Categories
نقطۂ نظر

فلمی پشتون بمقابلہ اصل پشتون

پاکستان میں فلمی صنعت پھر اپنے پیروں پر کھڑی ہو رہی ہے اور گزشتہ چند ماہ کے دوران کئی فلمیں سینما گھروں میں نمائش کے لیے پیش کی گئی ہیں اور کامیاب بھی ہوئی ہیں۔ان میں سے بعض فلمیں موضوعات اور کرداروں کے اعتبار سے بے حد عمدہ تھیں۔ لیکن پاکستانی فلمی صنعت میں ہر دور میں پشتونوں کی جو تصویر دکھائی گئی ہے وہ حقیقت سے بے حد دور، متعصب اور بعض صورتوں میں تضحیک آمیز رہی ہے۔ وجہ جو بھی ہو لیکن پشتونوں کی اس قسم کی تصویر کشی پر اپنے تحفظات کا اظہار کرنا، تنقید کرنا اور گلہ کرنا بحیثیت پختون اور انسان ہمارا فرض ہے ۔ طنز و مزاح اپنی جگہ لیکن اگر کسی قوم برادری، گروہ یا قبیلے کے بارے میں منفی پراپیگنڈا کرکے اپنی فلم میں جان ڈالنے کی کوشش کی جائے تو یہ کسی ایک قومیت نہیں بلکہ ہر قبیلے اور ہر قوم کے ساتھ زیادتی اور ناانصافی ہے جس کی تلافی کسی بھی طرح نہیں ہوسکتی ۔
پاکستانی فلموں اور ڈراموں میں عرصہ دراز سے پشتونوں کو مذاق اور تضحیک کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور اکثر ہمیں بے وقوف، دہشت گرد، جاہل، ڈرائیور،’بچہ باز’یا چوکیدار ہی دکھایا جاتا ہے

 

پاکستانی فلموں اور ڈراموں میں عرصہ دراز سے پشتونوں کو مذاق اور تضحیک کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور اکثر ہمیں بے وقوف، دہشت گرد،جاہل، ڈرائیور، ‘بچہ باز’یاچوکیدار ہی دکھایا جاتاہے۔ پشتونوں کی بول چال اور طور اطوار کا مسلسل اور بے تکامذاق اڑایا جا رہا ہے۔ عموماً پشتونوں کو کسی ایسے کردار میں نہیں دکھایا جاتا جو معاشرے میں معزز خیال کیا جاتا ہو۔ اگر کسی ملک یا ڈیرے دار کو پشتون دکھایا جاتا ہے تو اسے ہمیشہ عورتوں اور بچوں پر ظلم کرنے والا، پورے قبیلے کا سردار بن کر قبیلے پر ظلم کرنےوالا یا چھوٹی بچیوں کے نکاح بوڑھے لوگوں سے کرانے والا دکھا یا جاتا ہے ۔ فلموں اور سٹیج ڈراموں میں پشتونوں کو ہم جنس پرست قرار دے کر ان کا مذاق اڑایا جاتا ہے (اگرچہ ہم جنس پرست ہونے یا پشتون ہونے میں کچھ بھی مزاحیہ نہیں) جس کی تازہ مثالیں پاکستانی فلم “کراچی سے لاہور” اور “جوانی پھر نہیں آنی” میں دیکھی جاسکتی ہیں ۔

 

ایسا کیوں ہورہا ہے ؟ کب سے ہورہا ہے؟ کون کررہا ہے؟ اب تک کیوں کررہا ہے؟ کوئی ایسا کرنے والوں سے پوچھنے والا ہے یا نہیں؟ ہمارے نام نہاد پشتون رہنما کہاں ہیں؟ کیا انہوں نے کبھی اس معاملے پرآواز اٹھانا مناسب سمجھا؟ کب تک ہم پشتون اپنی قومیت کی بناء پر تمسخراور لطیفوں کا نشانہ بنتے رہیں گے؟ کب تک ہمیں دہشتگرداور طالبان قرار دیا جاتا رہے گا؟ کب تک ہماری اقدار، اسلاف، رنگ ونسل، بود و باش، رہن سہن اور پوشاک کو دہشتگردوں کی علامت سمجھا جائےگا؟ کیا کوئی ہے جو ایسا کرنے والوں کو بتا سکے کہ پشتون پاکستان میں رہنے والی دوسری بڑی قوم ہے ۔ کیا کوئی ہے جو انہیں بتاسکے کہ پشتون پختونخوا، قبائلی علاقہ جات، کراچی اور بلوچستان میں ایک بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ زمانہ امن میں جو پشتون کم عقل، جاہل، ناخواندہ، دہشت گرد، چوکیدار اور ہم جنس پرست سمجھے جاتے ہیں جنگ و جدل کے موقع پر انہیں قوم بہادر اور غیرت مند بنادیا جاتا ہے ۔ کبھی ہمیں غدار بنایا جاتا ہے تو کبھی ہمارے آباؤاجداد کو کافر، ملحد یا مرتد قرار دیا جاتا ہے ۔ ذرائع ابلاغ میں پشتونوں کی منفی تصویر کشی صرف اردو یا پنجابی ڈراموں اور فلموں ک ہی محدود نہیں پشتو سینما میں بھی پشتونوں کو حقیقت کے برعکس پیش کیا جاتا ہے۔ ہمارے لکھاری، ہدایتکار اور فنکار شاید فرسودہ اور غلط العام تصورات کے سوا کچھ اور سوچنے، لکھنے، تخلیق کرنے یا دریافت کرنے کی مشقت کرنے سے گھبراتے ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ ہر ڈرامے اور فلم میں پشتونوں ے متعلق آزمودہ کردار، مکالمے اور لطیفے برت کر روپیہ کمانے کی کوشش کرتے ہیں۔
اس ملک میں اگر ایک پشتون کسی غیر پشتون کے بارے میں کچھ کہتا ہے تو اس پر پاکستان توڑنے اور افغانستان یا ہندوستان کا ہمدرد ہونے کا الزام لگایا جاتا ہے لیکن پشتونوں کی تضحیک کرنے کو محض مذاق سمجھ کر فراموش کردیا جاتا ہے۔

 

پشتونوں سے یہ تعصب صرف ذرائع ابلاغ تک ہی محدود نہیں بلکہ سیاسی میدان میں بھی برتا جاتا ہے۔ بہت سے پاکستانیوں کی نظر میں پشتون رہنما خان عبدالغفارخان باچا خان کے علاوہ کوئی اور رہنما قیام پاکستان کا مخالف نہیں تھا حالانکہ علمائے دیوبند اور جماعت اسلامی نے بھی تقسیم ہندوستان کی مخالفت کی تھی لیکن نہ تو کوئی انہیں غدار کہتا ہے اور نہ مانتا ہے، بس ایک پشتون رہنما ہی ہے جو کافر بھی ہے اور غدار بھی ۔

 

اس ملک میں اگر ایک پشتون کسی غیر پشتون کے بارے میں کچھ کہتا ہے تو اس پر پاکستان توڑنے اور افغانستان یا ہندوستان کا ہمدرد ہونے کا الزام لگایا جاتا ہے لیکن پشتونوں کی تضحیک کرنے کو محض مذاق سمجھ کر فراموش کردیا جاتا ہے۔ پشتون پاکستان میں رہنے والی دوسری بڑی قومیت ہے ان کے خلاف بات کرنا پاکستانیت کے خلاف بات کرنا ہے۔ جس طرح اور قومیتیں گزشتہ اڑسٹھ برسوں سے اس ملک میں رہ رہی ہیں اسی طرح پشتون، بلوچ، سرائیکی، پوٹھوہاری، کوہستانی، سندھی اور دوسری زبانیں بولنے والے اتنی ہی مدت سے اس ملک میں زندگی بسر کررہے ہیں۔ لیکن کیوں ایک زبان بولنے والا دوسرے کو کم تر سمجھ کر اس کا مذاق اڑا رہا ہے؟

 

