Categories
فکشن

خواب (عبدالسلام العجیلی)

[blockquote style=”3″]
عبدالسلام العجیلی 1918ء میں شام کے مقام رقّہ میں پیدا ہوے اور وہیں طبیب کے طور پر کام کرتے ہیں۔ لکھنے کے علاوہ انھوں نے سیاست میں بھی حصہ لیا ہے اور کئی وزارتی عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں، جن میں وزیر ثقافت کا عہدہ بھی شامل ہے۔

عطا صدیقی (پورا نام عطاء الرحمٰن صدیقی) 13 نومبر 1931 میں لکھنؤ میں پیدا ہوے، تقسیم کے بعد کراچی منتقل ہوے۔ کراچی یونیورسٹی سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد بندر روڈ پر واقع ایک سکول میں پڑھانا شروع کیا اور وہیں سے ہیڈماسٹر کے طور پر ریٹائر ہوے۔ ایک پڑھنے والے اور ترجمہ کار کے طور پر ان کی ادب سے عمربھر گہری وابستگی رہی۔ ان کے کیے ہوے بہت سی عالمی کہانیوں کے ترجمے آج کراچی اور دیگر رسالوں میں شائع ہوتے رہے۔ انھوں نے امرتا پریتم کی کتاب ’’ایک تھی سارا‘‘ کا ہندی سے ترجمہ کیا۔ عطا صدیقی کی ترجمہ کی ہوئی کہانیوں کا مجموعہ زیر ترتیب ہے۔ 13 اگست 2018 کو کراچی میں وفات پائی۔

عطا صدیقی کے تراجم لالٹین پر اجمل کمال کے تعاون سے پیش کیے جا رہے ہیں۔ اجمل کمال کراچی پاکستان سے شائع ہونے والے سہ ماہی ادبی جریدے “آج” کے بانی اور مدیر ہیں۔ آج کا پہلا شمارہ 1981 میں شائع ہو تھا۔ آج نے اردو قارئین کو تراجم کے ذریعے دیگر زبانوں کے معیاری ادب سے متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ اردو میں لکھنے والے ادیبوں اور شاعروں کے کام سے بھی متعارف کرایا۔ سہ ماہی آج کو سبسکرائب کرنے اور آج میں شائع ہونے والی تخلیقات کو کتابی صورت میں خریدنے کے لیے سٹی پریس بک شاپ یا عامر انصاری سے رابطہ کیا جا سکتا ہے:
عامر انصاری: 03003451649

[/blockquote]
تحریر: عبدالسلام العُجیلی (Abdel Salam al-Ujaili)
انگریزی سے ترجمہ: عطا صدیقی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محمد ویس نے خواب میں خود کو نماز پڑھتے دیکھا۔ یہ کوئی ایسی انوکھی بات نہیں تھی، کہ وہ تو بیداری کی حالت میں بھی باقاعدگی سے عبادت کرتا تھا اور کوئی فرض نماز اس نے قضا نہیں کی تھی۔ اس نے دیکھا کہ پہلی رکعت میں وہ سورۂ نصر بالجہر پڑھ رہا ہے، جس کے ختم ہوتے ہی دہشت کے عالم میں اس کی آنکھ کھل گئی۔

’’صدق اللہ العلی العظیم،‘‘ اس کے منھ سے نکلا۔ وہ بستر پر اٹھ بیٹھا اور اپنی آنکھیں ملنے لگا۔ محمد ویس کو یاد نہیں تھا کہ پورے خواب میں سے صرف یہی بات کیوں اس کے ذہن میں اٹک گئی۔ صبح ہوتے ہی وہ موضعے کے بزرگ شیخ محمد سعید کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا۔ دوپہر ہوتے ہوتے اس نے شیخ کو ڈھونڈ نکالا اور اس کو اپنا خواب سنایا۔ شیخ نے پہلے سر جھکا لیا، اس کی پیشانی پر شکنیں پڑ گئیں اور بہت دیر غوروفکر میں ڈوبے رہنے کے بعد اس نے سوال کیا:

’’تمھیں یقین ہے کہ تم سورۂ نصر پڑھ رہے تھے؟‘‘
’’بالکل،‘‘ محمد ویس نے کہا۔ ’’پوری کی پوری پڑھی تھی۔‘‘

’’بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ جب اللہ کی مدد اور فتح آئے اور لوگوں کو تم دیکھو کہ اللہ کے دین میں فوج درفوج داخل ہوتے ہیں تو اپنے رب کی ثنا کرتے ہوے اس کی تحمید کرو اور اس سے بخشش طلب کرو۔ بےشک وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے۔ صدق اللہ العلی العظیم۔‘‘ شیخ محمد سعید نے کہا: ’’محمد ویس، اپنے رب کی حمد و ثنا کرو اور اس سے استغفار کی درخواست کرو۔ بے شک وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے۔‘‘

’’یا شیخ، میرا دل کہتا ہے یہ میرے لیے نیک شگون ہوگا۔ آپ اس خواب کی تعبیر میں کیا کہتے ہیں ؟‘‘

شیخ محمد سعید نے اپنی چوڑی اور گھنی داڑھی کو مٹھی میں تھام لیا اور انگلیوں سے بالوں میں خلال کرنے لگا۔ وہ اپنے تبحّر کو خواب کی تعبیر جیسی معمولی بات کے لیے استعمال کرنے سے ہچکچا رہا تھا۔ آخرِکار وہ بولا:
’’محمد ویس، اللہ سے توبہ استغفار کرو۔ بےشک وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے۔ خواب میں خود کو یہ سورت پڑھتے ہوے دیکھنے کا مطلب ہے کہ بس، اب انجام قریب ہے۔‘‘

محمد ویس جو ویسے ہی بَولایا بَولایا سا رہتا تھا، یہ سنتے ہی سر سے پیر تک لرز گیا۔
’’کیا کہہ رہے ہیں شیخ؟‘‘

’’تمھارے روبرو یہ بات کہتے ہوے کلیجہ منھ کو آتا ہے، ‘‘شیخ بولا، ’’مگر حوصلہ رکھو، اللہ کی رحمت جلد ہی تمھارے شامل حال ہو گی۔ اور موت تو سب ہی کو آنی ہے۔ محمد ویس، کوئی شخص یہ خواب دیکھنے کے بعد چالیس دن سے زیادہ نہیں جیا۔‘‘

یہ فیصلہ سنا کر شیخ تو ظہر کی نماز کے لیے وضو کرنے چل دیا اور محمد ویس مارے دہشت کے گم سم بیٹھا کا بیٹھا رہ گیا۔ اس کے پیروں میں کھڑے ہونے کی سکت بھی نہ رہی۔

خشک گلے سے وہ منمنایا، ’’چالیس دن! اللہ ہمت دے۔‘‘

جس بستی میں محمد ویس اور شیخ محمد سعید رہتے تھے، بہت مختصر سی تھی، اس لیے شام ہوتے ہوتے ہر فرد کو محمد ویس کے خواب اور شیخ محمد سعید کی تعبیر کا علم ہو گیا۔ وہ موضع ایسا تھا جہاں خوابوں کی تعبیر پر اعتبار کیا جاتا تھا، اور اگلی شام تک ہر فردوبشر کو یقین ہو چکا تھا کہ محمد ویس چالیس دن میں ختم ہو جائے گا۔ پہلے فرداً فرداً اور پھر ٹولیوں میں لوگ باگ محمد ویس کے پاس آنے لگے، جس کے باعث ان لوگوں کی خاطر جو اس کی عیادت یا پیش از مرگ تعزیت کے لیے آ رہے تھے، اس کو اپنے گھر ہی پر رہنا پڑا۔ محمد ویس کے خاندان کی عورتیں ٹوہ لینے کے لیے آتیں اور آنکھوں ہی آنکھوں میں اس کا جائزہ لیتیں۔ اس کو تندرست اور توانا مگر خیالوں میں گم دیکھ کر وہ بین کرنے لگتیں اور اللہ سے فریاد کرتیں کہ موت کے فرشتے کو روک لے جو اس کو لے جانے پر تلا ہوا تھا حالانکہ وہ ابھی ہٹّاکٹّا تھا۔ گو محمد ویس کو کوئی غم یا تردّد نہیں تھا، لیکن حفظِ ما تقدم کے طور پر جو تدبیریں ہو رہی تھیں اور اس سلسلے میں جو نازک سوالات اس سے کیے جا رہے تھے انھوں نے اس کو اندوہ اور پریشانی میں مبتلا کر رکھا تھا۔ دس دن تو اس نے جیسے تیسے معمول کے مطابق گزار لیے، گھر سے ہاٹ تک روزانہ آتا جاتا رہا، تاہم جلد ہی اس کے اعصاب بول گئے اور قوتِ برداشت جواب دے گئی۔ اب لوگوں نے دن میں بھی اس کے پاس آنا شروع کر دیا تھا، جبکہ پہلے وہ صرف شام ہی کو گھر پر ملتا تھا۔ خواب دِکھنے کے بیس دن بعد محمد ویس کے گھر کی عورتوں نے اس کا بستر جھاڑنا چھوڑ دیا کیونکہ اب وہ صبح شام اسی پر پڑا رہتا تھا۔ جب میعاد کے تیس دن نکل گئے تو تمام کھانے جو اس کو مرغوب تھے اور جو اس کے گھر والے بنا بنا کر پیش کیا کرتے تھے، اب بے چھوئے اس کی چاروں طرف رکھے رہتے۔ اس نے داڑھی چھوڑدی اور ایک سفید سا لبادہ پہنے پہنے ہر وقت عبادات میں مشغول رہنے لگا۔ اس پر ہمہ وقت رقت طاری رہتی، نہ موت کے خوف سے اور نہ زندگی کے ختم ہونے کے غم میں، بلکہ اُن سزاؤں کی ہیبت سے جو قبر سے آگے اس کے انتظار میں تھیں۔ اسے خوف اس بات کا تھا کہ اس نے کاروبار کے دوران اللہ کی بڑی جھوٹی قسمیں کھائی تھیں اور ہاٹ میں آس پاس کے دیہاتیوں کو بڑے دھوکے دیے تھے، کہیں ایسا نہ ہو کہ اللہ ان خطاؤں کو معاف نہ کرے۔ جوں جوں دن گزرتے گئے اور چالیسواں دن قریب آتا گیا، اس کے خالی پیٹ پر جمی ہوئی چربی ان پچھلے گناہوں کی توبہ استغفار میں گھلتی چلی گئی۔ اس کی بستی اور آس پاس کے بستیوں کے لوگ اب اس کے چہرے کے گرد ایک نورانی ہالے کا ذکر کرنے لگے اور ایسے پُراسرار کلمات کا چرچا ہونے لگا جو نماز پڑھتے ہوے اس کی زبان سے ادا ہوتے تھے۔ چالیس میں سے جب اڑتیس دن گزرچکے تو انتالیسویں دن مَیں وہاں پہنچا۔

آپ پوچھیں گے کہ مَیں کون؟

جس موضعے میں محمد ویس مویشیوں کا دلّال تھا اور شیخ محمد سعید ولی اللہ سمجھا جاتا تھا، میں وہاں کے اسکول میں مدرّس تھا۔ میں گرمیوں کی تعطیلات دمشق میں گزارتا تھا جہاں سے میری واپسی محمد ویس کے لیے شیخ محمد سعید کے مقرر کیے ہوے چالیس دنوں میں سے انتالیسویں دن ہوئی۔ میں محمد ویس سے بھی اسی طرح واقف ہوں جیسے بستی کے دوسرے لوگوں سے؛ تو جب اسکول کے بوڑھے چوکیدار عطاء اللہ نے مجھے اس کا قصہ سنایا تو میں یہ فیصلہ نہیں کر پایا کہ اس کی حالت پر اپنا سر پیٹ لوں یا قہقہے لگاؤں۔ اس لیے میں عطاء اللہ کو ساتھ لے کر اس کی عیادت کرنے— یا آنے والی موت پر تعزیت کرنے— گیا۔ وہ احاطہ جو محمد ویس کے خریدے ہوے مویشیوں سے بھرا ہوتا تھا، اس وقت ان تمام لوگوں سے بھرا ہوا تھا جو اس کے قریب آتی ہوئی متوقع موت کے انتظار میں جمع ہو گئے تھے۔ ایک کونے میں مرد جمع تھے تو دوسرے گوشے میں عورتیں، اور تیسری طرف وہ بھیڑ بکریاں بندھی ہوئی تھیں جو محمد ویس کے دوست احباب اس کی زندگی ہی میں اس لیے لے آئے تھے کہ اس کی الوداعی رات کو ذبح کی جائیں۔ جس کمرے میں محمد ویس ملک الموت کا انتظار کر رہا تھا، وہاں داخل ہونے پر میں نے اسے دیکھا— ملک الموت کو نہیں، محمد ویس کو۔ وہ اپنے بستر کے ایک کونے پر ٹکا عبادت میں مشغول تھا، جبکہ دوسرے کونے میں شیخ محمد سعید بیٹھا قرآن پاک کی تلاوت کررہا تھا۔ جس محمد ویس کو میں جانتا تھا اس کی بالکل مختلف صورت دیکھ کر مجھے دھکا لگا۔ اس کا گول، گلگوں چہرہ اب ستواں اور پیلا ہو گیا تھا اور داڑھی نے اسے اور بھی لمبوترا بنا دیا تھا۔ اس کے ڈھیلے ڈھالے سفید لباس نے اس کے چہرے کی زردی کو اَور نمایاں کر دیا تھا۔ نماز پڑھتے ہوے وہ اپنے سجدوں کو اس امید میں طویل کر دیتا کہ موت آئے تو سجدے میں آئے۔ اِس ولی اللہ میں اور اُس محمد ویس میں زمین آسمان کا فرق تھا جس کو میں اپنی کھڑکی میں سے قسمیں کھا کھا کر یہ کہتے سنا کرتا تھا کہ اگر اس نے ابھی ابھی خریدے ہوے جانور پر تین لیرے کا گھاٹا نہ اٹھایا ہو تو سمجھو اپنی بیوی کو طلاق دی۔ میں محمد ویس سے ملنے تو اپنے شوق اور تجسس میں گیا تھا لیکن اس کی حالت میں یہ فرق دیکھ کر بھونچکا رہ گیا اور اس بات کا قائل ہو گیا کہ وہ یقیناً وقت معین پر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔ اور جب میں نے شیخ محمد سعید کو کنکھیوں سے اپنی طرف دیکھتے ہوے پایا تو میرے تن بدن میں آگ ہی تو لگ گئی۔

میری اس شیخ سے، جس کی فطرت سادگی، حماقت اور مکاری کا مجموعہ تھی، کافی عرصے سے مخاصمت چلی آ رہی تھی۔ میں اس کی عطائیت اور دغا سے، جن کے زور پر اس نے جاہل دیہاتیوں کے ذہنوں کو اپنے قابو میں کر رکھا تھا، ہمیشہ لڑا کرتا تھا اور وہ بھی ان کو میرے خلاف ورغلانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا تھا۔ وہ مجھ پر الزام لگاتا کہ میں بچوں کے ذہنوں کو ملحدانہ خیالات سے مسموم کرتا ہوں اور انھیں اللہ رسول کا باغی بناتا ہوں۔ میری مخالفت میں اس کا جوش یہ جاننے کے باوجود کم نہیں ہوتا تھا کہ میں رسول کے پرنواسے حضرت زین العابدین کی اولاد میں سے ہوں، بلکہ وہ اسی کو میری مذمت کا جواز بنا لیتا تھا۔ ’’اس شخص کو دیکھو، حضرت زین العابدین کی اولاد ہو کر کہتا پھرتا ہے کہ زمین گھومتی ہے۔‘‘ پھر وہ لوگوں سے کہتا، ’’بھلا بتاؤ، تم میں سے کسی نے کبھی اپنے گھر کے مشرقی رخ کے دروازے کو اچانک مغرب کی طرف گھومتے دیکھا؟‘‘

جیسا کہ میں نے بتایا، شیخ محمد سعید کو دیکھ کر مجھے غصہ آ گیا تھا اور میں چیخ پڑنے کو تھا کہ وہ قاتل ہے، وہ محمد ویس کے ذہن میں وہ زہر بھررہا ہے جو اس کو چالیس دن میں مار ڈالے گا۔ تاہم میں نے ضبط سے کام لیا۔ اس طرح بگڑ کر میں شیخ کے خلاف کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا تھا، کیونکہ وہ ہمیشہ کی طرح اسی زمین کی گردش والی دلیل سے ثابت کر دیتا کہ کس دیہاتی نے اپنا مشرقی رخ والا دروازہ مغرب کی جانب گھومتے دیکھا ہے؛ پس ثابت ہوا کہ زمین نہیں گھومتی۔ میرے خلاف کینہ رکھنے پر اللہ اس پر رحم کرے، اور محمد ویس اگر کل صبح تک شیخ محمد سعید کے زیرِ اثر رہے تو اللہ اس پر بھی رحم کرے۔ غم اور غصے کے مارے دل پر ایک بوجھ لیے میں اسکول لوٹ آیا۔

