Categories
فکشن

فارسی کہانیاں (جلد ۱) – تبصرہ نگار: آمنہ زریں

فارسی کہانیاں (جلد ۱)
انتخاب اور ترتیب: نیر مسعود
ناشر: آج کی کتابیں، کراچی

تبصرہ نگار: آمنہ زریں

کہانی کا طلسم،ہر عمر اور ہر دور کو مسخر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔یہ طلسم، پتھر نہیں کرتا۔۔اثر رکھتا ہے۔چلتے دور کی ہر خوبی کو گہنائے ہوئے دیکھنا اور گئے وقت کی کرنوں کو سورج کرنا۔۔۔عمومی طور پر دل پسند انسانی مشغلہ ہے۔مگر وائے قسمت۔۔کہ یہ حال کی بدولت ہے۔۔۔جو نظر۔۔سماعت اور لمس کی حد میں ہے!

خود کو کائنات سمجھ لینا اور کائنات کا حصہ سمجھ کر زندگی گزارنے سے زندگی اور اس کے گزارنے والے۔۔۔دونوں کو فرق پڑتا ہے۔

اکیلا ہونا صرف خدا کو زیبا ہے اور اسی لئے کوئی کتنا بھی آدم بے زار ہونے کا دعوٰی کرے۔۔اکیلا نہیں رہتا۔۔۔!

ہر لمحہ جو زندگی کے نام پر رواں دواں ہے۔۔کہانی ہے!

ہر آنکھ۔۔جو دیکھتی ہے۔۔نکتے کی تصویر بنانے کی اہل ہے۔۔مگر وہ نکتہ کہاں سے کیا اٹھاتا ہے اور تصویر کے رنگ کتنے دل پذیر ہیں۔۔یہ بھی ایک منفرد صلاحیت ہے جو کہانی کاروں کو ودیعت کی جاتی ہے۔۔۔!

آج کی جدید دنیا۔۔حساس کیمروں اور تکنیکی مہارتوں کے سبب، ہماری منشا سے بے نیاز۔۔کانوں کان خبر کئے بغیر۔۔راز جاننے اور افشا کر دینے کی صلاحیت سے مالا مال ہے۔۔مگر۔۔اس ذہن رسا کو کیا کہیے۔۔کہ جس کی ہفت رنگی آج بھی نادر و کمیاب ہے!

سفر کو وسیلہ ظفر سنتے آئے ہیں اور عمر کے تدریجی مراحل نے یہ سکھایا ہے کہ سفر کے ظاہری اسباب اور وسائل میسر نہ بھی ہوں تو کچھ دیگر ذرائع پھر بھی موجود رہتے ہیں۔۔اب یہ آدمی کا اپنا انتخاب ہے کہ وہ کتنی لچک کا حامل ہے۔۔۔!

تو کہانی کہنے کی کہانی کتنی پرانی ہے۔۔۔؟

یہ تصور کی وہ زقند ہے جو پلک جھپکتے ہی بھری جا سکتی ہے۔۔کہ کہانی ہابیل اور قابیل جتنی پرانی ہے!

کہنے کو مرتی ہوئی ایک قوم کثیر۔۔۔سننے کا وصف بھی کھو بیٹھی ہے اور اسی سے نفسا نفسی برپا ہے!

خطوں کی عمر۔ روایات اور ان کی منتقلی۔۔افراد اور ان کے زمانے پر اثرات مرتب کرتی ہے۔ اس حقیقت کو سمجھ لینا۔۔اپنی حقیقت کو جان لینے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

جس خطے کا تعارف۔۔جامی، حافظ، فردوسی اور سعدی ہوں۔۔اور زبان۔ زبان شیریں کہلاتی ہو۔۔اس خطے پر قدم رکھنا۔۔اور حواس خمسہ کو ان پر گواہ کرنا۔۔اگر ہمارے لئے ممکن نہ ہو۔۔تو آئیے۔۔

کہانی کے اڑتے ہوئے قالین پر بیٹھتے ہیں۔۔۔!

پندرہ کہانیوں پر مشتمل فارسی کہانیوں کے ترجمے کی یہ پہلی جلد ہے، جن میں زیادہ تر کا بیانیہ علامتی ہے۔علامتی طرز بیان برتنا دراصل خود ایک سوالیہ نشان ہے جو جواب کا سراغ لگانے کی مہمیز فراہم کرتا ہے کہ وہ کون سے مسائل ہیں جن کے لئے براہ راست بیانیہ اختیار نہیں کیا گیا اور وہ کیا حالات ہیں جو علامت کو اظہار بنانے پر مجبور کرتے ہیں۔۔

مجبور سے جبر کی صدا تو آتی ہے۔۔اور جبر کسی بھی نوعیت کا ہو۔۔انسانوں کا مسلط کردہ ہو۔۔یا تقدیر کا۔۔ہر دو صورت میں۔۔سینہ سپر رہنا اعلیٰ ترین انسانی وصف کی بدولت ہے۔

تو چلتے ہیں پندرہ کہانیوں سے بنے۔۔اڑتے ہوئے۔۔ایرانی قالین پر۔۔جہاں سے ہمیں نظر آنے والے ہیں۔۔ایرانی سماج۔۔رہن سہن۔۔بول چال۔وہ کردار۔۔جو زبان، لباس اور مقام کے لحاظ سے مختلف ہو سکتے ہیں۔۔مگر ضرورت۔۔احساس اور غم میں ہمارے ہی جیسے لگتے ہیں!

