Categories
نقطۂ نظر

بھٹو کا پتلا

عجیب داستان ہے یہ بھی ہم جو زندہ ہیں، ان کو بس اس حال میں دیکھنا چاہتے ہیں
کہ انھیں بس اپنے زندہ رہنے کا احساس رہے۔ ان کا حال بس ایسا ہو کہ زندہ کہلانے کے قابل رہیں۔ البتہ جو اس جہاں سے کوچ کر گیے ہیں ان کے لئے ہم زندہ رہنے کے نعرے خوب زور و شور سے لگاتے ہیں، جناب مرحوم ذولفقار علی بھٹو کو یوں تو مرحوم ہوے کویی اڑتیس برس کا عرصہ گزر چکا ہے، پر ان کے چاہنے والے اور نام نہاد جیالے، بلند و بانگ آواز سے “زندہ ہے بھٹی زندہ ہے بھٹو” کے فلک شگاف نعرے کچھ اس طرح سے لگاتے ہیں، کہ جیسے کوئی مجزوب یا ملنگ کسی درگاہ پے کسی اور دنیا میں موجود اور مست ہو۔

 

یہ نعرے بھی کیا خوب ہوتے ہیں۔ بھانت بھانت کے ہم قافیہ جملے جو کانوں کو بھلے لگتے ہیں۔ جیسے کسی اشتہار میں چلتا گانا، جس کو سننے والے دلچسپی سے سنتے ہیں۔ پر سب جانتے ہیں کہ ، بس ایک اشتہار ہے، حقیقت سے جس کا کوئی تعلق نہیں۔ یہ اشتہار بنانے والے دار اصل میرے بٹوے میں سے روپے نکالنے کے لئے ایک خوبصورت دوشیزہ کے ذریے مجھ کو اس نغمے کی دھن میں الجھا رہے ہیں۔

ایسی ہی کیفیت ان نعروں کی ہے، “جیے بھٹو سدا جیے۔” یا وہ ہے نہ “نعرۂ بھٹو، جیے بھٹو” ۔اگر مندرجہ بالا دلیل کی روشنی میں ملاحضہ فرمائیں، تو یہ بھی ایک قسم کی اشتہاری مہم ہی تو ہے۔ ہمیں اور آپ کو اس بات کا احساس دلانا مقصود ہے کہ مستانے ہو جاؤ۔ بھٹو کے پروانے ہو جاؤ۔ ان نعروں سے بھٹو کے زندہ اور ہم میں موجود ہونے کا احساس ہوتا ہے۔ اس بات کی تجدید ہوتی ہے کہ اڑتیس سال کے بعد بھی ہم میں ایک شخص زندہ اور موجود ہے۔ اس خیال کو تقویت ملتی ہے کہ، ایک ظالم، جابر اور آمر حاکم کسی کو تختہ دار پر جبری موت سے بھی نہیں مار سکتا۔

 

چلیے ایسا ماں بھی لیتے ہیں کہ یہ سب ممکن ہے۔ بھٹو آج بھی زندہ ہے، جو مزدور کا بھٹو ہے، کسان کا بھٹو ہے، جو دیہاڑی دار کا بھٹو ہے۔ جو بھٹو ان کا بھلا چاہتا ہے اور ہر دم ان کو آسوده دیکھنا چاہتا ہے۔ یہ بیچارے لوگ گزشتہ کی دہایوں سے ان ہی نعروں پر زندہ ہیں۔ اپنی زندگیوں کو اس امید پر خرچ کر رہے ہیں کہ ایک روز ان کا بھٹو بھی آیے گا اور جادو کی چھڑی گھماے گا اور ان کے سارے دکھ درد مٹ جاین گے۔ ان کے گھروں میں بھی چولہےجلتے رہیں گے، ان کے گھر بھی پکّے ہوں گے، انکے بچے بھی اعلیٰ تعلیم حاصل کریں گے۔ ان کے تن پر بھی اچھے کپڑے ہوں گے اور ایک موٹر کار بھی ہو گی، جس میں بیٹھ کر وہ میلوں دور جا سکیں گے۔

 

جب بھٹو کے قصّے کچھ کم ہو جاتے ہیں تو پھر اس کی شیر دل بیٹی کی بات ہوتی ہے۔ جو سب کی بی بی تھی۔ پھر ایک اور نعرہ گونجتا ہے، ” چاروں صوبوں کی زنجیر، بے نظیر بے نظیر۔” پھر بی بی صاحب کی مداح سرائیاں ہوتی ہیں۔ مردوں کے اس بے رحم معاشرے میں ایک اور یکتا، انوکھی اور بے نظیر تھی۔ پھر چھڑتی ہے بات “ڈرتے ہیں بندوقوں والے ایک نہتی لڑکی سے۔”

