Categories
نقطۂ نظر

مجھے اپنی غداری پر فخر ہے

مجھے اپنی غداری پر فخر ہے کیوں کہ میری غداری نے ملک نہیں توڑا تھا، ملک آپ کی حب الوطنی نے توڑا ہے۔ میری غداری کے ہاتھوں کوئی مسخ شدہ لاش نہیں ملی، کسی کو جبری طور پر لاپتہ نہیں کیا گیا اور کسی پر غداری کے فتوے نہیں لگائے گئے یہ آپ کی حب الوطنی ہے جو اپنے ہی ملک میں رہنے والوں اور اپنے آئینی حقوق مانگنے والوں کے خلاف عقوبت خانے کھولے بیٹھی ہے۔ میری غداری کے ہاتھوں کبھی کسی منتخب حکومت کا خاتمہ نہیں ہوا، میں نے کبھی ملک کاآئین معطل نہیں کیا اور میں نے کبھی خود کو آئین و قانون سے ماورا نہیں سمجھا۔

 

مجھے اپنی غداری پر فخر ہے کیوں کہ میری غداری آپ کی حب الوطنی کو آئینہ دکھاتی ہے۔ میری غداری اس جبر، استحصال اور بربریت کو بے نقاب کرتی ہے جو آپ اپنی حب لوطنی کے نام پر روا رکھتے ہیں۔ میرے جیسے ہی غدار ہیں جو اس ملک میں آپ جیسے طاقت ور اداروں کے غیر آئینی اقدامات پر چھوٹے موٹے مظاہرے کرتے ہیں، کبھی ان ڈیڑھ سو عورتوں کی شکل میں جو مال روڈ پر آپ کے بنائے غیر انسانی مذہبی قوانین کے خلاف نکلتی ہیں، کبھی اوکاڑہ میں آپ کی دہشت اور بربریت کے خلاف مقدمے برداشت کرنے والے مزارعوں کی شکل میں، کبھی ایم آر ڈی کے بھیس میں، کبھی ماما قدیر بن کر تو کبھی عاصمہ جہانگیر کی شکل میں۔

 

مجھے اپنی غداری پر فخر ہے کیوں کہ ہم غداروں نے اس ملک میں نفرت کی وہ دکانیں نہیں کھولیں جہاں سے دوسرے مذہب کے ماننے والوں، دوسرے ملکوں میں رہنے والوں، دوسرے صوبوں میں رہنے والوں اور وردی کے بغیر سانس لینے والوں سے نفرت کی پڑیاں لپیٹ لپیٹ کر دی جاتی ہیں۔ مجھے اپنی غداری پر فخر ہے کیوں کہ میری غداری کے مطابق احمدی اس ملک کے مساوی شہری ہیں اور انہیں آزادی سے اپنے مذہب کے مطابق زندگی گزارنے کا حق ہے، مجھے اپنی غدری پر فخر ہے کیوں کہ میری غداری کے مطابق بلوچستان کے وسائل پر پہلا حق بلوچستان میں رہنے والوں کا ہے۔

 

مجھے اپنی غداری پر فخر ہے کیوں کہ میرے غدارانہ افکار کے مطابق فلاح و بہبود سیکیورٹی پر مقدم ہے۔ میں دفاعی اخراجات میں کمی کا حامی ہوں، ہندوستان سے جنگ کا قائل نہیں، عسکری اداروں کی پراکسیز کا خاتمہ چاہتا ہوں، سول بالادستی کا حامی ہوں اور مذہب کو سب کا ذاتی معاملہ خیال کرتا ہوں۔ مجھے فخر ہے کہ میری غداری توہین مذہب کے قوانین کے خلاف آواز اٹھانے کی جرات کرتی ہے، تحفظِ پاکستان ایکٹ کے تحت کی جانے والی زیادتیوں کی نشاندہی کرتی ہے اور جتھے بنا کر شریعت کے نفاذ کو غلط قرار دیتی ہے۔

 

مجھے اپنی غداری پر فخر ہے کیوں کہ یہ غداری ان کی میراث ہے جو پاکستان بننے کے فوراً بعد غدار قرار پائے، جن کی منتخب حکومتیں معزول کی گئیں، جن کے اخبار ملکی سلامتی کی خاطر بند کیے گئے، جنہیں سرعام کوڑے لگائے گئے، جنہیں لاپتہ کیا گیا اور جنہیں اندھی گولیوں سے چھلنی کر کے پھینکا گیا۔ مجھے فخر ہے کہ میں غدار ہوں آپ کی طرح محبِ وطن نہیں۔۔۔۔
Categories
نقطۂ نظر

یہ چار عناصر ہوں تو۔۔

[blockquote style=”3″]

