Categories
نان فکشن

محبت کی گمراہ کن تعبیریں

محبت ایک نہایت ہی گھسا پٹا سا لفظ ہے۔ اس کا استعمال ہماری عام زندگیوں میں راشن پانی کے مسائل سے زیادہ ہوتا ہے، اس لفظ کی بہت سی تشریحات اور تعبیرات بھی ہمارے ذہنی دفتروں میں بالکل الگ پائی جاتی ہیں۔
محبت ایک نہایت ہی گھسا پٹا سا لفظ ہے۔اس کا استعمال ہماری عام زندگیوں میں راشن پانی کے مسائل سے زیادہ ہوتا ہے، اس لفظ کی بہت سی تشریحات اور تعبیرات بھی ہمارے ذہنی دفتروں میں بالکل الگ پائی جاتی ہیں۔سماجی و سیاسی سطح پر اس لفظ کے معنی ہیں، اپنے ملک، اپنی زبان، اپنی طرز زندگی اور دوسری تمام باتوں سے ایسی محبت کرنا جو دوسری تہذیبوں، ملکوں اور زبانوں کے تعلق سے نفرت، بیزاری یا ان کی کم مائیگی کا احساس بھی ساتھ ہی ساتھ پیدا کرے۔اگر ایسا نہیں ہے اور آپ کو اپنی اس محبت پر فخر نہیں ہے تو آپ سوسائٹی میں ایک ادھورے اور بے وقوف قسم کے شخص ہیں جو عام لوگوں کی رائے میں جس تھالی میں کھاتے ہوں اسی میں چھید کرنے کے بھی مجرم ہوسکتے ہیں۔گویا کسی اور ملک کی خوبصورتی کی تعریف کرنا، وہاں کے لوگوں اور وہاں کے کاروباری طریقوں، وہاں کی زبانوں اور رہن سہن کے متعلق غلط فہمیوں کو دور کرنا ایک ایسا ناقابل معافی جرم ہے جو آپ کو اپنے پڑوسیوں تک سے دور کرسکتا ہے۔سماجی قسم کے معاملات میں یہ چوٹ ذرا اور گہری ہوجاتی ہے اور آپ ان رسموں، رواجوں، خداوں اور منصبوں کی عزت کرنے پر مجبور ہوتے ہیں، جو اس عظیم لفظ ‘محبت’ کے ثبوت کے طور پر ہماری سوسائٹی میں پیش کیے جاتے ہیں۔

 

یہ ایک بہت ہی عجیب و غریب بات ہے کہ نام تو ہے محبت کا لیکن اجازت ہے صرف اور صرف نفرت کرنے کی۔محبت کی دور تک نہ تو کوئی روشنی نظر آنی چاہیے ۔بعض معاملات میں سیاسی و سماجی قسم کے اصولوں کے تحت کھنچے ہوئے محبت کے دائرے سے ایک قدم باہر رکھتے ہی آپ مشکوک ہوجاتے ہیں۔اب یہ مشکوک ہونا کیا ہے۔یہ شک ہے کہ آپ ان تمام لوگوں کے ذہن میں برسوں کے بعد تیار کی گئی محبت کی ایسی عمارات کے قلعی کھول سکتے ہیں۔تو ثابت ہوا کہ ہمارے سماجوں میں کسی نئے معنی کے ساتھ کی جانے والی محبت کو یا تو برداشت نہیں کیا جاسکتا یا اگر کرنا ہی پڑ جائے تو اسے اچھا نہیں تسلیم کیا جاتا۔یعنی کہ یہ ایک ایسی برائی ہے کہ آپ اسے کرکے ایک عزت دار شخص نہیں رہ سکتے۔ لیکن اس سیاسی و سماجی قسم کی محبت کا ایک اور مسئلہ ہے، یہ صرف انسان کو لڑنا، چیخنا، چلانا اور گالیاں بکنا سکھاتی ہے۔ہاتھ پاوں ہلانے کا کام اس کے بس کا نہیں۔یہ ذمہ داریوں کے نام پر دوسروں کو کوسنے دے سکتی ہے، ان کو طرح طرح کے طعنوں اور تشنوں سے نواز سکتی ہے مگر یہ متواتر اپنے سماجوں کی خامیوں، برائیوں اور کمیوں کو نظر انداز کرنے اور برداشت کرتے رہنے کو ہی عقلمندی سمجھتی ہے، اس کے نزدیک رسموں، رواجوں، ملک اور سماجوں کی طے شدہ کھوکھلی اقدار اور برے اصولوں کو توڑنے کے متعلق بات کرنے کا مطلب ہے، دنیا کے سامنے یہ تسلیم کرنا کہ ہمارے آبا و اجداد، ہمارے سیاسی رہنما، ہمارے قدیم ترین تہذیبی تماشے ، حتیٰ کہ گھر کی بڑی بوڑھیاں بھی بے وقوف تھیں۔

 

