Categories
خصوصی

بلوچ عورت کی تحریک

[blockquote style=”3″]

ڈاکٹر شاہ محمد مری کی یہ تحریر ماہنامہ سنگت کے مارچ 2015 کے شمارے میں بھی شائع کی جاچکی ہے۔

[/blockquote]

ایک روایتی معاشرہ بھی عجیب ہوتا ہے ؛اپنے رواجوں روایتوں میں سب اچھائیاں تلاش کرتا رہتا ہے۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ انسانی معاشرے میں پیداواری رشتے اور اُن سے وابستہ رسوم و روایات، دوائیوں کی طرح ایک خاص مدت کے بعدزائد المعیاد ہوجاتے ہیں اور اُن کی جگہ بلند تر، پیچیدہ تر اور اعلیٰ تر اقدار مروج ہوجاتی ہیں مگربہت سارے روشن فکر احباب بھی اُن تبدیلیوں کا ادراک نہیں کرپاتے اور بجائے تبدیلیوں کی راہ ہموار کرنے کے وہ ان کی راہ میں رکاوٹیں ڈالتے ہیں۔ایسے افراد یہ جانے بنا کہ اچھائیاں بھی وقت کے ساتھ فرسودہ ہوجاتی ہیں ان تبدیلیوں کےالتوامیں حصہ ڈالتے جاتے ہیں۔
سماج جو مرضی سوچے دنیا بھرکی طرح بلوچ معاشرے میں بھی عورتوں کی تحریک کی بنیادبھی اِس بات پر ہے کہ عورت اپنی موجودہ حیثیت اور مقام سے غیر مطمئن ہے اور اُس کا دوبارہ تعین چاہتی ہے
روایتی معاشرے کا دوسرا بڑا المیہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اکیسویں صدی کے معاملات کے حل کے لیے بھی اس پندرہویں صدی کی حانی و مہناز اور گوہر و سمو کی داستانیں کو کھنگالتا رہتا ہے جب ایٹم، جینیات، خلائی علوم اور کمپوٹر سائنس جیسے علوم موجود نہ تھا۔عورتوں کے بارے میں بھی ہمارا روایتی معاشرہ انہی دو خطوط پر سوچتا ہے۔ مگرتماشایہ ہے کہ سماج جو مرضی سوچے دنیا بھرکی طرح بلوچ معاشرے میں بھی عورتوں کی تحریک کی بنیادبھی اِس بات پر ہے کہ عورت اپنی موجودہ حیثیت اور مقام سے غیر مطمئن ہے اور اُس کا دوبارہ تعین چاہتی ہے اس مقصد کے لیے وہ مروج سماج کو چیلنج کرتی ہے۔تحریک نسواں کا ارتقا اور صورت پذیری ہر سماج میں مختلف ہوسکتی ہے مگر روایت اور موجودات سے عدم اطمینان ہر جگہ اور ہر زمانے میں اس تحریک کا جوہر رہا ہے۔
بلو چ سماج ایک نیم قبائلی اور نیم جاگیردارانہ سماج ہے۔ بلوچ معاشرہ آج جن بڑے مسائل کا مجموعی طور پر شکار ہے اس کے اسباب دو ہیں: ایک غاصب ریاست اور دوسرا یہاں کااپنا سردار؛بے روزگاری، ناخواندگی، پسماندگی اور قتل و غارت انہی دو مظاہر کی وجہ سے ہے۔یہ واضح کرنا بھی بہت ضروری ہے کہ یہ دونوں مسائل ہیں، مسائل کا حل نہیں۔ یہ درست ہے کہ یہ دونوں ایک دوسر ے پر انحصار کرتے ہیں اور ایک لحاظ سے باہم ایک ہی ہیں مگر تاریخ گواہ ہے کہ ہم نے جب بھی اِن میں سے کسی ایک کو نظر انداز کیا، ہم خسارے میں رہے۔
