Categories
فکشن

آوازوں والا کردار (آخری حصہ) – تالیف حیدر

اس طویل کہانی کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کریں۔

اس کے پڑوسیوں نے اسے بتایا تھا کہ زمین کی تعمیر سات روز میں ہوئی تھی۔ جب زمین بنی تو اس کے پڑوسی وہاں تھے اور وہ بھی تھا۔ ہوا یہ تھا کہ جب زمین کا نام و نشان نہ تھا تو انسان اور دیو خلا میں رہا کرتے تھے، انسان اور دیو ایک دوسرے کے رشتے دار تھے، یہاں کی عورتیں وہاں اور وہاں کی عورتیں یہاں بیاہی جاتیں، دیو نیوں کے بچوں کو انسانی عورتیں دودھ پلاتیں اور پالتیں۔ انسانوں کے بچوں کو دیو خلا کی سیر کراتے۔ سب خوش حالی سے ساتھ میں رہتے تھے، پھر ایک روز دیو زاد مردوں نے دیکھا کے ان کے بچے غائب ہو رہے ہیں، پہلے ایک غائب ہوا پھر دوسرا ہوا پھر تیسرا ہوا۔ انہوں نے خلا میں دور دور تک انہیں ڈھونڈا مگر وہ کہیں نہ ملے۔ انہوں نے انسانوں سے اس بات کا تذکرہ کیا تو وہ بھی پریشان ہو گئے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا اور اپنے بچوں کی حفاظت مستعدی سے کرنے لگے۔

کچھ دنوں بعد جب یہ سلسلہ بہت بڑھ گیا تو دیو زادوں کے بڑے بڑے سرداروں نے انسانوں سے چند انسانی سراغ رساں خلا کے مغرب میں جہاں سورج کی حکومت تھی اور جہاں دیو زاد جاتے ہوئے گھبراتے تھے کیوں کہ انہیں روشنی سے بیر تھا بھیجنے کی خواہش ظاہر کی۔ انسانوں نے ادھر کا سفر کبھی نہیں کیا تھا، مگر دیو زادوں کی پریشانی کو دیکھتے ہوئے انہوں نے حامی بھر لی۔ چند انسانی سراغ رساں چھ ماہ کی مسافت طے کر کے جب سورج کی بستی میں پہنچے تو انہوں نے دیکھا کہ وہاں ایک بہت بڑا روشن آگ کا گولا ہے جس کے ارد گرد بے شمار سونے،چاندی، ہیرے، موتی کے پہاڑ ہیں جو خلا میں تیر رہے ہیں۔

جب وہ ذرا نزدیک گئے تو انہیں شیطانوں کی بستی نظر آئی۔ جہاں لاکھوں شیطان اور ان کی بیویاں اور بچے خلا میں سورج کی تپش میں دیو زاد بچوں کی لاشیں پکا رہے ہیں اور مزے لے لے کر کھا رہے ہیں۔ انہوں نے یہ منظر دیکھا تو بہت حیران ہوئے۔ ابھی وہ یہ منظر دیکھ ہی رہے تھے کہ ایک شیطان کی ان پہ نگاہ پڑ گئی۔ وہ دوڑے مگر شیطانوں نے انہیں جا لیا۔ فوراً انہیں قید کر کے شیطانوں کے سردار کے سامنے پیش کیا گیا۔ اس نے انسانوں کو دیکھا تو بہت خوش ہوا۔ ان کی بیڑیاں کھلوائیں اور ان کی تعظیم میں جھک گیا۔ انسان یہ منظر دیکھ کر بہت حیران ہوئے۔ اس نے ان سراغ رساں انسانوں کی دعوت کی جس میں خلائی میوے، پھل، سبزیاں اور دیوزاد بچوں کا پکا ہوا گوشت ان کے سامنے سجا دیا۔ انہوں نے سارے کھانے قبول کر لیے اور بچوں کا گوشت لینے سے انکار کر دیا۔ تب شیطان کے سردار نے ان سے کہا کہ کیا تم دیوزاد بچوں کی خاطر یہاں آئے ہو۔ انہوں نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ سردار بولا۔ تمہیں دیو زاد کیا دیتے ہیں جو تم ان کے دوست ہو اور اس خبر کوحاصل کرنے یہاں تک آ گئے ہو۔ انہوں نے بتایا کہ دیو زاد اور ہم ہزاروں سال سے ساتھ رہ رہے ہیں۔ ان کے بچے ہمارے بچے ہیں۔ تمہیں ان کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کر نا چاہیے۔ اس پر شیطانوں کے سردار نے ان سے کہا کہ تم کیا جانو کہ ہم ایسا کیوں کرتے ہیں۔ انسان بولے اپنی بھوک اور مزے کی خاطر۔ شیطان نے کہا ایسا ہرگز نہیں ہے۔ پھر وہ انہیں اپنے ساتھ ایک جگہ لے گیا جہاں سورج کی تپش بھی معتدل تھی اور خلا کی ٹھنڈ بھی۔ اس مقام کو دیکھ کر انسان حیران رہ گئے۔ پھر شیطان کے سرداروں نے ایک دیو زاد کا بچہ منگوایا اور کی گردن دھڑ سے الگ کر دی۔ یہ دیکھ کر انسان کانپ گئے۔ شیطان نے کہا کہ ڈرو نہیں اب جو میں دکھاتا ہوں وہ دیکھو۔ اس نے دیوزاد بچے کا پیٹ پھاڑا اور اس کا معدہ نکال کر سورج کےاس معتدل مقام پر اچھال دیا۔ جو آن واحد میں سوکھ کر اتنا سخت ہو گیا کہ انسان اسے ہلا نہ سکے پھر اس کے بیچ سے ایک ترل بہہ کر اس کے چاروں طرف پھیل گیا۔

شیطان کے سردار نے ایک اور بچہ منگوایا اور اس کابھی سر ڈھر سے الگ کر دیا اور اس کا پیٹ پھاڑ کے جوں ہی اس کا معدہ نکال کر اس معتدل مقام پر اچھالا تو انسان یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ وہ معدہ دوسرے معدے سے چپک گیا اور اسی طرح ٹھوس ہو گیااور پھر اس میں سے بھی ویسا ہی ترل بہہ کر اس کے چاروں طرف پھیل گیا۔ تب شیطان کے سرداروں نے کہا کہ اسے پتھر اور پانی کہتے ہیں جو صرف پوری کائنات میں دیوزاد کے پیٹ میں پایا جاتا ہے۔ اگر ہم کسی طرح تمام دیو زادوں کے پیٹ پھاڑ کر ان کے معدے اس معتدل مقام پر اچھال دیں تو ہمیں کبھی خلا کی ٹھنڈ میں نہیں رہنا پڑے گا۔ انہوں نے انسانوں سے کہا کہ دیو بہت طاقت ور ہیں اگر وہ کسی طرح انہیں یہاں تک لے آئیں اور شیطانوں کے ساتھ مل کر ان کا قتل کر دیں تو وہ اور شیطان ہمیشہ خوشی سے زمین کے مالک بن کر رہیں گے۔

