Categories
نان فکشن

نجمِ اسود اور ننھی کائناتیں: قسط نمبر 7 (میرا نکتۂ نظر)

گذشتہ اقساط کے مطالعہ کے لئے درج ذیل لنکس استعمال کیجئے (لنک نئے ٹیب میں کھلیں گے)

قسط نمبر 1قسط نمبر 2، قسط نمبر 3، قسط نمبر 4قسط نمبر 5 ، قسط نمبر 6

میرا نکتۂ نظر

یہ مضمون میرے خدا پر ایمان یا عدمِ ایمان سے متعلق نہیں ہے۔ اس کی بجائے میں اس امر پر میں گفتگو کروں گا کہ ہم کائنات کو کیونکر سمجھ سکتے ہیں۔ اور عین ممکن ہے اس گفتگو کے دوران قارئین اس غلط فہمی کا شکار ہو جائیں جس کا ازالہ اس مضمون کا اولین جملہ ہے۔یہاں زیرِ بحث سوال یہ ہے کہ Grand Unified Theory حال میں کس نہج پر ہے اور اس نظریے سے ، جسے Theory of everything کہتے ہیں، ہم کیا نتائج اخذ کر سکتے ہیں؟ یہ سوال نہ صرف حقیقی ہے بلکہ نہایت اہم بھی ہے۔ بالعموم جن لوگوں نے اس قسم کے سوالات کا مطالعہ اور ان پر کلام کیا ، یعنی کہ فلسفی حضرات، وہ نظری طبیعیات میں ہونے والی ترقی کے ساتھ ساتھ نہیں چل پائے، کیونکہ اُن کا ریاضیاتی پس منظر اتنا مضبوط نہ تھا۔ ان فلسفی حضرات کا ایک نجی طبقہ، جنہیں ہم سائنس کے فلسفی کہہ سکتے ہیں ، وہ اس مطالعے کے لئے زیادہ موزوں ہو سکتے ہیں۔ لیکن اُن میں سے اکثر ناکام طبیعیات دان ہیں، جو کوئی نیا نظریہ تخلیق نہیں کر پائے اور نتیجتاً طبیعیات کے فلسفے پر لکھنا شروع کر دیا۔ وہ ہنوز اس صدی کے ابتدائی طبیعیاتی نظریات، جیسا کہ نظریہ اضافت اور کوانٹم طبیعیات پر بحث و تمحیص کر رہے ہیں اور فزکس کے حالیہ پیش کردہ نظریات سے بے خبر ہیں۔  

شاید میں ان فلسفی حضرات پر ذرا سخت تبصرہ کر رہا ہوں، لیکن وہ (بھی) مجھ پر کچھ زیادہ مہربان نہیں رہے۔ میرے طرزِ تحقیق کو بچگانہ اور سادہ لوحی پر مبنی قرار دیا گیا ہے۔ مجھے بہت سے مقامات پر  nominalist, انسٹرومنٹلسٹ، پوزی ٹی وسٹ، ریئل اسٹ، اور بہت سے دوسرے القابات سے نوازا گیا ہے۔ دراصل یہ تردید بذریعہ تذلیل ہے۔ اگر میرے طریقہ کار پر آپ کوئی لیبل چسپاں کر ڈالتے ہیں تو آپ کو یہ بتانے کی زحمت ہی گوارا نہیں کرنی چاہئے کہ میرے نظریات میں کیا کمی کوتاہی ہے۔ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ہر ایک یہ دیکھ سکتا ہےکہ ان القابات کے دیے جانے میں کیاخرابی پائی جاتی ہے۔ 

جو لوگ نظری طبیعیات میں حقیقتاً آگے بڑھ پاتے ہیں،وہ اُن طریقہ ہائے کار کےتحت نہیں سوچتے جو بعد ازاں فلسفی اور مؤرخین ان کے لئے ایجاد کرتے ہیں ۔ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ آئن سٹائن، ہائزین برگ، ڈائریک، وغیرہ کو کوئی پروا نہیں تھی کہ لوگ انھیں ریئل اسٹ سمجھتے تھے یا انسٹرومینٹل اسٹ؛ انھیں صرف اس امر سے غرض تھی کہ موجودہ نظریات باہم موافق ہیں یا نہیں۔ نظری طبیعیات اپنی ترقی کی خاطر، منطقی خود مطابقت (self-consistency) پر، تجرباتی نتائج کی نسبت، ہمیشہ زیادہ اہمیت کی حامل رہی ہے۔ بہت سے فصیح اور خوب صورت نظریات محض اس وجہ سے نظر انداز کر دئے گئے ہیں کیونکہ وہ ہمارے مشاہدے سے مطابقت نہیں رکھتے۔ لیکن میں کسی بھی ایسے بنیادی نظریے سے واقف نہیں ہوں جو محض تجربات کی مدد سے آگے بڑھا ہو۔ نظریہ ہمیشہ پہلے آیا، جو کہ اس خواہش کا پر تَو ہوتا تھا کہ ایک خوب صورت اور (موجودہ نظریات سے) مطابقت رکھنے والا ریاضیاتی ماڈل وضع کیا جائے۔ یہ نظریہ پھر پیشین گوئیاں کرتا ہے، جسے ہم مشاہدات کی مدد سے پرکھ سکتے ہیں۔ اگر مشاہدہ پیشین گوئیوں کے مطابق ہو تو اس سے نظریے کا درست ہونا ثابت نہیں ہوتا، بلکہ محض اتنا ہوتا ہے کہ اس نظریے کی مدد سے ہم مزید پیشین گوئیاں کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں، اور وہ پیشین گوئیاں مشاہدات کو معیار بنا کر ایک مرتبہ پھر پرکھی جاتی ہیں۔ اگر مشاہدات اور پیشین گوئیاں باہم مطابق نہ پائے جائیں، تو اس نظریے کو رد کر دیا جاتا ہے۔  

اور اگر ایسا نہیں ہوتا تو کم از کم ایسا ہونا ضرور چاہئے۔ عملاً سائنس دانوں کو ایسا کوئی بھی نظریہ رد کرنے میں تامل ہوتا ہے جس میں انھوں نے بہت زیادہ محنت اور کوشش سے کام کیا ہو اور ہزاروں گھنٹے اس تحقیق کی نذر کر دیے ہوں۔بالعموم وہ مشاہدے کی درستگی پر سوال اٹھانے سے (اپنے ردعمل کا) آغاز کرتے ہیں۔ اگر یہ تدبیر ناکام ہو جائے تو وہ ہنگامی بنیادوں پر نظریے میں ترامیم کرتے ہیں۔ اور بالآخر یہ نظریہ چوں چوں کا مربہ بن جاتا ہے۔ بعد ازاں ایک نیا نظریہ پیش کیا جاتا ہے، جس میں تمام تر ناموزوں مشاہدات کی خوب صورت اور قدرتی انداز میں وضاحت کی جاتی ہے۔ اس کی ایک مثال مائیکل سن مورلے کا تجربہ ہے، جو 1887 میں کیا گیا، جس کے ذریعے یہ دکھایا گیاکہ روشنی کی رفتار ہمیشہ ایک جیسی ہوتی ہے، قطع نظر اس کے کہ مبداء (source)یا مشاہد (source)کس رفتار سے حرکت میں ہیں۔(تجربے کا یہ) نتیجہ مضحکہ خیز معلوم ہوا۔ یقیناً (ایسا ہونا چاہئے تھا کہ) روشنی کی مخالف سمت میں حرکت کرنے والے کو روشنی کی رفتار زیادہ معلوم ہوتی، بنسبت اس کے جو روشنی کی سمت میں حرکت کر رہا تھا، اس کے باوجود تجربات سے یہ نتیجہ برآمد ہوا کہ دونوں مشاہد ہر لحاظ سے رفتار کو برابر پائیں گے۔ آنے والے اٹھارہ برسوں کے لئے لورینٹذ (Hendrik Lorentz) اور فٹز جیرالڈ (George Fitzgerald) نے اس مشاہدے کو زمان و مکان سے متعلق متفق علیہ نظریات سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی، انھوں نے ہنگامی بنیادوں پر مفروضے وضع کئے، جیسے کہ جب کوئی شے تیز رفتار سے حرکت کر رہی ہوتی ہے تو اُس کی طوالت میں کمی آ جاتی ہے۔ اور یوں فزکس کا سارا ڈھانچہ بے ڈھنگا اور بد شکل ہو گیا۔ بعد ازاں 1905 میں آئن سٹائن نے ان سے کہیں زیادہ پر کشش نظریہ پیش کیا، اس نظریے کے مطابق وقت (time) ایک علیحدہ اور قائم بالذات شے نہیں تھا۔ بلکہ یہ مکان (spacae) کے ساتھ مربوط ایک چوتھی جہت (fourth-dimension) تھا جسے اس نے space-time کا نام دیا۔ آئن سٹائن اس تصور تک تجرباتی نتائج کی نسبت نظریے کے دونوں حصوں کو باہم مربوط بنانے کی خواہش کے تحت اس نتیجے تک پہنچا۔ یہ دو اجزاء وہ قوانین تھے جو برقی اور مقناطیسی قوانین سے متعلق تھے اور وہ قوانین جو اجسام کی حرکت کی بنیاد تھے۔ 

میں نہیں سمجھتا کہ 1905 میں آئن سٹائن یا کسی اور کو یہ ادراک ہوا ہو کہ نظریہ اضافت کس قدر سادہ، عام فہم اور جمالیاتی تھا۔ اس نظریے نے ہمارے زمان و مکان کے تصور کو مکمل طور پر بدل کر رکھ دیا۔ یہ مثال فلسفہ سائنس میں حقیقت نگار ی کی مشکلات کی عکاس ہے، کیونکہ جسے ہم حقیقت کہتے ہیں ، اس “حقیقت ” کی تحدید وہ نظریہ کرتا ہے جس نظریے پر وہ حقیقت مبنی ہوتی ہے۔میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ Lorentz اور Fitzgerald خود کو حقیقت نگار کہتے تھے اور انھوں نے روشنی کی رفتار دریافت کرنے والے تجربات نیوٹن کے مطلق زمان و مکان کے تصورات کی تحدید میں رہتے ہوئے انجام دیے تھے۔ (نیوٹن کے وضع کردہ) زمان و مکان کے تصورات عام فہم اور حقیقت کے قریب معلوم ہوتے تھے۔ تاہم آج کل جو لوگ نظریہ اضافت سے شناسائی رکھتے ہیں (جو تعداد میں اب تک بھی پریشان کن حد تک قلیل ہیں) اُن کا نظریہ مختلف ہے۔ ہمیں چاہئے کہ ہم لوگوں کو زمان و مکان ایسے بنیادی تصورات کے جدید فہم سے آگاہی دیں۔ 

اگر کسی حقیقت کی بنیاد ہمارا نظریہ ہے تو ہم حقیقت کو کیونکر اپنے فلسفے کی بنیاد قرار دے سکتے ہیں؟ میں خود کو اس تناظر میں حقیقت نگار سمجھتا ہوں کہ میرے خیال کے مطابق ایک ایسی کائنات وجود رکھتی ہے جس کو سمجھا جانا چاہئے اور جس کی تحقیق کی جانی چاہئے۔ میں ایسی تشکیک پر مبنی پوزیشن کو تضیع اوقات خیال کرتا ہوں جس کے مطابق ہر شے ہمارے تخیل کی پیداوار ہے۔اس مفروضے کو اپنے کسی عمل کی بنیاد کوئی بھی نہیں بناتا۔ لیکن ہم کسی نظریے کے بغیر کائنات سے متعلق حقائق کو کائنات سے متعلق مفروضہ تصورات سے الگ نہیں کر سکتے۔یہی وجہ ہے کہ میری رائے(جسے سادہ اور بچگانہ قرار دیا گیا ہےکے مطابق طبیعیات کا کوئی بھی نظریہ ایک ریاضیاتی ماڈل ہوتا ہے جس کا مقصد ہمارے مشاہدات کے نتائج بیان کرنا ہوتا ہے۔   

کوئی بھی نظریہ ایک اچھا نظریہ تبھی کہلا سکتا ہے اگر یہ ایک فصیح ماڈل ہو، اگر یہ مشاہدات کو ایک وسیع پیمانے پر بیان کرنے کی قدرت رکھتا ہو ، اس کے ساتھ ساتھ نئے مشاہدات کا پیش بین بھی ہو۔ ان خصوصیات کے علاوہ نظریے کے متعلق یہ سوال اٹھانا کوئی معنی نہیں رکھتا کہ یہ حقیقت سے مطابقت رکھتا ہے یا نہیں ، کیونکہ حقیقت نظریے سے جدا اپنا کوئی مجرد بیان نہیں رکھتی۔ سائنسی نظریات کے متعلق میرے اس رویے کی بنا پر شاید مجھے ادعائیت پسند، اثباتیت پسند (positivist) قرار دے دیا جائے، اور جیسا کہ میں نے پہلے یہ ذکر کیا ہے؛ مجھے ان دونوں القابات سے نوازا جا چکا ہے۔جس شخص نے مجھے اثباتیت پسند قرار دیا، اُس نے میری تذلیل میں اضافہ کرنے کے لئے اپنے لقب کے ساتھ یہ تبصرہ بھی شامل کیا کہ اثباتیت کا زمانہ اب گزر چکا تھا۔ عین ممکن ہے کہ اس تناظر میں اثباتیت کا دور واقعتاً گزر چکا ہو جو کہ ماضی کا ایک دانشورانہ خبط تھا، لیکن جو مثبت (positivist) پوزیشن میں نے اختیار کی ہے ، اُس شخص کے لئے وہ واحد راستہ ہے جو کائنات کی وضاحت کی غرض سے نئے قوانین اور نئے طریقہ ہائے کار کی تلاش میں ہے۔ حقیقت حقیقت کا راگ الاپنا ایک بے سود سر گرمی ہے کیونکہ حقیقت کا نظریے سے الگ کوئی مجرد وجود نہیں ہوتا۔ حقیقت ہمیشہ نظریے کی محتاج ہوتی ہے۔ 

میری رائے کے مطابق سائنس کے فلاسفہ کوانٹم میکانیات اور ہائزن برگ کا اصولِ عدم تعیین (Heisenberg’s Uncertainty Principle) اس وجہ سے نہیں سمجھ پاتے کیونکہ وہ حقیقت پر ایمان بالغیب رکھتے ہیں۔، ایک ایسی حقیقت جو ان کے نزدیک کسی نظریے کی محتاج نہیں ہوتی، اور یہیں وہ غلطی کرتے ہیں۔ شروڈنگر (Schrodinger) کا ایک بہت مشہور خیالی تجربہ ہے جس کا نام شروڈنگر کی بلی (Schrodinger’s Cat)ہے۔ایک مہر بند (sealed) ڈبے میں بلی کو رکھا جاتا ہے۔ پھر اس ڈبے پر ایک بندوق تانی جاتی ہے۔بندوق خود بخود چل جائے گی اگر ایک عدد تابکاری مرکزہ (radioactive nucleus) زائل ہو جاتا ہے۔ایسا رونما ہو جانے کا امکان پچاس فیصد ہے۔ (موجودہ دور میں ایسی تجویز دینے کا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا، یہاں تک کہ خالصتاً خیالی تجربے (thought experiment) کےطور پر بھی۔ لیکن خوش قسمتی سے شروڈنگر کے دور میں جانوروں کے حقوق نے ابھی اتنا زور نہیں پکڑا تھا) 