پہلی کہانی ’’خواب ‘‘ہے۔۔

خوابوں سے عموما سہانے تصور مانوس ہوتے ہیں۔۔یا پھر تشنگی۔۔نا آسودگی اور حسرتیں۔۔

اس ’’خواب ‘‘کا دیکھنے والا مسلسل اپنے تعاقب میں ہے اور اپنی جان لینے کے در پے۔۔اور اپنے ہی قتل کے مقدمے پر سزا کا منتظر۔۔

مگر حقیقت کی تعبیر۔۔مسلط زندگی کی صورت میں۔۔آ موجود ہوتی ہے۔۔!

دوسری کہانی ’’ولادت ‘‘ ہے۔۔جسے عام انسانی فہم معمول کی اطلاع کے طور پر وصول کرتا ہے۔۔مگر اس کرب ناک تجربے سے وابستہ ایسے مہیب گھاو بھی ہو سکتے ہیں۔۔جن کا انت خالی دامن اور خالی کوکھ پر ہوتا ہو۔۔۔ایسے تجربوں کو بیان کرنا بھی۔۔۔دشوار گھاٹیوں سے گزرنے کے برابر ہے!

تیسری کہانی’’بارش اور آنسو ‘‘ہے۔۔جس میں دو عمر رسیدہ دوست ساحل سمندر کی سیر کرتے ہوئے آپس میں باتیں کر رہے ہیں۔۔اس دوران آپ کو ساحل پر موجود سیپیاں، گھونگھے۔۔خالی بوتلیں۔۔اور آسمان پر موجود بادلوں کے رنگ دیکھنے کو ملیں گے۔۔مگر ساتھ ہی ساتھ۔۔آپ کی ہمزاد۔روح پر دستک دیتے کچھ گزرے لمحوں کی داستان سامنے آتی ہے۔۔۔جس کا مرکزی کردار ایک گھوڑا ہے!

گھوڑے کی محبت۔۔اور جدائی کے بیچوں بیچ برپا ہوئی جنگ۔۔قید اور بے بسی کی تصویر بنے قیدی۔۔۔

دونوں دوست جنگ کے جبر سے گزرے ہوئے تھے۔دونوں نے اپنے پالتو گھوڑوں کو اپنے سامنے جدا ہوتے دیکھا تھا۔

’’تمہارا چہرہ بھیگا ہوا ہے۔روئے ہو؟ ‘‘

’’اس عمر کو پہنچ کر آدمی روتا نہیں۔۔‘‘میں نے کہا ’’پانی برس رہا ہے ‘‘

’’پنجرے ‘‘ایک ایسی علامتی کہانی ہے جو روئے زمین پر موجود ہر ذی نفس، ہر ذی شعور پر منطبق کی جا سکتی ہے۔۔ایک آفاقی حقیقت کی طرح۔۔۔!

تخلیق کی صلاحیت ان دیکھے جہانوں سے آتی ضرور ہے، نمو، اپنے اردگرد سے ہی پاتی ہے۔اس کہانی میں پرندوں کو کردار کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔۔جنہیں پر عطا کئے گئے۔۔ان کا فطری مقصد اڑنا ہے اور پنجرہ، ان کی حیات کو لاحق وہ جبر ہے جو قید کی صورت میں ان پر مسلط ہے۔یہ حساس ترین کہانی پرندوں کی حالت زار دیکھ کر ان کو پنجروں سے آزادی دلانے والے ایک حساس مگر اولوالعزم انسان کے بارے میں ہے۔۔جس نے اپنی عمر، دولت پرندوں کی مدد کرنے اور انہیں آزاد کرنے میں گزار دی۔۔مگر اس سفر سے واپسی پر۔۔اسے معلوم ہوا کہ دائروں کا سفر کبھی ختم نہیں ہو سکتا۔۔!

بابا مقدم کے قلم سے نکلے۔۔حیات کے اس ابدی نوحے پر۔۔سینہ کوبی کی صدا بلند نہیں ہوتی۔۔نہ ہی آہوں اور سسکیوں کی آواز آتی ہے۔۔مگر ایک احساس۔۔جو بھونچکا رہ جانے کا گواہ بن جاتا ہے!

مشینی زندگی سے انسانی شغف اسے فطرت سے کس طرح دور کرتا ہے اور جدیدیت کا شوق اسے اپنے اصل درماں سے جدا کر دیتا ہے۔۔اس منفرد اور کم اہم سمجھے جانے والے حساس موضوع پر جمال میر صادقی کا قلم اور تخیل یکساں سبک رو ہے کہ آپ ایک بس۔۔جی ہاں۔۔سواریاں ڈھونے والی بس کو مسٹر عارفی کا پیچھا کرتے لمحوں کی ہئیت کذائی پر بے اختیار ہنس پڑتے ہیں۔۔لیکن حقیقت کے قہر کو لطف سے بیان کرنا بھی۔۔نوادرات قلم کا حصہ ہے!