 

پر یہ سب بیچارے دن بھر کے تھکے مارے جب شام ڈھلے کسی ریڈیو پر، کسی ٹی وی پر یا کسی کے موبائل یا پھر کسی کے کمپیوٹر پر بھٹو کے نڈر داماد اور خوبرو نواسے کو دیکھتے ہیں تو ان کی امیدیں بر آتی ہیں۔ اب بھٹو ضرور آئے گا اور ان کے دکھ درد مٹائے گا۔ پھر بھٹو کو لانے کے لئے جانے کیوں کوئی تاریخ دے دی جاتی ہے۔ اس تاریخ کو سب لمبی لمبی قطاریں لگایے، اپنے اپنے انگوٹھے اور انگلیاں صاف کیے کسی اسکول یا سرکاری دفتر میں جمع ہو جاتے ہیں۔ کسی کاغذ پر کوئی تیر کا نشان بنا ہوتا ہے، جہاں ان کو انگوٹھا لگانا پڑتا ہے۔ گھنٹوں دھکّے، اور گالیاں کھانے کے بعد سب اپنے اپنے گھروں کو واپس ہو لیتے ہیں۔

 

ٹوٹی سڑکیں، کچرے کے ڈھیر، بدبو، گندی گلیاں، گرد و غبار، دھواں اڑاتی بسیں، بجلی کی آنکھ مچولی، فاقے، شور، اور آوارہ جانور ان سب کو اپنے زندہ ہونے کا احساس دلاتے ہیں۔ کتوں کی بھونک اور بلیوں کا رات کے آخری پھر پے ماتم اس بات کی امید دلاتا ہے کہ اگلا روز گزرے ہوئے آج سے بہتر ہو گا۔ بس بھٹو کے آنے کی دیر ہے اور قسمت کا پانسا پلٹ جایے گا۔ روشنیوں میں رقص ہو گا اور خوشیاں سنبھالے نہ سنبھلیں گی۔ چاہے پانچ برس اور ہی کیوں نہ لگ جائیں ، صبر اور انتظار ضروری ہے۔ دل اور دماغ میں بس ایک کی صدا گونجتی ہے، ‘ نعرہ نعرہ نعرہ بھٹو ،جیے جیے جیے بھٹو۔ “
Categories
نان فکشن

معراج محمد خان

[blockquote style=”3″]

معراج محمد خان پر یہ سوانحی مضمون معروف کالم نگار ندیم فاروق پراچہ نے انگریزی روزنامے ڈان کے لیے لکھا تھا۔ یہ مضمون ندیم فاروق پراجہ کے سلسلہ مضامین ‘کریزی ڈائمنڈ’ میں شامل ہے جسے ڈاکٹر عبدالمجید عابد نے ترجمہ کیا ہے۔ ڈاکٹر عبدالمجید عابد کے یہ تراجم لالٹین قارئین کے لیے پیش کیے جا رہے ہیں۔

[/blockquote]

سنہ 1963ء میں کراچی میں منعقدہ مسلم لیگ کے جلسے سے خطاب کے لئے وقت کے فوجی آمر ایوب خان کے وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو نے سٹیج سنبھالا تو بائیں بازو کی طلبہ تنظیم نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے ارکان نے سٹیج پر ہلہّ بول دیا اور جلسے کا کاروائی معطل کروانے میں کامیاب ہو گئے۔ ان طلبہ کو بعدازاں پولیس کے ہاتھوں مار پیٹ اور جیل کی ہوا کھانے کا اعزاز حاصل ہوا۔ اس روز ان طلبہ کی سربراہی معراج محمد خان نامی ایک شعلہ جوالا نوجوان کر رہا تھا۔ چار سال بعد وہی معراج محمد خان، بھٹو صاحب، نامور دانشوران، ٹریڈ یونین ارکان، صحافیوں اور سیاست دانوں کے ہمراہ ایک نئی سیاسی جماعت(پاکستان پیپلز پارٹی) کا بانی رکن بنا۔

 