بقیہ پاکستان کے برخلاف بلوچستان میں ایک زبردست سیاسی جمہوری تحریک موجود رہی ہے اور اس تحریک کو ہمیشہ اپنے سماج میں موجود تضادات سے متعلق ایک واضح موقف اختیار کرنا پڑا ہے گو کہ عورتوں سے متعلق اس کا موقف بہت مبہم اور مدہم ہوتا ہے مگرپھر بھی اتنا صاف کہ دوسری پڑوسی (پاکستانی )قوموں میں اس کاثانی نہیں ۔عالمی گاوں بن جانے والی اس دنیا میں بھی ہمارا قبائلی سماج ایک بند اور خفیہ سماج کی شکل میں موجود ہے اور زندگانی کے فطری سخت حالات سے دوچار ہے، بدقسمتی سے ہم ان فطری حالات کا مقابلہ کرنے کی بجائے اس کے اوپر کنکریٹ کی سخت تہیں جماتے رہتے ہیں۔ ان تہہ در تہہ سخت پرتوں میں سوراخ کرکے انسانی آزادی کا راستہ بنا لینا بہت محنت کا کام ہے۔
ہر زندہ سماج کی طرح بلوچ سماج بھی بہت بڑی نعمتوں کے ساتھ ساتھ بہت بڑے مسائل بھی رکھتا ہے اور یہ مسائل اجتماعی بھی ہیں، انفرادی بھی اور گروہی بھی۔معاشرے کے مجموعی مسائل و معاملات کے ساتھ ساتھ کچھ مسائل ایسے ہیں جو صرف عورت کو درپیش ہیں اسی لیےدنیا بھر میں عورتوں کی اپنی ایک الگ آزاد جمہوری تنظیم ہے جو عمومی معاشرتی مسائل کو ساتھ لیے اپنے مخصوص حقوق کے لیے جدوجہد کرتی ہے۔
بلوچ عورت کی حالت ہمارے پورے معاشرے کی طرح کسی بہت بڑی صورت میں بہت عرصے سے تبدیل نہیں ہوئی اورہمارے ہاں فرد کی مانند عورت بھی تمام انسانی حقوق سے محروم ہے۔
بلوچ عورت کی حالت ہمارے پورے معاشرے کی طرح کسی بہت بڑی صورت میں بہت عرصے سے تبدیل نہیں ہوئی اورہمارے ہاں فرد کی مانند عورت بھی تمام انسانی حقوق سے محروم ہے۔ یہ سماج عورت کی آزادی اوربرابری کی شاہراہ کی سب سے بڑی رکاو ٹ (اطاعت گزاری، جمود اور پرانے سماج کے مردہ بوجھ کو اُٹھائے رکھنا) کو خودمستحکم کرتا چلا آیا ہے۔عورتوں کی سماجی حالت میں تبدیلی کے لئے سیاسی تحریک کی ضرورت ہوتی ہے ، صنعت اور صنعتکاری کی ضرورت ہوتی ہے، بڑے پیمانے پر تعلیم اور بحث و مباحث کی ضرورت ہوتی ہےمگر یہ سب عوامل بھر پور انداز میں کبھی میسر نہیں رہے چنانچہ سماجی ڈھانچہ نہیں بدلا اوروہی قبائلی و جاگیردارانہ رشتے برقرار ہیں۔
بلوچستان میں عورتوں کی بڑی تعداد شہر کی بجائے یا تو دیہات میں رہتی ہے ،یا خانہ بدوش ہے ۔یعنی ہماری کارگاہ چراگاہیں اور کھیت ہیں جہاںشہری نعرے بازی کسی کام کی نہیں یہاں سب سے بڑا مسئلہ نیم خانہ بدوشی کو ختم کرنے کا ہے۔ مستقل آبادکاری، چار دیواری اور بستی یا قصبہ کی زندگی سب سے فوری اور ضروری فریضہ ہے۔ اور کیا ایسا موجودہ استبدادی ریاست میں ممکن ہے؟ ا س کے لیے پیداواری رشتے بدلنے ہوں گے۔ اندازہ کیجیے کہ یہ کتنی مشکل، مستقل اور کل وقتی جدوجہد ہے؛اتنے بڑے بلوچستان میں خانہ بدوشوں کو مستقل آبادی میں بسانا بذاتِ خود ایک انقلاب ہے۔