ایرانی تہذیب کا کینوس وسیع ہے اور قصہ گوئی اس کی ایک نمائندہ روایت ہے۔علامتی طرز بیان کے علاوہ بھی کچھ کہانیاں ہیں جو روایتی داستان گوئی کی طرز پر بیان کی گئی ہیں۔جیسے ’’بہائے عشق ‘‘۔’’روضے والی‘‘’’مردہ سانپ ‘‘جیسی کہانیاں ہیں۔

بہائے عشق تعلق میں سیندھ لگنے کی روایتی کہانی ہے جو اپنے اختصار میں بھی جامع ہے۔

روضے والی ایک ماں کی کہانی ہے۔جو بیان میں آب رواں کی مانند ہے!

اور ماں کے دل جیسا گداز رکھتی ہے۔۔مصائب، الم سہتی ہوئی ماں کی زبان پر تو کیا۔۔دل میں بھی شکوہ نہیں آتا۔۔۔اور یہ آسان کہاں ہے؟

’’چم چچڑ ‘‘کے عنوان اور آغاز سے اس کی سمت کا اندازہ کرنا مشکل ہے۔۔اور ویسے بھی زندگی کا یہی چلن ہے۔۔کہاں سے کہیں لے جائے۔۔۔کس کو خبر؟

روایتی سخت گیر باپ کے تشدد سے ایک بچے کی کہانی شروع ہوتی ہے اور بچپن کے زخموں سے کھرنڈ اتارنے کے لیے ہر فرد ذاتی انتخاب کا حق رکھتا ہے۔۔سو،اس بچے نے دوسروں کو خوفزدہ کرنے کی خوشی کو اکٹھا کرنا شروع کیا۔۔

اس کہانی میں خوف کی حقیقت اور نفسیات سے گزرتے ہوئے کردار۔۔ایک تیسرے فرد کو دلچسپ تجربے کا موقع دیتے ہیں۔۔۔وہ تیسرا فرد کون ہے؟ ؟؟

قاری!

مسلسل تعاقب اور بلی چوہے کا کھیل کھیلتے ہوئے، خوف در اصل اعصابی جنگ ثابت ہوتا ہے۔۔جس کا نتیجہ، بہر حال، خوش دلی سے تسلیم کرنے والی حقیقت کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔

’’بلی کا خون ‘‘بھی علامتی کہانی ہے جو سفاک تسلط اور غیر فطری جبر کا آئینہ ہے، جس میں ایرانی سماج کو در پیش حاکمانہ جبر کا عکس دیکھا جا سکتا ہے۔جبر کی صورت کوئی بھی ہو۔۔لوگوں میں بے چینی کا باعث بنتی ہے۔آزاد خیالی کے متوالوں نے ڈنڈے کے زور پر روشن خیالی کو عام کیا۔۔اور بعد میں آنے والی جماعت نے بھی جو درست سمجھا۔۔اسے ہر ایک کے لئے مخصوص کر دیا۔

بہر حال، ایرانی سماج میں کیا چل رہا ہے۔۔اس کی ایک جھلک دکھلانے کو کہانیاں۔۔۔قاصد ہیں!

عالمی پابندیوں کے نتیجے میں پیش آنے والی معاشی نا ہمواریوں سے، جاری جبر سے، تاریخ اور تہذیب کے سر چشموں کے وارث کس طرح نبٹ رہے ہیں۔۔یہ انہی کا وصف ہے!

’’آقائے ماضی کے عجائب خواب ‘‘بھی ایک علامتی کہانی ہے۔بالواسطہ بیان کی گئی کہانی کا مرکزی کردار ماضی ہے۔۔عجیب خوابوں کی گتھیاں سلجھاتے ہوئے۔۔یہ منفرد کہانی زندگی کو لاحق ماضی پرستی کی دیمک کی نشاندہی کرتی ہے۔

درخت کو مرکزی کردار بنا کر انسانی زندگی اور موت کا فلسفہ بیان کرتی ہوئی آخری کہانی ’’مرگ ‘‘ہے۔

انسانی زندگی ارتقاء اور بقا کی جدوجہد کا درمیانی وقفہ ہے اور کائناتی حقیقت سبھی پر منکشف ہو۔۔یہ لازم نہیں۔۔۔!

ہوتا، تو یہ دنیا فانی کیسے قرار پاتی؟

گھر میں باپ اور درخت کی بہ یک وقت موت اپنے بیانئے میں گہری رمز سموئے ہوئے ہے۔درخت کی انسانی زندگی میں اہمیت ڈھکی چھپی نہیں اور باپ کی شجر سے مماثلت اتفاقیہ بھی نہیں۔۔۔!طبیعت پر بار ڈالے بغیر۔۔زندگی کے فلسفے کی گتھیاں سلجھانا صاحب علم و ادراک ہی کے قلم کی قدرت ہے!

فرد کو کہانی سے دلچسپی ازلی ہے۔۔۔کیونکہ اپنی ان کہی کو اکیلے لئے پھرنا۔۔۔کہانی کے بغیر مزید دشوار لگتا ہے۔۔۔۔!

