Categories
نان فکشن

نجمِ اسود اور ننھی کائناتیں: قسط نمبر 7 (میرا نکتۂ نظر)

گذشتہ اقساط کے مطالعہ کے لئے درج ذیل لنکس استعمال کیجئے (لنک نئے ٹیب میں کھلیں گے)

قسط نمبر 1قسط نمبر 2، قسط نمبر 3، قسط نمبر 4قسط نمبر 5 ، قسط نمبر 6

میرا نکتۂ نظر

یہ مضمون میرے خدا پر ایمان یا عدمِ ایمان سے متعلق نہیں ہے۔ اس کی بجائے میں اس امر پر میں گفتگو کروں گا کہ ہم کائنات کو کیونکر سمجھ سکتے ہیں۔ اور عین ممکن ہے اس گفتگو کے دوران قارئین اس غلط فہمی کا شکار ہو جائیں جس کا ازالہ اس مضمون کا اولین جملہ ہے۔یہاں زیرِ بحث سوال یہ ہے کہ Grand Unified Theory حال میں کس نہج پر ہے اور اس نظریے سے ، جسے Theory of everything کہتے ہیں، ہم کیا نتائج اخذ کر سکتے ہیں؟ یہ سوال نہ صرف حقیقی ہے بلکہ نہایت اہم بھی ہے۔ بالعموم جن لوگوں نے اس قسم کے سوالات کا مطالعہ اور ان پر کلام کیا ، یعنی کہ فلسفی حضرات، وہ نظری طبیعیات میں ہونے والی ترقی کے ساتھ ساتھ نہیں چل پائے، کیونکہ اُن کا ریاضیاتی پس منظر اتنا مضبوط نہ تھا۔ ان فلسفی حضرات کا ایک نجی طبقہ، جنہیں ہم سائنس کے فلسفی کہہ سکتے ہیں ، وہ اس مطالعے کے لئے زیادہ موزوں ہو سکتے ہیں۔ لیکن اُن میں سے اکثر ناکام طبیعیات دان ہیں، جو کوئی نیا نظریہ تخلیق نہیں کر پائے اور نتیجتاً طبیعیات کے فلسفے پر لکھنا شروع کر دیا۔ وہ ہنوز اس صدی کے ابتدائی طبیعیاتی نظریات، جیسا کہ نظریہ اضافت اور کوانٹم طبیعیات پر بحث و تمحیص کر رہے ہیں اور فزکس کے حالیہ پیش کردہ نظریات سے بے خبر ہیں۔  

شاید میں ان فلسفی حضرات پر ذرا سخت تبصرہ کر رہا ہوں، لیکن وہ (بھی) مجھ پر کچھ زیادہ مہربان نہیں رہے۔ میرے طرزِ تحقیق کو بچگانہ اور سادہ لوحی پر مبنی قرار دیا گیا ہے۔ مجھے بہت سے مقامات پر  nominalist, انسٹرومنٹلسٹ، پوزی ٹی وسٹ، ریئل اسٹ، اور بہت سے دوسرے القابات سے نوازا گیا ہے۔ دراصل یہ تردید بذریعہ تذلیل ہے۔ اگر میرے طریقہ کار پر آپ کوئی لیبل چسپاں کر ڈالتے ہیں تو آپ کو یہ بتانے کی زحمت ہی گوارا نہیں کرنی چاہئے کہ میرے نظریات میں کیا کمی کوتاہی ہے۔ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ہر ایک یہ دیکھ سکتا ہےکہ ان القابات کے دیے جانے میں کیاخرابی پائی جاتی ہے۔ 

جو لوگ نظری طبیعیات میں حقیقتاً آگے بڑھ پاتے ہیں،وہ اُن طریقہ ہائے کار کےتحت نہیں سوچتے جو بعد ازاں فلسفی اور مؤرخین ان کے لئے ایجاد کرتے ہیں ۔ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ آئن سٹائن، ہائزین برگ، ڈائریک، وغیرہ کو کوئی پروا نہیں تھی کہ لوگ انھیں ریئل اسٹ سمجھتے تھے یا انسٹرومینٹل اسٹ؛ انھیں صرف اس امر سے غرض تھی کہ موجودہ نظریات باہم موافق ہیں یا نہیں۔ نظری طبیعیات اپنی ترقی کی خاطر، منطقی خود مطابقت (self-consistency) پر، تجرباتی نتائج کی نسبت، ہمیشہ زیادہ اہمیت کی حامل رہی ہے۔ بہت سے فصیح اور خوب صورت نظریات محض اس وجہ سے نظر انداز کر دئے گئے ہیں کیونکہ وہ ہمارے مشاہدے سے مطابقت نہیں رکھتے۔ لیکن میں کسی بھی ایسے بنیادی نظریے سے واقف نہیں ہوں جو محض تجربات کی مدد سے آگے بڑھا ہو۔ نظریہ ہمیشہ پہلے آیا، جو کہ اس خواہش کا پر تَو ہوتا تھا کہ ایک خوب صورت اور (موجودہ نظریات سے) مطابقت رکھنے والا ریاضیاتی ماڈل وضع کیا جائے۔ یہ نظریہ پھر پیشین گوئیاں کرتا ہے، جسے ہم مشاہدات کی مدد سے پرکھ سکتے ہیں۔ اگر مشاہدہ پیشین گوئیوں کے مطابق ہو تو اس سے نظریے کا درست ہونا ثابت نہیں ہوتا، بلکہ محض اتنا ہوتا ہے کہ اس نظریے کی مدد سے ہم مزید پیشین گوئیاں کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں، اور وہ پیشین گوئیاں مشاہدات کو معیار بنا کر ایک مرتبہ پھر پرکھی جاتی ہیں۔ اگر مشاہدات اور پیشین گوئیاں باہم مطابق نہ پائے جائیں، تو اس نظریے کو رد کر دیا جاتا ہے۔  

اور اگر ایسا نہیں ہوتا تو کم از کم ایسا ہونا ضرور چاہئے۔ عملاً سائنس دانوں کو ایسا کوئی بھی نظریہ رد کرنے میں تامل ہوتا ہے جس میں انھوں نے بہت زیادہ محنت اور کوشش سے کام کیا ہو اور ہزاروں گھنٹے اس تحقیق کی نذر کر دیے ہوں۔بالعموم وہ مشاہدے کی درستگی پر سوال اٹھانے سے (اپنے ردعمل کا) آغاز کرتے ہیں۔ اگر یہ تدبیر ناکام ہو جائے تو وہ ہنگامی بنیادوں پر نظریے میں ترامیم کرتے ہیں۔ اور بالآخر یہ نظریہ چوں چوں کا مربہ بن جاتا ہے۔ بعد ازاں ایک نیا نظریہ پیش کیا جاتا ہے، جس میں تمام تر ناموزوں مشاہدات کی خوب صورت اور قدرتی انداز میں وضاحت کی جاتی ہے۔ اس کی ایک مثال مائیکل سن مورلے کا تجربہ ہے، جو 1887 میں کیا گیا، جس کے ذریعے یہ دکھایا گیاکہ روشنی کی رفتار ہمیشہ ایک جیسی ہوتی ہے، قطع نظر اس کے کہ مبداء (source)یا مشاہد (source)کس رفتار سے حرکت میں ہیں۔(تجربے کا یہ) نتیجہ مضحکہ خیز معلوم ہوا۔ یقیناً (ایسا ہونا چاہئے تھا کہ) روشنی کی مخالف سمت میں حرکت کرنے والے کو روشنی کی رفتار زیادہ معلوم ہوتی، بنسبت اس کے جو روشنی کی سمت میں حرکت کر رہا تھا، اس کے باوجود تجربات سے یہ نتیجہ برآمد ہوا کہ دونوں مشاہد ہر لحاظ سے رفتار کو برابر پائیں گے۔ آنے والے اٹھارہ برسوں کے لئے لورینٹذ (Hendrik Lorentz) اور فٹز جیرالڈ (George Fitzgerald) نے اس مشاہدے کو زمان و مکان سے متعلق متفق علیہ نظریات سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی، انھوں نے ہنگامی بنیادوں پر مفروضے وضع کئے، جیسے کہ جب کوئی شے تیز رفتار سے حرکت کر رہی ہوتی ہے تو اُس کی طوالت میں کمی آ جاتی ہے۔ اور یوں فزکس کا سارا ڈھانچہ بے ڈھنگا اور بد شکل ہو گیا۔ بعد ازاں 1905 میں آئن سٹائن نے ان سے کہیں زیادہ پر کشش نظریہ پیش کیا، اس نظریے کے مطابق وقت (time) ایک علیحدہ اور قائم بالذات شے نہیں تھا۔ بلکہ یہ مکان (spacae) کے ساتھ مربوط ایک چوتھی جہت (fourth-dimension) تھا جسے اس نے space-time کا نام دیا۔ آئن سٹائن اس تصور تک تجرباتی نتائج کی نسبت نظریے کے دونوں حصوں کو باہم مربوط بنانے کی خواہش کے تحت اس نتیجے تک پہنچا۔ یہ دو اجزاء وہ قوانین تھے جو برقی اور مقناطیسی قوانین سے متعلق تھے اور وہ قوانین جو اجسام کی حرکت کی بنیاد تھے۔ 

میں نہیں سمجھتا کہ 1905 میں آئن سٹائن یا کسی اور کو یہ ادراک ہوا ہو کہ نظریہ اضافت کس قدر سادہ، عام فہم اور جمالیاتی تھا۔ اس نظریے نے ہمارے زمان و مکان کے تصور کو مکمل طور پر بدل کر رکھ دیا۔ یہ مثال فلسفہ سائنس میں حقیقت نگار ی کی مشکلات کی عکاس ہے، کیونکہ جسے ہم حقیقت کہتے ہیں ، اس “حقیقت ” کی تحدید وہ نظریہ کرتا ہے جس نظریے پر وہ حقیقت مبنی ہوتی ہے۔میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ Lorentz اور Fitzgerald خود کو حقیقت نگار کہتے تھے اور انھوں نے روشنی کی رفتار دریافت کرنے والے تجربات نیوٹن کے مطلق زمان و مکان کے تصورات کی تحدید میں رہتے ہوئے انجام دیے تھے۔ (نیوٹن کے وضع کردہ) زمان و مکان کے تصورات عام فہم اور حقیقت کے قریب معلوم ہوتے تھے۔ تاہم آج کل جو لوگ نظریہ اضافت سے شناسائی رکھتے ہیں (جو تعداد میں اب تک بھی پریشان کن حد تک قلیل ہیں) اُن کا نظریہ مختلف ہے۔ ہمیں چاہئے کہ ہم لوگوں کو زمان و مکان ایسے بنیادی تصورات کے جدید فہم سے آگاہی دیں۔ 

اگر کسی حقیقت کی بنیاد ہمارا نظریہ ہے تو ہم حقیقت کو کیونکر اپنے فلسفے کی بنیاد قرار دے سکتے ہیں؟ میں خود کو اس تناظر میں حقیقت نگار سمجھتا ہوں کہ میرے خیال کے مطابق ایک ایسی کائنات وجود رکھتی ہے جس کو سمجھا جانا چاہئے اور جس کی تحقیق کی جانی چاہئے۔ میں ایسی تشکیک پر مبنی پوزیشن کو تضیع اوقات خیال کرتا ہوں جس کے مطابق ہر شے ہمارے تخیل کی پیداوار ہے۔اس مفروضے کو اپنے کسی عمل کی بنیاد کوئی بھی نہیں بناتا۔ لیکن ہم کسی نظریے کے بغیر کائنات سے متعلق حقائق کو کائنات سے متعلق مفروضہ تصورات سے الگ نہیں کر سکتے۔یہی وجہ ہے کہ میری رائے(جسے سادہ اور بچگانہ قرار دیا گیا ہےکے مطابق طبیعیات کا کوئی بھی نظریہ ایک ریاضیاتی ماڈل ہوتا ہے جس کا مقصد ہمارے مشاہدات کے نتائج بیان کرنا ہوتا ہے۔   