میرے کہنے کے مطابق چوکیدار عطاء اللہ نے مجھے منھ اندھیرے اٹھا دیا۔ میں اپنے ساتھ دمشق سے تین چتی دار ناشپاتیاں لایا تھا جو میں نے رات کو ہوا کے رخ پر رکھے مٹکے کے نیچے رکھ دی تھیں۔ ان میں سے ایک ناشپاتی اٹھا کر میں لپکتا ہوا محمد ویس کے گھر پہنچا۔ سواے ان بھیڑ بکریوں کے جو اپنے مالک کی موت کے نتیجے میں خود اپنی موت کی منتظر کھڑی تھیں، احاطے میں کوئی نہیں تھا۔ زنان خانہ روشن تھا اور رونے کی دھیمی دھیمی آواز آ رہی تھی۔ محمد ویس کا کمرہ بند تھا۔ میں نے کھڑکی سے جھانکا تو دیکھا کہ وہ موت کے انتظار میں عبادت کرتے کرتے تھک کر سویا پڑا ہے۔ کئی بار میں نے زور زور سے دروازہ کھٹکھٹایا، پھر دھکا دے کر دروازہ کھولتے ہوے چلّا کر کہا:

’’محمد ویس، اللہ کی حمدوثنا کرو!‘‘
وہ نیند سے چونک پڑا اور چیخا، ’’کیا ہوا؟‘‘
’’میں ہوں، استاد نا جی۔ ڈرو نہیں، محمد ویس، اور میری بات سنو۔‘‘

میں نے دیکھا اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے تھے اور بہہ بہہ کر اس کے رخساروں سے ٹپک رہے تھے اور وہ سہما ہوا گم سم بیٹھا تھا۔ اس خوف سے کہ کہیں میری بات سننے سے پہلے ہی اس کا دم نہ نکل جائے، میں نے کہا:

’’میں تمھارے پاس اس لیے آیا ہوں کہ میرے جدامجد حضرت زین العابدین نے مجھے بیدار کر کے تمھارے پاس بھیجا ہے۔ آپ پر اللہ کی رحمت ہو، آپ نے مجھے حکم دیا: محمد ویس کے پاس جاؤ اور اس سے کہو کہ اللہ نے اس کو آزمائش میں ڈالا تھا اور جان لیا کہ وہ توبہ کرنے والا بندہ ہے۔ اس کو یہ پھل دینا، یہ بہشت کے میووں میں سے ہے، اور حکم دینا کہ سورج طلوع ہونے سے پہلے دو رکعت نماز تمھارے ساتھ ادا کرے اور پہلی رکعت میں سورۂ نصر پڑھے۔ اللہ اس کی عمر اتنی دراز کرے گا کہ وہ نہ صرف اپنے بچوں کی، بلکہ بچوں کے بچوں کی خوشیاں بھی دیکھے گا۔‘‘

محمد ویس نے تھوک نگلا۔ یوں دکھائی دیا جیسے میری بات پوری طرح اس کی سمجھ میں نہیں آئی۔ وہ بس میرے ہاتھ میں دبی ہوئی ناشپاتی کو گھورتا رہا۔ (مجھے یقین تھا کہ بستی میں کسی نے بھی چتی دار ناشپاتی نہیں دیکھی تھی۔) میں نے ناشپاتی چھیل کر اس کو کھلائی اور بیج سمیت نگل جانے کو کہا۔ پھر میں اسے کھینچ کر کمرے کے کونے میں لے گیا۔

’’محمد ویس، سورج نکلنے سے پہلے نماز کے لیے تیار ہو جاؤ۔‘‘
’’مگر استاد ناجی، میں وضو سے نہیں ہوں۔‘‘
مجھے یاد آیا کہ میں نے بھی وضو نہیں کیا تھا، مگر اس خوف سے کہ کہیں میرے مشورے کا اثر زائل نہ ہو جائے، میں نے سمجھایا:
’’تیمم کرلو محمد ویس، اس کی اجازت ہے۔ مارو ہاتھ زمین پر۔‘‘

محمد ویس کے ساتھ کھڑے ہو کر میں نے بھی نماز پڑھی۔ ہم نے دو رکعت نماز ادا کی اور پہلی رکعت میں اس نے سورۂ نصر پڑھی۔ پھر میں لوٹ کر اسکول آ گیا اور صبح کا انتظار کرنے لگا۔

ایک گھنٹے کے اندر اندر پوری بستی کو محمد ویس کی نئی بشارت کا علم ہو گیا۔ وہ تمام لوگ جو کل محمد ویس کے احاطے میں جمع تھے، آج اسکول کے احاطے میں جمع ہو گئے۔ اس بات کی تصدیق کرنے کے لیے کہ آیا واقعی میرے جدامجد حضرت زین العابدین خود میرے پاس محمد ویس کی بریّت لے کر آئے تھے، وہ سب ایک دوسرے پر گرے پڑ رہے تھے۔ اس وقت مجھے لگا کہ آج میں نے شیخ محمد سعید پر واضح فتح حاصل کر لی، کیونکہ نہ تو محمد ویس مرا اور نہ اس کی بھیڑ بکریاں ذبح ہوئیں، بلکہ وہ سب حضرت زین العابدین کی اولاد، ولی اللہ استاد ناجی کی، یعنی میری نذر کر دی گئیں۔

مگر کیا یہ واقعی میری فتح تھی؟ سچ بات یہ ہے کہ مجھے اس کا یقین نہیں۔ اس فتح کی حقیقت پر شک کا سبب یہ ہے کہ میں شیخ محمد سعید کے مقتدیوں میں سے ایک بھی کم نہ کر سکا، بلکہ الٹا میں نے ان میں ایک کا اضافہ ہی کر دیا، مدرّس کا، یعنی خود اپنا۔ اپنے جداِمجد کے ناموس کو قائم رکھنے کی خاطر، جن کے نام سے میں نے اپنا خواب گھڑا تھا، اب میں بھی شیخ محمد سعید کے پیچھے نماز پڑھنے پر مجبور ہوں، تیمم کر کے نہیں، باقاعدہ وضو کر کے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج اور اجمل کمال کے تعاون سے شائع کی جانے والی مزید تحاریر اور تراجم پڑھنے کے لیے کلک کریں۔
Categories
شاعری

آگ (تخلیق: لنڈا ہیگن، ترجمہ: نسیم سید)

زندگی کے لئے
ایک عورت کو بس
سانس لینا ہی کافی نہیں
اس کو لازم ہے وہ
کوہساروں کی آواز سنتی ہو
نیلے افق کی حسیں، بے کراں وسعتوں کو
اسے علم ہو
وہ زن باد شب
جانتی ہو کہ
کیسے طرح دے کے سب گھٹنائیوں کو نکل جائے
کیسے وجود اپنا خود میں سمیٹے
یہ سب
یہ سارا کچھ
اس کو معلوم ہو

اس کو لازم ہو
وہ جانتی ہو
اسے سب خبر ہو
مجھے دیکھو
میں بھی وہی ہوں
زن باد شب
لیکن اس آگ کو
میں نے کیسا چراغوں میں ڈھالا ہے
کس طرح اب میری آواز کی
گونج ان بے کراں وسعتوں میں فضاؤں کی

سنو
میں بھی تم میں سے ہوں
کوئی تم سے الگ تو نہیں
مگر میں زن بادِ شب
نیلگوں آسمانوں کا ایک سلسلہ ہوں
میں اب
سینڈیا کے پہاڑوں کی آواز ہوں
ہاں میں وہی ہوں
وہی۔۔۔۔ وہ زن باد شب
ایک اک سانس میں اپنی جلتی تھی جو
Image: firelei baez

Categories
فکشن

اُس کے قدموں کی مدھم آہٹ (ڈم بڈزو مارےچیرا)

[blockquote style=”3″]

ناول نگار، افسانہ نویس اور شاعر ڈم بڈزو مارے چیرا (Dambudzo Marechera) کا تعلق زمبابوے سے تھا۔ ان کے ادبی ورثے میں افسانوں کا ایک مجموعہ، دو ناول (جن میں سے ایک ان کی وفات کے بعد شائع ہوا)، نظم، نثر اور ڈراموں کا ایک مجموعہ اور شاعری کی ایک کتاب (یہ کتاب بھی ان کی وفات کے بعد شائع ہوئی) شامل ہیں۔ ان کی کہانی The Slow sound of His Feet کا ترجمہ عطا صدیقی نے کیا ہے جو آج کے شمارہ نمبر 9 میں شامل ہے۔

عطا صدیقی (پورا نام عطاء الرحمٰن صدیقی) 13 نومبر 1931 میں لکھنؤ میں پیدا ہوے، تقسیم کے بعد کراچی منتقل ہوے۔ کراچی یونیورسٹی سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد بندر روڈ پر واقع ایک سکول میں پڑھانا شروع کیا اور وہیں سے ہیڈماسٹر کے طور پر ریٹائر ہوے۔ ایک پڑھنے والے اور ترجمہ کار کے طور پر ان کی ادب سے عمربھر گہری وابستگی رہی۔ ان کے کیے ہوے بہت سی عالمی کہانیوں کے ترجمے آج کراچی اور دیگر رسالوں میں شائع ہوتے رہے۔ انھوں نے امرتا پریتم کی کتاب ’’ایک تھی سارا‘‘ کا ہندی سے ترجمہ کیا۔ عطا صدیقی کی ترجمہ کی ہوئی کہانیوں کا مجموعہ زیر ترتیب ہے۔ 13 اگست 2018 کو کراچی میں وفات پائی۔

عطا صدیقی کے تراجم لالٹین پر اجمل کمال کے تعاون سے پیش کیے جا رہے ہیں۔ اجمل کمال کراچی پاکستان سے شائع ہونے والے سہ ماہی ادبی جریدے “آج” کے بانی اور مدیر ہیں۔ آج کا پہلا شمارہ 1981 میں شائع ہو تھا۔ آج نے اردو قارئین کو تراجم کے ذریعے دیگر زبانوں کے معیاری ادب سے متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ اردو میں لکھنے والے ادیبوں اور شاعروں کے کام سے بھی متعارف کرایا۔ سہ ماہی آج کو سبسکرائب کرنے اور آج میں شائع ہونے والی تخلیقات کو کتابی صورت میں خریدنے کے لیے سٹی پریس بک شاپ یا عامر انصاری سے رابطہ کیا جا سکتا ہے:
عامر انصاری: 03003451649

[/blockquote]
تحریر: ڈم بڈزو مارے چیرا (4 جون 1952 تا 18 اگست 1987)
انگریزی سے ترجمہ: عطا صدیقی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس کے قدموں کی مدھم آہٹ
لیکن جو کسی دن میں یکسوئی سے اس گوشے میں بیٹھ کر کان لگاؤں
تو شاید میں اس جانب اُس کے قدموں کی مدّھم آہٹ پاؤں
جے ڈی سی پےلو

گزشتہ شب میں نے خواب دیکھا کہ پروشیا کے سرجن جاہن فریڈرخ ڈائی فن باخ نے تشخیص کر دیا کہ میں بولنے میں اٹکتا اس لیے ہوں کہ میری زبان بہت زیادہ لمبی ہے اور اس نے نوک اور کناروں سے ٹکڑے کاٹ چھانٹ کر اس دراز عضو کو متناسب کر دیا۔ والدہ نے یہ بتانے کے لیے مجھے جگایا کہ والد کو چورنگی پر کسی تیزرفتار کار نے ٹکر مار دی۔ میں ان کی شناخت کے لیے مردہ خانے گیا۔ اُن لوگوں نے ان کی کھوپڑی دوبارہ دھڑسے ملا کر سی رکھی تھی اور ان کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں۔ میں نے ان کو بند کرنے کی کوشش کی مگر وہ کسی جتن بند ہی نہیں ہوئیں۔ اور پھر ہم نے ان کو اسی طرح دفن کر دیا کہ ان کی آنکھیں اوپر کی جانب تک رہی تھیں۔

جس وقت ہم نے ان کو دفنایا، بارش ہو رہی تھی۔

بارش ہو رہی تھی جس وقت میری آنکھ کھلی، اور میری نگاہیں انھیں تلاش کرنے لگیں۔ ان کا پائپ مینٹل پیس پر اسی جگہ موجود تھا جہاں رکھا ہوتا تھا۔ جس وقت میری نظر اس پر پڑی، بارش بہت تیز ہو گئی اور ٹین کی اس چھت پر جسے ان کی یاد کہیے، تڑاتڑ گرنے لگی۔ ان کی چرمی جلد والی کتابیں بک شیلف پر گم سُم اور سیدھی تنی کھڑی تھیں، جن میں سے ایک اولیور بلڈشٹائن کی لکھی ’’رہنمائے لکنت‘‘ تھی۔ وہیں ایک لوح بھی تھی جو اس اصل کی ہوبہو نقل تھی جس پر صدیوں قبلِ مسیح لکنت کی اذیت سے نجات پانے کی دلی دعا خطِ پیکانی میں تحریر تھی۔ انھوں نے مجھے بتایا تھا کہ موسیٰ، ڈیموستھینیز اور ارسطو کو بھی لکنت کی شکایت تھی اور یہ کہ شہزادہ باٹس نے ہاتف کی ہدایت پر شمالی افریقیوں پر فتح حاصل کر کے اپنی لکنت کو زیر کیا تھا، اور یہ بھی کہ ڈیموستھینیز نے کنکر منھ میں لے کر سمندر کے شور سے زیادہ پاٹ دار آوازیں نکال کر خود کو بغیر اٹکے بولنا سکھایا تھا۔

جب میں بستر پر دراز ہوا اور میں نے اپنی آنکھیں موندیں، بارش جاری تھی اور میں ان کو بھیگی قبر میں پاؤں پسارے اور اپنے نچلے جبڑے کو حرکت دینے کی کوشش کرتے دیکھ سکتا تھا۔ جب میری آنکھ کھلی تو میں خود اپنے وجود میں ان کو محسوس کر سکتا تھا۔ وہ کچھ بولنے کی کوشش کر رہے تھے، مگر میں بول نہیں سکتا تھا۔ ارسطو نے میری زبان کے بارے میں زیرلب کچھ کہا کہ غیرمعمولی موٹی اور سخت ہے۔ بقراط نے تب زبردستی میرا منھ کھولا اورآبلے ڈالنے والی اشیا میری زبان پر ڈالیں تاکہ فاسد مادّہ بہہ نکلے۔ کیلس نے سر ہلایا اور بولا، زبان کو بھرپورغرغرہ اور مالش درکار ہے۔ مگر جالینوس نے، وہ پیچھے کیسے رہ جاتا، بتایا کہ میری زبان محض بہت زیادہ سرد اور نم ہے۔ اور فرانسس بیکن نے تندوتیز شراب کا ایک جام تجویز کیا۔

شراب خانے کی طرف جاتے ہوے میں نے ٹاؤن شپ کے پھاٹک پر فوجی گاڑیوں کی ایک لمبی قطار دیکھی۔ وہ سب کے سب گورے سپاہی تھے۔ ان میں سے ایک کودا اور اپنی بندوق میرے جسم میں چبھاتے ہوے میرے شناختی کاغذات دیکھنے کو مانگے۔ میرے پاس فقط یونیورسٹی کا شناختی کارڈ تھا۔ اس کی پڑتال میں اس نے اتنی دیر لگائی کہ میں حیران ہوا کہ نہ جانے اس میں کیا خامی نکل آئی۔

’’پسینے کیوں چھوٹ رہے ہیں تمھیں؟‘‘ اس نے پوچھا۔
میں نے جیب سے کاغذ اور پنسل نکالی، کچھ لکھا اور اسے دکھایا۔
’’گونگے ہو، ایں؟‘‘
میں نے اقرار میں سر ہلایا۔
’’اور سمجھتے ہو میں بھی بس گونگا ہی ہوں، ایں؟‘‘
میں نے انکار میں اپنا سر ہلایا، لیکن اس سے پہلے کہ میں سر کی جنبش کو روکتا، اس نے بڑھ کر میرے جبڑے پر ایک تھپڑ دے مارا۔ بہتے ہوے خون کو پونچھنے کے لیے میں نے اپنا ہاتھ اٹھایا ہی تھا کہ اس کو راہ ہی میں روک کر اس نے مجھے دوبارہ مارا۔ میرے مصنوعی دانت چٹخ گئے اور میں ڈرا کہ کہیں کرچیاں نگل نہ جاؤں، سو اپنا ہاتھ منھ تک لائے بغیر میں نے ان کو تھوک دیا۔
’’دانت بھی نقلی،ایں؟‘‘
میری آنکھیں جل رہی تھیں۔ میں اس کو صاف طور سے دیکھ بھی نہیں سکتا تھا، مگر میں نے اقرار میں سر کو ہلایا۔
’’تو شناخت بھی نقلی؟‘‘
بہت شدت سے جی چاہا کہ اپنے جبڑوں کو حرکت دوں اور اپنی زبان کو مجبور کروں کہ وہ سب کچھ دُہرا دے جو میرا شناختی کارڈ اس گورے پر ظاہر کر چکا تھا، لیکن میں صرف بےمعنی غوں غوں ہی کر پایا۔ میں نے اس کاغذ اور پنسل کی طرف اشارہ کیا جو زمین پر گر چکی تھی۔
اس نے سر ہلا دیا۔
لیکن جوں ہی میں انھیں اٹھانے کے لیے جھکا، اس نے اچانک اپنا گھٹنا یوں دے مارا کہ میری گردن تقریباً توڑ ڈالی۔
’’توپتھر ڈھونڈ رہے تھے تم، ایں؟‘‘

