Categories
نقطۂ نظر

پی ایس ایل 2017 – پاکستان میں کرکٹ کی واپسی

پچھلے تین ہفتے سے دبئی اور شارجہ میں جاری پاکستان سوپر لیگ ک دوسرا حصہ اپنے اختتام کو پہنچنے والا ہے۔ آج لاہور میں پی ایس ایل کا فائنل کھیلا جائے گا جس میں پشاور زلمی اور کوئٹہ گلیڈیئٹرز کی ٹیمیں آمنے سامنے ہوں گی۔ پہلے ایڈیشن کی طرح پی ایس ایل کے دوسرے ایڈیشن میں بھی کافی جوش و خروش اور بہت سے سنسنی خیز مقابلے دیکھنے کو ملے۔ اس مرتبہ سٹیڈیم آ کر میچ دیکھنے والے تماشائیوں کی تعداد بھی گزشتہ برس کے مقابلے میں دگنی رہی۔ تماشائیوں کی دلچسپی اور ڈینی موریسن جیسے کمینٹیٹر کے ہونے سے پی ایس ایل کا مزہ دوبالہ ہوا۔ اس ایڈیشن کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ حسبِ وعدہ اس سال فائنل پاکستان کے شہر لاہور میں کرا رہا ہے ۔ یہ اقدام پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی کے لئے ایک خوش آئند قدم ہے۔

 

لاہور میں فائنل منعقد کرانے کےلیے حکومت اور پی سی بی کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، اور سیکیورٹی کے حوالے سے خدشات ابھی باقی ہیں۔ سیاستدانوں کی مخالفت کے باوجود پی سی بی داد کا مستحق ہے کہ ان مشکل حالات میں بھی وہ پاکستانی عوام کےلیے کرکٹ واپس لانے کی جدوجہد کر رہا ہے۔ امن و امان کی خراب صورتحال کے پیش نظر بہت سے سیاسی رہنما بشمول عمران خان، آصف علی زرداری اور عوام کی قابلِ ذکر تعداد پی ایس ایل کا فائنل لاہور میں منعقد کروانے کے حق میں نہیں ہیں لیکن اکثریت ان لوگوں کی ہے جو پی ایس ایل کا فائنل لاہور میں دیکھنا چاہتے ہیں اور اس امید پر پی سی بی کی حمایت کررہے ہیں کہ شاید اس سے پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی ممکن ہو سکے گی۔ جس تیزی سے فائنل کی ٹکٹیں فروخت ہوئی ہیں اس سے یہی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستانی عوام کرکٹ دیکھنے کے لیے بے تاب ہیں۔ یاد رہے کہ مارچ 2009 میں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد صرف زمبابوے اور افغانستان کی ٹیموں نے پاکستان کا دورہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ 2012 میں دو ٹی ٹوینٹی میچز کےلیے کچھ بین الاقوامی کرکٹ کھلاڑیوں نے سنتھ جے سوریا کی قیادت میں ورلڈ الیون کے نام سے پاکستان کے شہر کراچی کا دورہ کیا جن میں ساوتھ افریقن فاسٹ باولر اینڈرے نیل اور افغانستان کے بلے باز شہزاد قابل ذکر ہیں۔ کسی بھی دوسرے ملک نے پاکستان کا دورہ نہیں کیا اور پاکستان اپنی تمام تر ہوم میچز متحدہ عرب امارات اور برطانیہ میں کھیلتا رہا ہے۔ اگر اگلے سال پاکستان کرکٹ بورڈ پی ایس ایل کے کچھ اور میچز پاکستان میں کروانے میں کامیاب ہوجاتا ہے اور ساتھ ساتھ غیر ملکی کھلاڑیوں کو پاکستان میں کھیلنے پر راضی کرنے میں کامیابی حاصل کرلیتا ہے تو عین ممکن ہے کہ جلد بین الاقوامی ٹیمیں پاکستان کا دورہ کرنے کے لئے تیار ہوجائیں۔

 

اس سال کی پاکستان سپر لیگ میں بھی کانٹے دار مقابلے دیکھنے کو ملے لیکن لاہورقلندرز کی بدقسمتی نے ان کا ساتھ نہیں چھوڑا۔کراچی کی کارکردگی گزشہ برس سے بہتر رہی۔ اس سال بھی گروپ میچز میں کوئٹہ اور پشاور کی ٹیمیں پہلے اور دوسرے نمبر پر موجود رہیں جبکہ تیسرے اور چوتھے نمبر پر کراچی اور اسلام آباد کی ٹیمیں موجود تھیں اور لاہور ایک بار پھر پلے آف تک پہنچنے میں ناکام ہوا۔ پلے آف کا پہلا میچ پشاور اور کوئٹہ کے درمیان کھیلا گیا جس میں چھکوں اور چوکوں کی بارش ہوئی اور ایک سنسنی خیز مقابلے کے بعد کوئٹہ نے پچھلے سال کی طرح پشاور کو صرف ایک رن سے شکست دےدی اور پی ایس ایل ٹو کے فائنل میں پہنچنے والی پہلی ٹیم بنی۔ دوسرے پلے آف میں کراچی کا مقابلہ پچھلے سال کی فاتح ٹیم اسلام آباد سے ہوا جس میں کراچی ٹیم کی بہترین بالنگ کی وجہ سے اسلام آباد کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ناک آوٹ میچ میں کراچی اور پشاور کی ٹیموں کا مقابلہ ہوا جس میں کامران اکمل نے پشاور کی طرف سے کھیلتے ہوئے پی ایس ایل کی تاریخ کا دوسرا اور اس ایڈیشن کا پہلا سو اسکور کیا۔ اس سو کی بدولت کامران اکمل اس ایڈیشن میں سب سے زیادہ مجموعی رنز بنانے والا بلے باز بن چکے ہیں۔ پشاور کی جارحانہ بیٹنگ کے جواب میں کراچی کے اننگز کی شروعات بہت ہی سست تھی لیکن بعد میں کرس گیل اور کیرن پولارڈ کی بیٹنگ سے یہ لگتا تھا کہ کراچی کی ٹیم فائنل میں پہنچنے میں کامیاب ہوجائے گی لیکن وہاب ریاض کی بہترین بالنگ کی بدولت کیرن پولارڈ نصف سنچری بنانے سے پہلے ہی آوٹ ہوگئے اور ساتھ ہی کراچی کی تمام امیدیں اپنے ساتھ لے کر پویلین کی طرف لوٹ گئے اور یوں پشاور فائنل میں پہنچنے میں کامیاب ہوا۔

 

اگر کوئٹہ اور پشاور کی ٹیموں کا موازنہ کیا جائے تو دونوں ٹیمیں ایک دوسرے کے خلاف ایک ایک میچ جیت چکی ہیں ۔ اس سال کا ان کا پہلا میچ بارش کی نذر ہوا۔ دونوں ٹیموں نے چار چار میچوں میں کامیابی حاصل کی اور دونوں کے گروپ اسٹیج میں نو (9) پوائنٹس تھے۔ البتہ پلے آف میں کوئٹہ نے پشاور کو شکست دی جس کی وجہ سے کوئٹہ ٹیم کے حوصلے بلند دکھائی دیتے ہیں۔ مگر کوئٹہ ٹیم کو سب سے بڑا دھچکہ اس وقت لگا جب ان کے تمام غیر ملکی کھلاڑیوں نے لاہور آنے سے انکارکیا۔ کوئٹہ ٹیم کو فائنل تک پہنچانے میں کیون پیٹرسن اور رائلی روسو نے اہم کردار ادا کیا تھا اور کوئٹہ ٹیم کو ان کی شدید کمی محسوس ہوگی۔ کوئٹہ کی ٹیم انگلش گیند باز ٹیمل ملز کی خدمت سے محروم ہوگی جو مخالف ٹیم کے بلے بازوں کو زیر کرنے میں کافی مہارت رکھتے ہیں۔ کوئٹہ ٹیم نے ان کی جگہ پانچ نئے کھلاڑیوں کا انتخاب کیا ہے لیکن بنگلہ دیش کے انعام الحق، ساوتھ افریقہ کے وین وائیک ، زمبابوے کے الٹن چیگمبورا اور شین اروائن کا موازنہ پیٹرسن، رائٹ، روسو اور ملز سے ہر گز نہیں کیا جاسکتا۔ ان چار نئے کھلاڑیوں میں وین وائیک وہ واحد کھلاڑی ثابت ہو سکتے ہیں جو شاید ایک جارحانہ بلے باز کی حیثیت سے کوئٹہ کو فتح دلا سکیں۔ کوئٹہ کے لیے سب سے اچھی خبر یہ ہے کہ سر ویوین رچرڈز جو ہمیشہ کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں لاہور میں ٹیم کے ساتھ ہوں گے۔ ویوین رچرڈز کی موجودگی اور سرفراز کی قائدانہ صلاحیت کوئٹہ کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لئےاہم ہے۔
پشاور زلمی کو اگر دیکھا جائے تو کامران اکمل، وہاب ریاض، محمد حفیظ جیسے تجربہ کار کھلاڑیوں کے ہونے سے پشاور کو اس سال کا چیمپین بننے میں زیادہ آسانی ہوگی۔ اس سے بھی زیادہ خوشی کی بات یہ ہے کہ اب تک کے اطلاعات کے مطابق پشاور ٹیم کے تین غیر ملکی کھلاڑی لاہور آنے کے لئے راضی ہو چکے ہیں جن میں دو ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ جیتنے والے ڈیرن سیمی پشاور کی قیادت کریں گے۔ ڈیوڈ مالان اور مارلن سیموئیلز بھی لاہور آنے کے لئے تیار ہوچکے ہیں۔ پشاور کے لئے بری خبر یہ ہے کہ بوم بوم آفریدی زخمی ہونے کی وجہ سے فائنل نہیں کھیل پائیں گے۔ آفریدی شاید میدان میں اتنی بہتر کارکردگی نہ دکھا پاتے مگر ٹیم میں ان کی موجودگی سے نئے کھلاڑیوں کی کافی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور تماشائی بھی آفریدی کو دیکھنے کے لئے کافی زیادہ تعداد میں آتے ہیں۔

 

