Laaltain

ﺳﺎﺩﮬﻮ

سعید اللہ قریشی:
ﺍﯾﮏ ﺳﺎﺩﮬﻮ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺑﻌﺾ ﺍﻭﻗﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﻭﻗﺖ ﮐﺎ ﺩﺍﺋﺮﮦ ﺗﻮﮌ ﮐﺮ ﺍﯾﮏ ﺁﺩﮬﯽ ﺧﺒﺮ
ﮨﯽ ﺍﮌﺍ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﻮﮞ
ﺣﻆ ﺍﭨﮭﺎ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﻮﮞ

پسپائی اور محبت کی آخری نظم

نصیر احمد ناصر: مکمل سپردگی سے پہلے
کسی اور نشانی کا انتظار مت کرنا
انسانی ادوار میں
محبت کا مرنا آخری نشانی ہے

جوتے بہت کاٹتے ہیں

ابرار احمد: اس جگہ شہر تھا
اور سیٹی بجاتے ہوئے نو جواں
اس پہ اتری ہوئی
رات سے یوں گزرتے
کہ جیسے یہی ہو گزرگاہِ ہستی
اسی میں کہیں ہو سراغ تمنا —

گوتم نے خود کشی کر لی ہے

نصیر احمد ناصر: تم نے شاید صبح کا اخبار نہیں دیکھا
گوتم کو اب نوکری کی ضرورت نہیں رہی
اس نے چوک میں ڈگری جلا کر
خود کو بھی آگ لگا لی تھی

کینوس پر لگتے اسٹروکس

جمیل الرحمان: موم کی تجارت پر لوہے کی تجارت غالب آئی
وحشیوں نے انسانوں کو فتح کر لیا
پھر بھی آسمان کی آنکھیں پگھلتی رہیں
اُن سے خواب ٹپکتے
اور
کینوس پر
مسلسل ا سٹروک لگتے رہے

بکھراؤ کا مرکز

سعد منیر: چیخوں سے بنا آدمی
اپنی شرمگاہوں کی دیواروں سے لپٹا ہوا
اپنے مرکز میں بکھرا ہوا
کہتا ہے کہ
کائنات ایک سولہ سال کی لڑکی ہے

بچپن کی سماعتیں

نصیر احمد ناصر: بچپن کی سنی ہوئی آوازیں
عمر بھر سنائی دیتی ہیں!

پَونیا

نصیر احمد ناصر: مجھے مت پہنو!
میں تمہاری مٹی جیسا شفّاف
اور تمہارے ریشم جیسا نرم نہیں

روزنامچہ

قاسم یعقوب:
مکتبوں ،دانش کدوں سے زندگی کے فلسفے پرمشتمل
جھوٹی کتابیں پڑھ کے آنا
موت کو آسان کرنے کے جتن کرنا

قید

حسین عابد: محبت
کھُلے بادباں کا بُلاوا ہے
لیکن ہوا
پانیوں پہ گزرتی ہوا
جنگلوں کو نکل جاتی ہے