Categories
نان فکشن

نجمِ اسود اور ننھی کائناتیں: قسط نمبر 7 (میرا نکتۂ نظر)

گذشتہ اقساط کے مطالعہ کے لئے درج ذیل لنکس استعمال کیجئے (لنک نئے ٹیب میں کھلیں گے)

قسط نمبر 1قسط نمبر 2، قسط نمبر 3، قسط نمبر 4قسط نمبر 5 ، قسط نمبر 6

میرا نکتۂ نظر

یہ مضمون میرے خدا پر ایمان یا عدمِ ایمان سے متعلق نہیں ہے۔ اس کی بجائے میں اس امر پر میں گفتگو کروں گا کہ ہم کائنات کو کیونکر سمجھ سکتے ہیں۔ اور عین ممکن ہے اس گفتگو کے دوران قارئین اس غلط فہمی کا شکار ہو جائیں جس کا ازالہ اس مضمون کا اولین جملہ ہے۔یہاں زیرِ بحث سوال یہ ہے کہ Grand Unified Theory حال میں کس نہج پر ہے اور اس نظریے سے ، جسے Theory of everything کہتے ہیں، ہم کیا نتائج اخذ کر سکتے ہیں؟ یہ سوال نہ صرف حقیقی ہے بلکہ نہایت اہم بھی ہے۔ بالعموم جن لوگوں نے اس قسم کے سوالات کا مطالعہ اور ان پر کلام کیا ، یعنی کہ فلسفی حضرات، وہ نظری طبیعیات میں ہونے والی ترقی کے ساتھ ساتھ نہیں چل پائے، کیونکہ اُن کا ریاضیاتی پس منظر اتنا مضبوط نہ تھا۔ ان فلسفی حضرات کا ایک نجی طبقہ، جنہیں ہم سائنس کے فلسفی کہہ سکتے ہیں ، وہ اس مطالعے کے لئے زیادہ موزوں ہو سکتے ہیں۔ لیکن اُن میں سے اکثر ناکام طبیعیات دان ہیں، جو کوئی نیا نظریہ تخلیق نہیں کر پائے اور نتیجتاً طبیعیات کے فلسفے پر لکھنا شروع کر دیا۔ وہ ہنوز اس صدی کے ابتدائی طبیعیاتی نظریات، جیسا کہ نظریہ اضافت اور کوانٹم طبیعیات پر بحث و تمحیص کر رہے ہیں اور فزکس کے حالیہ پیش کردہ نظریات سے بے خبر ہیں۔  

شاید میں ان فلسفی حضرات پر ذرا سخت تبصرہ کر رہا ہوں، لیکن وہ (بھی) مجھ پر کچھ زیادہ مہربان نہیں رہے۔ میرے طرزِ تحقیق کو بچگانہ اور سادہ لوحی پر مبنی قرار دیا گیا ہے۔ مجھے بہت سے مقامات پر  nominalist, انسٹرومنٹلسٹ، پوزی ٹی وسٹ، ریئل اسٹ، اور بہت سے دوسرے القابات سے نوازا گیا ہے۔ دراصل یہ تردید بذریعہ تذلیل ہے۔ اگر میرے طریقہ کار پر آپ کوئی لیبل چسپاں کر ڈالتے ہیں تو آپ کو یہ بتانے کی زحمت ہی گوارا نہیں کرنی چاہئے کہ میرے نظریات میں کیا کمی کوتاہی ہے۔ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ہر ایک یہ دیکھ سکتا ہےکہ ان القابات کے دیے جانے میں کیاخرابی پائی جاتی ہے۔ 