ڈبہ کھولنے پر بلی کے ملنے کی دو صورتیں ہیں۔ یا تو وہ زندہ ہو گی یا مردہ۔ لیکن ڈبہ کھلنے سے قبل بلی کی کوانٹم حالت (state) بیک وقت مردہ ا اور زندہ cat state،کا مجموعہ ہوں گی ۔ اس امر پر یقین کرنا کچھ فلسفیوں کے لئے نہایت مشکل ہوتا ہے۔ ایسا ممکن نہیں ہے کہ آدھی بلی کو گولی لگی ہو اور آدھی صحیح سلامت ہو، بعینہ اسی طرح جیسے کوئی (عورت) آدھی حاملہ نہیں ہو سکتی۔ انھیں مشکل اس وجہ سے پیش آتی ہے کیونکہ بالفعل یہ لوگ حقیقت کا کلاسیکی تصور استعمال کر رہے ہوتے ہیں جس میں کوئی شے ایک متعین اور واحد تاریخ (history) رکھتی ہے۔ کوانٹم حرکیات (mechanics) کا تمام تر مقصد ہی یہ ہے کہ یہ حقیقت کا ایک نیا اور مختلف تصور ہے۔ اس تصور کے مطابق کسی شے کی کوئی متعین حالت نہیں ہوتی بلکہ تمام ممکنہ حالتیں ہو سکتی ہیں۔ اکثر صورتوں میں کسی خاص واقعے کے وقوع پذیر ہونے کا امکان کسی دوسرے واقعے کے وقوع پذیر ہونے کے مبہم سے امکان کے نتیجے میں مکمل معدوم ہو جائے گا؛ لیکن دوسری صورتوں میں (یہ بھی ممکن ہے کہ) ایک واقعے کے رونما ہونے کا امکان دوسرے واقعے کے رونما ہونے کے امکان کو بڑھا دے۔اور امکان کو بڑھا دینے والی یہ تواریخ (histories) میں سے کوئی ایک تاریخ ایسی ہوتی ہے جو ایک مضصوص شے کی تاریخ ہوتی ہے۔ 

شروڈِنگر کی بلی کے معاملے میں دو ایسی تواریخ ہیں جو ایک دوسرے کو کمک پہنچاتی ہیں۔ ایک تاریخ میں بلی گولی کھائے ہوئے (یعنی مر چکیہے اور دوسری تاریخ میں وہ زندہ ہے۔کوانٹم نظریے کے مطابق دونوں امکانات بیک وقت وجود رکھ سکتے ہیں۔ لیکن کچھ فلسفی حضرات اس ذہنی بندش سے چھٹکارا نہیں پا سکتے کیونکہ انھوں نے یہ طے کر رکھا ہوتا ہے کہ بلی یا ایک وقت میں زندہ ہو سکتی ہے یا مردہ، یہ بیک وقت زندہ اور مردہ نہیں ہو سکتی ۔ایک مزید مثال وقت کا تصور ہے، ایک ایسا تصور جہاں ہمارے طبیعیاتی نظریات ہمارا تصورِ حقیقت متعین کرتے ہیں۔ ایسا بدیہی سمجھا جاتا تھا کہ وقت مسلسل جاری و ساری رہتاہے قطع نظر اس کے کہ اطراف میں کیا واقعات رونما ہو رہے ہیں، لیکن نظریہ اضافت نے زمان اور مکان کو یکجا کیا اور یہ تصور پیش کیا کہ زمان و مکان دونوں کا رخ موڑا جا سکتا ہے، دونوں میں تحریف کی سکتی ہے ۔ لہذاٰ (بات کچھ یوں ہے کہ) ہمارا زمان و مکان کی نوعیت کا ادراک کائنات سے الگ ایک حقیقت ہونے کی بجائے کائنات کے ذریعے تشکیل پاتا ہے۔ تب جا کر یہ تصور کرنا ممکن ہوا کہ وقت ایک خاص نقطہ آغاز سے پہلے وجود نہیں رکھتا تھا۔ (یعنی) اگر ہم ماضی میں سفر کرنا شروع کریں تو ایک لمحہ ایسا آئے گا ، ایک اکائی، جس سے پیچھے جا پانا نا ممکن ہو گا۔ اگر ایسا ہوتا (لیکن ایسا نہیں ہے) تو یہ پوچھنا نامعقولیت کہلائے گا کہ عظیم دھماکہ (big bang) کیسے ہوا، اوراس کے پیچھے کارفرما قوت کیا تھی؟ (کسی بھی) شے کی تخلیق کے بارے میں جب بات کی جا تی ہے تو یہ بلا حجت یہ فرض کر لیا جاتا ہے کہ بگ بینگ سے قبل بھی وقت (time)وجود رکھتا تھا۔ ہم پچیس برسوں سے یہ جانتے ہیں کہ آئن سٹائن کا جنرل نظریہ اضافت یہ پیش گوئی کرتا ہے کہ 15 ارب سال پہلے وقت کا یقیناً ایک نکتہ آغاز تھا (یعنی اس سے قبل وقت وجود نہیں رکھتا تھا)۔ لیکن فلسفی حضرات اس تصور کے ساتھ مطابقت پیدا کرنے میں ابھی تک کامیاب نہیں ہو پائے۔ وہ ابھی تک کوانٹم میکانیات کے مبادیات کو لے کر پریشان ہیں، جن کی بنیاد 65 برس قبل طے پا چکی تھی۔ وہ یہ سمجھنے سے قاصر دکھائی دیتے ہیں کہ فزکس بہت آگے جا چکی ہے۔ 

اس سے بھی زیادہ دشواری تصوراتی وقت(imaginary time) کے ریاضیاتی تصورات کو سمجھنے میں آتی ہے، جس کے تناظر میں میری اور جم ہارٹل کی تجویز یہ تھی کہ عین ممکن ہے کائنات کا کوئی آغاز اور انجام نہ ہو۔ (اس پر) ایک فلسفی نے مجھ پر وحشیانہ حملہ کرتے ہوئے کہا: “ریاضیاتی تصوراتی وقت کا حقیقی کائنات سے بھلا کیا تعلق ہو سکتا ہے؟” میرا خیال ہے کہ فلسفی روزمرہ استعمال میں ہونے والے الفاظ (خیالی اور حقیقی) کو ریاضی کی اصطلاحات (ریئل اور امیج نری ٹائم) کے ساتھ خلط ملط کر رہا تھا۔ اور اس امر سے میرا نکتہ نظر واضح ہو جاتا ہے کہ: ہم کسی بھی حقیقت کو بغیر کسی تناظر کے کیونکر جان سکتے ہیں؟ 

میں نے نظریہ اضافت اور کوانٹم میکانیات کے تناظر میں امثال کے ذریعے وہ مسائل سامنے رکھنے کی کوشش کی ہے جو کسی کو بھی کائنات کی حقیقت سمجھنے میں پیش آ سکتے ہیں۔اس سے قطعاً فرق نہیں پڑتا آیا آپ کوانٹم میکانیات اور نظریہ اضافت سمجھتے ہیں ، بلکہ اس سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا اگر یہ نظریات غلط بھی ہوں ۔ میں جو امید رکھ سکتا ہوں وہ یہ ہے کہ میں یہ دکھانے میں کامیاب رہاہوں کہ کوئی مثبت (positivist) نظریہ موجود ہے ، جس میں نظریے کو بطور ماڈل کے استعمال کر کے کائنات کو سمجھنے کی کوشش کرنا واحد لائحہ عمل ہے، کم از کم نظری طبیعیات کے طالب علم کے لئے ایسا ہی ہے۔ اور میں پر امید ہوں کہ ہم ایک متوازن نظریہ وضع کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے جو کائنات میں ہر ایک شے کو بیان کر سکتا ہو گا۔ اگر ہم ایسا کر سکے تو یہ انسانیت کی ایک بہت بڑی فتح ہو گی۔ 

 

Categories
نان فکشن

نجمِ اسود اور ننھی کائناتیں: قسط نمبر 1 (پیش لفظ)

عرضِ مترجم: اسٹیفن ہاکنگ کی کتاب ‘وقت کی مختصر تاریخ’ کا اردو ترجمہ محترم ناظر محمود صاحب، علیم احمد صاحب، یاسر جواد صاحب اور دیگر احباب نے اپنی اپنی جگہ نہایت ہنر مندی اور سلیقے سے کیا ہے، مزید برآں ہاکنگ کی تازہ ترین کتاب “بڑے سوالوں کے مختصر جواب” کا ترجمہ بھی حال ہی میں شائع ہو چکا ہے۔ تاہم ہاکنگ کی نہایت اہم اور طویل عرصہ تک  نیو یارک ٹائمز بیسٹ سیلر  رہنے والی کتاب Black Holes and Baby Universe  کا ترجمہ ان نامور مترجمین کی جانب سے ہنوز نہیں کیا گیا، اور یہ اعزاز لالٹین ڈاٹ پی کے کے حصے میں آ رہا ہے  جو نہ صرف  باعثِ فخر ہے بلکہ سائنسی کتب کے تراجم کی دم توڑتی روایت کو از سرِ نو زندہ کرنے کی  ایک شاندار کاوش  بھی،جو ہر لحاظ سے قابلِ تحسین ہے۔ احباب سے درخواست ہے کہ ہاکنگ کی اس شاندار تحریر کو زیادہ سے زیادہ احباب بالخصوص سائنس کے طلباء کو مطالعے کے لئے تجویز فرمائیں۔

کتاب چودہ ابواب پر مشتمل ہے۔ جنہیں ادارہ ہفتہ وار شائع کرنے کی پوری کوشش کرے گا۔ط ع

 


پیش لفظ

از اسٹیفن ہاکنگ

 

یہ کتاب اُن مضامین کا مجموعہ ہے جو میں نے1976 اور 1992 کے درمیان (مختلف اوقات میں)  لکھے۔ ۔ ان مضامین کا دائرۂ کار خود نوشتہ خاکوں اور فلسفۂ سائنس سے لے کر اپنے اس جوش و ولولے کو بصراحت بیان کرنے کی کوشش ہے جو میں سائنس اور کائنات کے متعلق محسوس کرتا ہوں۔ کتاب کا اختتامیہ Desert Island Discs نام کےپروگرام کا تحریری قالب ہے جس میں مجھے مدعو کیا گیا۔ یہ برطانوی ٹیلی ویژن  انڈسٹری میں اپنی نوعیت کا ایک انوکھا پروگرام ہے جس میں مہمان سے کہا جاتا ہے کہ وہ خود کو ایک صحرائی جزیرے میں خستہ حال بھٹکتا ہوا تصور کرے، اور پھر آٹھ میں سے کسی ایک ریکارڈ کا انتخاب کرے جو وہ rescue کئے جانے تک (مسلسل) سنے گا۔ (خوش قسمتی سے مجھے صحرا سے واپس آنے میں زیادہ وقت نہیں لگتا۔)

چونکہ یہ مضامین سولہ برس کے (طویل) دورانیے کو محیط ہیں لہذا یہ اس عرصے میں میری علمیت کی بتدریج ترقی کے عکاس بھی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے مضمون تحریر کرنے کی تاریخ اور جگہ، ہر مضمون کے اختتام پر درج کی ہیں۔ چونکہ  کتاب کا کوئی بھی مضمون دوسرے سے متصل نہیں ہے، لہذاٰ کچھ نہ کچھ باتوں کا اعادہ  یقینی ہے۔(اگرچہ) میں نے (حتی المقدور) کوشش کی ہے کہ ایسا نہ ہو، اس کے باوصف کچھ جگہوں پر   repetition دیکھنے میں آئے گی۔

کتاب کے اکثر مضامین کا خاکہ کچھ یوں تھا کہ یہ پڑھ کر سنائے گئے تھے۔ (لیکن) میری آواز اس قدر غیر واضح ہوتی تھی  کہ  بالعموم مجھے سیمینار اور خطابات اپنے  محقق (researcher) طالب علم کی مدد سے دینا پڑتے تھے۔ ، ایسا طالب علم جو مجھے سمجھ سکتا تھا اور میری لکھی ہوئی تحریر بھی پڑھ سکتا تھا۔ تاہم 1985 میں میرا وہ آپریشن ہوا جس سے میری قوتِ گویائی مکمل طور پر سلب ہو گئی۔ کچھ وقت کیلئے تو میرے پاس  کسی بھی قسم  کی گفتگو کا ذریعہ نہیں تھا۔ بالآخر مجھے ایک کمپیوٹر سسٹم  اور ایک نادر قسم کا speech synthesizer دیا گیا۔  مجھے (از حد) حیرت ہوئی کہ ( اس کی مدد سے)میں ایک کامیاب پبلک سپیکر بن سکتا  تھا، اور بہت سے سامعین سے بیک وقت مخاطب بھی ہو سکتا تھا۔ مجھے سائنسی امور کی وضاحت کرنے اور سوال و جواب سے لطف حاصل ہوتا ہے۔  میں جانتا ہوں کہ مجھے اس میں (سائنسی امور کی وضاحت اور سوالات کے جوابات دینے میں) بہتری لانے کیلئے ابھی بہت کچھ سیکھنا ہے، لیکن میرا خیال ہے مجھ میں بہتری آبھی رہی ہے۔  آپ  اس بارے میں فیصلہ آئندہ صفحات کو پڑھ کر از خود کر سکتے ہیں

میں اس نظریے سے متفق نہیں کہ کائنات ایک پر اسرار بھید ہے، ایک ایسی شے جس کے بارے میں ہم وجدانی آراء تو رکھ سکتے ہیں لیکن  کبھی مکمل طور پر اس کا تجزیہ کرنے یا اسے سمجھنے میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔ میرا احساس ہے کہ یہ نظریہ اس سائنسی انقلاب سے انصاف نہیں کرتا جو قریب چار سو برس قبل گلیلیو سے شروع ہوا اور جسے نیوٹن نے دوام بخشا۔ انہوں نے یہ ثابت کیا کہ کائنات کے کم از کم کچھ حصے لا یعنی یا الل ٹپ انداز میں کام نہیں کرتے بلکہ حتمی ریاضیاتی قوانین کے تحت کام کرتے ہیں۔ اور پھر برسوں پر محیط (محنت سے) ہم نے گلیلیو اور نیوٹن کے کام کو کائنات کے تقریباً ہر حصے تک توسیع دی ہے۔ اب ہمارے پاس ریاضیاتی قوانین ہیں اور ہمارے احساسات میں آنے والے تمام تجربات ان قوانین کے تابع ہیں۔ یہ ہماری کامیابی کا معیار ہے کہ اب ہمیں اربوں ڈالر خرچ کر کے دیو ہیکل مشینیں بناتے ہیں ٍ تا کہ ہم ذرات کو اس قدر توانائی پہنچا سکیں کہ ہمیں یہ بھی معلوم نہ ہو کہ (اتنی توانائی رکھتے ہوئے) ان کے آپس میں ٹکراؤ سے کیا نتیجہ برآمد ہو گا۔ ذرات کی یہ غیر معمولی توانائی زمین پر عام حالات میں وجود نہیں رکھتی، اور عین ممکن ہے کچھ لوگوں کو یہ گمان گزرے کہ ان کے مطالعہ پر اتنی خطیر رقم خرچ کرنا غیر ضروری ہے۔ لیکن (ان ذرات کا اس سطح کی توانائی رکھتے ہوئے ٹکراؤ) عین ممکن ہے ماقبل تخلیقِ کائنات ہوا ہو، لہذاٰ اگر ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کائنات اور ہم کس طرح وجود میں آئے تو یہ جاننا لازم ہو گا کہ اس سطح کی توانائی رکھنے والے ذرات کا باہمی تعامل کس نوعیت کا ہوتا ہے۔

