Categories
شاعری

مشکل شہروں میں (صدیق شاہد)

مشکل شہروں میں
آسانی سے خرچ ہو جاتے ہیں
آدمی….. آٹھ سے پانچ تک
اور ڈھے جاتے ہیں

سینیما گھروں پر
چائے خانوں پر
سگریٹ پان کے ٹھیلوں پر
طوائفوں کے دروازوں پر

دھری رہ جاتی ہیں
چوباروں اور جھولوں میں
انتظار کے گٹھر کھولتی
حاملہ محبوبائیں

تکتی رہ جاتی ہیں
برامدوں اور مٹکوں کو
موت کی ٹہنی سے جھولتی
کبڑی مائیں

ہنستے رہ جاتے ہیں
برگد اور بیری کے پیڑ
گمشدہ یاداشتیں دہراتے
کچے پکے دوست

روتے رہ جاتے ہیں
آہلنوں اور واکروں میں
دانہ چگتے, دودھ پیتے
چڑیا اور آدمی کے بچے

حیران رہ جاتے ہیں
مشکل شہروں میں
آسانی سے ختم ہوتے آدمی

Categories
شاعری

ہم قیدی ہیں (صدیق شاہد)

ہم قیدی ہیں
اور ہمارے چاروں طرف دیواریں ہیں

قیدی قیدی !!
ان دیواروں سے باہر بھی اک پنجرہ ہے
پنجرے میں دیواریں ہیں
اور قیدی ہیں

قیدی قیدی !!
وہ آتے ہوں گے
تازہ پھلوں کی خوشبو ہم کو پاگل کر دیتی ہے
ہونٹوں کو کاٹنے لگتی ہیں
اور دہرانے لگتی ہیں
ہم کچی پکی جھول رہی تھیں شاخوں سے جب توڑی گئیں
کانٹا چبھا اور سو گئیں ہم
آنکھ کھلی تو دیواریں
چاروں جانب دیواریں تھیں

قیدی قیدی !!
جب رنگ برنگے خوشبو بیچنے والے آتے ہیں
تو گدگدی ہونے لگتی ہے
تب ہم ٹانگوں کو بھینچ کے سوتی ہیں
اور ہماری مائیں اپنی قبروں میں دہرانے لگتی ہیں

بِٹیا۔۔۔۔ بِٹیا۔۔۔۔

خوشبو بیچنے والے سوداگر پھولوں کا مول بھی جانت ہیں
تم بچ کے رہیو
اکھین کو نیچا رکھیو
اور چھپ کے رہیو
ان دیواروں کے بھیتر
جن کے باہر بھی دیواریں ہیں

قیدی قیدی !!
سنتے ہو ؟؟
کہتے ہیں دور سمندر پار بھی ایک سمندر ہے
جس کی لہریں ان دروازوں سے ٹکراتی ہیں
جن کے باہر کوئی دیوار نہیں
اور وہاں انسانوں جیسی اک جاتی ہے
جس کو ہنسنا آتا ہے
جو اپنی مادہ کے سنگ کُھش کُھش رہتا ہے
پر ہم کاہے جانیں
ہم نے تو ان دیواروں بھیتر آنکھیں کھولیں
جن کے باہر بھی دیواریں تھیں

قیدی قیدی !!
او قیدی قیدی۔۔۔

پر تم بھی کاہے جانو۔۔۔

Categories
شاعری

وہ میرے دل کو ایسے بھر دیتا ہے (صدیق شاہد)

وہ میرے دل کو ایسے بھر دیتا ہے
جیسے سناٹا خالی کمرے کو
ربط اور ضبط کی ساری گرہیں ان آنکھوں کی دلچسپی سے کھلتی ہیں
جن آنکھوں کی حیرانی سے باغ عدن کے تالے کھلیں گے

بھر دیتی ہیں
وہ آنکھیں مجھ کو بھر دیتی ہیں
خوف اور لذت سے
اک مصنوعی وصل کی وحشت سے
رک جاتا ہوں
میں بھرا بھرایا رک جاتا ہوں
ان رستوں پر
جن رستوں کی بھول بھلیاں مجھ کو ایسے سیدھی ہیں
جیسے مقناطیس کو لوہا
جیسے مقتول کو قبر کی مٹی

ہنستے ہنستے رہ جاتا ہوں
اپنے دل کی ویرانی پہ
اور ان آنکھوں کی حیرانی پہ
جب وہ میرے دل کو ایسے بھر دیتی ہیں
جیسے آخری ہچکی بھر دیتی ہے
کمرہ موت کی خوشبو سے

Categories
شاعری

غلام گردشوں کے نگہبان ستارے (صدیق شاہد)

ہم !!
غلام گردشوں کے نگہبان ستارے
فرق نہیں کرتے
کھلکھلاتے یا اداس گالوں میں
اتر آتے ہیں
بے ستون محرابوں تلے آسمان ڈھونڈتی آنکھ میں
ریشمی جھالروں کی سلوٹوں سے
یا کسی بھی روزن سے
کوئی آئینہ شاہی نظام یا مسلح دربان
حتیٰ کہ عظیم الشان لشکر بھی
ہمیں روک نہیں پاتے
تمہارے گال پر چمکنے سے !!
Image: Esam Jlilati

Categories
شاعری

پھول تمہیں دیکھنے کو کھلتے ہیں (صدیق شاہد)

پھول تمہیں دیکھنے کو کھلتے ہیں
اپنے اپنے موسموں میں
اپنے اپنے ملکوں میں

سرحدوں پہ تعینات فوجیوں پر امام کی تقریریں بے اثر جاتی ہیں
وطن سے محبت اور شہید کا رتبہ
تمہارے خطوں سے افضل نہیں ہو سکتا

تمہارے خط
کچی مہندی اور کنواری رانوں کے مدھ بھرے سندیسے
امیدوں بھری صبحوں کی انگڑایوں اور بدن کاٹتی راتوں کی کروٹوں کے ملبے
نور محمد کو سونے نہیں دیتے

نور محمد
ایک فرض شناس ڈاکیہ
جو لفافوں کو تھوک اور انسانوں کو ملاوٹ سے پہچانتا ہے
جس کی رسوئی میں اناج کی بوریاں گل جاتی ہیں ختم نہیں ہوتی
سو نہیں سکتا

سنتالیس برسوں سے
چھتیس گاؤں اس کی ایمانداری اور نیک سیرتی کی قسمیں کھاتے آئے ہیں

روایتوں میں آتا ہے
نور محمد آخری کنوارہ ڈاکیہ تھا
جسے سلانے کو خود فرشتے آئے

جوابی حملوں میں جوانوں نے اپنے دل داغے
اور کفن میں پرچم کی جگہ تمہاری خوشبو پسند کی