تو۔ سماج اور تاریخ کے امتزاج سے بنے قالین پر بیٹھنا کیسا رہا؟

یہ آپ کو بیٹھنے کے بعد ہی پتہ چلے گا!

Categories
خصوصی

نیر مسعود خود کو حقیقت پسند افسانہ نگار سمجھتے تھے

حلقہ اربابِ ذوق کے اجلاسوں اور ان میں پیش کی جانے والی مزید تخلیقات پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

حلقہ ابابِ ذوق ،کراچی کا ہفتہ وار اجلاس ، یکم اگسست ، ۲۰۱۷ ، بروز منگل ، کانفرنس روم ڈیمپ میں منعقد ہوا۔نثری نظم کے ممتاز شاعرافضال احمد سید کی زیرِ صدارت ہونے والے اجلاس میں مایہ ناز افسانہ نگار نیر مسعود اور ان کے کام کو یاد کیا گیا۔جمال مجیب قریشی نے ان کے افسانوی مجموعے ‘‘ عطرِ کافور’’ کا آخری افسانہ ‘‘ ساسانِ پنجم’’ اپنے مخصوص لب و لہجے میں پڑھ کر سنایا۔ اس کے بعد آصف فرخی صاحب کا انگریزی مضمون جس کا ترجمہ رفاقت حیات نے کیا تھا، ظہیر عباس نے پڑھ کر سنایا۔اس کے بعد گفتگو کا آغاز ہوا۔ سب سے پہلے عذرا عباس نےآضف فرخی کے مضمون کے ترجمے کے ایک جملے پر اعتراض کیاکہ ادبی سرگرمی زوال پذیر کیسے ہوسکتی ہے، جب کہ نیر مسعود اپنا سارا کام تو بہت پہلے ختم کرچکے تھے۔ افضال احمد سید نے ان کی تائید کی۔رفاقت حیات نے کہا کہ وہ اس جملے کو بدل دیں گے۔آصف فرخی نے وضاحت دی کہ نیر مسعود صاحب چاہتے تھے کہ تعبیرِ غالب نامی کتاب کی پروف ریڈنگ و ہ خود کریں لیکن خراب صحت کی بنا پر وہ ایسا نہیں کر سکے اورو ہ بچوں کے لیے کچھ اور کہانیاں لکھنا چاہتے تھے۔ اس کے بعد عذرا عباس نے افسانے ‘‘ ساسانِ پنجم’’ اور جمال مجیب قریشی کی قرات کو سراہا ۔ان کے خیال میں اس افسانے میں گم ہوجانے والی تہذیبوں کو موضوع بنایا گیا ہے۔ جب سے دنیا بنی ہے ان گنت تہذیبیں وجود میں آئیں اور فنا کے گھاٹ اتر گئیں۔کرن سنگھ نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ نیر مسعود کی کہانیوں میں ان کا زرخیز تخئیل کارفرما دکھائی دیتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کہانیوں میں لکھنو کی تہذیب بھی سانس لیتی محسوس ہوتی ہےاور کہیں کہیں ماورائی عنصر بھی موجود نظر آتا ہے۔ اسی بنا پر ان کی کہانیاں مختلف اور منفرد محسوس ہوتی ہیں۔ شجاعت علی نے کہا کہ نیر مسعود کے افسانوں کے بین السطور صرف لکھنو کی تہذیب نہیں بلکہ پورے ہندوستان کی تہذیب کار فرما دکھائی دیتی ہے، جو بدقسمتی سے اب دم توڑ چکی ہے۔ نیر مسعود صاحب نے اس زمانے میں افسانے لکھنے شروع کیے ،جب اردو افسانے کے افق پر علامت اور تجرید کا غلبہ تھا۔ نیر مسعود صاحب نے اپنے افسانوں کے لیے الگ راہ نکالی۔

