Categories
فکشن

آوازوں والا کردار (آخری حصہ) – تالیف حیدر

اس طویل کہانی کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کریں۔

اس کے پڑوسیوں نے اسے بتایا تھا کہ زمین کی تعمیر سات روز میں ہوئی تھی۔ جب زمین بنی تو اس کے پڑوسی وہاں تھے اور وہ بھی تھا۔ ہوا یہ تھا کہ جب زمین کا نام و نشان نہ تھا تو انسان اور دیو خلا میں رہا کرتے تھے، انسان اور دیو ایک دوسرے کے رشتے دار تھے، یہاں کی عورتیں وہاں اور وہاں کی عورتیں یہاں بیاہی جاتیں، دیو نیوں کے بچوں کو انسانی عورتیں دودھ پلاتیں اور پالتیں۔ انسانوں کے بچوں کو دیو خلا کی سیر کراتے۔ سب خوش حالی سے ساتھ میں رہتے تھے، پھر ایک روز دیو زاد مردوں نے دیکھا کے ان کے بچے غائب ہو رہے ہیں، پہلے ایک غائب ہوا پھر دوسرا ہوا پھر تیسرا ہوا۔ انہوں نے خلا میں دور دور تک انہیں ڈھونڈا مگر وہ کہیں نہ ملے۔ انہوں نے انسانوں سے اس بات کا تذکرہ کیا تو وہ بھی پریشان ہو گئے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا اور اپنے بچوں کی حفاظت مستعدی سے کرنے لگے۔

کچھ دنوں بعد جب یہ سلسلہ بہت بڑھ گیا تو دیو زادوں کے بڑے بڑے سرداروں نے انسانوں سے چند انسانی سراغ رساں خلا کے مغرب میں جہاں سورج کی حکومت تھی اور جہاں دیو زاد جاتے ہوئے گھبراتے تھے کیوں کہ انہیں روشنی سے بیر تھا بھیجنے کی خواہش ظاہر کی۔ انسانوں نے ادھر کا سفر کبھی نہیں کیا تھا، مگر دیو زادوں کی پریشانی کو دیکھتے ہوئے انہوں نے حامی بھر لی۔ چند انسانی سراغ رساں چھ ماہ کی مسافت طے کر کے جب سورج کی بستی میں پہنچے تو انہوں نے دیکھا کہ وہاں ایک بہت بڑا روشن آگ کا گولا ہے جس کے ارد گرد بے شمار سونے،چاندی، ہیرے، موتی کے پہاڑ ہیں جو خلا میں تیر رہے ہیں۔

جب وہ ذرا نزدیک گئے تو انہیں شیطانوں کی بستی نظر آئی۔ جہاں لاکھوں شیطان اور ان کی بیویاں اور بچے خلا میں سورج کی تپش میں دیو زاد بچوں کی لاشیں پکا رہے ہیں اور مزے لے لے کر کھا رہے ہیں۔ انہوں نے یہ منظر دیکھا تو بہت حیران ہوئے۔ ابھی وہ یہ منظر دیکھ ہی رہے تھے کہ ایک شیطان کی ان پہ نگاہ پڑ گئی۔ وہ دوڑے مگر شیطانوں نے انہیں جا لیا۔ فوراً انہیں قید کر کے شیطانوں کے سردار کے سامنے پیش کیا گیا۔ اس نے انسانوں کو دیکھا تو بہت خوش ہوا۔ ان کی بیڑیاں کھلوائیں اور ان کی تعظیم میں جھک گیا۔ انسان یہ منظر دیکھ کر بہت حیران ہوئے۔ اس نے ان سراغ رساں انسانوں کی دعوت کی جس میں خلائی میوے، پھل، سبزیاں اور دیوزاد بچوں کا پکا ہوا گوشت ان کے سامنے سجا دیا۔ انہوں نے سارے کھانے قبول کر لیے اور بچوں کا گوشت لینے سے انکار کر دیا۔ تب شیطان کے سردار نے ان سے کہا کہ کیا تم دیوزاد بچوں کی خاطر یہاں آئے ہو۔ انہوں نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ سردار بولا۔ تمہیں دیو زاد کیا دیتے ہیں جو تم ان کے دوست ہو اور اس خبر کوحاصل کرنے یہاں تک آ گئے ہو۔ انہوں نے بتایا کہ دیو زاد اور ہم ہزاروں سال سے ساتھ رہ رہے ہیں۔ ان کے بچے ہمارے بچے ہیں۔ تمہیں ان کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کر نا چاہیے۔ اس پر شیطانوں کے سردار نے ان سے کہا کہ تم کیا جانو کہ ہم ایسا کیوں کرتے ہیں۔ انسان بولے اپنی بھوک اور مزے کی خاطر۔ شیطان نے کہا ایسا ہرگز نہیں ہے۔ پھر وہ انہیں اپنے ساتھ ایک جگہ لے گیا جہاں سورج کی تپش بھی معتدل تھی اور خلا کی ٹھنڈ بھی۔ اس مقام کو دیکھ کر انسان حیران رہ گئے۔ پھر شیطان کے سرداروں نے ایک دیو زاد کا بچہ منگوایا اور کی گردن دھڑ سے الگ کر دی۔ یہ دیکھ کر انسان کانپ گئے۔ شیطان نے کہا کہ ڈرو نہیں اب جو میں دکھاتا ہوں وہ دیکھو۔ اس نے دیوزاد بچے کا پیٹ پھاڑا اور اس کا معدہ نکال کر سورج کےاس معتدل مقام پر اچھال دیا۔ جو آن واحد میں سوکھ کر اتنا سخت ہو گیا کہ انسان اسے ہلا نہ سکے پھر اس کے بیچ سے ایک ترل بہہ کر اس کے چاروں طرف پھیل گیا۔

شیطان کے سردار نے ایک اور بچہ منگوایا اور اس کابھی سر ڈھر سے الگ کر دیا اور اس کا پیٹ پھاڑ کے جوں ہی اس کا معدہ نکال کر اس معتدل مقام پر اچھالا تو انسان یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ وہ معدہ دوسرے معدے سے چپک گیا اور اسی طرح ٹھوس ہو گیااور پھر اس میں سے بھی ویسا ہی ترل بہہ کر اس کے چاروں طرف پھیل گیا۔ تب شیطان کے سرداروں نے کہا کہ اسے پتھر اور پانی کہتے ہیں جو صرف پوری کائنات میں دیوزاد کے پیٹ میں پایا جاتا ہے۔ اگر ہم کسی طرح تمام دیو زادوں کے پیٹ پھاڑ کر ان کے معدے اس معتدل مقام پر اچھال دیں تو ہمیں کبھی خلا کی ٹھنڈ میں نہیں رہنا پڑے گا۔ انہوں نے انسانوں سے کہا کہ دیو بہت طاقت ور ہیں اگر وہ کسی طرح انہیں یہاں تک لے آئیں اور شیطانوں کے ساتھ مل کر ان کا قتل کر دیں تو وہ اور شیطان ہمیشہ خوشی سے زمین کے مالک بن کر رہیں گے۔

انسانوں کے سراغ رساں اس پر فوراًراضی ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے سرداروں کو بھی اس پہ راضی کر لیں گے۔ پھر شیطانوں نے انسانوں کے ساتھ مل کر ایک منصوبہ بنایا اور انسان وہاں سے روانہ ہو گئے۔ ایک رات جب تمام دیو زاد گہری نیند سو رہے تھے اور انسانی سراغ رسانوں نے انسانوں کے بڑے بڑے سرداوں کو بلا کر اس معتدل مقام، زمین اور پانی کے متعلق بتایا تو سارے سردار خوشی سے جھوم اٹھے پھر شیطانوں کا منصوبہ بتایا جس پہ عمل کرنے کے لیے انہیں دیو زادوں سے یہ کہنا تھا کہ ان کے بچے کس طرح کی پریشانیوں کا شکار ہو رہے ہیں اور انہیں یہ یقین دلانا تھا کہ وہ روشنی کی طرف چلیں جہاں ان کے بچے بھی ہیں۔ بنا ڈرے وہ اور انسان مل کر شیطانوں کا مقابلہ کریں گے اور انہیں ختم کر کے ان کے بچوں کو چھڑا لائیں گے۔سارے سرداروں نے ایسا ہی کرنے کی قسم کھائی۔ پھر دوسرے روز تمام انسانوں تک یہ خبر پہنچا دی گئی۔ دیو زادوں کو صورت حال سے آگاہ کیا گیا اور انہیں غیرت دلائی گئی کہ وہ اپنے بچوں کی خاطر وہاں چلیں اور انسان ان کے کندھے سے کندھا ملا کر چلیں گے۔ جب دیو زاد اور ان کی عورتیں سب اس پہ راضی ہو گئے تو انسانوں اور دیو زادوں کا ایک لشکر روشن نگری تک پہنچا۔

دیو زادوں کی مدد سے چھ ماہ کا راستہ دو دن میں طے ہو گیا۔ مگر جوں ہی وہ شیطانوں کی بستی تک پہنچے تمام انسانوں نے دیو زادوں سے بغاوت کر دی اور شیطانوں سے جا ملے۔ دیو زاد یہ صورت حال دیکھ کر بوکھلا گئے۔ انہوں نے انسانوں کے اور اپنے تعلقات کے ہزاروں برسوں کے واسطے دیے، رو ئے گڑ گڑائے مگر انسانوں نے ان کی ایک نہ سنی اور شیطانوں کے ساتھ مل کر ان کے سر دھڑ سے الگ کر کے ان کے پیٹ چا ک کیے اور ان کے معدے نکال کر اس معتدل مقام پر اڑا دیے۔ یہ قتل و غارت گری چھے روز تک چلتی رہی اور پھر ساتویں روز جب سارے دیو ختم ہو گئے تو خلا کا وہ معتدل مقام ایک شاندار زمین سے سج گیا۔

سارے انسان اور شیطان یہ منظر دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور باری باری زمین پر آنے لگے۔ جوں ہی ایک انسان یا شیطان زمین پہ قدم رکھتا تو ایک دھماکے کی آواز خلا میں بلند ہوتی جو دیو زاد کی چیخوں کی طرح ہوتی۔ دھیرے دھیرے انسان اور شیطان زمین تک پہنچتے رہے اور یہ چیخیں خلا میں گونجتی رہیں۔ پھر اچانک ان چیخوں نے ایک ساتھ اٹھنا شروع کر دیا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے ساری خلا چیخوں سے پھٹ جائے گی۔ آواز کی شدت جب بہت بڑھ گئی تو اس نے گھبرا کر آنکھیں کھول دیں۔ اس کے ماتھے پہ پسینے کی بوندیں ابھر آئی تھیں۔ کچھ دیر کے لیے ان چیخوں کی آوازیں کم ہوئی اور پھر دوبارہ بڑھتی چلی گئیں۔ اسے ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے دیو زادوں کی چیخوں سے اس کا دماغ پھٹ جائے گا۔
(13)
بڑی مذہبی طاقت والوں کا جلوس پیتل منڈی سے نکلناشروع ہوا،ہزاروں کی تعداد میں لوگ ہاتھوں میں جھنڈے اور اپنا مذہبی ہتھیار لیے لال چوک کی طرف بڑھ رہے تھے۔ نعرے لگاتے، چیختے چلاتے۔ اپنے دشموں کو للکارتے۔ آج ان پہ ایسا جنون طاری تھا کہ اگر وردی والے بھی انہیں روکنے کی کوشش کرتے تو وہ انہیں بھی ختم کر دیتے۔ ان کا نشانہ دو سری مذہبی طاقت تھی، وہ اپنے نعروں میں انہیں گالیاں دیتے، ڈرپوک اور بزدل کہتے ہوئےآگے کی طرف بڑھ رہے تھے۔ اس جلوس میں ہر عمر کی مرد اور عورتیں شامل تھیں۔ عورتوں کے نعروں کی آواز سے محسوس ہوتا تھا جیسے وہ اپنی مد مقابل پارٹی والوں کا کلیجہ نوچ لیں گی۔ آج ان کا کوئی باپ،بھائی اور شوہر نہ تھا۔ سب ایک شدید غصے کی لہر میں شہر سے چھوٹی مذہبی طاقت کو ختم کر دینا چاہتے تھے۔

جلوس جوں جوں آگے بڑھتا گلیوں، کوچوں اور بازاروں سے لوگ اپنے مذہبی ہتھیاروں سمیت ا س میں شامل ہو تےجاتے۔ وردی والے اس جلوس کے آگے پیچھے بندوقیں لیے چل رہے تھے۔ نعرے بازوں کی آواز جلوس میں موجود لوگوں میں جوش پیدا کر رہی تھی۔وہ آگے، پیچھے اور درمیان میں بکھرے ہوئے تھے۔ پہلے آگے والا نعرہ لگاتا، پھر اس کے پیچھے والا اور پھر سب سے پیچھے والا۔ ابھی یہ جلوس شہر کی گلیوں سے گزر ہی رہا تھا کہ چھوٹی طاقت والوں نے دھیر ےدھیرے جنوبی علاقے میں ایک جگہ جمع ہونا شروع کر دیا۔ وردی والوں کو اس بات کا علم نہ تھا کہ چھوٹی طاقت والے اس جلوس کے دن شہر کے ہر حصے میں جمع ہو کر ایک جگہ آ کر ملیں گے۔ ان کا بھی رخ لال چوک کی طرف تھا۔ شہر کی چاروں سمتوں میں ایک اوربھیڑ اکھٹا ہونے لگی۔ وردی والوں نے جب مختلف علاقوں میں چھوٹی طاقت والوں کو اکھٹا ہوتے دیکھا تو دھیرے دھیرے پیچھے کی طرف کھسکنے لگے۔کیوں کہ چھوٹی طاقتیں ہاتھوں میں اپنے مذہبی جھنڈوں اور ہتھیاروں کے علاوہ بندوقیں بھی لیے ہوئے تھے۔ وردی والے وائر لیس پہ ہر علاقے کے ذمہ داروں کو اطلاع دیتے اور لال چوک کی طرف بڑھتے چلے جاتے۔

چھوٹی مذہبی طاقتیں جنوبی اور مغربی علاقوں سے نکل کردائرہ شاہراہ پہ مل گئیں۔ دونوں جماعتوں نے جب دیکھا کہ اتنی تعداد میں لوگ اسلحہ کے ساتھ ہیں تو ان کے حوصلے بلند ہو گئے۔ اب وہ بھی بڑی مذہبی طاقت کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ دوسری جانب یہ بڑی طاقتوں کا جلوس بڑھتا چلا جا رہا تھا۔ انہیں جلد ہی یہ خبر مل گئی کہ چھوٹی طاقتیں بھی لال چوک کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ یہ خبر سنے ہی وہ اس طرح آگ بگولا ہوئے جیسے ایک آٹھ برس کے بچے نے کسی پہلوان کو گالی دے کرللکار دیا ہو۔ ان کا مجمع تیزی سے آگے کی طرف بڑھ نے لگا۔ وہ ہزاروں کی تعداد میں تھے اور وردی والے کہیں دور دور تک نظر نہیں آ رہے تھے، جیسے آج انہوں نے شہر کو اپنے حال پہ چھوڑ دیا ہو۔ بڑی مذہبی طاقتوں کا جلوس جب لال چوک سے ایک میل کے فاصلے پہ پہنچ گیا تو تمام وردی والے انہیں لال چوک پہ اکھٹا نظر آئے۔ وہ مائک ہاتھوں میں سنبھالے عوام سے چیخ چیخ کر کہہ رہے تھے۔

” آپ لال چوک تک پہنچ گئے ہیں اس کے آگے مزدوروں کی جماعت کا علاقہ شروع ہوتا ہے، آپ یہاں سے لوٹ جائیں۔”

مگر بڑی مذہبی طاقتیں ٹس سے مس نہ ہوئیں اور مستقل آگے بڑھتی رہیں۔ دوسری جانب چھوٹی مذہبی طاقتوں کا جھنڈ بھی وہاں پہنچ گیا تھا۔ وہ شہر کی دوسری طرف سے آئے تھےاس لیے بڑی مذہبی طاقتیں اور مزدوروں کا جھنڈ ان کے بالکل سامنے تھا جن کے درمیان وردی والے گھڑے تھے۔ انہوں نے چھوٹی مذہبی طاقتوں کی طرف رخ کر کے بھی وہی اعلان کیا۔ مگر ان کے بھی سر پہ جیسے جنون سوار تھا۔ دونوں گروہ نعرے بازیوں کے ساتھ آگے بڑھتے رہے اور مزدور اس طرح کسمسا کر وردی والوں کے پیچھے دبک رہے تھے جیسے دونوں طاقتیں انہیں پیس کے رکھ دیں گے۔ ایسا لگتا تھا جیسے سارا شہر سڑکوں پہ اتر آیا ہے۔

وردی والوں نے حالات کو سنبھالنے کے لیے ایک آخری وارننگ دی کہ اگر اب کوئی آگے آیا تو وہ گولی چلا دیں گے۔ انہوں نے اتنا کہا ہی تھا کہ چھوٹی مذہبی طاقت والوں میں سے کسی نے ان پہ گولی داغ دی۔ وردی والے بلڈ پروف جیکٹ میں تھے، ہاتھوں میں ڈھالیں اور سر وں پہ ہیلمٹ پہنے۔وہ گولی کسی وردی والے کو لگی تو نہیں مگر اس حرکت نے ہر طرف ایک ہلچل مچا دی۔ وردی والوں نے بھی چھوٹی مذہبی طاقتوں پہ فائرنگ شروع کر دی۔ کئی لوگوں کی فلک شگاف چیخیں اٹھیں اور وہ وہیں ڈھیر ہو گئے۔ چاروں طرف بھگدڑ مچ گئی۔ چھوٹی مذہبی طاقت والوں میں جن کے پاس بندوقیں تھیں وہ وردی والوں پہ گولیاں برسا رہے تھے اور بقیہ ادھر ادھر دوڑ رہے تھے۔

