وقت کا نوحہ

ثروت زہرا: میرے روئی کے بستروں کے سلگنے سے
صحن میں دُھواں پھیلتا جا رہا ہے
گھروں کی چلمنوں سے اُس پار
باہر بیٹھی ہَوا رو رہی ہے
اگر ہم گیت نہ گاتے

افضال احمد سید: ہمیں معنی معلوم ہیں
اس زندگی کے
جو ہم گزار رہے ہیں
لال پلکا

نصیر احمد ناصر: کھول کر دیکھوں
لکھا ہے کیا خطِ تقدیر میں
کتنے یگوں کی قید ہے
کتنی رہائی ہے
منی پلانٹ

ثروت زہرا: پرائے اجنبی آنگن میں
ڈالر اور درہم کے لیے
سینچا گیا ہوں
کائنات کا آخری اداس گیت

نصیر احمد ناصر: کوئی اپنی غیر مرئی انگلیوں سے
پیانو کو چھیڑتا ہے
اور کہیں بہت قریب سے
ساکن اور بےآواز آسمانی گیت سنائی دے رہا ہے
حطؔاب کہو، اب کیا بیچو گے؟

نصیر احمد ناصر: حطاب کہو !
بے کاری کے دن کیسے کاٹو گے؟
کن پیڑوں پر وار کرو گے؟
روشنی زیادہ اہم ہے لالٹین سے

نزار قبانی: روشنی زیادہ اہم ہے
لالٹین سے
نظم زیادہ اہم ہے
بیاض سے
اور بوسہ زیادہ اہم ہے
ہونٹوں سے
ناف کٹوانے کی سزا

صفیہ حیات: کائناتی برتن میں آنسو اتنے جمع ہو گئے ہیں
کہ بارش کی بھی ضرورت نہیں
آگاہی

حسین عابد: بچہ روشن دان سے آتا ہے
آسمان سے
یا ماں کے پیٹ سے
وہ ہمیں نہیں بتاتے
میں تمہاری موت پر رو سکتی تھی

تنویر انجم:اگر تم نے مجھے ریچارج کر لیا ہوتا
تو میں تمہاری موت پر رو سکتی تھی
ہاں میری محبوبہ

سرمد صہبائی: لفظ سے لفظ بنانے والے
کوئی بھی غم ہو
لفظ کی گولی رنگ بدلتے لمحوں کی گنگا میں گھول کے پی جاتے ہیں
پھر سویرا ناچ رہا ہے

عمران ازفر: شب بھر میں نے
تجھ کو دیکھا,خود کو ڈھونڈا
اور سویرا سر پر آ کر ناچ رہا ہے
بد ذائقہ لمحوں کی چپ

صفیہ حیات: چپ دانت نکوستی ہے
جب نظم
ابارشن کے مرحلے سے گزرتی
چیختی ہے
استعاروں کے مقتل میں

جمیل الرحمٰن:نظم کی سانس اکھڑ رہی ہے
زمین بگڑ رہی ہے
لفظ چلّا رہے ہیں
کیا تمہیں یہ علم نہیں
“خدا یہ نظم دوبارہ نہیں لکھے گا
عشرہ // سو قومی نظریہ(3) پنڈت کھنڈت

ادریس بابر: جنتا کیا، پروار ہی جب جمہوری نہیں
نعرے لگاو اور لگواو، پنڈت جی