Categories
نان فکشن

کائنات کی ساخت (تحریر: کارلو رویلی، ترجمہ فصی ملک، زاہد امروز)

تیسرا سبق: کائنات کی ساخت
کارلو رویلی
ترجمہ: زاہد امروز، فصی ملک

اسی سلسلے کے مزید اسباق پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

بیسویں صدی کی ابتدائی دہائیوں میں آئن سٹائن نے اپنی تحقیق کے ذریعے واضح کیا کہ زمان و مکاں کیسے کام کرتے ہیں جب کہ نیل بوہر(Neil Bohr) اوراس کے شاگردوں نے مادہ کی کوانٹمی (ذرّاتی) ماہیت کو ریاضی کی مساواتوں کی شکل میں بیان کیا۔ ان کے بعد بیسویں صدی کی آخری دہائیوں میں آنے والے طبیعات دانوں نے ان دو بنیادی نظریات کی روشنی میں فطرت کی مزید تشریح کرنےکی کوشش کی۔ سائنسی محققوں نے ان نظریات کو کائنات کی دو مختلف سطحوں یعنی بڑے اجسام (ستاروں اور سیاروں) پرمحیط کائنات اورچھوٹے اجسام (بنیادی ایٹمی ذرات) کی نظر نہ آنے والی کائنات پرلاگو کیا۔ اس سبق میں ہم بڑے اجسام پرمحیط کائنات کے بارے میں بات کریں گےاوراگلے سبق میں چھوٹے اجسام کی کائنات پر۔

اس سبق کا زیادہ تر حصہ سادہ تصاویر پر مشتمل ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تجربات، پیمائش، ریاضیاتی مساواتوں اوراستخراجیہ سے بالاتر سائنس کا تعلق دراصل بصارت سے ہے یعنی آپ کسی مظہر کا مشاہدہ کیسے کرتے ہیں اوراسے سمجھنے کے لئے آپ کے ذہن میں کیا تشبیہ بنتی ہے۔ سائنس بصارت سے شروع ہوتی ہے۔ سائنسی تخیل کواس بات سے تقویت ملتی ہے کہ چیزوں کو پچھلی بار کی نسبت ایک نئے زاویے سے دیکھا اور سمجھا جائے۔ اس لئے میں کچھ تصاویر کی مدد سے آپ کوان سائنسی تصورات کی بصری تشریح پیش کرنا چاہتا ہوں تاکہ آپ کے ذہن میں یہ تصورات اس طرح واضح ہوجائیں جیسے سائنس انہیں دیکھتی ہے ۔

کائنات کا قدیم تصویر

مندرجہ بالا تصویر بتاتی ہے کہ کیسے ہزاروں سالوں تک کائنات کی ساخت کے بارے میں یہ گمان کیا جاتا رہا کہ یہ دو حصوں میں اس طرح منقسم ہے کہ زمین ہمارے نیچے جب کہ ہمارے آسمان اوپر ہے۔ پہلا سائنسی انقلاب آج سے چھبیس سو سال پہلے تب رونما ہوا جب ایک یونانی فلسفی اناکسی میندر(Anaximander) نے یہ سمجھنے کی کوشش کی کہ کیسے ممکن ہے کہ سورج، چاند اور ستارے ہماری زمین کے گرد گھومتے ہوں۔ اس نے کائنات کی درج بالا تصویر کو اس تصویر سے بدل دیا۔

ایناکسی میندر کے نقطہ نظر میں کائنات سادہ ہے

اس تصویرمیں کائنات کی ساخت کا مختصر تصور ہے۔ اب آسمان صرف ہمارے اوپرموجود ہونے کی بجائے ہر طرف موجود ہے۔ اس تصور کے مطابق زمین سپیس(Space) میں تیرتی ہے جس کے ہر طرف آسمان ہے۔ اس تصور کے پیش کیے جانے کے کچھ عرصہ بعد ہی ایک اور یونانی فلسفی، پیرمینڈیس یا شاید فیثا غورث(Parmenides or Pythagoras) نے محسوس کیا کہ سپیس میں مسلسل تیرتی ہوئی زمین کے اس توازن کو سمجھنے کے لئے کُرّہ یا مدار کا تصورزیادہ مناسب لگتا ہے کیوں کہ مدارمیں گھومتا ہوا ایک جسم اپنے اردگرد ہرسمت میں مساوی فاصلے پر رہتا ہے۔ارسطو(Aristotle) نے زمین اور اس کےگرد گھومتے ہوئے دوسرے آسمانی اجسام کی حرکت کے کُروی ہونے کے بارے میں تسلی بخش سائنسی دلائل واضح کیے۔ اس کے نتیجے میں حاصل ہونے والی کائنات کی تصویر مندرجہ ذیل ہے۔

یہ کائنات کی وہ تصویر ہے جسے ارسطو نے اپنی کتاب” آسمانوں پر” میں پیش کیا

یہ کائنات کی وہ تصویر ہے جسے ارسطو نے اپنی کتاب” آسمانوں پر” میں پیش کیا۔ کائنات کا یہی تصوّر بحیرہ روم کی تہذیبوں میں قرونِ وسطیٰ کے اختتام تک قایم رہا ۔ یہ جاننا کس قدر دلچسپ ہے کہ کائنات کا یہ تصوّردانتے اور شیکسپیئرجیسے لوگوں نے اپنے سکول میں پڑھا۔

اس کے بعد کائنات کو سمجھنے میں بڑی جست کوپرنیکس (Copernicus) نے لگائی جس سے اس دور کا آغاز ہوا جس کو اب عظیم سائنسی انقلاب کہا جاتا ہے۔ کوپرنیکس کی دنیا ارسطو کی دنیا سے زیادہ مختلف نہیں ہے لیکن درحقیقت ان دونوں میں ایک بہت اہم فرق ہے۔

کوپر نیکس کے خیال میں کائنات کا مرکز زمین نہیں سورج ہے

زمانہ قدیم کا تصورکائنات جس میں زمین مرکز ہے، کوپرنیکس کے نزدیک درست نہیں تھا۔ اس نے یہ تصور پیش کیا کہ سیاروں کے اس کائناتی رقص میں ہماری زمین اس کا مرکز نہیں ہے بلکہ اس کے مرکز میں سورج ہے۔ اس لحاظ سے ہمارا سیارہ زمین بہت سارے دوسرے سیاروں کے ہمراہ بہت تیز رفتاری سے اپنے محور کے ساتھ ساتھ سورج کے گرد بھی ایک مدارمیں گھوم رہا ہے۔

وقت کے ساتھ ساتھ انسانی علم بڑھتا رہا اور بہتر پیمائشی آلات کے زریعے جلد ہی یہ دریافت کر لیا گیا کہ ہمارا پورا نظامِ شمسی بذات خود کائنات کا مرکز نہیں ہے۔ بلکہ یہ لاتعداد دوسرے شمسی نظاموں میں سے محض ایک ادنیٰ سا نظامِ شمسی ہے اورہمارا سورج بھی بہت سے دوسرے ستاروں کی طرح ایک ستارہ ہے۔ ایک سوارب ستاروں کے اس بادل نما وسیع جھمگٹے (کہکشاں) میں محض ایک معمولی ذرہ۔

ہماری کائنات اربوں کائناتوں میں سے ایک ہے

تاہم 1930ع میں فلکیات دانوں نے ستاروں کے درمیان پھیلے سفیدی مائل بادلوں (Nebulae) کی تفصیلی اور تصحیح شدہ پیمائشوں سے یہ معلوم کیا کہ ہماری کہکشاں دوسری لاتعداد کہکشاؤں کے اس بادل میں محض ایک ذرہ ہے۔ اب تک بنائی گئی سب سے طاقت وردوربینوں کی مدد سے ہمیں یہ معلوم ہوسکا ہے کہ کہکشاؤں کے ان کائناتی بادلوں کا یہ سلسلہ تا حدِ نگاہ پھیلا ہوا ہے۔ ہمارے اب تک کے تصور کے مطابق دنیا ایک یکساں اورلامحدود وسعت بن چکی ہے۔

ذیل میں دی گئی تصویر ہاتھ سے بنایا ہوا کوئی خاکہ نہیں بلکہ زمین کے گرد خلا میں اپنے مدارمیں گھومتی ہوئی ہبل دوربین (Hubble Telescope)سے لی گئی آسمان کی ایک فوٹو ہے۔ ماضی میں دوسری طاقت وردوربینوں سے لی گئی آسمان کی تصویروں کی نسبت یہ تصویرزمین سے بہت دور خلا کی زیادہ گہرائی میں موجود اجسام دکھاتی ہے۔ جہاں یہ تصویر لی گئی ہے، آسمان کے اس حصّے کو انسانی آنکھ سے دیکھا جائے تو یہ سیاہ آسمان کا ایک چھوٹا سا خالی ٹکڑا نظرآئےگا ۔ ہبل دوربین سے لی گئی اس تصویر کودوبارہ دیکھیں، یہ خلا میں دُوردُور بے ترتیب پھیلے ہوئے نقطوں کی ایک گرد دکھائی دیتی ہے۔ حقیقت میں ہرسیاہ نقطہ ایک کہکشاں کی شبیہہ ہے اور ہر نقطے میں ہمارے سورج کی طرح کے سینکڑوں ارب ستارے موجود ہیں۔ گزشتہ چند سالوں میں یہ مشاہدہ کیا گیا ہے کہ ہمارے نظام شمسی کی طرح ان ستاروں میں سے بیشتر کے گرد بھی سیارے گھومتے ہیں۔ لہٰذا کائنات میں زمین کی طرح کے اربوں کے اربوں کے اربوں کے اربوں ستارے موجود ہیں۔ ہم آسمان پرجس سمت بھی دیکھیں یہی منظرنظرآتا ہے جیسا اس تصویر میں موجود ہے۔