میں نے انکار میں سر ہلایا جس سے اتنی شدید تکلیف ہوئی کہ میں سر کا ہلنا روک نہیں سکا۔ اپنے پیچھے سے مجھے دوڑتے قدموں کی دھمک اور اپنی والدہ اور بہن کی چیخ پکارسنائی دی۔ پھر بندوق دغنے کا زوردار دھماکا ہوا۔ اَدھ رستے میں والدہ کو گولی لگی، اور ان کا جسم اس کی بُودار ہوا سے ٹھٹکا، اور ان کی نظریں سامنے گری رہیں۔ ایک سیکنڈ بعد ان کے اندر جیسے کچھ ٹوٹا اور وہ تیورا کر ڈھیر ہو گئیں۔

میری بہن کا میرے چہرے کو چھونے کے لیے بڑھا ہوا ہاتھ خود اس کے اپنے کھلے ہوے منھ کی سمت لپکا، اور میں دیکھ سکتا تھا جیسے وہ میرے منھ سے چیخنے کی خاطر اپنے صوتی عضلات پر زور ڈل رہی ہو۔

والدہ نے ایمبولینس میں دم توڑ دیا۔

جب میں نے ان کو دفنایا، سورج اپنی بےزبانی سے چنگھاڑ رہا تھا۔ اس کی آب دار چمک کے گرد گرم اور سرد ہالے تھے۔ میری بہن اور میں، ہم دونوں واپس گھرلوٹنے کے لیے چارمیل پیدل چلتے صرف افریقیوں کے ہسپتال، صرف یورپیوں کے ہسپتال، برٹش ساؤتھ افریقہ پولیس کیمپ، پوسٹ آفس اور ریلوے اسٹیشن کے پاس سے گزرتے اور میل بھر چوڑے سبزہ زار کو پار کرتے، کالوں کی ٹاؤن شپ میں پہنچے۔

کمرہ اتنا خاموش تھا کہ میں محسوس کر سکتا تھا کہ وہ مجھ سے ہم کلام ہونے کے لیے اپنی زبان ہلانے اور جبڑے چلانے کی کوشش کر رہا ہے۔ میں کمرے کی کڑیوں کو گھور رہا تھا۔ میں اپنی بہن کو اپنے کمرے میں، جو میرے کمرے کے ساتھ ہی تھا، بےچینی سے اِدھر اُدھر ٹہلتے ہوے سن سکتا تھا۔ میں خود ان کو اپنے وجود میں شدت سے محسوس کر سکتا تھا۔ میرے لوہے کے پلنگ، میری ڈیسک، میری کتابوں اور میرے ان کینوسوں کے سوا جن پر میں ایک مدت سے اپنے اندر کی خاموش مگر بےچین آواز کے احساس کو پینٹ کرنے کی کوشش کرتا رہتا تھا، میرے کمرے میں کچھ نہیں تھا۔ میں نے جلتے ہوے آنسوؤں کو روکا اور ان کو اپنے وجود میں اتنی شدت سے محسوس کیا کہ میں برداشت نہ کر سکا۔ لیکن دروازہ رحم دلانہ وا ہوا، اور وہ ان کے ہاتھ کو سہارا دیے انھیں اندرلائے۔ وہ بےداغ سفید پیرہن میں ملبوس تھیں۔ ایک ہلکی نیلگوں روشنی ان میں ظہور کر رہی تھی۔ ان کے چھوٹے چھوٹے پیروں میں چمکدار سیف چمڑے کے سینڈل تھے۔ ان کے گوشت پوست سے عاری چہرے، آنکھوں کی جگہ خالی گڑھوں، نکلی ہوئی کھیسوں (ان کا ایک دانت تھوڑا جھڑ گیا تھا) اور رخسار کی ابھری ہڈیوں اور بےدردی سے گم ناک، ان سب کے مقناطیسی سحر سے میری نظریں ان پر جم کر رہ گئیں۔ یہاں تک کہ یوں لگا جیسے میری پھٹی پھٹی آنکھیں ان کی بےلوچ اور بےحس موجودگی میں دفعتاً جذب ہو گئی ہوں۔

وہ سیاہ لباس میں تھے۔ والدہ کا بے گوشت پوست ہاتھ ان کی بے گوشت پوست انگلیوں میں ساکت پڑا تھا۔ ان کا سر، جو دوبارہ ٹھیک طرح سے سیا نہیں گیا تھا، ایک جانب تشویشناک حد تک ڈھلکا ہوا تھا، اور یوں لگتا تھا جیسے اب گرا کہ تب گرا۔ ان کی کھوپڑی میں پیشانی کے درمیان سے لے کر نچلے جبڑے تک ایک نوکیلے کناروں والی دراڑ پڑی ہوئی تھی۔ کھوپڑی کو بھی اس حد تک بےڈھنگےپن سے اپنی اصلی حالت پر جمایا گیا تھا کہ لگتا تھا کسی بھی لمحے علیحدہ ہو کر بکھر جائے گی۔

میری آنکھوں کا درد ناقابلِ برداشت تھا۔ میں نے آنکھیں بند کر لیں۔ جب میں نے آنکھیں کھولیں، وہ جا چکے تھے۔ ان کی جگہ اب میری بہن کھڑی تھی۔ وہ گہرے گہرے سانس لے رہی تھی، جن کی وجہ سے میرے سینے میں ایک درد اٹھا۔ میں نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور اس کو چھوا۔ وہ حرارت سے پُر تھی اور زندہ تھی اور اس کی ہی سانس میری آواز میں ایک دردناک اندیشہ بن گئی تھی۔ مجھے کچھ نہ کچھ کہنا لازم تھا۔ مگر اس سے پہلے کہ میری ذرا سی بھی آواز نکلتی، وہ میرے اوپر جھکی اور پیار کر لیا، جس کی تپتی تمتماہٹ سے لرز کر ہم دونوں ایک دوسرے سے چمٹ گئے۔ باہر رات ہماری چھت پر منھ ہی منھ میں اول فول بک رہی تھی اور ہوا نے کھڑکیوں پر اپنی گرفت مضبوط کر لی تھی اورہم کہیں دور سے فوجی بینڈ کو تانیں اڑاتے سن سکتے تھے۔

Artwork by Dariusz Labuzek
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج اور اجمل کمال کے تعاون سے شائع کی جانے والی مزید تحاریر اور تراجم پڑھنے کے لیے کلک کریں۔
Categories
فکشن

دنیا بھر کا حسین ترین ڈوب مرنے والا (گابریئل گارسیا مارکیز)

[blockquote style=”3″]

عطا صدیقی کے تراجم لالٹین پر اجمل کمال کے تعاون سے پیش کیے جا رہے ہیں۔ اجمل کمال کراچی پاکستان سے شائع ہونے والے سہ ماہی ادبی جریدے “آج” کے بانی اور مدیر ہیں۔ آج کا پہلا شمارہ 1981 میں شائع ہو تھا۔ آج نے اردو قارئین کو تراجم کے ذریعے دیگر زبانوں کے معیاری ادب سے متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ اردو میں لکھنے والے ادیبوں اور شاعروں کے کام سے بھی متعارف کرایا۔ سہ ماہی آج کو سبسکرائب کرنے اور آج میں شائع ہونے والی تخلیقات کو کتابی صورت میں خریدنے کے لیے سٹی پریس بک شاپ یا عامر انصاری سے رابطہ کیا جا سکتا ہے:
عامر انصاری: 03003451649

[/blockquote]
انگریزی سے ترجمہ:عطا صدیقی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پہلے پہل جن بچوں نے اس پراسرار ڈولتے اُبھار کو سمندر کی جانب سے اپنی طرف بہہ کر آتے دیکھا انھوں نے خیال کیا کہ دشمن کا کوئی جہاز ہوگا۔ پھر ان کو نظر آیا کہ اس پر نہ تو کوئی مستول ہے اور نہ کوئی پھریرا، تو اس کو ویل سمجھا۔ مگر جب وہ کنارے آ لگا اور جب انھوں نے اس پر سے سمندری جھاڑ جھنکار، جیلی فش کے پنجے، مچھلیوں کے بچے کھچے حصے اور تیرنے والا کباڑ صاف کرلیا، تب ہی ان کو معلوم ہوا کہ وہ کوئی ڈوب کر مر جانے والا ہے۔

ساری سہ پہر وہ اس سے کھیلتے رہے؛ کبھی اس کو بالُو میں دبا دیتے، کبھی اس کو نکال لیتے، کہ اتفاقاً کسی کی نظر ان پر پڑ گئی اور اس نے گاؤں میں خبر پھیلا دی۔ جو لوگ اس کو اٹھا کر قریب ترین گھر تک لائے، انھوں نے دیکھا کہ وہ ان تمام مُردوں سے کہیں زیادہ بھاری بھرکم ہے جن سے اب تک ان کا سابقہ پڑا تھا۔ وہ قریب قریب گھوڑے جتنا لدّھڑ تھا۔ انھوں نے ایک دوسرے سے کہا کہ ہوسکتا ہے کافی عرصے تک پانی میں رہنے کی وجہ سے پانی اس کی ہڈیوں تک میں اتر گیا ہو۔ جب ان لوگوں نے اس کو فرش پر لٹا دیا تو بولے کہ یہ تو باقی سب لوگوں سے زیادہ دراز قد نکلا، کیونکہ گھر کے اندر اس کی سمائی کے لیے جگہ ناکافی تھی، مگر انھیں خیال آیا کہ شاید مر جانے کے بعد بھی بالیدگی کی صلاحیت بعض ڈوب مرنے والوں کی فطرت میں شامل ہو۔ اس میں سے سمندری بساند اٹھ رہی تھی اور صرف اس کی بناوٹ ہی سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا تھا کہ وہ کوئی انسانی لاش ہے کیونکہ اس کی جلد مٹی کی پپڑیوں اور مچھلیوں کے سفنوں سے ڈھکی ہوئی تھی۔

اتنا معلوم کرنے کے لیے کہ مرنے والا کوئی اجنبی ہے، انھیں اس کا چہرہ صاف کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ گاؤں میں کوئی بیس ایک پتھریلی انگنائیوں والے چوبی مکانات تھے جن میں پھول پودے نام کو نہیں تھے اور سب کے سب ایک ریتیلی راس کے کنارے کنارے پھیلے ہوے تھے۔ وہاں زمین اتنی کم تھی کہ مائیں ہر وقت ڈری سہمی رہتی تھیں کہ کوئی جھکّڑ کہیں ان کے بچوں کو اُڑا نہ لے جائے، اور وقتاً فوقتاً مر جانے والوں کو ساحلی چٹانوں کے کنارے لے جا کر سمندر میں ٹھنڈا کردیا جاتا تھا۔ مگر سمندر پُرسکون اور بڑا سخی داتا تھا اور گائوں کے کُل مرد سات کشتیوں میں سما جاتے تھے۔ اس لیے لاش ملنے کے بعد انھوں نے بس ایک نظر ایک دوسرے پر ڈال کر تسلی کرلی کہ وہ سب کے سب موجود ہیں۔

اس رات وہ اپنی روزی کی تلاش میں سمندر کی طرف نہیں گئے۔ مرد آس پاس کی بستیوں میں یہ معلوم کرنے نکل گئے کہ کہیں کوئی لا پتا تو نہیں، اور عورتیں ڈوب مرنے والے کی دیکھ بھال کے لیے پیچھے رہ گئیں۔ انھوں نے گھاس کی کوچیوں کی مدد سے اس کے بدن پر لگی ہوئی کیچڑ کو صاف کیا، اس کے بالوں میں پھنسی سمندری بالُو کو نکالا اور مٹی کے پپّڑوں کو مچھلیوں کے سفنے اتارنے والے اوزاروں سے کھرچا۔ یہ کام کرتے کرتے انھوں نے بھانپ لیا کہ جو جھاڑ جھنکاڑ اس کے جسم سے چمٹا ہوا ہے وہ دور دراز کے گہرے پانیوں سے آیا ہے اور اس کے بدن پر لبیریاں لگی ہوئی ہیں جیسے وہ مونگوں کی بھول بھلیوں میں سے ڈبکنیاں کھاتا ہوا آیا ہو۔ انھوں نے یہ بھی دیکھ لیا کہ وہ اپنی موت کو خودداری کے ساتھ سہہ رہا ہے؛ نہ تو اس کا منھ دوسرے ڈوب مرنے والوں کی مانند اُجاڑ اُجاڑ سا تھا اور نہ دریا میں غرق ہونے والوں کی طرح بھک منگوں کا سا اُترا اُترا تھا۔ اس کو پوری طرح پاک صاف کرلینے کے بعد ہی یہ عیاں ہوسکا کہ وہ کس قسم کا آدمی تھا، اور ان کا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا۔ نہ صرف یہ کہ وہ ان سب مردوں میں جو اب تک ان کی نظر سے گزرے تھے، سب سے زیادہ دراز قد، سب سے زیادہ توانا، سب سے زیادہ زور آور اور سب سے زیادہ خوش اندام تھا بلکہ اتنا تکے جانے کے باوجود وہ ان کے تصور میں سما نہیں پا رہا تھا۔

گاؤں بھر میں نہ تو اتنا بڑا پلنگ دستیاب تھا جس پر اس کو لٹایا جاسکتا اور نہ کوئی میز اتنی سخت تھی جو اس کی سوگ جاگ کے لیے استعمال کی جاسکتی۔ اس کے بدن پر نہ تو سب سے لانبے آدمی کا کوئی بڑھیا پتلون چڑھا، نہ سب سے موٹے آدمی کی اتوار کو پہنی جانے والی قمیص اور نہ سب سے بڑے پیر والے کے جوتے۔ اس کے پہاڑ سے تن و توش اور اس کے حسن سے مسحور ہوکر عورتوں نے طے کیا کہ وہ بادبان کے کسی بڑے ٹکڑے سے اس کے لیے پتلون بنائیں اور عروسی لنن سے قمیص تیار کریں، تاکہ وہ راہِ عدم کا سفر اپنی حیثیت کے مطابق طے کرسکے۔ جب وہ جھرمٹ مارے سلائی میں جٹی تھیں اور ٹانکے بھرتے بھرتے ٹکر ٹکر اس کو دیکھے جا رہی تھیں تو ان کو یوں لگا کہ نہ تو ہوا کبھی اتنی یکساں یکسا ں رفتار سے چلی اور نہ سمندر کبھی اس قدر بے چین بے چین سا رہا جس قدر وہ آج رات ہے، اور انھوں نے فرض کرلیا کہ ہو نہ ہو مرنے والے کا اس تبدیلی سے کوئی واسطہ ضرور ہے۔ انھیں خیال آیا کہ اگر وہ عظیم الشان انسان ان کے گاؤں میں رہتا ہوتا تو اس کے مسکن کے دروازے سب سے کشادہ، چھت سب سے بلند اور فرش سب سے مضبوط ہوتا؛ اس کی مسہری کسی جہازوں والی لکڑی کی پیٹیوں سے بنی ہوتی جن کو لوہے کے پیچوں سے کسا گیا ہوتا، اور اس کی بیوی خورسند ترین عورت رہی ہوتی۔ انھوں نے سوچا کہ اس کا اس قدر رعب و دبدبہ ہوتا کہ وہ مچھلیوں کو نام بہ نام پکار کر سمندر میں سے بلا لیا کرتا۔ اور اس نے اپنی زمینوں پر اس قدر محنت کی ہوتی کہ چٹانوں میں سے چشمے ابل پڑے ہوتے اور یوں اس نے سمندر کے ساحلی کراڑوں کو پھولوں کی تختہ بندی کے قابل بنا لیا ہوتا۔ دل ہی دل میں انھوں نے اس کا موازنہ اپنے اپنے مردوں سے کر ڈالا اور سوچا کہ وہ سب ساری عمر بھی کریں تو وہ سب کچھ نہیں کرسکتے جو وہ ایک رات میں کر گزرا ہوتا، اور انھوں نے اپنے اپنے دلوں کی گہرائیوں میں اپنے اپنوں کو زمانے بھر میں سب سے زیادہ بودا، سب سے زیادہ گھٹیا اور سب سے زیادہ نکما آدمی ٹھہرا کر دل سے نکال دیا۔ وہ اپنے تصورات کی بھول بھلیوں میں گم تھیں کہ اتنے میں ان میں سے سب سے بڑی عمر والی عورت، جو عمر رسیدہ ہونے کے باعث ڈوب مرنے والے کو محبت سے زیادہ شفقت بھری نظر سے دیکھ رہی تھی، بولی، ’’صورت تو اس کی ایستے بان نامی شخص کی سی ہے۔‘‘

