جب میں ہارا تھا

سعد منیر: یہ میرے کیڑے بننے سے ہزاروں سال پہلے کی بات ہے
جب مجھے یقین تھا
تم خلائی مخلوق ہو
جب مجھے یقین تھا
تم خلائی مخلوق ہو
قصباتی لڑکوں کا گیت

ابرار احمد: ہم تیری صبحوں کی اوس میں بھیگی آنکھوں کے ساتھ
دنوں کی اس بستی کو دیکھتے ہیں
ہم تیرے خوش الحان پرندے، ہر جانب
تیری منڈیریں کھوجتے ہیں
دنوں کی اس بستی کو دیکھتے ہیں
ہم تیرے خوش الحان پرندے، ہر جانب
تیری منڈیریں کھوجتے ہیں
ﻻﺋﭧ ﮨﺎﺅﺱ

نصیر احمد ناصر: ﺑﺘﺎ ﻣﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﮔﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻧﻢ! ﺗﺠﮭﮯ ﮐﻦ ﺯﻣﺎﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﻧﯿﻨﺪﻭﮞ ﻧﮯ ﮔﮭﯿﺮﺍ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ ﮐﺴﯽ ﺩﺭﺩ ﮐﯽ ﺳﺮﺯﻣﯿﮟ ﭘﺮ ﺧﺪﺍ ﺑﺎﺭﺷﯿﮟ ﺭﻭ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﮐﮩﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺁﻧﺴﻮ ﻣِﺮﺍ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﭘﻠﮑﻮﮞ ﭘﮧ ﮐﯿﻮﮞ ﺭﮎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ؟
لیک

سوئپنل تیواری:ہمیں ہنسنا تھا ان سب منزلوں پر
مگر ہم پونچھ تھامے چل رہے ہیں
مگر ہم پونچھ تھامے چل رہے ہیں
وہی مخدوش حالت

رفیق سندیلوی: ہمیشہ سے یہاں قربان ہوتا آرہا ہوں
کار آمد جانور ہوں
کھال سے جوتے
سنہری اُون سے بنتی ہیں سَر کی ٹوپیاں
اور گوشت پکتا ہے
کار آمد جانور ہوں
کھال سے جوتے
سنہری اُون سے بنتی ہیں سَر کی ٹوپیاں
اور گوشت پکتا ہے
ماڈل اور آرٹسٹ

وجیہہ وارثی: آؤ تم اور میں اپنی اپنی تنہائیوں کا مجسمہ بنائیں
تہذیب و تمدن کے ساتھ
اور اگر محبت مل جائے کسی کونے میں
تو اسے بارآور کریں
مقدس رشتے کے ساتھ
مکن ہے شہ کارپیدا ہو
تہذیب و تمدن کے ساتھ
اور اگر محبت مل جائے کسی کونے میں
تو اسے بارآور کریں
مقدس رشتے کے ساتھ
مکن ہے شہ کارپیدا ہو
آسمان زیور ہے

عمران ازفر: چھے سمتوں میں
سب سمتوں کا رس بھرا ہے
گاڑھا اور کسیلا مادہ
شب کی گرمی سے جو پک کر
آنکھ کے رستے اب گرتا ہے
سب سمتوں کا رس بھرا ہے
گاڑھا اور کسیلا مادہ
شب کی گرمی سے جو پک کر
آنکھ کے رستے اب گرتا ہے
فراموشی کی مختصر تاریخ

انور سین رائے: ہمارے اجداد وہ حروف تہجی بھول گئے تھے
جن کی مدد سے وہ چیزوں،
لوگوں اور وقت کو یاد کرتے تھے
جن کی مدد سے وہ چیزوں،
لوگوں اور وقت کو یاد کرتے تھے
تاریخ کا آخری جنم

نصیر احمد ناصر: تم جانتی ہو
درد کی ڈوری کا آخری سرا کہاں گم ہوا ہے
مجھے معلوم ہے
اسے کہاں سے تلاشنا ہے
درد کی ڈوری کا آخری سرا کہاں گم ہوا ہے
مجھے معلوم ہے
اسے کہاں سے تلاشنا ہے
عشرہ / خواب جو مٹی ہو گئے

ادریس بابر: پھول کفن کے اوپر
پھول کفن کے بیچ
پھول کفن کے بیچ
میرے شہر کی فصیل پہ خدا بیٹھا ہوا ہے؟؟

سدرہ سحر عمران: سیاہ دن کی ڈائری میں ان چہروں کی راکھ
ایک تصویر جوڑتی ہے
جنہیں پچھلے سفر میں راستے لکھا گیا
ایک تصویر جوڑتی ہے
جنہیں پچھلے سفر میں راستے لکھا گیا
محبت کا ڈائمینشنل سٹریس

جمیل الرحمٰن: تمہارے ہونٹوں اور آنکھوں سے نچوڑا ہوا رس
میرے لیے
وہ قفس تعمیر کر گیا ہے
جس میں
ایک اڑان کے علاوہ صرف ابدی پیاس ہے
میرے لیے
وہ قفس تعمیر کر گیا ہے
جس میں
ایک اڑان کے علاوہ صرف ابدی پیاس ہے
وصل گزیدہ

جمیل الرحمٰن: داستان
ایک وحشی کی طرح
عنوان کو برہنہ کرنے میں مصروف ہے
اور انجانی لذّتیں قطار باندھے
مسہری پر ٹپکتے جرثوموں کی
کلبلاہٹ پر ہنس رہی ہیں
ایک وحشی کی طرح
عنوان کو برہنہ کرنے میں مصروف ہے
اور انجانی لذّتیں قطار باندھے
مسہری پر ٹپکتے جرثوموں کی
کلبلاہٹ پر ہنس رہی ہیں
نظریہء اضافت کے پاتال میں

جمیل ارحمان:
سورج، ستارے، زمین اور ہم
سبھی گردش میں ہیں
ہمارے دنوں کی طرح
مگر ساکت ہیں
سورج، ستارے، زمین اور ہم
سبھی گردش میں ہیں
ہمارے دنوں کی طرح
مگر ساکت ہیں
ایک تصویر زا نظم کا اسپیکٹروگرام

نصیر احمد ناصر: اپنے ہی سایوں کو پھلانگتے ہوئے
منہ کے بل گر پڑنا
عین سچائی ہے انوکھا پن نہیں
منہ کے بل گر پڑنا
عین سچائی ہے انوکھا پن نہیں