لیکن یہ ہمہ جہت یکسانیت حقیقت میں ایسی نہیں ہے جیسی بظاہر مندرجہ بلا تصویر میں نظرآتی ہے۔ جیسا کہ میں نے پہلے سبق میں وضاحت کی تھی کہ سپیس کاغذ کی طرح مستوی نہیں بلکہ منحنی یعنی خم دار ہے۔ ہمیں کائنات کی ساخت کویوں تصورکرنا چاہیے کہ یہ ستارے اور کہکشائیں ایک خم دارسطح پرچھینٹوں کی طرح ہیں۔ یہ کہکشائیں سمندری موجوں کی مانند لہروں میں حرکت کرتی ہیں جوبسا اوقات اتنی زیادہ شدید ہوتی ہیں کہ کائنات کی اس خم دارسطح میں گڑھے پڑجاتے ہیں جن کو ہم بلیک ہول کہتے ہیں۔ اس معلومات کے بعد ہم ہبل دوربین سے لی گئی تصویرمیں اضافہ کریں تو ان لہروں کی وجہ سے خم دارکائنات کی تصویر کچھ اس طرح نظر آتی ہے۔

اب ہم جانتے ہیں کہ کہکشاؤں سے مزین یہ وسیع لچکیلی کائنات جسے بننے میں پندرہ ارب سال لگ گئے، ایک بہت ہی گرم اورانتہائی کثیف بادل نما چھوٹے نقطے میں نمودارہوئی۔ اس نقطے کو بیان کرنے کے لیے ہمیں صرف کائنات کی موجودہ ساخت ہی نہیں بلکہ اس ساخت کی تشکیل کی پوری تاریخ وضع کرنے کی ضرورت ہے۔ اس ارتقائی کائنات کی شکل کچھ یوں ہے:

کائنات ایک چھوٹی گیند نما شکل سے شروع ہوئی اور پھر اپنی موجودہ کونیاتی وسعت تک پھیل گئی۔ بڑے سے بڑے پیمانے پر جو ہم اب تک جانتے ہیں، یہ ہماری کائنات کی موجودہ تصویر ہے۔

کیا اس قابل پیمائش کائنات کے علاوہ بھی کوئی چیزموجود ہے؟ کیا اس سے پہلے کچھ تھا؟ شایدایسا ممکن ہو۔ میں اس بارے میں کچھ اسباق کے بعد بات کروں گا۔ کیا ہماری اس کائنات جیسی یا اس سے مختلف اور کائناتیں وجود رکھتی ہیں؟ ہم نہیں جانتے۔

Categories
نان فکشن

وجودِ کائنات

[blockquote style=”3″]

رابرٹ ایڈلر کا یہ مضمون انگریزی میں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

[/blockquote]

مصنف: رابرٹ ایڈلر
ترجمہ: فصی ملک

 

لوگ اس سوال پر ہزارہا سال سے مغز ماری کرتے آ رہے ہیں کہ کائنات اپنا وجود کیوں رکھتی ہے۔تقریباً تمام قدیم تہذیبوں نے تخلیق کی ایک اپنی ہی کہانی پیش کی ہے جن میں سے بہتوں نے معاملات کو خدا کے اوپر چھوڑ دیا ۔ جب کہ فلسفیوں نے اس مضمون پر کئی کتابیں لکھی ہیں۔لیکن سائنس نے اس بنیادی سوال کے بارے میں بہت کم رائے دی ہے۔

 

تاہم رواں برسوں میں کچھ ماہرینِ طبیعیات اور کونیات نے اس کا جواب تلاش کرنا شروع کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اب ہمیں کائنات کی تاریخ اور جن قوانین پر یہ کام کرتی ہے ان کی آگہی حاصل ہو گئی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اس معلومات سے ہمیں اس چیز کا اشارہ ملے گا کہ کائنات اپنا وجود کیسے اور کیوں رکھتی ہے۔

 

ان کا (بجا طور پر) متنازعہ جواب یہ ہے کہ کائنات – انفجارِ عظیم(Big Bang) کے آتشی گولے سے لے کر ستاروں سجی کائنات تک جس میں اب ہم رہتے ہیں- عدم(nothing) سے یک لخت وجود میں آئی۔وہ کہتے ہیں کہ ایسا ہونا ہی تھا کیوں کہ عدم فطرتی طور پر غیر مستحکم(unstable) ہے۔

 

یہ ہیں وہ (وجوہات) کہ کس طرح عدم سے کچھ وجود میں آیا ہو گا۔

 

خالی فضا سے بنتے ذرات:

 

سب سے پہلے ہمیں کوانٹم میکانیات کے دائرہِ کار پر نظر ڈالنی ہو گی۔یہ طبیعیات کی وہ شاخ ہے جو ہمیں چھوٹی اشیاء جیسا کہ جوہر یا اس سے بھی چھوٹی چیزوں کے بارے میں جانکاری دیتی ہے۔ یہ ایک بہت ہی کامیاب نظریہ ہے اور بہت سارے جدید برقیائی گیجٹس(electronic gadgets) کو بنیاد فراہم کرتا ہے۔

 

کوانٹم میکانیات ہمیں بتاتی ہے کہ تہی فضا جیسی کوئی شئے نہیں ہے۔حتٰی کہ مکمل خلا بھی ذرات اور ضد ذرات کے ہیجان پذیر کہر سے بھری ہوئی ہے جو لپک کر وجود میں آتے ہیں اور پھر فوراً ہی واپس عدم میں کوچ کر جاتے ہیں۔ یہ مجازی ذرات، جیسا کہ ان کو کہا جاتا ہے، اتنی دیر زندہ نہیں رہتے کہ ہم بلاواسطہ ان کا مشاہدہ کر سکیں مگر ہم ان کے اثرات سے جانتے ہیں کہ یہ وجود رکھتے ہیں۔

 

لامکان اور لا زمان سے آیا زمان و مکان:

 

جوہروں جیسی چھوٹی اشیاء سے لے کر کہکشاؤں جیسی بڑی چیزوں تک۔ ہمارا بہترین نظریہ جو ان بڑی ساختوں کی وضاحت کرتا ہے عمومی نطریہ اضافیت کہلاتا ہے ۔ یہ وضاحت کرتا ہے کہ زمان، مکان اور انجذاب کیسے کام کرتے ہیں۔
اضافیت کوانٹم میکانیات سے بہت مختلف ہے اور آج تک کوئی بھی ان دونوں کو ٹھیک سے متحد نہیں کر پایا۔تاہم کچھ نظریہ دان منتخب تقارب(chosen approximations) کی مدد سے کچھ خاص مسائل پر دونوں نظریات کو ملانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ مثال کے طور پر یہ طریق کار کیمبرج یونیورسٹی کے سٹیفن ہاکنگ(Stephen Hawking) نے ثقب اسودوں(black holes) کی وضاحت کے لیے استعمال کیا تھا۔

 

ایک چیز جس کا انہوں نے پتا چلایاہے یہ ہے کہ جب کوانٹم نظریے کو فضا پر چھوٹے پیمانے پر لاگو کیا جاتا ہے تو سپیس بذاتِ خود غیر مستحکم ہو جاتی ہے۔ کلی طور پر ہموار اور استوانہ رہنے کی بجائے زمان اور مکان غیر مستحکم ہو کر زمان و مکان کے بلبلوں کے کف(foam) جی شکل اختیار کر لیتا ہے جو وجود پاتے اور فنا ہو تے جاتے ہیں۔
باالفاظ دیگر، زمان و مکان کے بلبلے فی البدیہہ پیدا ہو سکتے ہیں۔ ایری زونا سٹیت یونیورسٹی کے لارنس کراس کا کہنا ہے کہ اگر زمان اور مکان قدریائی(quantized) ہیں تو ان میں اتار چڑھاؤ(ٖfluctuations) آ سکتا ہے لہٰذا آپ جس طرح مجازی ذرات پیدا کرتے ہیں اسی طرح مجازی زمان و مکان بھی پیدا کر سکتے ہیں۔

 

مزید یہ کہ اگر یہ (زمان و مکان کے) بلبلے بن سکتے ہیں تو یہ یقیناً بنیں گے۔ تفت یونیورسٹی (tuft university) کے الیگزینڈر ویلنکو (Alexander Vilenkin) کا کہنا ہے کہ کوانٹم میکانیات میں اگر کوئی چیز مانع نہیں ہے تو وہ لازمی طور پر غیر صفری امکان کے ساتھ وقوع پذیر ہو گی۔

 

بلبلے سے بنی کائنات:

 

لہٰذا صرف ذرات یا ضد ذرات ہی نہیں بلکہ زمان و مکان کے بلبلے بھی عدم سے حیات و فنا پا سکتے ہیں۔ تاہم ابھی بھی زمان و مکان کے ایک صغاری بلبلے سے انتہائی وزنی کائنات، جو دس ارب کہکشاؤں کی رہائش گاہ ہے، تک جانا ایک بہت بڑی جِست ہے۔ یقیناً اگر ایک بلبلہ بنتا بھی ہے تو وہ پلک جھپکنے میں دوبارہ فنا نہیں ہو جائے گا؟

 