پاکستان میں شناخت کے موضوع پر بحث عرصہ دراز سے جاری ہے۔ تاہم ستر برس کے دوران ایک ایسی شناخت وجود میں آ چکی ہے جو اگرچہ علمی حلقوں میں متنازع ہے مگر اس کے باوجود ہمارے روز مرہ کے معاملات میں اس کی واضح چھاپ موجود ہے۔ عبدالمجید عابد کی یہ تحریر اس سے قبل ‘ہم سب’ پر بھی شائع ہو چکی ہے، مصنف کی اجازت سے اسے لالٹین پر بھی شائع کیا جا رہا ہے۔

[/blockquote]

شناخت (Identity) کا قومیت (Nationalism) کی تعمیر میں ایک اہم کردار ہوتا ہے۔ پاکستانیت اور پاکستانی شناخت کے متعلق بحث تقسیم ہند کے بعد سے جاری ہے۔ اس موضوع پر دائیں اور بائیں بازو کے مابین چپقلش کئی دہائیوں سے چل رہی ہے کہ کیا ہماری شناخت مذہبی اور نظریاتی بنیادوں پر قائم ہو گی یاہم جغرافیائی بنیاد پر شناخت کو قومیت کا عنصر بنائیں گے۔ اس سلسلے میں دائیں بازو (اور ریاستی اداروں) کی جانب سے دو قومی نظریہ اور نظریہ ء پاکستان کی اختراع کی گئی۔ بائیں بازو نے سندھ ساگر اور مقامی شناختوں کو بنیادی اہمیت کا حامل قرار دیا۔ ایوب اور یحییٰ دور میں پاکستانیت کے نظریاتی معیار کا چرچا رہا تو بھٹو صاحب کے دور میں ثقافت اور تہذیب کو پروان دی گئی۔ ضیاء دور میں مذہبی شناخت کو حرفِ اول اور حرف آخر کے طور پر متعارف کرایا گیا۔ بعدازاں جمہوری حکومتوں نے اس بحث میں قابل قدر حصہ نہیں ڈالا اور موجودہ دور میں ہم شناخت کے معاملے پر ایک تذبذب (confusion) کا شکار ہیں۔

 

اس موضوع پر دائیں اور بائیں بازو کے مابین چپقلش کئی دہائیوں سے چل رہی ہے کہ کیا ہماری شناخت مذہبی اور نظریاتی بنیادوں پر قائم ہو گی یاہم جغرافیائی بنیاد پر شناخت کو قومیت کا عنصر بنائیں گے۔
ابن انشاء نے سنہ 69 ء میں ’ہمارا ملک‘ نامی فکاہیے میں پوچھاتھا:’یہ کون سا ملک ہے؟ یہ پاکستان ہے، اس میں پاکستانی قوم رہتی ہو گی؟‘ اور جواب میں لکھا:’اس میں سندھی قوم رہتی ہے، اس میں پنجابی قوم رہتی ہے، اس میں بنگالی قوم رہتی ہے، اس میں یہ قوم رہتی ہے، اس میں وہ قوم رہتی ہے‘۔ سبط حسن نے سوال اٹھایا تھا:’تہذیب عبارت ہے کسی قوم کی ہر نوع کی تخلیقات کی نچوڑ سے۔ہماری تہذیبی روایات کیا ہیں، ان کی پہچان کیا ہے، ہمیں اپنے تہذیبی ورثے میں سے کن کن چیزوں کو مسترد کرنا ہے، کن کن کو فروغ دینا ہے، قومی تہذیب اور علاقائی تہذیبوں کا کیا رشتہ ہے اور اس رشتے کو کس طرح اور مضبوط کیا جائے؟ ابھی تک ہم یہ تصفیہ نہیں کر پائے کہ ہماری تہذیب کا نشان امتیاز کیا ہے اور اس کی شناخت کا طریقہ کیا ہے۔’

 

اس موضوع پر تجاویز پیش کرنے سے قبل یہ دیکھنا ضروری ہے کہ آخر پاکستانی شناخت کیا ہے؟ہماری ناقص رائے میں دانستہ یا غیر دانستہ طور پراب ایک مخصوص پاکستانی شناخت وجود میں آچکی ہے(چاہے ہم اسے پسند کریں یا نہ کریں)۔ اقبال مرحوم سے معذرت کے ساتھ لیکن ہمارے ناقص خیال میں یہ شعر مروجہ پاکستانی شناخت کی نشاندہی کرتا ہے۔

 

مذہبی، حب الوطن، فوج کا حامی،پدر سری نظام کا پیروکار
یہ چار عناصر ہوں تو بنتا ہے (پاکستانی) مسلمان

 

1۔ مذہب پسندی-پہلا عنصر

 

