Categories
تراجم نان فکشن

فلسطین میں (مابعد) نوآبادیاتی متون کی تدریس

جلاوطنی، حاشیہ گزینی، موت، اور تاریخ کے پیچیدہ خیالیے (مابعد) نوآبادیاتی افسانوی ادب کے طول میں متواتر ابھرتے رہتے ہیں۔ کوئی تعجب نہیں کہ غزہ میں فلسطینی طلبہ سے ان کا تعلق ذاتی سطح کا ہے۔

(ترجمہ: اسد فاطمی)

میں رواں تعلیمی سال میں دوسرے کچھ (مابعد) نوآبادیاتی متون کے ساتھ ساتھ دو فلسطینی ناول اور دو افسانے پڑھا رہا ہوں۔ ہم نوآبادیائے گئے کرداروں کے سیاسی شعور یا اس کے فقدان کا، اور انفرادی منصوبہ یا مسلح جدوجہد اور انقلابی کایاکلپ جیسے اجتماعی اعمال کی جانب فرار کے ذریعے ان کی اپنی نفسیاتی اور معاشرتی بیگانگی پر قابو پانے کی باہم متضاد کوششوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔ البتہ دیگر لکھاریوں کے ساتھ ساتھ غسان کنفانی (فلسطین)، انجابولو اندبیلے (جنوبی افریقا)، سمبن عثمان (سینیگال)، اور نورالدین فارح (صومالیہ) جیسے لکھاریوں کے منتخب تخلیقی کام (مابعد) نوآبادیاتی مزاحمتی ادب کی تعریف، اور اسے درپیش ردِ نوآبادیاتی قوم‌پسندی اور قومی شناخت کے ارتقاء کے مسئلہ کو لے کر ایک نازک سوال اٹھاتے ہیں۔

ان خاص لکھاریوں کا انتخاب غیر ارادی نہیں تھا، کیونکہ میں ایسے طلبہ کو پڑھا رہا ہوں جو کہ مہاجرین ہیں، اور جو کہ ناگزیر وجوہ کی بنا پر، ان لکھاریوں، خاص طور پر غسان کنفانی کے دکھائے گئے مستقبل‌بین منظر سے خود اپنی جدوجہد کو الگ نہیں رکھ سکتے۔ “رجال فی الشمس” (Men in the Sun) میں غیر قانونی طور پر کویت نکل جانے کی کوشش میں تین فلسطینیوں کی موت، “ارض البرتقال الحزین” (The Land of Sad Oranges) اور “الصغیر یذھب الی المخیم” (The Little One Goes to the Camp) میں بچے کی زندہ رہنے کی حکمت عملی، “ما تبقَی لکم” (All That’s Left to You) میں حامد کی اسرائیلی سپاہی کے ساتھ کشمکش اور عثمان کے “سیاہ فام لڑکی” (Black Girl / Le Noire de…) میں دیوانا کی خودکشی سے لے کر “عائد الی حیفا” (Return to Haifa) کے اختتام میں سعید س۔ کی شعوری قلبِ ماہیئت تک – یہ سبھی مناظر بالآخر فارح کے افسانے “My Father, the Englishman and I” میں راوی کی ماں کے قصہ میں اپنے نقطۂ اوج کو پہنچ جاتے ہیں، جو کہ سماجی مروجات اور نوآبادیاتی استبداد دونوں کو للکارنے لگتی ہے۔ یہ لکھاری اجتماعی انقلابی کام کے ذریعے ذاتی اور تاریخی بیگانگی پر ایک سر اٹھاتی ہوئی فتح کی صراحت کرتے ہیں۔

ہم مرکزی کرداروں کی بیگانگی اور ان کے ذاتی طور پر واقعات کا حصہ بن جانے کے ذریعے اس امر پر ان کے نظر فریب اور موضوعی ردعمل اور / یا ان کی اپنے سماجی رتبہ کو آگے بڑھانے کی کوشش میں نمونہ جاتی بیانیہ‌ قرینہ (paradigmatic narrative pattern) کا جائزہ لیتے ہیں۔ ان (مابعد) نوآبادیاتی متون میں کردار اور اعمال پر خصوصی توجہ مرکوز کرنے سے مرکزی کرداروں کے حد سے زیادہ پرعزم ذاتی سفر کی پگڈنڈیاں آشکار ہونے لگتی ہیں اور ان مادی حالات اور تاریخی عوامل کے تنقیدی جائزہ کی صورت سامنے آتی ہے جو کرداریاتی ترجیحات کو وجودی طور پر باخبر رکھتے ہیں۔

فلسطینی ادب کو پڑھنے کی ضرورت، خاص طور موجودہ وقت میں، ایک فلسطینی بیانیہ رقم کرنے کی اہمیت سے پھوٹی ہے۔ فلسطین کا بیشتر ادب وہی ہے جسے باربرا ہارلو اور اس سے قبل غسان کنفانی “مزاحمتی ادب” کہا کرتے تھے۔ بدقسمتی سے، ایک نسلی تقسیم پر مبنی راج کے بعد، اور سرد جنگ کے بعد کی دنیا میں گرمئ بازار جو رنگ دکھاتی رہی ہے بس اسی سے اس قسم کے ادب سے ہماری شناسائی اور علم کا تعین ہوتا رہا ہے۔ مذکورہ بالا تمامتر افسانوی ادب ان عورتوں (اور آدمیوں) کی کہانیاں ہیں جو خود کو استحصال، جبر، استبداد، اور دار و رسن کی کسی مخصوص غیر انسانی شکل سے آزاد کرانے کی جدوجہد میں ہیں؛ بلاشبہ وہ ان افکار، اقدار، اور احساسات سے منسلک ہیں جن کے تحت نوآبادیائی گئی عورت (اور آدمی) اپنے معاشرے کا اور اپنی وجودی، سیاسی، اور تاریخی صورتحال کا تجربہ حاصل کرتے ہیں۔ کنفانی کے ناولوں اور افسانوں کی تفہیم، مثال کے طور پر، استبداد کا شکار فلسطینیوں کے ماضی اور ان کی موجودہ صورتحال ہر دو کے کہیں گہرے فہم کی متقاضی ہے: ایک ایسا فہم جو بالخصوص ان کی آزادی اور بالعموم انسانی آزادی میں اپنا حصہ ڈال سکے۔ ان دو ناولوں “عائد الی حیفا” (حیفا کو واپسی) اور “ما تبقَی لکم” (جو کچھ تمہارے لیے بچا ہے) کے قارئین کے لیے یہ مشکل نہیں ہو گا، کہ وہ ایک واضح متحرک حقیقت کی جانب بتدریج، شعوری، ارادی حرکت کا اندازہ لگا سکیں: ایک نئی حقیقت جو ہمیں وہ کچھ دکھاتی ہے جو ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھا، جو ہمیں بیک وقت ادراک اور تجربہ کی ایک نئی ترتیب کی جانب لے جاتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں، دونوں ناولوں پر فنی طور پر اثر انداز ہونے والے پہلو ایسے ہیں جو حقیقت سے فرار کی بجائے اس کا سامنا کرنے سے ابھرے ہیں۔

ان (مابعد) نوآبادیاتی افسانوی کاموں کے طول میں کئی پیچیدہ خیالیے اور سوال متواتر ابھرتے رہتے ہیں: جلاوطنی، حاشیہ گزینی، موت، اور تاریخ۔ ایسے سوالات دراصل خود لکھاریوں کے اپنے کردار کے ساتھ وابستہ ہوتے ہیں، ایک پرعزم خودآگاہ لکھاری کی حیثیت سے وہ چند نوآبادیائے گئے مطیعوں کی ان کمزوریوں سے پردہ اٹھاتے ہیں جن میں وہ اپنی شناخت اور زمین کے دوبارہ حاصل کرنے کی جنگ میں مادی تحفظ تلاش کرنے کو ترجیح دیتے ہیں (الرجال من الشّمس، سیاہ فام لڑکی)۔ دوسرے لفظوں میں، یہ متون ان مطیعوں کی داخلی اور خارجی حقیقتوں کے درمیان جدلیاتی رشتہ کے دشت کی سیاحی سے عبارت ہیں۔

بہ ایں ہمہ، مجھے اس امر کا بھی اندازہ ہے کہ (مابعد) نوآبادیاتی ادب سراسر رد نوآبادیاتی ہیئتوں تک محدود نہیں ہے۔ فلسطین میں جس قدر ہم مذکورہ بالا لکھاریوں کو پڑھ اور پڑھا رہے ہیں، اتنا ہی ہم نسل پرست ٹرینی‌ڈاڈی-برطانوی لکھاری، وی۔ایس۔نائپال کی اپنی پسندیدگی کے ساتھ بھی الجھے رہتے ہیں، جس نے صاف صاف کہا ہے، خاص طور پہ اپنے ناول “دریا کا موڑ” (A Bend in the River) میں جو ہم اپنے طلبہ کو پڑھنے کا کہا کرتے ہیں، کہ “دنیا جیسی ہے ویسی ہی ہے؛ جو آدمی ناشدنی ہیں، انہوں نے خود ہی خود کو ناشدنی ہونے دیا ہے، یہاں ان کی کوئی جگہ نہیں ہے!” نائپال پھر لکھتا ہے کہ “ایسا نہیں ہے کہ یہاں کوئی صحیح یا غلط نہیں ہوتا۔ بس یہاں کچھ صحیح نہیں ہوتا،” اور یہ کہ اسی لیے “(اپنے نوآبادیاتی آقا کے بغیر) افریقہ کا کوئی مستقبل نہیں!”

نائپال جیسے لکھاریوں کے مطابق، افریقی (اور دیگر نوآبادیاتی مطیع) ایسے قدر کے لائق انسان نہیں ہیں جیسے کہ گورے اہلِ مغرب؛ “وہ بس افریقی کے افریقی ہی ہیں،” کوئی تبدیلی کے کارندے نہیں: “[سیاہ فام افریقی] وہی کچھ بن پائے ہیں جو کہ ان کے باہر کی دنیا نے [انہیں] بنایا ہے؛ دنیا جیسی تیسی موجود ہے [انہیں] اسی میں زندہ رہنا ہے۔” اسی لیے مغرب کو اپنے “تہذیب‌آموزی کے مشن” کے حصہ کے طور پر مداخلت کرنا پڑ جاتی ہے۔ اور اب کی بار اس اساسی منطقی اصول کا پرچار ایک سیاہ فام/گندمی رنگت کا آدمی کر رہا ہے۔ اس سیاق و سباق میں ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ ہمارے طلبہ ایڈورڈ سعید کی اس دلیل سے واقف ہیں کہ “ہر سلطنت۔۔۔ یہی بتاتی ہے کہ وہ دیگر سبھی سلطنتوں سے مختلف ہے، اور اس کا مشن غارت‌گری اور فرمانروائی نہیں بلکہ تعلیم اور نجات سے بہرہ مند کرنا ہے۔”

اس کا موازنہ انجابولو اندبیلے کے Fools میں کرداروں، ما تبقَی لکم میں غسان کنفانی کے بہن بھائیوں، اور سیاہ فام لڑکی میں سمبن عثمان کی آیا سے کریں، جوکہ سبھی وحشی آبادکاری نوآبادیاتی نظام اور نسلی تقسیم پر مبنی راج کی (بقول جوزف کانریڈ) صدائے “الخوف! الخوف!” (The Horror! The Horror!) کے جواب میں انقلابی حل کی جانب رجوع کرتے ہیں۔
اس تعلیمی سال میں فلسطینی طلبہ کو پڑھائے جانے والے ان کے پسندیدہ متن کے متعلق لکھنے کا کہنے اور پھر ان کی ترجیح پہ سر کھپانے کی کوئی ضرورت نہیں۔

