ایک اور افتخار کے نام

افتخار بخاری: زمانے کی آندھی میں اڑتے ھوئے
ٹکڑے اخبار کے
ہم جدا ھو گئے
پھر ملے ہی نہیں
گناہ گار شاعر کی بے گناہ نظمیں

حفیظ تبسم: کل میری دو نظمیں بازار گئیں
(جو جڑواں بہنیں تھیں)
مگر واپس نہیں لوٹیں
ہمیں خدا کی ضرورت نہیں

سدرہ سحر عمران: زنجیریں ہمارے دم سے زندہ ہیں
ہمیں نیکیوں کے ہار مت پہناؤ
دنیا کی تمام عورتوں کو جمع کرلو

عذرا عباس: یہ عورتیں ایسے ہی بین کرتی رہیں گی
اور کھوتی رہیں گی
اپنے بچے
اور روتی رہیں گے ایک آواز میں
ایک ایسی آواز میں
جو ایک دن آسیب بن جائے گی
اور تمھارا خریدا ہواخدا بھی اس کی دہشت سے کانپ رہا ہو گا
عشرہ // خیر سے آؤ خیر سے جاؤ

ادریس بابر: رُوتھ کیتھرینا مارتھا فاؤ
کم سے کم بھی کہیں تو نصف صدی
جسم کے کوڑھ کا علاج کیا
حرف

سرمد بٹ: لاکھوں مشینی ہجے
مجھے سخت بے معنی لگ رہے ہیں
ایک کلک کی مار یہ دھوکے
کتنے فانی لگ رہے ہیں۔۔۔۔
پیچھے مُڑ کے مت دیکھنا!

ثمینہ تبسم: صحیفے طاق پہ دھرے ہیں
قانُون مر چُکا ہے
اور تُم صرف ایک ناہنجار عورت ہو
ہم بے کاری کی مزدوری کرنے والے

قاسم یعقوب: ہم بے کاری کی مزدوری کرنے والے
اسمِ عظیم کا ورد لبوں پر رکھ کر
روز گھروں سے نکلتے ہیں
وہ برسوں سے ایک خواب دیکھ رہا ہے

مصطفیٰ ارباب: وہ ایک ہی وقت میں
دو جگہوں پر
دو طریقوں سے
زندگی بسر کر رہا ہے
عشرہ // کیپیٹلسٹ مینیفسٹو

جنید الدین: کون کہتا ہے تم غریب ہو، فقط اشیاء کی قیمتیں بڑھی ہیں
دنیا بھر کے رنگ بازو ایک ہو جاؤ
بھگتنا ہاتھوں کو پڑتا ہے

ایچ- بی- بلوچ: مجسمہ سازی ہو یا تاریخ سازی
بھگتنا ہاتھوں کو پڑتا ہے
ایک کتے کی موت

شارق کیفی: بھونکنا چاہتا ہوں
اپنے اندر كے کتے پہ میں زور سے بھونکنا چاہتا ہوں
آج کی تازہ خبر جو کل بھی تازہ تھی

محمد حمید شاہد: اندھیرا
بولائے ہوئے کتے کی طرح
گلیوں میں الف ننگا بھاگ رہا ہے
میں بالکل ٹھیک ہوں

تنویر انجم: تم پوچھتے ہو کیسی ہو؟
میں کہتی ہوں بالکل ٹھیک
میں پوچھتی ہوں تم کیسے ہو؟
تم ایک نئے قصے کا آغاز کرتے ہو
تفصیلات کے ساتھ
عشرہ // اجرت

صدیق شاہد: دنیا کی یاری مال نہ گاڑی کچھ نئیں رہنا باقی
باقی رہے گا کام تمہارا خاک ہے جسد خاکی