اگر پشتونوں کو فلموں اورڈراموں میں ارادتاً اور غیرضروری طور پر تضحیک کا نشانہ بنایا جا رہا ہے تو اس قوم سے تعلق رکھنے والا ہر شخص یہ حق رکھتا ہے کہ وہ کہے، پوچھے اور لکھے کہ کیونکر ایسا ہورہا ہے؟ آج اگر ہم چُپ رہے تو شاید پھر کبھی بھی نہیں بول سکیں گے۔ آج بولنا ہوگا اپنے لیے، اس ملک اور اس دھرتی پر رہنے والے ہر شخص کے لیے کیونکہ یہاں سب برابر ہیں چاہے کوئی کسی بھی قومیت سے ہو، نسل سے ہو، مذہب سے ہو یہاں کسی کو کسی پر فوقیت حاصل نہیں۔ یہاں سب انسان رہ رہے ہیں اور سب کو پہلے انسان سمجھ کر مخاطب کرنا ہوگا ۔ پشتونوں اور دیگر تمام قومیتوں کے خلاف دل آزار لطائف اور فرسودہ اور غلطالعام تصورات کو رد کرنا ضروری ہے، اگر ایسا نہیں ہوا تو پھر 1971ء کو گزرے ابھی اتنا عرصہ نہیں ہوا ہے ۔
Categories
نقطۂ نظر

آزادی کے 68 برس اور پاکستانی شہری کا المیہ

یہ کائنات ایک عظیم و برتر نصب العین کی جانب ارتقاءپذیر ہے، ایک حتمی نصب العین کی جانب یہ ارتقاء ایک فکری و عقلی لزوم کے تحت وقوع پذیر ہے۔ عظیم فلسفی ارسطو کے مطابق کا ئنات کے جزولاینفک یعنی انسان کا خاصہ اُس کاتدبر ہے جو اُسے اُس کے نصب العین کی جانب گامزن کرتا ہے۔ یوں انسان پر بحیثیت فکری حیوان اولین ذمہ داری یہ عائد ہو تی ہے کہ وہ اپنی زندگی میں اعلیٰ فکری مقاصد ترتیب دے۔افراد کے لیے نصب العین کے تعین اور اِس کے حصول کے لیے ریاستی ڈھانچہ کلیدی حثیت رکھتا ہے۔ ریاستی ڈھانچہ ہی دنیا کے سٹیج پر انسانی کردار کا تعین کرتا ہے۔ جس نوع کی ریاست ہوگی، اُسی ڈھنگ کے باشندے اس ریاست میں پروان چڑھیں گے۔
پاکستان بفضلِ ربی 68 برس کا ہو چکا ہے، خدا عمر دراز کرے (آمین) لیکن حیف کے غیرمتوازن پاکستانی ریاست اپنے افراد کو کوئی بڑا مقصدِ حیات دینے میں ناکام رہی ہے۔ ریاستی نطام کوئی بھی ہو، اُس کا غیر متوازن اوربے ڈھنگا طرز معاملت نہ صرف انسانی فکر کو غیر فعال بناتا ہے بلکہ فرد کی اخلاقی تربیت اور ترقی میں بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔اس تناطر میں پاکستانی نوجوان کی ذہنی کیفیت کا جائزہ مایوس کن حقائق پر منتج ہوتا ہے۔ آج کے پاکستانی نوجوان کا بڑے سے بڑا مقصد ایسی ڈ گری کا حصول ہےجس کے بعد کوئی موافق ذریعہ معاش میسر آ سکے۔ مذکورہ مقصد میں کامیابی کے بعد آئندہ جستجو دوسروں کی نظروں میں اپنا سماجی مقام بلند کرنے کی غرض سے اپنے مال و اسباب میں اضافے کی ہوتی ہے۔ افسوس کے آج کا پاکستانی نوجوان اس مقصد کے لیے ہراخلاقی و قانونی حد عبور کرنے کو تیار ہے۔
بہترین ذریعہ معاش کی فکر اور آسودہ زندگی کا خواب یقیناً ہر انسان کا حق ہےلیکن انہیں مقصد حیات سمجھ لینا اور اپنی ساری زندگی صرف اسی تگ و دو میں صرف کر دینا دانشمندانہ طرز عمل نہیں۔
بہترین ذریعہ معاش کی فکر اور آسودہ زندگی کا خواب یقیناً ہر انسان کا حق ہےلیکن انہیں مقصد حیات سمجھ لینا اور اپنی ساری زندگی صرف اسی تگ و دو میں صرف کر دینا دانشمندانہ طرز عمل نہیں۔ زندگی سے متعلق یہ روِش انسان اور اُس کے فکری مقاصد کی نفی کرتی ہے۔ در حقیقت یہ ہم پاکستانی شہریوں کے مقاصد ِ حیات کا تنگ دائرہ ہی ہے جو ہمیں اخلاقی گراوٹ کی اس پست سطح تک لے آیا ہےجہاں ہمارے معاشرے میں درندگی کھلے عام ناچتی ہے۔ وگرنہ یہ کیسے ممکن تھا کہ قصور میں ۳۰۰ بچے انتظامیہ کی غفلت کے باعث درندہ صفت انسانوں کے نجس ارادوں کا شکار ہوتے؟
اگر پاکستانی ریاستی اور معاشرتی ڈھانچہ اپنے باشندوں یہ باور کروا سکتا کہ مطلق انفرادیت محض ایک التباس ہےاور انسان کی پہچان کا سفر اس سے آگے شروع ہوتا ہے تو یقیناً گزشتہ 68 برسوں میں ہم نامور فلسفی، مفکر، دانشور، اد یب، فنکار، سائنسدان، غرض ہر شعبہ زندگی میں دنیا کو بہترین دماغ دینے والی قوم کے طور پر پہچانے جاتے۔ اگر ایسا ممکن ہوتا تو دنیا میں ہماری حیثیت طفیلیے کی بجائے خود کفیل کی سی ہوتی۔
دنیا کی بیشتر قوموں کی طرح اگر پاکستانی شہری بھی ایک عام سطح کی حیوانی زندگی سے بلند ہو کر اپنے فکری پہلوؤں کا عرفان حاصل کر سکتا ہوتا تو وہ یقیناّ قدرت کے تحفہ، یعنی زندگی کو ایک ذمہ داری کے طور پر قبول کرتا۔ وہ زندگی سے متعلق سنجیدہ فیصلے کرنے کا اہل ہوتا اور یقیناً انفرادیت اور نفس پسندی سے بلند ہو کر معاشرہ کی اجتماعی فلاح کے لیے زیادہ سے زیادہ فعال کردارادا کرنے کا سوچتا۔ یہی وہ طرزِ حیات ہے جو اعلیٰ اخلاقی کردار پر منتج ہوتا ہے اور دیگر مسائل جیسے مذہبی جنونیت، دہشت گردی، ظلم اور بربریت کی روک تھام میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ یہی طرز عمل انفرادی و نجی تعلقات بھی ہموار بناتا ہے اور رنگ، نسل، زبان، اور مرد و زن کے تعصبات سے انسانی فکر کو آزاد کرتا ہے۔
افلاطون کی مثالی ریاست کا تصور ہو یا ارسطو کے سیاسی افکار، دونوں اس نکتے پر متفق نظر آتے ہیں کہ ریاست کا اولین فرض افراد کے لیے زیادہ سے زیادہ مسرت اور آرام کا حصول یقینی بنانا ہے۔
پاکستانی ریاستی نظام متفرق کمزوریوں جیسے مقننہ پر مذہبی فکر کا غلبہ، کمزور عدلیہ، نا قص انتظامیہ اور بدعنوانی کا شکار ہے۔ یہ نقائص اپنی جگہ ایک الگ موضوع ہیں تاہم یہاں ریاستی نظام کے اُن بنیادی فرائض کی فہرست اور اُن کا فکری تجز یہ ضروری ہے۔ افلاطون کی مثالی ریاست کا تصور ہو یا ارسطو کے سیاسی افکار، دونوں اس نکتے پر متفق نظر آتے ہیں کہ ریاست کا اولین فرض افراد کے لیے زیادہ سے زیادہ مسرت اور آرام کا حصول یقینی بنانا ہے۔ گویا افراد کی زندگیوں میں ریاست کا کردار وہی ہے جو اولاد کی زندگی میں ماں باپ کا ہوتا ہے۔ جس طرح ماں باپ کی ترجیحات میں اولاد کی مادی ضروریات شامل ہیں اسی طرح ریاست کا اولین فریضہ ہے کہ وہ افراد کی بنیادی ضروریات کی فراہمی سے پہلو تہی نہ کرے۔
حکماء قدیم کے سیاسی افکار سے لےکر دور جدید کے عمرانی معاہدے کے نظریاتی مباحث تک، جان لاک ہو یا تھامس ہل گرین، اِن کا بنیادی نکتہ ریاست اور افراد کے مابین تعلق کی وضاحت کرنا ہے کہ کس طرح ریاست اور افرادایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ جہاں افراد ریاست میں رہتے ہوئے اپنے متعینہ فرائض سرانجام دینے کےذمہ دار ہیں، وہیں ریاست کا فرضِ عین ہے کہ وہ افراد کی مسرت، آرام، آزادی اور ملکیت جیسے حقوق کا تحفظ اور ان کی فراہمی کا اہتمام کرے۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو بھوک، افلاس، امتیازی سلوک، بے ایمانی، دھوکہ دہی اور دہشت گردی سے مکمل تحفظ فراہم کرے۔
ریاست صرف اُسی صورت میں افراد کو بلند و بالا مقاصدِ حیات اپنانے پر آمادہ کر سکتی ہے، جب وہ افراد کی مادی ضروریات کی فراہمی تسلی بخش انداز میں ممکن بنائے گی۔
تاہم یہاں یہ سمجھنا انتہائی ضروری ہے کہ ریاستی ذمہ داریاں اور اس کے وظائف لازم و ملزوم مگر جداگانہ تصورات ہیں۔ کسی بھی ریاست کا بنیادی وظیفہ یہ ہونا چاہیئے کہ وہ افراد میں صحت مند اذہان کی نشوونما اور افزائش کے لیے سازگار ماحول پیدا کرے۔ ریاست صرف اُسی صورت میں افراد کو بلند و بالا مقاصدِ حیات اپنانے پر آمادہ کر سکتی ہے، جب وہ افراد کی مادی ضروریات کی فراہمی تسلی بخش انداز میں ممکن بنائے گی۔اور یہی وہ صورت ہوگی جب ریاست اپنا فطری وظیفہ اور اپنے بنیادی فرائض ادادکرنے کی اہل ہو گی۔ صرف اسی طرح ریاست شہریوں کو بھوک، افلاس، جرائم، دہشت گردی، ذہنی و فکری مغالطوں اور نفسیاتی اُلجھنوں سے نجات دلا کر انہیں ریاست میں اپنا فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دے سکے گی۔
ریاست کے لیے جہاں آئین کلیدی حیثیت رکھتا ہے وہیں قواعدپر عمل درآمد میں حکومت کا کردار مرکزی ہے۔ حکام اگر ریاست کے مذکورہ بالا فطری وظیفہ کی انجام دہی پر توجہ دیں تو وہ وقت دور نہیں جب پاکستان بہترین اذہان پیدا کرنے میں کامیاب ہو گا، اور اخلاقی فرائض کی ادائیگی میں اس کا شمار دنیا کی صفِ اول کی اقوام میں ہو گا۔اس وقت پاکستانی شہریوں کو ایک عام درجے کی حیوانی زندگی سے نجات دلانا ضروری ہے۔ اور اس کے لیے لازم ہے کہ ہماری سیاسی شخصیات کا کردار سقراطِ ثانی کا سا ہو جو افراد کو یہ باور کروا سکیں کہ “اپنے آپ کو پہچانو”۔
Categories
نقطۂ نظر