 


حیدر عید غزہ کی الاقصیٰ یونیورسٹی میں ادب کے ایسوسی‌ایٹ پروفیسر اور جنوبی افریقہ کی یونیورسٹی آف پریٹوریا میں ایسوسی‌ایٹ محقق ہیں۔ ان کا یہ مضمون مئی ۲۰۲٣ء میں فلسطین میں انسانی حقوق پر خبر و نظر کے لیے وقف ویب سائٹ mondoweiss.net پر انگریزی زبان میں شائع ہوا۔

Categories
نان فکشن

جراتِ کردار کو سلام (تحریر: ایڈورڈ سعید، ترجمہ: طارق عباس)

حالیہ عشروں میں برصغیر کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو جن مفکرین نے سب سے زیادہ متاثر کیا ہے ان میں نوم چومسکی کے بعد بلا مبالغہ ایڈورڈ سعید اور اقبال احمد کا نام آتا ہے۔ یہ ہمارے لئے باعثِ فخر ہے کہ برصغیر کی سرزمین نے ایک ایسی ہستی کو جنم دیا جن سے تعلقِ خاطر ایڈورڈ سعید اور نوم چومسکی کیلئے باعثِ افتخار ہے اور ایڈورڈ سعید تو اقبال احمد کو اپنا استاذ تسلیم کرتے بھی نہیں جھجکتے۔

ذیل میں ایڈورڈ سعید کے اقبال احمد کو پیش کردہ خراج تحسین کا اردو ترجمہ پیش کیا جا رہا ہے۔ ایڈورڈ سعید کی یہ تحریر اقبال احمد کی کتاب “سامراج کے مقابل” کے ابتدائیہ کا حصہ ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ایڈورڈ سعید ایسی سطح کے دانشور کا پیش کردہ یہ خراج تحسین نہ صرف ہمارا سر فخر سے بلند کرے گا بلکہ اقبال احمد جیسی شخصیت سے کچھ احباب کا تعارفِ نو اور بہت سے احباب کی شناسائی کی از سرِ نو بحالی کا باعث ہو گا۔ ط ع

ہمارے عزیز دوست اقبال احمد کی ہم گھنٹوں بلا تکان تعریف و توصیف کر سکتے ہیں، جس کے وہ ہر اعتبار سے مستحق بھی ہیں۔ لیکن ان کی جتنی بھی تعریف ہم کریں، اس کے باوجود ان کے بارے میں کہنے کو بہت کچھ رہے گا۔ میں دل ہی دل میں خوش بھی ہوتا ہوں اور خود کو شاباشی بھی دیتا ہوں کہ میں اقبال احمد کے بارے میں بہت کچھ کہہ سکتا ہوں یا کم از کم کہنے کی کوشش تو ضرور کر سکتا ہوں۔ اقبال احمد کی شخصیت کا مضبوط ترین پہلو یہ ہے کہ انہوں نے بہت سی سرحدوں کو عبور کیا، اور بہت سی سرحدوں کو پامال کیا، لیکن ہرنئی صورت حال، جگہ، سیاق و سباق؛ سب میں اُن کی شخصیت کا اعتماد متزلزل نہیں ہوا۔ اور یہاں ان کے اعتماد سے مراد ان کا مذہبی یا نسلی شناخت پر قائم رہنا نہیں ہے، نہ ہی یہاں وہ روایتی استقلال مذکور ہے جو ہم قدیم شہریوں سے منسوب کرتے ہیں، بلکہ اقبال احمد کی فکر اور دانش کی بے ساختگی، بے لاگ تجزیے، مستقل مزاجی، اور شخصیت کی گرم جوشی نے رڈیارڈ کپلنگ کے کردار Kim کے بقول، انہیں پوری دنیا کا ہمدم اور دوست بنا دیا ہے۔

شکاگو، بیروت، نیو یارک، ایم ہرسٹ؛ یا اس کے علاوہ بھی جہاں کہیں ان سے ملاقات ہوئی، میں ہمیشہ یہ دیکھ کر حیران ہوتا کہ وہ بآسانی خود کو نئی صورتحال کے مطابق ایک نئی شخصیت کے روپ میں دھار لیتے تھے لیکن ساتھ ہی ان کی شخصیت کےبنیادی خصائص جوں کے توں رہتے تھے۔ ان کی انہی خوبیوں نے انہیں ہمیشہ کے لئے میرا سچا دوست بنا دیا۔ اقبال احمد طالب علموں، نوجوانوں، ضرورت مندوں، دوستوں، اپنے فکری ساتھیوں؛ ان سب کو وقت دینے کے لئے ہمیشہ تیار رہتے۔ وقت، علم، اورذاتی ملکیت کی کوئی بھی شے، اور خود اپنی ذات کی سپردگی؛ ان اعتبارات سے میں نے ان جیسا فیاض کسی کو نہیں پایا۔

کئی برسوں پر محیط شناسائی میں ایک بار بھی انہوں نے یہ عذر پیش نہیں کیا کہ وہ کسی اہم کام میں مصروف ہیں اس لئے وقت نہیں دے پائیں گے۔ میں نے ان سےبارہا مختلف معاملات کے بارے میں راہنمائی طلب کی۔ بات سننا، معاملہ سلجھانا، کسی مشکل صورت حال سے نکلنا، ذاتی پریشانیوں یا کسی سیاسی خطرے سے نمٹنا، غرضیکہ ہر معاملے میں انہیں مدد اور رہنمائی کے لئے تیار پایا۔

وہ دوستوں کا حوصلہ بڑھانے والے، ان کی ہمت بندھانے والے، ان میں خود اعتمادی پیدا کرنے والے، اور ان کا خیال رکھنے والی شخصیت تھے۔ میں یہاں صرف ایک مثال پیش کرتا ہوں: 1987 میں اسرائیل کی نہایت با اثر یہودی شخصیات کے ایک گروپ نے مجھے ذاتی طور پر کچھ مشوروں کےلئے بلایا۔ میرا ان کے بارے میں اندازہ یہ تھا کہ وہ فلسطینیوں کے عزائم، بالخصوص اسرائیلی اقدامات کے خلاف فلسطینی مزاحمت ایسے امور سے متعلق الجھن کا شکار تھے۔ یہاں اس امر کا ذکر ضروری ہے کہ یہ ملاقات فلسطینیوں کی انتفاضہ (intifada)تحریک شروع ہونے سے چند ماہ پہلے طے پائی تھی۔ میں اس سے قبل بھی امریکی اور اسرائیلی یہودی رہنماؤں سے غیر اعلانیہ اور کبھی کبھار خفیہ ملاقاتیں بھی کرتا رہا تھا، لیکن یہ تمام ملاقاتیں ہمیشہ ہی بے مقصد و بے سود ثابت ہوئی تھیں، اور اسی وجہ سے کچھ سمجھ نہیں آتا تھا کہ کیا پیش قدمی کی جانی چاہئے۔ آزاد فلسطین کے راہنما عالمی حمایت اور تنظیمی طاقت دونوں سے یکسر محروم تھے، جبکہ یہودیوں کی صورت حال اس کے بر عکس تھی، ان کی درجنوں عالمی تنظیمیں بھی تھیں اور بڑے بڑے نامور لیڈر بھی تھے۔ اس پہ مستزاد ان کا اسرائیل سے خصوصی تعلق تھا۔ غرضیکہ یہودیوں اور فلسطینیوں میں زمین و آسمان کا فرق تھا۔

میں اس وقت تک اقبال احمد کو اپنا سیاسی استاد تسلیم کر چکا تھا۔ چنانچہ سب سے پہلا کام میں نے یہ کیا کہ یہودیوں سے ملاقات کی بابت ان سے مشورہ طلب کیا۔ ان کا مشورہ تھا کہ مجھے ضرور ملاقات کرنی چاہئے۔ اس پر میں نے انھیں کہا کہ وہ بھی میرے ساتھ چلیں۔ دوسرے تمام معاملات کی طرح یہاں بھی وہ حسبِ توقع میرا ساتھ دینے کےلئے رضامند ہو گئے۔ مجھے یہ معلوم تھا کہ نہ وہ فلسطینی ہیں نہ ہی اس سے قبل میری یہودیوں سے بیسیوں ملاقاتوں میں کسی ایک ملاقات کا بھی حصہ رہے ہیں، ان سب کے باوصف اقبال احمد ہی وہ واحد شخصیت تھے جس پر میں مکمل اعتماد کر سکتا تھا۔ جو راست گو تھا اور میرا رہنما بھی تھا۔ الغرض ملاقات ہوئی اور اقبال احمد نے ہر طرح کے اشتعال انگیز سوالات کے بڑے تحمل کے ساتھ جوابات دئے اور ایسے کئی معاملات سلجھائے جن میں میں پھنستا جا رہا تھا۔ تین گھنٹے جاری اس مذاکرے کے دوران ایک مقام پہ ایک یہودی لیڈر نے کہا،”اگرچہ میں نے کئی مقامات پر یاسر عرفات کو ایک دہشت گرد اور ہٹلر کہا ہے، لیکن میں جانتا ہوں کہ میں سچ نہیں کہہ رہا۔” اس پر اقبال احمد نے نہایت دھیمے اور برجستہ لہجے میں کہا،”آپ بلاوجہ کا تکلف فرما رہے ہیں۔” یہ اقبال احمد ہی تھے جو ایسا کہہ سکتے تھے، میں نہیں۔

یہاں شاید ایک اور واقعے کا ذکر بھی ضروری ہے۔ 1970 کی دہائی میں اقبال احمد کو میں نے بیروت آنے کی دعوت دی، جہاں ان کی ملاقات یاسر عرفات اور دوسرے فلسطینی راہنماؤں سے ہوئی، اور ان سب نے اقبال احمد کے ماہرانہ اور مخلصانہ تجزیوں کا بھرپور اعتراف کیا۔ 1980 میں لبنان کی خانہ جنگی کے دوران، موسمِ گرما میں اقبال احمد نے ابو جہاد کو قائل کر لیا کہ انہیں جنوبی لبنان میں پی ایل او کے فوجی ٹھکانوں کا دورہ کرنے دیا جائے (ابو جہاد یاسر عرفات کے ساتھی اور پی ایل او کے فوجی کمانڈر تھے)۔اقبال احمد نے وہاں کا دورہ کیا اور چند روز بعد ہی فلسطینی لیڈران (رہنماؤں) کو ایک مفصل رپورٹ پیش کر دی۔ یہی وہ رپورٹ تھی جس میں اقبال احمد نے دو برس بعد ہونے والے اسرائیلی حملے کی پیشین گوئی کی تھی جو حرف بہ حرف درست ثابت ہوئی۔ 1982 میں یہ حملہ ہوا اور اس کا وہی نتیجہ نکلا جو دو برس قبل اقبال احمد بتا چکے تھے۔