معراج محمد خان معروف ترقی پسند شاعر فیض احمد فیض کے ہمراہ ڈاو میڈیکل کالج کی ایک تقریب میں
معراج محمد خان معروف ترقی پسند شاعر فیض احمد فیض کے ہمراہ ڈاو میڈیکل کالج کی ایک تقریب میں
1950 ء اور 1960ء کی دہائیوں کے دوران طلبہ سیاست سے ابھرنے والے افراد میں سب سے پرجوش اور پرعظم طالب علم، معراج تھا۔ کراچی کے ایک متوسط خاندان سے تعلق رکھنے والے معراج نے 1957ء میں کالج کے زمانے میں NSF کی رکنیت حاصل کی۔ وہ جلد ہی اس تنظیم کا ایک اہم رکن بن گیا۔ ایوب خان کی آمریت کے خلاف چلنے والی طلبہ تحاریک میں اس نے بھرپور حصہ لیا اور اس ضمن میں کئی بار حوالات کی سیر بھی کی۔ 1960ء کی دہائی کے اوائل میں NSF روس نواز اور چین نواز گروہوں میں تقسیم ہو گئی۔ معراج اور جامعہ کراچی میں اسکا ہم عصر راشد احمد خان، چین نواز دھڑے میں شریک ہوئے۔ سنہ 1965ء میں پاک بھارت جنگ میں پاکستان کی ناکامی کے بعد بھٹو صاحب نے ایوب خان پر ’جیتی ہوئی بازی مذاکرات کے میز پر ہارنے‘ کا الزام لگایا، اور ان کو کابینہ سے نکال دیا گیا۔ بھٹو صاحب کو معلوم تھا کہ ان کی بات میں زیادہ وزن نہیں لیکن ان کا یہ موقف عوام (جنہیں جنگ کے دوران بے وقوف بنایا گیا تھا) میں ان کی بے پناہ مقبولیت کی وجہ بنا۔

 

معراج محمد خان، بھٹو اور رشید احمد خان
معراج محمد خان، بھٹو اور رشید احمد خان
بھٹو صاحب خاص طور پر بائیں بازو کی طلبہ تنظیموں میں مقبول ہوئے، اور اس دہائی میں زیادہ تر جامعات میں سٹوڈنٹ یونینیں ان تنظیموں کے زیر اختیار تھیں۔ NSF کا چین پرست دھڑا بھٹو صاحب کے مداحوں میں شامل تھا، اور انہوں نے اس دور کی باقی دنیا کی طرز پر بھٹو صاحب کو ملک میں سوشلسٹ انقلاب لانے کی دعوت دی۔ انقلاب سے زیادہ سیاست کی جانب رجحان رکھنے والے بھٹو صاحب نے بائیں بازو کی ایک سوشل ڈیمو کریٹک جماعت تشکیل دینے کا منصوبہ بنایا۔ مارکسی دانشور جے اے رحیم، سوشلسٹ دانشور ڈاکٹر مبشر حسن (اور شیخ رشید احمد)، اور ’اسلامی سوشلسٹ‘ حنیف رامے اور معراج خالد کے تعاون سے انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی تشکیل دی۔ نئی جماعت کا پہلا اجلاس لاہور میں منعقد ہوا اور اس میں ترقی پسند دانشوروں، ٹریڈ یونین ارکان، صحافیوں اور سیاست دانوں نے شرکت کی۔ طلبہ کے دستے کی سربراہی اٹھائیس برس کے معراج محمد خان نے کی اور جماعت میں شمولیت اختیار کی۔ بھٹو صاحب نے معراج کو اپنا قریبی ساتھی اور ہو بہو عکس قرار دیا۔

 

طلبہ کے دستے کی سربراہی اٹھائیس برس کے معراج محمد خان نے کی اور پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ بھٹو صاحب نے معراج کو اپنا قریبی ساتھی اور ہو بہو عکس قرار دیا۔
سنہ 1968ء میں ایوب آمریت کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاجی تحریک شروع ہوئی تو NSF نے صحافیوں اور سیاسی جماعتوں (پیپلز پارٹی، نیشنل عوامی پارٹی) سمیت اس تحریک میں حصہ لیا۔ مشرقی پاکستان میں بنگالی قوم پرستوں نے اس تحریک کا بیڑا اٹھایا۔ ایوب کے رخصت ہونے پر جنرل یحییٰ خان نے ملک کی باگ دوڑ سنبھالی اور عام انتخابات کا اعلان کیا۔ انتخابی تحریک کے دوران جماعت اسلامی کے غنڈوں نے پیپلز پارٹی کی ریلیوں میں ہنگامہ آرائی کی اور جماعت نے پیپلز پارٹی پر ’ملحدانہ‘ نظریات کی ترویج اور اسلام کو خطرہ پہنچانے کا الزام لگایا۔ اس جھنجھٹ سے نبٹنے کے لئے معراج اور شیخ رشید احمد نے ریلیوں کے تحفظ کی خاطر NSF ارکان پر مشتمل ’سرخ گارڈز‘ تشکیل دیے۔ انتخابات کے نتیجے میں پیپلز پارٹی مغربی پاکستان میں برتری حاصل کرنے میں کامیاب ٹھہری۔