جو لوگ نظری طبیعیات میں حقیقتاً آگے بڑھ پاتے ہیں،وہ اُن طریقہ ہائے کار کےتحت نہیں سوچتے جو بعد ازاں فلسفی اور مؤرخین ان کے لئے ایجاد کرتے ہیں ۔ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ آئن سٹائن، ہائزین برگ، ڈائریک، وغیرہ کو کوئی پروا نہیں تھی کہ لوگ انھیں ریئل اسٹ سمجھتے تھے یا انسٹرومینٹل اسٹ؛ انھیں صرف اس امر سے غرض تھی کہ موجودہ نظریات باہم موافق ہیں یا نہیں۔ نظری طبیعیات اپنی ترقی کی خاطر، منطقی خود مطابقت (self-consistency) پر، تجرباتی نتائج کی نسبت، ہمیشہ زیادہ اہمیت کی حامل رہی ہے۔ بہت سے فصیح اور خوب صورت نظریات محض اس وجہ سے نظر انداز کر دئے گئے ہیں کیونکہ وہ ہمارے مشاہدے سے مطابقت نہیں رکھتے۔ لیکن میں کسی بھی ایسے بنیادی نظریے سے واقف نہیں ہوں جو محض تجربات کی مدد سے آگے بڑھا ہو۔ نظریہ ہمیشہ پہلے آیا، جو کہ اس خواہش کا پر تَو ہوتا تھا کہ ایک خوب صورت اور (موجودہ نظریات سے) مطابقت رکھنے والا ریاضیاتی ماڈل وضع کیا جائے۔ یہ نظریہ پھر پیشین گوئیاں کرتا ہے، جسے ہم مشاہدات کی مدد سے پرکھ سکتے ہیں۔ اگر مشاہدہ پیشین گوئیوں کے مطابق ہو تو اس سے نظریے کا درست ہونا ثابت نہیں ہوتا، بلکہ محض اتنا ہوتا ہے کہ اس نظریے کی مدد سے ہم مزید پیشین گوئیاں کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں، اور وہ پیشین گوئیاں مشاہدات کو معیار بنا کر ایک مرتبہ پھر پرکھی جاتی ہیں۔ اگر مشاہدات اور پیشین گوئیاں باہم مطابق نہ پائے جائیں، تو اس نظریے کو رد کر دیا جاتا ہے۔  

اور اگر ایسا نہیں ہوتا تو کم از کم ایسا ہونا ضرور چاہئے۔ عملاً سائنس دانوں کو ایسا کوئی بھی نظریہ رد کرنے میں تامل ہوتا ہے جس میں انھوں نے بہت زیادہ محنت اور کوشش سے کام کیا ہو اور ہزاروں گھنٹے اس تحقیق کی نذر کر دیے ہوں۔بالعموم وہ مشاہدے کی درستگی پر سوال اٹھانے سے (اپنے ردعمل کا) آغاز کرتے ہیں۔ اگر یہ تدبیر ناکام ہو جائے تو وہ ہنگامی بنیادوں پر نظریے میں ترامیم کرتے ہیں۔ اور بالآخر یہ نظریہ چوں چوں کا مربہ بن جاتا ہے۔ بعد ازاں ایک نیا نظریہ پیش کیا جاتا ہے، جس میں تمام تر ناموزوں مشاہدات کی خوب صورت اور قدرتی انداز میں وضاحت کی جاتی ہے۔ اس کی ایک مثال مائیکل سن مورلے کا تجربہ ہے، جو 1887 میں کیا گیا، جس کے ذریعے یہ دکھایا گیاکہ روشنی کی رفتار ہمیشہ ایک جیسی ہوتی ہے، قطع نظر اس کے کہ مبداء (source)یا مشاہد (source)کس رفتار سے حرکت میں ہیں۔(تجربے کا یہ) نتیجہ مضحکہ خیز معلوم ہوا۔ یقیناً (ایسا ہونا چاہئے تھا کہ) روشنی کی مخالف سمت میں حرکت کرنے والے کو روشنی کی رفتار زیادہ معلوم ہوتی، بنسبت اس کے جو روشنی کی سمت میں حرکت کر رہا تھا، اس کے باوجود تجربات سے یہ نتیجہ برآمد ہوا کہ دونوں مشاہد ہر لحاظ سے رفتار کو برابر پائیں گے۔ آنے والے اٹھارہ برسوں کے لئے لورینٹذ (Hendrik Lorentz) اور فٹز جیرالڈ (George Fitzgerald) نے اس مشاہدے کو زمان و مکان سے متعلق متفق علیہ نظریات سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی، انھوں نے ہنگامی بنیادوں پر مفروضے وضع کئے، جیسے کہ جب کوئی شے تیز رفتار سے حرکت کر رہی ہوتی ہے تو اُس کی طوالت میں کمی آ جاتی ہے۔ اور یوں فزکس کا سارا ڈھانچہ بے ڈھنگا اور بد شکل ہو گیا۔ بعد ازاں 1905 میں آئن سٹائن نے ان سے کہیں زیادہ پر کشش نظریہ پیش کیا، اس نظریے کے مطابق وقت (time) ایک علیحدہ اور قائم بالذات شے نہیں تھا۔ بلکہ یہ مکان (spacae) کے ساتھ مربوط ایک چوتھی جہت (fourth-dimension) تھا جسے اس نے space-time کا نام دیا۔ آئن سٹائن اس تصور تک تجرباتی نتائج کی نسبت نظریے کے دونوں حصوں کو باہم مربوط بنانے کی خواہش کے تحت اس نتیجے تک پہنچا۔ یہ دو اجزاء وہ قوانین تھے جو برقی اور مقناطیسی قوانین سے متعلق تھے اور وہ قوانین جو اجسام کی حرکت کی بنیاد تھے۔ 