اگر آپ کسی بحث یا کسی تنہائی میں ایسے سوالوں کے درمیان گھر گئے ہیں، جہاں آپ کا عقیدہ یا خدا کے مقرب بندوں کی بتائی ہوئی باتیں غلط ثابت ہوں تب وہاں محبت کا یہ تعویذ آپ کے بہت کام آئے گا۔
اسی طرح یہ لفظ محبت مذہبی پیرائے میں بھی بہت عام ہے۔ خدا سے محبت، اس کے پیغمبروں اور بھیجے گئے اوتاروں سے محبت۔لیکن یہ محبت مشروط ہے۔اس کا طوق گلے میں ڈالنے سے پہلے آپ کو دل و جان سے یہ قبول کرنا ہوگا کہ آپ جن خدا کے زمین پر اتارے گئے لوگوں کی باتوں پر ایمان لارہے ہیں، ان کی باتوں کو سنتے ہوئے آپ کو سمجھنے کی بالکل اجازت نہیں ہوگی۔جہاں آپ نے اسے سمجھنا شروع کیا، کھیل خراب ہوجائے گا اور آپ محبت کے اس عظیم ترین منصب سے خود بخود زمین پر پٹخ دیے جائیں گے۔اس میں کسی جواز، کسی سوال یا کسی منطق کی بالکل گنجائش نہیں ہوگی۔ یہ ایک ایسا معاہدہ ہے، جس کی رو سے آپ ان باتوں کو ماننے پرمجبور ہوں گے جن کو بار بار آپ کا دماغ تسلیم کرنے سے انکار کرتا ہوگا۔
اگر آپ کسی بحث یا کسی تنہائی میں ایسے سوالوں کے درمیان گھر گئے ہیں، جہاں آپ کا عقیدہ یا خدا کے مقرب بندوں کی بتائی ہوئی باتیں غلط ثابت ہوں تب وہاں محبت کا یہ تعویذ آپ کے بہت کام آئے گا۔ اسے چومیے اوراس کے ساتھ ساتھ سوال کے بھاری پتھر کو بھی چوم کر چھوڑ دیجیے۔وجہ یہ ہے کہ آپ محبت کرتے ہیں، خدا سے۔خدا جو آپ کو پسند کرتا ہے، اس لیے اس نے آپ کو ایک ایسی قوم میں پیدا کیا، جسے وہ سب سے زیادہ پسند کرتا تھا۔ آپ کو پہلے ہی جنت کی کنجی تھمادی گئی ہے اور خدا کی محبت کے اس عظیم ترین تحفے کے ملنے کے باوجود اگر آپ ناشکری یا بغاوت کا اعلان کرتے ہیں تو ظاہر ہے کہ آپ کو عتاب بھی جھیلنا پڑے گا، جس کی تفصیل میں جاتے ہی آپ کے رونگٹے کھڑے ہونے لگتے ہیں اور آپ ڈر کر وہاں سے بھاگ کھڑے ہوتے ہیں۔یعنی اس محبت میں محبت سے زیادہ ڈر کا عنصر حاوی ہے۔یہ محبت ایک اوڑھی ہوئی مصنوعی قسم کی محبت ہے،جس طرح ہاتھوں میں تھالیاں پکڑنے والا گڈا، چابی بھرنے پر خوش ہو کر انہیں تب تک بجاتا رہتا ہے، جب تک اس میں موجود پوری حرکت بالقویٰ اپنا کام مکمل نہ کرلے اسی طرح آپ کو بھی مسکراتے ہوئے اس نظام محبت پر تالی بجاتے رہنا ہے۔ غور وخوض کرنا بھی ہے تو ایک شرط کے ساتھ، کہ آپ خدا کی بتائی ہوئی، اس کے مقرب بندوں کی بتائی ہوئی انہی باتوں کو نتیجے کے طور پر پہلے سے طے کرلیں جو کہ آپ کے سامنے رکھ دی گئی ہیں، یعنی کہ تجربہ گاہ میں جانے سے پہلے آپ کو بتادیا گیا ہے کہ آپ کو صرف صابن بنانے کی اجازت ہے، اگر آپ غلطی سے اپنا دماغ استعمال کرکے صابن کی جگہ خوشبودار سفوف تیار کرلیتے ہیں تو آپ کو تجربہ گاہ میں ایک لعنتی طالب علم کی حیثیت حاصل ہو گی۔

 

تیسری محبت فرض اور ذمہ داری کا نام ہے۔یہ فرض اور ذمہ داری اگر چار لوگوں کا پیٹ بھرنے تک محدود رہے تو بات الگ ہے، لیکن آپ مجبور ہیں کہ جن والدین نے آپ کو اپنی خوشی سے بستروں پر مکمل لطف حاصل کرتے ہوئے پیدا کرنے کا ارادہ کیا تھا، ان کی اطاعت آپ پر فرض ہے۔اس اطاعت میں بہت سی چیزیں شامل ہیں، جیسے کہ آپ ان کی مرضی سے شادی کریں گے۔ان کی مرضی سے کریئر چنیں گے، ان کے حسب منشا زندگی گزاریں گے، انہی اصولوں پر چلتے ہوئے، جن پر آپ کے خاندان کو ہمیشہ سماج میں فخر و عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا رہا ہے۔اور اگر کہیں دھوکے سے آپ اس شان خاندان میں بٹہ لگانے کے مجرم یا ملزم پائے جاتے ہیں تو ماں باپ، بھائی بہن آپ کا گھر میں جینا دوبھر کردیں گے اور بہت ممکن ہے کہ اگر آپ کا باپ ایک رئیس شخص ہے تو وہ آپ کو اپنی جائیداد سے بے دخل کردے۔آپ اس محبت کا حق ادا کرتے ہوئے، ایک فرمانبردار انسان بنے رہیں تاکہ آپ کے سامنے جائداد کو کھونے، سماج میں عزت کے گم ہونے یا برادری باہر ہونے کا کوئی بھی خدشہ باقی نہ رہے۔اس طرح کی محبت ایک محبت ہی نہیں، بلکہ آپ کا فرض ہے، کیونکہ آپ کی شخصیت محض آپ کی نہیں، آپ کے گھروالوں، ماں باپ بھائی بہن، سماج ، مذہب، طے کردہ تعلیمی نظام اور باقی چھٹ بھیے اصولوں کی چھوٹی چھوٹی پراپرٹی ہے، اس لیے یہاں تابعداری بری بات نہیں، بلکہ ایک خوبی سمجھی جاتی ہے اور اس سانچے میں ڈھل ڈھلا کر ایک دن آپ ایسے انسان بن جاتے ہیں، جو اس پورے سسٹم کو قبول کرتے ہوئے، اسے جوں کا توں اپنی اولاد پر نافذ کردیتے ہیں۔

 