 

مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد یحییٰ خان کو اقتدار سے ہٹا کر پیپلز پارٹی نے حکومت سنبھالی۔ اس حکومت میں بھٹو صاحب نے معراج کو وزیر برائے محنت وافرادی قوت مقرر کیا۔ وہ اس حکومت کے پہلے دو سال فعال ترین وزیر رہا۔ ایوب کے خلاف چلنے والی تحریک نے طلبہ اور ٹریڈ یونینوں کو متحرک کر دیا تھا اور ان کی انقلابی رو پیپلز پارٹی حکومت آنے کے بعد بھی برقرار رہی۔ حکمران جماعت کے بائیں بازو نے سوشلسٹ اصلاحات بڑھانے پر زور دینا شروع کر دیا۔ اصلاحات کی سست رفتاری کے خلاف کراچی میں احتجاجی تحریک شروع ہوئی۔ اس تحریک نے فیکٹریوں پر قبضہ کر کے ان کو بند کرنا شروع کر دیا جس پر بھٹو صاحب خوب سیخ پا ہوئے۔ وہ یونینوں کو غیر ذمہ دار سمجھنے لگے اور ان سے پوچھا کہ آخر تم میرے ساتھ ایسا کیوں کر رہے ہو؟ تم ملک کی تباہ شدہ حالت کے باوجود فیکٹریاں کس طرح بند کر سکتے ہو؟ انہوں نے معراج کو یونین سربراہان سے نبٹنے کا حکم دیا لیکن معراج نے صا ف انکار کر دیا اور انہیں اصلاحات کی رفتار بڑھانے کا مشورہ دیا۔ بھٹو صاحب کو اپنے وزیر کی یہ بات پسند نہ آئی اور 1973ء میں ٹریڈ یونینوں اور مزدور یونینو ں کے خلاف کاروائی کا آغاز ہو گیا۔ معراج نے وزارت سے استعفیٰ دے دیا۔ استعفیٰ دینے کے کچھ عرصے بعد بھٹو صاحب کے حکم پر معراج کو پولیس نے تشدد کا نشانہ بنایا اور گرفتار کر لیا۔ بھٹو دور کے باقی ماندہ سالوں میں معراج ایک جیل سے دوسری جیل کے چکر کاٹتا رہا اور مختلف کمیونسٹ جماعتوں کا رکن رہا۔ بھٹو صاحب کے خلاف 1977ء میں عوامی مہم شروع ہوئی تو معراج اس تحریک کا حصہ بنا۔

 

