Categories
فکشن

اندھا کتا (تحریر: آر کے نارائن، ترجمہ: رومانیہ نور)

یہ ترجمہ محترم یاسر حبیب کے تعاون سے شائع کیا جا رہا ہے۔ یاسر حبیب “پاکستان کی مادری زبانوں کا عالمی ادب – اردو قالب میں” کے عنوان سے ایک فیس بک گروپ کے ایڈمن ہیں۔ یہ گروپ اردو قارئین کو پاکستان کی دیگر زبانوں میں لکھے گئے ادب سے روشناس کرانے کا اہم ذریعہ ہے۔

یہ کوئی بہت متاثر کن یا اعلیٰ نسل کا کتا نہیں تھا۔ یہ ان کتوں میں سے تھا جو ہر جگہ ادھر ادھر عام نظر آتے ہیں۔ اس کا رنگ سفید اور مٹیالا تھا، دم کٹی ہوئی تھی جو خدا جانے کس نے کب کاٹی تھی۔گلی میں ہی جنم ہوا تھا۔ بازار کی بچی کھچی اور پھینکی ہوئی اشیا کھا کر پیٹ بھرتا تھا۔اس کی گول گول چتکبری آنکھیں تھیں۔انداز بھی کوئی نرالا نہیں تھا اور وہ بلا وجہ ہی بھونکتا رہتا۔

دو سال کی عمر کو پہنچنے سے پہلے ہی اس کے جسم پر سینکڑوں زخموں کے نشان تھے۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی تھی کہ دیگر کتوں سے اس کی سینکڑوں لڑائیاں ہوئی ہوں گی۔ گرم دوپہروں میں اسے آرام کی ضرورت پیش آتی تو بازار کے مشرقی دروازے کی طرف بدرو کے نیچے آڑا ترچھا پڑا رہتا تھا۔ شام کو اس کے معمول کے چکر شروع ہو جاتے وہ ارد گرد کی گلیوں اور سڑکوں پر آوارہ گردی کرتا۔ اس دوران وہ گلی کی چھوٹی موٹی لڑائیوں میں بھی شریک رہتا۔ سڑک کنارے سے کھانے کی چیزیں اٹھا کر رات پڑے بازار کے مشرقی دروازے پر لوٹ آتا۔

عرصہ تین سال تک ایسے ہی چلتا رہا۔ اس کی زندگی میں تبدیلی تب آئی جب ایک اندھا بھکاری بازار میں آ کر وہاں بیٹھنے لگا۔ ایک بڑھیا اسے صبح سویرے وہاں چھوڑ جاتی۔ دن میں وہ کچھ کھانے کو لے کر آتی۔ شام کو اپنے سکے گنتی اور رات کو گھر لے جاتی۔

کتا بھی اندھے بھکاری کے قریب سو رہا تھا۔ وہ کھانے کی خوشبو سے کسمسایا۔ وہ اپنے ٹھکانے سے نکلا اور بھکاری کے سامنے آ کھڑا ہوا۔ اپنی دم کو ہلایا اور اور اس کے پیالے پر اس امید سے نظریں جما دیں کہ اسے بھی کچھ بچا کھچا کھانے کو ملے گا۔ بوڑھے نے ہوا میں ہاتھ لہرائے اور پوچھا ” کون ہے یہاں؟” اس پر کتا اس کے قریب آ گیا اور ہاتھ چاٹنے لگا۔ بوڑھے نے سر سے لےکر دم تک اس کے جسم پر ہاتھ پھیرا۔

” تم کتنے پیارے ہو! آؤ میرے ساتھ_” اس نے مٹھی بھر کھانا کتے کو دیا جو اس نے شکر گزاری سے کھایا۔ یہ ایک مبارک گھڑی تھا جب ان کی دوستی کا آ غاز ہوا۔ ان کی روزانہ وہاں ملاقات ہوتی۔

کتے نے اپنی آوارہ گردی کم کر دی تھی۔ وہ اندھے بھکاری کے قریب بیٹھا اسے صبح سے شام تک خیرات وصول کرتے ہوئے دیکھتا رہتا۔ کتا بھی لوگوں کو بھکاری کو بھیک دینے کے لئے مجبور کرتا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کتے کو سمجھ آ گئی کہ راہ گیروں کا اندھے بھکاری کے سامنے سکے گرانا لازمی تھا۔ اگر لوگ سکے نہ دیتے تو کتا ان کا پیچھا کرتا ، ان کے کپڑے دانتوں میں دبا لیتا ، انھیں واپس بھکاری کے پاس کھینچ لاتا اور انھیں مجبور کرتا کہ بھکاری کے کشکول میں سکے ڈالیں۔

ایک شرارتی بچہ بھکاری کو تنگ کیا کرتا تھا۔ اس کے ذہن میں شیطانی شرارتیں سمائی رہتی تھیں۔ وہ بھکاری کو برے برے ناموں سے پکارتا اور اس کے سکے چرا کر بھاگ جاتا۔ بھکاری بے بسی سے اس پر چلّاتا اور اپنی لاٹھی بچے پر گھماتا۔ یہ لڑکا جمعرات کو سبزیاں اور کھیرے سر پر لاد کر لایا کرتا تھا کیونکہ اس دن جمعرات بازار لگتا تھا۔ ہر جمعرات کو یہ لڑکا اندھے بھکاری کی زندگی میں اک نئی مصیبت لے کر آتا تھا۔ ایک عطر فروش بھی اپنے چھکڑے پر سامان لاد کر آیا کرتا تھا۔ ایک آدمی زمین پر بوریا بچھا کر اس پر اپنی سستی کتابوں کی نمائش لگاتا۔ ایک اور آدمی ایک بڑے فریم پر رنگ برنگے ربن لٹکا کر لاتا تھا۔ یہ وہ لوگ تھے جو اسی محراب کے نیچے اپنی اشیاء فروخت کے لئے لایا کرتے تھے۔

ایک جمعرات اس لڑکے کو آتا دیکھ کر ایک پھیری والا بولا
” بوڑھے میاں ! تمھاری مصیبت سر پر آن کھڑی ہوئی _”

” اوہ خدایا! آج جمعرات ہے؟” اس نے تڑپ کر کہا۔ اس نے اِدھر اُدھر ہوا میں اپنے ہاتھ چلائے اور پکارا ” کتے! کتے! ادھر آؤ، تم کہاں ہو؟” اس نے ایک مخصوص آواز نکالی اور کتا وہاں آن کھڑا ہوا۔ کتے کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے وہ بڑ بڑایا ” اس ننھے شیطان کو ادھر مت آنے دینا۔” اسی لمحے لڑکا چہرے پر شیطانی مسکراہٹ سجائے وہاں پہنچ گیا۔

”بوڑھے میاں! تم ابھی تک اندھے ہونے کا ڈرامہ کر رہے ہو۔ اگر تم واقعی اندھے ہوتے تو تمھیں یہ سب معلوم نہ ہوتا_” وہ رک گیا۔ اس کا ہاتھ کشکول کی طرف بڑھ رہا تھا۔ کتے نے اس پر چھلانگ لگائی اور اس کے ہاتھوں پر اپنے پنجے گاڑ دئیے۔ لڑکے نے اپنا ہاتھ چھڑایا اور زندگی بچانے کے لئے بھاگ کھڑا ہوا۔ کتا اس کے پیچھے بھاگا اور اسے بازار سے بھگا کر دم لیا۔ ” اس معمولی نسل کے کتے کی اس بوڑھے سے محبت تو دیکھو!” عطر فروش نے حیرت کا اظہار کیا۔

ایک شام معمول کے وقت پر بڑھیا نہ آئی۔ اندھا آدمی پریشانی سے دروازے پر اس کا انتظار کرتا رہا کیونکہ شام رات میں ڈھل رہی تھی۔ جب وہ تھک ہار کر بیٹھ گیا تو ایک پڑوسی آیا اور بتایا کہ بڑھیا کا انتظار نہ کرو وہ اب دوبارہ نہیں آئے گی۔ آج دوپہر کو وہ چل بسی۔

بھری دنیا میں اندھے آدمی کی واحد پناہ گاہ اس کا گھر بھی چھن گیا اور وہ اس تنہا فرد سے بھی محروم ہو گیا جو اس کا خیال رکھتا تھا۔ ربن فروش نے تجویز پیش کی ” یہ لو سفید ربن۔۔۔۔۔” اس نے سفید ربن فروخت کرنے کے لئے پکڑا ہوا تھا ” میں تمہیں یہ مفت دوں گا۔ اسے کتے کے گلے میں باندھ دو۔ اگر اسے تم سے واقعی انسیت ہے تو وہ تمہاری رہنمائی کرے گا۔ ”

اب کتے کی زندگی میں اک نیا موڑ آ گیا تھا۔ اس نے بڑھیا کی جگہ لے لی تھی۔ اس کی آزادی مکمل طور پر کھو گئی تھی۔ اس کی زندگی سفید ربن کے اسی دائرے تک محدود ہو گئی تھی جتنی کہ ربن فروش نے اس کی لمبائی رکھی تھی۔ اسے اپنی تمام سابقہ زندگی اور پرانی سر گرمیوں کو بھولنا پڑا۔ وہ اس رسی کی درازی کی آخری حد تک ہی رہتا تھا۔ اگر وہ فطرت سے مجبور ہو کر اپنے دوست یا دشمن کتوں کو دیکھتا اور رسی تڑاتے ہوئے ان پر جھپٹتا تو اسے اپنے مالک سے گھونسا پڑتا۔ ” بدمعاش! مجھے گرانا چاہتے ہو؟ __ ہوش کرو_” کچھ ہی دنوں میں کتا اپنی فطرت اور خواہشات پر قابو پانا سیکھ گیا۔ اس نے دوسرے کتوں پر توجہ دینی چھوڑ دی۔ اگرچہ وہ اب بھی اس کی طرف بڑھتے اور غراتے تھے۔ اس کا اپنے ساتھی مخلوق کے ساتھ رابطے اور حرکت کا دائرۂِ کار کھو گیا۔

اس نقصان کی قیمت پر اس کے مالک کو بہت فائدہ ہوا۔ وہ اب اس طرح نقل و حرکت کرتا تھا جیسے اس نے زندگی میں پہلے کبھی نہیں کی تھی۔ سارا دن وہ کتے کی رہنمائی میں پیدل چلتا رہتا۔ ایک ہاتھ میں لاٹھی تھامے اور ایک ہاتھ میں کتے کی رسی پکڑے وہ کتے کی رہنمائی میں گھر سے پیدل نکلتا_ جو کہ بازار سے چند گز کے فاصلے پر ایک سرائے کے برآمدے کے کونے میں تھا۔ وہ بڑھیا کی موت کے بعد یہا ں منتقل ہو گیا تھا۔ وہ صبح سویرے ہی کام کا آغاز کر دیتا۔ اسے معلوم ہو گیا تھا کہ ایک ہی جگہ رکے رہنے کی بجائے چل پھر کر بھیک مانگنے سے اس کی کمائی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ وہ گلیوں میں گھومتا پھرتا اور جہاں کہیں لوگوں کی آواز سنتا بھیک کے لئے ہاتھ بڑھا دیتا۔ دکانیں، سکول، ہسپتال، ہوٹل _ غرض اس نے کوئی جگہ نہ چھوڑی۔ جب اسے رکنا ہوتا تو کتے کی رسی کو کھینچتا اورجب اسے چلانا ہوتا تو بیل ہانکنے والے کی طرح چِلّاتا۔ کتا اسے گڑھے میں گرنے اور پتھروں سے ٹکرانے سے بچاتا۔ قدم بہ قدم بحفاظت اسے سیڑھیوں پر لے جاتا۔ یہ منظر دیکھ کر لوگ بھکاری کو سکے دیتے اور اس کی مدد کرتے۔ بچے اس کے ارد گرد اکٹھے ہو جاتے اور اسے اشیائے خورد پیش کرتے۔ کتا یقیناً ایک چست مخلوق ہے جو گاہے بہ گاہے اپنے تھکن زدہ معمولات کے بعد مناسب وقفوں سے آرام کرتا ہے۔ مگر یہ کتا _جو اب ٹائیگر کے نام سے جانا جاتا تھا _ کا تمام چین آرام ختم ہو گیا تھا۔ اسے تب ہی آرام کا موقع ملتا جب بوڑھا کہیں بیٹھتا۔ رات کو بوڑھا کتے کی رسی اپنی انگلی سے لپیٹ کر سوتا۔

” میں تمھیں کوئی موقع فراہم نہیں کر سکتا” وہ کہتا۔ روز بروز زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانے کی دھن میں اس کا مالک آرام کو موقع گنوانا سمجھتا تھا اور کتے کو مسلسل اپنے قدموں پر چلنا پڑتا تھا۔ بسا اوقات اس کی ٹانگیں چلنے سے انکاری ہو جاتیں مگر وہ معمولی سی بھی سست رفتاری کا مظاہرہ کرتا تو اس کا مالک غصے میں اپنی لاٹھی سے اسے مارتا۔ کتا اس ظلم پر تلملاتا اور احتجاج کرتا ” کراہو مت بدمعاش! کیا میں تمھیں خوراک نہیں دیتا؟ تم بے کار وقت گزارنا چاہتے ہو؟ کیا تم ایسا کرو گے؟” اندھے بوڑھے نے گالی دی۔اندھے ظالم کے ساتھ بندھا ہوا کتا سست قدموں سے سارا دن گلیوں میں ادھر ادھر ، اوپر نیچے پھرتا رہتا۔ جب بازار میں خرید و فروخت بند ہو جاتی تو رات گئے دیر تک تھکے ماندے کتے کی درد بھری کراہیں سنی جا سکتی تھیں۔ اس کی ظاہری شکل کھو گئی تھی۔ جوں جوں وقت گزرا اس کی ہڈیاں اس کی جلد میں کھبتی گئیں۔اس کی پسلیاں جلد سے جھانکتی صاف نظر آتی تھیں۔

ربن فروش، ناول فروش اور عطر فروش اس کا مشاہدہ کرتے رہتے تھے۔ ایک شام جب کاروبار میں مندا تھا تینوں نے بیٹھ کر مشاورت کی۔ ” اس کتے کو غلامی کرتے دیکھ کر میرا دل پسیجتا ہے۔ کیا ہم کچھ نہیں کر سکتے؟” ربن فروش نے تبصرہ کیا۔ ” اب تو اس بد معاش نے ساہو کاری بھی شروع کر دی ہے۔ _ میں نے سبزی فروش سے یہ بات سنی ہے __ وہ اپنی ضروریات سے کہیں زیادہ کما رہا ہے۔ وہ پیسے کی خاطر شیطان بن چکا ہے ___” اسی لمحے عطر فروش کی نظر قینچی پر پڑی جو ربن کے فریم پر جھول رہی تھی۔ ” یہ ذرا مجھے پکڑاؤ” وہ بولا اور قینچی ہاتھ میں تھامے آگے بڑھا۔

