ہم بارانی لوگ ہیں

ہم بارانی لوگ ہیں
وہ نہیں جانتے
ہم اپنے کھیتوں، موسموں اور قبرستانوں کو کبھی نہیں چھوڑتے
جڑی بوٹیوں کی طرح
فصل در فصل اگتے رہتے ہیں
وہ نہیں جانتے
ہم اپنے کھیتوں، موسموں اور قبرستانوں کو کبھی نہیں چھوڑتے
جڑی بوٹیوں کی طرح
فصل در فصل اگتے رہتے ہیں
اپالو اور اتھینا ۔۔۔۔۔ حالتِ التوا میں لکھی گئی نظم

بند آنکھوں سے مرا تو جا سکتا ہے
محبت نہیں کی جا سکتی
محبت موت کا التوا ہے!
محبت زندگی کا اجرا ہے
محبت نہیں کی جا سکتی
محبت موت کا التوا ہے!
محبت زندگی کا اجرا ہے
اُڑتے خُلیے

سائیکل چلاتا ایک روبوٹ آتا ہے
اور چوک میں ریہڑی سے ٹکرا کر
پھٹ جاتا ہے
اور چوک میں ریہڑی سے ٹکرا کر
پھٹ جاتا ہے
ہاں یہ اعلان ۔۔ انساں کی تاریخ کا شاہی فرمان ہے

اس طرح دیکھتے کیا ہو؟
یہ جان لو
آج میں ہوں اگر زد پہ ان کی تو کل تم بھی آجاؤ گے
چپ رہو گے اگر اِن کے پنجوں سے تم بھی نہ بچ پاؤ گے
یہ جان لو
آج میں ہوں اگر زد پہ ان کی تو کل تم بھی آجاؤ گے
چپ رہو گے اگر اِن کے پنجوں سے تم بھی نہ بچ پاؤ گے
صفحے سے باہر ایک نظم
ابھی میرے دوستوں کے دوست لاپتہ ہو رہے ہیں
پھر میرے دوستوں کی باری ہے
اور اس کے بعد…
میں وہ فائل بنوں گا
جسے میرا باپ عدالت لے کر جائے گا
پھر میرے دوستوں کی باری ہے
اور اس کے بعد…
میں وہ فائل بنوں گا
جسے میرا باپ عدالت لے کر جائے گا
کیلکولیٹر کے ہِندسوں میں چُھپی نظم

یہ گِنتی کی ایجاد سے قبل
حرفوں کی اَبجد کا ایقان ہی تھا
جو روحوں کی تقسیم کو جانتا تھ
حرفوں کی اَبجد کا ایقان ہی تھا
جو روحوں کی تقسیم کو جانتا تھ
Surrogation

خواہشیں جنگلوں میں اگے پیڑ ہیں
تیرے جسمی حقائق گھنی خواہشوں کی جڑیں کاٹتے ہیں
گلِ خشک کو کون تازہ کرے؟
بیضہ دانی کے خلیوں کی پہنائی میں
طاقتِ بیضہ سازی نہاں امر سے سَلب کر لی گئی
کیسے خواہش کو جسمِ حقیقت ملے؟
تیرے جسمی حقائق گھنی خواہشوں کی جڑیں کاٹتے ہیں
گلِ خشک کو کون تازہ کرے؟
بیضہ دانی کے خلیوں کی پہنائی میں
طاقتِ بیضہ سازی نہاں امر سے سَلب کر لی گئی
کیسے خواہش کو جسمِ حقیقت ملے؟
پرندے کے پیر پر

اندیشہ لیکن آنکھوں میں گھس کر دہرائے جاتا ہے
“منظر بدلا تو کیا ہو گا
خواب ہوا تو
ٹوٹ کے اور بھی کرچیں آنکھوں میں بھر دے گا
خواب نہیں تو
دھو لینے پر شاید سوزش بڑھ جائے گی
“منظر بدلا تو کیا ہو گا
خواب ہوا تو
ٹوٹ کے اور بھی کرچیں آنکھوں میں بھر دے گا
خواب نہیں تو
دھو لینے پر شاید سوزش بڑھ جائے گی
دراز دَستوں کی سلطنت ہے

نحیف لوگوں کے قافلے بھی ٹھہر کے سوچیں
کہ ظُلم سہنے کی آخری حد کہاں تلک ہے؟
کہ ظُلم سہنے کی آخری حد کہاں تلک ہے؟
یہ بغاوت بھری نظم سنتی کہاں ہے

کئی بار سوچا
قلم کو معطّل کروں
اور احساس معزول کر دوں
سُکوں سے جیوں
جس طرح سے سبھی جی رہے ہیں
قلم کو معطّل کروں
اور احساس معزول کر دوں
سُکوں سے جیوں
جس طرح سے سبھی جی رہے ہیں
سمجھدار چُپ

چھوٹے سے میلے کا ایک منظر ہے
چھوٹا سا ادنیٰ سا آدمی ہے
دو چھوٹٰ بچیاں ہیں
پر جسے نہیں آنا چاہیے
ایسے کسی میلے میں
سب سے چھوٹی بار بار روتی ہے
چھوٹا سا ادنیٰ سا آدمی ہے
دو چھوٹٰ بچیاں ہیں
پر جسے نہیں آنا چاہیے
ایسے کسی میلے میں
سب سے چھوٹی بار بار روتی ہے
حرامی ہجرتیں

میں ادھورے نقشے بناتا ہوں
تم نے کہاں تک جانا ہے؟
آج کے دن، اس سال، اس صدی، اس کہکشاں کے انڈے میں
تم کہاں تک جا سکو گے؟
تم نے کہاں تک جانا ہے؟
آج کے دن، اس سال، اس صدی، اس کہکشاں کے انڈے میں
تم کہاں تک جا سکو گے؟
سُنو، زندہ گاوں کی بالیو

سُنو، زندہ گاوں کی بالیو
مرے چاند پانی میں جا گرے
مرے چاند پانی میں جا گرے
زمین بانجھ پن کے درخت کیوں نہیں اگاتی

پچھلے برس
آدھے آ دھے گز کے سایوں نے
سرخ پا نی سے بلبلے بنائے تھے
تو آسمان کی آٹھویں لکیر سے عقاب نکلا
اور ۔۔۔پورا جنگل خالی ہو گیا
آدھے آ دھے گز کے سایوں نے
سرخ پا نی سے بلبلے بنائے تھے
تو آسمان کی آٹھویں لکیر سے عقاب نکلا
اور ۔۔۔پورا جنگل خالی ہو گیا
اکیسویں صدی کی غزل کا انفرادی و اجتماعی منظرنامہ
اکیسویں صدی کی شاعری کا منطر نامہ اردو شاعری کے افق پر ایک ایسی تشکیل کے عمل سے گزر رہا ہے جس کی بنیادوں میں جہاں مابعد جدید عہد کا اجماعی لاشعور کار فرما ہے وہیں انفرادی انسانی جبلتوں کے نقوش بھی بدرجہ اتم دیکھے جا سکتے ہیں۔