کائنات کے بارے میں ہنوز بہت کچھ ایسا ہے جو ہم جانتے ہیں نہ ہی اس کا فہم رکھتے ہیں۔ لیکن ہم نے جو حیران کن ترقی، بالخصوص گزشتہ سو برسوں میں کی ہے، اس سے ہمیں یہ حوصلہ ملتا ہے کہ شاید کائنات کا مکمل فہم ہماری طاقت سے باہر نہیں ہے۔ ہم ہمیشہ اندھیرے میں نہیں بھٹکیں گے۔ (اور) عین ممکن ہے ہم کائنات کی ایک مکمل تھیوری وضع کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔ اگر ایسا ہو جاتا ہے تو یقیناً ہم  Masters of the Universe کہلائیں گے۔

اس کتاب میں سائنسی مضامین اس یقین کے ساتھ لکھے گئے تھے کہ ہم کائنات کو ایک نظم کے تحت چلانے والے قوانین کا ضمنی ادراک رکھتے ہیں اور غالب امکان ہے کہ مستقبل قریب میں ہم ان کا مکمل ادراک کر پائیں گے۔ عین ممکن ہے کہ یہ امید ایک سراب ہو؛ ہو سکتا ہے کہ کوئی مطلق تھیوری وجود نہ رکھتی ہو، اور اگر ہے بھی تو ہم اسے وضع کرنے میں کامیاب نہ ہو سکیں۔  لیکن  کائنات کے مکمل ادراک کی کوشش ، انسانی  ذہن کے مستقل نا امید رہنے سے یقیناً  بہتر ہے۔

اسٹیفن ہاکنگ

31 مارچ 1993

 

 

Categories
نان فکشن

کائنات یا کائناتیں؟

[blockquote style=”3″]

فلپ بال گزشتہ بیس برس سے معروف سائنسی جریدے “نیچر” کے مدیر ہیں اور سائنس کے موضوع پر متعدد مضامین کے مصنف ہیں۔ ان کا یہ مضمون انگریزی میں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

[/blockquote]

متوازی کائناتوں کا تصور جو کبھی سائنس فکشن کا حصہ ہوتا تھا اب سائنسدانوں یا کم از کم طبیعیات دانوں—جن میں یہ اہلیت ہے کہ وہ تصورات کو حقیقت کی حدوں تک لے جاتے ہیں– کے درمیان بھی قابلِ تعظیم بنتا جا رہا ہے۔

 

درحقیقت یہاں بہت زیادہ دوسری ممکنہ کائناتیں ہیں۔ طبیعیات دانوں نے کثیرِنات(multiverse) کے لیے بہت سارے امیدوار تجویز کیے ہیں۔ جن میں سے ہر ایک کو طبیعیات کے قوانین کے مختلف پہلو ممکن بناتے ہیں۔

 

مسئلہ یہ ہے کہ ہم ممکنہ طور پر کبھی بھی ان دوسری کائناتوں میں جا کر ان کے وجود کی تصدیق نہیں کر سکتے۔ تو سوال یہ ہے کہ کیا ہم کوئی ایسا راستہ نکال سکتے ہیں جن سے ہم ان تمام کائناتوں کے وجود کو پرکھ سکیں جن کو ہم دیکھ یا چھو نہیں سکتے۔
دنیاؤں کے اندر دنیائیں۔
یہ کہا جاتا ہے کہ ان متبادل کائناتوں میں سے کم از کم کچھ میں ہمارے جڑواں(doppelgangers) ہیں جو بالکل یا تقریباً ہماری ہی طرح کی کائنات میں رہ رہے ہیں۔

 

یہ تصور ہماری خودی کو جھنجھوڑتا ہے اور ہمارے تخیل کو بیدار کرتا ہے۔۔بلا شبہ یہی وجہ ہے کہ کثیرِنات کے نظریات کو نا آشنا ہو نے کے باوجود بھی مقبولیت کا درجہ حاصل ہے۔ہم نے متبادل کائناتوں کو فکشن کے کاموں جیسا کہ فلپ کے ڈک کے the man in high castle سے لے کر فلموں جیسا کہ sliding doors تک قبول کر لیا ہے۔

 

مذہبی فلسفی میری جین روبنسٹائن(Mary-Jane Rubenstein) 2014 میں لکھی گئی اپنی کتاب بے کنار دنیائیں(Worlds without ends) میں وضاحت کرتی ہیں کہ تصورِ کثیرِنات کے بارے میں کچھ بھی نیا نہیں ہے۔

 

سولہویں صدی کے وسط میں کوپرنیکس(Copernicus) نے دلیل دی کہ زمین کائنات کا مرکز نہیں ہے۔ کچھ دہایئوں بعد گلیلیو نے اپنی دوربین سے ایسے ستاروں کو دیکھا جو پیمائش کی حدوں سے باہر تھے یہ کائنات کی وسعت کی ایک جھلک تھی۔

 

لہٰذا سولہویں صدی کے آواخر میں اطالوی فلسفی گیاردانو برونو (Giordano Bruno) نے یہ شبہ ظاہر کیا کہ یہ کائنات لامتناہی ہےاور اس میں لامتناہی تعداد میں دنیائیں آباد ہیں۔

 

سولہویں صدی کے آواخر میں اطالوی فلسفی گیاردانو برونو نے یہ شبہ ظاہر کیا کہ یہ کائنات لامتناہی ہے۔
سولہویں صدی کے آواخر میں اطالوی فلسفی گیاردانو برونو (Giordano Bruno) نے یہ شبہ ظاہر کیا کہ یہ کائنات لامتناہی ہے۔
یہ خیال کہ کائنات میں بہت سارے نظامِ شمسی موجود ہیں اٹھارویں صدی میں عام موضوع بن چکا تھا۔

 

بیسویں صدی کے آغاز میں آئرش طبیعیات دان ایڈمنڈ فورنیئر دی البی(Edmund Fournier d’Albe) نے تجویز دی کہ ممکن ہے کہ زیادہ سے زیادہ اور کم سے کم سائز کی متصل کائناتوں کا لامتناہی سلسلہ موجود ہو۔ اس تناظر میں ایک انفرادی جوہر(atom) ایک حقیقی آباد نظامِ شمسی کی طرح ہو سکتا ہے۔

 

آج سائنسدان روسی گڑیا (Russian doll)کثیرِنات کے خیال کو ٹھکراتے ہیں مگر انہوں نے اور بہت سے راستے تجویز کیے ہیں جن میں یہ کثیرِناتیں(Multiverses) وجود پذیر ہو سکتی ہیں۔ ان میں سے پانچ کو اس رہنمائی کے ساتھ یہاں پیش کیا جا رہا ہے کہ وہ کیسی ہو سکتی ہیں۔
بارہ دوزی کائنات (Patchwork Universe)
سادہ ترین کثیرِنات ہماری اپنی ہی کائنات کے لامتناہی سائز کا نتیجہ ہے۔ حقیقت میں ہم نہیں جانتے کہ کیا واقعی کائنات لامحدود ہے مگر ہم اس کو خارج الامکان بھی نہیں کر سکتے۔اگر یہ لامتناہی ہے تو پھر یہ ایسے علاقوں سے مل کے بنی ہوئی ہے جو ایک دوسرے کو دیکھ نہیں سکتے۔ ایسا اس لیے ہے کہ یہ علاقے ایک دوسرے سے اتنے دور ہیں کہ روشنی اس فاصلے کو عبور نہیں کر سکتی۔ہماری کائنات صرف 13۔8 بلین سال پرانی ہے، لہٰذا وہ علاقے جو 13۔8 نوری سال سے زیادہ فاصلے پر ہیں مکمل طور پر منقطع ہیں۔

 

تمام اغراض و مقاصد کےلیے یہ علاقے علیحدہ کائناتیں ہیں۔ لیکن ہمیشہ ایسا نہیں رہے گا، روشنی بالآخر ان فاصلوں کو عبور کر لے گی اور کائناتیں آپس میں ضم ہو جائیں گی۔ اگر کائنات حقیقت میں ہمارے جیسی جزیرہ نما کائناتوں کی لامحدود تعداد اپنے اندر رکھتی ہے جن میں ستارےاور سیارے اور مادہ موجود ہے تو دور کہیں لازمی طور پر ہماری زمین کی جیسی بہت ساری دنیائیں ہونی چاہیں۔

 

یہ ناقابلِ یقین حد تک غیر متوقع لگتا ہے کہ جواہر(atoms) اتفاقاً ایک دوسرے کے قریب آ کر ہماری زمین کی ہوبہونقل (replica)بنا دیں یا پھر ایک ایسی نقل بنائیں جو آپکی جرابوں کے رنگ کے علاوہ ایک جیسی ہو۔لیکن حقیقی لامتناہی دنیاؤں میں ایسی عجیب جگہیں ہونی چاہیں۔ بلکہ بہت ساری ہونی چاہیں۔ اگر ایسا ہے تو تصور سے بالاتر دور کسی جگہ پر میرے جیسا ہی کوئی شخص یہ الفاظ لکھ رہا ہو گا اور سوچ رہا ہو گا کہ ا اس کا مدیر اسے قطعی نظرثانی کا کہنے والا ہے۔

 

اسی منطق سے، اس سے بھی دور ہماری ہی کائنات کے جیسی ایک مشاہداتی کائنات ہے۔اس کے فاصلے کا تخمینہ دس کی طاقت نما دس کی طاقت نما ایک سو اٹھارہ((〖10〗^(〖10〗^118 ) میٹر لگایا گیا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ایسا بالکل نہ ہو۔ہو سکتا ہے کائنات لامتناہی نہ ہو۔اور اگر یہ ہو بھی تو ممکن ہے کہ تمام مادہ کائنات کے اس حصے میں مرکوز ہو گیا ہو جہاں ہم ہیں ۔اس حساب سے باقی بہت ساری کائناتیں خالی ہوں گی۔ لیکن ایسا ہونے کی کوئی ظاہری وجہ موجود نہیں ہے۔ اور جیسے جیسے ہم دور دیکھتے جا رہے ہیں ہمیں مادہ کے کم ہونے کے کوئی شواہد نہیں مل رہے۔
افراطی کثیرِنات(the inflationary multiverse)
کثیرِ نات کا دوسرا نظریہ اس خیال سے جنم لیتا ہے کہ ہماری اپنی کائنات کا آغاز کیسے ہوا۔

 

انفجارِعظیم(Big Bang) کے سب سے غالب نقطہِ نظر کے مطابق کائنات کا آغاز ایک صغاری نقطے(infinitesimally small point) سے ہوا اورپھر وہ تقطہ ایک آتشی گولے میں پھیل گیا۔ اس پھیلاؤ کے آغاز کے بعد ایک سیکنڈ سے بھی کم وقت میں یہ بہت زیادہ شرح سے اسراع پذیر(accelerated) تھی، روشنی کی رفتار سے بھی کہیں زیادہ۔ یہ دورانیہ افراط(Inflation) کہلاتا ہے۔

 

افراطی نظریہ اس امر کی وضاحت کرتا ہے کہ ہم جس جانب بھی دیکھیں ہمیں کائنات اشاری طور پر یکساں کیوں نظر آتی ہے۔ اس سے پہلے کہ آتشی گولہ منجمدہوتا افراط نے اسے کائناتی سکیل تک پھیلا دیا۔

 

تاہم یہ ابدی حالت(primordial state) ان اتفاقیہ تبدیلیوں کی وجہ سے تغیر پذیر ہوئی جو خود افراط کے وقت پیدا ہوئیں تھیں۔یہ تبدیلیاں(variations) اب پس منظری کائناتی خردموجی شعاعوں (cosmic microwave background radiations) میں محفوط ہیں۔ جو انفجارِ عظیم کے بعد میں بچ جانے والی مدہم روشنی ہے۔ یہ شعاعیں اب ساری کائنات میں پھیل چکی ہیں مگر یہ یکساں نہیں ہیں۔

 

سیارچوں پر لگی بہت ساری دوربینوں نے ان تغیرات کی تفصیلات کا نقشہ بنا کر ان کا موازنہ اس سے کیا ہے جس کی پیشین گوئی افراطی نظریہ کرتا ہے۔ یہ مماثلت ناقابلِ یقین حد تک درست ہے،جو اس چیز کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ افراط حقیقت میں وقوع پذیر ہوا۔ یہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ انفجارِ عظیم کیسے ہوا، جس سے ہم مناسب طور پر یہ سوال اٹھا سکتے ہیں کہ کیا یہ ایک سے زیادہ مرتبہ ہوا؟

 

multiverse-2-laaltain

موجودہ نقطہِ نظر یہ ہے کہ انفجارِ عظیم (big bang) اس وقت واقع ہوا جب حقیقی فضا(real space) کا ایک ٹکرا ایک دوسری طرح کی فضا میں ظاہر ہوا جسے “باطل خلا (false vacuum)” کہتے ہیں۔ اس فضا کے ٹکرے میں صرف توانائی موجود تھی اور کوئی مادہ موجود نہ تھا۔ پھر یہ ٹکرا ایک بلبلے کی طرح پھولتا گیا۔ لیکن اس نظریے کے مطابق باطل خلا کو بھی افراط سے گزرنا چاہیے جو اس کی بہت زیادہ رفتار سے پھیلائے۔ اسی دوران اس باطل خلا میں نہ صرف ہماری کائنات(جو صرف 13۔8 بلین سال پرانی ہے) بلکہ اور بھی بہت ساری کائناتوں کو یکساں شرح سے پیدا ہونا چاہیے۔
یہ منظر نامہ دائمی افراط(eternal inflation) کہلاتا ہے۔ یہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ وقت میں ہر لمحے لامتناہی کائناتیں پیدا ہوتیں ہیں اور پھیلتی جاتی ہیں۔ لیکن اگر ہم ہمیشہ کے لیے روشنی کی رفتار سے بھی چلیں تو بھی ان تک نہیں پہنچ سکتے کیوں کہ یہ بہت زیادہ رفتار سے ہم سے دور جا رہی ہیں۔

 