اندھا بھکاری مشرقی دروازے کے سامنے سے گزر رہا تھا۔ کتا رہنمائی کے فرائض سر انجام دے رہا تھا۔ راستے میں ہڈی کا ٹکڑا پڑا تھا اور کتا اسے کو حاصل کرنے کی تگ و دو میں تھا۔

رسی اندھے بھکاری کے ہاتھ میں تن گئی جس سے اس کے ہاتھ کو تکلیف پہنچی۔ اس نے رسی کھینچی اور کتے کو ٹھوکر ماری۔ کتا چلّایا اور کراہا مگر آسانی سے ہڈی تک نہ پہنچ سکا۔ اس نے ہڈی کی طرف ایک اور قدم بڑھایا۔ اندھا آدمی اس پر لعنتوں کے انبار لگا رہا تھا۔ عطر فروش نے قدم آگے بڑھایا، قینچی چلائی اور ربن کاٹ دیا۔ کتے نے چھلانگ ماری اور لپک کر ہڈی اٹھا لی۔ اندھا آدمی اپنی جگہ پر ساکت کھڑا رہ گیا۔ ربن کا بقیہ حصہ اس کے ہاتھوں میں جھول رہا تھا۔ ” ٹائیگر! ٹائیگر! تم کہاں ہو؟” وہ پکارا۔ عطر فروش چپکے سے کھسک آیا اور بڑ بڑایا، ” بے رحم شیطان! تم اسے کبھی دوبارہ نہیں پاسکتے۔ اس نے اپنی آزادی حاصل کر لی ہے۔ ” کتا تیز رفتاری سے بھاگ گیا۔ اس نے خوشی خوشی سارے نالوں میں ناک گھسیڑی۔ بھاگ کر دوسرے کتوں میں شامل ہو گیا اور بازار کے فوارے کے ارد گرد بھونکتے ہوئے آزادی سے چکر لگائے۔ اس کی آنکھیں خوشی سے جگمگا رہی تھیں۔ وہ اپنی پسندیدہ جگہوں قصاب کی دکان، چائے کے کھوکھے اور بیکری پر گیا۔

ربن فروش اور اس کے دوست بازار کے داخلی دروازے پر کھڑے ہو کر اندھے بھکاری کو راستہ ٹتولتے دیکھ کر لطف اندوز ہونے لگے۔ وہ اپنی جگہ پر ساکت کھڑا لاٹھی گھما رہا تھا۔ اسے یوں محسوس ہوا جیسے وہ ہوا میں معلق ہے۔ وہ گریہ کر رہا تھا ” ہائے ! میرا کتا کہاں ہے؟ میرا کتا کہاں ہے؟ کوئی ایسا نہیں جو مجھے میرا ٹائیگر لوٹا دے؟” اگر وہ پھر سے مجھے مل جائے تو میں اس کا خون کر دوں گا۔ ” اس نے ٹتولتے ہوئے سڑک پار کرنے کی کوشش کی۔ جگہ جگہ درجنوں گاڑیوں کے نیچے آنے سے بچا، کئی بار لڑھکا اور آخر کار ہانپنے لگا۔ ” اگر وہ کچلا جاتا تو اسی کا مستحق تھا۔ بے رحم انسان_” وہ اسے دیکھتے ہوئے بولے۔ تاہم بوڑھا کسی نہ کسی طرح کسی کی مدد سے سرائے کے بر آمدے کے کونے میں اپنے ٹھکانے پر پہنچنے میں کامیاب ہو گیا اور اپنے بوریے کے بستر پر ڈھیر ہو گیا۔ سفر کے تناؤ کی وجہ سے وہ نیم بے ہوش تھا۔

پھر وہ نظر نہ آیا۔ دس_ پندرہ_ حتیٰ کہ بیس روز گزر گئے۔ نہ ہی کتے کی کوئی بھنک ملی۔ وہ آپس میں تبصرے کیا کرتے۔ ”کتا یقیناً آزادی کی خوشی اور سرمستی میں دنیا گھوم رہا ہو گا۔ بھکاری بہر حال اب تک گزر گیا ہو گا۔ ” بمشکل ہی یہ جملہ ادا ہوا ہو گا کہ انھوں نے بھکاری کی لاٹھی کی مخصوص ٹپ ٹپ کی آواز سنی۔ انھوں نے فٹ پاتھ پر بھکاری کو کتے کی رہنمائی میں دوبارہ آتے ہوئے دیکھا۔ ” دیکھو ! دیکھو ! ” وہ چِلّائے، ” اس نے دوبارہ اس پر قابو پا لیا اور رسی باندھ دی_” ربن فروش خود کو باز نہ رکھ سکا اور پوچھا ” تم ان تمام دنوں میں کہاں رہے؟”

”جانتے ہو کیا ہوا!” اندھا آدمی کراہا ” یہ کتا بھاگ گیا تھا۔ میں تو اس کونے میں پڑا پڑا ایک دو دن تک مر ہی جاتاکھانے کو کچھ تھا نہ کوئی آنے کی کمائی تھی وہاں پر قید چل بستا اگر کل بھی ایسا ہوتا مگر یہ کتا لوٹ آیا_”

”کب؟ کب؟ ”

”کل رات، آدھی رات کا وقت ہو گا جب میں اپنے بستر پر سویا ہوا تھا وہ آ گیا اور میرا چہرہ چاٹنے لگا۔ میرا جی چاہتا تھا کہ اسے مار ڈالوں۔ میں نے اسے زور کا دھکا دیا۔ جو وہ زندگی بھر نہیں بھولے گا۔ ” بوڑھے آدمی نے بتایا۔ ”میں نے اسے معاف کر دیا۔ بہر حال وہ ایک کتا ہی تو تھا۔ وہ اتنے دن آزادی سے گھوما پھرا جب تک سڑک کنارے بچا کھچا کھانے کو ملتا رہا۔ مگر بھوک اسے میرے پاس واپس کھینچ لائی۔ مگر اب وہ مجھے چھوڑ کر نہیں جائے گا۔ دیکھو! اب مجھے یہ مل گئی ہے__” اس نے رسی لہرائی۔ اس مرتبہ یہ لوہے کی زنجیر تھی۔

ایک مرتبہ پھر کتے کی آنکھوں میں بے دلی اور نا امیدی کی تصویر در آئی تھی۔ ” اپنی راہ لو احمق! ” اندھا بھکاری ایک بیل ہانکنے والے کی طرح ہنکارا۔ اس نے رسی کو جھٹکا دیا اور اپنی لاٹھی سے اسے ٹھوکر ماری اور کتے نے سستی سے اپنے قدم آگے بڑھا دئیے۔ وہ ٹپ ٹپ کی آواز کو دور جاتے ہوئے سنتے رہے۔

” اب تو موت ہی کتے کی جان چھڑا سکتی ہے۔” ربن فروش نے آہ بھری اور اس پر افسردہ نگاہ ڈالی۔ ” ہم ایسی مخلوق کا کیا کر سکتے ہیں جو اتنی خوش دلی سے اپنی بد بختی کی طرف لوٹ آئے۔”

Categories
فکشن

چوکیدار کی بیوی (تحریر: رخسانہ احمد، ترجمہ: رومانیہ نور)

یہ ترجمہ محترم یاسر حبیب کے تعاون سے شائع کیا جا رہا ہے۔ یاسر حبیب “پاکستان کی مادری زبانوں کا عالمی ادب – اردو قالب میں” کے عنوان سے ایک فیس بک گروپ کے ایڈمن ہیں۔ یہ گروپ اردو قارئین کو پاکستان کی دیگر زبانوں میں لکھے گئے ادب سے روشناس کرانے کا اہم ذریعہ ہے۔

رومانیہ نور کا تعلق ملتان سے ہے۔ ایک سرکاری تعلیمی ادارے میں انگریزی پڑھاتی ہیں۔ انھوں نے اب تک غیرملکی زبانوں کے ادب سے 18 افسانوں، 10 نظموں، 2 خطوط، اور مختلف کتابوں کے 9 اقتباسات کے اردو تراجم کیے ہیں۔ ان کے کچھ تراجم سہ ماہی “ادبیات”، روزنامہ “اوصاف” اور دیگر جرائد و اخبارات میں شائع ہوچکے ہیں۔ ایک کتاب “عورت کتھا” میں ان کے تراجم کا انتخاب بھی شائع ہوچکا ہے۔ سوشل میڈیا اور ویب سائٹس پر بھی تراجم شائع ہوئے ہیں۔ ترجمہ نگاری کا یہ سلسلہ ابھی جاری ہے۔

…………

کَل دو افراد لُو لگنے کے باعث دم توڑ گئے تھے۔اس قدر شدید درجہ حرارت موسم گرما کے لیے بھی ایک ریکارڈ تھا۔ انیتاسورج کی بے حسی یاد کر کے جھلا گئی تھی کہ کل چڑیا گھر کے پرند خانے میں پرندے گرمی کی شدت سے کیسے ساکت اور خاموش تھے۔ شاندار بلیاں کیسے بے دم ہوئی پڑی تھیں۔ اس کا کوئی حل نکالا جانا چاہیئے۔ مگر 110فارن ہائیٹ تک بلند درجۂ حرارت سے بچاو کا سوچنا بھی حماقت معلوم ہوتاہے۔ گرمی اس قدر شدید تھی کہ اچھے خاصے سوریہ ونشی بھی تائب ہوجائیں۔ بھلے وقتوں میں بھی لاہور کا چڑیا گھر جانوروں کے لئے مناسب مقام نہ تھا۔ لیکن اس بار کی گرمی سے ان کی جانوں کو سنگین خطرہ لاحق تھا۔ اس کا فوری سدِّ باب ضروری تھا۔

انیتا نے ڈوری کھینچ کر دبیز پردے گرا دئیے۔ سورج کی تابناکی کا سامنا کرنے سے پہلے وہ چند لمحے پر سکون تاریکی سے لطف اندوز ہونا چاہتی تھی۔

اس کے چھوٹے چھوٹے شہد رنگ بال جھاڑ جھنکار کی طرح منتشر تھے جنھیں اس نے انگلیاں پھیر کر پیچھے ہٹایا۔ وہ بہت اکتائی ہوئی لگ رہی تھی۔خود کو پژمردہ اور لباس کو شکن آلود محسوس کرتے ہوئے اس نے دونوں ہاتھوں سے سکرٹ کی اطراف کو رگڑ تے ہوئے شکنیں مٹانے کی بے سود کوشش کی۔ جانے کا وقت ہوا چاہتا تھا۔ پانچ بجنے کو تھے لیکن سورج کی بے اعتنائی اپنی جگہ برقرار تھی وہ بد ستور کینہ پروری سے بے دم اور تپتی ہوئی گرم خشک زمیں پر آگ برسا رہا تھا۔

“صاحب آ گیا؟”

جب جادوئی انداز میں پردے کے پیچھے سے کامو سکنجبین کی ٹرے کے ہمراہ نمودار ہوا تو اس نے اپنے انگریزی زدہ اردو لہجے میں پوچھا۔ وقت کی پابندی کے معاملے میں کامو بے عیب تھا۔

“ نہیں میم صاحب!”

اس کا انداز معذرت خواہانہ تھا۔ ٹرے انیتا کے سامنے کرتے ہوئے اس نے احترام سے آنکھیں جھکا لیں۔

“شکریہ! ڈرائیور سے کہو کہ بس پانچ منٹ” اس نے اپنی بات کو تمثیلی طور پر بیان کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں کا سہارا لیا۔
“ابھی تک واپسی نہیں ہوئی۔ اب رات کے کھانے تک اس سے نہیں مل پاؤں گی۔” انیتا نے خود کلامی کی۔
اسے ساڑھے پانچ بجے تک گالف کھیلنے جانا ہے، سو وہ کلب میں ہی کپڑے بدلنے والا ہے۔
“وہ ٹیلی فون بھی تو کر سکتا تھا۔ نو سال ہو گئے ہیں سہتے ہوئے اور ابھی تک یہی کرب مسلسل ہے”۔

اس نے اپنے ذہن سے اس دکھ کو جھٹکنے کی کوشش کی کیونکہ اسے اپنی چیزیں سمیٹنا تھیں۔ ایک چھوٹی نیلی چھتری، تنکوں سے بنا خاکستری پرس، دھوپ کا چشمہ، اور معالجِ حیوانات کی رہنما کتاب جو کہ برٹش کونسل لائبریری سے مستقل بنیادوں پر مستعار لی گئی تھی۔

باہرجونہی تیز دھوپ کے تھپیڑے اس کے چہرے سے ٹکرائے وہ ٹھنڈی پناہ گاہ کے لئے تیزی سے نیلی ٹیوٹا کی جانب بڑھی۔ چڑیا گھر سرکاری افسروں کی رہائشی کالونی جی۔ او۔ آر جہاں ان کا گھر تھا سے زیادہ دور نہیں تھا۔ انگریزوں کے چھوڑ جانے کے 37سال بعد بھی لاہور میں یہ بہت معزز علاقہ سمجھا جاتا تھا۔ حکومتی عہدیداران کی رہائش گاہوں کے ساتھ بڑی چار دیواری کے پیچھے وسیع و عریض پائیں باغ تھے جن کی چمک دمک ماند پڑ گئی تھی۔ لیکن اپنے آقاؤں کی طرح ان کی بے نیازی برقرار تھی۔

چڑیا گھر کے بند ہونے کا وقت پانچ بجے تھا مگر گھنٹی کی عدم موجودگی میں عملے کے افراد کو ہی لوگوں کو گیٹ بند ہونے سے پہلے روانہ ہو نے کی تلقین کرنا پڑ رہی تھی۔ وہ انہیں یقین دلا رہے تھےکہ بصورتِ دیگر اگر گیٹ بند ہو جاتا تو ان کے اندر ہی قید ہو جانے کا خدشہ تھا۔