بحیثیت کوئٹہ کے رہائشی کے میں کوئٹہ گلیڈیئٹرز کی حمایت کررہا ہوں اور یہی چاہتا ہوں کہ اس بار کوئٹہ ہی پی ایس ایل کا چیمپین بنے کیونکہ دونوں ایڈیشن میں تسلسل سے کوئٹہ کی ٹیم بہتر کھیل کا مظاہرہ کررہی ہے مگر پشاور کے ٹیم میں موجود کھلاڑیوں کو دیکھ کر یہی لگتا ہے کہ کوئٹہ کو جیتنے کے لئے کافی زیادہ محنت اور قسمت آزمائی کرنی پڑے گی۔ جیت چاہے کسی کے بھی نصیب میں ہو خوشی کی بات یہ ہے کہ کافی عرصے بعد پاکستانی عوام کو پاکستان میں اچھی کرکٹ دیکھنے کو مل رہی ہے۔ میں اس موقع پر دعا گو ہوں کہ فائنل میچ بغیر کسی سانحے کے کھیلا جائے اور دہشت گردوں کے عزائم ناکام ہوں۔
Categories
نقطۂ نظر

میانداد اور آفریدی آمنے سامنے

محرم کے پہلےدس دنوں میں عام طور پر لوگ دوسری مصروفیات کو کم یا ترک کرکے مجالس، ماتمی جلوسوں میں شرکت اور واقعہ کربلا کا سوگ منا رہے ہوتے ہیں، ایسے میں سیاسی مصروفیات بھی بہت کم ہوجاتی ہیں۔ ایسا ہی اس سال بھی ہوا اور خاص کر6 محرم کے بعد سےسیاسی بیانات نہ ہونے کے برابر رہ گئے۔ اس اثنا میں پاکستانی میڈیا نے کرکٹ کے دو نامور پاکستانی کھلاڑیوں جاویدمیانداد اور شاہد آفریدی کےآپس میں الجھ جانے کا پورا پورا فائدہ اٹھایا اور اس خبر کو شہ سرخی بنائے رکھا۔ میانداد اور آفریدی کے آمنے سامنے آنے کا پس منظر یہ تھا کہ ایک کتاب کی تقریب رونمائی کے دوران میڈیا کے نمائندوں نے شاہدآفریدی سے یہ سوال کیا کہ جاویدمیانداد کا کہنا ہے کہ آپ پیسوں کے لیے اپنا الوداعی میچ چاہتے ہیں جس پر شاہد آفریدی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ “جاوید میانداد کو ساری زندگی پیسوں کا مسئلہ رہا ہے۔ شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ اتنے بڑے کرکٹر کو ایسی چھوٹی بات نہیں کرنی چاہیےتھی۔ یہی فرق عمران خان اور جاوید میانداد میں تھا”۔ شاہد آفریدی کے اس بیان کے بعد جاوید میانداد نے ایک نجی ٹی وی چینل پر شاہد آفریدی پر تنقید کرتے ہوئے ان پر میچ فکسنگ میں ملوث ہونے کا الزام بھی عائد کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آفریدی اپنی بیٹیوں کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہیں کہ انہوں نے میچ نہیں بیچے۔

 

یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ جاوید میانداد جو پاکستان کے بہت سینیر اور لیجنڈ کرکٹر ہیں اپنے سے بہت جونیر شاہدآفریدی کے بہت زیادہ خلاف کیوں ہیں۔
یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ جاوید میانداد جو پاکستان کے بہت سینیر اور لیجنڈ کرکٹر ہیں اپنے سے بہت جونیر شاہدآفریدی کے بہت زیادہ خلاف کیوں ہیں۔ مثلاً شاہد آفریدی نے بھارت میں ہونے والے 2016 کے ورلڈ کپ ٹی 20 میں کولکتہ میچ سے پہلے ایک پریس کانفرنس کی اورایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ‘ہندوستان کے لوگوں سے ہمیں بہت پیار ملا ہے اور اتنا پیار تو ہمیں پاکستان میں بھی نہیں ملا جتنا یہاں ملا’۔ یہ ایک طرح کا سفارتی بیان تھا لیکن اس بیان پر انہیں پاکستان بھر میں شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا، ایسا نہیں کہ سب نے ان کی مخالفت کی ہو، لیکن سب سے زیادہ افسوس ناک تبصرہ پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ جاوید میانداد کا تھا جس میں انہوں نے شاہد آفریدی کے بیان کی مذمت کی تھی۔ انہوں ٹی وی شو میں بیٹھ کر شاہد آفریدی پر لعنت بھیجی۔ ان کا کہنا تھا کہ شاہد آفریدی کے بیان سے انہیں ‘صدمہ اور تکلیف’ پہنچی ہے۔ سابق پاکستانی کپتان اور موجودہ سیاستدان عمران خان نےایک بھارتی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ وہ جاوید میانداد کے بیان سے اتفاق نہیں کرتے۔ جاوید میانداد ایک کرکٹر رہے ہیں سیاست دان نہیں لہذا ان کو شاہد آفریدی اور کھلاڑیوں کی کارکردگی پر بولنا چاہیے تھا۔

 

جاوید میانداد کے شاہد آفریدی پر میچ فکسنگ کے الزام کے بعد شاہدآفریدی نے جاوید میانداد کےبیان پر وکلا سے مشاورت کےبعد قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔ آفریدی نے سوشل میڈیا پر پیغام دیا کہ ‘جاوید میانداد کے ذاتی حملے کافی عرصہ برداشت کئے لیکن ہرکسی کے برداشت کی ایک حد ہوتی ہے۔ آفریدی کا کہنا تھا کہ جو کچھ ہوا اس پر افسوس ہے لیکن میانداد کے رویے پر ان کا ردعمل فطری تھا’۔ کرکٹ کے سابق کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ شاہدآفریدی کو اپنی حیثیت بحال کرنے کےلیے لازمی عدالت میں جانا چاہیے۔ جاویدمیانداد اور شاہد آفریدی کے درمیان الفاظ کی جنگ کے دوران پی سی بی کے سابق چیئرمین جنرل توقیر ضیاء اور سابق کپتان وسیم اکرم نے دونوں کے درمیان مصحالت کرانے کی کوشش کی تھی۔ ان تمام حالات کے بعد جاوید میانداد کی طرف سے ایک بیان دیا گیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ ‘شاہدآفریدی میرےہاتھوں ہی پروان چڑھاہے، اس کے بیان نے میرادل بہت دکھایاہے، پھربھی بڑا ہونے کے ناطے میں نے شاہدآفریدی کو معاف کردیا ہے’۔

 

جاوید میانداد کے اس بیان کے بعد شاہدآفریدی کا ٹوئٹر پر کہنا تھا کہ ‘اپنے ملک کے لئے کھیلنا ان کے لئے اعزاز کی بات ہے وہ کبھی اپنے ملک کو نہیں بیچ سکتے۔ جاوید میانداد کے الزامات سے انہیں، ان کے گھر والوں اور پرستاروں کو تکلیف پہنچی ہے۔ ان کے دل میں جاویدمیانداد کی بہت عزت ہے، جاوید میانداد نے انہیں معاف کردیا ہے جس پر وہ ان کے شکر گزار ہیں، لیکن اگر انہوں نے اپنا الزام واپس نہ لیا تو وہ اپنی حیثیت بحال کرانے کے لیے عدالت جائیں گے’۔ آفریدی کی طرف سے الزامات واپس لینے کے مطالبے پر جاوید میانداد نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ابھی کسی معاملے پر تبصرہ کرنا نہیں چاہتا تاہم کسی سے ڈرنے والا نہیں اور اگر شاہد آفریدی کی جانب سے میچ فکسنگ الزامات پر نوٹس ملا تو اس کا ضرور جواب دوں گا۔ جبکہ ایک اخبار نے اپنی ویب سائٹ پر ایک سروے میں ایک سوال پوچھا تھا کہ ‘کیا میانداد کی جانب سے آفریدی پرلگایا جانے والا میچ فکسنگ کا الزام درست ہے؟’۔ اس سروئے میں جواب ‘ہاں’ یا ‘نہیں’ میں دینا تھا، جس کے جواب لوگوں کی ایک معقول تعداد نے دیے۔ رزلٹ کے مطابق 71 فیصد لوگوں نے شاہد آفریدی کی حمایت کی اور ‘نہیں’ میں جواب دیا جبکہ 29 فیصد کا جواب جاویدمیانداد کے حق میں ‘ہاں’ تھا۔

 

جاوید میانداد کے اس بیان کے بعد شاہدآفریدی کا ٹوئٹر پر کہنا تھا کہ ‘اپنے ملک کے لئے کھیلنا ان کے لئے اعزاز کی بات ہے وہ کبھی اپنے ملک کو نہیں بیچ سکتے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیرمین شہریار خان نے اس سال ہونے والے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی سے پہلے واضح طور پر کہا تھا کہ شاہد آفریدی کو ٹی ٹوئنٹی ٹیم کی قیادت صرف اس شرط پر سونپی گئی تھی کہ وہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے بعد بین الاقوامی کرکٹ کو خیرباد کہہ دیں گے۔ جبکہ شاہد آفریدی نے بھی اس سال بھارت میں ہونے والے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے بعد بین الاقوامی کرکٹ کو خیرباد کہنے کا اعلان کیا تھا لیکن بعد میں انھوں نے ایک بیان میں اپنی کرکٹ جاری رکھنے کی خواہش ظاہر کردی تھی۔ کرکٹ کے بعض مبصرین کا یہ کہنا ہے کہ شاہد آفریدی اپنی ریٹائرمنٹ کے بارے میں مسلسل بیانات تبدیل کرتے رہے ہیں جس کی وجہ سے پاکستان کرکٹ بورڈ ان سے خوش نہیں ہے۔ ستمبر 2016کے بیچ میں پاکستانی میڈیا کے حوالے سے شاہد آفریدی نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ بین الاقوامی کرکٹ کو الوداع کہنے کے لیے انھوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ سے خود کہا ہے جو بالکل غلط ہے۔

 

