا کام نہیں ہوتا۔ صرف عورتیں ہی اپنے کمرے میں بیٹھ کرپان تمباکو کھاتیں، گپیں لڑاتیں۔ پان چبانے تک کی آواز مجھے سنائی نہ دے، اس وجہ سے وہ دانت بھینچ لیتی۔

ایک دن صرف ایک گوپی اور کرشن کے سین کی ہی شوٹنگ کرنا تھی۔ سبھی مرد اداکار باہر سٹوڈیو میں مختلف کاموں میں مدد کرنے چلے گئے تھے ۔کرشن کا میک اپ کر کے میں نے اسے کرشن کا بھیس بدلنے کے لئے فتے لال جی کے پاس بھیج دیا۔گوپی کا میک اپ کرنے کے لئے میں عورتوں کے کمرے کی طرف گیا اور کواڑ پردستک دے کر ہمیشہ کی عادت کے مطابق پوچھا کیا میں اندر آ سکتا ہوں؟ اندر سے’ آئیے’ کا جواب آیا۔ میں کواڑ دھکیل کر اندر گیا۔ سارا کمراخالی پڑا تھا۔پھر ‘آئیے’ کس نے کہا تھا؟ میں نے مڑ کر دیکھا اور۔۔۔۔

ایلورا غار کی ایک سیڈول لڑکی کی طرح کوئی شلپا کرتی(مورتی) میرے سامنے کھڑی تھی! وہ کرافٹڈ مورتی نہیں تھی، وہ واقعی میں ایک جیتی جاگتی تھی۔ اپنی مدہوش جوانی کے ابھرتے ڈیل ڈول کی نمائش کرتے ہوئے وہ کھڑی تھی ہماری ‘دوسری ہیروئین۔’ اس کے تن پر رتی بھر چولی بھی نہیں تھی۔

میری تو کچھ سمجھ میں ہی نہیں آ رہا تھا۔ وہ مسکرا کر ایک انداز سے اپنا روپ مجھ پر بکھیررہی تھی۔ حیرت کے پہلے دھچکے سے سنبھلتے ہی میں نے غصے میں اسے دیکھا۔ فورا ہی اپنے کھلے عروجوں کو دونوں ہاتھوں سے ڈھانپتی ہوئی وہ ڈر کے مارےنیچے بیٹھ گئی۔ میں نے ایک دم روکھی آواز میں کہا، ‘کپڑے کر لو، اور فورا کمرے کےباہر آ کر میں نے کواڑ بند کر دیئے۔

باہر آتے ہی من میں خیالات کا طوفان اٹھا ۔کیوں کھڑی رہی وہ میرے سامنے، اس طرح بے لباس ہوکر؟ مجھے لبھانے کے لئے؟ یہ کس کی سوجھ ہو سکتی ہے؟ اس کی اپنی یا بہنابائی کی؟ یا کسی اور کی؟ اگرایسا ہے، تو ان کا مقصد ایک ہی ہوگا مجھے ہوس کا شکار بنانا۔ لیکن ایسا کرنے سے انہیں کیا ملتا؟ کیا وہ مجھے عورت بازوں کی قطار میں شامل ہوا دیکھنا چاہتی تھیں؟ پھر میں اپنی نظر سےسوچنے لگا۔ مدہوش جوانی کو بے لباس سامنے کھڑا دیکھ کر بھی میں بے حس کیسے رہ سکا؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ میرے من میں ہوس کا جوش آیا تو تھا، لیکن میں نے اس پر فورا قابو پا لیا؟ لیکن، ویسا نہیں تھا۔ بس ایک ہی دھن سوار تھی: ‘گوپال کرشن’ ایک دم سب سے اچھی فلم بنے ! ہماری ‘پربھات فلم کمپنی ‘ کا نام سارے بھارت میں روشن ہو! پربھات کا ایک فنکارانہ اور مستحکم ‘پربھات نگر’ بسائیں! بس یہی دھن مجھ پر ایسی چھا گئی تھی کہ تن من اسی میں ڈوبا تھا۔ کسی دوسری شکایت کے لیے کوئی جگہ ہی نہیں تھی۔ اس لیےاس کے ایسے طرز عمل پر مجھے غصہ آگیا۔ سوچا، اس کو فورا کمپنی سے چلے جانے کے لیے کہہ دوں۔ لیکن یہ کیسے ممکن تھا؟ ‘کرشن گوپال، میں اس کے کئی سین فلمانا کمپنی کی محدود پونجی میں نا ممکن تھا۔ اس سے بھی بڑی دقت یہ تھی کہ وہ کام کرنے کے لئے پھر کسی قابل لڑکی کاملنا مشکل تھا۔ میں ایک طرح کی گھٹن محسوس کرنے لگا۔ آخر میں نے من کے احساسات کا بہاؤ روک دیا اورروپے کے خیال سے اپنے غصے کو ٹھنڈا کیا۔

میں نے باہر سے ہی پھر آواز دی، ”اندر آ سکتا ہوں؟ اس بار اندر سے ڈری سی ‘ہاں’ سنائی دی۔ وہ کپڑے پہن کر بیٹھی شرم سے گڑی جا رہی تھی۔

میں نے اس کا میک اپ پورا کیااس لیے کہ اپنے کئے پر اسے شرمندہ سا نہ رہنا پڑے، کچھ ڈانٹتے ہوئے میں نےکہا، “سنو، پھر ایسا کبھی نہ کرنا۔ فوراً اپنا کاسٹیوم پہن کر سٹوڈیو میں آجاؤ! میری بات سن کر اس نے راحت کی سانس لی ہوگی۔

دوسرے دن میں میک اپ کرنے کے لئے گیا، تو بہنابائی وغیرہ ساری عورتیں مجرم سی بنی بیٹھی تھیں۔مجھے آتا دیکھتے ہی وہ اٹھ کھڑی ہوئیں ۔ سب نے میرے چرنوں پر ماتھا ٹیکا اور آنکھوں میں آنسو بھر کر معافی مانگتے ہوئی کہنے لگیں “غلطی تو ہم سب کی ہے۔ ہم نے ہی اسے ایسا گندہ کام کرنے کے لئے اکسایا تھا کل!”

غلطی ہماری تھی! آپ تو واقعی دیوتا آدمی ہیں!” لیکن کیا میں سچ مچ دیوتا آدمی تھا؟

‘گوپال کرشن’ کی باہر شوٹنگ کے لئے ہم لوگ کولہاپر سے کوئی چالیس میل دور گڈہنگلس نامی گاؤں گئے۔ وہاں ایک چھوٹی سی پہاڑی تھی۔ اسے ہی ہم نے’گووردھن’ پہاڑ بنانے کا فیصلہ کیا۔ ایک دن شام کو وہاں موسلادھار بارش ہونےلگی۔ ندی نالے باڑھ سے بھر گئے۔ ہم فورا کیمرہ لےکر شوٹنگ کے لئے چل پڑے۔ سبھی اداکاروں اوراداکاراؤں نے پانی میں قدم رکھا ۔ وہ واقعی میں باڑھ کے پانی میں بہنے لگے۔ میں اور فتے لال جی کیمرہ کے پاس رہ کر شوٹنگ کرنے لگے۔ داملے اوردھا ئبر آگے جاکر باڑھ میں ڈوبتےابھرتے لوگوں کو باہر نکالنے لگے۔ بےموسم آئی وہ بارش ہمارے لئے ایک خوش قسمتی کی بات تھی۔ لیکن اس کی وجہ سے فلم میں بارش کے سین ایک دم اصلی بن سکے۔ برسات ہی ہماری فلم کا اہم سین تھا۔ اس کو ہم لوگ غیر متوقع روپ سے ایک دم اصلی ماحول میں فلما سکے۔شوٹنگ کے لئے ہمیں اچھی موٹی تازی اور ہری بھری گایوں کی تلاش تھی۔ ویسی گائیں کولہاپور دربار کی گئوشالہ میں تھیں۔ شوٹنگ کے لئے انہیں دستیاب کرانےکی درخواست ہم نے دربار سے کی تھی۔ کافی دن ہو چکے تھے۔ ہماری درخواست کا کوئی جواب نہیں آیا تھا۔ لہذا ہم نے کہیں اور کوشش کرنا شروع کیا تھا۔ دھائبر جت ریاست کی راج ماتا سے اچھی طرح سے متعارف تھے۔ نے راج ماتا صاحبہ سے گائیں شوٹنگ کے لئے دینے کی درخواست کی۔ جسے انہوں نے فورا قبول کرلیا۔ ہم لوگ فورا جت پہنچ گئے اور چار پانچ دن میں گایوں کے سبھی منظروں کی شوٹنگ پوری کر کولہاپر واپس آ گئے۔

گوپال کرشن کی شوٹنگ اب لگ بھگ پوری ہونے کو آئی تھی ۔ صرف ایک منظرفلمانا باقی تھا۔ ہم نے طے کیا کہ اس سین کی شوٹنگ ندی کنارے پیروباغ میں کیا جائے۔ اسی باغیچے میں ‘سریکھا ہرن’ کی شوٹنگ کے لئے کیمرہ پیٹھ پر لادےمیں ایک ہمال کی طرح جاتا تھا۔ سین تھا وہاں کے ایک پیڑ پر باندھے جھولے پر کرشن بیٹھا ہے۔ پیندیا اور اسکے ساتھی اسے جھولا جھلا رہے ہیں، ناچ رہے ہیں، گا رہے ہیں، خوشی سے کودتےپھاندتے جا رہے ہیں، مستی میں مست ہو گئے ہیں۔
اس منظرمیں کرشن کا ایک چار پانچ سال کا ننھا ساتھی آنند سے تالیاں بجاتا، ناچتا ہوا اپنی خوشی ظاہر کر رہا ہے، ایسا ہی ایک سین میں فلمارہا تھا ناچتے ناچتے اس لڑکے کی لنگوٹی ایک طرف ہٹ گئی۔ میں کیمرے کے پاس سےچلایا، ‘ابے انتیا کے بچے، تیری تلی لیلی ہو گئی ہے۔ لنگوٹی ٹھیک کر۔”اس نےلنگوٹی ٹھیک کر لی۔ میں پھر چلایا، “ناچو، ناچو، تالیاں پیٹتے ناچنے رہو۔”میرے کہنے کے مطابق وہ پھر ناچنے لگا۔ شاٹ پورا ہو گیا۔ ہنسی کے مارے ہم سب لوگ لوٹ پوٹ ہو رہے تھے۔

‘گوپال کرشن’ کی ایڈیٹنگ کو میں فائنل روپ دے رہا تھا۔ اس لڑکے کی لنگوٹی ہٹ کر جو ‘تلی لیلی’ ہو گئی تھی، اس کا سین فلم میں رکھیں یا نہ رکھیں، میں کشمکش میں پڑا تھا۔ وہ زمانا ایسا تھا کہ فلم میں ننگا بچہ دکھایا تو جاتا تھا، لیکن اس کی شرم گاہ بخوبی کیمرے میں نہیں آنے دی جاتی تھی۔ اگر وہ دکھایا گیا، تولوگ فحش فحش کی چیخ وپکار مچاتے۔ اس لئے میں نے بھی اس سین کوکاٹ دیا۔ پھر سوچا کہ یہ منظرواقعی میں یہ منظر ایک دم قدرتی بہاؤ سے آیا ہے، اس میں کہیں پر کوئی بناوٹ نہیں ہے، جیسا آسانی سے ہو گیا، ویسا ہی، اتنی ہی آسانی سےفلما لیا گیا ہے۔ اسے رہنے دیا جائے، تو کیا ہرج ہے؟ میں نے اس سین کو فلم میں پھر جوڑ دیا۔

جب ہم لوگوں نے آپس میں ‘گوپال کرشن’ کا پرنٹ دیکھا، تو سب کی رائے تھی کہ اس سین کو فلم میں نہ رکھا جائے۔ دیکھنے والے ناراض ہو جا ئیں گے اور فلم کی مقبولیت پر اس کا بڑا اثرپڑےگا۔ آخر سب کی رائے کے مطابق اس سین کو نکال دینے کا فیصلہ کیا گیا۔

‘گوپال کرشن’ کا پہلی ٹرائل دیکھنے کے بعد سب کو اطمینان ہو رہا تھا کہ ہم نےایک بہترین فلم تیار کی ہے۔ لیکن مجھے؟ مجھے کیا لگ رہا تھا؟ میں بھی سطحی اطمینان حاصل کر رہا تھا، لیکن گہرائی سے دیکھنے پر مجھے اس فلم میں مجھ سے ہوئیں موٹی موٹی بھولیں دکھائی دے رہی تھیں۔ میں حیران تھا کہ اتنی موٹی بھولیں شوٹنگ کےوقت میرے دھیان میں کیسے نہیں آئیں۔ ساری بھولیں ڈائریکشن کی ہی تھیں۔ میں اپنے آپ کوکوسنے لگا، قصور پانے لگا۔ اندر ہی اندر غصہ تھا۔

گھر پر تنہائی میں میرے آنسو بہہ نکلے۔ وِمل نے اس کا کارن جاننا چاہا، میں نےکہا، “میں واقعی مہامورکھ ہوں۔ ذرا زیادہ سوچتا تو آج اس ‘گوپال کرشن’ میں رہ گئی کتنی ہی معمولی غلطیاں وقت پر ٹھیک کر سکتا تھا، ان کو ٹال بھی سکتا تھا۔ اور میں اپنی سسکیوں کو روک نہیں سکا۔

بیچاری وِمل! اس کی سمجھ میں میری ایک بھی بات نہیں آ سکی۔ فلم کیا ہوتی ہے، ان میں غلطیاں ہوتی ہیں یعنی کیا ہو جاتا ہے؟ وہ غلطیاں رہ بھی گئیں تو کون ساآسمان پھٹنے والا ہے؟ یہ سب باتیں اس کی سمجھ کے پرے تھیں۔ وہ تو بس اتنا جان گئی کہ میں بےچین ہوں۔ اس نے ماں کی ممتا سے مجھے اپنے گلے سے لگا لیا اور پتی ورتا ہے اس لیے وہ بھی روتی رہی۔

دوسرے دن میں نے اپنا درد دھائبر، فتے لال جی ، داملے کو بتایا۔ وہ تو مجھےباربار یہی سمجھاتے رہے کہ ‘گوپال کرشن’ بہت اچھی بن گئی ہے۔ پھر فلم بمبئی میں پیشکش کرنے کی تاریخ بھی طے ہو چکی تھی، صرف پندرہ دن ہی باقی تھے۔لہذا یہ طے کیا گیا کہ ‘گوپال کرشن’ جیسی ہے اسی حالت میں، غلطیوں کو سدھارےبنا ہی، بمبئی میں ریلیز کی جائے۔ پرنٹ کو بمبئی لے جانے سے پہلے میں نے انتیا کی تلیلیلی ہونے کا سین چپ چاپ اس میں جوڑ دیا۔ سوچا، پہلے شو میں تو دکھا ہی دیتے ہیں۔ لوگوں نے چھی چھا کی، تو ترنت (فورا)کاٹ دیں گے۔ممبئی کے گر گاؤں حصے میں میجیسٹک سنیما کے باہر گوپال کرشن’ کے خاص کرداروں کے چہروں کے فنکارانہ ڈھنگ سے بنے بڑے بڑے پوسٹر لگائے گئے تھے۔ سڑک سے جاتے آتےلوگ ان پوسٹرز کو دیکھنے کے لئے رکتے، لوگ پوسٹرز کو دیکھنے کے لئے آنے بھی لگے۔پربھات کی ‘گوپال کرشن’ فلم جمعہ کو ریلیز ہونے والی تھی۔ شو تھا دوپہر ساڑھے تین بجے کا۔ میں دو بجے سے ہی میجیسٹک تھیٹر پر پہنچ گیا۔ لگتاتھا، گھڑی کی سوئیوں نے چلنا بند کر دیا ہے۔ جیسے وقت تھم گیا ہے۔ تھوڑی دیر بعدناظرین آنے لگے۔ یہاں تو دل کی دھڑکن کا برا حال ہونے لگا۔ حال آدھے سے زیادہ بھر گیا تھا۔ ہماری کمپنی کا نام نیا تھا۔ لہذا پہلے دن ناظرین کی اتنی بھیڑ جمع نہ ہونا قدرتی تھا۔آخر ساڈھے تین بجے۔ فلم چالو ہو گئی۔ جیسے جیسے کہانی آگے بڑھنے لگی،رنگ اور رس چھننے لگے۔ ناظرین بھی جہاں انہیں کوئی بات بھا جاتی، داد دینے لگے۔ کرشن کے مکالمے کے کچھ ٹائٹلز پڑھ کر ناظرین تالیاں بجانے لگے۔ اس سے مجھے لگا کہ کرشن کو متنوع سماج کا اور کنس کو برٹش راج کے نمائندہ پینٹ کرنےمیں میرا جو بالواسطہ ارادہ تھا، ناظرین کی بھی سمجھ میں آ گیا ہے۔

اور بعد میں وہ انتیا کی ‘تلی لیلی’ ہونے کا شاٹ آیا۔ دل تھام کر میں دیکھنےلگا کہ اب ناظرین کے تاثرات کیا ہوتے ہیں ۔ اب چھی چھی تھو تھو مچے گی یا ۔۔۔ تبھی سارا تھئیٹر ناظرین کی طوفانی ہنسی سے گونج اٹھا۔ تالیوں کی گڑگڑاہٹ کے بیچ ناظرین نے اس شاٹ کی بھی داد دی تھی۔ میری جان میں جان آ گئی۔ سچ بتاتا ہوں، اپنےبولڈ فیصلہ کو من ہی من میں نے کافی کو کافی سراہا۔

بعد میں جب بارش ہوتی ہے اور شری کرشن گووردھن پہاڑ کو اٹھا لیتا ہے، یہ پرسنگ دیکھتے وقت تو ناطرین جذباتی ہو گئے اور تھرتھرا اٹھے۔ آخر میں پردے پر پربھات دیوی بھیری بجا رہی ہے، یہ پربھات کا لوگو دکھائی دیتے ہی ناظرین نے پھر تالیوں کی گڑگڑاہٹ کی، ‘گوپال کرشن’ پر اپنی پسند کی مہر ہی جیسے لگا دی۔ تھیٹر سےباہر آتے وقت ناظرین ‘گوپال کرشن’ کے خاص منظروں، فوٹوگرافی اور خاص طور سے میری ہدایتکاری کے سٹائل کی بہت بہت تعریف کر رہے تھے، جسے سن کر ہم سب لوگ فخر سے پھولے نہیں سمائے۔ خوشی سے ہم نہال ہو گئے تھے۔

پربھات کے ڈسٹری بیوٹر دادا تورنے اور بابورائو راو تھیٹر سے باہر آئے۔ دادا نے مجھے شاباشی دی، بولے، “بھائی کیا بڑھیا تصور اور ہمت ہے آپ کی، مان گئےآپ کو!”میں نے پوچھا، کیسے تصور؟ کیسی ہمت؟” کچھ دادا خوش ہو کر بولے، “اجی، اس بچے کی ‘تلی لیلی’ ہونے کا وہ شاٹ!اتنا سہج، اتنا قدرتی اور اتنا جاندا تھا وہ شاٹ کہ اسی سے آپکی ڈائریکشن کانرالاپن صاف دکھائی دیا۔ وہ شاٹ یعنی خاص آپ کا ہی ‘ٹچ ہے!”شانتارام ٹچ!”

Categories
نان فکشن

شانتا راما باب 4: بنا اجازت کے اندر آنا منع ہے (ترجمہ: فروا شفقت)

[blockquote style=”3″]

’’شانتاراما‘‘ برصغیر کی فلم انڈسٹری کے بانیوں میں شامل وی شانتا رام کی آپ بیتی ہے جو انھوں نے اپنی آخری عمر میں مراٹھی میں بول کر لکھوائی اور چھپوائی تھی۔ بعد میں اس کا ہندی روپ شائع ہوا۔ شانتارام جن کا پورا نام شانتارام راجارام وانکودرے تھا، 18 نومبر 1901 کو پیدا ہوے اور کو پیدا ہوے اور 30 اکتوبر 1990 کو وفات پائی۔ مہاراشٹر کے شہر کولھاپور میں، جو برٹش راج کے دور میں ایک رجواڑے یا نوابی ریاست کا صدرمقام تھا، انھوں نے خاموش فلمیں بنانے سے آغاز کیا اور بعد میں پونا اور بمبئی میں مراٹھی اور ہندی کی بےشمار فلمیں بنائیں۔ اس طرح شانتارام کی لمبی پیشہ ورانہ زندگی کی دلچسپ داستان اس خطےکی فلمی دنیا کی تاریخ بھی ہے۔ اس تاریخ کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے کرداروں میں مختلف علاقوں، ذاتوں، زبانوں، طبقوں اور پیشوں کے لوگ شامل ہیں جنھوں نے مل کر ایک رنگارنگ منظرنامہ تیار کیا جس کی جھلکیاں اردو میں سعادت حسن منٹو کی ان تحریروں میں ملتی ہیں جن کا پس منظر 1940 کی دہائی کا بمبئی شہر اور وہاں کی فلمی دنیا ہے۔ ’’شانتاراما‘‘ میں اس دنیا کے رفتہ رفتہ بننے اور پھیلنے کی کہانی بڑے بےتکلف اور دلچسپ اسلوب میں بیان کی گئی ہے۔ شانتارام کی معروف ہندی فلموں میں سے چند کے نام یہ ہیں: ’’ڈاکٹر کوٹنِس کی امر کہانی‘‘ (1946)، ’’امر بھوپالی‘‘ (1951)، ’’جھنک جھنک پایل باجے‘‘ (1955)، ’’دو آنکھیں بارہ ہاتھ‘‘ (1957)۔ ’’شانتاراما‘‘ کا اردو روپ ہندی متن کی بنیاد پر فروا شفقت نے تیار کیا ہے جو گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں پی ایچ ڈی سکالر ہیں۔

[/blockquote]

دوسرے ہی دن میں پرائیویٹ ہائی سکول کے پرنسپل وبھوتے کے دفتر پہنچ گیا۔ انھوں نے پوچھا، ’’کیوں رے، اتنے دن کہاں تھا؟ ہیں ؟‘‘
سنتے ہی مجھے رونا آ گیا۔
انھوں نے کہا، ’’اچھا اچھا، کوئی بات نہیں۔ رؤ مت، آ جاؤ۔ نیچے چوتھی جماعت میں بیٹھو اور دھیان سے پڑھائی کرو۔‘‘
میری تعلیم پھر سے باقاعدہ شروع ہو گئی۔
مجھے کھیل کود کا بھی کافی شوق تھا۔ ہم بہت سارے طالب علم گاؤں کے باہر والے گھاس کے میدان میں شام کو کھیلنے جایا کرتے۔ وہاں کرکٹ، ہاکی، فٹ بال وغیرہ کھیل کھیلا کرتے تھے۔

ایک بار کرکٹ کی بیٹ ہاتھ میں لے کر میں بڑی اکڑ سے سٹمپس کے سامنے جا کھڑا ہوا۔ پہلی ہی گیند اتنی سنسناتی ہوئی آئی کہ سیدھی میری پنڈلی پر آ لگی۔ درد جھنجھناتا ہوا سر تک پہنچ گیا۔ میں درد کے مارے ایک دم بیٹھ گیا۔