اقبال احمد کی مہارت صرف عسکری معاملات تک ہی محدود نہیں تھی، ساتھ ہی فلسطینی راہنماؤں نے یہ محسوس کر لیا تھا کہ اقبال احمد فلسطینیوں کے حقیقی دوست ہیں اور ان کی جدو جہد میں ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور اگرچہ وہ فلسطینی نہیں ہیں لیکن ان کا اخلاص اور فلسطینیوں کے مقصد کے ساتھ ان کی لگن سچی ہے۔ یہ بھی سچ ہے کہ اپنے ایشائی ہونے اور سفید چمڑی کا نہ ہونے کا انہوں نے فائدہ اٹھایا۔ میں یہ بات طنزاً نہیں بلکہ ان کی تعریف میں کر رہا ہوں کیونکہ فلسطینیوں کو معلوم تھا کہ وہ اپنے ایک مسلمان بھائی (یعنی اقبال احمد۔ مترجم) کے ساتھ معاملہ کر رہے تھے۔ اقبال احمد کو جاننے والوں کو یہ معلوم تھا کہ اُن کی وفاداری اور استقامت شک و شبہ سے بالا تر تھی۔ وہ نہایت درد مند، مخلص، اور نہایت ذہین تھے۔ وہ جہاں کہیں بھی “ہم” کا لفظ استعمال کرتے تو اس سے مراد یہ ہوتا کہ وہ اپنے ہم خیال احباب کے ترجمان کے طور پر گفتگو کر رہے ہیں، لیکن اس سے ان کی دیانت داری اور ناقدانہ حس کبھی متاثر نہیں ہوئے۔ اور یہی وجہ ہے کہ وہ ہمیشہ ہی صحیح معنوں میں آزاد منش رہے۔ یہاں آزاد منش سے یہ مراد نہیں کہ وہ دوسروں کی پریشانیوں سے لاتعلق رہتے تھے یا انھیں خود کوئی مسائل درپیش نہ تھے۔ اس کا حقیقت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں۔ اگرچہ بظاہر وہ یہی تاثر دیتے تھے کہ اُن کی سوچ اور اُن کا عمل اپنی ذات کےلئے تھےاور مدد طلب کرنے پروہ مدد کو تیار بھی ہوتے تھے، لیکن ایسا ہر گز نہیں تھا، وہ حقیقتاً دوسرے کے خیر خواہ تھے اور خود آگے بڑھ کر دوسروں کی مدد کرتے تھے۔

اقبال احمد کی وابستگیاں بہار اور لاہور سے ہیں۔ انھوں نے برطانوی سامراجی دور کے دکھ جھیلے ہیں، نو آبادیاتی حکومت کے اختتام پر جو المیے رونما ہوئے، جیسے فرقہ وارانہ تشدد، بٹوارا، اور تقسیم وغیرہ،اُن کے بھی وہ عینی شاہد ہیں۔

ماضی کی تلخ یادیں اقبال احمد کے مزاج پر اثر انداز ہوئیں نہ ہی ان کی بناء پر ان میں کوئی رد عمل پیدا ہوا، یہ الگ بات کہ ان تلخ یادوں سے سفید فام محفوظ رہے، نہ ہی ہندوستانی اور پاکستانی۔اقبال احمد کی دلچسپی انتقام کی بجائے تخلیقی عمل تھا۔ وہ مصنوعی انقلابی عمل کی بجائے جذبے اور عمل کے تخلیقی ہونے میں زیادہ دلچسپی رکھتے تھے اور اپنے ہم عصر سیاسی تجزیہ کاروں کے سادہ لوح تجزیوں کے برعکس گہرائی میں جا کر تجزیہ کرنے کے عادی تھے۔ ان کے جاندار ترین مضامین میں سے ایک، جو راجس دیبرے(Roges Debray) پر ہے، اس کا عنوان تھا “انقلابی لیکن غلط”(Radical but Wrong)۔

اپنی کتاب (کلچر اور سامراجیت) Culture and Imperialism اُن کے نام منسوب کرنے کی وجہ یہ تھی کہ اُن کی ذات محض اقتصادی قاعدوں اور فلسفیانہ کلیات کا مرقع نہیں تھی، بلکہ اُن کی شخصیت میں سامراج کی سیاست، اور انسانی زندگی میں اظہار پانے والے تجربے، یہ سب ایک مجسم شکل اختیار کر گئے ہیں۔ اقبال احمد نے “سلطنت” (سامراج) کے تجربات سے جو سیکھا وہ یہ تھا کہ اسکے اثرات ہمہ گیر نوعیت کے تھے، حتیٰ کہ وہ ذہانت اور بصیرت بھی، جو سلطنت کی مزاحمت میں پیدا ہوتی ہے، وہ بھی سامراج کے اثرات سے محفوظ نہیں ہوتی۔ “ذہانت”، “تخلیق”، اور “بصیرت”، سیاست اور تاریخ سے متعلق ان کے رویوں میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔

ویت نام سے متعلق اقبال احمد کی ابتدائی تحریرات انقلابی مزاحمت یا طریقۂ حرب سے متعلق ان کے مقالات کا وہ سلسلہ ہے جو ان موضوعات پر امریکی نظریوں کی نفی کرتی ہیں۔ امریکی ماہرین کی رائے میں ویت نامیوں کی مزاحمت ایک کمیونسٹ اور دہشت گرد مزاحمت تھی، جو ایک سازش تھی؛ اور جسے برتر ہتھیاروں اور بھاری تعداد میں فوج کی مدد سے شکست دی جا سکتی تھی۔ اقبال احمد کی رائے اس کے برعکس تھی، ان کا کہنا تھا کہ گوریلا انقلابی فوج عدل اور انصاف کے نام پر جنگ لڑ رہی تھی۔ عوامی حمایت بھی انھیں حاصل تھی اور اپنے نظریات و مقاصد کی خاطر وہ جان قربان کرنے کو بھی تیار تھے۔ اور یہی تھے جنہوں نے ویت نامی عوام کو متحد کیا تھا۔ انہیں باغی قرار دینے والے یہ بھول جاتے ہیں اور یہ ماننے کو تیار بھی نہیں ہیں کہ مقامی اشرافیہ کے مفادات اپنے ملک سے نہیں بلکہ امریکہ سے وابستہ ہیں، اور نہ ہی مقامی اشرافیہ انقلابیوں کو مات دے سکتی ہے۔ سیموئل ہنٹنگ ٹن نظریاتی طور پر اقبال احمد کے کٹر مخالف تھے اور انقلابیوں کے خلاف طاقت کے استعمال کے حامی تھے۔ اقبال احمد ہنٹنگ ٹن کے جواب میں لکھتے ہیں:
“حصول ِ آزادی کے بعد پسماندہ ممالک میں امید اور اطمینان، اور سکون کی جگہ مایوسی نے لے لی ہے، اور اس نوعیت کے مطالبات جنم لینے لگے ہیں جنہیں ایسی سیاست پورا نہیں کر سکتی جو مخصوص افراد کے تعاون پر انحصار رکھتی ہو۔ ہمارے حکمرانوں کی طرح امریکہ بھی اس حقیقت کو سمجھ نہیں پا رہا یا سمجھنا نہیں چاہتا کہ سماجی تبدیلی اور اس کے استحکام پر امریکہ کا اصرار، نظم و ضبط کے لئے امریکہ کے تقاضے، ہماری انقلاب کی جانب پیش رفت، اور امریکہ کا تیسری دنیا کےغاصب امراء کی مدد سے مطلوبہ اصلاحات کا ممکن بنانا، امریکہ کی آزاد اتحادیوں کو ترجیح اور ہماری خود مختاری کی خواہش، امریکہ کو فوجی اڈوں کی ضرورت اور ہماری یہ خواہش کہ ہم اپنی سر زمین کو بیرونی قبضے سے آزاد دیکھیں؛ یہ سب امور باہم یک نگر اور ایسے مختلف ہیں جیسے دن اورر ات۔ وہ امور جو ہمارے لئے تکلیف اور امریکہ کےلئے باعث اطمینان ہیں، ان میں فرق بڑھتا جائے گا۔اور یہی فرق ہماری ترجیحات اور اُن کے تناظر کے مابین بھی بڑھتا چلا جائے گا۔اور جب تک امریکہ اپنے مقاصد اور مفادات کا ازسرِ نو تعین نہیں کرتا، تب تک ہمارے اور امریکہ کے مابین خلیج گہری ہوتی چلی جائے گی۔ نتیجتاً امریکہ کے زیر بار ایشیائی ریاستوں اور (براعظم امریکہ کی) امریکی ریاستوں کی حالت مزید بگڑ جائے گی۔ اگر اس پس منظر میں دیکھیں تو ویت نام کا معاملہ نہ ہی عجب ہے نہ ہی الگ تھلگ۔ اور اسے آنے والے حالات کیلئے ہمیں بطور انتباہ دیکھنا چاہئے۔”

اس تحریر سے جو بات سامنے آتی ہے وہ روایتی اور غیر روایتی طرزِ فکر میں فرق اور اس سے بھی بڑھ کر انصاف اور نا انصافی کے درمیان ٹکراؤ ہے۔ اقبال احمد کی ہمیشہ سے یہ ترجیح رہی ہے کہ آزادی، بھرپور ثقافت، اور عوامی فلاح و بہبود کے ذریعے ہی ہم ایک منصفانہ اور غیر روایتی معاشرہ قائم کر سکتے ہیں، اور یہ اُن کا پختہ عقیدہ تھا، جس پر انھوں نے کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ وہ افواج، بے جان بیورو کریسی، اور ٹکڑوں میں بٹی ہوئی حکومت پر کبھی بھی اعتماد نہیں کرتے تھے۔ لیکن جیسا کہ اقبال احمد نے Debray پر اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ اگر غیر روایتی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اُن روایات کا احترام نہ کیا جائے، جن امور سے مرد و زن کو راحت ملتی ہے تو انہیں نا پسند کیا جانے لگےگا، اور انسانی زندگی میں یکسانیت کے پیدا ہونے کو روکنا وغیرہ؛محض ان امور کو غیر روایتی کہہ دینا ناکافی ہے۔ اقبال احمد نہایت سمجھ دار اور حقیقت پسند انسان تھے، انہیں اس امر کا بخوبی احساس تھا کہ انقلابی مقاصد سے معاشرے میں ہلچل پیدا کر دینا اور اس مقصد کی آڑ میں یہ نظر انداز کر دینا کہ انسانوں میں باہمی محبت پائی جاتی ہے، وہ خوشیاں بھی مناتے ہیں اور تقریبات میں حصہ بھی لیتے ہیں؛ ایک بے رحمانہ اور تخریبی فعل ہے۔اس سے شاید انقلاب تو لایا جا سکتا ہو گا لیکن اس سے اس انقلاب کا غلط ہونا کسی طور ہم نظر انداز نہیں کر سکیں گے۔

اقبال احمد نے Debray کو اس خام خیالی میں رہنے کی کھلی چھوٹ دی ہے کہ وہ پہاڑوں میں رہنے والا ایک گوریلا ہے (اور انسانی معاملات سے یکسر نا بلد ہے) لیکن ساتھ ہی ایسے عناصر کی اصلاح بھی کی ہے جو اس امر کے عکاس ہیں کہ Debray نے انسان کی سیاسی اور سماجی زندگی کے حقائق کا دقتِ نظر سے مطالعہ نہیں کیا۔ اور لکھا ہے کہ شخصی خوبیاں اور اجتماعی تجربات بآسانی قومی مزاج کا حصہ نہیں بنتے، نہ ہی عوامی اداروں میں ڈھلتے ہیں۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ Debray کی کم نگاہی نظریاتی طور پر امریکہ کی بھی معاون ہے جسے ہم Walt Whitman Rostow کی شخصیت میں مجسم دیکھ سکتے ہیں۔اگر انقلاب سچا ہو تو عوامی تحریک ہمیشہ جمہوری اداروں کی تشکیل کا وسیلہ بنتی ہے۔ لیکن اس حقیقی دنیا میں، جہاں انسان بستے ہیں، ڈیبرے کا نظریہ، محض عارضی نتائج کا محرک ثابت ہوتا ہے۔ اگرچہ اقبال احمد نے ڈیبرے پر شدید نقد کیا ہے لیکن ساتھ ہی انہوں نے اُس کے کام کو سراہتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ یہ ایک دائمی کشش رکھتا ہے۔