بڑی مذہبی طاقت والوں میں سے بہت سے لوگ چیخ چیخ کر اپنے لوگوں کو آگاہ کر رہے تھے کہ چھوٹی مذہبی طاقت والوں کے پاس بندوقیں ہیں۔ وہ اپنے ہتھیار لے کر آگے بڑھ رہے تھے، جب بعض وردی والوں نے انہیں آگے کی طرف بڑھتے دیکھا تو فائرنگ کا رخ ان کی طرف بھی مڑ گیا۔ کچھ لوگ رخمی ہوئے اور کئی سو وردی والوں پہ ٹوٹ پڑے، اس ریلے نے کئی وردی والوں کی بندوقیں چھینیں اور ان پہ گولی چلا دی۔ ان کی آنکھوں سے شعلے برس رہے تھے۔ جب وردی والوں نے یہ ہنگامہ مزید بڑھتے دیکھا تو چاروں جانب سے گیس کے گولے برسانا شروع کر دیے۔ وہ بڑی مذہبی طاقتوں اور چھوٹی مذہبی طاقتوں کے درمیان کھڑے تھے مگر دونوں طاقتیں ا س کوشش میں تھیں کہ کسی طرح وہ ان دونوں کے اور مزدوروں کے منہ پر سے ہٹ جائیں۔ آنسو گیس کے گولے۔ پانی کے ٹینکر اور بندوقیں، مشین گنیں، یہ سب آزمایا گیا۔ جگہ جگہ لوگوں کی لاشیں پڑی تھیں۔ مگر دونوں جانب مرنے مارنے کا جنون سوار تھا۔ وہ کسی طرح ایک دوسرے میں گتھ جانا چاہتے تھے۔ ایسے جیسے کبھی ایک دوسرے کے ساتھ مل کر نہ رہے ہوں۔ ایک ہی شہر میں رہتے ہوئے ایک دوسرے سے عرصے سےبے انتہا نفرت کرتے رہے ہوں۔ جیسے یہ واقعہ ایک بہانہ ہو جس نے ان دونوں کے اندر کی ساری مروت اور برداشت کو بالکل ختم کر دیا ہو۔ وہ ایک دوسرے سے لڑنا چاہتے تھے۔ ایک دوسرے کی گردنیں کاٹنا چاہتے تھے تاکہ اپنے مذہبی جذبات کو سچا ثابت کر سکیں۔ ان کا خیال تھا کہ یہ ہی ایک موقع ہے جب وہ شہر کو دوسری گندگی سے صاف کر سکتے ہیں۔ اس وقت جب وہ دونوں ظاقتیں آمنے سامنے ہیں جب شہر ان کے لیے میدان جنگ بن گیا ہے۔

بڑی مذہبی طاقت اب اپنے مقدس جانور کی موت کے غم میں گرفتار نہ تھی، نہ اس کی عقیدت اور محبت اس کے دل میں باقی رہ گئی تھی۔ اس وقت وہ صرف ایک جذبے سے سرشار تھے اور وہ تھا اپنے مد مقابل سے نفرت کا جذبہ۔ اگر انہیں کسی سے عقیدت ہوتی تو وہ لوگوں کے خون کے پیاسے نہ ہوتے، یہ ہی حال چھوٹی مذہبی طاقتوں کا تھا جو اپنے اصلی رنگ پہ اتر آئے تھے۔ یہ ثابت کرنے کے لیے کہ وہ ویسے نہیں جیسے ان کے مد مقابل انہیں سمجھتے ہیں وہ ظلم کر کے ظلم کی شناخت کو مٹانے پر کمر بستہ تھے۔ بڑی طاقت والے ان کی جس خونی تاریخ سے نالاں تھے، جس الزام کو وہ یہ کہہ کر ایک عرصے سے ٹال رہے تھے کہ یہ جھوٹی تاریخوں کاپروپگنڈا ہے انہوں نے کبھی اپنے حریفوں پہ ظلم نہیں کیا ان کے گلے نہیں کاٹے۔ اس بات کا یقین دلانے کے لیے آج وہ شہر کے چاروں کونوں سے ایک جگہ جمع ہو کر سب کی گردنیں کاٹ دینا چاہتے تھے۔ ہر وہ شخص جو انہیں ظالم کی نگاہ سے دیکھ رہا تھا وہ اس کی آنکھیں نوچ کر یہ ثابت کر نا چاہ رہے تھے کہ وہ ظالم نہیں ہیں انہیں ان نظروں سے نہ دیکھا جائے۔

مزدور اور غریب عوام جو نہ اس دل میں شامل تھے اور نہ اس دل میں وہ ان دونوں جماعتوں کے درمیان ان وردی والوں کے سائے میں زندہ تھے جن کے حکام نے ان کی حفاظت کا ڈھونگ رچانے اور دونوں جماعتوں کی نفرت کو ابھارنے کے لیے مقدس جانور کے ٹکڑے کروا کر سارے شہر میں پھیلوائے تھے۔ یہ ہنگامہ اسی طرح اس وقت تک جاری رہا جب تک ہزاروں کی تعداد میں مزید وردی والے لال چوک پہ نہ پہنچ گئے اور انہوں نے دونوں جماعتوں کے لوگوں کو وہاں سے کھدیڑ کر شہر بھر میں کرفیو نہ لگا دیا۔

(14)

آج پورا ایک ہفتہ گزر چکا تھا کہ وہ کار خانے نہیں گیا تھا۔ بعض لوگوں کا خیال تھا کہ اب اس علاقے کے تمام کار خانوں کو ہمیشہ کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ مگر وہ ان باتوں پہ دھیان دیے بنا تین دن سے روز ادھر جا رہا تھا اور روز اسے سارے کار خانے بند نظر آتے تھے۔ وہ اس دوران اکتا گیا تھا۔ دن بھر گھر میں پڑا رہتا۔ نہ کہیں جا سکتا تھا اور نہ کوئی ایسا تھا جسے بلا سکتا تھا۔ زیادہ سے زیادہ دوو قت کے کھانے کے علاوہ دن میں تین مرتبہ چائے خانے تک کا چکر لگا لیتا۔ وہ گھر میں دیر دیر تک بیٹھا سگر ٹوں کا دھواں اڑاتا رہتا اور کبھی اس لڑکی کے متعلق سوچتا جو حکومتی عمارتوں کی فٹ پاتھ پہ نظر آئی تھی اور کبھی ان لڑکیوں کے بارے میں جنہیں وہ ان دنوں گھور گھور کے دیکھا کرتا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ وہ حکومتی عمارتوں کی فٹ پاتھ پہ جا کر روز شام کو وہاں کے چکر لگائے۔ مگر شہر ابھی تک معمول پہ نہ آیا تھا۔

جنگی صورت حال کے بعد وردی والوں نے شہر میں سخت ناکہ بندی کر دی تھی۔ کوئی شہر کےایک حصے سے دوسرے حصے میں داخل نہیں ہو سکتا تھا۔ شہر کا سارا نظام ٹھپ پڑا تھا۔ ایک ہفتے سے نہ کوئی حکومتی ادارہ کھلا تھا اور نہ کوئی پرائیوٹ کمپنی۔ وردی والوں کے بڑے حکام شہر کے دونوں گروہوں کے سیاسی لیڈوں سے میٹنگیں کر رہے تھے اور شہر کے حالات کو معمول پہ لانے میں کوشاں تھے۔ لال چوک پہ اب تک خون کے دھبے جگہ جگہ چمک رہے تھے۔ مزدوروں کو شہر سے متصل شاہراہ کے کنارے ایک زمین کا ٹکڑا دے دیا گیا تھا، جہاں حکومت نے انہیں جھونپڑے بنانے کا ساز و سامان مہیاکر وا کے انہیں ان کی ذمہ داری پہ چھوڑ دیا تھا کہ وہ خود اپنے معاشی معاملات سنبھالیں۔ سیاسی لیڈروں کے بیانات لگاتار عوام کے غصے کو کم کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ جس کے لیے دونوں جماعتوں کے لیڈر کبھی ایک دوسرے سے گلے ملتے اور ایک دوسرے کو پھولوں کی مالا پہناتے ہوئے تصویریں جاری کرتے۔ کبھی ایک دوسرے کو کچھ میٹھا اور نمکین کھلاتے ہوئے۔ شہر والوں کا غصہ بھی اب دھیرے دھیرے کم ہو رہا تھا اور ان کو اپنے نقصان کا احساس ہو چلا تھا جو انہیں فساد کے حاصل کے طور پر مل رہا تھا۔

Categories
فکشن

آوازوں والا کردار (پانچواں حصہ) – تالیف حیدر

اس طویل کہانی کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کریں۔

شہر کے اس علاقے کو وردی والوں کے آقاوں نے ایک عرصے سے اپنے منصوبوں کی ابتدا کہ لیے چن رکھا تھا۔ وہ جانتے تھے کہ یہاں سے شروعات کرنا سب سے آ سان ہوگا۔ اس شہر میں دو بڑی طاقتوں کو ایک دوسرے سے لڑوانے کے لیے انہوں نے جنوبی علاقے میں فساد کا ماحول پیدا کر دیا۔ وہ لوگ جو ٹیلے کی بستی میں رہتے تھے ان کے گھروں کو جلا کر وردی والوں نے ان کے دلوں میں ایسی آگ لگا دی تھی جس کا بجھنا اب ممکن نہ تھا۔ اس ہنگامے کے بعد ٹیلے کی طرف کر فیو لگ گیا۔ مگر بستی سے بھاگے ہوئے لوگ جنوبی علاقے کے مختلف گھروں کے سامنے آ بیٹھے۔ وہاں سیاسی لیڈروں نے یہ افراتفری دیکھی۔ تو ہنگامہ مچانا شروع کر دیا۔ وہ اس بات پر شہر کے انتظامیہ سے ناراض سے تھے کہ انہیں کسی قسم کی اطلاع دیئے بغیر اتنا بڑا قدم کیوں اٹھایا گیا۔ وہ وردی والوں کے خلاف کچھ نہیں کہہ سکتے تھے اس لیے اپنی انتظامیہ کو گالیاں دے رہے تھے۔

شہر کے جنوبی حصے میں جگہ جگہ جلوس نکلنے لگے۔ لوگ اپنے اپنے سیاسی دلوں کی بیٹھک بلاتے۔ ان کے ساتھ میٹنگ کر کے بکھری اور بد حال عوام کو اپنے دل میں شامل کرنے کی کوششیں کرتے۔ نعرے لگاتے اور پر زور تقریریں کرتے۔ کچھ مقررین انتظامیہ سے مانگ کر رہے تھے کہ بے گھروں کو چھت دی جائے اور مصبت زدہ بیمار اور زخمیوں کا مفت علاج کیا جائے۔ ایک مقرر نے اپنی تقریر کے دوران اپنی مد مقابل طاقت کے لیڈوں کو گالی دیتے ہوئے انہیں وردی والوں کا دلال کہا شہر کی جنوبی حالت کا ذمہ دار انہیں بتایا تو ہنگامے نے مزید آگ پکڑ لی۔ اب دوسری طاقت ور پارٹیاں اپنا زور دکھانے کے لیے پہلی کو اس کا ذمہ دار بتا رہی تھیں۔ جس کی معقول وجہ انہوں نے مذہبی بنیاد کو بنایا۔ سب جانتے تھے کہ ٹیلے کے قریب جس مذہب کے ماننے والے آباد تھے شہر کا زیادہ تر حصہ انہیں اچھی نگاہ سے نہیں دیکھتا تھا۔ اولاً تووہ شہر کی اقلیت تھی اور دوسری وجہ ان کی مذہبی تاریخ تھی جس نے دیگر مذہبی عقائد کے ماننے والوں کے ساتھ کئی سو سال تک ظالمانہ سلوک روا رکھا تھا۔

مقررین کی تقریریں روز صورت حال کو ایک نیا رنگ دیتی تھیں اور بد حال بے گھر مزدور شہر کی سڑکوں پہ زندگی بسر کر رہے تھے۔ وہ سیاست داں جو عوام کے غم کو سمجھنے کی بات کر تے تھے ان کے گھروں میں ایک کمرہ بھی ان بے گھروں کے لیے نہ نکلا تھا۔ انتظامیہ سے کچھ لوگ آئے تھے جنہوں نے صورت حال کا جائزہ لے کر جلد ہی سب کچھ ٹھیک ہو جانے کا یقین دلایا تھا۔ بے گھر عوام انہیں امید کی نگاہ سے دیکھتی، مگر وہ دن پہ دن بڑھائے جاتے۔ وردی والوں نے ایک ماہ کے بعد وہ علاقہ خالی کر دیا مگر ایک بورڈ وہاں چسپاں ہو چکا تھا۔ جس میں یہ اپیل کی گئی تھی کہ یہاں سے لنک روڈ سے الفسٹن روڈ تک جانے کی سیدھی شاہراہ بنے گی۔یہ رہائشی علاقہ نہیں ہے، اگر یہاں کسی نے رہائشی مکانات بنائے تو انتظامیہ اس کے خلاف سخت قدم اٹھائے گا۔ مزدور عوام نے اپنے جتنے ساتھیوں کو اس ہنگامے میں کھویا تھا اس کے بعد یوں بھی ان کی ہمت نہ تھی کہ ٹیلے کی طرف دوبارہ مڑ کر دیکھتے۔

ان میں سے زیادہ تر لوگ جنوبی علاقوں کے کار خانے میں مزدور تھے جہاں وہ بھ کام کیا کرتا تھا۔ اسے ٹیلے کے حشر پہ افسوس ہوا تھا، مگر اس سے زیادہ افسوس اس بات پہ تھا کہ مزدور بے گھر ہیں اور حکومت ان کے لیے گھروں کا انتظام نہیں کر رہی ہے۔ اس نے سوچا کہ ٹیلے پہ جو شاہراہ بنے گی کیا وہ ان ہزاروں لوگوں کی زندگی سے زیادہ قیمتی ہے۔ یہ لوگ جو دن بھر مزدوری کرتے ہیں اور شام کو کار خانوں سے نکل کر شہر کی فٹ پاتھوں پہ بکھر جاتے ہیں۔ ان دنوں کئی سیاسی مقررین کی تقریروں نے اس کی ڈھارس بندھوائی تھی۔ مگر آخر آخر وہی ڈھاک کے تین پات۔ نہ انہیں کوئی گھر ملتا اور نہ انتظامیہ کی طرف سے کچھ امداد آتی۔ مزدوروں نے اپنا جو یونین قائم کیا تھا اس کی میٹنگیں روز شام کو لال چوک کے پرانے کنویں والی عمارت میں ہوا کرتی۔ جہاں کار خانے کے تمام مزدور بھی جمع ہوتے تھے۔ وہ بھی گزشتہ تین روز سے ان میٹنگوں میں حصہ لے رہا تھا۔ یہاں نوجوان مزدور لیڈروں کی باتیں سن کر اور ان کا دکھ جان کر اس کا دل بھر آتا۔ وہ سوچتا کہ وہ جتنے لوگوں کو اپنے گھر لے جا سکتا ہے لے جائے۔ مگر پھر اسے اپنے گھر کی تنگی یاد آتی تو اس خیال پہ عمل نہ کر پاتا۔ آج اس میٹنگ میں اس کا چوتھا دن تھا۔ وہ نوجوان لیڈر جو کل تقریر کر رہا تھا آج خاموش ایک کونے میں کھڑا تھا اور اس کی جگہ ایک ادھیڑ عمر شخص مزدوروں سے مخاطب تھا۔

“یہ ہمارا غم نہیں سمجھ سکتے، اگر کبھی ان کا اپنا کوئی جلا یا مرا ہوتا۔ ان کا اپنا گھر توڑا یا ڈھایا گیا ہوتا تب یہ جانتے کہ ہم پہ کیا گزر رہی ہے۔ ہم نے انتظامیہ سے کھانے پینے کو نہیں مانگا۔ ان کے آگے ہاتھ پھیلا کے روپیہ یا دولت نہیں مانگی۔ ہم ایک جگہ اپنا سر چھپانے کے لیے زمین کا مختصر ٹکڑا مانگ رہے ہیں۔ یہ کہتے ہیں کہ شہر میں زمین کی کمی ہے۔ جن زمینوں پہ ان انتظامہ کے دلالوں کی کوٹھیاں بنی ہوئی ہیں، ان کے لیے زمین کی کمی نہیں۔ ان کے رہنے، سونے، کھانے اور لوگوں سے ملنے، کھیلنے کودنے اور نہانے دھونے کے الگ الگ کمرے ہیں۔ ان کی حویلیوں میں جانوروں کے لیے اتنی زمین محفوظ کی جاتی ہے جس میں ہم جیسے لوگوں کے دس گھر بن جائیں گے۔ پھر ان وردی والوں کے رہنے کے لیے حکومت نے جو عالی شان کمرے تعمیر کیے ہیں، کیا یہ ہمارے اپنے ہیں۔

میں اس شہر میں پچپن برس سے رہ رہا ہوں اور اب سوچتا ہوں کہ بڑھاپے میں ایک فٹ پاتھ پہ لیٹ کر مروں گا۔ مجھے اس کا غم نہیں، مگر ہمارے بچے اور نوجوان لڑکے جنہوں نے ابھی اپنی زندگی کی شروعات کی ہے کیا وہ اسی طرح سڑکوں پہ زندگی گزاریں گے۔ ہم انتظامیہ سے روز ملنے کی کوشش کر تے ہیں، مگر انتظامیہ کے ذمہ دار ہمیں وقت نہیں دیتے۔ ہم پہ کیے جانے والے ظلم کو وہ انصاف سمجھتے ہیں کہ شہر سے نشے کی کالا بازاری ختم ہو گئی۔ کیا انتظامیہ اس بات کے لیے ذمہ دار نہیں کہ ہمیں پڑھنے اور بڑھنے کے مواقع نہیں ملتے۔ ہمارے بچوں کو ترقی کرنے کا راستہ ہی نظر نہیں آتا۔ہم نشے میں دھت ہیں تو وہ بھی نشے میں دھت ہیں۔ فرق یہ ہے کہ ہم اپنے غموں کو بھلانے کے لیے نشہ کرتے ہیں اور یہ اپنی خوشیاں منانے کے لیے۔ بھائیوں! یہ ایک بڑا ظلم میں ہمارے ساتھ اور ہم جب تک اس کا احساس انتظامیہ کو نہیں دلاتے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ہمارے کچھ نوجوان شہر کی ایک بڑی مذہبی طاقت کے خلاف غصے سے بھرے بیٹھے ہیں۔ میں ان سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ جوش میں کوئی غلط قدم نہ اٹھائیں۔ ہم جانتے ہیں کہ نوجوانوں کا غصہ ٹھیک ہے، مگر سوجھ بوجھ سے کام لے کر ہم ایک ہو کر اس انتظامیہ کے فیصلے کے خلاف لڑیں گے۔ جو سیاسی لیڈر ہماری طرف داریاں کرتے ہیں ہم نے ان کے حوصلے دیکھ لیے ہیں۔ اس سے کچھ نہیں ہوگا۔وہ ہمیں مذہبی بنیادوں پہ بانٹتے ہیں اور ہمارے نوجوانوں کو بھڑکاتے ہیں کہ وہ کوئی ایسا قدم اٹھائیں جس سے ہم اور ذلیل ہو ں اور انہیں چمکنے کا موقع ملے۔ ہم شہر کی سڑکوں پہ زندگی گزار لیں گے، مگر اس شہر کو جس نے ہمیں اتنے برسوں تک اپنے دامن میں محبت سے رکھا کبھی جلائیں گے نہیں۔ یہ کام وردی والوں اور ان کے ملک کے حکمرانوں کا ہے، ہمارا نہیں۔ مجھے امید ہے آپ سب میرا ساتھ دیں گے۔ کل ہم پھر کار خانوں سے آدھے دن میں لوٹ کر انتظامیہ کی عمارت تک جائیں گے۔ ان کے ذمہ داروں کو یہ احساس دلانے کی کوشش کریں گے کہ ہماری مجبوریوں اور پریشانیوں کو سمجھیں۔”

