Categories
نقطۂ نظر

عُروجِ آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے سہما آدمِ خاکی

میاں انار سلطان جمعہ کی نماز ادا کر کے جمائیاں لیتے اپنے دفتر واپس لوٹے۔ تھوڑے بیزار سے دکھائی دیتے تھے۔ سوچوں میں تھے کہ “یہ چار کب بجیں گے، اور دفتر سے چلتا بنوں۔” انتظار کی گھڑیاں تو محبوب کی زُلف کی طرح کبھی سر ہوتی ہی نہیں۔ ہر منٹ، مَن دو مَن سے بھی بھاری ہوتا جا رہا تھا۔ تو پھر اور کیا کرتے، کھول لیا فیس بُک۔ جاتے ہی اپنے سب چاہنے والوں اور کرم فرماؤں کو “جمعتہ المبارک” کا پیغام سٹیٹس اپڈیٹ میں ہدیہ کیا۔ اُس کے بعد اپنی نیوز فیڈ اچھے انداز بھالی تو شاعرِ مشرق کی ایک مشہور غزل کا مقطع تصویری مِیم میں ڈھلا نظر سے گزرا۔

 

عُروجِ آدمِ خاکی سے انجم سہمے جاتے ہیں
کہ یہ ٹوٹا ہوا تارہ مَہِ کامل نہ بن جائے

 

“بس اب آدم سے انجم نہیں سہمتے، بلکہ اب تو آدمی مشینوں سے سہم رہا ہے۔ دیکھو، اپنے ہاتھ کی بِلی انسان کو خود میاؤں میاؤں کرنے لگی ہے، شکستیں دینے لگی ہے۔ سارے انسانی عظمت کے خواب پارہ پارہ کرنے لگی ہے۔”
میاں انار تو رُک ہی گئے اس شعر پہ اور اپنا سَر بے اختیار دُھننے لگے۔ اکیلے میں بیٹھے ہی واہ، واہ کی لذت بیانی کرنے لگے۔ “بس جی، کیا بات ہے حکیمِ مشرق کے کلام کی، جان نکال کے مُٹھی میں کر لیتے ہیں۔” وہ اسی دوران جناب عاجز علمی کو اپنے کمرے میں آتے ہی پا کر بولے۔ اپنی نوزائیدہ سرمستی اور کیف میں انہوں نے جناب عاجز علمی کے سلام کو ہوا ہی کی نظر کر دیا۔ اس پر جناب عاجز علمی چُپ ہی رہے اور بالکل اسی بندے کی طرح ہاتھ ملتے رہ گئے جو کسی مصروفِ کار آدمی کو صاحب سلامت کرتا ہے۔ جوابِ ندارد پر اردگرد دیکھتا ہے کہ کوئی اور تو اس شرمندگی کے لمحے کا چشم دید گواہ نہیں۔

 

جناب عاجز علمی نے کہا کہ “بھئی کہاں اٹکے ہو، کیا عروجِ آدمِ خاکی کے ترانوں میں پھنسے ہو۔ آدمِ خاکی تو خود تھر تھر کانپ رہا ہے۔ سُپر کمپیوٹر جانے کیا سے کیا کرنے چلے ہیں۔” میاں انار سلطان جو کچھ لمحے پہلے تک عُروجِ آدمِ خاکی کی طاری کردہ سرشاری کے عالم سے باہر آنے کی بابت مشکل کا شکار تھے، اچانک چونکے اور کہا ” عاجز علمی صاحب آپ کے ‘عِلمُو یار’ نے کسی کا کچھ نہیں چھوڑنا۔ بس آپ نے ہتھیلی میں کھٹاس پکڑی ہوتی ہے کہ جونہی کوئی سرمستی میں ہو اور آپ اسے نام نہاد ہوش کی دنیا میں لا گرائیں۔ ایسی کیا بات ہو گئی کہ میرا نشہ توڑ ڈالا؟”

 