استعفیٰ دینے کے کچھ عرصے بعد بھٹو صاحب کے حکم پر معراج کو پولیس نے تشدد کا نشانہ بنایا اور گرفتار کر لیا۔ بھٹو دور کے باقی ماندہ سالوں میں معراج ایک جیل سے دوسری جیل کے چکر کاٹتا رہا اور مختلف کمیونسٹ جماعتوں کا رکن رہا۔
بائیں بازو کے چند دیگر افراد کے ہمراہ وہ پی این اے (جو مذہبی جماعتوں پر مشتمل تھی) کی تحریک میں شریک ہوا۔ تحریک کے باعث ملک میں انتشار پیدا ہوا جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فوج نے پھر سے اقتدار سنبھال لیا۔ معراج مارشل لاء کے نفاذ کے بعد روپوش ہو گیا۔ بھٹو صاحب کے خلاف قتل کا مقدمہ شروع ہوا تو معراج نے بیگم نصرت بھٹو کو صلح کا پیغام بھیجا۔ نصرت بھٹو نے معراج اور دیگر ترقی پسندوں کے ہمراہ بحالی جمہوریت کی تحریک (MRD) چلانے کا فیصلہ کیا۔ بینظیر بھٹو نے معراج، مفتی محمود اور اصغر خان کے ساتھ کام کرنے سے انکار کر دیا اور انہیں ’میرے والد کے قاتل‘ قرار دیا۔ بعدازاں انہیں نے مصالحت کی راہ اپنائی۔ اس تحریک کے باعث معراج کو کئی دفعہ تشدد اور جیل کا سامنا کرنا پڑا۔ ضیاء کی ہلاکت کے بعد ملک میں جمہوریت بحال ہوئی اور پیپلز پارٹی نے بینظیر کی سربراہی میں حکومت کی۔ معراج نے حکومت کا حصہ بننے کی بجائے ملک میں کمیونسٹ جماعتوں کو اکٹھا کرنے کی (ناکام) کو شش شروع کر دی۔ حیران کن طور پر انہوں نے 1998ء میں عمران خان کی تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی۔ وہ ابتدائی طور پر عمران خان اور اس کی جماعت کو ترقی پسند سمجھتے رہے لیکن 2003ء میں انہوں نے تحریک انصاف کو الوداع کہا۔ ان کے مطابق عمران خان آمرانہ طبیعت کا مالک اور سیاست سے نابلد آدمی تھا۔ اب پچاس کے پیٹے میں معراج ریٹائر زندگی گزار رہا ہے اور بہت سی جسمانی بیماریوں میں مبتلا ہے۔ ناقدین معراج کی شعلہ بیانی اور جذباتی طبیعت کو اس کے زوال کا سبب بتاتے ہیں، اور اس کے قریبی ساتھیوں کے مطابق وہ اپنی جدوجہد کی بنیاد پر بہت سی وزارتیں حاصل کر سکتا تھا لیکن وہ اپنے اصولوں پر سودا کرنے کو تیار نہیں تھا۔
ایم آر ڈی کی تحریک کے دوران معراج محمد خان کو گرفتار کیا گیا
ایم آر ڈی کی تحریک کے دوران معراج محمد خان کو گرفتار کیا گیا
Categories
نقطۂ نظر

