تصویروں سے بھری چھاتی

حسین عابد: تین قدم کے بلیک ہول سے
رنگ نہیں رِستے
خون نہیں رِستا
کورے کینوس اڑتے ہیں خواب گاہ میں
یہ رسم الخظ اگر میں جانتا تو—

گلزار: چمکتی دھوپ میں دیوار کے کونے سے اک پتی نے جھانکا ہے
بہت سینچی ہیں تم نے درد سے مٹی کی دیواریں
اُپج کی کونپلیں اُگنے لگی ہیں!
تم نہیں دیکھتے

ابرار احمد: آنکھیں دیکھتی رہتی ہیں
لیکن تم نہیں دیکھتے
پڑے رہتے ہو عقب کے اندھیروں میں، لمبی تان کر
اور نہیں جانتے
آنکھیں کیا کچھ دیکھ سکتی ہیں
ایک مجسمے کی زیارت

سید کاشف رضا: میں دکھ اپنے خواب کا
تم نے جس کی مزدوری نہیں دی
میں دکھ اپنے خواب کا
جو تمہارے بدن پر پورا ہو گیا
آخری دلیل

افضال احمد سید: اس کھڑکی کو سبزے کی طرف کھولتے ہوئے
تمہیں محاصرے میں آئے ایک دل کی یاد نہیں آئی
شنگھاؤ غار

زید سرفراز: ہم غار کی دیواروں میں مجسم، وہ تنہائی تھے
جسے صورت دیتے ہوئے
مؤرخ نے تیشے کا استعمال کیا
حادثے کے امکان میں زندگی

کاوش عباسی: سڑک پر
ایک تیز کار
ایک ہی پَل کی اِک غلطی سے
مُجھ سے ٹکرائے
اَور مُجھ کو بھینچ کے رَکھ دے
عشرہ // اُس پار اِس پار

ادریس بابر: لوگ مارے گئے
تمہیں کیا
میں سچ کہہ رہا ہوں
ہمیں کیا
بھوک ہڑتال کی مکمل گائیڈ اور دیگر عشرے

جنید الدین: شاہدرہ سے گجومتہ جانے تک
میٹرو کتنا وقت لیتی ہے
نصرت کی تین چار قوالیاں، عطاء اللہ کے پانچ چھ گانوں جتنا
تمنا آنکھ بھرتی ہے

عمران ازفر: وہ قصہ رات کی دیوار پر لکھا ہوا ہے
نہ آنکھوں میں سِمٹتا ہے
نہ سانسوں سے سُلجھتا ہے
کوئی گُل آبی ریشم ہے جو پہلو سے لپٹتا ہے
عشرہ // اودا سوٹ اور بارش

تصنیف حیدر: گھنے ابر نے بنادیا ہے شہر کو کوہ قاف
ایسے میں اک بوسہ لے لوں تو شاید کردے معاف
اگر یہ زندگی تنہا نہیں ہوتی

سید کاشف رضا: اگر یہ زندگی تنہا نہیں ہوتی
تو اس کے فالتو ٹکڑے
منڈیروں پر پرندوں کے لیے پھینکے نہ جا سکتے
چورن

سعد منیر: خالقِ سانسِ اول
گوشت کی اماں پتھر بزرگ
جیسے کوئی جیم کھڑا ہے
اپنے باغی نقطہ کو
محبّت سے گھیرے میں لے کر
عشرہ // ۔۔۔۔ بھٹو نکلے گا

ادریس بابر: ستر سال میں اک بھٹو آزاد ہوا ہے
لندن پیرس برلن جا کر
ڈسکو صوفی فلمیں چھوڑ کے
نیویارک میں پوز بنا کر
ہماری گلیوں میں قیامت بچے جنتی ہے

سدرہ سحر عمران: ہمیں وراثت میں اپنی عیاشیاں سونپ جائیں گے
حرمزادو! خُدا کے لئے
ہمیں بانجھ پن کی دعائیں دو ۔۔۔