مذہب کو ’مکمل ضابطہ حیات‘ سمجھنا اور دنیا کے ہر مسئلے کا حل مذہب میں ڈھونڈنا ’مذہبی‘ ہونے کی علامت ہے۔
مذہبی شناخت رکھنے کا تعلق مذہب کے احکامات پر عمل پیرا ہونے سے نہیں، انسان مذہبی احکامات پر عمل کرتے ہوئے ’غیر مذہبی‘ بھی ہو سکتا ہے (چاہے یہ بات بھائی عامر ہاشم کو سمجھ آئے یا نہ آئے)۔ مذہب کو ’مکمل ضابطہ حیات‘ سمجھنا اور دنیا کے ہر مسئلے کا حل مذہب میں ڈھونڈنا ’مذہبی‘ ہونے کی علامت ہے۔ عقیدے کی حد تک مذہب کی بات سمجھ میں آتی ہے، سیاست، معاشرت اور معیشت کے میدان میں دنیا بہت آگے نکل چکی ہے اور معاشی طور پر خوش حال ممالک میں ان موضوعات کے ماہر ہی ان پر رائے دے سکتے ہیں۔ کسی بھی مذہب کے احکامات پر عمل کرنے کا اختیار انسان کو حاصل ہے (اور ہونا بھی چاہئے)۔ دستور کے مطابق پاکستان ایک اسلامی مملکت ہے اور اعداد وشمار بتاتے ہیں کہ آبادی کا بیشتر حصہ مسلمان ہے۔ ان حالات میں غیر مسلموں سے تفریقی رویہ رکھنا اور اپنی حیثیت پر فخر کرنا تکبر کی نشانی ہے۔ پاکستان کا مطلب بنتے وقت تو جانے کیا تھا، اب لا الہ الا اللہ ہو چکا ہے(یا کیا جا چکا ہے)۔جب پہلی سے سولہویں جماعت کی درسی کتب ’پاکستان ایک اسلامی نظریاتی ریاست ہے‘ کی گردان کریں گی تو طلبہ اسے ایمان مجمل کی طرح ہی تسلیم کریں گے۔ اس پاکستانی مذہبیت کا ایک پہلو قطعیت بھی ہے، یعنی خود کو ہی درست سمجھنا اور صرف خود کو ہی جنت کا حقدار قرار دینا۔ اس مذہبیت کی بنیاد مذہب سے ایک غیر علمی اور جذباتی تعلق رکھنا ہے۔ پاکستان میں سماجی سطح پر اس مذہبی قطعیت کا اظہار فرقہ وارانہ شکلوں میں بھی عام ہے، جس کی ایک واضح مثال تکفیری دہشت گردی کی صورت میں سامنے آ چکی ہے۔ اسی مذہبی شناخت کے باعث پاکستانی مسلمان دنیا بھر کے جہادیوں سے ہمدردی رکھتے ہیں، عربوں سے زیادہ عرب بننا چاہتے ہیں اور اپنی مقامی ثقافتی روایات کو تکفیر کی نظر سے دیکھتے ہیں۔

 

2۔ پدرسری-دوسرا عنصر

 

پدر سری نظام پاکستان کا خاصہ نہیں بلکہ عورت مخالف رویے دنیا کے بیشتر ممالک میں پنپ رہے ہیں۔ ہمارے ہاں انسانی جان کی قیمت دیگر ممالک کی نسبت ارزاں ہے لہٰذا عورتوں کی جان کی اہمیت اس لحاظ سے کم تر سمجھی جاتی ہے۔ مضحکہ خیز صورت حال یہ ہے کہ اس نظام کی بقا اور استحکام میں عورتیں اور مرد برابر کے شریک ہیں۔ پدرسری نظام تقسیم سے قبل بھی ان علاقوں میں صدیوں سے رائج تھا جو موجود پاکستان میں شامل ہیں۔ پدرسری اقدار اب ریاست کے انتظامی بندوبست میں بھی سرایت کر چکی ہیں۔ گو آئین صنفی امتیاز کے خلاف تحفظ دینے کے عزم کا اظہار کرتا ہے تاہم قانون سازی، انتظامی بندوبست اور سیاسی عمل میں خواتین کی شمولیت اور انہیں شامل کرنے کی خواہش نایاب ہے۔ بہرطور گزشتہ ایک دہائی میں ایسی قانون سازی ہوئی ہے جو پدرسری اقدار کے تحت روا رکھے جانے والے عورت مخالف رویوں کی حوسلہ شکنی کرتی ہے مگر معاشرے اور ریاست کے عملی بندوبست پر اس قانون سازی کے اثرات ابھی نظر نہیں آتے۔

 

3۔ فوج سے محبت- تیسرا عنصر

 