بات پتے کی تھی۔ اس کا کوئی اور نام ہو ہی نہیں سکتا، اتنی بات مان لینے کے لیے ان میں سے اکثر کو اس پہ بس ایک نظر اور ڈالنی پڑی۔ وہ عورتیں جو عمر میں سب سے کم تھیں اور خود سر بھی، چند گھنٹے اس تصور میں مگن رہیں کہ جب وہ اس کو نئے کپڑے پہنا دیں گی اور وہ چمکدار جوتے ڈاٹے، پھولوں کے بیچ لیٹا ہوگا تو لاتارو نام شاید اُس پر زیادہ جچے، مگر یہ ایک خام خیال تھا۔ ان کے پاس کینوس خاطرخواہ نہیں تھا، پھر بُرابیونتا گیا اور خراب تُرپا گیا پتلون تنگ بھی بہت تھا، اور درونِ دل کسی دبی قوت سے اس کی قمیص کے بٹن بھی پٹ پٹ کھل گئے تھے۔ ہوا کی سائیں سائیں بند ہوچکی تھی اور سمندر کو بھی اپنی بدھ کے دن والی اونگھ آگئی تھی۔ اس سکوت نے گویا ان کے آخری شبہات بھی دور کردیے؛ وہ ایستے بان ہی تھا۔ جب ان کو اس کا فرش پر گھسیٹا جانا مجبوراً برداشت کرنا پڑا تو وہ عورتیں جنھوں نے اس کے کپڑے بدلائے تھے، بال سنوارے تھے، ناخن تراشے تھے اور حجامت بنائی تھی، ترس کے مارے کپکپانے سے باز نہ رہ سکیں۔ اس وقت کہیں جاکر ان کی سمجھ میں آیا کہ وہ اپنے اس جہاز کے جہاز ڈیل ڈول کے ہاتھوں کتنا تنگ رہتا ہوگا جبکہ مرنے کے بعد بھی اس قباحت نے اس کا پیچھا لے رکھا ہے۔ وہ اس کو جیتا جاگتا دیکھ سکتی تھیں؛ دروازوں میں سے ترچھا ہو کر گزرنے کی سزا بھگتتے ہوے، چھت کی کڑیوں سے سر ٹکراتے ہوے؛ کہیں ملنے گیا تو کھڑا رہنے پر مجبور، اس الجھن میں مبتلا کہ اپنے نرم گلابی سیل نما ہاتھوں کا کیا کرے، جبکہ خاتونِ خانہ گھر بھر کی سب سے مضبوط کرسی چن کر اپنا دم خشک کیے کیے اس کو پیش کرتی، لو ایستے بان اس پر بیٹھ جاؤ، اور وہ دیوار سے ٹیک لگائے لگائے مسکراتا، نہیں مادام تکلف کی ضرورت نہیں، میں ایسے ہی ٹھیک ہوں؛ ہر ملاقات پر بار بار یہی کرتے کرتے اس کے تلوے چھلنی اور پیٹھ سوختہ ہوچکی تھی مگر کرسی توڑ دینے کی شرمندگی سے بچنے کے لیے ہمیشہ وہی ایک بات: نہیں مادام، تکلف کی ضرورت نہیں، میں ایسے ہی ٹھیک ہوں، اور غالباً اس بات سے قطعی ناآشنا رہتے ہوے کہ جو ابھی ابھی یہ کہتیں کہ رُکو ایستے بان، کافی تیار ہونے تک تو رک جاؤ، وہی پیٹھ مڑتے ہی زیرِ لب بول اٹھتیں، آخرکار ٹل گیا دیوپیکر بوبک، اچھا ہوا خوبصورت بھوندو گیا۔ دن نکلنے سے ذرا پہلے لاش کے چاروں طرف بیٹھی ہوئی عورتیں یہی کچھ سوچ رہی تھیں۔ بعد میں جب انھوں نے رومال سے اس کا منھ اس لیے ڈھک دیا کہ دھوپ اس کو کہیں نہ ستائے، تو وہ ان کو جنم جنم کا مرا ہوا لگا، بے یار و مددگار، بالکل ان کے اپنے مردوں کا سا، اور رقت نے ان کے کلیجوں میں ابتدائی دراڑیں ڈال دیں۔ وہ کوئی نوجوان عورت تھی جس نے پہلے پہل رونا شروع کیا؛ دوسری عورتیں بھی اس کی دیکھا دیکھی ٹھنڈی آہوں سے لے کر بین تک کرنے لگیں، اور جتنی زیادہ وہ سسکیاں بھرتیں اتنا ہی زیادہ ان کا دل امنڈتا کہ ڈوب مرنے والا اب ان کی نظروں میں عین مین ایستے بان ہوتا جا رہا تھا؛ چنانچہ وہ خوب پھوٹ پھوٹ کر روئیں، کیونکہ وہی تو دنیا بھر میں سب سے زیادہ محروم، سب سے زیادہ صلح کل، سب سے زیادہ بامروت تھا، بے چارہ ایستے بان۔ اس لیے جب مرد لوگ یہ خبر لے کر لوٹے کہ مرنے والا آس پاس کی کسی بستی کا نہیں تو عورتوں کو اپنے آنسوئوں کی جھڑی میں مسرت پھوٹتی محسوس ہوئی۔
’’خداوند کی حمد ہو،‘‘ انھوں نے ٹھنڈی سانس بھری، ’’یہ اپنا ہے!‘‘

مردوں نے اس کہرام کو زنانہ خرافات جانا۔ رات بھر کی کٹھن پوچھ تاچھ سے بے حال ہوچکنے کے بعد وہ تو بس اتنا چاہتے تھے کہ کسی طرح اس خشک اور ہوا بند دن، دھوپ چڑھ جانے سے پہلے پہلے، اس نووارد کے جھنجھٹ سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے فارغ ہوجائیں۔ انھوں نے فالتو پڑے ہوے بادبانوں اور ماہی گیری کے نیزوں کو جوڑ جاڑ کر ایک ڈولا سا بنایا اور اس کو رسیوں سے خوب کس کس کر باندھا تاکہ وہ اس کا بوجھ اس وقت تک برداشت کر لے جائے جب تک وہ چٹانوں کے کنارے تک نہ پہنچ جائیں۔ وہ بار بردار جہاز کا لنگر بھی باندھنا چاہتے تھے تاکہ وہ بہ آسانی قعرِ دریا میں اتر جائے جہاں مچھلیوں کو بھی کچھ سجھائی نہیں دیتا اور جہاں غوطہ خور تک خشکی کی ہُڑک میں ختم ہوجاتے ہیں، اور پھر اس لیے بھی کہ تُند لہریں اس کو دوبارہ کنارے پر نہ لے آئیں، جیساکہ دوسری کئی لاشوں کے ساتھ ہوچکا تھا۔ مگر مرد جتنی جتنی عجلت کرتے، عورتیں وقت ٹالنے کی اُتنی اُتنی ترکیبیں نکالتیں؛ اپنے سینوں پر سمندری تعویذ جھلاتی وہ بے چین مرغیوں کی مانند کُڑکُڑاتی پھر رہی تھیں۔ کچھ ایک جانب سے مداخلت کرتیں کہ مرنے والے کو مبارک ہوا والا منّتی احرام پہنایا جائے تو چند دوسری جانب سے رائے دیتیں کہ اس کی کلائی پر قطب نما باندھا جائے؛ اور ’’ایک طرف ہوجا بی بی، راستے سے ہٹ، دیکھو دیکھو! مجھے مُردے پر گرا ہی دیا تھا‘‘ کی کافی سے زیادہ چِل پوں کے بعد آخرکار مردوں کے دلوں میں شکوک سر اٹھانے لگے اور انھوں نے بڑبڑانا شروع کردیا کہ ایک اجنبی کی خاطر بڑی قربان گاہ والے اتنے سارے چڑھاوے آخر کیوں، کیونکہ چاہے جتنی بھی میخیں چڑھائو اور متبرک پانی کے جتنے چاہو اتنے برتن چڑھادو، پر شارک بہرصورت اس کو چٹ کر جائیں گی۔ مگر عورتیں تھیں کہ لپک جھپک گرتی پڑتی اپنے تبرکات کا سارا کباڑ لا لا کر اس پر نچھاور کیے جا رہی تھیں اور ساتھ ہی ساتھ جو کچھ اپنے آنسوئوں سے ظاہر نہیں کر پا رہی تھیں وہ ٹھنڈی آہوں کی صورت نکال رہی تھیں، یہاں تک کہ مرد لوگ آپے سے باہر ہوگئے۔ ’’ارے ایک بھٹکتی لاش، ایک انجانے بے حقیقت آدمی، ایک بُدھواری ٹھنڈے گوشت کی خاطر اتنے چونچلے کبھی کاہے کو ہوے تھے جو اَب ہونے لگے؟‘‘ احترام کی اس کمی سے دل برداشتہ ہوکر ان میں سے ایک عورت نے مرنے والے کے منھ پر سے رومال ہٹا دیا، اور پھر تو مردوں کی بھی اوپر کی سانس اوپر اور نیچے کی نیچے رہ گئی۔

وہ ایستے بان تھا۔ اس کو پہچان لینے کے لیے ان کے سامنے اس کا نام دہرانے کی ضرورت نہیں تھی۔ اگر کہا جاتا کہ سر والٹرریلے، تو وہ شاید اس کے فرنگی لہجے، اس کے کندھے پر بیٹھے طوطے، اس کی آدم خوروں کو مارنے والی توڑے دار بندوق کے رعب میں آگئے ہوتے، مگر ایستے بان تو سارے عالم میں بس ایک ہی تھا، اور وہ سامنے پڑا تھا، بالکل سفید ویل کی طرح، جوتے اتارے، کسی بونے کا پتلون چڑھائے، سخت سخت ناخونوں والا، جن کو چاقو سے تراشنا پڑا تھا۔ یہ جان لینے کے لیے بس اس کے چہرے سے رومال ہٹنے کی دیر تھی کہ وہ بہت نادم ہے،یوں کہ اس میں اس کا کوئی قصور نہیں کہ وہ اتنا جہاز کا جہاز، اتنا بھاری بھرکم اور اتنا صورت دار ہے، اور جو کہیں اس کو یہ معلوم ہوجاتا کہ سب کچھ یوں ہوگا تو اس نے اپنی غرقابی کے لیے کوئی الگ تھلگ سی جگہ دیکھی ہوتی۔ مذاق نہیں، میں تو بلکہ حالات سے بیزار ہوجانے والے آدمی کی طرح اپنے گلے میں کسی جنگی جہاز کا لنگر باندھ بوندھ کر کسی کراڑ پر سے جا لڑھکتا تاکہ اب تو اس بدھواری لاش کی طرح لوگوں کو پریشان نہ کروں۔ بقول آپ لوگوں کے، ٹھنڈے گوشت کے اس غلیظ لوتھڑے سے کسی کا ناک میں دم کیوں کیا جائے جس سے اب میرا کوئی واسطہ بھی نہ ہو۔ اس کے انداز میں اس قدر کھری صداقت تھی کہ نہ صرف ان سب سے زیادہ وہمی لوگوں کے، جو کہ سمندر میں گزاری ہوئی ان بے انت راتوں کی تلخیوں کو محسوس کرسکتے تھے جن میں ان کو یہ خوف کھائے جاتا تھا کہ کہیں ان کی عورتیں ان کے خواب دیکھتے دیکھتے تھک ہار کر غرق ہوجانے والوں کے خواب نہ دیکھنے لگی ہوں، بلکہ دوسرے ان سے بھی بڑھ کر سخت لوگوں تک کے تن بدن کے رونگٹے ایستے بان کی بے ریائی پر کھڑے ہو گئے۔

اور یوں انھوں نے اپنی ذہنی اُڑان کے مطابق ایک لاوارث ڈوب مرنے والے کا جنازہ بڑی دھوم دھام سے اٹھایا۔ جب کچھ عورتیں پھولوں کی تلاش میں قریب کے گاؤں میں گئیں تو وہاں سے ان عورتوں کو ساتھ لے آئیں جن کو سنی سنائی پر اعتبار نہ آیا تھا، اور جب انھوں نے مرنے والے کے دیدار کرلیے تو وہ مزید پھول لانے چل دیں اور پھر تو اور آتے گئے، اور آتے گئے، یہاں تک کہ وہاں اس قدر پھول اور اتنی زیادہ خلقت جمع ہوگئی کہ پیر سرکانے بھر کی جگہ نہ رہی۔ آخری لمحات میں ان کا دل اس بات پر دُکھا کہ اس کو یتیمی کی حالت میں پانی کے سپرد کردیا جائے، اور انھوں نے اپنے معتبرین میں سے اس کے باپ اور ماں کو منتخب کیا، اور خالائیں اور پھوپھیاں اور چچا اور ماموں اور خلیرے اور چچیرے اور ممیرے بھائی بند، یہاں تک کہ اس کے توسط گائوں کا گائوں ایک دوسرے کا قرابت دار بن گیا۔ چند ملاح جنھوں نے دور سے ان کے بین سنے، اپنے راستے سے بھٹک گئے؛ اور لوگوں نے ایک کے بارے میں یہاں تک سنا کہ اس نے قدیم داستانوں کی سائرن عورتوں کا گمان کرتے ہوے خود کو مرکزی مستول سے کس کر بندھوا لیا۔ جس وقت وہ سب چٹانو ں کی کھڑواں رپٹ پر اس کو اپنے اپنے کاندھوں پر اٹھانے کے شرف کے لیے ٹوٹے پڑ رہے تھے، اس وقت اپنے ڈوب مرنے والے کے کرّوفر اور حسن کا سامنا کرتے ہوے، کیا مرد اور کیا عورتیں، سب ہی کو پہلی بار اپنی گلیوں کی ویرانی، اپنی انگنائیوں کی بے برگ و باری اور اپنے خوابوں کی تنگ دامنی کا احساس ہوا۔ انھوں نے اس کو لنگر کے بغیر ہی جانے دیا تاکہ اگر وہ آنا چاہے تو واپس آ سکے، جب بھی وہ آنا چاہے۔ اور جُگوں کے اس مختصر ترین پل تک وہ سب دم سادھے رہے جب تک کہ لاش گہرائی میں نہ پہنچ گئی۔ یہ جان لینے کے لیے کہ وہ سب نہ اب وہاں موجود ہیں اور نہ کبھی ہوں گے، انھیں ایک دوسرے کی طرف دیکھنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ مگر وہ اتنا ضرور جان گئے تھے کہ اس وقت کے بعد ہر چیز کی کایا پلٹ جائے گی؛ اب ان کے گھروں کے دروازے کشادہ، چھتیں بلند اور فرش مضبوط ہوا کریں گے، تاکہ ایستے بان کی یاد جہاں چاہے کڑیوں سے سر ٹکرائے بغیر آجا سکے اور آئندہ کسی کو بھی زیرِ لب یہ کہنے کی ہمت نہ ہو کہ دیوپیکر بوبک آخرکار مر گیا، بہت برا ہوا خوبصورت بھوندو انجام کار جاتا رہا، کیونکہ اب وہ ایستے بان کی یاد کو ہمیشہ ہمیشہ تازہ رکھنے کے لیے اپنے گھروں کو باہر سے چٹکیلے رنگوں سے رنگنے جا رہے تھے اور چٹانوں کے درمیان سے چشمے نکالنے اور کراڑوں پر پھولوں کی تختہ بندی کرنے کے لیے جی توڑ مشقت کرنے جا رہے تھے، تاکہ آنے والے زمانوں میںصبح سویرے بڑے بڑے جہازوں کے مسافر سمندر پر آتی ہوئی پھولوں کی مہکار سے گھٹ کر جاگ اٹھیں، اور کپتان کو اپنی پوری وردی، اپنے اسطرلاب، اپنے قطب تارے اور جنگ میں کمائے ہوے اپنے تمغوں سمیت عرشے پر اتر کر آنا پڑے، اور پھر سامنے افق پر گلابوں کی پٹی کی جانب اشارہ کرتے ہوے وہ چودہ زبانوں میں کہے: اُدھر دیکھو جہاں ہوا اتنی پُرسکون ہے جیسے کیاریوں میں پڑی نیند لے رہی ہو، اُدھر جہاں دھوپ اتنی روشن روشن ہے کہ سورج مکھی بھی حیران ہے کہ کدھر منھ کرے، وہاں اُس طرف، وہی ایستے بان کا گاؤں ہے۔

آج اور اجمل کمال کے تعاون سے شائع کی جانے والی مزید تحاریر اور تراجم پڑھنے کے لیے کلک کریں۔
Categories
فکشن

کنجڑا، قصائی

[blockquote style=”3″]

یہ افسانہ اس سے قبل سہ ماہی تسطیر کے اگست 2017 کے ایڈیشن میں بھی شائع ہو چکا ہے۔

[/blockquote]
تحریر: انور سہیل
انتخاب و ترجمہ: عامر صدیقی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“کنجڑے قصائیوں کو تمیز کہاں۔۔۔ تمیز کا ٹھیکہ تمہارے سیدوں نے جو لے رکھا ہے۔” محمد لطیف قریشی عرف ایم ایل قریشی بہت دھیرے بولا کرتے۔ مگر جب کبھی بولتے بھی تو کفن پھاڑ کر بولتے۔ ایسے کہ سامنے والا خون کے گھونٹ پی کر رہ جاتا۔

زلیخا نے گھور کر ان کو دیکھا۔ ہر کڑوی بات اگلنے سے پہلے ،اس کے شوہر لطیف صاحب کا چہرہ تن جاتا ہے۔ دکھ تکلیف یا خوشی کا کوئی جذبہ نظر نہیں آتا۔ آنکھیں پھیل جاتی ہیں اور زلیخا اپنے لئے ڈھال تلاش کرنے لگ جاتی ہے۔ وہ جان جاتی ہے کہ میاں کی جلی کٹی باتوں کے تیر چلنے والے ہیں۔

محمد لطیف قریشی صاحب کا چہرہ اب پرسکون ہوگیا تھا۔ اس کا سیدھا مطلب یہ تھا کہ تیر چلا کر، مخالف کو زخمی کر کے ،وہ مطمئن ہو گئے ہیں۔
زلیخا چڑ گئی۔ “سیدوں کو کاہے درمیان میں گھسیٹ رہے ہیں، ہمارے یاں ذات برادری پر یقین نہیں کیا جاتا۔ “

