Laaltain

ایک خط: روش ندیم کے نام

حفیظ تبسم: روش ندیم!
تمہارے ٹشو پیپر پر لکھے دکھ پڑھ کر
ہماری نیندیں خدا کے دروازے پر دستک دیتی ہیں
مگر دروازہ کُھلنے سے انکار کر دیتا ہے

پابلو نیرودا : چلی کا آخری سلام

حفیظ تبسم:
وہ صنوبر کے سوکھے پیڑوں سے ہاتھ ملاتے
سوال کرتا ہے
جب ٹہنیوں سے ہزاروں پتے جدا ہوئے
جڑوں کے دل میں آخری خواہش کیا تھی

کائنات کا آخری دکھ

حفیظ تبسم: پھر خداکے نام کی تختی دیکھ کر گھنٹی بجانے والوں نے
کٹہرے کو کئی بار چوما
اور اندھیرے کے آگے سجدہ ریز ہوگئے

اندھیرا تم سے ہم کلام ہوتا ہے

حٖیظ تبسم:عذرا عباس !
میز پر رکھے تمہارے ہاتھ
انگلیاں بجاتے ہیں
لکیروں کے ساکت ہجوم میں
اور سرگوشی میں پوچھتے ہیں
خود سے پرانے عہد کی داستان

ایک معمول کا دن

حفیظ تبسم: آج پھر بوڑھے ہوتے شہر میں
بے بسی قہقہے لگاتی رہی
اور نیند کے سگریٹ پھونکتے پہرے دار کی میت
سردخانے کی دیوار میں چُن کر
لاوارث کا لیبل چسپاں کر دیا گیا

ایک یاد رہ جانے والا خواب

حفیظ تبسم: ہم ہررات خوابوں میں
زیادہ تیزی سے
کشتی بنانا شروع کردیتے ہیں
جو دور کہیں ہرروز پانی کے اوپر تیرتی ہے
غائب ہوجاتی ہے۔۔۔۔۔

ٹیڑھی پسلی سے بنی لڑکی

حفیظ تبسم:
اس نے تفریحی وقفے میں رسی کودنے کی بجائے جوابی نعرہ ایجاد کیا
اور باریش ریڈیو کے سامنے رکھ کر دیا