اُس دن سے لیدر بال کا ڈر من میں بیٹھ گیا۔ پھر بھی ڈرپوک کہلائے جانے کے ڈر سے میں اپنے آپ پر کرکٹ کھیلنے کی زبردستی کرتا رہا۔ لیکن بلّے بازی کرنے جب جب جاتا، اور سامنے والے سرے سے گیند پھینکی جاتی، تو ڈر کے مارے میری آنکھیں اپنے آپ مُند جاتیں۔ پھر بلّا انداز ے سے اوپر اوپر ہوا میں ہی گھوم جاتا، گیند سے اُس کی ملاقات ہی نہ ہوتی۔ بلّا اِدھر اُدھر گھوما اور گیند پیچھے وکٹ کیپر کے ہاتھوں میں پہنچ جاتی۔ کبھی کبھی تو گیند میرے بلے سے ہی کافی دور سے ہی چلی جاتی۔ کبھی بھولے سے بلے پر آ بھی جاتی، اُوٹ پٹانگ ڈھنگ سے میں اُسے مارتا، تو کیچ لے لیا جاتا، تو کبھی میرا بلا جہاں کا تہاں دھرارہ جاتا اور گیند سٹیمپس گرا کر چلی جاتی۔

ایک دن شام کو اپنے مِتروں کے ساتھ کھیل ہم واپس آ رہے تھے۔ ایک متر نے کہا، ’’بھائی، بات کیا ہے؟ گیند کو بلے سے پیٹنے کے بجاے تم تو ہر بار آنکھیں بند کر لیتے ہواور اسی لیے جلدی آؤٹ ہو جاتے ہو۔‘‘ اُس وقت میرا جواب تھا: ’’کیا بتاؤں یار، کی ماں کو، اماں کی ماں کو۔۔۔ پہلے دن ہی کی بات ہے، کی ماں کو۔۔۔ وہ پتھریلی لیدر کی گیند، کی ماں کو۔۔ سیدھی میری پنڈلی پر اتنے زور سے آ لگی کہ۔۔ کی ماں کو۔۔۔ مجھے تو چکر ہی آ گیا۔ اچھا۔۔ کی ماں کو۔۔ میں کرکٹ کھیلنا بند کر دیتا تو کی ماں کو۔۔ منھ بنا کر میری کھِلّی اڑاتے۔۔۔۔‘‘
میرے متر مجھے دیکھ کر زور زور سے ہنسنے لگے۔ جھنجھلاہٹ میں کچھ چمک کر میں نے پوچھا، ’’کی ماں کی کو۔۔ میں اتنے من سے سب کچھ بتا رہا ہوں، اور کی ماں کی، تم سب لوگ اِس طرح ہنسے جارہے ہو؟‘‘
اس پر ہماری ٹولی میں سے ایک نے ہنستے ہنستے کہا، ‘‘کاش، تم نے ابھی جتنی بار کی ماں کو، ماں کو، کی ماں کو، کہا ہے، اُس سے آدھی بار بھی بلے سے گیند کو مارا ہوتا! یہ کیا رٹ لگا رکھی ہے کی ماں کو، کی ماں کو؟‘‘

اپنے متروں کی صلاح پر میں نے اِس ’کی ماں کو‘ کا ساتھ چھوڑنے کی بڑی لگن سے کوشش کی، کافی حد تک کامیاب بھی رہا، لیکن آج بھی اچانک کبھی کبھار وہ اپنا وجود جتاہی جاتی ہے۔

اُس کے بعد دھیرے دھیرے میں نے کرکٹ کھیلنا چھوڑ کر فٹ بال کھیلنا شروع کیا۔ ایسے گندھروناٹک منڈلی میں ہی فٹ بال کھیلنا سیکھ گیا تھا۔ ایک بار کمپنی ناگپور میں تھی۔ میں نے فٹ بال کھیلتے وقت اتنے زور سے کک ماری تھی کہ میرے بائیں پاؤں کی چھوٹی انگلی کا ناخن جڑ سے اکھڑ کر الٹ گیا تھا۔ اُس کے بعد سکول میں میں نے کافی مہارت حاصل کر لی تھی۔

انہی دنوں مجھے تیرنے کا بھی کافی شوق ہو گیا۔ ایک بار ناٹک منڈلی ناسک میں تھی، تب گوداوری میں میں نے تیرنا سیکھ لیا تھا۔ کولھاپور میں ایک بڑا تالاب ہے، اُس کا فریم دو ڈھائی میل کا ہے، کچھ ماہر تیراک ایک ہی دم میں تالاب کا پورا چکر تیرکر لگا جاتے۔ دھیرے دھیرے مشق بڑھا کر میں بھی ایک ہی دم میں تالاب کا پورا چکر کاٹنے لگا۔ لیکن بعد میں اتنی بھوک لگتی کہ پریشان ہو جاتا۔ رنکالا سے واپسی پر مائی کا گھر پڑتا تھا۔ بھوک جب بےقابو ہو جاتی، میں سیدھے مائی کی رسوئی میں پہنچ جاتا اور پِیڑھا لگا کر بیٹھ جاتا۔ مائی فوراً ہی مجھے جوار کی گرم گرم روٹیاں اور ساگ پروستی۔ بڑی ممتا سے کھلاتی۔ لیکن اِس طرح ہر روز مائی کے یہاں جانا اچھا بھی نہیں لگتا تھا۔ تیر کر گھر لوٹ جانے پر میں ہر کھانے میں باجرے کی بڑی بڑی دو ڈھائی روٹیاں ڈکوسنے لگ گیا۔ لیکن میں نے اندازہ کیا کہ گھر کے باقی سارے لوگ آدھی پون روٹی پر گزارہ کر لیتے ہیں، میرا دو ڈھائی روٹیاں اکیلے کھانا ٹھیک نہیں۔ میں نے تیرنے جانا بند کر دیا۔

لگ بھگ انہی دنوں کولھاپور میں سنیما کا تھیٹر بن گیا تھا۔ ناٹکوں کی نمائش جس شِواجی تھیٹر میں ہوا کرتی تھی اُسی میں تبدیلی کر اب سنیما دکھانے کا انتظام کیا گیا تھا۔ جیسے شِواجی تھیٹر کی کایاکلپ ہی ہو گئی تھی۔ کولھاپور میں دو پینٹر بھائی تھے، آنند راؤ اور بابو راؤ۔ دونوں پینٹر بھائیوں نے اپنے تخیل کا پورا پورا استعمال کر کے تھیٹر کی اندرونی سجاوٹ کو پوری طرح بدل ڈالا تھا۔ لگتا تھا شِواجی تھیٹر ایک دم نیا بن گیا ہے۔ اس کام میں کولھاپور کے ایک کپڑے کے بیوپاری واشیکر نے پونجی لگائی تھی اور سنیما کے لیے ساری ضروری مشینری خرید کر لے آئے تھے۔ انھوں نے شِواجی تھیٹر کا نام بدل ڈالا تھا۔ اب وہ ’’ڈیکن‘‘ (Deccan) سنیما کے نام سے جانا جانے لگا۔

اس سے پہلے، یعنی میں جب دس گیارہ سال کا تھا، کولھاپور کے دادُو لوہار بمبئی سے سنیما دکھانے کی ایک چھوٹی سی مشین خرید لائے تھے۔ اس پر دادُوجی ایک اکھنڈ جڑا تصویروں کا فیتہ چڑھاتے۔ پھر اُس مشین کا ہینڈل ہاتھوں سے گھما کر سامنے والے پردے پر اُس تصویری فیتے کے منظروں کو دکھاتے۔ تصویری فیتے کے پیچھے ایک دیا ہوتا تھا۔ اُس دیے کی روشنی فلم کے فیتے پر پڑتی اور سامنے لگے شیشوں کے لینز سے گزر کر آگے کچھ فاصلے پر لگائے گئے چھوٹے سے پردے پر انہی منظروں کو دکھاتی تھی۔ اُن دنوں اِن چلتی تصویروں کو دیکھ کر لوگوں کو بڑا مزہ آتا تھا۔ دادُو لوہار یہ سنیما دکھانے کے لیے ایک پیسہ، دو پیسہ ٹکٹ لیا کرتے تھے۔ اُس ہینڈل کو ایک ہی رفتار میں بِنا جھٹکا دیئے گھمانا میں نے سیکھ لیا تھا۔

اس مشین پر دکھائی جانے والی ایک فلم میں ایک ماں اپنے بچے کو چمچ سے کچھ کھلا پلا رہی ہے، ایسا سین تھا۔ پوری فلم میں وہ عورت بس یہی کرتی ہے۔ ایک اور فلم تھی، جس میں ایک مرد ایک عورت کو لگاتار چومتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ سنیما دکھانے کے اِس سٹائل میں بعد میں میں طرح طرح کے تجربے کرنے لگا۔ خصوصاً اس چومنے والی فلم کو شروع میں بہت دھیمی رفتار سے گھماتا اور بعد میں ہینڈل گھمانے کی رفتار بڑھاتا جاتا۔ نیتجتاً آخر میں میں تھوڑا فٹافٹ چومتا دکھائی دیتا تھا۔ اس پر لوگوں میں ہنسی کے فوّارے چھوٹتے تھے۔

سنیما کا یہ طریقہ فلم تو نہیں کہا جا سکتا تھا، ہاں اُسے تصویری پٹی یا فیتے کہنا مناسب ہو گا۔ آج کی فلموں کے مقابلے میں اُس سنیما کی حالت گھٹنے کے بل چلنے والے بچے جیسی تھی۔

کولھاپور میں بنے نئے ڈیکن سنیما میں ’’پروٹیا‘‘ نامی ایک غیرملکی خاموش فلم قسط وار دکھائی جاتی تھی۔ اِس میں پراسرار عورت کا کردار اہم تھا۔ اُسی عورت کے نام پر خاموش فلم کو ’’پروٹیا‘‘ کا نام دیا گیا تھا۔ یہ پروٹیا پوری فلم میں کالے رنگ کے تنگ کپڑے پہن پہن کر کام کرتی تھی۔ یہ خاموش فلم اُن دنوں کولھاپور میں کافی مقبول ہو گئی۔ ہم بہن بھائیوں نے دیکھی۔ اور بھی ایک دو فلمیں دیکھی تھیں۔ اصل میں بات یہ تھی کہ اتنی ساری فلمیں دیکھنے کی ہم لوگوں کی حیثیت نہیں تھی، پھر بھی ہمارے ماں باپو جتنا ہو سکے وہاں تک، لاڈپیار میں ہم بچوں کی فرمائشیں، ضرورتیں برابر پوری کرتے تھے۔
باپو کی فطرت میں کچھ حجاب تھا۔ اُس کا ناجائز فائدہ اٹھا کر کافی گاہک دکان سے مال ادھار لے جاتے۔ ناٹک کمپنیوں کو تو کریانہ مال اور پیٹرومیکس ادھار دینا پسند کرتے تھے۔ پھر اُن لوگوں کا یہ حال ہوتا کہ کولھاپور سے چلتے وقت کہہ دیتے، ’’ارے راجا رام باپو، کوئی پرائے تھوڑی ہی ہیں، اپنے ہی آدمی ہیں۔ اُن کے پیسے اگلے مرحلے پر دے دیں گے۔ ‘‘ اور بس چلتے بنتے۔ لہٰذا کئی بار باپو اپنے پیسے وصولنے کے لیے ناٹک کمپنی کے پیچھے پیچھے دھول چھانتے پھرتے تھے۔ یہ بات مجھے آج بھی یاد ہے، جیسے کام پر باپو جب گاؤں سے باہر جاتے تو دکان میں کام کرنے والے نوکر کی اچھی بن آتی تھی۔ دکان کا مال چوری چھپے بیچاجاتا۔ اُس سے آنے والے پیسے خود ہی خرچ کر ڈالتا۔ اِن سبھی وجوہات کی بناء پر ہم لوگوں کو غریبی روز بہ روز زیادہ ہی محسوس ہونے لگی تھی۔

ایسی حالت میں میرے من میں آنے لگا کہ کسی طرح کچھ کام کر کے گھر گرہستی چلانے میں باپو کی مدد کرنی چاہیے۔ گرمی کی چھٹیوں میں ’شری وینکٹیشور پریس‘ میں،میں نے کمپوزیٹر کا کام کرنا شروع کر دیا۔ پہلے پندرہ دنوں میں میں نے سیاہی کا رولر چلانا اور ٹائپ جمانا سیکھ لیا۔ یہاں میں نے مہینے بھر کام کیا۔ اس کے لیے مجھے چھ روپے ملے۔ بعد میں ہر سال گرمی کی چھٹیوں میں میں چھاپاخانے میں یہ کام کیا کرتا تھا۔ بدلے میں حاصل پیسوں سے میرے سکول کی کاپیوں اور کتابوں وغیرہ کا خرچ تھوڑا بہت نکل آتا تھا۔

گندھرو ناٹک منڈلی میں رہ کر بال گندھرو کی مُدھر اور سریلی آواز میں گائیکی لگاتار سننے کو ملتی تھی۔ نیتجتاً سنگیت میں میری بھی دلچسپی ہو چلی تھی۔ دیول کلب میں گانے بجانے کی محفل ہمیشہ کی طرح ہوتی تھیں۔ کولھاپور دربار کے سنگیت رتن استاد اللہ دیا خاں صاحب کا گانا کلب میں ہوتا، تو نہ صرف کلب کھچاکھچ بھر جاتا بلکہ سیڑھیوں پر اور سڑک پر بھی لوگ کھڑے ہو کر اُن کا گانا سنا کرتے تھے۔ سنگیت کے ایسے پروگرام سن کر مجھے کلاسیکل سنگیت اچھے لگنے لگے تھے۔ رحمت خان، بھاسکربوابکھلے، عبدالکریم خان، سوائی گندھرو وغیرہ گائیک فنکاروں کا گانا مجھے پسند آنے لگا تھا۔ پھر بھی ستار اور ہارمونیم کے پروگرام مجھے بہت زیادہ بھاتے تھے۔ کئی بار گوبند راؤ ٹینے کے کولھاپور آنے پر اُن کے ہارمونیم بجانے کے پروگرام بھی ہوا کرتے تھے۔ لوگوں کے اصرار پر وہ کبھی کبھی ہارمونیم کے سُروں میں خود دبی آواز میں گا بھی لیا کرتے تھے۔ ہارمونیم کے سُروں کے ساتھ وہ اپنا سُر اتنا بڑھیا ملا دیتے تھے کہ سامعین داد دیے بغیر نہیں رہتے۔

ایسی محفلوں میں تانپورے پر بیٹھنے کے لیے کوئی نہ ملا تو مجھے ہی پکڑ بیٹھایا جاتا۔ منع کرتا بھی کیسے؟ مشہور گندھرو ناٹک منڈلی کی مہر جو مجھ پر لگی تھی! تانپورے پر بیٹھنے کی بوریت سے اپنا الاپ چھڑانے کے لیے، پروگرام شروع ہونے سے پہلے ہی میں کسی بڑے سے کھمبے کے پیچھے چھپ کر بیٹھتا۔ لیکن تبھی سامنے سے بابا دیول پکارتے، ’’ارے شانتارام، چلو آؤ، اٹھاؤ تانپورا۔‘‘ پھر میری کون سنتا؟ ہم تانپورا سنبھالنے کے لیے سٹیج پر پہنچ ہی جاتے۔ اس طرح زبردستی تانپورا بجاتے بجاتے میں تانپورا بجانے میں ماہر ہو گیا۔ (یہ دوسری بات ہے کہ تانپورا بجانا کچھ بھی مشکل نہیں!)

دیول کلب میں ہونے والے پروگروموں کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے بابا دیول کے من میں آیا کہ کیوں نہ کلب کی کوئی اپنی خودمختار عمارت ہو! بس، من میں آنا ہی تھا کہ انھوں نے اِس عمارت کے فنڈ کے لیے کلاسیکل موسیقی اور گائیکی کا ایک جلسہ منعقد کیا۔ جلسے کے بعد دیول جی نے اور رقم جمع کرنے کی غرض سے کلب کی طرف سے سٹیج پر ’وینور‘ نامی ناٹک پیش کرنےکا فیصلہ کیا۔اس ناٹک کے ایک زنانہ کردار کے لیے مجھے چنا گیا۔ ناٹک منڈلی میں سال بھر کام کرنے کی وجہ سے اب ساڑھی باندھ کر کام کرنے میں مجھے کوئی دقت محسوس نہیں ہوتی تھی۔اس ‘وینود’ نامی ناٹک میں نوجوان رادھا کے نثری مکالمے کا رول میں بہت ہی چستی سے کی کرتا تھا۔ اس ناٹک کو کولھاپور اور سانگلی میں تین بار پیش کیا گیا۔ دیول کلب کی عمارت کے چندے کے لیے پیسہ اچھا اکٹھا ہوا۔ اِس ناٹک میں میری چست اور جاندار اداکاری دیکھ کر ہی آگے چل کر کولھاپور کی ایک شوقیہ ناٹک کمپنی نے ’مان اپمان‘ ناٹک میں مجھے بھامنی کا کردار دینا طے کیا۔ اِس کردار میں کام کرنے کے لیے مجھے ایک ناٹک کے پورے بیس روپے ملتے تھے۔ لیکن دو بار سٹیج ہونے کے بعد ہی یہ ناٹک بند ہو گیا۔

اُسی وقت روٹین کی زندگی میں ایک واقعہ ہوا۔ اُسے کیا کہا جائے،عجیب یا سکھ دینے والا؟ پتا نہیں۔ لیکن وہ ایک دم بےوقت پیش آیا۔ میں گندھرو ناٹک منڈلی میں تھا، تب ہماری ہی کمپنی میں کام کرنے والے ایک خاندان کے ساتھ میرا تعارف ہو گیا تھا۔ اُس خاندان میں ایک دس گیارہ سال کی لڑکی تھی۔ اُس کا نام بڑا میٹھا تھا، ’’چیتی‘‘۔ میں اسے’’چیتا‘‘ کہا کرتا تھا۔

اس وقت میں تیرہ سال کا تھا۔ یہ لہنگا پہننے والی چیتی کئی بار ہمارے گھر آئی تھی۔ ہمارے مکان میں اوپری منزل پر ایک چھوٹی سی کوٹھری تھی۔ کئی بار بےسبب ہی اس کوٹھری میں آ کر چیتی چہکتی رہتی۔ میں اس کو نظرانداز کرتا اور سامنے رکھی کتاب پر بہت زیادہ دھیان دینے کی کوشش کرتا رہتا تو پھر ہار کر وہ مجھے ٹکٹکی باندھے دیکھتی رہتی تھی۔ اُس کی نگاہ بڑی نوکیلی تھی۔ لگتا تھا وہ مجھے چبھتی جا رہی ہے۔ اس پر میں سوچتا کہ اُس کی اِس نظر سے تو اُس کا پُھدک پُھدک کر چہچاتے رہنا ہی اچھا ہے۔ ایک دن اُس کی نظر ناقابلِ برداشت ہونے کی وجہ سے غصے میں میں نے اُس کا ہاتھ پکڑا اور زور سے مروڑ دیا۔ میرا خیال تھا کہ اب وہ چیخے گی، چلّائے گی۔ لیکن الٹا وہ ایک دم مجھ سے لپٹ گئی۔ لگا، جیسے کوئی ملائم چڑیا ہو! اُس کے جسم کی گرماہٹ، ملائم کوملتا مھے بہت ہی بھا گئی۔ میں نے بھی اُسے کس کر بانہوں میں سمیٹ لیا۔ اُس کی وہ تھوڑی سی شرماہٹ اپنی سی لگی۔ ہم نے لگاتار ایک دوسرے کو چومنا شروع کیا، چومتے ہی رہے۔

اُس کے بعد کئی بار دوپہر کی تنہائی میں وہ ہمارے یہاں آتی۔ میں بھی من ہی من میں اُس کا انتظار کرتا رہتا۔ وہ تب آتی جب گھر میں کسی کا آنا جانا نہ ہوتا، تو ہم دونوں کبوتر کے جوڑے کی طرح ایک دوسرے کو مضبوط حصار میں جکڑ لیتے۔ پھر کچھ دنوں بعد مالی مشکلات کے باعث ہم لوگوں نے اس گلی کا مکان چھوڑ دیا اور کہیں دور چلے گئے۔ تب سے وہ پھر کبھی مجھ سے نہیں ملی۔ چیتی آج اس دنیا میں ہے بھی یا نہیں، میں نہیں جانتا۔ لیکن اُس کے اُس پہلے (ملاپ؟) کی یاد آج بھی میرے دل کو گرماتی ہے۔

میری پڑھائی آگے جا رہی تھی۔ ہر سال جیسے تیسے پاس ہو کر میں اگلی جماعت میں جاتا تھا۔ انہی دنوں مجھے سکول کی کتابوں کے علاوہ کچھ پڑھنے کا شوق ہو گیا۔ دوستوں، پڑوسیوں اور سکول سے جو کتابیں مل سکتی تھیں، سبھی لا کر میں نے پڑھ ڈالیں۔ ایساپنیتی، پنج تنتر، ٹھکسین کی کہانیاں، الف لیلہ وغیرہ۔ تخیلاتی کتابیں پڑھنے سے زیادہ پڑھنے کا شوق پیدا ہو گیا۔ اسے پورا کرنے کے لیے میں کولھاپور کی ’نیٹو لائبریری‘ کا ممبر بن گیا۔ دکھی کتابیں پڑھ کر میرا من بہت دکھی ہوتا۔ اِس لیے کتاب پڑھنا شروع کرنے سے پہلے میں دیکھ لیتا، اُس کا اختتام کیسے کیا گیا ہے اور اگر دکھی ہو تو بنا پڑھے واپس لوٹا دیتا۔ میں کیا پڑھتا ہوں، اِس پر میری ماں کا باریکی سے دھیان برابر رہتا۔ وہ ایک جماعت انگریزی بھی پڑھے ہونے کی وجہ سے میری لائی ہوئی کتابوں کے کچھ صفحے پلٹ کر ضرور دیکھ لیتی۔ من چلے ہیجانی ناولوں کا سایہ بھی مجھ پر پڑنے نہیں دینا چاہتی تھیں۔

رامائن، مہابھارت، بھگوت وغیرہ مذہبی کتابیں بھی میں نے پڑھ ڈالی تھیں۔ ہری نارائن آپٹے کے مقصدی شِوکالین (مذہبی) ناول بڑے چاؤ سے پڑھ کر پورے کیے تھے۔ دکھی کہانیوں اور ناولوں کو دور سے ہی سلام کرنے والا میں، ہری نارائن آپٹے کا ’’لیکن دھیان کون دیتا ہے؟‘‘ (پن لکشات کون گیتو؟) ناول جو سماج کے سلگتے مسائل پر مبنی دل کو چھو لینے والی دکھی کہانی ہے، بغور آخر تک پڑھ گیا۔ بیواؤں کا سر منڈوانا، جرٹھ کماری ویواہ (ادھیڑ عمرعورت کی شادی)، عورتوں کی خواندگی وغیرہ مسائل کو افادی ڈھنگ سے چھو لینے والا یہ ناول کئی سالوں تک میرے من میں آسن جمائے رہا۔ ’’چار آنے کتھا مالا‘‘ میں چھپنے والی ’سنہری گروہ‘ کہانیاں پڑھنے میں مجھے کافی لطف آتا تھا۔ ہر روز میں بلاناغہ بلونت کولھاپور کا ’’سندیش‘‘ اور مشہور بال گندھرو تلک کا ’’کیسری‘‘ برابر پڑھتا رہتا تھا۔ انھیں یا تو لائبریری سے لا کر پڑھتا یا پڑوسیوں سے مانگ کر۔ ’سندیش‘ میں ہمیشہ سنسنی خیز خبریں اور چٹ پٹے مضمون ہوا کرتے تھے۔ ’کیسری‘ میں علمی اور عصری سیاست پر مبنی مضمون ہوا کرتے تھے۔ اُن مضامین اور سیاست کا راز اپنی سمجھ میں کوئی خاص نہیں آتا تھا، لیکن پھر بھی ’کیسری‘ معمول کے مطابق پڑھتا تھا۔