ادھیڑ عمر شخص کی تقریرجاری رہی اس نے سوچا کہ یہ کس مٹی کہ بنے لوگ ہیں کہ اس حالت میں بھی امن کی بات کر رہے ہیں۔ وہ جانتا تھا کہ اگر یہ دس برس بھی اسی طرح حکومت سے اپیل کرتے رہے تو بھی کچھ نہ ہوگا اور شائد اس کی عمر کے تمام لوگوں کا یہ ہی خیال تھا۔ مگر اس ادھیڑ عمر شخص کی باتوں سے اس کی عمر کے تمام لوگ متفق معلوم ہوتے تھے، کیوں کہ انہیں علم تھا کہ وہ اس وقت کتنے دبے کچلے حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔ اگر انہوں نے کوئی غلط قدم اٹھا یا تو ممکن ہے کہ انہیں شہر کی سرحد سے ہی باہر پھنکوا دیا جائے۔ جو کام وردی والوں کے لیے نہایت آسان تھا۔

(10)

رات کے تین بج رہے تھے۔ایک گاڑی شہر کے مختلف علاقوں میں سفر کرتی ہوئی انتظامیہ کی سرکاری عمارت کے پاس رکی۔ اس میں سے دو لوگ باہر آئے اورایک جانور کی لاش عمارت کی سیڑھیو ں پہ پھینک کر دوبارہ گاڑی میں سوار ہو گئے۔ گاڑی تیزی سے آگے بڑھتے ہوئے شہر کی اس شاہراہ پہ آ گئی جہاں سے گاڑیاں شہر کے باہر جاتی تھیں۔ گاڑی کے اندر تین لوگ سوار تھے۔ اپنی اپنی جگہ پہ خاموشی سے بیٹھے ہوئے تینوں سوار باری باری اس طرح ایک دوسرے کو دیکھتے جیسے انہوں نے کسی سے بدلا لے کر اطمینان کا سانس لیا ہو۔ایک جگہ سڑک کے کنارے گاڑی رکی اوردو لوگ اس میں سے اتر گئے، ڈرائیونگ سیٹ پہ بیٹھا ہوا شخص گاڑی لے کر آگے نکل گیا۔

(11)

پچھلی رات وہ دیر تک جاگتا رہا تھا، مزدوروں کی پریشانیوں کو نزدیک سے جاننے کے بعد اسے یوں بھی دیر رات تک نیند نہ آتی تھی۔ اس نے سوچا کہ آج کار خانے نہ جائے، مگر دن بھر گھر میں پڑے پڑے اکتا جانے کے خیال سے اس نے یہ ارادہ ملتوی کر دیا۔ وہ کارخانے جانے کے لیے تیار ہو کر نیچے اترا تو اسے جگہ جگہ لڑکوں کے گروہ جمع نظر آئے۔وہ کسی بات پہ چہ مگویاں کر رہے تھے۔ اس نے ان کی باتوں پہ کان دھرے بنا چائے خانے کا رخ کیا۔ جہاں آج معمول سے زیادہ لوگ تھے۔ چائے خانے میں مزدور طبقے کے وہ دو چار نوجوان بھی بیٹھے ہوئے تھے جنہیں اس نے اکثر میٹنگوں میں دیکھا تھا۔ وہ خاموشی سےان کی طرف بڑھ گیا۔ ان میں سے ایک لڑکا دوسرے سے کہہ رہا تھا:

“یہ ہم کو کرنا ہوتا تو بہت پہلے کر چکے ہوتے۔ مجھے نہیں لگتا کہ یہ ہم میں سے کسی کا بھی کام ہے۔”اس نے جملہ مکمل کر کے اپنے ساتھیوں کی طرف دیکھا۔

“تو ہمارے پاس کو ن سی دولت دھری ہے جو اتنے جانور خرید کے انہیں قربان کرتے پھریں۔”
تیسرا بولا”اور خریدیں گے کہاں سے۔ کیا کہیں بک رہے ہیں۔”
اسے لگا جیسے کوئی حادثہ ہوا ہے۔

“کیا یہ جانور ہمارے لیے مقدس نہیں۔بستی میں ہر طرح کے لوگ رہتے تھے۔یہ بات لیڈر بھی جانتے ہیں۔ وہ تو خود دن رات کہتے رہتے ہیں کہ کوئی غلط قدم نہ اٹھایا جائے۔”

“یہ ساری باتیں ایک طرف، مگر اس کا یقین عوام اور حکومت کیوں کرے گی۔ وہ تو یوں بھی ہمیں شہر سے نکال کر باہر پھینک دینا چاہتے ہیں۔”

“ہو نہ ہو یہ کام وردی والوں کا ہی ہے۔”

وہ اپنا ناشتا اور چائے ختم کر چکا تھا۔ اس نے سوچا کہ اگر شہر پہ کوئی نئی مصیبت آئی تو ان غریبوں کی کمر پھر توڑی جائے گی۔اس نے انہیں باتیں کرتا چھوڑ کار خانے کی راہ لی۔ وہ کار خانے کی گلی میں پہنچا تو اسے سارے مزدور اپنے اپنے کار خانوں سے باہر کھڑے نظر آئے۔ لوگ مجمع لگائے اسی واقعے کا تذکرہ کر رہے تھے۔ وہ بھیڑ میں سے جگہ بناتا ہوا اپنے کار خانے تک پہنچا تو اس کے تمام ساتھی بھی باہر کھڑے دکھائی دیے۔اس نے سوچا ان میں سے تو کوئی بھی ٹیلے والی بستی کا نہیں ہے پھر یہ کیوں باہر ہیں۔ تھوڑی دیر میں ان کا مالک بھی آ گیا۔ وہ دو لڑکوں سے کہہ رہا تھا کہ کار خانے کو تالا لگا دو اور پھر اس نے سارے لڑکوں سے مخاطب ہو کر کہا:”دو روز تک کار خانہ بند رہے گا۔ یہاں کے حالات ٹھیک نہیں کسی بھی وقت وردی والے آ سکتے ہیں۔ بہتر یہ ہی ہے کہ تمام لوگ اپنے اپنے گھر لوٹ جائیں۔” یہ کہہ کر اس نے ایک لڑکے سے تالے کی چابی لی اور وہاں سے رخصت ہو گیا۔

مزدور اب زور زور سے نعرے لگا نے لگے تھے۔ وہ چیخ چیخ کرکہہ رہے تھی کہ اپنے خلاف انتظامیہ کی یہ سازش ہم برداشت نہیں کریں گے۔آج ہم پھر سب مل کر انتظامیہ کی عمارت کی طرف جائیں گے اور وہاں بھوکے، پیاسے بیٹھ کر انہیں اپنی پریشانی کا احساس دلائیں گے۔ اس نے سو چا کہ وہ یہاں رک کر کیا کرے گا۔وہ دن بھر گھر میں بھی پڑا رہنا نہیں چاہتا تھا اس لیے شہر کے وسطی علاقے کی طرف نکل جائے جہاں دریا کے قریب شہر کی انتظامیہ عمارتوں کے پاس اسے صحیح حالات کا علم بھی ہو جا ئے گا۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ اب تک شہر میں وردی والوں نے اپنے دستوں کو اتنا پھیلا دیا تھا کہ جگہ جگہ روک کر لوگوں کی تلاشی لی جارہی تھی۔ انہیں گھروں میں بند رہنے کی اپیل کی جا رہی تھی اور شہر کے وسطی علاقے میں کرفیو لگ گیا تھا۔ وردی والے مقدس جانوروں کی لاشوں کو ہٹوا چکے تھے، مگر اس کی خبر شہر میں آگ کی طرح پھیل گئی تھی۔ مقدس جانور کی موت کا غم شہر کے طاقتور گروہ کی برداشت سے باہر تھا۔ انہیں اس بات سے قطعی لینا دینا نہ تھا کہ یہ کسی کی سازش ہے یا بے گھر مزدور کی حرکت۔ وہ تو اس کا ذمہ دار اپنے مذہبی حریفوں کو سمجھتے تھے۔ اس گروہ میں انتظامیہ کے بڑے افسران بھی شامل تھے۔ جن کی پہنچ وردی والوں کے آقاوں تک تھی۔ انہوں نے شہر میں ایک زور دار جلوس نکالنے کا ارادہ کر لیا تھا۔ وہ اپنی مقدس ماں کی موت کا تماشا نہیں دیکھ سکتے تھے۔

اس نے جوں ہی کار خانے کے علاقے سے شاہراہ کی جانب جانے والی سواری کی اسی وقت وردی والوں کا ایک دستہ اسے کار خانے کی گلیوں کی طرف بڑھتا ہوا نظر آیا۔ جلد ہی اس دستے نے پورے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ وردی والے مائک پر لوگوں کے لیے حکم جاری کر رہے تھے کہ وہ اپنے گھروں کی طرف لوٹ جائیں۔ دو وردی والے جوا س کے قریب تھے انہوں نے اسے روک کر اس کی تلاشی لی اور ڈانٹ کر اسےگھر لوٹنے کا حکم دیا۔ وہ مزدور جن کا کوئی گھر نہ تھا وردی والے انہیں لال چوک پر جمع ہونے کا حکم دے رہے تھے۔ لال چوک کے قریب انتظامیہ نے ایک نیلی پلاسٹک کی چارد جس پر ہزاروں لوگ بیٹھ سکتے تھے بچھوا دی تھی۔ شہر کے حالات بگڑنے سے پہلے بے گھر مزدوروں کو ایک جگہ اکھٹا کیا جا رہا تھا، تاکہ وہ بڑی مذہبی طاقت کے غصے کا شکار نہ ہو جائیں۔ مزدوروں کو لال چوک کی طرف لے جانے لے لیے پورے جنوبی علاقے میں وردی والوں کو تعینات کر دیا گیا تھا۔اس مرتبہ وردی والوں کو یہ تاکید کی گئی تھی کہ کسی مزدور پہ ہاتھ نہ اٹھا ئیں۔ لاٹھی کے استعمال کے بنا انہیں یہ احساس دلایا جائے کہ یہ قدم ان کی بھلائی کے لیے اٹھایا جا رہا ہے۔

مزدوروں کے گروہ کو وردی والوں نے جب لال چوک کا رخ کرنے حکم سنایا تو کئی نوجوانوں نے اس کی مخالفت کی۔ ان کی خواہش تھی کہ انتظامیہ کی عمارتوں کے درمیان وہ بھوکے پیاسے مظاہرہ کریں خواہ اس میں ان کی جان ہی کیوں نہ چلی جائے۔ مگر گروہ کے بعض بزرگ لیڈروں نے ان کی یہ تجویز مانتے ہوئے نوجوانوں کو ان کی بیویوں اور بچوں کی زندگیوں کے خطرے میں ہونے کا احساس دلایا۔ انہیں معلوم تھا کہ جس مقدس جانور کو کاٹ کر شہر کی مختلف عمارتوں کے باہر پھنکا گیا ہے اس سے شہر کی بڑی مذہبی طاقتیں کس درجہ ناراض ہیں۔ ایسے میں وہ مزدور جو خود کو اس کا ذمہ دار نہیں سمجھتے تھے، بلاوجہ شہر کی بڑی طاقت سے ٹکرانا غیر ضروری تصور کر رہے تھے۔ یوں بھی انہیں اگر شہر سے نکال بھی دیا جاتا تب بھی وہ حالت ان کی موت سے بہتر ہوتی۔ انہوں نے سوچا کہ اگر انتظامیہ اور شہر کی بڑی مذہبی طاقتوں کو وہ یہ یقین دلانے میں کامیاب ہونا چاہتے ہیں کہ اس حرکت میں ان کا ہاتھ نہیں ہے تو فی الحال انہیں وردی والوں کی حفاظت میں ہی رہنا چاہیے۔

Categories
فکشن

آوازوں والا کردار (چوتھا حصہ) – تالیف حیدر

اس طویل کہانی کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کریں۔

آج سرخ قمیض اور نیلی جینز والی لڑکی نے پلٹ کر اس کی طرف دیکھا اور اس کا راستہ روک کر کھڑی ہوگئی۔ اس کی آنکھوں میں خوف اتر آیا۔اس لڑکی کے چہرے پر غصے کی لہر صاف دیکھی جا سکتی تھی۔ اس کی ساتھی نے جب لڑکی کا ہاتھ پکڑ کر آہستہ سے کان میں کہا۔ ” رہنے دو۔” تو لڑکی نے اپنی ساتھی کا ہاتھ جھٹک دیا۔

” کیوں رہنے دوں۔ انہیں بھی تو معلوم ہو کہ ہم پندرہ دنوں سے یہ تماشا دیکھ رہے ہیں۔ آخر کسی بات کی کوئی حد بھی ہوتی ہے۔”

اس کی ساتھی ذرا سہمی ہوئی تھی۔ مگر لڑکی کے انداز سے لگ رہا تھا کہ اسے کسی کا خوف نہیں ہے۔ اس نے لڑکے کی طرف غور سے دیکھا۔ وہ ایک صاف ستھراسفید رنگ کا شارٹ کرتا اور کالی پتلون پہنے ہوا تھا۔ اس کے بال گھنگریالے تھے اور رنگت سانولے پن سے ذرا زیادہ سیاہی مائل۔ لڑکے کے حلیے سے لگ رہا تھا جیسے وہ ابھی شاور لے کر آیا ہے۔

“کیوں بھئی آپ ہمارا پیچھا کیوں کر رہے ہیں۔ میں پچھلے پندہ روز سے دیکھ رہی ہوں کہ آپ روز ہمارے پیچھے پیچھے نئی سٹرک کے چوراہے تک آتے ہیں۔”
اس نے محسوس کیا کے لڑکی کی آنکھوں اور لہجے میں غصہ ضرور ہے، مگر اس کے بولنے کا انداز بہت شگفتہ ہے۔ وہ جب پلٹی تھی تو اسے لگا تھا کہ آج تو شامت آ گئی۔ مگر اب جب کہ لڑکی اس سے اس کی حرکت کی شکایت کر رہی ہے تو اس کا خوف کچھ کم ہونے لگا تھا۔

“ہو سکتا ہے یہ ہمارا وہم ہو۔”

لڑکی کی ساتھی نے اس کا ہاتھ دباتے ہوئے اس کو چلنے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا۔

“وہم! تمہارا داماغ تو ٹھکانے پر ہے۔ یہ مسٹر پچھلے پندرہ دنوں سے ہمارا پیچھا کر رہے ہیں اور تم کہتی ہو کہ یہ میرا وہم ہے۔ ”

لڑکی نے پھر سفید شارٹ کرتے والے لڑکے کی جانب دیکھا۔ “کیا آپ گونگے ہیں، میں آپ سے کچھ پوچھ ہی ہوں۔سنائی نہیں دیتا۔”

اس بات پر اسے ہنسی آ گئی۔ اس نے سوچا کہ یہ لڑکی شاید اتنے بھی غصے میں نہیں ہے جتنا میں اسے سمجھ رہا ہوں۔

لڑکی اور اس کی ساتھی نے جب اسے ہنستے ہوئے دیکھا تو حیرانی سے ایک دوسرے کا منہ تکنے لگیں۔ اس بار لڑکی کی ساتھی نے۔ تیزی سے اپنی دوست کا ہاتھ پکڑ کر کھینچا اور یہ کہتے ہوئے نئی سٹرک کے چوراہے کی طرف بڑھنے لگی “ہو سکتا ہے کہ اس کا دماغ خراب ہو تم کیوں بلا وجہ کسی کے بھی منہ لگتی ہو۔ اگر پیچھا بھی کر رہا ہے تو کرنےدو کون سا ہمیں کھا لے گا۔ “لڑکی اس دوران اپنا ہاتھ چھڑا نے کی کوشش کرتی رہی۔ وہ پلٹ پلٹ کر اس لڑکے کی جانب بھی دیکھے جا رہی تھی جو ابھی تک اسی جگہ مبہوت انداز میں کھڑا تھا۔

وہ کافی دیر تک اسی جگہ کھڑا جاتی ہوئی لڑکی اور اس کی ساتھی کو گھورتا رہا۔ اسے اپنی بد اخلاقی کا بھی احساس ہو رہا تھا کہ اس نے لڑکی کی کسی بات کا کوئی جواب نہ دیا اور یہ بھی کہ اس طرح کسی لڑکی کے پیچھے روز لپکناک ون سی اچھی بات ہے۔ حالاں کہ اسے آخری درجے تک یقین تھا کہ وہ دونوں لڑکیاں اس بات سے نا واقف ہیں کہ وہ ان کے پیچھے پیچھے حکومتی عمارتوں کی فٹ پاتھ سے نئی سڑک کے چوراہے تک آتا ہے۔ لیکن اب جبکہ وہ یہ جان گیا تھا اسے ندامت کا احساس ہو رہا تھا۔ وہ خاص کر کسی ایک لڑکی کا پیچھا نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اسے تو صرف مختلف خوشبووں کا تعاقب کرنا تھا، جس سے اسے مسرت ملتی تھی۔ مگر ہوا یہ تھا کہ جس روز اس نے اپنی سینٹ کی شیشی کھولی اور اس کی خوشبو اپنے بدن پہ لگائی اسی روز وہ لڑکیاں ایک ایسی خوشبو لگا کر حکومتی عمارتوں کی فٹ پاتھ پر آئی تھیں جن خوسے اس کے سینٹ کی خوشبو مل کر ایک بالکل ہی انوکھی مہک پیدا کر رہی تھی۔ جس سے اسے ایسا سرور ملتا کہ وہ دوبارہ گھر پہنچ کر بھی اسی سرور میں کھویا رہتا۔ اس نے شائد گزشتہ پندرہ روز میں ایک دن بھی ٹھیک سے نہیں دیکھا ہوگا کہ اس کے خد و خال کیسے ہیں یا وہ کن رنگوں کے کپڑے پہن کر آتی ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اس نے ان لڑکیوں کے سامنے اپنی زبان نہیں کھولی۔ آخر وہ بولتا بھی تو کیا۔ اسے یہ بات سمجھا پانا بھی مشکل معلوم ہوئی تھی کہ وہ ان کا نہیں بلکہ ان کے اندر سے اٹھنے والی ایک خاص مہک کا پیچھا کر تا ہے۔ نئی سڑک پہ جب وہ لڑکیاں مڑ جاتیں تو وہ وہیں سواری لے کر اپنے گھر لوٹ آتا۔ اسے روز کے اسی روپے مل رہے تھے۔ اس لیے صبح سے شام تک اپنا کام کرنے کے بعد ایک نئی اور دلچسپ مصروفیت اس کے ہاتھ آ گئی تھی۔ پہلے تو چند روز تک وہ انہی پرانے کپڑوں میں حکومتی عمارتوں کے فٹ پاتھ تک جاتا تھا۔ پھر اس نےخود کو مزید سنوارنے کا عزم کیا اور ایک دن جب اس کی کارخانے کی چھٹی تھی وہ اپنے علاقے کے اختتام پر واقع بازار تک گیا اور اپنے لیے تین نئے شارٹ کرتے اور تین جینز خرید لایا۔ ان کرتوں کا آئیڈیا اسے اپنے مالک سے ملا تھا۔ ان دنوں وہ اسی طرح کے کرتے پہن کر کار خانے میں آیا کرتا تھا۔ وہ سلیقے سے اپنے تینوں جوڑ نئے کپڑوں کو اپنے بکس میں ایک سفید پنی میں رکھتا اور شام کو کا ر خانے سے لوٹنے کے بعد نہا دھو کر ان میں سےکسی ایک کو پہنتا اور حکومتی عمارتوں کی فٹ پاتھ کے طرف روانہ ہو جاتا۔ واپسی پر اسی سلیقے سے انہیں تہہ کر کے پنی میں لپیٹ کر دوبارہ اپنے صدوق میں رکھ دیتا۔

