قبریں

نصیر احمد ناصر:
ہر جانب
ساکت و صامت
چلتی پھرتی
خالی اور لبالب
ہر جانب قبریں ہیں
ہر جانب
ساکت و صامت
چلتی پھرتی
خالی اور لبالب
ہر جانب قبریں ہیں
کابوس

رضی حیدر: مری آنکھ یک دم کھلی دیکھتا ہوں،
کھلی کھڑکیوں سے ، سریع گاڑیاں چیختی تھیں-
کہ گھڑیوں کی ٹک ٹک کی آواز اتنی بلند سے بلند تر ہوئی جا رہی تھی
کھلی کھڑکیوں سے ، سریع گاڑیاں چیختی تھیں-
کہ گھڑیوں کی ٹک ٹک کی آواز اتنی بلند سے بلند تر ہوئی جا رہی تھی
اليعازر مر گیا

رضی حیدر: آہ میرا یہ جنیں خون اگلتا جاۓ
اس قدر خون مری ماں کا بطن بھر جاۓ
اس قدر خون کہ جراح کا لبادہ میرے
سرخ ایام کی تنہائی سا گاڑھا ہو جاۓ
اس قدر خون مری ماں کا بطن بھر جاۓ
اس قدر خون کہ جراح کا لبادہ میرے
سرخ ایام کی تنہائی سا گاڑھا ہو جاۓ
میرا نازک موتی

تنویر انجم: ایک ہی موتی ملا ہے مجھے
مسلسل چمکانے کے لیے
میرا اپنا نازک سا موتی
مسلسل چمکانے کے لیے
میرا اپنا نازک سا موتی
تقریرکرنے والوں کے ہونٹوں پر

ممتاز حسین: تقریر کرنے والوں کے ہونٹوں پر
ہم اپنی ضرورتوں کی جمع بندی
رکھ دیتے ہیں
ہم اپنی ضرورتوں کی جمع بندی
رکھ دیتے ہیں
کسی انتظار کی جانب

ابرار احمد: جو منتظر تھا ہمارا، جو راہ تکتا تھا
جو ہم پہ وا نہیں ہوتا، جو ہم پہ کھلتا نہیں
جو ہم پہ کھلتا نہیں، اس حصار کی جانب
کسی طلب کو، کسی انتظار کی جانب
جو ہم پہ وا نہیں ہوتا، جو ہم پہ کھلتا نہیں
جو ہم پہ کھلتا نہیں، اس حصار کی جانب
کسی طلب کو، کسی انتظار کی جانب
مرے چراغ

علی اکبر ناطق: مرے چراغ بجھ گئے
میں تیرگی سے روشنی کی بھیک مانگتا رہا
ہوائیں ساز باز کر رہی تھیں جن دنوں سیاہ رات سے
میں تیرگی سے روشنی کی بھیک مانگتا رہا
ہوائیں ساز باز کر رہی تھیں جن دنوں سیاہ رات سے
اجتماعی مباشرت

سید کاشف رضا: تاریخ سے اجتماعی مباشرت
ہم نے کھیل سمجھ کر شروع کی
پھر شور بڑھتا گیا
ہم نے کھیل سمجھ کر شروع کی
پھر شور بڑھتا گیا
شہر کا ماتم

علی اکبر ناطق:
زہر در و دیوار کے ڈھانچے کھا جائے گا
شہر کا ماتم کرنے والا کون بچے گا
خون کے آنسو رونے والا کون رہے گا
زہر در و دیوار کے ڈھانچے کھا جائے گا
شہر کا ماتم کرنے والا کون بچے گا
خون کے آنسو رونے والا کون رہے گا
سفید بادل

نصیر احمد ناصر: سفید بادل دلوں کے اندر اتر رہے ہیں
رگوں میں بہتے پلازما میں اچھل رہے ہیں
رگوں میں بہتے پلازما میں اچھل رہے ہیں
ایک خالی کمرے میں معرکہ

جمیل الرحمان: کمرے میں موجود خالی کرسی
اور اس کے سامنے پڑی بیضوی میز
اُن آواز وں کے بین سُن رہی ہیں
جو دروازے کے کواڑوں سے لٹک رہی ہیں
اور اس کے سامنے پڑی بیضوی میز
اُن آواز وں کے بین سُن رہی ہیں
جو دروازے کے کواڑوں سے لٹک رہی ہیں
خود کُش

نصیر احمد ناصر:
تجھے کن جہانوں میں جانے کی جلدی تھی
جن کے لیے تُو نے
خود کو مٹانے کی ٹھانی
تجھے کن جہانوں میں جانے کی جلدی تھی
جن کے لیے تُو نے
خود کو مٹانے کی ٹھانی
ہمارے دکھوں کا علاج کہاں ہے

ابرار احمد: اور اگر تم کہتے ہو ہمارے دکھوں کا علاج کہیں نہیں ہے
تو ہم چپ رہ سکتے ہیں قبروں سے بھی زیادہ
تو ہم چپ رہ سکتے ہیں قبروں سے بھی زیادہ
آج چھٹی ہے

ثروت زہرا: میں نے شاعری کو زِپ لگا کر الماری میں
تہہ کرکے چابی تالا لگا لیا
جذبوں کو پلاسٹک میں لپیٹ کر فریزر میں
اگلے دن کے لئے پھر سے پگھلانے کے لۓ محفوظ کر دیا ہے
تہہ کرکے چابی تالا لگا لیا
جذبوں کو پلاسٹک میں لپیٹ کر فریزر میں
اگلے دن کے لئے پھر سے پگھلانے کے لۓ محفوظ کر دیا ہے
شہر ادھیڑا جا چکا ہے

سدرہ سحر عمران: تم ہمیں پرچموں سے مکان بنا کر دیتے
اور کہتے کہ سمندروں کے حق میں دستبردار ہو جاؤ
اور کہتے کہ سمندروں کے حق میں دستبردار ہو جاؤ