خودفریبی کے سرد خانے میں

یہ راز نہیں حقیقت ہے
کہ تنکا اپنے باطن میں
آگ کے علاوہ نمی بھی رکھتا ہے
کہ تنکا اپنے باطن میں
آگ کے علاوہ نمی بھی رکھتا ہے
شاعری میری ضرورت ہے

قاسم یعقوب: شاعری میری پہچان بننے سے زیادہ
میری ضرورت کو پورا کرتی ہے
میرا شاعری سے وہی تعلق ہے
جوکسی بھیڑ کا اپنی اون سے ہوتا ہے
میری ضرورت کو پورا کرتی ہے
میرا شاعری سے وہی تعلق ہے
جوکسی بھیڑ کا اپنی اون سے ہوتا ہے
اگر مجھے مرنا پڑا ۔۔۔۔۔۔۔

نصیر احمد ناصر: اگر موت کو کہیں اور جانے کی جلدی نہ ہوئی
تو اُسے ڈھیر ساری نظمیں سناؤں گا
شاید اُس کا دل پسیج جائے
تو اُسے ڈھیر ساری نظمیں سناؤں گا
شاید اُس کا دل پسیج جائے
نغمۂ جنوں

رانا غضنفر: میرے حرفِ جُنوں کے سندیسے
بزمِ آفاق سے اُبھرتے ہیں
اور میں نغمہِ جنوں لے کر
پھر کسی جُستجو میں نکلا ہوں
بزمِ آفاق سے اُبھرتے ہیں
اور میں نغمہِ جنوں لے کر
پھر کسی جُستجو میں نکلا ہوں
وہ آخری لمحات ان جنازوں پر اُڑھا دیں گے

عذرا عباس: وہ آخری لمحات ان جنازوں پر اُڑھا دیں گے جن پر کوئی رونے والا نہیں
نوحے کی دهن کوئی کمپوز نہیں کرتا

موت روز آنے کے باوجود اپنا ٹائم ٹیبل نہیں بناتی
لیکن تعزیت رسم ہے
سو افسردہ ہونے کی ایکٹنگ سکهانے کا سکول کھولنا ہو گا
لیکن تعزیت رسم ہے
سو افسردہ ہونے کی ایکٹنگ سکهانے کا سکول کھولنا ہو گا
ناؤ پانی کی موت سے ڈرتی ہے

ناؤ کے کان بڑے حساس ہوتے ہیں
وہ ہوا کی سرگوشیاں
اور مسافروں کی باتیں سن لیتی ہے
اور انہیں پانیوں تک پہنچا دیتی ہے
وہ ہوا کی سرگوشیاں
اور مسافروں کی باتیں سن لیتی ہے
اور انہیں پانیوں تک پہنچا دیتی ہے
بندوق کے نمازی

ان میں سے ہر ایک کے اندر ایک جرگہ ہے
جہاں کلہاڑی کے وار سے لکھا ہوا
“سزائے موت”
جہاں کلہاڑی کے وار سے لکھا ہوا
“سزائے موت”
میں کوئی کام ڈھنگ سے نہیں کر سکتا

بیٹھے بٹھائے
بادلوں اور ہواؤں کے ساتھ چل پڑتا ہوں
اچھی بھلی دھوپ کے ہوتے ہوئے
بارشوں میں بھیگنے لگتا ہوں
بادلوں اور ہواؤں کے ساتھ چل پڑتا ہوں
اچھی بھلی دھوپ کے ہوتے ہوئے
بارشوں میں بھیگنے لگتا ہوں
کارواں سے گزارش

مجھے لے چلو
جہاں
عورت جب دانے چکی میں پیستی ہے
تو آٹے کا رنگ خون میں نہیں مل پاتا
جہاں
عورت جب دانے چکی میں پیستی ہے
تو آٹے کا رنگ خون میں نہیں مل پاتا
گلوریا جینز میں شام

جب میں نے تمہیں پہلی بار دیکھا تھا
شام اِسی طرح مٹ میلی تھی
تاریخ ابھی شروع نہیں ہوئی تھی
زمین پر صرف جغرافیہ تھا
شام اِسی طرح مٹ میلی تھی
تاریخ ابھی شروع نہیں ہوئی تھی
زمین پر صرف جغرافیہ تھا
بوڑھوں کا گیت

نیک دل عورتو آؤ!
ہماری آنکھوں کے بے بہا پانیوں میں اترو
ہم سمندر ہیں
ہمارے ریتلے ساحلوں پر ننگے پاؤں چہل قدمی کرو
ہماری آنکھوں کے بے بہا پانیوں میں اترو
ہم سمندر ہیں
ہمارے ریتلے ساحلوں پر ننگے پاؤں چہل قدمی کرو
رستہ سہل نہیں ہے

اپنے من کے اندر چھپ کر جب بھی تجھ سے ملنے نکلوں
باتیں کرتی ہوا سے مل کر شاخیں شور مچاتی ہیں
سڑکوں کی دو رویہ آنکھیں روشن ہوتی جاتی ہیں
باتیں کرتی ہوا سے مل کر شاخیں شور مچاتی ہیں
سڑکوں کی دو رویہ آنکھیں روشن ہوتی جاتی ہیں
مُفتِ خدا

میں قطار میں کھڑا، مفتِ خدا
میری باری آتے آتے
شاعری کی کھرچن بھی ختم ہو جاتی ہے
مجھے کھانے کا ٹوکن نہیں ملتا
میں آخری خواب سے بھوکا لوٹ آتا ہوں
میری باری آتے آتے
شاعری کی کھرچن بھی ختم ہو جاتی ہے
مجھے کھانے کا ٹوکن نہیں ملتا
میں آخری خواب سے بھوکا لوٹ آتا ہوں
خدا نظموں کی کتاب ہے

خدا ان پڑھ ہے
نظم لکھ سکتا ہے نہ پڑھ سکتا ہے
لیکن خود اتنی بڑی نظم ہے
کہ انکاری دلوں کو بھی ازبر ہے
نظم لکھ سکتا ہے نہ پڑھ سکتا ہے
لیکن خود اتنی بڑی نظم ہے
کہ انکاری دلوں کو بھی ازبر ہے