جب دو لوگ آپسی رضامندی سے سیکس کرتے ہیں ، رومانس کرتے ہیں تو اس میں توقعات کا دفتر نہیں کھلتا، جب کہ محبت ہے ہی توقعات کا دوسرا نام۔
محبت کا جو سب سے کھلا ڈھلا روپ ہے، وہ ہے ایک لڑکا اور لڑکی میں ہونے والی محبت۔اب اس محبت کے بھی کچھ ایسے ادھیائے ہیں، جنہیں پڑھے بغیر آپ اس میں ایک کچے کھلاڑی تسلیم کیے جائیں گے۔انسانی خواہش کا یہ سب سے بڑا مرکز ہوتا ہے، لیکن یہیں انسان کا بیڑہ بھی غرق ہوتا ہے۔اس محبت کی بہت سی اقسام ہیں۔میں اپنی ایک دوست کا واقعہ سنا کر بات شروع کرتا ہوں۔ایک شادی شدہ صاحب ہیں، جو کہ اسی دفتر میں کام کرتے ہیں، جس میں ہماری دوست ملازم ہے۔دونوں میں علیک سلیک ہوئی، بات آگے بڑھی اور پھر کافی اچھی دوستی ہوگئی۔لڑکیوں کی دوستی کو عام طور پر ہمارے یہاں ایک ‘فخریہ امتیاز ‘حاصل ہے۔ہم اس شخص کو بہت سمارٹ، سمجھدار اور قابل رشک سمجھتے ہیں، جس کی ایک سے زیادہ لڑکیوں سے بات چیت ہو، دوستیاں ہوں اور وہ دوستیاں عام چلتی پھرتی زندگی میں نظر بھی آئیں۔اسی وجہ سے ہمارے یہاں جب کوئی لڑکی، کسی لڑکے سے دوستی کرنا چاہتی ہے تو لڑکا پہلے سے یہ تسلیم کرنے کے لیے تیار بیٹھا ہوتا ہے کہ لڑکی اسے دل و جان سےچاہنے لگی ہے، اس کے بغیر رہ نہیں سکتی اور اسی وجہ سے اس نے دوستی کا ہاتھ آگے بڑھایا ہے۔اسی سبب سے لڑکیوں کا عدم تحفظ اس درجے کو پہنچا ہوا ہے، جہاں وہ کسی بھی لڑکے سے دوستی یا بات کرنے سے پہلے دس بار سوچتی ہیں۔خیر، ان صاحب نے ایک رات میری دوست سے کہا کہ وہ اس سےقربت چاہتےہیں، اس نے پوچھا کہ قربت کس معنی میں؟انہوں نے کہا کہ جسمانی قربت نہیں، بس ایک دوست کے قریب ہونے کا احساس، لڑکی نے انہیں احساس دلایا کہ وہ شادی شدہ ہیں، تو انہوں نے کہا کہ کیا شادی شدہ لوگوں کی زندگی میں کسی د وست کی قربت کی ضرورت نہیں ہوسکتی، بات جس نکتے پر ختم ہوئی وہ یہ تھی کہ لڑکا ، لڑکی کو ایک دفعہ بہت دیر تک گلے لگائے رکھنا چاہتا تھا۔اس کی نظر میں لڑکی کو گلے لگانا کسی بھی قسم کی جسمانی قربت نہیں تھی، رومانس نہیں تھا، بلکہ صرف دوستی کا ایک احساس تھا۔ ایسی بہت سی تعبیریں ہماری عام زندگیوں میں محبت کے حوالے سے دیکھنے، سننے اور پڑھنے کو مل جاتی ہیں۔ظاہر ہے کہ ہمارے نصاب میں محبت کی وہ تصویریں کبھی دکھائی ہی نہیں جاتیں، جن سے ذہن یہ سمجھیں کہ اصل میں یہ جذبہ ہے کس چیز کا ہے نام۔جسمانی قربت میں کوئی برائی نہیں، لیکن اسے محبت کا نام دینا، ایک مسئلہ ہے، مسئلہ یہ ہے کہ میں خود بھی اس بات کا قائل ہوں کہ جب دو لوگ آپسی رضامندی سے سیکس کرتے ہیں، رومانس کرتے ہیں تو اس میں توقعات کا دفتر نہیں کھلتا، جب کہ محبت ہے ہی توقعات کا دوسرا نام۔یہ اس جذبے سے بالکل الگ چیز ہے، جسے ہم بستری یا جنسی عمل کہا جاتا ہے۔ستر فی صدی سے زیادہ شادیاں ہمارے یہاں جنسی عمل کے کچے پکے راستوں سے ہو کر گزرتی رہتی ہیں، جبکہ ان میں محبت یا تو بالکل کم ہوتی ہے، یا پھر ہوتی ہی نہیں۔دو لوگ ایک دوسرے پر بوجھ بنے اپنی زندگیوں کو صرف اس لیے ڈھوتے رہتے ہیں کیونکہ انہیں سماج، اولاد اور دوسرے بہت سے لوگوں کے سامنے شرمسار ہونے سے بچنا ہوتا ہے۔ان بجھے ہوئے رشتوں میں وہ راتوں کو پنڈلیوں کی رگڑ سے حرارت پیدا کرسکتے ہیں لیکن محبت نہیں۔محبت بالکل برعکس مسئلے کا نام ہے، جس میں انسان کا دماغ پورے طور پر شامل ہوتا ہے۔

 

کیونکہ محبت اقرار کے بجائے انکار سے شروع ہوتی ہے۔ان لدی پھندی زنجیروں کو اتار پھینکنے کی ہمت سے جو دوسروں نے ہم پر کس دی ہیں۔ محبت، اپنے وجود کو تسلیم کرلینے سے شروع ہوتی ہے، جہاں کسی ایک شخص کی اہمیت دوسروں سے بہت زیادہ ہوجاتی ہے، میں یہ نہیں کہتا کہ محبت ایک وقت میں دو لوگوں سے نہیں ہوسکتی، مگر میں اس کی بھی حمایت نہیں کروں گا کہ محبت ایک وقت میں سو لوگوں سے ہوسکتی ہے۔محبت اداسی کو سہہ پانے کا نام ہے، محبت کسی کو اس قدر ذہن و دل پر حاوی کرنے کا نام ہے، کہ اس سے نفرت کا کسی بھی دور میں سوال ہی پیدا نہ ہو۔بلکہ جب آپ اس قسم کی محبت میں ہوتے ہیں تو آپ کو تمام دوسری چیزیں، دوسرے لوگ، دوسری باتیں سب بھلے معلوم ہوتے ہیں، دنیا میں کچھ برا نہیں لگتا، نقصان آپ کا کچھ بگاڑتا نہیں اور فائدہ آپ کا کچھ بناتا نہیں۔میں نے بہت سے لوگوں کو یہ شکایت کرتے دیکھا ہے کہ انہوں نے فلاں سے محبت کرکے غلطی کی، کبھی کوئی لڑکی یہ کہتی ہے کہ اچھا ہوا میں اس کے چنگل سے نکل آئی، کیونکہ وہ تو ایک دل پھینک لڑکا تھا، کبھی کوئی لڑکا ایک چھوٹے سے بریک اپ کے بعد نفسیاتی مرض کے حملوں کا شکار ہوکر لڑکی پر بہتان کسنے لگتا ہے، اس کا کردار ناپنے لگتا ہے۔یہ سب باتیں، محبت میں ممکن نہیں۔ہاں ان سود و زیاں، نفع و ضرر والے جذبوں میں ضرور ممکن ہیں۔ جن کو ہمارے دوست ٹھرک پن کہہ سکتے ہیں۔

 

اگر کوئی سماج کسی بھی لڑکے یا لڑکی کو محبت کرنے پر بدنام کرتا ہے تو سمجھ لیجیے کہ اس میں خود کہیں نہ کہیں کوئی بڑا کھوٹ ہے۔
ایک آخری بات یہ کہ لوگوں نے اپنے طے کردہ اخلاقی شذرات میں محبت کرنے والوں کو بدنام اور رسوا سمجھ لیا ہے۔بدنامی کا مطلب ہے کوئی ایسا کام کرنا، جس سے آپ کا نام خراب ہوجائے۔محبت ایک اچھی چیز ہے۔ اس سے نام خراب نہیں ہوسکتا۔اگر کوئی سماج کسی بھی لڑکے یا لڑکی کو محبت کرنے پر بدنام کرتا ہے تو سمجھ لیجیے کہ اس میں خود کہیں نہ کہیں کوئی بڑا کھوٹ ہے۔ورنہ وہ اس قسم کی سنکی باتیں کبھی نہ کرتا۔مجھے یاد ہے، میں چوتھی یا پانچویں جماعت میں رہا ہوں گا، جب ہم نے سنا کہ ہمارے سکول کی ایک ٹیچر کسی لڑکے ساتھ بھاگ گئی تھیں۔سب انہیں برا بھلا کہہ رہے تھے۔ہم تو خیر اس وقت کچھ سمجھتے نہیں تھے، لیکن اب سوچتے ہیں کہ جس معاشرے سے محبت کرنے والوں کو بھاگنا پڑتا ہے، اس معاشرے میں رہنے والے کون لوگ ہوتے ہیں۔دماغ تو آپ کے پاس بھی ہے، سوچ کر دیکھیے۔