کچھ اور بڑا ہو جانے پر میں نے وشنو شاستری چِپلونکرکے مضامین، تلک کے گیتا رہیسے (گیتا کا راز)، استقامت کے ساتھ پورا پڑھ لیا۔ اِن کتابوں میں لکھی باتیں پوری طرح میری سمجھ میں تب تو نہیں آتی تھیں۔ پھر بھی انجانے میں گیتا کا درشن (فلسفہ) کہیں جڑ پکڑ گیا۔ کُرمنیے وادھی کراستے ماپھایشو کداچن (’’کام کرنا تمھارے بس میں ہے، اس کا پھل تمھارے بس میں نہیں اس لیے اپنا فرض نبھاؤ اور انجام ایشورپر چھوڑ دو‘‘) کی سیکھ میرےکورے من پر کافی گہری چھاپ نقش کر گئی۔

ان اچھے گرنتھوں کی طرح میرے جسم کی ساخت بناوٹ کے برعکس نتیجہ خیز، عجیب عجیب کتاب بھی ان دنوں میرے ہاتھ لگی۔ لائبریری کی کیٹلاگ میں ایک ویدِک طبی گرنتھ تھا۔ میں نے کافی جوش سے پڑھنے کے لیے اُسے لے لیا۔ لیکن یہ کہ گرنتھ میں جن روگوں کا جائزہ لیا گیا تھا، اُن میں ایک سے زیادہ روگوں کی کچھ نہ کچھ علامات میرے جسم میں موجود ہونے کا احساس مجھے ہونے لگا۔ مجھے یقین ہونے لگا کہ وہ تمام بیماریاں مجھے ہو گئی ہیں۔ میرے چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگیں۔ رنگت پھیکی پڑنے لگی۔ وزن گھٹنے لگا۔ روز بہ روز صحت گرنے لگ گئی۔ میری طبیعت خراب پا کر ماں نے مجھے ہومیوپیتھک ڈاکٹر پرابھاولکر کے پاس جانے کے لیے کہا۔ میرے پورے خاندان کو وہ ڈاکٹر بغیر فیس کے دوائیاں دیتے تھے۔

میں پرابھاولکر جی کے پاس گیا۔ انھوں نے میری صحت کا چھی طرح معائنہ کیا اور حیرت سے پوچھا، ’’کیوں رے، آخر تمھیں ہو کیا گیا ہے؟‘‘ میں نے کافی سنجیدگی سے انھیں اپنا درد بتایا اور یہ بھی بتا دیا کہ لائبریری سے لائے گئے اس گرنتھ میں بیان کردہ تمام بیماریوں سے میں روگی ہوں، ایسا مجھے ہر دن لگتا ہے۔ پرابھاولکر جی نے اچھی طرح سے دیکھا بھالا، پرکھا اور بتایا، ’’تمھیں کوئی بیماری نہیں ہے۔ ایک کام کرو، وہ جو کتاب لے آئے ہو نا تم۔ اُسے پہلے پھینک دو، اُس میں تم نے جو کچھ پڑھا ہے، پوری طرح بُھلا دو۔ تمھاری اِس بیماری کی اور کوئی دوا نہیں ہے، سمجھے؟‘‘

میں گھر واپس آ گیا۔ اس گرنتھ کو لائبریری میں واپس پہنچا دیا۔ لیکن اُس میں جو کچھ پڑھا تھا، اُسے بھلانے میں مجھے لگ بھگ ایک سال لگ گیا۔ پھر میری صحت دھیرے دھیرے ٹھیک ہونے لگی۔ تبھی ڈیکن سنیما کے مالک آنندراؤ پنیٹر اور واشیکر کے درمیان کچھ اَن بَن ہو گئی۔ واشیکر نے یہ کیا کہ تھیٹر میں لگی مشینری ہٹا کر سنیما کو کسی دوسرے گاؤں لے جایا جائے۔ ہمارے باپو اور واشیکر اچھے مِتر تھے۔ باپو نے میرے دادا کو سنیما کا انجن، پروجیکٹر وغیرہ کا کام سِکھانے کے لیے اُن کے پاس بھیج دیا۔

اِدھر ہماری کریانہ دکان کا دیوالہ نکلنے کو تھا۔ لوگوں کے پیسے چکانے میں دیری ہو رہی تھی۔ باہر پیٹرومیکس میں سے پانچ چھ خراب ہو گئے تھے۔ نتیجتاً وہ دھندا بھی ٹھیک سے چل نہیں رہا تھا۔ کوئی اور کام دھندا کرنا ضروری ہو گیا تھا۔ ڈیکن سنیما کے مالک واشیکر نے باپو کو کچھ کام دینا چاہا۔ باپو سے انھوں نے جاننا چاہا کہ کیا وہ ہُبلی میں اُن کے سنیما میں لیکھاجوکھا (حساب کتاب) لکھنےاور مارکیٹ لیڈر کا کام کرنا پسند کریں گے؟ باپو نے آج تک ہمیشہ خودمختار کاروبار ہی کیا تھا، سچ پوچھا جائے تو نوکری ان کے بس کا روگ نہیں تھا۔ پھر بھی شاید ہم سب کا خیال کر، انھوں نے ہُبلی جانا قبول کیا تھا۔

باپو نے کریانہ مال کی وہ دکان بیچ دی۔ جو رقم آئی اس میں سے لوگوں کا جو تھوڑا بہت پیسہ دینا تھا، دے دیا۔ ڈیکن سنیما میں نوکری کرنے وہ ہُبلی چلے گئے۔ ہمارا گھروندہ بکھر گیا۔ دادا پہلے ہی دوسرے گاؤں میں سنیما کی نوکری کرنے چلا گیا تھا۔ وہ وہاں بجلی پیدا کرنے والی مشین چلاتا اور سنیما چالو ہونے پر اُس کے سین پر پیانو بجاتا۔ ولایتی خاموش فلموں میں دی جانے والی معلومات انگریزی میں ہوا کرتی تھیں۔ عام ناظرین کی سمجھ میں وہ نہیں آ پاتیں۔ دادا اُن کا مراٹھی ترجمہ کر تھیٹر میں زوردار آواز میں اُن کی جانکاری دیتا۔ باپو اور دادا کو جو تنخواہ ملتی تھی اُس میں کھانے پینے اور رہائش کا نظام بھی شامل تھا، اس لیے کل تنخواہ میں سے اپنے خرچ کے لیے رکھ کر باقی سارا پیسہ وہ ہمارے لیے کولھاپور بھیج دیتے تھے۔ ہُبلی سے آنے والے پیسوں میں سے ہمیشہ ضروری پیسے ہی ہم لوگ گھر میں رکھتے۔ باقی سارا پیسہ لوگوں کا قرض چُکتا کرنے میں خرچ ہو جاتا۔ ماں تو اب بہت زیادہ محنت کرنے لگی تھیں۔ ہمارے نانا ہر روز کچہری جاتے، لیکن کبھی کبھار ہی ایک آدھ روپیہ کما لاتے۔ گھر آتے ہی فوراً وہ سب کاموں میں ماں کا ہاتھ بٹانے میں جٹ جاتے۔ میں بھی جو مجھ سے ہو سکے اپنی ماں کی مدد کیا کرتا۔ حالت اتنی بری ہونے کے باوجود میری اور میرے تینوں چھوٹے بھائیوں کی تعلیم جاری تھی۔

میں اب ساتویں میں تھا۔ ہماری کلاس اوپری منزل پر لگا کرتی تھی۔ کلاس کے باہر ہی چھجا بنا تھا، لیکن اُس میں کوئی دیوار یا جافری نہیں لگی تھی۔ ایک دن کی بات ہے، پتا نہیں کس دُھن میں میں کسی سے باتیں کرتے الٹا پیچھے پیچھے جا رہا تھا۔ ہمارے ایک گروجی واسو نانا کُلکرنی اُدھر ہی سے جا رہے تھے۔ انھوں نے کہا، ’’گدھے! نیچے گرنا ہے کیا؟‘‘ کہتے ہوئے بائیں کنپٹی پر اتنی زور سے چانٹا مارا کہ میرا کان زخمی ہو گیا اور بعد میں تو بہنے بھی لگ گیا۔ کُلکرنی جی کا کس کر مارا ہوا وہ چانٹا آج تک مجھے اچھی طرح یاد ہے، کیونکہ تبھی سے بائیں کان سے میں کچھ اونچا سننے لگا ہوں۔
میٹرک کی کلاس پاس آتی جا رہی تھی۔ اُسی وقت مجھے سردرد کی بیماری ہو گئی۔ ڈاکٹروں نے کچھ سال تک عینک لگانے کی صلاح دی۔ یونیورسٹی کا انٹری ٹیسٹ ہو گیا۔ اُس میں سنسکرت میں ہم فیل ہو گئے۔ ہمارے سنسکرت کے پرچے واسو نانا کُلکرنی گروجی نے ہی چیک کیے تھے۔ میرے من میں بیکار ہی ایک بچگانہ خیال آ گیا کہ ہو نہ ہو، انھوں نے جان بوجھ کر مجھے فیل کیا۔ جیسا کہ اُن دنوں رواج تھا، انٹری ٹیسٹ میں فیل ہونے والے طالب علم کو میٹرک کی کلاس کا فارم نہیں دیا جاتا تھا اور میری سکول کی تعلیم ختم ہو گئی۔

تب تک ماں نے باپو کا کافی قرض اتار دیا تھا۔ جن چند لوگوں کا پیسہ دینا باقی تھا۔ انہیں پورا یقین تھا کہ باپوان کاپیسہ ایک نہ ایک دن ضرور چکا دیں گے، کھا نہیں لیں گے۔ ایسی حالت میں ایک دن باپو کا ہُبلی سے خط آیا۔ انھوں نے ہم سب کو ہُبلی بُلا لیا تھا۔ ماں نے سارا سامان بٹورا اور باقی لین داروں کو یقین دہانی کرا، کہ ہُبلی سے اُن کا پیسہ ضرور بھیج دیں گے، ہم سب کولھاپور سے رخصت ہوئے۔

اُس حالت میں بھی، ہم سب پھر سے ایک ہی جگہ پر آ گئے، اِس کی راحت ہم سب نے محسوس کی۔ ہمارا ہُبلی کا مکان بہت ہی چھوٹا تھا۔ دادا تو تھیٹر میں ہی سوتا اور باقی ہم لوگ ایک دوسرے سے کافی سٹ کر ہاتھ پاؤں سمیٹے جیسے تیسے ایک ہی کمرے میں سو لیتے تھے۔ ہُبلی میں مراٹھی زبان بولنے والوں کی تعداد بہت ہی کم تھی۔ زیادہ تعداد میں لوگ کنّڑ ہی بولتے تھے۔

کچھ دنوں بعد خبر ملی کہ محکمۂ ڈاک میں کلرکوں کی نوکری کے لیے ہُبلی میں امتحان لیا جانے والا ہے۔ اُس میں پاس ہونے والوں کو سرکار میں مستقل نوکری ملنے والی تھی۔ اس امتحان میں بیٹھنے کا میں نے فیصلہ کیا۔ کافی محنت کر اُس کے لیے تیاریاں کیں۔ کچھ دنوں بعد رزلٹ آیا۔ میں بالکل فیل ہو گیا۔ پھر ایک بار فیل! میٹرک کا امتحان دینے کے لیے سکول نے مجھے نااہل ٹھہرا ہی دیا تھا، اب محکمۂ ڈاک نے بھی مجھے نالائق قرار دیا۔ اندر ہی اندر میں ٹوٹ چکا تھا۔

کچھ دن یوں ہی بیکار بِتائے۔ ایک دن باپو نے مجھ سے پوچھا، ’’یہاں ہُبلی میں ریلوے کی ایک بڑی ورکشاپ ہے۔ اُس میں کام کرنے والے ایک بڑے افسر میری پہچان والے ہیں۔ اُن کی سفارش سے اُس ورکشاپ میں فٹر کی نوکری تمھیں مل سکتی ہے، محنت بھی کافی کرنی پڑے گی۔ تم کرو گے نا فٹر کا کام؟‘‘
’’فٹر کا ہی کیوں؟ کسی جھاڑ ووالے کا کام ہو تو وہ بھی کرنے کو میں تیار ہوں،‘‘ میں نے جواب دیا۔

باپو نے کوشش کی۔ ریلوے ورکشاپ میں فٹر کے کام پر مجھے نوکری مل گئی۔ تنخواہ تھی روز کے آٹھ آنے۔ ہر روز میں صبح سات بجے کام پر حاضر ہو جاتا۔ ساڑھے گیارہ بجے ایک بھونپو بجتا۔ وہ کھانے اور آرام کا شارہ ہوتا۔ میں فوراً دوڑ کر گھر جاتا، باجرے کی روٹی سبزی کھا کر پھر لگ بھگ دوڑتے بھاگتے لوٹ بھی آتا، اور ساڑھے بارہ بجے کام پر حاضر ہو جاتا۔ شام چھ بجے تک کام جاری رہتا۔

اِس طرح دن بھر کام کرنے کے بعد ہر روز رات میں ڈیکن سنیما کے دروازے پر ڈورکیپر کا کام بھی میں کیا کرتا۔ اس کام کا مجھے کوئی پیسہ ویسہ نہیں ملتا تھا۔ فائدہ اتنا ہی تھا کہ سبھی فلمیں مفت میں دیکھنے کو مل جایا کرتی تھیں۔ یہیں میں نے ایڈی پولو وغیرہ اداکاروں کی خاموش فلمیں بالترتیب دیکھی تھیں۔ ان فلموں میں اکثر گھڑدوڑ، پستول بازی، مار پیٹ وغیرہ کے منظروں کی بھر مار ہوا کرتی تھی۔ کبھی کبھاربھولے سے ایک آدھ بڑھیا جذباتی فلم بھی دیکھنے کو مل جایا کرتی تھی۔

اسی ڈیکن سنیما میں ہی میں نے داداصاحب پھالکے کی بنائی اور ڈائریکٹ کی گئی ’’لنکادہن‘‘، ’’بھسما سُر موہنی‘‘، ’’کرشن جنم‘‘ بھی دیکھی تھیں۔ اس سے پہلے کولھاپور میں میں نے پھالکے جی کی ’’ہیر چندر‘‘ نامی خاموش فلم بھی بڑی عقیدت سے دیکھی تھی۔ مجھے وہ بہت اچھی لگی تھی۔ اُس میں عورتوں کے کردار مردوں نے نبھائے تھے۔ ولائتی فلموں میں عورتوں کا کردار عورتیں ہی کیا کرتی تھیں اور انھیں دیکھنے کی عادت پڑجانے کی وجہ سے ’’ہیر چندر‘‘ خاموش فلم کی یہ بات اتنی بھا نہیں سکی تھی۔ لیکن یہ تو ماننا ہی پڑے گا کہ اُن کے معجزوں پر مبنی حیرت انگیز باتوں کو دکھانے والی خاموش فلمیں لوگوں کے ذہنوں پر چھا گئی تھیں، حاوی ہو گئی تھیں۔ کہتے ہیں، بمبئی میں ’’لنکادہن‘‘ دکھائی گئی، تب تو اتنا پیسہ ملا کہ گاڑیاں بھر بھر کر ماہانہ پیسہ لے جایا گیا تھا۔ اُس کے بعد بھی ان کی کئی فلمیں بہت ہی کامیاب رہی تھیں۔ پھالکے جی اُن گاؤوں میں جہاں تھیٹر نہیں ہوتے تھے، اپنا پروجیکٹر لے کر جاتے اور لوگوں کو سنیما دکھاتے تھے۔ اُن کی انہی کوششوں کے نتیجے میں عوام میں تفریح کے اچھے ذریعے کے روپ میں سنیما کے لیے ایک قسم کے تجسس اور کشش کا آغاز ہو گیا تھا۔

ریلوے ورکشاپ میں جلد ہی چیٹلے، اردھ گول آکار، گول آکار، اور دیگر چھوٹے موٹے قسم کی سٹیل ریتوں کی مدد سے ریلوے ڈبوں کے متنوع حصوں کو تراشنا، پالش کرنا وغیرہ کاموں میں ماہر ہو گیا۔ میری اِس ترقی کو دیکھ کر فورمین نے ریلوے یارڈ میں ریپئری (مرمت) کے لیے لائی گئی ویگنوں کے بفرز ٹھیک کرنے کے کام کی پوری ذمےداری مجھے سونپ دی۔ میری تنخواہ بڑھ گئی۔ اب ہر روز بارہ آنے ملنے لگے۔ میرا جوش بڑھا اور ویگنوں کے بفرز کو ٹھیک کرنے کے کام میں میں بڑے چاؤ سے جُٹ گیا۔

ایک دن ریلوے یارڈ میں ویگنوں کے بفر کی جانچ پڑتال کر خرابی کو ٹھیک کرتے وقت میں اکیلا تھا۔ پہلے دو ڈبوں کے بفرز دیکھ چکا۔ اُن کی سپرنگ کوائلز ٹھیک حالت میں تھیں۔ جو تھوڑی سی گڑبڑ تھی اُسے میں نے ٹھیک کر دیا اور تیسری ویگن کے پاس پہنچا۔ بڑی ہی خوداعتمادی سے اُس کے ایک بفر سپرنگ دیکھنے کے لیے لوہے کا وہ گولا دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر زور سے اندر کی طرف دبایا۔ لیکن اُس بفر میں سپرنگ تھے ہی نہیں، اس لیے میری انگیاں بفر میں پھنس کر زوروں سے کچلی گئیں۔ میں زور سے چیخ کر بےہوش ہو کر گر پڑا۔ میری چیخ سننے والا آس پاس کوئی نہیں تھا۔ دو تین گھنٹے بعد ہوش آیا تو دیکھا کہ میرے دائیں ہاتھ کی انگیاں خون سے لت پت ہو گئی ہیں۔ یارڈ سے ورکشاپ تک جیسے تیسے پہنچ گیا اور سُوجن کی وجہ سے پھولا ہوا ہاتھ فورمین کو دکھا کر گھر لوٹ آیا۔

اس حادثے کے بعد کافی دن مجھے بخار آتا رہا۔ انگیوں میں ہوئے زخموں کے گھاؤ بھرنے اور سوجن اترنے میں کافی دن لگ گئے۔ اس حادثے کے باعث میری شہادت کی انگلی کے پاس کی انگلی ٹیڑھی میڑھی ہو چکی ہے۔ ہُبلی ورکشاپ میں کیے کام کی یاد کے روپ میں آج بھی وہ ویسی ہی ٹیڑھی ہے۔

لیکن کئی دن بیمار رہنے کی وجہ سے میری ریلوے کی وہ نوکری جاتی رہی۔ میں پھر بیکار ہو گیا۔ انہی دنوں ڈیکن سنیما کے سامنے ایک مہاشے نے فوٹوگرافی کا سٹوڈیو مارڈن سائن بورڈ پنیٹنگ کی دکان کھولی تھی۔ باپو نے مجھے اُن مہاشے کے پاس دونوں کام سیکھنے کے لیے بھجوایا۔ وہاں ڈویلپنگ کے فن سے میرا پہلا رابطہ ہوا۔ فوٹو نکالنا، اُس کے شیشے دھونا، پرنٹ نکالنا، فوٹو ماؤنٹ پر چڑھانا وغیرہ، ساری باتیں میں دھیرے دھیرے سیکھ گیا اور انھیں اچھی طرح سے کرنے بھی لگا۔ بڑی بڑی دکانوں پر اُن کے نام کے جو فلیکس لگائے جاتے، انھیں میں اچھی طرح رنگنے بھی لگا تھا۔ دکان کا سارا کام سیکھ چکنے کے بعد بھی مہاشے مجھے تنخواہ تو دیتے ہی نہیں تھے۔ بلکہ مجھے سکھانے کے احسان کے بدلے دونوں وقت ہمارے یہاں روٹی کھانے کے لیے آ جمتے تھے۔ اپنی طرف سے میں گرہستی میں ایک پائی کی بھی شراکت نہیں کر پا رہا تھا، بلکہ الٹا میری تربیت کی وجہ سے گھر میں ایک اور آدمی کو کھلانے پلانے کا خرچ بڑھ گیا۔ اس کی چبھن میرے من کو کھائے جا رہی تھی۔

ایک دن ہم لوگوں کو معلوم ہوا کہ باپو اور ڈٰیکن سنیما کے مالک واشکیر میں ناراضی ہو گئی ہے۔ باپو نے سنیما کی نوکری چھوڑ دی۔ اُن کے ساتھ دادا کو بھی وہاں کی نوکری چھوڑنی پڑی۔ واشیکر، اُن کے خاندان، باپو اور دادا کا کھانا بنانے کے لیے ایک باورچی انھوں نے رکھا تھا۔ اُس کا بھی واشیکر کے ساتھ جھگڑا ہو گیا اور اُس نے بھی نوکری چھوڑ دی۔ لیکن اس کی صلاح بھی یہی تھی کہ باپو اور وہ دونوں مل کر ساجھے داری میں ایک ہوٹل شروع کریں۔ پیٹ پالنے کے لیے دوسرا کوئی چارہ نہ ہونے کی وجہ سے باپو نے اُس کا مشورہ مان لیا۔

باپو نے ہوٹل شروع کیا۔ اس سے آمدنی بھی اچھی ہونے لگی۔ ہم لوگوں کا کُنبہ پھر سے اچھے دن دیکھنے لگا۔ گاڑی پھر پٹری پر آ گئی۔ لیکن کچھ ہی دن بعد اُس باورچی کے من میں برائی جاگی۔ ایک دن لڑجھگڑ کر وہ چلا گیا۔ ہوٹل بند کرنے کی نوبت آ گئی۔

لیکن تب میری ماں کمر کس کر آگے آئی۔ بولی، ’’ہوٹل کے بند وَند کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ہوٹل کے سارے کھانے میں خود تیار کروں گی۔‘‘
باپو ماں کی طرف دیکھتے ہی رہے، بولے، ’’تم؟ تم ہوٹل کی کھانے پینے کی چیزیں بناؤ گی؟‘‘

ماں نے مضبوطی سے کہا، ’’جی ہاں! آپ ہوٹل کو چالو رکھیے۔ آخر گھر میں میں کھانا تو پکاتی ہی ہوں نا؟ وہی کچھ زیادہ لوگوں کے لیے یہاں پکا لوں گی۔ تھوڑا زیادہ وقت دوں گی۔ گھر میں اپنے پانچ بچوں کے لیے بناتی ہوں، ہوٹل میں آنے والے سب کو اپنے ہی بچے مان کر اُن کے لیے بھی بنایا کروں گی۔‘‘
سارے سنسار کی پرورش کرنے والی جیتی جاگتی جگن ماتا (دیوی ماں) بھوانی میری ماں کے روپ میں بولی تھی۔ باپو نے ہوٹل کو جاری رکھا۔ ماں تڑکے چار بجے اٹھتی اور تبھی سے کمر کس کام میں جُٹ جاتی۔ کھانے پینے کے سامان کی چیزیں اتنی مزیدار اور رسیلی بناتی کہ ہمارا ہوٹل پہلے سے بھی زیادہ اچھا چلنے لگا۔ سویرے چار بجے سے لے کر رات دس بجے تک چولھے کی آنچ میں تپ کر لال لال بنا اُس کا چہرہ، اور کانوں کے پیچھے سے اترتی پسینے کی دھار دیکھ کر میرے پیٹ میں بل پڑتے۔ ماں کی اتنی ساری محنت لاچار ہو کر دیکھتا، دیکھتا ہی رہ جاتا۔ اتنی محنت کرنے کے باوجود ہم نے ماں کو کبھی یہ کہتے نہیں سُنا، تھک گئی رے بھیا، اب یہ سب مجھ سے نہیں ہوتا! کئی بار رات میں فوٹوگرافی کے سٹوڈیو سے لوٹ آنے کے بعد میں ماں کے پاؤں دبانے بیٹھتا۔ اتنی ہی اُس تھکے ہوئے جسم کی سیوا ہو پاتی!

