کرلاہٹ

اسد رضا: مجھے ہر طرف بالوں کی لٹ نظر آنے لگی۔ کھانا بناتے ہوئے وہ ہنڈیا کے بیچ میں تیر رہی تھی۔، کتابوں کے اندر، کمرے کی دیواروں سے گھورتی ہوئے، میری چھاتیوں اور رانوں سے لپٹی ہوئی وہ ایک لٹ۔
نوح، فاختہ اورکبوتر باز

ممتاز حسین: خدانے بادلوں کو دھکیل کر آسمان اور زمین کے درمیان کے راستے کو صاف کر دیااور خدا کی آواز سورج کی کرنوں کے ساتھ مسافت طے کرتی ہوئی حضرت نوح علیہ السلام کے کانوں سے جا ٹکرائی۔ وہ آواز حکم نہیں تھا۔ بلکہ مشورہ تھا۔
قبریں

نصیر احمد ناصر:
ہر جانب
ساکت و صامت
چلتی پھرتی
خالی اور لبالب
ہر جانب قبریں ہیں
ہر جانب
ساکت و صامت
چلتی پھرتی
خالی اور لبالب
ہر جانب قبریں ہیں
پستان — ساتویں قسط

تصنیف حیدر: دھوپ زخموں اور چھالوں پر مرہم لگانے لگی۔آخری منظر جو میں نے دیکھا وہ سلائڈنگ میں اڑتی ہوئی ایک بھنبھیری تھی۔ہرے رنگ کی، پھرپھر کرتی، تیز اور آزاد، بالکل کچ اور صدر کی طرح۔
پستان-پانچویں قسط

تصنیف حیدر: مجھ میں اور تم میں ایک عجیب و غریب فرق شاید یہی پایا جاتا ہو، کہ تمہیں کسی نے زبردستی چھوا، نوچا کھروچا تب بھی تمہیں خوشی حاصل ہوئی۔لیکن میں ایسا محسوس نہیں کرپاتی۔مجھے صرف اور صرف ایک تمہارے جسم کی دستک پر اپنے بدن کے دروازے کھولنے کی خواہش ہوئی ہے ۔