شُتر بے مہار پاکستانی میڈیا

پاکستانی میڈیا کی رپورٹنگ ، خبریں پیش کرنے کے انداز اور بریکنگ نیوز کی بے نتیجہ دوڑ کو دیکھ کر کوئی بھی ذی شعور انسان اس طرز صحافت کی ستائش نہیں کر سکتا۔ آخر کیا وجہ ہے کہ الیکٹرانک میڈیا اس قدر آزاد ہوگیا ہے کہ صحافیانہ قواعد وضوابط کو بالائے طاق رکھ کر حساس مسائل کی غیرذمہ دارانہ کوریج کررہا ہے ۔ یہ رحجان کوئی بھی صحت مند معاشرہ قبول نہیں کرسکتا۔ میرے خیال میں پاکستانی میڈیا نے ہندوستانی میڈیا کا اثر ضرورت سے زیادہ قبول کرلیا ہے۔ جس طرح پڑوسی مُلک میں خبروں کو تڑکہ لگا کر، قافیہ آرائی کی چاشنی کے ساتھ فلمی گانوں کی تال پر لہک لہک کر پیش کیا جاتا ہے پاکستانی چینل بھی اسی ڈگر پر چل نکلے ہیں۔
ابھی چند ماہ قبل پاکستان کی ایک مشہور ماڈل ایان علی کروڑوں روپے مالیت کی غیر ملکی کرنسی بیرون ملک سمگل کرتے ہوئے پکڑی گئی تو تمام چینلوں پر آیان علی کی خوش روئی کے چرچے نظر آنے لگے۔ کوئی پوچھے کہ کیا ملزم کی خوبروئی بھی کبھی بریکنگ نیوز ہوئی ہے؟
جس طرح پڑوسی مُلک میں خبروں کو تڑکہ لگا کر، قافیہ آرائی کی چاشنی کے ساتھ فلمی گانوں کی تال پر لہک لہک کر پیش کیا جاتا ہے پاکستانی چینل بھی اسی ڈگر پر چل نکلے ہیں۔
کیا یہ بھی خبر ہے کہ آیاجیل کے اندر بیوٹی پارلر کی سہولت موجود ہے یا نہیں؟
روزانہ کی میڈیا کوریج ” پروٹوکول “بن چکی ہے اور ایک قبیح جرم ”کارنامہ” بن گیا ہے۔
عدالت میں پیشی ”بریکنگ نیوز” اور جیل کی زندگی ”ایڈونچر”۔
ایسے جرائم کی بیخ کنی میں اپنا کردار ادا کرنے کی بجائے میڈیا نے آیان علی کا جُرم نظرانداز کرکے اُن کے بناو سنگھار، تراش خراش اور وضع قطع کو اپنا موضوع بنائے رکھا۔
میڈیا کا یہی دُہرامعیار پاکستان میں بااثر مجرموں کے تحفظ کا سبب بنتا ہے۔
امیر پکڑا جائے تو پروٹوکول اور غریب پکڑا جائے ، تو چھترول ۔
پھر بھی ہمارامیڈیا گلا پھاڑ پھاڑ کر حیرت سے پوچھتا ہےکہ پاکستان میں اتنی کرپشن کیوں ہے، پاکستان میں اتنی بدامنی کیوں ہے؟اس کا علاج کیا ہے؟
رہی سہی کسر انعام گھر جیسے پروگراموں نے پوری کردی،اس قسم کے پروگرام تقریباً ہر ٹی وی چینل پر دکھائے جارہےہیں جہاں میزبان حاتم طائی بنے بیٹھے ہیں جو کبھی دُونی کا پہاڑہ سُن کر موٹر سائیکل کی چابی تھما دیتے ہیں تو کبھی کچا پاپڑ پکا پاپڑ کہنے والے کو کیو موبائیل بانٹتے پھرتے ہیں۔ پتہ نہیں یہ پروڈیوسر صاحبان ایسے پروگراموں میں ہندوستان کی نقل اُتارنا کیوں بھول گئے؟ ذہنی صلاحیت کی بُنیاد پر لوگوں کو مقابلے کی دعوت دینے کی بجائے بیہودگی اور سطحیت میں بازی لے جانے کی ترغیب دی جارہی ہے۔ مقابلے اور صلاحیت کے امتحان کی بجائے جو جتنا بڑا خوشامدی ہے وہ اتنے ہی بڑے انعامات لے کر جارہا ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ آخر ٹی وی چینلوں کا انعام بانٹنے اور ذہنی آزمائش کا وہ کون سا پیمانہ ہے کہ جس سے پروگرام کے شرکاء اور ناظرین فیض یاب ہورہے ہیں؟ ایسے پروگراموں سے تو طارق عزیز کا نیلام گھر ہزار درجے بہتر تھا جہاں لوگ اپنی ذہانت کے بل بوتے پر کار کا انعام جیت کر اپنے گھروں کو جاتے تھے۔ ایسے پروگرام واقعی معاشرے میں علم کی اہمیت کے فروغ کا باعث بنتے تھے۔
جنرل مشرف کے دور میں جب میڈیا آزاد ہوا تو پورے ملک میں تبدیلی کی لہر اُٹھی۔ ہم نے دیکھا کہ ججز بحالی کی تحریک میں ٹی وی چینل پیش پیش تھے۔ اپنی رپورٹنگ کے باعث میڈیا نے پاکستان کے چوتھے ستون کا مقام حاصل کرلیا تھا۔ لیکن یہ اتحاد بھی زیادہ دیر قائم نہ رہ سکا۔ کچھ خفیہ طاقتوں نے لڑاؤ اور تقسیم کرو کے اُصول کو اپنایا اور میڈیا کو بڑی آسانی سے تقسیم کردیا۔ کچھ ٹی وی چینل تو حریف چینلوں کی ضد میں ہر حد تک جانے کو تیار رہتے ہیں۔ہ اُن کا بس نہیں چلتا تھا کہ مخالف ٹی وی چینل کی نشریات ہی بند کروادیں۔ وہ میڈیا جو اپنے آپ کو اس ملک کا چوتھا ستون کہلواتا تھا اسے سبق سکھانے اور اس کی “اوقات “یاددلانے کے لیے سب سے پہلے جیو ٹی وی کو چُنا گیا جو پاکستان کا سب سے بڑا میڈیا گروپ ہے۔ اُسے دیوار سے لگادیاگیا، اخبارات کی ترسیل روک دی گئی، پورے ملک میں جیوٹی وی کی نشریات کا بائیکاٹ کروایا گیا۔ چند نامعلوم افراد نے کیبل آپریٹرز کو یوں رام کیا کہ کیبل آپریٹر جیو کا نام سُن کر ہی اپنے کانوں کو ہاتھ لگانے لگے تھے۔ جب جیو اور جنگ گروپ کی انتظامیہ کی طبعیت قدرے بہتر ہوگئی تو اسے دوبارہ کام کرنے کی اجازت دی گئی لیکن ساتھ ہی ایک سُرخ لکیر بھی لگا دی گئی کہ خبردار اس لکیر کو عبور کرنے کی کوشش نہ کرناورنہ۔۔۔
اس قسم کے پروگرام تقریباً ہر ٹی وی چینل پر دکھائے جارہےہیں جہاں میزبان حاتم طائی بنے بیٹھے ہیں جو کبھی دُونی کا پہاڑہ سُن کر موٹر سائیکل کی چابی تھما دیتے ہیں تو کبھی کچا پاپڑ پکا پاپڑ کہنے والے کو کیو موبائیل بانٹتے پھرتے ہیں
بظاہر آزاد نظر آنے والا میڈیا کچھ موضوعات پر خاموش ہے، اب پہلے کی سی بے باکی اور حق گوئی نظر نہیں آتی کیونکہ میڈیا گروپس کو سمجھا دیا گیا ہے کہ آپ کی حدود اتنی ہیں پھر نہ کہنا ہمیں خبر نہ ہوئی۔ اس وقت پورے ملک میں غیر رسمی میڈیا سنسر شپ نافذ ہے جس پر پوری طرح سے عمل ہورہا ہے۔ ہمیں برما کے مُسلمانوں کا تو بہت درد ہے اور ہر درد دل رکھنے والے مُسلمان کو ہونا بھی چاہیے۔ لیکن جو آوازیں برما کے مُسلمانوں پر ظلم کے خلاف بُلند ہورہی ہیں جانے کیوں اُنہیں پاکستان میں تین عورتوں اور ایک بچی سمیت زندہ جلائے جانے والا احمدی خاندان کیوں نظر نہیں آیا؟ اُنہیں ہر روز ہزارہ برادری کے گرتے لاشے کیوں نظر نہیں آتے؟ اسی ملک میں اسماعیلی کمیونٹی کے ڈیرھ سوسے زائد مرد وزن کو سروں میں گولیاں مار کر ہلاک کردیا گیا لیکن کسی ٹی وی چینل نے اپنے لوگو کو سیاہ رنگ دینا مُناسب نہ سمجھا۔ اس ملک میں ماما قدیر چند عورتوں اور ایک سات سالہ بچے کے ساتھ برصغیر پاک و ہند کا سب سے بڑا پُرامن احتجاج کرتا ہے لیکن پاکستانی میڈیا اُسے بالکل نظر انداز کرتا ہے ۔ صرف ایک حامد میر نے جرات کی تھی تو اُس کے پیٹ میں بھی پانچ گولیاں اُتار دی گئیں اور باقی سب دبک کر بیٹھ گئے۔ دیکھا صرف یہ جارہا ہے کہ کونسی چیز بک رہی ہے۔ غلط یاصحیح کی بحث سے قطع نظر بس سودا بکنا چاہیئے بھلےساری اخلاقی، معاشرتی اور صحافیانہ اقدار کو بالائے طاق رکھنا پڑے۔
اس وقت پورے ملک میں غیر رسمی میڈیا سنسر شپ نافذ ہے جس پر پوری طرح سے عمل ہورہا ہے
پچھلے دنوں پاکستانی صحافیوں کا ایک وفد تربیت کے لیے امریکہ گیا۔ تربیت کے دوران ایک صحافی نے امریکی اہلکار سے پوچھا کہ آپ کے ہاں روزانہ کتنی بریکنگ نیوز چلتی ہیں؟ امریکی اہلکار حیرت سے اس صحافی کا منہ تکنے لگا۔ اُس نے کہا میں معذرت خواہ ہوں ہمارے ہاں تو مہینے میں ایک یا دو بریکنگ نیوز ہوتی ہیں۔ وہ پاکستان صحافی کہنے لگا کہ میرا سر شرم سے جھک گیا کہ ہمارے ہاں تو کسی سیاسی لیڈر کے ناک پر مکھی بیٹھ جائے تو وہ بریکنگ نیوز بن جاتی ہے۔
آخرکبھی نہ کبھی تو حکومت اور صحافی برادری کو سرجوڑ کر بیٹھنا ہوگا اور ایک ضابطہ اخلاق بنانا ہوگا تاکہ معاشرے میں مثبت صحافتی اقدار فروغ پاسکیں تاکہ کم از کم ہم نہیں تو ہماری آنے والی نسلیں ہی کچھ اچھا دیکھ سکیں۔
Categories
نقطۂ نظر