برطانوی شاہی ہیئت دان(Astronomer Royal) مارٹن ریز(Martin Rees) کا کہنا ہے کہ افراطی نظریہ چوتھے کوپرنیکسی انقلاب کو ظاہر کرتا ہے۔چوتھی مرتبہ ہمیں آسمانوں میں اپنے درجے کو کم کرنا پڑا ہے۔کوپرنیکس(Copernicus) کے یہ بتانے کے بعد کہ ہماری زمیں بہت سارے دوسرے سیاروں میں سے ایک ہے ہمیں پتہ چلا کہ ہمارا سورج ہماری کہکشاں میں محض ایک ستارہ ہے اور دوسرے ستاروں کے بھی سیارے ہو سکتے ہیں۔ پھر ہم پر انکشاف ہوا کہ ہماری کہکشاں پھیلتی ہوئی کائنات میں بہت ساری کہکشاؤں میں سے ایک ہے۔ اور اب ممکن ہے ہماری کائنات بھی بہت ساری کائناتوں میں سے ایک ہو۔

 

multiverse-3-laaltain

ابھی ہم منطقی طور پر نہیں جانتے کہ افراطی نظریہ صحیح ہے یا غلط۔تاہم اگر دائمی افراط عظیم انفجاروں(big bangs)کے ایک نہ ختم ہونے والے سلسلے میں کثیرِنات (multiverse) کو جنم دیتا ہے تو یہ جدید طبیعیات میں ایک بہت بڑے مشکلے(problem) کے حل میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

 

کچھ طبیعیات دان بہت لمبے عرصے سے نظریہِ کل (theory of everything) کی تلاش میں ہیں جو کہ کچھ بنیادی قوانین یا ممکن ہے ایک مساوات پر مشتمل ہو اور اس سے طبیعیات کے باقی تمام اصول اخذ کیے جا سکیں گے۔ لیکن انہوں نے دیکھا کہ معلوم کائنات میں جتنے ذرات ہیں ان کی تعداد سے زیادہ کائناتیں موجود ہیں۔

 

وہ طبیعیات دان جو ان کی کھوج میں رہتے ہیں یہ یقین رکھتے ہیں کہ ایک تصور جو سٹرِنگ نظریہ (string theory) کے نام سے جانا جاتا ہے نظریہِ کل (theory of everything) کا سب سے بہترین امیدوار ہے۔لیکن اس کے تازہ ترین نسخے (latest version) کے بہت زیادہ (ایک کے بعد ٥00 صفر) جوابات(solutions) ہیں۔ ہر جواب اپنے طبیعی قوانین فراہم کرتا ہے اور ہمارے پاس بظاہر کوئی وجہ نہیں ہے کہ ہم ایک کے اوپر دوسرے کو ترجیح دیں۔

 

افراطی کثیرِنات ہمیں اس چناو سے چھٹکارہ دلاتی ہے۔ اگر پھیلتی ہوئی باطل خلا میں متوازی کائناتیں کروڑوں سالوں سے پیدا ہو رہی ہیں، تو ہر ایک کے مختلف طبیعی قوانین ہو سکتے ہیں جن کا تعین سترنگ نظریے کے بہت ساروں میں سے کوئی ایک حل(solution) کرے گا۔

 

اگر یہ درست ہے تو یہ ہمیں ہماری اپنی کائنات کی ایک عجیب خوبی کی وضاحت کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
طبیعیات کے قوانین کے بنیادی مستقلوں(fundamental constants) کی قیمتیں زبردست طریقے سے وہی رکھی گئی ہیں جو وجودِزندگی کے لیے ضروری ہیں۔]اس کو فائن ٹیوننگ(fine tuning) کہتے ہیں[

 

طبیعیات کے قوانین کے بنیادی مستقلوں کی قیمتیں زبردست طریقے سے وہی رکھی گئی ہیں جو وجودِزندگی کے لیے ضروری ہیں۔
طبیعیات کے قوانین کے بنیادی مستقلوں(fundamental constants) کی قیمتیں زبردست طریقے سے وہی رکھی گئی ہیں جو وجودِزندگی کے لیے ضروری ہیں۔
مثال کے طور پر اگر برقناطیسی قوت(electromagnetic force) کی مقدار تھوڑی سی بھی مختلف ہوتی تو جواہر مستحکم نہ ہوتے۔صرف چار فیصد کی تبدیلی ستاروں میں نیوکلیائی ایتلاف(nuclear fusion) کو روک دے گی، ایتلاف وہ عمل ہے جس میں کاربن کے وہ جواہر بنتے ہیں جن سے ہمارے جسم کا زیادہ تر حصہ بنا ہواہے۔ اسی طرح کششِ ثقل اور تاریک توانائی(dark energy) میں ایک نفیس توازن ہے۔ ثقل مادہ کو اپنی طرف کھینچتی ہے جب کہ تاریک توانائی اسے اور زیادہ شرح سے پھیلاتی ہے۔اوربالکل یہی وہ ضرورت ہے جو ستاروں کا بننا ممکن بناتی ہے اور کائنات کو خودتصادم سے روکتی ہے۔

 

اس اور بہت ساری دوسری وجوہات کی بنا پر یوں لگتا ہے جیسے کائنات کو ہمارے رہنے کے لیے فائن ٹیونڈ(fine tuned) کیا گیا ہے۔ اس نے بہت سارے لوگوں کو اس شک میں مبتلہ کر دیا ہے کہ اس میں خدا کا ہاتھ شامل ہے۔
تاہم ایک افراطی کثیرِنات جس میں تمام قابلِ فہم قوانین عمل کرتے ہیں ایک متبادل وضاحت بھی پیش کرتی ہے۔
وجود دوست طریقے سے بنائی گئی ہر کائنات میں ذہین مخلوق اپنی خوش بختی کے ادراک کے لیے اپنا سر نوچ رہی ہو گی جب کہ دوسری بہت ساری کائناتوں میں جو مختلف طریقے سے بنائی گئی ہیں کوئی بھی یہ سوال کرنے کے لیے موجود نہیں ہے۔

 

یہ بشری اصول(anthropic principle) کی مثال ہے، جو یہ کہتا ہے کہ چیزیں جیسی ہیں ان کو ویسا ہی ہونا چاہیے تھا کیوں کہ اگر ایسا نہ ہوتا تو ہم یہاں موجود نہ ہوتے اور یہ سوال کبھی نہ پیدا ہوتا۔

 

بہت سارے طبیعیات دانوں اور فلسفیوں کے قریب یہ دلیل ایک دھوکہ ہے۔ فائن ٹیوننگ(fine tuning) مشکلے کی وضاحت کی بجائے اس سے جان چھڑانے کا ایک راستہ ہے۔

 

وہ سوال کرتے ہیں کہ ہم ان دعووں کو کیسے جانچ سکتے ہیں؟یقیناً یہ قبول کرنا شکست ماننے کے مترادف ہے کہ اس کی کوئی وضاحت نہیں ہے کہ قوانینِ قدرت جیسے ہیں ویسے کیوں ہیں اور یہ کہ یہ دوسری کثیرِنات میں مختلف ہیں۔

 

مسئلہ یہ ہے کہ اگر آپ کے پاس فائن ٹیوننگ(fine tuning) کی کوئی اچھی وضاحت نہیں ہے تو کوئی بھی یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ ان کو خدا نے اسےایسے سیٹ کیا ہے۔ماہر فلکی طبیعیات برنارڈ کر (Bernard Carr) نے اسے دوٹوک الفاظ میں یوں بیان کیا ہے کہ اگر آپ خدا سے چھٹکارا چاہتے ہیں تو آپ کے پاس کثیرِنات(multiverse) ہونی چاہیے۔
کائناتی فطری چناؤ : (Cosmic Natural Selection)
ایک اور طرح کی کائنات بشری اصول(anthropic principal) کی مدد لیے بغیر فائن ٹیوننگ(fine tuning) کے مشکلے کا حل فراہم کرتی ہے۔

 

اس کی بنیاد واٹرلو کینیڈا(waterloo Canada) میں موجود پیری میٹر انسٹیٹیوٹ کے لی سمولن(Lee Smolin of Perimeter institute) نے ڈالی۔ اس نے 1992 میں تجویز دی کہ ہو سکتا ہے کائنات بھی زندہ چیزوں کی طرح تولید کرتی اور ارتقا پاتی ہو۔زمین پر فطری چناؤ کارآمد خصلتوں جیسا کہ تیز ڈور اور مخالف انگوٹھوں کے کے پنپنے میں مدد دیتا ہے۔سمولن دلیل دیتا ہے کہ کثیرِنات میں ایسا دباؤ موجود ہو سکتا ہے جو ہمارے جیسی کائناتوں کے بننے میں مدد دے۔وہ اسے کائناتی فطری چناؤ کا نام دیتا ہے۔

 

سمولن کا خیال یہ ہے کہ ایک مادر کائنات (mother universe)طفل کائناتوں(baby universes) کو جنم دیتی ہے جو اس کے اندر بنتی ہیں۔ مادر کائنات ایسا صرف اس وقت کر سکتی ہے جب اس کے اندر ثقب اسود(black holes) موجود ہوں۔
ایک ثقب اسود اس وقت بنتا ہے جب کوئی ستارہ اپنے ہی انجذاب کے تحت منہدم ہو کر اپنے تمام جوہروں کو اس وقت تک بھینچتا ہے جب تک وہ لامتناہی کثافت کو نہ پہنچ جائیں۔

 

multiverse-5-laaltain

1960 کی دہائی میں سٹیفن ہاکنگ اور راجر پینروز (Stephen Hawking and Roger Penrose) نے نشاندہی کی کہ یہ انہدام ایک انفجارِ عظیم کی طرح ہی ہے جس کی سمت الٹ دی گئی ہو۔ اس سے سمولن کو خیال آیا کہ ایک ثقب اسود انفجارِ عظیم بن سکتا ہے جس نے اپنے اندر ایک پوری نئی کائنات کی افزائش کر رکھی ہو۔ اگر ایسا ہے تو اس نئی کائنات کی طبیعی خصوصیات اس کائنات سے تھوڑی مختلف ہوں گی جس نے اس ثقب اسود کو جنم دیا۔یہ ایک بے ترتیب جینیاتی تغیر کی طرح ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ بچے اپنے والدین سے مختلف ہوں گے۔

 

اگر کسی طفل کائنات کے طبیعی قوانین ایسے ہوں جو جوہروں، ستاروں اور زندگی کے بننے کی اجازت دیں تو اس میں لازمی طور پر ثقب اسود (Black holes) بھی موجود ہوں گے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس کی مزید اپنی طفل کائناتیں ہو سکتی ہیں۔وقت کے ساتھ یہ کائناتیں ان کائناتوں سے زیادہ عام ہو جائیں گی جن میں ثقب اسود نہیں ہوں گے اور جو افزائش نسل نہیں کر سکتیں۔

 

یہ ایک واضح تصور ہے کیوں کہ پھر ایسی صورت میں ہماری کائنات کو محض ایک خالص اتفاق کا نتیجہ نہیں ہونا پڑے گا۔اگر ایک فائن ٹیونڈ(fine tuned) کائنات بہت ساری دوسری کائناتوں کے ساتھ جو فائن ٹیونڈ(fine tuned) نہیں ہیں اتفاقاً پیدا ہو سکتی ہے تو کائناتی فطری چناؤ کا مطلب ہو گا کہ آہستہ آہستہ فائن ٹیونڈ(fine tuned) کائناتیں میعار بن جائیں گی۔

 

multiverse-6-laaltain

اس خیال کی تفصیلات ابھی دھندلی ہیں مگر سمولن اس کے ایک بہت بڑے فائدے کی نشاندہی کرتا ہے کہ ہم اسے پرکھ سکتے ہیں۔مثال کے طور پر اگر سمولن صحیح ہے تو ہماری کائنات کو ثقب اسود(black hole) بنانے واسطے خاص طور پر موزوں ہونا چاہیے۔ لیکن یہ اس سے بھی زیادہ تقاضہ طلب کسوٹی ہے کہ اس کو جوہروں کے وجود کی حمایت کرنی چاہیے۔لیکن ابھی تک اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ ایسا ہی معاملہ ہے، اس بات کو تو چھوڑ ہی دیں کہ ثقب اسود اپنے اندر کائنات کی افزائش کر سکتا ہے۔
برین (جھلی) کثیرِنات(the brane multiverse)
جب 1920 کی دہائی میں آئن سٹائن کا عمومی نظریہ اضافیت عام لوگوں کے زیر بحث آنے لگا تو بہت ساروں نے چوتھی جہت(fourth dimension) کے متعلق قیاس آرائیاں کی جس کو آئن سٹائن نے متعارف کرایا تھا۔ اس میں کیا ہو سکتا ہے؟ کیا اس میں ایک مخفی کائنات ہو سکتی ہے؟ یہ فضول سوالات تھے۔آئن سٹائن ایک نئی جہت کا تصور نہیں دے رہا تھا، وہ صرف یہ کہہ رہا تھا کہ مکان (space) کی باقی تین ابعاد(dimensions) کی طرح وقت بھی ایک بعد ہے۔اور یہ چاروں ایک چادر میں بنی ہوئی ہیں جو زمان و مکاں (spacetime)کہلاتی ہے، مادہ جس کا حلیہ بگاڑ کر انجذاب(gravity) پیدا کرتا ہے۔

 

تاہم دوسرے طبیعیات دانوں نے پہلے سے ہی سپیس(space) کی نئی جہتوں(dimensions) کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا تھا۔مخفی ابعاد کے بارے میں پہلا اشارہ نظری طبیعیات دان تھیوڈور کیلوزا(Theodor Kaluza) کے کام سے ملا۔ 1921 میں لکھے گئے ایک تحقیقی مقالے میں اس نے ثابت کیا کہ اگر آئن سٹائن کی عمومی اضافیت کی مساواتوں میں ایک اور بعد ملا دی جائے تو ہمیں ایک زائد مساوات حاصل ہوتی ہے جو ضیا(light) کےوجود کی پیشین گوئی کرتی ہے۔
یہ کافی معقول لگا پر پھر سوال یہ تھا کہ یہ زائد جہت ہے کہاں؟

 

1926 میں سویڈش طبیعیات دان آسکر کلائن(Oscar klein) نے ایک جواب پیش کیا۔ ہو سکتا ہے پانچویں بعد ناقابلِ تصور صغیر فاصلوں میں لپٹی ہو(curled up)۔جو کہ ایک سینٹی میٹر کا ایک بلین ٹریلین ٹریلین واں حصہ ہے۔
ہو سکتا ہے کہ لپٹی بعد(curled up dimension) کا تصور عجیب لگے پر حقیقت میں یہ ایک معروف مظہر ہے۔ایک باغ نلی(garden hose) سہ ابعادی(three dimensional) جسم ہے مگر بہت زیادہ فاصلے سے دیکھنے پر یہ یک جہتی(one dimensional) معلوم ہوتی ہے کیوں کہ باقی دونوں جہتیں بہت چھوٹی ہیں۔اسی طرح کلائن(Klein) کی زائد جہت، جسکو ہم محسوس نہیں کرتے، کو سمجھنے میں بہت کم وقت لگتا ہے۔تب سے طبیعیات دان کیلوزا اور کلائن کے تصورات کو سترنگ نظریے میں بہت آگے تک لے کر گئے ہیں۔ یہ بنیادی ذرات کی وضاحت سترنگز (strings)کے اہتزازات(oscillations) کی صورت میں کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

 