فوج کی حمایت کرنا کوئی جرم نہیں کہ آخر یہ ہماری اپنی فوج ہے، اس فوج کے سپاہی اور افسر ہمارے بھائی، باپ اور بیٹے ہیں۔ ہاں فوج کو ہر سیاسی مسئلے کی دوا سمجھنا اصل مسئلہ ہے۔
فوج کی حمایت کرنا کوئی جرم نہیں کہ آخر یہ ہماری اپنی فوج ہے، اس فوج کے سپاہی اور افسر ہمارے بھائی، باپ اور بیٹے ہیں۔ ہاں فوج کو ہر سیاسی مسئلے کی دوا سمجھنا اصل مسئلہ ہے۔ فوج سے محبت امریکہ، برطانیہ اور دیگر ممالک کے لوگ بھی کرتے ہیں۔ فرق صر ف یہ ہے کہ وہاں کمانڈر انچیف کی رخصتی سے قبل ’ابھی نہ جاؤ چھوڑ کے‘ کے پوسٹر نہیں لگوائے جاتے، اور نہ ہی وہاں ہر دس سال بعد مارشل لاء نافذ ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں فوج سے متعلق پائی جانے والی محبت گو تمام صوبوں میں یکساں شدت سے موجود نہیں مگر قومی سیاسی منظر نامے میں سول قیادت عسکری بالادستی کو عملاً قبول کر چکی ہے۔ عوامی سطح پر فوجی سربراہان یا آمروں کے خلاف اگر بعض حلقوں میں نفرت پائی بھی جاتی ہے تو فوج کے ادارے کی عوامی مقبولیت کبھی کم نہیں ہوئی۔ فوج سے عوامی محبت کا یہی جذبہ ہے جس کی وجہ سے آج تک فوج کی ناکامیوں، غیر پیشہ ورانہ طرزعمل اور آئین کی خلاف ورزی پر کبھی کسی آمر کا محاسبہ نہیں ہو سکا۔ اس ضمن میں یہ ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ موجودہ پاکستان کے علاقے تقسیم سے قبل بھی بڑے پیمانے پر فوجی مہیا کرتے تھے۔

 

4۔ حب الوطنی- چوتھا عنصر

 

حب الوطنی بھی کوئی بری بات نہیں اور اپنے وطن سے الفت رکھنا ایک فطری سی بات ہے۔ اس محبت میں ’وہ قرض چکانا جو واجب بھی نہیں تھے‘ قابل تقلید روش نہیں۔ اپنے ملک سے محبت کا مطلب دوسرے ممالک سے نفرت کے مترادف نہیں ہونا چاہئے۔ حب الوطنی کا پاکستانی تصور وطن سے محبت کے ساتھ ساتھ ہندوستان، اسرائیل اور امریکہ سمیت کئی دیگر ممالک سے نفرت کی بنیاد پر استوار ہے۔ اسی طرح حب الوطنی کے تحت غیر حقیقت پسندانہ اور جذباتی طرزعمل جس شدت کے ساتھ پاکستان میں ہے کہیں اور نہیں۔ افغانستان اور بھارت کے شہری بھی ہماری ہی طرح کے انسان ہیں، ان کے خاندان ہیں، نوکریاں ہیں، ضرورتیں ہیں، ان سے صرف اس صفت کی وجہ سے نفرت کرنا کہ وہ فلاں ملک میں پیدا ہوئے، اول درجے کی حماقت ہے۔ دیگر ممالک سے نفرت کو حب الوطنی کا لازمی جزو بنا لینا، اُس جذباتیت، بیمار نرگسیت اور دیگر اقوام سے الگ تھلگ ہونے کے طرزِ عمل کی بھی بنیاد ہے جو ہمیں عالمی تنہائی کا شکار کر رہے ہیں۔ حب الوطنی کا یہی غیر حقیقت پسندانہ تصور ہمارے ہاں پائے جانے والے سازشی مفروضوں کو بھی پروان چڑھاتا ہے۔

 

پاکستانی شناخت کا ارتقاء

 

اس شناخت سے انحراف کرنے والوں کو کافر، غدار، باغی، بزدل، بے غیرت، لبرل انتہا پسند اور اس قماش کے القاب سے نوازا جاتا ہے۔
پاکستان جن علاقوں پر مشتمل ہے، وہاں جمہوریت کے ارتقاء کی کہانی موجودہ غیر جمہوری رویوں کی داستان سناتی ہے۔ انگریز راج سے سنہ 1970ء تک ووٹ ڈالنے کا حق ایک مخصوص طبقے کو حاصل تھا جو تعلیم یافتہ، نوکری یافتہ یا زمین داری طبقہ تھا۔ انہی لوگوں کے ووٹوں سے پاکستان بنا۔ عام شہری کے لئے جمہویت، ملک صاحب یا شاہ صاحب کی خاطر مدارت سے زیادہ کچھ نہیں تھی۔ ووٹ کی طاقت حاصل کرنے کے بعد بھی یہ تماشا جاری رہا۔ جمہوریت کے فضائل اگر دینو کمہار کو سکھائے جاتے تو چوہدری صاحب کو ووٹ کون ڈالتا؟ جمہوریت کو ووٹ ڈالنے تک محدود کر دیا گیا اور حقیقی فضائل ہمیشہ اشرافیہ کے حصے میں آئے۔70ء کے انتخابات میں بھٹو صاحب کے ساتھ جو لوگ پہلی دفعہ منتخب ہوئے تھے، وہ اس اشرافیہ کا حصہ بن گئے اور ان میں سے بیشتر 85ء کے غیر جماعتی انتخابات میں امیدوار بنے۔جمہوری رویوں سے اجتناب کا نتیجہ نجی سطح پر پدر سری نظام اور سماجی سطح پر آمریت کی شکل میں نکلتا ہے۔