پاکستانی مصنوعات کے استعمال پر فخر کریں

ہر قوم اپنی مصنوعات پر فخر کرتی ہے اور بحیثیت قوم ہمیں بھی اپنی مصنوعات پر فخر کرنا چاہیے ۔ دنیا کے کئی ممالک میں ہماری مصنوعات کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے لیکن افسوس کہ ان مصنوعات کی ہم اتنی قدر نہیں کرتے۔ آج سے پندرہ بیس سال پہلے جب ہم خریداری کرنے بازار جاتے تھے تو دکاندار اکثر کہا کرتے تھے یہ جاپانی ہے اور یہ دیسی ہے ۔ دیسی کا مطلب اپنے دیس میں بنی ہوئی اور ساتھ ہی دیسی مصنوعات کے بالمقابل جاپانی مصنوعات کی تعریفوں کے پل بھی باندھتے تھے گویا آپ کو جاپانی چیز خریدنے پر قائل کرتے تھے یہی نہیں بلکہ بہت ڈھٹائی کے ساتھ کہتے تھےکہ دیسی کی کوئی گارنٹی نہیں اور جاپانی کی ایک سال کی گارنٹی ہے ۔ ہم اس وقت اکثر سوچتے تھے کہ کاش ہمارے ملک کی مصنوعات بھی اتنی معیاری ہوں کہ دکاندارانہیں فروخت کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہ کریں بلکہ ہم بھی فخریہ انداز میں بازار جاکر کہہ سکیں کہ ہمیں دیسی یعنی پاکستانی مصنوعات ہی خریدنی ہیں ۔
بہت طویل انتظار کے بعد حالات میں کچھ تبدیلی آنا شروع ہوئی اور چند مصنوعات کا معیار بہتر ہوا لیکن ابھی یہ مصنوعات بازارمیں اپنی جگہ بھی نہیں بنا پائی تھیں کہ چینی مصنوعات نے دھوم مچا دی۔ اب ہمارے دکاندار کوئی بھی چیز دکھاتے ہوئے کہنے لگے یہ جاپانی ہے اور یہ چائنا گویا دیسی اشیاء کا تعارف ہی ختم ہوگیا اور دیکھتے دیکھتے پاکستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا پر چینی مصنوعات نے اپنی گرفت اتنی مضبوط کرلی کہ لوگ دیار غیر سے اپنے پیاروں کے لیے جو تحائف بھیجنے لگے تو ان پر “میڈ ان چائنا” لکھا نظر آنے لگا۔ چاہے وہ امریکہ ہو،یورپ ہو یا عرب ممالک ہر چیز پر چین کی مہر کندہ ہے۔ حد تو یہ ہے جناب کہ میں نے ایک دفعہ کہیں ایک خبر پڑھی کہ امریکی صدر اوباما جو ٹوتھ برش استعمال کرتے ہیں اس پر بھی میڈان چائنا کندہ ہے ۔
ہم اس وقت اکثر سوچتے تھے کہ کاش ہمارے ملک کی مصنوعات بھی اتنی معیاری ہوں کہ دکاندارانہیں فروخت کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہ کریں بلکہ ہم بھی فخریہ انداز میں بازار جاکر کہہ سکیں کہ ہمیں دیسی یعنی پاکستانی مصنوعات ہی خریدنی ہیں
میں یہاں ایک واقعہ آپ کے گوش گزار کرنا چاہتا ہوں کہ لوگ اپنے ملک کی مصنوعات کو کتنی اہمیت دیتے ہیں۔ میرا عالمی نشریاتی اداروں سے کافی تعلق رہا ہے اکثر و بیشتر اس حوالے سے کئی غیر ملکی یہاں آکراپنی نشریات کے حوالے سے تقریبات منعقد کرتے ہیں۔ ایسی ہی ایک تقریب کے لیے ڈی ڈبلیو ٹی وی (جرمن ٹی وی)کی ایک ٹیم کراچی آئی اس ٹیم کے سربراہ جرمن تھے۔ ہم ریڈیو کے حوالے سے ایک دستاویزی فلم کی عکسبندی کے لیے کراچی شہر میں ان کے ساتھ کام کررہے تھے کہ اچانک ان کے قلم نے لکھنا بند کردیا میں نے انھیں فوراًاپنی جیب سے قلم نکال کر انہیں دیا انہوں سے قلم کو غور سے دیکھا اور کام کرکے مجھے واپس کردیا اور کہا کہ مجھے ایک قلم خریدنا ہے۔ اس غرض سے ہم بازارگئے تو انہوں نے دکاندار سے کہا کہ مجھے جرمان ساختہ قلم چاہیے ۔مختصر یہ کہ ہم نے کئی بازار کھنگال ڈالے بہت محنت اور مشقت کے بعد ہمیں وہ قلم میسر آیا جس پر “میڈ ان جرمنی” لکھا تھا۔ قلم خریدنے کے بعدان کے چہرے پر ایک فاخرانہ مسکراہٹ نظر آئی مجھے بہت اچھا لگا کہ بندہ اپنے ملک کی بنی چیز کے لیے اتنا بے تاب تھا۔
کاش ہمارے ملک میں بننے والی تمام مصنوعات کا معیار بھی ایسا ہو جائے کہ ہرپاکستانی ہمارے ملک کا نام لے کر اشیاء طلب کرے ۔اگرچہ آج بھی ہماری کئی مصنوعات ایسی ہیں جن کے مدمقابل کوئی نہیں ہے جس کی ایک زندہ مثال ورلڈ کپ فٹبال میں استعمال ہونے والی فٹبال ہیں جن کو دنیا کی بہترین فٹ بال قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح اور بہت سی مصنوعات ہیں جنھیں غیر ممالک میں پذیرائی حاصل ہے۔ ہمیں اپنے ملک کی بنی مصنوعات پر نا صرف فخر کرنا چاہیئے بلکہ خریداری کرتے ہوئے کسی بھی دوسرے ملک کی مصنوعات پر اپنے ملک کی مصنوعات کو ترجیح دینی چاہئیے ۔
Categories
نقطۂ نظر