اقبال احمد کی بیشتر تحریرات کی بنیاد ان کے پاکستان اور ہندوستان میں بیتے تجربات اور الجزائر میں گزرا وقت ہے۔ نہ وہ تاریخیں یاد رکھتے ہیں نہ اپنی کامیابیوں کے ذکر میں وقت ضائع کرتے ہیں؛ اور ان کی انہی عادات کے سبب میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ یہ دور (جو انھوں نے پاکستان، ہندوستان، اور الجزائر میں گزارا) ان کے کام میں مرکزی اہمیت کا حامل رہا ہے۔ وہ سب سے زیادہ اہمیت انسانی عنصر (human factor) کو دیتے تھے اور پھر دشمن کی صف کے منتشر کرنے کو۔ دشمن سے صرف لڑنا ان کی نظر میں ناکافی تھا۔ وہ نو آبادیاتی حاکمیت یا ایسی حاکمیت جو مبنی بر انصاف نہ ہو، دونوں کو نہ صرف خلاف قانون سمجھتے تھے بلکہ انہیں آئینی طور پر خلافِ قانون قرار دینے کو اہم تر جانتے تھے۔ اور ایسی مساوی تنظیموں کے قیام کے حمایتی تھے جو عوام کو اس استحصال سے نجات دلانے کا ذریعہ ہوں۔ سب سے اہم یہ کہ وہ جنگی ڈھانچوں کو قومی اور جمہوری اداروں میں تبدیل کرنے کی مسلسل تلقین کرتے ہیں۔ اقبال احمد نے الجزائر پر مضمون میں پہلے دو عوامل کو کامیاب اور تیسرے کو ناکام قرار دیا۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ الجزائر کے پہلے صدر نے بھرپور طاقت اپنے ہاتھ میں لے لی۔ اس کے بعد حوری بوم دین (Houari Bournedienne)نے بھی اسی طریقۂ کار کو جاری رکھا جس سے نیشنل لبریشن فرنٹ(National Liberation Front) کمزور پڑ گیا۔ اور اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ظالم اور خونخوار بیوروکریسی نے الجزائر کو خون میں نہلا ڈالا ہے۔ اس سب کے باوجود اقبال احمد کا انقلابی فتح پر ایمان متزلزل نہیں ہوا اور حقیقی آزادی کے اعتبار سے وہ کبھی نا امید نہیں ہوئے۔ اس ضمن میں ان کے دوست Franz Fanon پر ان کے نمایاں اثرات دیکھے جا سکتے ہیں۔ فینن کے مطابق سفید فام سپاہی کو اس لئے بے دخل نہیں کیا جاتا کیونکہ بھورے، سیاہ فام اس کی جگہ لے لیں گے۔ اور یہ ایسی آزمائش ہے جس سے نکلنے میں نو آبادیات سے آزاد شدہ اکثر ممالک ناکام رہتے ہیں۔

1980 اور 1981 میں Arab Standard Quarterly کےلئے جس زور دار انداز میں اقبال احمد نے تین مختصر مضامین لکھے (جو تیسری دنیا میں اقتدار کی ہوس سے متعلق تھے)، کوئی اور اس شدتِ احساس اور گہرائی سے نہیں لکھ پایا۔ دوسرے درجے کے مفکرین اور مارکسسٹ مفکر جو معاصر علمی اور لبرل جرائد کے صفحات بھرتے ہیں، ان کے برعکس اقبال احمد انقلابی نظریات اور ان سے منسوب وعدوں کے وفا ہونے پر پورا یقین رکھتے تھے۔انہوں نے برسوں عرب، پاکستان، اور الجزائر کی عسکریت کے بارے میں جذبات سے لبریز خطابات کئے اور اپنے سامعین کو انسانی حیات کے تقدس اور اُن اعلیٰ اخلاقی مواقف سے بخوبی آگاہ کیا جو آمروں اور ان کے ہم نوا دانشوروں کے ہاتھوں پامال ہوئے۔

اقبال احمد اپنے عزیز دوست اور اردو کے عظیم شاعر فیض احمد فیض کے تخلیقی جوہر اور علم و عرفان کے از حد معترف تھےاور فیض کے یہ اوصاف ان کی نظر میں سیاسی زندگی گزارنے والے شخص کےلئے ایک معیار کا درجہ رکھتے ہیں، جبکہ لمبی موٹر کاریں اور طاقت کے نشے سے مخمور بیوروکریسی ان کے نزدیک چنداں اہمیت نہیں رکھتی۔ اُن کا پیمانہ انسان تھا، نہ کہ کوئی مجرد قانون یا اخلاق سے بے نیاز طاقت۔

میرے خیال میں ان مقاصد سے جڑے رہنا اور اصولوں پر قائم رہنا بہت مشکل ہو گا۔ اقبال احمد کا بیشتر تحریری کام اور عملی جدوجہد، دونوں کی ظہور پذیری ایک تاریک دور میں ہوئی۔ انہوں نے کرۂ زمین پر صرف سامراجی تباہ کاریوں اور نا انصافیوں کا ہی بھرپور جائزہ نہیں لیا بلکہ اسلامی ممالک اور سماج، دونوں کی خامیوں اور افسوس ناک صورتحال کی بھی بھرپور عکاسی کی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ انہوں نے ہمیں یہ بھی باور کرایا کہ وہ محض مذہبی اور ثقافتی جنون پر ماتم کناں نہیں تھے (اور جسے مغرب نے بھی غلط طور پر سمجھا تھا) بلکہ تنگ نظر مذہبی تحاریک کے فروغ پانے کا بھی انہیں افسوس تھا۔ وہ عرب نہیں تھے لیکن انہوں نے عربوں کو اس امر پر توجہ دلائی کہ عرب نیشنل ازم محدود طرز کا نیشنل ازم نہیں ہے، بلکہ نیشنل ازم کی تاریخ میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے، کیونکہ اس نے سرحدی حد بندی سے باہر نکل کر ایک ہمہ گیریت قائم رکھنے کی کوشش کی ہے۔اس نے جذبات کے بل پر ایک عالم گیر برادری تشکیل دینے میں کامیابی کے بہت قریب پہنچ کر دکھایا، یعنی جو کوئی بھی اپنے احساس، اپنی زبان، اور اپنے کلچر میں عرب ہے، وہ عرب ہے (یعنی عرب ہونے کےلئے آپ کا سر زمینِ عرب میں ہونا ضروری نہیں۔ مترجم) اس اعتبار سے ایک یہودی عرب ہے، ایک عیسائی عرب ہے، ایک کرد عرب ہے، میں کسی ایسی قومی تحریک سے واقفیت نہیں رکھتا جس نے اپنی قومیت کی تعریف (definition) میں اتنی وسعت اختیار کی ہو۔ ایسی صورت اور ایسے ورثے کے ہوتے ہوئے بھی، اقبال احمد نے ان تصورات اور اقدار کی تنزلی دیکھی جو عرب اور مسلمانوں دونوں میں یکساں تھے۔ یہاں میں پھر سے اقبال احمد کی ایک بات کو نقل کرتا ہوں، ان خیالات کا اظہار انہوں نے خلیجی جنگ کے بعد 1993 میں کیا:
“ہم بد قماشوں کے عہد میں جی رہے ہیں۔ مسلم تاریخ کا یہ ایک تاریک دور ہے جو اطاعت گزاری اور (کمزور ہونے کے باعث۔ مترجم) سامراج سے تعاون، اور جنونیت سے مملو ہے۔ ہمارے تہذیبی زوال کا آغاز اٹھارویں صدی میں ہوا جب ہم روایات پر سختی سے کاربند رہے اور روشن خیالی اور سائنسی انقلابات کو نظر انداز کر دیا۔بیسویں صدی کے نصف آخر میں، یہ گراوٹ مکمل ہو گئی۔میری زندگی ہتھیار ڈالنے اور شکست قبول کرنے کے عوامل کو دیکھنے میں گزری ہے، اور میں نے بہت دفعہ یہ تصور کیا؛ 1948 میں جب میں ایک چھوٹا سا بچہ تھا، 1967 میں جب میں ایک نوجوان تھا، اور 1982 میں جب میں ادھیڑ عمری میں ہوں، میرا زندگی کا ہر ہر دور شکست کے ذائقے سے واقف ہے اور ہمارا حال پستی کی انتہا کا عکاس ہے؛ اب اگر دوبارہ ہمیں شکست ہوئی تو کم از کم ہم عزت کے ساتھ ہاریں گے کیونکہ مزید ذلت اٹھانا اور مزید پستی میں جانا ممکن نہیں ہے۔اور خوش قسمتی سے، جب صدام حسین نے خلیجی جنگوں کو جنگوں کی ماں قرار دیا تو مجھے خوش امیدی کی ذرہ برابر جھلک بھی ان دعووں میں دکھائی نہیں دی۔

ایک جانب یہ عوامل کارفرما تھے تو دوسری جانب ایک ہمہ جہت انحطاط تھا جسے انہوں نے علیحدگی پسندی اور فسطائیت سے تعبیر کیا۔ یہ دونوں رجحانات علامتی طور پر باہم منسلک ہیں۔ پاکستان کے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو اور جنرل محمد ضیاء الحق اور ان کے منظور نظر افراد نے بیک وقت جی بھر کے ملک کے وسائل کو بھی لوٹا اور عوام کے حوصلوں کو بھی پست کیا۔انہوں نے ملک کو اپنے تابع کرنے اور سماجی سرکشی کو دبانے کی بھرپور کوشش کی لیکن ناکام رہے، اور اس کی قیمت خون بہانے اور سرمائے کی غارت گری کی صورت میں ادا کی۔ باقی کے مسلمان ممالک میں اگرچہ وہ اسلام ازم کی وجہ نہیں تھے لیکن انہوں نے اسلام ازم پر ممالک کو اکسایا ضرور تھا، اور بطور سیکولر سٹ(Secularist)، اقبال احمد ہمیشہ سے اس کے مخالف تھے۔ اور ہمیشہ جدوجہد اور ایکٹیو ازم پر یقین رکھنے والے اقبال احمد نے ہمت نہیں ہاری اور مسلسل لکھتے رہے۔

1994 میں انہوں نے عظیم عرب مؤرخ اور علمِ سماجیات کے بانی ابن خلدون کے نام پر پاکستان میں Pakistan-Khaldunia نام کی جامعہ قائم کرنے کے عظیم منصوبے پر کام کرنا شروع کیا۔ اقبال احمد ہوائی چکیوں سے لڑنے والے Don Quixote (ڈان کیخوتے) تو تھے نہیں، بلکہ مارکسسٹ مفکر (انطونیو) گرامچی کی طرح انہوں نے اپنا نصب العین “ذہانت کی یاسیت اور جذبے کی رجائیت” کو بنایا۔ اور یہی اقبال احمد کی انفرادیت کی دلیل تھی۔ ان کے نزدیک اسلام، امریکی آئیڈیلزم، اور عرب ازم؛ تینوں ایسے خزانے ہیں جن سے بہت کچھ کشید کیا جا سکتا ہے، باوجود اس کے کہ یہ اقالیم ضیاء الحق اور ہنری کسنجر جیسےآمروں کے زیرِ بار رہے، ایسے آمر جو جس چیز کو بھی ہاتھ لگاتے وہ تباہ ہو جاتی۔