میں نہیں سمجھتا کہ 1905 میں آئن سٹائن یا کسی اور کو یہ ادراک ہوا ہو کہ نظریہ اضافت کس قدر سادہ، عام فہم اور جمالیاتی تھا۔ اس نظریے نے ہمارے زمان و مکان کے تصور کو مکمل طور پر بدل کر رکھ دیا۔ یہ مثال فلسفہ سائنس میں حقیقت نگار ی کی مشکلات کی عکاس ہے، کیونکہ جسے ہم حقیقت کہتے ہیں ، اس “حقیقت ” کی تحدید وہ نظریہ کرتا ہے جس نظریے پر وہ حقیقت مبنی ہوتی ہے۔میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ Lorentz اور Fitzgerald خود کو حقیقت نگار کہتے تھے اور انھوں نے روشنی کی رفتار دریافت کرنے والے تجربات نیوٹن کے مطلق زمان و مکان کے تصورات کی تحدید میں رہتے ہوئے انجام دیے تھے۔ (نیوٹن کے وضع کردہ) زمان و مکان کے تصورات عام فہم اور حقیقت کے قریب معلوم ہوتے تھے۔ تاہم آج کل جو لوگ نظریہ اضافت سے شناسائی رکھتے ہیں (جو تعداد میں اب تک بھی پریشان کن حد تک قلیل ہیں) اُن کا نظریہ مختلف ہے۔ ہمیں چاہئے کہ ہم لوگوں کو زمان و مکان ایسے بنیادی تصورات کے جدید فہم سے آگاہی دیں۔ 

اگر کسی حقیقت کی بنیاد ہمارا نظریہ ہے تو ہم حقیقت کو کیونکر اپنے فلسفے کی بنیاد قرار دے سکتے ہیں؟ میں خود کو اس تناظر میں حقیقت نگار سمجھتا ہوں کہ میرے خیال کے مطابق ایک ایسی کائنات وجود رکھتی ہے جس کو سمجھا جانا چاہئے اور جس کی تحقیق کی جانی چاہئے۔ میں ایسی تشکیک پر مبنی پوزیشن کو تضیع اوقات خیال کرتا ہوں جس کے مطابق ہر شے ہمارے تخیل کی پیداوار ہے۔اس مفروضے کو اپنے کسی عمل کی بنیاد کوئی بھی نہیں بناتا۔ لیکن ہم کسی نظریے کے بغیر کائنات سے متعلق حقائق کو کائنات سے متعلق مفروضہ تصورات سے الگ نہیں کر سکتے۔یہی وجہ ہے کہ میری رائے(جسے سادہ اور بچگانہ قرار دیا گیا ہےکے مطابق طبیعیات کا کوئی بھی نظریہ ایک ریاضیاتی ماڈل ہوتا ہے جس کا مقصد ہمارے مشاہدات کے نتائج بیان کرنا ہوتا ہے۔   