دو ماہ سے یہ اس کا روز کا معمول تھا۔ مگر آج جب وہ لوٹا تو اس نے فیصلہ کیا کہ وہ کل سے ان فٹ پاتھوں کی طرف ہر گز نہیں جائے گا۔ اسے کسی انجان لڑکی کے پیچھے اس طرح سے ٹہلتے پھرنا ٹھیک نہیں لگا۔ اب اسے یقین تھا کہ اگر وہ دوبارہ ان لڑکیوں کے پیچھا گیا تو وہ سخت قدم اٹھائیں گی اور وہ اس شرمندگی کے لیے تیار نہ تھا۔ اس نے سوچا کہ ادھر جانا ترک کردینا ہی بہتر ہے۔ مگر آج اسے ایک اور نیا احساس نصیب ہوا تھا۔ اس نے کسی خوبصورت لڑکی کواتنی نازک آواز میں خود سےکبھی مخاطب ہوتے نہ سنا تھا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ اگر وہ غصے میں اتنے آہستہ لہجے میں بات کر ر ہی تھی تو اس کا محبت بھرا لہجہ کیسا ہو گا۔ اس خیال سے اس کے ہونٹوں پہ دوبارہ ہنسی بکھر گئی۔ پل بھر کے لیے اسے محسوس ہوا کہ اس لڑکی نے اپنی خفگی کا اظہار کر کے اس کے اندر کچھ بدل دیا ہے۔ مگر وہ بدلی ہوئی چیز کیا تھی ابھی وہ خود شناخت نہیں کر پا رہا تھا۔ اس کے چہرے کے آثار رہ رہ کر اس کے دماغ میں روشن ہوتے۔ گوراچہرہ، بڑی بڑی آنکھیں، پتلے پتلے ہونٹ، کھلی گردن اور بھرا بھرا سینہ جو اس قمیض سے باہر کی طرف کھنچا چلا آ رہا تھا۔ اسے لڑکی کا حلیہ اوپر سے نیچے تک رٹ گیا تھا اور جب وہ اس کے ہلتے ہوئے ہونٹ اور چلتی ہوئی سانسوں کو تصور کرتا جو خفگی کے باعث نمایاں ہو رہی تھیں تو ایک دم ہڑ بڑا جاتا۔

(8)

آج صبح جب اس کی آنکھ کھلی تو اس نے خود کو تھکا ہوا پایا۔ بدن اس سے اصرار کر رہا تھا کہ وہ کچھ دیر اسی طرح آنکھیں میچے پڑا رہے، کل کی رات اس پہ نہ جانے کیسی گزری تھی۔ اس نے خود سے الجھنا ٹھیک نہیں سمجھا اور چادر منہ تک اوڑھ کر سو گیا۔ دوبارہ جب اس کی آنکھ کھلی تو محسوس ہوا کہ سورج سر پہ آ چکا ہے۔ آج وہ کارخانے نہیں گیا تھا۔ صبح آنکھیں موندتے وقت اسے اس بات کا احساس تھا کہ اگر وہ دوبارہ سو گیا تو اٹھ نہیں پائے گا۔ اس نے آنکھیں کھول کر چاروں طرف دیکھا۔ اب اس کی طبیعت میں وہ بوجھل پن نہ تھا جو وہ صبح میں محسوس کر رہا تھا۔ اس نے بستر سے اٹھ کر کھڑ کی سے منہ باہر نکالا تو سورج کی شعاعوں سے اس کی آنکھیں چوندھیا گئیں۔ کل شام کا منظر پھر اس کے ذہن میں تازہ ہونے لگا اور لڑکی کی شکل ذہن میں صاف ہوتے ہی اس کے ہونٹوں پہ مسکراہٹ دوڑ گئی۔ نہ جانے کیوں اس نے خوشی کے عالم میں سوچا کہ آج ٹیلے کی طرف چلا جائے۔ حالاں کہ وہ یہ فیصلہ کر چکا تھا کہ اب ٹیلے کی طرف کبھی نہ جائے گا۔ اس نے جلدی جلدی منہ دھویا۔ کھونٹی پہ ٹنگے کل شام والے کپڑے پہنے اور ٹیلے کی طرف نکل گیا۔ راستے میں ایک چائے خانے پہ رک کر اس نے چائے پی اور تھوڑا بہت ناشتہ کیا۔ ایک پان کے کھوکھے سے کچھ سگریٹیں خریدیں اور ٹیلے کی طرف چل دیا۔ راستے میں اسے احساس ہوا کہ آج اس طرف وردی والے کچھ زیادہ ہی نظر آ رہے تھے۔ اس نے کبھی اتنے وردی والوں کو اس علاقے میں گھومتے نہ دیکھا تھا۔ اسے کسی وردی والے نے روکا تو نہیں، مگر اس کی چھٹی حس اسے احساس دلا رہی تھی کہ ماحول کچھ بدلا بدلا سا ہے۔ وہ ٹیلے پہ پہنچا تو ٹیلا دھوپ کی تپش سے جل رہا تھا۔ ہر وہ چیز جس میں سے بد بو آرہی تھی وہ مزید بدبو دار محسوس ہو رہی تھی۔ وہ سیدھا زمین کے اس بنجر ٹکڑے کی طرف گیا جہاں سے سامنے کی شاہراہ صاف دکھائی دیتی تھی۔ وہاں بیٹھ کر اس نے سگریٹ جلا یا اور روڈ کی طرف دیکھ کر رات والی لڑکی کے خدو خال کے متعلق سوچنے لگا۔ کیا اگر میں اس سے دوبارہ جا کر ملوں تو وہ مجھے مارنے لگے گی ؟ اچانک اس سے ملنے کی خواہش کہیں اند ر ہی اندر سر ابھارنے لگی۔ لیکن وہ تو اسے جانتی تک نہیں ہے اور پھر اس کے لہجے میں لاکھ نرمی سہی، تھی تو وہ غصے میں ہی۔اسے یہ بات پسند نہ آئی تھی کہ وہ گزشتہ کئی دنوں سے اس کا پیچھا کر رہا تھا۔ لیکن وہ اس کا پیچھا کر ہی کہاں رہا تھا؟ وہ اس خاص خوشبو کے پیچھے تھا جس کی کشش اب اس کے خدو خال کے سامنے ماند پڑ گئی تھی۔ اگر اسی کا پیچھا کرنا ہے تو وہ اب کرے گا۔

وہ یہ سب سوچ ہی رہا تھا کہ ایک جوان عورت ہاتھ میں پلاسٹک کا لوٹا لیے دور سے آتی دکھائی دی۔ وہ جانتا تھا کہ ٹیلے کے قریب کے جھونپڑوں میں رہنے والے مرد، عورت اور بچے ٹیلے پہ رفع حاجت کے لیے آیا کرتے تھے۔ لیکن اس نے اس بات پہ کبھی غور نہیں کیا تھا کہ اس کی موجودگی میں کتنے مرد، عورتیں یا بچے ٹیلے کی بدبووں میں اضافہ کر رہے ہیں۔اس نے دیکھا کہ وہ عورت اس سے خاصے فاصلے پہ لوٹا لے کر بیٹھ گئی ہے۔ عورت کی پیٹھ اس کی طرف تھی۔ جس سے وہ اس کے کولہے اور اس سے نکلتا ہوا مل دیکھ سکتا تھا۔ وہ حالیہ دنوں جن خوشبووں کا عادی تھا اس کے پیش نظر اس عمل سے اس کا گھنا جانا لازمی تھا، مگر ایسا ہوا نہیں، نہ جانے کیوں اس کی نگاہ عورت کے پٹھے سے نکلنے والے مل کے بجائے اس کے کولہوں کی گولائی پہ جمی ہوئی تھی۔ اسے یہ منظر بہت لبھا رہا تھا۔ وہ تھوڑی دیر کولہوں کو دیکھتا رہا، پھر اپنی نگاہیں وہاں سے ہٹا کر شاہراہ کی جانب کر لیں۔سگریٹ کے دو تین کش لیے اور پھر کولہوں کی گولائی پہ نظریں جما دیں۔ اسے لگ رہا تھا جیسے یہ عورت اس بھری دوپہری میں صرف اسی لیے ٹیلے پہ ہگنے آئی ہے تاکہ اسے اپنے کولہے دکھا سکے۔ جب تک عورت بیٹھی رہی وہ اس کے کولہوں سے لطف اندوز ہوتا رہا اور عورت اس سے بے خبر اپنے عمل میں لگی رہی۔ پھر اس نے اپنے کولہوں پہ پانی ڈالا اپنے بائیں ہاتھ سے کولہوں کے بیچ کی گندگی صاف کی اور لوٹا اٹھا کر ادھر ادھر دیکھے بنا ٹیلے سے رخصت ہو گئی۔

وہ اب سے پہلے کبھی اس احساس سے دوچار نہیں ہوا تھا۔ ننگی عورتوں کے دیکھنے کا شوق تو کجا اسے لڑکیوں میں ہی کچھ خاص دلچسپی نہیں تھی، حالاں کہ اس کے بہت سے ساتھیوں نے بچپن سے اسے کئی بار ننگی عورتوں کی تصویریں اور پورن فلمیں دکھائی تھیں، لیکن وہ انہیں دلچسپی سے نہیں دیکھتا تھا۔اسے اس عمل سے ایک انجانی گھن کا احسا س ہوتا تھا۔ مگر کل شام کے واقعے سے اس کے اندر ایک بڑی تبدیلی پیدا ہوئی تھی۔ اس نے جب دوبارہ کل والی لڑکی کے خدو خال یاد کیے تو اس بار اس عورت کے کولہے بھی اس کے ذہن میں گردش کرنے لگے جن کی گولائیوں سے وہ محظوظ ہو رہا تھا۔ کچھ دیر بعد جب بدبو کی شدت بڑھنے لگی تو وہ وہاں سے اٹھ گیا۔ علاقے کی طرف لوٹا تو پھر اسے وردی والوں کی سر گرمیوں پر شبہ ہوا۔ وہ بڑ ھ رہے تھے ایسے جیسے وہ شہر کو اپنی گرفت میں لینا چاہتے ہوں۔ اس نے چائے خانے کے قریب سگریٹ کے کھوکے سے دو سگرٹیں اور خریدیں اور انہیں جیب میں ڈال کر اپنے گھر کی طرف بڑھ گیا۔
آج شام تک وہ گھر کے اندر ہی رہا مختلف لڑکیوں اور عورتوں کے متعلق طرح طرح کی باتیں اس کے ذہن میں گردش کر رہی تھیں۔ کسی کسی صبح وہ جس دودھ والی دکان پہ بیٹھی موٹی لڑکی سے دودھ خریدا کرتا تھا یا کار خانے کے برابر میں رنگائی کی دکانوں پہ جو لڑکیاں اس کی نگاہوں سے روز گزرتی تھیں۔ اس نے سوچا کے وہ ان ساری لڑکیوں کو نہ جانے کتنی مرتبہ دیکھ چکا تھا، مگر آج ان کے متعلق سوچ کر جانے کیوں اسے لطف مل رہا تھا۔ اسی دوران اسے یاد آیا کہ جب وہ پچھلی مرتبہ کسی کام سے شہر کے باہر گیا تھا تو ایک بس اڈے پہ اسے ہتھا کھینچتی ہوئی ایک جوان اور خوبصورت لڑکی دکھی تھی۔وہ اپنے اطراف کے لیے ایک عجوبہ بنی ہوئی تھی جسے اس کے ارد گرد بیٹھے ہوئے سارے مرد گھور گھور کر دیکھ رہے تھے۔ جب اس نے اس لڑ کی کی ان دو بڑی بڑی چھاتیوں پہ نظر ڈالی تھی جو اس کے ہتھا چلانے کی وجہ سے رہ رہ کر ابھر رہی تھیں تو اسے عجیب سا محسوس ہوا تھا۔ اس نے ایک بھر پور نظر ڈالی تو اسے اس کی دونوں چھاتیوں کی ہری ہری رگیں جو دانوں کے مقام پر زور پڑنے کی وجہ سے ابھر رہی تھیں صاف نظر آئی تھیں۔ مگر وہ ان چھاتیوں کو ویسی للچائی ہوئی نگاہوں سے نہیں دیکھ رہا تھا جس طرح اس کے اطراف کے نوجوان لڑکے اور مرد دیکھ رہے تھے۔ ان کی شکلوں سے محسوس ہوتا تھا کہ اگر یہ چھاتیاں انہیں ایک لمحے کے لیے بھی مل جائیں تو وہ انہیں اتنی زور سے دبائیں کہ ان چھاتیوں میں موجود دیدار کی لذت ان کے بدن میں سرایت کر جائے۔ اس نے یہ سوچ کر آنکھیں میچ لیں۔ اس کے بدن میں ایک لہر سی دوڑ رہی تھی اس کا ہاتھ دھیرے دھیر اپنی پتلون کے اندر کھسک گیا۔ اچانک اس کا ہاتھ تیزی سے چلنے لگا۔ اس کا جی چاہ رہا تھا کہ وہ دونوں چھاتیاں کہیں خلا سے نمادار ہو کر اس کے ہاتھوں میں آ جائیں اوروہ انہیں مسل کر اپنی انجان اور دبی ہوئی خواہش کو پورا کر لے۔

(9)

وردی والے ہزاروں کی تعداد میں ٹیلے کے اطراف جمع تھے۔لوگوں کی چیخ پکار کی آوازیں پورے جنوبی شہر میں گونج رہی تھے۔ آسمان پہ کالے دھوئیں کے بادل بڑھتے جارہے تھے۔ ودری والوں نے ٹیلے کے آس پاس کی تمام جھونپڑوں میں اور ٹیلے کے کچرے میں آگ لگا دی تھی۔ اس کا حکم اس ملک کی انتظامیہ کی طرف سے آیا تھا جس کا قرض اس شہر پہ چڑھتا چلا جا رہا تھا۔ شہر کے جنوبی علاقے کو ایک عرصے سے نظر میں رکھا جا رہا تھا۔ یہاں نشے کا کاروبار زوروں پہ تھا اور عورتوں اور بچوں کی کالا بازاری بھی ہوتی تھی۔ مگر آگ لگانے کا فیصلہ ان وجوہات کی بنا پر نہیں لیا گیا تھا۔ یہ پورے شہر میں مذہبی جھگڑے بڑھانے کی شروعات تھی۔راتوں رات پورے شہر میں وردی والے چار گنا ہو گئے تھے۔ جنوبی علاقے میں آگ لگا کر یہاں کے وردی والوں نے ہزاروں کی تعداد میں مزدور اور غریب شہریوں کو بے گھر کر دیا تھا۔ ان کو اطلاع دی جا رہی تھی کہ اس کا آڈر سیدھا ان کے ملکوں سے آیا ہے۔ جنوبی علاقے کے عوام پریشان تو تھے مگر ان میں غصے کی شدید لہر دوڑ رہی تھی۔ وہ چاہتے تھے کہ جن ملکوں کے حکم پہ ان کے گھروں کو جلایا گیا وہاں کے عقیدت مندوں کے گھروں اور دکانوں کو بھی اسی طرح جلا کر راکھ کر دیا جائے۔ ایک طرف وردی والے لاٹھیاں اور بندوقیں لیے عوام کے ریلے کو دھیرے دھیرے ٹیلے سے شہر کی طرف دھکیل رہے تھے اور باری باری بستی کے چھونپڑوں پہ بلڈوزر چلا کر ان میں آگ لگا رہے تھے۔ دوسری طرف نوجوان لڑکے اور بستی کے غصے سے بھرے مرد یہ منصوبہ تیار کر رہے تھے کہ کسی طرح ان وردی والوں کی بندوقیں چھین کر اس تماشے کو روکنے کی کوشش کی جائے۔ عورتوں کی چیخ پکار تھمنے کا نام نہ لیتی تھی۔ بچے بلک بلک کر رو رہے تھے۔ ایک لڑکا جو ان مردوں اور نوجوانوں کی باتیں کا فی دیر سے سن رہا تھا اس نے دانت پیس کے ایک وردی والے کو گالی دی اور ایک پتھر اس پہ کھینچ مارا۔پتھر وردی والے کے جبڑے پہ لگا جس سےاس کی آنکھوں میں تارے ناچ گئے۔ اس کے منہ سے بھل بھل خون بہنے لگا۔ وہ اس صورت حال کی امید نہیں کر رہا تھا، لہذا اس نے اپنا ہیلمٹ اتار کرہاتھوں میں تھاما ہوا تھا۔ جوں ہی اسے ہوش آیا اس نے فوراً اپنا ہیلمٹ پہنا۔ اسی دوران اس کے اطراف کے وردی والے بھی سنبھل گئے۔ جس لڑکے نے پتھر پھینکا تھا۔ تین، چار وردی والے اس کی جانب ڈنڈے اور بندوقیں لے کر بڑھے جس کے جواب میں وہاں کھرے کئی نوجوانوں اور مردوں نے پتھروں کی بارش کرنا شروع کر دی۔ وردی والوں نے اپنی ڈھالیں سنبھال لیں اور آن واحد میں کئی سو وردی والے وہاں جمع ہو کر پتھراو کرنے والوں پہ ٹوٹ پڑے۔ پہلے کچھ گولیاں چلیں، پھر لاٹھیا ں برسی اور دیکھتے ہی دیکھتے آنسو گیس کے گولے اور پانی کے ٹینکروں سے وردی والوں نے چاروں طرف سے حملہ کر دیا۔ افراتفری کا ماحول تو پہلے ہی سے تھا۔ اس لاٹھی چارج نے ٹیلے کے اطراف کی بستی کو ویران بنا دیا۔ عورتیں اور مرد سب شہر کی طرف بھاگ گئے تھے۔ جو ڈٹے ہوئے تھے وہ خون سے لت پت تھے اور جگہ جگہ پڑے سسکیاں لے رہے تھے۔ وردی والوں نے بہت سے لڑکوں کو اٹھا کر اپنی گاڑیوں میں بند کر دیا تھا اور ان پہ گاڑی کے اندر لاٹھیا ں چل رہی تھیں۔