اقبال احمد نے جو بھی لکھا یا عملی طور پر کیا، اس میں سب سے زیادہ جس امر نے مجھے متاثر کیا اور اقبال احمد کو گہرائی سے سمجھنے میں مدد دی، وہ اُن کا میرے لوگوں، یعنی فلسطینیوں سے غیر متزلزل تعلقِ خاطر اور یک جہتی تھا۔ وہ تمام مہاجرین، کیمپوں میں پسِنے والے، اور لٹے پٹے راندہ درگاہ، جنہیں ان کے اپنے حکمرانوں، مسلمانوں، اور عربوں نے بھلا ڈالا تھا؛ اقبال احمد اُن کے لئے چراغِ راہ تھے۔ کوئی بھی فلسطینی ان کی حوصلہ افزائی کو کبھی نہیں بھلا سکتا۔ میں نے اپنی آنکھوں سے اقبال احمد کو فلسطینی نوجوانوں، راہنماؤں، دانشوران، بچوں، بوڑھوں کے ساتھ گھلتے ملتے اور ان کا دکھ درد بانٹتے دیکھا ہے۔ اور مجھے ان لوگوں کی آنکھوں میں اقبال احمد کی جرات، تابناکی، اور حقیقی انسانیت نوازی کی جھلک نظر آتی ہے۔ اقبال احمد نے فلسطینیوں کی مدد کا کوئی مادی یا فکری مفاد حاصل نہیں کیا، اور یہ ان کی مدد کا سب سے قابلِ ذکر پہلو ہے۔اور اسی لئے سب فلسطینی ان کے احسان مند ہیں۔ فلسطین اپنی حقیقت میں ایک ایسی کاوش ہے جس کے بدلے آپ کبھی تحسین وصول کر بھی نہیں سکتے۔ جس نے بھی فلسطین کی مدد کرنا چاہی، بدلے میں اسے دنیا نے نفرت، حقارت، اور دھتکار سے نوازا اور اقبال احمد نے ان سب رسوائیوں کو برداشت کیا ۔ہمارے ساتھ جرات مندانہ اور غیر مصالحانہ دوستی کی انھوں نے بھاری قیمت ادا کی۔ اقبال احمد کا نقصان صرف یہی نہیں ہوا کہ ان کے دنوں اور مہینوں، اور سالوں کا ضیاع ہوا، انہیں مایوسیاں جھیلنا پڑیں، فلسطینیوں کی زندگیاں مسخ ہونے کی اذیت اٹھانا پڑی، ہزیمت اٹھانا پڑی، منصوبہ بندیوں میں ناکامی دیکھی؛ ان سب سے بڑھ کر اقبال احمد کو اپنے پیشے اور لکھنے کے کام میں بہت نقصان اٹھانا پڑا، جس کا کبھی انہوں نے بھولے سے بھی ذکر نہیں کیا۔ فلسطین کیلئے کوشش کرنا اس وجہ سے بہت مشکل ہے کیونکہ یہ حق کےلئے لڑائی ہے۔ ساتھ ہی اس کے حق میں کچھ بھی کہنا خطرے سے خالی نہیں ہوتا۔ ان سب کے باوصف اقبال احمد نے جس محنت اور دیانت کے ساتھ فلسطین کے لئے کوشش کی، اس کا حوصلہ صرف اقبال ہی میں تھا۔

کتنے ہی ایسے دوست ہیں جو فلسطین کے مسئلے سے پہلو تہی کرتے ہیں۔ کتنے ہی دوست فلسطین کے مسائل میں الجھنے سے دامن کش رہتے ہیں۔ کتنے ہی روشن خیال ہیں جو بوسنیا، چیچنیا، صومالیہ، روانڈا، جنوبی افریقہ، نکاراگوا، ویت نام، یا اس کے علاوہ کہیں بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر کچھ نہ کچھ لب کشائی ضرور کرتے ہیں لیکن فلسطین اور فلسطینوں کے مسئلے پر ہمیشہ خاموش رہتے ہیں۔ لیکن اقبال احمد ایسے نہ تھے۔ وہ اپنی جرات، بے باکی، اور بے لاگ اظہارِ رائے کی بناء پر اپنے مصلحت پسند دوستوں کو ہمیشہ شرمندہ کئے رکھتے۔ وہ مسئلۂ فلسطین پر بولتے رہے، لکھتے رہے، اور اس کی اہمیت اجاگر کرتے رہے۔ اس ضمن میں اقبال احمد کا رویہ اس بچے کا ہے جو بڑوں کے ڈرانے سے نہیں ڈرتا اور بڑے جن باتوں کو راز بنا کر اور چھپا کر رکھتے ہیں، اُن رازوں کو عیاں کر دیتا ہے۔ اقبال احمد نے جو کچھ کہا، جو کچھ لکھا؛ اس ضمن میں میرے اور بہت سے ساتھی ان کے شکر گزار ہیں۔ انہوں نے ہمارے لئے جو کچھ کیا اسے ہم کبھی نہ بھلا پائیں گے۔ وہ کبھی مدح و ستائش کے طالب نہ ہوئے، کبھی بھی۔ وہ نہایت سنجیدہ اور متین انسان تھے، ہماری (یعنی ہم فلسطینیوں کی۔ مترجم) خود ارادیت کے لئے جدو جہد کے حامی بھی اور بیک وقت ناقد بھی۔ ہمیشہ مثبت رویہ اختیار کیا۔ ان کی تجاویز مبنی بر حقیقت بھی ہوتی تھیں اور دور رس بھی۔ مگر افسوس کہ ان میں سے کسی پر بھی عمل نہیں کیا گیا۔

اقبال احمد کا اسرائیلی یہودیوں کے بارے میں رویہ ہمیشہ میرے لئے حیرت کا باعث رہا اور میں اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکا، کیونکہ وہ اسرائیلی یہودیوں کے بارے نزاکت اور حساسیت رکھتے تھے۔ 1987 میں انہوں نے یہودی راہنماؤں سے ملاقات کی اور یہ بتایا کہ فلسطینی جس مسئلے سے دوچار ہیں وہ دو قوموں کا مسئلہ ہے، ایک قوم کا نہیں۔ دونوں اطراف کے مسائل کے بارے میں ان کا شعور اس قدر پختہ اور بے لوث ہے کہ وہ سازشی نظریات اور یہودی دشمنی کا کبھی شکار نہیں ہوئے۔ وہ اسرائیلی یہودیوں کے بارے میں جب بھی بات کرتے، نہایت شریفانہ انداز میں کرتے اور غیر اسرائیلی یہودیوں کا بھی خاص خیال رکھتے جن کے بارے میں ان کے ناقدین کا رویہ بالعموم بے رحمانہ ہوتا تھا۔

70 کی دہائی میں انہوں نے ایک شان دار تجویز پیش کی جو ان کے غیر متشددانہ رویے سے ہم آہنگ تھی۔ اور وہ یہ تھی کہ پی ایل او، کو چاہئے کہ وہ اردن، لبنان، اور شام کی سرحدوں سے اسرائیلی حدود کی طرف فلسطینیوں کا مارچ منظم کرے۔ 1950 میں امریکہ میں شہری حقوق پر ہونے والے مارچ سے متاثر ہو کر اقبال احمد نے یاسر عرفات اور اس کے رفقاء پر زور دیا کہ وہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو بغیر ہتھیار کے اسرائیلی سرحدوں کی جانب پیش قدمی پر آمادہ کریں۔ انہوں نے صرف بینر اٹھا رکھے ہوں جن پر لکھا ہو “ہم واپس اپنے گھروں کو جانا چاہتے ہیں۔” مجھے یاد ہے جب میں نے فلسطینی راہنماؤں کو اقبال احمد کی یہ تجویز بتائی تو ان کے چہروں پر بے یقینی اور خوف وہراس کے سائے لہرانے لگے، بالخصوص جب میں نے یہ زور دیا کہ یہ پیش قدمی مکمل طور پر پر امن ہونی چاہئے۔ اس زمانے میں اقبال احمد ہتھیاروں کے استعمال کے سخت مخالف تھے۔ وہ “مسلح جدوجہد” کی نعرے بازی، فلسطینیوں کی فکر اور تنظیمی فکر سے ناخوش تھے۔ بیروت میں جب اقبال احمد کے لئے ایک سیمینار کا اہتمام کیا گیا، وہاں انہوں نے نہایت درد مندی کے ساتھ یہ حکمت علمی اختیار کرنے کی تجویز دی کہ امریکہ میں فلسطینیوں کے لئے انسانی حقوق کی ایک تحریک کو منظم کیا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ اس ضمن میں امریکی کانگریسی حلقوں، لیبر یونینز، کالجز، اور گرجا گھروں جیسے سول اداروں کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل کرنی چاہییں۔ اور اس کے لئے اول درجے کی ہوائی ٹکٹوں پر آنے والا خرچ، بیوروکریسی، اور شراب کی بوتلوں پر جو خرچ آتا ہے، اس کا دسواں حصہ ہمیں درکار ہو گا۔ ایک دہائی بعد انہوں نے تیونس میں موجود جلا وطن فلسطینی راہنماؤں کے سامنے پھر سے یہی تجاویز رکھیں۔ مگر افسوس کہ اس کا نتیجہ بھی پہلے سے مختلف نہ تھا۔ بعد ازاں یاسر عرفات نے مجھے کہا کہ تم اور اقبال احمد ہمیشہ مجھے کہتے ہو کہ میں امریکہ کو سمجھنے کی کوشش کروں۔ اس ضمن میں میں نے پی ایل او کی اعلیٰ ترین سطح پر امریکہ کے لئے ایک کمیٹی قائم کی ہے جو تحقیق کرے گی، ہمیں مفید مشوروں اور آراء سے نوازے گی، اور تمام ممکنہ عوامل سے ہمیں آگاہ کرے گی۔ مجھے امید ہے کہ تم دونوں دیکھو گے کہ تمھاری خواہشات پایۂ تکمیل کو پہنچیں گی۔ ایک برس بعد مجھے معلوم پڑا کہ اگرچہ مجوزہ کمیٹی بنا تو دی گئی تھی لیکن وہ ایسے ہی تھی جیسے Gulliver’s Travels سے باہر آئی ہو۔ تمام اراکین میں سے ایک بھی انگریزی زبان سے واقف نہیں تھا۔ کبھی کوئی اجلاس انہوں نے منعقد نہیں کیا۔ ایک کل وقتی ریسرچ خاتون کو مقرر کر دیا۔ یہ خاتون بہت ذہین تھیں۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ ان کی “ریسرچ” محض یہ تھی کہ انہوں نے کمیٹی کے اراکین سے ٹائم میگزین اور کبھی کبھار انٹرنیشنل ہیرلڈ ٹریبیون خریدنے کی اجازت لے لی۔ یہ تھی ایک مستعد اور صاحبِ نظر لیڈر شپ۔

میرا خیال ہے میں اور اقبال احمد دونوں ہی یہ جانتے تھے کہ عنقریب کچھ نہ کچھ ہونے والا ہے۔ ہونے والا یہ تھا کہ یاسر عرفات اور اس کے ہمنواؤں کا امریکہ کے ساتھ معاملہ طے پا جائے کہ انہیں اقتدار میں رہنے دیا جائے۔ بالفاظ دیگر اسرائیلی قبضہ جوں کا توں برقرار رہے اور یہ اسرائیل کے شریک بنے رہیں۔ اقبال احمد ان چند لوگوں میں سے تھے جنہوں نے اوسلو میں ہونے والے ان معاہدوں کے خلاف آواز بلند کی۔ وہ انہیں کمزور لوگوں کا امن کہتے تھے جبکہ عرفات مسلسل کہتے رہے کہ نہیں یہ بہادروں کا امن ہے، جیسے عرفات کسی قوم کا نہیں بلکہ بیس بال ٹیم کا ذکر کر رہے ہوں۔اقبال احمد نے کہا کہ تاریکی کی محض مذمت کر کے ہی مطمئن نہ ہو جاؤ، 1996 میں انہوں نے بیت المقدس کے حادثے کے موقع پر مجھ سے یاسر عرفات کے آئندہ اقدامات کے بارے میں صاف، واضح، اور دو ٹوک باتیں کیں کہ اس صورت حال میں انہیں کیا کرنا چاہئے۔ اور چند ہی دنوں بعد میں نے عربی اخبارات کے اپنے مستقل کالمز میں اقبال احمد کی تجاویز کی بابت لکھا۔