کوئی بھی نظریہ ایک اچھا نظریہ تبھی کہلا سکتا ہے اگر یہ ایک فصیح ماڈل ہو، اگر یہ مشاہدات کو ایک وسیع پیمانے پر بیان کرنے کی قدرت رکھتا ہو ، اس کے ساتھ ساتھ نئے مشاہدات کا پیش بین بھی ہو۔ ان خصوصیات کے علاوہ نظریے کے متعلق یہ سوال اٹھانا کوئی معنی نہیں رکھتا کہ یہ حقیقت سے مطابقت رکھتا ہے یا نہیں ، کیونکہ حقیقت نظریے سے جدا اپنا کوئی مجرد بیان نہیں رکھتی۔ سائنسی نظریات کے متعلق میرے اس رویے کی بنا پر شاید مجھے ادعائیت پسند، اثباتیت پسند (positivist) قرار دے دیا جائے، اور جیسا کہ میں نے پہلے یہ ذکر کیا ہے؛ مجھے ان دونوں القابات سے نوازا جا چکا ہے۔جس شخص نے مجھے اثباتیت پسند قرار دیا، اُس نے میری تذلیل میں اضافہ کرنے کے لئے اپنے لقب کے ساتھ یہ تبصرہ بھی شامل کیا کہ اثباتیت کا زمانہ اب گزر چکا تھا۔ عین ممکن ہے کہ اس تناظر میں اثباتیت کا دور واقعتاً گزر چکا ہو جو کہ ماضی کا ایک دانشورانہ خبط تھا، لیکن جو مثبت (positivist) پوزیشن میں نے اختیار کی ہے ، اُس شخص کے لئے وہ واحد راستہ ہے جو کائنات کی وضاحت کی غرض سے نئے قوانین اور نئے طریقہ ہائے کار کی تلاش میں ہے۔ حقیقت حقیقت کا راگ الاپنا ایک بے سود سر گرمی ہے کیونکہ حقیقت کا نظریے سے الگ کوئی مجرد وجود نہیں ہوتا۔ حقیقت ہمیشہ نظریے کی محتاج ہوتی ہے۔ 

میری رائے کے مطابق سائنس کے فلاسفہ کوانٹم میکانیات اور ہائزن برگ کا اصولِ عدم تعیین (Heisenberg’s Uncertainty Principle) اس وجہ سے نہیں سمجھ پاتے کیونکہ وہ حقیقت پر ایمان بالغیب رکھتے ہیں۔، ایک ایسی حقیقت جو ان کے نزدیک کسی نظریے کی محتاج نہیں ہوتی، اور یہیں وہ غلطی کرتے ہیں۔ شروڈنگر (Schrodinger) کا ایک بہت مشہور خیالی تجربہ ہے جس کا نام شروڈنگر کی بلی (Schrodinger’s Cat)ہے۔ایک مہر بند (sealed) ڈبے میں بلی کو رکھا جاتا ہے۔ پھر اس ڈبے پر ایک بندوق تانی جاتی ہے۔بندوق خود بخود چل جائے گی اگر ایک عدد تابکاری مرکزہ (radioactive nucleus) زائل ہو جاتا ہے۔ایسا رونما ہو جانے کا امکان پچاس فیصد ہے۔ (موجودہ دور میں ایسی تجویز دینے کا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا، یہاں تک کہ خالصتاً خیالی تجربے (thought experiment) کےطور پر بھی۔ لیکن خوش قسمتی سے شروڈنگر کے دور میں جانوروں کے حقوق نے ابھی اتنا زور نہیں پکڑا تھا) 