بھٹو کی پھانسی اور ہمارا ادب

4 اپریل 1979 ہمارے سماج میں جہاں سیاست کے اندر ایک مستقل تلخی گھولے جانے کا عکاس ہے وہیں یہ دن ہمارے ادب کو نئی جہت ملنے کی عکاسی بھی کرتا ہے۔ میں جب اس حوالے سے اپنی یادوں کو کھنگالتا ہوں تو مجھے یاد آتا ہے کہ ڈاکٹر فیروز صاحب نے ایک مضمون اس وقت کے معروف جریدے پاکستان فورم میں لکھا تھا اور اس کا عنوان تھا ‘بھٹو فیلیا، لوگ بھٹو سے محبت کیوں کرتے ہیں’۔ یہ مضمون اگرچہ سیاسی غرض سے لکھا گیا تھا مگراس میں ادبی چاشنی موجود تھی۔ ڈاکٹر فیروز نے لکھا تھا کہ بھٹو پھانسی کے بعد ایک متھ، ایک اسطور میں بدل گیا ہے۔ اور وہ بھٹو حقیقی بھٹو سے کہیں زیادہ امید دلانے والا ہے۔ اور بھٹو صاحب کی پھانسی کو ایک سیاسی لیڈر کی پھانسی سے زیادہ عوامی امنگوں کو سولی دئیے جانے سے تعبیر کیا گیا تھا۔
ڈاکٹر فیروز نے لکھا تھا کہ بھٹو پھانسی کے بعد ایک متھ، ایک اسطور میں بدل گیا ہے۔ اور وہ بھٹو حقیقی بھٹو سے کہیں زیادہ امید دلانے والا ہے۔
مجھے یاد ہے کہ بھٹو کے چہلم کے موقعہ پر ستار طاہر مرحوم نے ایک کتاب شائع کی جس کا نام تھا ‘زندہ بھٹو، مردہ بھٹو’ یہ کتاب بھی نیم ادبی تھی۔ اور اس میں بھی بھٹو ایک تاریخی شخصیت سے زیادہ ایک اسطور کے طور پر سامنے لایا گیا تھا۔
یہی ستار طاہر مرحوم تھے جنہوں نے ان ہی دنوں آرتھر ملر کا ناول ‘احتساب کا جنوں’ کے نام سے ترجمہ کرکے شائع کیا تھا اور اس کے شائع کرنے کے پس پردہ بھٹو صاحب کی پھانسی کا المیہ کارفرما تھا۔ اسی دوران ایک کتاب جو خفیہ طور پر شائع ہوئی اور آج تک اس کے اصل مصنف کا پتہ نہیں ہے اور اس پر ضیاء نے پابندی بھی لگائی وہ کتاب ‘خوشبو کی شہادت’ تھی۔ یہ کتاب بھی بھٹو کی پھانسی کے بعد بھٹو کے اسطور کو بیان کرتی نظر آئی۔
بھٹو کی پھانسی پر فیض احمد فیض، احمد فراز، منیر نیازی سمیت اردو کے سب ہی اہم اور بڑے ناموں نے کچھ نہ کچھ کہا۔ اور ہمارے شاعر، افسانہ نگار، کہانی کار اس زمانے میں جب بھی کچھ لکھنے بیٹھے تو ان کی نظموں، غزلوں، قطعات، کہانیوں، افسانوں، ناولوں میں تراکیب، تشبیہ، استعارے، کردار، حالات اور واقعات کے پس پردہ اس پھانسی کے اثرات نظر آئے۔
اس واقعہ کو عام واقعہ خیال نہیں کیا گیا۔ صرف اردو ادب نہیں بلکہ پنجابی، سندھی، پشتو، سرائیکی، بلوچی ادب پر بھی اس کے گہرے اثرات مرتب ہوئے۔ انگریزی ادب میں یہ طارق علی تھے جنہوں نے ‘دی لیپرڈ اینڈ دی فاکس’ کے نام سے ایک ڈرامہ لکھا۔ اور جس کو بی بی سی کے چینل فور سے نشر ہونا تھا مگر وہ نہیں ہوسکا۔ کیونکہ ان دنوں ضیاء الحق اور ان کی تیار کردہ جہادی پالیسی مغرب کے لیے بہت کارآمد تھی۔ اس ڈرامہ کو طارق علی نے بعد میں کتابی شکل میں شائع کیا۔ اس کا ایک سندھی ترجمہ سندھی مصنف شفقت قادری نے کیا ہے۔
بھٹو کی پھانسی کو ایک المیہ کے طور پر دکھانے میں پاکستان کے ان ادیبوں نے اھم کردار ادا کیا جو ترقی پسند فکر سے منسلک تھے۔ اور اس پھانسی کو قدیم مذھبی المیوں میں استعمال ہونے والے استعاروں سے بھی ملا کر دیکھنے کی کوشش کی گئی۔ میں اگر اس پھانسی کو قدیم المیوں سے جوڑ کر دیکھنے والی پہلی شخصیت کو تلاش کروں تو وہ مجھے بیگم نصرت بھٹو لگتی ہیں۔ جنہوں نے بھٹو کی لاش کو پنڈی سے لاڑکانے تک لانے کے عمل کو بیان کرنے کے لیے کہا تھا کہ وہ اسلام آباد کے کوفے سے سندھ مدینے آئی ہیں اور یہ بہت بلیغ اشارہ تھا۔ بھٹو کی پھانسی کی ٹریجڈی کو بیان کرنے کے لیے اس جملے نے آگے چل کر بھٹو خاندان کے ساتھ ہونے والے المیے کو کربلا کے المیے اور اھل بیت اطہار پر کوفہ میں ہونے والے ظلم کے ساتھ جوڑنے میں اہم کردار ادا کیا۔
