Mob the Omnipotent

سرمد بٹ: آدم باغ سے نکل کر ہجوم بن گیا تھا
ہجوم آدمی ہے
ہجوم کچھ بھی کر سکتا ہے
ہجوم آدمی ہے
ہجوم کچھ بھی کر سکتا ہے
کہیں افسوس کی شمعیں ۔۔۔۔۔۔

حسین عابد: رات بیدار رہی
زیرِ گردابِ زمانہ کہیں دن سویا رہا
نیند میں چلتے ہوئے بھول گئے پاوٗں کہیں
کہیں سر میز پہ بکھری ہوئی
زیرِ گردابِ زمانہ کہیں دن سویا رہا
نیند میں چلتے ہوئے بھول گئے پاوٗں کہیں
کہیں سر میز پہ بکھری ہوئی
جبر کی دنیا

سلمان حیدر: زندگی کا ہیولہ سرچ ٹاور پر گھومتے سورج کی طرح
سیاہ پٹی سے ڈھکی آنکھوں کے سامنے
رات جیسے دن میں کئی بار گزرتا ہے
سیاہ پٹی سے ڈھکی آنکھوں کے سامنے
رات جیسے دن میں کئی بار گزرتا ہے
عشرہ // مارو ہر انسان کو مار دو

ادریس بابر:مارو محلے دار کو مارو، مارو مارو ہمساے کو
مارو اے قابیل قبیلو ڈٹ کر مارو بیشک ماں جائے کو
مارو اے قابیل قبیلو ڈٹ کر مارو بیشک ماں جائے کو
چودھویں صدی کی آخری نظم

افتخار بخاری: یہ بھی لکھنا
کہ چودہ صدیوں سے ہانڈیوں میں
ابُلتے پتھر گلے نہیں تھے
ہماری ماوں نے اپنے بچوں کو
دہشتوں میں حنوط کر کے
جنم دیا تھا
کہ چودہ صدیوں سے ہانڈیوں میں
ابُلتے پتھر گلے نہیں تھے
ہماری ماوں نے اپنے بچوں کو
دہشتوں میں حنوط کر کے
جنم دیا تھا
گن رہی ہوکیا

تنویر انجم: اپنی پیشروؤں کی طرح
تم بھی گن رہی ہو
اپنی یا اوروں کی قمیضوں کے بٹن
چھت میں لگی کڑیاں
دیواروں کے دھبے
یا کھڑکی کی سلاخیں
تم بھی گن رہی ہو
اپنی یا اوروں کی قمیضوں کے بٹن
چھت میں لگی کڑیاں
دیواروں کے دھبے
یا کھڑکی کی سلاخیں
یورینیم کے خواب

رضی حیدر: بدھا کے لاشے پے بین کرتا، درخت پیپل کا سڑ گیا تھا
وہیں پہ اندو ندی کا اژدر زمیں کی گردن پہ چڑھ گیا تھا
وہیں پہ اندو ندی کا اژدر زمیں کی گردن پہ چڑھ گیا تھا
ایک نظم اپنے اداس شہر پر

تنویر انجم: ٹیڑھی کمزور دیواروں سے دور بیٹھوں
اونچی نیچی سڑکوں پر قدم نہ رکھوں
کھڑکیاں بند کر لوں
تو لکھ سکوں ایک نظم
اپنے اداس شہر پر
اونچی نیچی سڑکوں پر قدم نہ رکھوں
کھڑکیاں بند کر لوں
تو لکھ سکوں ایک نظم
اپنے اداس شہر پر
پُرسہ

علی زیرک: خبروں میں ان تابوتوں کی گنتی کرنا
جن میں ٹھونکی جانے والی میخیں
مریم کے بیٹے کے خون پہ اتراتی ہیں
جن میں ٹھونکی جانے والی میخیں
مریم کے بیٹے کے خون پہ اتراتی ہیں
وقت

علی محمد فرشی: تین چڑیلیں
ککلی کھیلیں
گھوم گھوم کے
جھوم جھوم کے آئیں
آدم زادوں کو بہکائیں
ککلی کھیلیں
گھوم گھوم کے
جھوم جھوم کے آئیں
آدم زادوں کو بہکائیں
اليعازر مر گیا

رضی حیدر: آہ میرا یہ جنیں خون اگلتا جاۓ
اس قدر خون مری ماں کا بطن بھر جاۓ
اس قدر خون کہ جراح کا لبادہ میرے
سرخ ایام کی تنہائی سا گاڑھا ہو جاۓ
اس قدر خون مری ماں کا بطن بھر جاۓ
اس قدر خون کہ جراح کا لبادہ میرے
سرخ ایام کی تنہائی سا گاڑھا ہو جاۓ
میرا نازک موتی

تنویر انجم: ایک ہی موتی ملا ہے مجھے
مسلسل چمکانے کے لیے
میرا اپنا نازک سا موتی
مسلسل چمکانے کے لیے
میرا اپنا نازک سا موتی
تقریرکرنے والوں کے ہونٹوں پر

ممتاز حسین: تقریر کرنے والوں کے ہونٹوں پر
ہم اپنی ضرورتوں کی جمع بندی
رکھ دیتے ہیں
ہم اپنی ضرورتوں کی جمع بندی
رکھ دیتے ہیں
پتھر کی زنجیر

ناصرہ زبیری: کیسے چھیڑوں ہاتھوں سے میں
چیخوں کا یہ ساز
شاہی در پر کیا اپناؤں
فریادی انداز
چیخوں کا یہ ساز
شاہی در پر کیا اپناؤں
فریادی انداز
ڈر

نسرین انجم بھٹی: اس سے پہلے کہ بسنتی بوچھاڑیں آئیں اور گزرجائیں
بادل سے کوئی قسم لے لو
تاروں کوکوئی جنم دے دو
بادل سے کوئی قسم لے لو
تاروں کوکوئی جنم دے دو