ڈبہ کھولنے پر بلی کے ملنے کی دو صورتیں ہیں۔ یا تو وہ زندہ ہو گی یا مردہ۔ لیکن ڈبہ کھلنے سے قبل بلی کی کوانٹم حالت (state) بیک وقت مردہ ا اور زندہ cat state،کا مجموعہ ہوں گی ۔ اس امر پر یقین کرنا کچھ فلسفیوں کے لئے نہایت مشکل ہوتا ہے۔ ایسا ممکن نہیں ہے کہ آدھی بلی کو گولی لگی ہو اور آدھی صحیح سلامت ہو، بعینہ اسی طرح جیسے کوئی (عورت) آدھی حاملہ نہیں ہو سکتی۔ انھیں مشکل اس وجہ سے پیش آتی ہے کیونکہ بالفعل یہ لوگ حقیقت کا کلاسیکی تصور استعمال کر رہے ہوتے ہیں جس میں کوئی شے ایک متعین اور واحد تاریخ (history) رکھتی ہے۔ کوانٹم حرکیات (mechanics) کا تمام تر مقصد ہی یہ ہے کہ یہ حقیقت کا ایک نیا اور مختلف تصور ہے۔ اس تصور کے مطابق کسی شے کی کوئی متعین حالت نہیں ہوتی بلکہ تمام ممکنہ حالتیں ہو سکتی ہیں۔ اکثر صورتوں میں کسی خاص واقعے کے وقوع پذیر ہونے کا امکان کسی دوسرے واقعے کے وقوع پذیر ہونے کے مبہم سے امکان کے نتیجے میں مکمل معدوم ہو جائے گا؛ لیکن دوسری صورتوں میں (یہ بھی ممکن ہے کہ) ایک واقعے کے رونما ہونے کا امکان دوسرے واقعے کے رونما ہونے کے امکان کو بڑھا دے۔اور امکان کو بڑھا دینے والی یہ تواریخ (histories) میں سے کوئی ایک تاریخ ایسی ہوتی ہے جو ایک مضصوص شے کی تاریخ ہوتی ہے۔ 

شروڈِنگر کی بلی کے معاملے میں دو ایسی تواریخ ہیں جو ایک دوسرے کو کمک پہنچاتی ہیں۔ ایک تاریخ میں بلی گولی کھائے ہوئے (یعنی مر چکیہے اور دوسری تاریخ میں وہ زندہ ہے۔کوانٹم نظریے کے مطابق دونوں امکانات بیک وقت وجود رکھ سکتے ہیں۔ لیکن کچھ فلسفی حضرات اس ذہنی بندش سے چھٹکارا نہیں پا سکتے کیونکہ انھوں نے یہ طے کر رکھا ہوتا ہے کہ بلی یا ایک وقت میں زندہ ہو سکتی ہے یا مردہ، یہ بیک وقت زندہ اور مردہ نہیں ہو سکتی ۔ایک مزید مثال وقت کا تصور ہے، ایک ایسا تصور جہاں ہمارے طبیعیاتی نظریات ہمارا تصورِ حقیقت متعین کرتے ہیں۔ ایسا بدیہی سمجھا جاتا تھا کہ وقت مسلسل جاری و ساری رہتاہے قطع نظر اس کے کہ اطراف میں کیا واقعات رونما ہو رہے ہیں، لیکن نظریہ اضافت نے زمان اور مکان کو یکجا کیا اور یہ تصور پیش کیا کہ زمان و مکان دونوں کا رخ موڑا جا سکتا ہے، دونوں میں تحریف کی سکتی ہے ۔ لہذاٰ (بات کچھ یوں ہے کہ) ہمارا زمان و مکان کی نوعیت کا ادراک کائنات سے الگ ایک حقیقت ہونے کی بجائے کائنات کے ذریعے تشکیل پاتا ہے۔ تب جا کر یہ تصور کرنا ممکن ہوا کہ وقت ایک خاص نقطہ آغاز سے پہلے وجود نہیں رکھتا تھا۔ (یعنی) اگر ہم ماضی میں سفر کرنا شروع کریں تو ایک لمحہ ایسا آئے گا ، ایک اکائی، جس سے پیچھے جا پانا نا ممکن ہو گا۔ اگر ایسا ہوتا (لیکن ایسا نہیں ہے) تو یہ پوچھنا نامعقولیت کہلائے گا کہ عظیم دھماکہ (big bang) کیسے ہوا، اوراس کے پیچھے کارفرما قوت کیا تھی؟ (کسی بھی) شے کی تخلیق کے بارے میں جب بات کی جا تی ہے تو یہ بلا حجت یہ فرض کر لیا جاتا ہے کہ بگ بینگ سے قبل بھی وقت (time)وجود رکھتا تھا۔ ہم پچیس برسوں سے یہ جانتے ہیں کہ آئن سٹائن کا جنرل نظریہ اضافت یہ پیش گوئی کرتا ہے کہ 15 ارب سال پہلے وقت کا یقیناً ایک نکتہ آغاز تھا (یعنی اس سے قبل وقت وجود نہیں رکھتا تھا)۔ لیکن فلسفی حضرات اس تصور کے ساتھ مطابقت پیدا کرنے میں ابھی تک کامیاب نہیں ہو پائے۔ وہ ابھی تک کوانٹم میکانیات کے مبادیات کو لے کر پریشان ہیں، جن کی بنیاد 65 برس قبل طے پا چکی تھی۔ وہ یہ سمجھنے سے قاصر دکھائی دیتے ہیں کہ فزکس بہت آگے جا چکی ہے۔ 