ہم تو انسان کو اشرف المخلوقات سمجھتے رہے ہیں۔ لیکن ہمیں فکر ہونے لگا ہے کہ آدمی تو خود اپنی بنائی چیزوں سے ہارنا شروع ہوگیا ہے، کیا ہوگا؟ ہائے یہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا بے لگام ہوتا گھوڑا
عاجز علمی بولے کہ “جنوبی کوریا میں پچھلے ہفتے ایک عجب نوع کا رَن پڑا ہے۔ آدمی ہار گیا، مشین جیت گئی!” میاں انار جو اب پورے کا پورا تن بدن تجسس و حیرت ہوئے پڑے تھے بولے،” عاجز علمی صاحب، کچھ تفصیل بتائیے گا۔ پلّے نہیں پڑ رہا کیا کہنا چاہ رہے ہیں آپ!” عاجز علمی خود بھی کافی حیرت کے مارے نُچڑے ہوئی شکل میں بدلے ہوئے تھے، گویا ہوئے، “بس اب آدم سے انجم نہیں سہمتے، بلکہ اب تو آدمی مشینوں سے سہم رہا ہے۔ دیکھو، اپنے ہاتھ کی بِلی انسان کو خود میاؤں میاؤں کرنے لگی ہے، شکستیں دینے لگی ہے۔ سارے انسانی عظمت کے خواب پارہ پارہ کرنے لگی ہے۔” عاجز علمی صاحب چھوٹے چھوٹے جملوں میں اپنے اندر کے کرب کو اور اپنے آدرشوں کی بنیادوں کے ہِلنے کو الفاظ دینے کی کوشش کرتے جا رہے تھے، میاں انار سلطان آنکھیں شیشے کی گولیاں کیے سنتے جا رہے تھے۔

 

عاجز علمی نے بات جاری رکھی، “ہم تو انسان کو اشرف المخلوقات سمجھتے رہے ہیں۔ اپنے تئیں بہت مطمئن رہے ہیں کہ انسان ہی کائنات کا مرکز ہے۔ سب چیزیں اسی کی خدمت کے لئے بنی ہیں اور اس کے ہاتھوں تسخیر ہونے کا انتظار کر رہی ہیں۔ لیکن ہمیں فکر ہونے لگا ہے کہ آدمی تو خود اپنی بنائی چیزوں سے ہارنا شروع ہوگیا ہے، کیا ہوگا؟ ہائے یہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا بے لگام ہوتا گھوڑا!”

 

میاں انار سلطان جن کا انٹرنیٹ سے ربط و تعلق جو پہلے دفتری امور کے سلسلے میں ایک ٹائپ رائٹر کا تھا، اب گزشتہ چند برسوں سے اس سے اتنی ہی نئی رشتے داری قائم ہو پائی تھی کہ انہوں نے اس پر سوشل میڈیا کا استعمال شروع کر دیا تھا۔ سوشل میڈیا میں سے بھی خاص طور پر فیس بُک پر جہاں ان کی مصروفیت تصویروں پہ لائک کرنے، ہلکی پھلکی رومن اردو میں “ماشاللہ” لکھنے تک تھی۔ یا پھر جاوید چودھری، اوریا مقبول جان صاحبان وغیرہ کے کالموں کے ٹکڑے پڑھنےاور جناب جنرل راحیل شریف صاحب کا شکریہ ادا کرنے کی حد تک تھی۔ زیادہ ہوا تو رنگ برنگے سازشی نظریات سے اپنے ایقانات کی شکست و ریخت کے خلاف دفاعی سرنگیں کھود لیتے تھے۔ میاں انار سلطان کے لئے جناب عاجز علمی کی باتیں آج کچھ نیا سا رنگ اور خیال کا آہنگ لئے تھیں۔ چُھٹی میں ابھی وقت بھی تھا اس لئے وقت کی گزاری اور تجسس کی آبیاری کی دنیائیں باہم بڑے اچھے جوڑے کے طور نباہ کر رہی تھیں۔ اب اگر عاجز علمی رکنا بھی چاہتے تو میاں انار سلطان انہیں بات بیچ چھوڑ کے جانے نا دیتے اور عاجز علمی تو تھے ہی پنشن پہ، ان کے پاس وقت ہی وقت تھا۔

 