جب 1980 میں سترنگ نظریے(string theory) کو مرتب کیا گیا تو پتہ چلا کہ یہ صرف زائد ابعاد(extra dimensions) کی موجودگی میں ہی کام کر سکتی ہے۔سترنگ نظریے کا جدید نسخہ،جو ایم نظریہ(M theory) کہلاتا ہے، میں سات مخفی ابعاد ہیں۔مزید یہ کہ ان ابعاد کو منضبط (compact) ہو نے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ یہ پھیلے ہوئے علاقے(extended regions) ہو سکتے ہیں جو جھلیاں(branes) کہلاتے ہیں اور ممکن ہےیہ کثیرجہتی(Multi-dimensional) ہوں۔

 

multiverse-7-laaltain

ایک جھلی(brane) ایک مکمل کائنات کے چھپنے کے لیے معقول جگہ ہو سکتی ہے۔ایم تھیوری مختلف ابعاد کی جھلیوں(branes) کی کثیرِنات ہے جو آپس میں کاغذ کے گڈھی (stack of papers) کی طرح رہتی ہیں۔

 

اگر یہ بات سچ ہے تو ہمارے پاس ذرات کی ایک نئی جماعت ہونی چاہیے جو کیلوزا کلائن(Kaluza-Klein) ذرات کہلاتے ہیں۔نظری طور پر ہم ان کو عظیم ثقیلہ تصادم گر(large hadron collider) جیسے اسراع گردوں(accelerator) میں بنا سکتے ہیں۔ان کے بہت واضح نشانیاں ہوں گی کیوں کہ ان کے میعارِ حرکت(momentum) کی کچھ مقدار مخفی ابعاد میں چلی جائے گی۔

 

یہ جھلی دنیائیں(brane worlds) ایک دوسرے سے جداجدا رہتی ہیں کیوں کہ تجاذب جیسی قوتیں ان کے درمیان سے نہیں گزرتی۔لیکن اگر دو جھلیاں ٹکراتی ہیں تو نتائج کافی شاندار ہو سکتے ہیں۔قرین قیاس ہے کہ ایسے ہی کسی تصادم سے ہمارے اپنے انفجارِ عظیم(big bang) کا آغاز ہوا ہو۔

 

یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ ہو سکتا ہے تجاذب جھلیوں میں سے گزر جاتی ہو۔یہ بہاو اس چیز کی وضاحت کر سکتا ہے کہ بنیادی قوتوں میں تجاذب اتنا نحیف کیوں ہے۔جیسا کہ ہاورڈ یونیورسٹی کی لیزا رینڈل(Lisa Randall) کا کہنا ہے کہ اگر تجاذب زائد ابعاد (extra dimensions) پر پھیلی ہوئی ہو تو اس کی قوت کافی نحیف ہو گی۔

 

multiverse-8-laaltain

1999 میں رینڈل اور اس کے ہم منصب رامن سندرم (Raman Sundrum) نے تجویز دی کہ جھلیاں نہ صرف تجاذب رکھتی ہیں بلکہ یہ سپیس کو منحنیٰ کر کے اسے پیدا کرتی ہیں۔نتیجتاً اس کا مطلب ہے کہ ایک جھلی تجاذب کو مرتکز کرتی ہے جس کی وجہ سے قریبی دوسری جھلی میں یہ نحیف دکھائی دیتی ہے۔یہ اس چیز کی بھی وضاحت کرتا ہے کہ ہم کسی لامحدود زائد جہتوں والی جھلی پر ان کو محسوس کیے بنا کیسے رہ سکتے ہیں۔
کوانٹم کثیرِنات(the Quantum Multiverse)
نظریہِ کوانٹم میکانیات سائنس کےکامیاب ترین نظریات میں سے ایک ہے۔یہ چھوٹی چیزوں جیسا کہ جوہر اور اس کے جزوِترکیبی ذرات کے رویوں کی وضاحت کرتا ہے۔یہ سالموں کی اشکال سے لے کر مادہ اور ضیا کے تعاملات تک ہر طرح کے عوامل کی پیشین گوئی بہت درستی سے کر سکتا ہے۔

 

کوانٹم میکانیات کے مطابق ہر ذرے کے ساتھ ایک موج منسلک ہوتی ہے جس کو ایک ریاضیاتی مساوات سے بیان کیا جاتا ہے جو موجی تفاعل(wave function) کہلاتا ہے۔موجی تفاعل کی سب سے مضبوط خوبی یہ ہے کہ یہ کسی بھی کوانٹم ذرے کو ایک ہی وقت میں بہت زیادہ حالتوں میں رہنے کی اجازت دیتا ہے۔یہ عمل انطباق(superposition)کہلاتا ہے۔لیکن جب ہم اس ذرے کی کسی بھی طرح سے پیمائش کرتے ہیں تو یہ انطباقات فنا ہو جاتے ہیں۔مشاہدہ اس ذرے کو کوئی ایک حالت پسند کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔پیمائش کے دوران انطباق سے کسی ایک حالت میں آنا “موجی تفاعل کا فنا ہونا” کہلاتا ہے۔ مسلہ یہ ہے کہ اس فنا کے عمل کو کوانٹم میکانیات سے بیان نہیں کیا جا سکتا اس لیے کوئی نہیں جانتا کہ یہ کیسے اور کیوں ہوا۔

 

1957میں لکھے اپنے ڈاکٹری کے مقالے میں امریکی طبیعات دان ہف ایوریٹ(Hugh Everett) نے تجویز دی کہ ہمیں موجی تفاعل کے انہدام کی ناموزوں فطرت کے بارے میں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ ایوریٹ نے تجویز دی کہ جب چیزوں کی پیمائش یا مشاہدہ کیا جاتا ہے تو وہ بسیار حالتوں سے ایک حالت میں نہیں جاتیں بلکہ موجی تفاعل میں موجود تمام ممکنات برابر کی حقیقت رکھتی ہیں اور جب ہم پیمائش کرتے ہیں تو ہم ان میں سے صرف ایک حقیقت کو دیکھ سکتے ہیں حالانکہ باقی بھی وجود رکھتی ہیں۔ یہ کوانٹم میکانیات کی “کثیر دنیاوی تاویل(Many worlds interpretation)” کہلاتی ہے۔

 

ایوریٹ اس بارے میں واضح نہیں تھا کہ یہ باقی حالتیں کہاں پائی جاتی ہیں۔لیکن 1970 کی دہائی میں طبیعات دان برائس دی وٹ(Bryce de Witt) نے دلیل دی کہ ہر متبادل نتیجے کو ایک متوازی حقیقت(دوسری دنیا) میں موجود ہونا چاہیے۔فرض کرو آپ برقیے(electron) کا راستہ دیکھنے کا ایک تجربہ کرتے ہیں۔ اس دنیا میں وہ ایک راستے پر چلتا ہے مگر ایک دوسری دنیا میں وہ کوئی اور راستہ اختیار کرے گا۔اگر ایسا ہے تو پھر برقیے کے گزرنے کے لیے آپ کو ایک متوازی پیمائشی سامان کی ضرورت ہو گی۔آپ کو ایک اپنے ہی متوازی جڑواں کی بھی ضرورت پڑے گی تا کہ وہ الیکٹران کی پیمائش کر سکے۔درحقیقت آپ کو اس الیکٹران کے گرد ایک پوری متوازی کائنات کی ضرورت ہو گی جو ہر طرح سے آپ کی کائنات کے جیسی ہو گی سوائے اس کے کہ اس میں الیکٹران کسی دوسری جگہ جائے گا۔قصہِ مختصر یہ کہ اگر آپ موجی تفاعل کو منہدم ہونے سے بچانا چاہتے ہیں توآپ کو ایک اور کائنات بنانا پڑے گی۔

 

multiverse-9-laaltain

جب ہم پیمائش کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو تصویر اور مبالغہ آرا ہو جاتی ہے۔ دی وِٹ کے مطابق کسی ستارے میں، کسی کہکشاں میں یا دور کسی کائنات میں ہونے والی کوانٹمی تبدیلی زمین پر ہماری مقامی دنیا کو بہت زیادہ نقلوں(copies) میں تقسیم کر رہی ہے۔

 

ہر کوئی ایوریٹ کی بسیار دنیاوی تاویل کو ایسے نہیں دیکھتا۔ کچھ کا کہنا ہے کہ یہ ایک ریاضیاتی آسائش ہے اور ہم متوازی کائناتوں کے مندرجات کے بارے میں کوئی بھی معانی خیز رائے نہیں دے سکتے۔

 

لیکن دوسرے لوگ اس تصور کو بہت سنجیدگی سے لیتے ہیں کہ جب بھی کوئی کوانٹمی پیمائش کی جاتی ہے تو آپ کے لاتعداد جڑواں جنم لیتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ چونکہ کوانٹم نظریہ آپ کو صحیح نتائج دیتا ہے لہٰذاکوانٹم کثیرِنات حقیقی ہونی چاہیے کیوں کہ کوانٹم نظریہ اس کا مطالبہ کرتا ہے ۔

 

آپ یا تو اس دلیل کو مان لیں گے یا نہیں۔ لیکن اگر آپ اسے مان لیتے ہیں تو آپ کو کچھ پریشان کر دینے والی چیز کو بھی ماننا پڑے گا۔

 

schrodinger's-cat-laaltain

دوسری متوازی کائناتیں جیسا کہ وہ جو دائمی افراط(eternal inflation) میں پیدا ہوئیں، حقیقت میں دوسری کائناتیں ہیں۔وہ زمان اور مکان میں یا دوسری ابعاد میں کسی اور جگہ اپنا وجود رکھتی ہیں۔ممکن ہے وہاں آپ کی ہو بہو نقلیں موجود ہوں، پر وہ نقلیں مختلف ہوں گی بالکل ایسے جیسے کوئی جسم کسی دوسرے براعظم میں رہ رہا ہو۔
اس تناظر میں کثیر دنیاوی تاویل کی دوسری کائناتیں(universes of many worlds interpretation) سپیس کی دوسری ابعاد یا مقامات میں نہیں ہیں۔بلکہ وہ بالکل یہیں ہیں اور ہماری کائنات کے ساتھ منطبق(superimposed) ہوئی ہیں لیکن نہ تو وہ نظر آتی ہیں اور نہ ہی قابلِ رسائی ہیں۔ اور ان میں جو آپ کے جڑواں موجود ہیں وہ حقیقی معنوں میں آپ ہی ہیں۔

 

درحقیقت “آپ” کا کوئی معانی خیز وجود ہی نہیں ہے۔ “آپ” ہر لمحے مضحکہ خیز تعداد میں تقسیم ہو رہے ہیں۔اس کے لیے آپ ان تمام کوانٹمی واقعات(quantm events) کا تصور کیجیے جو اس وقت واقع ہوتے ہیں جب کوئی برقی اشارہ(electrical signal) آپ کے دماغ میں ایک عصبیے (neuron) کے ساتھ سفر کرتا ہے۔ “آپ” ایک ہجوم میں گم ہو جاتے ہیں۔

 

دوسرے الفاظ میں ایک خیال جو ریاضیاتی آسانی کے طور پر شروع ہوا تھا یہ بتاتا ہے کہ انفرادیت جیسی کسی شئے کاکوئی وجود نہیں ہے۔
کثیرِنات کی جانچ(Testing the multiverse)
متوازی کائناتوں کے عجیب مضمرات کو مدِنظر رکھتے ہوئے آپ کے ذہن میں ان کے وجود پر شک جائز ہے۔لیکن ہم کون ہوتے ہیں یہ فیصلہ کرنے والے کہ کیا عجیب ہے اور کیا نہیں؟ سائنسی تصورات تجرباتی جانچ سے پروان چڑھتے ہیں یا ختم ہو جاتے ہیں نہ کہ اس سے کہ ہم ان کو لے کر کیسا محسوس کرتے ہیں۔ اور یہ ایک مسلہ ہے۔ ایک متبادل کائنات ہماری اپنی کائنات سے علیحدہ ہے اور تعریف کی حد تک یہ ہماری نظر اور پہنچ سے باہر ہے۔ قصہ ِ تمام یہ کہ کثیرِنات کے نظریات کی جانچ دوسری دنیاؤں کی تلاش سے نہیں ہو سکتی۔

 

اگرچہ دوسری کائناتوں کا براہِ راست مشاہدہ نہیں کیا جا سکتا تاہم یہ ممکن ہے کہ ایسے ثبوت تلاش کر لیے جائیں جو ان کے وجود کے حق میں دیے جانے والے دلائل کی توثیق کرتے ہوں۔

 

مثال کے طور پر ہم انفجارِ عظیم (big bang) کے افراطی نظریے(inflation theory) کے لیے بہت ٹھوس ثبوت تلاش کر سکتے ہیں جو افراطی کثیرِنات (inflationary multiverse) کے مسلے کو( ثابت کیے بنا ) کافی تقویت بخشیں گے۔ کچھ کونیات دانوں(Cosmologists) نے تجویز دی ہے کہ افراطی کثیرِنات کی زیادہ براہِ راست طریقے سے جانچ کرنا بھی ممکن ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہماری اور ایک اور پھیلتی ہوئی کائنات کے درمیان تصادم پس منظری کائناتی خردموجی شعاعوں (cosmic microwave background radiations) پر قابلِ پیمائش اثرات چھوڑے گا اور اگر ہم اس کے قریب ہوئے تو اس کو دیکھ سکیں گے۔

 

multiverse-10-laaltain

اسی طرح عظیم ثقیلہ تصادم گر(large hadron collider) کے لیے جو تجربات سوچے گئے ہیں وہ زائد ابعاد(extra dimensions) اور ان ذرات کو تلاش کر سکتے ہیں جن کی پیشین گوئی جھلی دنیاوی نظریہ(braneworld theory) کرتا ہے۔
کچھ کا یہ کہنا ہے کہ تجرباتی تصدیق کو بڑھا چڑھا کے پیش کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم کسی بھی سائنسی تصور کی معقولیت کا اندازہ دوسرے طریقوں سے بھی لگا سکتے ہیں جیسا کہ کیا اس کی بنیاد واضح منطق پر رکھی گئی ہے جو ایسے مقدمہِ تمہید(premises) سے جنم لیتا ہو جس کومشاہداتی امداد حاصل ہو۔

 

آخر میں ہم شماریاتی پیشین گوئی بھی کر سکتے ہیں۔مثال کے طور پر ہم افراطی کثیرِنات کے نظریے کو استعمال کرتے ہوئے بہت ساری کائناتوں میں طبیعیاتی مستقلوں(physical constants) کی قیمتوں کا اندازہ لگا کر یہ دیکھ سکتے ہیں کہ وہ ہمارے والی قیمتوں کے قریب ہیں یا نہیں۔ ان بنیادوں پر ہمارے پاس کوئی وجہ نہیں ہے کہ ہم کثیرِنات میں خود کا خاص تصور کریں۔

 

یہ کسی بھی طور بہت عجیب نظر آتا ہے کہ ہم جس طرف بھی دیکھیں یہ کائنات پھیلتی ہوئی نظر آتی ہے۔۔ طبیعیات دان میکس ٹیگمارک(Max Tegmark) کا کہنا ہے کہ ایسا نظریہ بنانا بہت مشکل ثابت ہوا ہے جو بالکل ایسی کائنات دے جیسی ہم دیکھتے ہیں” اس کے باوجود یہ واضح نہیں ہےکہ آیا اخباروں کی سرخیاں مستقبل قریب میں کسی دوسری کائنات کی ایجاد کی خبر دیں گی۔فی الحال یہ تصورات طبیعیات اور مابعدالطبیعیات کی سرحد پر موجود ہیں۔
کسی بھی ثبوت کی غیر موجودگی میں ذیل میں مختلف کثیرِنات کے امکانات کی درجہ بندی ہے۔ زیادہ ممکنہ کثیرِنات کو سب سے پہلے رکھا گیا ہے۔