انسانوں کے سراغ رساں اس پر فوراًراضی ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے سرداروں کو بھی اس پہ راضی کر لیں گے۔ پھر شیطانوں نے انسانوں کے ساتھ مل کر ایک منصوبہ بنایا اور انسان وہاں سے روانہ ہو گئے۔ ایک رات جب تمام دیو زاد گہری نیند سو رہے تھے اور انسانی سراغ رسانوں نے انسانوں کے بڑے بڑے سرداوں کو بلا کر اس معتدل مقام، زمین اور پانی کے متعلق بتایا تو سارے سردار خوشی سے جھوم اٹھے پھر شیطانوں کا منصوبہ بتایا جس پہ عمل کرنے کے لیے انہیں دیو زادوں سے یہ کہنا تھا کہ ان کے بچے کس طرح کی پریشانیوں کا شکار ہو رہے ہیں اور انہیں یہ یقین دلانا تھا کہ وہ روشنی کی طرف چلیں جہاں ان کے بچے بھی ہیں۔ بنا ڈرے وہ اور انسان مل کر شیطانوں کا مقابلہ کریں گے اور انہیں ختم کر کے ان کے بچوں کو چھڑا لائیں گے۔سارے سرداروں نے ایسا ہی کرنے کی قسم کھائی۔ پھر دوسرے روز تمام انسانوں تک یہ خبر پہنچا دی گئی۔ دیو زادوں کو صورت حال سے آگاہ کیا گیا اور انہیں غیرت دلائی گئی کہ وہ اپنے بچوں کی خاطر وہاں چلیں اور انسان ان کے کندھے سے کندھا ملا کر چلیں گے۔ جب دیو زاد اور ان کی عورتیں سب اس پہ راضی ہو گئے تو انسانوں اور دیو زادوں کا ایک لشکر روشن نگری تک پہنچا۔

دیو زادوں کی مدد سے چھ ماہ کا راستہ دو دن میں طے ہو گیا۔ مگر جوں ہی وہ شیطانوں کی بستی تک پہنچے تمام انسانوں نے دیو زادوں سے بغاوت کر دی اور شیطانوں سے جا ملے۔ دیو زاد یہ صورت حال دیکھ کر بوکھلا گئے۔ انہوں نے انسانوں کے اور اپنے تعلقات کے ہزاروں برسوں کے واسطے دیے، رو ئے گڑ گڑائے مگر انسانوں نے ان کی ایک نہ سنی اور شیطانوں کے ساتھ مل کر ان کے سر دھڑ سے الگ کر کے ان کے پیٹ چا ک کیے اور ان کے معدے نکال کر اس معتدل مقام پر اڑا دیے۔ یہ قتل و غارت گری چھے روز تک چلتی رہی اور پھر ساتویں روز جب سارے دیو ختم ہو گئے تو خلا کا وہ معتدل مقام ایک شاندار زمین سے سج گیا۔

سارے انسان اور شیطان یہ منظر دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور باری باری زمین پر آنے لگے۔ جوں ہی ایک انسان یا شیطان زمین پہ قدم رکھتا تو ایک دھماکے کی آواز خلا میں بلند ہوتی جو دیو زاد کی چیخوں کی طرح ہوتی۔ دھیرے دھیرے انسان اور شیطان زمین تک پہنچتے رہے اور یہ چیخیں خلا میں گونجتی رہیں۔ پھر اچانک ان چیخوں نے ایک ساتھ اٹھنا شروع کر دیا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے ساری خلا چیخوں سے پھٹ جائے گی۔ آواز کی شدت جب بہت بڑھ گئی تو اس نے گھبرا کر آنکھیں کھول دیں۔ اس کے ماتھے پہ پسینے کی بوندیں ابھر آئی تھیں۔ کچھ دیر کے لیے ان چیخوں کی آوازیں کم ہوئی اور پھر دوبارہ بڑھتی چلی گئیں۔ اسے ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے دیو زادوں کی چیخوں سے اس کا دماغ پھٹ جائے گا۔
(13)
بڑی مذہبی طاقت والوں کا جلوس پیتل منڈی سے نکلناشروع ہوا،ہزاروں کی تعداد میں لوگ ہاتھوں میں جھنڈے اور اپنا مذہبی ہتھیار لیے لال چوک کی طرف بڑھ رہے تھے۔ نعرے لگاتے، چیختے چلاتے۔ اپنے دشموں کو للکارتے۔ آج ان پہ ایسا جنون طاری تھا کہ اگر وردی والے بھی انہیں روکنے کی کوشش کرتے تو وہ انہیں بھی ختم کر دیتے۔ ان کا نشانہ دو سری مذہبی طاقت تھی، وہ اپنے نعروں میں انہیں گالیاں دیتے، ڈرپوک اور بزدل کہتے ہوئےآگے کی طرف بڑھ رہے تھے۔ اس جلوس میں ہر عمر کی مرد اور عورتیں شامل تھیں۔ عورتوں کے نعروں کی آواز سے محسوس ہوتا تھا جیسے وہ اپنی مد مقابل پارٹی والوں کا کلیجہ نوچ لیں گی۔ آج ان کا کوئی باپ،بھائی اور شوہر نہ تھا۔ سب ایک شدید غصے کی لہر میں شہر سے چھوٹی مذہبی طاقت کو ختم کر دینا چاہتے تھے۔

جلوس جوں جوں آگے بڑھتا گلیوں، کوچوں اور بازاروں سے لوگ اپنے مذہبی ہتھیاروں سمیت ا س میں شامل ہو تےجاتے۔ وردی والے اس جلوس کے آگے پیچھے بندوقیں لیے چل رہے تھے۔ نعرے بازوں کی آواز جلوس میں موجود لوگوں میں جوش پیدا کر رہی تھی۔وہ آگے، پیچھے اور درمیان میں بکھرے ہوئے تھے۔ پہلے آگے والا نعرہ لگاتا، پھر اس کے پیچھے والا اور پھر سب سے پیچھے والا۔ ابھی یہ جلوس شہر کی گلیوں سے گزر ہی رہا تھا کہ چھوٹی طاقت والوں نے دھیر ےدھیرے جنوبی علاقے میں ایک جگہ جمع ہونا شروع کر دیا۔ وردی والوں کو اس بات کا علم نہ تھا کہ چھوٹی طاقت والے اس جلوس کے دن شہر کے ہر حصے میں جمع ہو کر ایک جگہ آ کر ملیں گے۔ ان کا بھی رخ لال چوک کی طرف تھا۔ شہر کی چاروں سمتوں میں ایک اوربھیڑ اکھٹا ہونے لگی۔ وردی والوں نے جب مختلف علاقوں میں چھوٹی طاقت والوں کو اکھٹا ہوتے دیکھا تو دھیرے دھیرے پیچھے کی طرف کھسکنے لگے۔کیوں کہ چھوٹی طاقتیں ہاتھوں میں اپنے مذہبی جھنڈوں اور ہتھیاروں کے علاوہ بندوقیں بھی لیے ہوئے تھے۔ وردی والے وائر لیس پہ ہر علاقے کے ذمہ داروں کو اطلاع دیتے اور لال چوک کی طرف بڑھتے چلے جاتے۔