Image: Roberlan

Categories
فکشن

ہوا، راکھ اور محبت

محبت ہر روز پچھلا راستہ دہراتی اور اسے ہر روز فقط دو قدم آگے بڑھنے کا وقت مل پاتا۔ ایک روز کسی سیانے کا وہاں سے گزر ہوا اور اس نے محبت کو اس کشٹ میں دیکھا تو کہا کہ؛ “او بے وقوف۔۔۔۔ یہ جو ہر روز خود کو دہراتی ہو تو اس کا فائدہ؟ یہی وقت آگے بڑھنے میں گزارو تو چند دن لگیں منزل پر پہنچنے میں”

محبت نے سوچا کہ بھلا آدمی کہہ تو ٹھیک ہی رہا ہے۔ ویسے بھی مجھے اپنا گزرا ہوا وقت، راستہ، یادیں سب ہی تو یاد ہے پھر اس وقت کے زیاں کی ضرورت ہی کیا ہے؟ اس نے مشورہ دینے والے کا شکریہ ادا کیا اور منزلیں مارتی آنکھوں سے اوجھل ہو گئی۔ وقت اور راستے گزرنے لگے اور پھر محبت کو بھول گیا کہ اصل میں اسے پہنچنا کہاں تھا۔ جب بہت سوچنے پر بھی یاد نہ آیا تو اس نے کسی سیانے سے اپنی راہ درست کروانے کا سوچا۔

ان وقتوں میں سیانے راہ چلتے مل جایا کرتے تھے سو اسے بھی کہیں سے ایک سیانے کا ٹھکانہ معلوم ہو ہی گیا جو یُگوں سے گمشدہ تھا۔ اسے سادھو کا پتہ تو آسانی سے مل گیا تھا مگر سادھو کو مجسم حالت میں جا لینے کو زمانے لگ گئے۔ وہ راکھ کا بنا تھا اور کسی بھی لمحے ہوا میں تحلیل ہو جاتا تھا۔ ہوا، سادھو کو ریزہ، ریزہ کر کے جگہ، جگہ بکھیرتی اور پھر اس شغل سے اکتا جاتی تو سادھو اپنے زروں کی ڈھیری سے خود کی پھر سے جوڑنے لگتا اور جب مکمل ہو جاتا تو ہوا اسے پھر سے بکھیر دیتی۔ مگر اس نے اپنے دفاع میں کبھی ایک لفظ تک بولنا نہ چاہا اور راکھ سے دھول ہوتا چلا گیا۔

جب ہوا، راکھ اور محبت کا اپنا، اپنا وجود خطرہ میں پڑنے لگا توایک روز محبت نے ہمت کی اور ہوا سے آنکھ بچا کرسادھو کی راکھ سمیٹی اور اسے ایک غار میں جا ڈھیر کیا۔ اور جب سادھو خود کو سمیٹ چکا تو محبت نے بڑے ادب سے پوچھا کہ : اے سیانے میں محبت ہوں اور تجھ سے مشورہ کرنے آئی ہوں، سادھو نے محبت پر طنز کی ایک نگاہ کی اور کہنے لگا؛ تو نے جس سے صلاح کی اور جو تیری صلاحوں میں آیا، اس کی عقل مندی میں کس کو کلام ہو سکتا ہے؟ محبت سادھو کی اس بے لحاظی پر بہت دکھی ہوئی۔ تو اب جو میں کھو گئی ہوں تو خود کو کہاں اور کیسے ڈھونڈوں؟؟؟ اس پہ سادھو بے اختیار ہو کے ہنسا اور جب اسے احساس ہوا کہ وہ ہنس رہا ہے تو دکھ سے رو دیا۔ محبت نے حیران ہو کر پوچھا کہ اے مہا پرش یہ ایک ساتھ ہنسنے اور رونے کا کیا سبب ہے؟

سادھو کہنے لگا؛ اے محبت تمہارا کام منزلیں مارنا نہ تھا کہ تم جہاں گرد نہیں ہو، ٹھہر جانا بھی نہیں کہ جمود صرف موت کا خاصہ ہے۔۔۔ اور میں ہنسا اس ستم ظریفی پر کہ تم کھو نہ جاتی تو آج میں جنگلوں اور بیابانوں کی خاک چھاننے والا جوگی نہ ہوتا اور رویا تمہارے گم ہونے پر کہ محبت ایک بار کھو جائے تو اسے ڈھونڈ لانا ناممکن ہے۔ ۔ ۔ یہ کہہ کر سادھو غار سے نکلا اور ہوا اس کی دھول اڑا لے گئی اور پھر کبھی کسی نے اسے ٹوٹتے بنتے نہ دیکھا۔

تبھی محبت کو یاد آیا کہ ایک بار ایک سیانے نے اسے خود کو دہرانے سے روکا تھا اور تب سے وہ اپنا آپ بھول گئی ہے۔ اس دن محبت نے سوچا کہ وہ بے وقوف ہی ٹھیک ہے اور ہر سیانے سے کنارہ کش ہونے کا فیصلہ کر لیا اور اب وہ کسی کی نہیں سنتی اور اگر سن بھی لے تو مانتی بالکل نہیں۔