 

اس شناخت کی تعمیر میں بہت سے عوامل شامل رہے ہیں۔ سیاسی قیادت کی نالائقی، فوجی قیادت کی مہم جوئی(اور خوش فہمی)، ملائیت کو سرکاری تحفظ عنایت کیا جانا، سماجی تحاریک کی ناکامی، ہمسایہ ممالک کے معاملات میں غیر ضروری دخل اندازی، سرکاری موقف کے ذریعے طلباء کی ذہن سازی اور ہر دور حکومت میں ذرائع ابلاغ کی آزادی سلب کئے جانے کا نتیجہ یہی نکلنا تھا۔ اس شناخت سے انحراف کرنے والوں کو کافر، غدار، باغی، بزدل، بے غیرت، لبرل انتہا پسند اور اس قماش کے القاب سے نوازا جاتا ہے۔تقسیم کے دوران بربریت پر آواز اٹھاؤ تو دو قومی نظریے کی دہائی پڑتی ہے، جناح صاحب کے اقدامات پر تنقید کرو تو حب الوطنی مشکوک قرار دی جاتی ہے، کشمیر میں دخل اندازی کی جانب توجہ دلاؤ تو قومی مفاد کی لال جھنڈی لہرائی جاتی ہے، ’اسلامی تشخص‘ پر تبصرہ کرو تو ایمان کی کمزوری کا رونا رویا جاتا ہے۔

 

یہ شناخت پنجاب اور دیگر صوبوں کے شہری علاقوں میں دیہی علاقوں کی نسبت نمایاں ہے۔ ہمارے لئے فکر کی بات یہ ہے کہ اس شناخت کو بعینہٰ تسلیم کیا جائے یا اسے بدلنے کی سعی کی جائے؟ کیا ہم اس شناخت کے ساتھ اکیسویں صدی کے تقاضوں کو پورا کر سکتے ہیں؟ کیا ان خصوصیات کے ساتھ ہم دنیا کی ترقی میں اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں؟ کیا نوع انسانی کے لئے ہماری یہ شناخت تخریب کا باعث بنے گی یا ملی نغمے کے الفاظ میں ’جہاں تک وقت جائے گا، ہمیں آگے ہی پائے گا‘؟ کیا ہم اس شناخت کی موجودگی میں ’محبت، امن اور اس کا پیغام پاکستان‘ بنا سکیں گے؟
Categories
نقطۂ نظر

فلمی پشتون بمقابلہ اصل پشتون

پاکستان میں فلمی صنعت پھر اپنے پیروں پر کھڑی ہو رہی ہے اور گزشتہ چند ماہ کے دوران کئی فلمیں سینما گھروں میں نمائش کے لیے پیش کی گئی ہیں اور کامیاب بھی ہوئی ہیں۔ان میں سے بعض فلمیں موضوعات اور کرداروں کے اعتبار سے بے حد عمدہ تھیں۔ لیکن پاکستانی فلمی صنعت میں ہر دور میں پشتونوں کی جو تصویر دکھائی گئی ہے وہ حقیقت سے بے حد دور، متعصب اور بعض صورتوں میں تضحیک آمیز رہی ہے۔ وجہ جو بھی ہو لیکن پشتونوں کی اس قسم کی تصویر کشی پر اپنے تحفظات کا اظہار کرنا، تنقید کرنا اور گلہ کرنا بحیثیت پختون اور انسان ہمارا فرض ہے ۔ طنز و مزاح اپنی جگہ لیکن اگر کسی قوم برادری، گروہ یا قبیلے کے بارے میں منفی پراپیگنڈا کرکے اپنی فلم میں جان ڈالنے کی کوشش کی جائے تو یہ کسی ایک قومیت نہیں بلکہ ہر قبیلے اور ہر قوم کے ساتھ زیادتی اور ناانصافی ہے جس کی تلافی کسی بھی طرح نہیں ہوسکتی ۔
پاکستانی فلموں اور ڈراموں میں عرصہ دراز سے پشتونوں کو مذاق اور تضحیک کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور اکثر ہمیں بے وقوف، دہشت گرد، جاہل، ڈرائیور،’بچہ باز’یا چوکیدار ہی دکھایا جاتا ہے

 