اس وقت تک اقبال احمد اور میں مقامی اخبارات میں کالم لکھنے لگ گئے تھے۔ ہم نے محسوس کیا کہ نیو یارک ٹائمز میں چھپنے کا خیال چھوڑ کر اپنی عوام سے مقامی پریس کے ذریعے مخاطب ہونا چاہئے۔

اقبال احمد کی تجویز یہ تھی کہ یہودیوں کی آباد کاری کے خلاف بے مقصد لڑائیاں لڑنے کی تحریک پر یہ مباحثے کرنا کہ آیا یہ قانونی ہیں یا غیر قانونی، اس بحث میں پڑنے کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا اور انسانی جانوں کا ضیاع الگ ہو گا (جو ہوا بھی)۔ اس کے برعکس عرفات کو چاہئے کہ وہ اسرائیل کی جانب ایک غیر مسلح ہجوم کو لے کر چلے اور انہوں نے بینر اٹھا رکھے ہوں جن پر یہ لکھا ہو کہ “ہم غیر مسلح ہیں اور آپ سے لڑنا نہیں چاہتے۔ لیکن جو اینٹیں اور پتھر آپ پھینکیں گے، اُن کا مقابلہ ہم کریں گے۔” لیکن عرفات نے ایسا نہ کیا اور ٹس سے مس نہ ہوئے۔ انہوں نے فلسطین میں عام ہڑتال کا اعلان کیا جس سے صرف فلسطینیوں کو نقصان ہونے کے اور کچھ حاصل نہ ہوا، ان کی دکانیں بند رہیں اور کاروبار میں انہیں خسارہ ہوا۔

اقبال احمد نے درپیش صورتحال کا جائزہ نہایت قطعیت اور جز رسی کے ساتھ پیش کیا، جو ان کی تمام تحریرات کا خاصہ ہے۔ انہوں نے دیکھا کہ اسرائیلی حکومت یہودی آبادی کو اسرائیلی شہروں اور بندرگاہوں سے ملانے کےلئے سڑکیں، شاہراہیں، اور سلسلۂ مواصلات قائم کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے اور فلسطینی آبادی کو ان انتظامات سے باہر رکھے ہوئے ہے۔ جو خودمختار علاقے ہمارے پاس ہیں ان کا انتظام اگرچہ فلسطینی اتھارٹی کے پاس ہے لیکن اختیارات ان کے پاس نہیں ہے؛ نہ ہی زمین ان کی ہے، نہ ہی پانی کی حفاظت کر سکتے ہیں، نہ ہی اسرائیلی اجازت کے بغیر یہاں صنعتیں قائم کر سکتے ہیں۔ ان علاقوں کی طرز قبائلی ہے جنہیں ہم چاہیں تو فلسطینی اتھارٹی کا نام دے سکتے ہیں- اور اسرائیل یہ چالاکی دکھا رہا ہے کہ اپنا قبضہ بھی برقرار رکھے ہوئے ہے لیکن مقبوضہ آبادی کی بابت اپنی ذمہ داریوں سے بھی دستبردار ہو رہا ہے۔

یہ اسرائیل کی ایک “شان دار” سکیم ہے، جو اب تک کامیاب بھی چلی آ رہی ہے۔ ایک نسلی ریاست کی جنتِ ارضی (Utopia) جو نہایت روشن خیال اور تاریخی اعتبار سے مسلمہ انسانیت نواز لوگوں کے ہاتھوں اور مقامی سیکولر لوگوں، دونوں کی باہمی رضامندی سے تعمیر کی جا رہی ہے۔ اگر یہ رجحان کچھ عرصہ مزید برقرا رہا تو آنے والے وقت میں اسرائیل اور فلسطین عہدِ رفتہ کی یاد تازہ کریں گے اور ایک نیا نسل پرست جنوبی افریقہ وجود میں آئے گا۔

بحیثیت ایک فعال کارکن، استاد، سکالر، دانش ور، اور دوست کے؛ اقبال احمد کا کام خاصا وقیع تھا۔ بہت کم لوگ ایسے ہوں گے جنہوں نے اقبال احمد کی طرح بے کراں سمندروں اور سرحدوں کو اپنائیت کے احساس کے ساتھ عبور کیا، اور وہ کبھی بھی پیشہ وروں کی ادق اور پیچیدہ اصطلاحات سے مرعوب نہیں ہوئے۔ اپنی زبان انہوں نے نہایت شائستگی سے استعمال کی، اسے باریک بین تجزیوں کا وسیلہ بنایا اور انسانیت سے متعلق اپنے تجربات کو نہایت جامعیت سے بیان کیا۔ذیل میں اُن کا ایک پیش لفظ ہے جو انہوں نے خلیجی بحران پر Beyond the Storm: A Gulf Crisis Reader میں جس کا عنوان Portent of a new Century ہے، تعمیم کو جس شاندار طریق پر استعمال کیا ہے، جس طرح طنز سے بھرپور انداز میں تلخ حقائق بیان کئے ہیں، وہ انہی کا خاصہ ہے۔ اور ان کے ایک جملے کی بصیرت Samuel Huntington اور Zbigniew Brzezinski جیسے خود پسند مصنفین کی پوری پوری کتابوں کا موضوع بن سکتی ہے۔

پیش لفظ میں اقبال احمد لکھتے ہیں: “بیسویں صدی اس اعتبار سے قابلِ ذکر ہے کہ اس نے بیک وقت امید اور نا امیدی کو جنم دیا ہے۔اور جوں جوں اس کا اختتام قریب آ رہا ہے، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس کا انجام بھی اس کے آغاز جیسا ہی ہو گا: ایک نئی صبح کی امید اور ایک پر امن ورلڈ آرڈر، جس کا خواب سیاست دان اور ماضی سے جڑے جنگجو دیکھ رہے ہیں۔

تین صدیوں سے جدید دنیا سائنس، ٹیکنالوجی، اور سامراج کے ذریعے اپنی ہیئت بدل رہی تھی۔ سرمایہ داری اور یوروپی توسیع نے عالمی نظام پر مغرب کو قابض کیا۔ بین الاقوامی منڈی پر مغرب کی اجارہ داری قائم ہوئی، اس قدر کہ بین الاقوامی منڈی مغرب کے لئے مختص ہو کر رہ گئی۔ بظاہر یہ بڑا خوش گوار محسوس ہوتا ہے کہ جیسے آزاد منڈی واقعتاً آزاد تھی نیز ا ہل و مستحق افرادا ور اقوام کے کام آ رہی تھی، لیکن ایسا نہیں تھا۔ مغرب نے اپنی اجارہ داری طاقت کے بل پر قائم کی۔ وہ نہایت وسیع اور منظم تھی اور اسے مذہبی اور اخلاقی جواز بھی حاصل تھا۔ اور آج تک عالمی سطح پر تشدد کا وہی مغربی نظریہ مغرب اور غیر مغربی دنیا کے مابین تعلقات کی صورت گری کر رہا ہے۔”

اقبال احمد کی درج بالا سطور پڑھتے ہوئے آپ نے محسوس کیا ہو گا کہ آپ سے امید اور یقین سے بھرپور آواز مخاطب ہے، نہ کہ کوئی لیکچر جھاڑتا ہوا لیکچرار۔یہی اقبال احمد کی خوبی ہے، اقبال احمد جو ایک دوست، طالب علم، محقق، جستجو کا شیدائی، انصاف پر کاربند، اور انصاف کا جویا ہے، جس نے عقل اور استدلال سے ہٹ کر کبھی بھی کچھ نہ لکھا۔ مجھے برسوں افسوس رہا اور یقیناً آپ کو بھی ہو گا کہ اقبال احمد نے کوئی بڑی (ضخیم) کتاب نہیں لکھی لیکن پھر بھی مجھے احساس ہے کہ انھوں نے بہت کچھ لکھا ہے جو ادھر ادھر بکھرا ہوا ہے۔ان کے صحافیانہ تجزیے، انٹرویو، عالمانہ تحریرات، مضامین ؛ سب دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں۔

انٹرویو دینے سے اقبال احمد نے کبھی گریز نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ جہاں بھی جاتے لوگ انٹرویو لینے کےلئے ان کے گرد جمع ہو جاتے۔ اقبال احمد کو ایک پیشہ ور سکالر کا انداز اپنانے پر قائل کرنا سمندر میں ہل چلانے کے مترادف ہے۔ اس میں کوئی کامیاب نہ ہوا لیکن جب 1997 میں وہ Hampshire کالج سے ریٹائر ہوئے تو انہوں نے مجھ سے مشورہ مانگا کہ وقت کیسے گزارا جائے، اور یہ کہ وہ اپنی تحریرات میں کن امور پر توجہ دیں۔ اس پر مجھے بہت خوشی ہوئی اور میرا حوصلہ بڑھا لیکن میں تب انہیں ایسا کوئی مفید مشورہ نہیں دے سکا جس کی انہیں توقع تھی۔ بعد ازاں کچھ مزید سوچ بچار کے بعد انہیں میں نے یہ تجویز دی کہ وہ وہی کرتے رہیں جو وہ اب تک بہترین طریق پر کرتے رہے ہیں لیکن خدارا ہم سب کے لئے، اور سب نوجوانان کے لئے، انہیں یہ یاد رکھنے کی کوشش کرنی چاہئے کہ ایک قادر الکلام شخصیت ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بلند سطح کے مسلمان دانشمند ہونے کے ناطے، اور ہم سب جو اُن کے ‘چمچے’ ہیں یا پھر شاگرد ہیں؛ انہیں اپنے الفاظ کو تقریر اور ٹیپ ریکارڈ کو سونپ کر نہیں جانا چاہئے بلکہ ان سب کو جمع کر کے بے شمار جلدوں کی صورت میں شائع کرنا چاہئے تاکہ ہم سب انہیں پڑھ سکیں۔ تب وہ لوگ جو انہیں جاننے کا شرف نہیں رکھتے، یہ جان سکیں گے کہ وہ کتنی قد آور، حیران کُن،خداداد صلاحیتوں کی مالک شخصیت تھے۔ اور یہ بھی جان سکیں گے کہ اقبال احمد انہی الفاظ کے مصداق ہیں جو Wordsworth نے Milton کے لئے لکھے تھے : “دنیا کو تمہاری ضرورت ہے”