Image: Agostino Arrivabene

Categories
نقطۂ نظر

محبت کرنے والے کم نہ ہوں گے

“میں اپنے لیے جیون ساتھی خود تلاش کرنا چاہتا ہوں مگر مسئلہ یہ ہے کہ اسے کہاں ڈھونڈوں؟ یونیورسٹی میں ایک لڑکی سے پوچھا کہ کیا ہم ایک دوسرے کے ساتھ کچھ وقت گزار سکتے ہیں؟ جواباً نہ صرف اس نے مجھے سخت سست سنائیں بلکہ لڑکیوں میں مجھے چھچھورا مشہور کردیا۔ اپنے دفتر میں بھی ایک لڑکی پسند ہے مگر وہ میرے سلام کا جواب تک نہیں دیتی مزید بات کیا کروں۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ وہ منڈی کہاں لگتی ہے جہاں ہم اپنے لیے بر تلاش کرسکیں؟”
یہ المیہ پاکستان کے ایک ایسے نوجوان کا ہے جس نے ابھی پیشہ وارانہ زندگی میں قدم رکھا ہے۔ ان صاحب کے مطابق انہوں نے اپنے والدین سے خاصی بحث و تمحیص کے بعد انہیں قائل کر لیا ہے کہ وہ اپنی پسند کی کسی لڑکی سے شادی کریں گے جسے وہ اچھی طرح جانتے ہوں مگر وہ اپنی تلاش میں تاحال کامیاب نہیں ہوپائے۔
برصغیر میں محبت عام لوگوں کے لیے صدیوں سے شجر ممنوعہ رہی ہے، ہیر رانجھا، سسی پنوں، سوہنی مہینوال، مرزا صاحباں، آدم خان و درخانی، ہانی و شاہ مرید عشق کی سبھی داستانوں میں سماج نے محبت دشمنی کا ثبوت دیا ہے۔ اگرچہ بادشاہوں اور امرا کے حرم ہمیشہ آباد رہے ہیں لیکن شہزادے سلیم کی انارکلی کو بھی دیوار میں چنوا دیا گیا تھا۔ محبت کی کہانیاں ہر خطے اور ہر دور میں موجود رہی ہیں اور محبت کرنے والوں کی جدائی لوگوں کے دلوں میں گداز پیدا کرتی آئی ہے۔لیکن جدیدیت اور انفرادی آزادیوں کے تصورات کے پھیلاو کے ساتھ اب یہ چند افراد کی کہانی نہیں رہی بلکہ پاکستان کے اکثر نوجوانوں کا مسئلہ بن گیا ہے۔ جدید اور قدیم اخلاقیات کے انتخاب میں الجھی یہ تعلیم یافتہ نئی نسل اپنی زندگیوں کا ہر اہم فیصلہ خود کرنا چاہتی ہے مگر ان کی راہ میں کئی رکاوٹیں حائل ہیں۔ اکثر لڑکے اور لڑکیاں خود سے کسی ساتھی کی تلاش میں ناکام رہتے ہیں کیونکہ مغربی معاشروں کی طرح پاکستان میں مخالف جنس سے براہ راست اظہار دلچسپی آسان نہیں۔ اس مرحلے کو عبور کرلینے والوں کی راہ بھی آسان نہیں ہوتی خاندانی، معاشرتی اور معاشی پس منظر کے جھگڑوں میں کئی محبتیں اور مطابقتیں دم توڑ دیتی ہیں۔
برصغیر میں محبت عام لوگوں کے لیے صدیوں سے شجر ممنوعہ رہی ہے، ہیر رانجھا، سسی پنوں، سوہنی مہینوال، مرزا صاحباں، آدم خان و درخانی، ہانی و شاہ مرید عشق کی سبھی داستانوں میں سماج نے محبت دشمنی کا ثبوت دیا ہے۔
لاہور کی فارمن کرسچن کالج یونیورسٹی سے فارغ التحصیل رابعہ کی کہانی ایسی ہی ہے۔ ان کی اپنے ہم جماعت علی سے دوستی قلبی رشتے میں بدل گئی اور دونوں نے شادی کا فیصلہ کیا۔ ابتداً لڑکی کے والدین نے اس پر اعتراض نہیں کیا مگر اس بات کا علم ہونے پر کہ لڑکے کا تعلق کسی دوسرے فرقے سے ہے انہوں نے فوراً اس رشتے سے انکار کردیا۔ رابعہ نے دو سال تک اپنے لیے آنے والے ہر رشتے سے انکار کیا۔ مگر آخر کار والدین کی جذباتی دھمکیوں میں آکر گذشتہ برس دسمبر میں ان کی پسند کے لڑکے سے شادی کرلی۔اسلام آباد کے ایک سرکاری ادارے میں کام کرنے والے زمان کو بھی ان کی محبوبہ کے گھر والوں نے اس لیے رد کردیا کیونکہ ان کا تعلق اسماعیلی فرقے سے تھا۔ اب وہ عمر بھر شادی نہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
اگرچہ وا بستگیوں اور معاشقوں کے قصے ہمارے ہاں بڑی دلچسپی سے نجی محفلوں میں بیان کیے جاتے ہیں لیکن ایک عمومی اندازے کے مطابق ایسے لوگوں کا تناسب خاصا کم ہے جنہیں اپنی پسند کے ساتھی کی تلاش اور شادی کے مراحل میں کامیابی نصیب ہوتی ہے۔
لاہور کے ایک معروف ٹیلیویژن چینل میں کام کرنے والی ماریہ اب تک اکیلی اس لیے ہے کیونکہ اسے اپنی پسند کا کوئی لڑکا نہیں ملا۔ اس کا کہنا ہے کہ میری سہیلیوں میں سے اکثریت اپنے کسی مرد دوست سے شادی کی خواہاں ہیں مگر اب تک جتنی سہیلیوں کی شادیاں ہوئیں وہ ان کے والدین کی پسند کے لڑکے سے ہوئی ہیں۔ میں چاہتی ہوں کہ لڑکا میری پسند کا ہو اور ہم میں ایک مطابقت ہو اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم شادی سے پہلے ایک دوسرے کو جانتے ہوں مگر میں اس بات سے خائف ہوں کہ ہمارے ہاں ایسے تعلقات کو بری نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
سائنسی تحقیق کے مطابق قریبی خاندان میں شادیاں موروثی بیماریوں کے پھیلاو کا عام سبب ہیں اور مختلف نسلی پس منظر کے حامل جوڑے کے ہاں پیدا ہونے والا بچہ نسبتاً بہتر جسمانی و ذہنی صلاحیتوں کا مالک ہوتا ہے۔
مادی سہولتوں کے ساتھ ساتھ سائنس کی بدولت معاشرتی اخلاقیات خاص کر جنسی اخلاقیات میں انقلابی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ کئی قدیم معاشروں میں آزادانہ جنسی اختلاط پر پابندی کی وجہ اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچے کی پرورش کا مناسب انتظام نہ ہونا تھا مگر مانع حمل ادویات اور اشیا کی ایجاد نے اس تصور کو راسخ قرار دے دیا۔ انہیں ایجادات کے بعد مغرب میں نئے جنسی رجحانات نے جنم لیا ۔ اس بات سے قطع نظر کہ یہ تبدیلی مثبت رہی یا منفی، اس نے لوگوں کو شادی سے پہلے اپنے ساتھی کی ہر ممکن جانچ پرکھ کی آزادی عطا کی۔
سائنسی تحقیق کے مطابق قریبی خاندان میں شادیاں موروثی بیماریوں کے پھیلاو کا عام سبب ہیں اور مختلف نسلی پس منظر کے حامل جوڑے کے ہاں پیدا ہونے والا بچہ نسبتاً بہتر جسمانی و ذہنی صلاحیتوں کا مالک ہوتا ہے۔
مردانہ برتری والے ہمارے معاشرے میں بظاہرایسا معلوم ہوتا ہے کہ لڑکیوں کو اپنے لیے کسی لڑکے کی تلاش میں زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہوگا لیکن لڑکوں کا معاملہ بھی کچھ مختلف نہیں ہے۔ لاہورکےمقامی کالج میں اردو کے استاد علی کو اپنی یونیورسٹی ہم جماعت سے شادی کرنے کے لیے کئی سال انتظار کرنا پڑا کیونکہ ان کے گھر والے اس رشتےکے لیے راضی نہیں ہورہے تھے۔ان کے دوست عبدالرحمان کے والدین نے ان کی شادی ان کی عم زاد سے طے کررکھی تھی جس نے مقامی کالج سے اسلامیات میں ماسٹرز کی ڈگری لی تھی اور سخت مذہبی نظریات کی حامل تھی جبکہ موصوف آزاد خیال واقع ہوئے تھے۔ اس رشتے کو ختم کرنے کے لیے انہیں خاصی مزاحمت کرنا پڑی۔
ویلنٹائن ڈے کے موقع پر جہاں لاہور، اسلام آباد اور کراچی جیسے بڑے شہروں میں جوڑے زمانے کی نظروں سے بچ کر عہد و پیمان باندھ رہے ہیں تو اس موضوع پر مربوط اور جامع سماجی مکالمے کی ضرورت اور شدت سے محسوس ہونے لگتی ہے۔
اس سارے قصے کا ایک اور اہم پہلو طبقاتی تقسیم بھی رہا ہے۔ اشرافیہ میں مردوزن کے آزادانہ میل جول اور تعلقات خاصے عام رہے ہیں جبکہ دیہات اور پسماندہ علاقوں میں خاندانی روایات کے برعکس ایک دوسرے کا ہاتھ تھامنے والے جوڑے قتل ہوتے آئے ہیں۔ شہری و نیم شہری متوسط طبقات کی نئی نسل اپنے والدین اور نئی اقدار کے مابین بری طرح سے پھنسی نظر آتی ہے۔ ماہرین نفسیات اس بات پر متفق ہیں کہ ایک خاص عمر کے بعد اکیلا پن انسان کی صلاحیتوں پر منفی اثر ڈالتا ہے جبکہ جوان افراد کی جذباتی او جسمانی ضروریات کی آسودگی ان کی کارکرگی پر مثبت طور پر اثر انداز ہوتی ہے۔
ویلنٹائن ڈے کے موقع پر جہاں لاہور، اسلام آباد اور کراچی جیسے بڑے شہروں میں جوڑے زمانے کی نظروں سے بچ کر عہد و پیمان باندھ رہے ہیں تو اس موضوع پر مربوط اور جامع سماجی مکالمے کی ضرورت اور شدت سے محسوس ہونے لگتی ہے۔ کیا محبت کرنا ہماری تہذیبی روایات سے متصادم ہے؟ اگر ایساہے تو اس تصادم میں ہمیں کس کا ساتھ دینا ہے؟ ان سوالات کے جوابات آج کے نوجوان کے جذباتی مسائل کا حل ثابت ہوسکتے ہیں۔ معاشرہ بھلے جو بھی کہتا رہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ محبت کرنے والے کم نہ ہوں گے۔
Categories
نقطۂ نظر