اس سے بھی زیادہ دشواری تصوراتی وقت(imaginary time) کے ریاضیاتی تصورات کو سمجھنے میں آتی ہے، جس کے تناظر میں میری اور جم ہارٹل کی تجویز یہ تھی کہ عین ممکن ہے کائنات کا کوئی آغاز اور انجام نہ ہو۔ (اس پر) ایک فلسفی نے مجھ پر وحشیانہ حملہ کرتے ہوئے کہا: “ریاضیاتی تصوراتی وقت کا حقیقی کائنات سے بھلا کیا تعلق ہو سکتا ہے؟” میرا خیال ہے کہ فلسفی روزمرہ استعمال میں ہونے والے الفاظ (خیالی اور حقیقی) کو ریاضی کی اصطلاحات (ریئل اور امیج نری ٹائم) کے ساتھ خلط ملط کر رہا تھا۔ اور اس امر سے میرا نکتہ نظر واضح ہو جاتا ہے کہ: ہم کسی بھی حقیقت کو بغیر کسی تناظر کے کیونکر جان سکتے ہیں؟ 

میں نے نظریہ اضافت اور کوانٹم میکانیات کے تناظر میں امثال کے ذریعے وہ مسائل سامنے رکھنے کی کوشش کی ہے جو کسی کو بھی کائنات کی حقیقت سمجھنے میں پیش آ سکتے ہیں۔اس سے قطعاً فرق نہیں پڑتا آیا آپ کوانٹم میکانیات اور نظریہ اضافت سمجھتے ہیں ، بلکہ اس سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا اگر یہ نظریات غلط بھی ہوں ۔ میں جو امید رکھ سکتا ہوں وہ یہ ہے کہ میں یہ دکھانے میں کامیاب رہاہوں کہ کوئی مثبت (positivist) نظریہ موجود ہے ، جس میں نظریے کو بطور ماڈل کے استعمال کر کے کائنات کو سمجھنے کی کوشش کرنا واحد لائحہ عمل ہے، کم از کم نظری طبیعیات کے طالب علم کے لئے ایسا ہی ہے۔ اور میں پر امید ہوں کہ ہم ایک متوازن نظریہ وضع کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے جو کائنات میں ہر ایک شے کو بیان کر سکتا ہو گا۔ اگر ہم ایسا کر سکے تو یہ انسانیت کی ایک بہت بڑی فتح ہو گی۔ 

 

Categories
نان فکشن

نجمِ اسود اور ننھی کائناتیں: قسط نمبر 1 (پیش لفظ)

عرضِ مترجم: اسٹیفن ہاکنگ کی کتاب ‘وقت کی مختصر تاریخ’ کا اردو ترجمہ محترم ناظر محمود صاحب، علیم احمد صاحب، یاسر جواد صاحب اور دیگر احباب نے اپنی اپنی جگہ نہایت ہنر مندی اور سلیقے سے کیا ہے، مزید برآں ہاکنگ کی تازہ ترین کتاب “بڑے سوالوں کے مختصر جواب” کا ترجمہ بھی حال ہی میں شائع ہو چکا ہے۔ تاہم ہاکنگ کی نہایت اہم اور طویل عرصہ تک  نیو یارک ٹائمز بیسٹ سیلر  رہنے والی کتاب Black Holes and Baby Universe  کا ترجمہ ان نامور مترجمین کی جانب سے ہنوز نہیں کیا گیا، اور یہ اعزاز لالٹین ڈاٹ پی کے کے حصے میں آ رہا ہے  جو نہ صرف  باعثِ فخر ہے بلکہ سائنسی کتب کے تراجم کی دم توڑتی روایت کو از سرِ نو زندہ کرنے کی  ایک شاندار کاوش  بھی،جو ہر لحاظ سے قابلِ تحسین ہے۔ احباب سے درخواست ہے کہ ہاکنگ کی اس شاندار تحریر کو زیادہ سے زیادہ احباب بالخصوص سائنس کے طلباء کو مطالعے کے لئے تجویز فرمائیں۔

