Categories
نقطۂ نظر

تمہارے اتنے سوالوں کا ایک جواب

جعلی ڈگری اسکینڈل پر ایف آئی اے کی تحقیقات کا دائرہ وسیع ہوگیاہے، وزیر داخلہ نے انٹر پول اور ایف بی آئی سے بھی مدد مانگ لی ہے اور فرمایا ہے کہ میڈیا کسی کے پیچھے لگ جائے تو اسے اللہ ہی بچا سکتا ہے۔ واقعی اس میں کوئی شک نہیں، میڈیا سے وابستہ ہوئے مجھے زیادہ عرصہ نہیں ہوا لیکن کئی اتار چڑھاو ضرور دیکھ رکھے ہیں۔ مگرجو ہڑ بونگ اس بار دیکھی ہے وہ پہلے کبھی نہیں دیکھی۔ میرا پہلا ادارہ جیو تھا جہاں میں نے ڈھائی برسوں میں ہر اس شخص کے ساتھ کام کیا جس نے جیو کو بنایا اور اپنے پیروں پر کھڑا کیا۔ تجربے اور قابلیت میں ہر وہ شخص جو اس ادارے سے وابستہ رہا میرے کام میں مددگار رہا۔ صحافتی ذمہ داریاں کیسے ادا کرنی ہیں یہ میں نے جیو ہی سے سیکھا ہے۔ وہاں کا پروڈیوسر ہو یا ذمہ داریاں تفویض کرنے والا اسائمنٹ ایڈیٹر (Assignment Editor)میں نے سب سے بہت کچھ سیکھا ۔ پھر بھی میں کھلے دل سے تسلیم کرتی ہوں کہ مجھے صحافی میرے کیمرا مین نے بنایا۔ کیمرا مین ہی میری طاقت بنے۔میں کسی مشکل میں پھنستی تو اس بچے کی مانند اپنے کیمرا مین کو دیکھتی جسے پانی کی گہرائی میں اتارا گیا ہو اور اسے ابھی ٹھیک سے تیرنا بھی نہ آتا ہو، اس کڑے وقت میں میرا کیمرا مین چاہے وہ کوئی بھی ہو یہ کہتا ” میرے ہوتے ہوئے تمہیں فکرمند ہونے کی کیا ضرورت ہے” ۔یہ ایک جملہ میرڈھارس بھی تھا اور ڈھال بھی۔
ہمارے ادارے کا لوگواور ڈی ایس این جی وین دیکھ کر ہمارے خلاف نعرے بازی کی جاتی تھی تب مجھے متعدد بار کہا گیا کہ یہ چینل چھوڑ دو لیکن میرا ایمان تھا کہ مشکل کی اس گھڑی میں میں اپنے لوگوں کو نہیں چھوڑ سکتی
اس بے لگام میڈیا میں جہاںمیرے کئی استاد ہیں وہیں فیلڈ میں کام کیسے اور کس طرح کرنا ہے یہ میرے کیمرامین نے مجھے سکھایا۔ شفٹ ختم ہونے کے بعد بھی میرے ساتھ کام کرنے والے کیمرا مین نے اپنے اوقات کار مکمل ہوجانے کے باوجود میرے ساتھ کام کیا۔ میں نہیں بھول سکتی وہ وقت جب پی ٹی آئی کی جانب سے شاہراہ فیصل پر مجھ سمیت دیگر ساتھیوں کو تحریک انصاف کے بلوائیوں نے بوتلوں، پتھروں اورمغلظات کا نشانہ بنایا، جب میرے ادارے یہاں تک کے میری ذات اور میرے والدین تک کے لیے نازیبا الفاظ استعمال کیے گئے اس وقت بھی میرا کیمرا مین مجھے یہ کہتا رہا کہ پریشان نہیں ہونا میں یہاں کھڑا ہوں تم نے ہمت نہیں ہارنی۔ میرے پروڈیوسر جو محفوظ جگہ پر تھے میری وجہ سے اس مقام پر آئے جہاں میں موجود تھی میرے رپورٹرنے بھی میرا ساتھ دینے کے لیے خود کو خطرے میں ڈالا۔ میرے اہل خانہ نے یہ مناظر براہ راست دیکھے تو میری ماں کو کیا محسوس ہوا ہوگا یہ آپ بھی محسوس کرسکتے ہیں۔ لیکن اس کٹھن گھڑی میں بھی میرے گھروالوں کا کہنا تھا کہ سدرہ اکیلی نہیں ہے اس کی ٹیم اس کے ساتھ ہے تو اسے کچھ نہیں ہوگا۔ یہ وہ اعتبار، اعتماد اور بھرم تھا جو میرے رفقائے کار نے میرے گھر والوں کو اسی دن دیا تھا جب میں نے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ جب جیو نے فوج کوللکارا ، جب سب چینل ایک طرف تھے اورہم اکیلے ایک طرف، جب ایک سیاسی جماعت ہمارے خلاف زہر اگل رہی تھی ، جب ہماری نشریات بند کی گئیں تب بھی ہم نے فیلڈ میں اسی طرح کام کیا۔ ہمارے ادارے کا لوگو(logo) اور ڈی ایس این جی وین دیکھ کر ہمارے خلاف نعرے بازی کی جاتی تھی تب مجھے متعدد بار کہا گیا کہ یہ چینل چھوڑ دو لیکن میرا ایمان تھا کہ مشکل کی اس گھڑی میں میں اپنے لوگوں کو نہیں چھوڑ سکتی۔
جب بول کے آنے کا چرچا ہوا ابلاغیات کی صنعت کے کئی بڑے اور معتبر نام اس ادارے سے وابستہ ہوگئے۔ ان ناموں کے بول سے وابستہ ہونے کی کئی وجوہات تھیں، سب سے بڑی وجہ یہ کہ لوگ کھل کربولنا چاہتے تھے، دوسری وجہ ان کا یہ ماننا تھا کہ صحافیوں کے ساتھ مالکان کا رویہ نامناسب اور استحصالی ہے وہ صحافی کو اس کا جائز حق نہیں دے رہے جس کے وہ حقدار ہیں۔ میڈیا میں کام کرنے والے کئی ہزار ملازمین کی تنخواہیں کئی برسوں سے نہیں بڑھیں، اس پر مستزاد یہ کہ قلیل تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے بھی مہینوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔یہ انتظار ان ملازمین اور ان کے اہل خانہ کے شب وروز اور زندگیوں کو جس طرح متاثر کر رہا تھا اس سے مالکان آنکھیں بند کیے بیٹھے تھے۔ جب کوئی صحافی، کیمرا مین یا عملے کا کوئی اور رکن اپنی عرضی لیکر مالکان کے پاس جاتا تو اسے یہ کہا جاتا کہ ادارہ اس وقت مالی مشکلات کا شکار ہے وہ تنخواہ وقت پر ادا نہیں کر پارہا ۔ ایسے میں تنخواہ بڑھانے کا تقاضا سراسر بیوقوفی ہے، لیکن جب ملازم دیکھتا کہ اینکرز کی مراعات میں اضافہ ہورہا ہے، نئے لوگوں کو مارکیٹ سے دگنے داموں خریدا جارہا ہے، خوشامدی ٹولے کے پیسے بڑھا کر پارٹیاں کی جارہی ہیں تو وہ سوچتا کہ اس کی حالت کون بدلے گا؟ بول نے جب یہ نعرہ لگایا کہ وہ صحافی کو جینے کا حق دےگا اور سب سے بڑھ کر وقت پر تنخواہ دے گا تو میڈیا مالکان کے ہاتھوں استحصال کا شکار ملازم بھی ایک بہتر مستقبل کے خواب دیکھنے لگا۔ ہر شخص کو جینے کا حق ہے، ملازم کوبھی یہ حق ہے کہ وہ اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کا سوچے۔ مالک اگر اپنے بچوں کے لیے عالیشان گھر، آسائشیں اور مراعات وراثت میں چھوڑ کر جانا چاہتا ہے تو ایک عام ملازم بھی کرائے کے مکان سے نکل کر ایک چھوٹا سا گھر تعمیر کرنا چاہتا ہے، اپنی اولاد کو بیرون ملک نہ سہی اسی ملک میں اچھے اسکول، کالج سے پڑھانا چاہتا ہے۔ وہ مالک کی طرح ڈالرز یا اربوں روپے بیرون ملک کے اکاونٹ میں نہ سہی اپنے اکاونٹ میں اتنی رقم ضرور رکھنا چاہتا ہے جو اس کے بڑھاپے میں کام آسکے۔