چھوٹی مذہبی طاقتیں جنوبی اور مغربی علاقوں سے نکل کردائرہ شاہراہ پہ مل گئیں۔ دونوں جماعتوں نے جب دیکھا کہ اتنی تعداد میں لوگ اسلحہ کے ساتھ ہیں تو ان کے حوصلے بلند ہو گئے۔ اب وہ بھی بڑی مذہبی طاقت کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ دوسری جانب یہ بڑی طاقتوں کا جلوس بڑھتا چلا جا رہا تھا۔ انہیں جلد ہی یہ خبر مل گئی کہ چھوٹی طاقتیں بھی لال چوک کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ یہ خبر سنے ہی وہ اس طرح آگ بگولا ہوئے جیسے ایک آٹھ برس کے بچے نے کسی پہلوان کو گالی دے کرللکار دیا ہو۔ ان کا مجمع تیزی سے آگے کی طرف بڑھ نے لگا۔ وہ ہزاروں کی تعداد میں تھے اور وردی والے کہیں دور دور تک نظر نہیں آ رہے تھے، جیسے آج انہوں نے شہر کو اپنے حال پہ چھوڑ دیا ہو۔ بڑی مذہبی طاقتوں کا جلوس جب لال چوک سے ایک میل کے فاصلے پہ پہنچ گیا تو تمام وردی والے انہیں لال چوک پہ اکھٹا نظر آئے۔ وہ مائک ہاتھوں میں سنبھالے عوام سے چیخ چیخ کر کہہ رہے تھے۔

” آپ لال چوک تک پہنچ گئے ہیں اس کے آگے مزدوروں کی جماعت کا علاقہ شروع ہوتا ہے، آپ یہاں سے لوٹ جائیں۔”

مگر بڑی مذہبی طاقتیں ٹس سے مس نہ ہوئیں اور مستقل آگے بڑھتی رہیں۔ دوسری جانب چھوٹی مذہبی طاقتوں کا جھنڈ بھی وہاں پہنچ گیا تھا۔ وہ شہر کی دوسری طرف سے آئے تھےاس لیے بڑی مذہبی طاقتیں اور مزدوروں کا جھنڈ ان کے بالکل سامنے تھا جن کے درمیان وردی والے گھڑے تھے۔ انہوں نے چھوٹی مذہبی طاقتوں کی طرف رخ کر کے بھی وہی اعلان کیا۔ مگر ان کے بھی سر پہ جیسے جنون سوار تھا۔ دونوں گروہ نعرے بازیوں کے ساتھ آگے بڑھتے رہے اور مزدور اس طرح کسمسا کر وردی والوں کے پیچھے دبک رہے تھے جیسے دونوں طاقتیں انہیں پیس کے رکھ دیں گے۔ ایسا لگتا تھا جیسے سارا شہر سڑکوں پہ اتر آیا ہے۔

وردی والوں نے حالات کو سنبھالنے کے لیے ایک آخری وارننگ دی کہ اگر اب کوئی آگے آیا تو وہ گولی چلا دیں گے۔ انہوں نے اتنا کہا ہی تھا کہ چھوٹی مذہبی طاقت والوں میں سے کسی نے ان پہ گولی داغ دی۔ وردی والے بلڈ پروف جیکٹ میں تھے، ہاتھوں میں ڈھالیں اور سر وں پہ ہیلمٹ پہنے۔وہ گولی کسی وردی والے کو لگی تو نہیں مگر اس حرکت نے ہر طرف ایک ہلچل مچا دی۔ وردی والوں نے بھی چھوٹی مذہبی طاقتوں پہ فائرنگ شروع کر دی۔ کئی لوگوں کی فلک شگاف چیخیں اٹھیں اور وہ وہیں ڈھیر ہو گئے۔ چاروں طرف بھگدڑ مچ گئی۔ چھوٹی مذہبی طاقت والوں میں جن کے پاس بندوقیں تھیں وہ وردی والوں پہ گولیاں برسا رہے تھے اور بقیہ ادھر ادھر دوڑ رہے تھے۔

بڑی مذہبی طاقت والوں میں سے بہت سے لوگ چیخ چیخ کر اپنے لوگوں کو آگاہ کر رہے تھے کہ چھوٹی مذہبی طاقت والوں کے پاس بندوقیں ہیں۔ وہ اپنے ہتھیار لے کر آگے بڑھ رہے تھے، جب بعض وردی والوں نے انہیں آگے کی طرف بڑھتے دیکھا تو فائرنگ کا رخ ان کی طرف بھی مڑ گیا۔ کچھ لوگ رخمی ہوئے اور کئی سو وردی والوں پہ ٹوٹ پڑے، اس ریلے نے کئی وردی والوں کی بندوقیں چھینیں اور ان پہ گولی چلا دی۔ ان کی آنکھوں سے شعلے برس رہے تھے۔ جب وردی والوں نے یہ ہنگامہ مزید بڑھتے دیکھا تو چاروں جانب سے گیس کے گولے برسانا شروع کر دیے۔ وہ بڑی مذہبی طاقتوں اور چھوٹی مذہبی طاقتوں کے درمیان کھڑے تھے مگر دونوں طاقتیں ا س کوشش میں تھیں کہ کسی طرح وہ ان دونوں کے اور مزدوروں کے منہ پر سے ہٹ جائیں۔ آنسو گیس کے گولے۔ پانی کے ٹینکر اور بندوقیں، مشین گنیں، یہ سب آزمایا گیا۔ جگہ جگہ لوگوں کی لاشیں پڑی تھیں۔ مگر دونوں جانب مرنے مارنے کا جنون سوار تھا۔ وہ کسی طرح ایک دوسرے میں گتھ جانا چاہتے تھے۔ ایسے جیسے کبھی ایک دوسرے کے ساتھ مل کر نہ رہے ہوں۔ ایک ہی شہر میں رہتے ہوئے ایک دوسرے سے عرصے سےبے انتہا نفرت کرتے رہے ہوں۔ جیسے یہ واقعہ ایک بہانہ ہو جس نے ان دونوں کے اندر کی ساری مروت اور برداشت کو بالکل ختم کر دیا ہو۔ وہ ایک دوسرے سے لڑنا چاہتے تھے۔ ایک دوسرے کی گردنیں کاٹنا چاہتے تھے تاکہ اپنے مذہبی جذبات کو سچا ثابت کر سکیں۔ ان کا خیال تھا کہ یہ ہی ایک موقع ہے جب وہ شہر کو دوسری گندگی سے صاف کر سکتے ہیں۔ اس وقت جب وہ دونوں ظاقتیں آمنے سامنے ہیں جب شہر ان کے لیے میدان جنگ بن گیا ہے۔

