عاصمہ جہانگیر کے نام
رضوان علی:کہاں چلی ہو؟ ابھی تو وقتِ مفارقت میں بچی ہیں گھڑیاں ابھی سے جانے کی ٹھان لی ہے؟
رضوان علی:کہاں چلی ہو؟ ابھی تو وقتِ مفارقت میں بچی ہیں گھڑیاں ابھی سے جانے کی ٹھان لی ہے؟
طیب رضا: پرانی بوسیدہ گلیوں میں خون کی بو پھیل گئی ہے نابینا گوـٖٖیّا ریاض کرتے ہوئے ابکائیاں لینے لگا…
سید کاشف رضا: اور وہ ایسی جیت تھی جس کی یاد میں زمین پر کوئی لاٹھ گاڑی جا سکتی تھی
تنویر انجم: پرندے نے سوچا ایک لمحے کے ہزارویں حصے میں دائیں مڑے یا بائیں
صفیہ حیات: ہم سب جھوٹے ہیں ایک ہی رشتہ سے بندھے عمر بتاتے ہیں بھلا رشتہ اور پھول بھی کبھی…
رحمان راجہ: وہ مجھ سے نہیں چھپ سکتی جیسے ہلکے پیلے رنگ کی قمیض کے زیرِ سایہ لال سینہ بند
صوفیہ ناز: زندگی کو ایک پرانی رسید کی طرح پھاڑا ردی کی ٹوکری میں ڈالا اور اگلے گھر کی ناپ…
طاہر اسلم گورا: ہم دس سطروں میں اپنا بیان قلمبند کروا سکتے ہیں وہ اگر ہمیں پکڑنا چاہیں گے تو…
ابرار احمد: میں ایک خواب سے دوسرے خواب میں اس شام سے گزر کر جانا چاہتا ہوں تم کہاں ہو…