کچھ دنوں بعد میرا خالہ زاد بھائی بابو (بابوراؤ پینڈھارکر) بابوراؤ پینٹر کی کولھاپور میں بنائی ’’سیرنگری‘‘ نامی خاموش فلم ڈیکن سنیما میں دکھانے کے لیے ہُبلی آیا۔ بابوراؤ پنیٹر کی مہاراشٹر فلم کمپنی میں منیجر تھا (میرا کزن) بابوراؤ۔ جوئے میں ہارے پانڈو خفیہ طور پر وِراٹ راجا کے محل میں بھیس بدل کر رہتے ہیں، مہا بھارت کے اِس ایک واقعے پر وہ فلم بنائی گئی تھی۔ اِس فلم میں عورتوں کے کردار عورتوں نے ہی کیے تھے۔ بابوراؤجی پینٹر نے فلم کی ڈائریکشن بڑی سوجھ بوجھ اور اُپج سے کی تھی۔ اُس میں فنکاری بھی کافی تھی۔ سبھی کی اداکاری بھی اتنی بَڑھیا تھی کہ سبھی کردار جاندار اور سچ مچ کے لگتے تھے۔ خاص فخر کی بات یہ تھی کہ فلمسازی کے لیے بابوراؤ جی پینٹر نے کمال دیسی کیمرا بنایا تھا۔ پنیٹرجی کے خود بنائے ہوئے کیمرے پر فلمائی گئی یہ فلم پونا میں جانے مانے تلک جی نے دیکھی اور انھوں نے اس فلم کی، اور اُس مقامی کیمرے کی بہت بہت تعریف کرتے ہوئے اُسے ایک گولڈمیڈل اور تصدیقی خط سرٹیفیکٹ دیا تھا۔

میں نے اس فلم کو باربار یکھا۔ سوچا، بابو کے ساتھ میں بھی چلا جاؤں مہاراشٹر فلم کمپنی میں۔ فوٹوگرافی تو میں نے سیکھ ہی لی تھی۔ لہٰذا ہمت اکٹھی کر میں نے بابو سے پوچھا، ’’بابو، کیا تمھاری فلم کمپنی میں مجھے کچھ کام مل سکتا ہے؟ بات یہ ہے کہ صرف ایک وقت کا کھانا مل جائے تو اُتنے پر ہی ہر کام کرنے کے لیے میں تیار ہوں۔‘‘

بابو نے کچھ سوچ کر بتایا، ’’ٹھیک ہے، تم کولھاپور آ جاؤ۔ کمپنی شِواجی تھیٹر میں ہے۔ وہاں آ کر مجھے ملنا۔ میں تمھیں بابوراؤ پینٹر کے سامنے کھڑا کر دوں گا۔ وہ تمھیں دیکھیں گے، بس!‘‘
’’اس کا مطلب تو یہ رہا کہ بابوراؤ پینٹر مجھے دیکھ کر پاس یا فیل کر دیں گے، ہے نا؟‘‘

بابو مجھے ڈھارس بندھاتے ہوئے بولا، ’’بھئی، ڈرتے کیوں ہو؟ تم آؤ تو سہی کولھاپور۔‘‘ اتنا کہہ کر وہ سنیما گھر میں چلا گیا۔ سنیما کے دروازے پر کھڑے کھڑے میں سوچنے لگا، بابوراؤجی پینٹر مجھے دیکھیں گے۔ اُن کی نظر کے امتحان میں بھی کیا میں پاس ہو پاؤں گا؟ کہتے ہیں، کوئی بات دو بار ہوئی تو تیسری بار بھی ضرور ہو جاتی ہے۔ دو بار تو میں فیل ہو چکا تھا، اب تیسری بار ہونے جا رہی ہے، اس امتحان میں بھی میں فیل رہا تو؟ اس کا تصور بھی میرے لیے ناقابل برداشت تھا۔ ہاتھ جوڑ کر، آنکھیں بند کرتے ہوئے میں بڑبڑایا: ’’اب کی بار تو مجھے فیل مت کرنا میرے پربھو!‘‘

’’سیرنگری‘‘ فلم کو دکھانے کے بعد بابو فلم کے ڈبے لے کر کولھاپور واپس چلا گیا۔ اُسے گئے دو تین ہفتے بیت گئے۔ تب میں نے باپو سے مہاراشٹر فلم کمپنی میں کام کے لیے جانے کی بات چھیڑی۔ انھوں نے ہاں یا نا کچھ بھی نہیں کہا۔ شاید اب تک وہ اچھی طرح جان چکے تھے کہ میں جو بات ٹھان لیتا ہوں، پوری کر کے ہی رہتا ہوں۔ باپو نے میرے ہاتھ پر ریلوے کا ٹکٹ اور پندرہ روپے رکھے اور بولے، ’’اور پیسوں کی ضرورت پڑ جائے تو لکھنا۔‘‘ ان سے پیسے لیتے وقت مجھے کافی عجیب سا لگا۔

چلتے وقت میں نے باپو کے پاؤں میں ماتھا ٹیکا، ماں کے بھی پاؤں پڑا۔ لگاتار کام کرتے رہنے کی وجہ سے کھردری ہتھیلی بڑی مامتا سے میرے چہرے پر گھما کر ماں نے مجھے چوم لیا۔ ہُبلی سے کولھاپور جانے والی ریل میں بیٹھتے وقت میں نے پکا ارادہ کر لیا کہ اب جو بھی ہو، جو بھی کام کرنا پڑے، اپنے پاؤں پر کھڑا ہو کر ہی چین لوں گا۔ زندگی کے دن جیسے بھی گزارنا پڑے، باپو سے پیسے نہیں منگواؤں گا! اِسی سوچ وچار میں ایسا الجھ گیا کہ کولھاپور کب آ گیا پتا ہی نہ چلا۔ گاڑی صبح چھ بجے کولھاپور پہنچی۔ سٹیشن کے باہر صرف ایک ہی تانگہ کھڑا تھا۔ تانگے والا بوڑھا تھا۔ اُس سے میں نے پوچھا، ’’تانگے والے بابا، مجھے شِواجی تھیٹر تک لے جاؤ گے؟‘‘

’’ضرور، کیوں نہیں! آؤ بیٹھو، چار آنہ لوں گا۔‘‘
’’چار نہیں، دو آنے دوں گا۔‘‘
’’اچھا اچھا، بیٹھو بچے۔ اپنا مکان بھی اُدھر ہی ہے۔ آؤ بیٹھو۔‘‘
میں تانگے میں بیٹھ گیا۔ تانگہ چلنے لگا۔ میں تو شِواجی تھیٹر پہنچنے کے لیے بےتاب ہو رہا تھا لیکن تانگہ تو چیونٹی کی رفتار سے چلتا ظاہر ہو رہا تھا۔ میں نے تانگے والے بابا سے کہا، ’’ذرا تیز دوڑائیے نا تانگے کو۔‘‘
’’ارے بچے، دو آنے میں گھوڑا تیز کیسے بھاگ سکتا ہے؟‘‘
میں نے ہنس کر کہا، ’’گھوڑا تھوڑے ہی جانتا ہے، دو آنے ملے یا چار۔‘‘
’’پر وا کو مالک تو جانت ہے نا؟‘‘ (پر اس کا مالک تو جانتا ہے نا؟) ایسا کہہ کر اُس نے زور سے ٹہوکا لگایا اور گھوڑے کو ایک ہنٹر جما دیا۔

تانگہ سرپٹ بھاگنے لگا۔ میرے دماغ میں سوچوں کا چکر بھی اتنی ہی رفتار سے چلنے لگا۔ ’’سیرنگری‘‘ کا منظر ذہن میں آ گیا۔ میں مہاراشٹر فلم کمپنی میں کسی نہ کسی کام پر لگ گیا ہوں۔ نئی فلم کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ میں وہاں سب کو میک اپ کر رہا ہوں۔ اپنا بھی میک اپ کر اُس فلم میں کبھی بہادر سپاہی کا، تو اُس سے اگلی فلم میں راجا کے بیٹے کا رول ادا کر رہا ہوں۔ میری اکڑ اور ادا کو بابو فخر کے ساتھ دیکھ رہا ہے۔ بابوراؤ پینٹر میرے کام سے خوش ہو کر میری پیٹھ تھپتھپا رہے ہیں، شاباشی دے رہے ہیں اور۔۔۔

اور تبھی زور سے جھٹکا لگا۔ میں ہڑبڑا کر ہوش میں آ گیا۔ تانگہ رُک گیا تھا اور تانگے والا کہہ رہا تھا، ’’جی، اب اُتر جاؤ چھوٹے بابو، شِواجی تھیٹر آن پہنچے ہیں۔‘‘

تانگہ شِواجی تھیٹر کے دروازے پر ہی کھڑا تھا۔ میں نے تانگے والے کو پیسے دیے، اپنا صندوق اور بستر لے کر نیچے اُترا اور بڑے جوش اور اُمنگ کے ساتھ تھیٹر کے پورچ سے ہوتا ہوا اندر جانے لگا۔ نظر کچھ اونچی اٹھی اور پاؤں ایک دم تھم گئے۔ ایک بڑی سی تختی پورچ کی چھت سے نیچے لٹک رہی تھی۔ اُس پر لکھا تھا: ’’بنا اجازت کے اندر آنا منع ہے۔‘‘

(جاری ہے)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لالٹین پر وی شانتا رام کی خود نوشت سوانح کا ترجمہ سہ ماہی “آج” کے بانی اور مدیر “اجمل کمال کے تعاون سے شائع کیا جا رہا ہے۔ اس سوانح کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

[blockquote style=”3″]

انتساب: میں ترجمے کا یہ عمل دو ہستیوں کے نام کرتی ہوں، اپنے دادا ابو شوکت علی کہ انہوں نے اس ایلس کی راہ کے کانٹے چنے اور اپنی ہندی گرو مسز شبنم ریاض کہ جنہوں نے ایلس کو ایک نئی دنیا کا راستہ دیکھایا۔

[/blockquote]

Categories
نان فکشن

شانتا راما باب 3: گھنگھریالے بالوں کی بغاوت (ترجمہ: فروا شفقت)

[blockquote style=”3″]

’’شانتاراما‘‘ برصغیر کی فلم انڈسٹری کے بانیوں میں شامل وی شانتا رام کی آپ بیتی ہے جو انھوں نے اپنی آخری عمر میں مراٹھی میں بول کر لکھوائی اور چھپوائی تھی۔ بعد میں اس کا ہندی روپ شائع ہوا۔ شانتارام جن کا پورا نام شانتارام راجارام وانکودرے تھا، 18 نومبر 1901 کو پیدا ہوے اور کو پیدا ہوے اور 30 اکتوبر 1990 کو وفات پائی۔ مہاراشٹر کے شہر کولھاپور میں، جو برٹش راج کے دور میں ایک رجواڑے یا نوابی ریاست کا صدرمقام تھا، انھوں نے خاموش فلمیں بنانے سے آغاز کیا اور بعد میں پونا اور بمبئی میں مراٹھی اور ہندی کی بےشمار فلمیں بنائیں۔ اس طرح شانتارام کی لمبی پیشہ ورانہ زندگی کی دلچسپ داستان اس خطےکی فلمی دنیا کی تاریخ بھی ہے۔ اس تاریخ کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے کرداروں میں مختلف علاقوں، ذاتوں، زبانوں، طبقوں اور پیشوں کے لوگ شامل ہیں جنھوں نے مل کر ایک رنگارنگ منظرنامہ تیار کیا جس کی جھلکیاں اردو میں سعادت حسن منٹو کی ان تحریروں میں ملتی ہیں جن کا پس منظر 1940 کی دہائی کا بمبئی شہر اور وہاں کی فلمی دنیا ہے۔ ’’شانتاراما‘‘ میں اس دنیا کے رفتہ رفتہ بننے اور پھیلنے کی کہانی بڑے بےتکلف اور دلچسپ اسلوب میں بیان کی گئی ہے۔ شانتارام کی معروف ہندی فلموں میں سے چند کے نام یہ ہیں: ’’ڈاکٹر کوٹنِس کی امر کہانی‘‘ (1946)، ’’امر بھوپالی‘‘ (1951)، ’’جھنک جھنک پایل باجے‘‘ (1955)، ’’دو آنکھیں بارہ ہاتھ‘‘ (1957)۔ ’’شانتاراما‘‘ کا اردو روپ ہندی متن کی بنیاد پر فروا شفقت نے تیار کیا ہے جو گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں پی ایچ ڈی سکالر ہیں۔

[/blockquote]

’’شانتارام، اٹھاؤ اپنا سامان۔ تمھیں تمھارے رہنے کی جگہ دکھاتا ہوں۔‘‘

گنپت راؤ ٹینبے کا وہ حکم سن کر میں ہوش میں آیا۔ میں گندھرو ناٹک منڈلی کی رہائش گاہ پر گنپت راؤ جی کے کمرے میں کھڑا تھا۔ باپو مجھے وہاں چھوٖڑ کر پہلے ہی چلے گئے تھے۔ اس ننھی سی عمر میں ماں اور باپو کے بغیر اتنی دور اِس سے پہلے کبھی نہیں رہا تھا۔ نم آنکھوں سے میں نے گنپت راؤ کی طرف دیکھا۔ لیکن آنسو اتنے بھر آئے تھے کہ اُن کی شکل ٹھیک سے صاف دکھائی نہیں دی۔ میری پیٹھ سہلاتے ہوے انھوں نے کہا، ’’دھت تیری، پاگل! تم رو رہے ہو؟ آؤ تمھیں دکھاتا ہوں، یہاں تمھاری عمر کے کتنے لڑکے رہتے ہیں!‘‘

میں ایک دم تن کر کھڑا ہو گیا۔ ناٹک میں آنے کا فیصلہ میرا اپنا ہی تو تھا، پھر یہ کیا ہو رہا ہے! نہیں نہیں! ایسے کام نہیں چلے گا۔ یہ سوچ کر میں نے فوراً اپنا پیٹی بستر اٹھایا۔ آنکھوں میں رُکے آنسو اندر ہی رہ گئے، چھلکے نہیں تھے۔

وہ مجھے ایک بڑے ہال میں لے گئے۔ وہاں میرے جیسے بہت سے لڑکے تھے۔ گنپت راؤ نے کہا، ’’بچو، یہ ہے شانتارام، اسے بھی اپنے ساتھ شامل کر لو!‘‘
میری ہی عمر کا ایک گورا سا لڑکا سامنے آیا۔ مسکرا کر اُس نے میرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اور بولا، ’’آؤ شانتارام، وہاں رکھو اپنا سامان۔‘‘ ایک خالی جگہ کی طرف انگلی سے اشارہ کر کے اُس نے کہا۔ وہاں میں نے اپنا بستر رکھا۔ اُس کے پاس ہی اپنا صندوق بھی رکھ دیا۔ اُس کمرے کے باقی لڑکے میری طرف بےتابی سے دیکھ رہے تھے۔ میری بغل میں ہی ایک دری بچھی تھی۔ میرا ہاتھ تھامنے والا وہ لڑکا اُس پر آ بیٹھا اور اِدھر اُدھر کی باتیں کرنے لگا۔ اس کا نام تھا گووند مُلگناوکر۔ وہ گووا کا رہنے والا تھا۔

شام ہو گئی۔ ہم سب لوگ کھانا کھانے گئے۔ کھانا پنڈتوں جیسا تھا۔ رات ہو گئی۔ کولھاپور سے پونا تک کے سفر سے کافی تھکان محسوس کر رہا تھا، لیکن من بے چین تھا۔ گھر کے سبھی لوگوں کی یاد ستا رہی تھی۔ کروٹیں بدلتے کب نیند آ گئی، پتا ہی نہیں چلا۔

آنکھیں ملتے ہوے سویرے نیند کھلی۔ گووند پکار پکار کر مجھے جگا رہا تھا۔ میں فوراً اٹھ بیٹھا۔ صبح کے معمول اور نہانے وغیرہ سے نپٹ کر دیگر لڑکوں کے ساتھ میں بھی تیار ہو گیا۔ تعلیم کی اطلاع دینے والی گھنٹی بجی۔ ہم سب لوگ جلدی جلدی رقص کی تعلیم کے لیے پہنچ گئے۔ رقص کے استاد مگن لال ہم سب لڑکوں سے ناٹک کے رقصوں کی مشق کرانے لگے۔ اُس دن تو میں ایک طرف بیٹھ کر سب کچھ دیکھتا رہا۔

رقص کی تعلیم ختم ہوتے ہوتے دوپہر ہو گئی۔ سب نے کھانا کھایا۔ ناٹک رات میں ہوتے تھے اور سب کو جاگنا پڑتا تھا۔ لہٰذا کمپنی کا اصول تھا کہ سب لڑکوں کو دوپہر میں لازمی سو لینا چاہیے۔ شام کو گیان کی تعلیم کا وقت تھا۔ سب کے ساتھ مِیں بھی حاضر ہو گیا۔ کمپنی میں گیان سکھانے کے لیے پنڈھرپورکر بابا آئے تھے۔ وہ مشہورموسیقار تھے۔ ناٹکوں میں گائیک کرداروں کے روپ میں بھی وہ کام کرتے تھے۔ میں اجنبی تھا۔ قدرتی طور پر انھوں نے مجھ سے بات چیت کی۔ حال پوچھا اور سوال کیا، ’’گانا جانتے ہو؟‘‘ میں نے ٹکا سا جواب دیا، ’’نہیں جانتا۔‘‘ اُن کے چہرے پر مایوسی چھا گئی۔ پھر بھی انھوں نے کہا، ’’چلو، گانا نہ سہی، سکول کی کوئی نظم تو آتی ہو گی نا؟‘‘ میں نے کہا، ’’جی ہاں۔‘‘ میرے خیال سے میں نے اچھے سُر میں، پورے من سے نظم گا کر سنانا شروع کی:

’’تو پے لاگی آس مہان
سُمتی دیجے دیانی دھان‘‘

سامنے بیٹھے لڑکے شروع میں تو کچھ دیر چُپ تھے، لیکن بعد میں سبھی مجھے دیکھ کر اپنی ہنسی دبانے کی کوشش کرتے دکھائی دیے۔ پنڈھرپورکر کے چہرے پر مایوسی صاف نظر آ رہی تھی۔ نظم پوری ہونے کے بعد انھوں نے کہا، ’’ٹھیک ہے، بیٹھو تم۔ تمھیں ایک دَم شروع ہی سے گانا سِکھانا پڑے گا۔ کوئی بات نہیں۔ آہستہ آہستہ سیکھ جاؤ گے۔‘‘

گانے کی تعلیم ختم ہوئی۔ رات کا کھانا کھانے کے بعد میں اور گووند اپنی اپنی دری پر پاؤں پسارے بیٹھے تھے۔ اُس رات ناٹک نہیں تھا۔ میں نے متجسس ہو کر گووند سے پوچھا، ’’گووند، سچ بتاؤ، میں باباجی کے سامنے نظم سنا رہا تھا، تب سبھی لڑکے ہنس کیوں رہے تھے؟ تم لوگوں کو میرا گانا اچھا تو لگا نا؟‘‘

مجھے ناخوش ہوتا دیکھ کر میرا ہاتھ تھامے اُس نے کہا، ’’لو، تم برا مان گئے۔ اِس میں برا ماننے کی بات ہی کیا ہے؟ تم مَن لگا کر گانا سیکھو، دھیرے دھیرے سے اچھا گانے لگ جاؤ گے۔ بھئی، گانا تو ایک ایسا علم ہے جسے کافی دِنوں تک سیکھتے رہنا پڑتا ہے، کیا سمجھے؟‘‘
پتا نہیں میں کیا سمجھا تھا، لیکن دھیرے بُدبُدا گیا، ’’ٹھیک ہے۔‘‘

اِس طرح کچھ دن بیت گئے۔ کمپنی کے ماحول میں گھلتاملتا گیا۔ اب باقی لڑکوں کی طرح میں بھی دھوتی باندھنے لگا۔ نیکر پہننا چھوڑ دیا تھا۔ بال بھی بڑھانے لگا تھا۔ رقص میں میں اچھی ترقی کرتا جا رہا تھا۔ سوال تھا تو صرف گائیکی کا! اس شعبے میں میری مَت (عقل) کہو یا گلا، پنڈھرپورکر بابا کی خواہش کے مطابق کام نہیں کر پا رہا تھا۔ سبھی لڑکوں کے ساتھ میں بھی پوری تندہی سے اچھا گانے کی پوری کوشش کرتا رہا، لیکن کئی بار ایسا ہو جاتا کہ باباجی کے اشارے پر سبھی لڑکے برابر رُک جاتے اورمیری ہی اکیلی آواز کسی سُر کی کھوج میں لٹکتی سنائی دیتی رہتی۔

کچھ دنوں بعد ’مان اپمان‘ ناٹک کرنے کا دن آیا۔ اس ناٹک میں آخر میں سبھی لڑکے ہاتھوں میں مالا لیے ’شاندار یہ ہار‘ گانا گاتے گروپ میں رقص کرتے تھے۔ اس گانے کے تھوڑے ٹکڑے میں نے اچھی طرح تیار کر لیے تھے۔ گانا بھی منھ زبانی یاد کر لیا تھا۔ باباجی نے کہا، ’’کورَس گانا ہے، باقی لڑکوں کے ساتھ اُن کے سُر میں سُر ملا کر، لیکن تم اسے ذرا ہلکے سُرمیں گانا، سمجھے؟‘‘

رات میں سب لوگ تیار ہونے لگے۔ میں بھی میک اَپ روم میں گیا۔ میک اَپ آرٹسٹ نے مجھے میک اَپ کرنا سکھایا۔ رنگ لگانے کے بعد ڈریسنگ روم کے ماسٹرجی نے میرے ہاتھوں میں ایک ساڑھی، چولی تھما دی اور بولے، ’’جاؤ جلدی سے باندھ کر آؤ۔‘‘

ساڑھی ہاتھ میں لیے میں ساکت رہ گیا۔ آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ اچھا خاصا مرد ہوں اور ساڑھی باندھوں؟ چھی! ساڑھی باندھ کر ہر جمعے کو جوگوا (بھیک) مانگنے کے لیے نکلنے والے ہیجڑے آنکھوں کے سامنے ناچنے لگے۔ مجھے ایک دم گِھن ہو آئی۔ ناٹک میں کام کرنے کی اُمنگ میں یہاں ساڑھی باندھنی پڑے گی، یہ تو میں نے بُھلا ہی دیا تھا۔ مجھے وہاں بُت بنا کھڑا دیکھ کر ڈریسنگ روم کے ماسٹر چلّائے، ’’بھئی جلدی تیار ہو کر آؤ۔ ابھی تم لوگوں کا داخلہ ہونے ہی والا ہے۔‘‘

میں ہوش میں آیا۔ تبھی سامنے سے گووند مٹکتا ہوا آیا۔ چار پانچ اور لڑکے بھی تیار ہو کر آ گئے۔ ہاتھ میں ساڑھی لیے صرف میں رہ گیا تھا۔ مجھے دیکھ کر گووند نے کہا، ’’کیوں بھئی، رو کیوں رہے ہو؟ آؤ میں باندھ دیتا ہوں تمھیں ساڑھی۔‘‘ جو جو ہووے بھاگ میں، دل و جان سے کر قبول!

میک اَپ ماسٹر نے ڈانٹ پلائی، ’’اے، آنکھیں مت ملو۔ میک اَپ بگڑ جائے گا۔‘‘ میک اَپ بگڑ جائے گا! مجھ پر اندر ہی اندر کیا بیت رہی ہے، کسی کو کوئی پروا نہیں!