امریکہ میں پاکستانی

بدقسمتی سے اردو مذہبی انتہا پسندوں کے ہاتھ لگ گئی ہے چاہے وہ پاکستان جیسا پسماندہ ملک ہو یا امریکہ جیسا ترقی یافتہ ملک، اردو زبان میں لکھنے والوں کی اکثریت پاکستانیوں کی ذہنی پسماندگی کم کرنے کی بجائے اس میں اضافہ ہی کررہی ہے
امریکہ نہ صرف دنیا کا ایک بڑا ملک بلکہ عالمی طاقت ہے۔ اس کی معیشت بہت بڑی اور مضبوط ہے۔ اسے’’ مواقع کی سرزمین‘‘(Land of Opportunity)بھی کہا جاتا ہے جہاں دنیا بھر خاص کر پسماندہ اور ترقی پذیر ممالک کے نوجوان ہر جائز و ناجائز طریقہ اختیار کرکے آنا چاہتے ہیں۔امریکی نظام معیشت سرمایہ دارانہ ہے، یہاں ہر کسی کوکام کرنا پڑتا ہے ۔ عام تاثر یہ ہے کہ امریکہ میں زندگی سخت ہے ۔ بے شک زندگی سخت ہے مگر یہاں پاکستان کے برعکس محنت کا معاوضہ پورا ملتا ہے اور کم سے کم تنخواہ پانے والے کو بھی زندگی کی بنیادی سہولتیں حاصل ہیں۔
پاکستان میں بھی زندگی اتنی آسان نہیں، لوگ سخت محنت کرتے ہیں مثال کے طور پر ایک پھل فروش یا چنے کی ریڑھی لگانے والا صبح سے لے کر شام تک سخت موسم میں چاہے گرمی ہو یا سردی ،بارش ہو یا دھند کھڑا رہتا ہے مگر اس مشقت کے بعد بھی اتنی بچت نہیں ہوتی کہ وہ اپنا معیار زندگی بلند کر سکے یا اپنے بچوں کو اچھی تعلیم دلا سکے بلکہ وہ کسمپرسی کی زندگی گزار کر اس دنیا سے رخصت ہو جاتا ہےمگر امریکہ میں ایسا نہیں اگر آپ محنت کرتے ہیں توآپ کا معیار زندگی نہ صرف بلند ہوتا ہے بلکہ آپ کے بچوں کو بہترین تعلیم کے مواقع ملتے ہیں۔
۱مریکہ میں پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے جو تقریباً زندگی کے ہر شعبے میں کام کر رہے ہیں۔یہاں سے اردو کے چار پانچ ہفتہ وار اخبارات بھی شائع ہوتے ہیں۔ یہاں اخبارات فروخت نہیں ہوتے بلکہ دیسی سٹورز پر مفت ملتے ہیں۔ ان کی آمدنی کا ذریعہ اشتہارات ہیں جو زیادہ تر دیسی افراد کے کاروبار کی تشہیر کے لیےہوتے ہیں۔ان اخبارات کا صحافت سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ بھی دکانداری کی ایک قسم ہے۔
خبروں اور مضامین کے لحاظ سے ان اخبارات کا معیار انتہائی پست ہے۔ مذہبی انتہا پسندی کو فروغ دینے والی خبریں اور مضامین پاکستانی اخبارات سے نقل کر لیے جاتے ہیں ۔ کچھ مضامین امریکہ میں رہنے والے پاکستانی لکھتے ہیں جو اسلامی نظام کی خوبیاں بیان کرتے ہیں یا اس کے خلاف ہونے والی سازشوں کو بے نقاب کرتے ہیں ۔کچھ کالم نگار امریکیوں کو بیوقوف سمجھ کر ان کا مذاق اڑاتے ہیں۔بدقسمتی سے اردو مذہبی انتہا پسندوں کے ہاتھ لگ گئی ہے چاہے وہ پاکستان جیسا پسماندہ ملک ہو یا امریکہ جیسا ترقی یافتہ ملک، اردو زبان میں لکھنے والوں کی اکثریت پاکستانیوں کی ذہنی پسماندگی کم کرنے کی بجائے اس میں اضافہ ہی کررہی ہے۔
امریکہ میں بسنے والے پاکستانی اور ہندوستانی مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد نائن الیون کو یہودیوں کی سازش سمجھتے ہیں،ان کا کہنا ہے کہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کو امریکہ نے خود تباہ کیا ہے تاکہ وہ مسلمانوں پر حملہ کر سکے
اوسط درجے کا پاکستانی (بلکہ ہندوستانی مسلمان بھی) تو دور کی بات انتہائی پڑھے لکھے افرادیعنی وکیل، ڈاکٹر اور انجینئرزکی اکثریت امریکہ کو ایک سازشی ملک قرار دیتی ہے۔مگر وہ یہ نہیں سوچتے کہ اگر مغربی ممالک یا امریکہ نے مسلمانوں کے خلاف سازشیں ہی کرنی ہیں تو پھر ہر سال ان کو اپنی شہریت کیوں دیتا ہے؟ انہیں اپنے ہاں وہ تمام مذہبی آزادیاں دیتا ہے جو مسلمانوں کو اپنے ملک میں بھی حاصل نہیں؟جبکہ اسلامی ریاست میں غیر مسلم دوسرے درجے کے شہری ہوتے ہیں۔یہ امریکہ ہی ہے جہاں رہ کر اس کے نظام پر لعنت ملامت کی جا سکتی ہے وگرنہ کوئی اسلامی ریاست یہ حق دینے کو تیار نہیں کہ آپ اس کے خلاف کوئی بات بھی کر سکیں کیونکہ اسلامی ریاست تو اطاعت امیر کے بغیر چل ہی نہیں سکتی۔
کہا جاتا ہے کہ مسلمان کبھی جمہوریت کو اپنا نہیں سکتا کیونکہ اسلام میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ہاں اقتدار میں آنے کے لیے وہ جمہوریت کو بحالت مجبوری قبول کرلیتے ہیں۔ ترکی کے وزیراعظم طیب اردگان نے کہا تھا کہ جمہوریت ایک ایسی ٹرین ہے جب آپ کا مطلوبہ سٹیشن آجائے تو وہاں اتر جائیں اور یہی کچھ مصر کے سابقہ صدر مرسی نے کیا ۔