کوئی بھی نظریہ ایک اچھا نظریہ تبھی کہلا سکتا ہے اگر یہ ایک فصیح ماڈل ہو، اگر یہ مشاہدات کو ایک وسیع پیمانے پر بیان کرنے کی قدرت رکھتا ہو ، اس کے ساتھ ساتھ نئے مشاہدات کا پیش بین بھی ہو۔ ان خصوصیات کے علاوہ نظریے کے متعلق یہ سوال اٹھانا کوئی معنی نہیں رکھتا کہ یہ حقیقت سے مطابقت رکھتا ہے یا نہیں ، کیونکہ حقیقت نظریے سے جدا اپنا کوئی مجرد بیان نہیں رکھتی۔ سائنسی نظریات کے متعلق میرے اس رویے کی بنا پر شاید مجھے ادعائیت پسند، اثباتیت پسند (positivist) قرار دے دیا جائے، اور جیسا کہ میں نے پہلے یہ ذکر کیا ہے؛ مجھے ان دونوں القابات سے نوازا جا چکا ہے۔جس شخص نے مجھے اثباتیت پسند قرار دیا، اُس نے میری تذلیل میں اضافہ کرنے کے لئے اپنے لقب کے ساتھ یہ تبصرہ بھی شامل کیا کہ اثباتیت کا زمانہ اب گزر چکا تھا۔ عین ممکن ہے کہ اس تناظر میں اثباتیت کا دور واقعتاً گزر چکا ہو جو کہ ماضی کا ایک دانشورانہ خبط تھا، لیکن جو مثبت (positivist) پوزیشن میں نے اختیار کی ہے ، اُس شخص کے لئے وہ واحد راستہ ہے جو کائنات کی وضاحت کی غرض سے نئے قوانین اور نئے طریقہ ہائے کار کی تلاش میں ہے۔ حقیقت حقیقت کا راگ الاپنا ایک بے سود سر گرمی ہے کیونکہ حقیقت کا نظریے سے الگ کوئی مجرد وجود نہیں ہوتا۔ حقیقت ہمیشہ نظریے کی محتاج ہوتی ہے۔ 

میری رائے کے مطابق سائنس کے فلاسفہ کوانٹم میکانیات اور ہائزن برگ کا اصولِ عدم تعیین (Heisenberg’s Uncertainty Principle) اس وجہ سے نہیں سمجھ پاتے کیونکہ وہ حقیقت پر ایمان بالغیب رکھتے ہیں۔، ایک ایسی حقیقت جو ان کے نزدیک کسی نظریے کی محتاج نہیں ہوتی، اور یہیں وہ غلطی کرتے ہیں۔ شروڈنگر (Schrodinger) کا ایک بہت مشہور خیالی تجربہ ہے جس کا نام شروڈنگر کی بلی (Schrodinger’s Cat)ہے۔ایک مہر بند (sealed) ڈبے میں بلی کو رکھا جاتا ہے۔ پھر اس ڈبے پر ایک بندوق تانی جاتی ہے۔بندوق خود بخود چل جائے گی اگر ایک عدد تابکاری مرکزہ (radioactive nucleus) زائل ہو جاتا ہے۔ایسا رونما ہو جانے کا امکان پچاس فیصد ہے۔ (موجودہ دور میں ایسی تجویز دینے کا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا، یہاں تک کہ خالصتاً خیالی تجربے (thought experiment) کےطور پر بھی۔ لیکن خوش قسمتی سے شروڈنگر کے دور میں جانوروں کے حقوق نے ابھی اتنا زور نہیں پکڑا تھا) 

ڈبہ کھولنے پر بلی کے ملنے کی دو صورتیں ہیں۔ یا تو وہ زندہ ہو گی یا مردہ۔ لیکن ڈبہ کھلنے سے قبل بلی کی کوانٹم حالت (state) بیک وقت مردہ ا اور زندہ cat state،کا مجموعہ ہوں گی ۔ اس امر پر یقین کرنا کچھ فلسفیوں کے لئے نہایت مشکل ہوتا ہے۔ ایسا ممکن نہیں ہے کہ آدھی بلی کو گولی لگی ہو اور آدھی صحیح سلامت ہو، بعینہ اسی طرح جیسے کوئی (عورت) آدھی حاملہ نہیں ہو سکتی۔ انھیں مشکل اس وجہ سے پیش آتی ہے کیونکہ بالفعل یہ لوگ حقیقت کا کلاسیکی تصور استعمال کر رہے ہوتے ہیں جس میں کوئی شے ایک متعین اور واحد تاریخ (history) رکھتی ہے۔ کوانٹم حرکیات (mechanics) کا تمام تر مقصد ہی یہ ہے کہ یہ حقیقت کا ایک نیا اور مختلف تصور ہے۔ اس تصور کے مطابق کسی شے کی کوئی متعین حالت نہیں ہوتی بلکہ تمام ممکنہ حالتیں ہو سکتی ہیں۔ اکثر صورتوں میں کسی خاص واقعے کے وقوع پذیر ہونے کا امکان کسی دوسرے واقعے کے وقوع پذیر ہونے کے مبہم سے امکان کے نتیجے میں مکمل معدوم ہو جائے گا؛ لیکن دوسری صورتوں میں (یہ بھی ممکن ہے کہ) ایک واقعے کے رونما ہونے کا امکان دوسرے واقعے کے رونما ہونے کے امکان کو بڑھا دے۔اور امکان کو بڑھا دینے والی یہ تواریخ (histories) میں سے کوئی ایک تاریخ ایسی ہوتی ہے جو ایک مضصوص شے کی تاریخ ہوتی ہے۔ 

شروڈِنگر کی بلی کے معاملے میں دو ایسی تواریخ ہیں جو ایک دوسرے کو کمک پہنچاتی ہیں۔ ایک تاریخ میں بلی گولی کھائے ہوئے (یعنی مر چکیہے اور دوسری تاریخ میں وہ زندہ ہے۔کوانٹم نظریے کے مطابق دونوں امکانات بیک وقت وجود رکھ سکتے ہیں۔ لیکن کچھ فلسفی حضرات اس ذہنی بندش سے چھٹکارا نہیں پا سکتے کیونکہ انھوں نے یہ طے کر رکھا ہوتا ہے کہ بلی یا ایک وقت میں زندہ ہو سکتی ہے یا مردہ، یہ بیک وقت زندہ اور مردہ نہیں ہو سکتی ۔ایک مزید مثال وقت کا تصور ہے، ایک ایسا تصور جہاں ہمارے طبیعیاتی نظریات ہمارا تصورِ حقیقت متعین کرتے ہیں۔ ایسا بدیہی سمجھا جاتا تھا کہ وقت مسلسل جاری و ساری رہتاہے قطع نظر اس کے کہ اطراف میں کیا واقعات رونما ہو رہے ہیں، لیکن نظریہ اضافت نے زمان اور مکان کو یکجا کیا اور یہ تصور پیش کیا کہ زمان و مکان دونوں کا رخ موڑا جا سکتا ہے، دونوں میں تحریف کی سکتی ہے ۔ لہذاٰ (بات کچھ یوں ہے کہ) ہمارا زمان و مکان کی نوعیت کا ادراک کائنات سے الگ ایک حقیقت ہونے کی بجائے کائنات کے ذریعے تشکیل پاتا ہے۔ تب جا کر یہ تصور کرنا ممکن ہوا کہ وقت ایک خاص نقطہ آغاز سے پہلے وجود نہیں رکھتا تھا۔ (یعنی) اگر ہم ماضی میں سفر کرنا شروع کریں تو ایک لمحہ ایسا آئے گا ، ایک اکائی، جس سے پیچھے جا پانا نا ممکن ہو گا۔ اگر ایسا ہوتا (لیکن ایسا نہیں ہے) تو یہ پوچھنا نامعقولیت کہلائے گا کہ عظیم دھماکہ (big bang) کیسے ہوا، اوراس کے پیچھے کارفرما قوت کیا تھی؟ (کسی بھی) شے کی تخلیق کے بارے میں جب بات کی جا تی ہے تو یہ بلا حجت یہ فرض کر لیا جاتا ہے کہ بگ بینگ سے قبل بھی وقت (time)وجود رکھتا تھا۔ ہم پچیس برسوں سے یہ جانتے ہیں کہ آئن سٹائن کا جنرل نظریہ اضافت یہ پیش گوئی کرتا ہے کہ 15 ارب سال پہلے وقت کا یقیناً ایک نکتہ آغاز تھا (یعنی اس سے قبل وقت وجود نہیں رکھتا تھا)۔ لیکن فلسفی حضرات اس تصور کے ساتھ مطابقت پیدا کرنے میں ابھی تک کامیاب نہیں ہو پائے۔ وہ ابھی تک کوانٹم میکانیات کے مبادیات کو لے کر پریشان ہیں، جن کی بنیاد 65 برس قبل طے پا چکی تھی۔ وہ یہ سمجھنے سے قاصر دکھائی دیتے ہیں کہ فزکس بہت آگے جا چکی ہے۔ 

اس سے بھی زیادہ دشواری تصوراتی وقت(imaginary time) کے ریاضیاتی تصورات کو سمجھنے میں آتی ہے، جس کے تناظر میں میری اور جم ہارٹل کی تجویز یہ تھی کہ عین ممکن ہے کائنات کا کوئی آغاز اور انجام نہ ہو۔ (اس پر) ایک فلسفی نے مجھ پر وحشیانہ حملہ کرتے ہوئے کہا: “ریاضیاتی تصوراتی وقت کا حقیقی کائنات سے بھلا کیا تعلق ہو سکتا ہے؟” میرا خیال ہے کہ فلسفی روزمرہ استعمال میں ہونے والے الفاظ (خیالی اور حقیقی) کو ریاضی کی اصطلاحات (ریئل اور امیج نری ٹائم) کے ساتھ خلط ملط کر رہا تھا۔ اور اس امر سے میرا نکتہ نظر واضح ہو جاتا ہے کہ: ہم کسی بھی حقیقت کو بغیر کسی تناظر کے کیونکر جان سکتے ہیں؟ 

میں نے نظریہ اضافت اور کوانٹم میکانیات کے تناظر میں امثال کے ذریعے وہ مسائل سامنے رکھنے کی کوشش کی ہے جو کسی کو بھی کائنات کی حقیقت سمجھنے میں پیش آ سکتے ہیں۔اس سے قطعاً فرق نہیں پڑتا آیا آپ کوانٹم میکانیات اور نظریہ اضافت سمجھتے ہیں ، بلکہ اس سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا اگر یہ نظریات غلط بھی ہوں ۔ میں جو امید رکھ سکتا ہوں وہ یہ ہے کہ میں یہ دکھانے میں کامیاب رہاہوں کہ کوئی مثبت (positivist) نظریہ موجود ہے ، جس میں نظریے کو بطور ماڈل کے استعمال کر کے کائنات کو سمجھنے کی کوشش کرنا واحد لائحہ عمل ہے، کم از کم نظری طبیعیات کے طالب علم کے لئے ایسا ہی ہے۔ اور میں پر امید ہوں کہ ہم ایک متوازن نظریہ وضع کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے جو کائنات میں ہر ایک شے کو بیان کر سکتا ہو گا۔ اگر ہم ایسا کر سکے تو یہ انسانیت کی ایک بہت بڑی فتح ہو گی۔ 