درحقیقت بلبلے کے لیے بقا حاصل کرنا ممکن ہے مگر اس کے لیے ہمیں کونی افراط (cosmic inflation) کی ضرورت ہے۔
بہت سارے طبیعیات دانوں کا ماننا ہے کہ کائنات کا آغاز انفجارِ عظیم (Big Bang) سے ہوا۔ پہلے پہل کائنات میں موجود تمام مادہ اور توانائی نا قابلِ تصور اصغر نقطے میں مرکوز تھا اور یہ (نقطہ) پھٹ گیا۔ اس کا پتہ بیسویں صدی کہ اس دریافت سے ہوا جو یہ بتاتی ہے کہ کائنات پھیل رہی ہے۔ اگر تمام کہکشائیں ایک دوسرے سے دور جا رہی ہیں تو کبھی وہ لازمی طور پر قریب ہوتی ہوں گی۔

 

افراطی نظریہ یہ کہتا کہ انفجارِ عظیم کے فوری بعد کائنات بہ نسبت بعد میں آنے والے وقت کے بہت زیادہ تیزی سے پھیلی۔ اس انوکھے نظریے کو 1980 کی دہائی میں ایم آئی ٹی (MIT) کے ایلن گتھ (Alan Guth) نے پیش کیا اور سٹانفرڈ(Stanford) یونیورسٹی کے آندرے لندے(Andre Linde) نے مزید بہتر بنایا۔

 

مرکزی خیال یہ ہے کہ انفجارِ عظیم کے بعد ایک سیکنڈ سے بھی کم دورانیے کے لیے قدریائی پیمانے(quantum sized) کا مکانی بلبلہ بہت تیزی سے پھیلا۔ بہت ہی کم وقت میں یہ نواتی جسامت (size of nucleus)سے ریت کے ذرے کے برابر پہنچ گیا۔بالآخر جب پھیلاؤ سست ہوا تو وہ قُوی میدان(force field) جس نے اس (پھیلاؤ) کو جنم دیا تھا مادہ اور توانائی میں منتقل ہو گیا جس سے آج کائنات بھری پڑی ہے۔ گُتھ افراط کو حتمی مفت ظہرانے کا نام دیتا ہے۔

 

عجیب و غریب تو یہ دکھتی ہے مگر افراط حقائق پر بہت خوبصورتی سے پورا اترتی ہے۔خاص طور پر یہ اس چیز کی وضاحت کرتی ہے کہ پس منظری کونی خِرد موجیں آسمان پر تقریباً مکمل یکساں کیوں ہیں۔ اگر کائنات اِس تیزی سے نہ پھیلی ہوتی تو یہ موجیں ٹکروں میں بٹی ہوتیں۔

 

کائنات ہموار ہے اور یہ کیوں اہم ہے:

 

افراط نے کونیات دانوں کو وہ وسیلہ بھی فراہم کیا ہے جو انہیں کائنات کی جیومیٹری کو سمجھنے کے لیے درکار تھا۔ یہ سامنے آیا ہے کہ یہ (افراط) اس بات کے ادراک کے لیے بہت اہم ہے کہ کیسے کائنات عدم سے وجود میں آئی۔
آئن سٹائن کا عمومی نظریہ اضافیت ہمیں بتاتا ہے کہ زمان و مکان، جس میں ہم رہتے ہیں، تین مختلف صورتیں اختیار کر سکتا ہے۔ یہ ایک میز کی سطح کی طرح ہموار ہو سکتا ہے۔یہ ایک کرہ کی سطح کی طرح منحنی ہو سکتا ہے اس طرح کی اگر آپ ایک ہی سمت میں بہت دور تک چلتے ہیں تو واپس اسی جگہ پہنچ جائیں گے جہاں سے آپ نے چلنا شروع کیا تھا۔ متبادلاً زمان و مکان ایک پالان(saddle) کی مانند باہر کی جانب منحنا ہو سکتا ہے۔ تو پھر یہ(زمان و مکان) کیسا ہے۔
یہ جاننے کا ایک راستہ ہے۔ آپ کو اپنی سکول کی ریاضی کی جماعت سے یہ یاد ہو گا کہ کسی بھی مثلث میں تینوں زاویوں کا مجموعہ 1800 کے برابر ہوتا ہے۔درحقیقت آپ کے استاد نے ایک اہم نقطہ چھوڑ دیا تھا وہ یہ کہ ایسا صرف ہموار سطح کے لیے ہوتا ہے۔ اگر آپ ایک غُبارے کی سطح پر مثلث بنائیں تو اس کے زاویوں کا مجموعہ 1800سے زیادہ ہو گا۔اس کے برعکس اگر آپ ایک پالان (saddle) جیسی سطح کے اوپر مثلث بنائیں تو اس کے زاویوں کا مجموعہ 1800 سے کم ہو گا۔

 

تو یہ جاننے کے لیے کہ کیا کائنات واقعی ہموار ہے ہمیں ایک بہت بڑی مثلث کے زاویوں کا مجموعہ ماپنا ہو گا۔یہ وہ جگہ ہے جہاں پر افراط کردار ادا کرتی ہے۔ اس نے پس منظری کونی خرد موجوں کے سرد اور گرم ٹکروں کی اوسط جسامت معلوم کی۔ان ٹکروں کی پیمائش 2003 میں کی گئی اور اس سے ہیت دانوں کو مثلثٰں چنے میں مدد ملی۔ اس کے نتیجے میں اب ہم جانتے ہیں کہ پیمائش کے ممکنہ اکبر پیمانوں پر کائنات ہموار ہے۔

 

یہ ثابت ہوا ہے کہ ایک ہموار کائنات بہت اہم ہے کیوں کہ ایک ہموار کائنات ہی عدم سے دجود میں آ سکتی ہے۔
ستاروں اور کہکشاؤں سے لے کر اس روشنی تک جس سے ہم ان کو دیکھتے ہیں، ہر اس چیز کا کہیں نہ کہیں سے آغاز ہوا ہے جو وجود رکھتی ہے۔ہم پہلے ہی جانتے ہیں کہ کوانٹمی پیمانے پر ذرات وجود میں آتے رہتے ہیں۔لہٰذا ہم یہ امید رکھ سکتے ہیں کہ کائنات میں کچھ بچے کھچے (ذرات) موجود ہوں گے۔لیکن ستارے اور سیارے بنانے کے لیے بہت زیادہ توانائی درکار ہوتی ہے۔تو کائنات نے اتنی زیادہ توانائی کہاں سے حاصل کی؟ شاید اسے یہ توانائی کہیں سے حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ایسا اس لیے ہے کیوں کہ کائنات میں موجود ہر جسم انجذاب(Gravity) پیدا کرتا ہے جس سے وہ دوسرے اجسام کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔یہ اس توانائی کو متوازن کر دیتا ہے جس کی اسے شروع میں مادہ کو بنانے میں ضرورت پڑی تھی۔

 

یہ ایک پرانی طرز کے ترازو کی طرح ہے جس کے ایک طرف آپ کوئی بھاری وزن رکھتے ہیں جو دوسری طرف موجود وزن کے ساتھ توازن قائم کرتا ہے۔کائنات کے معاملے میں پیمانے کے ایک طرف مادہ پڑا ہوتا ہے جو دوسری طرف انجذاب سے توازن قائم کرتا ہے۔

 

ہموار کائنات کے لیے طبیعیات دانوں نے حساب لگایا ہے کہ مادہ کی توانائی انجذاب(جس کو کوئی جسم پیدا کرتا) کی توانائی کے برابر ہوتی ہے ۔ لیکن یہ صرف ہموار کائنات کے لیے صحیح ہے۔ اگر کائنات منحنی ہوتی تو یہ(توانائی کا) مجموعی ایک دوسرے کو ختم(cancel) نہ کرتے۔

 

کائنات یا کثیرنات؟ (Universe or Multiverse?)

 

اس نقطے پر کائنات بنانا قریب قریب سہل لگتا ہے۔کوانٹم میکانیات ہمیں بتاتی ہے کہ عدم قدرتی طور پر غیر مستحکم ہے لہذٰا عدم سے وجود میں آنے والی جِست ناگزیر تھی۔ اور نتیجتاً زمان ومکان کا بلبلہ ایک بھاری صروف کائنات میں پھیل سکتا تھا، جس کے لیے افراط کا شکریہ۔ جیسا کہ کراس کا کہنا ہے کہ طبیعیات کے قوانین جن کو اب ہم جانتے ہیں اس بات کو نمایاں طور پر معقول بناتے ہیں کہ کائنات عدم سے وجود میں آئی—نہ مکان، نہ زمان، نہ ذرات—ایسی کسی بھی چیز سے نہیں جس کو اب ہم جانتے ہیں۔

 

تو ایسا صرف ایک ہی دفعہ کیوں ہوا؟ جب ایک بلبلہ عدم سے وجود میں آیا اور پھول کر ہماری کائنات میں بدل گیا تو باقی بلبلوں کو ایسا کرنے سے کس نے روکا؟

 