مسلمان جمہوریت کو فریب کاری سمجھتے ہیں اور خلافت کے دعویدار ہیں۔ علامہ اقبال بھی کہیں فرما گئے ہیں جمہوریت میں سر گنے جاتے ہیں دماغ نہیں۔ایک پاکستانی انجینئر کا کہنا ہے کہ امریکہ کاجمہوری یا انتخابات کا نظام دھوکہ دہی پر مبنی ہے۔ یہاں پہلے سے فیصلے ہو جاتے ہیں کہ کس کو جتوانا ہے اور کس کو نہیں۔ان کے خیال میں امریکی میڈیا بالکل آزاد نہیں ہے۔ اصل بات (جس کا شاید انہیں خود بھی علم نہیں) وہ عوام کو بتاتا نہیں۔نہ ہی وہ’’ اصل بات‘‘ امریکہ سے چھپنے والے اردو کے اخبارات بتاتے ہیں۔
امریکہ میں بسنے والے پاکستانی اور ہندوستانی مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد نائن الیون کو یہودیوں کی سازش سمجھتے ہیں،ان کا کہنا ہے کہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کو امریکہ نے خود تباہ کیا ہے تاکہ وہ مسلمانوں پر حملہ کر سکے وغیرہ وغیرہ۔ ایک سپیشلسٹ ڈاکٹر صاحب کا کہنا ہے کہ امریکی معیشت ایک تیسری قوت چلا رہی ہے جو نظر نہیں آتی یہ قوت چند افراد پر مشتمل ہے جو ہماری قسمتوں کا فیصلہ کرتے ہیں۔
پاکستان میں اگر مسجدوں کی بھرمار ہے تو امریکہ میں چرچ ہر گلی کی نکڑ پر نظر آئیں گے مگر فرق یہ ہے کہ امریکی مزاج سیکولر ہے
کسی زمانے میں پاکستان کی بائیں بازو کی سیاست کرنے والے ایک صاحب اب امریکہ میں زندگی سے لطف اندوز ہو رہے ہیں لیکن ابھی بھی سرد جنگ کے زمانے میں جی رہے ہیں۔وہ امریکہ کے معاشی نظام کے سخت خلاف ہیں لیکن چین اور روس کے سرمایہ دارانہ نظام، جو کہ امریکی نظام سے کئی گنا گھناؤنا ہے ،کی تعریف کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکی معیشت چین کے پیسوں سے چل رہی ہے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ امریکہ چین کی بڑھتی ہوئی قوت سے بہت خوفزدہ ہے اور وہ اس کو ختم کرنے کے بہانے ڈھونڈ رہا ہے اور اب وہ ہندوستان کو اس مقصد کے لیے استعمال کرے گا۔ ان کو یقین ہے کہ جلد ہی چین اور روس امریکہ کو سبق سکھائیں گے۔
اسی نقطہ نظر کے حامل کچھ پاکستانیوں نے امریکہ کی برائیوں میں پی ایچ ڈی کر رکھی ہے ۔ یہ خواتین و حضرات کوئی بھی بات ہو گی وہ فوراً آپ کو بتائیں گے کہ امریکہ میں نئے سال کے آغاز کے بعد کتنے قتل اور ریپ کے واقعات ہوئے ہیں، کتنے لوگوں نے خودکشیاں کی ہیں،کتنے بڑے لوگ مالی بدعنوانی میں ملوث ہیں اور یہاں جیلوں میں کیسے منشیات سمگل کی جاتی ہیں، پولیس کیسے مظلوموں کو مارتی ہے اور یہاں کتنی معاشرتی برائیاں موجود ہیں۔یہ لوگ امریکی معاشرے کی ” برائیاں” لذت لے کر گنوائیں گے۔ ہم جنس پرستوں کو شادی کرنے کی اجازت دینے کی مذمت کرتے ہیں مگر ان کی سالانہ پریڈ بھی بہت شوق سے دیکھتے ہیں۔
امریکہ میں پاکستانیوں کی دو بڑی تنظیمیں ’’اپنا ‘‘APPNA اور ’’ اکنا‘‘ICNA ہیں ۔اول الذکر ڈاکٹروں کی تنظیم ہے اور موخر الذکر امریکہ میں پاکستانی اور بھارتی مسلمانوں کی تنظیم ہے ۔ بلکہ ’’اکنا‘‘ کو جماعت اسلامی کی ذیلی تنظیم کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔ یہ تنظیمیں وقتاً فوقتاً بڑے بڑے سیمینارز منعقد کرتی ہیں مگر کسی تنظیم نے ملالہ یوسفزئی کو نوبل انعام ملنے پر کسی قسم کا ردعمل ظاہر نہیں کیا بلکہ خاموشی اختیار کی۔جب وہ امریکہ آئی تو چند پاکستانی افراد نے اپنی ذاتی حیثیت میں ہندوستانی تنظیم کے ساتھ مل کر اس کے اعزاز میں ایک تقریب منعقد کی۔
پاکستان میں اگر مسجدوں کی بھرمار ہے تو امریکہ میں چرچ ہر گلی کی نکڑ پر نظر آئیں گے مگر فرق یہ ہے کہ امریکی مزاج سیکولر ہے۔ اس کی بنیادی وجہ امریکہ کا سیکولر نظام ہے جبکہ پاکستانی زندگی کے ہر شعبے میں مذہب کو گھسیڑ تے ہیں۔ شاندار ماضی ان کے ذ ہنوں سے نہیں نکلتا۔ہر وقت مسلمانوں کے خلاف ہونے والی غیر ملکی سازشوں کا ذکر کرتے نظر آئیں گے لیکن امریکہ میں انہیں کسی بھی قسم کی مذہبی پابندیوں کا سامنا نہیں۔ امریکہ میں رہتے ہوئے بھی انہیں اس بات کا پکا یقین ہے کہ یورپ اور امریکہ چاہتے ہی نہیں کہ مسلمان ترقی کر سکیں۔
امریکہ میں مسلمانوں کے تمام فرقوں کو مذہبی آزادی حاصل ہے لیکن اس کے باوجود وہ مطمئن نہیں ہیں۔ احساس برتری کاعالم یہ ہے کہ امریکی معاشرے کی خوبیوں کو اسلام سے منسوب کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کتنی بدقسمتی کی بات ہے کہ ان غیر مسلموں نے ہماری اچھی باتیں اپنا لی ہیں۔ایک امام مسجد جمعے کے خطبے میں فرمارہے تھے کہ پاکستان( بلکہ تمام اسلامی ممالک)میں ایمان ہے لیکن ایمانداری نہیں اور امریکہ میں ایماندار ی ہے اور ایمان نہیں۔وہ انتہائی تاسف کا اظہار کرتے ہیں کہ امریکی قوم اندھیرے میں ہے اور وہ ایمان کی روشنی سے فائدہ نہیں اٹھاتی اور ہمارا فرض ہے کہ ان تک ایمان کی روشنی پہنچائیں تاکہ وہ ’’ہماری طرح‘‘ سیدھے راستے پر آ جائیں۔
Categories
خصوصی