بقول شاہد آفریدی کہ ابھی ان کی کرکٹ ختم نہیں ہوئی ہے تو پاکستان کرکٹ بورڈ کو چاہیے کہ ان کےلیے کسی الوداعی تقریب کا انتظام نہ کرے، ہوسکتا ہے کہ اگلے چند ماہ کے بعد کرکٹ بورڈ کو ان کی ضرورت ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ شاید آفریدی ایک اچھا میچ کھیل کر ریٹائرمنٹ لینا چاہتے ہوں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کو بھی سوچنا چاہیے کہ شاہد آفریدی 98 بین الاقوامی ٹی ٹونٹی مقابلوں میں97 وکٹیں حاصل کرچکے ہیں اور انہیں ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میں وکٹوں کی سنچری مکمل کرنے والا پہلا بولر بننے کے لیے صرف تین وکٹیں درکار ہیں، اگر شاہد آفریدی کا یہ ریکارڈ بنتا ہے تو یہ پاکستان کا بھی ریکارڈ ہوگا۔ کم از کم اس ریکارڈ کو حاصل کرنے کے لیے ہی حال ہی میں متحدہ عرب امارات میں پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ہونے والی ٹی ٹوئنٹی سیریز میں شاہد آفریدی کو موقع دینا چاہیے تھا۔آخر میں دونوں مایہ ناز کھلاڑیوں جاوید میانداد اور شاہد آفریدی سے یہ درخواست ہے کہ اپنے آپس کے اختلافات کو ختم کریں، کیونکہ آپ دونوں جو اس وقت ایک دوسرے کے خلاف بیانات دے رہے ہیں، اس سے صرف اور صرف پاکستان کی بدنامی ہورہی ہے۔ لیکن اگر دونوں اپنے آپ کو صحیح سمجھتے ہیں تو عدالت کا رخ کریں اور میڈیا میں ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی نہ کریں۔
Categories
نقطۂ نظر

پی ایس ایل؛ پاکستان کرکٹ کا روشن مستقبل

2007 کا ایک روزہ کرکٹ ورلڈ کپ نہ صرف پاکستان کے لئے ایک ڈراؤنہ خواب ثابت ہوا بلکہ اسے ایک روزہ کرکٹ کی تاریخ کا سب سے بُرا ٹورنامنٹ تصور کیا جاتا ہے۔ ورلڈ کپ کے نویں میچ میں پاکستان کو آئرلینڈ کے ہاتھوں بد ترین شکست کا سامنا کرنا پڑا اور پاکستان ورلڈ کپ کے پانچویں دن ہی ورلڈ کپ سے باہر ہوگیا۔ پاکستانی ابھی تک اس صدمے سے باہر نہیں نکل پائے تھے کہ اگلے ہی دن پاکستان ٹیم کے کوچ باب وولمر کے مرنے کی خبر نے کرکٹ کی دنیا میں تہلکہ مچا دیا۔ ویسٹ انڈیز میں کھیلا گیا یہ ورلڈ کپ ہر لحاظ سے برا ثابت ہوا۔ گراؤنڈ میں تماشائی نہ ہونے کے برابر تھے اور 45 دنوں پر مبنی اس طویل ٹورنامنٹ کو وہ پذیرائی نہیں ملی جو اس سے پہلے کھیلے گئے ورلڈ کپ کو ملی تھی۔ ورلڈ کپ کا فائنل بھی امپائرز کی نا اہلی کی وجہ سے تنازعہ کا شکار ہوا اور آئی سی سی کے سربراہ (چیف ایکزیگٹیو) میلکم سپیڈ کو تمام شائقین سے معافی مانگنی پڑی۔ آئی سی سی کو اپنے اس غلطی کا ازالہ کرنے کے لئے کسی اچھے اقدام کی ضرورت تھی اور انہوں نے اسی سال ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کرانا کا فیصلہ کر دیا (گو اس سے ایک سال پہلے اس معاملہ پر کافی بحث ہوچکی تھی)۔

 

اگر اگلے سال بھی لیگ ملک سے باہر کھیلی جاتی ہے تو کم از کم ایک یا دو میچز خصوصاً فائنل کا انعقاد پاکستان میں ہونا چاہیئے
پہلے ورلڈ ٹی ٹوینٹی کپ کو بہت سے ممالک سنجیدگی سے نہیں لے رہے تھے جن میں آسٹریلیا، پاکستان اور انڈیا سرِ فہرست تھے۔ انڈیا نے تو پہلے اس ٹورنامنٹ میں شرکت کرنے سے انکار کر دیا لیکن اس وقت کے آئی سی سی صدر احسان مانی اور چیف ایکزیگٹیو میلکم سپیڈ کی کوششوں سے تمام ٹیمیں اس ٹورنامنٹ کو کھیلنے کے لئے راضی ہوئیں۔ ٹورنامنٹ کا آغاز کرس گیل کے دھماکے دار بیٹنگ سے ہوا جنہوں نے پہلے ہی میچ میں 10 چھکوں کی مدد سے ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل کی پہلی سینچری سکور کی اور ویسٹ انڈیز نے 20 اوورز میں 205 زنز بنائے۔ دوسری جانب جنوبی افریقہ کے ہرشل گبز نے جارحانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 55 گیندوں پر 90 رنز بنائے اور اپنی ٹیم کو فتح دلادی۔ ٹورنامنٹ کے پہلے ہی میچ سے ٹی ٹونٹی کے بارے میں لوگوں کے خیالات میں تبدیلی آئی اور ٹی ٹونٹی کو کرکٹ کا مستقبل قرار دیا جانے لگا۔ ٹورنامنٹ کے فائنل میں انڈیا اور پاکستان کا کانٹے دار مقابلہ ہوا اور بدقسمتی سے پاکستان کو 5 رنز سے ہارنا پڑا۔ اس ٹورنامنٹ سے آئی سی سی کو اپنی ساکھ بحال کرنے میں کافی مدد ملی اور اس ٹورنامنٹ کی کامیابی کو دورِ جدید کے کرکٹ کا انقلاب کہا جانے لگا جس کے بعد آئی پی ایل، بیگ بیش، کیریبیئن لیگ، چیمپیئنز لیگ اور باقی کرکٹ لیگوں کا آغاز ہوا۔

 

یوں تو پاکستان کرکٹ بورڈ نے بھی 2007 کے ورلڈ ٹی ٹونٹی ٹورنامنٹ کے بعد ہی ایک لیگ شروع کرنا کا فیصلہ کرلیا تھا لیکن بورڈ کی اقتصادی زبوں حالی اور ملکی حالات کی وجہ سے اس خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لئے پاکستان کو آٹھ سال انتظار کرنا پڑا۔ بالآخر 4 فروری 2016 کو پاکستان سوپر لیگ کا آغاز ہوا اور اسی مہینے کی 23 تاریخ کو دبئی کرکٹ سٹیڈیم میں پی ایس ایل کا شاندار فائنل کھیلا گیا۔ جس طرح 2007 کے پہلے ورلڈ ٹی ٹونٹی کی کامیابی کے بعد دنیائے کرکٹ میں بہت سی خوشگوار تبدیلیوں کا آغاز ہوا اسی طرح امید کی جارہی ہے کہ پی ایس ایل کی کامیابی سے پاکستان کرکٹ میں بھی اچھی خاصی تبدیلیاں آئیں گی۔ اس سال یہ لیگ ملک سے باہر کھیلی گئی لیکن امید کی جارہی ہے کہ جلد ہی پاکستان سوپر لیگ پاکستان میں کھیلی جائے گی لیکن اس کا دارومدار ملک میں امن و امان کی بحالی پر ہے۔ اگر اگلے سال بھی لیگ ملک سے باہر کھیلی جاتی ہے تو کم از کم ایک یا دو میچز خصوصاً فائنل کا انعقاد پاکستان میں ہونا چاہیئے تاکہ شائقین کو اپنے پسندیدہ کھلاڑیوں کو کھیلتے دیکھنے کا موقع مل سکے۔
اس لیگ کے انعقاد سے پہلے بھی اور لیگ کے دوران بھی بہت سے لوگ اس لیگ کا مقابلہ آئی پی ایل اور بگ بیش جیسی لیگوں سے کرنے لگے جو میرے خیال میں سراسر ناانصافی ہے جن کے وجوہات کا ذکر آگے چل کر آئے گا لیکن اس سے پہلے اس لیگ میں کھلاڑیوں اور ٹیموں کی کارکردگی پر کچھ باتیں ضروری ہیں۔

 

بہترین ٹیم

 

میرے خیال میں سب سے بہترین کھلاڑی کہلانے کے حقدار کوئٹہ ٹیم کے محمد نواز ہیں جنہوں نے بلے بازی اور گیند بازی دونوں شعبوں میں متاثر کن کارکردگی دکھائی اور ہمیشہ اپنی ٹیم کو مشکل حالات سے نکلنے میں مدد دی۔
لیگ میں سب سے زیادہ فتوحات کوئٹہ کے نام رہیں لیکن بہترین ٹیم کی حقدار اسلام آباد یونائٹیڈ کی ٹیم ہے کیونکہ انہوں نے نہ صرف لیگ کو اپنے نام کیا بلکہ صحیح وقت پر صحیح کھیل کا مظاہرہ کیا۔ مصباح الحق کی قیادت میں اسلام آباد نے آخری پانچ میچوں میں ناقابلِ شکست کارکردگی دکھائی اور پشاور اور کوئٹہ جیسے بہترین ٹیموں کو آسانی سے زیر کر لیا۔

 

بہترین میچ

 

لیگ کا بہترین میچ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور پشاور زلمی کے درمیان کھیلا گیا جس میں کوئٹہ کی ٹیم نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 133 رنز سکور کئے جو بظاہر بہت آسان ہدف تھا۔ وہاب ریاض نے بہترین باؤلنگ کرتے ہوئے تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ جواب میں پشاور کی ٹیم محمد نواز، ایلیٹ اور اعزاز چیمہ کی تباہ کن باؤلنگ کی وجہ سے صرف 132 رنز بنا سکی اور اس طرح کوئٹہ کی ٹیم نے یہ میچ صرف 1 رن سے جیت کر فائنل میں جگہ بنالی۔

 

بہترین لمحہ

 