لِنڈے اس کا سادہ مگر حیران کن جواب فراہم کرتا ہے۔وہ قیاس کرتا ہے کہ کائناتیں ہمیشہ سے وجود میں آ رہیں ہیں اور یہ عمل ہمیشہ جاری رہے گا۔ لِنڈے کا کہنا ہے کہ جب کوئی نئی کائنات پھولنا بند کر دیتی ہے تو بھی یہ ایسی سپیس میں گھری ہوتی ہے جو مسلسل پھول(inflate) رہی ہوتی ہے۔یہ پھولتی ہوئی کائنات مزید کائناتوں ،جن کے گرد پھیلنے کے لیے ابھی بھی سپیس موجود ہوتی ہے، کی افزائش کر سکتی ہے۔لہذٰا جب ایک دفعہ افراط شروع ہو تو اسے کائناتوں کا ایک لامتناہی سلسلہ بنانا چاہیے۔لِنڈے اس کو دائمی افراط (eternal inflation)کا نام دیتا ہے۔ہو سکتا ہے ہماری کائنات ایک لامتناہی ساحل پر ریت کا ایک ذرہ ہو۔

 

ہو سکتا ہے وہ کائناتیں ہماری کائنات سے بالکل مختلف ہوں۔ممکن ہے پڑوس میں موجود کائنات کی ہماری کائنات کی طرح سپیس کی تین ابعاد – لمبائی، چوڑائی اور اونچائی – کی بجائے پانچ جہتیں ہوں۔ ثقل دس گنا زیادہ قوّی یا ہزار گنا نحیف ہو یا پھر ہو سکتا ہے وہ سِرے سے موجود ہی نہ ہو۔ہو سکتا ہے مادہ یکسر مختلف ذرات سے مل کر بنا ہو۔ لہذٰا یہاں کائناتوں کی ایک تنوع ہو سکتی ہے۔لِنڈے کہتا ہے کہ دائمی افراط نہ صرف ایک حتمی مفت ظہرانہ ہے بلکہ یہ ایک ایسا ظہرانہ ہے جس پر کھانے کی تمام ممکنہ اقسام میسر ہیں۔

 

تاہم ابھی تک ہمارے پاس اس کا کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں ہے کہ دوسری کائناتیں وجود رکھتی ہیں۔لیکن کسی بھی صورت میں یہ “لاشئے کے لیے شکریہ” کو ایک نیا مطلب فراہم کرتیں ہیں۔
Categories
نان فکشن

کائنات یا کائناتیں؟

[blockquote style=”3″]

فلپ بال گزشتہ بیس برس سے معروف سائنسی جریدے “نیچر” کے مدیر ہیں اور سائنس کے موضوع پر متعدد مضامین کے مصنف ہیں۔ ان کا یہ مضمون انگریزی میں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

[/blockquote]

متوازی کائناتوں کا تصور جو کبھی سائنس فکشن کا حصہ ہوتا تھا اب سائنسدانوں یا کم از کم طبیعیات دانوں—جن میں یہ اہلیت ہے کہ وہ تصورات کو حقیقت کی حدوں تک لے جاتے ہیں– کے درمیان بھی قابلِ تعظیم بنتا جا رہا ہے۔

 

درحقیقت یہاں بہت زیادہ دوسری ممکنہ کائناتیں ہیں۔ طبیعیات دانوں نے کثیرِنات(multiverse) کے لیے بہت سارے امیدوار تجویز کیے ہیں۔ جن میں سے ہر ایک کو طبیعیات کے قوانین کے مختلف پہلو ممکن بناتے ہیں۔

 

مسئلہ یہ ہے کہ ہم ممکنہ طور پر کبھی بھی ان دوسری کائناتوں میں جا کر ان کے وجود کی تصدیق نہیں کر سکتے۔ تو سوال یہ ہے کہ کیا ہم کوئی ایسا راستہ نکال سکتے ہیں جن سے ہم ان تمام کائناتوں کے وجود کو پرکھ سکیں جن کو ہم دیکھ یا چھو نہیں سکتے۔
دنیاؤں کے اندر دنیائیں۔
یہ کہا جاتا ہے کہ ان متبادل کائناتوں میں سے کم از کم کچھ میں ہمارے جڑواں(doppelgangers) ہیں جو بالکل یا تقریباً ہماری ہی طرح کی کائنات میں رہ رہے ہیں۔

 

یہ تصور ہماری خودی کو جھنجھوڑتا ہے اور ہمارے تخیل کو بیدار کرتا ہے۔۔بلا شبہ یہی وجہ ہے کہ کثیرِنات کے نظریات کو نا آشنا ہو نے کے باوجود بھی مقبولیت کا درجہ حاصل ہے۔ہم نے متبادل کائناتوں کو فکشن کے کاموں جیسا کہ فلپ کے ڈک کے the man in high castle سے لے کر فلموں جیسا کہ sliding doors تک قبول کر لیا ہے۔

 

مذہبی فلسفی میری جین روبنسٹائن(Mary-Jane Rubenstein) 2014 میں لکھی گئی اپنی کتاب بے کنار دنیائیں(Worlds without ends) میں وضاحت کرتی ہیں کہ تصورِ کثیرِنات کے بارے میں کچھ بھی نیا نہیں ہے۔

 

سولہویں صدی کے وسط میں کوپرنیکس(Copernicus) نے دلیل دی کہ زمین کائنات کا مرکز نہیں ہے۔ کچھ دہایئوں بعد گلیلیو نے اپنی دوربین سے ایسے ستاروں کو دیکھا جو پیمائش کی حدوں سے باہر تھے یہ کائنات کی وسعت کی ایک جھلک تھی۔

 

لہٰذا سولہویں صدی کے آواخر میں اطالوی فلسفی گیاردانو برونو (Giordano Bruno) نے یہ شبہ ظاہر کیا کہ یہ کائنات لامتناہی ہےاور اس میں لامتناہی تعداد میں دنیائیں آباد ہیں۔

 

سولہویں صدی کے آواخر میں اطالوی فلسفی گیاردانو برونو نے یہ شبہ ظاہر کیا کہ یہ کائنات لامتناہی ہے۔
سولہویں صدی کے آواخر میں اطالوی فلسفی گیاردانو برونو (Giordano Bruno) نے یہ شبہ ظاہر کیا کہ یہ کائنات لامتناہی ہے۔
یہ خیال کہ کائنات میں بہت سارے نظامِ شمسی موجود ہیں اٹھارویں صدی میں عام موضوع بن چکا تھا۔

 

بیسویں صدی کے آغاز میں آئرش طبیعیات دان ایڈمنڈ فورنیئر دی البی(Edmund Fournier d’Albe) نے تجویز دی کہ ممکن ہے کہ زیادہ سے زیادہ اور کم سے کم سائز کی متصل کائناتوں کا لامتناہی سلسلہ موجود ہو۔ اس تناظر میں ایک انفرادی جوہر(atom) ایک حقیقی آباد نظامِ شمسی کی طرح ہو سکتا ہے۔

 

آج سائنسدان روسی گڑیا (Russian doll)کثیرِنات کے خیال کو ٹھکراتے ہیں مگر انہوں نے اور بہت سے راستے تجویز کیے ہیں جن میں یہ کثیرِناتیں(Multiverses) وجود پذیر ہو سکتی ہیں۔ ان میں سے پانچ کو اس رہنمائی کے ساتھ یہاں پیش کیا جا رہا ہے کہ وہ کیسی ہو سکتی ہیں۔
بارہ دوزی کائنات (Patchwork Universe)
سادہ ترین کثیرِنات ہماری اپنی ہی کائنات کے لامتناہی سائز کا نتیجہ ہے۔ حقیقت میں ہم نہیں جانتے کہ کیا واقعی کائنات لامحدود ہے مگر ہم اس کو خارج الامکان بھی نہیں کر سکتے۔اگر یہ لامتناہی ہے تو پھر یہ ایسے علاقوں سے مل کے بنی ہوئی ہے جو ایک دوسرے کو دیکھ نہیں سکتے۔ ایسا اس لیے ہے کہ یہ علاقے ایک دوسرے سے اتنے دور ہیں کہ روشنی اس فاصلے کو عبور نہیں کر سکتی۔ہماری کائنات صرف 13۔8 بلین سال پرانی ہے، لہٰذا وہ علاقے جو 13۔8 نوری سال سے زیادہ فاصلے پر ہیں مکمل طور پر منقطع ہیں۔

 

تمام اغراض و مقاصد کےلیے یہ علاقے علیحدہ کائناتیں ہیں۔ لیکن ہمیشہ ایسا نہیں رہے گا، روشنی بالآخر ان فاصلوں کو عبور کر لے گی اور کائناتیں آپس میں ضم ہو جائیں گی۔ اگر کائنات حقیقت میں ہمارے جیسی جزیرہ نما کائناتوں کی لامحدود تعداد اپنے اندر رکھتی ہے جن میں ستارےاور سیارے اور مادہ موجود ہے تو دور کہیں لازمی طور پر ہماری زمین کی جیسی بہت ساری دنیائیں ہونی چاہیں۔

 

یہ ناقابلِ یقین حد تک غیر متوقع لگتا ہے کہ جواہر(atoms) اتفاقاً ایک دوسرے کے قریب آ کر ہماری زمین کی ہوبہونقل (replica)بنا دیں یا پھر ایک ایسی نقل بنائیں جو آپکی جرابوں کے رنگ کے علاوہ ایک جیسی ہو۔لیکن حقیقی لامتناہی دنیاؤں میں ایسی عجیب جگہیں ہونی چاہیں۔ بلکہ بہت ساری ہونی چاہیں۔ اگر ایسا ہے تو تصور سے بالاتر دور کسی جگہ پر میرے جیسا ہی کوئی شخص یہ الفاظ لکھ رہا ہو گا اور سوچ رہا ہو گا کہ ا اس کا مدیر اسے قطعی نظرثانی کا کہنے والا ہے۔

 