 

بارہ دوزی کائنات: اگر ہماری کائنات حقیقت میں لامحدود اور یکساں ہے تو پھر بارہ دوزی کائنات سےجان چھڑانابہت مشکل ہے۔

 

افراطی کثیرِنات: اگر افراطی نظریہ صحیح ہے تو افراطی کائنات زیادہ ممکنہ ہے اور فی الحال افراط(inflation) انفجارِ عظیم (Big Bang) کی ہماری سب سے اچھی وضاحت ہے۔

 

کائناتی فطری چناو: ایک زبردست خیال ہے مگر اس میں بہت زیادہ تصوراتی طبیعیات موجود ہے اور بہت سارے ایسے سوالات ہیں جن کے جواب موجود نہیں۔

 

جھلی دنیاؤں: کا نظریہ اور زیادہ تصوراتی ہے اور اس کا وجود تبھی ممکن ہے جب زائد ابعاد کا وجود ممکن ہو اور ابھی اس کا کوئی براہِ راست ثبوت نہیں ہے۔

 

کوانٹم کثیرِنات: بحث کی حد تک کوانٹم نظریے کی سادہ تریں تاویل ہے مگر یہ بہت مبہم ہے اور انفرادیت کے ایک غیر مربوط نقطہِ نظر کی طرف لے جاتی ہے۔
Categories
نان فکشن

کوانٹم میکانیات کے مسائل

[blockquote style=”3″]

نوبل انعام یافتہ سائنسدان سٹیون وائن برگ کا یہ مضمون انگریزی میں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

[/blockquote]

تحریر: سٹیون وائن برگ
ترجمہ: فصی ملک

 

بیسویں صدی کی ابتدائی دہائیوں میں کوانٹمی میکانیات میں ہونیوالی ترقی بہت سارے طبیعیات دانوں کے لیے حیرت کا باعث بنی۔ آج بھی اس کی کامیابی کے باوجود اس کے معانی اور مستقبل کے متعلق بحث جاری ہے۔

 

(1)

 

Quantum-physics

پہلا دھچکا اس واضح درجہ بندی کو للکارنے کی صورت میں آیا جس سے انیسویں صدی کے طبیعیات دان مانوس ہو چکے تھے۔ ہمارے پاس ذرات تھے — جیسا کہ جواہر (atoms)اور پھر برقیے (electrons)اور جوہری مراکز(atomic nuclei)—-اور ہمارے پاس میدان (fields)تھے—جو کہ مکان(space) کی حالتیں ہیں اور ان خِطوں تک سراعیت کر جاتی ہیں جن میں برقی، مقناطیسی اور ثقلی قوتیں عمل کرتی ہیں۔ روشنی کی لہروں کو برقی اور مقناطیسی میدانوں کے خود پرور اہتزازات (oscillations)کے طور پر پہچانا جا چکا تھا۔ لیکن گرم اجسام سے نکلنے والی روشنی کی شعاعوں کو سمجھنے کے لیے البرٹ آئن سٹائن نے ضروری سمجھا کہ روشنی کی موجوں کو بے کمیت ذرات کی ایک ندی کی طرح لیاجائے، یہ ذرات بعد میں ضیائیے (photons)کہلائے۔

 

1920 کی دہائی میں لوئس ڈی بروئلی (Louis de Broglie)اور اورن شروڈنگر (Erwin Schrodinger)کے نظریات سے یہ ظاہر ہوا کی برقیے، جن کو ہمیشہ سے ذرات کے طور پر جا نا گیا تھا، کچھ حالات میں موج کی طرح برتاؤ کرتے ہیں۔ جوہر کی مستحکم حالتوں کی توانائی (energy of stable states of atom)کی وضاحت کرنے کے لیے طبیعیات دانوں کو اس خیال کو ترک کرنا پڑا کہ برقیے چھوٹے چھوٹے نیوٹنائی سیارے (Newtonian planets) ہیں جو کہ جوہری مرکزے کے گرد چکر لگا رہے ہیں۔ جوہر میں موجود برقیوں کو موجوں کے طور پر بیان کیا گیا جو کہ مرکزے کے گرد ایسے موافق بیٹھتی ہیں جیسے ارغنوں کی نلیو ں (Organ pipes) میں صوتی امواج۔ دنیا کی کی گئی تمام کی تمام درجہ بندی گڈمڈ ہو چکی تھی۔
اس سے بھی بدتر یہ کہ برقیائی موجیں (electronic waves) برقیائی مادے کی موجیں نہیں ہیں جیسا کہ سمندری موجیں پانی کی موجیں ہوتی ہیں۔اس کی بجائے میکس بارن(Max Born) نے محسوس کیا کہ برقیائی موجیں احتمال کی موجیں(probability waves) ہیں۔مطلب یہ کہ جب کوئی برقیہ کسی جوہر سے ٹکرائے گا تو ہم اصولاً یہ نہیں بتا سکتے کہ وہ کسی سمت میں واپس جائے گا۔ برقیائی موج جوہر سے مٹھ بھیڑ(interaction) کے بعد ہر سمت میں پھیلتی ہے بالکل ایسے ہی جیسے ایک سمندری موج چٹان سے ٹکرانے کے بعد پھیلتی ہے۔ جیسا کہ بارن نے کہا، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ برقیہ بذاتِ خود ہر سمت میں پھیل جاتا ہے۔ اس کے برعکس غیر منقسم برقیہ کسی ایک سمت میں جاتا ہے۔ لیکن اس سمت کی صحیح طور پر پیشین گوئی نہیں کی جا سکتی۔ لیکن اس کے اس سمت میں جانے کے اغلب مواقع میں جہاں موج شدید (بلند درجے پر واقع) ہوتی ہے۔ لیکن کوئی بھی سمت ممکن ہے۔

 

1920 کے عشرے کے طبیعیات دان احتمال سے ناواقف نہیں تھے، لیکن اس کے بارے میں عموماً یہ سوچا جاتا تھا کہ یہ درپردہ طبیعی قوانین میں لا جبریت (indeterminism)نہیں بلکہ جو کچھ بھی پڑھا جا رہا ہوتا ہےاس کا ادھورا علم فراہم کرتی ہے۔ نیوٹن کے حرکت اور تجاذب کے نظریات نے جبریت کے قوانین کا میعار قائم کر دیا تھا۔جب کسی لمحے پر ہمارے پاس نظامِ شمسی میں موجود ہر جسم کی حالت اور رفتار کا مناسب حد تک صحیح علم ہوتا ہے تو نیوٹن کے قوانین ہمیں بہت درستگی سے یہ بتاتے ہیں کہ وہ مستقبل میں کسی وقت پر کس جگہ پر موجود ہوں گے۔نیوٹنائی طبیعیات میں احتمال اس وقت آتا ہے جب ہمارا علم نامکمل ہو، مثال کے طور پر جب ہمیں علم نہ ہو کہ پانسوں کا جوڑہ (pair of dice) کیسے پھینکا جائے۔ لیکن نئی کوانٹمی میکانیات کے ساتھ طبیعیات کے قوانین کی لمحہ بہ لمحہ جبریت بذاتِ خود ختم ہوتی دکھائی دیتی ہے۔

 

سب کچھ بہت عجیب ہے نا؟ 1926میں میکس بارن کو لکھے گئے ایک خط میں آئن سٹائن نے شکایت کی:

 

“کوانٹمی میکانیات بہت اثر آفرین ہے،تاہم ایک اندرونی آواز مجھے بتاتی ہے کہ ابھی یہ بھی ایک حقیقی چیز نہیں ہے، یہ نظریہ بہت اچھے نتائج دیتا ہے پر بمشکل ہی ہمیں اس پرانے اسرار کے قریب لاتا ہے،میں ہر طرح سے قائل ہوں کہ خدا پانسہ پھینکنے کا کھیل نہیں کھیلتا”

 

1964 میں کارنل (Cornel) میں اپنے قاصدی دروس (messenger lectures) میں رچڑڈ فائن من (Richard Feynman) نے شکوہ کیا کہ “میرے خیال سے میں مکمل یقین کے ساتھ یہ کہہ سکتا ہوں کی کوئی بھی کوانٹمی میکانیات کو نہیں سمجھتا”۔کوانٹمی میکانیات ماضی کی طبیعیات سے اتنی مختلف تھی کہ پچھلی تمام طبیعیات کلاسیکی کہلائی جانے لگی۔
کوانٹمی میکانیات کا عجب پن بہت سارے مقاصد کے لیے مسلہ نہیں تھا۔ طبیعیات دان جوہروں اور ان کے انرجی لیولز اور ذرات کے ایک دوسرے سے ٹکرانے کے بعد منتشر ہونے کی سمت کے احتمالوں کے بارے میں درست سے درست ترپیشین گوئی کے قابل ہوتے جا رہے ہیں۔ لارنس کراس (Lawrence Krauss)نے ہائدروجن کے طیف میں ایک نتیجے کو کوانٹم میکانیاتی حساب کا پوری سائنس میں سب سے زیادہ صحیح اور بہترین پیشین گوئی کا درجہ دیا ہے۔ جوہری طبیعیات کے علاوہ طبیعیات دان جینو سیگری(Gino Segre) نے کوانٹمی میکانیات کے ابتدائی اطلاقات (applications)کی فہرست بنائی ہے ان میں جوہروں کا سالموں(molecules) میں بندھنِ، جوہری مرکزے کا تابکارانہ انحطاط(radioactive decay)، برقیائی موصلیت، مقناطیسیت اور برقناطیسی شعاعیں(electromagnetic radiations) شامل ہیں۔بعد میں آنے والے اطلاقات بالاموصلیت(superconductivity) کے نظریات، سفید بونے اور تعدیلہ ستارے(white dwarf and neutron stars)، مرکزائی قوتوں اور اساسی ذرات کا احاطہ کرتے ہیں۔

 

بہت سارے طبیعات دان یہ سوچنے لگے ہیں کہ کوانٹمی میکانیات کے غیر مانوس پہلوؤں پر فائنمن، آئن سٹائن اور دوسروں کے ردِعمل کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے۔ یہ میرا نقطہِ نظر ہوتا تھا۔بہرحال نیوٹن کے نظریات بھی اس کےبہت سارے ہم عصروں کے لیے تلخ تھے۔ نیوٹن نے ثقل کو متعارف کرایا جس کو اس کے ناقدین ایک نہاں قوت کے طور پر دیکھتے تھے۔ جس کا مادی طور پر دھکیلنے یا کھینچنے سے کوئی تعلق نہ تھا اور جس کی توضیح فلسفے یا نظری ریاضی( pure mathematics) کی بنیاد پر نہیں کی جا سکتی تھی۔مزید براں اس کے نظریات نے سیاروی مداروں کا احاطہ اولین اصول(First principle) سے معلوم کرنے کے بطلیموس(Ptolemy) اور کیپلر کے اہم مقاصد کو ٹھکرا دیا۔لیکن آخر میں نیو ٹونیانزم (Newtonianism) کی مخالفت منظر سے غائب ہو گئی۔نیوٹن اور اس کے بعد میں آنے والے نہ صرف سیاروں کی حرکت اور گرتے ہوئے سیبوں، بلکہ دم دار ستاروں(comets) اور چاندوں اور زمین کی ہیئت اور اس کے گردشی محور(axis of rotation) کی سمت میں تبدیلی کی بھی وضاحت دینے میں کامیاب ہوئے۔یہ کامیابی اٹھارویں صدی کے اختتام تک نیوٹن کے حرکت اور تجاذب کے نظریات کو سچا یا پھر کم از کم حیران کن حد تک صحیح تقریب (accurate approximation) مقرر کر چکی تھی۔ اس چیز کا سختی سے مطالبہ واضح طور پر غلط ہے کہ نئے طبیعی نظریات کو کچھ پہلے سے اندازہ شدہ فلسفیانہ میعاروں پر پورا اترنا چاہیئے۔

 

کوانٹم میکانیات میں کسی نظام کی حالت کلاسیکی طبیعیات کی طرح ہر ذرے کا مقام اور رفتار اور مختلف میدانوں کی تبدیلی کی شرح کی قیمتیں دے کر بیان نہیں کی جاتی۔اس کے برعکس کسی بھی لمحے کسی نظام کی حالت ایک موجی تفاعل (wave function) سے بیان کی جاتی ہے جو کہ بنیادی طور پر بہت سارے عددوں کی فہرست ہے، جس میں سے ہر عدد نظام کی ہر ممکنہ صورت کو ظاہر کرتا ہے۔اگر نظام ایک ذرے پر مشتمل ہے، تو ہمارے پاس مکان میں ہر اس جگہ کے لیے ایک عدد ہوگا جس میں وہ ذرہ سکونت اختیار کر سکتا ہے۔یہ کلاسیکی طبیعیات میں صوتی موج کی وضاحت کی طرح ہے، سوائے اس کے کی صوتی موج میں مکان میں ہر نقطے پر عدد اس نقطے پر ہوا کے دباؤ (Pressure) کو ظاہر کرتا ہے جب کہ کوانٹمی طبیعیات میں ایک ذرے کے لیے کسی جگہ پرموجی تفاعل کا عدد اس جگہ پر ذرے کے موجود ہونے کے احتمال کو ظاہر کرتا ہے۔اس میں اتنی مبہم چیز کیا ہے؟ یقیناً آئن سٹائن اور شروڈنگر کا کوانٹمی میکانیات کو استعمال نہ کرنا اور اپنی زندگی کے آخری ایام میں خود کواس شاندار ترقی سے دور کر لینا جو دوسروں نے کی، ایک المناک غلطی تھی۔

 

(2)

 

اس کے بعد بھی میں کوانٹمی میکانیات کے مستقبل کے بارے میں اتنا پریقین نہیں ہوں جتنا کبھی تھا۔ یہ ایک برا شگون ہے کہ حال کے وہ طبیعیات دان جو کوانٹمی میکانیات سےبہت مطمئین ہیں اس کے معانی پر ایک دوسرے سےمتفق نہیں ہیں۔ کوانٹم میکانیات میں تضاد خصوصاً پیمائش کی فطرت(nature of measurement) سے اٹھتا ہے۔اس مسلے کی وضاحت ایک سادہ سی مثال، برقیے کی غزل (spin) کی پیمائش،سے کی جا سکتی ہے)کسی ذرے کی کسی بھی سمت میں غزل کی پیمائش اسی سمت میں کھینچی گئی لکیر کے گرد مادہ کے گھماؤ کو ظاہر کرتی ہے)۔

 