کتاب چودہ ابواب پر مشتمل ہے۔ جنہیں ادارہ ہفتہ وار شائع کرنے کی پوری کوشش کرے گا۔ط ع

 


پیش لفظ

از اسٹیفن ہاکنگ

 

یہ کتاب اُن مضامین کا مجموعہ ہے جو میں نے1976 اور 1992 کے درمیان (مختلف اوقات میں)  لکھے۔ ۔ ان مضامین کا دائرۂ کار خود نوشتہ خاکوں اور فلسفۂ سائنس سے لے کر اپنے اس جوش و ولولے کو بصراحت بیان کرنے کی کوشش ہے جو میں سائنس اور کائنات کے متعلق محسوس کرتا ہوں۔ کتاب کا اختتامیہ Desert Island Discs نام کےپروگرام کا تحریری قالب ہے جس میں مجھے مدعو کیا گیا۔ یہ برطانوی ٹیلی ویژن  انڈسٹری میں اپنی نوعیت کا ایک انوکھا پروگرام ہے جس میں مہمان سے کہا جاتا ہے کہ وہ خود کو ایک صحرائی جزیرے میں خستہ حال بھٹکتا ہوا تصور کرے، اور پھر آٹھ میں سے کسی ایک ریکارڈ کا انتخاب کرے جو وہ rescue کئے جانے تک (مسلسل) سنے گا۔ (خوش قسمتی سے مجھے صحرا سے واپس آنے میں زیادہ وقت نہیں لگتا۔)

چونکہ یہ مضامین سولہ برس کے (طویل) دورانیے کو محیط ہیں لہذا یہ اس عرصے میں میری علمیت کی بتدریج ترقی کے عکاس بھی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے مضمون تحریر کرنے کی تاریخ اور جگہ، ہر مضمون کے اختتام پر درج کی ہیں۔ چونکہ  کتاب کا کوئی بھی مضمون دوسرے سے متصل نہیں ہے، لہذاٰ کچھ نہ کچھ باتوں کا اعادہ  یقینی ہے۔(اگرچہ) میں نے (حتی المقدور) کوشش کی ہے کہ ایسا نہ ہو، اس کے باوصف کچھ جگہوں پر   repetition دیکھنے میں آئے گی۔

کتاب کے اکثر مضامین کا خاکہ کچھ یوں تھا کہ یہ پڑھ کر سنائے گئے تھے۔ (لیکن) میری آواز اس قدر غیر واضح ہوتی تھی  کہ  بالعموم مجھے سیمینار اور خطابات اپنے  محقق (researcher) طالب علم کی مدد سے دینا پڑتے تھے۔ ، ایسا طالب علم جو مجھے سمجھ سکتا تھا اور میری لکھی ہوئی تحریر بھی پڑھ سکتا تھا۔ تاہم 1985 میں میرا وہ آپریشن ہوا جس سے میری قوتِ گویائی مکمل طور پر سلب ہو گئی۔ کچھ وقت کیلئے تو میرے پاس  کسی بھی قسم  کی گفتگو کا ذریعہ نہیں تھا۔ بالآخر مجھے ایک کمپیوٹر سسٹم  اور ایک نادر قسم کا speech synthesizer دیا گیا۔  مجھے (از حد) حیرت ہوئی کہ ( اس کی مدد سے)میں ایک کامیاب پبلک سپیکر بن سکتا  تھا، اور بہت سے سامعین سے بیک وقت مخاطب بھی ہو سکتا تھا۔ مجھے سائنسی امور کی وضاحت کرنے اور سوال و جواب سے لطف حاصل ہوتا ہے۔  میں جانتا ہوں کہ مجھے اس میں (سائنسی امور کی وضاحت اور سوالات کے جوابات دینے میں) بہتری لانے کیلئے ابھی بہت کچھ سیکھنا ہے، لیکن میرا خیال ہے مجھ میں بہتری آبھی رہی ہے۔  آپ  اس بارے میں فیصلہ آئندہ صفحات کو پڑھ کر از خود کر سکتے ہیں