شعیب قریشی نے نیر مسعود صاحب کے سفر نامہِ ایران کو سراہا۔ آصف فرخی نے اس بات کو آگے بڑھایا کہ نیر مسعود صاحب صرف ایک مرتبہ سرکاری دورے پر ایران گئے تھے۔ اس کے علاوہ وہ ایک مرتبہ بنگلور، دہلی اور الہ آباد بھی گئے لیکن وہ سفر کرنے اور اپنے گھر سے نکلنے کو پسند نہیں کرتے تھے۔انہیں الہ آباد میں لیکچرار کی ملازمت ملی تو وہ وہاں گئے۔ پہلے دن انہوں نے جوائننگ دی اور اگلے روز استعفی دے کر واپس لکھنو آگئے۔وہ جس مکان میں پیدا ہوئے جو ان کے والد کا بنوایا ہوا تھا۔ اسی میں ان کا انتقال ہوا۔سعیدالدین صاحب نے کہا کہ نیر مسعود صاحب کی تحریروںمیں اتنی وسعت ہے کہ انہیں ایک نشست میں سمیٹنا آسان نہیں ہے۔ وہ اپنے افسانوں میں انسانوں کو کرادار کے طور پر لینے کے ساتھ ساتھ دروازوں، کھڑکیوں اور عمارتوں سے بھی ایک کردار کی طرح انصاف کرتے اور انہیں بیان کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ان کے افسانوں کی فضا اتنی مسحورکن ہوتی ہے کہ لگتا ہے ان کے پاس کہنے کے لیےکہانی نہیں صرف یہی فضا ہے، لیکن ان کی سب کہانیوں میں ایسا نہیں ہے ۔ انہوں نے اپنی کہانیوں کے ذریعے دکھایا ہے کہ وقت کس طرح گلیوں، محلوں، عمارتوں پر اپنے نقوش چھوڑتا ہے۔نیر مسعود نے اپنے افسانوں میں وقت کو قید کیا ہے۔ رفاقت حیات نے کہا کہ ان کا نیر مسعود صاحب کی تحریروں سے پہلا تعارف ان کے افسانے ‘‘اوجھل’’ کے ذریعے ہوا۔ اس کے بعد ان کا پہلا افسانوی مجموعہ ‘‘ سیمیا’’ پڑھا۔ یہ افسانے اپنی بھید بھری اور پراسرار فضا کے سبب آج بھی انہیں اپنے ذہن میں زندہ محسوس ہوتے ہیں۔رفاقت حیات نے مزید کہا کہ انہوں معرو ف فکشن نگار خالد جاوید صاحب کی ایک گفتگو سنی، جس میں وہ نیر مسعود صاحب کوصادق ہدایت ، کافکا اور ایڈگر ایلن پو کی قبیل کا فکشن نگار قرار دے رہے تھے، کیوں کہ نیر صاحب صاحب کے افسانوں میں بھی خوف اور دہشت سے مملو فضا غالب دکھائی دیتی ہے۔

اجمل کمال صاحب سے اپنی گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے رفاقت حیات نے کہا کہ ان کے خیال میں نیر مسعود صاحب نے زیادہ تر ہاتھ سے کام کرنے والوں کو اپنی کہانیوں کا موضوع بنایا ہے۔ آصف فرخی نے اس سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات مکمل طور پرنہیں صرف جزوی طور پر درست کہی جاسکتی ہے اور خالد جاوید صاحب کی توجیہہ سے قطع نظر ،نیر مسعود صاحب واقعیت یا حقیقت پر مبنی فکشن کے بہت قائل تھے۔وہ غلام عباس، محمد خالد اختر ، رتن ناتھ سرشارکو پسند کرتے تھے۔ انہوں نے ضمیر الدین احمد پر ایک مضمون لکھا۔عظیم بیگ چغتائی بھی انہیں پسند تھے۔نیر مسعود خود کو حقیقت پسند افسانہ نگار سمجھتے تھے۔یہ الگ بات ہے کہ ان کہ ہاں حقیقت تہہ دار اور واہمے کے بہت قریب ہے۔حقیقت تخئیلاتی بھی تو ہو سکتی ہے۔ان کے تمام افسانوں میں ایک دبا ہوا احساسِ زیاں، ایک ملال، ایک حُزن اور افسوس کی کیفیت پائی جاتی ہے۔انہوں نے لکھنو کی مخصوص زبان اور محاوروں سے یکسر اجتناب کیا ، جس کے باعث انکے افسانوں میں ایک نامانوس پن در آیا۔

آخر میں اجلاس کےصاحبِ صدر افضال احمد سید صاحب نےکہا کہ حلقے کو یہ نشست ضرور کرنی چاہیے تھی اور حلقے نے کی، کیوں کہ نیر مسعود اردو کے اہم تریب ادیب تھے۔ ہم انہیں جتنا یاد کر سکیں، کرنا چاہیے۔ میری کبھی نیر صاحب سے ملاقات نہیں ہوئی۔ ایسے میں آصف صاحب کےذریعے ہمیں نیر سعود صاحب کے فن اور شخصیت کے باے میں بہت اچھی گفتگو سننے اور انہیں سمجھنے کا موقع ملا۔ میں نیر مسعود صاحب کا صرف ایک قاری ہوں۔میں نے ان کی تنقیدیں نہیں پڑھیں۔ میں ان سے ان کے ترجمے کے ذریعے متعارف ہوا۔ وہ تھا ‘‘ شجر الموت’’۔وہ پیٹر پان کی کہانی تھی۔وہ کہانی اور اس کا ترجمہ دونوں بہت خوب صورت تھے۔میں وہ پڑھتے ہی نیر صاحب کا عاشق ہوگیا۔ا س کے بعد ان کی کہانیاں پڑھیں۔ ان کی کہانیوں میں ابہام کی ایک صورت ہوتی ہے۔ابہام کو شاعری اور ادب میں ایک وصف سمجھاجاتا تھا۔ابہام کی وجہ سے ان کہانیوں کو بارِ دگر پڑھنے اور ان کے متعلق سوچنے کا موقع ملتا ہے۔نیر صاحب اپنے افسانوں میں جو فضا بناتے ہیں وہ ابہام کے ساتھ بھی بناتے ہیں اور طائوس چمن کی مینا جیسی کہانیوں میں بھی بناتے ہیں۔اس کہانی میں انہیں واجد علی شاہ ہیرو نظر نہیں آتا۔اس کہانی کے آخر میں ایسا جملہ بھی آتا ہے کہ اسے(مالی کو) قید واجد علی شاہ نے کیا مگر اسے رہائی انگریزوں نے دلوائی۔نیرمسعود صاحب اپنے افسانوں میں بہت کچھ بین السطور بھی کہتے تھے، جسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔
افضال احمد سید کی گفتگو کے حلقے کے اجلاس کے خاتمے کا اعلان کیا گیا۔