لطیف قریشی نے اگلا تیر نشانے پر پھینکا ۔ “جب ذات پات پر یقین نہیں، تو تمہارے ابوامی اپنے اکلوتے بیٹے کے لئے بہو تلاش کرنے کے لئے، اپنی برادری میں صوبہ بہار کیوں بھاگے پھر رہے ہیں؟ کیا اِدھر کی لڑکیاں بے شعور ہوتی ہیں یا اِدھرکی لڑکیوں کا ہڈی،خون، تہذیب بدل گئی ہے؟ “

زلیخا صفائی دینے لگی ہے ۔”وہ بہار سے بہو کاہے لائیں گے، جب پتہ ہی ہے آپ کو، تو کاہے طعنہ مارتے ہیں۔ ارے ۔۔۔ مما، ننّا اور چچا لوگوں کا دباؤ بھی تو ہے کہ بہو بہار سے لے جانا ہے۔ “

“واہ بھئی واہ، خوب کہی۔ لڑکے بیاہنا ہے تو مما، چچا کا دباؤ پڑ رہا ہے، شادی خاندان میں کرنی ہے۔ اگر لڑکی کی شادی نپٹانی ہو تو نوکری والا لڑکاکھوجو۔ ذات چاہے جولاہا ہو یا کنجڑاہو، یا قصائی۔ جو بھی ہو سب چلے گا۔ واہ بھئی واہ ۔۔۔ مان گئے سیدوں کا لوہا! “

زلیخا روہانسی ہو گئی۔ عورتوں کا سب سے بڑا ہتھیار اس کے پاس وافر مقدار میں ہے، جسے “آنسوؤں کا ہتھیار “ بھی کہا جاتا ہے۔ مرد ان آنسوؤں سے گھبرا جاتے ہیں۔ لطیف قریشی بھی اس سے عاری نہ تھے۔ زلیخا کے اس ہتھیارسے وہ گھبرائے۔ سوچا ، مگرہار ماننا کچھ زیادہ ہی برا لگتا ہے۔ معاملہ رفع دفع کرنے کی غرض سے، انہوں نے کچھ فارمولا جملے بدبدائے ۔

“بات تم ہی چھیڑتی ہو اور پھرہارمان کر رونے لگ جاتی ہو۔ تمہیں یہ کیا کہنے کی ضرورت تھی کہ ادھر مدھیہ پردیش ،چھتیس گڑھ کی لڑکیاں، بیچ کھانے والی ہوتی ہیں۔ کنگال بنا دیتی ہیں۔ تمہارا بھائی کنگال ہو جائے گا۔ مانا کہ تمہارے ننہیال ددھیال کا دباؤ ہے، جس کی بدولت تم لوگوں کو یہ شادی اپنے ہی خاندان میں کرنی پڑ رہی ہے۔ بڑی معمولی بات ٹھہری۔ چلو چائے بنا لاؤ جلدی سے ۔۔۔! “

زلیخا نے آنسو پی کر ہتھیار ڈال دیئے ۔”ہر ماں باپ کے دل میں خواہش رہتی ہے کہ ان کی لڑکی جہاں جائے، راج کرے۔ اس کے لئے کیسا بھی سمجھوتہ ہو ،کرنا ہی پڑتا ہے۔”

“سمجھوتہ!” لطیف ایک ایک لفظ چبا کر بولے۔
بات دوبارہ بگڑ گئی۔

“وہی تو ۔۔۔ وہی تو میں کہہ رہا ہوں کہ سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے۔ اور جانتی ہو، سمجھوتہ مجبوری میں کیا جاتا ہے۔ جب انسان اپنی قوت اور طاقت سے مجبور ہوتا ہے تو سمجھوتہ کرتا ہے۔ جیسے ۔۔۔! “

زلیخا سمجھ گئی۔کڑواہٹ کی آگ ابھی اور بھڑکے گی۔

“ہمارا رشتہ بھی اسی نامراد” سمجھوتے”کی بنیاد پر ٹکا ہوا ہے۔ ایک طرف بینک میں نوکری کرتا کماؤ کنجڑے قصائی برادری کا داماد، دوسری طرف خاندان اور ہڈی،خون، ناک کا سوال۔ معاملہ لڑکی کا تھا، پرایا دھن تھا، اس لئے کماؤ داماد کے لئے تمہارے گھر والوں نے خاندان کے نام کی قربانی دے ہی دی۔”
زلیخا رو پڑی اور کچن کی طرف چلی گئی۔ محمد لطیف قریشی صاحب بیدکی آرام کرسی پر نڈھال سے ڈھے گئے۔ انہیں دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا، جیسے جنگ جیت کر آئے ہوں اور تھکن دور کر رہے ہوں۔ سید زادی بیوی زلیخا کو دکھ پہنچا کر ،وہ اسی طرح کا “رلیکس” محسوس کیا کرتے ہیں۔ اکلوتے سالے صاحب کی شادی کی خبر پاکر اتنا”ڈرامہ” کرنا انہیں مناسب لگا تھا۔

زلیخا کے چھوٹے بھائی جاوید کے لئے ان کے اپنے رشتہ داروں نے بھی منصوبے بنائے تھے۔ اکلوتا لڑکے، لاکھوں کی زمین جائداد۔ جاوید کے لئے لطیف کے چچا نے بھی کوشش کی تھی۔ لطیف کے چچا، شہڈول میں سب انسپکٹر ہیں اور وہیں گاؤں میں کافی زمین بنا چکے ہیں۔ ایک لڑکی اور ایک لڑکے۔ کل مل ملاکر دو اولادیں۔ چچا چاہتے تھے کہ لڑکی کی شادی جہاں تک ممکن ہوسکے ،اچھی جگہ کریں۔ لڑکی بھی ان کی ہیرا ٹھہری۔ بی ایس سی تک تعلیم۔ نیک سیرت، بھلی صورت،فنِ خانہ داری میں ماہر، صوم وصلاۃ کی پابند، لمبی، دبلی، پاکیزہ خیالات والی اور بیوٹیشن کا کورس کی ہوئی لڑکی کے لئے، چچا کئی چکر زلیخا کے والد سید عبدالستار کے گھر کے کاٹ چکے تھے۔ ہر بار یہی جواب ملتا کہ لڑکے کا ابھی شادی کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

ایک بار محمد لطیف قریشی صاحب، جب اپنی سسرال میں موجود تھے، تب اپنے کانوں سے انہوں نے خودسنا تھا ۔”یہ سالے کنجڑے قصائی کیاسمجھ بیٹھے ہیں ہمیں؟ لڑکی کیا دی، عزت بھی دے دی کیا؟” انگلی پکڑائی تو لگے ہاتھ پکڑنے۔ بھلا ان دلَدّروں کی لڑکی ہماری بہو بنے گی؟ حد ہو گئی بھئی۔”
یہ بات زلیخا کے ماما کہہ رہے تھے۔ لطیف صاحب اس وقت بیڈروم میں لیٹے تھے۔ لوگوں نے سمجھا کہ وہ سو گئے ہیں ، لہذا اونچی آواز میں بحث کر رہے تھے۔ زلیخا کے والد نے ماما کو ڈانٹ کر خاموش کرایا تھا۔

لطیف توہین کا گھونٹ پی کر رہ گئے۔

تبھی تو اس بات کا بدلہ، وہ اس خاندان کی بیٹی، یعنی اپنی بیوی زلیخا سے لینا چاہ رہے تھے۔ لے دے کر آج توا گرمایا تو کر بیٹھے پرہار! زلیخا کو دکھ پہنچاکر، ہندوستانی اسلامی معاشرے میں پھیلی اونچ نیچ کی برائی پرگھاتک وار کرنے کی، ان کی یہ کوشش کتنی اوچھی، کتنی شرمناک تھی، اس سے ان کا کیا مقصد تھا؟ ان کا مقصد تھا کہ جیسے ان کا دل دکھا، ویسے ہی کسی اور کا دکھے۔ دوسرے کا دکھ، ان کے اپنے دکھ کے لئے مرہم بن گیا تھا۔

زلیخا کی سسکیاں کچن کے پردے کو چیر کر باہر نکل رہی تھیں۔ بیٹا بیٹی شاپنگ کے لئے سپر مارکیٹ تک گئے ہوئے تھے۔ گھر میں شانتی بکھری ہوئی تھی۔ اسی شانتی کو تحلیل کرتی سسکیاں، لطیف صاحب کے تھکے جسم کے لئے لوری بنی جا رہی تھیں۔

محمد لطیف قریشی صاحب کو یوں محسوس ہو رہا تھا، جیسے سیدوں، شیخوں جیسی تمام متکبر ذاتیں رو رہی ہوں، توبہ کر رہی ہوں۔
ارے! انہیں بھی تھوڑا بڑے ہوکر ہی، کہیں پتہ چل پایا تھا کہ وہ قصائیوں کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ تو صرف اتنا جانتے تھے کہ “ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز” والا دنیا کا واحد مذہب ہے اسلام۔ ایک ایسانیا انوکھاسماجی نظام ہے اسلام۔ جہاں اونچ نیچ، گورے کالے ، مرد عورت، چھوٹے بڑے، ذات پات کا کوئی جھمیلا نہیں ہے۔کہاں محمود جیسا بادشاۂ وقت، اور کہاں ایاز جیسا معمولی سپاہی، لیکن نماز کے وقت ایک ہی صف میں کھڑا کیا ،تو صرف اسلام ہی نے۔

ان کے خاندان میں کوئی بھی گوشت کا کام نہیں کرتا۔ سب ہی سرکاری ملازمت میں ہیں۔ سرگوجا ضلع کے علاوہ باہری رشتہ داروں سے لطیف کے والد صاحب نے کوئی تعلق نہیں رکھا تھا۔ لطیف کے والد کی ایک ہی نعرہ تھا، تعلیم حاصل کرو۔ کسی بھی طرح علم حاصل کرو۔ سو لطیف علم حاصل کرتے کرتے بینک میں افسر بن گئے۔ ان کے والد صاحب بھی سرکاری ملازم تھے، ریٹائرمنٹ کے بعد بھی وہ اپنے خاندانی رشتہ داروں سے کٹے ہی رہے۔

لطیف، کلاس کے دیگر قریشی لڑکوں سے کوئی تعلق نہیں بنا پائے تھے۔ یہ قریشی لڑکے پچھلی بینچ میں بیٹھنے والے بچے تھے، جن کی دکانوں سے گوشت خریدنے کبھی کبھار وہ بھی جایا کرتے تھے۔ تقریباً تمام قریشی ہم جماعت مڈل اسکول کی پڑھائی کے بعد آگے نہ پڑھ پائے۔

تب انہیں کہاں پتہ تھا کہ قریشی ایک ایسا لاحقہ ہے۔ جو ان کے نام کے ساتھ ان کی سماجی حیثیت کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ وہ وعظ ،میلاد وغیرہ میں بیٹھتے تو یہی سنتے تھے کہ نبی کریم ﷺ کا تعلق عرب کے قریش قبیلہ سے تھا۔ ان کا بچکانہ ذہن یہی حساب لگایا کرتا تھا کہ اسی قریشی خاندان کے لوگ ماضی میں جب ہندوستان آئے ہوں گے، تو انہیں قریشی کہا جانے لگا ہوگا۔ ٹھیک اسی طرح جیسے پڑوس کے ہندو گھروں کی بہوؤں کو ان کے نام سے نہیں، بلکہ ان کے آبائی شہر کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ جیسے کہ بِلاس پورہِن،رائے پورہِن، سرگج ہِن، کوتماوالی، پینڈراوالی، کٹن ہِن وغیرہ۔

کچھ بڑے کاروباری مسلم گھرانوں کے لوگ نام کے ساتھ عراقی لفظ شامل کرتے، جس کا مطلب لطیف نے یہ لگایا کہ ہو نہ ہو ان مسلمانوں کا تعلق عراق کے مسلمانوں سے ہوگا۔ کچھ مسلمان خان، انصاری، چھیپا، رضا وغیرہ سے اپنا نام سجایا کرتے۔ بچپن میں اپنے نام کے ساتھ لگے قریشی لاحقے کو سن کر وہ خوش ہوا کرتے۔ انہیں اچھا لگتا کہ ان کا نام بھی، ان کے جسم کی طرح مکمل ہے۔ کہیں کوئی عیب نہیں۔ کتنا نامکمل سا لگتا، اگر ان کا نام صرف محمد لطیف ہوتا۔ جیسے بغیر دم کا کتا، جیسے بغیر ٹانگ کا آدمی، جیسے بغیر سونڈ کا ہاتھی۔

بچپن میں جب بھی کوئی ان سے ان کا نام پوچھتا تو وہ اتراکر بتایا کرتے ۔”جی میرا نام محمد لطیف قریشی ہے۔ “
یہی قریشی لفظ کا لاحقہ ،ان کی شادی کا سب سے بڑا دشمن ثابت ہوا۔ جب ان کی بینک میں نوکری لگی تو قصائی گھرانوں سے دھڑا دھڑ رشتے آنے لگے۔ اچھے پیسے والے، شان شوکت والے، حج کر آئے قریشی خاندانوں سے رشتے ہی رشتے۔ لطیف کے والد ان لوگوں میں اپنا لڑکا دینا نہیں چاہتے تھے، کیونکہ سبھی روپیوں پیسوں میں کھیلتے ، دولت مند قریشی لوگ تعلیم و تہذیب کے معاملے میں صفر تھے۔ پیسے سے ماروتی کار آ سکتی ہے ،پر سلیقہ نہیں۔

اس دوران شہڈول کے ایک اجاڑ سے سید مسلم خاندان سے لطیف صاحب کے لئے پیغام آیا۔ اجاڑ ان معنوں میں کہ یوپی بہار سے آکر مدھیہ پردیش کے اس بگھیل کھنڈ میں آ بسے۔ زلیخا کے والد کسی زمانے میں اچھے کھاتے پیتے ٹھیکیدار ہوا کرتے تھے۔ آزادی سے پہلے اور اس کے بعد کے ایک دو پنج سالہ منصوبوں تک زلیخا کے والد اور دادا وغیرہ کی جنگل کی ٹھیکیداری ہوا کرتی تھی۔ جنگل میں درخت کاٹنے کا مقابلہ چلتا۔ سرکاری ملازم اور ٹھیکیداروں کے مزدوروں میں ہوڑ مچی رہتی۔ کون کتنے درخت کاٹ گراتا ہے۔ ٹرکوں لکڑیاں بین الصوبائی اسمگلنگ کے ذریعے اِدھر اُدھر کی جاتیں۔ خوب نوٹ چھاپے تھے ان دنوں۔ اسی کمائی سے شہڈول کے قلب میں پہلی تین منزلہ عمارت کھڑی ہوئی۔ جس کا نام کرن ہوا تھا “سیدنا “۔ یہ عمارت زلیخا کے دادا کی تھی۔ آج تو کئی فلک بوس عمارتیں ہیں، لیکن اس زمانے میں زلیخا کا آبائی مکان مشہور ہوا کرتا تھا۔ آس پاس کے لوگ اس عمارت”سیدنا “ کااستعمال اپنے گھر کے پتے کے ساتھ کیا کرتے تھے۔ مقامی اور علاقائی سطح کی سیاست میں بھی اس عمارت کی اہمیت تھی۔ پھر یہاں مارواڑی آئے، سکھ آئے، مقابلہ بڑھا۔ منافع کئی ہاتھوں میں منقسم ہوا۔ زلیخا کے خاندان والوں کی مونوپلی ختم ہوئی۔ مشروموں کی طرح شہر میں خوبصورت عمارتیں اگنے لگیں۔

زلیخا کے والد یعنی سید عبدالستار یا یوں کہیں کہ حاجی سید عبدالستار صاحب کی ترقی کا گراف اچانک تیزی سے نیچے گرنے لگا۔ جنگلات کی ٹھیکیداری میں مافیاراج آ گیا۔ دولت ،طاقت اوربازوؤں کی زور آزمائی کے بعد حاجی صاحب فالج کا شکار ہوئے۔ چچاؤں اور چچازاد بھائیوں میں دادا کی جائیداد کو لے کر تنازعات ہوئے۔ جھوٹی شان کو برقرار رکھنے میں ،حاجی عبدالستار صاحب کی جمع پونجھی خرچ ہونے لگی۔ جسم کمزور ہوا۔ بولتے تو سر لڑکھڑا جاتا۔ کاروبار کی نئی ٹیکنالوجی آ جانے سے، پرانے تجارتی طور طریقوں سے چلنے والے کاروباریوں کا عموماً جو حشر ہوتا ہے، وہی حاجی صاحب کا ہوا۔

ڈوبتی کشتی میں اب زلیخا تھی، اس کی ایک چھوٹی بہن تھی اور ایک چھوٹا بھائی۔ بڑی بہن کی شادی ہوئی، توسیدوں میں ہی۔ لیکن پارٹی مالدار نہ تھی۔ داماد تھوک کپڑے کا تاجر تھا اور رنڈوا تھا۔ زلیخا کی بڑی بہن وہاں بہت خوش تھی۔ زلیخا جب سیاسیات میں ایم اے کر چکی، تو اس کے والدحاجی صاحب فکر مند ہوئے۔ خاندان میں زیادہ پڑھی لکھی لڑکی کی اتنی ڈیمانڈ نہ تھی۔ لڑکے زیادہ تر کاروباری تھے۔ زلیخا کوبیاہنا نہایت ضروری تھا، کیونکہ چھوٹی سی لڑکی قمرن بھی جوان ہوئی جا رہی تھی۔ جوان کیا وہ تو زلیخا سے بھی زیادہ بھرے بدن کی تھی۔ ان کی عمروں میں فرق محض دو سال کا تھا۔ دو دو نوجوان لڑکیوں کا بوجھ حاجی صاحب کا مفلوج بدن برداشت نہیں کر پا رہا تھا۔