بھٹو ایک ایسے کردار کے طور پر سامنے لایا گیا جو غریبوں کا ہمدرد اور مونس وغمخوار تھا۔ اور جس کی پھانسی کا سبب غریبوں سے ہمدردی بن گئی تھی۔
بھٹو کی پھانسی کو مسیحی روائت کے اندر دیکھنے کی کوشش بھی کی گئی کیونکہ مصلوب ہونا اور سولی شناس ہونے کا ذکر ہمارے ادب میں پہلے سے موجود تھا۔ اس لیے بھٹو کی پھانسی کو مصلوب ہونے اور ان کی ٹریجڈی کو یسوع مسیح کے المیہ سے مشابہہ کرکے دیکھنے کی کوشش بھی کی گئی۔
بھٹو کی پھانسی نے ہمارے ادب میں مزاحمت، احتجاج اور انقلاب کے تذکرے کو اور زیادہ شدید کردیا۔ میں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ بھٹو کی شہادت کو بہت نیچے تک بڑی شدت کے ساتھ محسوس کیا گیا۔ اور اس شہادت کے اثرات ہمارے ادب پر بہت گہرے ہوئے۔ اس زمانے کی کہانیوں اور منظوم نثر میں ہمیں بہت زیادہ المیہ نگاری نظر آتی ہے اور ایک احساس زیاں بھی ملتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ یہ شعوری طور پر نہ ہو لیکن اس زمانے میں بھٹو کی پھانسی اجتماعی احساس زیاں کو جنم دینے کا سبب بنی تھی اس لیے اس کی بازگشت مجھے اس زمانے کے شعر و ادب میں جا بجا محسوس ہوتی ہے۔ بھٹو کی پھانسی نے انور سین رائے کے ناول ‘چیخ’ کو جنم دیا۔ اسی زمانے میں اوریانا فلاچی کے ایک ناول کو ڈاکٹر خالد سعید نے ترجمہ کیا۔ میں تو ولیم رائخ کی کتاب ‘لسن او لٹل مین’ کو بھی اس صف میں رکھتا ہوں۔ انور سجاد، ڈاکٹر انوار احمد، سمیع آھوجہ، اور مسعود اشعر کی ادبی تخلیقات پر بھی بھٹو کی پھانسی اور اس کے بعد بننے والی فضا کے خاصے اثرات نظر آتے ہیں۔ میں تو یہ کہوں گا کہ ہمارا ادب اس پھانسی کے بعد ایک بھونچال کی کیفیت سے گزرا۔ اور اس نے ایک پوری نسل کو متاثر کیا۔
بھٹو کی پھانسی نے ہمارے ادب میں مزاحمت، احتجاج اور انقلاب کے تذکرے کو اور زیادہ شدید کردیا۔
مجھے ‘میں باغی ہوں’ جیسی نظم کے خالق ڈاکٹر خالد جاوید جان، قمر رضا شہزاد، رضی الدین رضی، اور شاکر حسین شاکر بتلاتے ہیں کہ کیسے ان کی نثر اور شاعری کو بھٹو کی پھانسی نے متاثر کیا۔ قمر یورش کا نام مجھے یاد آرھا ہے جن کی کہانی نے بھٹو کی پھانسی کے بعد ایک نیا جنم لیا تھا۔ پنجابی کے معروف ادیب افضل حسن رندھاوا کی کہانیوں میں ہم نے اس المیہ کا اثر دیکھا جس کا اعتراف سب ہی کرتے ہیں۔ استاد دامن اور حبیب جالب اگرچہ بھٹو صاحب سے خوش نہ تھے لیکن یہ پھانسی ان کے لیے بھی المیہ بنی اور ان کی شاعری پر بھی اس کے اثرات دیکھنے کو ملے۔
میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے ہاں بھٹو کی پھانسی کو عالمی تناظر میں دیکھنے کی کوشش بھی ادبی سطح پر کی گئی۔ اس ضمن میں لاطینی امریکہ، افریقہ اور ایشیا کے دیگر خطوں سے ایسے واقعات پر مبنی کہانیاں ڈھونڈنے کا کام ہوا اور ان کو یہاں شائع کیا گیا جن سے بھٹو کی پھانسی کی مماثلت بنتی تھی۔ بھٹو کی شخصیت کو ایک اسطور کے طور پر دیکھنے کا عمل اور اس کے متھ میں بدل جانے کا اثر اس قدر غالب تھا کہ خود بے نظیر بھٹو نے اس کو ایک بڑے المیے کے طور پر قدرے افسانوی رنگ میں اپنی خود نوشت میں بیان کیا۔ ‘مشرق کی بیٹی’ ایک اسطوری رنگ میں بھٹو کی پھانسی سے قبل اور بعد کے واقعات کو بیان کرتی ہے۔ اور شاید بھٹو کے متھ اور اسطور میں بدلنے کی وجہ سے یہ ہوا کہ خود انکی بیٹی بھی حقیقت اور میجک کے امتزاج سے مل کر ایک اسطور میں بدل گئی ہے۔ اور بے نظیر کے ساتھ تو ایسا ان کی زندگی میں ہی ہوگیا تھا۔ ستائیس دسمبر 2007 کو جب وہ شہید ہوئیں تو اس شہادت کو بھی ویسے ہی رنگ میں دیکھا گیا جیسے بھٹو کی شہادت کو دیکھا گیا تھا۔ فرق صرف اتنا تھا کہ اب قوم کے وہ حلقے بھی اس قدر بالغ ضرور ہو گئے تھے جو عرف عام میں اینٹی بھٹو کہلاتے تھے کہ یہ جان لیں کہ اسطور جب مصلوب ہوں یا مقتول تو خوشی نہیں غم مناتے ہیں اور مٹھائی نہیں بلکہ نیاز دلواتے ہیں۔ صفدر میر صاحب کا ایک طویل تاریخی ڈرامہ ‘آخری حصار شب’ بھی ایسا ہی ایک ناول تھا۔ افضل توصیف صاحبہ اور فہمیدہ ریاض کی تخلیقات پر بھی اس پھانسی نے اپنے اثرات مرتب کیے تھے۔ اعتزاز احسن کی شاعری نے بھی اس سے اثر لیا تھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ بھٹو کی پھانسی سیاست کا المیہ نہیں تھی بلکہ یہ پورے سماج کا المیہ بن کر سامنے آئی اور اس کا کفارہ دینے کی کوشش ہمارے سماج کے سبھی اھل علم و دانش نے اپنے اپنے طور پر کی۔
بھٹو کی پھانسی سیاست کا المیہ نہیں تھی بلکہ یہ پورے سماج کا المیہ بن کر سامنے آئی اور اس کا کفارہ دینے کی کوشش ہمارے سماج کے سبھی اھل علم و دانش نے اپنے اپنے طور پر کی۔
بھٹو فیلیا ہمارے سماج کی ایک ناقابل تردید حقیقت کے طور پر موجود ہے۔ بھٹو ایک اسطور کے طور پر موجود ہے۔ اس اسطور میں اب بیگم نصرت بھٹو، بے نظیر، مرتضی اور شاہ نواز بھی شامل ہیں اور اگر آپ کو مبالغہ نہ لگے تو میں یہ کہنے کی جرات بھی کرتا ہوں کہ اس میں نذیر عباسی، ایاز سموں، ادریس طوطی، اور رزاق جھرنا بھی شامل ہیں۔ میں ‘نیلے ہاتھ’ جیسے ڈراموں کو بھی اسی اسطور کو پھیلانے اور وسعت دینے والی تحریروں کا ایک اور سنگ میل خیال کرتا ہوں۔ بلکہ میں تو کہتا ہوں اگر وسیم احمد کی بیوہ پروین ملک ارون دھتی رائے کا ‘گاڈ آف سمال تھنگز’ ترجمہ کرتی ہے اور مرحوم نعیم کلاسرا لاطینی امریکہ سے گبیرئل گارشیا مارکیز کا ‘تنہائی کے سو سال’ کا ترجمہ کرتے ہیں تو اس کے پس پردہ بھی اس اسطور سے بننے والی فضا ہے۔ سرائیکی شاعری میں اشو لال اور عاشق بزدار کی شاعری میں اس اسطور نے بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس اسطور کے نشان ہمیں رفعت عباس، شمیم عارف قریشی کے ہاں بھی نظر آتے ہیں۔ یہ اور بات کہ اس اسطور کی آفاقیت اور عالمگیریت ان کے ہاں تنگ قوم پرستی کے دائرے میں قید قید سی لگنے لگتی ہے۔ میں بھٹو کی پھانسی سے متاثر ہو کر اپنے اختلافات کو بھول جانے اور پھر اپنی تحریروں میں اس متھ کو استعمال کرنے والے دو حضرات کو تو نظر انداز ہی کر رہا تھا اور یہ بہت بڑی ناانصافی ہوتی۔ ان کے نام ہیں شفقت تنویر مرزا اور نجم حسین سید۔ ایک اور سید صاحب تھے اختر حسین جعفری جنہوں نے بھٹو کی پھانسی کو ‘مرگ یوسف’ سے تعبیر کیا اور اس پر کمال کی نظم لکھی۔ میں سمجھتا ہوں کہ بھٹو کی پھانسی پر اس سے عمدہ اور شاندار مرثیہ نہ تو لکھا گیا اور نہ لکھا جائے گا۔ افسوس کہ مرگ یوسف کی خبر سچی ثابت ہوئی اور جو بیبیاں سجادے لیکر بدست دعا تھیں کہ ‘یا الہی مرگ یوسف کی خبر سچی نہ ہو’ ان کی دعائیں بے اثر چلی گئیں۔ لیکن ایک لمحے کے لیے سولی پر آنے والی مرگ کے بعد ہمارے یوسف پر پھر کبھی مرگ نہیں آئی اور سارے جہاں میں گونجتا ہے ‘زندہ ہے بھٹو زندہ ہے’۔
(بشکریہ LUBP)