اڑیل بچے گرمی کی شدت سے قطرہ قطرہ پگھل کر انگلیوں پر بہتی آئس کریم کو عجلت میں چاٹتے ہوئے بے دلی سے قدم اٹھا رہے تھے۔ جوانوں نے اِدھر اُدھر سائے کی تلاش میں ہلچل مچائی ہوئی تھی۔ وہ مضطرب تھے کہ گیٹ کے باہر کوئی بھی سواری انہیں مل جائے۔ چوکیدار نے اپنے ڈھنڈورچی کے کردار میں تعطل لاتے ہوئے انیتا کے لئے دروازہ کھولا۔ وہ ڈپو کی جانب روانہ ہو گئے جو دوسرے سرے پر سپرنٹنڈنٹ کی رہائش گاہ کی طرف کچھ ہٹ کر بنا ہوا تھا۔ حسین کتابیں، رجسٹر، ٹوکری، اور برتن برآمدے میں لئے، موڑھے پر بیٹھا پوری طرح چوکس ان کی آمد کے لئے تیار تھا۔ اس کے پھٹے ہوئے گرد آلود پاؤں چپلوں میں چپکے ہوئے تھے۔ وہ استقبال کے لئے پھرتی سے کھڑا ہو گیا۔ رسمی سلام دعا کا تبادلہ ہوا۔ اس کی ٹھنڈے مشروب کی پیشکش ہمیشہ کی طرح مسترد کر دی گئی اور وہ کام کی طرف متوجہ ہو گئے۔

انیتا نےایک ہلتی ہوئی کرسی پر بیٹھ کرکھاتوں کے تمام اندراجات کو دیکھاجبکہ حسین گھبرائے ہوئے انداز میں گودام میں چیزیں تلاش کرتا رہا۔ وہ بندروں کے لئے پھل اور پرندوں کے لئے غلے کی مقدار اور وزن کی پیمائش کرتا رہا۔ میڈم مچھلی اور گوشت کے اوزان خود کرنے کو ترجیح دیتی تھی۔ چناچہ جب تک وہ گودام میں بھیجی جانے والی خوراک کے تمام اندراجات کی پڑتال نہ کر لیتی تب تک حسین انہیں نہیں تول سکتا تھا۔ تمام خوراک تیار کرنے میں چالیس منٹ لگتے تھے۔ تب تک دو لڑکے بھی جو باغیچے کی صفائی میں مالی کے معاون تھے میم صاحب کی زیرِ نگرانی جانوروں کو خوراک کھلانے کے لئے حسین کی مدد کو آ جاتےتھے۔

حسین کو کبھی کبھی انیتا کے بارے میں حیرت ہوتی تھی۔ وہ کون تھی؟ کہاں سے آئی تھی؟ اسے جانوروں سے یہ کس قسم کی محبت تھی جو تپتی سہ پہروں میں جب اس کے طبقے کی دیگر عورتیں نیم تاریک اور ٹھنڈے کمروں میں اونگھ رہی ہوتیں اسے یہاں کھینچ لاتی تھی۔ وہ جانتا تھا کہ اس کی ملازمت ایک لحاظ سے انیتا کی مرہونِ منت تھی۔ سب جانتے تھے کہ سابق سپرنٹنڈنٹ اسی کی مداخلت پر بر طرف کیا گیا تھا۔ چوکیدار نے کئی مرتبہ اسے یہ کہانی سنائی تھی کہ کیسے دو سال پہلے وہ چڑیا گھر کی سیر کو آئی اور دیکھا کہ جانور کمزوری اور کم خوراکی کا شکار ہیں۔ سو اس نے شکایت کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے اعلیٰ حکام تک رسائی حاصل کی، انہیں خطوط لکھے اور بالآخرانہیں سپرنٹنڈنٹ کی معزولی پر آمادہ کر لیا۔

جس دن حسین نے چارج لیا تو وہ گورنر کی طرف سے جاری کردہ مراسلے کے ساتھ وہاں موجود تھی جس میں کہا گیا تھا کہ جانوروں کو خوراک دینے سے پہلےوہ اس کے معائنے کی مجاز ہے اور وہ بذاتِ خود اس امر کو یقینی بنائے گی کہ جانوروں کو دی جانے والی خوراک موزوں اور متناسب ہے۔ اُس دن سے لے کر آج تک اسے کبھی پہنچنے میں تاخیر نہیں ہوئی تھی۔

اس کا انتظار کرنا حسین کا معمول بن گیا تھا۔ وہ خوفزدہ رہتا تھا کہ اگر وہ پھر سے ناراض ہو گئی تو نہ جانے اس کا کیا بنے گا۔ چوکیدار ماجھا انیتا کو ایک مداخلت کار سمجھتا تھا۔” بے چارے نواز صاحب کو آٹھ بچوں کے خاندان کے ساتھ کس طرح ذلیل کر کے نکال دیا تھا۔ اسے ابھی تک کوئی اور ملازمت نہیں ملی۔ در حقیقت وہ ایک اچھا شخص تھا” اس کی بات کا خاتمہ ہمیشہ ایک سرد آہ پر ہوتا تھا۔

گفتگو کے اس مرحلے پر حسین کی کہانی میں دل چسپی کھو جاتی اور وہ کسی ضروری کام کا بہانہ بنا کر وہاں سے چلا آتا۔

انیتا اس دن گرمی سے نڈھال ہو گئی تھی۔ پسینے سے لباس اس کے بدن پر چپکا جا رہا تھا۔ وہ دم لینے کو ایک بنچ پر بیٹھ گئی جو چنبیلی اور گلِ خطمی کی جھاڑیوں کے جھنڈ سے ڈھکا ہوا تھا۔ اس دن کی تپش کے باعث انیتا کے لیے ممکن نہیں رہا تھا کہ وہ ہمیشہ کی طرح خوراک تقسیم کرتے ہوئے حسین کے پیچھے پیچھے چکر لگائے۔

پھولوں کی تیز خوشبو اورجانوروں کے پنجروں سے اٹھتی بو کے مابین کشمکش جاری تھی۔ گرمیوں کے مہینوں میں پانی کی کمی بہت گھمبیر مسئلہ تھا اور پنجرے ہر تین میں سے دو بار بد بو دیتے تھے۔ اسے ہیرا کی فکر تھی۔ وہ کل سے بھی زیادہ بے جان دکھائی دیتا تھا۔ اس نے اس گوشت میں کوئی دلچسپی ظاہر نہ کی جو حسین نے پنجرے میں پھینکا تھا۔ انیتا نے پریشان ہو کر یہ سوچتے ہوئے اپنا کتابچہ کھولا کہ آیا انہیں معالجِ حیوانات سے رابطہ کرنا چاہیئے یا پھر نگرانی سخت کر دینی چاہیئے۔ وہ ہیرا کی بہت دلدادہ تھی۔ ہیرا عملے کے دوسرے ارکان میں بھی بہت مقبول تھا۔ انہوں نے اسے ہیرا کی عرفیت دی تھی کیونکہ رات کے وقت اس کی آنکھیں ہیروں کی طرح چمکتی تھیں۔ وہ ایسا ہی زندگی سے بھر پور اور شرارتی چیتا تھا جیسا کہ سندر بن میں عام دیکھنے کو ملتے ہیں۔ لیکن اس موسمِ گرما کی شدت نے اسے بری طرح نڈھال کر دیا تھا۔ انیتا نے پرس اٹھایا اور بے دھیانی میں آہستہ آہستہ واپس اس کے پنجرے کی طرف چلنا شروع کر دیا۔ نرم کیچڑ میں اس کے قدموں کی چاپ دب گئی تھی۔ اُس عورت پر نظر پڑتے ہی وہ خود بخود اوٹ میں ہو گئی۔ اس عورت نے نہ تو انیتا کو آتے ہوئے دیکھا تھا اور نہ اس کے قدموں کی چاپ سنی تھی۔ وہ سفید جنگلے کے اس پار ممنوعہ علاقے میں یکسوئی سے پنجرے کے گرد منڈلا رہی تھی۔ صرف اراکینِ عملہ کو اس اندرونی حصار میں جانے کی اجازت تھی۔ حتیٰ کہ انیتا بھی ان حدود کا احترام کرتی تھی۔ وہ ہکا بکا اسے دیکھتی رہی۔

عورت کی ایک آنکھ ہیرا پر جمی ہوئی تھی، وہ ضرورت سے زیادہ پریشان دکھائی نہیں دیتی تھی۔ انیتا کی لگی جب اس نے دیکھا کہ عورت نے آگے جھک کر سلاخوں میں ہاتھ ڈال کر گوشت کے دو پارچے اٹھا لئے اور انہیں تیزی سے پلاسٹک کے نرم تھیلے میں کھسکا لیا۔ وہ ایک دبلی پتلی، نازک اندام اور خوش قامت عورت تھی۔ اس کا مشن پایۂ تکمیل کو پہنچ چکا تھا۔ وہ اٹھ کھڑی ہوئی اور اس سرعت کے ساتھ دوڑ کر پیچھے ہٹ گئی جوصرف ہیرا سے ہی منسوب کی جا سکتی ہے۔

ملگجے اندھیرے میں انیتا نے فوری طور پر بیٹھنے کی ضرورت محسوس کی کیونکہ شدتِ غم سے اس کے قدم ڈگمگانے لگے تھے اور وجود جھولنے لگا تھا۔صدمے نے اسے کمزور کر دیا تھا۔ اسے اپنے آپ کو یکجا کرنے میں کچھ وقت لگا۔ وہ حیران تھی کہ اس کی عدم موجودگی میں یہاں کیا کچھ ہوتا ہے۔ اس عورت کی جسارت انیتا کے لئے چیلنج تھی۔یقیناً انیتا کو اس پر چلّانا چاہئے تھا۔ اس نے فرض کیا کہ یہی سب کچھ برسوں سے ہوتا چلا آ رہا ہے اور اب اس چوری چکاری کا سدِ باب ضروری ہے۔ ہیرا آہستگی سے اٹھا اور سبک خرامی سے اپنی خوراک کی طرف بڑھا۔ کھانے میں مشغول ہونے سے پہلے وہ نفاست و نزاکت سے گوشت کو سونگھنے لگا۔

اسے واپس جانے کے لئے اپنی توانائیاں مجتمع کرنے میں معمول سے زیادہ وقت لگا۔ ملازمین اسے روانہ کرنے کے لئے گیٹ پر منتظرکھڑے تھے۔ اس کا کچھ تاخیر سے جانا بالکل بھی غیر معمولی نہ تھا۔ سیر کے اوقات کے بعد چڑیا گھر میں خاموشی اور سکون ہوتا تھا۔ وہ پہروں بیٹھی یہاں بند جانوروں کواپنے آپ میں مگن ہوتے دیکھتی رہتی یہاں تک کہ شام کی تاریکی چھا جاتی۔

یہاں تاریکی ہمیشہ بہت جلد اور دفعتاً چھا جاتی تھی جب سورج مغربی دیوار کی طرف پرند گھر کی بلند و بالا گارے کی دیواروں کے پیچھے چھپ جاتا تو وہ مرے مرے قدموں سے خود کو دھکیلتی ہوئی واپسی کی راہ لیتی۔آج وہ گیٹ کے پاس سے گزری تو بالکل خالی الذہن تھی اس نے اپنا نحیف ہاتھ اٹھا کر صرف اشارے سے سلام کا جواب دیا۔

اس رات وہ سلیم سے بات کرنے کے لئے مضطرب تھی۔ وہ کھانا کھانے میں محو دکھائی دیتا تھا مگر پھر بھی انیتا نے بات چھیڑ دی۔ سلیم کی ہنسی بہت سرد مہر اور کھردری تھی۔

“ تم نے پو لیس کو نہیں بلایا؟”

“نہیں” انیتا اس کے استہزاء سے بے چین ہو گئی۔” اس میں ہنسنے کی کیا بات ہے؟”

“تمہارا خدائی فوجدار بننا: اور یہ اخلاقی بحران ۔۔۔۔جو تمہیں درپیش ہے۔”

سلیم کی ہنسی ناخوشگواری کے آخری دہانے پر تھی اور ان کے درمیان فاصلہ بڑھا رہی تھی۔

“اخلاقی بحران؟” وہ حیران ہوئی۔

“میرے خیال میں تو اس صورتحال کو یہی کہا جاتا ہے”۔

وہ پوری توجہ سے انگلیوں کی مدد سے مچھلی کے سانٹے نکالنے میں مگن تھا۔ انیتا کی نظریں دور خلا میں جمی ہوئی تھیں۔ کچھ توقف کے بعد سلیم نے پوچھا:

کیا میں نے تمہیں کبھی مسز ہاؤ کا قصہ سنایا ہے؟”

“میرا نہیں خیال۔ کون ہے وہ؟” انیتا کو اس کے انداز سے الجھن محسوس ہو رہی تھی۔

“ہے نہیں۔۔۔۔۔تھی۔ ہاں مسز ہاؤ تہران میں قونصل جنرل کی بیوی تھی۔اس وقت چالیس کی دہائی میں پاپا وہاں تعینات تھے۔ وہ گھوڑوں سے بہت الفت رکھتی تھی۔ بلا شبہ ان سے شدید محبت کرتی تھی۔ وہ ہر سہ پہرگھر سے نکلتی اور بیمار اور بدسلوکی کے شکار گھوڑوں کی تلاش میں شہر کا چکر لگاتی تاکہ انہیں گھر لے آئے۔

وہ اپنا گھڑ سواری کا لباس زیب تن کرتی، ہاتھ میں چابک ہوتا اور بذاتِ خود خطا کار مالکان کو سزا دینے پہنچ جاتی انہیں چابک سے مارتی اور گھوڑے کو اپنے ساتھ لے آتی۔ وہ دہشت کی علامت بن چکی تھی۔ مالکان کے ساتھ گھوڑوں سے بھی بد تر سلوک کیا جاتا،انہیں جیل میں ڈال دیا جاتا اور وہ ایک کام کرنے والے جانور سے بھی کسی ادائیگی کے بنا ہاتھ دھو بیٹھتے۔”

“پھر؟”

“پھر کچھ نہیں- کشیدگی بڑھتی گئی۔۔۔یاد رکھو کہ یہ وہ ایام تھے جب پانچ آدمی چینی کی قیمت پر احتجاج کرنے کے لئے بھی اکٹھے ہو جاتے تو انہیں دھمکانے کے لئےبرطانوی جنگی بیڑے مشتعل ہو کرساحلوں پر آ لگتے تھے۔”

” میں نہیں جانتی کہ تم کیا جتانا چاہ رہے ہو سلیم! مگر جوکچھ میں یہاں کرنا چاہ رہی ہوں وہ کچھ الگ معاملہ ہے۔”