مجھے ساڑھی بندھوا کر گووند باقی لڑکوں میں کھڑا ہو کر ناٹک کے توڑے ٹکڑے یاد کر رہا تھا۔ میں بھی باقی لڑکوں میں شامل ہو گیا۔
اینٹری آتے ہی ہم سب لوگ سٹیج پر پہنچ گئے۔ ’شاندار یہ ہار‘ یہ گیت ہاتھوں میں ہار لیے رقص کے لیے تال پر ختم ہوا۔ رقص کے آخر میں ہم لوگوں نے اپنے اپنے ہاتھوں کے ہاروں کو مخصوص شکل دے کر ’مان اپمان‘ کے حروف تیار کیے۔ ناظرین نے داد دے کر اپنی پسند ظاہر کرنے کے لیے تالیاں بجائیں۔
ناٹکوں کے پریوگ کے لیے ہم لوگ گاؤں گاؤں گھوم رہے تھے۔ رقص میں میری کارکردگی بہت ہی اچھی ہو رہی تھی۔ ایک ناٹک میں، اس کا نام اب ٹھیک سے یاد نہیں آ رہا، گووند ایک ٹھمری گایا کرتا اور اس پر میں رقص کیا کرتا تھا۔ ٹھمری کے بول تھے: ’دیکھو ری نا مانے شیام۔‘ رقص کی تعلیم کے وقت مگن لال ماسٹر دیگر لڑکوں سے ہمیشہ کہتے تھے، ’’ارے اس شانتارام کو دیکھا کرو، کتنی شان سے ناچتا ہے۔ اسی طرح سے لے تال میں ناچنا چاہیے!‘‘
کمپنی کے کچھ لوگ ہم میں سے کچھ لڑکوں کو ’مالک‘ کہہ کر پکارا کرتے تھے۔ اس کا راز کافی دنوں تک میں جان نہیں سکا۔ آخر اِس موضوع پر ایک آدمی سے پوچھا تو اس نے ہنس کر کہا:

’’ہم لوگوں کو کمپنی سے تنخواہ ملتی ہے اِس لیے ہم ہیں کمپنی کے نوکر۔ مالک کو کوئی تنخواہ نہیں ملتی اس لیے وہ ہیں مالک۔ آپ لوگوں کو بھی کمپنی تنخواہ نہیں دیتی، اس لیے آپ ہو گئے مالک!‘‘

گندھرو ناٹک منڈلی میں پہلے چھ ماہ تک مجھے کوئی تنخواہ نہیں ملتی تھی، صرف اوڑھنے بچھانے کے لیے چادریں، پہلے سے ہی طے کیے گئے کپڑے اور دو وقت کا کھانا، اتنا ہی ملا کرتا تھا۔

کمپنی کی رہائش گاہ پر مالک کے ساتھ ہم لوگوں کا کوئی خاص رابطہ نہیں ہوتا تھا۔ بال گندھرو کی مقبولیت اُن دنوں آسمان کو چھونے کی کوشش میں تھی۔ گووند راؤ ٹینبے مجھے کمپنی میں لے تو آئے تھے، لیکن میری ناٹک کی تربیت کی طرف انھوں نے خاص دھیان نہیں دیا تھا۔ لیکن چونکہ میں کچھ چست دکھائی دیتا تھا، گووند راؤ کی بیوی میرا زیادہ خیال رکھتی تھیں۔۔ میں بھی اُن کے کولھاپور والا جو تھا۔ وہ میرے لیے ممتا جتاتیں، تیج تہوار پر مجھے مٹھائیاں بھی کھلاتی تھیں۔ ویسے گندھرو ناٹک منڈلی میں کھانے پینے کی کمی نہ تھی۔ اُس میں بھرتی ہوا شخص چند دنوں میں ہی گول مٹول ہو جاتا تھا۔

ہمارے تیسرے مالک تھے گنپت راؤ بوڈس۔ مجھے اُن کی اداکاری سب سے زیادہ پسند تھی۔ ’شُکراچاریہ‘ کے کردار کے لیے وہ سفید داڑھی مونچھ لگوا لیتے تو ایک دم بڈھے رِشی لگنے لگتے۔ بڑی بڑی کالی اکڑباز مونچھیں لگاتے ہی ’مان اپمان‘ ناٹک کے لکشمی دھر بن جاتے۔ داڑھی مونچھیں لگوا کر نئے روپ اپنانے کے اُس جادوئی فن کو میں تجسس سے دیکھا کرتا۔ بال گندھرو کے سٹائل کو بھی بڑی باریکیوں کے ساتھ دیکھتا۔ کبھی کبھار چوری چھپے گنپت راؤ بوڈس کی طرح میں بھی مونچھیں لگا کر دیکھ لیا کرتا۔ اس کے لیے میک اَپ آرٹسٹ ماسٹر کی دو چار بار ڈانٹ بھی کھاتا تھا۔ اُن دنوں نئے ناٹک کے لیے تیار کیے جانے والے متنوع منظروں کے پردے، سین بدلتے ہی پیچھے کا پردہ بدلنے کا ہنر، تعلیم ماسٹر کی تعلیم کا طریقۂ کار وغیرہ، سبھی باتوں کا میں نے بالکل نزدیک سے معائنہ کیا۔

کمپنی بڑودہ آ گئی۔ بڑودہ نریش (راجہ) سیاجی راؤ گیکواڑ سے گندھرو ناٹک کمپنی کو سالانہ گرانٹ ملتی تھی۔ اپنے اشتہار میں کمپنی ’شریمنت سیاجی راؤ مہاراج، بڑودہ کی خاص پشت پناہی حاصل!‘ ایسا خصوصی طور پر لگایا کرتی تھی۔ بڑودہ کے ’وانکانیر‘ تھیٹر میں صرف مہاراج اور اُن کے خاندان کے افراد کے لیے گندھرو ناٹک منڈلی اپنے ناٹکوں کے خاص مظاہرے کیا کرتی تھی۔ اُن ناٹکوں کے لیے عام لوگوں کو داخلہ نہیں دیا جاتا تھا۔ ناظرین کے بیٹھنے کی جگہ کے بیچوں بیچ ایک موٹا پردہ کھڑا کیا جاتا تھا۔ اُس کے ایک طرف مہاراج اور راج خاندان کے دیگر مرد افراد اور دوسری طرف جالی دار پردے کے پیچھے مہارانی اور راج خاندان کی دیگر عورتیں بیٹھا کرتی تھیں۔ داسیاں بھی ناٹک دیکھنے آتیں اور ناٹک میں اچھا رنگ آنے پر سامنے والا جالی کا پردہ کھسکا کر مزے میں ناٹک دیکھا کرتی تھیں۔ مہاراج کے لیے دربار سے ایک خاص ملائم صوفہ لایا جاتا۔ ایک بار ناٹک شروع ہونے سے پہلے میں نے چوری سے اُس صوفے پر بیٹھ کے دیکھ لیا تھا۔ صوفہ بہت ہی نرم تھا۔ کسی نے بتایا تھا کہ اُس میں پروں کے گدے لگائے گئے ہیں۔ مہاراج کے لیے خاص روپ میں دربار سے لائے جانے والے اُس صوفے کے پاس ہی ایک گھنٹی لگی ہوتی تھی۔ ناٹک کا کوئی گیت یا بند پسند آ گیا، تب ناظرین میں سے کسی کو بھی تالیاں بجا کر داد دینے کی اجازت نہ ہوتی۔ پورے تھیٹر میں مرگھٹ جیسی شانتی چھائی رہتی۔ ایک دم سناٹا! لیکن مہاراج کو کوئی بند پسند آتا تو وہ سامنے والی اُس گھنٹی کا بٹن دبا دیتے۔ گھنٹی کی آواز وِنگ میں سنائی دیتی۔ اُسے سنتے ہی گائیک اداکار اُسی گیت کو پھر سے گاتا۔ بڑودہ کے لیے کیے جانے والے ناٹکوں کا دستور ایسا عجیب و غریب تھا۔

ہمارے بڑودہ قیام کے وقت مہاراج نے فرمائش بھیجی کہ اُن کی انّا صاحب کرِلوسکر کا ’شاکنتل‘ ناٹک دیکھنے کی خواہش مند ہے۔ انھوں نے حکم دیا کہ اُس ناٹک کو وہ پورا دیکھنا چاہتے ہیں تا کہ اُس میں سے کوئی حصہ کاٹا نہ جائے۔ ’شاردا‘، ’مرِچھ کٹِک‘ وغیرہ مشہور ناٹکوں کے لکھاری خود بہت ہی سخت نظم و ضبط کے تعلیم ماسٹر گووند بِلاس دیول کو اِس ناٹک کو ڈائریکٹ کرنے کے لیے مدعو کیا گیا۔ جلدی جلدی تعلیم شروع کی گئی۔ کمپنی کے مالک شری گنپت راؤ بوڈس نے اِس ناٹک میں مجھے شکنتلا کی سَکھی پری یامدا کا کردار دینے کا فیصلہ کیا۔ اُس سے پہلے میں رقص اور داسی کی کئی چھوٹے چھوٹے کردار کر چکا تھا، لہٰذا پریمدا کا کردار کرنے کا موقع ملے گا، اُس کی مجھے بہت خوشی ہوئی۔ مکالمہ (ڈائیلاگ) بولنے کی تعلیم گنپت راؤ بوڈس خود دیتے تھے۔ تعلیم کا اُن کا اپنا سٹائل کچھ نرالا ہی تھا۔ بوڈس جی کو کسی وید نے ہدایت دی تھی کہ آپ ہر روز کچھ دیر دھوپ میں سیر کرنے جائیے، تو وہ دھوپ میں چہل قدمی کرنے اور میں وانکانیر تھیٹر کی چھاؤں چھاؤں میں اُن کے ساتھ ٹہلتے ہوے زور زور سے اپنے ڈائیلاگ بولتا تھا۔ ڈائیلاگ کافی زور سے بولنے پڑتے تھے کیونکہ اُن دنوں تھیٹر میں مائیکروفون اور لاؤڈسپیکر کی سہولت نہیں ہوا کرتی تھی۔

ایک دن اچانک ہی ہماری تعلیم بند ہو گئی۔ میں نے چپ چاپ وجہ جاننے کی کوشش کی تو پتا چلا کہ بال گندھرو کے ساتھ کام کرتے وقت میں بہت ہی چھوٹا لگوں گا، اس لیے پریمدا کا میرا کردار رد کر دیا گیا ہے۔ اُس کی جگہ پر مجھے دُشینت مہاراج کی وتیروتی نامی داسی کا کردار دیا جا چکا ہے۔ اُس میں مکالمہ بہت ہی معمولی تھا۔ جیسے، ’’مہاراج، اِدھر سے آیا جائے، مہاراج اُدھر سے جایا جائے۔‘‘ ایک اچھا کردار ہاتھ سے جاتا رہا، اس کا مجھے کافی رنج رہا۔

کمپنی کے سبھی لوگ بڑی بھاگ دوڑ میں تھے۔ کوئی اپنے مکالمے یاد کر رہا تھا، کوئی گیت۔ ایک طرف مختلف منظروں کے پردے رنگے جا رہے تھے۔ دوسری طرف ڈریسنگ روم کے لوگوں کی دوڑ دھوپ چل رہی تھی۔ بڑا شورسرابہ تھا۔ ایک پاگل خانے کا روپ تھا گندھرو ناٹک کمپنی کا!

آخر وہ دن آ گیا جب ’شاکنتل‘ کو سٹیج ہونا تھا۔ اس میں دُشینت مہاراج کا کردار گووند راؤ ٹینبے کر رہے تھے۔ تیاری کے لیے وقت کم ہونے کی وجہ جلدبازی میں مکالمے کسی کو اچھی طرح یاد نہیں ہوے تھے۔ ابھی لوگ پراپمپڑ کے بھروسے ناٹک کرنے کے لیے کھڑے ہو گئے تھے۔ دونوں وِنگوں میں دو اور پردے کے پیچھے ایک، اس طرح تین تین پراپمپڑ ناٹک کو بڑھائے لیے جا رہے تھے۔ اس ناٹک میں گیتوں کی بھرمار تھی۔ شکنتلا کے گیتوں کے علاوہ دُشینت کے گیت بھی کافی تھے۔ وہ سارے گیت گووند راؤ کو یاد نہیں ہوے تھے۔

دروسا رِشی کے شراپ (بددعا) کی وجہ سے دُشینت کو شکنتلا کی یاد ستاتی ہے۔ بعد میں اُن کی طرف سے شکنتلا کو دی ہوئی انگوٹھی ایک مچھوے کو مل جاتی ہے۔ اُس انگوٹھی کو لے کر وہ مہاراج دشینت کے یہاں جاتا ہے۔ مہاراج کو شکنتلا کی یاد ستاتی ہے۔ وہ بہت ہی دل برداشتہ ہو جاتے ہیں۔
اس حوالے میں ہجر کا مارا دُشینت ایک کے بعد ایک پانچ چھ گیت گاتا ہے۔ اسی شکستہ حالت میں دشینت شکنتلا کی تصویر بناتا ہے۔ اس تصویر کو مہاراج کے سامنے تھامے بےچاری وتیروتی (یعنی میں) کھڑی رہتی ہے۔ مجھے سخت ہدایت دی گئی تھی کہ تصویر کو ایسے تھامے رہنا کہ ناظرین کو وہ کبھی دکھائی نہ دے۔ اس کی وجہ کیا تھی؟ یہی کہ اُس تصویر میں شکنتلا کی تصویر تھی ہی نہیں۔ اُس کی جگہ اُس سیاق و سباق میں دشینت کے گائے جانے والے بندوں کی پنکتیاں ( مصرعے) موٹے حرفوں میں لکھی ہوئی تھیں۔

گووند راؤ ٹینبے ہمیشہ عینک لگایا کرتے تھے۔ عینک کے بغیر بھی انھیں اُن مصرعوں کو پڑھنا آسان ہو، ایسے انداز سے مناسب فاصلے پر انھوں نے وہ لے کر مجھے کھڑا کیا تھا۔ گووندراؤ ایک ایک بند لمبے الاپ اور تانیں لے کر دل و جان سے گانے لگے اور اِدھر اس طرح کا گانا سنائی دیتے ہی جھپکی لینے کی میری پُرانی عادت حاوی ہو گئی۔ انھوں نے لپک کر تصویر آگے کھینچ لی۔۔۔ میں جاگ گیا۔ انھوں نے مجھ پر اپنی غصے بھری نظر ڈالی اور پھر اُسی شکستہ آواز میں ایسے گانے لگے جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ اُس کے بعد وہ سارا داخلہ منظم ڈھنگ سے ختم ہو گیا۔

اسی وقت کمپنی میں میرے چھ مہینے پورے ہو چکنے کی وجہ سے مجھے تنخواہ ملنی شروع ہو گئی۔ تب تک بِنا تنخواہ کام کرنے والا میں کمپنی کا مالک تھا، اب نوکر بن گیا۔ میری تنخواہ تھی فی مہینہ تین روپے۔

ہم بڑودہ میں تھے۔ انھی دنوں کولھاپور کے بابا دیول اپنے بیٹے سے ملنے کے لیے وہاں آئے۔ ان کا لڑکا بڑودہ میں انجینئر تھا۔ باپو کے کہنے پر وہ میرا حال چال پوچھنے کے لیے گندھرو منڈلی کی رہائش گاہ پر آئے۔ خیر خبر جان لینے کے بعد، پتا نہیں کیوں، شاید انھیں سنگیت سے بہت پیار تھا اِس لیے، یا اُن دنوں ناٹکوں میں سنگیت کو بھاری اہمیت حاصل تھی اس وجہ سے، انھوں نے باباجی سے بڑی عقیدت سے پوچھا:

’’کیا کرتا ہے ہمارا شانتارام؟ کیسا گاتا ہے وہ؟‘‘

میں وہیں کھڑا تھا۔ باباجی نے کہا، ’’کیا پوچھا آپ نے؟ شانتارام؟ اور کیسا گاتا ہے؟ سنیے، آپ سنیے اُس کا گانا!‘‘ کہہ کر انھوں نے میرا مخول اڑایا۔ اِس طرح کھِلّی اڑائی جانے سے مجھے بڑی کھیج آئی(جھنجھلاہٹ ہوئی)۔

بابا دیول گانا سننے کے لیے بیٹھ گئے پنڈھرپورکرباباجی نے ہارمونیم سنبھالا۔ شروع میں سا، رے، گا، ما، پا، دھا، نی، سا، کہا۔ اُس کے بعد سُر کی تمام باریکیاں تمام اتارچڑھاؤ کے ساتھ سنائے اور آخر میں گووند کی طرف سے گائی جانے والی ٹھمری ’دیکھو ری نہ مانے شیام‘ بھی گا کر سنا دی۔
گانا ختم ہوا۔ میں نے باباجی کی طرف دیکھا۔ باباجی ششدر ہو کر میری طرف دیکھ رہے تھے۔ بولے، ’’ارے شانتارام، آج تجھے ہو کیا گیا ہے؟‘‘

میں نے ڈرتے ڈرتے پوچھا، ’’کیوں؟ کیا مجھ سے کچھ غلطی ہو گئی؟‘‘

’’بالکل نہیں۔ ارے آج تو تم شروع سے آخر تک سر میں گاتے رہے، کہیں پر ایک بھی غلطی نہیں کی۔ کمال ہو گیا!‘‘

میں نے دیول بابا کی طرف دیکھا۔ انھوں نے میری پیٹھ تھپتھپائی۔ وہ مطمئن ہو گئے تھے۔ میری خوشی کا ٹھکانہ نہیں تھا۔ لیکن میری جیون مین وہ سنہری دن ایک ہی بار آیا۔ سر میں گانے کا وہ جیون کا پہلا اور آخری دن۔

لگ بھگ انھی دنوں ایک مہان شخص سے میرا رابطہ ہوا۔ یہ مہان شخص تھے مشہور ناٹک کار شری رام گینش گڈکری۔ کولھاپور میں میں نے اُن کا لکھا ’پریم سنیاس‘ ناٹک دیکھا تھا۔ اس میں جن سماجی مسائل کو ابھارا گیا تھا ان کا اندازہ کر پانا میری عقل کے باہر کی بات تھی۔ ایک تو میں چھوٹا تھا، پھر چونکہ وہ ناٹک دکھی تھا، مجھے خاص بھایا بھی نہیں تھا۔ پھر بھی اُس کے بھلکّڑ کردار ’گوکُل‘ پر میں نہایت خوش تھا۔ بڑا مزاحیہ کردار تھا وہ۔ اس کے سٹیج پر آتے ہی میں ہنسی کے مارے لوٹ پوٹ ہو جاتا تھا۔

گڈکری گروجی گندھرو ناٹک کمپنی کے لیے ایک نیا ناٹک لکھنے کے لیے کمپنی کی رہائش گاہ پر آئے تھے۔ اور کچھ دن وہیں رہنے والے تھے۔ ایسے کسی بڑے مہمان کی آمد پر کمپنی کی طرف سے ہم میں سے کسی ایک چھوکرے کو ان کی سیوا میں لگا دیا جاتا تھا۔ چونکہ میں انگریزی تیسری تک پڑھا تھا، گڈکری نے مجھے ہی چُنا۔ انھوں نے کہا، ’’شانتارام، آج سے تم میرے سیکرٹری۔‘‘
میں نے پوچھا، ’’سیکرٹری؟ یعنی مجھے کیا کیا کام کرنے ہوں گے؟‘‘

’’ارے کچھ خا ص نہیں۔ میرے اِس صندوق میں ایک مسودے کے صفحے رکھے ہیں۔ تمھیں انھیں پڑھ کر ٹھیک ترتیب اور سلسلے سے لگانا ہو گا۔ بس۔‘‘
میں نے ان کاغذوں کو ٹھیک ترتیب سے لگا دیا۔ وہ ناٹک کون سا تھا، آج مجھے ٹھیک یاد نہیں۔ لیکن اُس کا ہیرو نشئی تھا۔ ناٹک ادھورا تھا۔ اِس کام کے علاوہ دھوبی کے یہاں سے ان کے کپڑے لے آنا، ان کے لیے چائے بیڑی وغیرہ لا کر دینا، ان کی چٹھیاں لیٹربکس میں ڈالنا وغیرہ چھوٹے چھوٹے کام بھی میں انتہائی مستعدی سے کیا کرتا تھا۔

چند دنوں میں ہی ان کے من میں میرے لیے ممتا جاگی۔ شاید قریبی رابطے میں آئے شخص سے اپنی دلی فطرت کے مطابق محبت کرنا ان کی فطرت ہو گا۔ میرے سرنیم ونکودرے کے بارے میں وہ اکثر کہا کرتے تھے، ’’شانتارام، یہ خاندانی نام کہاں سے پیدا کیا بھائی؟ چلو اسے بدل دیتے ہیں۔ کولھاپور یا کچھ ایسا ہی نام کیسا رہے گا؟‘‘ میں ’’بس، جیسا آپ چاہیں،‘‘ کہہ کر بات ٹال دیتا۔

دورہ کرتے کرتے کمپنی بمبئی آ گئی۔ اس وقت کمپنی کے ناٹک ایلفنٹسن تھیٹر میں ہوا کرتے تھے۔ گندھرو ناٹک کمپنی میں اتنے دنوں سے شامل ہونے پر بھی تھیٹر میں کسی کردار میں اپنے جوہر دکھانے کا موقع مجھے کبھی ملتا ہی نہیں تھا۔ سنگیت کے معاملے میں میرا پہلو ایک دم لنگڑا تھا۔ عمر میں چھوٹے ہونے کی وجہ سے بڑے نثری کام بھی مجھے نہیں دیے جاتے تھے۔ لیکن اتنے دن کمپنی میں کام کرتے ہوے میں نے کچھ باتیں تیزنظری سے نوٹ کر لی تھیں۔ کوئی گائیک اداکار تین چار سُروں میں اٹکنے جیسا بکری الاپ کافی لمبا کھینچ لیتا تو شائقین تالیوں کی بوچھاڑ کرتے۔ یہ تالیاں گائیک کے سُروں میں مہارت کے لیے ہوتی تھیں یا گائیک کو سانس لینے کی راحت دلانے کے لیے، پتا نہیں! اسی طرح نثری اداکار ایک ہی سانس میں کوئی لمبا مکالمہ اونچی آواز میں پورا کر لیتے، تب بھی تالیاں بجتی ہیں، میں نے غورکیا۔ لہٰذا میں نے بھی طے کر لیا کہ جو بھی ہو، اپنے کام کے لیے بھی اِسی طرح کی تالیوں کی گڑگڑاہٹ کرا کر ہی مانوں گا۔ من میں یہ جوت جاگ اٹھی۔ اس کے لیے میں بےتاب ہونے لگا۔ ایک دن میں نے فیصلہ کر لیا کہ آج تو ’تالیاں‘ لے کر رہوں گا۔

اُس رات ’سُبھدرا‘ ناٹک ہونے والا تھا۔ اُس ناٹک میں رُکمنی کی داسی کا کردار مجھے ملا تھا۔ میں شروع سے ہی تیاری میں تھا۔ میرا داخلہ شروع ہو گیا۔ میرے مکالمے میں جملے تھے: ’’دیّا ری! سرکار اِدھر ہی تشریف لا رہے ہیں۔ اب کیا کروں؟ انھیں جگاؤں تو بھی مشکل، نہ جگاؤں تو بھی مشکل۔ بائی صاحب، بائی صاحب! یہ تو جاگنے سے رہیں۔ کیا کیا جائے۔