اسی منطق سے، اس سے بھی دور ہماری ہی کائنات کے جیسی ایک مشاہداتی کائنات ہے۔اس کے فاصلے کا تخمینہ دس کی طاقت نما دس کی طاقت نما ایک سو اٹھارہ((〖10〗^(〖10〗^118 ) میٹر لگایا گیا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ایسا بالکل نہ ہو۔ہو سکتا ہے کائنات لامتناہی نہ ہو۔اور اگر یہ ہو بھی تو ممکن ہے کہ تمام مادہ کائنات کے اس حصے میں مرکوز ہو گیا ہو جہاں ہم ہیں ۔اس حساب سے باقی بہت ساری کائناتیں خالی ہوں گی۔ لیکن ایسا ہونے کی کوئی ظاہری وجہ موجود نہیں ہے۔ اور جیسے جیسے ہم دور دیکھتے جا رہے ہیں ہمیں مادہ کے کم ہونے کے کوئی شواہد نہیں مل رہے۔
افراطی کثیرِنات(the inflationary multiverse)
کثیرِ نات کا دوسرا نظریہ اس خیال سے جنم لیتا ہے کہ ہماری اپنی کائنات کا آغاز کیسے ہوا۔

 

انفجارِعظیم(Big Bang) کے سب سے غالب نقطہِ نظر کے مطابق کائنات کا آغاز ایک صغاری نقطے(infinitesimally small point) سے ہوا اورپھر وہ تقطہ ایک آتشی گولے میں پھیل گیا۔ اس پھیلاؤ کے آغاز کے بعد ایک سیکنڈ سے بھی کم وقت میں یہ بہت زیادہ شرح سے اسراع پذیر(accelerated) تھی، روشنی کی رفتار سے بھی کہیں زیادہ۔ یہ دورانیہ افراط(Inflation) کہلاتا ہے۔

 

افراطی نظریہ اس امر کی وضاحت کرتا ہے کہ ہم جس جانب بھی دیکھیں ہمیں کائنات اشاری طور پر یکساں کیوں نظر آتی ہے۔ اس سے پہلے کہ آتشی گولہ منجمدہوتا افراط نے اسے کائناتی سکیل تک پھیلا دیا۔

 

تاہم یہ ابدی حالت(primordial state) ان اتفاقیہ تبدیلیوں کی وجہ سے تغیر پذیر ہوئی جو خود افراط کے وقت پیدا ہوئیں تھیں۔یہ تبدیلیاں(variations) اب پس منظری کائناتی خردموجی شعاعوں (cosmic microwave background radiations) میں محفوط ہیں۔ جو انفجارِ عظیم کے بعد میں بچ جانے والی مدہم روشنی ہے۔ یہ شعاعیں اب ساری کائنات میں پھیل چکی ہیں مگر یہ یکساں نہیں ہیں۔

 

سیارچوں پر لگی بہت ساری دوربینوں نے ان تغیرات کی تفصیلات کا نقشہ بنا کر ان کا موازنہ اس سے کیا ہے جس کی پیشین گوئی افراطی نظریہ کرتا ہے۔ یہ مماثلت ناقابلِ یقین حد تک درست ہے،جو اس چیز کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ افراط حقیقت میں وقوع پذیر ہوا۔ یہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ انفجارِ عظیم کیسے ہوا، جس سے ہم مناسب طور پر یہ سوال اٹھا سکتے ہیں کہ کیا یہ ایک سے زیادہ مرتبہ ہوا؟

 

multiverse-2-laaltain

موجودہ نقطہِ نظر یہ ہے کہ انفجارِ عظیم (big bang) اس وقت واقع ہوا جب حقیقی فضا(real space) کا ایک ٹکرا ایک دوسری طرح کی فضا میں ظاہر ہوا جسے “باطل خلا (false vacuum)” کہتے ہیں۔ اس فضا کے ٹکرے میں صرف توانائی موجود تھی اور کوئی مادہ موجود نہ تھا۔ پھر یہ ٹکرا ایک بلبلے کی طرح پھولتا گیا۔ لیکن اس نظریے کے مطابق باطل خلا کو بھی افراط سے گزرنا چاہیے جو اس کی بہت زیادہ رفتار سے پھیلائے۔ اسی دوران اس باطل خلا میں نہ صرف ہماری کائنات(جو صرف 13۔8 بلین سال پرانی ہے) بلکہ اور بھی بہت ساری کائناتوں کو یکساں شرح سے پیدا ہونا چاہیے۔
یہ منظر نامہ دائمی افراط(eternal inflation) کہلاتا ہے۔ یہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ وقت میں ہر لمحے لامتناہی کائناتیں پیدا ہوتیں ہیں اور پھیلتی جاتی ہیں۔ لیکن اگر ہم ہمیشہ کے لیے روشنی کی رفتار سے بھی چلیں تو بھی ان تک نہیں پہنچ سکتے کیوں کہ یہ بہت زیادہ رفتار سے ہم سے دور جا رہی ہیں۔

 

برطانوی شاہی ہیئت دان(Astronomer Royal) مارٹن ریز(Martin Rees) کا کہنا ہے کہ افراطی نظریہ چوتھے کوپرنیکسی انقلاب کو ظاہر کرتا ہے۔چوتھی مرتبہ ہمیں آسمانوں میں اپنے درجے کو کم کرنا پڑا ہے۔کوپرنیکس(Copernicus) کے یہ بتانے کے بعد کہ ہماری زمیں بہت سارے دوسرے سیاروں میں سے ایک ہے ہمیں پتہ چلا کہ ہمارا سورج ہماری کہکشاں میں محض ایک ستارہ ہے اور دوسرے ستاروں کے بھی سیارے ہو سکتے ہیں۔ پھر ہم پر انکشاف ہوا کہ ہماری کہکشاں پھیلتی ہوئی کائنات میں بہت ساری کہکشاؤں میں سے ایک ہے۔ اور اب ممکن ہے ہماری کائنات بھی بہت ساری کائناتوں میں سے ایک ہو۔

 

multiverse-3-laaltain

ابھی ہم منطقی طور پر نہیں جانتے کہ افراطی نظریہ صحیح ہے یا غلط۔تاہم اگر دائمی افراط عظیم انفجاروں(big bangs)کے ایک نہ ختم ہونے والے سلسلے میں کثیرِنات (multiverse) کو جنم دیتا ہے تو یہ جدید طبیعیات میں ایک بہت بڑے مشکلے(problem) کے حل میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

 

کچھ طبیعیات دان بہت لمبے عرصے سے نظریہِ کل (theory of everything) کی تلاش میں ہیں جو کہ کچھ بنیادی قوانین یا ممکن ہے ایک مساوات پر مشتمل ہو اور اس سے طبیعیات کے باقی تمام اصول اخذ کیے جا سکیں گے۔ لیکن انہوں نے دیکھا کہ معلوم کائنات میں جتنے ذرات ہیں ان کی تعداد سے زیادہ کائناتیں موجود ہیں۔

 

وہ طبیعیات دان جو ان کی کھوج میں رہتے ہیں یہ یقین رکھتے ہیں کہ ایک تصور جو سٹرِنگ نظریہ (string theory) کے نام سے جانا جاتا ہے نظریہِ کل (theory of everything) کا سب سے بہترین امیدوار ہے۔لیکن اس کے تازہ ترین نسخے (latest version) کے بہت زیادہ (ایک کے بعد ٥00 صفر) جوابات(solutions) ہیں۔ ہر جواب اپنے طبیعی قوانین فراہم کرتا ہے اور ہمارے پاس بظاہر کوئی وجہ نہیں ہے کہ ہم ایک کے اوپر دوسرے کو ترجیح دیں۔

 

افراطی کثیرِنات ہمیں اس چناو سے چھٹکارہ دلاتی ہے۔ اگر پھیلتی ہوئی باطل خلا میں متوازی کائناتیں کروڑوں سالوں سے پیدا ہو رہی ہیں، تو ہر ایک کے مختلف طبیعی قوانین ہو سکتے ہیں جن کا تعین سترنگ نظریے کے بہت ساروں میں سے کوئی ایک حل(solution) کرے گا۔

 

اگر یہ درست ہے تو یہ ہمیں ہماری اپنی کائنات کی ایک عجیب خوبی کی وضاحت کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
طبیعیات کے قوانین کے بنیادی مستقلوں(fundamental constants) کی قیمتیں زبردست طریقے سے وہی رکھی گئی ہیں جو وجودِزندگی کے لیے ضروری ہیں۔]اس کو فائن ٹیوننگ(fine tuning) کہتے ہیں[

 

طبیعیات کے قوانین کے بنیادی مستقلوں کی قیمتیں زبردست طریقے سے وہی رکھی گئی ہیں جو وجودِزندگی کے لیے ضروری ہیں۔
طبیعیات کے قوانین کے بنیادی مستقلوں(fundamental constants) کی قیمتیں زبردست طریقے سے وہی رکھی گئی ہیں جو وجودِزندگی کے لیے ضروری ہیں۔
مثال کے طور پر اگر برقناطیسی قوت(electromagnetic force) کی مقدار تھوڑی سی بھی مختلف ہوتی تو جواہر مستحکم نہ ہوتے۔صرف چار فیصد کی تبدیلی ستاروں میں نیوکلیائی ایتلاف(nuclear fusion) کو روک دے گی، ایتلاف وہ عمل ہے جس میں کاربن کے وہ جواہر بنتے ہیں جن سے ہمارے جسم کا زیادہ تر حصہ بنا ہواہے۔ اسی طرح کششِ ثقل اور تاریک توانائی(dark energy) میں ایک نفیس توازن ہے۔ ثقل مادہ کو اپنی طرف کھینچتی ہے جب کہ تاریک توانائی اسے اور زیادہ شرح سے پھیلاتی ہے۔اوربالکل یہی وہ ضرورت ہے جو ستاروں کا بننا ممکن بناتی ہے اور کائنات کو خودتصادم سے روکتی ہے۔