Categories
نقطۂ نظر

سب یہودی سازش ہے؟

پاکستان میں میڈیا کے فروغ سے معلومات کی جل تھل نے ذہنوں کو سیراب کرنے کی بجائے فکر و تدبر کی کھڑی فصلوں کو گزند پہنچائی اور ایسا سیلاب برپا ہوا جو عقل و منطق کو بھی بہا کر لے گیا،بالکل ٹھیک کہا جاتا ہے کہ ہر شے کی ضرورت سے زیادہ دستیابی بھی برے نتائج دیتی ہے۔ ذرائع ابلاغ اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر غیر مصدقہ مواد کی بہتات سے ہر اطلاع، خبر اور اصطلاح کومشکوک بنا دیا ہے۔ معلومات اور اطلاعات تک رسائی کی اس اکیسویں صدی نے پسماندہ معاشروں میں ایسی ایسی اصطلاحات ایسے ایسے مفاہیم کے ساتھ رائج کی ہیں کہ ہرواقعہ ایک سازش اور ہر نظریہ ایک مفروضہ نظرآنے لگا ہے۔
جب بھی کسی فرد یا ادارے نے ریاست اور معاشرہ کو معروضیت اور تحقیق کا راستہ دکھانے کی کوشش کی اسے انہی میں سے کسی ایک ‘خطاب’ سے نوازا گیا۔ یہ جانے، سمجھے بغیر کہ کیا واقعی تمام یہودی ، امریکی اور اسرائیلی پاکستان اور اسلام دشمن ہیں بھی کہ نہیں ،انسانی حقوق اور آزادیوں کے لئے آواز بلند کرنے والا ہر ادارہ اور فرد یہودی و صیہونی لابی کا ایجنٹ قرار پایا۔
پاکستانی معاشرے میں کمیونزم ،سوشلزم ، سیکولرازم ، لبرل ازم ، انقلاب، استعماراور سرمایہ داری وغیرہ جیسی اصطلاحات تومتنازعہ ہو کر اپنا مفہوم کھو چکی ہیں، لیکن مغرب ، یہودی لابی ، فری میسن اور صیہونیت جیسے الفاظ جس حد تک بدنام ہو چکے ہیں اس کی مثال نہیں ملتی۔جب بھی کسی فرد یا ادارے نے ریاست اور معاشرہ کو معروضیت اور تحقیق کا راستہ دکھانے کی کوشش کی اسے انہی میں سے کسی ایک ‘خطاب’ سے نوازا گیا۔ یہ جانے، سمجھے بغیر کہ کیا واقعی تمام یہودی ، امریکی اور اسرائیلی پاکستان اور اسلام دشمن ہیں بھی کہ نہیں ،انسانی حقوق اور آزادیوں کے لئے آواز بلند کرنے والا ہر ادارہ اور فرد یہودی و صیہونی لابی کا ایجنٹ قرار پایا۔ اسی طرح پاکستان اور عالم اسلام کو درپیش مسائل کے حقیقی اسباب کی تحقیق کئے بغیر غربت، پسماندگی، دہشت گردی ، کشمیر، فلسطین سمیت تمام مسائل کا ذمہ دار یہودو ہنود ، امریکہ و اسرائیل اور مغرب ٹھہرا دیا گیا ہے۔ اگرذرا دیر کو یہ مان بھی لیا جائے کہ پاکستان اور عالم اسلام کے عوام، نظریات، خوشحالی ، امن اور ترقی کیخلاف سازش کرنے والا ہر شخص فی الحقیقت “یہودی و صیہونی ایجنٹ یا فری میسن کا کارندہ “ہے تو مجھے یہ کہنے میں کوئی عار محسوس نہیں ہوتی کہ ہمارے ہاں اقتدار کے ایوانوں سے مٹھائی کی دکانوں تک سب “یہودی ایجنٹ” ہیں کیونکہ ہر شخص ایک اچھے شہری کا فرض نبھانے کے بجائے اپنے ہی ہم وطنوں کو لوٹنے، انہیں دھوکا دینے، کمزور کرنے، بنیادی ضروریات سے محروم رکھنے اور ان کے حقوق چھیننے میں پیش پیش ہے۔
آئین کے تحت اس ملک کی ترقی، بہتری اورسالمیت کا حلف لے کر کرپشن کا بازار گرم کرنے والے
اس ملک کو بجلی، گیس اور ٹرانسپورٹ جیسی بنیادی ضروریات سے محروم کرنے والے
سرحدوں کی پاسبانی کے بجائے مارشل لا ء کے تحت ملک پر حکمرانی کرنے والے
تحفے تحائف وصول کر کے مجرم کو ملزم اور ملزم کو مجرم میں بدلنے والے
مذہب کے نام پرلوگوں کے گلے کاٹنے اور نفرتوں کے بیج بونے والے
فقہی اختلافات اور مسلک کی بنیاد پر اختلاف رائے پر دوسروں کو مرتد اور مشرک کہنے والے
اپنے مفادات کی خاطر ریاستی اداروں کو بیچ کھانے والے
لوگوں تک صحیح معلومات پہنچانے کا دعویٰ کر کے حقائق چھپانے والے
حکومت سے مال بٹور کر اس کے گن گانے والے
جائے نمازوں، کھجوروں، تسبیحوں اور ہر نوع کی اصناع پر جعلی مہریں لگا کر مہنگے داموں بیچنے والے
سرکاری محکموں میں بیٹھ کر سائل سے لی گئی رشوت پر دعوتیں اڑانے والے
ادویات میں پانی اور پانی میں زہر ملانے والے
مضر صحت اشیائے خورد و نوش مہنگے داموں بیچنے والے
بازاروں میں گاہکوں کی کھال اتارنے والے
معصوم بچیوں سے زیادتی کرنے والے
فروغ تعلیم کے نام پر’یونیورسٹی’ اور گروپ آف کالجز کے نام سے ذاتی ایمپائرز بنانے والے
فیکٹریوں اور ملوں میں مزدور کی کمائی پر ہاتھ صاف کرنے والے
روزگار اور تعلیم کے نام پر اس ملک کے نوجوانوں کے جذبات اور مستقبل سے کھیلواڑ کرنے والے
اپنی جاگیروں پر پھن پھلا کر بیٹھنے اور بہنوں کی شادیاں قرآن سے کرانے والے
اور اس ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے والے ، لوٹنے والے اور تباہ و برباد کرنے والے لاکھوں کروڑوں افراد اس نام نہاد “یہودی و صیہونی سازش “اور اس کے ایجنٹوں سے کہیں بڑھ کر اس ملک کے دشمن ہیں، کیا ان سب کے ہوتے ہوئے بھی اس ملک کو تباہ ہونے کے لئے کسی یہودی سازش کی ضرورت ہے؟
Categories
شاعری

زمین ہم پر تنگ ہوتی جا رہی ہے

فلسطینی شاعر محمود درویش کی ایک نظم کا ترجمہ

زمین ہم پر تنگ ہوتی جا رہی ہے
ہمیں دھکیل رہی ہے ایسی گلیوں میں
جہاں دیوارسے دیوار لگتی ہے
سو گذرنے کا یہی اک رستہ ہے
کہ ہم اپنے اعضا کاٹ کر پھینک دیں

زمیں ہمیں بھینچ رہی ہے
کاش ہم اس زمیں پر اگی
کوئی فصل ہی ہوتے
اسی میں گرتے ، اسی سے اگ آتے

کاش زمین ماں ہوتی
ماں جیسی مہرباں ہوتی
کاش ہمارے وجود پتھر ہوتے
ان سے آئینے تراش کر ہم اپنے خوابوں کا عکس بن جاتے

ہم نے دیکھا ہے ان لوگوں کا چہرہ
جن کےبچوں کا خون
اپنی روح کے دفاع کی آخری جنگ میں
ہمارے ہاتھوں سے ہو گا
ہم ان کے بچوں کا بھی ماتم کرتے ہیں

ہم نے دیکھا ہے ان لوگوں کا چہرہ
جو ہمارے بچوں کو
اس آخری پناہ گاہ سے بھی دیس نکالا دیں گے

آخری سرحد کے بعد بھلا کوئی کہاں جائے
آخری آسمان کے بعدپرندے
کس جانب پرواز کریں ؟

ہوا کے آخری چھونکے کے بعد
پھول کہاں جا کر سانس لیں ؟

ہم اک لہو رنگ چیخ سے دے جائیں گے
اپنے ہونے کا ثبوت
ہم اپنے گیتوں کے ہاتھ کاٹ دیں گے
لیکن ہمارا بدن گاتا ہی رہے گا

ہمارا مرنا یہیں ہر ہے
اسی آخری مقام پر۔۔۔۔۔
یہیں پر ہمارا خون اگائے گا
زیتون کا درخت

Categories
شاعری

شناخت نامہ

فلسطین کے شاعر محمود درویش کی ایک نظم کا ترجمہ
لکھو!!
میں ایک عربی ہوں
اور میرا شناختی نمبر پچاس ہزار ہے
میرے آٹھ بچے ہیں
اور گرمیوں کے بعد نواں ہوگا
کیا تم غضبناک ہو گے؟

لکھو
میں عربی ہوں
میں ایک کان میں مزدوری کرتا ہوں
ہمراہ دوست کارکنوں کے
آٹھ بچے ہیں میرے
مہیا کرتا ہوں میں انہیں
چٹانوں سے
روٹی،لباس اور کتابیں
میں منت سماجت نہیں کرتا تمہارے دروازوں پر
بھیک اکٹھی کرنے کے لیے
نہ خود کو ذلیل کرتا ہوں
تمہارے ایوانوں کے چوکھٹ پر
تو کیا غضبناک ہو جاؤ گے تم؟

لکھو
میں عربی ہوں
میری ایک شناخت ہے بغیر کسی نام کے
ضبط کیے ہوئے ہوں ایک سرزمین پر
خود کو طیش زدہ لوگوں کے درمیان
میری جڑیں پھیل چکی تھیں
وقت کی نمود اور قرن نمائی سے پہلے
زیتوں اور انناس کے بور اور سبزے کی دمیدگی سے قبل
میرا باپ ہاریوں کی قبیل سے ابھرا
طبقہ جلیل سے نہیں
اور میرا دادا دہقان تھا
نہ ٹھیک سے جنما، نہ ٹھیک سے پلا
مجھے پڑھایا جاتا ہے سورج کا غرور
قرات سیکھنے سے پہلے
میرا گھر ہے پہرےدار کے جھونپڑے کے مانند
بانس اور شاخچوں سے تعمیر شدہ
کیا یہ تعارف کافی ہے تمہارے لیے؟
میری ایک شناخت ہے بغیر کسی نام کے

لکھو
میں عربی ہوں
چوری کر لیے ہیں تم نے میرے اجداد کےباغات
اور وہ کھیت جنہیں میں نے زرخیز رکھا
اپنی اولاد کے ساتھ
اور تم نے کچھ نہیں چھوڑا ہمارے لیے
ان چٹانوں کے سوا
تو کیا ریاست قابض ہو جائے گی ان پر
جیسا کہ ہمیں بتایا گیا ہے؟
خیر!!
سرنامے پر تحریر کر دو
میں عداوت نہیں کرتا
نہ مداخلت کرتا ہوں
لیکن جب مجھے بھوک لگی
تو میں نوچ کھاؤں گا غاصبوں کا ماس۔۔۔۔
آگاہ رہو
خبردار رہو
میری بھوک سے
اور میرے غصے کی تھوک سے
Categories
نقطۂ نظر