Categories
نان فکشن

نیر مسعود؛ ایک مہربان شخص، ایک مبہم ادیب

تحریر: آصف فرخی
انگریزی سے ترجمہ: رفاقت حیات
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تاریخ اور کہانی کہنے سے تعلق رکھنے والی دیویاں پریشاں خیالی میں مبتلا ہیں۔فکشن کا ایک عہداپنے اختتام کو پہنچا۔ادبی علم و فضل اورتحقیق کی بنیاد پر کی جانے والی تاریخ نویسی زیادہ تنگ دست لگ رہے ہیں۔ایک شہر اور اس کی پوری تہذیب، جو نفاست اور کھرے پن کے ساتھ، علامتی و تمثیلی قالب میں ڈھل کرادب کی تاریخ میں پھر سے لوٹ آئی۔جیسے ہی نیر مسعودلافانی لوگوں کی صف میں اپنی جگہ پر براجمان ہونے کے لیے دنیا سے رخصت ہوئے، تونہ صرف اردو ادب نے اپنی نفیس ترین اور سب سے باثروت آواز،بلکہ پوری کی پوری لکھنوی تہذیب بھی کھو دی،جس نے دنیا کے متعلق اپنے نکتہِ نگاہ سے آگاہ کیا تھااور جسے وہ اپنی تحریروں کے ذریعے علامتی و تمثیلی قالب عطا کرنے آئے تھے،اب وہ مردہ اور ازکار رفتہ ہوچکی ہے۔ان جیسے لوگ دوبارہ پیدا نہیں ہوتے اور ان کے گزر جانے سے پورا عہد، مگشدہ زمانے میں منقلب ہوجاتا ہے۔

تربیت سے عالم اور ادبی مورخ بننے کے باوجود، وہ پیدائشی کہانی کہنے والے تھے۔پہلے سےہی اردو اور فارسی کے جُز رس محقق اور ممتاز عالم کی حیثیت سے شہرت مستحکم کرنے کے بعدانہوں نے فکشن پر اپنی توجہ مرکوز کرکے ادبی دنیا کو حیران کردیا۔ اسی لیےان کی اولین کہانیوں کے ساتھ نوآموزوں والی خوش بختی یا کسی حادثے حتی کہ کسی واقعے جیسا معاملہ فوراً ہوا ہوگیا، جب وہ مستقل مزاجی کے ساتھ مزید کہانیاں لکھتے چلے گئے۔حیرت میں پڑنے والی بات درحقیت یہ نہ تھی کہ حقائق سے ہمہ وقت گتم گتھارہنے کی ساکھ رکھنے والے ایک سرکردہ عالم فکشن کی جانب آگئے تھے بلکہ حقیقی حیرت ان کہانیوں پر ہوتی تھی، جو وہ لکھ رہے تھے۔اردو ادب میں کسی دوسرے سے مماثلت نہ رکھنے والی،شان دار مہارت سے کہی گئی یہ کہانیاں،محسوس ہوتا ہےکہ خوابوں کے کسی عنصر کی مدد سے بُنی گئی ہیں، جیسےمکڑی کے جال کے نازک اور مہین تار، جنہیں غیر حقیقی پن سے بنایا گیا ہو مگر وہ اس کے باوجود پوری طرح حقیقی ہوں۔یہ سب مبہم، بیضوی،باطنی اور چکمہ دینے والی تھیں۔کوئی بھی انہیں پوری طرح سمجھنے یا جذب کرنے کا دعوی نہیں کرسکتا تھا، مگر اس کے ساتھ ان کا سِحر پرزور کشش کا حامل تھا مگر کوئی اس اختراع پسندی سے انکا ر بھی نہیں کرسکتا تھا، جو ان کی تحریروں کا خاصہ تھی۔