Categories
فکشن

آوازوں والا کردار (تیسرا حصہ) – تالیف حیدر

اس طویل کہانی کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کریں۔

اس کے پڑوسیوں نے اسے بتایا تھا کہ آسمان کی تعمیر سات روز میں ہوئی تھی۔ جب آسمان بنا تو اس کے پڑوسی وہاں تھے اور وہ بھی تھا۔ ہوا یہ تھا کہ بہت سے انسانوں اور بہت سے شیطانوں نے مل کر ایک رات یہ سوچا کہ زمین کی دوسری طرف سے جو روشنی آتی ہے اسے ایک پردے سے ڈھک دینا چاہیے۔کیوں کہ اس روشنی سے ان کے بچے اندھے ہو جاتے تھے۔ اس وقت انسان اور شیطان ساتھ مل کر رہتے تھے۔ انسانوں نے شیطان کے کندھے سے کندھا ملا کر ایک بڑا سا پل بنا یا، جو پل سیدھا تھا اور آسمان کی طرف جاتا تھا۔ اس پل کو بنانے میں شیطانوں نے اپنی ریڑ ھ کی ہڈیوں کو زخمی کیا اور اوپر جاتے ہوئے پل کو گرنے سے بچائے رکھا۔ حالاں کہ زمین کی دوسری طرف سے جو روشنی آ رہی تھی وہ بہت تیز تھی مگر شیطانوں کے پاس آنکھوں پر باندھنے کی ایسی پٹیاں تھیں جن سے انسان کو اس روشنی سے آنکھیں ملانے میں پریشانی نہیں ہوتی تھی۔ انسان اینٹ پہ اینٹ رکھتے اور شیطان انہیں سہارا دیتے۔ جب پل ذرا اور اونچائی پر جاتا تو ایک شیطان کے کندھے پہ دوسرا شیطان کھڑا ہو جاتا۔ یہ کام زور و شور سے چھے روز تک چلتا رہا۔ اس پل کی تعمیر کے لیے دنیا کے ہر حصے سے اینٹیں لائی گئیں۔ جب اینٹوں کی قلت ہونے لگی تو زمین کو کھود کر اس کی مٹی سے اینٹوں کو تعمیر کیا گیا۔ اس عمل سے جلد ہی زمین کے نیچے کا پانی سطح آب پر آ گیا اور دنیا میں پانی کی مقدار بڑھنے لگی۔ جب شیطانوں نے یہ منظر دیکھا تو انہوں نے اپنے بدن کی نکلی ہوئی اضافی ہڈیاں انسانوں کو کاٹ کاٹ کر دیں تاکہ وہ پل کی تعمیر کا کام جاری رکھ سکیں۔ انسانوں نے دھیرے دھیر ےاتنا اونچا پل بنا لیا جہاں سے پردہ کھینچ کر آنے والی روشنی کو روکا جا سکتا تھا۔

جب انسانوں اور شیطانوں کے مرد پل تعمیر کر رہے تھے تو ان کی عورتیں مل کر آسمان کی ناپ کا پردہ سی رہی تھیں۔ اس پردے کی تعمیر میں کئی طرح کے درختوں کی چھالوں، پھولوں کی پنکھڑیوں، نازک پیڑ کی پتیوں، شیطانی عورتوں کی جلد کے اضافی حصوں، جانوروں کی کھالوں اور سانپ کی کیچلیوں کا استعمال کیا گیا تھا۔ دھاگے کے طور پر بیلوں اور جٹھاوں سے کام لیا گیا تھا۔ ادھر چھے دنوں میں مردوں نے پل تیار کیا اور ادھر چھے روز میں عورتوں نے پردہ سیا۔ اس سلائی میں شیطانی عورتوں نے اتنی صفائی کا مظاہرہ کیا کہ ایک پیوند سے دوسرے پیوند کا جوڑ نظر نہ آتا تھا۔ انسانی عورتیں اشیا جمع کرتیں اور شیطانی عورتیں انہیں سیتیں۔ دن بھر انسان مرد اور شیطان مرد مشقت کرتے اور رات کو شراب پیتے۔ دن بھر انسان عورتیں اور شیطان عورتیں سلائی کرتیں اور رات کو اپنے مردوں کے پہلو میں برہنہ ہو کر لیٹ جاتیں۔ جب عورتوں نے چھٹے روز آسمان پر تانے جانے والا پردہ مردوں کے حوالے کیا تو انہوں نے خوشی سے اپنی عورتوں کے ماتھے چوم لیے۔ سب خوش تھے۔ پردہ اور پل دونوں تیار ہو چکے تھے۔ انسانی مردوں نے جوں ہی اس پردے کو کھولا تو چاروں جانب سے آنے والی روشنی غائب ہو گئی وہ تیز نیلی روشنی جو انسان اور شیطان کے بچوں کو اندھا کر دینے والی روشنی تھی اب ایک مدھم اور ہلکی روشنی میں بدل گئی۔ انسانوں اور شیطانوں نے جب یہ منظر دیکھا تو ان کی خوشی کا ٹھکانا نہ رہا۔ انسانوں نے اپنی آنکھوں پر لپٹی ہوئی وہ پٹیاں نوچ پھینکیں جو انہیں شیطانوں نے دی تھیں پردے کو آسمان کے چار الگ الگ کونوں میں چار ستاروں سے باندھ کر جب انسان پل سے زمین پر آئے تو شیطانوں نے اپنی پیٹھ کاسہارا پل سے ہٹا دیا۔ جوں ہی شیطان ہٹے پل آن واحد میں زمین پر آ گرا۔ پل کی اینٹیں دنیا میں چاروں طرف پھیل گئیں سمند ر کا پانی پھر زمین کے نیچے چلا گیا۔ شیطانوں کی ہڈیاں پل کی اینٹوں میں مل کر خاک کا ڈھیر بن گئیں جس سے زمین کے دلدلی علاقے سخت اور ٹھوس ہو گئے۔

اس واقعے کے بعد چند روز تک سب معتدل رہا انسانوں نے شیطانوں کی دعوت کی اور شیطانوں نے انسانوں کی۔ مگر جلد ہی شیطانوں کو یہ محسوس ہونے لگا کہ اتنی کم روشنی میں انہیں کچھ صاف دکھائی نہیں دیتا ہے۔ ان کی آنکھیں کمزور ہو رہی ہیں۔ انہوں اس بات کا احساس انسانوں کو دلایا تو انسانوں نے اسے شیطانوں کا وہم قرار دیا۔ پھر کچھ دنوں میں شیطانوں کے بڑے بڑے سردار اندھے ہونے لگے یہ دیکھ کر شیطانوں کے گروہ میں ہلچل مچ گئی۔ انہوں نے انسانوں سے کہا کہ وہ اس حالت میں زندہ نہیں رہ سکتے۔ انہیں آسمان پر کھنچا ہوا پردہ اتارنا ہوگا جس کے لیے انہیں انسانوں کی مدد درکار تھی۔ انسانوں نے انہیں اپنے اور ان کے بچوں کا واسطہ دیا تو انہوں نے اپنے بچوں کے گلے گھونٹ کر ان کی لاشیں انسانوں کے سامنے بچھا دیں۔ اس منظر نے انسانوں کے دل میں شیطانوں کے لیے نفرت پیدا کر دی۔ انہوں نے اپنے بچوں کا گلا گھونٹنے سے اور ان کی مدد کرنے سے انکار کر دیا۔ شیطانوں کے گروہ میں ہاہاکار مچ گئی، کیوں کہ وہ انسانوں کی مدد کے بغیر آسمان تک پہنچنے کا پل تیار نہیں کر سکتے تھے۔ دھیرے دھیرے روشنی کی کمی کے باعث شیطانوں کی موت ہونے لگی۔ وہ انسانوں کے آگے ہاتھ جوڑ جوڑ کر گڑ گڑاتے مگر انسان ان کی ایک نہ سنتے۔

آخر کار بچے کھچے شیطانوں نے یہ فیصلہ کیا کہ ایک کے کندھے پر دوسرا کھڑا ہو اور آسمان کی اونچائی تک پہنچ کر اس پرد ے کو نوچ دیں۔ انہوں نے ایک رات جب سارے انسان گہری نیند سو رہے تھے تو ایک دوسرے کے کندھے پر سوار ہو کر آسمان کےپردے تک پہنچنے کی کوشش کی مگر بڑی مشکل سے صرف سب سے اوپر والا جو اندھیرے کے باعث بہت لاغر اور کمزور ہو چکا تھا آسمان کے پردے تک پہنچ پایا۔ اس نے چاروں کونوں کے ستاروں سے رسی کھینچ کر اسے کھول دینا چاہا مگر بری طرح ناکام رہا۔ رات بھر کی کوشش کے باوجود کچھ ہاتھ نہ آیا۔تھکن اور کمزوری کے باعث جب شیطانوں کامینار ڈگمگانے لگا تو سب سے اوپر والا شیطان ایک ستارے کی رسی پکڑ کر اس میں لٹک گیا اور سارے شیطان زمین پہ گر کر نیست و نابود ہو گئے۔ دوسرے روز جب انسانوں نے دیکھا تو انہیں چاروں طرف شیطانوں کی لاشیں بکھر ی ہوئی نظر آئیں۔ یہ منظر دیکھ کر انہوں نے خوب جشن منایا اور آسمان کے ستارے سے لٹکا ہوا آخری شیطان ان کی ظالمانہ حرکت کو دیکھ کر بہت رویا۔ اس کے دل میں انسانوں کی نفرت بیٹھ گئی اور اس نے سوچا کہ آج سے زندگی کی آخری سانس تک یہا ں سے لٹکا ہوا انسانوں کی بستی پر اپنے پیشاب کی بارش کرتا رہوں گا تاکہ اس کی بوندیں ان کےمعدوں میں جائیں اور ان میں بھی شیطانی صفات پیداہونے لگیں۔ اس نے قسم کھائی کہ انسانوں نے جس طرح اپنے ظلم سے شیطانوں کو خاک میں ملایا ہے ویسے ہی میں اپنے پیشاب سے انسانوں کو خاک میں ملا کر شیطانوں کی ایک نئی دنیا پیدا کروں گا۔ یہ کہہ کر اس نے ایک روز دار چیخ ماری۔ جس چیخ کی آواز دھیرے دھیرے تیز ہوتی چلی گئی۔ وہ آواز اتنی تیز ہوئی کہ اس نے گھبرا کر آنکھیں کھول دیں۔ اس کے ماتھے پہ پسنے کی بوندیں ابھر آئی تھیں اور ابھی تک اس چیخ کی آواز اس کےکانوں میں گونج رہی تھی جو کچھ لمحے کے لیے دھیمی ہوئی اور پھر تیز ہوتے ہوتے اتنی تیز ہو گئی کہ اس کی آنکھیں سرخ ہو کر ابل پڑیں۔

(6)

شہر کے جنوبی علاقے میں مختلف اخباروں کے پرنٹگ پریس لگے ہوئے تھے۔ ان تنگ گلیوں کے درمیان روز صبح پورے شہر کی کرتوتوں کا نقشہ تیار ہوتا تھا ۔ہر صبح کئی گاڑیاں اخباروں کے ہزاروں گٹھڑ لاد کر پورے شہر میں پہنچاتیں، ہر عمر کے اخبار والے اپنی سائیکلوں پر سوار ہو کر آتے اور لائن لگا کر کھڑے ہو جاتے۔ اپنی باری آنے پر ہر شخص اپنی روز کی تعداد کے حساب سے اخبارات جمع کرتا، انہیں سائیکلوں کی پشت پر بنے کیریر میں دباتا اور شہر کی جانب نکل جاتا۔تمام سائیکل والے جب یکے بعد دیگرے جنوبی علاقے سے نکلتے تو ایسا لگتا جیسے شہر میں سائیکل ریس ہو رہی ہے۔ اکثر وہ صبح پانچ،چھ بجے قریب اٹھ کر ٹہلتا ہوا شہر کے میدانی علاقے کے پاس بنے لوہے کے پل پر آ کر کھڑا ہوجاتا۔ جب آوازیں اسے بہت زیادہ پریشان کرتیں یا دیر رات تک نیند نہ آتی تو وہ اس لوہے کے پل پر کھڑا ہو کر شہر کے چوڑے راستوں کو دیکھتا۔ اخبار والوں میں اسے اپنی عمر کے لوگ بھی دکھائی دیتے تھے۔ وہ سب بہت جلدی میں ہوتے۔ سائیکل کے پیڈلوں پہ پیر جمائے تیزی سے لوگوں کے دروازوں تک پہنچنے کی کوشش کرتے۔ انہیں معلوم تھا کہ شہر کا صاف ستھرا علاقہ صبح کی چائے پہ اپنے ارد گرد کے حالات جاننے کا کتنا شوقین تھا۔ ایک اخبار یعنی ان کا مہینے بھر کا ایک کسٹمر جسے اخبار اگر وقت پہ نہ پہنچا تو وہ روپیہ کی ادائیگی میں آنا کانی کر سکتا ہے جس سے اس کی محنت ضائع جائے گی۔ وہ جانتے تھے کہ ہر گھر تک پہنچنے کا ایک وقت ہے اگروہ ایک گھر پہ صحیح وقت پہ نہ پہنچے تو یقیناً انہیں ہر گھر تک پہنچنے میں دیر ہو جائے گی۔

وہ انہیں دیکھ کر سوچتا کہ اس زندگی سے بہتر تو اس کا چمنی کے منہ پر کھڑے ہو کر بوتلیں کھینچنا ہے۔ جس میں چمنی خود بتا دیتی ہے کہ اب بوتلیں باہر کھینچی جانی ہیں۔ اسے صرف لوہے کا ایک اوزار اپنے ہاتھوں میں تھامنا ہوتا ہے۔ کسی کو جواب دیے بنا۔ کہیں پہنچنے کی خواہش سے دور صرف ایک جگہ دونوں ٹانگیں مضبوطی سے جمائے کھڑے رہنا ہے۔ مگر پھر اسے شہر کے راستے نظر آتے جن پہ رنگ برنگی گاڑیاں بھی چلا کرتی تھیں۔ لوگوں کے رنگین اور خوشبو دار کپڑے۔پھر وہ خود کے کپڑوں کو سونگھتا جن میں کارخانے کی مہک بسی ہوئی تھی۔ اس نے کارخانے کی مہک کو ہمیشہ بہت دیر دیرتک سمجھنے کی کوشش کی تھی۔ وہ پہچان ہی نہیں پاتا تھا کہ کار خانے میں کس چیز کی مہک آتی ہے۔ جب اسے لگتا کہ کانچ کی بوتلیں یا چمنی مہکتی ہے تو وہ باری باری سب کو سونگھتا۔ مگر کسی بھی شئے سے مہک اٹھتی محسوس نہ ہوتی۔ یہ اشیا کے ملے جلے تعفن کی مہک تھی۔ اسے لگتا جیسے کارخانہ کہیں اندر سے سڑ رہا ہے جس کی ہر شئے ابھی تک ظاہری طور پر سلامت ہے۔ مگر اس کا علم شائد مالک کو نہیں ہے کہ کار خانے میں ساری چیزیں اند رسے سڑ رہی ہیں۔ اسے اپنے وجود کے سڑنے کا احساس بھی ہوتا۔ مگر خود اعتمادی سے وہ اس خیال کو ذہن سے جھٹک دیتا اور لوہے کے پل کا ہتھا تھام کر صبح کے اگتے سورج سے نظریں ملانے کی کوشش کرتا۔ اسے صبح کا سورج پسند تھا وہ اکثر غور کرتا تھا کہ اس میں بہت اپانیت ہے۔ اس نے کئی مرتبہ اپنے پڑوسیوں سے صبح کے سورج کی کشش کے متعلق جاننے کی کوشش بھی کی تھی۔ مگر اس معاملے میں وہ خاموش ہی رہتے تھے۔ وہ اس معاملے میں اخبار بیچنے والوں کو خوش نصیب سمجھتا تھا کہ وہ روز صبح کے سورج کا استقبال کرنے کے لیے سائیکلوں پہ سوار ہو کر شہر کی سڑکوں پہ چکر لگاتے ہیں۔ اچانک اسے خیال آیا کہ اسے بھی کچھ دنوں تک اخبار بیچنا چاہیے، کم سے کم صبح کے سورج کی محبت میں۔مگر اس نے اسے خیال کو فوراً جھٹک دیا۔ اس نے سوچا کہ جب تک وہ چمنی کی مہک کا راز نہیں جان لے گا تب تک کار خانے کو ہر گز الودعی نہیں کہے گا۔

آج وہ کارخانے پہنچا تو سینٹ سے بھری بوتلوں کا ایک ڈبہ اسے مالک کے کاونٹر کے پاس رکھا دکھائی دیا۔ مالک نے اس پہ نظر ڈالی اس کی حاضری کا اندراج کرتے ہوئے اسے آواز دی۔ اس نے مالک کی آواز سن کر اپنے بڑھتے قدم روک لیے۔”اس ڈبے میں سے ایک بوتل تیری ہے۔” وہ کچھ سمجھ نہ سکا۔ مالک نے پھر کہا” آج سینٹ کی بوتلوں کے چار نئے کنسائنمنٹ ملے ہیں۔اب ہمیں الگ الگ طرح کی بوتلیں بنانی ہیں اور کمپنیوں تک پہنچانی ہے۔ یہ سینٹ ہمیں اپنی ایک نئی کمپنی نے گفٹ کیا ہے۔ ان میں سے ایک تیرا ہے۔ دیکھ لے اب ایسی ہی بوتلیں بنیں گی۔ “و ہ مالک کی یہ بات سن کر خوش ہو گیا۔ اسے یقین آ گیا کہ اس کا مالک اس کے کام سے خوش ہے۔ “آج سے تجھے ساٹھ کے بجائے اسی رپیہ روز کا ملا کرے گا۔یہ لے اور جا کام کر۔” اسے بہت حیرانی ہو رہی تھی۔ نہ جانے اس نے ایسا کیا کیا کہ اس کے پیسے بھی بڑھا دیے گیے اور مالک نے اس سے اتنی باتیں بھی کیں۔ وہ اسی روپے سے زیادہ خوش اپنے مالک کے رویے سے تھا۔

اسے لگا جیسے یہ کار خانہ ایسی جگہ ہے جہاں وردی والے اس کا احترام کرنے پہ مجبور ہو گئے ہیں۔ جیسے شہر کے تمام رئیس اسے اپنے برابر کا تصور کرنے لگے ہیں۔ اس کا مالک اس کا اپنا دوست بن گیا ہے اور وہ رنگ برنگی گاڑیاں جو ٹیلے کے سامنے والی سڑک سے گزرتی ہیں انہوں نے اسے دیکھ کر منہ چڑھانا بند کر دیا ہے۔ اس نے سینٹ کی بوتل کو غور سے دیکھا جیسے یہ کوئی غیر نہیں بلکہ اس کی اپنی اولاد ہو۔جس نے اس کا نام فخر سے اونچا کر دیا ہو۔ اس نے اسے اپنی قمیض کی اوپری جیب میں رکھا اور چمنی کے منہ پر کھڑے ہونے والے موٹے دستانے پہن کر لوہے کی روڈ ہاتھوں میں اٹھا لی۔ آج وہ دن بھر اندر ہی اندر گنگناتا ہوا چمنی کے پیٹ سے بوتلیں نکالتا رہا اور انہیں دفتی کے ڈبوں میں بند کر کے محبت بھرے انداز میں آگے کی طرف کھسکاتا رہا۔