“ہاں ، امید ہے ایسا ہی ہو گا۔۔۔ تم اپنے گھڑ سواری کے لباس میں نہیں تھی اور تم نے پولیس نہیں بلائی۔ میری عمر اس وقت صرف گیارہ سال تھی اور مظلوموں کے ساتھ ناانصافی کے بارے میں میرے احساسات آج کی نسبت کہیں زیادہ خالص تھے۔ اس کے باوجود میں وہ واحد شخص تھا جسے کبھی اس بات کا تعین نہیں کر پایا کہ اصل میں گھوڑے مظلوم ہیں یا ان کے مالک۔”

انیتا نے اپنے اور سلیم کے درمیان اس بے رحم فاصلے پر ایک مایوس کن اور بے آواز غصے کی کیفیت کو محسوس کیا۔ یہ جارحیت، عداوت، جانبداری یا پھر حد سے بڑھی ہوئی سادگی تھی۔

” کیا ہو گیا تھا انہیں۔۔ “انیتا کو ذرا سی بات کا تماشہ بنانے سے نفرت تھی۔ لیکن جیسے ہی وہ نیپکن رکھ کر کھانے کی میز سے جانے کے لئے اٹھی تو غصے کی وجہ سے اس کی کرسی چرچرا اٹھی۔ اس نے برآمد ے کی جانب قدم بڑھا دیئے۔ باہر خاموش اور گھٹن زدہ تاریکی میں وہ خالی نظروں سےاڑتے ہوئے جگنوؤں کو تکتی رہی ۔

کیمبرج کے دنوں میں ان کے درمیان جو شدید قسم کا جذباتی لگاؤ تھا وہ اب ختم ہو چکا تھا۔ انیتا کی حد تک تو یہ معاملہ اپنے وجود سے جڑے حقائق کے لیے ہمہ وقت مبہم مدافعانہ پن میں ڈھل گیا تھا۔ اس نے تلخی سے سوچا کہ تمام سفید فام اقوام کے اجتماعی جرم کو اپنے زہریلے پن میں لپیٹ کر اس کی روح پر لیپ دینا سلیم کی عادت بن گیا ہے۔ تنازعات اور غصہ تلخی بن کر ان کے مابین معلق تھے۔

سلیم اچھی طرح سے جانتا تھا کہ وہ چڑیا گھر کے جانوروں کے متعلق کتنی حساس ہے۔ اس نے اداسی سے سوچا۔

وہ انیتا کے لئے اس کے خاندان کی طرح خصوصی اہمیت کے حامل تھے۔ بالکل اپنے بچوں کی طرح تھے اور یہ ایسا ہی تھا جیسا کہ کسی کو اس کی اولاد سے محروم کر دیا جائے۔

Categories
فکشن

تھل مارو کا سفر (تحریر: مسرت کلانچوی، ترجمہ: عقیلہ منصور)

افسانہ: تھل مارو کا سفر
مصنفہ : مسرت کلانچوی (بہاولپور)
سرائیکی سے اردو ترجمہ : عقیلہ منصور جدون (راولپنڈی)

یہ ترجمہ محترم یاسر حبیب کے تعاون سے شائع کیا جا رہا ہے۔ یاسر حبیب “پاکستان کی مادری زبانوں کا عالمی ادب – اردو قالب میں” کے عنوان سے ایک فیس بک گروپ کے ایڈمن ہیں۔ یہ گروپ اردو قارئین کو پاکستان کی دیگر زبانوں میں لکھے گئے ادب سے روشناس کرانے کا اہم ذریعہ ہے۔

وسائی نے جب اپنی چوتھی اور آخری بیٹی کی خیروعافیت سے شادی کر دی تو اسے محسوس ہوا جیسے زندگی کے سارے بوجھ اتر گئے ہوں۔ اسے اپنا وجود ہلکا پھلکا لگنے لگا۔مہندی والی رات جب اپنے پرائے رخصت ہو گئے تو سونے سے قبل اس نے اپنی چاروں بیٹیوں کو جمع کیا اور ان سے کہنے لگی:

“اپنی شادی سے لے کر اب تک تیس سال، میں تمہارے فرائض کی ادائیگی میں مصروف رہی۔راتوں کی نیند میری پلکوں سے دور رہی اور فکروں اور پریشانیوں کے ناگ میرے سکھ چین کو ڈستے رہے۔اب میرے جسم کا انگ انگ تھکاوٹ سے ٹوٹ رہا ہے۔میں جانتی ہوں کہ ایک دن میں صحرائی بوٹی کے اڑنے والے پھول کی طرح ہو جاؤں گی جو بے فکر ہوا کے جھونکوں سے اڑتا رہتاہے اور اُڑتے اُڑتے آسمان کی وسعتوں میں گم ہو جاتا ہے۔”

پروین،نورین،شاہین اور یاسمین نے ایک دوسرے کی آنکھوں میں جھانکا۔ ہر آنکھ میں وسوسہ حیرانی اور خوف تھا۔
وسائی نے نگاہیں اٹھائیں اور بولی۔
“میرا اور تمہارے باپ کا یہی ارادہ ہے کہ ہم اپنی بستی چلے جائیں۔”
“لیکن کیوں اماں۔۔۔۔۔۔۔۔؟”
پروین نے اپنے ہاتھوں کی مہندی اتارتے ہوئے پوچھا۔
“اب ہمارا واپسی کا سفر شروع ہو گیا ہے بیٹا۔”
“پر اماں ! واپسی کے سفر کی تکالیف ؟”
یاسمین اپنے چھوٹے بچے کا سر اپنے گھٹنے پر رکھتے ہوے بولی۔

“واپسی کے سفر میں کوئی تھکاوٹ نہیں ہوتی بیٹا۔ سارے راستے دیکھے بھالے ہوتے ہیں۔اپنائیت سے بھرے ہوتے ہیں۔جہاں سے آئے ہیں،وہیں تو جانا ہے۔مجھے تو کلانچوالے کی مٹی خوابوں میں بھی آوازیں دیتی ہے۔نہر کے کنارے اتر کے بستی کی طرف چلیں تو چھوٹے سے مٹی کے ٹیلے پر پیلو کے درخت قبرستان پر سائے بکھیرے کھڑے ہیں۔ان درختوں پر لگےسرخ،سبز پیلو، پیلی سرسوں،حویلی کی بڑی ساری بیری اور پھپھو کے گھر کے ساتھ والی نیم کی خوشبو مجھے بلا رہی ہے۔”

لڑکیوں نے پھر ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔یہ اتنی بڑی بڑی باتیں کرنے والی انہی کی سیدھی سادھی ماں ہے ؟

“پر اماں ! ہم تم سے دور کیسے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟ ”
نورین تھوک نگلتے آنکھوں میں آئےآنسو پیتے ہوئے بولی۔
“بیٹا مجھے بڑھاپے میں سکون سے رہنے دو۔اپنے اپنے گھر میں آباد رہو۔اپنے دکھ خود برداشت کرو۔میں نے تمہیں فکروں سے لڑنے کے قابل بنا دیا ہے۔”
“اماں ! آپ اصل میں ہم سے جان چھڑا رہی ہو۔”
منجھلی شاہین تلخی سے بولی۔
“تم میرے پاس کلانچوالے ضرور آنا۔لیکن اکیلی روتی پیٹتی نہیں بلکہ اپنے شوہروں کے ساتھ ہنستی کھیلتی۔تم ایک دن مجھ پر رونے تو ضرور آؤ گی۔اس وقت روتے ہوئے مجھے اپنے سارے دکھ سنا دینا۔میں بند آنکھوں اور بند ہونٹوں کے ساتھ تمہیں دلاسے دے کر چلی جاؤں گی۔”
“ہائے۔۔ ہائے۔۔اماں!” سب سے بڑی بیٹی یاسمین گھٹنے پر ہاتھ مارتے ہوے بولی۔
“کیسی دل خراش باتیں کرتی ہو۔” اور ساری بیٹیوں نے رونا شروع کر دیا۔

وسائی نے جو کہا تھا،کر دکھایا۔آخری مہمان کے چلے جانے کے ساتھ ہی اس نے اور امیر بخش نے اپنا چھوٹا موٹا سامان اٹھایا اور گاڑی میں بیٹھ گئے۔آج راستے کی دھول وسائی کو بادلوں کی طرح لگ رہی تھی جس میں وہ صحرائی بوٹی کے اُڑتے پھولوں کی طرح اڑتی جا رہی تھی۔ اس کی روح چاہتی تھی کہ وہ دور دور تک پھیلے کھیتوں،پیلو کے درختوں سے بھرے ٹیلوں،نہر کے بہتے پانیوں اور کھجور کے تنوں کو اپنی با نہوںمیں بھر لے اور کہے۔
“میرے بچھڑیو! میں آگئی ہوں۔”

بوڑھی بوا نے ان کا گھر کھول دیا۔وسائی کو اس گھر سے ربیل اور مہندی کی وہی خوشبو آئی جس میں رچی بسی وہ پہلی دفعہ اس گھر میں داخل ہوئی تھی۔ اسے دیوار میں ٹھونکی وہ کیل بھی نظر آئی،جس پر امیر بخش نے اپنا سہرا اتار کر لٹکایا تھا۔

وسائی نے مسکرا کر امیر بخش کو اور امیر بخش نے اسے دیکھا۔

وسائی نے جونہی کھڑکی کھولی،ساری بستی اڑ کر ان کے پاس پہنچ گئی جیسے پانی کے تالابوں پر پرندے اکھٹے ہوتے ہیں۔

بستی والے سارا دن کام میں مصروف رہتے لیکن پھر بھی محسوس ہوتا تھا کہ وہ فارغ ہیں،ہر وقت بیکار۔ان بچوں کی طرح جو سارا دن حویلی میں چیخ و پکار کرتے بھاگتے دوڑتے،کھیلتے رہتے تھے۔

وسائی نے سوچا تھا کہ وہ اپنے گھر میں ہر وقت سوئی رہا کرے گی۔تیس سالوں کے جگ راتے ختم ہوں گے۔لیکن جونہی اسے ذرا نیند آتی تو ساتھ والے گھر سے بختو روتی پیٹتی آ کھڑی ہوتی۔

“دیکھو چاچی۔رضو نے آج پھر میرے شوہر کو بھڑکایا ہے۔وہ ہر روز جھگڑتا ہے۔ یہ عورت میرا گھر برباد کر کے چھوڑے گی۔”

کبھی مراد خاتون اپنے بچوں کا رونا رونے آجاتی۔اور کسی وقت بے اولاد بچل اس سے اولاد کے لیے ٹوٹکے پوچھنے آجاتی۔

وسائی سخت بیزار ہو گئی تھی۔یہ تو اس نے سوچا بھی نہ تھا کہ جس جھنجھٹ سے جان چھڑانے کے لئیے وہ بیٹیوں کو چھوڑ آئی تھی وہ تو ہر جگہ رلتے پھر رہے تھے۔وہ کس کس کو دھتکارتی وسائی نے دروازہ اندر سے بند کر لیا۔پچھواڑے والی کھڑکی کھول دی جہاں سے صرف قبرستان، سرسوں اور کنواں دکھائی دیتے تھے۔اس کی روح ان بے جان اور بے زبان اشیاء سے رشتہ جوڑنا چاہتی تھی۔لیکن دروازہ اب بھی بجتا رہتا،کبھی ست بھرائی کٹورہ اٹھائے سالن مانگنے آجاتی تو کبھی نورا موچی پیسے ادھار مانگنے کے لئیے آکھڑا ہوتا۔

زندگی میں سکون کیوں نہیں۔آرام کس کونے میں چھپ گیا ہے ؟ امیر بخش سارا دن بیٹھک میں گپ شپ کرتے حقہ پیتے گزار کر رات کو گھر آیا تو وسائی نے سر باندھا ہوا تھا۔وہ بولا۔

“میرا خیال تھا اب تم سر نہیں باندھو گی،لیکن یہاں بھی تمہاری پرانی عادت ختم نہیں ہوئی۔”

“امیر بخش زندگی اختتام پذیر ہے۔کچھ دن سکون کے گزارنے کی حسرت ہے۔لیکن لگتا نہیں کہ یہ خواہش پوری ہو گی۔”
“وسائی آباد گھر ہے۔تم کس کس سے چھپو گی۔”
“امیر بخش سکھ ان کو ملتے ہیں جن کے علیحدہ گھر ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔ میری مانو تو گھر کے آگے دیوار کھڑی کر دو۔”
“وسائی پاگل مت بنو۔بستی والے مذاق اڑائیں گے۔لوگ کیا کہیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تم کیا جواب دو گی۔”
لیکن جب وسائی کا اپنی دیورانی سے جھگڑا ہوا تو اسے لوگوں کو جواب دینے کا بہانہ مل گیا۔دو مزارعے بلوائے،کچی دیوار چڑھائی اور گلی میں کھلنے والا دروازہ بند کروا دیا۔
پچھلی طرف والی کھڑکی جس کا رخ فصلوں او ر قبرستان کی طرف تھا توڑ کر دروازہ لگوا دیا اور سکھ کا سانس لیا اور سوچا کہ جن دنوں کی خواہش تھی وہ آگئے۔

لیکن آج صبح جب وہ لسی بلونے کے بعد سوئی تو اس کے سر میں چیونٹیاں رینگنے لگیں۔آنکھوں کے آگے تارے ناچنے لگے۔ اس نے پھر سر باندھا دوا کی پھکی لی اور چارپائی پر سو گئی،لیکن درد سر سے پھیلتا پھیلتا پورے شریر میں پھیل گیا اور کچھ ہی دیر میں بدن ایسے ٹوٹنے لگا جیسے مٹی کا کھلونا تڑخ کر کے ٹوٹ رہا ہو۔وہ کمر پر ہاتھ رکھے ہا نپتی کانپتی اٹھی اور دروازہ کھول کر دوبارہ چارپائی پر سو گئی۔اسے لگا سرسوں کی خوشبو اس کے وجود میں سوئیاں چبھو رہی ہے۔ہونٹ خشک ہو رہے تھے۔وہ چاہتی تھی کہ اٹھے،گھڑا الٹائے اور جی بھر کر پانی پیئے۔لیکن اس کی ٹانگوں کی توانائی جاتی رہی اور وہ دروازے سے باہر جھانکنے لگی۔