محبت کی ایک گھسی پٹی کہانی

محبت چار حرفی لفظ جو کہیں پہ بادشاہ افلاک ہے تو کہیں مطعون و راندہ درگاہ۔ محبت جس کے بارے میں سب کا اتفاق ہے الہامی جذبہ ہے۔ خدا خاص دلوں پر ودیعت کرتا ہے۔ ہم سب محبت اور محبت کرنے والوں کے لیے ہمدردی رکھتے ہیں کیوں کہ ہم محبت کرنے والی قوم ہیں۔ہماری دھرتی سے محبت کی الہامی داستانیں جڑی ہیں جو ہم کو بتاتی ہیں کہ ہم سے زیادہ محبت کو مان دینے والا کوئی نہیں۔ ہم محبت اور محبت کرنے والوں کو عزت اورمان دیتے آئے ہیں۔ اس لیے بھی کہ محبت میں دو دل انتہائی مخلص ہوتے ہیں، ان کے لیے دنیاوی جاہ و جلال بے معنی ہوتاہے۔ شاہان وقت اپنی سلطنت کو ٹھوکر مار کر محبت کے پیچھے چل پڑتے ہیں۔ یہ مخصوص اور پاک دلوں پر اتاری جانے والی ایسی نعمت ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں۔ شاعروں کی شاعری، گیتوں ،غزلوں، لوک داستانوں، رنگ دھنک، سنورنا، خوشی، سکون؛غرض کے ہر انسانی جذبے پر حاوی یہ جذبہ محبت ہے۔ اولیا اللہ کا کلام،صوفیوں کے تصوف کی بنیاد سب محبت عشق پر رکھی ہے۔ سب عشق مجازی کو عشق حقیقی اور خدا تک پہنچنے کا زریعہ گردانتے ہیں۔لیکن!!!!

چلیں کہانی شروع کرتے ہیں۔

ایک لڑکی تھی یہ غریب بھی ہوسکتی ہے اور امیر بھی، کالی گوری درمیانی شکل کی بھی، تعلیم یافتہ بھی ہو سکتی ہے اور کم پڑھی لکھی بھی۔ دور دیس سے آیا ایک لڑکا، یا چلیں دور دیس سے نہیں بھی آیا ، کہیں آس پاس ہی تھا۔ دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا محبت کے آسمانی جذبے نے ان دونوں کو اپنی گرفت میں لے لیا، خلوص اور سچائی نے ایک دوسرے کو شناخت کر لیا،دونوں معصوم دلوں نے ساتھ جینے مرنے کی قسمیں کھا لیں ۔۔۔۔اور محبت ہوگئی۔

