Laaltain

کئی دن سے آنکھوں میں آنسو نہیں تھے

نصیر احمد ناصر: مجھے تم بتاؤ!
میں لفظوں کے کیپسول کھا کھا کے کب تک جیوں گا
یہ نظموں کا سیرپ بھی کب تک پیوں گا
یہ ملبوسِ انفاس کامل ہی اب پھٹ چکا ہے
اسے اور کتنا سیوں گا ۔۔۔۔۔۔۔ ؟

گفٹ پیپر میں لپٹی چیزیں

نصیر احمد ناصر: اب میں زندگی کے کسی البم میں نظر نہیں آتا
اور گفٹ پیپر میں لپٹی ہوئی چیزوں کی طرح
ایک کونے میں پڑا سب کو دیکھتا رہتا ہوں!

اندھیرے کا گیت

نصیر احمد ناصر: اُدھر خدا کے بے ستون آسمانی محلات میں
اندھیرا روشن ستاروں کے آس پاس منڈلاتا رہتا ہے
اور موقع پاتے ہی وار کرتا ہے
اور اُن زمینوں تک جا پہنچتا ہے
جہاں دلوں کی کاشت کاری ہوتی ہے
اور دماغوں کے پھول کھلتے ہیں

جنگ: ایک کولاژ

سلمان حیدر: مورچے کھودنے کا کفارہ دینے کو
قبریں جسموں سے پر کرنی پڑتی ہیں

پانی میں گم خواب

نصیر احمد ناصر: رقص کے تماشے میں
ارض و شمس ہوتے ہیں
اور خدا نہیں ہوتا

خوابوں کی افادیت

نصیر احمد ناصر: خواب دیکھتے ہوئے
کچھ بھی کیا جا سکتا ہے
مثلآ گدھے کی سواری
شیر کے ساتھ دوست

شب خیزیا

نصیر احمد ناصر: ایک خواب
ہر شب میری نیند میں داخل ہو جاتا ہے
کسی خفیہ راستے سے
میرے وجود کا خود کار حفاظتی نظام
اسے ٹریس نہیں کر پاتا

صبح و شام کے درمیان

جمیل الرحمان: سورج دیوتا نے
شہزادے کا رتھ الٹ دیا
شہزادے کا کچھ پتہ نہین چلا
لیکن
شہزادی کی لاش کے ٹکڑے
راہگیرون کو گھاٹی میں ملے

راز

وجیہہ وارثی: عشق کے بعد میرا بھی یہی حال ہے
تالا لگاتا ہوں تو لوگ مڑ مڑ کے دیکھتے ہیں
تالا کھلا رکھتا ہوں تو لوگ دل میں جھانکتے ہیں

ماؤں کا بُڑھاپا سہما دیتا ہے

ثمینہ تبسم: میری ماں
وہ صحت مند عورت
جس نے دس بچوں کو جنم دیا
جو کبھی بیمار نہیں پڑی
اُس دن
کچن کیبنٹ سے
مصالحے کا ڈبا اُٹھانے کے لئے
چھوٹی سی چوکی پہ کھڑا ہونے کی کوشش میں ہلکان تھی

ونڈو شاپنگ

نصیر احمد ناصر: تیری “سٹاپ اینڈ شاپ” میں دنیا
میرے مطلب کی ایک بھی چیز نہیں
مجھ کو تو یہ بھی معلوم نہیں کیا لینے آتا ہوں
دنیا! تجھ کو دیکھ کے واپس آ جاتا ہوں

عشرہ/ لفافہ قلی خاں

ادریس بابر:
سبھی جانتے ہیں کہ پوشیدہ ظاہر انہوں نے خداوند کی پایاں تمجید کی ہے
سبھی مانتے ہیں کہ کوئی بھی بے عملی منصوبہ ہو یا خوش خیالی پلاو
لفافہ قلی خاں نے سرکارِ ہربار کی غیر منقوط و مشروط تائید کی ہے