ایک خط: روش ندیم کے نام

حفیظ تبسم: روش ندیم!
تمہارے ٹشو پیپر پر لکھے دکھ پڑھ کر
ہماری نیندیں خدا کے دروازے پر دستک دیتی ہیں
مگر دروازہ کُھلنے سے انکار کر دیتا ہے
حسرت میں ملفوف ایام

صفیہ حیات: وہ
خالی بٹوے کو دیکھتی
سڑکوں پہ بھاگتی
تھکاوٹ کو غصہ سے
روٹھی نظم کو حسرت سے دیکھتی ہے
ایک تلوار کی داستان

افضال احمد سید: یہ ایک تلوار کی داستان ہے
جس کا دستہ ایک آدمی کا وفادار تھا
اور دھڑ ایک ہزار آدمیوں کے بدن میں اتر جاتا تھا
عمر کے رقص میں

نصیر احمد ناصر: لاجوردی خلا
ہے ازل تا ابد
جست بھر فاصلہ
روشنی! روشنی!!
انٹیروگیشن …!!!

ثروت زہرا: تم نے سورج سے کیوں روشنی چوری کی
تم پر دن لوٹنے کی دفعہ لگتی ہے
تم کو اب وقت کی ہتھکڑی لگتی ہے
کور چشم ولدیت

صفیہ حیات: میں عورت ہوں
مگر تم سے ولدیت چھین لوں گی
مجھے ایک گناہ کی اجازت دو

سدرہ سحر عمران: میں مٹی کے صابن سے جھاگ بنا کر
آسمان سے رات صاف کرنا چاہتی ہوں
وہ سازش ڈھونڈ رہے تھے

سلمان حیدر: کسی خفیہ راستے کی تلاش میں
انہوں نے سرکنڈوں کی بنی دیواروں پر
لپی ہوئی مٹی کھرچ ڈالی
نفرت بھیانک خواب کی طرح ہماری نیندوں میں آتی ہے

عذرا عباس: آنکھ کھولنے اور بند ہونے کے دورانیے میں
جو دیکھا تو صرف نفرت کو پنپتے ہوئے
نفرت جو ایک بھیانک خواب کی طرح روزہماری نیندوں میں آتی ہے
یاد ایک جھولنا ہے

عمران ازفر: تمام رات آسماں تھپکتا ہے
ہر ایک تارے کی کمر
دمِ سحر غلافِ شب لپیٹ لے
جو دن جا چکا ہے اور دوپہر کا وقت ہے
سوم رس

رضوان علی: میں ایک ایسا درخت ہوں
جس کی جڑیں زمین سے باہر نکل آئی ہیں
محبت کی نظمیں (حصہ اول)

تصنیف حیدر: رات
اس کی نظمیں سنتے گزری
جیسے سیاہ آنئوں پر نیلی روشنیوں
کا رقص ہو
آ چنو رل یار

افتخار بخاری: آؤ اب ہم پتھر ڈھونڈیں
اپنے پیٹ پہ باندھنے کو
ڈھلتی دوپہر کی چُپ میں

حسین عابد: خدا اوپر رہتا ہے
دوپائے، چرند پرند نیچے
آنا جانا لگا رہتا ہے
تم وہی رہو، جو ہو

زاہد امروز: اِسی طرح تم وہی رہو
عیاری اور منافقتوں سے پاکیزہ
جس کو پوجنا چاہتا ہے
دنیا کا مکّار خدا!