شام کو جب وہ کارخانے سے نکلنے لگا تو اس کے مالک نے اسے اسی روپے دیئے اور روز والا سوال پوچھا۔ اس نے دوسرے دن آنے کا وقت بتایا اور باہر نکل گیا۔ وہ کار خانے سے باہر نکلا تو جھٹپٹے کا وقت ہو چلا تھا۔ سورج تیزی سےاندھیروں کی گپھا کی طرف بڑھ رہا تھا۔ وہ اپنے گھر تک پیدل ہی جاتا تھا، کیوں کہ کار خانے کی گلیوں میں کسی سواری کو لانے کا مطلب تھا منٹوں کی مسافت گھنٹو میں طے کرو۔ وہ آہستہ آہستہ چلتا ہو ا گھر کی جانب بڑھ رہا تھا اور بار بار اپنی قمیض کی جیب سے سینٹ کی بوتل نکال کر اسے اپنے ہاتھ میں تھام لیتا تھا۔ پھر کچھ سوچ کر قمیض کی جیب میں رکھ دیتا اور پھر نکال لیتا۔ اس نے اب سے پہلے کبھی سینٹ کی بھری ہوئی بوتل استعمال نہیں کی تھی۔ کانچ کی خوبصورت بوتل جس میں ہلکے کتھئی رنگ کا سیال بھرا ہوا تھا۔ وہ اسے استعمال کرنا چاہتا تھا اور کیسے کیا جاتا ہے اسے یہ بھی معلوم تھا، مگر اس کے لیے اسے ایک صحیح موقع کا انتظارکرناتھا۔ اسے آج تک خوشبو لگانے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی تھی۔ یوں بھی زندگی میں جتنے قسم کی بد بووں سے اس کا واسطہ پڑا تھا ااس کی ایک چوتھا ئی خوشبوئیں بھی اس نے نہیں سونگھی تھیں۔ وہ ٹیلے کے متعلق سوچنے لگا جہاں طرح طرح کی بدبووں سے اس کی ناک بھر جاتی تھی۔ سڑے ہوئے پانی، نشہ آور اشیا، جلے ہوئے ٹائر، مرے ہوئے پرندے، گائے اور بھینس کے گوبر اور انسانی پاخانے، پیشاب کی ملی جلی بدبو۔ اسے لگتا جیسے ہزاروں انسانی لاشوں کو جلا کر ان کا دھواں ٹیلے کی مٹی میں ملا دیا گیا تھا جس وجہ سے اس کے چپے چپے سے سڑتی ہوئی انسانی آنتوں کی مہک آتی تھی۔ اس کے باوجود وہ ٹیلے کو ایک پر سکون مقام سمجھتا تھا جہاں سگرٹ کے کشوں سے اسے زندگی کے بوجھل لمحوں اور وردی والوں کے جبر سے راحت ملتی تھی۔

اس نے گھر پہنچ کے اپنی سینٹ کی بوتل کو بہ حفاظت تمام اپنے صندوقچے میں رکھا۔ اپنی قمیض تبدیل کی اور دوبارہ گھر کے باہر آ گیا۔ اب اس کی رفتار سے لگتا تھا جیسے اسے کہیں پہنچنے کی جلدی تھی۔ اس کی جیب میں اس وقت اسی روپے تھے۔ وہ شہر کے ایک سرے سے دوسرے سے تک سواری سے آ جا سکتا تھا۔ اس نے سڑک پہ آ کر سواری روکی اور شہر کے شمال مغربی حصے میں جو کالج تھا اس کی طرف چل دیا۔ جب وہ کالج کے گیٹ پہ پہنچا تو کالج کا دروازہ اسے مقفل نظر آیا۔ اس نے سواری چھوڑ دی۔ کچھ دیر تک کھڑا کالج کے گیٹ کو تکتا رہا پھر ان گول سرکاری عمارتوں کی فٹ پاتھ پہ آ گیا جہاں پیدل چلنے والے لڑکے لڑکیوں کاریلا دائیں سے بائیں اور بائیں سےدائیں کی طرف آ جا رہا تھا۔ وہ بھی اسی بھیڑ میں شامل ہو گیا۔ اس نے کچھ آگے جا کر دوبارہ پلٹ کے کالج کے گیٹ کی طرف دیکھا۔ اس طرح جیسے اپنے دیکھے پر یقین کرنا چاہ رہا ہو اور پھر اس ریلے کے پیچھے چلنے لگا۔ وہ چلتے چلتے آتی جاتی لڑکیوں پہ نظریں جماتا ان کے قریب سے گزرتے ہوئے زور سے اپنی سانس کھینچتا اور ان کے کھولے ہوئے بالوں سے اٹھنے والی مہک کو اپنے نتھنوں میں جمع کرنے کی کوشش کرتا وہ کافی دیر تک اسی طرح حکومتی عمارتوں کی فٹ پاتھ پہ ریلے کے پیچھے چلتا رہا۔ کچھ لوگ کسی فٹ پاتھ سے ایک خاص گلی میں مڑجاتے تو کچھ لمحوں میں دوسری گلی سے کچھ نئے چہرے نکل کر اس بھیڑ کا حصہ بن جاتے۔ اس نے سوچا کے یہ مہکتا ہوا شہر اوپر سے کتنا خوبصورت ہے۔ نہ جانے کیوں اسے یہ سب ڈھونگ لگا، مگر وہ اس ڈھونگ سے لطف اندوز بھی ہو رہا تھا۔ وہ محسوس کر رہا تھا کہ مختلف لوگوں کے کپڑوں اور بالوں سے اٹھنے والی مہک اسے پل بھر کے لیے زندگی کا ایک نیا احساس عطا کرتی ہے۔ جب جب وہ کسی لڑکے یا لڑکی کے قریب سے گزرتا ہے تو اس کی مہک کے تجربات میں اضافہ ہوتا ہے۔ وہ اپنے ذہن کوان خوشبو وں کے درمیان گردش کرتا ہوا پا کر خوش ہو رہا تھا۔ اسے لگتا جیسے چمنی کی مہک جس کا سراغ لگانے کے لیے وہ اتنا پریشان تھا اس کے ان خوشبووں کے مقابلے میں اس پہ وقت صرف کرنا خود کو اندر سے سڑانے کی طرح ہے۔

اسے ٹیلے کی بدبو اور دھلے دھلائے صاف ستھرے کپڑوں میں ملبوس لوگوں کی خوشبوں میں ایک بڑا فرق معلوم ہوا۔ اسے لگا کہ ٹیلے پہ اٹھنے والی خوشبویں اسے سکون تو عطا کرتی ہیں مگر اس میں غم کی ایک لہر ہو تی ہے ایسی جو اسے اندر سے مرجھا دیتی ہے، جبکہ یہاں کی خوشبوں میں اسے انجانی خوشی کا احساس ہو رہا تھا۔ جیسے پیپر منٹ کی گولیاں اس کی سانس میں گھل کر انہیں تازہ کر رہی ہوں۔ اس نے سوچا کہ یہاں کی خوشبووں سے لطف اندوز ہونے کے لیے اب وہ روز شام کو یہاں آیا کرے گا۔ ان سڑکوں پہ چلنے والے صاف ستھرے لوگوں کے بدن سے اٹھنے والی خوشبوں میں ڈوب کر زندگی کا نیا احساس حاصل کرے گا۔ اسے اپنا ٹیلے پہ جانا فضول معلوم ہونے لگا۔ اس نے سوچا کہ اگر اسے سگریٹ کے کش ہی لینا ہیں تو وہ لوہے کے پل پہ جا کر بھی لے سکتا ہے یا ان سڑکوں پہ گردش کرتے ہوے بھی سگریٹ پی سکتا ہے۔ پھر اچانک کچھ سوچ کر اس نے اپنے آخری فیصلے کو غلط تصور کیا اور ہولے کے پل کو سگریٹ کا اڈا بنانے کی ٹھان لی۔ مگر اسے اپنے ٹیلے سے نفرت سی ہو رہی تھی جہاں سے سوائے زندگی کے افسردہ رنگوں کے اس نے کچھ حاصل نہ کیا تھا۔

Categories
فکشن

آوازوں والا کردار (دوسرا حصہ) – تالیف حیدر

اس طویل کہانی کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آوازوں والا کردار:حصہ دوم
اس کار خانے میں اس کے علاوہ بارہ لڑکے اور کام کرتے تھے، کچھ اس سے عمر میں بڑے تھے اور کچھ چھوٹے۔ اس نے کسی سے جان پہچان بڑھانے کی کوشش نہیں کی تھی، لیکن اتنا ضرور محسوس کیا تھا کہ زیادہ تر لڑکے ایک دوسرے سے انجان ہیں۔ شائد سب صرف شام کے اس لمحے کے لیے اپنا اپنا کام سر جھکا کر کرتے رہتے تھے جب مالک انہیں مزدوری عطا کرے۔ جب کئی دن کام کرتے ہوئے ہو گئے تو ایک نئے لڑکے نے جو اس کے بعد کار خانے میں داخل ہوا تھا اس سے پوچھا تھا کہ “مالک روز پیسے کیوں دیتا ہے۔” جس کے جواب میں وہ خاموش رہا۔ نہ اس نے کوئی جواب دیا اور نہ پوچھنے والے لڑکے نے دوبارہ پوچھا۔

اس کی توجہ کار خانے میں کام کرنے والے تمام لڑکوں کے مقابے میں مالک پر زیادہ تھی، نہ جانے کیوں وہ اپنے مالک میں ایک خاص کشش محسوس کرتا تھا۔ اسے لگتا کہ یہ شخص جو روز شام کو ہم لوگوں میں روپیہ بانٹتا ہے خود کتنے عالی شان طریقے سے زندگی گزارتا ہوگا۔ وہ جب اپنے ساٹھ رپیہ کے شاہانہ خرچ کے متعلق سوچتا جس میں اس کی مزدوری، سگریٹ، بیڑی، الم غلم سمیت سب آ جاتا تھا تو مالک کا کردار اسے اور زیادہ متاثر کن لگتا۔ جو شخص روز کے ہزار دو ہزار بانٹ دے وہ کم سے کم پانچ ہزار روزانہ تو کماتا ہی ہوگا۔ یہ خیال اسے مالک کا دیوانہ بنا دیتا۔وہ کوشش کرتا کہ اور محنت سے کام کرےتاکہ مالک کی خوشنودی حاصل ہو سکے، مگر مستقل کئی روز کی محنت کے باوجود اسے محسوس ہوا کہ مالک کا اپنے لڑکوں سے صرف اتنا رشتہ ہے کہ وہ صبح میں ان کے داخلے کا وقت لکھے سب پر ایک نظر ڈالے کون آیا اور کون نہیں اسے نوٹ کرے اور شام کو تنخواہ دے کر رخصت کر دے۔ کبھی جب وہ کام پر نہ جاتا تو دوسرے روز مالک صرف اتنا اور پوچھتا کہ ” کل کیوں نہیں آیا تھا۔” وہ بتاتا اور مالک مطمئن ہو جاتا۔پھر شام کو پیسے دیتا اور روز والا سوال دہراتا “کل کتنے بجے آئے گا۔” وہ جواب دیتا اور مالک اگلے کی طرف متوجہ ہو جاتا۔

ہفتے میں ایک دن جب اس کی چھٹی ہوتی تو وہ اپنی جیب میں تین چار سگرٹیں بھر کر ٹیلے پر چلا جاتا۔ شفاف سڑک کو گھور کر دیکھتا رہتا اور سگرٹوں کے کش لے لے کر مالک کے متعلق سوچنے لگتا۔ اس نے کام کے دوران کئی مرتبہ دیکھا تھا کہ اس کا ما لک جو گورے رنگ کا ایک گگدے بدن والا چھوٹے قد کا شخص تھا وہ رنگین شرٹ اور نیلی جینز میں کتنا خوب رو معلوم ہوتا تھا۔ وہ اپنے احباب سے بھی خوب ہنس ہنس کر باتیں کرتا، اس کے دوست جو اس چمنی کے قریب واقع کار خانوں کے مالکان تھے اکثر دو پہر میں کھانے کے وقت اس کے پاس آ جاتے اوروہ ان سے ہنس ہنس کر باتیں کرتا۔ کسی لڑکے کی طرف آنکھ بھی اٹھا کر نہیں دیکھا۔ اسے یہ بات بہت ناگوار گزرتی تھی۔ وہ چاہتا تھا کہ اس کا ملک جس طرح اپنے احباب سے بات کرتا ہے اس سے بھی کرے اور وہ بھی بتائے کہ وہ شہر کے کس حصے سے یہاں آتا ہے اور وہاں کیسی کیسی عجیب و غریب چیزیں پائی جاتی ہیں۔ مگرایسا ہوا نہیں تھا اس نے ایک آدھ مرتبہ اپنی روز کی مقررہ رقم کو لینے سے انکار بھی کیا تھا تا کہ اس کا مالک اسے اپنے بقیہ لڑکوں سے مختلف سمجھے،مگر اس نے ڈانٹ کر اس کے ہاتھ پر پیسے رکھے اور روز کا سوال داغ دیا۔ اس نے وقت بتا یا اور چل دیا۔

جب سے اس چمنی میں اس کی نوکری لگی تھی وہ شہر کو کچھ بدلا ہوا محسوس کر رہا تھا۔ حالاں کہ اس دوران چمنی تک جاتے ہوئے اسے دو بار سڑک کے کنارے وردی والوں نے روکا تھا اوراس کی تلاشی بھی لی تھی۔ مگر اسے یہ ایک معمولی واقعہ لگا تھا۔ اسے محسوس ہورہا تھا کہ اس نے دھیرے دھیرے چمنی میں کام کرتے ہوئے اپنے آپ کو اس قابل بنا لیا ہے کہ اس کارخانے والی گلے سے آگے بڑ ھ سکے۔ چمنی کی ملازمت کے دوران چھٹی کے روز وہ شہر کے جنوبی علاقے سے سواری کر کے خربوزے والی گلی تک بھی گیا تھا جہاں۔ شہر کا سب سے بڑا بازار لگتا تھا۔ یہ شہر کا ایسا واحد بازار تھا جہاں امیر و غریب ہر طرح کے لوگوں کے آنے کی اجازت تھی۔ ورنہ شہر میں جب سے وردی والوں کا قبضہ ہوا تھا انہوں نے غریبوں اور امیروں کے بازار الگ کروا دیے تھے تاکہ انہیں یہ شناخت کرنے میں آسانی ہو کہ شہر میں کن لوگوں کے پاس روپیہ ہے۔ غریبوں کے بازار کی اشیا نہایت خراب کوالٹی کی ہوتیں، جو متوسط طبقے کے لوگ بھی استعمال نہیں کر سکتے تھے۔ کپڑے سے لے کر کھانے تک ہر چیز تیسرے درجے کی تھی جو شہر والوں کے استعمال سے خارج ہو چکی تھی وہ یہاں پائی جاتی تھی۔ خربوزے والی گلی تک جانے والے غریب اس فرق سے اچھی طرح واقف تھے کہ شہر کے اصلی مالکوں سے کس طرح پیش آنا ہے۔

(4)

یہ گلی شہر کے شمال مغربی حصے میں تھی۔ اسے خربوزے والی گلی کیوں کہا جاتا تھا اس کا راز گلی کے اتیت میں کہیں دفن تھا اور لوگوں کو اتنی فرصت نہیں تھی کہ وہ ماضی کے پنّے پلٹ کر اس کی وجہ تسمیہ جاننے کی کوشش کرتے، یوں بھی گلی محلے کے ناموں کی تاریخ پہ اب لوگ کم ہی غور کرتے تھے۔ ان ناموں پہ زیادہ غور کیا جاتا تھا جو کسی طرح کا سیاسی فائدہ پہنچا سکتے ہوں۔ شہر کے اس حصے کو خربوزے والی گلی کہا ضرور جاتا تھا، لیکن یہ کوئی گلی نہ تھی بلکہ اسی سے سو فٹ چوڑا راستہ تھا جہاں مختلف اشیا کی دکانیں قطار اند قطار سجی ہوئی تھیں۔ خربوزہ یہاں صرف پھلوں کی دکانوں پر پایا جاتا تھا۔ یہ علاقہ وردی والوں کی نظر میں اس لیے بھی مشکوک نہ تھا کیوں کہ یہاں کی زیادہ تر دکانیں اس ملک کے مالکوں کی تھیں جن کے حکم سے شہر میں وردی والے داخل ہوئے تھے۔ وردی والوں کا رعب اس گلی کی سرحد کے اندر داخل ہوتے ہی کمزور پڑ جاتا تھا۔ یہ بازار خاصہ پرانا تھا تین طرف سے شہر کی شاہراہوں سے متصل اور ایک طرف شہر کا بیرونی راستہ۔ شہر کا ہرنیا تہذیبی رواج یہیں سے عام ہوتا تھا۔ کوئی بھی چیز جو مہنگے سے مہنگے اور سستے سے سستے داموں پر دوسرے شہروں سے یہاں آتی تھی بنا کسی مول بھاو کے بیچی جاتی۔ ہر شخص کو اپنی استطاعت کے مطابق اشیا خریدنے کی آزادی تھی۔ اس بازار کا سب سے بڑا عجوبہ یہاں کی رومال والوں کی دکانیں تھیں جہاں انسانی شکل کے رومالوں کی بھر مار تھی۔ کسی بھی شخص کی شکل کا کڑھا ہوا رومال یہاں دستیاب تھا۔ لوگ اپنی پسندیدہ شخصیات کے کڑھے ہوئے رومال درجنوں کی تعداد میں یہاں سے لے جایا کرتے تھے۔ یہ رومال نہ صرف اس شہر میں بلکہ دنیا کے مختلف شہروں میں یہاں سے منگوائے جاتے تھے۔ کسی شخص کو اگر اپنی شکل کا رومال کڑھوانا ہوتا تو وہ دس منٹ میں رومال کڑھوا لیتا۔ رومال کڑھائی کے درجنوں کار ی گر صبح سے شام تک رومال کی دکانوں کے درمیان لوگوں کی شکلوں والے رومال کاڑھتے اور بیس روپیہ فی رومال مزدوری لے کر خوشی سے جھوم اٹھتے۔ وردی والے بھی رومال کڑھائی کاریگروں سے اپنی شکلوں کے رومال کڑھواتے اور انہیں پوری قیمت ادا کرتے۔ اگر یہ کڑھائی والے شہر کے کسی اور علاقے میں پائے جاتے تو یقیناً انہیں وردی والوں کے لیے مفت میں یہ خدمت انجام دینا ہوتی، لیکن یہاں وہ وردی والوں سے پوری قیمت وصولتے تھے۔ رومال کے علاوہ اس بازار کا چاندی کازیور بھی پورے شہر میں مشہور تھا۔ چاندی کا اصلی زیور جس پہ چاہو تو سونے کے پانی کی قلعی بھی کروائی جا سکتی تھی۔ اس کام کے لیے دوسرے شہر سے لوگوں نے آ کر یہاں اپنا ڈیرہ جمایا تھا۔ مشرقی علاقوں کے شہر والے اس کام میں ماہر تھے جو اب خربوزے والی گلی کے سنار کہلاتے تھے۔

