بہار ایسے تو نہیں مناتے

یہ جی اٹھنے کا دن تھا مگر لوگ زمین پر اوندھے منہ پڑے تھے زمین پر سینکڑوں افراد کا خون یہ دہائی دے رہا تھا، “ہماری خوشیوں کے قاتل بہار ایسے تو نہیں مناتے”۔
گلشن پارک میں ایسٹر

کتنی آوازیں روزانہ تمہیں بلاتی ہیں
کام میں گم
دفتر کی میزوں میں دھنسے ہوئے
تم ان کو سُن نہیں سکتے
کام میں گم
دفتر کی میزوں میں دھنسے ہوئے
تم ان کو سُن نہیں سکتے