ان کے ایک دوست ہوا کرتے تھے اگروال صاحب۔ جو فارسٹ ڈیپارٹمنٹ کے ملازم تھے۔ حاجی صاحب کے سیاہ سفید کے امین! انہی اگروال صاحب نے، دور سرگوجا میں ایک بہترین رشتہ بتایا۔ اس پرحاجی صاحب ان پر بگڑے۔ زمین پر تھوکتے ہوئے بولے۔ “لعنت ہے آپ پر اگروال صاحب ۔ کنجڑے قصائیوں کو لڑکی تھوڑے ہی دوں گا۔ گھاس کھا کر جی لوں گا۔ لیکن خدا ایسا دن دکھانے سے پہلے اٹھا لے تو بہتر ۔۔۔ “

پھرکچھ رک کر کہا تھا انہوں نے ۔ “ارے بھائی، سیدوں میں کیا لڑکوں کی مہاماری ہو گئی ہے؟ “
اگروال صاحب بات سنبھالنے لگے ۔ “میں یہ کب کہہ رہا ہوں کہ آپ اپنی لڑکی کی شادی وہیں کریں۔ ہاں، تھوڑا ٹھنڈے دماغ سے سوچئے ضرور۔ میں ان لوگوں کو اچھی طرح جانتا ہوں۔ پڑھا لکھا، مہذب گھرانہ ہے۔ لڑکا بینک میں افسر ہے۔ کل کو اوربڑاافسر بنے گا۔ بڑے شہروں میں رہے گا۔ “

اگروال صاحب کسی ٹیپ ریکارڈر کی طرح، تفصیلات بتانے لگے۔ انہیں حاجی صاحب نامی عمارت کی خستہ حال دیواروں، ٹوٹی چھتوں اور ہلتی بنیادوں کا حال خوب معلوم تھا۔ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ شادی کے لائق بیٹیوں کی، شادی کی فکر میں، حاجی صاحب بے خوابی کے مریض بھی ہوئے جا رہے ہیں۔ معاشی حالات کی مار نے انہیں وقت سے پہلے بوڑھا کر دیا تھا۔ ان کا علاج بھی چل رہا تھا۔ ایلوپیتھی، ہومیوپیتھی، جھاڑ پھونک،تعویز گنڈا ، پیری فقیری اور حج زیارت جیسے تمام نسخے آزمائے جا چکے تھے۔ پرمرض اپنی جگہ اور مریض اپنی جگہ۔ گھٹ رہی تھی تو صرف جمع کی ہوئی دھن دولت اور بڑھ رہی تھیں تو صرف مشکلیں۔

ایک دو روز کے بعد اگروال صاحب کی بات پر حاجی صاحب غور وفکر کرنے لگے۔ حاجی صاحب کی چند شرائط تھیں، جو رسی کے جل جانے کے بعد بچے بلوں کی طرح تھیں۔

ان شرائط میں اول تو یہ تھی کہ شادی کے دعوت ناموں میں دلہن اور دلہا والوں کی ذات برادری کا لاحقہ نہ لگایاجائے۔ نہ تو حاجی سید عبدالستار اپنے نام کے آگے سید لگائیں اور نہ ہی لڑکے والے اپنا “قریشی” ٹائٹل زمانے کے آگے ظاہر کریں۔ شادی” شرعی” رواج سے ہو۔ کوئی دھوم دھام، بینڈ باجا نہیں۔ دس بارہ براتی آئیں۔ دن میں شادی ہو، دوپہر میں کھانا اور شام ہونے تک رخصتی۔

ایک اور خاص شرط یہ تھی کہ نکاح کے موقعہ پر لوگ کتنا ہی پوچھیں، کسی سے بھی قریشی ہونے کی بات نہ بتائی جائے۔
لطیف اور اس کے والد کو یہ تمام شرائط توہین آمیز لگیں، لیکن اعلی درجے کے خاندان کی تعلیم یافتہ، نیک سیرت لڑکی کے لئے، ان لوگوں نے بالآخر یہ توہین آمیز سمجھوتہ قبول کر ہی لیا۔ اگروال صاحب کے بہنوئی سرگوجا میں ہوتے تھے اور لطیف کے والد سے ان کا قریبی تعلق تھا۔ ان کا بھی دباؤ انہیں مجبور کر رہا تھا۔

ہوا وہی، جو زلیخا کے والد صاحب کی پسند تھا۔ لڑکے والے، لڑکی والوں کی طرح بیاہنے آئے۔ اس طرح سے سیدوں کی لڑکی، کنجڑے قصائیوں کے گھر بیاہی گئی۔

ایک دن زلیخا کے ایک رشتہ دار بینک میں کسی کام سے آئے۔ لطیف صاحب کو پہچان لیا انہوں نے۔ کیبن کے باہر ان کے نام کی تختی پر صاف صاف لکھا تھا ۔ “ایم۔ ایل۔ قریشی، برانچ منیجر “

لطیف صاحب نے آنے والے رشتے دار کو بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ اورگھنٹی بجا کر چپراسی کو چائے لانے کا حکم دیا۔
یہ رشتے دار بلاشبہ مال دار پارٹی تھے اور سرمایہ کاری کے سلسلے میں بینک آئے تھے۔
لطیف صاحب نے سوالیہ نظروں سے ان کو دیکھا۔
وہ دنگ رہ گئے۔ گلاکھنکھارکر پوچھا ۔ “آپ حاجی” سید “عبدالستار صاحب کے داماد ہوئے نہ؟ “
“جی ہاں، کہیے۔” لطیف صاحب کا ماتھا ٹھنکا۔
سید لفظ پر اضافی زور دیے جانے کو وہ خوب سمجھ رہے تھے۔

“ ہاں، میں ان کا رشتہ دار ہوں۔ پہلے گجرات میں سیٹل تھا، آج کل ادھر ہی قسمت آزمانا چاہ رہا ہوں۔ آپ کو نکاح کے وقت دیکھا تھا۔ نیم پلیٹ دیکھ کر گھبرایا، لیکن آپ کے بڑے بابو تیواری نے بتایا کہ آپ کی شادی شہڈول کے حاجی صاحب کے یہاں ہوئی تو مطمئن ہوا۔ “ وہ صفائی دے رہے تھے۔
پھر دانت نکالتے ہوئے انہوں نے کہا ۔ “آپ تو اپنے ہی ہوئے! “ان کے لہجے میں عزت، تعلق داری اور ڈرامائی انداز کی ملاوٹ تھی۔
محمد لطیف قریشی صاحب کا سارا وجود روئی کی طرح جلنے لگا۔ پلک جھپکتے ہی راکھ کا ڈھیر بن جاتے کہ اس سے قبل خود کو سنبھالا اور آنے والے رشتے دار کا کام سہولت سے نمٹا دیا۔

ایم ایل لطیف صاحب کو اچھی طرح معلوم تھا کہ محمد لطیف قریشی کے مردہ جسم کو دفنا یاتوجا سکتا ہے، لیکن ان کے نام کے ساتھ لگے “قریشی “ کو وہ کبھی نہیں دفنا سکتے ہیں۔

Categories
نان فکشن

کائنات کی ساخت (تحریر: کارلو رویلی، ترجمہ فصی ملک، زاہد امروز)

تیسرا سبق: کائنات کی ساخت
کارلو رویلی
ترجمہ: زاہد امروز، فصی ملک

اسی سلسلے کے مزید اسباق پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

بیسویں صدی کی ابتدائی دہائیوں میں آئن سٹائن نے اپنی تحقیق کے ذریعے واضح کیا کہ زمان و مکاں کیسے کام کرتے ہیں جب کہ نیل بوہر(Neil Bohr) اوراس کے شاگردوں نے مادہ کی کوانٹمی (ذرّاتی) ماہیت کو ریاضی کی مساواتوں کی شکل میں بیان کیا۔ ان کے بعد بیسویں صدی کی آخری دہائیوں میں آنے والے طبیعات دانوں نے ان دو بنیادی نظریات کی روشنی میں فطرت کی مزید تشریح کرنےکی کوشش کی۔ سائنسی محققوں نے ان نظریات کو کائنات کی دو مختلف سطحوں یعنی بڑے اجسام (ستاروں اور سیاروں) پرمحیط کائنات اورچھوٹے اجسام (بنیادی ایٹمی ذرات) کی نظر نہ آنے والی کائنات پرلاگو کیا۔ اس سبق میں ہم بڑے اجسام پرمحیط کائنات کے بارے میں بات کریں گےاوراگلے سبق میں چھوٹے اجسام کی کائنات پر۔

اس سبق کا زیادہ تر حصہ سادہ تصاویر پر مشتمل ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تجربات، پیمائش، ریاضیاتی مساواتوں اوراستخراجیہ سے بالاتر سائنس کا تعلق دراصل بصارت سے ہے یعنی آپ کسی مظہر کا مشاہدہ کیسے کرتے ہیں اوراسے سمجھنے کے لئے آپ کے ذہن میں کیا تشبیہ بنتی ہے۔ سائنس بصارت سے شروع ہوتی ہے۔ سائنسی تخیل کواس بات سے تقویت ملتی ہے کہ چیزوں کو پچھلی بار کی نسبت ایک نئے زاویے سے دیکھا اور سمجھا جائے۔ اس لئے میں کچھ تصاویر کی مدد سے آپ کوان سائنسی تصورات کی بصری تشریح پیش کرنا چاہتا ہوں تاکہ آپ کے ذہن میں یہ تصورات اس طرح واضح ہوجائیں جیسے سائنس انہیں دیکھتی ہے ۔

کائنات کا قدیم تصویر

مندرجہ بالا تصویر بتاتی ہے کہ کیسے ہزاروں سالوں تک کائنات کی ساخت کے بارے میں یہ گمان کیا جاتا رہا کہ یہ دو حصوں میں اس طرح منقسم ہے کہ زمین ہمارے نیچے جب کہ ہمارے آسمان اوپر ہے۔ پہلا سائنسی انقلاب آج سے چھبیس سو سال پہلے تب رونما ہوا جب ایک یونانی فلسفی اناکسی میندر(Anaximander) نے یہ سمجھنے کی کوشش کی کہ کیسے ممکن ہے کہ سورج، چاند اور ستارے ہماری زمین کے گرد گھومتے ہوں۔ اس نے کائنات کی درج بالا تصویر کو اس تصویر سے بدل دیا۔

ایناکسی میندر کے نقطہ نظر میں کائنات سادہ ہے

اس تصویرمیں کائنات کی ساخت کا مختصر تصور ہے۔ اب آسمان صرف ہمارے اوپرموجود ہونے کی بجائے ہر طرف موجود ہے۔ اس تصور کے مطابق زمین سپیس(Space) میں تیرتی ہے جس کے ہر طرف آسمان ہے۔ اس تصور کے پیش کیے جانے کے کچھ عرصہ بعد ہی ایک اور یونانی فلسفی، پیرمینڈیس یا شاید فیثا غورث(Parmenides or Pythagoras) نے محسوس کیا کہ سپیس میں مسلسل تیرتی ہوئی زمین کے اس توازن کو سمجھنے کے لئے کُرّہ یا مدار کا تصورزیادہ مناسب لگتا ہے کیوں کہ مدارمیں گھومتا ہوا ایک جسم اپنے اردگرد ہرسمت میں مساوی فاصلے پر رہتا ہے۔ارسطو(Aristotle) نے زمین اور اس کےگرد گھومتے ہوئے دوسرے آسمانی اجسام کی حرکت کے کُروی ہونے کے بارے میں تسلی بخش سائنسی دلائل واضح کیے۔ اس کے نتیجے میں حاصل ہونے والی کائنات کی تصویر مندرجہ ذیل ہے۔

یہ کائنات کی وہ تصویر ہے جسے ارسطو نے اپنی کتاب” آسمانوں پر” میں پیش کیا

یہ کائنات کی وہ تصویر ہے جسے ارسطو نے اپنی کتاب” آسمانوں پر” میں پیش کیا۔ کائنات کا یہی تصوّر بحیرہ روم کی تہذیبوں میں قرونِ وسطیٰ کے اختتام تک قایم رہا ۔ یہ جاننا کس قدر دلچسپ ہے کہ کائنات کا یہ تصوّردانتے اور شیکسپیئرجیسے لوگوں نے اپنے سکول میں پڑھا۔

اس کے بعد کائنات کو سمجھنے میں بڑی جست کوپرنیکس (Copernicus) نے لگائی جس سے اس دور کا آغاز ہوا جس کو اب عظیم سائنسی انقلاب کہا جاتا ہے۔ کوپرنیکس کی دنیا ارسطو کی دنیا سے زیادہ مختلف نہیں ہے لیکن درحقیقت ان دونوں میں ایک بہت اہم فرق ہے۔

کوپر نیکس کے خیال میں کائنات کا مرکز زمین نہیں سورج ہے

زمانہ قدیم کا تصورکائنات جس میں زمین مرکز ہے، کوپرنیکس کے نزدیک درست نہیں تھا۔ اس نے یہ تصور پیش کیا کہ سیاروں کے اس کائناتی رقص میں ہماری زمین اس کا مرکز نہیں ہے بلکہ اس کے مرکز میں سورج ہے۔ اس لحاظ سے ہمارا سیارہ زمین بہت سارے دوسرے سیاروں کے ہمراہ بہت تیز رفتاری سے اپنے محور کے ساتھ ساتھ سورج کے گرد بھی ایک مدارمیں گھوم رہا ہے۔

وقت کے ساتھ ساتھ انسانی علم بڑھتا رہا اور بہتر پیمائشی آلات کے زریعے جلد ہی یہ دریافت کر لیا گیا کہ ہمارا پورا نظامِ شمسی بذات خود کائنات کا مرکز نہیں ہے۔ بلکہ یہ لاتعداد دوسرے شمسی نظاموں میں سے محض ایک ادنیٰ سا نظامِ شمسی ہے اورہمارا سورج بھی بہت سے دوسرے ستاروں کی طرح ایک ستارہ ہے۔ ایک سوارب ستاروں کے اس بادل نما وسیع جھمگٹے (کہکشاں) میں محض ایک معمولی ذرہ۔

ہماری کائنات اربوں کائناتوں میں سے ایک ہے

تاہم 1930ع میں فلکیات دانوں نے ستاروں کے درمیان پھیلے سفیدی مائل بادلوں (Nebulae) کی تفصیلی اور تصحیح شدہ پیمائشوں سے یہ معلوم کیا کہ ہماری کہکشاں دوسری لاتعداد کہکشاؤں کے اس بادل میں محض ایک ذرہ ہے۔ اب تک بنائی گئی سب سے طاقت وردوربینوں کی مدد سے ہمیں یہ معلوم ہوسکا ہے کہ کہکشاؤں کے ان کائناتی بادلوں کا یہ سلسلہ تا حدِ نگاہ پھیلا ہوا ہے۔ ہمارے اب تک کے تصور کے مطابق دنیا ایک یکساں اورلامحدود وسعت بن چکی ہے۔

ذیل میں دی گئی تصویر ہاتھ سے بنایا ہوا کوئی خاکہ نہیں بلکہ زمین کے گرد خلا میں اپنے مدارمیں گھومتی ہوئی ہبل دوربین (Hubble Telescope)سے لی گئی آسمان کی ایک فوٹو ہے۔ ماضی میں دوسری طاقت وردوربینوں سے لی گئی آسمان کی تصویروں کی نسبت یہ تصویرزمین سے بہت دور خلا کی زیادہ گہرائی میں موجود اجسام دکھاتی ہے۔ جہاں یہ تصویر لی گئی ہے، آسمان کے اس حصّے کو انسانی آنکھ سے دیکھا جائے تو یہ سیاہ آسمان کا ایک چھوٹا سا خالی ٹکڑا نظرآئےگا ۔ ہبل دوربین سے لی گئی اس تصویر کودوبارہ دیکھیں، یہ خلا میں دُوردُور بے ترتیب پھیلے ہوئے نقطوں کی ایک گرد دکھائی دیتی ہے۔ حقیقت میں ہرسیاہ نقطہ ایک کہکشاں کی شبیہہ ہے اور ہر نقطے میں ہمارے سورج کی طرح کے سینکڑوں ارب ستارے موجود ہیں۔ گزشتہ چند سالوں میں یہ مشاہدہ کیا گیا ہے کہ ہمارے نظام شمسی کی طرح ان ستاروں میں سے بیشتر کے گرد بھی سیارے گھومتے ہیں۔ لہٰذا کائنات میں زمین کی طرح کے اربوں کے اربوں کے اربوں کے اربوں ستارے موجود ہیں۔ ہم آسمان پرجس سمت بھی دیکھیں یہی منظرنظرآتا ہے جیسا اس تصویر میں موجود ہے۔