آج باہر بادل ہیں۔فضا میں ہلکا ہلکا اندھیرا ہے۔ہوا درختوں میں سیٹیاں بجا رہی ہے۔ایک سوکھے درخت پر چیل سر جھکائے بیٹھی ہے۔سرسوں کا پیلا رنگ بھی پھیکا پھیکا ہے۔ نہر کا پانی خشک ہے۔اس ڈوبتے نظارے میں صرف قبرستان جو سب سے نمایاں نظر آرہا ہے۔بہت خاموش،پرسکون سویا سویا۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے ارد گرد درخت بھی سر جھکائے اونگھ رہے ہیں۔

وسائی نے آنکھیں بند کرکے سونے کی کوشش کی لیکن لگتا ہے کہ ہمسایوں اور رشتہ داروں کی طرح نیند بھی اس سے ناراض ہو گئی ہے۔ اسے امیر بخش پر بہت غصہ آیا۔ اس مرد ذات کا کیا بھروسہ کب ساتھ چھوڑ دے۔ بیٹھا ہو گا کہیں نوجوانوں کی گپ شپ سننے۔

آؤ میں تمہیں قصہ سناؤں۔ہوا نے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے سرگوشی کی۔مگر کیا سناؤں ؟ تمہارا تو اپنا قصہ ختم ہو رہا ہے۔ زندگی کے آخری لمحات میں تمھارے پاس سکون ہے آرام ہے خاموشی ہے۔

سکون———— آرام———خاموشی————— وسائی کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ایسا محسوس ہوا یہ مسکراہٹ ہونٹوں کے کنارے جبراً پھیلی ہے۔دل میں خوشی کی کوئی رمق نہیں ہے۔قبرستان کے درختوں کی اداسی آہستہ آہستہ چلتی اس کے سرہانے آ کھڑی ہوئی۔شاید اسے لینے آئی ہے۔اس کا دل کانپ اٹھا۔کہیں یہ پلکیں بند ہی نہ ہو جائیں اس خوف سے اس نے آنکھیں کھول دیں۔

اس کا جی چاہا کوئی تو اس کے پاس آئے۔آکر اسے اپنی ساس کے ساتھ ہوا جھگڑا سنائے۔کوئی آ کے بھینس کا دودھ سوکھ جانے کا رونا روئے۔
کوئی تو آئے اور اسے بتائے کہ اس کے بچوں نے اس کے ناک میں دم کر رکھا ہے۔کوئی سالن ہی مانگنے آجائے۔مگر خالی ہوا سیٹیاں بجاتی رہی اور کتا بھونکتا رہا۔
قاضیوں کا بچہ جو مرغا پکڑنے کے لیے اس کے پیچھے بھاگ رہا تھا،وہاں سے گزرا تو وسائی نے کانپتی آواز میں اسے پکارا لیکن بچہ اسے دیکھ کر بھاگ گیا۔
ان پلکوں نے بند ہونا ہی ہے تو یونہی سہی۔وسائی نے آنکھیں بند کرنے کی کوشش کی لیکن وہاں خوف ڈٹ کر کھڑا تھا۔وسائی نے چادر منہ تک اوڑھ لی۔اسے لگا کوئی سایہ قبرستان سے نکل کر آہستہ آہستہ چلتا آرہا ہے۔

وسائی کا دل بھی آہستہ آہستہ کانپنے لگا۔اسے لگا وہ دھڑکنا بند کر دے گا۔پھر وہ سایہ سچ مچ سر پر آ کھڑا ہوا،اس کے اوپر جھکا۔
وسائی نے چینخنے کی کوشش کی،لیکن چیخ گلے میں پھنس گئی۔
“وسائی کیا ہوا ؟”
امیر بخش نے اس کے منہ سے چادر ہٹائی۔اس کی پیشانی پر بہتے پسینے اور اس کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر پریشان ہو گیا۔
“قاضیوں کے بچے نے مجھے بتایا کہ نانی رو رہی ہے تو میں بھاگا آیا۔”
“امیر بخش ابھی یہ دیوار گیلی ہے اور کچی ہے اسے گرا دو۔”
“یہ کیا کہ رہی ہو وسائی۔۔!”
“میری بیٹیوں کو بلا بھیجو۔یاسمین کا بچہ بیمار رہتا ہے۔نورین کتنی روٹھی روٹھی سی تھی۔ یاسمین بے چاری بھوکے ننگے گھر بیاہ دی پتہ نہیں کیسے گزارہ کر رہی ہو گی۔اور وہ نو بیاہتا پروین پتہ نہیں خوش ہے بھی کہ نہیں۔”
“تمہیں کیا ہو گیا ہے وسائی ! پھر فکریں پالنے لگی ہو۔”
“ہاں۔امیر بخش ! یہ فکریں اندیشے زندگی کے رنگ ہیں۔ خاموشی، سکون اور بے فکری موت کا بد صورت روپ ہیں۔ میں ابھی زندہ رہنا چاہتی ہوں، مجھے زندہ رہنے دو۔”

(یہ ادب پارہ مصنفہ کی اجازت سے ترجمہ کیا گیا۔)

مسرت کلانچوی (پیدائش: 10 نومبر، 1956ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والی سرائیکی زبان کی نامور افسانہ نگار، تاریخ کی سابق پروفیسر اور سرائیکی، اردو اور پنجابی کی ڈراما نویس ہیں۔ وہ ممتاز سرائیکی ادیب پروفیسر دلشاد کلانچوی کی دختر ہیں۔

یہ ترجمہ محترم یاسر حبیب کے تعاون سے شائع کیا جا رہا ہے۔ یاسر حبیب “پاکستان کی مادری زبانوں کا عالمی ادب – اردو قالب میں” کے عنوان سے ایک فیس بک گروپ کے ایڈمن ہیں۔ یہ گروپ اردو قارئین کو پاکستان کی دیگر زبانوں میں لکھے گئے ادب سے روشناس کرانے کا اہم ذریعہ ہے۔

Categories
نان فکشن

عالم تمام حلقۂ دام خیال ہے (آصف فرخی)

لالٹین پر یہ تحریر یاسر حبیب کے تعاون سے شائع کی جا رہی ہے۔ یاسر حبیب “عالمی ادب کے اردو تراجم” نامی معروف فیس بک گروپ کے ایڈمن ہیں۔ یہ گروپ فیس بک صارفین تک تجربہ کار اور نوآموز مترجمین کا کام پہنچانے کا اہم ذریعہ ہے۔

(ادب اور عالم گیریت کے حوالے سے چند ابتدائی خیالات)

اب سے دور، یہ اس زمانے کی بات ہے جب نام و ناموس کے ایسے سنگین مسائل پربھی شعراء کو زحمت دی جاتی تھی۔ نہیں معلوم کہ اس میں حقیقت کتنی ہے اورافسانہ کتنا، مگراس معاملے کا ذکر میں نے مولوی شبلی کے “شعرالعجم” میں دیکھا تھا۔ اس وقت میرے لیے اتنا ہی کافی تھا۔ دراصل وہ مولانا محمد حسین آزاد کی “آبِ حیات” ہو یا مولوی شبلی نعمانی کی “شعرالعجم” میں نے پہلے پہل ادبی تنقید و تاریخ کی کتابیں سمجھ کر نہیں پڑھا۔ کیا سمجھ کر پڑھا، یہ بتانا مشکل ہے اور بتائے بغیر چارہ بھی نہیں۔ بہت دنوں بعد جب ڈی ایچ لارنس کی نوبت آئی اوراس کا وہ یادگار فقرہ پڑھا کہ یہ زندگی کی ایک شاندار اور روشن کتا ب ہے۔ تو جیسے ذہن میں چپک کررہ گیا۔ لارنس نے تو خیر یہ ناول کے لیے کہا تھا، مگرمیں سمجھتا ہوں کہ میں نے “آبِ حیات” اور “شعرالعجم” کو زندگی کی ایسی ہی شاندار کتابیں سمجھ کر پڑھا تھا۔ میں انتظار حسین نہیں کہ اس بناء پر ان معزّز و گراں قدر کتابوں کو ناول قرار دے ڈالوں لیکن ادبی تذکروں کو قصے کہانی والے تزک و احتشام سے پڑھ لینے کے نتیجے میں ایک مُستقل گڑ بڑ کا شکار ضرور ہوکر رہ گیا کہ افسانہ افسانہ اور تنقیدی مضمون در تنقیدی مضمون اس پیچاک سے باہر نکلنے کا راستہ ڈھونڈتا ہوں اور ہربار تھوڑا سا اور ٹوٹ کررہ جاتا ہوں۔ بہرکیف، میری یہ افتاد— کہ جہاں سے شہر کو دیکھتا ہوں اور شاعر کو بھی —کسی اور حوالے سے سہی، ابتداء ہی میں آڑے آگئی اور دِل کا چور نظروں کے سامنے ہی رہے تو اچھا ہے۔ ورنہ مطالعے کے وقت کمرے کی بتیاں بجھانے لگتا ہے اور پتہ بھی نہیں چلتا کہ دبے پاؤں یہ کون آیا۔

عالمگیر سے بھی پہلے شاہ جہاں کی جہاں بانی کا جو معاملہ سر دربار اُٹھا، اس کا حال میں نے مولوی شبلی کے الفاظ میں پڑھا کہ جب شہنشاہ روم نے شاہ جہاں کے نام پر ہی اعتراض جڑدیا کہ شاہجہاں کیسے، آپ ہندوستان کے بادشاہ ہیں سو یہی کہلوائیے۔ سارے جہاں پر آپ کا دعویٰ کہاں جائز ٹھہرا۔ اعتراض میں وزن تھا، بادشاہ کے دل کو بات لگ گئی، اور بات کیا لگی، نام و ناموس کی بن آئی۔ دربار کے شاعر ابو طالب کلیم نے اعتراض کا مسکت جواب دیا کہ شہنشاہ کے دل کی کلی کھُل اُٹھی اور وہ یہی جواب شہنشاہ روم کو بھجوا کر مطمئن ہوگئے۔ جواب یہ تھا کہ چوں کہ شہنشاہ ہند اور شاہجہاں کے اعداد برابر ہیں، اس لیے کوئی فرق نہیں پڑتا اگرایک کے بجائے دوسرا خطاب استعمال کیا جائے۔

شبلی نعمانی نے یہ نہیں بتایا کہ شاہجہاں کا یہ جواب جب معترض شہنشاہ کے دربار میں پہنچا تو وہاں اس کا کیا ردِ عمل ہوا۔ مگر شاہجہاں کے لیے غالباً بس اتنا ہی کافی تھا کا علم الاعداد کی رو سے شہنشاہ ہند برابر ہے شاہجہاں کے، لہٰذا ہندوستان کے شہنشاہ کو شاہجہاں کہنا جائز ہے۔ کلیم کے لیے حروف و الفاط کی برتری ایک اٹل اور ناقابل تردید دلیل تھی اور شاہجہاں کے لیے شاید اپنے شان و شوکت والے دربار سے ماورا اور غیر متعلق کسی اور جغرافیائی حقیقت کا ادراک غیر ضروری تھا بلکہ بڑی حد تک بےکار۔ مولوی شبلی نعمانی کی تمام تر جادو بیانی کے باوجود ہم اس سوال کا سامنا کس طرح کریں، اس Dilemma سے کیوں کرگزریں۔ تاریخ کے اس سارے تام جھام اور جھمیلے کے باوجود، میں یہ اعتراف بھی کرہی ڈالوں کہ مجھے اس تمام معاملے میں شاہجہاں سے ایک دبی دبی سی ہمدردی سی ہے اور شاید اس لیے محسوس بھی ہوتی ہے کہ میرے نزدیک اس کے جواب میں دلیل بودی رہ گئی ہے۔ جذباتی وابستگی کا اعتراف کسی قدر شرمندگی کے ساتھ اس لیے کررہا ہوں کہ دلیل سے بے دلیل ہوجانے کے باوجود ایسے معاملوں میں ہمارے رویّے کم و بیش وہی مغل اعظم کے سے ہیں۔ دنیا کے کسی کونے سے اعتراض اُٹھے، اس کو ٹھوکر ہم اسی رعونت کے ساتھ مارتے ہیں۔ مگرمیں سوچتا ہوں کہ یہ کیا محض ایک شاعر کی درباری بذلہ سنجی کی بات ہے اور ہم کُل جہاں کہہ کر اپنا دیس مُراد لینا چاہتے ہیں؟ اوراگریہ بات دُرست ہے تو پھر گلوبلائزیشن اور عالم گیر غلبے اوراس کے سامنے ادب کے کردار کی باتیں محض اصطلاحوں کا اُلٹ پھیر ہے۔ ایسے میں گھبرانے کی کیا بات ہے۔ رہیں گے وہی موچی کے موچی، باتی دنیا چاہے گاؤں بن جائے۔

میں سمجھتا ہوں کہ رعونت کے سامنے دلیل ٹھہرتی ہے اور نہ تشویش۔ اسی لیے عالم گیری کے خدشے کی بات کرتے ہوئے میں تشویش سے نہیں رویے سے شروع کروں گا۔ تشویش کے اظہار کے لیے ابھی تو پورا مضمون پڑا ہے۔ رویّے سے بات شروع کریں تو دروں بینی بھی کرسکتے ہیں اور خود احتسابی کی گنجائش بھی رہتی ہے، جس کا نتیجہ خود آگہی اور شعور کی صورت میں ظاہر ہوسکتا ہے اور اگرمحض مبتلائے تشویش رہے تو فضا کو ماتم رنگ کردینے سے بڑھ کراور کیا کرسکیں گے کہ اس طرح جذبات بھی آسودہ خاطر ہوسکتے ہیں اور خطابت کی خواہش بھی پایہ تکمیل کو پہنچتی ہے۔

یوں تو راوی چین ہی چین لکھتا ہے لیکن جن اِکّا دُکّا مقامات پرایسے معاملوں کا ذکر نکلا ہے، ہماری تنقید اسی مخمصے کا شکار رہی ہے۔ دُنیا تو دو مخالف بلکہ متضاد بلاک کے درمیان بعدِ قُطبین یا Polarization کی پیدا کردہ “سرد جنگ” (Cold War) سے آگے نکل آئی مگرہمارے بہت سے نقّاد چوں کہ اسی ذہنی فضا کے پروردہ تھے، اس لیے وہ وہیں محوِ حیرت بنے کھڑے ہیں اور انہوں نے سرد جنگ کا سارا لفظی گولہ بارود اور Jargon، گلوبلائزیشن کے نام سے موجودہ صورتِ حال پر جاری کردیا کہ اس بہانے ایک جدلیاتی مناقشہ جاری رہے اور نظریے کا جواز نکلتا آئے۔ بغیر ہاتھ میں تلوار لیے، ہروقت لڑتے بھڑتے رہنا بہرحال، لہو گرم رکھنے کا ایک بہانہ ضرور ہے۔ جس طرح “سردجنگ” ایک سیاسی اور بین الاقوامی ڈپلو میسی کا شاخسانہ تھی، اسی طرح عالم گیری کا یہ رحجان فی الاصل ایک معاشی Phenomenon ہے اوراس کے عواقب ونتائج کو سرد جنگ کے قطبین کی طرح اچھا اور بُرا کے دو خانوں میں نہ بانٹا جا سکتا ہے اور نہ اِن پرانی اصطلاحوں میں اس کا تجزیہ کیا جا سکتا ہے۔ اسی معاملے کو ٹھنڈے دِل سے سمجھنے اوراس کے ادبی مضمرات پرغور کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کا نام آتے ہی مُنہ میں کف لے آنے سے یہی نتیجہ نکلتا ہے، جو ہمارے بیش تر نقّادوں کے ساتھ ہوتا ہے کہ وہ انگریزی محاورے کے مطابق، حوض میں سے نہانے کا پانی پھینکنے کے ساتھ ساتھ نہلائے جانے والے بچّے کو بھی پھینک دیتے ہیں اورپھر بڑے فخر کے ساتھ سینہ پُھلا کر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ گلو بلائزیشن جیسے معاملوں میں آپ کے پاس انتخاب کی آزادی موجود ہے!