الفا-گو’ مشین سے ہار کے بہت ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھا۔ آج آدم تسخیر ہونے لگا۔ اور اپنے ہی ہاتھ کی تخلیق سے تسخیر ہونے لگا۔ وہ سہم جانے لگا ہے۔ کیا اب بھی وہی دنیا کا مرکز ہے؟
عاجز علمی، میاں انار کی پر تجسس نظروں سے توانائی پا کر مزید کہنے لگے ” آرٹیفیشل انٹیلیجنس یعنی کمپیوٹروں کا انسانوں کے سے انداز میں یا اسی نوع کے قریب تر انداز میں سوچنے کے عمل کے لطف و اکرام کی تخیلاتی کہانی کوئی لگ بھگ ستر سال پہلے شروع ہوئی۔ بیچ میں آ کر اس سے وابستہ امیدیں کچھ سرد پڑیں لیکن سنہ 1997 میں شطرنج کے عظیم کھلاڑی، گیری کیسپروف، کی آئی بی ایم کے ڈیزائن کردہ سُپر کمپیوٹر ‘ڈِیپ بلیو’ کے ہاتھوں شکست نے آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے وابستہ امکانات کو پھر سے نئی زندگی لوٹا دی۔ مختلف ٹیکنالوجی کمپنیوں نے نئے جوش و جذبے سے اپنے اپنے آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے منصوبہ جات پر کام شروع کر دیا۔ فیس بُک والے بھی اس پہ مصروفِ کار ہیں لیکن گُوگل نے جب سے برطانوی کمپنی ‘ڈِیپ مائینڈ’ کو اپنی کاروباری تحویل میں لیا ہے یہ اس بابت کافی پیش رفت کر چُکے ہیں۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی اس مارچ کے مہنے میں جنوبی کوریا کے شہر سیئول میں جاری ہے۔ اسی رواں انسان بمقابلہ ٹیکنالوجی مقابلے ہی میں ایک ہزاروں برس پرانے بورڈ پہ کھیلے جانے والے چینی کھیل ‘گو’ کے موجودہ عہد کے جنوبی کوریا کے چیمپئن کھلاڑی، لِی سیڈول کو ہار کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ہار، جیت کھیل کا حصہ ہوتی ہے لیکن زیادہ ہِلا دینے والی بات یہ ہے کہ پانچ کھیلوں میں سے مسلسل تیسرے مقابلے میں ہارنے پر وہ چمپئین کھلاڑی جو دنیا میں ‘گو’ کھیل کے سلسلے میں پچھلے دہائی کے زیادہ تر برسوں میں عالمی نمبر ون رہا، بہت پریشان دکھائی دیا۔ میچ کی اختتامی پریس کانفرنس میں لِی سیڈول نے کہا کہ دورانِ میچ اسے کسے لمحے کھیل پہ کنٹرول کا احساس نہیں ہوا۔ ایک بہترین اور ذہین ترین انسان آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی پروردہ مشین گوگل کمپنی کی ‘الفا-گو’ مشین سے ہار کے بہت ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھا۔ آج آدم تسخیر ہونے لگا۔ اور اپنے ہی ہاتھ کی تخلیق سے تسخیر ہونے لگا۔ وہ سہم جانے لگا ہے۔ کیا اب بھی وہی دنیا کا مرکز ہے؟ بشر مرکزیت کے تصورِ کائنات کا کیا مستقبل ہو گا؟”

 

عاجز علمی صاحب کا ذہن سوالوں کی بوچھاڑ سے چھلنی ہوا جا رہا تھا۔ وہ گُم سُم سے ہوگئے۔ البتہ پاس بیٹھ چار بجے کے انتظار کرنے کو بھول جانے والے میاں انار سلطان کی نظر اپنی کلائی گھڑی پر پڑی، بولے ” اوہ ہو، چار بج گئے، چھٹی کا ٹائم ہوگیا، آؤ عاجز علمی صاحب اب دفتر سے چلتے ہیں۔ عصر کا وقت ہونے والا ہے میری نماز میں دیر نا ہو جائے۔” میاں انار سلطان کا تجسس نماز کے وقت کی آمد سے ہرن ہو گیا، البتہ عاجز علمی بھاری سَر کے ساتھ بوجھل قدموں ہی چل پڑے۔
Categories
نقطۂ نظر