لیکن یہ ہمہ جہت یکسانیت حقیقت میں ایسی نہیں ہے جیسی بظاہر مندرجہ بلا تصویر میں نظرآتی ہے۔ جیسا کہ میں نے پہلے سبق میں وضاحت کی تھی کہ سپیس کاغذ کی طرح مستوی نہیں بلکہ منحنی یعنی خم دار ہے۔ ہمیں کائنات کی ساخت کویوں تصورکرنا چاہیے کہ یہ ستارے اور کہکشائیں ایک خم دارسطح پرچھینٹوں کی طرح ہیں۔ یہ کہکشائیں سمندری موجوں کی مانند لہروں میں حرکت کرتی ہیں جوبسا اوقات اتنی زیادہ شدید ہوتی ہیں کہ کائنات کی اس خم دارسطح میں گڑھے پڑجاتے ہیں جن کو ہم بلیک ہول کہتے ہیں۔ اس معلومات کے بعد ہم ہبل دوربین سے لی گئی تصویرمیں اضافہ کریں تو ان لہروں کی وجہ سے خم دارکائنات کی تصویر کچھ اس طرح نظر آتی ہے۔

اب ہم جانتے ہیں کہ کہکشاؤں سے مزین یہ وسیع لچکیلی کائنات جسے بننے میں پندرہ ارب سال لگ گئے، ایک بہت ہی گرم اورانتہائی کثیف بادل نما چھوٹے نقطے میں نمودارہوئی۔ اس نقطے کو بیان کرنے کے لیے ہمیں صرف کائنات کی موجودہ ساخت ہی نہیں بلکہ اس ساخت کی تشکیل کی پوری تاریخ وضع کرنے کی ضرورت ہے۔ اس ارتقائی کائنات کی شکل کچھ یوں ہے:

کائنات ایک چھوٹی گیند نما شکل سے شروع ہوئی اور پھر اپنی موجودہ کونیاتی وسعت تک پھیل گئی۔ بڑے سے بڑے پیمانے پر جو ہم اب تک جانتے ہیں، یہ ہماری کائنات کی موجودہ تصویر ہے۔

کیا اس قابل پیمائش کائنات کے علاوہ بھی کوئی چیزموجود ہے؟ کیا اس سے پہلے کچھ تھا؟ شایدایسا ممکن ہو۔ میں اس بارے میں کچھ اسباق کے بعد بات کروں گا۔ کیا ہماری اس کائنات جیسی یا اس سے مختلف اور کائناتیں وجود رکھتی ہیں؟ ہم نہیں جانتے۔

Categories
شاعری

نزار قبانی کی رومانی شاعری

[blockquote style=”3″]

“معروف عربی شاعر نزارقبانی کا عملی دورانیہ بیسویں صدی کے نصفِ ثانی پر محیط ہے، ان کے اشعار، نقوشِ فکر اور ان کے رنگارنگ تخیلات مسلسل ایک نسل سے دوسری نسل کی طرف منتقل ہورہے ہیں، نزارقبانی 30 اپریل 1998ء کو وفات پاگئے، مگر ان کا ادبی، شعری و تخلیقی کارنامہ اپنی قوت و انفرادیت کی بدولت ہنوز تازہ و شاداب ہے۔ نزارقبانی نے اپنے باہم متناقض افکار و شعریات کے ذریعے پوری زندگی ادبی و فکری سطح پر ایک قسم کا ہیجان برپا کئے رکھا، وہ بیسویں صدی کے نصفِ آخر کے عربی معاشرے کے تضادات کو ان کی حقیقی شکل وصورت میں بیان کرتے تھے۔ وہ واحد ایسے عربی شاعر تھے جس نے ایک طویل زمانے سے قائم معاشرتی رسوم و رواج کے خلاف پوری جرأت و ہمت سے ہلہ بولا۔ اس نے بھرپور آزادی اور باغیانہ تیور کے ساتھ جہاں ایک طرف فکری، عملی اور شعوری سطح پر اس وقت کے عالمِ عربی کو درپیش مسائل پر اظہارِ خیال کیا وہیں معاشرتی منکرات اور حرام و حلال جیسے نازک موضوعات بھی اس کی ناوک افگنی سے محفوظ نہ رہے۔”

نزّار قبانی عرب دنیا کا ایک معروف نام ہے۔ وہ شام میں پیدا ہوئے اور وہیں پلے بڑھے۔ قانون کی تعلیم حاصل تو کی مگر کبھی عملی طور پر قانون دان یا منصف کی ذمہ داریاں ادا نہیں کیں۔ ملازمت کے طور پر انہوں نے سفارت کاری کا انتخاب کیا اور وہ ملک شام کی طرف سے کئی ملکوں میں سفیر کے فرائض سرانجام دیتے رہے۔ ملازمت کے بعد ڈیڑھ دہائی تک یورپ میں مقیم رہے اور 30 اپریل 1998ء کو ان کا انتقال ہوا۔

نزّار قبانی زمانہء طالب علمی سے ہی شاعری لکھنا شروع کر چکے تھے اور یہ زیادہ تر رومانوی شاعری ہوتی تھی۔ دوسری عالمی جنگ نے آدھی سے زیادہ دنیا کو متاثر کیا اور پھر اس جنگ کے خاتمے کے بعد عالمی سطح پر بڑی بڑی تبدیلیاں بھی آئیں۔ اس دور کی عرب دنیا کو نزّار قبانی نے بہت غور سے دیکھا اور انہوں نے عربوں کی حالت زار اور ان کے رویئے کو اپنی شاعری کے ذریعے تنقید کا نشانہ بنایا۔

انہوں نے فلسطین کی سرزمین پر اسرائیل کے غاصبانہ قبضے کے خلاف بھی بھرپور آواز اٹھائی۔ وہ آخر تک استبداد کی مخالفت میں مزاحتمی شاعری کرتے رہے۔

ذاتی زندگی میں وہ ایک نہایت دکھی انسان تھے جن کی پہلی بیوی شادی کے فوراً بعد ہی ایک بم دھماکے میں جاں بحق ہوگئی۔ جس کے بعد انہوں نے اپنی ایک پرانی دوست کے ساتھ دوسری شادی کی اور ان کا بھی جلد انتقال ہو گیا۔ اس کے علاوہ ان کا بیٹا ایک ٹریفک حادثے میں چل بسا۔ اصل زندگی کی تلخیوں سے انہوں نے ایسی شاعری کشید کی کہ جس میں مزاحمتی کڑواہٹ کے علاوہ رومانوی مٹھاس بھی شامل ہے۔

ان کی رومانوی شاعری کے حوالے سے سنگِ میل پبلی کیشنز نے ‘محبت کی 101 نظمیں’ کے عنوان سے ایک کتاب بھی شائع کی ہے جس میں ان کی نظموں کے منظوم تراجم آنجہانی منّو بھائی نے کئے ہیں۔ اس مجموعے میں شامل نظموں کے علاوہ ‘ایک روزن’ کے قارئین کیلئے ہم نے نزّار قبانی کی کچھ مزید رومانوی نظمیں ترجمہ کی ہیں۔ ہر نظم کے آخر میں دیئے گئے ویب لنک سے یہی نظم عربی اور انگریزی میں بھی پڑھی جا سکتی ہے۔

[/blockquote]

مجھے جب محبت ہوتی ہے

مجھے جب محبت ہوتی ہے
تو لگتا ہے میں وقت کا شہنشاہ بن گیا ہوں
زمین اور جو کچھ بھی اس میں ہے، میری ملکیت بن چکا ہے
اور میں گھوڑے پر سوار سورج کی سیر کو نکل کھڑا ہوتا ہوں۔

مجھے جب محبت ہوتی ہے
تو میں بہتی ہوئی روشنی میں ڈھل جاتا ہوں
کہ نظر جسے دیکھ نہ سکتی ہو
اور میری ڈائریوں میں لکھی نظمیں
ببول اور پوست کے کھیت بن جاتی ہیں۔

مجھے جب محبت ہوتی ہے
پانی میری انگلیوں سے پھُدک کر بہہ نکلتا ہے
گھاس میری زبان پر اُگنے لگتی ہے
جب میں محبت کرتا ہوں

میں اس سبھی وقت سے باہر کا کوئی وقت بن جاتا ہوں۔

جب مجھے کسی عورت سے محبت ہوتی ہے
تو تمام درخت میری طرف
ننگے پائوں دوڑنے لگتے ہیں۔

http://www.adab.com/en/modules.php?name=Sh3er&doWhat=shqas&qid=56


محبت کا گَر موازنہ کیجے

میری جانِ من میں تمہارے باقی چاہنے والوں جیسا نہیں ہوں
اگر کوئی دوسرا تمہیں بادل لا کر دیتا ہے
تو میں تمہیں بارش پیش کروں گا
اگر وہ تمہیں لالٹین عطا کرتا ہے، تو میں
تمہیں چاند لا کر دوں گا
اگر وہ دے تمہیں ایک شاخ
تو میں تمہیں پیڑ کے پیڑ لا دوں گا
اور اگر کوئی دوسرا تمہیں بحری جہاز لا کردے
تو میں تمہیں سفر تحفہ کروں گا۔

http://www.adab.com/en/modules.php?name=Sh3er&doWhat=shqas&qid=55


جب میں تم سے محبت کرتا ہوں

جب میں تم سے محبت کرتا ہوں
ایک نئی زبان پُھوٹ پڑتی ہے
نئے شہر، نئے ملک دریافت ہونے لگتے ہیں
گھنٹے ننّھے کتوں کی مانند سانس لینے لگتے ہیں
کتابوں کے صفحوں کے بیچ سے اناج کے خوشے اُگ آتے ہیں
پرندے تمہاری آنکھوں سے شہد کی بوندیں چُرا کر اڑنے لگتے ہیں
انڈین پھلیوں سے لدے قافلے تمہارے پستانوں سے روانہ ہونے لگتے ہیں
ہر طرف آم ہی آم گرنے لگتے ہیں
جنگل آگ پہن لیتے ہیں
اور چہارسُو نیوبین ڈھول بجنے لگتے ہیں۔

جب میں تم سے محبت کرتا ہوں
تمہاری چھاتیاں لاج شرم جھٹک دیتی ہیں
یہ نُور میں بدل جاتی ہیں، گرج دار ہو جاتی ہیں
تلوار لگنے لگتی ہیں اور ایک ریتلا طوفان بن جاتی ہیں
جب میں تم سے محبت کرتا ہوں تو عرب شہر چھلانگنے لگتے ہیں
اور ڈٹ جاتے ہیں صدیوں کے استبداد کے خلاف
اور انتقام کے خلاف جو قبائلی قوانین کی آڑ میں ان سے لیا جاتا رہا
اور میں، جب میں تم سے محبت کرتا ہوں
تو مارچ کرنے لگتا ہوں
بدصورتی کے خلاف
نمک کے بادشاہوں کے خلاف
صحرا کو ادارہ جاتی بندوبست میں جکڑنے کے خلاف
اور میں تب تک تمہیں چاہتا رہوں گا جب تک کہ دنیا کا سیلاب نہیں آن پہنچتا
میں تب تک تم سے یونہی محبت کرتا رہوں گا جب تک کہ دنیا کا سیلاب نہیں آن پہنچتا۔

http://www.adab.com/en/modules.php?name=Sh3er&doWhat=shqas&qid=61


میری محبوبہ مجھ سے پوچھتی ہے

میری محبوبہ مجھ سے پوچھتی ہے:
‘میرے اور فلک کے بیچ کیا فرق ہے؟’
فرق یہ ہے، میری جان
کہ جب تم ہنستی ہو
میں آسمان کو بھول جاتا ہوں۔

http://www.adab.com/en/modules.php?name=Sh3er&doWhat=shqas&qid=334


اے میری چاہت

اے میری چاہت
اگر تم پاگل پن میں میرے برابر ہوتی
تو تم اپنے گہنے اتار پھینکتی،
اپنے تمام کنگن بیچ کر
میری آنکھوں میں آ کر سو جاتی۔

http://www.adab.com/en/modules.php?name=Sh3er&doWhat=shqas&qid=335


میں جب جب تمہیں چُومتا ہوں

میں جب جب تمہیں چومتا ہوں
ایک لمبی جدائی کے بعد،
مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے
کہ جیسے میں کسی سرخ لیٹر باکس میں
جلدی سے محبت نامہ ڈال رہا ہوں۔

http://www.adab.com/en/modules.php?name=Sh3er&doWhat=shqas&qid=336


روشنی لالٹین سے مقدّم ہے

روشنی لالٹین سے مقدّم ہے
نظم ڈائری سے زیادہ اہم ہے
اور بوسہ لبوں سے زیادہ قیمتی ہے

تمہارے نام میرے خط
ہم دونوں سے زیادہ عظیم بھی ہیں اور مقدم بھی
صرف یہی وہ دستاویز ہیں
جہاں لوگ تلاش کرسکیں گے
تمہارا حسن
اور میرا پاگل پن۔

http://www.adab.com/en/modules.php?name=Sh3er&doWhat=shqas&qid=338

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حالات زندگی
http://www.adab.com/en/modules.php?name=Sh3er&doWhat=ssd&shid=2

شاعری
http://www.adab.com/modules.php?name=Sh3er&doWhat=lsq&shid=7&start=0

Categories
فکشن

ایک زندگی، چارپہلو

[blockquote style=”3″]

ادارتی نوٹ : للت منگوترہ کی اس ڈوگری کہانی کا اردو ترجمہ جنید جاذب نے کیا ہے۔

[/blockquote]