پی ایس ایل میں جتنا جوش و جذبہ باؤنڈری لائن کے اندر دیکھنے کو ملتا تھا اتنا ہی باؤنڈری لائن کے باہر بھی دیکھنے کو ملا۔ کوئٹہ ٹیم کی بہترین کارکردگی کا سہرا سر ویوین رچرڈز کے سر جاتا ہے جنہوں نے کوئٹہ ٹیم کے ہر کھلاڑی کی جی جان سے رہنمائی کی اور ہر میچ کے جیتنے پر سب سے زیادہ خوشی کا اظہار کیا۔ کون سوچ سکتا تھا کہ ویسٹ انڈیز کو دو ورلڈ کپ جتوانے والا شخص اس طرح سے جونیئر کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کرے گا۔ میرے خیال میں پی ایس ایل کا سب سے بہترین لمحہ باؤنڈری کے اندر نہیں بلکہ باؤنڈری کے باہر کھیلا گیا تھا۔ فائنل میں جب کوئٹہ کی ٹیم کے جیتنے کے تمام مواقع ختم ہو چکے تھے تو کیون پیٹرسن نے اردو میں ٹویٹ کرتے ہوئے کوئٹہ ٹیم کے مداحوں سے معذرت کرتے ہوئے اپنے احساسات کا اظہار کیا اور اگلے سال بہتر کھیل دکھانے کا وعدہ کیا۔ کرکٹ کے ایک مداح کے طور پر اس سے بہتر لمحات شاید ہی کبھی دیکھنے کو ملے ہوں۔

 

بہترین کھلاڑی

 

اس لیگ میں بہتر کارکردگی دکھانے والوں میں زیادہ تر تجربہ کار کھلاڑی شامل تھے جنہیں بین الاقوامی کرکٹ کا اچھا خاصہ تجربہ حاصل تھا لیکن میرے خیال میں سب سے بہترین کھلاڑی کہلانے کے حقدار کوئٹہ ٹیم کے محمد نواز ہیں جنہوں نے بلے بازی اور گیند بازی دونوں شعبوں میں متاثر کن کارکردگی دکھائی اور ہمیشہ اپنی ٹیم کو مشکل حالات سے نکلنے میں مدد دی۔ پشاور زلمی کے خلاف پہلے پلے آف میں جب انہوں نے دو مسلسل گیندوں پر محمد حفیظ اور بریڈ ہوج کو بولڈ کیا تو 1992 کے ورلڈ کپ فائنل کے وہ لمحات یاد آئے جب وسیم اکرم نے ایلن لیمب اور کرس لیوس کو مسلسل دوگیندوں پر آوٹ کیا تھا۔ اس کارکردگی کی بنا پر محمد نواز کو اب ایشیا کپ اور ورلڈ ٹی ٹونٹی کپ کے لئے ٹیم کا حصہ بنادیا گیا ہے۔

 

پی ایس ایل اور دیگر لیگز کا موازنہ

 

پہلے ہی سال میں اس لیگ کے مستقبل کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے لیکن یہ کہنا بجا ہوگا کہ اپنے آغاز کے پہلے ہی سال اسے وہ کامیابیاں ملی ہیں جس کی شاید لوگ توقع نہیں کر رہے تھے۔
پاکستان سوپر لیگ کے لئے سب سے بڑا چیلنج یہ تھا کہ کیا یہ دیگر کرکٹ لیگز جیسے انڈین پریمیئر لیگ، بگ بیش لیگ، کیریبئین پریمیئر لیگ حتیٰ کہ بنگلہ دیش پریمئر لیگ سے مقابلہ کر پائے گی۔ اس موازنے کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہ پاکستان سوپر لیگ کا پہلا سال تھا جبکہ باقی لیگز کو کافی عرصہ ہوچکا ہے جیسا کہ آئی پی ایل کے آغاز کو آٹھ سال ہو چکے ہیں۔ اور ایک بات اور جو قابلِ غور ہے وہ یہ ہے کہ باقی لیگز ان کے اپنے ممالک میں کھیلی جاتی ہیں جبکہ پی ایس ایل پاکستان میں نہیں بلکہ متحدہ عرب امارات میں کھیلی گئی لیکن پھر بھی میدان میں شائقین کی تعداد قابلِ قدر تھی اور فائنل میں تو تمام ٹکٹ فروخت ہوئے حالانکہ فائنل چھٹی کے دن نہیں بلکہ ایک کاروباری دن کو کھیلا گیا تھا، اس امر سے لوگوں کی اس لیگ میں دلچسپی کا پتہ چل جاتا ہے۔ جہاں دبئی میں کافی لوگ اپنے پسندیدہ کھلاڑیوں کو دیکھنے گئے وہیں پاکستان میں بھی سب لوگ ٹی وی پر یا انٹرنیٹ کے ذریعے کرکٹ سے محظوظ ہوتے رہے۔

 

جتنا پیسہ آئی پی ایل اور بگ بیش جیسی لیگز کے پاس ہے اتنا پیسہ پی ایس ایل والوں کے پاس نہیں جس کی وجہ سے کھلاڑیوں کو اتنی مراعات اور معاوضے نہیں ملے جتنے آئی پی ایل اور بگ بیش میں ملتے ہیں لیکن پھر بھی غیر ملکی کھلاڑیوں کی شمولیت اور ان کی دلچسپی ایک بہت بڑی بات تھی۔ اس لیگ کی سب سے بڑی خوبی (جس کا ذکر ایک گزشتہ تحریر میں بھی کیا گیا) یہ تھی کہ کھلاڑیوں کا انتخاب باقی لیگوں کی طرح نیلامی سے نہیں ہوا بلکہ ڈرافٹ سے ہوا جس کے باعث تقریباً تمام ٹیمیں متوازن تھیں اور ہر ٹیم کو دو ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں کا بھی انتخاب کرنا تھا جس سے نئے ٹیلنٹ کو منظرِ عام پر آنے کا موقع ملا اور آئندہ بھی ملتا رہے گا جو نہایت خوش آئند ہے۔

 

پہلے ہی سال میں اس لیگ کے مستقبل کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے لیکن یہ کہنا بجا ہوگا کہ اپنے آغاز کے پہلے ہی سال اسے وہ کامیابیاں ملی ہیں جس کی شاید لوگ توقع نہیں کر رہے تھے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اگلے سال لیگ کی کارکردگی کیسی ہوگی اور کس قدر جلد اس لیگ کو پاکستان لایا جائے گا۔
Categories
نقطۂ نظر

نتیجہ کچھ بھی ہو، جیت پاکستان کی ہو گی

پہلی پاکستان سوپر لیگ نہایت کامیابی سے اپنے اختتامی مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ آج کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور اسلام آباد یونائٹڈ کے درمیان لیگ کا فائنل مقابلہ کھیلا جانے والا ہے۔ پی ایس ایل کے انعقاد سے نہ صرف پاکستانی کرکٹ کے بہت سے مثبت پہلو سامنے آئے ہیں بلکہ شائقین کو بھی اچھی کرکٹ دیکھنے کا موقع ملا ہے۔ کوئٹہ میں تو کافی عرصے بعد لوگ مسلک اور برادری سے بالاتر ہوکر کوئٹہ کی جیت کے لئے دعا گو ہیں اور سننے میں یہ آیا ہے کہ کوئٹہ کے بگٹی سٹیڈیم میں میچ کی سکریننگ کرنے کا انتظام بھی کیا گیا ہے جو کوئٹہ میں کرکٹ کے فروغ کے لئے سودمند ثابت ہو گا۔

 

کوئٹہ میں تو کافی عرصے بعد لوگ مسلک اور برادری سے بالاتر ہوکر کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی جیت کے لئے دعا گو ہیں
لیگ کے شروع ہونے سے پہلے کوئٹہ کی ٹیم کو ایک کمزور ٹیم قرار دیا جا رہا تھا لیکن ان کی بہترین کارکردگی اور پشاور کی ٹیم کے لیگ سے باہر ہونے کی وجہ سے فائنل کے لئے کوئٹہ کو ہی فیورٹ قرار دیا جا رہا ہے (پلے آفز تک گراؤنڈ میں سب سے زیادہ پشاور ٹیم کے مداح اور شائقین موجود ہوتے تھے)۔ لیکن اسلام آباد کی ٹیم بھی مسلسل چار میچ متاثرکن انداز میں جیت چکی ہے جس سے ان کے جیتنے کے امکانات بھی بڑھ گئے ہیں۔ ٹی ٹونٹی، محدود اوورز پر مشتمل فارمیٹ ہے اس لیے ایک روزہ مقابلوں اور ٹیسٹ میچز کی نسبت اس میں کھیل کا پانسہ چند گندوں میں بھی پلٹ سکتا ہے، ایک اچھا اوور لمحوں میں میچ کا رخ پلٹ سکتا ہے اسی لئے دونوں ٹیموں کو جیتنے کے لئے میچ کی دونوں اننگز کے پورے چالیس اوورز میں جارحانہ کھیل کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ میری تمام تر ہمدردیاں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی ٹیم کے ساتھ ہیں لیکن مصباح الحق کا مداح ہوتے ہوئے میرے دل میں اسلام آباد یونائٹیڈ کے لئے بھی نیک خواہشات ہیں۔ دونوں ٹیموں کی کارکردگی اور کھلاڑیوں کو نظر میں رکھتے ہوئے یہاں دونوں ٹیموں کا موازنہ کیا جارہا ہے:

 

مصباح الحق بمقابلہ سرفراز

 

ٹی ٹونٹی کی مقبولیت کی جب بھی بات آئے گی تو پہلے ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کے فائنل کو ہمیشہ یاد کیا جائے گا اور مصباح کا نام بھی یاد رکھا جائے گا۔ ان کی آخری شاٹ دنیائے کرکٹ کے جدید دور کا سب سے معنی خیز لمحہ (مگر پاکسانیوں کے لئے ایک ڈراؤنے خواب کی طرح) ثابت ہوا اور آئی پی ایل کے آغاز کا سبب بنا۔ گو مصباح ایک بہترین کپتان ہوتے ہوئے بھی پاکستان کو ایک روزہ ورلڈ کپ نہیں دلا سکے ہیں لیکن انہوں نے پاکستان ٹیم کی قیادت اس وقت کی جب ٹیم چاروں طرف سے مشکلات کا شکار تھی اور انہوں نے یہ کام بخوبی انجام دیا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا وہ اپنی ٹیم کو ٹائٹل دلانے میں کامیاب ہو پاتے ہیں یا نہیں۔