بلوچ عورت کی تحریک

[blockquote style=”3″]

ڈاکٹر شاہ محمد مری کی یہ تحریر ماہنامہ سنگت کے مارچ 2015 کے شمارے میں بھی شائع کی جاچکی ہے۔

[/blockquote]

ایک روایتی معاشرہ بھی عجیب ہوتا ہے ؛اپنے رواجوں روایتوں میں سب اچھائیاں تلاش کرتا رہتا ہے۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ انسانی معاشرے میں پیداواری رشتے اور اُن سے وابستہ رسوم و روایات، دوائیوں کی طرح ایک خاص مدت کے بعدزائد المعیاد ہوجاتے ہیں اور اُن کی جگہ بلند تر، پیچیدہ تر اور اعلیٰ تر اقدار مروج ہوجاتی ہیں مگربہت سارے روشن فکر احباب بھی اُن تبدیلیوں کا ادراک نہیں کرپاتے اور بجائے تبدیلیوں کی راہ ہموار کرنے کے وہ ان کی راہ میں رکاوٹیں ڈالتے ہیں۔ایسے افراد یہ جانے بنا کہ اچھائیاں بھی وقت کے ساتھ فرسودہ ہوجاتی ہیں ان تبدیلیوں کےالتوامیں حصہ ڈالتے جاتے ہیں۔
سماج جو مرضی سوچے دنیا بھرکی طرح بلوچ معاشرے میں بھی عورتوں کی تحریک کی بنیادبھی اِس بات پر ہے کہ عورت اپنی موجودہ حیثیت اور مقام سے غیر مطمئن ہے اور اُس کا دوبارہ تعین چاہتی ہے
روایتی معاشرے کا دوسرا بڑا المیہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اکیسویں صدی کے معاملات کے حل کے لیے بھی اس پندرہویں صدی کی حانی و مہناز اور گوہر و سمو کی داستانیں کو کھنگالتا رہتا ہے جب ایٹم، جینیات، خلائی علوم اور کمپوٹر سائنس جیسے علوم موجود نہ تھا۔عورتوں کے بارے میں بھی ہمارا روایتی معاشرہ انہی دو خطوط پر سوچتا ہے۔ مگرتماشایہ ہے کہ سماج جو مرضی سوچے دنیا بھرکی طرح بلوچ معاشرے میں بھی عورتوں کی تحریک کی بنیادبھی اِس بات پر ہے کہ عورت اپنی موجودہ حیثیت اور مقام سے غیر مطمئن ہے اور اُس کا دوبارہ تعین چاہتی ہے اس مقصد کے لیے وہ مروج سماج کو چیلنج کرتی ہے۔تحریک نسواں کا ارتقا اور صورت پذیری ہر سماج میں مختلف ہوسکتی ہے مگر روایت اور موجودات سے عدم اطمینان ہر جگہ اور ہر زمانے میں اس تحریک کا جوہر رہا ہے۔
بلو چ سماج ایک نیم قبائلی اور نیم جاگیردارانہ سماج ہے۔ بلوچ معاشرہ آج جن بڑے مسائل کا مجموعی طور پر شکار ہے اس کے اسباب دو ہیں: ایک غاصب ریاست اور دوسرا یہاں کااپنا سردار؛بے روزگاری، ناخواندگی، پسماندگی اور قتل و غارت انہی دو مظاہر کی وجہ سے ہے۔یہ واضح کرنا بھی بہت ضروری ہے کہ یہ دونوں مسائل ہیں، مسائل کا حل نہیں۔ یہ درست ہے کہ یہ دونوں ایک دوسر ے پر انحصار کرتے ہیں اور ایک لحاظ سے باہم ایک ہی ہیں مگر تاریخ گواہ ہے کہ ہم نے جب بھی اِن میں سے کسی ایک کو نظر انداز کیا، ہم خسارے میں رہے۔
بقیہ پاکستان کے برخلاف بلوچستان میں ایک زبردست سیاسی جمہوری تحریک موجود رہی ہے اور اس تحریک کو ہمیشہ اپنے سماج میں موجود تضادات سے متعلق ایک واضح موقف اختیار کرنا پڑا ہے گو کہ عورتوں سے متعلق اس کا موقف بہت مبہم اور مدہم ہوتا ہے مگرپھر بھی اتنا صاف کہ دوسری پڑوسی (پاکستانی )قوموں میں اس کاثانی نہیں ۔عالمی گاوں بن جانے والی اس دنیا میں بھی ہمارا قبائلی سماج ایک بند اور خفیہ سماج کی شکل میں موجود ہے اور زندگانی کے فطری سخت حالات سے دوچار ہے، بدقسمتی سے ہم ان فطری حالات کا مقابلہ کرنے کی بجائے اس کے اوپر کنکریٹ کی سخت تہیں جماتے رہتے ہیں۔ ان تہہ در تہہ سخت پرتوں میں سوراخ کرکے انسانی آزادی کا راستہ بنا لینا بہت محنت کا کام ہے۔
ہر زندہ سماج کی طرح بلوچ سماج بھی بہت بڑی نعمتوں کے ساتھ ساتھ بہت بڑے مسائل بھی رکھتا ہے اور یہ مسائل اجتماعی بھی ہیں، انفرادی بھی اور گروہی بھی۔معاشرے کے مجموعی مسائل و معاملات کے ساتھ ساتھ کچھ مسائل ایسے ہیں جو صرف عورت کو درپیش ہیں اسی لیےدنیا بھر میں عورتوں کی اپنی ایک الگ آزاد جمہوری تنظیم ہے جو عمومی معاشرتی مسائل کو ساتھ لیے اپنے مخصوص حقوق کے لیے جدوجہد کرتی ہے۔
بلوچ عورت کی حالت ہمارے پورے معاشرے کی طرح کسی بہت بڑی صورت میں بہت عرصے سے تبدیل نہیں ہوئی اورہمارے ہاں فرد کی مانند عورت بھی تمام انسانی حقوق سے محروم ہے۔
بلوچ عورت کی حالت ہمارے پورے معاشرے کی طرح کسی بہت بڑی صورت میں بہت عرصے سے تبدیل نہیں ہوئی اورہمارے ہاں فرد کی مانند عورت بھی تمام انسانی حقوق سے محروم ہے۔ یہ سماج عورت کی آزادی اوربرابری کی شاہراہ کی سب سے بڑی رکاو ٹ (اطاعت گزاری، جمود اور پرانے سماج کے مردہ بوجھ کو اُٹھائے رکھنا) کو خودمستحکم کرتا چلا آیا ہے۔عورتوں کی سماجی حالت میں تبدیلی کے لئے سیاسی تحریک کی ضرورت ہوتی ہے ، صنعت اور صنعتکاری کی ضرورت ہوتی ہے، بڑے پیمانے پر تعلیم اور بحث و مباحث کی ضرورت ہوتی ہےمگر یہ سب عوامل بھر پور انداز میں کبھی میسر نہیں رہے چنانچہ سماجی ڈھانچہ نہیں بدلا اوروہی قبائلی و جاگیردارانہ رشتے برقرار ہیں۔
بلوچستان میں عورتوں کی بڑی تعداد شہر کی بجائے یا تو دیہات میں رہتی ہے ،یا خانہ بدوش ہے ۔یعنی ہماری کارگاہ چراگاہیں اور کھیت ہیں جہاںشہری نعرے بازی کسی کام کی نہیں یہاں سب سے بڑا مسئلہ نیم خانہ بدوشی کو ختم کرنے کا ہے۔ مستقل آبادکاری، چار دیواری اور بستی یا قصبہ کی زندگی سب سے فوری اور ضروری فریضہ ہے۔ اور کیا ایسا موجودہ استبدادی ریاست میں ممکن ہے؟ ا س کے لیے پیداواری رشتے بدلنے ہوں گے۔ اندازہ کیجیے کہ یہ کتنی مشکل، مستقل اور کل وقتی جدوجہد ہے؛اتنے بڑے بلوچستان میں خانہ بدوشوں کو مستقل آبادی میں بسانا بذاتِ خود ایک انقلاب ہے۔
اگر عورت شہری علاقے کی ہے تو اُس کے لیے محض تھکا دینے والی مشقت کو آسان بنانا ہی ضروری نہیں بلکہ اس مشقت سے بچائے ہوئے وقت کا اچھا استعمال بھی ضروری ہے۔ تفریحی مقامات کا بندوبست کرنا ‘کھیلوں کی سہولتیں دینا‘اورتہذیب و تمدن کی نعمتوں کے دروازے کھولنا بھی ضروری ہے۔ عورت کے لیے تعلیم کے بعد تربیتی مراکز قائم کرنا اور انہیں ملازمتیں فراہم کرنا ضروری ہے۔ کارخانے بنا کر ان کے اندر عورتوں کو بھرتی کرنا ضروری ہے ۔ یقین جانیے زمین کی پیداوار کا سرمایہ بننا، صنعتکاری کا وسیع ہونا اور نئے طبقوں اور ان کے اندر نئے تضادات کی پیدائش سماج میں عورتو ں کی حیثیت اور حصہ داری پر بڑے اثرات مرتب کرتی ہے۔ اس نئے سماجی ڈھانچے کی تشکیل سے کثیر زوجگی بھی کم ہوجاتی ہے۔
عورتوں کا مسئلہ سماجی ہے، ایسے تمام لوگ جو عورت کی برابری اور حقوق کا مسئلہ مکمل طور پر حل کرنا چاہتے ہیں انہیں تمام انسانوں کے مفاد کے لیے پورے سماجی مسئلے کو اپنا مقصد قرار دینا ہوگا۔ انسانی بہبود اور مساوی مواقع کی تحریک کسی ایک طبقے کی تحریک قطعاً نہیں ہے۔ چونکہ سماجی آزادی اور صنفی برابری کے بغیر انسانی آزادی نا ممکن ہے اس لئے انسانی آزادی کی جدوجہد کے قافلے میں عورتوں کی تحریک عام انسانوں یعنی مزدوروں ، ماہی گیروں اور کسانوں کی تحریک کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ ان سب کی یکجائی پوری تحریک کی فتح مندی کی ضامن ہے اور یہ تحریک سماجی انصاف کی تحریک ہے۔
سماجی آزادی اور صنفی برابری کے بغیر انسانی آزادی نا ممکن ہے اس لئے انسانی آزادی کی جدوجہد کے قافلے میں عورتوں کی تحریک عام انسانوں یعنی مزدوروں ، ماہی گیروں اور کسانوں کی تحریک کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔
عورتوں کی جدوجہد کے حوالے سے موجود نظریاتی تذبذب کے باعث مردوں کے ساتھ موجودسماجی حیثیت کے تضاد کو ایک ایسے طریقے سے پیش کیا جاتا ہے تا کہ استحصال شدہ مرد اوراستحصال شدہ عورت باہم بٹ جائیں اور وہ استحصال کرنے والے طبقے کا مقابلہ نہ کرسکیں۔ بعض لوگ یا تو عورتوں کی جدوجہد کو اس کے فطری اتحادی یعنی مزدوروں اور کسانوں کی جدوجہد کی تحریک سے کاٹ ڈالتے ہیں یا پھر اس طرح کے دوسرے لیت پیت کرتے ہیں جن کے نتیجے میں ایسا ماحول بن جاتا ہے جہاں لوگ مرد وزن کے درمیان برابری کو میکانکی برابری سمجھنے لگتے ہیں۔عورتوں کی تحریک ان باتوں سے بہت بلند،بہت پاک و صاف تحریک ہے ۔ اصل منزل موجود ہ ڈھانچہ میں مردوں اور عورتوں میں صرف مساوات حاصل کرنا نہیں ہے بلکہ اس سے بہت زیادہ آگے بڑھنا ہے اور ان تمام رکاوٹوں کو دور کرنا ہے جس کی وجہ سے ایک انسان دوسرے انسان کے تابع ہوجاتا ہے اور ایک جنس دوسری جنس کی محتاج ہوجاتی ہے۔
Categories
اداریہ