بڑی مذہبی طاقت اب اپنے مقدس جانور کی موت کے غم میں گرفتار نہ تھی، نہ اس کی عقیدت اور محبت اس کے دل میں باقی رہ گئی تھی۔ اس وقت وہ صرف ایک جذبے سے سرشار تھے اور وہ تھا اپنے مد مقابل سے نفرت کا جذبہ۔ اگر انہیں کسی سے عقیدت ہوتی تو وہ لوگوں کے خون کے پیاسے نہ ہوتے، یہ ہی حال چھوٹی مذہبی طاقتوں کا تھا جو اپنے اصلی رنگ پہ اتر آئے تھے۔ یہ ثابت کرنے کے لیے کہ وہ ویسے نہیں جیسے ان کے مد مقابل انہیں سمجھتے ہیں وہ ظلم کر کے ظلم کی شناخت کو مٹانے پر کمر بستہ تھے۔ بڑی طاقت والے ان کی جس خونی تاریخ سے نالاں تھے، جس الزام کو وہ یہ کہہ کر ایک عرصے سے ٹال رہے تھے کہ یہ جھوٹی تاریخوں کاپروپگنڈا ہے انہوں نے کبھی اپنے حریفوں پہ ظلم نہیں کیا ان کے گلے نہیں کاٹے۔ اس بات کا یقین دلانے کے لیے آج وہ شہر کے چاروں کونوں سے ایک جگہ جمع ہو کر سب کی گردنیں کاٹ دینا چاہتے تھے۔ ہر وہ شخص جو انہیں ظالم کی نگاہ سے دیکھ رہا تھا وہ اس کی آنکھیں نوچ کر یہ ثابت کر نا چاہ رہے تھے کہ وہ ظالم نہیں ہیں انہیں ان نظروں سے نہ دیکھا جائے۔

مزدور اور غریب عوام جو نہ اس دل میں شامل تھے اور نہ اس دل میں وہ ان دونوں جماعتوں کے درمیان ان وردی والوں کے سائے میں زندہ تھے جن کے حکام نے ان کی حفاظت کا ڈھونگ رچانے اور دونوں جماعتوں کی نفرت کو ابھارنے کے لیے مقدس جانور کے ٹکڑے کروا کر سارے شہر میں پھیلوائے تھے۔ یہ ہنگامہ اسی طرح اس وقت تک جاری رہا جب تک ہزاروں کی تعداد میں مزید وردی والے لال چوک پہ نہ پہنچ گئے اور انہوں نے دونوں جماعتوں کے لوگوں کو وہاں سے کھدیڑ کر شہر بھر میں کرفیو نہ لگا دیا۔

(14)

آج پورا ایک ہفتہ گزر چکا تھا کہ وہ کار خانے نہیں گیا تھا۔ بعض لوگوں کا خیال تھا کہ اب اس علاقے کے تمام کار خانوں کو ہمیشہ کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ مگر وہ ان باتوں پہ دھیان دیے بنا تین دن سے روز ادھر جا رہا تھا اور روز اسے سارے کار خانے بند نظر آتے تھے۔ وہ اس دوران اکتا گیا تھا۔ دن بھر گھر میں پڑا رہتا۔ نہ کہیں جا سکتا تھا اور نہ کوئی ایسا تھا جسے بلا سکتا تھا۔ زیادہ سے زیادہ دوو قت کے کھانے کے علاوہ دن میں تین مرتبہ چائے خانے تک کا چکر لگا لیتا۔ وہ گھر میں دیر دیر تک بیٹھا سگر ٹوں کا دھواں اڑاتا رہتا اور کبھی اس لڑکی کے متعلق سوچتا جو حکومتی عمارتوں کی فٹ پاتھ پہ نظر آئی تھی اور کبھی ان لڑکیوں کے بارے میں جنہیں وہ ان دنوں گھور گھور کے دیکھا کرتا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ وہ حکومتی عمارتوں کی فٹ پاتھ پہ جا کر روز شام کو وہاں کے چکر لگائے۔ مگر شہر ابھی تک معمول پہ نہ آیا تھا۔

جنگی صورت حال کے بعد وردی والوں نے شہر میں سخت ناکہ بندی کر دی تھی۔ کوئی شہر کےایک حصے سے دوسرے حصے میں داخل نہیں ہو سکتا تھا۔ شہر کا سارا نظام ٹھپ پڑا تھا۔ ایک ہفتے سے نہ کوئی حکومتی ادارہ کھلا تھا اور نہ کوئی پرائیوٹ کمپنی۔ وردی والوں کے بڑے حکام شہر کے دونوں گروہوں کے سیاسی لیڈوں سے میٹنگیں کر رہے تھے اور شہر کے حالات کو معمول پہ لانے میں کوشاں تھے۔ لال چوک پہ اب تک خون کے دھبے جگہ جگہ چمک رہے تھے۔ مزدوروں کو شہر سے متصل شاہراہ کے کنارے ایک زمین کا ٹکڑا دے دیا گیا تھا، جہاں حکومت نے انہیں جھونپڑے بنانے کا ساز و سامان مہیاکر وا کے انہیں ان کی ذمہ داری پہ چھوڑ دیا تھا کہ وہ خود اپنے معاشی معاملات سنبھالیں۔ سیاسی لیڈروں کے بیانات لگاتار عوام کے غصے کو کم کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ جس کے لیے دونوں جماعتوں کے لیڈر کبھی ایک دوسرے سے گلے ملتے اور ایک دوسرے کو پھولوں کی مالا پہناتے ہوئے تصویریں جاری کرتے۔ کبھی ایک دوسرے کو کچھ میٹھا اور نمکین کھلاتے ہوئے۔ شہر والوں کا غصہ بھی اب دھیرے دھیرے کم ہو رہا تھا اور ان کو اپنے نقصان کا احساس ہو چلا تھا جو انہیں فساد کے حاصل کے طور پر مل رہا تھا۔