 

پچھلے ایک روزہ ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم کے جن دو کھلاڑیوں کو سب سے زیادہ سراہا گیا ان میں ایک سرفراز احمد تھے (دوسرا کھلاڑی وہاب ریاض تھا)۔ آج کے دور میں سب سے خوبصورت سویپ شاٹ کھیلنا بھی سرفراز کے کھیل کا حصہ ہے۔ ان کی قیادت کے بارے میں کیون پیٹرسن کہتے ہیں کہ وہ بہت ہی اچھے کپتان ہیں جو دوسری ٹیم کے دیے گئے مواقع اور غلطیوں سے استفادہ کرنا جانتے ہیں اور پوری ٹیم کو ساتھ لے کر چلتے ہیں۔ سرفراز اس وقت قومی ٹیم کے نائب کپتان ہیں اور مستقبل میں ایک اچھے کپتان ثابت ہوسکتے ہیں۔ یہ فائنل ایک سابق کپتان اور ایک مستقبل کے کپتان کا مقابلہ ہے۔

 

وسیم اکرم اور ڈین جونز بمقابلہ ویوین رچرڈز اور معین خان

 

سرفراز اس وقت قومی ٹیم کے نائب کپتان ہیں اور مستقبل میں ایک اچھے کپتان ثابت ہوسکتے ہیں۔ یہ فائنل ایک سابق کپتان اور ایک مستقبل کے کپتان کا مقابلہ ہے۔
وسیم اکرم کو ان کی بہترین باؤلنگ کی وجہ سے سوئنگ کا سلطان بھی کہا جاتا ہے۔ انہوں نے نہ صرف اپنے دور میں دوسرے گیند بازوں کی رہنمائی کی ہے بلکہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی پاکستانی اور غیر ملکی گیند بازوں کو گر سکھانے میں پیش پیش رہتے ہیں۔ محمد سمیع، محمد عرفان اور آندرے رسل جیسے باؤلر ان کی زیر نگرانی حریف بلے بازوں کو مشکلات سے دوچار کرسکتے ہیں۔ ڈین جونز نے ایک روزہ کرکٹ میں تیز رفتار بلے بازی اور تیزی سے رنز کرنے کی روایت ڈالی۔ بطورِ بلے باز انہوں نے ہمیشہ دباو میں ٹیم کے لئے کارکردگی کا مظاہرہ کیا، جس کی مثال مدراس(موجودہ چِنائی) میں بھارت کے خلاف ان کی ڈبل سینچری ہے جس میں وہ ڈی ہائڈریشن کا شکار ہوتے ہوئے بھی اعلٰی کارکردگی دکھانے میں کامیاب ہوئے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ اسلام آباد کے بلے بازوں کی بیٹنگ پر کتنے اثرانداز ہوتے ہیں۔

 

سر ویوین رچرڈز کی تعریف کے لئے اتنا کہنا ہی کافی ہے کہ وِزڈن (کرکٹ کی بائبل) نے انہیں گزشتہ صدی کے پانچ عظیم ترین کرکٹرز میں شامل کیا تھا۔ ویوین نے پہلے کرکٹ ورلڈ کپ کے فائنل میں تین کھلاڑیوں کو رن آؤٹ کرکے ورلڈ کپ ویسٹ انڈیز کے نام کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور دوسرے ورلڈ کپ کے فائنل میں سینچری سکور کرکے ویسٹ انڈیز کی جیت کو یقینی بنایا۔ سر ویوین رچرڈز کی موجودگی نے کوئٹہ کے کھلاڑیوں کے حوصلے بلند کئے ہیں اور جس طرح ہر جیت کے بعد وہ خوشی مناتے ہیں ایسا لگتا ہے وہ کوئٹہ کی ٹیم کو جتا کر ہی رہیں گے۔ دوسری جانب معین خان بھی ایک اچھے کوچ کی حیثیت سے سامنے آئے ہیں۔ دنیا میں اگر سرفراز سے بہتر کوئی سویپ شاٹ کھیل سکتا تھا تو وہ معین خان تھے اور اس لحاظ سے انہوں نے نئے بلے بازوں کی کافی مدد کی ہے۔

 

شرجیل خان بمقابلہ احمد شہزاد

 

شرجیل تادم تحریر پی ایس ایل میں سینچری بنانے والے واحد بلے باز ہیں جنہوں نے اپنی جارحانہ بیٹنگ سے پشاور کی ٹیم کو اکیلے ہی لیگ سے باہر کر دیا۔ انہوں نے پچھلے میچ میں ٹیم کے مجموعی سکور کا تقریباً 70 فیصد اکیلے ہی سکور کیا۔ اب تک لیگ میں سب سے زیادہ چھکے بھی انہوں نے ہی لگائے ہیں۔ اگر وہ فائنل میں پچاس تک سکور بنا لیتے ہیں تو وہ لیگ میں مجموعی طور پر سب سے زیادہ سکور کرنے والے کھلاڑی بن جائیں گے۔ دوسری جانب احمد شہزاد پچھلے کچھ عرصے سے فارم میں نظر نہیں آرہے ہیں لیکن سر ویوین رچرڈز کے باعث اس کا اعتماد دوبارہ بحال ہوا ہے۔ جس رفتار سے وہ بیٹنگ کرتے ہیں اگر وہ پانچ، چھ اوورز تک کریز پر موجود رہے تو کوئٹہ کی ٹیم ایک بڑا سکور کرنے یا ایک بڑے ہدف کے تعاقب میں کامیاب ہو سکتی ہے۔

 

سنگاکارا اور پیٹرسن بمقابلہ ہیڈن اور سمتھ

 

شرجیل تادم تحریر پی ایس ایل میں سینچری بنانے والے واحد بلے باز ہیں جنہوں نے اپنی جارحانہ بیٹنگ سے پشاور کی ٹیم کو اکیلے ہی لیگ سے باہر کر دیا۔
سنگاکارا اور پیٹرسن کی موجودگی سے کوئٹہ کا پلڑا بھاری نظر آرہا ہے لیکن ہیڈین اور سمتھ کی بلے بازی کے اندازِ کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ مجھے لگتا ہے کہ فائنل میں کوئٹہ ٹیم کے جیتنے کا دارومدار سنگاکارا اور پیٹرسن کی بیٹنگ پر ہے۔

 

آندرے رسل اور عمران خالد بمقابلہ گرنٹ ایلیٹ اور محمد نواز

 

محمد نواز نے پی ایس ایل کے پہلے ہی میچ میں مین آف دی میچ جیت کر اپنے موجودگی کا احساس دلا دیا تھا۔ ایلیٹ نے ذوالفقار بابر کی مدد سے ٹی ٹونٹی کی تاریخ میں دسویں وکٹ کی شراکت میں سب سے زیادہ سکور بنائے ہیں۔ سرفراز نے ان دونوں کا بطورِ باؤلر اچھا استعمال کیا ہے اور بیٹنگ میں بھی دونوں فائدہ مند ثابت ہوئے ہیں۔ دوسری جانب عمران خالد اور آندرے رسل بھی جمے ہوئے بلے بازوں کی شراکت توڑنے میں کامیاب ہوئے ہیں اور ضرورت پڑنے پر آندرے رسل ایک اچھے بلے باز بھی ثابت ہوسکتے ہیں۔

 

ذوالفقار بابر بمقابلہ سعید اجمل
سعید اجمل اور ذوالفقار بابر دونوں ہی نہایت تجربہ کار کرکٹرز ہیں اور دونوں نے ہمیشہ مل کر پاکستان کو ٹیسٹ میچز جتائے ہیں لیکن آج وہ ایک دوسرے کے مد مقابل ہوں گے۔ باولنگ ایکشن رپورٹ ہونے اور فارم میں نہ ہونے کی وجہ سے سعید اجمل کو پچھلے چند ماہ کرکٹ سے دور رہنا پڑا، پی ایس ایل کے بھی گزشتہ چند میچوں میں نہیں کھلایا گیا ہے لیکن عین ممکن ہے کہ انہیں فائنل میں جگہ مل جائے اور وہ اپنی ٹیم کو جتانے میں کامیاب ہوجائیں لیکن ذوالفقار بابر کی موجودگی بھی اسلام آباد کی ٹیم کے لئے مشکلات پیدا کرسکتی ہے۔

 

محمد سمیع اور محمد عرفان بماابلہ انور علی اور عمر گل

 

میرے نزدیک کوئٹہ کی ٹیم یہ فائنل جیتنے کے لیے زیادہ بہتر امیدوار ہے لیکن ایک بات طے ہے کہ میچ کے نتیجے سے قطع نظر اس فائنل میں جیت صرف پاکستان اور پاکستان کرکٹ کی ہو گی۔
جن لوگوں نے پاکستان کو ٹی ٹونٹٰی ورلڈ کپ جیتتے ہوئے دیکھا ہے انہیں عمر گل کی شاندار باؤلنگ کا پتہ ہوگا۔ عمر گل ایک اوور میں چھ یارکر کرنے والا شاید دنیا کا واحد باؤلر ہو۔ عمر گل کو پچھلے کچھ میچوں میں نہیں کھلایا گیا ہے مگر میری خواہش ہے کہ اسے فائنل میں موقع دیا جائے تاکہ وہ کوئٹہ کو ٹائٹل جتوانے میں کامیاب ہوجائے۔ انور علی نے بھی شاندار باؤلنگ کی ہے اور حریف ٹیموں کے افتتاحی بلے بازوں کو پریشان کئے رکھاہے۔ دوسری جانب محمد عرفان نے اپنے لمبے قد اور پچ کے باؤنس کا بھر پور فائدہ اٹھاتے ہوئے دوسری ٹیموں کے بلے بازوں کو پریشان کیا ہے۔ اور ساتھ ہی محمد سمیع نے جوکہ کافی عرصے بعد منظرِ عام پرآئے ہیں، اچھی باؤلنگ کی ہے اور کراچی کے خلاف پانچ کھلاڑی پویلین بھیج کر اپنے انتخاب کا حق ادا کیا ہے۔