بول نے جب یہ نعرہ لگایا کہ وہ صحافی کو جینے کا حق دےگا اور سب سے بڑھ کر وقت پر تنخواہ دےگا تو میڈیا مالکان کے ہاتھوں استحصال کا شکارملازم بھی ایک بہتر مستقبل کے خواب دیکھنے لگا
فیلڈ میں کام کرنے والا ہر شخص محاذ پر موجود اس سپاہی کی طرح ہوتا ہے جو گرمی، سردی، طوفان اور سیلاب کی پرواہ کیے بغیراپنے فرائض سرانجام دیتا ہے، میری یہ مثال شاید ان “معتبر” ہستیوں کو ناگوار گزرے جو یہ کہتے ہیں کہ وطن سے محبت کا دعویٰ کرنے والے سپاہی ملک کی حفاظت پیسے لےکر کرتے ہیں۔ کوئی ان سے پوچھے کہ آپ جب ٹھنڈے کمروں میں کافی کی چسکیاں لیتے، ٹوئیٹ کرتے، اسکرین تکتے ہوئے کہتے ہیں کہ کیمرا مین سے کہودھماکے کی فوٹیج(Footage) قریب سے بنائے اور ایسی ایکسکلوزو(Exclusive) بنائے جو ہمارے چینل کی ریٹنگ بڑھائے کیا آپ کبھی ایسے محاذ پر کھڑے ہوسکے ہیں جہاں دھماکہ ہوا ہو یا ہونے کا خدشہ ہو؟ نہیں ہر گز نہیں آپ کا شمار اسی طبقے میں میں ہوتا ہے جن کی تنخواہیں اور مراعات مالک بنا کہے بنا سنے بڑھاتے چلےجاتے ہیں۔آپ کی تنخواہ بڑھتی ہے تو آپ کی فرمائشیں ملازمین سے بڑھنے لگتی ہیں۔ میڈیا ملازمین کے گھر والے ان سے کوئی فرمائش نہیں کرتے سوائے اس کے کہ تم جو اتنی محنت کرتے ہو اس کا معاوضہ تو وقت پر لے آیا کرو تاکہ بچے اسکول کی فیس ا دا نہ کرنے کے باعث گھر واپس نہ بھیجے جائیں، بل وقت پر ادا ہوجائے، مالک مکان گھر خالی کرنے کا نوٹس نہ دےدے۔ ایسے میں کوئی ملازم کہیں اور نہ جائے تو کیا کرے؟ ایسے ہی بہتر مستقبل کا خواب لیے، تنخواہوں میں تاخیر کے باعث ذلت کا سامنا کرنے والوں، اداروں میں ترقی کے مواقع سے محروم ، اپنے سامنے نئے آنے والوں کو چند مہینوں میں اوپر سے اوپر جاتا دیکھنے والوں نے ایک نئے ادارے میں خود کو ضم کیا۔ میں نے کئی لوگوں سے سنا جن کی آواز میں دکھ اور لہجے میں تھکاوٹ تھی جو یہ بتا رہے تھے کہ ہم نے تو فلاں ادارے کی بنیاد رکھی، ہم شروع کے ساتھیوں میں سے تھے جب ہم نے ادارہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا تو ہمیں کسی نے نہیں روکا۔ ورنہ ہمیں تو بہت پیار تھا اس جگہ سے لیکن ہماری ضرورتیں، ہمارا خاندان ، ہمارے مستقبل نے ہمیں یہ قدم اٹھانے پر مجبور کردیا۔
یہ جنگ مالکان کی ہے جنہوں نے ایگزیکٹ اسکینڈل کی آڑ میں بول کو شکست دینے کی کوشش کی، سارا میڈیا ایک ہوا اس لیے نہیں کہ جعلی اصلی کو بے نقاب کرے اس لیےکہ سالوں سے ان کے اداروں میں کم تنخواہوں پر کام کرنے والوں کو علیحدہ ہونے کی جرات کیسے ہوئی