اس بات پر تمام نظریے متفق ہیں اور تمام تجربات تصدیق کرتے ہیں کہ جب آپ اپنی مرضی کی سمت میں برقیے کی غزل کی پیمائش کرتے ہیں تو دو ممکنہ نتائج حاصل ہوتے ہیں۔ ایک ممکنہ نتیجہ ایک مثبت عدد کے برابر ہے جو کہ قدرت کا ایک کائناتی مستقل(universal constant) ہے۔یہ وہ مستقل ہے جسے بنیادی طور پر میکس پلانک نے 1900 میں تپشی شعاعوں کے نظریے(theory of heat radiations) میں متعارف کرایا تھا اور یہ h اور 4π کا حاصلِ تقسیم ہوتا ہے۔دوسرا ممکنہ نتیجہ اس کا متضاد ہے، یعنی پہلے نتیجے کا امتناعی(Negative) ہے۔غزل (spin)کی یہ مثبت یا منفی قیمتیں ایک ایسے برقیے(electron) کو ظاہر کرتی ہیں جو اپنی پسند کی ساعتی یا ضد ساعتی(clockwise or counter-clockwise) سمت میں گھوم رہا ہوتا ہے۔

 

لیکن یہ دو ممکنات صرف اس وقت ہیں جب پیمائش کی جاتی ہے۔ایک برقیے کی غزل جس کی پیمائش نہ کی گئی ہو موسیقی کی ایک دھن کی طرح ہے جو کہ دو سُروں، جن کا اپنا اپنا حیطہ (amplitude) ہوتا ہے،کے انطباق سے بنائی گئی ہو۔ ہر سُر مثبت اور منفی غزل کو ظاہر کرتی ہے۔جس طرح ایک دھن ایک آواز پیدا کرتی ہے جو اس کی بنانے والی سُروں سے مختلف ہوتی ہے،اسی طرح ایک برقیے کی غزل جس کی ابھی پیمائش نہ کی گئی ہو اس کی دونوں حالتوں کی متعین غزلوں کا انطباق (superposition of spins)ہوتی ہے اور یہ انطباقی حالت کیفیتاً باقی دونوں حالتوں سے مختلف ہوتی ہے۔اس موسیقائی مطابقت میں غزل کی پیمائش کا عمل دھن کی ساری شدت کسی ایک سُر پر ڈال دیتا ہے، جس کو پھر ہم سنتے ہیں۔
اس کو موجی تفاعل کی صورت میں بھی سمجھا جا سکتا ہے۔ اگر ہم برقیے کی غزل کے علاوہ اس کی ہر شئے(خوبی) کو نظر انداز کر دیں تو پھر اس کے موجی تفاعل میں موج جیسا کچھ نہیں رہ جاتا۔یہ صرف عددوں کا ایک جوڑا ہے جس میں ہر عدد کسی ایک سمت میں غزل کو ظاہر کرتا ہے۔بالکل ایسے جیسے دھن میں سُروں کے حیطوں کا جوڑا ہوتا ہیں۔ایک برقیے کا موجی تفاعل،جس کی غزل کی پیمائش نہ کی گئی ہو، میں عمومی طور پر دونوں طرح کی غزل کی قیمت غیر صفری ہوتی ہے۔

 

کوانٹمی میکانیات کا ایک اصول ہے جو کہ بارن کے اصول (Born Rule)سے جانا جاتا ہے۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ کس طرح ہم کسی تجربہ میں موجی تفاعل کو استعمال کر کے مختلف نتائج کے حاصل ہونے کےاحتمالوں کا حساب لگاتے ہیں۔مثال کے طور پر بارن کا اصول ہمیں بتاتا ہے کہ جب کسی ایک سمت میں غزل کی پیمائش کی جاتی ہے تو اس کے مثبت یا منفی ہونے کا احتمال غزل کی ان دو حالتوں کے موجی تفاعل میں موجودعددوں کے مربع کے متناسب ہوتا ہے۔

 

طبیعیات کے اصولوں میں احتمال کا تعارف ماضی کے ماہرِ طبیعیات کے لیے بہت پریشان کن تھا، لیکن کوانٹمی میکانیات کے ساتھ مسئلہ یہ نہیں ہے کہ اس میں احتمال موجود ہیں۔ ہم اسے برداشت کر سکتے ہیں۔ مسلہ یہ ہے کہ کوانٹمی میکانیات میں موجی تفاعل کی وقت کے ساتھ تبدیلی کو ایک مساوات سے ظاہر کیا جاتا ہے جو شروڈنگر کی مساوات کہلاتی ہے اور اس میں احتمالات موجود نہیں ہیں۔ یہ اتنی ہی جبریتی (deterministic) ہے جتنا کہ نیوٹن کی حرکت اور تجاذب کی مساواتیں ہیں۔ مطلب یہ کہ اگر آپ کے پاس کسی ایک لمحے پر موجی تفاعل موجود ہے تو شروڈنگر کی مساوات آپ کو بتائے گی کہ مستقبل میں کسی وقت پر موجی تفاعل کیا ہو گا۔یہاں بدنظمی(chaos) کا بھی امکان نہیں ہے جو نیوٹنائی میکانیات میں ابتدائی شرائط(initial conditions) میں نہایت حساس تبدیلیوں سے بھی پیدا ہو جاتی تھی۔لہٰذا اگر ہم پیمائش کے سارے عمل کو کوانٹمی میکانیات کی مساواتوں سے منسوب کر دیں اور یہ کہ یہ مساواتیں مکمل طور پر جبریتی ہیں تو پھر کوانٹمی میکانیات میں احتمالات کہاں سے آتے ہیں؟

 

ایک عام جواب یہ ہے کہ پیمائش کے دوران غزل(یا جو کچھ بھی ماپا جائے) ایک کبیرماحول(macroscopic environment) کے ساتھ تعامل کرتی ہے جس سے اس میں غیر پیش گوئیانہ(unpredictable) انداز میں جنبش (Jitter)پیدا ہوتی ہے۔مثال کے طور پر یہ ماحول روشنی کی شعاع میں ضیائیوں(photons) کا فوارہ ہو سکتا ہے جسے کسی نظام کا مشاہدہ کرنے کے لیے استعمال کیا گیا ہو،جو کہ فطرت میں اتنا ہی غیر پیش گوئیانہ ہے جتنا کہ بارش کے قطروں کا فوارہ۔ ایسا ماحول موجی تفاعل میں مختلف حالتوں کے انطباق(superposition) کو توڑنے کا باعث بنتا ہے۔جس سے پیمائش کا ایک غیر پیش گوئیانہ نتیجہ آتا ہے(جو کہ غیر اتصال(decoherence) کہلاتا ہے)۔یہ ایسے ہی ہے جیسے ایک پرشور پسِ منظر غیر پیس گوئیانہ طور پر کسی دھن کے صرف ایک سُر کو قابلِ سماعت رہنے دیتا ہے۔لیکن یہ اس سوال کو جنم دیتا ہےکہ اگر جبریتی شروڈنگر کی مساوات وقت کے ساتھ صرف غزل ہی نہیں بلکہ پیمائشی سامان اوراس کو استعمال کرنے والے طبیعیات دان میں ہونے والی تبدیلیوں کو بھی بتاتی ہے تو پھر پیمائش کے نتائج اصولاً غیر پیش گوئیانہ نہیں ہونے چاہیے۔ لہٰذا ہمیں پھر سے پوچھنا ہو گا کہ کوانٹمی میکانیات میں احتمالات کہاں سے آتے ہیں؟

 

اس پہیلی کا ایک جواب 1920 کی دہائی میں نیل بوہر(Neils Bohr) نے دیا، جو کہ کوانٹمی میکانیات کی کوپن ہیگنی تاویل(Copenhagen interpretation) کے طور پر جانا جاتا ہے۔ بوہر کے مطابق کسی بھی پیمائشی عمل میں کسی نظام کی حالت(جیسا کہ غزل) کسی ایک یا دوسرے نتیجے تک محدود ہو جاتی ہے جس کو کوانٹمی میکانیات سے بیان نہیں کیا جا سکتا اور یہ حقیقتاً غیر پیش گوئیانہ ہوتا ہے۔ یہ جواب اب بڑے پیمانے پر ناقابلِ قبول محسوس کیا جاتا ہے۔بوہر کے مطابق ہمارے پاس ایسا کوئی راستہ نہیں ہے جو ان حدود کی نشاندہی کرے جن کے بیچ کوانٹمی میکانیات لاگو ہوتی ہے۔جب یہ ہو رہا تھا تب میں کوپن ہیگن میں بوہر انسٹیٹیوٹ(Bohr institute) میں گریجوایشن کا طالب علم تھا۔ وہ بہت عظیم تھا اور میں بہت کم عمرا اور مجھے اس سے اِس کے بارے میں پوچھنے کا کبھی موقع نہیں ملا۔

 

کوانٹمی میکانیات کی وضاحت کے دو نقطہِ نظر ایسے ہیں جن کو بہت زیادہ مانا جاتا ہے۔ ان میں سے ایک حقیقت پسندانہ (realist) اور دوسرا آلیتی (instrumental) نقطہِ نظر کہلاتا ہے۔ یہ دونوں پیمائش میں احتمال کے مبدا (origin)کو مختلف زاویوں سے دیکھتے ہیں۔ کچھ وجوہات، جن کی میں وضاحت کروں گا، کی بنا پر مجھے کوئی بھی نقطہِ نظر تسلی بخش نہیں لگتا۔

 

(3)

 

آلاتی نقطہِ نظر کوپن ہیگنی تاویل(Copenhagen interpretation) کا ہی ایک جد ہے۔ بجائے اس کے کہ ان حدود کا تعین کیا جاتا جن کے اندر کوانٹم میکانیات حقیقت کی صحیح تشریح کر سکتی ہے انہوں نے اس کو یکسر رد کر دیا۔ اس میں ابھی بھی ایک موجی تفاعل ہے مگر یہ ایک ذرے یا میدان کی طرح حقیقی نہیں ہے بلکہ محض ایک آلہٰ ہے جوکسی پیمائش میں مختلف نتائج کے حاصل ہونے کے احتمالوں کی پیشین گوئی کرتا ہے۔

 

اس نقطہِ نظر کے ساتھ مسلہ صرف یہی نہیں ہے کہ یہ سائنس کے ایک قدیم مقصد کو ہی نظر انداز کر دیتا ہے: کہ اس میں حقیقتاً ہو کیا رہا ہے۔ بلکہ یہ ایک بہت افسوس ناک قسم کی دست برداری ہے۔آلیتی نقطہِ نظر میں جب انسان پیمائش کرتے ہیں تو ان اصولوں کو قدرت کے اساسی اصولوں کے طور پر گمان کرنا پڑتا ہےجن کی مدد سے موجی تفاعل کو استعمال کر کے مختلف نتائج کے احتمالوں کا حساب لگایا جاتا ہے۔لہٰذا انسانوں کو بہت بنیادی سطح پر قوانینِ قدرت میں داخل کر لیا گیا ہے۔یوجین وگنر(Eugene Wigner)،جو کے کوانٹمی میکانیات کے بانیوں میں سے تھا،کا کہنا ہے کہ شعور (consciousness)کے بنا کونٹمی میکانیات کے قوانین کو یکساں طور پر وضع کرنا ممکن نہ تھا۔
لہٰذا آلیتی نقطہِ نظر اس نقطہِ نظر سے منہ موڑ لیتا ہے جو ڈارون کے بعد رائج رہا کہ دنیا میں چند اٹل طبیعی قوانین ہیں جو انسانی رویوں سمیت ہر چیز کو اپنی گرفت میں لیے ہوئے ہیں۔ ہمارا یہ اعتراض اس لیے نہیں ہے کہ ہم انسانی سوچ کے مخالف ہیں بلکہ ہم اس سوچ کے مخالف ہیں جو یہ کہتی ہے کہ انسان اور فطرت کے تعلق کو سمجھنے کے لیے ہمیں یہ فرض کرنا پڑے گا کہ ہم فطرت کے بنیادی قوانین بناتے ہوئے اس سے اپنی ذاتی سوچ کو منہا نہیں کر سکتے۔ ہو سکتا ہے ہمیں آخر میں اس مقصد کو ترک کرنا پڑے پر میرے خیال سے ابھی نہیں۔

 

کچھ طبیعیات دان جو آلیتی نقطہِ نظر کے حامی ہیں یہ دلیل دیتے ہیں کہ وہ احتمالات جو ہم موجی تفاعل سے اخذ کرتے ہیں معروضی احتمالات ہیں اور ان کا ان انسانوں سے کوئی واسطہ نہیں جو پیمائش کر رہے ہوتے ہیں۔میں اسے قابلِ دفاع نہیں سمجھتا۔ کوانٹمی میکانیات میں احتمالات اس وقت تک موجود نہیں ہوتے جب تک لوگ یہ فیصلہ نہ کریں کہ کس چیز کی پیمائش کرنی ہے، جیسا کہ کسی ایک یا دوسری سمت میں غزل(spin) کی پیمائش کرنا۔ کلاسیکی طبیعیات کے برخلاف ہمیں لازمی طور پر انتخاب کرنا ہو گا کیونکہ کوانٹمی میکانیات میں ہر شئے کی بیک وقت پیمائش نہیں کی جا سکتی۔ جیسا کہ وارنر ہائزنبرگ (Warner Heisenberg)نے کہا کہ کوئی بھی ذرہ بیک وقت معین رفتار اور معین مقام نہیں رکھ سکتا۔ کسی ایک کی پیمائش دوسرے کو پیمائش سے محروم کر دیتی ہے۔اسی طرح اگر ہمیں اس موجی تفاعل کا پتہ ہو جو ایک برقیے کی غزل کو بیان کرتا ہو تو ہم اس احتمال کا حساب لگا سکتے ہیں کہ پیمائش کرنے پر اس برقیے کی مثبت غزل کی سمت شمال کی جانب ہو گی یا پھر مشرق کی جانب،مگر ہم دونوں سمتوں میں مثبت غزل کے احتمال کی بات نہیں کر سکتے کیونکہ ایسی کوئی حالت نہیں ہے جس میں برقیے کی دونوں سمتوں میں معین غزل ہو۔

 

(4)

 

کوانٹمی میکانیات کے حقیقت پسندانہ نقطہِ نظر میں ان مسائل سے آلیتی نقطہِ نظر کے برخلاف جزوی چھٹکارہ حاصل کر لیا گیا ہے۔اس میں موجی تفاعل اور اس کے جبریتی ارتقا(deterministic evolution) کو سنجیدگی سے حقیقت کے اظہار کے طور پر لیا جاتا ہے مگر یہ دیگر مسائل پیداکرتا ہے۔

 

حقیقت پسندانہ نقطہِ نظر کا ایک بہت عجیب مضمر ہے جس کا حساب پہلی مرتبہ مرحوم ہف ایورٹ(Hugh Everett) کے پرنسٹن کے پی ایچ ڈی کے مقالے میں لگایا گیا۔جب کوئی طبیعیات دان کسی برقیے کی غزل کی پیمائش کرتا ہے، کہہ لیں کہ شمال کی سمت میں، توحقیقت پسندانہ نقطہِ نظر سے برقیے، پیمائشی سامان اورطبیعیات دان کا موجی تفاعل شروڈنگر کی مساوات کی رو سے جبریتی طور پر ارتقا پاتا ہے،لیکن اس پیمائش کے نتیجے میں موجی تفاعل دو ٹرمز کا انطباق(superposition) بن جاتا ہے،جن میں سے ایک میں برقیے کی غزل مثبت ہوتی ہے اور ہر کوئی جو بھی اس کو دیکھتا ہے سمجھتا ہے کہ یہ مثبت ہے جب کہ دوسرے میں منفی ہوتی ہے اور ہر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ یہ منفی ہے۔چونکہ ہر کوئی اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ موجی تفاعل کی ہر ٹرم(Term) میں غزل کا ایک ہی حتمی نشان(sign) ہے اس لیے انطباق کا پتہ چلانا ممکن نہیں۔ نتیجتاً دنیا کی تاریخ دو حصوں میں تقسیم ہو جاتی ہے جن کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