میں اس نظریے سے متفق نہیں کہ کائنات ایک پر اسرار بھید ہے، ایک ایسی شے جس کے بارے میں ہم وجدانی آراء تو رکھ سکتے ہیں لیکن  کبھی مکمل طور پر اس کا تجزیہ کرنے یا اسے سمجھنے میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔ میرا احساس ہے کہ یہ نظریہ اس سائنسی انقلاب سے انصاف نہیں کرتا جو قریب چار سو برس قبل گلیلیو سے شروع ہوا اور جسے نیوٹن نے دوام بخشا۔ انہوں نے یہ ثابت کیا کہ کائنات کے کم از کم کچھ حصے لا یعنی یا الل ٹپ انداز میں کام نہیں کرتے بلکہ حتمی ریاضیاتی قوانین کے تحت کام کرتے ہیں۔ اور پھر برسوں پر محیط (محنت سے) ہم نے گلیلیو اور نیوٹن کے کام کو کائنات کے تقریباً ہر حصے تک توسیع دی ہے۔ اب ہمارے پاس ریاضیاتی قوانین ہیں اور ہمارے احساسات میں آنے والے تمام تجربات ان قوانین کے تابع ہیں۔ یہ ہماری کامیابی کا معیار ہے کہ اب ہمیں اربوں ڈالر خرچ کر کے دیو ہیکل مشینیں بناتے ہیں ٍ تا کہ ہم ذرات کو اس قدر توانائی پہنچا سکیں کہ ہمیں یہ بھی معلوم نہ ہو کہ (اتنی توانائی رکھتے ہوئے) ان کے آپس میں ٹکراؤ سے کیا نتیجہ برآمد ہو گا۔ ذرات کی یہ غیر معمولی توانائی زمین پر عام حالات میں وجود نہیں رکھتی، اور عین ممکن ہے کچھ لوگوں کو یہ گمان گزرے کہ ان کے مطالعہ پر اتنی خطیر رقم خرچ کرنا غیر ضروری ہے۔ لیکن (ان ذرات کا اس سطح کی توانائی رکھتے ہوئے ٹکراؤ) عین ممکن ہے ماقبل تخلیقِ کائنات ہوا ہو، لہذاٰ اگر ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کائنات اور ہم کس طرح وجود میں آئے تو یہ جاننا لازم ہو گا کہ اس سطح کی توانائی رکھنے والے ذرات کا باہمی تعامل کس نوعیت کا ہوتا ہے۔

کائنات کے بارے میں ہنوز بہت کچھ ایسا ہے جو ہم جانتے ہیں نہ ہی اس کا فہم رکھتے ہیں۔ لیکن ہم نے جو حیران کن ترقی، بالخصوص گزشتہ سو برسوں میں کی ہے، اس سے ہمیں یہ حوصلہ ملتا ہے کہ شاید کائنات کا مکمل فہم ہماری طاقت سے باہر نہیں ہے۔ ہم ہمیشہ اندھیرے میں نہیں بھٹکیں گے۔ (اور) عین ممکن ہے ہم کائنات کی ایک مکمل تھیوری وضع کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔ اگر ایسا ہو جاتا ہے تو یقیناً ہم  Masters of the Universe کہلائیں گے۔

اس کتاب میں سائنسی مضامین اس یقین کے ساتھ لکھے گئے تھے کہ ہم کائنات کو ایک نظم کے تحت چلانے والے قوانین کا ضمنی ادراک رکھتے ہیں اور غالب امکان ہے کہ مستقبل قریب میں ہم ان کا مکمل ادراک کر پائیں گے۔ عین ممکن ہے کہ یہ امید ایک سراب ہو؛ ہو سکتا ہے کہ کوئی مطلق تھیوری وجود نہ رکھتی ہو، اور اگر ہے بھی تو ہم اسے وضع کرنے میں کامیاب نہ ہو سکیں۔  لیکن  کائنات کے مکمل ادراک کی کوشش ، انسانی  ذہن کے مستقل نا امید رہنے سے یقیناً  بہتر ہے۔

اسٹیفن ہاکنگ

31 مارچ 1993