 

Categories
نان فکشن

نجمِ اسود اور ننھی کائناتیں: قسط نمبر 6 (“وقت کی مختصر تاریخ” کی مختصر تاریخ)

گذشتہ اقساط کے مطالعہ کے لئے درج ذیل لنکس استعمال کیجئے (لنک نئے ٹیب میں کھلیں گے)

قسط نمبر 1قسط نمبر 2، قسط نمبر 3، قسط نمبر 4قسط نمبر 5

“وقت کی مختصر تاریخ” کی مختصر تاریخ

مجھے اب بھی اپنی کتاب A BRIEF HISTORY OF TIME کو ملنے والی پذیرائی پر حیرت ہوتی ہے۔ مسلسل 37 ہفتوں تک یہ نیو یارک ٹائمز کی بیسٹ سیلرز لسٹ میں رہی اور سنڈے ٹائمز آف لنڈن کی لسٹ میں 28 ہفتے رہ چکی ہے (یہ کتاب پہلے امریکہ اور بعد ازاں برطانیہ میں شائع ہوئی)۔ اس کا بیس زبانوں میں ترجمہ کیا جا رہا ہے (اگر آپ امریکی زبان کو انگریزی سے مختلف گردانتے ہیں تو 21 زبانوں میں)۔ یہ سب اس توقع سے کہیں زیادہ تھا جو 1982 میں مجھے کائنات کے بارے میں ایک پاپولر کتاب لکھنےکے حوالے سے تھی۔ ضمناً میری نیت یہ تھی کہ اس کتاب کی مد سے ہونے والی آمدنی سے میں اپنی بیٹی کی سکول فیس ادا کر سکوں گا(در حقیقت جب کتاب شائع ہو کر مارکیٹ میں آئی تو میری بیٹی اپنے سکول کے آخری سال میں تھی)۔ لیکن (یہ کتاب لکھنے کی) بنیادی ضرورت جو میں نے محسوس کی وہ یہ تھی کہ میں یہ واضح کرنا چاہتا تھا کہ ہمارے ا کائنات کے بارے میں فہم کس حد تک بڑھ چکا ہے ، اور کیسے ہم اس مکمل نظریے کو تلاش کرنے میں کامیاب ہو جائیں جو کائنات اور اس میں موجود ہر شے کی وضاحت کر دے گا۔

میری خواہش تھی کہ اگر میں کتاب لکھنے کے لئے وقت صرف اور کوشش کر رہا ہوں تو اسے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچنا چاہئے۔ میری سابقہ تکنیکی کتب کیمبرج یونی ورسٹی پریس نے شائع کی تھیں۔ پبلشر نے کتابوں کو بہترین طریق پر شائع کیا لیکن مجھے نہیں لگتا تھا کہ میں جتنی تعداد میں لوگوں تک یہ کتاب پہنچانا چاہتا ہوں اس کے لئے کیمبرج یونی ورسٹی پریس موزوں رہے گا۔ اسی لئے میں نے ایک لٹریری ایجنٹ Al Zucherman سے رابطہ کیا، جو میرے ایک لولیگ کا برادرِ نسبتی تھا۔ میں نے انھیں پہلے باب کا ڈرافٹ دیا اور کہا کہ میں یہ کتاب اس شکل میں شائع کرانا چاہتا ہوں کہ یہ ایئر پورٹ کے بل سٹال میں بھی بکنے والی ہو۔ انھوں نے مجھے بتایا کہ ایسا ہونے کا کوئی امکان نہ تھا۔ یہ علمی شخصیات اور طالب علموں میں شاید اچھے طریق پر فروخت ہو سکے لیکن یہ کتاب Jeffrey Archer کے گھر داخل نہیں ہو سکتی۔

میں نے 1984 میں Zuckerman کو کتاب کا پہلا مسودہ دیا۔ اس نے اسے بہت سے پبلشرز کو بھیجا اور مجھے تجویز دی کہ میں Norton والوں کی پیش کش قبول کر لوں، جو امریکہ میں کتابوں کا ایک اعلیٰ درجے کا ادارہ تھا۔ لیکن میں نے اس کے برعکس Bantam Books کی پیش کش قبول کی جس کا پاپولر کتابوں کی جانب زیادہ رجحان تھا۔ اگرچہ Bantam کا سائنس کی کتب شائع کرنے میں کوئی تخصص نہ تھا، لیکن ان کی کتب ایئر پورٹ کے سٹالز پر وسیع پیمانے پر دستیاب ہوتی تھیں۔ ان کی کتاب کی اشاعت کے لئے رضامندی ظاہر کرنے کی وجہ یہ تھی کہ Bantam کے ایک ایڈیٹر کو یہ کتاب دلچسپ لگی تھی، ان کا نام Peter Guzzardi تھا۔ انھوں نے اس کتاب کی اشاعت کو نہایت سنجیدگی سے لیا اور مجھے کتاب دوبارہ لکھنے کو کہا تاکہ وہ اُن جیسے نان ٹیکنیکل افراد کو سمجھ آ سکے۔ جب بھی میں ایک باب لکھ کر انھیں بھیجتا، وہ سوالات اور اعتراضات کی ایک طویل فہرست کے ساتھ اسے واپس بھیج دیتے تاکہ اسی باب کو مکرر لکھنے سے وہ سوالات اور اعتراضات پیدا نہ ہوں۔ ایک وقت ایسا آیا جب مجھے لگا کہ یہ سلسلہ تو کبھی تھمنے والا نہیں۔ لیکن وہ ٹھیک تھے کیونکہ اس ساری کوشش کے نتیجے میں ہی کتاب کی اس قدر بہترین اشاعت ہوئی۔

Bantam کی پیش کش قبول کرنے کے کچھ ہی عرصہ بعد میں نمونیا میں مبتلا ہو گیا ۔ مجھے tracheostomy آپریشن کرانا پڑا جس سے میری بولنے کی صلاحیت مکمل طور پر ختم ہو گئی۔  کچھ وقت تک میں صرف اپنے ابرو کے اشاروں کی مدد سے لوگوں سے ربط رکھ پاتا تھا ، (وہ بھی تب ) جب میرے سامنے حروف کا کارڈ لایا جاتا۔ اگر مجھے کمپیوٹر پروگرام نہ دیا گیا ہوتا تو کتاب کو مکمل کرنا نا ممکن ہو جاتا۔ کمپیوٹر ذرا سست تھا لیکن تب میری سوچنے کی صلاحیت بھی سست ہو چکی تھی لہذاٰ یہ میرے لئے موزوں ثابت ہوا۔ اور اسی کی مدد سے میں نے اپنا پہلا ڈرافٹ تقریباً سارے کا سارا دوبارہ لکھا، تاکہ Guzzardi کے اشکالات دور کئے جا سکیں۔ مسودوں کی دہرائی میں میرے ایک طالب علم Brian Whitt نے میری مدد کی۔

میں Jacob Bronowski کی ٹیلی وژن سیریز The Ascent of Man سے بہت متاثر تھا۔ (ایسا جنسی تعصب رکھنے والے نام کی شاید آج اجازت نہ دی جائے۔) یہ پروگرام ایک ایسا احساس پیدا کرتا تھا کہ نسلِ انسانی وحشی اور جنگلی حالت سے صرف پندرہ ہزار سال کے اندر ترقی کر کے اپنی موجودہ حالت کو پہنچی ہے۔ میں بھی اسی طرز کا احساس لوگوں میں پیدا کرنے کاخواہش مند تھا کہ ہمارا کائنات کا فہم بھی ترقی کرتے کرتے اب اسے چلانے والے قوانین کے مکمل فہم کو پہنچنے والا ہے۔ مجھے یقین تھا کہ کم و بیش ہر ایک شخص اس امر میں دلچسپی رکھتا ہو گا کہ کائنات کیسے چل رہی ہے، لیکن بہت سے لوگ ریاضیاتی مساوات کا فہم نہیں رکھتے، میں خود بھی مساوات کی بہت زیادہ پروا نہیں کرتا۔ اس کی ضمنی وجہ یہ ہے کہ میرے لئے مساوات لکھنا مشکل ہے لیکن بنیادی وجہ یہ ہے کہ میں مساوا ت کا وجدانی احساس نہیں رکھتا۔ اس کی بجائے میں تصاویر کی صورت میں سوچتا ہوں، میرا ارادہ اس کتاب میں اپنی ذہنی تصاویر کو الفاظ میں ڈھالنا تھا، اور ساتھ میں کچھ تصاویر اور مثالوں کی مدد لینا تھا۔اس طرح سے، مجھے امید تھی کہ بہت سے لوگ کامیابی کے اس جذبے میں میرے ساتھ شریک ہوں گے کہ انسانیت گزشتہ 25 برسوں میں طبیعیات میں اس قدر ترقی کر چکی ہے۔

تاہم، اگر ہم ریاضیاتی مساوات سے مکمل احتراز بھی برتیں، اس کے باوصف کچھ تصورات   سے ہم نہ صرف نا آشنا ہیں بلکہ ان کی وضاحت کرنا بھی مشکل ہے۔ اس سے ایک مسئلہ کھڑا ہوتا ہے: کیا مجھے ان تصورات کی وضاحت کرنے کی کوشش میں لوگوں کو الجھا دینا چاہئے، یا مشکل تصورات کو کتاب میں شامل ہی نہیں کرنا چاہئے؟ کچھ نا آشنا تصورات جیسے دو افراد اگر مختلف رفتار سے حرکت میں ہیں تو وہ کسی بھی عمل کا دورانیہ مختلف ریکارڈ کریں گے (یعنی فرض کیجئے اگر یہ دونوں افراد سٹاپ واچ کی مدد سے ایک مخصوص اونچائی سے گرتی ہوئی گیند کے زمین تک پہنچنے کا وقت ماپیں، تو دونوں کی سٹاپ واچ مختلف وقت ریکارڈ کرے گی)، یہ تصور اس تصویر کے لئے ضروری نہیں تھا جو میں الفاظ کی مدد سے کھینچنا چاہ رہا تھا۔ اس لئے میں نے یہ محسوس کیا کہ میں یہ تصورات اجمالاً بیان کر دوں گا پر ان کی گہرائی میں نہیں جاؤں گا۔ لیکن دوسرے مشکل تصورات ان امور کے ساتھ خاص تھے جو میں واضح کرنا چاہتا تھا۔ دو تصورات بالخصوص ایسے تھے جو میں سمجھتا تھا کہ مجھے شامل کرنے چاہییں۔ ان میں سے ایک تو نام نہاد sum over histories تھا۔ اس تصور کا مطلب یہ تھا کہ کائنات کی کوئی ایک مخصوص تاریخ نہیں ہے بلکہ کائنات کی ہر ممکن تاریخ کا ایک مجموعہ ہے، اور یہ تمام تاریخیں (histories) ایک جتنی ہی حقیقی ہیں (چاہے اس کا جو بھی مطلب ہو)۔ دوسرا تصور ، جو sum over histories کا ریاضیاتی فہم تشکیل دینے کے لئے ضروری ہے، وہ “تصوراتی وقت” (imaginary time) کا ہے۔ لیکن اب جب میں پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو مجھے احساس ہوتا ہے کہ مجھے ان دو نہایت مشکل تصورات کی صراحت میں مزید محنت کر نی چاہئے تھی، بالخصوص “تصوراتی وقت” کے تصور کو سمجھانے میں، جو کتاب کا وہ موضوع ہے جسے سمجھنے میں لوگوں کو سب سے زیادہ مشکل پیش آتی ہے۔ تاہم، بالکل درست طور پر یہ سمجھنا کہ “تصوراتی وقت” کیا ہے، ضروری نہیں – صرف اتنا ہے کہ یہ اس وقت سے مختلف ہے جسے ہم حقیقی وقت (real time) کہتے ہیں۔