اگر عورت شہری علاقے کی ہے تو اُس کے لیے محض تھکا دینے والی مشقت کو آسان بنانا ہی ضروری نہیں بلکہ اس مشقت سے بچائے ہوئے وقت کا اچھا استعمال بھی ضروری ہے۔ تفریحی مقامات کا بندوبست کرنا ‘کھیلوں کی سہولتیں دینا‘اورتہذیب و تمدن کی نعمتوں کے دروازے کھولنا بھی ضروری ہے۔ عورت کے لیے تعلیم کے بعد تربیتی مراکز قائم کرنا اور انہیں ملازمتیں فراہم کرنا ضروری ہے۔ کارخانے بنا کر ان کے اندر عورتوں کو بھرتی کرنا ضروری ہے ۔ یقین جانیے زمین کی پیداوار کا سرمایہ بننا، صنعتکاری کا وسیع ہونا اور نئے طبقوں اور ان کے اندر نئے تضادات کی پیدائش سماج میں عورتو ں کی حیثیت اور حصہ داری پر بڑے اثرات مرتب کرتی ہے۔ اس نئے سماجی ڈھانچے کی تشکیل سے کثیر زوجگی بھی کم ہوجاتی ہے۔
عورتوں کا مسئلہ سماجی ہے، ایسے تمام لوگ جو عورت کی برابری اور حقوق کا مسئلہ مکمل طور پر حل کرنا چاہتے ہیں انہیں تمام انسانوں کے مفاد کے لیے پورے سماجی مسئلے کو اپنا مقصد قرار دینا ہوگا۔ انسانی بہبود اور مساوی مواقع کی تحریک کسی ایک طبقے کی تحریک قطعاً نہیں ہے۔ چونکہ سماجی آزادی اور صنفی برابری کے بغیر انسانی آزادی نا ممکن ہے اس لئے انسانی آزادی کی جدوجہد کے قافلے میں عورتوں کی تحریک عام انسانوں یعنی مزدوروں ، ماہی گیروں اور کسانوں کی تحریک کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ ان سب کی یکجائی پوری تحریک کی فتح مندی کی ضامن ہے اور یہ تحریک سماجی انصاف کی تحریک ہے۔
سماجی آزادی اور صنفی برابری کے بغیر انسانی آزادی نا ممکن ہے اس لئے انسانی آزادی کی جدوجہد کے قافلے میں عورتوں کی تحریک عام انسانوں یعنی مزدوروں ، ماہی گیروں اور کسانوں کی تحریک کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔
عورتوں کی جدوجہد کے حوالے سے موجود نظریاتی تذبذب کے باعث مردوں کے ساتھ موجودسماجی حیثیت کے تضاد کو ایک ایسے طریقے سے پیش کیا جاتا ہے تا کہ استحصال شدہ مرد اوراستحصال شدہ عورت باہم بٹ جائیں اور وہ استحصال کرنے والے طبقے کا مقابلہ نہ کرسکیں۔ بعض لوگ یا تو عورتوں کی جدوجہد کو اس کے فطری اتحادی یعنی مزدوروں اور کسانوں کی جدوجہد کی تحریک سے کاٹ ڈالتے ہیں یا پھر اس طرح کے دوسرے لیت پیت کرتے ہیں جن کے نتیجے میں ایسا ماحول بن جاتا ہے جہاں لوگ مرد وزن کے درمیان برابری کو میکانکی برابری سمجھنے لگتے ہیں۔عورتوں کی تحریک ان باتوں سے بہت بلند،بہت پاک و صاف تحریک ہے ۔ اصل منزل موجود ہ ڈھانچہ میں مردوں اور عورتوں میں صرف مساوات حاصل کرنا نہیں ہے بلکہ اس سے بہت زیادہ آگے بڑھنا ہے اور ان تمام رکاوٹوں کو دور کرنا ہے جس کی وجہ سے ایک انسان دوسرے انسان کے تابع ہوجاتا ہے اور ایک جنس دوسری جنس کی محتاج ہوجاتی ہے۔
Categories
نقطۂ نظر

انسانی حقوق کے عالمی ادارے اور بلوچ جدوجہد

