Laaltain

ذائقہ

صدف فاطمہ: بڑھاپے میں جسم کے سارے تقاضے زبان میں منتقل ہو کر ذائقے میں تحلیل ہو جاتے ہیں۔ رمشہ کی دادی نے بھی سارے تقاضوں کو ذائقوں میں تلاش کرنا شروع کر دیا تھا۔

نانا نواسا اور کہانی

نصیر احمد ناصر: میں اپنے بچپن کے یاد رہ جانے والے تمام واقعات فوزان کو سنا چکا ہوں مگر وہ تو ہر شب میرے بچپن کی کوئی نہ کوئی کہانی سننا چاہتا ہے۔

رُکی ہوئی زندگی

محمد حمید شاہد: اِس عادت نے شائستہ کے بَدن میں کسمساہٹ – بے قراری اور اِضطراب کی موجیں رَکھ دِی تھیں۔ وہ سارے گھر میں اِدھر اُدھر بکھرے تعطل کو باہر دھکیلتی رہتی

کالے تجھے کتا کھالے

ممتاز حسین: اوئے کالے تجھ میں تو سب رنگ ہیں تیرے سب رنگ نکل جائیں تو میں بچتاہوں۔ چٹا صرف بے رنگ۔۔۔چٹا سائیں۔ تو جمع ہے میں تفریق ہوں۔ آؤ ہم آنکھوں کے ڈھیلوں کو بدل لیتے ہیں تمہاری آنکھین کالا دیکھیں اور میں سفید۔ ‘‘

سوال یہ ہے کہ۔۔۔۔۔ کیا تم قاتل ہو ناترک کر سکتے ہو؟

محمد حمید شاہد: “دیکھو قوم اور بھیڑ میں بڑا فرق ہوتا ہے”۔۔۔۔اس کی شہادت کی انگلی میرے کندھے کو کاٹ رہی تھی۔“قوم منظم ہوتی ہے۔۔۔۔ ایک” اس کی انگلی اب اوپر فلک کو اٹھ رہی تھی اور۔۔۔۔ اور۔۔۔۔ بات آگے بڑھانے سے پہلے ہی اس کی ساری انگلیاں پھیل کر ہوا میں بھٹکنے لگیں۔۔۔

دھواں

رضا اختر: اس نے سوچا شاید گھر والے اسے روٹی دیتے ہیں، وہ اپنے دوسرے بھائیوں کی طرح روٹی کما کر نہیں کھاتا شاید اسی لیے وہ ایک اچھا بیٹا نہیں بن سکا

سجدۂ سہو

محمد حمید شاہد: بس ایک ساعت کے لیے اس کا چہرہ اور اس پر برستے یقین کے رنگوں کو دیکھ سکا۔ اور پھر اس کی جانب کٹے ہوے شجر کی طرح یوں گرا جیسے سجدہ سہو کر رہا ہو۔

جنم جلی

اسد رضا: وقت کے ساتھ ساتھ اس نے کامیاب بھیک مانگنے کا طریقہ سیکھ لیا تھا۔ وہ مسلسل مانگتی رہتی یہاں تک کے سامنے والا شخص مجبور ہو کر کچھ نہ کچھ اس کے ہاتھ پر رکھ دیتا۔

نام بختاور سنگھ

زکی نقوی: بگل کی آواز پر دیر تک ‘لاسٹ پوسٹ’ کی دُھن بجتی رہی اور موچی کا ہاتھ اسی روانی سے کپتان برنابی کے گھڑسواری کے بوٹ سینے میں مشغول ہو گیا۔۔۔

وَاپسی

محمد حمید شاہد: اور اُس نے وہ خط جو کئی دِن سے اُس کے ٹیبل پر بند پڑا تھا ‘اِن دو دِنوں میں کئی بار پڑھ ڈالا تھا۔ اور جب وہ اَڑھائی بجے والی بس سے ایک طویل عرصے بعد اپنے گاﺅں ویک اینڈ گزارنے جا رہا تھا تو سب تعجب کا اِظہار کررہے تھے۔

گلٹی

فرخ ندیم: جب چارسو اندھیرا پھیل چکا تو اس اندھیرے میں مجھے اپنا گھر ڈوبتا ہوا محسوس ہوا، میں نے اپنے بٹن کھولے اور اپنی پسلیوں پہ ہاتھ پھیرا جہاں میرے ہاتھوں نے جلد پہ لگے زخم سے ہلکا سا خون بھی رستا ہوا محسوس کیا۔

خونی لام ہوا قتلام بچوں کا

محمد حمید شاہد: زندہ رہ جانے والوں کو اپنی موت تک زندہ رہنے کے جتن کرنا ہوتے ہیں،اسی حیلے کو بروئے کار لا کر وہ اپنے دلوں سے گہرے دُکھ کا وہ بوجھ ایک طرف لڑھکانے میں کامیاب ہو ہی گئے تھے

پارینہ لمحے کا نزول

محمد حمید شاہد: یک لخت مجھے یوں لگا کہ اُس کا قد بہت بڑا ہو گیا تھا۔ اس قدر بڑا کہ میں ایک چیونٹی جیسی ہو گئی۔ اُس کا وجود پورے گھر میں پھیل گیا اور میں کہیں بھی نہیں تھی ۔

راکھ

اسد رضا:
گھر پہنچنے تک میں انہیں خیالوں میں گم تھا۔ میں بھاگ کر اپنے کمرے میں پہنچا، میز پر تھوڑی سی راکھ پڑی ہوئی تھی اوپر پنکھا پوری رفتار سے چل رہا تھا۔ میں نے سب درازوں کو دیکھ لیا۔ باسکٹ بھی انڈیل کر دیکھ لی لیکن کچھ بھی نہیں ملا۔