 

ٹیم بمقابلہ افراد

 

پشاور اور اسلام آباد کے میچ کے دوران ٹینس کے مشہور پاکستانی کھلاڑی اعصام الحق نے ٹینس اور کرکٹ کے فرق کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ ٹینس میں صرف ایک فرد کی کامیابی ہی لازمی ہوتی ہے جبکہ کرکٹ میں فتح کے لئے پوری ٹیم کو متحد ہوکر کارکردگی کا مظاہرہ کرنا پڑتا ہے۔ پی ایس ایل کے فائنل کا فیصلہ بھی اسی بنیاد پر ہوگا۔ انفرادی طور پر اسلام آباد کے کھلاڑی کوئٹہ کے کھلاڑیوں سے بہتر ہے لیکن کوئٹہ کی ٹیم نے بطورِ ٹیم کھیلنے کی کوشش کی ہے اور اسی وجہ سے کامیاب ہوئے ہیں۔ اسلام آباد کے کھلاڑی زیادہ چھکے مارنے، زیادہ سکور کرنے، بہترین باؤلنگ فیگرز میں پیش پیش ہیں لیکن سب سے کم مارجن سے جیتنے اور مجموعی طور پر سب سے زیادہ سکور کرنے والی ٹیم کوئٹہ کی ہے۔ آج کے فائنل میں پتہ چل جائے گا کہ ٹیم جیتے گی یا انفرادی کارکردگی۔ دونوں صورتوں میں ایک دلچسپ مقابلہ دیکھنے کو ملے گا۔ میرے نزدیک کوئٹہ کی ٹیم یہ فائنل جیتنے کے لیے زیادہ بہتر امیدوار ہے لیکن ایک بات طے ہے کہ میچ کے نتیجے سے قطع نظر اس فائنل میں جیت صرف پاکستان اور پاکستان کرکٹ کی ہو گی۔
Categories
نقطۂ نظر

شاہد آفریدی کی بلے بازی کی فرضی روداد

[blockquote style=”3″]

یہ فکاہیہ مضمون اس سے قبل ثاقب ملک کے اپنے بلاگ پر بھی شائع ہو چکا ہے، مصنف کی اجازت سے اسے لالٹین کے قارئین کے لیے شائع کیا جا رہا ہے۔ اس تحریر کا مقصد محض تفریح طبع کا سامان کرنا ہے، کسی بھی فرد کی دل آزاری یا تضحیک قطعاً مقصقد نہیں۔

[/blockquote]

زید حامد، جاوید چوہدری اور حسن نثار کے فرضی کالم پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

youth-yell

آفریدی، احمد شہزاد کو بلا کر کہتے ہیں کہ یار، ذرا میری جرابیں لاؤ، میں دو جوڑے پہن کر بیٹنگ کروں گا۔ احمد شہزاد فوراً بھاگ کر ان کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں۔ شاہد آفریدی صلے کے طور پر احمد شہزاد کے ساتھ ایک سیلفی لیتے ہیں۔
شاہد آفریدی ڈریسنگ روم میں بیٹھے اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے۔ ان کی ٹانگیں تیز تیز ہل رہی تھیں۔ آفریدی، احمد شہزاد کو بلا کر کہتے ہیں کہ یار، ذرا میری جرابیں لاؤ، میں دو جوڑے پہن کر بیٹنگ کروں گا۔ احمد شہزاد فوراً بھاگ کر ان کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں۔ شاہد آفریدی صلے کے طور پر احمد شہزاد کے ساتھ ایک سیلفی لیتے ہیں۔ کریز پر حفیظ اور عمر اکمل بیٹنگ کر رہے ہیں کہ تماشائیوں میں سے کوئی ڈیل سٹین کا نام لیتا ہے اور حفیظ فوراً آوٹ ہو جاتے ہیں۔ اب آفریدی کی باری ہے۔ ڈریسنگ روم میں ایک سنسنی سی دوڑ جاتی ہے۔ آفریدی جلدی سے اپنے سر سے دماغ اتار کر ہیلمٹ پہن لیتے ہیں۔ وہ جب باہر نکلنے لگتے ہیں تو کوچ وقار یونس انہیں کہتے ہیں “ٹیک یور ٹائم”۔ آفریدی اثبات میں سر ہلا کر کہتے ہیں: “وقار بھائی آپ فکر ہی نہ کریں”۔ مصباح الحق اپنی بھاری بھر کم آواز میں آفریدی کو سمجھاتے ہیں کہ ابھی بہت اوورز پڑے ہیں آرام سے کھیلنا۔ اس طرح فرداً فرداً تقریباً ہر اہم کھلاڑی، ٹیم مینجر اور ٹیم کا فزیو تھراپسٹ بھی آفریدی کو اپنے مشوروں سے نوازتا ہے۔ آفریدی سب کے مشورے سن کر ان پر عمل درآمد کے عزم کا اظہار کرتے ہیں۔ آفریدی فیلڈ کی جانب بڑھتے ہیں، پیچھے سے دبی دبی آواز میں ڈریسنگ روم سے کوئی بولتا ہے: “وی سال ہو گئے نے سمجھا سمجھا کے، اینوں عقل نئیں آئی” (بیس سال ہو گئے سمجھاتے ہوئے لیکن اسے عقل نہیں آئی)۔

 

آفریدی رسی عبور کر کے گراؤنڈ میں قدم رکھتے ہیں تو ان کے ذہن میں کوچ اور کپتان، اور ان کا اپنا بیٹنگ پلان گھوم رہا ہوتا ہے۔ وہ کچھ بولرز کواحتیاط سے کھیلنے کی منصوبہ بندی کرتے ہیں، اننگز کے آغاز میں پل شاٹ نہ کھیلنے کا تہیہ کرتے ہیں، پہلی پندرہ بیس گیندیں سنگل ڈبل کرنے کا سوچتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ لیکن جیسے ہی آفریدی گراؤنڈ میں قدم رکھتے ہیں، اسٹیدیم، “بوم بوم” اور “لالہ لالہ” کے نعروں سے گونج اٹھتا ہے۔ ہر کوئی آفریدی کو چھکا مارنے پر اکسا رہا ہوتا ہے۔ کوئی تماشائی کہتا ہے “لالہ اگر پٹھان کا خون ہے تو پہلی بال پر چھکا مارنا ہے”۔ کوئی اور منچلا چلاتا ہے، “بوم بوم بھائی، میں نے اپنے محلے میں شرط لگائی ہے کہ شاہد بھائی پہلی گیند پر ہی چھکا ماریں گے”، ایک نسوانی آواز آتی ہے، “شاہد بھائی آج آپ نے ہی جتانا ہے، عزت کا سوال ہے”۔ آفریدی دل میں کہتے ہیں میں تمہاری ناک نہیں کٹنے دوں گا (چاہے، پاکستان کی ناک کٹ جائے )۔۔۔۔۔ اور تمام منصوبہ بندیاں، تمام نصیحتیں آفریدی کریز پر پہنچنے سے پہلے ہی بھول چکے ہوتے ہیں۔

 

کریز پر دوبارہ جاتے ہیں اور اگلی بال پر آوٹ ہو جاتے ہیں۔ آوٹ ہونے پر ان کی مایوسی اتنی زیادہ ہوتی ہے جیسے فرشتوں نے ایک سازش کے ذریعے ان کی قسمت میں ردوبدل کر کے انہیں آوٹ کروایا ہے۔
آفریدی کریز پر آتے ہیں تو عمر اکمل ان کے منہ کے اوپر گھس کر کہتا ہے، “شاہد بھائی، یہ باؤلر آپ کو گالی دے رہے تھا، اسے نہیں چھوڑنا”۔ آفریدی کا خون اور کھولنے لگتا ہے۔ سٹرائیک پر عمر اکمل ہوتے ہیں۔ عمر ایک چوکا لگاتے ہیں، سینہ مزید چوڑا کرتے ہیں، آفریدی کے اوپر چڑھ کر گلوز پر گلوز مارتے ہیں، پورے گراؤنڈ میں چاروں طرف فخریہ انداز میں دیکھتے ہیں، جیسے ایک گیند پر ایک ہزار رنز بنا لیے ہوں۔ کریز پر دوبارہ جاتے ہیں اور اگلی بال پر آوٹ ہو جاتے ہیں۔ آوٹ ہونے پر ان کی مایوسی اتنی زیادہ ہوتی ہے جیسے فرشتوں نے ایک سازش کے ذریعے ان کی قسمت میں ردوبدل کر کے انہیں آوٹ کروایا ہے۔ اگلے بلے باز شعیب ملک ہیں۔ ملک آفریدی کے قریب آتے ہیں تو آفریدی انہیں سمجھداری سے بلے بازی کا مشورہ دیتے ہیں (ملک دل ہی دل میں اس ستم ظریفانہ مشورے پر ہنستے ہیں)۔ ملک اپنی دوسری گیند پر خوب صورت چوکا لگاتے ہیں تو آفریدی انہیں کہتے ہیں، “ملک ہیلمٹ اتار”۔ شعیب ملک سوال کرتے ہیں، “کیوں لالہ کیا ہوا ہے؟” آفریدی جواب دیتے ہیں “اتنا پیارا چوکا مارا ہے میں تجھے شاباش دوں گا”۔ ملک ہنستے ہوئے کہتے ہیں، “لالہ جی ایسی باتیں آپ اپنے اشتہارات میں ہی کیا کریں۔” اگلی گیند پر شعیب ملک ایک اور چوکا لگاتے ہیں، آفریدی اس کی پیٹھ تھپتھپاتے ہیں اور شاباش دیتے ہیں۔ ملک کہتا ہے،”شاہد بھائی اتنا پیار تو کبھی ثانیہ نے بھی مجھے نہیں کیا جتنا آج آپ کو مجھ پر آ رہا ہے۔” آفریدی کہتا ہے “ملک میں تیرا بڑا بھائی ہوں، ثانیہ کون سی تیرا بڑا بھائی ہے؟” ملک فورا جواب دیتے ہیں، “لیکن لالہ وہ ڈانٹتی تو بڑے بھائی کی طرح ہی ہے”۔ آفریدی جواب میں ہنس کر کہتے ہیں اس کی بات مانا کر وہ دنیا میں ہر جگہ پرفارم کرتی ہے اور تو صرف ایشیا میں چلتا ہے۔” اس پر ملک آفریدی کو ایک گھوری دیتے ہیں۔