Categories
فکشن

آوازوں والا کردار (تیسرا حصہ) – تالیف حیدر

اس طویل کہانی کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کریں۔

اس کے پڑوسیوں نے اسے بتایا تھا کہ آسمان کی تعمیر سات روز میں ہوئی تھی۔ جب آسمان بنا تو اس کے پڑوسی وہاں تھے اور وہ بھی تھا۔ ہوا یہ تھا کہ بہت سے انسانوں اور بہت سے شیطانوں نے مل کر ایک رات یہ سوچا کہ زمین کی دوسری طرف سے جو روشنی آتی ہے اسے ایک پردے سے ڈھک دینا چاہیے۔کیوں کہ اس روشنی سے ان کے بچے اندھے ہو جاتے تھے۔ اس وقت انسان اور شیطان ساتھ مل کر رہتے تھے۔ انسانوں نے شیطان کے کندھے سے کندھا ملا کر ایک بڑا سا پل بنا یا، جو پل سیدھا تھا اور آسمان کی طرف جاتا تھا۔ اس پل کو بنانے میں شیطانوں نے اپنی ریڑ ھ کی ہڈیوں کو زخمی کیا اور اوپر جاتے ہوئے پل کو گرنے سے بچائے رکھا۔ حالاں کہ زمین کی دوسری طرف سے جو روشنی آ رہی تھی وہ بہت تیز تھی مگر شیطانوں کے پاس آنکھوں پر باندھنے کی ایسی پٹیاں تھیں جن سے انسان کو اس روشنی سے آنکھیں ملانے میں پریشانی نہیں ہوتی تھی۔ انسان اینٹ پہ اینٹ رکھتے اور شیطان انہیں سہارا دیتے۔ جب پل ذرا اور اونچائی پر جاتا تو ایک شیطان کے کندھے پہ دوسرا شیطان کھڑا ہو جاتا۔ یہ کام زور و شور سے چھے روز تک چلتا رہا۔ اس پل کی تعمیر کے لیے دنیا کے ہر حصے سے اینٹیں لائی گئیں۔ جب اینٹوں کی قلت ہونے لگی تو زمین کو کھود کر اس کی مٹی سے اینٹوں کو تعمیر کیا گیا۔ اس عمل سے جلد ہی زمین کے نیچے کا پانی سطح آب پر آ گیا اور دنیا میں پانی کی مقدار بڑھنے لگی۔ جب شیطانوں نے یہ منظر دیکھا تو انہوں نے اپنے بدن کی نکلی ہوئی اضافی ہڈیاں انسانوں کو کاٹ کاٹ کر دیں تاکہ وہ پل کی تعمیر کا کام جاری رکھ سکیں۔ انسانوں نے دھیرے دھیر ےاتنا اونچا پل بنا لیا جہاں سے پردہ کھینچ کر آنے والی روشنی کو روکا جا سکتا تھا۔

جب انسانوں اور شیطانوں کے مرد پل تعمیر کر رہے تھے تو ان کی عورتیں مل کر آسمان کی ناپ کا پردہ سی رہی تھیں۔ اس پردے کی تعمیر میں کئی طرح کے درختوں کی چھالوں، پھولوں کی پنکھڑیوں، نازک پیڑ کی پتیوں، شیطانی عورتوں کی جلد کے اضافی حصوں، جانوروں کی کھالوں اور سانپ کی کیچلیوں کا استعمال کیا گیا تھا۔ دھاگے کے طور پر بیلوں اور جٹھاوں سے کام لیا گیا تھا۔ ادھر چھے دنوں میں مردوں نے پل تیار کیا اور ادھر چھے روز میں عورتوں نے پردہ سیا۔ اس سلائی میں شیطانی عورتوں نے اتنی صفائی کا مظاہرہ کیا کہ ایک پیوند سے دوسرے پیوند کا جوڑ نظر نہ آتا تھا۔ انسانی عورتیں اشیا جمع کرتیں اور شیطانی عورتیں انہیں سیتیں۔ دن بھر انسان مرد اور شیطان مرد مشقت کرتے اور رات کو شراب پیتے۔ دن بھر انسان عورتیں اور شیطان عورتیں سلائی کرتیں اور رات کو اپنے مردوں کے پہلو میں برہنہ ہو کر لیٹ جاتیں۔ جب عورتوں نے چھٹے روز آسمان پر تانے جانے والا پردہ مردوں کے حوالے کیا تو انہوں نے خوشی سے اپنی عورتوں کے ماتھے چوم لیے۔ سب خوش تھے۔ پردہ اور پل دونوں تیار ہو چکے تھے۔ انسانی مردوں نے جوں ہی اس پردے کو کھولا تو چاروں جانب سے آنے والی روشنی غائب ہو گئی وہ تیز نیلی روشنی جو انسان اور شیطان کے بچوں کو اندھا کر دینے والی روشنی تھی اب ایک مدھم اور ہلکی روشنی میں بدل گئی۔ انسانوں اور شیطانوں نے جب یہ منظر دیکھا تو ان کی خوشی کا ٹھکانا نہ رہا۔ انسانوں نے اپنی آنکھوں پر لپٹی ہوئی وہ پٹیاں نوچ پھینکیں جو انہیں شیطانوں نے دی تھیں پردے کو آسمان کے چار الگ الگ کونوں میں چار ستاروں سے باندھ کر جب انسان پل سے زمین پر آئے تو شیطانوں نے اپنی پیٹھ کاسہارا پل سے ہٹا دیا۔ جوں ہی شیطان ہٹے پل آن واحد میں زمین پر آ گرا۔ پل کی اینٹیں دنیا میں چاروں طرف پھیل گئیں سمند ر کا پانی پھر زمین کے نیچے چلا گیا۔ شیطانوں کی ہڈیاں پل کی اینٹوں میں مل کر خاک کا ڈھیر بن گئیں جس سے زمین کے دلدلی علاقے سخت اور ٹھوس ہو گئے۔

اس واقعے کے بعد چند روز تک سب معتدل رہا انسانوں نے شیطانوں کی دعوت کی اور شیطانوں نے انسانوں کی۔ مگر جلد ہی شیطانوں کو یہ محسوس ہونے لگا کہ اتنی کم روشنی میں انہیں کچھ صاف دکھائی نہیں دیتا ہے۔ ان کی آنکھیں کمزور ہو رہی ہیں۔ انہوں اس بات کا احساس انسانوں کو دلایا تو انسانوں نے اسے شیطانوں کا وہم قرار دیا۔ پھر کچھ دنوں میں شیطانوں کے بڑے بڑے سردار اندھے ہونے لگے یہ دیکھ کر شیطانوں کے گروہ میں ہلچل مچ گئی۔ انہوں نے انسانوں سے کہا کہ وہ اس حالت میں زندہ نہیں رہ سکتے۔ انہیں آسمان پر کھنچا ہوا پردہ اتارنا ہوگا جس کے لیے انہیں انسانوں کی مدد درکار تھی۔ انسانوں نے انہیں اپنے اور ان کے بچوں کا واسطہ دیا تو انہوں نے اپنے بچوں کے گلے گھونٹ کر ان کی لاشیں انسانوں کے سامنے بچھا دیں۔ اس منظر نے انسانوں کے دل میں شیطانوں کے لیے نفرت پیدا کر دی۔ انہوں نے اپنے بچوں کا گلا گھونٹنے سے اور ان کی مدد کرنے سے انکار کر دیا۔ شیطانوں کے گروہ میں ہاہاکار مچ گئی، کیوں کہ وہ انسانوں کی مدد کے بغیر آسمان تک پہنچنے کا پل تیار نہیں کر سکتے تھے۔ دھیرے دھیرے روشنی کی کمی کے باعث شیطانوں کی موت ہونے لگی۔ وہ انسانوں کے آگے ہاتھ جوڑ جوڑ کر گڑ گڑاتے مگر انسان ان کی ایک نہ سنتے۔