جب کتاب کی اشاعت کا وقت قریب تھا تب اسے ایک سائنس دان کو بھیجا گیا تاکہ وہ  Nature میگزین کے لئے اس پر اپنے تاثرات قلمبند کر سکے۔ انہیں یہ دیکھ کر بہت ناگواری ہوئی کہ کتاب غلطیوں سے بھری پڑی ہے، تصاویر اور خاکوں پر غلط لیبل لگے ہوئے ہیں۔ انہوں نے Bantamپریس کو کال کی، جنہوں نے اتنی ہی ناگواری محسوس کی اور اسی دن یہ فیصلہ کیا کہ کتب خانوں کو تقسیم شدہ تمام کاپیاں واپس منگوائی جائیں گی اور یوں شائع شدہ تمام کاپیوں کو ضائع کر دیا جائے گا۔ اس کے بعد انھوں نے تین ہفتے پوری شد و مد کے ساتھ کتاب کی غلطیاں درست اور ری چیکنگ کرنے میں لگائے، اور درست شدہ کتاب اپریل کے مہینے میں کتب خانوں میں دستیابی کے لئے تیار تھی۔ اس وقت تک ٹائم میگزین نے میرا پروفائل شائع کر دیا تھا۔ اور کتاب کی اشاعت کے بعد اس کی مانگ نے ایڈیٹرز کو حیران کر دیا۔ کتاب اس وقت امریکہ میں سترہویں بار اور برطانیہ میں دسویں مرتبہ چھاپی جا رہی ہے

اتنی تعداد میں لوگوں نے اسے کیوں خریدا؟ میرے لئے مشکل ہے کہ میں معروضی تبصرہ کرپاؤں گا، اسی لئے میں لوگوں کی رائے کو زیادہ وقعت دوں گا۔ میں نے زیادہ تر آراء کو ، اگرچہ وہ میرے حق میں تھیں، بے رنگ پایا۔ اُن سب کا ایک ہی فارمولا تھا: سٹیفن ہاکنگ کو Lou Gehrig  یا موٹر نیوران نامی بیماری ہے (امریکی تبصروں میں بیماری کا نام Lou Gehrig جبکہ برطانوی تبصروں میں بیماری کا نام motor neuron disease لکھا گیا)۔ وہ ایک وہیل چیئر تک محدود ہے، بول نہیں سکتا، اور صرف چند انگلیاں ہلا سکتا ہے۔ ان سب کے باوجود اس نے سب سے بڑے  سوال ، یعنی ہم کہاں سے آئے ہیں اور کہاں جا رہے ہیں، پر ایک کتاب لکھ ڈالی ہے۔ ایک اور مبصر کہتا ہے ، “(اس سوال کا ) جو جواب ہاکنگ تجویز کرتا ہے وہ ہ یہ ہے کہ کائنات نہ تخلیق کی گئی ہے نہ تباہ شدہ ہے: یہ بس ہے”۔ دوسرا مبصر کہتا ہے،”اس تصور کو واضح کرنے کے لئے ہاکنگ “تصوراتی وقت” (imaginary time) کومتعارف کراتا ہے، جو میرے لئے (یعنی مبصر کے لئے) سمجھنا ذرا مشکل ہے۔ اس کے باوجود اگر ہاکنگ درست کہہ رہا ہے اور ہم آخرِ کار ایک مکمل نظریہ وضع کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، ہم یقیناً خدا کا دماغ سمجھ جائیں گے”۔ (کتاب میں اس مدعے کو ثابت کرنے والے باب کے آخر میں میں نے آخری فقرہ حذف کر ڈالا، جو کہ یہ تھا کہ ہم خدا کا دماغ جان سکتے ہیں۔ اگر میں ایسا کر چکا ہوتا، تو کتاب کی فروخت شاید پچاس فیصد کم ہو جاتی)

برطانوی اخبار The Independent، میں ایک نسبتاً بہتر تبصرہ شائع ہوا۔ تبصرے کے مطابق A brief History of Time جیسی سنجیدہ سائنسی کتاب بھی ایک cult book بن سکتی ہے، جیسے کہ My wife was horrified ہے۔ لیکن میں تب زیادہ خوش ہوا جب میری کتاب کا موازنہ Zen and the Art of Motorcycle Maintenance سے کیا گیا، کہ یہ لوگوں کو احساس دلاتی ہے کہ انہیں عظیم علمی اور فلسفیانہ سوالات سے خود کو دور نہیں کرنا چاہئے۔

بلا شک و شبہ،لوگوں کی اس امر میں دلچسپی بھی کتاب کی فروخت کا باعث بنی ،کہ میں اپنی جسمانی طور پر اپاہج ہونے کے باوجود ایک نظری طبیعات کا سائنس دان کیونکر بن پایا۔ لیکن جنہوں نے یہ کتاب(اس) انسانی دلچسپی کے زاویے سے خریدی، وہ یقیناً مایوس ہوئے ہوں گے کیونکہ میری جسمانی حالت سے متعلق کتاب میں ایک دو سے زائد حوالہ جات نہیں ہیں۔ کتاب کائنات کی تاریخ سے متعلق تھی، نہ کی میری ذاتی تاریخ۔ لیکن اس کے باوصف ان الزامات سے خلاصی نہ ہو سکی جو Bantam پر لگائے گئے تھے کہ انہوں نے بے شرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے میری بیماری کو ‘استعمال’ کیا اور یہ کہ میں نے انہیں اپنی تصویر کتاب کا کور پیج (cover page) پر لگانے کی اجازت دے کر ان کے ساتھ تعاون کیا۔ جبکہ حقیقت یہ تھی کہ ہمارے مابین طے پانے والے معاہدے کے مطابق کتاب کے کَور پر میرا کوئی کنٹرول نہیں تھا۔ تاہم میں Bantam پریس کو اتنا قائل کرنے میں ضرور کامیاب ہو گیا کہ وہ برطانوی ایڈیشن کے سرورق پر امریکی ایڈیشن کی پرانی تصویر کی نسبت کوئی بہتر تصویر لگائیں۔ تاہم Bantam نے امریکی ایڈیشن کے سرورق کو بھی تبدیل نہ کیا کیونکہ اُن کے مطابق امریکیوں کے نزدیک یہ تصویر کتاب کی پہچان بن چکی تھی۔

یہ بھی کہا گیا کہ لوگوں نے اس قدر تعداد میں کتاب اس وجہ سے خریدی کیونکہ انھوں نے اس پر مثبت تبصرے پڑھے یا یہ کہ کتاب ایک عرصہ تک بیسٹ سیلر کی فہرست میں رہی؛ بالفاظ دیگر، لوگوں نے کتاب کثیر تعداد میں خریدی ضرور تھی لیکن پڑھی نہیں تھی۔ کتاب یا اُن کے شیلف پر یا کافی ٹیبل پر پڑی ہے، اور یوں وہ کتاب اپنی دسترس میں ہونے پر فخر تو کر سکتے ہیں لیکن اسے سمجھنے کی کوشش لوگوں نے بہرحال نہیں کی۔ مجھے یقین ہے کہ ایسا ہی ہوتا ہے، لیکن میں یہ نہیں جانتا کہ میری کتاب کے ساتھ یہ سلوک ، بائبل اور شیکسپیئر کی کتابوں سمیت ،دوسری سنجیدہ کتابوں سے بھی زیادہ ہوا ہو گا، ۔ دوسری جانب میں یہ جانتا ہوں کہ کم از کم کچھ لوگوں نے تو کتاب ضرور پڑھی ہو گی کیونکہ ہر روز میرے پاس ڈھیروں خطوط آتے ہیں، جن میں بہت سے لوگوں نے سوالات پوچھے ہوتے ہیں اور بہت سے لوگوں نے تفصیلی تبصرے کئے ہوتے ہیں جن سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ اگرچہ وہ کتاب پوری طرح نہیں بھی سمجھتے،تب بھی انھوں نے کتاب کو پڑھا ضرور ہے۔ مجھے گلی میں اکثر اجنبی لوگ روک لیتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ وہ کتاب سے کس قدر لطف اندوز ہوئے۔ یقیناً مجھے پہچاننا بہت آسان اور واضح ہے، اگرچہ میں دوسرے مصنفین جیسا ممتاز اور مشہور نہیں ہوں۔ لیکن جس تعداد میں مجھے عوامی مبارکبادیں وصول ہوتی ہیں (جس سے میرا نو سالہ بیٹا بہت گھبراتا ہے) اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ جنہوں نے کتاب خریدی، ان کی کم از کم ایک معقول تعداد نےاسے پڑھا بھی ہے۔

لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ میرے مستقبل کے کیا ارادے ہیں؟ میں یہ سمجھتا ہوں کہ شاذ ہی میں وقت کی مختصر تاریخ کا دوسرا حصہ لکھ پاؤں۔ میں اس کا کیا نام رکھوں گا؟ وقت کی نسبتاً طویل تاریخ؟ وقت کے اختتام سے آگے؟ وقت کا بیٹا؟ میرے ایجنٹ نے تجویز کیا ہے کہ مجھے اپنی زندگی کے بارے میں ایک فلم بنائے جانے کی اجازت دے دینی چاہئے۔ لیکن نہ ہی میں اور نہ ہی میرے گھر بار والوں کی کوئی عزت نفس باقی رہ جائے گی اگر ہم خود کو بطور اداکار کے دور پر لوگوں کے سامنے پیش کریں۔ نسبتاً کم باعثِ شرمندگی یہ امر ہو گا اگر میں کسی کو اپنی زندگی کے بارے میں لکھنے میں مدد کروں۔ ظاہر ہے میں کسی کو اپنی زندگی کے بارے میں لکھنے سے نہیں روک سکتا اگر کوئی اپنے طور پر ایسا کرنا چاہے، سوائے اس کے کہ وہ توہین آمیز ہو، لیکن میں لوگوں کو یہ کہہ کر اپنے بارے میں لکھنے سے روکے ہوئے ہوں کہ میں خود نوشت لکھنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ ہو سکتا ہے میں لکھوں بھی۔ لیکن مجھے کوئی جلدی نہیں ہے۔ کیونکہ سائنس کے موضوعات میں میرا پاس کرنے کو ابھی بہت کچھ باقی ہے۔

Categories
نان فکشن

نجمِ اسود اور ننھی کائناتیں: قسط نمبر 5 (سائنس کی جانب عمومی رویہ)

گذشتہ اقساط کے مطالعہ کے لئے درج ذیل لنکس استعمال کیجئے (لنک نئے ٹیب میں کھلیں گے)

قسط نمبر 1قسط نمبر 2، قسط نمبر 3، قسط نمبر 4

سائنس کی جانب عوامی رویہ

 