پاکستانی فلموں اور ڈراموں میں عرصہ دراز سے پشتونوں کو مذاق اور تضحیک کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور اکثر ہمیں بے وقوف، دہشت گرد،جاہل، ڈرائیور، ‘بچہ باز’یاچوکیدار ہی دکھایا جاتاہے۔ پشتونوں کی بول چال اور طور اطوار کا مسلسل اور بے تکامذاق اڑایا جا رہا ہے۔ عموماً پشتونوں کو کسی ایسے کردار میں نہیں دکھایا جاتا جو معاشرے میں معزز خیال کیا جاتا ہو۔ اگر کسی ملک یا ڈیرے دار کو پشتون دکھایا جاتا ہے تو اسے ہمیشہ عورتوں اور بچوں پر ظلم کرنے والا، پورے قبیلے کا سردار بن کر قبیلے پر ظلم کرنےوالا یا چھوٹی بچیوں کے نکاح بوڑھے لوگوں سے کرانے والا دکھا یا جاتا ہے ۔ فلموں اور سٹیج ڈراموں میں پشتونوں کو ہم جنس پرست قرار دے کر ان کا مذاق اڑایا جاتا ہے (اگرچہ ہم جنس پرست ہونے یا پشتون ہونے میں کچھ بھی مزاحیہ نہیں) جس کی تازہ مثالیں پاکستانی فلم “کراچی سے لاہور” اور “جوانی پھر نہیں آنی” میں دیکھی جاسکتی ہیں ۔

 

ایسا کیوں ہورہا ہے ؟ کب سے ہورہا ہے؟ کون کررہا ہے؟ اب تک کیوں کررہا ہے؟ کوئی ایسا کرنے والوں سے پوچھنے والا ہے یا نہیں؟ ہمارے نام نہاد پشتون رہنما کہاں ہیں؟ کیا انہوں نے کبھی اس معاملے پرآواز اٹھانا مناسب سمجھا؟ کب تک ہم پشتون اپنی قومیت کی بناء پر تمسخراور لطیفوں کا نشانہ بنتے رہیں گے؟ کب تک ہمیں دہشتگرداور طالبان قرار دیا جاتا رہے گا؟ کب تک ہماری اقدار، اسلاف، رنگ ونسل، بود و باش، رہن سہن اور پوشاک کو دہشتگردوں کی علامت سمجھا جائےگا؟ کیا کوئی ہے جو ایسا کرنے والوں کو بتا سکے کہ پشتون پاکستان میں رہنے والی دوسری بڑی قوم ہے ۔ کیا کوئی ہے جو انہیں بتاسکے کہ پشتون پختونخوا، قبائلی علاقہ جات، کراچی اور بلوچستان میں ایک بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ زمانہ امن میں جو پشتون کم عقل، جاہل، ناخواندہ، دہشت گرد، چوکیدار اور ہم جنس پرست سمجھے جاتے ہیں جنگ و جدل کے موقع پر انہیں قوم بہادر اور غیرت مند بنادیا جاتا ہے ۔ کبھی ہمیں غدار بنایا جاتا ہے تو کبھی ہمارے آباؤاجداد کو کافر، ملحد یا مرتد قرار دیا جاتا ہے ۔ ذرائع ابلاغ میں پشتونوں کی منفی تصویر کشی صرف اردو یا پنجابی ڈراموں اور فلموں ک ہی محدود نہیں پشتو سینما میں بھی پشتونوں کو حقیقت کے برعکس پیش کیا جاتا ہے۔ ہمارے لکھاری، ہدایتکار اور فنکار شاید فرسودہ اور غلط العام تصورات کے سوا کچھ اور سوچنے، لکھنے، تخلیق کرنے یا دریافت کرنے کی مشقت کرنے سے گھبراتے ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ ہر ڈرامے اور فلم میں پشتونوں ے متعلق آزمودہ کردار، مکالمے اور لطیفے برت کر روپیہ کمانے کی کوشش کرتے ہیں۔
اس ملک میں اگر ایک پشتون کسی غیر پشتون کے بارے میں کچھ کہتا ہے تو اس پر پاکستان توڑنے اور افغانستان یا ہندوستان کا ہمدرد ہونے کا الزام لگایا جاتا ہے لیکن پشتونوں کی تضحیک کرنے کو محض مذاق سمجھ کر فراموش کردیا جاتا ہے۔

 

پشتونوں سے یہ تعصب صرف ذرائع ابلاغ تک ہی محدود نہیں بلکہ سیاسی میدان میں بھی برتا جاتا ہے۔ بہت سے پاکستانیوں کی نظر میں پشتون رہنما خان عبدالغفارخان باچا خان کے علاوہ کوئی اور رہنما قیام پاکستان کا مخالف نہیں تھا حالانکہ علمائے دیوبند اور جماعت اسلامی نے بھی تقسیم ہندوستان کی مخالفت کی تھی لیکن نہ تو کوئی انہیں غدار کہتا ہے اور نہ مانتا ہے، بس ایک پشتون رہنما ہی ہے جو کافر بھی ہے اور غدار بھی ۔

 