 

اب آفریدی سٹرائیک پر آتے ہیں۔ سٹیڈیم میں موجود تمام تماشائی اور ٹیلی ویژن کے سامنے بیٹھے لاکھوں ناظرین متوجہ ہو جاتے۔ توقعات اور خدشات ذہن پر ہتھوڑے کی طرح برسنے لگتے ہیں۔ گیند باز عرفان پٹھان ہیں۔ وہ آفریدی کو ایک باؤنسر کراتے ہیں جو آفریدی کے بلے پر نہیں آتا۔ آفریدی گیند چھوٹ جانے پر دو چار گالیاں اپنے آپ کو اور درجن بھر باولر کو دیتے ہیں۔ عرفان پٹھان کہتے ہیں “لالہ تیری بیٹنگ ختم ہو گئی ہے اب تمہاری کارکردگی پہلے جیسی نہیں ہے”۔ آفریدی جواب دیتے ہیں، “مجھے تم سے ایسی ہی گھٹیا بات کی توقع تھی”۔ عرفان دوبارہ اپنے رن اپ کی جانب چل پڑتے ہیں۔

 

کیچ ہو جاتا ہے اور آفریدی، ہزاروں لاکھوں لوگوں کے خدشات کے عین مطابق ہزارویں لاکھویں مرتبہ ایک ہی انداز میں آوٹ ہو کر چل پڑتے ہیں۔ وہ تماشائی جو آفریدی کو پہلی ہی گیند پر باؤلر کو اڑا دینے اور چھکے لگانے کی ترغیب دے رہے تھے اب مایوسی کے عالم میں کہہ رہے ہوتے ہیں کہ اس آفریدی کو بیس سال ہو گئے ہیں بیٹنگ کرنا نہیں آئی۔.
اگلی گیند آفریدی کے منہ کے سامنے پڑتی ہے۔ آفریدی اسے اٹھا کر باونڈری سے باہر تماشائیوں میں پھینک دیتے ہیں۔ آفریدی کودتے پھاندتے شعیب ملک کے پاس جاتے ہیں اور اسے تیز تیز بول کر کچھ سمجھانے لگ جاتے ہیں۔ ملک ساری بات سنتے ہیں اور دل میں کہتے ہیں،” جسے بیس سال میں کبھی کسی کی سمجھ نہیں آئی وہ بھی مجھے سمجھانے پر تُلا ہوا ہے”۔ آفریدی اب اگلی گیند کھیلنے کے لیے تیار ہوتے ہیں۔ اب لاکھوں تماشائی، ڈریسنگ روم میں موجود کھلاڑی، کپتان اور کوچز اسی خدشے کا شکار ہوتے ہیں کہ اب آفریدی کہیں گیند آسمان پر نہ چڑھا دے۔ عرفان پٹھان کو بھی خوب معلوم ہوتا ہے کہ اب آفریدی ایک اور چھکے کی کوشش کرے گا۔ عرفان پٹھان ایک نسبتاً آہستہ گیند کراتے ہیں آفریدی کا سر آسمان کی جانب ہوتا ہے اور وہ اپنی پوری توانائی سے بلا گھما دیتے ہیں۔ گیند آسمانوں کی بلندیوں پر چڑھ جاتی ہے اس دوران آفریدی پہلے سے ہی اپنی قسمت بھانپ کر ڈریسنگ روم میں واپسی کے لیے قدم بڑھا دیتے ہیں۔ کیچ ہو جاتا ہے اور آفریدی، ہزاروں لاکھوں لوگوں کے خدشات کے عین مطابق ہزارویں لاکھویں مرتبہ ایک ہی انداز میں آوٹ ہو کر چل پڑتے ہیں۔ وہ تماشائی جو آفریدی کو پہلی ہی گیند پر باؤلر کو اڑا دینے اور چھکے لگانے کی ترغیب دے رہے تھے اب مایوسی کے عالم میں کہہ رہے ہوتے ہیں کہ اس آفریدی کو بیس سال ہو گئے ہیں بیٹنگ کرنا نہیں آئی۔

 

آوٹ ہو جانے کے بعد شاہد آفریدی کا پسندیدہ مشغلہ
آوٹ ہو جانے کے بعد شاہد آفریدی کا پسندیدہ مشغلہ
آفریدی، ڈریسنگ روم میں جا کر بیٹھتے ہیں۔ احمد شہزاد بھاگ کر ان کے لیے پانی لاتے ہیں۔ آفریدی پانی کا گلاس ہاتھ میں پکڑتے ہیں۔ سامنے ٹی وی پر محمد یوسف اور شعیب اختر براہ راست تبصرہ کرتے نظر آتے ہیں، اور آفریدی کے آوٹ ہونے اور اس کے آوٹ ہونے کے انداز پر تبصرہ کر رہے ہوتے ہیں۔ آفریدی کے کان میں دو جملے پڑتے ہیں، یوسف کہہ رہے ہوتے ہیں “یہ تو ہے ہی ٹلہ” اور شعیب کہہ رہے ہوتے ہیں “اس کا دماغ جو ماشاللہ ہے، کوپتان۔۔۔۔۔” آفریدی غصے سے کہتے ہیں بند کرو یہ یاجوج ماجوج کے تبصرے۔۔۔۔۔ اتنے میں خشکی ختم کرنے کے مشہور برانڈ کا اشتہار چل پڑتا ہے جس میں آفریدی اپنے بالوں میں انگلیاں پھیرتے دکھائی دیتے ہیں ۔۔۔۔ اور اس کے بعد ایک چیونگم کا جس میں وہ فن کو پھلاتے نظر آتے ہیں ۔۔۔۔اور پھر ایک ہاوسنگ سوسائٹی کا اور پھر ایک ہاضمے دار چورن کا اور پھر ایک کولا مشروب کا۔۔۔۔۔۔اور آفریدی اپنا غصہ کم کرنے کو گیند چبانا شروع کر دیتے ہیں۔

Image: Khaliq Khan

Categories
نقطۂ نظر

جرم ناتمام

آج کل پاکستان میں جہاں بلدیاتی انتخابات کا شوروغوغا ہے وہیں دنیائے کرکٹ میں محمد عامر کو قومی ٹیم میں شامل کرنے یا نہ کرنے پر بحث جاری ہے۔ سابق کھلاڑی اور ماہرین طرح طرح کی آراء کا اظہار کر رہے ہیں کچھ کا خیال ہے کہ محمد عامر نے اپنے کیے کی سزا بھگت لی ہے تو اسے اپنی اہلیت اور کارکردگی کی بنیاد پر قومی ٹیم کی نمائندگی کرنے کا پورا پورا حق ہے جبکہ دوسری طرف کچھ سابق کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ محمد عامر نے ملک و قوم کو بدنام کیا ہے تو اسے ملک کی نمائندگی کا کوئی حق نہیں ہے۔ اسی طرح کسی کا کہنا ہے کہ قومی ٹیم میں محمد عامر کی شمولیت سے ایماندار کھلاڑیوں سے زیادتی ہوگی، تو کوئی کہہ رہا ہے کہ محمد عامر اور اس کے ساتھ ملوث دوسرے کھلاڑیوں سلمان بٹ اور محمد آصف کو عبرت کا نشانہ بنانا چاہیے اور ان پر تا حیات کھیلوں میں حصہ لینے پر پابندی لگائی جانی چاہیئے۔ کچھ ماہرین اس سلسلے میں یہ منطق بھی دیتے ہیں کہ ہمارے ملک کرکٹ کا اتنا ٹیلنٹ موجود ہے تو ان سزا یافتہ کھلاڑیوں کو دوبارہ ٹیم میں شامل کرنے کا کیا جواز؟ اور بعض کا خیال ہے کہ اس سے قومی ٹیم کے دوسرے کھلاڑیوں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ بعض لوگوں کے خیال میں محمد عامر کے علاوہ ملک میں اس قدر ٹیلنٹ موجود ہے اور ان نئے کھلاڑیوں کو کھلایا جانا زیادہ ضروری ہے۔

 

کوئی سمجھائے کہ محمد عامر تو 5 سال سے کرکٹ سے باہر ہے پھر ان ایماندار اور باصلاحیت کھلاڑیوں نے اس کی جگہ کیوں نہیں لی؟ اگر اتنا ٹیلنٹ ہے تو کیوں 5 سال بعد بھی ہم محمد عامر اور محمد آصف کا متبادل نہیں ڈھونڈ پائے؟
خیر ان سب باتوں کو چھوڑ کر پہلے تو میں اس بات پر پریشان کن حد تک ششدر و حیران ہوں کہ ہمارے ملک میں کرکٹ کے جس بے پناہ ٹیلنٹ کا غلغلہ ہے وہ کہاں ہے؟ یہ نہ کبھی ہمیں قومی ٹیم میں نظر آیا نہ ہی کہیں ڈومیسٹک سطح پر۔ ٹی وی پر دکھائے جانے والوں میچوں میں وہی پرانے عمر رسیدہ کھلاڑی ہی کھیلتے دکھائی دیتے ہیں، ٹیلنٹ ہے تو رفعت اللہ مہمند کو 40 سال کی عمر میں کھلایا جاتا؟ حالیہ برسوں میں جتنے کھلاڑیوں کا مواقع ملے ان میں سے کون بین الاقوامی سطح پر اپنا نام بنا پایا؟ یا کون تکنیکی لحاظ سے اس قدر اچھا تھا کہ ہم اسے بلند پائے کا بلے باز کہہ سکیں؟ اگر ٹیلنٹ ہے تو آج تک انضمام الحق، محمد یوسف، وسیم اکرم، وقاریونس، عبدالرازق، شعیب اختر، سعید انور، عامرسہیل کے متبادل میسر نہیں آ سکے؟ کیوں آج تک ہمیں مستقل افتتاحی بلے باز نہیں مل سکے؟ کیوں ہماری ٹیم میں کسی بلے باز کی جگہ مستقل نہیں ہے۔ کیوں ٹیلنٹ کے نام پر عمر اکمل جیسا ‘بلے باز’ گزشتہ 7 سال سے قومی ٹیم کے ہمراہ ہے جس کی ٹیسٹ اور ایک روزہ میچوں میں اوسط محض 35 اور 34 ہے اور ہم نے اسے 111 ایک روزہ میچ کھلا دئیے۔ کیوں ہم آل روانڈرکے نام پر سہیل تنویر کے نازو نعم اٹھا رہے ہیں جس کی بیٹنگ اوسط ناقابل ذکر اور اور باؤلنگ اوسط بھی 63 اور36 کے قریب ہے اور صاحب کا اکانومی ریٹ بھی کوئی خاص متاثر کن نہیں۔ جونیئرز اور نئے آنے والوں کا تو حال ہی کیا ہمارے سنیئر بلے باز محمد حفیظ 173 ایک روزہ میچز کھیل چکے ہیں اور ان کی بیٹنگ اوسط محض 32 ہے جبکہ 73 ٹیسٹ میچوں میں موصوف کی اوسط 40 ہے۔