ہمیں یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ جس دنیا میں ہم جی رہے ہیں وہ گذشتہ ایک صدی میں بہت حد تک بدل چکی ہے، اور اگلے سو برسوں میں مزید بدل جائے گی۔ کچھ لوگ یہ چاہیں گے کہ دنیا نہ بدلے اور وہ واپس اس سادہ لوحی کے دور میں چلے جائیں جو ماضی کی یادگار ہے۔ لیکن جیسا کہ تاریخ ہمیں بتاتی ہے، ماضی اتنا شاندار تھا نہ ہی اس قدر یادگارھا (جتنا تصور کیا جاتا ہے)۔ مقتدر اقلیت کے لئے تو یہ یقناً برا نہیں تھا اگرچہ انہیں بھی جدید دور کی ادویات و سہولیات میسر نہ تھی، اور (ان امراء کے ہاں بھی ) بچے کی پیدائش ایک عورت کی زندگی کیلئے شدید خطرہات سے دوچار رہتی تھی ۔ جبکہ جمہور عوام کے لئے زندگی تکلیف دہ، مظالم سے بھرپور، اور مختصر ہوتی تھی۔

بہرحال، چاہ کر بھی ہم ماضی میں دوبارہ داخل نہیں لوٹ سکتے۔ علم اور سائنسی طریقہ ہائے کار (scientific methods) اچانک ترک بھی نہیں جا سکتے، نہ ہی ہم مستقبل میں ہونے والی ترقی کو روک سکتے ہیں۔ اگر تمام حکومتیں تحقیقی کام کے لئے رقم مختص کرنا بند بھی کر دیں (جس میں موجودہ حکومت اپنی بھرپور کوشش رہی ہے) تب بھی مسابقت کی عمومی فضاء سے ٹیکنالوجی روز بروز ترقی کرے گی۔ مزید برآں، ہم متجسس اذہان کو بنیادی سائنسی تصورات و نظریات کے بارے میں سوچنے سے بھی نہیں روک سکتے، چاہے انہیں ہم انھیں اس کا معاوضہ بھی نہ دیں۔ ترقی کی راہ روکنے کا واحد راستہ ایک عالمی آمرانہ ریاست ہے جو کسی بھی نئے تصور، نئی نظریے کو بالجبر روک سکے، لیکن انسان کی آگے بڑھنے کی خواہش اور اختراعی قدرت کو شاید یہ آمرانہ ریاست بھی نہ روک پائے۔ یہ محض اتنا کر پائے گی کہ ترقی کی رفتار کو سست کر دے۔

اگر ہم اس بدیہی حقیقت کو قبول کر لیں کہ ہم سائنس اور ٹیکنالوجی کو دنیا میں انقلاب برپا کرنے سے نہیں روک سکتے، توکم از کم ہم اس امر کو ضرور یقینی بنائیں گے کہ سائنس درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔ ایک جمہوری معاشرے میں اس سے مراد یہ ہو گی کہ عوام سائنس کی مبادیات سے بھرپور واقفیت رکھتی ہو، تاکہ وہ معلوماتی بنیاد پر رائے سازی کر سکےاور سب کچھ ماہرین کے رحم و کرم پر ہی نہ چھوڑ دیا جاوے۔ سرِ دست عوام کا سائنس کی جانب رویہ متضاد جذبات کا شکارہے۔ اسے یہ توقع بھی ہے کہ ہمارا معیارِ زندگی سائنسی ترقی کی بدولت بتدریج بہتر ہوتا جائے گا مگر ساتھ ساتھ سائنس کے حوالے سے عدم اعتماد بھی پایا جاتا ہے کیونکہ عوام سائنس کا مطلوب فہم نہیں رکھتی۔ اور یہ عدم اعتماد اس کارٹون کے کردار میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے جو ایک پاگل سائنس دان کا ہے جو اپنی تجربہ گاہ میں فرینکن سٹائن (Frankenstein) تخلیق کرنے میں مصروف ہے۔ اور یہی عدم اعتماد گرین پارٹیز (Green Parties) کی عوامی سپورٹ کا محرک بھی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی عوام سائنس میں بہت دلچسپی بھی رکھتی ہے، بالخصوص فلکیات (astronomy) میں۔، جیسا کہ ٹیلی وژن سیزیز Cosmos اور دوسرے سائنس فکشن پروگراموں کی پذیرائی سے واضح ہے۔

اس دلچسپی کوبڑھانے کرنے کے لئے کیا کیا جا سکتا ہے؟ اور ہم عوام کو ایسا سائنسی پس منظر فراہم کرنے کے لئے کیا کر سکتے ہیں کہ وہ ایسے عوامل جیسے acid rain، گرین ہاوس ایفیکٹ، نیوکلیائی ہتھیار، اور جینیٹک انجینئرنگ وغیرہ پر مبنی بر معلومات فیصلے لے سکیں؟ یقیناً اس کی بنیاد سکول میں دی جانے والی تعلیم پر ہے۔ لیکن سکولوں میں سائنس کو ایک غیر دلچسپ اور خشک مضمون کے طور پر پڑھایا جاتا ہے۔ بچے رٹا لگا کر امتحان پاس کرنے کیلئے سبق یاد کر لیتے ہیں، اور اپنے اطراف میں انھیں (پڑھائی جانے والی) سائنس کی متعلقیت دکھائی نہیں دیتی۔ مزید برآں، سائنس بالعموم مساوات (equations)کی اصطلاح میں پڑھائی جاتی ہے۔ اگرچہ مساوات ریاضی کے تصورات کی منظر کشی کیلئے جامع اور بالکل درست طریقہ ہے، لیکن زیادہ تر لوگ اس طریق سے گھبرا جاتے ہیں۔ جب میں نے حال ہی میں ایک مقبول کتاب لکھی، مجھے یہ نصیحت کی گئی تھی کہ کتاب میں مساوات کم سے کم رکھوں کیونکہ ناشر کے مطابق ایک مساوات (equation) کا اضافہ کتاب کی فروخت میں پچاس فیصد تک کمی لے آتا ہے ۔( نصیحت کے بر خلاف) میں نے آئن سٹائن کی مساوات  کو شامل کیا۔ اگر میں اسے شامل نہ کرتا تو شاید دو گنا کتابیں فروخت کر پاتا۔

سائنس دان اور انجینئر حضرات اپنے تصورات کو مساواتی شکل ہی میں متعارف کراتے ہیں کیونکہ انھیں قابلِ پیمائش اشیاء کی درست مقدار جاننا ہوتی ہے۔ لیکن ہم عامیوں کے لئے (جو سائنس دان اور انجینئر نہیں ہیں) کسی بھی سائنسی تصور کا صفاتی فہم (qualitative grasp) کافی ہے، اور یہ فہم، مساوات استعمال کئے بغیر، صرف تصاویر اور الفاظ کی مدد سے قاری میں منتقل کیا جا سکتا ہے۔

جو سائنس بچے سکول میں سیکھتے ہیں، وہ اس مطلوبہ فہم کے لئے بنیادی ڈھانچہ فراہم کر سکتی ہے۔ لیکن دورِ حاضر میں سائنسی ترقی کی رفتار اس قدر تیز ہے کہ کسی کے سکول یا یونی ورسٹی پہنچنے تک بہت سے امور میں پیش رفت ہو چکی ہوتی ہے ۔ میں نے سکول میں مالیکیولر بائیالوجی اور ٹرانزسٹر کے بارے میں کچھ بھی نہیں سیکھا تھا، لیکن جینیاتی انجینئرنگ (genetic engineering) اور کمپیوٹر ، یہ دونوں اس نوعیت کی سائنسی پیش رفت ہیں کہ وہ مستقبل میں ہمارے طرزِ زندگی کو یکسر بدل ڈالیں گی۔ پاپولر کتابوں اور رسالوں میں سائنسی مضامین ترقی کی نئی شاہرائیں کھول سکتے ہیں ، لیکن معروف ترین سائنسی کتاب کا بھی آبادی کا نہایت قلیل حصہ مطالعہ کرتا ہے۔ صرف ٹی وی ایک ایسا ذریعہ ہے جو عوام کی کثیر تعداد تک پیغام پہنچا سکتا ہے۔ ٹی وی پر بہت سے عمدہ سائنسی پروگرام دکھائے جاتے ہیں لیکن کئی ایسے پروگرام ہیں جو سائنسی ایجادات کو اس طرز پر دکھاتے ہیں جیسے کہ وہ جادو ہو، نہ ہی ان آلات کی وضاحت کی جاتی ہے نہ ہی یہ دکھایا جاتا ہے کہ وہ سائنسی ڈھانچے میں کس طرح سے فٹ بیٹھتے ہیں۔ سائنسی پروگرامز کے ٹی وی پروڈیوسرز کو اس امر کا احساس کرنا چاہئے کہ ان کی ذمہ داری صرف عوام کو لطف اندوز کرانا ہی نہیں، انہیں تعلیم دینا بھی ہے۔

ایسے کون سے سائنسی معاملات ہیں جن پر عوام کو مستقبل قریب میں رائے زنی کرنا ہو گی؟ سب سے اہم اور جلد فیصلہ تو نیوکلیائی ہتھیاروں کی بابت کرنا ہو گا۔ دوسرے عالمی مسائل جیسا کہ خوراک کی ترسیل یا گرین ہاوس اثرات، نسبتاً کم اہمیت رکھتے ہیں لیکن نیوکلئیائی جنگ کا واضح مطلب انسانیت کے چند دنوں کے اندر اندر خاتمے کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔ مشرق اور مغرب کی باہمی تلخی سرد جنگ کے خاتمے کے ساتھ ہی ٹھنڈی پڑ گئی ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کے شعور سے نیوکلئیائی جنگ کا خوف اب محو ہو گیا ہے۔ لیکن خطرہ ابھی تک قائم و دائم ہے جب تک تمام انسانیت کو ختم کر ڈالنے کے لئے زائد از ضرورت نیوکلئیائی ہتھیار موجود ہیں۔ سابقہ سوویت یونین اور امریکہ میں ، اب بھی نیوکلئیائی ہتھیار اس صلاحیت کے حامل ہیں کہ وہ شمالی ممالک میں موجود تمام بڑے شہروں کو تباہ کر سکتے ہیں۔ کمپیوٹر کی ایک چھوٹی سی غلطی یا نیوکلئیائی ہتھیاروں کے محافظین میں سے کسی ایک کی بھی بغاوت عالمی جنگ کا باعث بن سکتی ہے۔ اور مزید پریشانی کا باعث یہ امر ہے کہ نسبتاً چھوٹی طاقتیں بھی اب نیوکلئیائی ہتھیار حاصل کر رہی ہیں۔ دنیا کی بڑی طاقتوں نے مناسب حد تک ذمہ دارانہ رویہ دکھایا ہے لیکن ہم ایسا اعتماد لیبیا، عراق، پاکستان، یا آذربائیجان پر نہیں کر سکتے۔ وہ ہتھیار اصل خطرہ نہیں ہیں جو عنقریب ان ممالک کے قبضے میں ہوں گے، کیونکہ وہ بنیادی نوعیت کے ہتھیار ہوں گے، اگرچہ یہ بھی لاکھوں لوگوں کو مار ڈالنے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے۔ اصل خطرہ ان چھوٹی طاقتوں کا آمنا سامنا ہے، کیونکہ یہ بڑی طاقتوں کو بھی اپنی جنگ میں دھکیل لیں گے، اور بڑی طاقتیں جدید ترین اور بے بہا ہتھیاروں سے لیس ہیں۔