 

اس اور بہت ساری دوسری وجوہات کی بنا پر یوں لگتا ہے جیسے کائنات کو ہمارے رہنے کے لیے فائن ٹیونڈ(fine tuned) کیا گیا ہے۔ اس نے بہت سارے لوگوں کو اس شک میں مبتلہ کر دیا ہے کہ اس میں خدا کا ہاتھ شامل ہے۔
تاہم ایک افراطی کثیرِنات جس میں تمام قابلِ فہم قوانین عمل کرتے ہیں ایک متبادل وضاحت بھی پیش کرتی ہے۔
وجود دوست طریقے سے بنائی گئی ہر کائنات میں ذہین مخلوق اپنی خوش بختی کے ادراک کے لیے اپنا سر نوچ رہی ہو گی جب کہ دوسری بہت ساری کائناتوں میں جو مختلف طریقے سے بنائی گئی ہیں کوئی بھی یہ سوال کرنے کے لیے موجود نہیں ہے۔

 

یہ بشری اصول(anthropic principle) کی مثال ہے، جو یہ کہتا ہے کہ چیزیں جیسی ہیں ان کو ویسا ہی ہونا چاہیے تھا کیوں کہ اگر ایسا نہ ہوتا تو ہم یہاں موجود نہ ہوتے اور یہ سوال کبھی نہ پیدا ہوتا۔

 

بہت سارے طبیعیات دانوں اور فلسفیوں کے قریب یہ دلیل ایک دھوکہ ہے۔ فائن ٹیوننگ(fine tuning) مشکلے کی وضاحت کی بجائے اس سے جان چھڑانے کا ایک راستہ ہے۔

 

وہ سوال کرتے ہیں کہ ہم ان دعووں کو کیسے جانچ سکتے ہیں؟یقیناً یہ قبول کرنا شکست ماننے کے مترادف ہے کہ اس کی کوئی وضاحت نہیں ہے کہ قوانینِ قدرت جیسے ہیں ویسے کیوں ہیں اور یہ کہ یہ دوسری کثیرِنات میں مختلف ہیں۔

 

مسئلہ یہ ہے کہ اگر آپ کے پاس فائن ٹیوننگ(fine tuning) کی کوئی اچھی وضاحت نہیں ہے تو کوئی بھی یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ ان کو خدا نے اسےایسے سیٹ کیا ہے۔ماہر فلکی طبیعیات برنارڈ کر (Bernard Carr) نے اسے دوٹوک الفاظ میں یوں بیان کیا ہے کہ اگر آپ خدا سے چھٹکارا چاہتے ہیں تو آپ کے پاس کثیرِنات(multiverse) ہونی چاہیے۔
کائناتی فطری چناؤ : (Cosmic Natural Selection)
ایک اور طرح کی کائنات بشری اصول(anthropic principal) کی مدد لیے بغیر فائن ٹیوننگ(fine tuning) کے مشکلے کا حل فراہم کرتی ہے۔

 

اس کی بنیاد واٹرلو کینیڈا(waterloo Canada) میں موجود پیری میٹر انسٹیٹیوٹ کے لی سمولن(Lee Smolin of Perimeter institute) نے ڈالی۔ اس نے 1992 میں تجویز دی کہ ہو سکتا ہے کائنات بھی زندہ چیزوں کی طرح تولید کرتی اور ارتقا پاتی ہو۔زمین پر فطری چناؤ کارآمد خصلتوں جیسا کہ تیز ڈور اور مخالف انگوٹھوں کے کے پنپنے میں مدد دیتا ہے۔سمولن دلیل دیتا ہے کہ کثیرِنات میں ایسا دباؤ موجود ہو سکتا ہے جو ہمارے جیسی کائناتوں کے بننے میں مدد دے۔وہ اسے کائناتی فطری چناؤ کا نام دیتا ہے۔

 

سمولن کا خیال یہ ہے کہ ایک مادر کائنات (mother universe)طفل کائناتوں(baby universes) کو جنم دیتی ہے جو اس کے اندر بنتی ہیں۔ مادر کائنات ایسا صرف اس وقت کر سکتی ہے جب اس کے اندر ثقب اسود(black holes) موجود ہوں۔
ایک ثقب اسود اس وقت بنتا ہے جب کوئی ستارہ اپنے ہی انجذاب کے تحت منہدم ہو کر اپنے تمام جوہروں کو اس وقت تک بھینچتا ہے جب تک وہ لامتناہی کثافت کو نہ پہنچ جائیں۔

 

multiverse-5-laaltain

1960 کی دہائی میں سٹیفن ہاکنگ اور راجر پینروز (Stephen Hawking and Roger Penrose) نے نشاندہی کی کہ یہ انہدام ایک انفجارِ عظیم کی طرح ہی ہے جس کی سمت الٹ دی گئی ہو۔ اس سے سمولن کو خیال آیا کہ ایک ثقب اسود انفجارِ عظیم بن سکتا ہے جس نے اپنے اندر ایک پوری نئی کائنات کی افزائش کر رکھی ہو۔ اگر ایسا ہے تو اس نئی کائنات کی طبیعی خصوصیات اس کائنات سے تھوڑی مختلف ہوں گی جس نے اس ثقب اسود کو جنم دیا۔یہ ایک بے ترتیب جینیاتی تغیر کی طرح ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ بچے اپنے والدین سے مختلف ہوں گے۔

 

اگر کسی طفل کائنات کے طبیعی قوانین ایسے ہوں جو جوہروں، ستاروں اور زندگی کے بننے کی اجازت دیں تو اس میں لازمی طور پر ثقب اسود (Black holes) بھی موجود ہوں گے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس کی مزید اپنی طفل کائناتیں ہو سکتی ہیں۔وقت کے ساتھ یہ کائناتیں ان کائناتوں سے زیادہ عام ہو جائیں گی جن میں ثقب اسود نہیں ہوں گے اور جو افزائش نسل نہیں کر سکتیں۔

 

یہ ایک واضح تصور ہے کیوں کہ پھر ایسی صورت میں ہماری کائنات کو محض ایک خالص اتفاق کا نتیجہ نہیں ہونا پڑے گا۔اگر ایک فائن ٹیونڈ(fine tuned) کائنات بہت ساری دوسری کائناتوں کے ساتھ جو فائن ٹیونڈ(fine tuned) نہیں ہیں اتفاقاً پیدا ہو سکتی ہے تو کائناتی فطری چناؤ کا مطلب ہو گا کہ آہستہ آہستہ فائن ٹیونڈ(fine tuned) کائناتیں میعار بن جائیں گی۔

 

multiverse-6-laaltain

اس خیال کی تفصیلات ابھی دھندلی ہیں مگر سمولن اس کے ایک بہت بڑے فائدے کی نشاندہی کرتا ہے کہ ہم اسے پرکھ سکتے ہیں۔مثال کے طور پر اگر سمولن صحیح ہے تو ہماری کائنات کو ثقب اسود(black hole) بنانے واسطے خاص طور پر موزوں ہونا چاہیے۔ لیکن یہ اس سے بھی زیادہ تقاضہ طلب کسوٹی ہے کہ اس کو جوہروں کے وجود کی حمایت کرنی چاہیے۔لیکن ابھی تک اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ ایسا ہی معاملہ ہے، اس بات کو تو چھوڑ ہی دیں کہ ثقب اسود اپنے اندر کائنات کی افزائش کر سکتا ہے۔
برین (جھلی) کثیرِنات(the brane multiverse)
جب 1920 کی دہائی میں آئن سٹائن کا عمومی نظریہ اضافیت عام لوگوں کے زیر بحث آنے لگا تو بہت ساروں نے چوتھی جہت(fourth dimension) کے متعلق قیاس آرائیاں کی جس کو آئن سٹائن نے متعارف کرایا تھا۔ اس میں کیا ہو سکتا ہے؟ کیا اس میں ایک مخفی کائنات ہو سکتی ہے؟ یہ فضول سوالات تھے۔آئن سٹائن ایک نئی جہت کا تصور نہیں دے رہا تھا، وہ صرف یہ کہہ رہا تھا کہ مکان (space) کی باقی تین ابعاد(dimensions) کی طرح وقت بھی ایک بعد ہے۔اور یہ چاروں ایک چادر میں بنی ہوئی ہیں جو زمان و مکاں (spacetime)کہلاتی ہے، مادہ جس کا حلیہ بگاڑ کر انجذاب(gravity) پیدا کرتا ہے۔

 

تاہم دوسرے طبیعیات دانوں نے پہلے سے ہی سپیس(space) کی نئی جہتوں(dimensions) کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا تھا۔مخفی ابعاد کے بارے میں پہلا اشارہ نظری طبیعیات دان تھیوڈور کیلوزا(Theodor Kaluza) کے کام سے ملا۔ 1921 میں لکھے گئے ایک تحقیقی مقالے میں اس نے ثابت کیا کہ اگر آئن سٹائن کی عمومی اضافیت کی مساواتوں میں ایک اور بعد ملا دی جائے تو ہمیں ایک زائد مساوات حاصل ہوتی ہے جو ضیا(light) کےوجود کی پیشین گوئی کرتی ہے۔
یہ کافی معقول لگا پر پھر سوال یہ تھا کہ یہ زائد جہت ہے کہاں؟

