Categories
شاعری

محمود درویش کی نظمیں (تخلیقی ترجمہ: ادریس بابر)

ادارتی نوٹ: ادریس بابر نے عشرے کی صنف کے امکانات کو مزید وسعت دیتے ہوئے محمود درویش کی نظموں کا تخلیقی ترجمہ انہیں عشرے کے قالب میں ڈھال کر کیا ہے۔ اس تجربے کے مستقبل کا فیصلہ اب آپ قارئین کے ہاتھ میں ہے۔

آخر کب ملیں گے ہم
تم کہتی ہو
میں کہتا ہوں
جب ختم ہو گی
جنگ!
جنگ!
کب ختم ہو گی
تم کہتی ہو
میں کہتا ہوں
جب ہم ملیں گے

صبر کرو
کہا جاتا ہے
کتنا صبر کریں
ہم پوچھتے ہیں
صبر کرو
کہا جاتا ہے
کب تک صبر کریں
ہم پوچھتے ہیں
قیامت تک
کہا جاتا ہے

کیوں خواب دکھاتے ہو
ایک ایسے کل کے
جس میں تم شامل نہ ہو گے

میں نہ سہی تم تو ہو گے نا
یہی تو خواب کا بہترین حصہ ہے

تم اس سرنگ میں
ٹھیک میرے پیچھے چل رہے ہو گے نا

میں اس سرنگ میں
تمہارے ساتھ چل رہا ہوں گا
اور تمہارے بغیر بھی!

رات
یہ رات
ہر رات
ایک گرگ-گرسنہ ہے کہ نہیں، ماں!
ہمیشہ تعاقب کیا جاتا ہے ہمارا
ہم جو پہلے ہی وطن سے دور ہیں
ایسا کیا انیائے کیا ہے ہم نے، ماں؟
کہ ہمیں کم سے کم دو بار مرنا پڑے
ایک بار جیتے جی
ایک بار مرتے دم

جامعات کی اسناد
مجموعہ ہائے کلام
درجنوں مقالے
سینکڑوں حوالے
سب! تمام ایک طرف
دوسری طرف میں
عام قرات میں سہو کا مرتکب
کوئی نہ کوئی لکھ بھیجتا ہے
سویرے مییسج میں : گڈ مارننگ
اور میں ادبدا کے پڑھتا ہوں:
آئی لو یو!

Categories
شاعری

زیتون کے جھنڈ سے ابھرتی آواز

[blockquote style=”3″]

محمود درویش کی اس نظم کا ترجمہ انور سین رائے نے کیا ہے۔ لالٹین پر یہ منظوم ترجمہ سدرہ سحر عمران کے تعاون سے شائع کیا جا رہا ہے۔

[/blockquote]
[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

زیتون کے جھنڈ سے ابھرتی آواز

[/vc_column_text][vc_column_text]

شاعر: محمود درویش
ترجمہ: انور سین رائے

 

جب مجھے آگ پر مصلوب کیا جاتا ہے
زیتون کے جھنڈ سے بلند ہوتی ہے
ایک گونج

 

میں کووں سے کہتا ہوں، مجھے ٹکڑے ٹکڑے مت کرو
شاید میں ایک بار گھر لوٹوں
شاید آسمان مینہ برسائے
جو شاید
ان لکڑیوں کو ٹھنڈا کر دے

 

کسے خبر ہے
میں خود ہی ایک دن اپنی اس صلیب سے اتروں
کس طرح لوٹوں گا میں، ننگے پیر اور برہنہ جسم

Image: Naji Al-Ali
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

زمین ہم پر تنگ ہوتی جا رہی ہے

فلسطینی شاعر محمود درویش کی ایک نظم کا ترجمہ

زمین ہم پر تنگ ہوتی جا رہی ہے
ہمیں دھکیل رہی ہے ایسی گلیوں میں
جہاں دیوارسے دیوار لگتی ہے
سو گذرنے کا یہی اک رستہ ہے
کہ ہم اپنے اعضا کاٹ کر پھینک دیں

زمیں ہمیں بھینچ رہی ہے
کاش ہم اس زمیں پر اگی
کوئی فصل ہی ہوتے
اسی میں گرتے ، اسی سے اگ آتے