جتنے منہ اتنی باتیں۔ سمیٹنے کو پوری ایک دُنیا اور ہزاروں طرح کے قصّے۔ گلو بلائزیشن کا معاملہ بھی عجیب ہے کہ ہم سب اس کی زد پرہیں، کسی نہ کسی شکل میں اس سے متاثر ہورہے ہیں، یہ چُپکے چُپکے ہماری زندگیوں میں سرایت کرکے اِن کے اندر تبدیلی برپا کرڈالتا ہے اور ہمیں پوری طرح اندازہ بھی نہیں ہوتا کہ آخریہ ماجرا کیا ہے۔ اب تو اس کے بھی ماہرین اور اس میں اختصاص حاصل کرنے والے نمودار ہو گئے ہیں اور کچھ باور کرائے بغیر انہوں نے دفتروں کے دفتر لکھ ڈالے ہیں، لیکن فی الوقت مجھے تو گلوبلائزیشن کی عمومی اور مکتبی تعریف سے سروکارہے اورنہ اس کے خدوخال کا باریکی سے جائزہ مرتب کرنے سے دل چسپی، میں تو محض اتنا جاننا اور سمجھنا چاہتا ہوں کہ گلوبلائزیشن کے اس Phenomenon کے ثقافتی (بلکہ خصوصیت کے ساتھ، ادبی) مضمرات کیا ہیں، ان معاملات سے ادب کی نوعیت اور ماہیت پر بُرا بھلا کیا اثر مرتّب ہوسکتا ہے، پھراس بدلتی ہوئی صورت کے تئیں ادبی تنقید اور ادبی مطالعات کا کیا رویہ ہونا چاہیے اوران حالات میں میں تفہیم و تعیبر کی ادبی جستجو کا فریضئہ منصبی کیا ٹھہرتا ہے۔ مجھے خدشہ یہ ہے کہ اِن پیچیدہ معاملات کو خاطر خواہ حد تک سمجھے بغیر ہم ان کے بارے میں ایک جنگجویانہ اور مزاحمتی (Partisan) رویہ نہ اختیار کرلیں اورحکم صادر نہ کرنے لگیں کہ ادب کو کون سا رُخ اختیار کرنا چاہیے اور تنقید کے اونٹ کو کس کروٹ بیٹھنا چاہیے۔ گلوبلائزیشن کے حوالے سے ہمارے ہاں تنقید کی اگلی صفوں میں کہیں ہلکی پھلکی بے چینی سی اُٹھی بھی ہے تو اس کا محور یہ سوال بن گیا ہے کہ ادب کو کیسا ہونا چاہیے اوران حالات میں ادیب کو کیا لکھنا چاہیے۔ گلوبلائزیشن کے ہوّے سے زیادہ خوف مجھے ادب کے فریضے کی اس نشاندہی سے آتا ہے کہ ادب ایک بار پھر کسی ہدایت نامے کا تابع مہمل بن کر نہ رہ جائے۔ گلو بلائزیشن اگرآزادی اور انتخاب کا معاملہ ہے تو اپنی راہیں اوردریچے کھُلے رکھنے کا یہ حق ادیب کے پاس بھی ہونا چاہیے، ساری دُنیا کا انتخاب۔۔۔۔ فیصلے کے لیے پوری دُنیا۔

ہمارے نقّادوں کو گلوبلائزیشن کے بارے میں نیم رُخ سے دیکھ کر عُجلت میں فیصلہ صادر کرنے کے لیے سہولت کچھ اس وجہ سے بھی میسر آئی ہے کہ یہ سارا معاملہ اپنی اساس میں معاشی ہے، اوراس کے تاثرات کا جائزہ تیار کرتے ہوئے معاشی اصطلاحوں میں گفتگو ناگزیر۔ لیکن یہ گفتگو تمام تران اصطلاحوں پر کاربند نہیں رہ سکتی۔ گلوبلائزیشن میں آخر ایسی کیا طاقت ہے کہ پوری دنیا ایک مٹھی میں بند ہوئی جارہی ہے اوراس کے باسیوں کے لیے سانس لینا دشوار، اس طاقت کی گہرائی کو سمجھنے کےلیے بین الاقوامی تجارتی پالیسی، تجارتی منڈیوں کے رحجانات اوراُتار چڑھاؤ، افرادی قوت اور اجناس کی ترسیل، ملٹی نیشنل اور ٹرانس کارپوریشنز، دور دراز واقع تجارتی مراکز اور غیر ملکی براہِ راست سرمایہ کاری سے پیدا ہونے والی اس صورتِ حال کو مدِ نظر رکھنا ہوگا جو گلوبلائزیشن کے فروغ کا سبب بنتی ہے، لیکن ان سے آگے بھی دیکھنا ہوگا۔ گلوبلائزیشن کے بارے میں ایک مختصر، تعارفی کتاب میں مینفریڈ اسٹیگر (Manfred Streger) نے اپنے مطالعے کی بنیاد اس بنیادی اندازے پررکھی ہے کہ گلوبلائزیشن کو سماجی سلسلوں کا ایسا کثیر الجہاتی مجموعہ سمجھا جائے جو کسی ایک موضوعاتی ڈھانچے کا پابند رہنے سے گریزاں ہے اوراسی وجہ سے گلوبلائزیشن میں پنہاں تغیر و تبدیلی کی طاقت، موجودہ سماجی زندگی کے معاشی، سماجی، ٹیکنولوجیکل، ماحولیاتی ابعاد کے ساتھ ساتھ ثقافتی جہت پربھی گہرائی کے ساتھ اثراندازہوتی ہے۔ ایک ابتدائی مطالعے کے طورپر یہ کشادگی اور کھُلے ذہن کا یہ رویہ ہمارے لیے مفید ہوگا۔ ورنہ جہاں تک تعریف متّعین کرنے کی بات ہے تو میری نظرمیں گلوبلائزیشن کی سب سے مکمل وضاحت غالب نے کی ہے – عالم تمام حلقئہ دامِ خیال ہے۔

غالب کے آپ طرف دار ہی کیوں نہ ہوں، گلوبلائزیشن کی مشکلات ایک ڈھیلی ڈھالی اور عارضی سی تعریف متعین کردینے سے بھلا کہیں کم ہوسکتی ہیں؟ متبادل نام وضع کرنے کی کوشش کے ساتھ ہی مشکلات کا اگلا مرحلہ سامنے آتا ہے — گلوبلائزیشن کا مفہوم مختلف لوگوں کے لیے بھلے ہی الگ الگ معنی اور تعبیریں کیوں نہ رکھتا ہو، اس پرسبھی متفق ہیں کہ یہ زندگیوں کو بدل کررکھ دے گا- –کسی اور کی نہیں، ہماری زندگی، ہمارے جیسے لوگوں کی معمولی، بظاہر بے قیمت زندگی جو تبدیلی کے اس برق رفتار اور ہمہ گیر عمل کے لیے خام مواد ہے۔ لہٰذا گلوبلائزیشن کی تعریف وضع کرنے کی ہرکوشش، اس کی تعریف اور نفسِ مضمون کا ایک حصہ ہے۔ گویا یہ کہانی آگے بڑھتی ہے تو اپنے بیان کیے جانے کی ہر کوشش کے اپنے اندر شمولیت کے امکان کے ساتھ۔ اسٹیگر نے اپنی کتاب میں یہ صراحت دیباچے میں ہی کردی ہے، اوراسی لیے مجھے یہ نُکتہ اس تعارفی کتاب کی افادیت میں اہم ترمعلوم ہوتا ہے (متنِ کتاب کے آغاز سے زیادہ مفید، جہاں ابتداء ہی ہوتی ہے اسامہ بن لادن کے ردِ تشکیل (De-constuction) سے یعنی سرمنڈاتے ہی اولے پڑے۔ اوراولے بھی “الجزیرہ نیٹ ورک” کے ٹی وی چینل سے۔ کیا تنقید کے لیے اب اصل حقیقت Virtual Reality ہی ہوگی؟ یہ تعارفی کتاب اس سوال کو حل کرنے میں زیادہ مدد نہیں کرتی، اس لیے میں اس نکتے کو نوٹ کرنے کے بعد میں اسے خیرباد کہہ سکتا ہوں جہاں سے میں نے شروع کیا تھا:
“Globalization contains important discursive aspect in the form of ideologically charged narratives that put before the public a particular agenda of topics for discussion, questions to ask, and claims to make. The existence of these narratives shows that globalization is not merely on objective process, but also a plethora of stories that define, describe, and analyze that very process. The Social forces behind these competing accounts of globalization seek to endow this relatively new buzzword with norms, values, and meanings that not only legitimate and advance specific power interests, but also shape the personal and collective identities of billions of people…”

پڑھتے پڑھتے میں یہاں پہنچ کر رُک جاتا ہوں۔ یہ آئیڈیالوجی کی دہلیز ہے، میں اس مقام کو ٹٹول کر پہچان سکتا ہوں اوراس مقامِ سخت کی وضاحت کے لیے مجھے تعارف نامے کی نہیں، اس میدان کے شہسوار سے رجوع کرنے کی ضرورت ہے اوراس میں اعجاز احمد کی کتاب کھول کراس کے بھاری بھرکم مقالات کے آخر میں دبی ہوئی ایک مربوط اور قدرے زیادہ کھُلی گفتگو کی طرف دیکھتا ہوں جن میں ایک اچٹتا ہوا حوالہ اس معاملے کا بھی آتا ہے۔ یہ اعجاز احمد کے ادبی مقالات کا مجموعہ نہیں، جس میں فکر سے زیادہ زبانِ مکتب کی پابندی مجھے سہما کر رکھ دیتی ہے، بلکہ سیاسی افکار کا مجموعہ Lineages of the Present ہے۔ جس کو رعب کے مارے اور بھی زیادہ عقیدت کی نظر سے دیکھتا ہوں کہ “سیاسی طورپر دُرست” (Politically Comect) لوگوں میں شمارکیا جاؤں اورجن باتوں کو سمجھنے کی خود اہلیت نہیں رکھتا، ان کے بارے میں مُستند نظرآؤں۔ ثقافت، قوم پرستی اور دانش وروں کے عنوان کے تحت گفتگو کرتے ہوئے وہ ایک سوال کے جواب میں دو ٹوک انداز سے کہہ دیتے ہیں کہ گلوبلائزیشن کا لفظ ہی حد درجے نظریاتی ہے۔ سوتو ہے اوراب بھی اگر واضح نہ ہوا تو پھر کیا بات کیا ہوئی اس لمحہ موجود کے بارے میں، جسے صاحب مکالمہ نے Current historical conjecture کے بھاری بھرکم خطاب سے یاد کیا ہے، اعجاز احمدکا یہ مؤقف بالکل درست ہے کہ سوویت یونین کے خاتمے (Collapse) کے بعد سے ایک ہی نظام عالمی پیمانے کے لیے رہ گیا ہے، وہ ہے imperialist capital اور باقی ساری دنیا کے لیے عافیت اسی میں ہے کہ اس کو قبول کرلے، اعجاز احمد گلوبلائزیشن کے یک لفظی استعمال میں پنہاں دھمکی کو بے نقاب کر دیتے ہیں اوراس کے ساتھ ان تمام لوگوں کو بھی جو گلوبلائزیشن کے نام پر خوشی کے شادیانے بجانے لگتے ہیں۔ ہم چوں کہ اس کی فیوض و برکات کے مارے ہوئے لوگ ہیں، اوردریا کے بہاؤ کے ساتھ بہے چلے جارہے ہیں، توہم بھی “ہزماسٹرز وائس” کے موجب یہی راگ الاپنے لگے ہیں۔ ہمارے جیسے لوگوں کے لیے عالم گیر تبدیلیوں کا یہ امکان بڑی حد تک ناگزیر ہے تو اس عمل کے موئدین جمہوریت، فری مارکیٹ اور انفارمیشن ٹیکنولوجی کے بے پناہ فروغ کے گُن گاتے ہیں مگرہمیں اندیشہ ہے تو اس عمل کے قلب میں واقع انسانی جوہر سے جو محابا قوتوں کے دباؤ میں آکر مٹ بھی سکتا ہے۔ ادب کی اساس ہے تو اسی جوہر سے، جو دلائل کے زورو شور میں کہیں فراموش ہوکر رہ جاتا ہے۔ خود اعجاز احمد کے یہاں یہی صورتِ حال درپیش آتی ہے جب وہ اس اصطلاح کو یوں کھولتے ہیں:
“…. The term (globalization) refers to tremendous mobility of capital and commodities, the increased role of export/import trade in national accounts, the power of communicational and transport technologies with unparalleled global reach, the enormous power of finance capital and speculation over and above industrial capital across national frontiers, the ability of new and centrally produced cultural commodities to bypass national apparatuses of education and information through telecasting and information highways, the rise of production and management systems in which the production process itself can be fragmented and located in different countries and/or quickly moved from one to the other, and so on.”