اس کا اس بازار میں آنے کا مقصد اپنی شکل کارومال کڑھوانا تھا اور ساتھ ہی وہ یہ جائزہ بھی لینا چاہتا تھا کہ اگر اس نے کارخانوں میں کام مانگنے والی ترکیب یہاں آزمائی تو اسے کس حد تک کامیابی مل سکتی ہے۔ بازار میں داخل ہونے کا شہر والا دروازہ بہت چوڑا تھا جہاں اندر داخل ہونے والوں کو اپنی اور اپنے سامان کی تلاشی کروانی ہوتی۔ اگر کسی کے پاس کوئی دھار دار چیز پائی جاتی خواہ وہ گلے میں لٹکی ہوئی چین سے جڑا ہوا چھوٹا دکھاوے کا خنجر ہی کیوں نہ ہو تو اسے جمع کروا لیا جاتا اور انہیں ایک ٹوکن دے دیا جاتا کہ واپسی پہ وہ ٹوکن دے کر اپنی چیز حاصل کر لیں۔ اس کے پاس ایسی کوئی چیز نہ تھی، وہ خالی ہاتھ آیا تھا۔ داخلے کے وقت جب اس کی تلاشی لی جا رہی تھی تو اس نے محسوس کیا کہ گذشتہ جتنی مرتبہ شہر میں اس کی تلاشی لی گئی ہے اس میں جو جبریہ رویہ پایا جاتا تھا وہ یہاں کے تلاشی لینے والوں میں نہ تھا۔ اس نے سکون سے اپنی جیبیں چیک کروائیں اور بازار میں داخل ہوگیا۔ شہر کے اندر آ کر وہ سیدھا رومالوں کی دکان کی طرف گیا اور ان میں ایک دکان کے سامنے پڑی پٹریوں پر بیٹھے کاری گر سے اپنی شکل کا رومال تیار کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ کاری گر خوشی خوشی اپنی جگہ سے اٹھا اور برابر میں رکھے ہوئے بستے میں سے دو تیلیاں نکال کر ایک سفید کپڑے پر رومال کڑھنے لگا۔ اس دوران وہ بڑی دلچسپی سے کبھی کڑھائی کو دیکھتا اور کبھی کڑھنائی کرنے والے کو۔ اگلے دس منٹ میں جب کڑھائی کاری گر نے اس کی تصویر رومال پر اتار کر رومال اس کے حوالے کیا تو وہ حیران رہ گیا۔ اس نے آج تک صرف ان کڑھنے والوں کا تذکرہ سنا تھا اور کچھ کڑھے ہوئے رومال دیکھے تھے۔ اسے لگتا تھا کہ یہ گھنٹوں کی محنت کا صلہ ہوگا کہ کسی شخص کی ہو بہو تصویر ایک کپڑے کے رومال پر اتار دی جائے۔ مگر دس منٹ کے وقفے میں اپنی نظروں کے سامنے خود کی تصویر کو رومال پر اترتا ہوا دیکھ کر اسے ایک انجانی خوشی کا احساس ہوا تھا جس میں حیرت کے آثار ملے جلے تھے۔ اس نے سوچا کہ یہ کتنا بڑا ہنر ہے کہ کسی کو دوچار مرتبہ دیکھا اور اس کی شکل کو رومال پر کڑھ دیا۔ اس کی قیمت صرف بیس روپیے تو ہرگز نہیں ہونا چاہیے۔ اس نے اپنی جیب سے چالیس روپے نکال کر اس کاری گر کو دیے تو اس نے لینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ” اس کا صرف بیس روپیہ ہوتا ہے۔” اس پر اسے برا محسوس ہوا اور اس نے مالک کی طرح خفگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کاری گر کو چالیس روپے تھما دیے۔ کاری گر خوش بھی تھا اور حیران بھی۔جس سے نظریں ملا کر اسے پہلی بار مالک ہونے کا احساس ہوا۔ اس واقعے سے اس نے جانا کے کسی کو کچھ دینے کا سکھ بڑی سے بڑی چیز لینے سے ہزار گنا زیادہ ہوتا ہے۔ اس احساس سے وہ پہلی بار دوچار ہوا تو اسے اپنے مالک پہ رشک آنے لگا جو اسے اور اس جیسے کتنے لڑکوں کو روز ساٹھ ساٹھ روپے دیا کرتا تھا۔

رومال کڑھوا کر وہ بازار کے دکانوں کے سامنے چکر لگانے لگا۔ مختلف اشیا کی دکانوں پر اسے روشنوں کے جھماکے نظر آئے جہا ں دن میں بھی مختلف سائزوں کے بجلی کے قمقمے روشن تھے۔کہیں اس میں سفید روشنی نکل رہی ہو تی اور کہیں پیلی۔ کانچ کی خوبصورت برتنوں، گھڑیوں، کپڑوں، الیکٹرانکس کی دکانیں جن میں صاف ستھرے کپڑے پہنے ہوئے دکان دار اور ان کے ملازم موجود تھے۔ کئی دکانوں کے قریب سے گزرتے ہوئے اس میں اتنی ہمت بھی پیدا نہ ہو سکی کہ وہ ان میں داخل ہو کر کام مانگنے کی کوشش کرے۔ اسے اپنا ٹیلا یاد آیا جہاں دنیا جہان کے کچرے کا ڈھیر تھا وہا ں پہنچتے ہی اس کی خوداعتمادی کئی گنا بڑھ جاتی تھی۔ جہاں موجود لڑکوں سے وہ خود کو ہزار گنا بہتر سمجھتا تھا۔ مگر یہاں معاملہ بالکل الٹ تھا۔ یہاں اس کے منہ میں زبان لکڑی کی طرح سخت ہوگئی تھی۔ وہ دو چار کپڑے کی بنا شیشوں والے دروازے کی دکانوں پر رکا، مگر ان میں داخل ہو کر کام مانگنے کی جرات نہ کرسکا۔ اس نے سوچا کہ خربوزے والی گلی شائد ابھی اس کی پہنچ سے آگے کی دنیا ہے لہذ ا اسے اپنے مالک کی دنیا سے نکل کر کسی درمیانی دنیا میں جانا چاہیے جہاں سے وہ یہاں تک آنے کے آداب سیکھ سکے۔
اس خیال کے بعد اسے خربوزے والے گلی میں رکنا بے سود معلوم ہونے لگا۔وہ وہاں سے نکلا اورداخلی دروازے سے اپنا سامان لیتا ہوا پیدل شہر کی سڑک پہ آ گیا۔ بازار کے سامنے کچھ عمارتیں تھیں جن پر نیلی تختیاں لگی ہوئی تھی اور مختلف زبانوں میں کچھ لکھا تھا۔ بڑی بڑی نئی طرز کی پرانی عمارتیں۔ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے کوئی سرکاری دفتر ہے جہاں حکومتی کام کاج آہستہ روی سے انجام دیا جاتا ہے تاکہ عمارت کی بوسیدگی مزید متاثر نہ ہو۔ عمارت گول چکر نما دائروں میں بنی ہوئی تھی جس کے گرد فٹ پاتھ تھا۔ وہ سڑک چھوڑکر اس فٹ پاتھ پر آگیا۔ شہر کی گلیوں میں گھومنا اسے یوں بھی پسند تھا لہذا بنا کسی مقصد کے وہ دیر تک ایک عمارت سے دوسری عمارت اور دوسری سے تیسری عمارت کی فٹ پاتھ پر چلتا رہا۔ کہیں کہیں پھلوں اور آئس کریموں کے ٹھیلے لگے دکھائی دیتے تو وہ رک کر کوئی پھل یا آئس کرئم خرید لیتا۔ الم غلم کھاتا ہوا وہ شہر کے جنوب کی جانب جا رہا تھا۔ مگر جنوبی حصہ یہاں سے خاصہ دور تھا۔ وہ چلتے چلتے ایک کالج کے سامنے سے گزرا تو چند خوبصورت لڑکیاں ہاتھوں میں کتابیں تھامے اس کےقریب سے گزریں۔ پھر کچھ لڑکے ۔ سب آپس میں باتیں کر رہے تھے۔ وہ انہیں دیکھ کر خوش تھا۔ اس نے دیکھا کہ کالج کےگیٹ پہ کچھ لوگ جمع ہیں۔ ایک شخص چیخ چیخ کر بھیڑ سے کچھ کہہ رہا تھا۔ وہ تماشا دیکھنے آگے بڑھا تو آوازوں کا شور کچھ نزدیک آ گیا۔ جو لڑکا بھیڑ سے مخاطب تھا اس کی آواز میں اتنی کرختگی اور بھاری پن تھا کہ وہ اسے نئی معلوم ہوئی۔ اس نے آج سے پہلے ایسی آواز نہیں سنی تھی۔ اسے فوراً مجمعے کے نزدیک جانے کااپنا غلط فیصلہ لگنے لگا۔ وہ بھیڑ میں کھڑا ہو گیا اور اب چیختے ہوئے لڑکے کی آواز وہ صاف سن سکتا تھا۔ مگر وہ کیا کہہ رہا تھا اسے بالکل سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ زبا ن اس کے لیے اجنبی نہیں تھی مگر وہ جس موضوع پر بات کر رہا تھا وہ اس سے بالکل انجان تھا۔ اس نے محسوس کر لیا کہ یہ لڑکا کوئی سیاسی لیڈر ہے جو اپنے قریب کھڑے لوگوں کو جگانے کی کوشش کر رہا ہے یا پھر بڑھکانے کی۔ وہ اسے غصے میں دکھائی دے رہا تھا وہ بار بار ہاتھ اٹھا کر گیٹ کی طرف اشارہ کر تااور کچھ کہتا پھر ان چکردار حکومتی عمارتوں کی جانب اشارہ کرتا اور پھر کچھ کہتا۔ اس نے سمجھا کہ یہاں کسی پر ظلم ہوا ہے اور جو شخص چلا رہا ہے اس ظلم کو ظاہر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ مگر تھوڑی ہی دیر میں وردی والوں کا ایک دستہ وہاں آن پہنچا۔ ان کے ہاتھوں میں لٹکی ہوئی بندوقیں دیکھ کر بھیڑ پوری طرح چھٹ گئی۔ وہ بھی راستے کی دوسری طرح گول چکر دار عمارتوں کی فٹ پاتھ پر آگیا۔ اب اس لڑکے کو پیٹا جا رہا تھا اور وہ اس پٹتے ہوئے عالم میں بھی چلا چلا کر پہلے کالج کے گیٹ کی طرف اشارہ کرتا اور پھر ان گول چکر دار عمارتوں کی جانب۔ وردی والے اسے کھنچتے ہوئے اپنی گاڑی تک لے گئے۔ اسے اس میں ڈالا اور گاڑی دوڑا دی۔ آخری بار اس کی نظر جب اس چیختے ہوئے لڑکے پر پڑی تو اس کے منہ سے ایک خون کی لکیر بہہ رہی تھی جس سے اس کی قمیض جگہ جگہ سے لال ہو گئی تھی۔ اس نے آسمان پر نظر ڈالی وہ بھی کہیں کہیں سے لال نظر آرہا تھا۔ اس نے سوچا کہ شام ہونے سے پہلے شہر کے جنوبی علاقے تک پہنچ جانا بہتر ہے ورنہ وردی والے سختی سے اس کی تلاشی لیں گے ۔یہ سوچ کر اس نے ایک سواری روکی اور اس پہ سوار ہو گیا۔

(جاری ہے)

Categories
فکشن

آوازوں والا کردار (پہلا حصہ) : تالیف حیدر

اس طویل کہانی کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کریں۔

(1)

کہانی کی ابتدا ہو چکی تھی۔ سارے کردار ایک دوسرے میں گندھے ہوئے زور زور سے چیخ رہے تھے، ایسا لگتا تھا کہ سب کو اپنے ہونے کا احساس دلانا ہے، کبھی گاڑی کے گزرنے کی آواز پس منظر سے ابھرتی تو کبھی ہوا میں جہازوں کے تیرنے کا شور سنا ئی دیتا۔ اچانک انسانی آوازوں کے درمیان سے گولی چلنے کی صدا بلند ہوئی۔ منظر میں لوگ تتر بتر ہونے لگے۔ جن کے ہاتھوں میں لاٹھیاں تھیں وہ زیادہ تیز ی سےدوڑ رہے تھے۔ شائد سبھی کوخود کوچھپنانے کے لیے ایک محفوظ مقام کی تلاش تھی۔ پھر اچانک دوبارہ گولی چلی اور چیخ و پکار اور تیز ہو گئی۔ اب آوازوں کا شور اتنا بڑھ گیا تھا کہ کان پڑے آواز نہیں ٹھہرتی تھی،اس بھگدڑ میں ٹین کے پتروں،لکڑی کے دروازوں، مرغیوں کی چیخوں اور کووں کی کائیں کائیں کہاں سے شامل ہو رہی تھی اس پہ غور کرنا مشکل تھا۔ بہت سے لوگوں نے اب خود کو پھوس کے ڈھیروں، مٹی کے تودوں، آدھی ٹوٹی ہوئی دیواروں، بیل گاڑی کے زنگ آلود چکروں کے پیچھے چھپا لیا تھا،پھر بھی وہ چیخے جا رہے تھے۔ گولی جب تیسری مرتبہ چلی تو لوگوں کی آواز اچانک رک گئی اور ہوا میں کسی کے پر پھڑ پھڑانے کی آواز تیز ہو نے لگی۔ کووں یا بازوں یا گدھوں کے پر یا کچھ ان سے بھی بڑے یعنی مور اور شتر مرغ کے پروں کی۔ اب منظر بھی بدل چکا تھا،لوگوں کی جگہ پرندوں سے بھرے آسمان نے لے لی تھی۔ یہ آوازیں انسانوں کی آواز سے زیادہ اکتا دینے اور ڈرانے والی تھی۔ پھر پرندے گرنے لگے اور ان کی آوازوں کے شور میں ایسی دھبدھباہٹ بڑھی کے اسے چونک کر چاروں طرف دیکھنا پڑا۔زمیں سمتل تھی، ہوامعتدل۔سورج کی تپش نے ہر شئے کو اپنے گھیرے میں لیا ہوا تھا۔ دور دور تک نہ کوئی انسان تھا، نہ پرندہ۔ آسمان بالکل صاف تھا مگر پرندوں کے گرنے کی دھبددھباہٹ اب تک جارہی تھی۔ لمحے بھر کے لیے اس کا شور کچھ کم ہوا اور پھر بڑھتا چلا گیا۔ اس نے لاکھ چاہا کہ یہ آوازیں بند ہو جائیں مگر وہ جانتا تھا کہ یہ سلسلہ کب تک چلے گا۔ ہر بار کی طرح اس بار بھی ایک منظر ابھرا اس منظر میں کچھ چہرے نمایاں ہوئے۔ کچھ دلکش تصویریں جن کی کشش نے اسے محو کر دیا۔ جیسے یہ منظر اور تصویریں ایک جال ہوں جو اسے آہستہ آہستہ اپنے پھندے میں پھانس رہی ہوں۔ پھر وہ ان میں کھوتا چلا گیا۔”نا عاقبت اندیش۔”

کسی نے گالی دی تو اسے لطف ملا، کسی نے منہ چڑایا تووہ مسکرا دیا اور پھر اسی طرح کبھی زمین پر الٹی رکابی کےرگڑنے کی آواز، کبھی شادیانوں کے بجنے کی صدا۔ کبھی بارش کی بوندوں کا شور اور کبھی بجلی کے تاروں میں دوڑتے ہوئے کرنٹ کا نغمہ۔ اس پر ایک رعشہ سا طاری ہو جاتا۔ وہ ان آوازوں سے اتنا خوف زدہ تھا کہ اب کسی بھی نئی آواز کو اپنے تجربے میں شامل کرنے سے بچنا چاہتا تھا۔ اس کے کانوں میں پڑنے والی ہر چھوٹی بڑی آواز اس کے لیے صدائے صور ثابت ہوتی تھی۔ اسے بچپن کی حکایت یاد آتی جو صور کے متعلق اس نے اپنے پڑوسیوں سے سنی تھی۔ وہ چاہتا کہ ہر طرف سے کان موڑ کر بیٹھ جائے۔ مگر پھر اچانک سب خود ہی ٹھیک ہو جاتا۔ ایسا کسی بھی وقت ہو سکتا تھا۔ کسی طے شدہ لمحے میں وہ آوازیں نہیں آتی تھی۔ بس وہ اٹھتیں، بڑھتیں اس کے خوف کو بڑھاتیں اس کی دل کی دھڑکنوں کو تیز کرتیں۔پھر اسے نڈھال کرتی ہوئی خود ہی ختم ہونے لگیں۔ وہ چاہے دیواروں سے سر مارے چاہے ان آوازوں کے پیداہونے اور بڑھتے چلے جانے پر غور کر ے، دونوں حالتوں میں اس کا انجام نڈھال ہوتابدن اور تھکادینے والا احساس ہی ہوتا۔ اس کی شدید خواہش تھی کہ وہ اب ان آوازوں کا عادی ہو جائے، مگر ایسا ہر گز نہ ہوااور اس کی وجہ ہر بار آوازوں میں پیدا ہونے والی تبدیلی ثابت ہوئی۔ اس مرتبہ جب اسے ہوش آیاتو اس نے سوچا کہ نہ جانے اگلی مرتبہ کون سا شور اس کے گلے پر چھری پھیرے گا۔

(2)