کاش زمین ماں ہوتی
ماں جیسی مہرباں ہوتی
کاش ہمارے وجود پتھر ہوتے
ان سے آئینے تراش کر ہم اپنے خوابوں کا عکس بن جاتے

ہم نے دیکھا ہے ان لوگوں کا چہرہ
جن کےبچوں کا خون
اپنی روح کے دفاع کی آخری جنگ میں
ہمارے ہاتھوں سے ہو گا
ہم ان کے بچوں کا بھی ماتم کرتے ہیں

ہم نے دیکھا ہے ان لوگوں کا چہرہ
جو ہمارے بچوں کو
اس آخری پناہ گاہ سے بھی دیس نکالا دیں گے

آخری سرحد کے بعد بھلا کوئی کہاں جائے
آخری آسمان کے بعدپرندے
کس جانب پرواز کریں ؟

ہوا کے آخری چھونکے کے بعد
پھول کہاں جا کر سانس لیں ؟

ہم اک لہو رنگ چیخ سے دے جائیں گے
اپنے ہونے کا ثبوت
ہم اپنے گیتوں کے ہاتھ کاٹ دیں گے
لیکن ہمارا بدن گاتا ہی رہے گا

ہمارا مرنا یہیں ہر ہے
اسی آخری مقام پر۔۔۔۔۔
یہیں پر ہمارا خون اگائے گا
زیتون کا درخت

Categories
شاعری

شناخت نامہ

فلسطین کے شاعر محمود درویش کی ایک نظم کا ترجمہ
لکھو!!
میں ایک عربی ہوں
اور میرا شناختی نمبر پچاس ہزار ہے
میرے آٹھ بچے ہیں
اور گرمیوں کے بعد نواں ہوگا
کیا تم غضبناک ہو گے؟

لکھو
میں عربی ہوں
میں ایک کان میں مزدوری کرتا ہوں
ہمراہ دوست کارکنوں کے
آٹھ بچے ہیں میرے
مہیا کرتا ہوں میں انہیں
چٹانوں سے
روٹی،لباس اور کتابیں
میں منت سماجت نہیں کرتا تمہارے دروازوں پر
بھیک اکٹھی کرنے کے لیے
نہ خود کو ذلیل کرتا ہوں
تمہارے ایوانوں کے چوکھٹ پر
تو کیا غضبناک ہو جاؤ گے تم؟

لکھو
میں عربی ہوں
میری ایک شناخت ہے بغیر کسی نام کے
ضبط کیے ہوئے ہوں ایک سرزمین پر
خود کو طیش زدہ لوگوں کے درمیان
میری جڑیں پھیل چکی تھیں
وقت کی نمود اور قرن نمائی سے پہلے
زیتوں اور انناس کے بور اور سبزے کی دمیدگی سے قبل
میرا باپ ہاریوں کی قبیل سے ابھرا
طبقہ جلیل سے نہیں
اور میرا دادا دہقان تھا
نہ ٹھیک سے جنما، نہ ٹھیک سے پلا
مجھے پڑھایا جاتا ہے سورج کا غرور
قرات سیکھنے سے پہلے
میرا گھر ہے پہرےدار کے جھونپڑے کے مانند
بانس اور شاخچوں سے تعمیر شدہ
کیا یہ تعارف کافی ہے تمہارے لیے؟
میری ایک شناخت ہے بغیر کسی نام کے

لکھو
میں عربی ہوں
چوری کر لیے ہیں تم نے میرے اجداد کےباغات
اور وہ کھیت جنہیں میں نے زرخیز رکھا
اپنی اولاد کے ساتھ
اور تم نے کچھ نہیں چھوڑا ہمارے لیے
ان چٹانوں کے سوا
تو کیا ریاست قابض ہو جائے گی ان پر
جیسا کہ ہمیں بتایا گیا ہے؟
خیر!!
سرنامے پر تحریر کر دو
میں عداوت نہیں کرتا
نہ مداخلت کرتا ہوں
لیکن جب مجھے بھوک لگی
تو میں نوچ کھاؤں گا غاصبوں کا ماس۔۔۔۔
آگاہ رہو
خبردار رہو
میری بھوک سے
اور میرے غصے کی تھوک سے