میں نے پہلا جملہ ہی ایک دم اونچی آواز میں شروع کیا۔ اگلا جملہ اُس سے بھی اونچی آوازمیں بول دیا، اس سے آگے کا اور بھی اونچی آواز میں، بس میں یہی کرتا گیا اور آخری جملہ تو شاید میں نے گلا پھاڑ کر، چلّا کر کہا۔ اور تبھی آڈیٹوریم تالیوں کی گڑگڑاہٹ میں گونج اٹھا۔ ایک طرف ونگ میں انٹری کی تیاری میں شری کرشن کے کردار میں کھڑے گنپت راؤ بوڈس میری طرف ساکت دیکھتے ہی رہ گئے۔ دوسرے ونگ میں کام کر رہے سبھی لوگ یہ دیکھنے کے لیے حیرت میں جمع ہو گئے کہ اِس اینٹری میں آخر اتنی تالیاں کس بات پر ملی ہیں۔ سٹیج پر گہری نیند میں سونے کی اداکاری کر رہی رُکمنی بھی ذرا سا سر اٹھا کر اَدھ مچی آنکھوں سے مجھے گھورنے لگی۔ اُس کی نظر میں بھی حیرانی تھی۔ میں توخوشی سے پھولا نہیں سما رہا تھا۔ میرا کام ہو گیا تھا، بات بن گئی تھی۔ میں کسی فتحیاب وِیر، نہیں نہیں، ہیروئن کی طرح پلّو کمر پر کس کر کسی طرف بغیر دیکھے سب کے سامنے سے اکڑ کے ساتھ سٹیج پر سے ونگ میں چلا گیا۔

گاؤں گاؤں ناٹکوں کو سٹیج کرتے کرتے ہم لوگ واپس پونا پہنچ گئے۔ اب کمپنی میں داخل ہوے مجھے ایک سال ہو چکا تھا۔ ناٹکوں کو لگاتار سٹیج کرنے اور سفر کی وجہ سے سبھی لوگ تھکے ماندے تھے۔ بال گندھرو کو اپنے گلے کے بارے میں بھی کچھ شکایتیں رہنے لگی تھیں۔ ان کی آواز کو کم سے کم کچھ دنوں کے لیے آرام کی ضرورت تھی۔ گنپت راؤ کی آواز تو ہمیشہ خراب ہی رہتی تھی۔ اب اُن کی شکایت کچھ زیادہ ہی بڑھ گئی تھی۔ مالکوں نے اسی لیے ایک ماہ کی چھٹی کا اعلان کر دیا تھا۔ سبھی لوگ اپنے اپنے گاؤں جانے کی تیاریاں کرنے لگے۔ میں نے بھی دوسرے ہی دن کولھاپور جانے کا فیصلہ کیا۔ گڈکری جی کو میں نے بتا بھی دیا۔ ان کا مکان پونا میں ہی تھا۔ اُس دن انھوں نے مجھے اپنے گھر کھانے پر بلایا۔

شام ہوتے ہی میں ان کے یہاں گیا۔ وہ میرا ہی انتظار کر رہے تھے۔ مجھے دیکھ کر انھیں خوشی ہوتی دکھائی دی۔ میں کچھ جھینپ سا گیا۔ اتنے بڑے ناٹک کار، شاعر، لکھاری، اور میرے جیسا بارہ سال کی عمر کا ننھا سا لڑکا اُن کا مہمان! تھوڑی دیر اِدھر اُدھر کی باتیں ہوتی رہیں۔ یعنی وہ ہی زیادہ تر بولتے رہے اور میں صرف ’ہاں‘ ’ناں‘ کرتا رہا۔ ان کی ماں نے کھانا تیار ہونے کی اطلاع دی۔ ہم دونوں کھانے پر بیٹھ گئے۔ گڈکری گروجی نے کہا، ’’چلو کرو شروع۔‘‘
میرا ہاتھ تھالی کی طرف بڑھا ہی تھا کہ اچانک رک گیا۔ کٹوری میں تری دار مٹن رکھا ہوا تھا۔

’’کیوں بھائی، رک کیوں گئے؟ کھاؤ نا، شرماؤ نہیں۔‘‘
میں نے کچھ رُک رُک کر جواب دیا، ’’گروجی، میں مٹن کھاتا نہیں۔‘‘
’’مٹن نہیں کھاتے؟ تو اب کیا ہو گا؟‘‘
’’میں صرف چپاتی، چاول، مُٹھا، ایسا ہی کچھ کھا لوں گا۔ آپ فکر نہ کریں۔‘‘
’’بھئی واہ! یہ تو تم نے خوب کہی۔ ایسا کیسے ہو سکتا ہے بھلا۔‘‘ انھوں نے اپنی ماں کو کہا، ’’ماں، اِس کے لیے کچھ میٹھا لاؤ نا!‘‘

ان کی ماں پھرتی سے تھالی کٹوری لے کر باہر چلی گئیں۔ گروجی کھانا کھاتے کھاتے رک گئے۔ لگ رہا تھا انھیں بہت ہی افسوس ہوا۔ بولے:
’’بھئی، میں نے تمھیں کھانے کے لیے بُلایا اور لگتا ہے اب تمھیں بھوکا ہی رہنا پڑے گا! لیکن تم بھی کیسے عجیب آدمی ہو! کیا تم نے کبھی مٹن کھایا ہی نہیں؟‘‘

’’جب میں چھوٹا سا تھا تب کبھی کبھار مٹن کھا لیا کرتا تھا۔ ہمارے والد پکّے سبزی خور اور ماں مراٹھی۔ اِس لیے ہم بچوں کی پسند جان کر ماں کبھی کبھی چپکے سے مٹن پکا کر ہمیں کھلاتی تھیں۔ ایک بار ہمارے گھر کے سامنے رہنے والے ایک امیر کسان نے فصل کاٹ لانے کی خوشی میں رواج کے مطابق بکرا کاٹ کر محلے کے سب لوگوں کو مٹن کی دعوت دینا طے کیا۔ دروازے کے سامنے ہی بکرا کاٹا گیا۔ اُسے کاٹنے سے لے کر اس کی چمڑی چھیل چھیل کر الگ کرنے، مٹن کو کاٹ کاٹ کر اس کے باریک ٹکڑے بنانے تک کا سارا سلسلہ میں نے بہت نزدیک سے دیکھا۔ بعد میں کھاتے وقت وہی ساری باتیں آنکھوں کے سامنے دکھائی دیں اور مجھے بھڑبھڑا کر اُلٹی ہو گئی۔ اُس دن سے مجھ میں مٹن کی ایسی گِھن بیٹھی کہ تب سے میں نے مٹن، مچھلی وغیرہ کھانا ایک دم چھوڑ دیا۔‘‘

’’ارے، یہ بات تھی تو مجھے پہلے ہی بتا دیتے۔ میں ماں سے کہہ دیتا کہ ہمارے یہاں بٹو بمن کھانے کے لیے آنے والا ہے۔‘‘

تبھی ان کی ماتاجی واپس آ گئیں۔ انھوں نے پڑوسن کے گھر سے لایا گیا مربہ تھالی میں پیش کیا اور تھالی میں تڑکا لگی دال۔ میں نے ڈٹ کر کھانا کھایا۔ گڈکری جی بھی اس سے مطمئن ہوے۔ لکھاری ہونے کے ناتے ان کی بڑائی کو تو میں آگے چل کر بڑا ہونے کے بعد ہی سمجھ سکا، لیکن مجھ جیسے ایک معمولی لڑکے کی آؤبھگت میں دل کی جو عظمت دکھائی، اس سے میں ان کے اندر کے آدمی کی بڑائی کا اُسی وقت اندازہ کرنے لگا تھا۔

دوسرے دن میں پونا سے چل دیا۔ گھر پہنچا۔ مجھے دیکھ کر ماں کو بےانتہا خوشی ہوئی۔ گھر میں قدم رکھتے ہی میں نے سب سے پہلے اپنی تنخواہ سے بچے نو روپے ماں کی ہتھیلی پر رکھ دیے اور ان کے قدموں پر ماتھا ٹیکا۔ انھوں نے میرے سر سے کتھئی رنگ کی فر کی ٹوپی اتار لی۔ اُس کے ساتھ اندر باندھ کر رکھے میرے لمبے گھنگھریالے بال گردن، کندھوں تک جھومنے لگے۔ میرا وہ روپ شاید ماں کو بہت پسند آیا۔ مجھے چومتے ہوے بولیں:
’’شانتا !کتنا پیارا پیارا لگ رہا ہے رے تو! ٹھہر تجھ پر ابھی مرچیاں اُتار پھینک کر واری واری جاتی ہوں، تاکہ تجھے کسی کی نظر نہ لگ جائے۔‘‘

ماں جلدی سے اندر گئیں۔ دونوں مٹھیوں میں نمک، سرسوں اور مرچیاں لے کر آئیں اور نظر اُتارنے کے انداز سے اس سامگری کو میرے پر وارتی گئیں۔ بعد میں وہ ساری چیزیں اپنے جلتے چولھے میں جھونک دیں۔ چولھے کے نیچے سے راکھ انگلی پر لے کر اُس سے میرا تلک کیا اور کہنے لگیں:
’’دیکھانا، کتنی تاڑ پھاڑ پھوٹ رہی ہیں مرچیاں! تمھیں تو بچپن سے ہی نظر لگ جایا کرتی تھی یک دم!‘‘

نہانے وغیرہ سے فارغ ہو کر میں دھوپ میں بال سکھانے بیٹھا تھا، تبھی دکان سے باپو آ گئے۔ آج تو ماں نے میری تھالی باپو کے ساتھ ساتھ پروسی تھی۔ اِدھر اُدھر کی باتیں کرتے کرتے کھانا پورا ہو گیا۔ باپو ہمیشہ کی طرح کھانے کے بعد کچھ آرام کرنے کے لیے لیٹ گئے۔ ان کے پائتنی کی طرف میں بھی لیٹ گیا۔ باپو نے پوچھا، ’’تو شانتارام، سال بھر میں کیا کیا سیکھ کر آئے ہو، بتاؤ بھی؟‘‘

میں باپو کے اِس سوال کا جواب کھوجنے لگا۔ واقعی سال بھر میں کیا کیا سیکھ پایا ہوں میں؟ تھوڑا سا ناچ، دو چار چھوٹے موٹے کام، گائیکی کے نام پر تو پلے کچھ بھی نہیں! میری آنکھوں سے ساون بھادوں بہنے لگے۔ جواب دینے کے لیے منھ سے لفظ نہیں نکل پا رہا تھا۔ مجھے چپ بیٹھا دیکھ کر باپو نے یہ جاننے کے لیے سر اٹھا کر دیکھا کہ بات کیا ہے۔ میری روتی صورت دیکھ کر انھوں نے کروٹ بدل کر میری طرف سے منھ پھیر لیا اور تھوڑی دیر بعد ہی اٹھ کر وہ دکان چلے گئے۔

میں بےچین ہو کر چھٹپٹا رہا تھا۔ ’’شانتارام، کیا کیا سیکھ کر آئے ہو سال بھر میں؟‘‘ یہی سوال مجھے ستا رہا تھا۔ میں اپنے آپ سے یہی سوال کرتا رہا۔ اسی میں پوری دوپہر ڈھل گئی۔ شام ہو گئی۔ رات آ گئی۔ رات کا کھانا بھی میں ٹھیک سے نہیں کھا پایا۔ ساری رات بےتابی میں گزار دی۔ من کی گہری تہہ میں کہیں گہرے خلا کا اندازہ کر رہا تھا میں۔

دوسرے دن سویرے کچھ طے کر کے ہی میں دکان پر گیا۔ باپو کے سامنے کھڑا ہو میں نے کہا، ’’باپو، ابھی اسی وقت کسی نائی کو بُلوائیے گا۔‘‘
’’نائی کو؟ کس لیے؟‘‘

’’مجھے اپنے یہ سارے بال اُسترے سے صاف کرانے ہیں۔ ایک دم پورا سر منڈوانا ہے مجھے۔‘‘
’’آخر کیوں؟‘‘
’’مجھے نہیں جانا ہے پھر سے کسی ناٹک کمپنی میں!‘‘
’’یہ کیا کہہ رہے ہو شانتارام؟ ناٹک کمپنی میں نہیں جانا ہے؟ لیکن کیوں؟‘‘
’’پچھلے سال بھر میں، میں وہاں گانا وانا کچھ نہیں سیکھ پایا ہوں!‘‘

’’ارے بیٹے، گانا کیا ایک سال میں آ جاتا ہے؟ اس کے لیے تو سالوں سال ریاض کرنا پڑتا ہے۔ آ جائے گا، تمھیں بھی گانا آ جائے گا دھیرے دھیرے۔‘‘

’’نہیں، میں کبھی گانا نہیں گا سکوں گا! گائیکی میں میری کوئی ترقی نہیں ہے۔ معمولی داسی کے کردار کرنے پڑتے ہیں وہاں۔ بڑا ہو جاؤں گا تو جاؤں گا۔ تب بھی زیادہ سے زیادہ نثری مکالمے ہی مجھے ملیں گے۔ ایسے کاموں کا وہاں کوئی مول نہیں ہوتا، کوئی قدر نہیں ہوتی۔ وہاں میں صرف ناچتا ہوں ساڑھی پہن کر، کسی ناچ والے لونڈے کی طرح!‘‘

’’ارے بابا، اِس طرح آپے سے باہر ہو جانے سے کام کیسے چلے گا؟ ابھی تو تمھیں ایک ماہ کی چھٹی ملی ہے۔ جلدی کیا ہے؟ جو کرنا ہو آرام سے سوچنے کے بعد طے کریں گے۔‘‘

میرا ضدی رویہ پھر اُچھلا۔ میں نے بغاوت کی۔ اپنے لمبے گھنگھریالے بالوں کو ہاتھوں میں زور سے بھینچ کر انھیں کھینچتے ہوے میں نے کہا، ’’باپو، اِن لمبے بالوں کی وجہ سے ہی مجھے پھر سے ناٹک میں جانے کی چاہ ہو سکتی ہے۔ آپ نائی کو بلا بھیجیے، ابھی، اسی وقت!‘‘

باپو نے پھر ایک بار میری ضد مان لی۔ نائی آیا۔ میں اس کے سامنے بیٹھ گیا۔ نائی نے اُسترے سے میرا سر اچھی طرح سے مونڈ دیا۔ آنکھوں سے آنسوؤں کی دھارا بہہ نکلی تھی۔ نائی کے استرے کی وجہ سے نیچے گر رہے میرے گھنگھریالے بالوں کے ساتھ ہی ناٹکوں کے لیے میرا موہ بھی جڑوں سے اکھڑ کر نیچے گر رہا تھا۔ نائی نے سارے بال مونڈ کر صرف ایک چٹیا سر پر رکھ چھوڑی تھی۔

دکان سے گھر لوٹتے وقت راستے میں میری نظر اَکوّ ماسی کی دکان کی طرف گئی۔ وہ وہاں نہیں تھی۔ وہاں کسی اور چیز کی دکان لگی تھی۔ اس دکان میں بیٹھے شخص سے میں نے پوچھا، ’’جی، یہاں اَکّو ماسی کی دہی کی دکان تھی نا پہلے؟ اب وہ کہاں ہے؟ اَکّو ماسی کہاں ہے؟‘‘
اس آدمی نے بتایا، ’’اَکّو گوالن مر گئی۔‘‘

اَکّو ماسی مر گئی، یہ لفظ سنتے ہی میں سسک سسک کر رونے لگا۔ ناٹک کمپنی میں جاتے وقت میں جان کر اس سے ملنے کے لیے گیا تھا۔ ہمیشہ کی طرح اُس نے میری ہتھیلی پر دہی ڈالا تھا اور نم، بھرّائی آنکھوں سے مجھے دیکھتے ہوے بولی تھی، ’’بڑا ہو گیا، اچھا نام کما کر آئیو۔‘‘ یہ اَکّو ماسی کا آخری آشیرواد تھا جس کے ساتھ اُس نے مجھے رخصت کیا تھا۔ اس کی اِس چاہت کی وجہ سے میں خوشحال واپس لوٹ آیا تھا۔ پر جس نے میری ہتھیلی دہی سے بھر دی تھی وہ ایسے لمبے سفر پر چلی گئی جہاں سے کوئی لوٹ کر نہیں آتا۔ اِس ایک سال میں میں نے کیا کھویا، کیا پایا، اِس کا لیکھا جوکھا جو ہو، ہوتا رہے، لیکن آج اَکّو ماسی کی دکان کے سامنے سر منڈوا کر کھڑا ہونے پر میں نے اندازہ لگایا کہ میں کئی چیزوں کو کھو چکا ہوں۔

(جاری ہے)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لالٹین پر وی شانتا رام کی خود نوشت سوانح کا ترجمہ سہ ماہی “آج” کے بانی اور مدیر “اجمل کمال کے تعاون سے شائع کیا جا رہا ہے۔ اس سوانح کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

[blockquote style=”3″]

انتساب: میں ترجمے کا یہ عمل دو ہستیوں کے نام کرتی ہوں، اپنے دادا ابو شوکت علی کہ انہوں نے اس ایلس کی راہ کے کانٹے چنے اور اپنی ہندی گرو مسز شبنم ریاض کہ جنہوں نے ایلس کو ایک نئی دنیا کا راستہ دیکھایا۔

[/blockquote]

Categories
نان فکشن

شانتا راما – باب 2: جوا (ترجمہ: فروا شفقت)

[blockquote style=”3″]

’’شانتاراما‘‘ برصغیر کی فلم انڈسٹری کے بانیوں میں شامل وی شانتا رام کی آپ بیتی ہے جو انھوں نے اپنی آخری عمر میں مراٹھی میں بول کر لکھوائی اور چھپوائی تھی۔ بعد میں اس کا ہندی روپ شائع ہوا۔ شانتارام جن کا پورا نام شانتارام راجارام وانکودرے تھا، 18 نومبر 1901 کو پیدا ہوے اور کو پیدا ہوے اور 30 اکتوبر 1990 کو وفات پائی۔ مہاراشٹر کے شہر کولھاپور میں، جو برٹش راج کے دور میں ایک رجواڑے یا نوابی ریاست کا صدرمقام تھا، انھوں نے خاموش فلمیں بنانے سے آغاز کیا اور بعد میں پونا اور بمبئی میں مراٹھی اور ہندی کی بےشمار فلمیں بنائیں۔ اس طرح شانتارام کی لمبی پیشہ ورانہ زندگی کی دلچسپ داستان اس خطےکی فلمی دنیا کی تاریخ بھی ہے۔ اس تاریخ کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے کرداروں میں مختلف علاقوں، ذاتوں، زبانوں، طبقوں اور پیشوں کے لوگ شامل ہیں جنھوں نے مل کر ایک رنگارنگ منظرنامہ تیار کیا جس کی جھلکیاں اردو میں سعادت حسن منٹو کی ان تحریروں میں ملتی ہیں جن کا پس منظر 1940 کی دہائی کا بمبئی شہر اور وہاں کی فلمی دنیا ہے۔ ’’شانتاراما‘‘ میں اس دنیا کے رفتہ رفتہ بننے اور پھیلنے کی کہانی بڑے بےتکلف اور دلچسپ اسلوب میں بیان کی گئی ہے۔ شانتارام کی معروف ہندی فلموں میں سے چند کے نام یہ ہیں: ’’ڈاکٹر کوٹنِس کی امر کہانی‘‘ (1946)، ’’امر بھوپالی‘‘ (1951)، ’’جھنک جھنک پایل باجے‘‘ (1955)، ’’دو آنکھیں بارہ ہاتھ‘‘ (1957)۔ ’’شانتاراما‘‘ کا اردو روپ ہندی متن کی بنیاد پر فروا شفقت نے تیار کیا ہے جو گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں پی ایچ ڈی سکالر ہیں۔

[/blockquote]

کولھاپور کے مہالکشمی مندر کے احاطے میں میرا جیون بڑھتا پھولتا جا رہا تھا۔ مندر میں ایک بڑی سی گھنٹی لگی تھی۔ اس کے گھن گھن کٹوروں سے کولھاپور ہر روز جاگتا تھا۔ اس گھنٹے کی آواز کی تھوڑی ہی دیر بعد اُوشا آرتی ہوتی تھی۔ اس کے ساتھ ہی پرانے راج محل کے نقارخانے سے اٹھتی شہنائی کی مدھر آواز پُروائی کے جھونکوں پر سوار ہو کر دھیمے سُروں کے روپ میں یک جا ہو کر لہرانے لگتی تھی۔ طلوع صبح کا سارا ماحول اوشا آرتی اور راج محل کی شہنائی کی آوازوں سے بھر جاتا تھا، پاک ہو جاتا تھا۔

ایسے وقت کبھی کبھی میری نیند کھل جاتی تھی۔ تب گھر گھر میں چکیاں پیسنے کی آواز سنائی دیتی تھی۔ ہمارے گھر میں ماں چکی چلاتے چلاتے لوک گیت گایا کرتی تھیں۔ کسی پڑوس کے مکان سے صبح کی عبادت کا پاٹھ سنائی دیتا تو کہیں تعلیم کی آواز گونجتی، اکھاڑوں میں پہلوانوں کے ہنکاروںکی لیَ شروع ہو جاتی۔ ہر اکھاڑے میں کسَے ہوئے جسم کے سڈول جوان اپنی مستی میں مست ہو کر ورزش میں لگے دکھائی دے جا سکتے تھے۔ کوئی ڈنڑ پیلتا، کوئی بیٹھکیں لگاتا تو کوئی مُگدر گھمانے کی کسرت کرتا تھا۔ پسینے سے تر قوی و توانا جوان اکھاڑے کی نرم ملائم مٹی میں کشتیوں کے داؤپیچ لڑاتے تھے۔ ان کو کُشتی سکھانے والا استاد بھی انھیں ورزش کی خوبیاں سمجھاتا دکھائی دیتا۔ پہلوانی ان دنوں کولھاپور کے باسیوں کی ایک زبردست دُھن تھی، ایک شوق تھا۔

اسی ماحول میں کسی کھڑکی سے راگ داری کے ریاض کی آواز بھی سنائی پڑتی۔ اس وزن دار اتارچڑھاؤ کے ساتھ ہی کسی میراثن کی لہکتی لَے کاری ماحول میں رچ بس جاتی۔ شاید کوئی گائیکہ اپنے استاد کے چرنوں میں بیٹھ کر گانے کا ریاض کرنا سیکھتی ہو۔ آہستہ آہستہ یہ آوازیں ہنکار ایک دوسرے میں گھل مل جاتے اور میں گُدڑی میں سمٹ کر پھر گہری نیند سو جاتا۔

’’ارے شانتیا، اب اٹھو بھی!‘‘ ماں کی پکار گُدڑی میں بھی سنائی دیتی۔ میں فوراً اٹھتا۔ نیند بھاگ جاتی۔ جلدی سے گھر کے باہر کی طرف جاتا۔ دروازے آنگن میں ماں کی کھینچی ہوئی رنگولی کی ریکھاؤں کو دیکھ کر سحرزدہ ہو جاتا۔ باہر سڑکوں پر جھاڑ بوچھاڑ شروع ہوتی۔ جھاڑنے پونچھنے والوں کے لمس سے بچتے بچاتے، نالیوں کو پھلانگتے، اپنی ریشمی دھوتی سنوارتے مندر کی طرف جانے والے لال کنٹوپی والے براہمنوں کی اچھل کود کو دیکھ کر مجھے ہنسی آتی۔ تبھی کہیں دور سے گھوڑوں کی ٹاپوں کی گونج سنائی دیتی۔ ساتھ ہی ایک رتھ نما گاڑی (جسے کولھاپور میں ’کھڑکھڑا‘ کہا جاتا تھا) کے پہیوں میں لگی لوہے کی پٹی کی کھڑکھڑاہٹ بھی سنائی دیتی۔ اس کھڑکھڑے کو ہانکنے والا شخص بہت ہی رعب دار تھا۔ ساڑھے چھ فٹ لمبا قد، قلعے کے پَٹ سی شاندار سخت چھاتی، بھاری بھرکم جسم، خوبصورت پُرجلال مکھڑا، چمکدار آنکھیں اور سرپٹ دوڑنے والے گھوڑوں کی مضبوطی سے تھامی باگیں۔۔ ایسا ہوتا تھا اس شخص کا رعب داب والا بھیس۔ ایک دم سادہ، دیہاتی سر پر کسانی ڈھنگ سے باندھا کیسری رنگ کا صافہ، ململ کا کُرتا، گنگی کولھاپوری بناوٹ کی موٹی چپلیں۔ وہ شاندار مرد تھے چھترپتی شاہُو مہاراج بھوسلے، کولھاپور ریاست کے راجہ۔ راستے پر کھڑے سبھی لوگ انھیں احتراماً جھک جھک کر پرنام کرتے۔ کچھ لوگ کھڑکھڑے کی آواز سن کر اپنا کام چھوڑ، پھرتی سے باہر آ کر انھیں عقیدت بھرا سلام کرتے۔ شاہو مہاراج گاؤں کے باہر بنے ہوے راج محل میں قیام کرتے تھے، لیکن ہر روز صبح وہاں سے اپنے پُرانے راج محل میں گھرانے کی بھگوتی ماں بھوانی کے مندر میں اس کا درشن کرنے دستور کے مطابق آیا کرتے تھے۔ پُرانے راج محل کے خاص دروازے پر دونوں طرف ہاتھی کھڑے رہتے تھے۔