پاکستانی مصنوعات کے استعمال پر فخر کریں

ہر قوم اپنی مصنوعات پر فخر کرتی ہے اور بحیثیت قوم ہمیں بھی اپنی مصنوعات پر فخر کرنا چاہیے ۔ دنیا کے کئی ممالک میں ہماری مصنوعات کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے لیکن افسوس کہ ان مصنوعات کی ہم اتنی قدر نہیں کرتے۔ آج سے پندرہ بیس سال پہلے جب ہم خریداری کرنے بازار جاتے تھے تو دکاندار اکثر کہا کرتے تھے یہ جاپانی ہے اور یہ دیسی ہے ۔ دیسی کا مطلب اپنے دیس میں بنی ہوئی اور ساتھ ہی دیسی مصنوعات کے بالمقابل جاپانی مصنوعات کی تعریفوں کے پل بھی باندھتے تھے گویا آپ کو جاپانی چیز خریدنے پر قائل کرتے تھے یہی نہیں بلکہ بہت ڈھٹائی کے ساتھ کہتے تھےکہ دیسی کی کوئی گارنٹی نہیں اور جاپانی کی ایک سال کی گارنٹی ہے ۔ ہم اس وقت اکثر سوچتے تھے کہ کاش ہمارے ملک کی مصنوعات بھی اتنی معیاری ہوں کہ دکاندارانہیں فروخت کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہ کریں بلکہ ہم بھی فخریہ انداز میں بازار جاکر کہہ سکیں کہ ہمیں دیسی یعنی پاکستانی مصنوعات ہی خریدنی ہیں ۔
بہت طویل انتظار کے بعد حالات میں کچھ تبدیلی آنا شروع ہوئی اور چند مصنوعات کا معیار بہتر ہوا لیکن ابھی یہ مصنوعات بازارمیں اپنی جگہ بھی نہیں بنا پائی تھیں کہ چینی مصنوعات نے دھوم مچا دی۔ اب ہمارے دکاندار کوئی بھی چیز دکھاتے ہوئے کہنے لگے یہ جاپانی ہے اور یہ چائنا گویا دیسی اشیاء کا تعارف ہی ختم ہوگیا اور دیکھتے دیکھتے پاکستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا پر چینی مصنوعات نے اپنی گرفت اتنی مضبوط کرلی کہ لوگ دیار غیر سے اپنے پیاروں کے لیے جو تحائف بھیجنے لگے تو ان پر “میڈ ان چائنا” لکھا نظر آنے لگا۔ چاہے وہ امریکہ ہو،یورپ ہو یا عرب ممالک ہر چیز پر چین کی مہر کندہ ہے۔ حد تو یہ ہے جناب کہ میں نے ایک دفعہ کہیں ایک خبر پڑھی کہ امریکی صدر اوباما جو ٹوتھ برش استعمال کرتے ہیں اس پر بھی میڈان چائنا کندہ ہے ۔
ہم اس وقت اکثر سوچتے تھے کہ کاش ہمارے ملک کی مصنوعات بھی اتنی معیاری ہوں کہ دکاندارانہیں فروخت کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہ کریں بلکہ ہم بھی فخریہ انداز میں بازار جاکر کہہ سکیں کہ ہمیں دیسی یعنی پاکستانی مصنوعات ہی خریدنی ہیں
میں یہاں ایک واقعہ آپ کے گوش گزار کرنا چاہتا ہوں کہ لوگ اپنے ملک کی مصنوعات کو کتنی اہمیت دیتے ہیں۔ میرا عالمی نشریاتی اداروں سے کافی تعلق رہا ہے اکثر و بیشتر اس حوالے سے کئی غیر ملکی یہاں آکراپنی نشریات کے حوالے سے تقریبات منعقد کرتے ہیں۔ ایسی ہی ایک تقریب کے لیے ڈی ڈبلیو ٹی وی (جرمن ٹی وی)کی ایک ٹیم کراچی آئی اس ٹیم کے سربراہ جرمن تھے۔ ہم ریڈیو کے حوالے سے ایک دستاویزی فلم کی عکسبندی کے لیے کراچی شہر میں ان کے ساتھ کام کررہے تھے کہ اچانک ان کے قلم نے لکھنا بند کردیا میں نے انھیں فوراًاپنی جیب سے قلم نکال کر انہیں دیا انہوں سے قلم کو غور سے دیکھا اور کام کرکے مجھے واپس کردیا اور کہا کہ مجھے ایک قلم خریدنا ہے۔ اس غرض سے ہم بازارگئے تو انہوں نے دکاندار سے کہا کہ مجھے جرمان ساختہ قلم چاہیے ۔مختصر یہ کہ ہم نے کئی بازار کھنگال ڈالے بہت محنت اور مشقت کے بعد ہمیں وہ قلم میسر آیا جس پر “میڈ ان جرمنی” لکھا تھا۔ قلم خریدنے کے بعدان کے چہرے پر ایک فاخرانہ مسکراہٹ نظر آئی مجھے بہت اچھا لگا کہ بندہ اپنے ملک کی بنی چیز کے لیے اتنا بے تاب تھا۔
کاش ہمارے ملک میں بننے والی تمام مصنوعات کا معیار بھی ایسا ہو جائے کہ ہرپاکستانی ہمارے ملک کا نام لے کر اشیاء طلب کرے ۔اگرچہ آج بھی ہماری کئی مصنوعات ایسی ہیں جن کے مدمقابل کوئی نہیں ہے جس کی ایک زندہ مثال ورلڈ کپ فٹبال میں استعمال ہونے والی فٹبال ہیں جن کو دنیا کی بہترین فٹ بال قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح اور بہت سی مصنوعات ہیں جنھیں غیر ممالک میں پذیرائی حاصل ہے۔ ہمیں اپنے ملک کی بنی مصنوعات پر نا صرف فخر کرنا چاہیئے بلکہ خریداری کرتے ہوئے کسی بھی دوسرے ملک کی مصنوعات پر اپنے ملک کی مصنوعات کو ترجیح دینی چاہئیے ۔