سابق برطانوی وزیر اعظم پاکستانی تعلیمی اداروں کے تحفظ میں مدد فراہم کریں گے

رواں ماہ سابق برطانوی وزیراعظم اور اقوم متحدہ کے ایلچی گورڈن براون اور پاکستانی وزیراعظم نواز شریف کے درمیان ہونے والے ایک معاہدے کے تحت سکولوں کے گرد حفاظتی انتطامات اور پیس زون قائم کیے جائیں گے۔ سابق برطانوی وزیراعظم تعلیم کے لیے کام کرنے والے عالمی منصوبے ورلڈ ایٹ سکول کے تحت سکولوں کے تحفظ کے لیے تشکیل دیے گئے تحفظاتی پروگرام کے تحت پاکستانی سکولوں کی حفاظت میں مدد دیں گے۔
سکولوں کے تحفظ کے عالمی منصوبے کے تحت سکولوں کے گرد محافظوں کی تعیناتی، چار دیواری کی تعمیر، سیکیورٹی چیک پوائنٹس کی تعداد میں اضافے کے علاوہ سکولوں میں آمدورفت اور حفاظی عملے کی سخت جانچ جیسے اقدامات کیے جائیں گے۔
سکولوں کے تحفظ کے عالمی منصوبے کے تحت سکولوں کے گرد محافظوں کی تعیناتی، چار دیواری کی تعمیر، سیکیورٹی چیک پوائنٹس کی تعداد میں اضافے کے علاوہ سکولوں میں آمدورفت اور حفاظی عملے کی سخت جانچ جیسے اقدامات کیے جائیں گے۔ اس منصوبے کے تحت سکولوں کے گرد مقامی مذہبی علماء اور برادریوں کے تعاون سے “پیس زون” بھی قائم کیے جائیں گے۔ یہ منصوبہ سکولوں پر حملے کی فوری اطلاع دیگر تعلیمی اداروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دینے کے نظام کی تنصیب اور حساس علاقوں میں قائم سکولوں کو محفوظ علاقوں میں منتقل کرنے میں بھی معاونت فراہم کرے گا۔
منصوبے سے وابستہ سابق برطانوی وزیراعظم گورڈن براون کے مطابق ان اقدامات سے والدین اور طلبہ کو تحفط کا احساس ہوگا،”ان اقدامات سے والدین اور طلبہ کو از سر نویقین دہانی ہوگی کہ انتہا پسندی کے خطروں سے نمٹنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔”یاد رہے کہ پاکستانی تعلیمی اداروں کودنیا بھر کی نسبت شدت پسندوں کی جانب سے سب سے زیادہ حملوںسامنا کرنا پڑرہا ہے اور حکومتی سطح پر سکولوں کی حفاظتی انتظامات بہتر بنانے میں وسائل کی کمی کے باعث خاطر خواہ کامیابی نہیں ہو سکی۔