دنیا مسائل اور جنگوں میں گھری ہوئی ہے، ہر خطے میں مختلف نظریات، وسائل کی تقسیم، قومی شناخت اور معاشی مفادات کے تحت جنگیں لڑی جا رہی ہیں۔ ہم جس خطے میں رہتے ہیں یہاں بھی جنگیں لڑی جا رہی ہیں ،ایک طرف طالبان و القاعدہ کا دُنیا کو چیلنج اور کشمیر کی طرف پیش قدمی کا عندیہ ہے تودوسری طرف عرب ممالک اور ایران کے زیری سایہ سُنّی شیعہ تنازعہ، غرض مختلف ریاستیں ، دیگر ریاستوں یا ان کے پروردہ گروہوں کے خلاف برسر پیکار ہیں۔پاکستان اور خطے کے دیگر ممالک میں جہاں سعودی سرمایہ سے شیعہ اقلیتوں جیسے ہزارہ برادری کے خلاف نسل کشی کی ایک منظم مہم جاری ہے، ان جنگوں سے قطعاََ مختلف جنگ بلوچ جدوجہد اوراس سے وابستہ انسانی حقوق کا مسئلہ ہے ۔ بلوچ جدوجہد اورخطے میں جاری دیگر مسلح تصادم جیسے طالبان کے ساتھ ریاست کی جنگ کا آپس میں موازنہ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ طالبان کہیں شریعت اور کہیں حکمران تبدیل کرکے اپنا نظام لانا چاہتے ہیں، ایک غیر آئینی مذہبی آمریت کا تسلط چاہتے ہیں جبکہ بلوچ گزشتہ کئی دہائیوں سے ریاستی جبر کے جواب میں اپنا الگ وطن مانگ رہے ہیں ۔
بلوچ جدوجہد اورخطے میں جاری دیگر مسلح تصادم جیسے طالبان کے ساتھ ریاست کی جنگ کا آپس میں موازنہ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ طالبان کہیں شریعت اور کہیں حکمران تبدیل کرکے اپنا نظام لانا چاہتے ہیں، ایک غیر آئینی مذہبی آمریت کا تسلط چاہتے ہیں جبکہ بلوچ گزشتہ کئی دہائیوں سے ریاستی جبر کے جواب میں اپنا الگ وطن مانگ رہے ہیں ۔
طالبان سیاسی مفادات کیلئے پراکسی جنگ (proxy war) لڑکر پوری دنیا کے امن کو تہہ و بالا کر رہےہیں ، جبکہ بلوچ مسلمہ بین الاقوامی اصولوں کےمطابق قومی شناخت اور آزادی کی جدوجہد کر رہے ہیں ۔بلوچ جدوجہد اس اسٹیبلشمنٹ کے خلاف آزادی کی جنگ ہے جو کئی دہائیوں سے بلوچ سرزمین اور وسائل پر غاصب اور قابض ہے اور بلوچوں کو دبانے کے لئے شدت پسند مذہبی تنظیموں کو اس سرزمین پر متعارف کرا رہی ہے۔اس طرح پاکستان اور پاکستان کے پروردہ غیر ریاستی شدت پسند گروہ دونوں یہی چاہتے ہیں کہ بلوچستان پر بسنے والے سیکولر قوم پرست بلوچ معاشرے کو مذہبی شدت پسند معاشرے میں تبدیل کرکے اسی طرح اپنا تسلط قائم رکھا جائے۔ جیسے سندھ، سرائیکی بیلٹ اور پشتون علاقوں کو زیر تسلط رکھنے کو ان علاقوں کی قومی شناخت کو مذہبی تشخص سے تبدیل کیا گیا ہے اسی طرح بلوچوں کے خلاف فوج کشی بھی وسائل کے پر تسلط اوراستحصال کو برقرار رکھنے کی جنگ ہے۔
27 مارچ 1948 کو خان آف قلات سے کئے گئے معاہدات کے باوجود بلوچ سرزمین پر بندوق کے زور پرمتنازعہ قبضہ کے بعد سے آج تک ریاست وہ تمام حربے استعمال کررہی ہے جو قابض اور غاصب گروہ، محکوم اور مقبوضہ خطوں اور وہاں کے مقامی باشندوں پر کرتے ہیں۔ بلوچ قوم پر تشدد کرکے اُسے آزادی کی جدوجہد سے دست بردار کرنےکی کوشش کی جا رہی ہے ، ریاستی ادارے آج “مارو اور پھینکو”(kill and dump)کی پالیسی کو بلوچ سرزمین کی غلامی کو دوام بخشنے کے لئے استعمال کر رہے ہیں ۔