محبت جس کے بارے میں سب کا اتفاق ہے الہامی جذبہ ہے۔ خدا خاص دلوں پر ودیعت کرتا ہے۔ ہم سب محبت اور محبت کرنے والوں کے لیے ہمدردی رکھتے ہیں کیوں کہ ہم محبت کرنے والی قوم ہیں۔
اب اس کہانی میں ولن کی آمد ہوئی۔ یہ ولن ظالم سماج بھی ہو سکتا ہے، لڑکی کا باپ اور بھائی بھی۔ لڑکے کی بھابھی یا ماں یا بھائی، لڑکی کا کوئی پڑوسی رشتے دار بھی اور لڑکے پر فریفتہ کوئی اس کی رشتے دار بھی۔ تو بس ولن نے ہر ممکن کوشش کی کہ یہ ملاپ نہ ہوپائے۔ لیکن سچے جذبوں نے ہر مشکل کو شکست ِفاش دے کر اپنا آپ منوا لیا۔ ہم سب خوش کہانی بھی ختم۔
نہیں کہانی ایسے ختم نہیں ہوا کرتی۔ یوں ہوا کہ بدنیت ولن یا ظالم سماج یا لڑکی کے باپ کا کردار بہت اہم ہوگیا ، انہوں نے لڑکی کو گھر میں قید کر دیا۔ مار پیٹ بھی کی جارہی ہے کھانا پینا بھی بند ہے، بے چاری بہت تکلیف میں ہے،رو رو کر بے حال ہے۔ بالکل اجڑ گئی ہے اس کی کھلکھلاتی ہنسی، آنکھوں کی چمک اور وجود کا بانکپن سب کھو گیا۔ اب وہ بھٹکتی اداس روح ہے اور ظالم سماج اسے اس کے محبوب کے علاوہ کسی بھی نالائق کے ساتھ بیاہنے کو تیار ہے۔
اب پنڈال سج گیا ہے، درمیان میں متوقع دلہا بیٹھا ہے۔ اس کی آنکھیں ایک لڑکی کو بانہوں میں بھرنے کے خواب دیکھ رہی ہیں۔ دلھا اپنے جوان ارمانوں کی پیاس اندر دلہن بنی لڑکی کے وجود کے رس سے بجھانے کے لیے بے تاب ہے۔ اندر لڑکی کو غش پر غش آرہے ہیں، وہ بے دم بے جان پڑی ہے۔ کیا اس لڑکی نے اب ساری زندگی دل میں کسی اور کو بسا کر اپنا جسم کسی دوسرے کو سونپنا ہے؟جس نے پرائے مرد کو اور اس کے لمس کو تاعمر یوں سہنا ہے کہ نکاح کے دوبول بھی اس مرد کو، اس شوہر کو اس کے لیے پرایا ہی رکھیں گے۔
ایسا کرتے ہیں ہیرو کو یہاں لے آتے ہیں تو جناب موقع پا کر ہیروبھی یہاں آجاتا ہے۔ تسلی ہوئی اب آپ کو! شاید کچھ حالات بہتر ہوسکیں۔ ہیرو نے یہاں آ کر لڑکی کو آواز دی، محبوب کی آواز نے اس کے تن من میں بجلی سی بھر دی اور وہ بھاگ کر اپنے محبوب کی پناہ میں آگئی۔ یہاں ظالم سماج دونوں کو گولی بھی مار سکتا ہے، یہ بھی محبت کی جیت کا ایک رائج طریقہ ہے۔ چلیں زیادہ افسوس نہیں کرتے ابھی اس انجام کو موقوف کرتے ہیں۔
چلیں یوں کرتے ہیں کہ محبوب کو چھپا کر لے آتے ہیں جو عین موقع پر لڑکی کو وہاں سے آزاد کروا کر (عرف عام میں بھگا کر) لے جاتا ہے۔ اب دونوں ادھر ادھر چھپتے پھر رہے ہیں۔ چلیں آپ کی تسلی کے لیے ان کو تین بار”قبول ہے”بھی پڑھوا دیتے ہیں۔ اب آپ بتائیے ہمیں کیا کرنا چاہیے، اب تک تو ہم سب کی ہمدردی ان دو محبت بھرے دلوں کے لیے تھیں۔ کیا ہم ان لڑکا لڑکی کی مخبری کر دیں؟ یا ان سے ہمدردی کریں؟
یہ مناظر تو ہم تقریبا تمام فلموں کہانیوں میں پڑھ دیکھ یا سن چکے ہیں۔ ہر مرتبہ ہماری ہمدردی ان مظلوم محبت بھرے دلوں کے لیے ہوتی ہے۔ اب کہانی کو آگے بڑھاتے ہیں۔فرض کیجیے یہ محبت میں مبتلا لڑکی آپ کی اپنی بہن یا بیٹی ہے اب آپ کا کیا ردعمل ہے؟ ارے ارے ناراض نہ ہوں، محض فرض ہی تو کرنا ہے۔ نہیں؟ کیوں صاحب، سوال کیوں نہیں پیدا ہوتا۔ آپ کی بہن بیٹی بھی تو انسان ہے۔ ہم پُر محبت قوم ہیں، محبت کے لیے نرم گوشہ بھی رکھتے ہیں، محبت کو عزت بھی دیتے ہیں۔ پھر!
جی جناب آپ واقعی عزت دار ہیں، تسلیم! آپ کا شملہ بھی اونچا ہے، آپ اونچے نام نسب کے، راجے یا مہاراجے بھی ہوسکتے ہیں۔لیکن ابھی کہانی کے شروع میں آپ نے مانا تھا محبت بھی عزت دار جذبہ ہے، اولیا کی میراث ہے۔ اگر عشق ِمجازی کے ذریعے آپ کی بہن بیٹی بھی عشق حقیقی کو پا لے تو کچھ ایسا غلط بھی نہیں۔صاحب ٹھنڈے دل سے بغور سنیے۔ دیکھیے گناہ تو نہیں کیا ہے دونوں نے۔ آپ نے تو تمام عمر محبت کے حق میں جذبات رکھتے ہوئے تمام فلمیں ازبر کر رکھی ہیں۔ جوانی تو آپ پر بھی آئی تھی اور وہ بھی منہ زور رہی ہوگی۔ یہ آپ یک دم اب آپے سے باہر کیوں ہوگئے؟ ارے آپ تو زندہ گاڑ دینے کی بات پر اتر آئے، اس طرح آمادہ قتل ہوجانا کوئی دانشمندی تو نہیں۔
اچھا چلیں لڑکی نہیں لڑکا آپ کا بھائی یا بیٹا ہے۔ بس اب تو آپ مطمئن ہیں۔ ہاں کام تو غلط ہے کسی کی لڑکی بھگانا لیکن اب آپ لڑکے کا ساتھ دیں گے آخر کو آپ کا خون ہے۔ اور خم ٹھونک کر بھی آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ بھئی مردوں والا کام کیا ہے لڑکے نے۔ آپ کا شملہ مزید اونچا بھی ہو سکتا ہے اس کارنامے سے۔
چلیں پھر ایسا کرتے ہیں تھوڑا آگے بڑھاتے ہیں اس کہانی کو،آپ لڑکے کے بھائی ہیں، ایک چھوٹا سا مسئلہ ہے۔ وہ یہ کہ لڑکی بیوہ اور دو چھوٹے بچوں کی ماں بھی ہے۔ کم عمری میں بیوہ ہوگئی بے چاری،والدین شادی کرنا نہیں چاہتے اور بچوں سمیت کوئی اس کو قبول کرنے کو تیار بھی نہیں تھا۔ امید ہے اب تو کوئی اعتراض نہیں ہوگا آخر کو انبیا کی سنت ادا ہونے جا رہی ہے۔
جی جناب آپ واقعی عزت دار ہیں، تسلیم! آپ کا شملہ بھی اونچا ہے، آپ اونچے نام نسب کے، راجے یا مہاراجے بھی ہوسکتے ہیں۔لیکن ابھی کہانی کے شروع میں آپ نے مانا تھا محبت بھی عزت دار جذبہ ہے، اولیا کی میراث ہے۔
کیا ! آپ غیر خون کو اپنے خاندان میں نہیں ملائیں گے؟ ارے بھائی آپ کے بھائی کے نطفے سے جو اولاد پیدا ہوگی وہ تو غیر نہیں ہو گی نا یہ دو بھی پل جائیں گے۔ چلیں کچھ بھی سہی آپ کے بھائی نے محبت بھی کی اور ثواب کا کام بھی، اب دو بول پڑھوا دیجیے۔ کیوں ہرگز نہیں؟ اب آپ بھائی کی عقل پر ماتم کر رہے ہیں اور اسے تنبیہہ بھی کر رہے ہیں کہ پرائے بچوں کی ذمہ داری نہ لے۔ بھابی جی، ماں جی آپ ہی سمجھائیں، آپ تو ایک عورت کا ساتھ دیجیے۔ کیا کہا ماں جی! آپ کے خیال میں یہ لڑکی نہیں عورت ہے ، اور وہ بھی عمر دار ، پکی اور خرانٹ بھی، جس نے آپ کے بھولے معصوم لڑکے کو پھنسا لیا ہے۔ ارے ماں جی عمر کا اعتراض ، چہ معنی دارد! آپ تو سارا دن مصلے پر گزارتی ہیں۔ ام المومنین رضی اللہ تعالہ عنہا کے نقش قدم کو زاد ِحیات گردانتی ہیں۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا بھی تو بڑی عمر کی تھیں۔ کیا کہا آپ کو قبول نہیں، آپ کے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تو قبول تھا۔ نبی کی ساری سنتیں عزیز ہیں اس ایک سنت کے سوا؟
اچھا چلیں فرض کرتے ہیں لڑکی غیر مذہب سے ہے، اب آپ کے لڑکے کے واسطے تبدیلی مذہب کو تیار ہے، اب آپ کی کیا رائے ہے؟ ہائے! کیسا تقدس ،کیسی مسرت بھری مسکراہٹ ہے، مانو جنت کی ہوا آپ نے یہیں محسوس کرلی۔ آپ کے ہاتھ پر کوئی لڑکی اسلام قبول کرنے جا رہی ہے۔ لیکن نہیں وہ تو آپ کے لڑکے کو قبول کر رہی ہے تبدیلی مذہب تو بس بہانہ ہے۔ چلیں آپ راضی تو ٹھیک۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ وہ دل سے مذہب بدلنا نہیں چاہ رہی تو رہنے دیجیے۔ دونوں اپنے مذہب پر چلتے رہتے ہیں، کوئی بات نہیں۔ ارے نہیں بنائے گی آپ کی نسل کو کافر، اتنا ڈر کیسا، آپ کا سچا مذہب اس کو متاثر کر لے گا، اپنے مذہب کی سچائی اور اچھائی پر بھروسہ کیجیے۔
اچھا آپ نہیں مانتی ہیں اور لڑکی کی ماں بھی نہیں مانتی۔ لڑکی کی ماں کی شرط ہے آپ کا بیٹا مذہب بدلے، اب بتائیے؟ کیا! اب آپ اپنے بیٹے کو ایسی حرکت پر دودھ نہیں بخشیں گی! لیکن ابھی تو آپ لڑکی کا مذہب بخوشی بدلوا رہی تھیں، تو لڑکے کا کیوں نہیں؟ محبت میں دو لوگ ایک دوسرے کو قبول کرتے ہیں یہ مذہب ،فرقہ،ذات پات، زبان ،قومیت ،عمروں کا تفاوت یہ سب تو ذیلیات ہی ہیں۔
اچھا چلیں یہ الہامی جذبہ، یہ خدا کا انعام خدا نے ایک شادی شدہ عورت کے دل میں اتار دیا۔ یہ لڑکی کسی کی بیوی ہے، اپنے گھر مطمئن تھی، لیکن کیا کیجیے محبت کے درد سے کون دامن بچا پایا ہے۔ کئی ایک فلموں میں بھی میں نے خود دیکھا، آپ سب کی ہمدردی اس لڑکی کے لیے تھی۔ اب۔۔۔ ارے نہیں صاحب غصہ نہیں۔ ٹھنڈے دل سے سنیے، سمجھنے کی کوشش تو کیجیے۔ لاحول نہ پڑھیےبخدا اس میں کوئی بے حیائی نہیں۔ دونوں نے کوئی گناہ نہیں کیا۔ دونوں بہت نیک ہیں، بس خدا نے محبت ڈال دی دلوں میں۔ کیوں ایسا کیوں نہیں ہو سکتا۔ یہ بے اختیار جذبہ تو کسی کو بھی اپنا اسیر کر سکتا ہے۔ کس کتاب میں لکھا ہے کہ خدا محبت صرف کنوارے دلوں میں ہی ڈالے گا؟
محبت میں دو لوگ ایک دوسرے کو قبول کرتے ہیں یہ مذہب ،فرقہ،ذات پات، زبان ،قومیت ،عمروں کا تفاوت یہ سب تو ذیلیات ہی ہیں۔
اچھا ایک آخری فرض کر لیجیے۔ بس جان کی امان پاتے ہوئے ایک آخری فرض کرنا چاہتی ہوں۔ دل سنبھال کر رکھیے، میرا سر نہ پھاڑ ڈالیے گا۔ فرض کیجیے یہ محبت خدا نے مرد کے دل میں مرد کے لیے یا عورت کے دل میں عورت کے لیے ڈال دی ہے تو، اب کیا کریں! نہیں نہیں، یہ میری رائے نہیں، خواہش بھی نہیں۔ محبت کے بارے میں بہت کچھ پڑھا یا سنا ہے جملہ خوبیاں خامیاں علامات سب پڑھیں، تو یہ قسم بھی تو ہو سکتی ہے نا! ایک محبت سو فسانے پڑھے یہ ایک سو ایک واں بھی سہی۔
Categories
شاعری

