Laaltain

ایک تاریخی واقعہ

حسین عابد: نعروں، خوابوں اور امید کے شور سے
پنڈال بھر جاتا ہے
پنڈال اغوا ہو جاتا ہے
سٹیج پہ کھڑا آدمی
ہائی جیکر نکلتا ہے

ایک یاد رہ جانے والا خواب

حفیظ تبسم: ہم ہررات خوابوں میں
زیادہ تیزی سے
کشتی بنانا شروع کردیتے ہیں
جو دور کہیں ہرروز پانی کے اوپر تیرتی ہے
غائب ہوجاتی ہے۔۔۔۔۔

محبت کی جنم کوِتا

نصیر احمد ناصر: دو قدموں کے فاصلے پر کائنات ختم ہو جاتی ہے
تیسرے قدم کا خمیازہ پاتال کا اندھیرا ہے
سات جنموں کے بعد مہا جنم شروع ہوتا ہے
لیکن بِن مانگی محبت زندگی میں ایک ہی بار ملتی ہے

ضبط کا خرچ

شارق کیفی: کوئی یہ سوچتا ہے اگر
کہ اس نے مجھے اپنے غم میں رلا کر
بڑا معرکہ کوئی سر کر لیا ہے
تو پاگل ہے وہ

بھوک کی کئی قسمیں ہیں

قاسم یعقوب: میں آج بہت بھوکا ہوں
میرے دل، ذہن اور جسم کے سارے خالی رستوں پر
بے سمت چلنے والے قافلوں کی دھول اڑ رہی ہے

میں نے شاعری کی انتہا دیکھ لی تھی!

نصیر احمد ناصر: نانا جی ہمیشگی کی نیند سو چکے ہیں
اور میں ہموار ہوتی ہوئی آبائی قبروں سے دُور
اپنے نواسے کی انگلی پکڑ کر
قریبی پارک میں
اُسی کی طرح چھوٹے چھوٹے قدموں سے بھاگ رہا ہوں

مفرور

نصیر احمد ناصر: اس سے پہلے کہ سمندر بھی اُن کی دسترس میں آ جائیں
مجھے نکل جانے دو
اُن جزیروں کی طرف
جہاں کبھی وحشی قبائل آباد تھے

کہیں ایک رستہ مِلے گا

نصیر احمد ناصر:کہیں ایک لمحہ ہے
عمروں کا حاصل ہے
بوسیدگی سے بھرا اک مکاں ہے
کسی یادِ کہنہ کا جالا ہے، مکڑی ہے
سانپوں کا بِل ہے
کہیں ایک صدیوں پرانی سی چکی ہے، ونڈ مِل ہے
جس کے گھماؤ میں
پانی ہے، پتھر کی سِل ہے
تِری سبز آنکھیں، مِرا سرخ دِل ہے !!

بائی زنبِ قُتلَت

ستیہ پال آنند: اک سر جو معلق ہے سوا نیزے پر
اک سر جو کسی جسم سے کاٹا گیا تھا

قریبِ شب

نصیر احمد ناصر: رات قریب ہے
اور ابھی آدھا خواب بھی تیار نہیں ہوا

ایک ہذیانی لمحے کا عکس

جمیل الرحمان: سورج مکھی
تیرے شہر میں دن راستہ بھول گیا
تیرے مکینوں کی لاشیں خاک پر اوندھے منہ پڑی رہیں
اور تیرے سورج کو بیڑیاں پہنا دی گئیں
کیا تیرے شہر میں کوئی ایسی شام تو دفن نہیں
جس کے کتبے کا حاشیہ لکھنے والے بد ہیئت ہاتھ
ستاروں کے لہو سے لتھڑے ہوئے تھے؟؟؟؟