عشرہ // ایک اور دھرنا

ادریس بابر: کل. کوئی. اور. مر. جاے. گا.
آج کیوں اتنے غصے میں ہو!
عشرہ // ہمیں دفن کر دو

ادریس بابر: خوں بہا چاہتے ہو؟ فضا اَمن کی ،دور انصاف کا چاہتے ہو؟
اتنے خوش بخت! کیاتم خدا ہو؟ ارے خواب گَردو! ہمیں دفن کر دو!
کالی ووڈ عشرے

ادریس بابر: اب جو تمہارے نام پہ چیختی پیٹی روتی بستی ہے
عام پڑھی لکھی جہالت نہیں، خالص نسل پرستی ہے
عشرہ // سو قومی نظریہ (4) مومنِ اعظم

ادریس بابر: اپنےہاٹ فیورٹ، ایگ اینڈ بیکن ناشتے سے انصاف کرنے، نیپکن سے کلین شیو مکھڑا پونچھنے کے فورن بعد
وہ یہ دُکھڑا رونا کبھی نہیں بھولا کہ پاکستان اسلام کی تجربہ گاہ ہو گا
عشرہ // سو قومی نظریہ (2) دس نمبری آزادی

ادریس بابر:
کون سا بھاری مینڈیٹ، جس نے ووٹ دیا تھا
اِس تقسیم کے حق میں کس نے ووٹ دیا تھا
عشرہ // سو قومی نظریہ(3) پنڈت کھنڈت

ادریس بابر: جنتا کیا، پروار ہی جب جمہوری نہیں
نعرے لگاو اور لگواو، پنڈت جی
عشرہ // کھنہ ایسٹ @ سیرینا ویسٹ: ایک ادبی ایف آئی آر (عرف ہوئے تم دوست۔۔۔)

ادریس بابر: اب میری پَیِنک کی کوئی حد نہیں رہتی، جب ہر گنتی پر
ھینڈ بیگ میں پسماندہ رقم میری کمزور یادداشت سے لگّا کھاتی نظر آتی ہے
عشرہ // ایسی ویسی عید

ادریس بابر: بچ نکلا میں! بچ نکلا میں!! بچ نکلا میں!!!
مجھے نہیں تو کس کو عید مبارک ہو گی؟
عشرہ // ۔۔۔۔ بھٹو نکلے گا

ادریس بابر: ستر سال میں اک بھٹو آزاد ہوا ہے
لندن پیرس برلن جا کر
ڈسکو صوفی فلمیں چھوڑ کے
نیویارک میں پوز بنا کر
عشرہ // ہر کسی کو مار دو

جو تمہیں نہیں پسند، کل کیا آج ہی مرے!
تم سے جتنا ہو سکے، زندگی کو مار دو — ہر کسی کو مار دو
عشرہ // میں نے ایک کتاب لکھی

اور منسوخ ہیں اگلے پچھلے
عشرہ // ماں

میں جو تیری عورت آنکھوں کا پہلا خواب تھا
کیوں نہیں پورا ہوا، پوری طرح؟
میرے سوال میں میرا جواب تھا
عشرہ // عشرے کا آٹو گراف

نادیدہ کے دستخط صاف نظر آتے ہیں
عشرہ // بلاعنوان

دھمکی کے پتھر سے آئینہ گھائل ہے
فتوے کے فائر سے فاختہ قائل ہے
عشرہ // مارو ہر انسان کو مار دو

مارو اے قابیل قبیلو ڈٹ کر مارو بیشک ماں جائے کو