آخر کار بچے کھچے شیطانوں نے یہ فیصلہ کیا کہ ایک کے کندھے پر دوسرا کھڑا ہو اور آسمان کی اونچائی تک پہنچ کر اس پرد ے کو نوچ دیں۔ انہوں نے ایک رات جب سارے انسان گہری نیند سو رہے تھے تو ایک دوسرے کے کندھے پر سوار ہو کر آسمان کےپردے تک پہنچنے کی کوشش کی مگر بڑی مشکل سے صرف سب سے اوپر والا جو اندھیرے کے باعث بہت لاغر اور کمزور ہو چکا تھا آسمان کے پردے تک پہنچ پایا۔ اس نے چاروں کونوں کے ستاروں سے رسی کھینچ کر اسے کھول دینا چاہا مگر بری طرح ناکام رہا۔ رات بھر کی کوشش کے باوجود کچھ ہاتھ نہ آیا۔تھکن اور کمزوری کے باعث جب شیطانوں کامینار ڈگمگانے لگا تو سب سے اوپر والا شیطان ایک ستارے کی رسی پکڑ کر اس میں لٹک گیا اور سارے شیطان زمین پہ گر کر نیست و نابود ہو گئے۔ دوسرے روز جب انسانوں نے دیکھا تو انہیں چاروں طرف شیطانوں کی لاشیں بکھر ی ہوئی نظر آئیں۔ یہ منظر دیکھ کر انہوں نے خوب جشن منایا اور آسمان کے ستارے سے لٹکا ہوا آخری شیطان ان کی ظالمانہ حرکت کو دیکھ کر بہت رویا۔ اس کے دل میں انسانوں کی نفرت بیٹھ گئی اور اس نے سوچا کہ آج سے زندگی کی آخری سانس تک یہا ں سے لٹکا ہوا انسانوں کی بستی پر اپنے پیشاب کی بارش کرتا رہوں گا تاکہ اس کی بوندیں ان کےمعدوں میں جائیں اور ان میں بھی شیطانی صفات پیداہونے لگیں۔ اس نے قسم کھائی کہ انسانوں نے جس طرح اپنے ظلم سے شیطانوں کو خاک میں ملایا ہے ویسے ہی میں اپنے پیشاب سے انسانوں کو خاک میں ملا کر شیطانوں کی ایک نئی دنیا پیدا کروں گا۔ یہ کہہ کر اس نے ایک روز دار چیخ ماری۔ جس چیخ کی آواز دھیرے دھیرے تیز ہوتی چلی گئی۔ وہ آواز اتنی تیز ہوئی کہ اس نے گھبرا کر آنکھیں کھول دیں۔ اس کے ماتھے پہ پسنے کی بوندیں ابھر آئی تھیں اور ابھی تک اس چیخ کی آواز اس کےکانوں میں گونج رہی تھی جو کچھ لمحے کے لیے دھیمی ہوئی اور پھر تیز ہوتے ہوتے اتنی تیز ہو گئی کہ اس کی آنکھیں سرخ ہو کر ابل پڑیں۔

(6)

شہر کے جنوبی علاقے میں مختلف اخباروں کے پرنٹگ پریس لگے ہوئے تھے۔ ان تنگ گلیوں کے درمیان روز صبح پورے شہر کی کرتوتوں کا نقشہ تیار ہوتا تھا ۔ہر صبح کئی گاڑیاں اخباروں کے ہزاروں گٹھڑ لاد کر پورے شہر میں پہنچاتیں، ہر عمر کے اخبار والے اپنی سائیکلوں پر سوار ہو کر آتے اور لائن لگا کر کھڑے ہو جاتے۔ اپنی باری آنے پر ہر شخص اپنی روز کی تعداد کے حساب سے اخبارات جمع کرتا، انہیں سائیکلوں کی پشت پر بنے کیریر میں دباتا اور شہر کی جانب نکل جاتا۔تمام سائیکل والے جب یکے بعد دیگرے جنوبی علاقے سے نکلتے تو ایسا لگتا جیسے شہر میں سائیکل ریس ہو رہی ہے۔ اکثر وہ صبح پانچ،چھ بجے قریب اٹھ کر ٹہلتا ہوا شہر کے میدانی علاقے کے پاس بنے لوہے کے پل پر آ کر کھڑا ہوجاتا۔ جب آوازیں اسے بہت زیادہ پریشان کرتیں یا دیر رات تک نیند نہ آتی تو وہ اس لوہے کے پل پر کھڑا ہو کر شہر کے چوڑے راستوں کو دیکھتا۔ اخبار والوں میں اسے اپنی عمر کے لوگ بھی دکھائی دیتے تھے۔ وہ سب بہت جلدی میں ہوتے۔ سائیکل کے پیڈلوں پہ پیر جمائے تیزی سے لوگوں کے دروازوں تک پہنچنے کی کوشش کرتے۔ انہیں معلوم تھا کہ شہر کا صاف ستھرا علاقہ صبح کی چائے پہ اپنے ارد گرد کے حالات جاننے کا کتنا شوقین تھا۔ ایک اخبار یعنی ان کا مہینے بھر کا ایک کسٹمر جسے اخبار اگر وقت پہ نہ پہنچا تو وہ روپیہ کی ادائیگی میں آنا کانی کر سکتا ہے جس سے اس کی محنت ضائع جائے گی۔ وہ جانتے تھے کہ ہر گھر تک پہنچنے کا ایک وقت ہے اگروہ ایک گھر پہ صحیح وقت پہ نہ پہنچے تو یقیناً انہیں ہر گھر تک پہنچنے میں دیر ہو جائے گی۔