چڑھتے دن کے ساتھ سڑکوں پر آمدورفت بڑھنے لگتی۔ سبزی لے لو سبزی۔۔۔ بھاجی ! کہتی ہوئی سبزی والی محلے سے نکل جاتی۔ کبھی کبھار ہی ماں اس سے سبزی لیتی اور بدلے میں اسے چھاج سے اناج دیتی۔ کبھی کبھی مورپنکھ لگی اونچی ٹوپی پہنے ’واسودیو‘ جھجانجھ بجاتا، گاتا، اپنے ہی چاروں طرف گول گول جھومتا ناچتا آتا۔ ماں اس کی جھولی میں کچھ اناج ہی ڈالتیں۔ وہ آشیرواد دے کر آگے چلا جاتا۔

میری اس ننھی سی دنیا میں کتنی ہی باتیں ایسی تھیں جن کے تئیں مجھے کشش، خواہش، حیرت اور ڈر بھی ہوتا تھا۔ آج کہہ پانا بھی مشکل ہے۔ گیروے کپڑے پہن کر رام رکشا کہتے ہوے محلے سے جانے والا رام داسی سادھو، ہر جمعے کو چونڈکے کا تار بجا کر رینوکا دیوی کا بھجن گاتے وقت بیچ ہی میں’’اُدے گا آئی اُدے… اُدے…‘‘ کی آواز دیتی ہوئی جوگوا (خیرات) مانگنے والی جوگنیں، سولہ ہاتھ کی ساڑھی پہنے ہیجڑے، گوبو گوبو گوبوِ کی لے میں ڈھولک بجاتے آنے والے نندی بیل، سنکرانت کے دن مٹی کے چھوٹے چھوٹے خیراتی پیالے اور گنپتی تہوار کے دنوں کالی گیلی مٹی کی گنیش مورتیاں بیچنے کے لیے لانے والے کمہار اور ناگ پنچمی کے دن سپیرا مداری، سبھی بہت ہی مزے دار ہوا کرتے تھے۔ سپیرا ہمارے دروازے پر آتا۔ سر پر رکھی پٹاری اُتارتا۔ پھر اپنی بین سے بہت ہی مدھر سُر نکالتا۔ اس کی دھن سن کر کچھ ہی لمحوں میں پھن کو دس کا ہندسہ بنا پیلا پیلا ناگ پھن اٹھا کر پھنکارتا ہوا باہر آتا۔ سپیرا اور بھی چاؤ سے بین بجاتا، ناگ کے سامنے ناچتے جھومتے لگتا اور وہ ناگ دیوتا بھی اس کی دھن پر مست ہو کر اس کی لے پر جھومنے لگتا۔ اور وہ کڑک لکشمی! باپ رے باپ! اُس شخص کے کپڑے، بکھرے بکھرے بال اور اپنی ہی پیٹھ پر تڑاک تڑاک کوڑے لگانے کی اس کی ادا! میں تو بہت ہی ڈر جاتا تھا۔ اس شخص کو کڑک لکشمی کہتے تھے۔ اس کے ساتھ ایک عورت سر پر ایک بند صندوق لیے آیا کرتی تھی۔ وہ عورت اس صندوق کو پھر اس شخص کے سامنے لا کر دھر دیتی۔ اپنے پر ہی کوڑے برسانے کا وہ سلسلہ کافی دیر تک چلتا رہتا۔ اس کے بعد وہ شخص اس صندوق کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ جاتا اور آواز دیتا، ’’بیا، بیا، دروازہ کھولو، بیا، کواڑ کھولو!‘‘ پھر صندوق اپنے آپ کھل جاتا۔ لوگ اس کے اندر رکھی دیوی کے مکھوٹے کا درشن کرتے اور اس کڑک لکشمی کو اناج دیتے۔

دن اور چڑھ آتا۔ اب سڑک کے ایک سرے پر شور مچنے لگتا۔ شاہو مہاراج کے شکاری چیتے شہر میں گھومنے پھرنے کے لیے لائے جاتے۔ اُن چیتوں سے مہاراج ہرنوں کا شکار کراتے۔ شکار کی پریکٹس برابر بنائے رکھنے کے لیے ایک آدمی لکڑی کی ایک بڑی سی کرچھی میں گوشت کا ایک بڑا ٹکڑا لیے ان چیتوں کے سامنے سے ہو کر بھاگتا بھاگتا جاتا۔ اُس کے پیچھے پیچھے مضبوط رسیوں سے بندھے دو دو آدمیوں کے سنبھالے چیتے لپک کر اس گوشت کو چھین جھپٹ لیتے اور دیکھتے ہی دیکھتے صاف کر جاتے۔ کبھی کبھی پرانے راج محل کے وہ ہاتھی بھی اپنے گلے میں بندھی گھنٹیوں کی آواز کرتے ہوے شہر میں گھومنے کے لیے لائے جاتے۔

ہر شام مندر میں کتھا کیرتن ہوتا۔ کیرتنوں میں قدیم قصے سنائے جاتے۔ مجھے وہ بہت ہی پسند تھے۔ ان قصوں کو دلچسپ بنانے کے لیے بیچ بیچ میں لائق کیرتن کارگیت گاتے جاتے۔

جھانجھ، منجیرے اور مِردَنگ کی لَے تال میں گائے جانے والے وہ چھوٹے چھوٹے گیت من پر بڑا اثر ڈالتے تھے۔ مہاراشٹری روایت میں کیرتن کے درمیانی وقفے میں کالے رنگ کا ٹیکا لگایا جاتا ہے۔ اسے ’بوکا‘ کہتے ہیں۔ کیرتن کار کالا بوکا لگا کر کتھا کے قصے اس ہم آہنگی سے سناتے کہ رام بن باس کی کتھا سناتے وقت ان کی آنکھیں جھرنے لگتیں۔ رام راون جنگ کا بیان کرتے وقت وہ ویررس کی مورت بن جاتے۔ ثنا کیرتن (بھجن) لے تال سوزو آواز میں جب ایک روپ ہو جاتا تو کیرتن کار جذباتی ہو کر ناچنے لگ جاتے تھے۔ ایسے وقت میں بھی اپنے آپ کو بُھلا کر کتھا کے ساتھ ایک روپ ہو جایا کرتا تھا۔

آرتی کے وقت مندر کا کوئی سیوک جھنگٹ بجاتا تھا۔ جھنگٹ یعنی پتیل کی ایک موٹی تھالی، جسے لکڑی کے موٹے ڈنڈے سے آرتی کے تھال میں بجایا جاتا۔ وہ پوجا کا ایک حصہ ہی بن گیا تھا۔ مجھے جھنگٹ بجانے کا بڑا شوق تھا۔ مندر میں ہر روز جھنگٹ بجا کر اکتایا وہ سیوک جھنگٹ کو مجھ جیسے شوقیہ لڑکے کے حوالے خوشی سے کر دیتا۔ وہ بھی خوش، ہم بھی خوش۔ آرتی کے وقت میں اس جھنگٹ کو کافی چاؤ اور جوش کے ساتھ بجایا کرتا تھا۔ پھر اس آرتی کو مندر کے احاطے میں واقع سبھی مندروں میں گھمایا جاتا۔ مہالکشمی کی آرتی کے سامنے وہ وزن دار جھنگٹ بجاتا ہوا مَیں ناچتا پھرتا تھا۔ میرے پیچھے پیچھے پجاری آرتی کا تھال لیے چلا آتا تھا۔ ایک بار وہ وزنی جھنگٹ زور سے میرے پاؤں پر گِرا، پاؤں پھول گیا۔ ماں نے پوچھا بھی، پاؤں کیسے پھول گیا؟ میں نے جھوٹ کہہ دیا کہ موچ کھا گیا تھا۔ ماں کے غصے سے بچنے کے لیے میں ایک دم سفید جھوٹ بول گیا تھا۔

مندر کا وہ جھنگٹ بجانے کی خواہش کی طرح شمالی دیوار پر لگی وِشال گھنٹی بجانے کا موقع پانے کی تمنا بھی من میں تھی۔ میں باربار سوچتا، کاش کم سے کم ایک بار وہ بڑی گھنٹی بجانے کو مل جائے! گھنٹی تک پہنچنے کے لیے شمالی دیوار کی کافی سیڑھیاں چڑھ کر جانا پڑتا تھا۔ وہاں کی گھنٹی بجانے کا کام جس بھٹ جی کے ذمے تھا اسے ’بھٹ جی ماما‘ کہہ کر، کافی مکھن بازی کر، وہ گھنٹی بجانے کی خواہش بھی میں نے ایک بار پوری کر لی تھی۔

مہالکشمی کے تہواروں پر درباری گائیک استاد اللہ دیا خاں صاحب روایت کے مطابق حاضری لگاتے تھے۔ ایسے پروگراموں کے لیے لوگوں کی بھاری بھیڑ جمع ہوا کرتی تھی۔ اللہ دیا خاں صاحب کولھاپور کی بڑی معزز ہستی تھے۔ ان کے فن کی خوبیوں کی خود شاہو مہاراج بہت ہی محبت بھری عزت کیا کرتے تھے۔

کچھ خاص موقعوں پر ہاتھی کی ساٹھ ماری کا کھیل بھی منعقد کیا جاتا تھا۔ اسے دیکھنے کے لیے کئی بار تو ہم لڑکے سکول سے بھی چھٹی مارتے تھے۔ ساٹھ ماری کے کھیل میں ایک میدان میں ہاتھی کو مدہوش کر کے چھوڑ دیا جاتا۔ اس ہاتھی کے سامنے چند لوگ رنگین رومال ہلا ہلا کر اسے کافی غصہ دلاتے۔ غصّیل ہو کر جب وہ بدمست ہاتھی ان میں سے کسی آدمی پر دھاوا بول دیتا تو مخصوص لوگ شورشرابا کر کے اس کا دھیان بٹانے کی کوشش کرتے۔ اس کھیل میں کبھی کبھی تو متوالا بدمست ہاتھی کسی ایک شخص کے پیچھے پڑ جاتا۔ تب وہ شخص میدان میں بنائے گئے پتھر کے بُرجوں میں چھپ جاتا۔ جان بچانے والے میدان میں کچھ بُرج بنے ہوتے۔ کھیل کھیل میں بدمست ہاتھی آپے سے باہر ہو کر میدان میں من چاہا دوڑنے چنگھاڑنے لگتا۔ کبھی کبھی تو اس طرح بدمست ہاتھی سامنے نظر آنے والے آدمی کو اپنی سونڈ میں لپیٹ کر اونچا اٹھا لیتا۔ تب ہاتھی کے پیروں میں زبردست چٹکیاں کاٹ کر اسے آزاد کریا جاتا۔ ہم نے سنا تھا کہ دو ایک بار تو ایسا بھی دیکھا گیا کہ غصے میں پاگل ہاتھی نے آدمی کو سونڈ میں لپیٹ کر اوپر اٹھایا اور نیچے پٹک کر پیروں تلے روند ڈالا۔

ایسے میدان میں کبھی کبھی مدہوش ہاتھیوں کی آپس میں ٹکر بھی کرائی جاتی۔ مستی پر اتر آئے مدہوش ہاتھی کبھی تو مقابل ہاتھی کو اپنی سونڈ میں اتنا کس کر لپیٹتے اور اتنے زوروں سے دھکا دیتے کہ دیکھنے والوں کو لگتا کہ اب کسی نہ کسی ہاتھی کو جان سے مار کر ہی اس ٹکر کا کھیل رُکے گا۔ ایسی حالت میں پٹاخوں کی آواز، بارود کے انار اور آتش بازی کر کے ہاتھیوں کو ڈرایا جاتا، جس سے ڈر کر وہ دور ہو جاتے۔

کولھاپور کے اس طرح کے متنوع رنگارنگ ماحول میں میرا تن من شکل لے رہا تھا، اس ماحول کے ڈھانچے میں ڈھالا جا رہا تھا۔ میں دس سال کا ہو چکا تھا۔ شاہو مہاراج نے انھی دنوں کولھاپور میں ’ایرینا‘ سٹائل کی کشتیوں کے دنگل کا ایک شاندار میدان بنوا کر پورا کر دیا تھا۔ نئے دنگل میدان میں چالیس پچاس ہزار ناظرین آسانی سے بیٹھ سکتے تھے۔ انھوں نے کافی ماہر ہوشیار اور تیار پہلوانوں کو سہارا دیا تھا۔ میدان کے افتتاح کے موقع پر ہندوستان کے بڑے بڑے اور مشہور پہلوانوں کی کشیتوں کا انتظام کیا گیا تھا۔

آج بھی مجھے اچھی طرح یاد ہے، میں بھی ان دنوں اکھاڑے میں جا کر یوں ہی ڈنڑ (ڈنڈ) پیلنے لگا تھا، بیٹھکیں مارنے لگا تھا۔ تھوڑی بہت کشتی بھی کھیل لیتا تھا۔ ویسے میرا بدن تھا تو چھریرا ہی، جیسے سدا ماسی جی کا بھائی ہوں! پھر بھی اکھاڑے کی لال مٹی شوقیہ اپنی قمیض پر لگا لیتا اور مٹھیاں بغل میں دبا کر بانہوں کو پھلاتا ہوا بالشت بھر کا سینہ تان کر پہلوان کی اکڑ سے میں بھی سڑکوں پر یوں ہی سیرسپاٹا کر آتا تھا۔

میدان کے افتتاح کا دن آیا۔ سارے کولھاپور میں مسرت ٹھاٹھیں مارنے لگی تھی۔ جگہ جگہ، گاؤں گاؤں اور پاس پڑوس کے بڑے شہروں سے آئے پہلوانوں سے میدان کھِل اٹھا تھا۔ میدان کے باہر بھی کافی بڑا میلہ لگ گیا تھا۔ اس میں طرح طرح کے کھیل اور کھانے پینے کی دکانیں تھیں، چکر جھولے تھے۔ اس میلے میں کھانے پینے اور موج کرنے کے لیے باپو نے مجھے دو آنے دیے تھے۔ دو آنے! یعنی پورے آٹھ پیسے! ایسا لگتا تھا جیسے ساری دنیا کی دولت اس دن میری مٹھی میں آ گئی تھی۔

میلے کا مزہ لوٹتے لوٹتے، ٹہلتے بھٹکتے میں آرام سے چل رہا تھا۔ ایک جگہ پر کافی بھیڑ دیکھی۔ لوگوں نے ایک گھیرا سا بنا لیا تھا۔ اندر ایک آدمی چلّا چلّا کر لوگوں کا دھیان کھینچ رہا تھا۔ ’’ایک پیسے کے پانچ پیسے، ایک پیسے کے پانچ پیسے!‘‘ بھیڑ میں سے راستہ نکال کر میں سب سے آگے پہنچ گیا۔ اس آدمی نے زمین پر ایک چادر بچھائی تھی۔ اس پر چھ تصویریں تھیں: ہل، گھوڑا، مرغا، بیل، ہرن اور شیر! میں سارا ماجرا بڑی بےتابی سے دیکھتا رہا۔

اس آدمی کے ہاتھ میں ایک ٹین کا چھوٹا سا ڈبا تھا۔ اس کے اندر کوئی چیز رکھی تھی۔ ڈبا ہلتے ہی کھڑکھڑ کھڑکھڑ آواز سنائی دیتی تھی۔ گھیر کر کھڑے لوگوں میں سے کچھ لوگ چادر پر بنی تصویروں میں سے کہیں پر پیسے رکھے جا رہے تھے۔ کسی تصویر پر ایک، کسی تصویر پر دو، کسی پر تین تین بھی پیسے ڈالے گئے تھے۔ اس طرح سبھی تصویروں پر پیسے رکھے جانے کے بعد اس نے وہ ڈبا پھر ایک بار زور سے ہلا کر چادر پر الٹا رکھا۔ اب سب لوگ سانس روک کر اس ڈبے کو دیکھنے لگے۔ اس نے ڈبا اٹھا لیا۔ ڈبے کے اندر انھی چھ تصویروں والا ایک پانسا تھا۔ اس پر ہل کی تصویر اوپر آئی تھی۔ جس شخص نے ہل کی تصویر پر پیسہ لگایا تھا اسے پانچ پیسے مل گئے۔ وہ بہت خوش ہو گیا۔ مجھے بھی لطف آیا۔ ایک پیسہ لگانے کو میرا بھی جی کرنے لگا۔ ایک پیسہ لگا کر اگر پانچ پیسے مل گئے تو میلے میں کتنا ہی اور مزہ لیا جا سکتا ہے، میں نے سوچا۔ دماغ میں وہ پانسا الٹنے پلٹنے لگ گیا تھا۔
میرا ارادہ پکّا ہو گیا۔ میں نے بھی ایک پیسہ ہل پر ہی پھنیکا۔ ڈرتے ڈرتے، کھیل کب شروع ہوتا ہے، آنکھیں پھاڑ کر دیکھنے لگا۔

سبھی تصویروں پر پیسے پھینکے گئے تھے۔ وہ آدمی ڈبا کھڑکھڑانے لگ گیا تھا۔ میرا جوش انتہائی حد پر پہنچ گیا تھا۔ اس نے ڈبا پھر الٹا رکھ دیا اور آرام سے اٹھا دیا۔ مجھے اپنی آنکھوں پر بھروسا نہیں ہو رہا تھا! ہل والی تصویر پھر پانسے پر اوپر آ گئی تھی۔ مجھے پانچ پیسے مل گئے تھے۔ اب میرے پاس بارہ پیسے ہو گئے تھے۔ میلہ، مٹھائی، چکرجھولا وغیرہ، ساری باتوں کو بھلا بیٹھا تھا۔ سامنے بس وہ تصویریں، ان پر لگائے جانے پیسے اور زیادہ پیسے دلانے والے اس آدمی کے ڈبے کے اندر کا وہ پانسا ہی دکھائی دے رہا تھا!اب کی بار میں نے ہرن پر پیسہ لگایا۔ پھر وہی سب شور ہوا اور ڈبا اٹھانے سے پہلے کی وہی عجیب خاموشی چھا گئی۔

اس نے ڈبا اٹھا دیا۔ ہرن کی تصویر اوپر تھی۔ اے شاباش! میں پھر جیت گیا تھا۔ میری قسمت زوروں پر تھی۔ میں لگاتار جیتتا ہی چلا گیا۔ اب میرا حوصلہ بڑھ گیا تھا۔ میں تصویر پر ایک کے بجاے کبھی دو تو کبھی چار پیسے بھی لگاتا گیا۔ اس طرح میرے پاس پورے دو روپے کی ریزگاری جمع ہو گئی۔ اتنے پیسے میں نے کبھی اپنے پاس رکھے نہیں تھے۔

اب تو اس کھیل کا نشہ ہی مجھ پر سوار ہو گیا۔ میں اب تصویروں پر زیادہ پیسے لگانے لگا۔ لیکن بیچ بیچ میں میں ہارنے بھی لگا۔ ہارے ہوے پیسوں کو پھر سے جیتنے کی ضد بھی سر پر سوار ہوتی گئی۔ اور ساتھ ہی ہارنے کا سلسلہ بھی زوروں سے جاری رہا۔ میرے پاس جمع دو روپے کی ریزگاری میں سے صرف دو آنے ہی میرے ہاتھ رہے! باقی سارے پیسے میں ہار گیا تھا۔ بچے تھے صرف دو آنے! باپو کی طرف سے میلے میں کھانے پینے اور مزہ کرنے کے لیے دیے گئے دو آنے! لیکن میں انھیں بھی بھلا بیٹھا تھا۔ بس ایک ہی دھن سوار تھی۔ کچھ ہی لمحے پہلے، کچھ ہی لمحے پہلے میرے ہاتھ آئی وہ دو روپے کی ریزگاری مجھے پھر سے جیتنی ہے۔ میں کھیلتا گیا۔ پیسے لگاتا گیا۔ اب میرے پاس صرف ایک ہی پیسہ بچا تھا، آخری پیسہ! ہارے ہوے سارے پیسے پھر سے جیت سکنے کی خواہش دلانے والا وہی اکلوتا پیسہ تھا!