حفاظتی دستے شہر کے چاروں جانب پھیلے ہوئے تھے، ہر شئے اور ہر انسان کو مشکوک نگاہوں سے دیکھنے کے لیے انہیں حکومت ایک موٹی تنخواہ دیتی تھی۔ انہیں یہ حق حاصل تھا کہ وہ کسی بھی شخص کو روک کر اس کے کپڑے اتروائیں اس کے بدن کے سوراخوں کی جانچ کریں،جس کے لیے حکومت نے انہیں تربیت دی تھی، کچھ پائیں تو وہیں گولی مار دیں۔ شہر میں چتکبری وردی پہنے، چوڑے کندھوں والے بندوق لٹکائے سفاک چہروں کا زور اتنا بڑھ گیا تھا کہ اس کی آبادی متاثر ہونے لگی تھی۔ کہیں کوئی سیدھے منہ بات کرنے والا نوجوان وردی پوش کسی شہری سے ٹکرا جاتا تو شہر کے چند لوگوں پر ظاہرہوتا کہ یہ عہد ہی دہشت گردی کا ہے۔ ہر طرف ایک خوف ہے کہ لوگوں کو ایک ساتھ راکھ کا ڈھیر بنا دینے والی جماعتیں اپنے منصوبوں کو انجام تک پہنچانے کی کوشش میں لگی ہوئی ہیں۔ ان دنوں شہر میں کئی حادثے بھی ہوئے تھے، مگر شہر والوں کو ایسا لگتا تھا کہ آگ کی لپٹوں میں ایک ساتھ بھسم ہو جانے والے لوگ ان سے زیادہ خوش نصیب تھے۔ انہیں جن نگاہوں کا سامنا کرنا تھا وہ ان کی روح میں ارتعاش پیدا کر دیتی تھیں۔ ہر شہری کو ایسا محسوس ہوتا کہ شائد وہ ہی اس دہشت گردی کے ماحول کو پیدا کرنے کا ذمہ دار ہے۔ وردی والے شہر کی گلیوں میں چکر لگاتے ہوئے کسی کے بھی گھر میں داخل ہو جاتے۔ ان گھروں کی بنا کسی کاغذ پتر دکھا ئے تلاشی لیتے اور اسی تلاشی کے دوران اپنے اندر چھپی حکومت کے خلاف نفرت کو گھر کے مکینوں پر انڈیل دیتے۔ اس آگ سے وہ ایک بار میں جل کر بھسم تو نہیں ہوتے تھے، مگر ان کے ہاتھ، پاوں ضرور جھلس جاتے۔ کسی بھی گھر میں برتنوں کے بجنے کی آواز بھی وردی والوں کو اس گھر میں داخل ہونے کا پرمٹ عطا کر دیتی تھی۔
آخری مرتبہ پچھلے مہینے ایک دہشت گردانہ حملہ ہوا تھا جس نے شہر کی تین عمارتوں کو مٹی کے ڈھیر میں بدل دیا تھا۔ شہر کے حفاظتی دستوں کو اس حادثے کی خبر اس وقت ملی جب دھواں آسمان میں تحلیل ہونے لگا۔ شہر کی خوبصورتی کی ذمہ داری اب ہاتھوں میں بندوق تھامے جمالیاتی حس سے نابلد انسانوں کے ہاتھوں میں تھی۔ وہ مجبور تھے، انہیں حکومت کا سونپا ہوا فرض پورا کرنا تھا اور حکومت کو عالمی منڈی میں اپنے جلتے ہوئے شہر کی جھولی پھیلا کر سرمایہ داروں سے رقم وصول کرنا تھی۔ اس لیے کبھی شہر بد نیتوں کی کار گزاریوں سے جلتا اور کبھی ہمدردوں کے بھوکے پیٹوں میں لگی ہوئی آگ سے۔یہ روز کا قصہ تھا۔ صبح سے شام تک شہر چھاونی بنا رہتا۔ اوپر سے لی ہوئی تصویروں میں یہ انجان وردی والے شہر کی حفاظت کرتے ہوئے معلوم ہوتے۔ مگر اس کے درمیان میں پلنے والے آٹھ، دس برس کے بچے انہیں دبے منہ گالیاں دیتے جو انہوں نے اپنے خاموش کمروں میں آدھی رات کو اپنے بڑوں کے منہ سے سنی تھیں۔

یہ زمانہ 9\11کے بعد کا تھا۔ وہ بھی اسی شہر میں رہتا تھا۔ شہر کے مغربی کونے میں جہاں تک خوش حالی کا سورج سب سے آخر میں پہنچتا تھا۔ شہر کا یہ حصہ بقیہ شہر سے مختلف تھا۔ یہاں خوبصورت عمارتیں کم نظر آتی تھیں۔ مگر چکنے اور چوڑے راستوں کی بھر مار تھی۔ جگہ جگہ مٹی کی کھچی چار دیواریوں پر کچی انیٹوں کی کھپریلیں پڑی تھیں۔ضرورت کی اشیا کے نیم تاریک کارخانے تھے۔ گھنی آبادی کے درمیان سلائی مشینوں کا بازار تھا اور کارچوبی کے اڈے جگہ جگہ لگے ہوئے تھے۔ شہر کا سب سے زیادہ تمباکو یہیں کھایا، چبایا اور اڑیاجاتا تھا۔ مختلف قسم کی نشہ آور چیزیں پان کے کھوکھوں اور پرچون کی دکانوں پر بکتی تھیں۔ جو زیادہ نظر میں آنے والی اشیا تھیں ان کا بازار ریت کے ٹیلے کی جانب تھا جہاں کا دریا اب بدبو دار نالا بن چکا تھا جس میں کوڑے کی مقدار اتنی بڑھ گئی تھی کہ دریا کی زمین کالی اور دلدلی ہوچکی تھی۔ اس دریا کے اطرف کی زمین جہاں بنجر کھیت نما مربعےابھرے ہوئے تھے ان میں نشے کا قیمتی کاروبار ہوتا تھا۔ اس کا گھر اس دریا سے تین کوس شمال کی جانب تھا۔ وہ بھی کبھی کبھی شہر کے وردی والوں سے اکتا کر ادھر چلا آتا جہاں کی دنیا اسے ملبے میں دبے سامان کی مانند لگتی تھی۔ جس پر اتنی گرد جم گئی تھی کہ اسے چھونے کا خیال بھی صاف اور دھلی ہوئی وردیوں میں ملبوس سپاہیوں کو نہیں آتا تھا۔ وہ یہاں اکثر ایک کونے میں بیٹھے دس، بارہ برس کے بچوں کو دیکھتا جو مہنگے نشے کا لطف لینے سے محروم دروازوں پہ کی جانے والی پالش کے رنگوں کو مٹھی بھر کپڑوں میں بھگو کر سونگھتے تھے۔جس سے انہیں ویسا ہی نشہ ملتا جیسا افیم اور چرس کے نشے میں ڈوبے جوان امیر زادوں کوحاصل ہوتا۔ انہیں میں کچھ کچرے کے ڈبوں میں پڑی ہوئی خالی وکس اور آیو ڈیکس کی شیشیوں کو جمع کر کے ان کو سونگھتے دکھائی دیتے اور کچھ کھانسی کے ایکسپائر سیرپوں سے اپنے نشے کی طلب کو بجھاتے ہوئے۔ وہ کبھی کبھی اسی بنجر زمین کے ٹکڑے پر بیٹھ کر ایک آدھا سگریٹ پیتا یا وہ دستیاب نہ ہوتی تو دو تین بیڑیاں پی کر شہر کےاس چوڑے راستے پر اپنی نظریں جما دیتا جہاں سے بڑی بڑی گاڑیاں ان بستیوں کو منہ چڑھاتے ہوئے تیزی سے گزر جاتیں۔

اسے بعض مرتبہ پورا شہر ایک بڑے کوڑے دان کی مانند لگتا تھا۔ جہاں گندگی اور غلاظت کا دھیر ہے اور طرح طرح کی بد بوئیں اٹھ رہی ہیں۔ وہ جانتا تھا کہ شہر اصل میں ویسا نہیں ہے جیسا اس کے جنوبی علاقے کے بعض حصے ہیں، مگر اس کے باوجودوہ اپنے اس خیال سے فرار حاصل نہیں کرپاتا تھا۔بس وہ یہ سوچ کر خوش ہو جاتا تھا کہ اس کا جواز اسے انسانوں کے اندر پلنےوالے خوف اور ڈر کی شکل میں بھی مل جاتا ہے۔ یہ شہر جہاں عالی شان کوٹھیاں بھی تھی اور فلک بوس عمارتیں بھی، صاف اور شفاف جھیلیں بھی تھیں اور خو ش فضا پہاڑی علاقے بھی وہ اسے اپنی طرح بنا نے کے لیے قدر مشترک کے طور پر ڈر کا استعمال کرتا۔ اسے معلوم تھا کہ گزشتہ برس اس ملک کی ایمبسی میں جس کا بہت سا قرض اس شہر پہ چڑھا ہوا تھا ایک دھماکے کے بعد یہ شہر خوف کی چپیٹ میں آ گیا تھا۔ عمدہ قالینوں اور صاف ستھر ےخوشبو دار کمروں میں رہنے والے نرم و نازک لوگ اب عام وردی والوں سے ویسے ہی ڈرتے تھے جیسے اس کے علاقے والے ان دکان داروں سے خوف کھاتے تھے جہاں سے ان کے گھروں میں ادھار اناج آتا تھا،وہ دکان دار اپنی موٹی توند لیے ہڈیوں سے بھری ہوئی شکلوں والے جوان، بوڑھے اور ادھیڑ عمر کے لوگوں کو موٹی گالیاں دیتے، ان سے اپنے قرض کی وصولیابی کے لیے مختلف ہتھکنڈے استعمال کرتے اور پھر اگلا ادھار دیتے تاکہ ان کی حکومت قائم رہے۔ تھیلی بھر اناج اور ایک بوتل تیل کی بدبو میں لپٹے ہوئے اپنے اطراف کے لوگ اسے ان سیٹھوں کی طرح لگتے جن کا چہرہ بندوق کی نالیوں کو دیکھ کر پیلا پڑجاتا تھا۔ وہ امیر زادے اپنی گاڑیوں سے شہر کی صاف سڑکوں سے یوں گزرتے جیسے انہوں نے گاڑیاں خرید کر غلطی کی ہو۔ وردی والے انہیں کہیں بھی روک سکتے تھے۔

شہر کی حالت اب اپنے ماضی سے بالکل مختلف تھی، اس نے سوچا کہ یہ جنوبی علاقہ جس کے متعلق اس کے پڑوسیوں نے اسے بتایا تھا کہ کبھی یہ شہر کا دل ہوا کرتا تھا، مگر اب یہاں کچرے کا راج ہے اور وہ علاقہ جہاں تم اب لمبی اور چکنی عمارتیں دیکھتے ہو کبھی خاک کا ڈھیر تھا۔ وہ سوچتا کہ ایسا ہی ہوگا۔ کیوں کہ اس نے اکثر شہر میں داخل ہوتے ہوئے صاف ستھرے علاقوں کی سر حد پہ بھر بھرے لال مٹی کے میدان دیکھے تھے۔ اسے لگتا کہ یہ مٹی نئے شہر نے پرانے شہر کے گلی کوچوں سے چرائی ہے۔ وہ اسی مٹی سے نیا شہر تعمیر کر رہے ہیں اور جتنا شہراسے بد نما نظر آتا ہے وہ اس مٹی سے محروم ہونے کی وجہ سے ہی بد نما ہوا ہے۔ اس نے سوچا کہ اسی لیے ہم شہر کے جنوب میں آباد ہیں کیوں کہ شہر والوں نے انہیں نیچے کی طرف دھکیل دیا ہے جہاں مٹی نکلنے کی وجہ سے گڑھا بن گیا تھا۔ اسے اپنا علاقہ گڑھا نما لگتا اور پھر وہ جس سواری سے شہر میں داخل ہو رہا ہوتا وہ اچانک اسے نیچے کی طرف گرتی ہوئی معلوم ہونے لگتی۔ وردی والوں کے آنے سے پہلے اور بہت پہلے اس جنوبی علاقے میں ایک نہر تھی جس میں شفاف پانی بہتا تھا۔ پرانی طرز کی رنگین عمارتیں تھیں۔ چھوٹی گلیاں ایسے شہر کو سجائے ہوئے تھیں جیسے کسی مصور نے اپنے کینوس پر درخت کی پتلی شاخیں بنائی ہوں۔ گلیوں کے تنگ ہونے کا جواز یہ تھا کہ لوگ ایک دوسرے کے قریب رہنا چاہتے تھے۔ ان میں محبت تھی وہ صبح کے ناشتے سے رات کے کھانے تک کھڑکیوں سے منہ نکال کر ایک دوسرے سے باتیں کیا کرتے۔ رنگوں اور خوشیوں کے تہواروں میں گھر سے لگی کھڑکیوں سے ایک دوسرے کے گھروں میں داخل ہوتے۔ کسی کے گھر میں شادی بیاہ ہوتی تو پورا علاقہ اس گھر کو اپنی بانہوں میں لے لیتا۔ باہر مسجدیں تھیں، مندر تھے گرودوارے تھےاور بھی مختلف قسم کے عبادت گھر جو قطار اندر قطار آبادتھے۔ فقیرو ں کی ٹولیاں ان عبادت گھروں کے باہر جمع رہتی تھی، مگر لوگ انہیں حقارت کی نگاہ سے نہیں دیکھتے تھے، بلکہ انہیں عبادت گھروں کا محافظ تصور کیا جاتا تھا۔ بازار اور چوراہوں پر قندیلیں اتنے سلیقے سے لٹکی ہوئی تھیں کہ پورا شہر رات میں نگار خانہ معلوم ہوتا تھا۔ لڑنے کے مواقع اور موضوعات کم تھے۔ جن کا پیشہ سپاہ گری تھا وہ بھی عوام کے گلوں میں ہاتھ ڈال کر گھومتے تھے۔

مگر اب شہر کا منظر تبدیل ہو چکا تھا لوگ کہتے تھے کہ نیا زمانہ آ گیا ہے۔ اسے اپنے بدبو دار علاقے میں نیا زمانہ کہیں نظر نہیں آتا تھا۔ نیا زمانہ ہی اس کے کانوں میں شور گھولتا تھا اس نئے زمانے کی ہیبت سے اس کا دل گھبرانے لگتا اور وہ اسی ٹیلے پر چلا جاتا جہاں سے صاف شفاف سڑک اور اس پر دوڑتی ہوئی رنگ برنگی کاریں نظر آتیں۔ وہ جب شاہراہ کے اس منظر کا لطف لے رہا ہوتا تو آسمان اسے پس منظر میں رقص کرتا نظر آتا جیسے سب کچھ ٹھیک ہے، ہر طرف امن ہے اور وردی والے یہاں سے کوسوں دور دور تک کہیں نہیں ہیں۔

(3)

آج صبح جب آنکھ کھلی تو اس کے چہرے کا رنگ اڑا ہوا تھا، اس نے خواب میں پھر ایک نئی قسم کی آوازوں کا شور سنا تھا، چمنی کے ٹوٹنے کی آوازیں۔ ان آوازوں نے اس کے کان میں ایسی قیامت برپا کی کہ اس کی آنکھ کھل گئی۔ اس نے اپنے ماتھے پہ ابھرا ہوا پسینہ پوچھا۔ وہ جانتا تھا کہ یہ آواز اس کے تجربے کا حصہ کیسے بنی تھی۔ ابھی دو روز پہلے اس نے ایک چمنی کے کار خانے میں نوکری حاصل کی تھی جہاں چمنی بننے کے علاوہ کانچ کی مختلف چیزیں بنتی تھیں۔ یہ کا ر خانہ اس کے گھر سے اتنی ہی دور تھا جتنا وہ ٹیلا جہاں نشے کی دکانیں آباد تھیں۔ بس فرق یہ تھا کہ یہ ایک گھنے اور کاروباری علاقے میں تھا، جہاں شراب کی بوتلیں، کاغذ کے رنگین صفحے، پلاسٹک کے برتن اور لوہے کے اوزار بنتے تھے۔ اس نے یہ نوکری خود حاصل کی تھی۔ دو، چار روز قبل وہ اپنے گھر سے ٹہلتا ہوا ادھر آ نکلا تھا اور مختلف کارخانوں میں پوچھ تاچھ کرتے ہوئے اس کارخانے تک رسائی حاصل کر لی تھی جہاں سینٹ کی بوتلوں کو چمنی سے کھینچ کر نکالنے کے لیے ایک آدمی کی ضرورت تھی۔ جب چمنی کے مالک نے اسے کام کی نوعیت بتائی تو وہ نوٹ گن رہا تھا۔ اس نے کام بتایا، ایک لڑکے کو آواز دے کر اسے چمنی دکھوائی اور نوٹوں پر نظر یں جمائے ہوئے پوچھا کہ اس کا فیصلہ کیا ہے۔ اس نے جھٹ سے اثبات میں سر ہلا دیا یہ جانے بنا کہ چمنی سے بوتلیں نکالنے اور انہیں لوہے کی کھپچیوں سے کھینچ کر گتے کے ڈبوں میں بند کرنے میں اسے کتنی مشقت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جس کے عوض میں اسے ساٹھ روپیہ دن کا ملے گا۔ اس کی نگاہ چمنی کے مالک کے ہاتھوں میں پھنسے نوٹوں اور اپنے ساٹھ روپیوں پر تھی۔ یہ سوچنا بھی اس کے لیے غیر ضروری تھا کہ اسے کیا کرنا ہے۔ وہ کئی طرح کے ایسی ہی کام اس سے پہلے بھی کر چکا تھا لہذا اس کے لیے یہ کوئی بڑا مشکل مرحلہ نہ تھا۔

دوسرے روز سے اس نے کار خانے جانا شروع کر دیا تھا۔ دن بھر وہ کئی سو ڈگری سیلسیس گرم بھٹی کے منہ پر کھڑا رہتا ایک لوہے کے لمبے سریے سے جس کے منہ پر کسی مضبوط دھات کا کنڈہ جڑا ہوا تھا ان ریکوں کو باہر کھینچتا جن میں کانچ کی پکی ہوئی سینٹ کی بوتلیں لوہے کی کھپچیوں میں پھنسی ہوئی ہوتیں۔ ایک موٹے کپڑے کا جس کے منہ پر چمڑے نما تھیلی کا تلا بنا ہوا تھا دستانہ پہن کر اس ریک سے بوتلوں کو کھینچ کر دفتیوں کے ڈبوں میں ڈالتا اور انہیں بند کر کے آگے سرکا دیتا۔ صبح سے دو پہر اور دو پہر کے کھانے کے بعدسے شام تک وہ اسی کام میں جٹا رہتا تو شام کو چھے بجے اس چمنی کا مالک اس کی ہتھیلی پر ساٹھ روپیہ رکھتا۔ وہ ساٹھ روپیہ اسے اپنی اوقات سے زیادہ معلوم ہوتے۔ جب وہ مالک سے پیسے وصول کرتا تو اسے لگتا کہ چمنی کا مالک کتنا احمق ہے کہ اتنے ہلکے کام کے اسے ساٹھ روپیے روز دیتا ہے جب کہ یہ کام وہ اس سے آدھی رقم میں بھی کر سکتا ہے۔ چمنی کا مالک اسے روز پیسے دیتے وقت یہ پوچھنا نہیں بھولتا تھا کہ کل وہ کس وقت آئے گا۔ اسے یوں لگتا جیسے وہ ہر مرتبہ پوچھ کر یہ جاننے کی کوشش کر رہا ہے کہ کل سے وہ کام پر آئے گا بھی یا نہیں۔ وہ دوسرے دن آنے کا وقت بتاتا اور مالک اگلے لڑکے کی طرف متوجہ ہو جاتا۔

(جاری ہے)