یہ امر بہت ضروری ہے کہ عوام کو اس خطرے کا احساس ہو اور وہ تمام حکومتوں پر بڑے ہتھیاروں کو ضائع کرنے کے لئے دباؤ ڈالیں ۔ اگرچہ نیوکلئیائی ہتھیاروں کو مکمل طور پر ضائع کرنا ممکن نہیں ہے، لیکن ہم ہتھیاروں کی تعداد کم کر کے خطرات کو کم کر سکتے ہیں۔

اگر ہم ایک نیوکلئیائی جنگ سے بچنے میں کامیاب ہو گئے ، تب بھی ایسے خطرات موجود ہیں جو ہم سب کو تباہ کر سکتے ہیں۔ ایک نہایت بیمار ذہن کا وضع کردہ مذاق ہے کہ کسی خلائی مخلوق نے ہم سے اب تک رابطہ اس لئے نہیں کیا کیونکہ جب تک وہ ہماری (ذہنی) سطح تک پہنچتی ہے وہ تباہ ہو جاتی ہے۔ لیکن مجھے عوام کی اچھائی پر پورا بھروسہ ہے کہ ہم اس (مذاق میں پنہاں طنز)کو غلط ثابت کر سکتے ہیں۔

 

یہ تقریر Oviedo اسپین میں 1989 میں کی گئی جب ہاکنگ کو آسٹریا ہارمنی اور Concord پرائز دیا گیا۔ (یہ تقریر اپ ڈیٹ کی گئی ہے)

 

Categories
نان فکشن

نجمِ اسود اور ننھی کائناتیں: قسط نمبر تین (آکسفورڈ اور کیمبرج)

گذشتہ اقساط کے مطالعہ کے لئے درج ذیل لنکس استعمال کیجئے (لنک نئے ٹیب میں کھلیں گے)

قسط نمبر 1قسط نمبر 2

باب نمبر 2: آکسفورڈ اور کیمبرج

میرے والد کی شدید خواہش تھی  کہ میں آکسفورڈ یا کیمبرج میں سے کسی ایک یونی ورسٹی میں تعلیم حاصل کروں ۔ وہ خود بھی یونی ورسٹی کالج آکسفورڈ کے تعلیم یافتہ تھے لہذاٰ اُن کا خیال تھا  کہ مجھے بھی وہیں داخلہ لینا چاہئے کیونکہ وہاں میرے لئے داخلے کے امکان زیادہ روشن تھے۔ اُس وقت یونی ورسٹی کالج میں ریاضی کا کوئی وظیفہ مختص نہیں تھا۔ یہی وجہ تھی کہ میرے والد مجھے کیمسٹری میں اعلیٰ تعلیم دلوانا چاہتے تھے: کیونکہ میرے لئے ریاضی کی بجائے کسی نیچرل سائنس میں سکالر شپ کے لئے کوشش ممکن تھی۔

(اس دوران) میری باقی فیملی ایک سال کے لئے انڈیا چلی گئی لیکن میں ساتھ نہیں جا پایا کیوں کہ مجھے اے لیولز  کرنا تھا اور بعد ازاں یونی ورسٹی میں داخلہ لینا تھا۔ میرے ہیڈ ماسٹر کے خیال کے مطابق میں آکسفورڈ میں داخلے کیلئے ابھی میں بہت چھوٹا تھا ، اس کے باوجود میں مارچ 1959 میں سکالر شپ کا امتحان دو اور لڑکوں کے ساتھ دینے گیا جو مجھ سے ایک سال سینئر تھے۔ مجھے یقین تھا کہ میرا امتحان بہت برا ہوا ہے اور تب بہت زیادہ پریشان بھی تھا جب پریکٹیکل امتحان کے دوران یونی ورسٹی کے لیکچرار دوسرے طلباء سے بات چیت کیلئے آئے لیکن مجھ سے کسی نے بات نہیں کی۔اور پھر آکسفورڈ سے واپسی کے چند دنوں بعد، مجھے ایک ٹیلی گرام موصول ہوا جس میں بتایا گیاتھا کہ مجھے سکالر شپ کے لئے منتخب کر لیا گیا ہے۔

میں تب سترہ برس کا تھا اور میرے ہم جماعت طالب علموں میں بہت سوں نے ملٹری سروس بھی کر رکھی تھی اور مجھ سے عمر میں کافی بڑے تھے۔ اس وجہ سے پہلا پورا سال اور دوسرے سال کے کچھ حصے کے دوران میں نے خود کو بہت تنہا محسوس کیا۔ میرا تیسرا برس تھا جب میں نے خود کو بہت خوش و خرم محسوس کیا۔ تب آکسفورڈ کا ماحول بہت سہل پسند (anti-work) ہوا کرتا تھا۔ آپ کے لئے بغیر محنت کے ایک شاندار طالب علم ہونا وہاں کے کلچر کے مطابق فرضِ عین تھا ، یا پھر اپنی حدود کو قبول کریں (یعنی اپنی کند ذہنی کا اقرار کریں اور)چوتھے درجے کی ڈگری حاصل کر لیں۔ محنت کر کے ایک بہتر ڈگری حاصل کرنے والے کو gray man سمجھا جاتا تھا، جو کہ ‘آکسفورڈ کی لغت’ کے مطابق ایک  بد ترین صفت تھی۔

اُس دور میں فزکس کی ڈگری کو آکسفورڈ میں یوں مرتب کیا گیا تھا کہ اس کے طالب علموں کا کام سے بچے رہنا (دوسروں کی نسبت) خاص طور سے آسان تھا۔ میں نے صرف ایک امتحان دیا اور دوسرے سال میں داخل ہو گیا اور بعد ازاں آکسفورڈ کے بقیہ تین سالوں میں بھی صرف سالانہ امتحانات دیے۔ ایک مرتبہ تخمینہ لگانے پر مجھے  یہ آشکار ہوا کہ میں نے اپنے تین برسوں کے دوران کوئی ایک ہزار گھنٹے کا کام کیا تھا، جو اوسطاً ایک گھنٹہ روزانہ بنتا تھا۔ مجھے کام کی اس قلت پر فخر نہیں ہے۔ میں صرف اپنا تب کا اپنا رویہ بیان کر رہا ہوں، اور ایسا ہی رویہ وہاں کے زیادہ تر طالب علموں کا تھا: ایک مکمل بوریت کا احساس اور یہ رویہ کہ کچھ بھی ایسا نہیں ہے جس کے لئے کوشش کی جائے۔  مجھے بیماری سے حاصل ہونے والے اسباق میں سے ایک یہ ہے کہ یہ سب کچھ جو ہو رہا ہے یہ تبدی ہونا چاہئے۔۔ جب آپ قبل از وقت موت کے امکان سے دوچار ہوں تو آپ کو احساس ہوتا ہے کہ زندگی جئے جانے کی شے ہے اور بہت کچھ ایسا ہے جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔

کام (کرنے) کی قلت کی وجہ سے ، میں نے یہ سوچ رکھا تھا کہ میں نظری طبیعیات کے سوالات حل کروں گا اور ان سوالات سے احتراز برتوں گا جو اطلاقی علم (applied physics) کے متقاضی تھے۔ تاہم (اسی دوران ہونے والے) امتحان سے ایک رات قبل نروس ٹینشن کے باعث میں سو نہیں پایا تھا، اور امتحان میں اچھی کارکردگی نہ دکھا سکا۔ میں درجہ اول اور درجہ دوم کی ڈگری کے بین بین تھا، اور ممتحن حضرات نے میرا گریڈ متعین کرنے کے لئے میرا انٹرویو لینا تھا۔ انٹرویو میں انھوں نے مجھ سے میرے مستقبل کے منصوبوں کے بارے میں پوچھا۔ میں نے بتایا کہ میں ریسرچ کرنا چاہتا تھا۔ اگر وہ مجھے درجہ اول میں پاس کرتے تو میں کیمبرج جاتا اور درجہ دوم میں پاس ہونے پر آکسفورڈ میں ہی رہتا۔ انھوں نے مجھے درجہ اول میں پاس کر دیا۔

میرا احساس تھا کہ نظری طبیعیات کے دو ممکنہ دائرے ہیں جو بنیادی تھے اور جن میں مجھے تحقیق کرنی چاہئے تھی۔ ان میں سے ایک کُونیات (cosmology) تھا، یعنی بہت بڑے اجسام کا مطالعہ۔ اور دوسرا بنیادی ذرات (elementary particles) تھا، یعنی بہت چھوٹے اجسام کا مطالعہ۔ میرے خیال میں بنیادی ذرات کم پر کشش تھے کیونکہ ، اگرچہ سائنس دان بہت سے نئے ذرات ڈھونڈ نکال رہے تھے لیکن اس وقت تک کوئی مناسب نظریہ سامنے نہیں آیا تھا۔ زیادہ سے زیادہ وہ یہ کر رہے تھے کہ ان ذرات کو مختلف categories میں تقسیم کر دیں، جیسا کہ botany میں ہوتا تھا۔ جبکہ دوسری جانب، کُونیات میں ایک متعین نظریہ تھا، جو کہ آئن سٹائن کا جنرل نظریۂ اضافت (General Theory of Relativity) تھا۔

آکسفورڈ میں کوئی بھی نہیں تھا جو کُونیات پر کام کر رہا تھا ، لیکن کیمبرج میں Fred Hoyle کونیات پر کام کر رہے تھے، جو اپنے وقت کے ممتاز ترین برطانوی ماہرِ فلکیات تھے۔ اسی وجہ سے میں نے Hoyle کی سرپرستی میں پی ایچ ڈی کے لئے اپلائی کر دیا۔ چونکہ میں اول درجے میں کامیاب ہوا تھا اس لئے مجھے کیمبرج میں پی ایچ ڈی میں داخلہ مل گیا۔ لیکن یہ جان کر میں بہت الجھن کا شکار ہوا کہ میرے سپروائزر Hoyle نہیں بلکہ Denis Sciama تھے، جن کو میں نہیں جانتا تھا۔ تاہم انجام کار ایسا میرے حق میں بہترین ثابت ہوا۔ Hoyle زیادہ تر بیرون ملک رہتے تھے اور  غالباً اس وجہ سے میں ان سے زیادہ استفادہ کر بھی نہ پاتا۔ جبکہ دوری جانب، Scima کیمبرج میں ہی ہوتے تھے اور ہمیشہ  حوصلہ افزائی کرتے تھے، اگرچہ میں اکثر ان کے خیالات سے متفق نہیں ہوتا تھا۔

چونکہ میں نے سکول اور آکسفورڈ میں زیادہ ریاضی نہیں پڑھی تھی، اس وجہ سے ابتداً مجھے جنرل نظریۂ اضافت سمجھنے میں بہت مشکل پیش آئی اور میں کوئی زیادہ progress نہیں کر سکا۔ مزید برآں میں نے آکسفورڈ میں اپنے آخری سال کے دوران غور کیا کہ میری جسمانی حرکت بد سلیقہ ہوتی جا رہی ہے۔ کیمبرج جانے کے بعدجلد ہی، مجھ میں ALS (amyotrophic lateral sclerosis) کی تشخیص ہو گئی، جسے برطانیہ میں موٹر نیوران (motor neuron) کی بیماری کہا جاتا ہے۔ (امریکہ میں اسے Lou Gehrig’s disease بھی کہتے ہیں )۔ ڈاکٹر حضرات میرا علاج کر پائے نہ ہی مجھے یہ یقین دہانی کرا پائے کہ میری بیماری میں مزید اضافہ نہیں ہو گا۔