ان سبھی دیوی دیوتاؤں کو جن کے نام مجھے یاد تھے، یاد کر کے میں نے وہ آخری پیسہ پھر سے ’ہل‘ پر لگا دیا۔ پہلے پانچ پیسے اس تصویر نے جو جِتا دیے تھے۔ وہ آدمی ڈبا کھڑکھڑانے لگا۔ مجھے لگا، وہ بیکار ہی زیادہ آواز کیے جا رہا ہے۔ کیرتن کار کے وسیلہ سے سنایا گیا کوروؤں پانڈوؤں کے درمیان ہوئی جنگ کا، یعنی جوئے کا اکھیان (بیان) یاد آنے لگا۔ پھر سے سارے راج کو جیت لینے کی خواہش سے دھرم راج نے دروپدی کو بھی داؤ پر لگانے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں دکھائی تھی۔ میں تو صرف آخری پیسہ ہی لگا چکا تھا۔۔۔ بھئی یہ آدمی اس ڈبے کو کب تک کھڑکھڑاتا ہی رہے گا؟

آخر میں اس نے ڈبا الٹا رکھا۔ میں سانس روک کر دیکھنے لگا۔ روح آنکھوں میں آ گئی تھی۔ اس نے ہولے سے ڈبا اٹھا دیا۔ پانسے کے اوپر والے حصہ پر ہل کی تصویر نہیں تھی۔

ایک کونے میں بیٹھ کر میں جی بھر کر رویا۔ میں آخری پیسہ بھی ہار چکا تھا۔ میرے پاس پورے آٹھ پیسے تھے۔ لیکن میں مورکھ۔۔۔ بری باتوں کے لالچ میں باپو کے دئیے گئے سارے پیسے گنوا بیٹھا تھا۔ مٹھائی والے کی دکان میں لگی مٹھائی مجھ پر ہنس رہی تھی، مجھے چڑا رہی تھی۔ سامنے چکروں میں گھومنے والے جھولے بھی ’کرکر‘ آواز کرتے ہوے مجھے منھ بنا کر جیسے چِڑا ہی رہے تھے۔ لیکن اب کیا ہونا تھا؟ میں سارے پیسے ہار گیا تھا۔ میرے کومل من پر اس بات کا اتنا زبردست صدمہ ہوا کہ اس کے بعد جیون میں آج تک، مذاق کے لیے بھی، میں نے کبھی جوا نہیں کھیلا۔

میرے باپو کی کرانے کی دکان کوئی خاص نہیں چل پا رہی تھی۔ لوگ باگ نقد دینے کے بجاے ادھار لے جانا ہی زیادہ پسند کرتے تھے۔ اس لیے دکان سے ہونے والی آمدنی خاندان کے گزارے کے لیے کم پڑنے لگی۔ حالات بد سے بدتر ہوتے گئے۔ کئی بار ہم لوگوں کو اپنے مکان بھی بدلنے پڑے۔ ہر بار کرائے پر لیا گیا مکان پہلے مکان سے چھوٹا ہونے لگا۔ سوال کم کرائے کا جو تھا۔ آخر میں تو ہم منگلوار بازار میں ایک ایسے مکان میں پہنچ گئے جس میں ڈیڑھ کمرہ تھا۔

لہٰذا کریانے کی دکان کے ذیلی کاروبار کے طور پر باپو نے کہیں سے قرضہ لے کر بارہ(12) گیس بتیاں پونا جا کر خرید لیں۔ یہ گیس بتیاں شادی بیاہوں میں اور ناٹکوں کے استعمال کے لیے کرائے پر دی جاتی تھیں۔ شاہو مہاراج کی فیاضانہ شاہی سرپرستی کی وجہ سے مشہور ناٹک کمپنیاں اپنے ناٹکوں کا مظاہرہ کرنے کے لیے کولھاپور آتی تھیں۔

خاص باغ کے دنگل میدان کے ساتھ ہی مہاراج نے ’پیلس‘ نامی ایک نیا تھیٹر بھی بنوایا تھا۔ ’لکشمی پرساد‘ اور ’شِواجی‘ نامی دو پرانے تھیٹر بھی چلتے تھے۔ باپو کا ناٹک منڈلیوں کے قیام کی جگہوں پر آنا جانا تھا اور اچھی جان پہچان تھی۔ پیٹرومیکس جب کرائے پر جاتے تو میں بھی باپو کے ساتھ ان کی مدد کرنے کے لیے جایا کرتا تھا۔ گیس کی بتیاں جلانا، ان میں ہوا بھرنا، ہوا کو کم زیادہ کرنا، ایک ادھ ہی اچانک ہی جل اٹھتی تو اسے بجھا کر پھر جلانا وغیرہ کام مَیں کیا کرتا تھا۔

ان پیٹرومیکسوں کی وجہ سے اُن دنوں میں نے کافی ناٹک دیکھے۔ ناٹک مشہور اور اچھا ہوتا تو ماں بھی دیکھنے آیا کرتیں۔ اس زمانے میں عورتوں کے بیٹھنے کا الگ انتظام ہوتا تھا۔ عورتوں کے لیے اکثر تھیٹر کی اوپری منزل پر ایک طرف کا کمرہ مخصوص رہتا تھا۔ باقی ہم سب لوگ نیچے کی منزل پر کرسیوں پر بیٹھا کرتے تھے۔ وہ زمانہ سنگیت ناٹکوں کا تھا۔ سنگیت ناٹکوں کا کافی دھوم تھی۔ ان ناٹکوں کو مقبولیت بھی حاصل تھی۔ لیکن سنگیت ناٹکوں کا نام سنتے ہی اپنے تو رونگٹے کھڑے ہو جاتے تھے۔ بات یہ تھی کہ ان ناٹکوں میں جو گیت ہوتے تھے وہ اتنی دیر تک گائے جاتے کہ لگتا یہ ختم ہوں گے یا نہیں۔ پدگیان شروع ہوتے ہی مجھے جمائی جھپکی آنے لگتی۔ بیچ میں تالیوں کی گڑگڑاہٹ ہوتی تو میں چونک کر جاگ پڑتا اور تالیاں بجانے لگتا تھا۔ گیت ختم ہونے کی خوشی میری تالیوں میں زیادہ ہوا کرتی تھی۔ لیکن یہ اطمینان قلیل مدتی ہوتا، کیونکہ وہ تالیاں گیت ختم ہونے کے لیے نہیں بلکہ ’ونس مور‘ کے لیے ہوتی تھیں۔ پھر سے وہی گیت اور بھی زیادہ الاپ اور تسلسل کے ساتھ گایا جاتا۔ اس درمیان ناٹک کی کہانی وہیں رکی رہتی۔ اس پر میں اپنے چاروں طرف دیکھتا، یہ جاننے کے لیے کہ کہیں یہ سب لوگ پاگل واگل تو نہیں ہو گئے ہیں؟ لیکن سبھی ناظرین کو پھر سے وہی گیت گائے جانے پر بےحد خوشی ہوتی دکھائی دیتی، اور اپنے رام پھر سو جاتے!

کبھی کبھار ایسے ناٹک بھی آیا کرتے تھے جن میں گیت نہ ہوتے۔ لیکن عام ناظرین کا رجحان سنگیت ناٹکوں کی طرف ہی زیادہ تھا۔ جو بھی ہو، ناٹک کا پلاٹ وغیرہ باتیں سنگیت ناٹکوں سے زیادہ پسند تھیں۔ ’شاہو نگرواسی‘ نامی ایک ناٹک منڈلی صرف نثری ناٹکوں کے لیے کافی مشہور ہو چکی تھی۔ مشہور اداکار گنپت راؤ جوشی اس منڈلی کے مالک تھے۔ وہ خود ناٹکوں میں بہت ہی بہترین اداکاری کیا کرتے تھے۔ آواز زبردست تھی اور کافی دور تک آسانی سے سنی جا سکتی تھی۔ اداکاری تو ایک دم جاندار ہوتی تھی۔ جو بھی کردار گنپت راؤ کرتے، بس اس کے ساتھ ہی ایک روپ (یک جان) ہو جاتے تھے۔ ’رانا بھیم دیو‘ ناٹک میں بھیم دیو، ’پنّا دائی‘ میں پنّا کے شوہر اور ’ ہیملٹ‘ ناٹک میں ہیملٹ کا جو کردار گنپت راؤ کیا کرتے تھے، آج بھی مجھے اچھی طرح یاد ہے۔ میرا خیال ہے کہ ہیملٹ کا اُن کا کردار سب سے زیادہ مقبول تھا۔ جس دن جس کردار کی اداکاری کرنی ہوتی، گنپت راؤ اس دن وہی کردار بن جاتے تھے۔ اتنی جان وہ اپنی اداکاری میں لایا کرتے تھے۔ ہیملٹ ناٹک کا ایک سین تو میں آج تک بھلا نہیں پایا ہوں۔

ہیملٹ کے باپ کا قتل اس کا چچا کرتا ہے۔ اس کی ماں بعد میں اسی چچا کے ساتھ شادی کر لیتی ہے۔ ہیملٹ ان دونوں کے سامنے اپنے باپ کے قتل کا ناٹک کراتا ہے۔ اُس ناٹک کو دیکھنے کے بعد اُس کے چچا اور ماں دونوں بےچین ہو کرتذبذب میں مبتلا ہو کر وہاں سے چلے جاتے ہیں۔ اُس ناٹک کا مطلوبہ نیتجہ برآمد ہوا دیکھ کر ہیملٹ کا کردار ادا کرنے والے گنپت راؤ جوشی ایک دم ایک بچّے کی حرکت سے اچھل کر اپنا مکالمہ ’’تالی دو پریالا، تالی!‘‘ ادا کرتے۔ اِس طرح بولنے کی اُن کی اس ادا پر تالیوں کی گونج سے ناظرین سارا تھیٹر گونجا دیتے تھے۔ میری بھی پُرجوش تالیاں اُن میں شامل رہا کرتی تھیں۔

اُس زمانے میں عورتوں کے کرداروں کی ادا کاری مرد ہی کیا کرتے تھے۔ بھلے چنگے مردوں کو عورتوں جیسی ساڑھیاں پہن کر تھیٹر میں کام کرتے دیکھ کر مجھے بہت ہی عجیب لگتا تھا۔ بدسلیقہ، بے سرو پیر، اٹ پٹا لگتا تھا۔ ایک دن میں نے باپو سے پوچھ ہی لیا کہ ناٹکوں میں عورتوں کا پارٹ مرد کیوں ادا کرتے ہیں؟ باپو نے صاف لفظوں میں دھتکار دیا تھا۔ ’’چل ہٹ، تم تو نرے بے وقوف ہو!‘‘ ناٹکوں میں عورتوں کا پارٹ مردوں کی طرف سے کیا جانا اور میری بےوقوفی، دونوں کا کیا تعلق ہے، میری سمجھ میں تو خاک نہیں آیا۔

ایک بار کولھاپور میں صرف عورتوں کی ایک ناٹک منڈلی آئی تھی۔ ان کا دستور ایک دم الٹا تھا۔ ان کے ناٹکوں میں ہیروئن یا اس کی سہیلیوں کا کردار نوجوان عورتیں ادا کرتی تھیں۔ اس میں وہ خوب پھبتی بھی تھیں۔ لیکن ناٹک کے ہیرو یا دیگر مرد کرداروں کی ادا کاری انھی دوشیزاؤں کی مائیں یا خالائیں چچیاں کرتی تھیں تو وہ بہت ہی بھونڈی لگتی تھیں۔ ان کا انگ بھدا ہی رہتا تھا۔ مردوں کا بھیس اختیار کر کے جب وہ اپنے گھیرے دار کولھے مٹکاتی سٹیج پر اِدھر سے اُدھر چلتیں تو میں ہنسی سے لوٹ پوٹ ہو جاتا تھا۔

ان سب باتوں کے ساتھ ہی میری تعلیم بھی دھیرے دھیرے آگے بڑھ رہی تھی۔ ہر سال پاس ہوتے ہوتے میں پرائیویٹ انگریزی ہائی سکول کی تیسری جماعت میں جا پہنچا تھا۔ زبان اور پینٹنگ کے مضامین میں ترقی کافی اچھی تھی۔ ریاضی کے ساتھ میری ذرا کم ہی بنتی تھی۔

سال کے آخر میں سکول میں ایک میلہ ہوا کرتا تھا۔ اُس کی تیاری کافی دن پہلے ہی شروع ہو جاتی تھی۔ اس وقت سکول میں سارا ماحول کافی جوش و خروش اور میل ملاپ کا ہوا کرتا تھا۔ ہر میلے میں ایک اچھا مقبول ہو چکا ناٹک سٹیج کیا جاتا۔ اس کا انتظام طلبا ہی کرتے۔ اس ناٹک کو پیش کرنے، اس کی ہدایتکاری، ریہرسل کرانے میں ساٹھے گروجی ہمیشہ پہل کرتے۔ سال بھر ایک دم مشکل، سخت اور غصّیل رہنے والے ساٹھے گروجی ناٹک کے دنوں طلبا سے بڑی ہی ملنساری کا مظاہرہ کرتے تھے۔ ہنسی مذاق سے ماحول بھر دیا کرتے تھے۔

اس سال نرسنگھ چنتامنی کیلکر کا لکھا ’توتیا چے بنڈ‘ نامی تاریخی ناٹک سٹیج کرنے کے لیے چنا گیا تھا۔ سبھی اہم پارٹ بڑی کلاس والے طلبا کو دیے جا چکے تھے۔ میرا خالہ زاد بھائی بابو (بابوراؤ پنڈھارکر) بھی ایک کردار پانے میں کامیاب ہو گیا تھا۔ پتا نہیں کیوں اور کیسے، مجھے، دادا ( کاشی ناتھ) کو اور میرے ایک اور خالہ زاد بھائی بھالو (بھالجی پنڈھارکر) کو بھی اس ناٹک میں پارٹ مل گئے تھے۔ ہمیں قلعے کے باہر پہرہ دینے والے محافظوں کے کردار ملے۔ میں تو بہت ہی خوش تھا۔

ناٹک کی تعلیم شروع ہو گئی۔ میرا کردار ویسے بہت ہی چھوٹا سا تھا، اس لیے میرے پاس فالتو وقت کافی ہوا کرتا تھا۔ اس کا استعمال میں تعلیم کے وقت باقی سب کے کرداروں کا، ان کے مکالموں کے ڈھنگ کا، اور خاص اداکاری کا باریکی سے جائزہ لینے میں کیا کرتا تھا۔ کسی منچلے لڑکے نے یہ بات ساٹھے گروجی کے پاس چغل خوری کر کے پہنچا دی۔

شام کو ناٹک کی ریہرسل ہوئی۔ اس کا ناظرین کے سامنے مظاہرہ کل پرسوں ہونے والا تھا۔ ساٹھے گروجی نے اپنی کڑکتی آواز میں مجھے پکارا: ’’شانتارام، ادھر آؤ۔ کیوں بچے جی، سنا ہے تم ہر کسی کی نقل کرتے پھرتے ہو؟ ہیں؟ ماجرا کیا ہے؟‘‘

’’نا۔۔۔ نا۔۔۔ نا۔۔۔ نا۔۔۔ ہیں۔‘‘
’’نہیں؟ جھوٹ بولتے ہو؟ گدھے کہیں کے!‘‘ گروجی گرجے۔ مجھے لگا اب تو ناٹک کا پارٹ ختم ہی سمجھو۔
’’ن۔۔۔ نہیں سر،۔۔۔ سر،۔۔ جی۔۔ ہاں۔۔۔ گروجی۔۔‘‘

’’یہ نہیں اور جی کیا لگا رکھا ہے؟ پاگل ہو گئے ہو کیا؟ میں بھی تو دیکھوں، کیسی نقل کرتے ہو!‘‘ گروجی کی مونچھوں میں مسکان کھِلی۔ کمال ہو گیا۔
اس سے مجھے ڈھارس بندھ گئی۔ میں نے سب سے پہلے اپنے باپو کی نقل کر کے دکھائی۔ لگا کہ گروجی کو پسند آئی۔ میری بھی ہچکچاہٹ جاتی رہی۔ پھر تو میں نے باری باری سے ناٹک کے سبھی کرداروں کی نقلیں ان کی ٹھیک ادا کے ساتھ پیش کر دیں۔ سبھی لڑکے کھلکھلا کر ہنس رہے تھے۔ ساٹھے گروجی کی مونچھیں بھی ہنسنے کی وجہ سے بِلّے کی مونچھ جیسی پھیل گئی تھیں۔

اب تو میرا سارا ڈر ختم ہو گیا تھا۔ میں نے ساٹھے گروجی سے پوچھا، ’’سر، اس فلم میں کام کرنے والے لوگوں کے چلنے کی اٹھنے بیٹھنے کی، گرنے کی نقل میں کر کے دکھا سکتا ہوں۔ دیکھنا پسند کریں گے آپ؟’’

گرو جی نے ’’ہاں‘‘ کہا۔ میں نے ’فولز ہیڈ‘ فلم باپو کے ساتھ دیکھی تھی۔ وہ خاموش فلم تھی اور بےحد مزاحیہ تھی۔ بہت مزہ آتا تھا۔ ان دنوں فلمیں خاموش ہی ہوا کرتی تھیں۔ سنیما سکرین کی ساری مشینری ابھی بنیادی ابتدائی حالت میں ہونے کی وجہ سے شوٹنگ میں اور کئی بار تو فلم دیکھتے وقت بھی کرداروں کی سر گرمیاں کافی دلچسپ ہو جاتی تھیں۔ ایسا دکھائی دیتا تھا کہ کرداروں پر کپکپی طاری ہے، انھیں جھٹکے لگتے معلوم ہو رہے ہیں۔ میں نے اس فلم کے سبھی کرداروں کی نقل اس کپکپی اور ان جھٹکوں کے ساتھ کر کے دکھا دی۔ ہنستے ہنستے لڑکوں کے پیٹ میں بل پڑتے دکھائی دیے اور گروجی تو بہت زیادہ ہنسنے کی وجہ سے آنکھوں میں آیا پانی اپنے اپرنے سے پونچھتے نظر آئے۔

فن فیئر کا دن آ گیا۔ صبح سے ہی سکول میں کافی چہل پہل ہونے لگی۔ شروع میں طرح طرح کے کھیل ہوے۔ مختلف قسم کے مقابلے بھی ہوے۔ اس میں ہی صبح کا سارا وقت بیت گیا۔ ساتھ مل کر کھانے کا پروگرام ہوا۔ اس کے بعد ساری دوپہری گپیں لڑانے، بند کمروں میں کھیلے جانے والے کھیل کھیلنے میں کب بیت گئی، پتا ہی نہ چلا۔ شام ہوتے ہی ہم ناٹک میں کام کرنے والے لڑکے اس کی تیاری میں جٹ گئے۔ ہر کوئی جلدی میں تھا۔ اس سال ہمارا ناٹک ’’پیلس‘‘ تھیٹر میں ہونے والا تھا۔

ناٹک شروع ہو گیا۔ تین چھوٹے چھوٹے محافظوں کی آمد شروع ہوئی۔ یہ تین محافظ تھے میں، بھالو اور دادا۔ بھالو گانا گایا کرتا تھا، دادا اِکتارا بجاتا اور میں جھانجھ۔ ہم تینوں اپنے کرداروں میں کھو گئے تھے۔ گانے کی لِے بدلتے ہی میری جھانجھ بجنے کا ڈھنگ بھی اپنے آپ بدل جاتا تھا۔ لوگوں نے تالیوں کی گڑگڑ اہٹ کی۔ مجھے لگا شاید بھالو کے گانے کو داد دی گئی ہے۔ ہم تینوں خوش ہو کر وِنگ میں واپس چلے گئے۔ گروجی ونگ میں ہی کھڑے تھے۔ شاباشی دینے کے انداز میں میری پیٹھ تھپتھپاتے ہوے بولے، ’’واہ بھئی! بہت بہت شاباش! کیا ہی بڑھیا لَے تال میں جھانجھ بجائی ہے تم نے۔ لوگوں کی تالیاں جو سمیٹیں! بہت اچھے!‘‘ سن کر میرا بھی جی بھر گیا۔

ناٹک ختم ہوا۔ سارے ناظرین چلے گئے۔ اب تو تھیٹر میں بچے تھے سکول کے طلبا اور ناٹک میں کام کر چکے طلبا۔ گروجی نے اچانک پھر مجھے آواز دی۔ بولے، ’’ہاں تو شانتارام، ہو جائے اب تمھاری نقلوں کا پروگرام!‘‘

آہستہ آہستہ میری نقلیں کر دکھانے کا فن کی شہرت کافی پھیل گئی۔ ہمارے باپو نئے قائم ہوے دیول کلب میں ہمیشہ جایا کرتے تھے۔ کولھاپور میں بابا دیول نامی ایک سنگیت پریمی سجن نے اس کلب کو حال ہی میں قائم کیا تھا۔ کولھاپور کے لکشمی پرساد تھیٹر کے پچھواڑے میں لوکتوکے نامی سجن رہا کرتے تھے۔ ان کے گھر کی اوپری منزل پر دیوان خانے میں یہ دیول کلب تھا۔ اس کلب کی زیر نگرانی باہر گاؤں سے آئے بڑے بڑے گایکوں (گویّوں) کی محفلیں برپا کی جاتی تھیں۔ دوسری صورت میں وہ لوگوں کی گفتگو کا ایک اڈا ہوتا تھا۔ ایسے موقعوں پر کئی بار نقلیں کرنا، چٹکلے سنانا جیسے پروگرام بھی ہوتے تھے۔ کئی بار ہمارے باپو بھی نقلیں کیا کرتے تھے۔ ایک شرابی کی نقل اور ایک توتلے نائی اور اس کے توتلے گاہک کی باپو کی طرف سے پیش کی جانے والی نقلیں کافی مقبول ہو چکی تھیں۔ ان توتلوں کی نقل پیش کرتے کرتے باپو بھی تھوڑا سا تُتلانے لگے تھے۔

کولھاپور کے مشہور ہارمونیم فنکار گووِندراؤ ٹینبے نے تھیٹر کے مشہور گائیک، اداکار بال گندھرو اور گنپت راؤ بوڈس کے تعاون سے ’گندھرو‘ نامی منڈلی قائم کی تھی۔ دورہ کر کے جب کولھاپور آتے تو اس دیول کلب میں بھی آتے تھے۔ ایک دن بابا دیول جی نے گوبند راؤ جی ٹینبے کے سامنے مجھے اپنے سکول میں پیش کی گئی ساری نقلیں کر کے دکھانے کو کہا۔ گوبند راؤ جی کو وہ بہت بھائیں۔ بعد میں میں تو گھر چلا آیا۔ تھوڑی دیر بعد باپو بھی گھر آئے۔ کھانا کھاتے وقت انھوں نے ماں سے کہا، ’’آج گوبند راؤ جی نے شانتا رام کی نقلیں دیکھیں۔ انھوں نے اسے خوب سراہا۔ کہہ رہے تھے، تمھارا یہ شانتارام کافی چست دماغ والا لڑکا معلوم ہوتا ہے۔ تمھارے پانچ لڑکے ہیں۔ کیوں نہیں ایک کو ہماری ناٹک کمپنی میں بھرتی کراتے؟‘‘
ماں نے باپو سے پوچھا، ’’آپ نے کیا کہا؟‘‘
’’میں نے منع کر دیا۔‘‘

ماں کے چہرے پر اطمینان جھلکتا دکھائی دیا۔ میں نے یہ ساری باتیں سن لی تھیں۔ کھانا کھانے کے بعد باپو اکیلے ہی آرام سے بیٹھے تھے۔ میں ان کے سامنے جا کر کھڑا ہو گیا اور کہا، ’’باپو، میں ناٹک کمپنی میں جاؤں گا۔‘‘
باپو منھ بنائے دیکھتے ہی رہ گئے۔ بات بدلنے کے مقصد سے بولے:
’’ارے بھئی، وہ تو گنپت راؤ نے یوں ہی کہہ دیا تھا۔‘‘
’’انھوں نے بھلے ہی یوں ہی کہا ہو، لیکن میں ناٹک کمپنی میں جانا چاہتا ہوں۔‘‘

کوئی بات من میں بیٹھ جانے کے بعد فوراً فیصلہ کرنے کا رجحان شاید ان دنوں بھی مجھ میں رہا ہو گا۔ باپو نے مجھے اپنے پاس بیٹھا کر کافی سمجھایا۔ ناٹک کمپنی میں ماحول کیسا ہوتا ہے۔ بری عادتوں اور لتوں میں پڑے لوگوں کے ساتھ بیٹھے رہنا پڑتا ہے۔ ہمیشہ گھر سے دور ہی کیسے کیسے دورے نکلتے ہیں۔ پھر پڑھائی لکھائی گول ہو جاتی ہے۔ سوانگ وغیرہ، ساری باتیں وہ مجھے کافی دیر تک سمجھاتے رہے، ہدایتیں دیتے رہے، انتباہ بھی کرتے رہے۔ لیکن مجھ پر ناٹک کمپنی میں بھرتی ہونے کا نشہ سا سوار ہو چکا تھا۔

آخر باپو نے ہار مان لی۔ مجھے ساتھ لے کر وہ پونا میں گندھرو ناٹک کمپنی میں گئے، مجھے گوبند راؤ کے سپرد کیا اور بولے:
’’آپ کی خواہش کے مطابق اِس شانتارام کو یہاں لے آیا ہوں۔ اب آپ ہی اس کا پالن کیجیے۔‘‘ کہتے کہتے باپو کا گلا رُندھ گیا۔ سسکی کو وہ روک نہ سکے۔ فوراً ہی آنکھیں پونچھتے پونچھتے وہ وہاں سے چلے گئے۔

(جاری ہے)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لالٹین پر وی شانتا رام کی خود نوشت سوانح کا ترجمہ سہ ماہی “آج” کے بانی اور مدیر “اجمل کمال کے تعاون سے شائع کیا جا رہا ہے۔ اس سوانح کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
[blockquote style=”3″]

انتساب: میں ترجمے کا یہ عمل دو ہستیوں کے نام کرتی ہوں، اپنے دادا ابو شوکت علی کہ انہوں نے اس ایلس کی راہ کے کانٹے چنے اور اپنی ہندی گرو مسز شبنم ریاض کہ جنہوں نے ایلس کو ایک نئی دنیا کا راستہ دیکھایا۔

[/blockquote]