اس اقتباس میں زبان بھی قابلِ توجہ ہے – عجیب طرح سے ناموس اور چمک دار تصورات کی بھرمارےسے چکاچوند کردینے والی – ہم یہ کیسے بھول سکتے ہیں کہ تعریف وضع کرنے کی ہرکوشش بھی اسی تعریف کے اجزاء میں شامل ہے، یعنی عناصر میں ظہورِ ترتیب عین داستان ہے۔

گلوبلائزیشن کے لفظی مضمرات بیان کرتے ہوئے اعجاز احمد نے تیسری نشان دہی، استعمار کی نئی شکل کے بارے میں کی ہے کہ یہ اصطلاح اس بات کو بھی پردہ اخفا میں رکھے ہوئے ہے کہ مٹھّی بھر ادارے – اعجاز احمد نے اپنی ناقابلِ تقلید طلاقتِ لسانی میں انہیں “ Imperialist institutional arrangements” قراردیا ہے۔ جیسے ورلڈ بینک، آئی ایم ایف، جی اے ٹی ٹی وغرہ ہم ہمارے جیسے بے دست و پا ممالک میں قومی پالیسیاں مُتعین کررہے ہیں۔ اعجاز صاحب نے اس کی مزید وضاحت ضروری نہیں سمجھی لیکن بات واضح ہے کہ پالیسی بنانے کے قومی عمل میں کم زوری اور اندرونِ ملک سیاسی عمل کے نڈھال ہونے کی وجہ سے نہ صرف ان دیوآسا اور دور سے پہچانے جانے والے اداروں کو کھُل کھیلنے کی چھوٹ مل جاتی ہے بلکہ خالصتاً تجارتی و منفعت بخش مقاصد کے لیے کام کرنے والی ملٹی نیشنل کارپوریشنز کو بھی کھُلم کھلا اجازت مل جاتی ہے کہ دستور، قوانین و روایات کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھال لیں اورجب جی چاہے توڑ مروڑ بھی لیں کہ سیّاں بھئے کوتوال، اب ڈرکا ہے کا۔ جس چوتھے عنصر کی طرف اشارہ اعجاز احمد نے کیا ہے، وہ بھی اس سے مُنسلک ہے، اور وہ ہے کہ تمام تر پروڈکشن میں سرمایہ داری سرایت کرجائے گی اوریوں عالمی منڈی کی معیشت حاوی ہوتی جائے گی۔ سواب یہی رنگ ڈھنگ ہے دُنیا کا، اورہمارے لیے یہ حکم کہ جو یہ دِکھلائے سونا چار دیکھنا۔

دُنیا کا رنگ ڈھنگ رہے سورہے، اس بڑھیا کی طرح جس نےراجہ کے محل کے گرنے کی خبرسُنتے ہی اپنے برتن بھانڈے سنبھالنے شروع کردیے تھے، ہمیں تویہ فکر لاحق ہے کہ ان اندھی اور بے محابا طاقتوں کی زرپرآئی ہوئی دُنیا میں ادب کا نقشہ کیا رہے گا۔ مگرکوئی اس سوال کا جواب بھی کیسے دے کہ نہ تو ہمارے پاس بلوریں گیند ہے اور نہ جام جم کہ مُستقبل کا احوال بیان کرسکیں۔ ہم اپنے لمحہ موجود کا نقشہ بھی سمجھ سکیں تو ہمارے لیے یہ بہت ہے کہ اس کی اپنی مشکلات بھی کم نہیں اور ذراسی بات پر ہم حال سے بے حال ہوسکتےہیں۔ ایسی کسی صورتِ حال کا ادب پرکیا اثر مرتّب ہوگا، اس کے بارے میں اندازہ لگانا یوں اوربھی مشکل ہے کہ ادب کو براہِ راست ایسے کسی Phenomenon کا نتیجہ قرار دینا گویا ہردور میں Cause اور Effect کا رشتہ ہے، ایسی سیدھی بات بھی نہیں ہے۔ گلوبلائزیشن سے جو تبدیلیاں متّوقع ہیں، ان میں سب سے بڑی تبدیلی، ایک اندازے کے مطابق، لوگوں کے خیالات اورخوابوں میں ہے۔ یہ اندازے ظاہرہے کہ گلوبلائزیشن کے حامی ہی لکھتے ہیں۔ خیالات کی تبدیلی سے پہلے ہمیں لوگوں کے مطالعے میں تبدیلی نظرآنا شروع ہوئی ہے۔ تبدیلی کی یہ شکل اس طورنظرآتی ہے کہ ایک اہم کتاب دنیا کے ایک کونے میں لکھی جاتی ہے تو پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیزی کے ساتھ دوسری زبانوں اور دوسرے ملکوں میں پہنچ جاتی ہے۔ لاطینی امریکا میں تخلیق ہونے والا ناول – مارکیز، فیونتیسس، ماریوبرگس یوسا جس کے اہم اور مستند نام ہیں۔۔۔۔۔۔۔ ساری دُنیا میں پڑھا جاتا ہے، حد تو یہ ہے کہ اُردو کے نقّاد بھی اس سے آنکھیں چُرا نہیں سکتے۔ یہ عمل بھی مارکیٹ اکانومی کی شرائط سے آزاد نہیں اور تجارتی مقاصد ادب کو بھی یکے از اشیائے صرف تبدیل کرکے اس کے Commodification کی کوشش کرتے ہیں اور میڈیا اپنے مقاصد کے لیے ادب کو بھی خام مواد کے طورپر برتنے میں بڑی حد تک کامیاب ہوتا نظرآرہا ہے۔ لیکن جو چیز ہمیں پہلے پہل دلکش معلوم ہوتی ہے، وہ اہم ادب کا بڑھتا ہوا دائرہ کارہے کہ وہ اپنی زبان اور ملک کے علاوہ عالم گیر شہرت بھی رکھ سکتا ہے۔ یہاں مناسب ہوگا کہ شہرت و اثر بلکہ فروخت کے اس دائرے کو اس پُرانے تصّور سے الگ کرکے دیکھا جائے جسے گوئٹے نے “عالمی ادب” (Weltliteratur) قراردیا تھا، جو اس کے تصور کے مطابق ایک آفاقی صورت تھی اور قومی و ملکی ادبیات کے چھوٹے چھوٹے دائرے اس میں ضم ہوکرایک بڑے کُل کا حصہ بن گئے تھے۔

عالمی پیمانے پر مصنوعات کے اس فروغ کو (جس میں ادب کے بھی شامل ہوکر محض ایک خریدی جانے والی چیز بن جانے کا خطرہ بڑی حد تک قرینِ قیاس ہے) بعض تجزیہ نگاروں نے Disneyfication or Mc Donaldization کے دِل چسپ مگر عبرت خیز ناموں سے پکارا ہے کہ یہ رُحجانات ایک ایسی صورت کی طرف لیے جارے ہیں جہاں سبھی ایک جیسے کپڑے پہنیں گے (جینز) ایک چیز کھانے کھائیں گے ( پیتزا اور برگر)، ایک جیسی فلمیں دیکھیں گے (والٹ ڈزنی، ہالی وڈ) ایک جیسی موسیقی پر تھرکیں گے اور جھومیں گے (پاپ میوزک) اورپھر ایک جیسی کتابیں پڑھنے لگیں گے اوروہ بھی ایک ہی زبان میں۔ گلوبلائزیشن کا یہ ایجنڈا ظاہر ہے کہ امریکا بہادر طے کرے گا، اسی لیے بعض تجزیہ نگاروں نے گلوبلائزیشن کو فی الاصل “امریکنائزیشن” قراردیا ہے۔

مستقبلِ قریب کی اس یک رنگی کے راستے میں جو رکاوٹ ہے، اسے بعض تجزیہ نگاروں نے دو مختلف رحجانات کے درمیان ایک کشمکش کے طورپر دیکھا ہے۔ گلوبلائزیشن کے مقبول عام نظریہ سازوں میں سے ایک مقبول ترنام ( یہ کام بھی اب ایک کاٹیج انڈسٹری کی حیثیت اختیار کرگیا ہے) بنجمن باربر (Benjamin Barber) کا ہے جنہوں نے ان دو مخالف عناصر میں سے پہلے کو “جہاد” کا نام دیا ہے اور دوسرے کو “میک ورلڈ” (Mc World) کا۔ جہاد کا لفظ اب اپنے انگریزی استعمال میں ایک خالص سیاسی معنویت اختیار کرگیا ہے مگرباربر نے اس سے مراد لی ہیں روایتی اقدار اور محض اسلام ہی ہیں بلکہ ہروہ تحریک جس کے مرکز میں روایت موجود ہے اورجو گلوبلائزیشن کی اس یورش کی مخالف ہے جسے وہ میک ورلڈ کہہ کر پکارتا ہے اور جو گلوبلائزیشن کی “سیاست دشمن صفت” ہے، جس کے دائرہِ انتظام و انصرام میں صرف چیزوں کا ہی نہیں لوگوں کا انتظام بھی اہمیت رکھتا ہے اورجس میں باربر کو یہ مثبت پہلو نظرآتا ہے کہ مارکیٹ کی قوتیں آخرکار امن و استحکام کو فروغ دیتی ہیں، فرقہ واریت و عصبیت اور جنگ کی دشمن ہیں۔ باربر کا یہ تجزیہ گلوبلائزیشن کے حامیوں کو پسند آتا ہے، بس اس میں قباحت یہ ہے کہ یہ ایڈورڈ سعید کے الفاظ میں، بہت Sweeping ہے۔ ایڈورڈ سعید نے اپنے ایک لیکچر میں یہ نکتہ بھی اُٹھایا ہے کہ عربی نہ جاننے کی وجہ سے ایسے تجزیہ نگار یہ نہیں سمجھ سکتے کہ “اجتہاد” کی اصل بھی وہی ہے جو آجکل مغرب کے بدنام لفظ “جہاد” کی ہے اور جہاد کا تعلق حق اور روحانیت سے بھی ہے۔ لفظوں کے استعمال میں غلط فہمی اور اصل معنویت تک رسائی، یہ ہے اسلامی ممالک اور یوروپ و امریکا کی سیاسی برتری کے خواب کے درمیان اس کشمکش کی جڑ جس نے آج ہماری دنیا کو ایک عالم گیر خطرے سے دوچار کیا ہوا ہے، اور جو گلوبلائزیشن کو فوراً سمجھ میں آنے والی شکل ہے، جس سے ہم سبھی واقف ہوچکے ہیں کہ اس سے ہمیں آج کے تیز رفتار میڈیا نے واقف کرایا ہے۔

یہاں تو ٹھیک، لیکن اب اس سے آگے جاکر دیکھنا چاہیے۔ بڑے بڑےمعاشروں پر اثرات (جن کی شکل سیاسی اور معاشی ہے) سے آگے بڑھ کر میں افراد اور انفرادی زندگیوں پران کے اثرات کو سمجھنا چاہتا ہوں جو ادب کا موضوع بھی ہیں اور محرک بھی۔ انفارمیشن کے بے تحاشا چینلز کھُل جانے اور میڈیا کی بھرمارنے انفرادی شناخت کی فصیلوں میں دراڑیں ڈال دی ہیں۔ وہ گروہ مذہبی ہوں یا ثقافتی، اِن کی بنیاد عقیدے پر ہویا بولی جانے والی زبان، پر، ان سے وابستگی اور پیوستگی اب اتنے مضبوط رشتے نہیں رہے۔ مارکیٹ اکانومی کی قوتیں ان کو اپنے تُند بہاؤ میں ساتھ لیے جاتی ہیں۔ اپنے فطری ماحول سے جُڑے رہنے اور نت نئے شناخت نامے تخلیق کرتے ہوئے رشتے ناتوں کی بھی اپنی ایک کہانی ہے۔ ماحول کے ساتھ ساتھ رشتے ناتے بھی بدل رہے ہیں۔ تعلق کی شکلیں بھی اور خود ماحول کے دوسرے اجزاء بھی۔ نئے سماجی Process سے متاثر ہوکر تبدیل ہونے والے سماجی منظر کی الگ ایک کہانی ہے۔ یہ کہانی سماج میں بھی جاری ہے اوراس سماج کے مرکز میں موجود آدمی کے باطن میں بھی۔ اسی کہانی سے گلوبلائزیشن کا عمل ادب کا موضوع بنتا ہے اور افسانوں کو جنم دیتا ہے۔ اس لحاظ سے اگردیکھا جائے تو جوں جوں گلوبلائزیشن کا یہ عمل تیز ترہوتا جائے گا، کہان کی افادیت بڑھتی جائے گی کہ لوگ اس میں اپنی باقی ماندہ زندگیوں کی معنویت بھی تلاش کریں گے اور کہانی کے تاروپود میں اپنے سماجی تفاعل اور ثقافتی ورثے کے وہ حصے بھی محفوظ کریں گے جو ان کو قابل قدر معلوم ہوں گے۔ گلوبلائزیشن کا یہ عمل ساری دُنیا کو ایک کیوں نہ کردے، کہانی کی گنجائش اپنی جگہ باقی رہے گی۔

اس عالم گیرافسانے میں ہماری اپنی کہانی کی کیا حیثیت ہوگی؟ کیا اردو افسانہ شناخت و کشمکش کا یہ بار اُٹھا سکے گا؟ کیا اس کشمکش کو اپنے اندر منعکس کرسکے گا؟ گلوبلائزیشن کی یلغار میں آدمی پر جو کچھ گزرے گی، حالات و واقعات جس طرح فرد کی سائیکی پراثرانداز ہوں گے، اس کے پیکر تراش سکے گا؟ آج ہمارے افسانے کو اس عہد کے تخیلقی چیلنج کا سامنا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ اس تخلیقی ذمہ داری سے کس طرح عہدہ برآہوتا ہے۔