وہ معتبر نام جوبول سے وابستہ ہوئے اس کڑے وقت میں ان کا چھوڑ جانے کا فیصلہ درست ہے کہ نہیں؟ وہ اپنامستقبل محفوظ کر چکے ہیں۔ ان کی اولادوں کو کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔ انہیں نوکری ملنے نہ ملنے کی پرواہ نہیں کیونکہ انہوں نے “ضمیر کی آواز” پر فیصلہ کیاہے۔ انہوں نے جاتے وقت پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا کہ ان کے پیچھے کون کون کہاں کہاں سے بہتر مستقبل کا خواب لیکر آیا تھا۔ وہ جا چکے یہ ایک حقیقت ہے اور سب کو اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا۔ کل مجھ سے میرے خیر خواہوں نے پوچھا سدرہ تم کب جارہی ہو؟ ان کا سوال کرنے کا انداز ایسا ہی تھا جیسے انھیں گہرے پانی میں اتار دیا گیا ہو، وہ تیراکی بھول چکے ہوں اور پوچھ رہے ہوں کہ تم کب کنارے پر جاو گی؟ میں نے ہنس کر جواب دیا ،”ہمیشہ آپ نے میرا ساتھ دیا جب میرِی ڈیوٹی ختم ہوجاتی تھی تو آپ میری وجہ سے اوور ٹائم لگا لیا کرتے تھے، اس بار میری باری ہے۔جب تک آپ کی ڈیوٹی ختم نہیں ہوجاتی میں اوور ٹائم لگاوں گی، ساتھ رہوں گی۔ جن لوگوں نے مجھے تیرنا سکھایا انھیں ڈوبتا کیسے چھوڑ جاوں۔ یہ جنگ مالکان کی ہے جنہوں نے ایگزیکٹ اسکینڈل کی آڑ میں بول کو شکست دینے کی کوشش کی، سارا میڈیا ایک ہوا اس لیے نہیں کہ جعلی اصلی کو بے نقاب کرے اس لیےکہ سالوں سے ان کے اداروں میں کم تنخواہوں پر کام کرنے والوں کو علیحدہ ہونے کی جرات کیسے ہوئی؟ اصل لڑائی مالک کی مالک سے نہیں اس سوچ سے تھی جس میں صحافی کو بہتر مستقبل اور جینے کا راستہ دکھایا گیا۔ یہ سب کرکے مالک نے پیغام دیا کہ ” دوٹکے کے ملازمواپنی اوقات میں رہنا سیکھو” اور شاید مالک نے اپنے خوشامدی ٹولے کو بھی یہی لائن دی کہ پہلے تذلیل کرو بعد میں تعزیت کردینا۔ تو صاحب ہمیں آپ کی ٹوئیٹس، فیس بک اسٹیٹس، کہانیوں، عبارتوں اور لفظی دلاسوں کی ضرورت نہیں آپ اپنا مستقبل بنا چکے ہمیں اب یہ جنگ اس وقت تک لڑنی ہے جب تک آخری مورچے پر آخری سپاہی بیٹھا ہے۔ بس آپ اتنا کیجئے کہ آج ایک اور ٹوئیٹ کر دیجئے کہ سپاہی پیسے لےکر وفاداری نبھا رہا ہے، اوقات سے باہر ہورہا ہے۔ آپ کی شان سلامت رہے ہماری تو بس یہی دعا ہے۔
Categories
نقطۂ نظر

زندگی ہے کہ پھر بھی پیاری ہے۔

پاکستان کو بطورریاست اور معاشرہ بہت سے مسائل کا سامنا ہے۔تاہم رائج الوقت بیانیے میں مسائل کی فہرست دیکھیں تو سخت گیر سماجی رویے، مذہبی اخلاقیات کادوہرا پن، عورت دشمنی، بے قابو آبادی اور تیسری جنس کی تکالیف جیسے عنوانات اس میں معدوم نظر آئیں گے۔ ایسے میں پاکستانی فلم جیسی نایاب جنس اگر ان مسائل کو اجاگر کرے تو اس سے زیادہ خوشگوار احساس پاکستان میں کم ہی نصیب ہوتا ہو گا۔ یہ احساس شعیب منصور کی نئی فلم’ بول‘ دیکھنے پر ہوا۔ اگرچہ شعیب منصور کی ہر تخلیق اپنی مثال آپ ہے مگر فلم ’بول‘ سماجی ذمہ داری، حقیقت نگاری اور کثیر جہتی مفاہیم کی بدولت ان سب میں سر فہرست ہے۔ چند ایک کمزوریاں شناخت کی جاسکتی ہیں مگر شاید وہ کاروباری نقطہ نظر سے ضروری تھیں ۔ان کے سوا فلم فنی کارکردگی اور سماجی شعور کو یکجا کرنے کی ایک اعلیٰ مثال ہے جس نے ان تاثرات کو ایک بار پھر جھٹلایا ہے کہ پاکستان میں اچھے فلم ساز نہیں یا عوام معیاری سینما دیکھنا نہیں چاہتی۔
اگرچہ شعیب منصور کی ہر تخلیق اپنی مثال آپ ہے مگر فلم ’بول‘ سماجی ذمہ داری، حقیقت نگاری اور کثیر جہتی مفاہیم کی بدولت ان سب میں سر فہرست ہے۔ چند ایک کمزوریاں شناخت کی جاسکتی ہیں مگر شاید وہ کاروباری نقطہ نظر سے ضروری تھیں ۔ان کے سوا فلم فنی کارکردگی اور سماجی شعور کو یکجا کرنے کی ایک اعلیٰ مثال ہے جس نے ان تاثرات کو ایک بار پھر جھٹلایا ہے کہ پاکستان میں اچھے فلم ساز نہیں یا عوام معیاری سینما دیکھنا نہیں چاہتی۔
بول زندہ کرداروں پر مبنی ایک حساس کہانی ہے۔ مرکزی کردار ’حکیم صاحب‘ بنیادی طور پر معاشرے کا وہ کردار ہے جسے ہم عُرف عام میں ’مولوی‘ کہتے ہیں ۔ یہاں وضع قطع اور مذہبی عقا ئد کو دخل نہیں بلکہ اس سے مراد احساسات سے عاری، بند نظام فکر کا وہ پیروکار ہے جو اپنی فکر پر نظرثانی اور سمجھوتے پر تیار نہیں ۔ مگر وقت کی دوڑ میں وہ اپنے اعمال تلے کُچلا جاتاہے۔ شعیب منصور نے پاکستانی فلموں کی ایک اور روایت کو توڑا ہے ۔ مولوی جو اس فلم کا ولن ہے اسے سکرین پر نہ صرف سب سے زیادہ وقت دیا گیا ہے بلکہ اس کی نفسیاتی اُلجھنوں کو انسانی انداز میں سمجھانے کی کوشش
بھی کی گئی ہے۔ مولوی کے ہاتھوں اس کی بیوی اور بیٹیاں استحصال اور تشدد کا شکار ہوتی ہیں ۔
بیٹیوں کو قابو میں رکھنے اور اپنی مخنث اولاد کے وجود سے گھر کو پاک کرنے کے خبط میں وہ ایسی پیچیدگیوں میں اُلجھتا ہے کہ معاشرے کے کمتر ترین سمجھے جانے والے طبقے کے آگے ہاتھ پھیلانے پر مجبور ہوتا ہے۔ مگر حیران کن بات ہے کہ اپنی سوچ کی ناکامی تسلیم کرنے پر تیار نہیں ہوتا۔فلم میں اگرچہ اچھے اور بُرے کرداروں کی روایتی خلیج موجود ہے مگر ہر کردار حقیقی رنگ میں اپنی حد بندیوں کے ساتھ نظر آتا ہے جیسے فلم کی کہانی بیان کرنے والی حکیم صاحب کی صاحبزادی اپنی تمام تر عقل اور حکیم صاحب کی دست درازیوں کے خلاف مزاحمت کے باوجود مخنث کو مردوں کی طرح عمل کرنے پر مجبور کرتی ہے۔یہ بھی دکھایا ہے کہ ہمارے ہی معاشرے میں جہاں نام نہاد شرفاء بھی بیٹی کو انسان کا درجہ نہیں دیتے، وہاں کئی گھرانوں میں اس کی اہمیت مرکزی ہے۔ ہیرا منڈی کا کنجر اپنی تمام برائیوں کے ساتھ اخلاقی معیارمیں حکیم صاحب سے بلند نظر آتا ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ پاکستان میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد ناخوش ہے۔ اس ناخوشی میں مالی وجوہات بنیادی حیثیت نہیں رکھتیں ۔درحقیقت مو لویانہ ذہنیت جو معاشرے میں انتہائی گہرائی تک سرایت کر چکی ہے، بنیادی طور پر انسانی خوشی کی دشمن ہے۔ یہ بات کہنا اور منوانا شاید مشکل ہے مگر ’بول‘ میں ایسی کمال فنکاری سے یہ پیغام دیا گیا ہے کہ انکار ممکن نہیں ۔