عجب جنونِ مسافت میں گھر سے نکلا تھا

جب اس نے سنا کہ عراق اور شام میں اسلامی خلافت قائم ہوگئی ہے تو یہ خبر اس کے لیے کسی خوشی کا باعث نہیں نہ بنی ،ایک زمانہ تھا جب خلافت کا قیام اور عالمی جہاد کا پھیلاؤاس کی زندگی کا مقصد تھا لیکن نجانے کیوں آج عراق اور شام میں لڑنے والے اس کے لیے مجاہدین نہیں رہے تھے،صرف “شدت پسند دہشت گرد اور بھٹکے ہوئے” رہ گئے تھے ۔
انہوں نے بتایا کہ قیامت کے روز یہ سب ڈگریاں، دکانیں ملازمتیں کام نہیں آئیں گی وہاں صرف شہادت کام آئے گی۔اس محفل سے وہ کتنا پرجوش اٹھا تھا، اس نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ یونیورسٹی میں داخلہ نہیں لے گا اوراپنی زندگی جہاد کے لیے وقف کردے گا۔
اسے وہ وقت اب بھی یاد تھا جب ترجمہ قرآن کی کلاس میں کچھ نوجوانوں سے اس کی ملاقات ہوئی، کیسی متاثر کن شخصیت تھی ان سب کی، یقین اور امید سے بھرے ایسے لوگ جیسے انھیں معلوم ہو کہ ان کی زندگی کا مقصد کیا ہے۔ ان کی باتوں میں ہر وقت دنیا کو بدل دینے کی تمنا تھی، اور دین کے بارے میں ان کے خیالات کتنے واضح تھے، بات بات پر قرآن کی آیات اور احادیث سناتے تھے۔ یہ لوگ اس کی مسجد کے مولوی صاحب اور باقی نمازیوں سے سے بہت مختلف تھے وہ بھی انھی جیسا بننا چاہتا تھا۔ نماز کے بعد دیر تک وہ ان کے حلقے میں بیٹھا رہتا اور ان کی باتیں سنتا اور جب وہ کشمیر، چیچنیا و بوسنیا کے مجاہدین کے قصے سناتے تو اسکے لہو کی گردش بڑھ جاتی، اور وہ کچھ لمحوں کے لیے خود کو میدان جنگ میں عیسائیوں، ہندوؤں اور ناپاک کافروں کو قتل کرتے دیکھتا۔ وہ کافر جواس کے مظلوم مسلمان بھائیوں کا خون بہاتے ، ماؤں بہنوں کی عزتیں لوٹتے اور دین کے غلبہ کی راہ میں رکاوٹ بنے بیٹھے تھے۔ ان دنوں میں وہ خود کو دنیا کا خوش قسمت ترین انسان سمجھتا تھا، جسے سیدھی راہ نظر آگئی تھی۔ وہ خود کو خدا کا پسندیدہ اور چنیدہ محسوس کرنے لگا تھا۔پھر وہ جماعت کا فعال رکن بن گیا، جماعت کا لٹریچر پڑھنا اور بانٹنا ، دروس میں حصہ لینا اور چندہ اکھٹا کرنا اس کے معمولات تھے، اس کا حلیہ بھی ان جیسا ہوگیا، جماعت میں سب ایک دوسرے کے بھائی تھے اور دعوۃ و جہاد ان کا واحد مقصد تھا۔ تب زندگی کتنی بامقصد معلوم ہوتی تھی ۔
وہ گلابی آنکھیں جو کتنے اشتیاق سے اسے دیکھتی تھیں اسے قید کرنے سے قاصر رہیں، وہ دامن چھڑا کر چلا آیا، دین کی سربلندی اور جنت کی طلب اس مہ رخ سے زیادہ طاقتور تھی (بہت سالوں بعد اب وہ سوچتا ہے کہ کیا وہ گلابی آنکھیں اب بھی اس کی منتظر ہوں گی۔) پھر اسے اپنا دوست بھی یاد آتا جو گھر بار اورتعلیم چھوڑ کر مجاہدین کے ساتھ خود کو راہ خدا میں شہادت کے لئے وقف کر چکا تھا اورکسی نامعلوم مقام پر معرکہ حق و باطل میں شہید ہوگیا تھا، اس کا غائبانہ نماز جنازہ کتنا شاندار تھا کیسے رو رو کر اس کی شہادت کی قبولیت کی دعا مانگی گئی تھی۔اس کی ماں کا رو رو کر برا حال تھا اور اس کے والد کہتا تھا کہ ان خبیثوں نے میرے بچے کو بھٹکا کر خود قتل کیا ہے۔لیکن اسے اپنے دوست کے ماں باپ کی نا سمجھی پر شدید غصہ آیا جو اپنے بیٹے کی شہادت پر شکوہ کنا تھے،اس نے تو سنا تھا کہ شہادت سعادت ہے، شہیدوں کے خون سے خوشبو آتی ہے ، آگ ان کے جسم کو نہیں چھوتی اور شہادت کے بعد بھی ان کے چہرے پر مسکراہٹ ہوتی ہے۔
برسات کی ایک شام اس کے ایک قریبی جماعتی بھائی نے اس سے ملاقات کی اوربڑے رازدارانہ انداز میں کہا کہ ایک خاص چیز آپ کو دینی ہے لیکن آپ نے آگے کسی سے ذکر نہیں کرنا۔ وہ ذرا چوکنا ہوگیا،پھر انھوں نے ایک سی ڈی اس کے حوالے کی۔ اس سی ڈی کے اند رجو تھا وہ اسے دل تھام کر دیکھنا پڑا، وہ فلسطین میں صابرہ ،شتیلہ کے کیمپوں میں اسرائیلی مظالم، مشرقی تیمور اور احمد آباد کے مسلم کش فسادات کی وڈیو تھی، توربورا کی داستانیں تھیں۔اس کے تصور میں بھی نہیں تھا کہ انسانوں پر اتنا ظلم بھی کیا جاسکتا ہے، وہ زندہ انسان کو جلائے جانے کا منظر، وہ نہتے بندے کے پیچھے تلوار لے کر بھاگتے لوگ، وہ انسانوں کی مسخ شدہ لاشیں۔ یہ مناظر اس کے دل و دماغ میں کھب گئے ، اور اس کے ذہن میں یہود وہنود، امریکہ، بھارت اور اسرائیل سے انتقام کا تصور رہ گیا۔ پھرایک روز درسِ خاص میں امیر صاحب خود تشریف لائے اور انھوں نے دعوت و جہاد کا منہج سمجھایا ، دنیا داروں پر لعنت بھیجی جو ڈگریوں اور ملازمتوں کے حصول کے پیچھے وقت برباد کررہے ہیں اور دین و آخرت کو بھلا بیٹھے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ قیامت کے روز یہ سب ڈگریاں، دکانیں ملازمتیں کام نہیں آئیں گی وہاں صرف شہادت کام آئے گی۔اس محفل سے وہ کتنا پرجوش اٹھا تھا، اس نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ یونیورسٹی میں داخلہ نہیں لے گا اوراپنی زندگی جہاد کے لیے وقف کردے گا۔
دس سال بیت گئے ، کئی تنظیمیں منطر عام پر آئیں اور گئیں، کئی آپریشن ہوئے ، ہر طرف کسی نہ کسی بنیاد پر قتل عام ہے۔ اور وہ اکثر سوچتا ہے کہ کیا مسلمانوں کا مقدر صرف جہالت ، جذباتیت ، فرقہ پرستی، قتل وغارت گری، اقتدار کے لیے نا ختم ہونے والی لڑائیاں اور مذہب کا معاشی و سیاسی استعمال ہی ہے؟
اب وہ جماعت کے اندرونی حلقوں میں اٹھنے بیٹھنے لگا، لیکن یہاں اسے قرآن و حدیث کے ذکر سے زیادہ چندہ جمع کرنے، کھالیں اکٹھی کرنے ،اسلحہ کے زور پر مخالف فرقہ کی مساجد پر قبضہ کرنے جیسے مسائل پر زیادہ سننے کا موقع ملا۔ وہ لوگ جو اسے زندگی اور رزق کے لیے اللہ پر بھروسے کا کہتے تھے خود چند روپوں، چند کھالوں اور مسجدوں پر قبضہ کی خاطر لڑائیاں کرتے دکھائی دیے۔سب سے حیرت انگیز بات یہ تھی کہ جہاد کی دعوت دینے والا کوئی بھی شخص اپنی اولاد کو جہاد پر نہیں بھیجتا تھا ۔دوسروں کے بچوں کو ڈگریوں سے روکنے والے اپنے بچوں کو ڈاکٹر انجینیئر بناتے تھے اور نوکریاں بھی کرواتے تھے۔ایک امیر کے بعد امیر بننے کی سیاسی کشمکش جاری رہتی اور اکثر اختلاف ہونے پر ایک جماعت ٹوٹ کر دو یا تیں جماعتوں میں بٹ جاتی۔ اور جو چیز سب سے بڑا راز تھا کہ جماعت کو چلانے کے لیے کروڑوں کہاں سے آتے تھے، ٹریننگ کے لیے جگہ، اسلحہ اور تحفظ کہاں سے ملتا تھا۔ ان سب باتوں کے بہت سادہ جواب دیے جاتے تھے کہ دیکھیں میرے بھائی جب آپ دین کا کام کرتے ہیں تو اللہ آپ کی مدد کرتا ہے کبھی کبھی تو آپ کے دشمن بھی آپ کے مددگار بن جاتے ہیں جیسے اقبال نے کہا ہے کہ ” پاسبان مل گئے کعبہ کو صنم خانے سے”۔ افغان جہاد کی مثال دیکھ لو کیسے امریکہ کی مدد سےاسلام کا دفاع ہوا، تو میرے بھائی اللہ اپنے دین کی حفاظت کے لیے مسلمانوں کا محتاج نہیں ہے۔اب اس کے دل میں جماعت اور دعوت و جہاد کے بارے میں شکوک اٹھنے لگے۔
پھر اس نے اپنے شہر میں خود کش دھماکے ہوتے دیکھے جن میں معصوم لوگ شہید ہوتے، جب اس نے جماعتی بھائیوں سے پوچھا تو ان کا جواب بڑا سادہ تھا کہ خود کش حملے اسلام میں جائز ہیں اور جو بے گناہ مارے جاتے ہیں ان کو جنت ملے گی اور بڑے مقصد کے لیے چھوٹی چھوٹی قربایناں تو دینی ہی پڑتی ہیں۔ پھر اس نے سنا کہ کچھ جہادی جماعتیں بنک ڈکیتیاں اور اغواء برائے تاوان کی کاروایاں بھی کرتی ہیں اور اس کا جواز بھی یہی بتایا گیا کہ اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے ایسا کرنا جائز ہے وہ آپ نے واقعہ تو سنا ہوگا، جب ۔۔۔
انھی شکوک و شبہات کے دنوں میں کئی ایسے لوگوں سے بھی ملنے کا اتفاق ہوا جو جہادی تنظیموں کا حصہ رہ چکے تھے مگر پھر متنفر ہوکر چھوڑ گئے ، وہ راشد جو عالم دین تھا اور نوئے کی دہائی میں طالبان کے ساتھ مل کر لڑ چکا تھا، اسے حیرانی تھی کہ اتنے مسلمان روسیوں نے نہیں مارے جتنے طالبان اور دوسرے گروہوں نے آپس میں لڑ کر مار دیے ہیں۔ وہ قاسم جو قرآن وحدیث کے مطالعہ کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا کہ دین اور جہاد کا جو تصور یہ تنظیمیں رکھتی ہیں وہ صحیح نہیں ہے، وہ عبداللہ جو نفسیات کا شوقین تھا اور برین واشنگ کے سارے طریقے اسے معلوم تھے جس نے اسے سمجھایا کہ ذہنوں میں حقیقت کا تصور کیسے بنایا جاتا ہے،اسد جو تاریخ کا طالب علم تھا اور پچھلے 1300 سال میں اٹھنے والی ہر مسلح تنظیم اور گروہ کے منہج اور انجام سے واقف تھا۔، مخدوم جو صحافی تھا اور تنظیموں کے اندرونی حالات سے واقف تھا ۔ لیکن ہر وہ شخص جو سوچنے لگا تھا وہ اس وحشت اور پاگل پن سے دستبردار ہو چکا تھا۔ مقصد کا نہ ہونا برداشت ہو سکتا ہے مگر مقصد ایک دھوکا، ایک فریب اور ایک غلطی ثابت ہو جائے ، یہ کیسے برداشت کیا جا سکتا ہے؟
دس سال بیت گئے،کئی تنظیمیں منطر عام پر آئیں اور گئیں، کئی آپریشن ہوئے،ہر طرف کسی نہ کسی بنیاد پر قتل عام ہے۔ اور وہ اکثر سوچتا ہے کہ کیا مسلمانوں کا مقدر صرف جہالت،جذباتیت،فرقہ پرستی، قتل وغارت گری، اقتدار کے لیے نا ختم ہونے والی لڑائیاں اور مذہب کا معاشی و سیاسی استعمال ہی ہے؟