اس تخلیقی ذمہ داری کی عکاسی کے حوالے سے مجھے افسانے کے بعد اُردو کی جو ادبی صنف اہم معلوم ہوتی ہے، وہ غزل ہے۔ اس وجہ سے نہیں کہ غزل کے دو مصرعے اپنے اندر جہانِ معنی کو سمیٹ لیتے ہیں بلکہ اس وجہ سے کہ مارکیٹ اکانومی اور ذرائع ابلاغ کی یلغار جیسی غیرشخصی قوتیں جوں جوں لوگوں کی تقدیروں پراثرانداز ہونے لگیں گی، کلاسیکی روایت کی پاس داری میں بجائے خود ایک قدر اوراپنی اپنی ریزہ خیالی کے اظہار کے لیے ایک ادبی پیکر کی ضرورت کا احساس بڑھتا جائے گا۔ غزل کی صنف دونوں صورتوں میں ایک مفید اور معنی خیز صنف معلوم ہوگی۔ صرف یہی نہیں کہ غزل کا شعری استعمال بڑھتا جائے گا بلکہ غزل کی ضرورت بھی بڑھتی جائے گی۔ لیکن یہ لازمی نہیں کہ غزل کی ضرورت کا یہ بڑھتا ہوا احساس ادب میں بھی ڈھل جائے۔ شاعروں کی بڑھتی ہوئی تعداد، شاعری کے معیار کی ضمانت نہیں بن سکتی۔ اچھی شاعری اب بھی اسی قدر دشوار اوراتنی ہی کم یاب ہے جتنی کی متقدمین اور متوسطین کے دورمیں تھی۔ کلاسیکی روایت سے دوری، فنی ریاضت میں کمی اور زبان کے پھوہڑ استعمال کے سبب یہ بھی عین ممکن ہے کہ فراوانی کے باوجود یہ شاعری وہ درجہ نہ حاصل کرسکے جس پراس کے شیدائی اسے فائز دیکھنا چاہتے ہیں۔ کہیں ایسا نہ ہوا کہ شاعری میں ہُنر مندی کے بجائے لپّاڈگی نظرآنے لگے۔ ہمارے دورمیں ظفراقبال کی شاعری کے ان گھڑ مقّلدین کا سیلاب ایسے بہت سے خطروں کی جانب اشارہ کررہا ہے۔

غزل کی مقبولیت اپنی جگہ، لیکن اس صنف کی افادیت اور معنویت کو بار بار کھنگالنے اور اس کی تفہیم و تعبیر کرتے رہنے کی ضرورت بھی مسلسل رہے گی۔ اسی طرح افسانے کو بھی ہمیں ایسے ہی معیاروں سے جانچنا ہوگا جو نقادوں کی دادو تحسین کے شعور کے باوجود، سطحی، یک رُخی اور سپاٹ نہیں ہوں گے۔ اب یہ کافی نہیں کہ سینے فخر سے پھُلا کر بلند وبانگ اعلان کیے جائیں (جس طرح ہمارے ناقدینِ کرام کرتے آئے ہیں) کہ اب اُردو افسانہ “عالمی سطح” پر (جو کچھ بھی وہ ہوتی ہے) پہنچ گیا ہے۔ نقادوں کی ناواقفیت کے علاوہ، یہ عالمی سطح جس چیز کا Euphemism ہے، وہ اپنی اصل میں کس قدر ہولناک ہوسکتی ہے، اس کا کچھ اندازہ گلوبلائزیشن پراس ابتدائی گفتگو سے بھی ہوسکتا ہے، جس کا دائرہ فی الوقت محدود ہے۔ مزید برآں، اس “عالمی سطح” (اگریہ کوئی مرئی وجود رکھتی ہے) تک رسائی، وہ محاورے والی دھیّا چھونے کی طرح محض ایک بار کا عمل تو نہ ہوگا۔ اس “سطح” تک پہنچ کر یہاں کسی Sustained Performance کی توقع بھی ہے اوراُردو افسانے کی موجودہ صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے ایسی کسی کارفرمائی کے آثار مشکل سے ہی نظرآتے ہیں۔

افسانے اور غزل کا نام لیتے رہنے سے گلو بلائزیشن کا عُقدہ حل نہیں ہوتا نظرآتا۔ ادب کی مخصوص اصناف ایک طرف، رحجانات کا یہ دائرہ چند ایک زبانوں کے اندر دُنیا کی اکثر و بیش تر زبانوں کو سمو لینے پرکارفرما نظرآتا ہے کہ ایک عالمی معیشت کے لیے ایک عالمی کلچر اوراس کلچر کی ایک عالم گیرزبان۔۔۔۔۔ اور ادب کو اس صورتِ حال سے سمجھوتا کرکے رہنا ہوگا۔ گلوبلائزیشن کے اندر خطرے اس وقت مُضمر ہیں کہ ادب کو پہنچنے والی ممکنہ گزند کی طرف کم ہی تجزیہ نگاروں کا دھیان جاتا ہے۔ وہ تھامس فریڈ مین جیسے گلوبلائزیشن کا جشن منانے والے مُبصّر ہوں یا جارج سوفرز جیسے سیاسی و معاشی تجزیہ نگار، ان کے یہاں گلوبلائزیشن ایک دوسرے پراثرانداز ہونے والے مختلف عناصر و معاملات کے ایک انتہائی مظہر کے طورپر سامنے آتا ہے جس کے اثرات کا جدول بنانے سے پہلے اسے ادراک و احساس کا حصہ بنانا ہوگا اور یہ کام ہماری زبان و تہذیب کے منطقے میں ابھی ڈھنگ سے آغاز بھی نہیں ہوا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ Phenomenon اس وقت کا انتظار نہیں کریں گے کہ جب تک ہمیں انہیں سمجھنا شروع کریں۔ اس سے پہلے کہ ہمیں یہ مہلت ملے، یہ ہمیں اپنے تصّرف میں لا چکے ہوں گے۔ ایسی صورتِ حال میں ہم کیا لائحہ عمل اختیارکرسکتے ہیں، زبان و ادیب کیا کرسکتے ہیں اوراس سوال کے پس منظر میں ایک اور سوال کہ ادیب کو آخرکیا کرنا چاہیے۔

تمام نا ممکن سوالوں کی طرح یہ سوال بھی بظاہر بہت سادہ ہے۔ لیکن ہم جانتے ہیں کہ ایسے ہی سوالوں کا جواب تلاش کرنے میں ہماری زندگی بیت جائے گی اور عمر بھر کی ریاضت کے بعد بھی ہم اس سوال کے حل کے قریب تک نہیں پھٹکیں گے۔ یہ سوال ہی ہمارا مقّدر ہیں۔ بہرحال، اس سوال پر جو بات فوری طورپر میرے ذہن میں آتی ہے وہ یورپ کی گرین پارٹی نامی سیاسی جماعت کا نعرہ ہے۔
Think globally, act locally

اس نعرے پر مجھے اپنے بہت پسندیدہ افسانہ نگار راجندر سنگھ بیدی کی ایک بات یاد آرہی ہے جو انہوں نے اپنے ایک انٹرویو کے دوران کہی تھی۔ بیدی گلوبلائزیشن کی اس روش سے پہلے کے لکھنے والے تھے مگران کی بات آج بھی برمحل اس لیے معلوم ہوتی ہے کہ اُردو کے ثقہ نقّادوں کے برخلاف وہ اپنے کلیدی مضمون “افسانوی تجربہ اور اظہار کے تخلیقی مسائل” میں “عالمی سطح” اوراس تک رسائی پر داد کے ڈونگرے برسانے کے بجائے “عالمی پیمانے” کو حوالہ بناتے ہیں۔ مغرب لکھے جانے والے افسانے سے استفادہ کرنے میں کوئی عارنہ ہونےکا ذکر کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں:

“افسانے کے فن کو چھوڑیے، کسی بھی فن کو جانچنے، پرکھنے کے لییے عالمی پیمانے پراسے جاننے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔ یہاں کوئی علاحدگی (Isolation) نہیں ہیں، ملکوں اور قوموں کی حدیں نہیں ہیں۔ بہ شرطے کہ آپ منٹو کو موپساں اور مجھے چیخوف کے نام سے نہ پکارنےلگیں۔۔۔۔۔”

یہ یقیناً ممتاز شیریں ایسے نقادوں پرچوٹ ہے لیکن بیدی کے اس بیان میں ہم دبے پاؤں گلوبلائزیشن کی دہلیز تک پہنچ جاتے ہیں۔ لیکن انہوں نے ایک حل تجویز کیا ہے۔ یونس اگاسکر اور دوسرے ادیبوں سے گفتگو (مشمولہ “باقیاتِ بیدی”) کرتے ہوئے وہ بالکل غیررسمی انداز میں اس موضوع کی طرف آتے ہیں:

“اثر قبول کرتے ہیں بھئی،ا وراثر قبول کیوں نہ کریں۔ اثر قبول کرنا بھی چاہیے بین الاقوامی ادب کا۔ انگریزی میں کہتے ہیں:
Art has got to be international in form and national in content.

تو فارم آپ کہیں سے بھی لیجیے وہ نقّالی نہیں ہوگی بلکہ آپ کو لینی چاہیے۔ ڈرما کیسے لکھنا ہے، یہ شیکسپیئر کو پڑھے بغیر جاننا ممکن نہیں ہے۔ فارم آپ لیجیے لیکن Content آپ کا اپنا ہو۔۔۔۔”

بیدی کی یہ ذہنی کشادگی مجھے بہت اہم معلوم ہوتی ہے اور بجائے خود ایک جواب، اگرچہ اس سے ایک اور سوال یہ پیدا ہوجاتا ہے کہ کیا فارم اور Content، ہیئت اور مواد میں اس طرح تفریق کی جا سکتی ہے اور کیا ایک کے اندر دوسرا مُضمر نہیں ہے؟ ایک عُنصر کے دوسرے سے نمودار ہونے کے اس مسلسل عمل کو شاید ہمیں اب ازسرِ نو دیکھنے کی ضرورت ہے۔

یہ سوال ہو یا اس جیسا کوئی اور، سارے سوال بہت گھمبیر ہیں۔ لیکن لکھنے والا ان پر بساط بھر غور کرنے کے علاوہ اورکربھی کیا سکتا ہے؟ میرے حساب سے تو یہی غنیمت ہے۔ ادیب کے فرض ِ منصبی کی بات کرتے ہوئے میں اسی کو بہت سمجھتا ہوں۔ کسی بھی ادیب کا فرض اس کے سوا کیا ہوسکتا ہے کہ اپنے تجربے کی بنیاد پرزندگی کی حقیقتوں کو بیان کرے اوراپنے ضمیر کی آواز کے تحت لائحہ عمل اختیار کرے۔ لکھنے والے کا کام بس اتنا ہے اور یہ اتنا بھی بہت۔ اس سے بڑھ کر کوئی حکم لگانےیا فیصلہ صادر کرنے کا مجاز کوئی نہیں، سوائے خود اس ایک ادیب کے جو اپنی انفرادی حیثیت میں اپنے لیے فکرو عمل کا مؤقف اختیار کرے۔ یہ روّیہ ایک فرد کی حیثیت میں ادیب کا اختیار ہے لیکن جہاں تک ادیب(اور یہاں مجھے اصطلاحی معنوں والے ‘دانش ور’ کا نام لینا چاہیے) کے اجتماعی اور پبلک رول کی بات آئے گی، اس کے لیے میں ایڈورڈ سعید کا حوالہ دینے پر اکتفا کروں گا۔ ایڈورڈ سعید کا حوالہ یوں بھی برمحل ہے کہ وہ وجودی صورتِ حال میں براہِ راست سیاسی مداخلت کے نظر انداز کیے جانے کو مُضر بلکہ بلکہ مُہلک سمجھتا ہے۔ اس کے نزدیک ہم میں سے ہرایک اپنے اپنے طورعالمی نظام کا خاکہ یا سمجھ بوجھ لیے گھومتا رہتا ہے لیکن اس سے براہِ راست آمنا سامنا ہونے پرہی کشمکش، دارو رسن کی آزمائش بنتی ہے اورفتح کے آثار نمایاں ہوتے نظرآتے ہیں۔ اپنی مختصر سی مگربڑی بلیغ آخری کتاب Humanism and Demoratic Criticism کے آخری خطبے میں وہ جدوجہد کی وہ تین مثالیں پیش کرتا ہے۔

پہلی جدو جہد ماضی کو محفوظ کرنے کے لیے ہے۔ تیز رفتار تبدیلی، روایت کی ازسرِ نو تشکیل اور تاریخ کو بدل کراپنی پسند کے مطابق ڈھال لینے کی کوششوں کے برخلاف ماضی کو محفوظ رکھنےاوراسے غائب ہونے سے بچانے کی جدو جہد کا سلسلہ وہ “جہاد” اور “میک ورلڈ” کی دو طرفہ مخاصمت سے جوڑ دیتا ہے۔ اس نے لکھا ہے:

The intellectual’s role is to present alternative narratives and other perspectives on history than those provided by combatants on behalf of official memory and national identity and mission.

ماضی کی بازیافت معاصر اُردو افسانے میں ایک معتبر حوالہ بن کر کارفرما رہی ہے جس میں قرۃ العین حیدر اور انتظار حسین کے نام فوراً ذہن میں آتے ہیں کہ یہ روّیے ان سے منسوب رہے ہیں۔ قرۃ العین حیدر کی فنی دل چسپیوں کا دائرہ خاصا وسیع ہے لیکن خاص طورپر انتظار حسین کے ہاں ماضی کے ایک مترادف اورآزاد خیال بیانیے کے طورپر اُبھرسکنے کا امکان ایک انکشاف بن کر سامنے آتا ہے اوریہ انکشاف افسانے کے اندر ہی تشکیل پاتا ہے۔ اسی لیے مجھے ان کا افسانہ آزادی بخش اور بسا اوقات Heroic بھی معلوم ہوتا ہے۔

دوسری جدوجہد ایڈورڈ سعید کے مطابق، دانش ورانہ مشقت کے نتیجے کے طورپر میدان جنگ و جدل کے بجائے Fields of co-existence کی تعمیر ہے۔ تیسری مثال اس نے فلسطین کی پیش کی ہے، جو اس کے حافظے اوراس کی پوری فکری دُنیا کا محور ہے، بے دخلی کا شکار اورایک فریب خوردہ عالمی سلسلے کے پیدا کردہ معاہدوں اورامن منصوبوں کا مارا ہوا۔ فلسطین کے لیے اس کی بے قراری کیا اپنا کھویا ہوا گھر دوبارہ حاصل کرنے کی خواہش ہے؟ لیکن اسی خطبے کے آخرمیں اسے فن کار کا گھر بھی عارضی نظرآتا ہے، تسلی و پناہ سے دور:

The intellectual’s provisional home is the domain of an exigent, resistant, intransigent art into which, alas, one can neither retreat nor search for solutions.

گلوبلائزیشن کی ماری ہوئی دُنیا میں ادیب کے لیے بس ایسے عارضی گھرکی تعمیر ہے جہاں اسے معلوم ہے کہ کسی سوال کا جواب نہیں ملے گا، گلوبلائزیشن کے سوال کا نہیں جو ایک بلا بن کربستی بستی گھوم رہا ہے اورکوئی دن جاتا ہے کہ اس کی دستک ہرگھر کے دروازے پر گونج اُٹھے گی۔