Laaltain

وِیپ ہولز

نصیر احمد ناصر: ہمیں دیوار مت سمجھو
ہمیں بیکار مت سمجھو
کہ جب دیوار کے پیچھے کی مٹی بھیگ جائے گی
تو ہم بوجھل نمی کا دکھ بہائیں گے
ہماری آنکھ میں آنسو نہیں خوابوں کی کیچڑ ہے!!

مٹی میں دبا دل

حسین عابد:
آنسو میں گُٹھلی نہیں ہوتی
لیکن وہ بہت دیر تک دبا رہے
تو پیڑ بن جاتا ہے
جس پہ دو آنکھیں آتی ہیں

آج بھی ہر روز کی طرح

ممتاز حسین: فال نکالنے والے طوطے نے
دل کی لکیر ڈھونڈ کر
مشورے کے لفافے میں
بند کر کے مجھےتھماتے ہوئے کہا
تمہارے دل میں جو سوراخ ہے
اس لکیر سے بھر دو

بدتمیز

وجیہہ وارثی: میں سوجاتا ہوں خواب آور گولیاں کھا کے
وہ خواب میں بھی نہیں آتی
صبح جب آنکھ کھلتی ہے
وہ سو رہی ہوتی ہے
میرے سینے پر اپنی دونوں ٹانگیں رکھ کے

اشتہار سے باہر

علی محمد فرشی: رشتوں کی سلاخوں میں
پروئی عورتوں اور
گائے کے عمدہ گلابی گو شت کا بھاؤ
ابھی تک ایک جیسا ہے

بچہ اور بالغ

حسین عابد: ممکن ہے
وہ
تمہارے موٹے بوٹ پہن کر
تمہاری کدال اٹھائے جا چکا ہو

عدالت کو کیا معلوم!

نصیر احمد ناصر: عدالت کو کیا معلوم
کہ خدا دکھی لوگوں کی گواہی دینے
کبھی کبھی خود کٹہرے میں آ جاتا ہے

پھانسی گھاٹ

حسین عابد: وہ آدمی مر چکا ہے
وہ لوگ بھی مر رہے ہیں
لیکن کندھوں پر اٹھائے ان کے بچے
آج بھی گندے نالے میں گر رہے ہیں

پانی میں گم خواب

نصیر احمد ناصر: رقص کے تماشے میں
ارض و شمس ہوتے ہیں
اور خدا نہیں ہوتا

چار اطراف

فرخ یار: تم نے دیکھا نہیں
انہی اطراف میں
روشنائی کے سیال جادو کی تہہ میں کہیں
دل دھڑکنے کے اسباب میں
انہی اطراف میں
خود سے آگے نکل جانے کی آرزو
جس نے اک عمر خلقت کو بے چین رکھا
مرے آئینوں پہ چمکنے لگی ہے

راز

وجیہہ وارثی: عشق کے بعد میرا بھی یہی حال ہے
تالا لگاتا ہوں تو لوگ مڑ مڑ کے دیکھتے ہیں
تالا کھلا رکھتا ہوں تو لوگ دل میں جھانکتے ہیں

ماؤں کا بُڑھاپا سہما دیتا ہے

ثمینہ تبسم: میری ماں
وہ صحت مند عورت
جس نے دس بچوں کو جنم دیا
جو کبھی بیمار نہیں پڑی
اُس دن
کچن کیبنٹ سے
مصالحے کا ڈبا اُٹھانے کے لئے
چھوٹی سی چوکی پہ کھڑا ہونے کی کوشش میں ہلکان تھی