اقتصادی راہداری اور گلگت بلتستان
وفاقی حکومت ایک بار پھر گھر والوں سے پوچھے بغیر گھر کے نیچے سے کوہل بنانے (ندی) بنانےجارہی ہے، کہا جارہا ہے کہ اس کوہل کی تعمیر کے نتیجے میں ملک کے“آئینی صوبے” سیراب ہوں گے مگراس کی تعمیر سے گلگت بلتستان کی معاشی اور اقتصادی ترقی پر کیامنفی یا مثبت اثر پڑے گا اس حوالے سے کوئی بحث نہیں کی گئی۔
پی ٹی آئی اور نیا گلگت بلتستان؛ کیا واقعی تبدیلی آئے گی؟
گلگت بلتستان کا شمار پاکستان کے پسمابدہ ترین علاقوں میں ہو تاہے۔ یہ پسماندگی شعور اور آگہی کی پسماندگی نہیں بلکہ پاکستان کی دیگر اکائیوں کے مقابلے میں معاشی، سیاسی اور آئینی حقوق اور وسائل کی دستیابی کی بنیاد پر ہے۔
گلگت بلتستان کا مستقبل
جون کے مہینے میں پاکستان کے شمال میں واقع سرزمین بے آئین یعنی گلگت بلتستان کے قانون ساز اسمبلی کے انتخابات ہونے جارہےہیں۔
“باباجان گلگت بلتستان کے بھگت سنگھ ہیں”
جامعہ کراچی میں زیرتعلیم گلگت بلتستان کے طلبہ کی جانب سے منعقد کیے جانے والے ایک سیمینار کے شرکاء نے اشتراکی نظام کو گلگت بلتستان کے مسائل کا حل اور باباجان کو مقامی بھگت سنگھ قرار دیا ہے۔
گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت
قراقرم اور ہندوکش کے پہاڑی سلسلوں کے درمیان واقع ستائیس ہزار مربع کلومیٹر رقبے پر محیط گلگت بلتستان گزشتہ 68برسوں سے آئینی وسیاسی مسائل میں الجھا ہوا ہے ۔