پابند جمہوری نظام کی طرح پابند ذرائع ابلاغ کے ذریعے، بلوچ قوم کے خلاف جاری منظم ریاستی دہشت گردی اور مظالم کو چھپانے اور دنیا کو گمراہ کرنے کے لئے وفاق پرست بلوچوں اور غیر بلوچ عناصر کی پشت پناہی کی جارہی ہے ۔ اگر کسی صحافی کو اسکا ضمیر سچ کی ترویج سے نہ روک سکے تو اسکا حشر حامد میر جیسا ہوتا ہے ، یہاں سچ کی حمایت میں اٹھنے والی ہر آواز کو دبا دیا جاتا ہے۔
ریاستی قوتوں کے دامن پر بیس ہزارگمشدگیوں کے داغ ہیں جن میں سے دو ہزار کی مسخ شدہ لاشیں دریافت ہو چکی ہیں اور سینکڑوں ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہو چکے ہیں ۔
بلوچستان کے خلاف ریاستی سطح پر جاری منظم مظالم میں بلوچ دھرتی کو ایٹمی تجربوں سے زہر آلود کرنا بھی شامل ہے، جہاں آج بھی لوگ تابکاری اثرات کے تحت بیمار ہو رہے ہیں ۔ ریاستی قوتوں کے دامن پر بیس ہزارگمشدگیوں کے داغ ہیں جن میں سے دو ہزار کی مسخ شدہ لاشیں دریافت ہو چکی ہیں اور سینکڑوں ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہو چکے ہیں ۔اقوام متحدہ کے منشور اور عالمی انسانی حقوق کے تحت حاصل اظہار رائے، سیاسی اور ثقافتی تشخص اور خودارادیت کے حقوق کی مسلمہ حیثیت کے باوجود بلوچوں کی آواز اپنی ہی گلی میں دم توڑرہی ہے کیونکہ عرصہ دراز سے جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پربین الاقوامی برادری کی جانب سے کوئی خاطر خواہ رد عمل نہیں دیکھا گیا ،حالانکہ بلوچ رہنماوں اور جماعتوں نے مختلف طریقوں سے اپنی سرزمین پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو دنیا کے سامنے اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے ۔جلسہ ، جلوس، ریلیاں ، مظاہرے ، ہڑتالیں ، عالمی اداروں کے نام خطوط ،سماجی رابطوں کی ویب گاہوں پر مہم جوئی ،ماما قدیر کی 5 سالہ علامتی بھوک ہڑتال (جو کہ آج تک جاری ہے ) ، ماما قدیر ، فرزانہ مجید اور انکے ہمراہیوں کا تین ہزار کلو میٹرطوالت کا کوئٹہ تا اسلام آباد تاریخی پیدل لانگ مارچ اور بی ایس او آزاد کی جانب سے میری 46 روزہ بھوک ہڑتال جیسے اقدامات شامل ہیں ۔
میری اس تحریر کا مقصد 26 جون کو ایذارسانی کے عالمی دن کے موقع پر بلوچ قوم کے خلاف جاری ریاستی دہشت گردی اور مظالم کو اجاگر کرنا ہے۔ 26جون 1987ء کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی منظوری سے ایذارسانی کو روکنے اوراس سے متعلق آگاہی دینے کیلئے 26 جون کو ایذارسانی سے متاثرہ افراد کی حمایت کا دن ہر سال منانے کا فیصلہ کیا گیا۔ 26 جون1998ء سے آج تک ہرسال مختلف ممالک اور چھوٹی بڑی سینکڑوں تنظیمیں یہ دن مناتی ہیں ، ایذارسانی سے متاثرہ افراد سے ہمدردی کا اظہار کرتی ہیں اور انکے دکھ درد میں شریک ہوتی ہیں۔