اپنی بنیاد میں تکمیلیت پسند، نیر مسعود کبھی بھی زرخیز لکھنے والے نہیں ہو سکتے تھے۔ان کی زندگی کا ماحصل پینتیس کہانیوں تک محدود ہے، جو چار مجموعوں میں شایع ہوئیں۔انہوں نے مجھے ایک مرتبہ بتایا کہ انہوں نے لڑکپن میں ہی کہانیاں لکھنی شروع کردی تھیں لیکن اس سے پہلے انہوں نے تحقیق کے ذریعے اپنا نام مستحکم کیا۔ان کی اولین کہانیاں پہلے شب خون میں شایع ہوئیں، جدید رجحانات کا حامل ادبی جریدہ،جسے شمس الرحمن فاروقی مرتب کرتے تھے،ایک ایسے ادبی آئیکون جو خود فکشن نگار کی حیثیت سے دیر سے سامنے آئے۔بہت سے لوگ اس بات پر یقین کرنے کے لیے تیار بیٹھےتھے کہ یہ ترجموں کے سوا کچھ اور نہیں ہو سکتیں۔یہ پراسرار مقامات پر رونما ہوتیں اور خالص اور صاف ستھرے انداز میں لکھی ہوتیں، ایسے با محاورہ اظہارات سے یکسر پاک، جنہیں اردو کے لکھنے والے فخر یہ استعمال کرتے چلے آرہےتھے، جو بعض اوقات برداشت سے باہر ہوجاتا تھا۔ان کا پہلا مجموعہ ‘‘ سیمیا’’ 1984میں منظرِ عام پر آیا۔اس کتاب نے قارئین کو بہت دھوکہ دیا اور محمد سلیم الرحمن نے،جو ایک زیرک ذہن رکھنے والے نقاد ہیں، انہیں ایک خاص دھندلے پن کے ساتھ اندرونی ساختہ اور ہر طرح کی تشریح کی ہم آہنگی سے مقابلہ کرنے والی کہانیاں قرار دیا۔ان کا اسلوب 1990میں چھپنے والی عطرِ کافور میں زیاد ہ کامل محسوس ہوتا ہے۔انتظار حسین انہیں اپنے زمانے کا سب سے اہم ادیب قرار دیتے ہیں۔

اس کے بعد وہ کہانی آئی،جس نے نیر مسعود کو، خود کو بھی حیران کردیا۔یہ تھی ‘‘ طاؤس چمن کی مینا’’ جو 1997 میں چھپنے والے مجموعے کے سرورق کی کہانی تھی۔اس نے گزشتہ کہانیوں سے رخصتی کو ظاہر کیا، جیسا کہ اس کامحل وقوع جو آخری حکم ران واجد علی شاہ کے دور کے ثروت مندلکھنو کے طور پر قابلِ شناخت تھا۔کہانی کہنے والا تاریخی محقق کے طور پر بے حدمنجھا ہوا ہے،اسی لیےرسمی طور پر اس مکمل کہانی میں شاہی پنجرے سے بولتی ہوئی مینا کی چوری اور اس کے ایک لڑکی کے ساتھ رہنے اور اس کا نام یاد کرکے دہرانے کی وجہ سے اس بے باک جرم کو دریافت کرنےکی جانب رہنمائی کرنے کی تمام جزئیات زندہ محسوس ہونے لگتی ہیں۔قدیم اور اب گُم شدہ ہوجانے والے گنجفہ کے کھیل نے انہیں اپنے آخری مجموعے کے لیے عنوان مہیا کیا،جو 2008میں شایع ہوا۔ان کی چند کہانیاںشایع ہونے سے رہ گئیں۔نیر مسعود کی ان کے مترجم محمد عمر میمن نے بھرپور انداز میں خدمت کی، جنہوں نے آہستگی اور باریک بینی کے ساتھ ان کی تمام کہانیوں کا ترجمہ کیا،جو ابتدا میں مختلف مجموعوں میں شایع ہوئیں،پھر اس کے بعد مجموعی کہانیوں کی صورت 2015 میں شایع ہوئیں،ایک ایسا مجموعہ جسے عزیز رکھا جائے اور بار بار اس کا مطالعہ کیا جائے۔ تب سے اب تک ان کی کہانیوں کا فرانسیسی، ہسپانوی اور فنِش زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔نیر مسعود کا بے عیب اظہار اب دنیا سے گفتگو کر رہا ہے۔

ایک کامل ہیرے کو روشنی میں لانے کے لیے، باصلاحیت زنبیل ڈرامیٹک گروپ کی جانب سےطاوس چمن کی مینا کو ڈارامائی انداز میں پڑھنے کا اہتمام کیاگیا۔جب مجھے T2F میں اسے متعارف کروانے کا اعزاز حاصل ہوا تھا۔جب اسے کرشماتی شخصیت سبین محمود کے ذریعے پیش کیا گیا تھا۔میں یہ کہے بغیر نہ رہ سکا تھا کہ مینا کو اردو زبان یا جلد کالونی بنائے جانے والے اور مکمل طور پر تباہ کر دیے جانے والےشاہانہ ہندوستان کی علامت کے طور پر اچھی طرح دیکھا جا سکتا ہے۔چند کہانیاں اپنے بیان میں اتنی واضح اورتیز دھار ہیں اور اس کے باوجودصفائی سے ایسی اشیا کی جھلک دکھانے کا اہتمام کرتی ہیں جو حدود سے باہر واقع ہیں۔