 

یہ بہت عجیب ہے پر تاریخ کا بٹ جانا صرف اسی وقت نہیں ہوتا جب ہم غزل کی پیمائش کرتے ہیں۔ حقیقت پسندانہ نقطہِ نگاہ سے تاریخ لامتناہی طور پر تقسیم ہوتی جاتی ہے،اور ایسا ہر بار ہوتا ہے جب بھی کوئی اجمالی(Macroscopic) جسم کسی کوانٹمی حالت کے ساتھ منسلک ہوتا ہے۔ان ناقابلِ فہم اقسام کی تواریخ نے سائنس فکشن کے لیے کافی مواد مہیا کیا ہےاور یہ کثیرِنات(multiverse) کے لیے توجیہہ(rationale) فراہم کرتی ہے۔اور اس میں وہ خاص کائناتی تاریخ جس میں ہم پائے جاتے ہیں اس چیز کی پابند ہے کہ اس کو لازمی طور پر ان تواریخ میں سے ایک ہونا تھا جن میں صورتحال ایسی ہو کہ وہان ذی شعور لوگ رہ سکیں۔ لیکن ان متوازی تواریخ کا تصور کافی پریشان کن ہے اور بہت سارے دوسرے طبیعیات دانوں کی طرح میں بھی ایک اکیلی تاریخ کو ہی ترجیح دوں گا۔

 

ہماری تنگ نظرانہ ترجیحات سے بالا تر، حقیقت پسندانہ نقظہِ نظر میں ایک اور چیز بھی ہے جو غیر تسلی بخش ہے۔ اس نقطہِ نظر میں کثیرِنات(multiverse) کا موجی تفاعل جبریتی طور پر ارتقا پاتا ہے۔ ہم اب بھی احتمالوں کی وقت کی کسروں کی صورت میں بات کر سکتے ہیں کہ جب بھی کسی ایک تاریخ میں پیمائش کو بہت بار دہرایا جاتا ہے تو ہمیں بہت سے ممکنہ نتائج حاصل ہوتے ہیں۔لیکن وہ اصول جو ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ کون کون سے احتمالوں کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے وہ پوری کثیرِنات کے جبریتی ارتقا کے نتیجے میں حاصل ہوں گے۔اگر ایسا نہ ہوتا تو پھر احتمالوں کی پیش گوئی کرنے کے لیے ہمیں کچھ اضافی مفروضے قائم کرنے پڑتے کہ کیا ہوتا ہے جب انسان کوئی پیمائش کرتے ہیں اور اس طرح ہمیں پھر سے انہیں خامیوں کا سامنا کرنا ہو گا جن کا ہم آلیتی نقطِ نظر میں کر چکے ہیں۔ حقیقت پسندانہ نقطہِ نظر کے بعد بہت ساری کوششیں بارن کے اصول(Born rule)،جو کہ تجرباتی طور پر بہت اچھے نتائج دیتا ہے، کی طرح کے اصول اخذ کرنے کے قریب پہنچی پر میرے خیال سے کسی کو حتمی کامیابی نصیب نہیں ہوئی۔

 

ہف ایوریٹ کے کثیر تواریخ کے بارے میں لکھنے سے پہلے ہی کوانٹم میکانیات کا حقیقت پسندانہ نقطہِ نگاہ ایک مختلف قسم کے مسلے سے دوچار ہو چکا تھا۔ جس کے بارے میں آئن سٹائن اور اس کے ہم منصبوں بورس پوڈولسکی(Boris Podolsky) اور ناتھن روزن(Nathan Rosen) نے 1935 میں چھپنے والے ایک مقالے میں لکھا۔اور یہ مسلہ الجھاؤ(entanglement) کے عمل کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے۔

 

فطرتاً ہم یہ سوچتے ہیں کہ حقیقت کو مقامی طور پر بیان کیا جا سکتا ہے۔ میں یہ بتا سکتا ہوں کہ میری تجربہ گاہ میں کیا ہو رہا ہے اور تم یہ بتا سکتے ہو کہ تمہاری میں کیا ہو رہا ہے مگر ہم ایک ہے وقت میں دونوں کے بارے میں نہیں بتا سکتے۔لیکن کوانٹمی میکانیات میں ایک نظام کا الجھاؤ(entanglement) کی حالت میں ہو نا ممکن ہے، جو کہ ایک ہی نظام کے دو مختلف حصوں کے درمیان باہمی تعلق کو بیان کرتا ہے جو ایک دوسرے سے بہت دور ہوتے ہیں۔ بالکل ایک بہت لمبی ٹھوس چھڑی کے دو کناروں کی طرح۔

 

مثال کے طور پر فرض کیجیے ہمارے پاس برقیوں کا ایک جوڑا ہے جن کی کسی بھی سمت میں کل غزل(total spin) صفر ہے۔ایسی حالت میں موجی تفاعل(غزل کے علاوہ ہر چیز کو نظر انداز کرتے ہوے) دو ٹرمز کا مجموعہ ہے: ایک ٹرم میں برقیہ الف(electron A) کی غزل مثبت جبکہ برقیہ ب(electron B) کی غزل منفی ہے، کہہ لیں شمال کی سمت میں، جب کہ موجی تفاعل کی دوسری ٹرم میں مثبت اور منفی علامات الٹ دی جاتی ہیں۔ ایسی حالت میں کہا جاتا ہے کہ برقیوں کی غزلیں (spins)الجھ چکی ہیں۔اگر ایسا کچھ نہ کیا جائے جس سے ان غزلوں میں مداخلت پڑے تو یہ الجھی ہوئی حالت ایسے ہی رہے گی چاہے برقیے ایک دوسرے سے بہت دور چلے جائیں۔ وہ جتنے بھی دور ہوں ہم صرف دونوں برقیوں کے موجی تفاعل کی بات کر سکتے ہیں، ہر ایک کے علیحدہ علیحدہ کی نہیں۔ گھماؤ نے کوانٹمی میکانیات پر آئن سٹائن کی بے اعتباری میں اتنا ہی یا اس سے بھی زیادہ حصہ ڈالا جتنا کہ احتمالوں کے ظہور نے ڈالا تھا۔

 

عجیب تو یہ ہے ہی پر الجھاؤ جس کو کوانٹمی میکانیات ممکن بناتی ہے،کا تجرباتی مشاہدہ کیا جا چکا ہے۔ لیکن کوئی اتنی عجیب چیز حقیقت کا اظہار کیسے کر سکتی ہے۔

 

(5)

 

quantam-physics-2

تو کوانٹم میکانیات کی خامیوں کے بارے میں کیا کیا جانا چاہیے؟ ایک مناسب جواب ایک استفساریہ طالب علم کو دی گئی عظیم صلاح میں موجود ہے: منہ بند کرو اور حساب لگاو”۔ اس بارے میں کوئی بحث نہیں ہے کہ کوانٹم میکانیات کو کیسے استعمال کیا جائے بلکہ یہ ہے کہ کیسے بیان کیا جائے کہ اس کا کیا مطلب ہے، چناچہ مسئلہ صرف الفاظ کا ہے۔
دوسری جانب ہو سکتا ہے کوانٹم میکانیات کی موجودہ حالت میں ادراکِ پیمائش کے مسائل ہمیں تنبیہ کر رہے ہوں کہ نظریے کو ترمیم کی ضرورت ہے۔ کوانٹمی میکانیات جوہروں کے لیے اتنے اچھے طریقے سے کام کرتا ہے کہ کسی بھی نئے نظریے کو اتنی چھوٹی چیزوں پر لاگو ہونے کے کیے کوانٹم میکانیات سے تقریباً بلا امتیاز(indistinguishable) ہونا پڑے گا۔ لیکن ایک نیا نظریہ اس طرح بنایا جا سکتا ہے کہ بڑے اجسام جیسا کہ طبیعیات دان اور ان کے تجرباتی سامان کی حالتوں کا انطباق(superposition) تنہائی میں بھی ایک یکایک خودکار تصادم کا شکار ہو جائے جس میں احتمالات ارتقا پا کر وہی نتائج دیں جو کوانٹم میکانیات میں متوقع تھے۔ایوریٹ کی متعدد تواریخ فطرتی طور پر ایک تاریخ میں منہدم ہو جائیں گی۔ نیا نظریہ بنانے کا مقصد پیمائش کو طبیعیات کے قوانین میں کوئی خاص حیثیت دیئے بنا مابعد کوانٹمی نظریے میں عام طبیعیاتی عمل کا حصہ بنانا ہے۔

 

نیا نظریہ بنانے میں ایک مسلہ یہ ہے کہ ہمیں تجربے سے کوئی جہت نہیں ملتی- اب تک کا تمام ڈیٹا(data) عام کوانٹم میکانیات کے ساتھ مطابقت رکھتاہے۔تاہم ہمیں کچھ عمومی اصولوں سے کچھ مدد ملتی ہے جو کسی بھی نئے نظریے پر حیران کن پابندیاں عائد کرتے ہیں۔

 

ظاہر ہے احتمالات لازمی طور پرمثبت عدد اور ان کا مجموعہ سو فیصد ہونا چاہیے۔ایک اور مطالبہ بھی ہے جو عام کوانٹم میکانیات میں پورا ہوتا ہے۔وہ یہ کہ الجھی حالتوں(entangled states) میں پیمائش کے دوران احتمالوں کے ارتقا کو آنی اشارے(instantaneous signals) بھیجنے کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا کیوں کہ یہ نظریہِ اضافیت کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔نظریہ اضافیت کا تقاضہ ہے کہ کوئی بھی اشارہ(signal) روشنی کی رفتار سے تیزسفر نہیں کر سکتا۔جب ان تقاضوں کو اکٹھا کیا جاتا ہے تو احتمالوں کا ارتقا لنڈبالڈ مساواتوں (Lindbald equations)کی ایک مساوات پر پورا اترتا ہے۔کوانٹم میکانیات کی شروڈنگر کی مساوات لنڈبالڈ مساواتوں میں ایک خاص حالت(special case) کے طور پر ظاہر ہوتی ہے، لیکن عمومی طور پر ان مساواتوں میں بہت ساری نئی مقداریں ہیں جو کہ کوانٹم میکانیات سے انحراف کو ظاہر کرتی ہیں۔ ان مقداروں کی تفصیلات ہمیں معلوم نہیں ہیں۔نظریاتی برادری کے باہر اگرچہ اس بات کو کم محسوس کیا گیا ہے تاہم تحقیقی مقالوں کی ایک اچھی خاصی مقدار ہے جو چھپ چکی ہے ان میں 1986 کا جیان کارلو غرارڈی(Gian Carlo Ghirardi)، البرٹو ریمینی(Alberto Rimini) اور ٹولیو ویبر (Tulio Weber) کا وہ پُر اثر مقالہ بھی شامل ہے جس میں لنڈبالڈ مساواتوں کو استعمال کر کے کوانٹم میکانیات کی کئی طریقوں سے ترمیم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

 

حالیہ دنوں میں میں جوہری گھڑیالوں(atomic clocks) میں کوانٹم میکانیات سے انحراف کے ممکنہ تجربے کے بارے میں سوچ رہا تھا۔کسی بھی جوہری گھڑیال کا بنیادی حصہ ایک آلہ ہے جسے مرحوم نارمن ریمزی(Norman Ramsey) نے خردموجی(microwave) اور مرئی شعاعوں (visible radiation) کے تعدد(frequency)کو ایک معلوم شدہ تعددسے ہم آہنگ (tune)کرنے کے لیے بنایا۔جب بھی جوہر کا موجی تفاعل دو مختلف توانائی کی حالتوں کا انطباق ہوتا ہے تو اس قدرتی تعدد پر ارتعاش (oscillate) کرتا ہے۔یہ قدرتی تعدد (natural frequency)گھڑیال میں استعمال ہونے والی دو مختلف حالتوں کے توانائی کے فرق کو پلانک کے مستقل(Plank’s constant) پر تقسیم کرنے سے حاصل ہوتا ہے۔یہ تمام بیرونی حالات کے تحت ایک ہی رہتا ہے اور تعدد کے لیے ایک قائم شدہ حوالے(fixed reference) کا کام کرتا ہے بالکل ایسے ہی جیسے سیورز(Sevres) کے مقام پر رکھا پلاٹینم اور اریڈیم (platinum , Iridium) کا استوانہ (cylinder) کمیت کے لیے قائم حوالے کا کام کرتا ہے۔

 

ایک برقناطیسی موج (electromagnetic wave) کے تعدد کو اس حوالے کے تعدد سے ہم آہنگ کرنا ایک میٹرونوم(metronome) کو دوسرے میٹرونوم سے ہم آہنگ کرنے کی طرح کام کرتا ہے۔اگر آپ دو میٹرونوموں کو اکٹھے بجائیں تو ان کے سُر ہزار سُروں کے بعد بھی ہم آہنگ ہوں گے۔آپ جانتے ہیں کہ ان کے تعدد ایک کے ایک ہزارویں حصے تک برابر ہیں۔کوانٹم میکانیاتی حساب یہ ظاہر کرتے ہیں کہ کچھ جوہری گھڑیالوں میں ہم آہنگی ایک کے ایک سو ملین بلین ویں(hundred million billion) حصے تک درست ہونی چاہیے اور درحقیقت یہ درستگی دیکھی گئی ہے۔ لیکن اگر کوانٹم میکانیات میں اصلاحات (corrections)،جن کوتوانائی کی شکل میں لکھی لنڈبالڈ کی مساواتوں میں نئی ٹرمز سے ظاہر کیا جاتا ہے، گھڑیال میں استعمال ہونے والی جوہری حالتوں کے توانائی کے فرق کے ایک سو ملین بلین ویں حصے کے بھی برابر ہوتی تو یہ درستگی ختم ہو جاتی۔ لہٰذا نئی ٹرمز کواس سے بھی خفیف(smaller) ہونا ہو گا۔

 

یہ حد کتنی مؤثر ہے؟ بدقسمتی سے کوانٹم میکانیات میں اصلاح کے یہ تصورات نہ صرف قیاسی بلکہ مبہم بھی ہیں۔ اور مجھے کوئی اندازہ نہیں ہے ہمیں کوانٹم میکانیات کی ان اصلاحات کو کتنا بڑا گمان کرنا چاہیے۔ نہ صرف اس مسلے بلکہ عمومی طور پر کوانٹم میکانیات کے مستقبل کے متعلق مجھے بارہویں رات میں وائلا(Voila in Twelfth Night) کی طرح صدا لگانا ہو گی “اس پہیلی کو اب وقت ہی سلجھا سکتا ہے میں نہیں”