ابتداً یوں محسوس ہوا کہ بیماری تیزی سے بڑھ رہی ہے۔(اس وجہ سے) مجھے اپنا تحقیقی کام بے وقعت لگنے لگا، کیونکہ مجھ اتنی بھی امید نہ رہی تھی کہ میں اپنی پی ایچ ڈی کی تکمیل تک زندہ رہ پاؤں گا۔تاہم، جوں جوں وقت گزرتا گیا، بیماری میں بظاہر آہستگی آتی گئی۔ میں نے جنرل نظریۂ اضافت بھی سمجھنا شروع کر دیا اور اپنا (پی ایچ ڈی کا) کام بھی شروع کر دیا۔ لیکن جو امر فیصلہ کن ثابت ہوا وہ میری Jane Wilde سے منگنی تھا، جس سے میری ملاقات اپنی بیماری کے تشخیص کے آس پاس ہی ہوئی تھی۔ جین کی شکل میں مجھے اپنا زندہ رہنا بامقصد نظر آنے لگا۔

ہماری شادی کے لئے میرے پاس ملازمت کا ہونا ضروری تھا، اور ملازمت ہونے کیلئے پی ایچ ڈی ہونا ضروری تھا۔ اور یوں آخرِ کار زندگی میں پہلی مرتبہ میں نے کام کرنا شروع کیا۔ اور مجھے حیرانی ہوئی کہ مجھے کام کرنا پسند آ رہا تھا۔ شاید اسے کام کہنا مناسب نہ ہو (کیونکہ) کسی نے کہہ رکھا ہے: سائنس دان اور طوائفوں کو اُن کی پسند یدہ سرگرمیوں کا معاوضہ ملتا ہے۔

میں نے Gonville اور Caius کالج میں ریسرچ فیلو شپ کے لئے درخواستیں جمع کرائیں۔ میں امید کر رہا تھا کہ میری درخواست جین ٹائپ کرے گی لیکن جب وہ مجھ سے ملنے کیمبرج آئی تو اُس کے ٹوٹے ہوئے بازو پر پلستر چڑھا ہوا تھا۔ مجھے اقرار کرنا چاہئے کہ مجھے اس واقعے پر جتنی ہمدردی دکھانا چاہئے تھی وہ میں نے نہیں دکھائی۔ اُس کا چونکہ بایاں بازو ٹوٹا تھا اس وجہ سے وہ میری درخواست لکھنے کے قابل تھی۔ میں بولتا گیا اور وہ لکھتی گئی، اور یوں بالآخر مجھے خود درخواست نہیں لکھنا پڑی

درخواست جمع کرانے کے لئے مجھے دو افراد اپنے کام کے حوالہ (reference) کے طور پر درکار تھے ۔ میرے سپروائزر نے تجویز دی کہ مجھے Herman Bondi کا نام دینا چاہئے۔ Bondi اس وقت kings College لندن میں ریاضی کے پروفیسر تھے۔، اور جنرل نظریۂ اضافت کے ماہر تھے۔ میری ان سے ایک دو مرتبہ ملاقات تھی، اور انھوں نے Proceedings of the Royal Society نامی جرنل میں میرا لکھا ہوا تحقیقی مقالہ شائع کرایا تھا۔ میں نے ان سے (ان کا نام بطور ریفرینس کے درج کرنے کے لئے) پوچھا، جب وہ کیمبرج میں ایک لیکچر دے کر فارغ ہوئے، تو انھوں نے مبہم انداز سے مجھے دیکھتے ہوئے حامی بھر لی۔ یقیناً میں انہیں یاد نہیں رہا ہوں گا کیونکہ جب کالج نے ان سے ریفرینس کے لئے رابطہ کیا تو جواباً انھوں نے کہا کہ وہ مجھے نہیں جانتے تھے۔ آج کل کالج ریسرچ فیلو شپ کے لئے اتنی کثیر تعداد میں درخواست گزار ہوتے ہیں کہ اگر کسی بھی درخواست گزار کا ریفرینس یہ کہہ دے کہ وہ اسے نہیں جانتا، تو وہیں اس درخواست گزار کے داخلے کے امکانات ختم ہو جاتے ہیں۔ لیکن وہ وقت کافی خاموش تھا۔ کالج نے مجھ سے رابطہ کر کے Bondi کا شرمندہ کردینے والا جواب بتایا، اور پھر میرے سپروائزر نے Bondi کی یادداشت تازہ کی۔ Bondi نے میرے لئے ایسا ریفرینس لکھا جس کا شاید میں مستحق نہیں تھا۔ مجھے فیلو شپ مل گئی اور تب سے میں Caius کالج کا فیلو ہوں۔

اس فیلو شپ کا مطلب یہ تھا کہ جین اور میں شادی کر سکتے تھے، جو ہم نے جولائی 1965 میں کی۔ ہم نے ہنی مون کا وقت Suffolk میں ایک ہفتے کے لئے گزارا، اور اس سے زیادہ اخراجات میں برداشت نہیں کر سکتا تھا۔ بعد ازاں ہم Cornell University نیویارک کے summer school میں گئے جہاں جنرل نظریۂ اضافت پڑھایا جانا تھا۔ وہاں جانا ایک غلطی تھی۔ ہم ایک ایسی اقامت گاہ میں ٹھہرے جہاں ایسی جوڑے رہ رہے تھے جن کے چھوٹے چھوٹے بچے تھے جو بہت شور مچاتے تھے، اس وجہ سے اس رہائش نے ہماری شادی شدہ زندگی پر کافی بوجھ ڈالا۔ اس کے علاوہ summer school بہت مفید رہا کیونکہ میں اپنے شعبے کے بہت سے قافلہ سالاروں سے مل پایا۔

1970 تک میں نے کُونیات میں تحقیق کی، جو کہ کائنات کی بڑے پیمانے پر تحقیق تھی۔ اس دورانیے میں میرا سب سے اہم کام Sigularities پر تھا۔ دور دراز کہکشاؤں کا مشاہدہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ وہ ہم سے دور جا رہی ہیں : کائنات پھیل رہی ہے۔ یہ اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ ماضی میں کہکشائیں ایک دوسرے کے قریب رہی ہوں گی۔ اس کے بعد یہ سوال اٹھتا ہے: کیا ماضی میں کوئی ایسا وقت تھا جب تمام کہکشائیں ایک دوسرے سے ملی ہوئی تھیں اور یوں کائنات کی کثافت غیر متناہی تھی؟ یا ماضی میں ایک ایسا دورانیہ تھا جب کہکشائیں (قریب تو تھیں لیکن) ایک دوسرے سے ٹکرانے سے محفوظ رہی ہوں گی؟ ممکن ہے وہ ایک دوسرے کے قریب سے گزر گئی ہوں پر ایک دوسرے سے ٹکرانے سے محفوظ رہی ہوں؟ اس سوال کا جواب دینے کے لئے ایک نئے ریاضیاتی طریقۂ کار کی ضرورت تھی۔ یہ طریقہ ہائے کار 1965 سے 1970 کے درمیان وضع کئے گئے جن میں راجر پینروز (Roger Penrose)اور میرا کردار بنیادی تھا۔ پینروز اس وقت Birkbeck کالج لندن میں تھے، اور اب آکسفورڈ میں ہیں۔ ہم نے ان ریاضیاتی طریقہ ہائے کار کے ذریعے یہ ثابت کیا کہ اگر جنرل نظریۂ اضافت درست ہے تو ماضی میں غیر متناہی کثافت کی ایک حالت لازماًرہی ہو گی۔

غیر متناہی کثافت کی یہ حالت big bang singularity کہلاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر جنرل نظریۂ اضافت درست ہے تو سائنس یہ بتانے کے قابل نہیں ہو پائے گی کہ کائنات کیسے شروع ہوئی تھی۔ تاہم، میرا تازہ ترین تحقیقی کام یہ نشان دہی  کرتا ہے کہ کائنات کا آغاز جاننا ممکن ہے اگر ہم کوانٹم فزکس کی مدد سے اسے سمجھنے کی کوشش کریں، جو کہ مادے کا ذرات کی سطح پر مطالعے کا نام ہے۔

جنرل نظریۂ اضافت اس امر کی بھی پیشین گوئی کرتا ہے کہ دیو ہیکل ستارے جب اپنا نیوکلیائی ایندھن استعمال کر چکے ہوں گے تو وہ آپس میں ٹکرائیں گے۔ میرے اور پین روز کے کام نے یہ ثابت کیا کہ ستارے آپس میں تب تک ٹکرانا جاری رکھیں گے جب تک کہ وہ غیر متناہی کثافت کی اکائی (singularity) کو نہیں پہنچ جاتے۔ یہ اکائی کم از کم ان ستاروں اور ان پہ موجود ہر شے کے لئے وقت کا اختتام (end of time) ہو گا۔ اس اکائی کی کششِ ثقل اس قدر شدید ہو گی کہ اس کےاطراف موجود جگہوں سے روشنی بھی باہر نہ نکل پائے گی اور gravitational field اسے واپس کھینچ لائے گا۔ ایسا علاقہ جہاں سے روشنی کا فرار نا ممکن ہو، بلیک ہول (black hole) کہلاتا ہے اور اس کی حدود event horizon کہلاتی ہیں۔ کوئی بھی شے جو event horizonکے ذریعے بلیک ہول میں گرتی ہے، اس کا end of time اکائی پر جا کر ہوتا ہے۔

یہ 1970 کی بات ہے کہ میں ایک مرتبہ جب سونے کے لئے بستر پر لیٹا تو بلیک ہولز کے بارے میں سوچ رہا تھا، او ر یہ میری بیٹی Lucy کی پیدائش کے کچھ ہی عرصہ بعد کی بات تھی۔ اچانک مجھے یہ ادراک ہوا کہ میں نے پین روز کے ساتھ مل کر اکائی کو ثابت کرنے کے لئے جو طریقہ ہائے کار وضع کئے تھے وہ بلیک ہولز پر بھی منطبق کئے جا سکتے تھے۔ بالخصوص بلیک ہولز کا باہری کنارہ جو event horizon کہلاتا ہے، اس میں وقت گزرنے کے ساتھ کمی واقع نہیں ہو سکتی۔ اور دو بلیک ہولز  کے ٹکرانے سے جب ایک نیا بلیک ہول وجود میں آئے گا، تو اس نئے بلیک ہول کے افق کا رقبہ ان دو بلیک ہولز کے مشترکہ رقبہ سے بڑا ہو گا۔ اس نتیجے سے بلیک ہولز کے آپس میں ٹکرانے سے خارج ہونے والی توانائی کی مقدار پر ایک اہم حد بندی عائد ہو گئی۔اس اچانک ادراک سے میں اس قدر پر جوش تھا کہ اس رات ٹھیک سے سو نہ سکا۔

1970 سے 1974 کے درمیان میں نے بلیک ہولز پر کام کیا۔ لیکن 1974 میں غالباً میں نے اپنی سب سے حیران کن دریافت کی: کہ بلیک ہولز مکمل طور پر بلیک نہیں ہیں! جب ہم مادے کا بہت چھوٹی سطح پر تعامل دیکھتے ہیں ، تو بلیک ہولز سے بھی ذرات اور شعائیں خارج ہو سکتی ہیں۔اور بلیک ہول ایک گرم شے کی طرح شعائیں خارج کرتا ہے۔