گمشدہ رہنے والے ایک دوست کے مطابق کپڑے اُتارکراسے کئی روز تک سیدھا اور الٹا لٹکایا گیا ،برف کی لادی میں کھڑا کیا گیا ، گرم موسم میں بند کمروں میں آگ لگاکر محبوس رکھا گیا، بجلی کے جھٹکے دیے گئے اور بلیڈ سے جسم کو کاٹ کر زخموں پر مرچ لگائی گئی۔
انسانی حقوق کے عالمی منشور کے مطابق لوگوں کو حبس بے جا میں رکھنا، ماورائے عدالت قتل یا حراست کے دوران ایذارسانی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہےلیکن پاکستانی ریاست بلوچستان میں بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کر رہی ہے ۔ ریاستی جبر کے خلاف آواز بلند کرنے والے بلوچوں کو ماروائے عدالت قتل، جبری گمشدگیوں اور ایذرسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سکیورٹی اداروں کے تشدد سے ہلاک ہونے والوں کی مسخ شدہ لاشوں پر تشدد کے نشانات یا خوش قسمتی سے ایذاخانوں(Torture Cells) سے بچ کر آنے والوں کی داستانیں بے حد ہولناک ہیں جنہیں سن کر یہی خیال آتا ہے کہ وہاں آدم خور وحشی حیوان تعینات ہیں۔
گمشدہ رہنے والے ایک دوست کے مطابق کپڑے اُتارکراسے کئی روز تک سیدھا اور الٹا لٹکایا گیا ،برف کی لادی میں کھڑا کیا گیا ، گرم موسم میں بند کمروں میں آگ لگاکر محبوس رکھا گیا، بجلی کے جھٹکے دیے گئے اور بلیڈ سے جسم کو کاٹ کر زخموں پر مرچ لگائی گئی۔ ریاستی اداروں کی تحویل میں موجود افراد کو کئی کئی روز غسل کرنے اور سونے سے محروم رکھا جاتا ہے ،اورپیشاب کرنے کے لئے چوبیس گھنٹوں میں صرف دو منٹ کا وقفہ دیا جاتا ہے ۔ ہاتھ پاوں توڑنا یا ہڈیوں میں کیل ٹھونکنا ، غلیظ جگہ پر رکھنا، مختلف قسم کے دردآورانجکشن لگانا، تشدد سے نڈھال اور قریب المرگ افراد اور لاشیں دیکھنے پر مجبور کرنا جیسے ہتھکنڈے بھی استعمال کئے جا رہے ہیں۔ جسم کے گوشت ہڈی سے الگ کرنے کی انتہائی تکلیف دہ سزا، ناخن نوچ لینا، آنکھیں پر مہینوں ، سالوں تک سیاہ پٹیاں باندھنا، ہاتھ پاوں باند ھ کر مختصر کمروں میں پھینکنا بھی عام ہتھکنڈے ہیں جو بلوچوں کی آواز دبانے کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں۔ جسمانی تشدد کے ساتھ نفسیاتی اذیت رسانی کے مختلف طریقے بھی اختیار کئے جاتے ہیں ۔ عورتوں ،بچوں کی چیخیں اور درد بھری پکار سنانا اور قیدیوں کو یہ باور کرانا کہ یہ چیخیں اور فریادیں ان کے اپنے والدین، بہن بھائیوں یا اولاد کی ہیں جو سکیورٹی اہلکاروں کی تحویل میں ہیں اور انکے ساتھ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ حراست کے دوران قیدیوں کو گالیاں دینا ،فحش حرکات کرنا ، خوف پھیلانےکے لئے زہریلے کیڑے مکوڈوں کو کپڑوں کے اندر چھوڑ دینا،غرض ہر ممکن طریقہ سےپاکستانی اداروں کے عقوبت خانوں میں زیر حراست بلوچ افراد کی تذلیل کی جاتی ہے۔