 

ایک وقت تھا کہ پاکستان کا تیز گیند بازی میں نام تھا، اس ملک نے عالمی معیار کے کئی تیز گیند باز دنیائے کرکٹ کو دیئے مگر اب موجودہ ٹیم میں سوائے وہاب ریاض کے کوئی اس قابل نہیں کہ وہ تسلسل سے 135 کلومیڑ فی گھنٹہ کی رفتار سے بھی گیند بازی کر سکے۔ صورتحال اس قدر بدتر ہے کہ گزشتہ سال پاکستان کرکٹ بورڈ نے تیز گیند باز ڈھونڈنے کا پروگرام شروع کیا اور پورے ملک سے 15 بولر چنے مگر بد قسمتی سے ایک بھی گیند باز 135 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند بازی نہیں کر سکتا تھا۔ اور ہم رو رہے ہیں کہ یہاں بہت ٹیلنٹ ہے اور محمد عامر اگر ٹیم میں آگیا تو اس ٹیلنٹ کے ساتھ زیادتی ہو جائے گی۔ کوئی سمجھائے کہ محمد عامر تو 5 سال سے کرکٹ سے باہر ہے پھر ان ایماندار اور باصلاحیت کھلاڑیوں نے اس کی جگہ کیوں نہیں لی؟ اگر اتنا ٹیلنٹ ہے تو کیوں 5 سال بعد بھی ہم محمد عامر اور محمد آصف کا متبادل نہیں ڈھونڈ پائے؟

 

رہی بات محمد عامر کی قومی ٹیم میں شمولیت کی تو وہ اپنے جرم کی سزا کاٹ چکا ہے اور اپنی اہلیت اور کارکردگی کی بناء پر قومی ٹیم میں شمولیت کا پورا پورا حق رکھتا ہے۔ میں کردار کے ان “اعلٰیٰ و ارفع” نمونوں سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ کسی کو ایک جرم کی دو سزائیں دینا کہاں کا انصاف ہے؟ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ ایک جرم کی سزا 5 سال ہو اور آپ اسے عمر قید کی سزا سنا دیں؟ یہ کو نسی کردار کی بلندی ہے کہ اگر ایک آدمی سے کوئی جرم سرزد ہو جائے اور وہ اس کی سزا بھی کاٹ لے اور اپنے کیے پر نادم بھی ہو تو پھر بھی اسے عبرت کا نشان بنانے کے لیے معاشرے سے الگ تھلگ کر دیا جائے۔

 

عامر کی مخالفت کرنے والے ان ماہرین کا یہ کیسا دوہرا اخلاقی معیار ہے کہ ایک طرف وہ سزا کاٹ لینے کے باوجود عامر کو کرکٹ کھیلتا دیکھنا نہیں چاہتے اور دوسری طرف 1999 میں میچ فکسنگ میں جرمانے اور سزائیں پانے والوں کو لیجنڈ کہتے ہیں ان کے ساتھ مختلف ٹی وی چینلز پر بیٹھ کر کرکٹ پر کمنٹری اور تبصرے کرتے کوئی شرم محسوس نہیں کرتے۔
عامر کی مخالفت کرنے والے ان ماہرین کا یہ کیسا دوہرا اخلاقی معیار ہے کہ ایک طرف وہ سزا کاٹ لینے کے باوجود عامر کو کرکٹ کھیلتا دیکھنا نہیں چاہتے اور دوسری طرف 1999 میں میچ فکسنگ میں جرمانے اور سزائیں پانے والوں کو لیجنڈ کہتے ہیں ان کے ساتھ مختلف ٹی وی چینلز پر بیٹھ کر کرکٹ پر کمنٹری اور تبصرے کرتے کوئی شرم محسوس نہیں کرتے۔ ہرشل گبز جن پر میچ فکسنگ کی وجہ سے ایک سال کی پابندی لگی ہمارے سابقہ کرکڑ ان کے ساتھ قومی ٹی وی چینل پر بیٹھ کر کرکٹ پر تبصرے اور خوش گپیاں کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔ شرمندگی اور عار ہے تو محمد عامر کے کرکٹ کھیلنے سے کہ وہ اگر پھر سے کرکٹ کے میدانوں میں آگیا تو ان کی نیک نامی پر دھبہ لگ جائے گا۔

 

اور جہاں تک کھلاڑیوں پر منفی اثرات کا تعلق ہے تو یہی کھلاڑی آئی پی ایل میں جانے کو ترستے پھرتے ہیں جہاں چنائے سپر کنگ اور راجھستان رائلز کے کئی کھلاڑی بشمول مالکان میچ فکسنگ سکینڈل میں ملوث پائۓ گئے۔ بنگلہ دیش جہاں پاکستان کی ہوری قومی ٹیم اپنے ڈومیسٹک ٹورنامنٹ کو چھوڑ کر بی پی ایل کھیل رہی ہے اس میں ڈھاکہ گلیڈیڑ، چٹاگانگ کنگ اور بیرسال برنر کے کھلاڑی سپاٹ فکسنگ اور میچ فکسنگ میں ملوث رہے ہیں۔ اس طرح مارلن سموئیل پر 2007 میں میچ فکسنگ کی وجہ سے 2 سال کی پابندی لگائی گئی اور وہ اب ویسٹ انڈیز کی قومی ٹیم سمیت پوری دنیا کی لیگز میں کھیل رہا ہے اور کریبئین لیگ میں ہمارے سٹار کھلاڑی شاہدی آفریدی اور سہیل تنویر St Kitts and Nevis Patriots کی ٹیم اور ان کی کپتانی میں فخر سے کھیلتے ہیں۔ اسی طرح ورلڈ کپ 2003 میں منشیات کے استعمال پر شین وارن کو ایک سال کی پابندی کا سامنا کرنا پڑا مگر پھر بھی ہمارے کھلاڑی فخر سے بتاتے ہیں کہ جناب محترم سے ہم ملے اور ان سے گینگ بازی کے گر سیکھے۔ میرے خیال سے اگر اوپر بیان کردہ حقائق سے ہمارے ملک کے کھلاڑیوں کو فرق نہیں پڑتا تو ایک محمد عامر کے ٹیم میں موجود ہونے سے بھی ان کے اعلیٰ کردار پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

 

محمد عامر کی واپسی کے مخالفین کے اپنے مفادات محض کرکٹ بورڈ اور اس کے ہر فیصلے کی مخالفت سے وابستہ ہیں۔ ان حضرات کے ٹی وی پروگرام پاکستانی ٹیم کے جیتنے سے نہیں ہارنے سے چلتے ہیں یہی وجہ ہے کہ یہ کرکٹ کی بہتری کی بجائے مزید انحطاط کے خواہاں ہیں۔
جہاں تک ملک کی بدنامی کی بات ہے تو ہاں محمد عامر کو سخت سے سخت سزا دینی چاہیے کیونکہ وہ ‘پہلا شخص’ ہے جس نے اس نیک نام ملک کو بدنام کیا۔ ورنہ شاہد آفریدی نے 21 کیمروں کے سامنےکرکٹ کی گیند کھانے کا شاندار کرتب دکھا کر ملک کا بہت نام روشن کیا تھا، وقار یونس، وسیم اکرم، مشتاق احمد، سعید انور اور دیگر پر میچ فکسنگ پر جرمانے ہوئے تھے اور وہ ان میں سے وقار اور مشتاق احمد قومی ٹیم کے کوچ ہیں اور وسیم اکرم پاکستان سپر لیگ کے سفیر۔ یہ بھی ملک کے وسیع تر مفاد میں کیا گیا۔ محمد آصف کو منشیات کیس میں دبئی بدر کیا گیا وہ پھر بھی ہماری ٹیم کا حصہ رہا۔ پا کستان کا نام تو 1993 کے دورہ ویسٹ انڈیز میں بھی بہت روشن ہوا تھا جب، وسیم، وقار، عاقب اور مشتاق نے منشیات رکھنے کے جرم میں ایک رات جیل کاٹی اور اس وجہ سے ٹیسٹ میچ ایک دن بعد میں شروع کرانا پڑا۔ ہمارے محترم ماہرین اور سابق کھلاڑیوں کے لیے ملک کو بدنام کرنے کا حقیقی اور واحد مجرم صرف محمد عامر ہی ہے، کیوں کہ وہ اپنے شرمناک ماضی کا سامنا نہیں کر سکتے اسی لیے اسے عبرت کا نشان بنا کر کرکٹ کے میدانوں سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دور کر دیا جانا چاہیے۔۔۔ محمد عامر کی واپسی کے مخالفین کے اپنے مفادات محض کرکٹ بورڈ اور اس کے ہر فیصلے کی مخالفت سے وابستہ ہیں۔ ان حضرات کے ٹی وی پروگرام پاکستانی ٹیم کے جیتنے سے نہیں ہارنے سے چلتے ہیں یہی وجہ ہے کہ یہ کرکٹ کی بہتری کی بجائے مزید انحطاط کے خواہاں ہیں۔