Laaltain

کھرے عشق کا المیہ

شارق کیفی: محبت کا حد سے گزرنا ہی بے کیف کرتا ہے اس کو
کھرا عشق یوں بھی اداسی ہے

تری دنیا کے نقشے میں

ابرار احمد: ہجوم روز و شب میں
کس جگہ سہما ہوا ہوں میں
کہاں ہوں میں
تری دنیا کے نقشے میں
کہاں ہوں میں

بھینسے کا خدا

حسین عابد: حمد اس کی جو روند دیتا ہے
مٹی، ریت، خاردار میدان
دہلا دیتا ہے ٹیلوں کے دل

مردود

علی زریون: اپنی نظموں کے یہ “کھوٹے سکّے” اُٹھا
اپنے جیسوں میں جا
اور یہاں سے نکل

درخت

سید کاشف رضا: میرے سینے پر جتنے لفظ اُگے
ان سے میں کچھ اور بنانا چاہتا تھا
مثلاً ایک درخت
جسے کاٹ دیا جائے
تو اس سے میرا خون ابلنے لگے

ہوا موت سے ماورا ہے

نصیر احمد ناصر: اگر میرے سینے میں خنجر اتارو
تو یہ سوچ لینا
ہوا کا کوئی جسم ہوتا نہیں

کسی دن مِلیں گے

نصیر احمد ناصر: مِلیں گے کسی دن مِلیں گے
فراغت ہوئی تو
خدا سے بھی، تجھ سے بھی
دونوں جہانوں سے باہر مِلیں گے
کسی دن عروضی زمانوں سے باہر مِلیں گے

ممتاز حسین کی ایک نظم

ممتاز حسین: دریائے سندھ کی تہذیب
ٰعجاہب گھر میں رکھے ہوئے
نفاق کے پیالے میں
بخارات میں تحلیل ہو جاتی ہے

کھڑکیاں

نصیر احمد ناصر: کھڑکیاں صدیوں کے خوابوں کی کہانی ہیں
فصیلوں، آنگنوں، اجڑے مکانوں کی گواہی ہیں

دل سے اتری ہوئی نظم

سدرہ سحر عمران: میرا مرد اس ٹیلی فون کی طرح خاموش ہے
جس کا نمبر کسی کو نہیں دیا گیا
لیکن وہ ہر ماہ بل کی ادا ئیگی کے لئے
اپنی چیزیں بیچ دیتا ہے
اس کے پاس اب ایک گھڑی کے سوا کچھ نہیں ہے

آسمان کی چھوٹی سی خواہش

انور سین رائے: کچھ نہیں بس اتنا چاہتا ہوں
کچھ دیر کے لیے سمٹ جاؤں
کچھ دیر کے لیے
پاؤں پسار کر آنکھیں موند لوں
اور اس سے پہلے دیکھوں
کیسا لگتا ہے سب کچھ
میرے بغیر

آخری موسم

فیصل عظیم:زینے سے آنے والے کی صورت
دھُند میں کھو جاتی ہے
یخ بستہ سانسوں کے سنّاٹے کا منتر
چُپ کا جادو کرتے کرتے سو جاتا ہے