مستنصر حسین تارڑ سے ایک شکوہ

محمد سعید اللہ قریشی:
یہ وہ دور ہے
صبح دم جس میں بچوں کی خاطر
کوئی چاچا تارڑ ابھی ہست کے باغ میں سانس لیتے ہوئے بھی چہکتا نہیں
یہ وہ دور ہے
صبح دم جس میں بچوں کی خاطر
کوئی چاچا تارڑ ابھی ہست کے باغ میں سانس لیتے ہوئے بھی چہکتا نہیں
ایک دن اپنے ہاتھوں سے میں ایک رسی بُنوں گا

فیثا غورث: ایک دن اپنے ہاتھوں سے میں ایک رسی بُنوں گا
اور اس رسی کے ایک سرے سے خود کو باندھ کر اچھال دوں گا
ہو سکتا ہے میں چاند میں جا کر اٹک جاوں
ہو سکتا ہے میں رات کے چند گچھے توڑ لے آوں
ہو سکتا ہے میں اڑتے اڑتے دور نکل جاوں
اور اس رسی کے ایک سرے سے خود کو باندھ کر اچھال دوں گا
ہو سکتا ہے میں چاند میں جا کر اٹک جاوں
ہو سکتا ہے میں رات کے چند گچھے توڑ لے آوں
ہو سکتا ہے میں اڑتے اڑتے دور نکل جاوں
ٹائم کیپسول

نصیر احمد ناصر: کبھی زمان و مکاں کے ملبے سے
کوئی آئندگاں کا باسی
مجھے نکالے گا
کوئی آئندگاں کا باسی
مجھے نکالے گا
محبت اصلی مشین گن نہیں چلا سکتی

نصیر احمد ناصر: محبت اس سے زیادہ کسی ذی حس کو نقصان نہیں پہنچا سکتی
انسانوں سے تو وہ تا دیر ناراض بھی نہیں رہ سکتی
سوائے دہشت گردوں کے
جن کے قریب جانے سے وہ ڈرتی ہے
کیونکہ محبت اصلی مشین گن نہیں چلا سکتی!
انسانوں سے تو وہ تا دیر ناراض بھی نہیں رہ سکتی
سوائے دہشت گردوں کے
جن کے قریب جانے سے وہ ڈرتی ہے
کیونکہ محبت اصلی مشین گن نہیں چلا سکتی!
اللہ ہو سے عالمِ ہو تک
ستیہ پال آنند: اپنے ہی پانی مٹی سے اک ساعت ایسی گھڑ لیں
جوحیات میں عین موت ہو
اور موت میں عین حیات
اللہ ہو سےعالمِ ہو تک
عالمِ ہو سے اللہ ہو تک!
جوحیات میں عین موت ہو
اور موت میں عین حیات
اللہ ہو سےعالمِ ہو تک
عالمِ ہو سے اللہ ہو تک!
نظم خدا نہیں

نصیر احمد ناصر: نظم خدا نہیں
لیکن ہر جگہ موجود ہے
لیکن ہر جگہ موجود ہے
پیار کرنے کے سو آسان طریقے

وجیہہ وارثی: میں نے اپنی تمام خواہشیں یکجا کیا
اخراجات کے کفن میں لپیٹ کے دفن کر دیا
اخراجات کے کفن میں لپیٹ کے دفن کر دیا
بُو باس کا عالم

سدرہ افضل: ممکن ہے
کوئی آدم زاد یہاں سے گزرا ہو
جس کے تلووں کی مٹی سے
ہُو باس کا عالم ٹپکا ہو
عمر کا خالی پَن مہکا ہو
کوئی آدم زاد یہاں سے گزرا ہو
جس کے تلووں کی مٹی سے
ہُو باس کا عالم ٹپکا ہو
عمر کا خالی پَن مہکا ہو
کالی رات ہے

سوئپنل تیواری: کالی رات پہ رنگ نہیں چڑھنے والا ہے
میں نے اپنی نبض کاٹ کر
اپنا لہو برباد کر دیا۔۔۔۔
میں نے اپنی نبض کاٹ کر
اپنا لہو برباد کر دیا۔۔۔۔
اب میں پوسٹ بکس میں کوئی خط نہیں ڈالوں گی

عذرا عباس: اب میں پوسٹ بکس میں کوئی خط نہیں ڈالوں گی
جب جب اس کو خط لکھا
جس تک اپنے دل کاحال بتانا تھا
خط کھویا گیا
جب جب اس کو خط لکھا
جس تک اپنے دل کاحال بتانا تھا
خط کھویا گیا
کولاج

حماد نیازی: سرگودھا یونیورسٹی میں گزرے ٧٩٠ دنوں کی طرح
چائے کی پیالی سے میری نظم شروع ہوتی ہے
چائے کی پیالی سے میری نظم شروع ہوتی ہے
دو کیشیئرز

جمیل الرحمان: جسم کے الاؤ میں
خواب کے بہاؤ میں
اک پرانی حسرت کے
گھاٹ پر اُترنے تک
نظم اُس نے کہنی تھی
خواب کے بہاؤ میں
اک پرانی حسرت کے
گھاٹ پر اُترنے تک
نظم اُس نے کہنی تھی
کہانی

توقیر عباس: بھرا شہر اس دن پریشان تھا
چوبداروں کی جاں پر بنی تھی
سپاہی ہراساں تھے
راجا کسی سوچ میں دم بخود تھا
رعایا کے چہروں پر آتے دنوں کی سیاہی کا سایا جما تھا
چوبداروں کی جاں پر بنی تھی
سپاہی ہراساں تھے
راجا کسی سوچ میں دم بخود تھا
رعایا کے چہروں پر آتے دنوں کی سیاہی کا سایا جما تھا
لاشیں اور دن ترتیب سے گنے جاتے ہیں

نصیر احمد ناصر: لاشیں ترتیب سے رکھی گئیں
شناختی نشانوں کے ساتھ
روزنامچے میں
دن، تاریخ اور وقت درج کیا گیا
تا کہ بے حساب مرنے والوں کا
حساب رکھا جا سکے
شناختی نشانوں کے ساتھ
روزنامچے میں
دن، تاریخ اور وقت درج کیا گیا
تا کہ بے حساب مرنے والوں کا
حساب رکھا جا سکے
ریحانے جباری

نصیر احمد ناصر: میں نے قتل کیا ہے
ایک مرد کو
جو میرے جسم میں چھید کرنا چاہتا تھا
ایک مرد کو
جو میرے جسم میں چھید کرنا چاہتا تھا