اس ملک میں اگر ایک پشتون کسی غیر پشتون کے بارے میں کچھ کہتا ہے تو اس پر پاکستان توڑنے اور افغانستان یا ہندوستان کا ہمدرد ہونے کا الزام لگایا جاتا ہے لیکن پشتونوں کی تضحیک کرنے کو محض مذاق سمجھ کر فراموش کردیا جاتا ہے۔ پشتون پاکستان میں رہنے والی دوسری بڑی قومیت ہے ان کے خلاف بات کرنا پاکستانیت کے خلاف بات کرنا ہے۔ جس طرح اور قومیتیں گزشتہ اڑسٹھ برسوں سے اس ملک میں رہ رہی ہیں اسی طرح پشتون، بلوچ، سرائیکی، پوٹھوہاری، کوہستانی، سندھی اور دوسری زبانیں بولنے والے اتنی ہی مدت سے اس ملک میں زندگی بسر کررہے ہیں۔ لیکن کیوں ایک زبان بولنے والا دوسرے کو کم تر سمجھ کر اس کا مذاق اڑا رہا ہے؟

 

اگر پشتونوں کو فلموں اورڈراموں میں ارادتاً اور غیرضروری طور پر تضحیک کا نشانہ بنایا جا رہا ہے تو اس قوم سے تعلق رکھنے والا ہر شخص یہ حق رکھتا ہے کہ وہ کہے، پوچھے اور لکھے کہ کیونکر ایسا ہورہا ہے؟ آج اگر ہم چُپ رہے تو شاید پھر کبھی بھی نہیں بول سکیں گے۔ آج بولنا ہوگا اپنے لیے، اس ملک اور اس دھرتی پر رہنے والے ہر شخص کے لیے کیونکہ یہاں سب برابر ہیں چاہے کوئی کسی بھی قومیت سے ہو، نسل سے ہو، مذہب سے ہو یہاں کسی کو کسی پر فوقیت حاصل نہیں۔ یہاں سب انسان رہ رہے ہیں اور سب کو پہلے انسان سمجھ کر مخاطب کرنا ہوگا ۔ پشتونوں اور دیگر تمام قومیتوں کے خلاف دل آزار لطائف اور فرسودہ اور غلطالعام تصورات کو رد کرنا ضروری ہے، اگر ایسا نہیں ہوا تو پھر 1971ء کو گزرے ابھی اتنا عرصہ نہیں ہوا ہے ۔
Categories
نان فکشن