وہ انہیں دیکھ کر سوچتا کہ اس زندگی سے بہتر تو اس کا چمنی کے منہ پر کھڑے ہو کر بوتلیں کھینچنا ہے۔ جس میں چمنی خود بتا دیتی ہے کہ اب بوتلیں باہر کھینچی جانی ہیں۔ اسے صرف لوہے کا ایک اوزار اپنے ہاتھوں میں تھامنا ہوتا ہے۔ کسی کو جواب دیے بنا۔ کہیں پہنچنے کی خواہش سے دور صرف ایک جگہ دونوں ٹانگیں مضبوطی سے جمائے کھڑے رہنا ہے۔ مگر پھر اسے شہر کے راستے نظر آتے جن پہ رنگ برنگی گاڑیاں بھی چلا کرتی تھیں۔ لوگوں کے رنگین اور خوشبو دار کپڑے۔پھر وہ خود کے کپڑوں کو سونگھتا جن میں کارخانے کی مہک بسی ہوئی تھی۔ اس نے کارخانے کی مہک کو ہمیشہ بہت دیر دیرتک سمجھنے کی کوشش کی تھی۔ وہ پہچان ہی نہیں پاتا تھا کہ کار خانے میں کس چیز کی مہک آتی ہے۔ جب اسے لگتا کہ کانچ کی بوتلیں یا چمنی مہکتی ہے تو وہ باری باری سب کو سونگھتا۔ مگر کسی بھی شئے سے مہک اٹھتی محسوس نہ ہوتی۔ یہ اشیا کے ملے جلے تعفن کی مہک تھی۔ اسے لگتا جیسے کارخانہ کہیں اندر سے سڑ رہا ہے جس کی ہر شئے ابھی تک ظاہری طور پر سلامت ہے۔ مگر اس کا علم شائد مالک کو نہیں ہے کہ کار خانے میں ساری چیزیں اند رسے سڑ رہی ہیں۔ اسے اپنے وجود کے سڑنے کا احساس بھی ہوتا۔ مگر خود اعتمادی سے وہ اس خیال کو ذہن سے جھٹک دیتا اور لوہے کے پل کا ہتھا تھام کر صبح کے اگتے سورج سے نظریں ملانے کی کوشش کرتا۔ اسے صبح کا سورج پسند تھا وہ اکثر غور کرتا تھا کہ اس میں بہت اپانیت ہے۔ اس نے کئی مرتبہ اپنے پڑوسیوں سے صبح کے سورج کی کشش کے متعلق جاننے کی کوشش بھی کی تھی۔ مگر اس معاملے میں وہ خاموش ہی رہتے تھے۔ وہ اس معاملے میں اخبار بیچنے والوں کو خوش نصیب سمجھتا تھا کہ وہ روز صبح کے سورج کا استقبال کرنے کے لیے سائیکلوں پہ سوار ہو کر شہر کی سڑکوں پہ چکر لگاتے ہیں۔ اچانک اسے خیال آیا کہ اسے بھی کچھ دنوں تک اخبار بیچنا چاہیے، کم سے کم صبح کے سورج کی محبت میں۔مگر اس نے اسے خیال کو فوراً جھٹک دیا۔ اس نے سوچا کہ جب تک وہ چمنی کی مہک کا راز نہیں جان لے گا تب تک کار خانے کو ہر گز الودعی نہیں کہے گا۔

آج وہ کارخانے پہنچا تو سینٹ سے بھری بوتلوں کا ایک ڈبہ اسے مالک کے کاونٹر کے پاس رکھا دکھائی دیا۔ مالک نے اس پہ نظر ڈالی اس کی حاضری کا اندراج کرتے ہوئے اسے آواز دی۔ اس نے مالک کی آواز سن کر اپنے بڑھتے قدم روک لیے۔”اس ڈبے میں سے ایک بوتل تیری ہے۔” وہ کچھ سمجھ نہ سکا۔ مالک نے پھر کہا” آج سینٹ کی بوتلوں کے چار نئے کنسائنمنٹ ملے ہیں۔اب ہمیں الگ الگ طرح کی بوتلیں بنانی ہیں اور کمپنیوں تک پہنچانی ہے۔ یہ سینٹ ہمیں اپنی ایک نئی کمپنی نے گفٹ کیا ہے۔ ان میں سے ایک تیرا ہے۔ دیکھ لے اب ایسی ہی بوتلیں بنیں گی۔ “و ہ مالک کی یہ بات سن کر خوش ہو گیا۔ اسے یقین آ گیا کہ اس کا مالک اس کے کام سے خوش ہے۔ “آج سے تجھے ساٹھ کے بجائے اسی رپیہ روز کا ملا کرے گا۔یہ لے اور جا کام کر۔” اسے بہت حیرانی ہو رہی تھی۔ نہ جانے اس نے ایسا کیا کیا کہ اس کے پیسے بھی بڑھا دیے گیے اور مالک نے اس سے اتنی باتیں بھی کیں۔ وہ اسی روپے سے زیادہ خوش اپنے مالک کے رویے سے تھا۔

اسے لگا جیسے یہ کار خانہ ایسی جگہ ہے جہاں وردی والے اس کا احترام کرنے پہ مجبور ہو گئے ہیں۔ جیسے شہر کے تمام رئیس اسے اپنے برابر کا تصور کرنے لگے ہیں۔ اس کا مالک اس کا اپنا دوست بن گیا ہے اور وہ رنگ برنگی گاڑیاں جو ٹیلے کے سامنے والی سڑک سے گزرتی ہیں انہوں نے اسے دیکھ کر منہ چڑھانا بند کر دیا ہے۔ اس نے سینٹ کی بوتل کو غور سے دیکھا جیسے یہ کوئی غیر نہیں بلکہ اس کی اپنی اولاد ہو۔جس نے اس کا نام فخر سے اونچا کر دیا ہو۔ اس نے اسے اپنی قمیض کی اوپری جیب میں رکھا اور چمنی کے منہ پر کھڑے ہونے والے موٹے دستانے پہن کر لوہے کی روڈ ہاتھوں میں اٹھا لی۔ آج وہ دن بھر اندر ہی اندر گنگناتا ہوا چمنی کے پیٹ سے بوتلیں نکالتا رہا اور انہیں دفتی کے ڈبوں میں بند کر کے محبت بھرے انداز میں آگے کی طرف کھسکاتا رہا۔