 

1926 میں سویڈش طبیعیات دان آسکر کلائن(Oscar klein) نے ایک جواب پیش کیا۔ ہو سکتا ہے پانچویں بعد ناقابلِ تصور صغیر فاصلوں میں لپٹی ہو(curled up)۔جو کہ ایک سینٹی میٹر کا ایک بلین ٹریلین ٹریلین واں حصہ ہے۔
ہو سکتا ہے کہ لپٹی بعد(curled up dimension) کا تصور عجیب لگے پر حقیقت میں یہ ایک معروف مظہر ہے۔ایک باغ نلی(garden hose) سہ ابعادی(three dimensional) جسم ہے مگر بہت زیادہ فاصلے سے دیکھنے پر یہ یک جہتی(one dimensional) معلوم ہوتی ہے کیوں کہ باقی دونوں جہتیں بہت چھوٹی ہیں۔اسی طرح کلائن(Klein) کی زائد جہت، جسکو ہم محسوس نہیں کرتے، کو سمجھنے میں بہت کم وقت لگتا ہے۔تب سے طبیعیات دان کیلوزا اور کلائن کے تصورات کو سترنگ نظریے میں بہت آگے تک لے کر گئے ہیں۔ یہ بنیادی ذرات کی وضاحت سترنگز (strings)کے اہتزازات(oscillations) کی صورت میں کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

 

جب 1980 میں سترنگ نظریے(string theory) کو مرتب کیا گیا تو پتہ چلا کہ یہ صرف زائد ابعاد(extra dimensions) کی موجودگی میں ہی کام کر سکتی ہے۔سترنگ نظریے کا جدید نسخہ،جو ایم نظریہ(M theory) کہلاتا ہے، میں سات مخفی ابعاد ہیں۔مزید یہ کہ ان ابعاد کو منضبط (compact) ہو نے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ یہ پھیلے ہوئے علاقے(extended regions) ہو سکتے ہیں جو جھلیاں(branes) کہلاتے ہیں اور ممکن ہےیہ کثیرجہتی(Multi-dimensional) ہوں۔

 

multiverse-7-laaltain

ایک جھلی(brane) ایک مکمل کائنات کے چھپنے کے لیے معقول جگہ ہو سکتی ہے۔ایم تھیوری مختلف ابعاد کی جھلیوں(branes) کی کثیرِنات ہے جو آپس میں کاغذ کے گڈھی (stack of papers) کی طرح رہتی ہیں۔

 

اگر یہ بات سچ ہے تو ہمارے پاس ذرات کی ایک نئی جماعت ہونی چاہیے جو کیلوزا کلائن(Kaluza-Klein) ذرات کہلاتے ہیں۔نظری طور پر ہم ان کو عظیم ثقیلہ تصادم گر(large hadron collider) جیسے اسراع گردوں(accelerator) میں بنا سکتے ہیں۔ان کے بہت واضح نشانیاں ہوں گی کیوں کہ ان کے میعارِ حرکت(momentum) کی کچھ مقدار مخفی ابعاد میں چلی جائے گی۔

 

یہ جھلی دنیائیں(brane worlds) ایک دوسرے سے جداجدا رہتی ہیں کیوں کہ تجاذب جیسی قوتیں ان کے درمیان سے نہیں گزرتی۔لیکن اگر دو جھلیاں ٹکراتی ہیں تو نتائج کافی شاندار ہو سکتے ہیں۔قرین قیاس ہے کہ ایسے ہی کسی تصادم سے ہمارے اپنے انفجارِ عظیم(big bang) کا آغاز ہوا ہو۔

 

یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ ہو سکتا ہے تجاذب جھلیوں میں سے گزر جاتی ہو۔یہ بہاو اس چیز کی وضاحت کر سکتا ہے کہ بنیادی قوتوں میں تجاذب اتنا نحیف کیوں ہے۔جیسا کہ ہاورڈ یونیورسٹی کی لیزا رینڈل(Lisa Randall) کا کہنا ہے کہ اگر تجاذب زائد ابعاد (extra dimensions) پر پھیلی ہوئی ہو تو اس کی قوت کافی نحیف ہو گی۔

 

multiverse-8-laaltain

1999 میں رینڈل اور اس کے ہم منصب رامن سندرم (Raman Sundrum) نے تجویز دی کہ جھلیاں نہ صرف تجاذب رکھتی ہیں بلکہ یہ سپیس کو منحنیٰ کر کے اسے پیدا کرتی ہیں۔نتیجتاً اس کا مطلب ہے کہ ایک جھلی تجاذب کو مرتکز کرتی ہے جس کی وجہ سے قریبی دوسری جھلی میں یہ نحیف دکھائی دیتی ہے۔یہ اس چیز کی بھی وضاحت کرتا ہے کہ ہم کسی لامحدود زائد جہتوں والی جھلی پر ان کو محسوس کیے بنا کیسے رہ سکتے ہیں۔
کوانٹم کثیرِنات(the Quantum Multiverse)
نظریہِ کوانٹم میکانیات سائنس کےکامیاب ترین نظریات میں سے ایک ہے۔یہ چھوٹی چیزوں جیسا کہ جوہر اور اس کے جزوِترکیبی ذرات کے رویوں کی وضاحت کرتا ہے۔یہ سالموں کی اشکال سے لے کر مادہ اور ضیا کے تعاملات تک ہر طرح کے عوامل کی پیشین گوئی بہت درستی سے کر سکتا ہے۔

 

کوانٹم میکانیات کے مطابق ہر ذرے کے ساتھ ایک موج منسلک ہوتی ہے جس کو ایک ریاضیاتی مساوات سے بیان کیا جاتا ہے جو موجی تفاعل(wave function) کہلاتا ہے۔موجی تفاعل کی سب سے مضبوط خوبی یہ ہے کہ یہ کسی بھی کوانٹم ذرے کو ایک ہی وقت میں بہت زیادہ حالتوں میں رہنے کی اجازت دیتا ہے۔یہ عمل انطباق(superposition)کہلاتا ہے۔لیکن جب ہم اس ذرے کی کسی بھی طرح سے پیمائش کرتے ہیں تو یہ انطباقات فنا ہو جاتے ہیں۔مشاہدہ اس ذرے کو کوئی ایک حالت پسند کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔پیمائش کے دوران انطباق سے کسی ایک حالت میں آنا “موجی تفاعل کا فنا ہونا” کہلاتا ہے۔ مسلہ یہ ہے کہ اس فنا کے عمل کو کوانٹم میکانیات سے بیان نہیں کیا جا سکتا اس لیے کوئی نہیں جانتا کہ یہ کیسے اور کیوں ہوا۔

 

1957میں لکھے اپنے ڈاکٹری کے مقالے میں امریکی طبیعات دان ہف ایوریٹ(Hugh Everett) نے تجویز دی کہ ہمیں موجی تفاعل کے انہدام کی ناموزوں فطرت کے بارے میں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ ایوریٹ نے تجویز دی کہ جب چیزوں کی پیمائش یا مشاہدہ کیا جاتا ہے تو وہ بسیار حالتوں سے ایک حالت میں نہیں جاتیں بلکہ موجی تفاعل میں موجود تمام ممکنات برابر کی حقیقت رکھتی ہیں اور جب ہم پیمائش کرتے ہیں تو ہم ان میں سے صرف ایک حقیقت کو دیکھ سکتے ہیں حالانکہ باقی بھی وجود رکھتی ہیں۔ یہ کوانٹم میکانیات کی “کثیر دنیاوی تاویل(Many worlds interpretation)” کہلاتی ہے۔

 

ایوریٹ اس بارے میں واضح نہیں تھا کہ یہ باقی حالتیں کہاں پائی جاتی ہیں۔لیکن 1970 کی دہائی میں طبیعات دان برائس دی وٹ(Bryce de Witt) نے دلیل دی کہ ہر متبادل نتیجے کو ایک متوازی حقیقت(دوسری دنیا) میں موجود ہونا چاہیے۔فرض کرو آپ برقیے(electron) کا راستہ دیکھنے کا ایک تجربہ کرتے ہیں۔ اس دنیا میں وہ ایک راستے پر چلتا ہے مگر ایک دوسری دنیا میں وہ کوئی اور راستہ اختیار کرے گا۔اگر ایسا ہے تو پھر برقیے کے گزرنے کے لیے آپ کو ایک متوازی پیمائشی سامان کی ضرورت ہو گی۔آپ کو ایک اپنے ہی متوازی جڑواں کی بھی ضرورت پڑے گی تا کہ وہ الیکٹران کی پیمائش کر سکے۔درحقیقت آپ کو اس الیکٹران کے گرد ایک پوری متوازی کائنات کی ضرورت ہو گی جو ہر طرح سے آپ کی کائنات کے جیسی ہو گی سوائے اس کے کہ اس میں الیکٹران کسی دوسری جگہ جائے گا۔قصہِ مختصر یہ کہ اگر آپ موجی تفاعل کو منہدم ہونے سے بچانا چاہتے ہیں توآپ کو ایک اور کائنات بنانا پڑے گی۔