سینما میں یہ فلم دیکھنا بذات خود ایک اہم عمرانیاتی تجربہ ہے۔ اگرچہ کرداروں کے مثبت اور منفی پہلو شروع سے ہی واضح کر دیے جاتے ہیں مگر گھریلو تشدد پر ناظرین کے بے حس تبصرے اور ایک مخنث سے جنسی زیادتی پربلند قہقہے ہماری اجتماعی اخلاقی سطح کے بارے میں چشم کُشا ہیں ۔ تاہم شعیب منصور کی فنکارانہ صلاحتیوں کا ایک اور ثبوت سامنے آتا ہے جب فلم کے نصف سے پہلے ہی مظلوم کرداراپنی تکلیفوں کا اتنا گہرا تاثر چھوڑتے ہیں کہ باقی ماندہ حصے کے دوران ہال میں گہری ہمدردانہ خاموشی چھائی رہتی ہے۔اور جب مظلوم کردار صدائے بغاوت بلند کرتے ہوئے اپنی آزادی کا اعلان کرتے ہیں تو تالیوں کا شور اس کی گواہی دیتا ہے کہ فلم کا مقصد پورا ہوا ہے۔
’بول‘ گرجدار لہجے اورنحیف آواز میں کیے جانے والے سوالات کے درمیان مکالمہ ہے جس میں حتمی بقاموخر الذکر کو ہی ہے۔یہ ہمارے گھروں کے تاریک کونوں میں ہونے والی ان ذیادتیوں پربے لاگ تبصرہ ہے جن سے ہمارا اجتماعی مزاج تشکیل پاتا ہے۔
فیض صاحب نے اپنی نظم ’بول‘ کے ذریعے لفظ ’بول‘ کو سیاسی مفہوم دیا تھااور عمومی طور پر یہ آمرانہ حکومت کے خلاف مزاحمت کا ایک استعارہ رہاہے۔ شعیب منصور نے اس کے مفہوم کو وسیع کرتے ہوئے ان تمام برائیوں کو اس کے دائرہ عمل میں لانے کی کوشش کی ہے جنہیں عموماً کلچر، خاندان، مذہب اور اخلاقیات کے نام پر روا رکھا جاتا ہے۔مثلاً منصوبہ بندی کے بغیر بچے پیدا کرنا۔ یہ جتنا بڑا مسئلہ ہے اتنا ہی زیادہ نظر انداز بھی ہے۔ اور اگر بات شروع ہو تو مذہب کے نام پر روک دی جاتی ہے۔ ’بول‘ میں صحیح طور پربغیر منصوبہ مندی بچے پیدا کرنے کو جُرم کہا گیا ہے۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ اولاد کی اچھی تربیت اتنی بڑی ذمہ داری ہے کہ اس سے غفلت ایک مجرمانہ فعل ہے ۔اس احساس ذمہ داری کے بغیر ایک صحت مند معاشرے کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔
’بول‘ گرجدار لہجے اورنحیف آواز میں کیے جانے والے سوالات کے درمیان مکالمہ ہے جس میں حتمی بقاموخر الذکر کو ہی ہے۔یہ ہمارے گھروں کے تاریک کونوں میں ہونے والی ان ذیادتیوں پربے لاگ تبصرہ ہے جن سے ہمارا اجتماعی مزاج تشکیل پاتا ہے۔سب سے بڑھ کر یہ انسانی حساسیت کا بیان ہے جو فلم میں شامل کیے گئے سجاد علی کے گانے کی صورت میں بہتر طور پر واضح ہوتا ہے۔
دن پریشاں ہیں ، رات بھاری ہے
زندگی ہے کہ پھر بھی پیاری ہے