شام کو جب وہ کارخانے سے نکلنے لگا تو اس کے مالک نے اسے اسی روپے دیئے اور روز والا سوال پوچھا۔ اس نے دوسرے دن آنے کا وقت بتایا اور باہر نکل گیا۔ وہ کار خانے سے باہر نکلا تو جھٹپٹے کا وقت ہو چلا تھا۔ سورج تیزی سےاندھیروں کی گپھا کی طرف بڑھ رہا تھا۔ وہ اپنے گھر تک پیدل ہی جاتا تھا، کیوں کہ کار خانے کی گلیوں میں کسی سواری کو لانے کا مطلب تھا منٹوں کی مسافت گھنٹو میں طے کرو۔ وہ آہستہ آہستہ چلتا ہو ا گھر کی جانب بڑھ رہا تھا اور بار بار اپنی قمیض کی جیب سے سینٹ کی بوتل نکال کر اسے اپنے ہاتھ میں تھام لیتا تھا۔ پھر کچھ سوچ کر قمیض کی جیب میں رکھ دیتا اور پھر نکال لیتا۔ اس نے اب سے پہلے کبھی سینٹ کی بھری ہوئی بوتل استعمال نہیں کی تھی۔ کانچ کی خوبصورت بوتل جس میں ہلکے کتھئی رنگ کا سیال بھرا ہوا تھا۔ وہ اسے استعمال کرنا چاہتا تھا اور کیسے کیا جاتا ہے اسے یہ بھی معلوم تھا، مگر اس کے لیے اسے ایک صحیح موقع کا انتظارکرناتھا۔ اسے آج تک خوشبو لگانے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی تھی۔ یوں بھی زندگی میں جتنے قسم کی بد بووں سے اس کا واسطہ پڑا تھا ااس کی ایک چوتھا ئی خوشبوئیں بھی اس نے نہیں سونگھی تھیں۔ وہ ٹیلے کے متعلق سوچنے لگا جہاں طرح طرح کی بدبووں سے اس کی ناک بھر جاتی تھی۔ سڑے ہوئے پانی، نشہ آور اشیا، جلے ہوئے ٹائر، مرے ہوئے پرندے، گائے اور بھینس کے گوبر اور انسانی پاخانے، پیشاب کی ملی جلی بدبو۔ اسے لگتا جیسے ہزاروں انسانی لاشوں کو جلا کر ان کا دھواں ٹیلے کی مٹی میں ملا دیا گیا تھا جس وجہ سے اس کے چپے چپے سے سڑتی ہوئی انسانی آنتوں کی مہک آتی تھی۔ اس کے باوجود وہ ٹیلے کو ایک پر سکون مقام سمجھتا تھا جہاں سگرٹ کے کشوں سے اسے زندگی کے بوجھل لمحوں اور وردی والوں کے جبر سے راحت ملتی تھی۔

اس نے گھر پہنچ کے اپنی سینٹ کی بوتل کو بہ حفاظت تمام اپنے صندوقچے میں رکھا۔ اپنی قمیض تبدیل کی اور دوبارہ گھر کے باہر آ گیا۔ اب اس کی رفتار سے لگتا تھا جیسے اسے کہیں پہنچنے کی جلدی تھی۔ اس کی جیب میں اس وقت اسی روپے تھے۔ وہ شہر کے ایک سرے سے دوسرے سے تک سواری سے آ جا سکتا تھا۔ اس نے سڑک پہ آ کر سواری روکی اور شہر کے شمال مغربی حصے میں جو کالج تھا اس کی طرف چل دیا۔ جب وہ کالج کے گیٹ پہ پہنچا تو کالج کا دروازہ اسے مقفل نظر آیا۔ اس نے سواری چھوڑ دی۔ کچھ دیر تک کھڑا کالج کے گیٹ کو تکتا رہا پھر ان گول سرکاری عمارتوں کی فٹ پاتھ پہ آ گیا جہاں پیدل چلنے والے لڑکے لڑکیوں کاریلا دائیں سے بائیں اور بائیں سےدائیں کی طرف آ جا رہا تھا۔ وہ بھی اسی بھیڑ میں شامل ہو گیا۔ اس نے کچھ آگے جا کر دوبارہ پلٹ کے کالج کے گیٹ کی طرف دیکھا۔ اس طرح جیسے اپنے دیکھے پر یقین کرنا چاہ رہا ہو اور پھر اس ریلے کے پیچھے چلنے لگا۔ وہ چلتے چلتے آتی جاتی لڑکیوں پہ نظریں جماتا ان کے قریب سے گزرتے ہوئے زور سے اپنی سانس کھینچتا اور ان کے کھولے ہوئے بالوں سے اٹھنے والی مہک کو اپنے نتھنوں میں جمع کرنے کی کوشش کرتا وہ کافی دیر تک اسی طرح حکومتی عمارتوں کی فٹ پاتھ پہ ریلے کے پیچھے چلتا رہا۔ کچھ لوگ کسی فٹ پاتھ سے ایک خاص گلی میں مڑجاتے تو کچھ لمحوں میں دوسری گلی سے کچھ نئے چہرے نکل کر اس بھیڑ کا حصہ بن جاتے۔ اس نے سوچا کے یہ مہکتا ہوا شہر اوپر سے کتنا خوبصورت ہے۔ نہ جانے کیوں اسے یہ سب ڈھونگ لگا، مگر وہ اس ڈھونگ سے لطف اندوز بھی ہو رہا تھا۔ وہ محسوس کر رہا تھا کہ مختلف لوگوں کے کپڑوں اور بالوں سے اٹھنے والی مہک اسے پل بھر کے لیے زندگی کا ایک نیا احساس عطا کرتی ہے۔ جب جب وہ کسی لڑکے یا لڑکی کے قریب سے گزرتا ہے تو اس کی مہک کے تجربات میں اضافہ ہوتا ہے۔ وہ اپنے ذہن کوان خوشبو وں کے درمیان گردش کرتا ہوا پا کر خوش ہو رہا تھا۔ اسے لگتا جیسے چمنی کی مہک جس کا سراغ لگانے کے لیے وہ اتنا پریشان تھا اس کے ان خوشبووں کے مقابلے میں اس پہ وقت صرف کرنا خود کو اندر سے سڑانے کی طرح ہے۔

اسے ٹیلے کی بدبو اور دھلے دھلائے صاف ستھرے کپڑوں میں ملبوس لوگوں کی خوشبوں میں ایک بڑا فرق معلوم ہوا۔ اسے لگا کہ ٹیلے پہ اٹھنے والی خوشبویں اسے سکون تو عطا کرتی ہیں مگر اس میں غم کی ایک لہر ہو تی ہے ایسی جو اسے اندر سے مرجھا دیتی ہے، جبکہ یہاں کی خوشبوں میں اسے انجانی خوشی کا احساس ہو رہا تھا۔ جیسے پیپر منٹ کی گولیاں اس کی سانس میں گھل کر انہیں تازہ کر رہی ہوں۔ اس نے سوچا کہ یہاں کی خوشبووں سے لطف اندوز ہونے کے لیے اب وہ روز شام کو یہاں آیا کرے گا۔ ان سڑکوں پہ چلنے والے صاف ستھرے لوگوں کے بدن سے اٹھنے والی خوشبوں میں ڈوب کر زندگی کا نیا احساس حاصل کرے گا۔ اسے اپنا ٹیلے پہ جانا فضول معلوم ہونے لگا۔ اس نے سوچا کہ اگر اسے سگریٹ کے کش ہی لینا ہیں تو وہ لوہے کے پل پہ جا کر بھی لے سکتا ہے یا ان سڑکوں پہ گردش کرتے ہوے بھی سگریٹ پی سکتا ہے۔ پھر اچانک کچھ سوچ کر اس نے اپنے آخری فیصلے کو غلط تصور کیا اور ہولے کے پل کو سگریٹ کا اڈا بنانے کی ٹھان لی۔ مگر اسے اپنے ٹیلے سے نفرت سی ہو رہی تھی جہاں سے سوائے زندگی کے افسردہ رنگوں کے اس نے کچھ حاصل نہ کیا تھا۔