اسٹیکر

خیال ٹوٹ ٹوٹ کر آتے ہیں
اور شعر کا اسٹیکر لگا کر
صفحات پر چپک جاتے ہیں
یہ میری اور تمہاری محبت کی داستان
جو کئی نظموں میں ادھوری ہے
یہ فرشتے اور خدا کی بیٹھک
اور انکی جرح کرتا یہ بکھرا مجاہد
گوندھ رہا ہے کئی تہذیبوں کا آٹا
جو ہتھیلی پر سوکھا ہوا ہے
یہ موضوع کی گوند میں لتھڑے
اندیشے اور جذبات کے مسالے
اترتے نہیں ہیں حلق سے
یہ زمانے کی اینٹھن لے کر دل میں
پرانے وقتوں کا نا جائز بیٹا بن کر
جو کچھ بھی لکھا ہے میں نے
یہ سب کچھ اسٹیکر ہے چپکا ہوا
صفحات کی عزت سے الجھا ہوا
 
اب تم کہتے ہو کہ میں اتار دوں سب کو
مگر یہ ممکن نہیں ہے اے دوست
میں بہت عظیم ہوں خود میں
مجھے اچھا نہیں لگتا
خیال سے روٹھا ہوا لفظ
واپس ذہن میں لانا
اور تم بھی تو اس دورِ غلامی سے گزر کر
افسانہِ بیزار سے خود بھی
چپک گئے ہو ایسے
جیسے اسٹیکر اتارتے اتارتے انگلیاں
اور انکی چپچپاہٹ میں تم نے
مجھ پر بھی شاعر کا اسٹیکر
چسپاں کر دیا ہے
شکر ہے