1974 سے میں جنرل نظریۂ اضافت اور کوانٹم میکانکیات (quantum mechanics) کو باہم ملا کر ایک متوازن نظریہ بنانے پر کام کر رہا ہوں۔ اور اس کا ایک نتیجہ وہ تجویز (proposal) ہے جو میں نے 1983 میں نے جم ہارٹل (Jim Hartel) کے ساتھ مل کر 1983 میں پیش کیا۔ جم ہارٹل کا تعلق یونی ورسٹی آف کیلی فورنیا سانتا باربرہ (Santa Barbara) سے تھا: پروپوزل یہ تھا کہ وقت (time) اور خلاء (space) محدود ہیں لیکن اُن کی کوئی حد بندی (boundary) یا کنارہ (edge) نہیں ہے۔ وہ زمین کی سطح جیسے ہی ہوں گے ، لیکن ان کی دو اضافی  جہات یا طول و عرض (dimensions) ہوں گے۔ زمین کا بیرونی علاقہ اپنے رقبہ میں محدود ہے لیکن اس کا کوئی کنارہ نہیں ہے۔ دنیا میں اپنے تمام تر سفر کے دوران میں (me) کبھی بھی زمین کے کنارے سے باہر نہیں گرا۔ اگر یہ پروپوزل درست ہے تو اس کا مطلب ہے اکائی (singularity) وجود نہیں رکھتی اور سائنس کے قوانین ہر جگہ پر لاگو ہوں گے، اور کائنات کے نکتۂ آغاز پر بھی یہ قوانین لاگو ہوں گے۔ یعنی کائنات کے آغاز کا تعین ہم سائنس کے قوانین سے کر پائیں گے۔ میں اپنے اس ارادے میں کامیاب ہو چکا ہوتا کہ یہ دریافت کروں کہ کائنات کا آغاز کیسے ہوا لیکن میں یہ ابھی تک نہیں جانتا کہ اس کا آغاز کیوں ہوا۔

Categories
نان فکشن

نجمِ اسود اور ننھی کائناتیں: قسط نمبر 1 (پیش لفظ)

عرضِ مترجم: اسٹیفن ہاکنگ کی کتاب ‘وقت کی مختصر تاریخ’ کا اردو ترجمہ محترم ناظر محمود صاحب، علیم احمد صاحب، یاسر جواد صاحب اور دیگر احباب نے اپنی اپنی جگہ نہایت ہنر مندی اور سلیقے سے کیا ہے، مزید برآں ہاکنگ کی تازہ ترین کتاب “بڑے سوالوں کے مختصر جواب” کا ترجمہ بھی حال ہی میں شائع ہو چکا ہے۔ تاہم ہاکنگ کی نہایت اہم اور طویل عرصہ تک  نیو یارک ٹائمز بیسٹ سیلر  رہنے والی کتاب Black Holes and Baby Universe  کا ترجمہ ان نامور مترجمین کی جانب سے ہنوز نہیں کیا گیا، اور یہ اعزاز لالٹین ڈاٹ پی کے کے حصے میں آ رہا ہے  جو نہ صرف  باعثِ فخر ہے بلکہ سائنسی کتب کے تراجم کی دم توڑتی روایت کو از سرِ نو زندہ کرنے کی  ایک شاندار کاوش  بھی،جو ہر لحاظ سے قابلِ تحسین ہے۔ احباب سے درخواست ہے کہ ہاکنگ کی اس شاندار تحریر کو زیادہ سے زیادہ احباب بالخصوص سائنس کے طلباء کو مطالعے کے لئے تجویز فرمائیں۔

کتاب چودہ ابواب پر مشتمل ہے۔ جنہیں ادارہ ہفتہ وار شائع کرنے کی پوری کوشش کرے گا۔ط ع

 


پیش لفظ

از اسٹیفن ہاکنگ

 

یہ کتاب اُن مضامین کا مجموعہ ہے جو میں نے1976 اور 1992 کے درمیان (مختلف اوقات میں)  لکھے۔ ۔ ان مضامین کا دائرۂ کار خود نوشتہ خاکوں اور فلسفۂ سائنس سے لے کر اپنے اس جوش و ولولے کو بصراحت بیان کرنے کی کوشش ہے جو میں سائنس اور کائنات کے متعلق محسوس کرتا ہوں۔ کتاب کا اختتامیہ Desert Island Discs نام کےپروگرام کا تحریری قالب ہے جس میں مجھے مدعو کیا گیا۔ یہ برطانوی ٹیلی ویژن  انڈسٹری میں اپنی نوعیت کا ایک انوکھا پروگرام ہے جس میں مہمان سے کہا جاتا ہے کہ وہ خود کو ایک صحرائی جزیرے میں خستہ حال بھٹکتا ہوا تصور کرے، اور پھر آٹھ میں سے کسی ایک ریکارڈ کا انتخاب کرے جو وہ rescue کئے جانے تک (مسلسل) سنے گا۔ (خوش قسمتی سے مجھے صحرا سے واپس آنے میں زیادہ وقت نہیں لگتا۔)

چونکہ یہ مضامین سولہ برس کے (طویل) دورانیے کو محیط ہیں لہذا یہ اس عرصے میں میری علمیت کی بتدریج ترقی کے عکاس بھی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے مضمون تحریر کرنے کی تاریخ اور جگہ، ہر مضمون کے اختتام پر درج کی ہیں۔ چونکہ  کتاب کا کوئی بھی مضمون دوسرے سے متصل نہیں ہے، لہذاٰ کچھ نہ کچھ باتوں کا اعادہ  یقینی ہے۔(اگرچہ) میں نے (حتی المقدور) کوشش کی ہے کہ ایسا نہ ہو، اس کے باوصف کچھ جگہوں پر   repetition دیکھنے میں آئے گی۔

کتاب کے اکثر مضامین کا خاکہ کچھ یوں تھا کہ یہ پڑھ کر سنائے گئے تھے۔ (لیکن) میری آواز اس قدر غیر واضح ہوتی تھی  کہ  بالعموم مجھے سیمینار اور خطابات اپنے  محقق (researcher) طالب علم کی مدد سے دینا پڑتے تھے۔ ، ایسا طالب علم جو مجھے سمجھ سکتا تھا اور میری لکھی ہوئی تحریر بھی پڑھ سکتا تھا۔ تاہم 1985 میں میرا وہ آپریشن ہوا جس سے میری قوتِ گویائی مکمل طور پر سلب ہو گئی۔ کچھ وقت کیلئے تو میرے پاس  کسی بھی قسم  کی گفتگو کا ذریعہ نہیں تھا۔ بالآخر مجھے ایک کمپیوٹر سسٹم  اور ایک نادر قسم کا speech synthesizer دیا گیا۔  مجھے (از حد) حیرت ہوئی کہ ( اس کی مدد سے)میں ایک کامیاب پبلک سپیکر بن سکتا  تھا، اور بہت سے سامعین سے بیک وقت مخاطب بھی ہو سکتا تھا۔ مجھے سائنسی امور کی وضاحت کرنے اور سوال و جواب سے لطف حاصل ہوتا ہے۔  میں جانتا ہوں کہ مجھے اس میں (سائنسی امور کی وضاحت اور سوالات کے جوابات دینے میں) بہتری لانے کیلئے ابھی بہت کچھ سیکھنا ہے، لیکن میرا خیال ہے مجھ میں بہتری آبھی رہی ہے۔  آپ  اس بارے میں فیصلہ آئندہ صفحات کو پڑھ کر از خود کر سکتے ہیں

میں اس نظریے سے متفق نہیں کہ کائنات ایک پر اسرار بھید ہے، ایک ایسی شے جس کے بارے میں ہم وجدانی آراء تو رکھ سکتے ہیں لیکن  کبھی مکمل طور پر اس کا تجزیہ کرنے یا اسے سمجھنے میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔ میرا احساس ہے کہ یہ نظریہ اس سائنسی انقلاب سے انصاف نہیں کرتا جو قریب چار سو برس قبل گلیلیو سے شروع ہوا اور جسے نیوٹن نے دوام بخشا۔ انہوں نے یہ ثابت کیا کہ کائنات کے کم از کم کچھ حصے لا یعنی یا الل ٹپ انداز میں کام نہیں کرتے بلکہ حتمی ریاضیاتی قوانین کے تحت کام کرتے ہیں۔ اور پھر برسوں پر محیط (محنت سے) ہم نے گلیلیو اور نیوٹن کے کام کو کائنات کے تقریباً ہر حصے تک توسیع دی ہے۔ اب ہمارے پاس ریاضیاتی قوانین ہیں اور ہمارے احساسات میں آنے والے تمام تجربات ان قوانین کے تابع ہیں۔ یہ ہماری کامیابی کا معیار ہے کہ اب ہمیں اربوں ڈالر خرچ کر کے دیو ہیکل مشینیں بناتے ہیں ٍ تا کہ ہم ذرات کو اس قدر توانائی پہنچا سکیں کہ ہمیں یہ بھی معلوم نہ ہو کہ (اتنی توانائی رکھتے ہوئے) ان کے آپس میں ٹکراؤ سے کیا نتیجہ برآمد ہو گا۔ ذرات کی یہ غیر معمولی توانائی زمین پر عام حالات میں وجود نہیں رکھتی، اور عین ممکن ہے کچھ لوگوں کو یہ گمان گزرے کہ ان کے مطالعہ پر اتنی خطیر رقم خرچ کرنا غیر ضروری ہے۔ لیکن (ان ذرات کا اس سطح کی توانائی رکھتے ہوئے ٹکراؤ) عین ممکن ہے ماقبل تخلیقِ کائنات ہوا ہو، لہذاٰ اگر ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کائنات اور ہم کس طرح وجود میں آئے تو یہ جاننا لازم ہو گا کہ اس سطح کی توانائی رکھنے والے ذرات کا باہمی تعامل کس نوعیت کا ہوتا ہے۔

کائنات کے بارے میں ہنوز بہت کچھ ایسا ہے جو ہم جانتے ہیں نہ ہی اس کا فہم رکھتے ہیں۔ لیکن ہم نے جو حیران کن ترقی، بالخصوص گزشتہ سو برسوں میں کی ہے، اس سے ہمیں یہ حوصلہ ملتا ہے کہ شاید کائنات کا مکمل فہم ہماری طاقت سے باہر نہیں ہے۔ ہم ہمیشہ اندھیرے میں نہیں بھٹکیں گے۔ (اور) عین ممکن ہے ہم کائنات کی ایک مکمل تھیوری وضع کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔ اگر ایسا ہو جاتا ہے تو یقیناً ہم  Masters of the Universe کہلائیں گے۔

اس کتاب میں سائنسی مضامین اس یقین کے ساتھ لکھے گئے تھے کہ ہم کائنات کو ایک نظم کے تحت چلانے والے قوانین کا ضمنی ادراک رکھتے ہیں اور غالب امکان ہے کہ مستقبل قریب میں ہم ان کا مکمل ادراک کر پائیں گے۔ عین ممکن ہے کہ یہ امید ایک سراب ہو؛ ہو سکتا ہے کہ کوئی مطلق تھیوری وجود نہ رکھتی ہو، اور اگر ہے بھی تو ہم اسے وضع کرنے میں کامیاب نہ ہو سکیں۔  لیکن  کائنات کے مکمل ادراک کی کوشش ، انسانی  ذہن کے مستقل نا امید رہنے سے یقیناً  بہتر ہے۔

اسٹیفن ہاکنگ

31 مارچ 1993