 

multiverse-9-laaltain

جب ہم پیمائش کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو تصویر اور مبالغہ آرا ہو جاتی ہے۔ دی وِٹ کے مطابق کسی ستارے میں، کسی کہکشاں میں یا دور کسی کائنات میں ہونے والی کوانٹمی تبدیلی زمین پر ہماری مقامی دنیا کو بہت زیادہ نقلوں(copies) میں تقسیم کر رہی ہے۔

 

ہر کوئی ایوریٹ کی بسیار دنیاوی تاویل کو ایسے نہیں دیکھتا۔ کچھ کا کہنا ہے کہ یہ ایک ریاضیاتی آسائش ہے اور ہم متوازی کائناتوں کے مندرجات کے بارے میں کوئی بھی معانی خیز رائے نہیں دے سکتے۔

 

لیکن دوسرے لوگ اس تصور کو بہت سنجیدگی سے لیتے ہیں کہ جب بھی کوئی کوانٹمی پیمائش کی جاتی ہے تو آپ کے لاتعداد جڑواں جنم لیتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ چونکہ کوانٹم نظریہ آپ کو صحیح نتائج دیتا ہے لہٰذاکوانٹم کثیرِنات حقیقی ہونی چاہیے کیوں کہ کوانٹم نظریہ اس کا مطالبہ کرتا ہے ۔

 

آپ یا تو اس دلیل کو مان لیں گے یا نہیں۔ لیکن اگر آپ اسے مان لیتے ہیں تو آپ کو کچھ پریشان کر دینے والی چیز کو بھی ماننا پڑے گا۔

 

schrodinger's-cat-laaltain

دوسری متوازی کائناتیں جیسا کہ وہ جو دائمی افراط(eternal inflation) میں پیدا ہوئیں، حقیقت میں دوسری کائناتیں ہیں۔وہ زمان اور مکان میں یا دوسری ابعاد میں کسی اور جگہ اپنا وجود رکھتی ہیں۔ممکن ہے وہاں آپ کی ہو بہو نقلیں موجود ہوں، پر وہ نقلیں مختلف ہوں گی بالکل ایسے جیسے کوئی جسم کسی دوسرے براعظم میں رہ رہا ہو۔
اس تناظر میں کثیر دنیاوی تاویل کی دوسری کائناتیں(universes of many worlds interpretation) سپیس کی دوسری ابعاد یا مقامات میں نہیں ہیں۔بلکہ وہ بالکل یہیں ہیں اور ہماری کائنات کے ساتھ منطبق(superimposed) ہوئی ہیں لیکن نہ تو وہ نظر آتی ہیں اور نہ ہی قابلِ رسائی ہیں۔ اور ان میں جو آپ کے جڑواں موجود ہیں وہ حقیقی معنوں میں آپ ہی ہیں۔

 

درحقیقت “آپ” کا کوئی معانی خیز وجود ہی نہیں ہے۔ “آپ” ہر لمحے مضحکہ خیز تعداد میں تقسیم ہو رہے ہیں۔اس کے لیے آپ ان تمام کوانٹمی واقعات(quantm events) کا تصور کیجیے جو اس وقت واقع ہوتے ہیں جب کوئی برقی اشارہ(electrical signal) آپ کے دماغ میں ایک عصبیے (neuron) کے ساتھ سفر کرتا ہے۔ “آپ” ایک ہجوم میں گم ہو جاتے ہیں۔

 

دوسرے الفاظ میں ایک خیال جو ریاضیاتی آسانی کے طور پر شروع ہوا تھا یہ بتاتا ہے کہ انفرادیت جیسی کسی شئے کاکوئی وجود نہیں ہے۔
کثیرِنات کی جانچ(Testing the multiverse)
متوازی کائناتوں کے عجیب مضمرات کو مدِنظر رکھتے ہوئے آپ کے ذہن میں ان کے وجود پر شک جائز ہے۔لیکن ہم کون ہوتے ہیں یہ فیصلہ کرنے والے کہ کیا عجیب ہے اور کیا نہیں؟ سائنسی تصورات تجرباتی جانچ سے پروان چڑھتے ہیں یا ختم ہو جاتے ہیں نہ کہ اس سے کہ ہم ان کو لے کر کیسا محسوس کرتے ہیں۔ اور یہ ایک مسلہ ہے۔ ایک متبادل کائنات ہماری اپنی کائنات سے علیحدہ ہے اور تعریف کی حد تک یہ ہماری نظر اور پہنچ سے باہر ہے۔ قصہ ِ تمام یہ کہ کثیرِنات کے نظریات کی جانچ دوسری دنیاؤں کی تلاش سے نہیں ہو سکتی۔

 

اگرچہ دوسری کائناتوں کا براہِ راست مشاہدہ نہیں کیا جا سکتا تاہم یہ ممکن ہے کہ ایسے ثبوت تلاش کر لیے جائیں جو ان کے وجود کے حق میں دیے جانے والے دلائل کی توثیق کرتے ہوں۔

 

مثال کے طور پر ہم انفجارِ عظیم (big bang) کے افراطی نظریے(inflation theory) کے لیے بہت ٹھوس ثبوت تلاش کر سکتے ہیں جو افراطی کثیرِنات (inflationary multiverse) کے مسلے کو( ثابت کیے بنا ) کافی تقویت بخشیں گے۔ کچھ کونیات دانوں(Cosmologists) نے تجویز دی ہے کہ افراطی کثیرِنات کی زیادہ براہِ راست طریقے سے جانچ کرنا بھی ممکن ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہماری اور ایک اور پھیلتی ہوئی کائنات کے درمیان تصادم پس منظری کائناتی خردموجی شعاعوں (cosmic microwave background radiations) پر قابلِ پیمائش اثرات چھوڑے گا اور اگر ہم اس کے قریب ہوئے تو اس کو دیکھ سکیں گے۔

 

multiverse-10-laaltain

اسی طرح عظیم ثقیلہ تصادم گر(large hadron collider) کے لیے جو تجربات سوچے گئے ہیں وہ زائد ابعاد(extra dimensions) اور ان ذرات کو تلاش کر سکتے ہیں جن کی پیشین گوئی جھلی دنیاوی نظریہ(braneworld theory) کرتا ہے۔
کچھ کا یہ کہنا ہے کہ تجرباتی تصدیق کو بڑھا چڑھا کے پیش کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم کسی بھی سائنسی تصور کی معقولیت کا اندازہ دوسرے طریقوں سے بھی لگا سکتے ہیں جیسا کہ کیا اس کی بنیاد واضح منطق پر رکھی گئی ہے جو ایسے مقدمہِ تمہید(premises) سے جنم لیتا ہو جس کومشاہداتی امداد حاصل ہو۔

 

آخر میں ہم شماریاتی پیشین گوئی بھی کر سکتے ہیں۔مثال کے طور پر ہم افراطی کثیرِنات کے نظریے کو استعمال کرتے ہوئے بہت ساری کائناتوں میں طبیعیاتی مستقلوں(physical constants) کی قیمتوں کا اندازہ لگا کر یہ دیکھ سکتے ہیں کہ وہ ہمارے والی قیمتوں کے قریب ہیں یا نہیں۔ ان بنیادوں پر ہمارے پاس کوئی وجہ نہیں ہے کہ ہم کثیرِنات میں خود کا خاص تصور کریں۔

 

یہ کسی بھی طور بہت عجیب نظر آتا ہے کہ ہم جس طرف بھی دیکھیں یہ کائنات پھیلتی ہوئی نظر آتی ہے۔۔ طبیعیات دان میکس ٹیگمارک(Max Tegmark) کا کہنا ہے کہ ایسا نظریہ بنانا بہت مشکل ثابت ہوا ہے جو بالکل ایسی کائنات دے جیسی ہم دیکھتے ہیں” اس کے باوجود یہ واضح نہیں ہےکہ آیا اخباروں کی سرخیاں مستقبل قریب میں کسی دوسری کائنات کی ایجاد کی خبر دیں گی۔فی الحال یہ تصورات طبیعیات اور مابعدالطبیعیات کی سرحد پر موجود ہیں۔
کسی بھی ثبوت کی غیر موجودگی میں ذیل میں مختلف کثیرِنات کے امکانات کی درجہ بندی ہے۔ زیادہ ممکنہ کثیرِنات کو سب سے پہلے رکھا گیا ہے۔

 

بارہ دوزی کائنات: اگر ہماری کائنات حقیقت میں لامحدود اور یکساں ہے تو پھر بارہ دوزی کائنات سےجان چھڑانابہت مشکل ہے۔

 

افراطی کثیرِنات: اگر افراطی نظریہ صحیح ہے تو افراطی کائنات زیادہ ممکنہ ہے اور فی الحال افراط(inflation) انفجارِ عظیم (Big Bang) کی ہماری سب سے اچھی وضاحت ہے۔

 

کائناتی فطری چناو: ایک زبردست خیال ہے مگر اس میں بہت زیادہ تصوراتی طبیعیات موجود ہے اور بہت سارے ایسے سوالات ہیں جن کے جواب موجود نہیں۔

 

جھلی دنیاؤں: کا نظریہ اور زیادہ تصوراتی ہے اور اس کا وجود تبھی ممکن ہے جب زائد ابعاد کا وجود ممکن ہو اور ابھی اس کا کوئی براہِ راست ثبوت نہیں ہے۔

 

کوانٹم کثیرِنات: بحث کی حد تک کوانٹم نظریے کی سادہ تریں تاویل ہے مگر یہ بہت مبہم ہے اور انفرادیت کے ایک غیر مربوط نقطہِ نظر کی طرف لے جاتی ہے۔