ان کے فکشن نے ان کی دیگر تصانیف کو گہنادیا ہے۔انہوں نے رجب علی بیگ سرور کی زندگی اور ان کے کام اور لکھنو کے ایک شہنائی نواز،آج تک جس کا کوئی ہم سر نہیں ہے،پر کتاب کے ذریعے اپنی پہچان بنائی۔نیر مسعود نے متعدد تنقیدی اور تاریخی مضامین بھی لکھے لیکن ان کی سب سے زیادہ غیر معمولی کتاب میر انیس کا مطالعہ ہے،جو ان کے لیے تاحیات محرک بنا رہا۔یہ ایک ادبی آپ بیتی سے کہیں زیادہ ہے،یہ مرثیے سے تعلق رکھنے والی ہر کسی چیز کا واضح اور باثروت مطالعہ ہےاوراپنی وسعت میں تقریباً انسائیکلو پیڈیا کے مساوی ہے۔ میں ان کے مضامین میں سےظافر جن کے متعلق مرثیے پر لکھا جانے والا مضمون کبھی فراموش نہیں کر سکتا۔انہوں نے فکشن لکھنے والوں اور اشعارِ غالب کی تعبیر پر چند عمدہ مضامین لکھے۔وہ مترجم کی حیثیت سے بھی کم غیر معمولی نہیں تھے، انہوں نے فارسی سے چند کہانیاں اور کافکا کی کہانیوں کی ایک مختصر کتاب ہمیں دی ہے۔انہوں نے ایک ریڈیائی ڈرامہ اور کبھی کبھار بچوں کے لیے کہانیاں بھی لکھیں۔

نیر مسعود کی تمام تحریروں کی جڑیں ان کے مخصوص وقت اور مقام میں دور تک گئی ہیں۔1936میں لکھنو میں پیدا ہونے والے، وہ مسعود حسن رضوی ادیب کے ہونہال فرزند تھے، جو اپنے دور کےمشہور عالم تھے۔اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے انہوں نے پہلے اردو میں، پھر فارسی میں پی ایچ ڈی کی اور اس کے بعد لکھنو یونیورسٹی سے وابستہ ہو گئے۔طبعاً شرمیلے اور خلوت پسندہونے کی وجہ سے انہوں نے اپنے دوستوں کے حلقے میں عالم فاضل کی زندگی بسر کی۔وہ شاذونادر ہی سفر کرتے تھےاور لکھنو ان کے لیے پوری دنیا بن گیاتھا، ایک موضوع جو اپنی لامحدود وسعت تک ہر وقت ان کےمطالعے میں رہتا تھا۔

فخرو انبساط اور لامحدود علم کے ساتھ،وہ اس شہر میں میرے اولین قدموں کی رہنمائی کے لیے نکل کھڑے ہوئے۔میرا دورہ کئی برسوں سے جاری خطوط کے تبادلے کے سبب پہلے سے طے شدہ تھا(وہ بہت بامروت خط لکھنے والے تھے)میں خوش نصیب تھا کہ مجھے اان کی شان دار خاندانی حویلی میں ان کے ساتھ ٹھہرنے کا موقع ملا، جسے ان کے والد نے تعمیر کروایا اور جسے بجا طور پر ادبستان کانام دیا گیا۔شہر سے میری روشناسی کو اس کے سواکچھ اور مکمل بھی نہیں کرسکتا تھا۔انہوں نے میرا تعارف افسانوی ‘’ٹُنڈے کے کباب’’ اور ‘‘ چوک کی بالائی’’ سے کروایا اور پھر انہوں نے مجھے کالی امراو جان، جوایک تاریخی شخصیت تھی اور جس نے ہو سکتا ہے لکھنو کی مشہور ادبی ہستی کو بھی متاثر کیا ہو، اس کا کوٹھا دکھانے کا اہتمام کیا۔

پاکستان اور انڈیا کے درمیان روابط کی دشواریوں کے باوجود انہوں نے خطوط اور کتابوں کا تبادلہ مستقل مزاجی سے جاری رکھا۔انہوں نے مجھے اپنی چند کتابیں کراچی سے شایع کرنے کی اجازت دی۔ان کی حوصلہ افزائی سے،میں نے فکشن پران کے تنقیدی مضامین اکٹھے کیے اوراس کے بعد ان کی منتخب کہانیوں کا ایک مجموعہ ترتیب دیا۔انہوں نے مجھےغالب پر اپنے مضامین کےتوسیع شدہ ایڈیشن کا مسود ہ ارسال کیا۔وہ صاحبِ فراش ہوچکے تھےاورآہستگی سے ان کی ادبی سرگرمی زوال پذیر ہورہی تھی۔ وہ کمزور دکھائی دینے لگے، میں نے جب انہیں آخری مرتبہ دیکھا تو ان کی صحت اچھی نہیں تھی۔ان کے خطوط مختصر سے مختصر تر ہوتے چلے گئے، ان کی باقاعدگی میں بھی فرق آنے لگا اور بالآخر وہ مکمل طور پربند ہو گئے۔وہ پہلے سے ہی ایک نشیبی ڈھلان پر تھے۔میں نے اسی وقت بدشگونی کو محسوس کرلیا، جب مجھے ان کی جانب سے بھیجی جانے والی کتاب، ان کے مخصوص دست خط کے بغیر وصول ہوئی۔ ان کی عالی مزاج، مہربان اور شفیق شخصیت کو میں روح تک مہذب شخص کے طور پر یاد کرنا پسندکرتا ہوں۔وہ مرشدِ معنوی تھے، جو میرے ادبی افق کووسعت دینے،لکھنے اور پڑھنے کے سلسلے میں ہمیشہ میری حوصلہ افزائی کرتے ہوئے۔ ادبی دنیا کی ایک خلیق دھیمی روشنی ُگل ہوگئی لیکن نام نیر مسعود، جب تک میں زندہ ہوں، میرے دل میں ہمیشہ جگمگاتا رہے گا۔