سکیورٹی ادارے ٹارچر سیلوں میں بند افراد کے اہل خانہ کو مختلف طریقوں سے ہراساں کر تے ہیں اورگمشدہ افراد کی بازیابی کے نام پر ان سے لاکھوں اور کروڑوں کے حساب سے پیسہ بھی وصول کرتے ہیں، مگر پیسہ وصول کرنے کے باوجود مار کر پھنک دیا جاتا ہے۔ انسانی حقوق کے عالمی منشور کی شق نمبر 10 کے مطابق ہر کسی کو اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کے دفاع کے لئے عدالت سے رجوع کرنے، اپنی مرضی کا وکیل رکھنے اور آزادانہ اور غیر جانبدارانہ سماعت کا حق حاصل ہے، تاہم بلوچ قیدیوں کو اپنے دفاع کا حق دیے بغیر ہی قتل کر دیا جاتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ انسانی حقوق کے عالمی منشور کے موجود ہوتے ہوئے عالمی برادری، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور اقوام متحدہ بلوچ نسل کشی اور ان کے خلاف جاری ریاستی دہشت گردی پر خاموش کیوں ہیں۔ عالمی اداروں نے جو وعدے مجھ سے میری بھوک ہڑتال ختم کرانے کو کئے ہیں وہ کب تک پورے ہوں گے؟
سوال یہ ہے کہ انسانی حقوق کے عالمی منشور کے موجود ہوتے ہوئے عالمی برادری، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور اقوام متحدہ بلوچ نسل کشی اور ان کے خلاف جاری ریاستی دہشت گردی پر خاموش کیوں ہیں۔ عالمی اداروں نے جو وعدے مجھ سے میری بھوک ہڑتال ختم کرانے کو کئے ہیں وہ کب تک پورے ہوں گے؟ اقوام متحدہ نے 26 جون کو ایذارسانی کا عالمی دن مقرر کرکے تمام عالمی اداروں اور ریاستوں کو موقع فراہم کیا ہے کہ وہ دنیا کے ہر کونے میں ہونے والے ٹارچر کی روک تھام اور اس سے متعلق آگاہی دینے کے لئے اپنے وسائل بروئے کار لائیں۔ میں امید کرتا ہوں کہ اقوام متحدہ، ایمنسٹی انٹرنیشنل ،ہیومن رائٹس واچ، ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان، اور ریڈ کراس جیسی تنظیمیں اور اقوام عالم کے انسانیت دوست افراد بلوچ قوم پر کئے جانے والے مظالم کے خلاف شواہد اکھٹے کرکے متاثرہ افراد کی مدد اورریاست پر دباو ڈال کر بلوچ لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے حرکت میں آئیں گے ۔ بلوچ اپنے حقوق کے حصول اور بلوچ نسل کشی، ریاستی جبراور دہشت گردی کے خلاف آگاہی پیدا کرنے کے لئے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ بلوچ جد و جہد اپنی چھینی گئی آزادی حاصل کرنے کیلئے جاری ہے، اور بلوچ آج جتنے محب وطن ہوکر اپنی آزادی کیلئے اپنے جان و مال کی قربانی دے رہے ہیں اسی طرح آزادی کے بعد دوسروں کی آزادی اور خود مختاری کا احترام کرتے رہیں گے۔قومی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے دنیا کے ساتھ ہر قسم کا لین دین اور باہمی تعاون جاری رکھیں گے، بلوچستان کو انسانیت کا مرکز بنا کر انسانی بنیادوں پر پوری دنیا میں انسانی مسئلوں پر ہم آواز و ہمقدم ہوں گے ، اور تمام مذاہب کا احترام کیا جائے گا۔