محبت کی نظمیں (حصہ اول)
تصنیف حیدر: رات اس کی نظمیں سنتے گزری جیسے سیاہ آنئوں پر نیلی روشنیوں کا رقص ہو
تصنیف حیدر: رات اس کی نظمیں سنتے گزری جیسے سیاہ آنئوں پر نیلی روشنیوں کا رقص ہو
سلمیٰ جیلانی: انصاف کی تلاش میں بہتی آنکھوں نے اندھے رستے پر پڑی بند گھڑی کی سوئی میں مجھے پرو…
حسین عابد: خدا اوپر رہتا ہے دوپائے، چرند پرند نیچے آنا جانا لگا رہتا ہے
زاہد امروز: اِسی طرح تم وہی رہو عیاری اور منافقتوں سے پاکیزہ جس کو پوجنا چاہتا ہے دنیا کا مکّار…
ستیہ پال آنند: فقط ایک رستہ اُسے سُوجھتا ہے کہ خود اپنی گردن بُریدہ کرے۔۔۔۔۔