میں تمہارے ساتھ کھڑا ہوں

میں تمہارے ساتھ کھڑا ہوں، بلکہ میں آج ان سب کے ساتھ کھڑاہوں جنہیں چیک پوسٹوں پر اپنے محب وطن ہونے کا ثبوت دینے کے لیے گھنٹوں کھڑے ہونے پڑا۔ میں ہر اس سینے کے سامنے ڈھال بننا چاہتا ہوں جو سرکاری بندوق کے سامنے صرف اس لیے ہے کہ اس نے بتایا تھا کہ اس کا نوالہ اس سے چھین لیا گیاہے۔مجھے ہر وہ بستی وہ قریہ وہ شہر عزیز ہے جہاں فوجی جیپوں کے نشانوں تلے زندگی روند دی گئی اور جہاں اجتماعی قبروں میں آزادی کے متوالے مورچہ سنبھالے بیٹھے ہیں۔ میں ہر اس گولی کی آواز سن رہا ہوں جو کسی بدن کو چھید کر اس سے اس کی سیاسی شناخت کا حق چھین لیتی ہے۔ میں بھی بے وطن ہوں ان کی طرح جو پناہ گزین ہیں اور جنہیں بتایا گیا ہے کہ وہ ابھی اپنے گھروں کو نہیں لوٹ سکتے۔ مجھے بھی تمہاری ہی طرح پیدا ہوتے ہی غدار قرار دیا گیا تھا۔ میری روح کا محاصر جاری ہے اور میرے سینے پر بھی فوجی دستے گشت کر رہے ہیں۔
میرے ہاتھوں میں وہی پرچم ہے جسے لہرانا غداری ہے، میرے ہونٹوں پر بھی وہی گیت ہے جسے گنگنانے سے قومی ترانے میں خلل آنے کا امکان ہو، میرے پاس وہ سب کتابچے بھی ہیں جنہیں ضبط کرنا سرکاری حکم ہے۔
مجھے بھی اپنے موسموں، اپنے جھرنوں، اپنی دھوپ، اپنے بادل اور اپنی بارش کو اپنا کہنے سے روک دیا گیا ہے۔ ہمیں بھی اپنے کھیتوں یا دریاوں یا درختوں یا پہاڑوں یا جنگلوں یا گلیوں، بازاروں اور چوراہوں کی تعریف سے منع کر دیا گیا ہے۔ ہمارے حلیے بھی تمہارے حلیے کی طرح مشکوک ہیں اور ہمارے چہرے بھی تمہارے چہروں کی طرح مشکوک ہیں۔ ہمارے قہقہے بھی ریاست کے خلاف سازش اور ہمارے آنسو بھی غداری کے مترادف ہیں۔ مجھ پر بھی تمہاری ہی طرح اپنی مرضی سے سانس لینے کا مقدمہ قائم ہے۔
میرے ہاتھوں میں وہی پرچم ہے جسے لہرانا غداری ہے، میرے ہونٹوں پر بھی وہی گیت ہے جسے گنگنانے سے قومی ترانے میں خلل آنے کا امکان ہو، میرے پاس وہ سب کتابچے بھی ہیں جنہیں ضبط کرنا سرکاری حکم ہے۔ میرے پیروں میں وہ بیڑیاں ہیں جو فرار ہونے کی خواہشوں کو قید کرنے کو ڈالی گئی ہوں۔ میرے ہاتھوں میں وہ ہتھکڑیاں بھی ہیں جو غاصب کا گریبان پکڑنے کے ارادے کو مسدود کرتی ہیں۔ میرے جسم پر سگریٹوں کے داغ بھی ہیں اور میرا چہرہ میری موت سے پہلے ہی مسخ کر دیا گیا ہے تاکہ مجھے پہچانا نہ جا سکے۔ میرے سامنے وہ پہاڑیاں بھی ہیں جو مجھے سرکاری دستوں سے محفوظ رکھتی ہیں اور وہ جنگل بھی جہاں فوجی بوٹوں کے لیے راستہ نہیں ہے۔
میں نے وہ پیاس اپنے گلے میں اترتی اکثر محسوس کی ہے جو تمہارے لہجے کو سنگلاخ کرتی ہے، وہ بھوک میری پسلیوں سے چپکی ہوئی ہے جو تمہیں انکار کرنے کا حوصلہ دیتی ہے۔ میں نے خواب میں کئی بار ڈر کر چلانے کی کوشش کی ہے جب تمہارے منہ پر ہاتھ رکھ کر تمہیں چلانے سے منع کیا گیا۔ میں نے بارہا خود کو گمشدہ دیکھا ہے ، مجھے سرکاری فہرست میں اکثر اپنے بیٹے، بھائی اور شوہر کا نام نہیں ملااور میرے باپ کو بھی کئی بار سادہ کپڑوں والے اٹھا لے گئے ہیں۔ میرے خون میں تمہاراغصہ کئی بار کھولا ہےاور میں نے بہت بار نگران آنکھوں کو اپنے جسم پر منڈلاتے محسوس کیا ہے۔تمہاری ماوں کے ہاں پیدا ہونے والے بہت سے ان چاہے بچے میں نےجنے ہیں۔
کیا فرق پڑتا ہے کہ سرکار پاکستان کی ہو یا بھار ت کی ؟ کیا فرق پڑتا ہے کہ فوجی بندوقوں کی گولیوں سے چھلنی ہونے والے بلوچ ہیں یا کشمیری؟ کون جانتا ہے کہ تربیت کون اور کہاں دے رہا ہےیااپنا حق مانگنے والا فلا ں بنگالی، فلاں بلوچ یا فلاں کشمیری ہے؟
میں بھی اسی قید خانے کے اندھیرے میں ہوں جہاں تمہاری نظموں کو پھانسی دی گئی۔ میرے لفظ بھی سرکار نے اپنے ناخنوں سے کھرچے ہیں۔مجھے بارہااپنے نظریات کی تلاشی دینی پڑی ہے، میری وابستگیوں کو تفتیش کے لیے بلایا گیا ہے اور میرے ذہن پر رات کے اندھیرے میں چھاپے مارے گئے ہیں۔ میرے ڈالے ہوئے ووٹ پر خون کی مہر لگی ہوئی ہے اور وہ گنتی میں نہیں آئے۔ میری مٹی کا بدن چیر کر اسے اسی طرح لوٹا گیا ہے جیسے تمہاری کانوں، کھیتوں اور دکانوں کو لوٹا گیا ہے۔ میری ہڑتال، جلسے اور جلوس اخباروں سے اسی طرح غائب ہیں جیسے تمہارے مقتولین کی گنتی سرکاری اعدادوشمار میں نہیں آئی۔ میرے گم شدگان بھی اتنے ہی لاپتہ ہیں جتنے تمہارے اٹھائے جانے والے بے نام و نشاں ہیں۔
کیا فرق پڑتا ہے کہ سرکار پاکستان کی ہو یا بھار ت کی ؟ کیا فرق پڑتا ہے کہ فوجی بندوقوں کی گولیوں سے چھلنی ہونے والے بلوچ ہیں یا کشمیری؟ کون جانتا ہے کہ تربیت کون اور کہاں دے رہا ہےیااپنا حق مانگنے والا فلا ں بنگالی، فلاں بلوچ یا فلاں کشمیری ہے؟ مجھے مارنے والوں اور تمہیں مارنے والوں کی وردیوں کا رنگ کچھ بھی ہو، زبان کچھ بھی ہو، عہدہ کچھ بھی ہو، طریقہ کار کچھ بھی ہو میں تمہارے ساتھ کھڑا ہوں۔ تمہارا نام، ولدیت، پتہ، قومیت اور شناخت کچھ بھی ہو میں تمہارے ساتھ کھڑا ہوں۔