پہلا رخ ۔ دیو ورت
میرا آج صبح سے ہی موڈ خراب ہے،اور یہی وجہ ہے کہ میں اب تک گھر بھی نہیں گیا ۔حالانکہ باہراب مجھے کرنے کو کچھ بھی نہیں، لیکن گھرجانے کا بالکل بھی من نہیں کررہا۔آج سنیچر ہے ، توگھر پر، چیتن انکل آ دھمکے ہوں گے اور پاپا کے ساتھ شطرنج کھیلنے میں مصروف ہوں گے۔ ممی دونوں کے لئے گرما گرم چائے کے دو پیالے بھی بنا لائی ہوں گی ۔۔۔۔پاپا کے لئے تیز شکر والی اور چیتن انکل کے لئے بنا دودھ شکر کے، نرا قہوہ۔
مجھے سمجھ میں نہیں آتا کہ آخر یہ چیتن انکل، اتنے کم عرصے میں، پاپا کے اتنے گہرے دوست کیسے بن گئے ۔پاپا کوپہلے تو کبھی شطرنج کا اتنا دلدادہ نہیں دیکھا۔ یہ انہیں نیا ہی چسکا پڑا ہے۔ ہر سنیچر کو بے صبری سے چیتن انکل کا انتظار ر رہتاہے۔ جوں ہی وہ پہنچتے ہیں، اٹھ کربڑے تپاک سے انھیں گلے لگا لیتے ہیں۔ ماں بھی سنیچر کو بس چیتن انکل کی ہی پسند کا کھانا پروستی ہیں۔
میں تو اپنی زندگی کے اُس حصے کو تقریباً بھلا ہی چکا تھا۔ میں نے تو اپنے اور پاروتی کے بیچ کے، اُس طوفانی رشتے کو، جوانی میں اٹھنے والی قدرتی لہروں کے ابھار سے زیادہ اہمیت کبھی دی ہی نہیں تھی۔
پتہ نہیں کچھ لوگ ہمیں کیوں اچھے نہیں لگتے۔ کوئی قابلِ فہم وجہ بھی نہیں ہوتی لیکن نہیں اچھے لگتے، تو نہیں لگتے۔چیتن انکل کے تئیں میری ناپسندیدگی بھی کچھ اسی طرح کی ہے ۔اس ناپسندیدگی کی وجہ کیا ہے مجھے بالکل نہیں معلوم۔ شائد ممی پاپا کی واحداولاد ہونے کے کارن ، میں بچپن سے ہی کچھ تنہائی پسند سا ہو گیا ہوں۔ دراصل ہم تینوں آپس میں اتنے قریب قریب اور گھلے ملے رہتے ہیں کہ ایک دوسرے کی اکثر باتیں ہم بنا بولے ہی سمجھ اور سمجھالیتے ہیں۔اب ہم تینوں کے بیچ کوئی اور آجائے، مجھے پسند نہیں۔ چیتن انکل کا یوں اور پھر اس تواتر سے ہمارے گھر آنا اور پھرآکر گھنٹوں بیٹھے رہنا، اصل میں مجھے ہماری نجی زندگی میں بے جا مداخلت جیسا لگتا ہے۔ خیر جو بھی ہو، میں تو چیتن انکل سے دور دور ہی رہنے کی کوشش کرتا ہوں۔ مگر وہ ہیں کہ جب بھی آتے ہیں یا میں جب کبھی ان کے پاؤں چھونے کے لئے جھکتا ہوں تو وہ جھٹ سے مجھے گلے لگا لیتے ہیں اور پھرکچھ زیادہ ہی دیرتک لگائے رکھتے ہیں۔اتنا ہی نہیں، کبھی کبھی تو وہ مجھے چومنے چاٹنے بھی لگتے ہیں اور میں اگر اس چوما چاٹی سے بچنے کی کوشش کرتاہوں تو بھی میرا ماتھا چوم ہی لیتے ہیں۔ یہ پیار ویار کا ڈرامہ مجھے بالکل اچھا نہیں لگتا۔
ہوسکتا ہے چیتن انکل مجھے اس لئے نا پسند ہوں کہ ان کی اور پاپا کی قطع وضع اورخُو بو بالکل الگ الگ ہے۔پاپا ٹھہرے گول مٹول سے جسم ،گنجے سر اور کھلے سوبھاؤ کے مالک۔نہ کوئی دکھاوا نہ تکلفات۔بنیان میں بھی بیٹھے ہوں گے اور گھر میں کوئی آگیا، توقمیض تک ڈالنے کی پرواہ نہیں بھی کرتے۔ بس ہنستے کھیلتے اور مست رہتے ہیں۔ دوسری طرف چیتن انکل ہیں کہ اس عمر میں بھی چست و تندرست،سڈول جسم،سر پر گھنے بال اور اپ ٹو ڈیٹ پرسنالٹی۔ ہر وقت صاف ستھرے کپڑوں میں ملبوس اور بنے سنورے رہتے ہیں جیسے کسی پارٹی میں جارہے ہوں۔ان کا ایسا بناؤ سنگھار اور تکلفات کا تام جھام مجھے قطعی اچھا نہیں لگتا ۔ ظاہر ہے جب کوئی انسان سرے سے پسند ہی نہ ہو تو پھر اس کا کچھ بھی اچھا نہیں لگتا۔
کچھ بچے ایسے ہوتے ہیں کہ دیکھتے ہی من موہ لیتے ہیں ہے۔ دیو ورت بھی ایسا ہی بچہ ہے۔ میں تو پاروتی کا قرب پانے کی ٹوہ میں تھا، اب دیو ورت سے ملے بغیر بھی جی نہیں لگتا۔ لیکن دیوورت پتہ نہیں کیوں مجھ سے دور دور بھاگتاہے۔ سچ کہوں تو اس کی یہ بات مجھے بڑا دکھ پہنچاتی ہے۔
پاپا کے ساتھ بات کرنا ایسا ہوتا ہے جیسے اپنے کسی دوست کے ساتھ بات کرنا ۔لیکن چیتن انکل….توبہ توبہ ان سے بات کرنا تو مصیبت مول لینا ہے۔ ایسے تول تول کر بولتے ہیں جیسے کوئی بیان جاری کررہے ہوں۔ جب بھی ان سے بات ہوتی ہے وہ میری پڑھائی اور کرئیر کو لے کر لیکچر دینا شروع کردیتے ہیں۔ انہوں نے تو مجھے کرئیر گائڈنس کی کچھ کتابیں بھی لا دی ہیں جنہیں میں نے کبھی کھولا بھی نہیں۔ وہ جب چلے جاتے ہیں تو ممی پاپا کے ساتھ،کسی نہ کسی بات کو لے کر، میری لڑائی ہو ہی جاتی ہے۔ چیتن انکل کے تئیں میرا رویہ ممی کی تیز نگاہوں سے چھپا نہیں ہے۔ انہوں نے دو ایک بار مجھے سمجھانے کی بھی کوشش کی کہ بڑوں کی عزت کرنا چاہئے لیکن میں ہربار بات کو مذاق میں ٹرخا دیتا ہوں۔
اب شام ہورہی ہے۔چیتن انکل توخیرآرام سے کھانا وانا کھا کر ہی نکلیں گے۔اب میں کب تک یوں ہی گلیوں میں گھومتا رہوں ،آخر گھر تو جانا ہی ہوگا۔
دوسرا رخ ۔ چیتن
میں تو اپنی زندگی کے اُس حصے کو تقریباً بھلا ہی چکا تھا۔ میں نے تو اپنے اور پاروتی کے بیچ کے، اُس طوفانی رشتے کو، جوانی میں اٹھنے والی قدرتی لہروں کے ابھار سے زیادہ اہمیت کبھی دی ہی نہیں تھی۔ اورشادی کے بعد تو مجھے پاروتی کا خیال ،اس کی ہر یاد اپنے دل و دماغ سے کھرچ کر صاف کر دینا چاہیئے تھی۔۔۔۔ لیکن ہوا اس کے بالکل برعکس۔
جوں جوں میری بیوی ’ کُشا‘ کا اصل چہرہ میرے سامنے کھلنے لگا اور ہمارے رشتے کی طنابیں دھیرے دھیرےُ اکھڑنے لگیں، ویسے ویسے مجھے پاروتی اور اس کے ساتھ اپنے رشتے کی مٹھاس رہ رہ کر یاد آنے لگی۔ ازدواجی زندگی کا یہ تناؤ مجھے ماضی کے ہمارے رشتے سے جڑی باتیں اور واقعات کی طرف لے جاتارہااور بار بارکچوکے بھرتارہا ۔ ’کشا‘ اپنی غلطیوں اور خامیوں کے لئے بھی مجھے ہی کوستی اور ہمارے خراب ہوتے رشتے کا سارا الزام مجھ پر ڈالتی جاتی ۔ ہمارے رشتے میں کڑواہٹ اس قدر بڑھ گئی کہ میں بات کرتا تو بھی لڑائی اور چپ رہتا تو اس سے بڑی لڑائی۔ جب اُس سے کوئی غلطی ہوتی تو بھی میری پریشانی ہی بڑھتی جاتی۔میں سب کچھ سہہ کر بھی کوشش کرتا کہ اس کی غلطی بارے کوئی لفظ زبان پر نہ آئے ۔ لیکن وہ …..وہ کسی نئے جھگڑے کی بنیادکے بنانے کے لئے میری پرانی سے پرانی باتیں نکال کر لے آتی ۔ کشا کے ساتھ ہونے والا ہر جھگڑا مجھے پاروتی کی یادوں میں مستغرق کرتا جاتا۔ مجھے پاروتی کی خود سپردگی یاد آ جاتی۔ اپنی بد نصیبی پر مجھے بڑا دکھ ہوتا کہ پاروتی کی وہ بے لوث محبت میں نہ پا سکا جو شائد تھوڑی سی اورکوشش سے میرا مقدر بن سکتی تھی۔ میں اکثر سوچتا کہ اگر پاروتی کا سچا پیار میری زندگی کا حصہ بنا ہوتا تو میرے لئے زندگی کے معنی ہی کچھ اورہوتے ۔
مجھے لگتا ہے کہ اگر کوئی بغور دیکھے تو ان کی چہروں میں مماثلت بآسانی ڈھونڈھ سکتا ہے، خاص کر دونوں کی آنکھیں تو بالکل ایک جیسی ہیں۔ دونوں کی آنکھوں کے کونوں پرجھریاں سی ہیں جس طرح چینیوں کی آنکھوں پر ہوتی ہیں، لیکن چیتن کی عینک کے پیچھے وہ نظر نہیں آتیں۔
کشا سے الگ ہو نے کی کہانی تواپنے آپ میں ایک لمبی کتھا ہے البتہ اسے طلاق دینے کا مجھے کبھی دکھ نہیں ہوا۔ بلکہ میرے اور کشا ،دونوں کے لئے اب اسی میں شائد بھلائی تھی۔ اس کے بعد میری زندگی معمول پر تو لوٹ آئی لیکن اس سب کے بعد مجھے پاروتی کو کھو جانے کا احساس شدت سے ہونے لگا۔
کچھ عرصہ بعد کمپنی کی اندور میں واقع فیکٹری کے لئے عملہ بھیجا جارہاتھا ۔میری ہلکی سی رضامندی ظاہر کر نے کی دیر تھی کہ مجھے فوراََ تبدیل کرکے اندور بھیج دیا گیا۔
اندور میں کوئی چار پانچ بارمیرا اُس سٹور پر جانا ہوا جہاں سے کرن اکثر گھر کے لئے سودا سلف خریداکرتاتھا۔ ایک بار، جب ہم دونوں پے منٹ کاؤنٹر پر کھڑے تھے ، باتوں باتوں میں میرے منہ سے کوئی ڈوگری محاورہ نکل گیا ۔ کرن نے پلٹ کرحیرانی سے میری طرف دیکھا اور پوچھا،’’آپ….. جموں سے ہیں؟‘‘۔میری تصدیق پر اس نے بتایا کہ جموں کے ساتھ اُس کا خاص رشتہ ہے۔ جان پہچان ہوئی تو اس نے بتایاکہ اس کا سسرال بھی جموں میں ہے ۔کرن نے مجھے گھر چلنے کی دعوت دی تو اس کے اصرا ر کو میں ٹال نہ سکا۔ اس طرح میں اس کے گھر تک جا پہنچا۔
کرن بے چارے کو علم نہیں تھا کہ نہ اس سٹور پر میرا جانا اتفاقیہ تھا اور نہ وہ ڈوگری محاورہ میرے منہ سے بے ساختہ نکلا تھا۔یہ سب تو پاروتی تک پہنچنے کے لئے،میری سوچی سمجھی منصوبہ بندی تھی۔ البتہ میرے ذہن میں یہ الجھن گھر کئے ہوئے تھی کہ نہ جانے پاروتی اس طرح اچانک مجھے دیکھ کر کیا رد عمل ظاہرکرے گی ۔
میرا خدشہ بالکل صحیح تھا۔مجھے دیکھتے ہی اس کے چہرے پرہوائیاں اڑ گئیں۔اس کا رنگ زرد پڑ گیا۔لیکن بڑی ہوشیاری سے اس نے فوراََ سب کچھ سنبھال لیا اورنارمل طریقے سے بات کرنے لگی۔
پاروتی نے ایک سگھڑ گھریلو عورت کی طرح اپنے شوہر کے ساتھ آئے مہمان کو دعا سلام کیا ،بٹھایا اورخاطر داری کی۔ میری تعیناتی آجکل اندور میں ہونے کا سن کر اس نے بظاہر خوشی بھی جتائی۔ اس طرح میرا پاروتی کے گھر جانے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔شطرنج کا بورڈ دیکھ کر میں سمجھ گیا کہ کرن کو شطرنج کھیلنے کا شوق ہے ۔ اور پھرمیں ہر سنیچر کو کرن کے ساتھ شطرنج کھیلنے کے بہانے ان کے گھر جانے لگا۔
اب تو میرا پورا ہفتہ سنیچر کا انتظار کرتے گزرتا۔ یوں لگنے لگاتھا جیسے میری صدیوں کی پیاس،ایک ٹھنڈے میٹھے پانی کا چشمہ دیکھتے ہی اور بھی بھڑک گئی ہو۔
ممکن ہے پہلے پہل مجھے اس طرح لگاتار اس گھر میں جانے میں ہچکچاہٹ رہی ہو لیکن کرن کی شطرنج کے لئے اتنی رغبت ،بے صبری سے میرا انتظار اور میرے پہنچنے پر والہانہ استقبال،یہ سب میری جھجھک دور کرنے کے لئے کافی تھے۔کرن اصل میں بڑا سیدھا سادہ سا انسان ہے۔ شطرنج میں جب وہ جیت جاتا ہے تو خوب ہنستا ہے لیکن جب ہارتا ہے تو اس سے بھی بڑا قہقہ لگاکر ہنستا ہے۔
جس طرح چیتن کی آمد پر پاروتی نے انجانا سا رخ اپنالیاتھا اس سے جیسے میری تیسری آنکھ کھل گئی جو سامنے رونما ہونے والے واقعات کے پیچھے بھی کچھ دیکھ لیتی ہے۔ میری اسی تیسری آنکھ نے دیکھا کہ پاروتی کو چیتن کالگاتار ہمارے گھر آنا کچھ زیادہ نہیں بھاتا ۔ مجھے یہ سمجھنے میں زیادہ دیر نہیں لگی کہ دیو ورت ،چیتن کی ہی اولاد ہے۔
اس گھر میں آنے سے پہلے مجھے دیو ورت کے بارے میں کوئی جانکاری نہیں تھی۔اسے دیکھا تو حیرت بھی ہوئی اور خوشی بھی۔ کچھ بچے ایسے ہوتے ہیں کہ دیکھتے ہی من موہ لیتے ہیں ہے۔دیو ورت بھی ایسا ہی بچہ ہے۔ میں تو پاروتی کا قرب پانے کی ٹوہ میں تھا،اب دیو ورت سے ملے بغیر بھی جی نہیں لگتا۔ لیکن دیوورت پتہ نہیں کیوں مجھ سے دور دور بھاگتاہے۔ سچ کہوں تو اس کی یہ بات مجھے بڑا دکھ پہنچاتی ہے۔
پاروتی کو اپنے قریب پاکر اس کے اور پاس جانے کی خواہش نے مجھے وہ کرنے پر مجبور کر دیا جو میرے لئے قطعی جائز نہیں تھا۔ میری اس حرکت پر پاروتی نے جس سختی سے مجھے سرزنش کی تھی وہ کسی دھتکار سے کم نہیں۔کئی دن میں اداس،دل برداشتہ پھرتا رہا، لیکن اگلے سنیچر کو پھر اس کے ہاں جا پہنچا۔ پاروتی کے رویے میں کہیں کوئی تبدیلی نہیں تھی۔ وہ بالکل ویسے ہی پیش آئی جیسے اس واردات سے پہلے آتی تھی۔
اب میں ہر سنیچر ،بلاناغہ پاروتی کے ہاں پہنچا ہوتا ہوں۔ میں جانتا ہوں پاروتی کو میرے ساتھ کوئی لگاؤ نہیں لیکن مجھے اس کو اٹھتے بیٹھتے،چلتے پھرتے اورکام کاج کرتے دیکھنے میں ایک سکون سا ملتا ہے۔ مجھے کرن کے دوستی بھرے قہقہوں میں بھی ایک اپنا پن لگتا ہے ۔
دیو روت کو دیکھ کر تو میری باچھیں کھل جاتی ہیں۔میں سمجھتاہوں کہ اس گھر ،گھرہستی کا حصہ بننے کا مجھے کوئی حق نہیں لیکن یہ بھی سچ ہے کہ اپنی زندگی کے اس مقام پر اگر میرے دل کے تا ر کسی جانب کھنچتے ہیں تو وہ یہی گھر ہے۔ میں اکثر سوچتا رہتاہوں کہ کیا مجھے اس گھر میں اسی طرح جاتے رہنا چاہیئے ؟ کیا مجھے اپنے اندر پلتے ایک طرفہ رشتوں کی حرارت کی خاطر اس گھر کی سریلی سرگم میں زبردستی اپنا بے سرا راگ ملانے کی کوشش کرنا چاہیئے؟
لیکن کسی بھی طرح پاروتی کے نزدیک رہنے کی خواہش کے سامنے میری ساری منطقیں دھری کی دھری رہ جاتی ہیں۔ مجھے ،سوائے اس گھر کے، کہیں بھی اپنے لئے کوئی ٹھکانہ نظر نہیں آتا۔
تیسرا رخ ۔ پاروتی
عام طور پر انسان زندگی میں جو کچھ چاہتا ہے ،تقریباََ وہ سب کچھ میرے پاس موجود ہے۔۔۔۔ایک بے انتہا پیار کرنے والا اور میری چھوٹی بڑی،کہی ان کہی ہرخواہش کا خیال رکھنے والا پتی اور کھلتے پھول کی مانند نوجوان بیٹاجس کی توانائیوں سے ہمارا اندر باہر چاندنی میں نہایارہتا ہے ۔ اور اسی چاندنی میں گھلی ہوئی ہے ہمارے آپسی پیارمحبت اور وشواس کی بے انت خوشبو ۔
اس سب کے ہوتے ہوئے بھی میں اپنے دل میں ہمیشہ سے ایک خلش سی پالتی بلکہ ڈھوتی آئی ہوں۔ یہ خلش بیتے وقت کے ایک کالے رازکا بوجھ ہے جو میں ہر وقت اٹھائے پھر رہی ہوں۔ میرے دل کی گہرائیوں میں دبکی بیٹھی یہ خلش اکثر خوشی کے موقعوں پر میرے اندر سے نکل کر سامنے آن کھڑی ہوتی ہے اور میرا منہ چڑا کر کہتی جاتی ہے’’ناچو گاؤ،خوشیاں مناؤ ….لیکن یہ بھولنا نہیں کہ میں بھی یہیں ہوں ، یہیں کہیں تمہارے اندر،تمہارے آس پاس ‘‘۔
کتنے دکھ کی بات ہے کہ میں یہ رازاپنی زندگی کے دو عزیز ترین لوگوں یعنی میرے پتی کرن اور بیٹے دیو ورت کے ساتھ بھی نہیں بانٹ سکتی۔ یہ بات ہر وقت مجھے اندر ہی اندر ڈستی رہتی ہے۔ اکثر سوچتی ہوں کہ کرن کوسب کچھ بتا دوں لیکن پھر ایک ڈرسا لگنے لگتا ہے ۔ کتنا عجیب ہے نا۔۔۔۔ آپس میں وشواس کا اتنا مضبوط رشتہ ہونے کے باوجو د بھی ڈر ؟ ہمارے آپسی پیار محبت اور گہرے وشواس پرمبنی رشتوں کی یہ عمارت کیاریت کے ذروں پر کھڑی ہے کہ میرے ماضی سے کوئی جھونکا آکر اسے ملیامیٹ کردے؟
کرن جیسا ہم سفرہونا میری سب سے بڑی خوش قسمتی ہے۔ ان کے دل میں ہر کسی کے لیے بس پیار ہی پیار اور اپنا پن بھراپڑاہے۔لیکن دیو ورت کے لیے ان کے دل میں اس قدر محبت کا جذبہ دیکھ کر مجھے کبھی کبھی ڈر لگتا ہے۔ مجھے ڈر ہے کہ خدانخواستہ کسی وجہ سے اگر ان کے رشتے میں کوئی دراڑ پڑ گئی تو کیا ہوگا؟
دیو ورت بھی انھیں اسی قدر پیار کرتا ہے جتنا وہ ۔ چھوٹے سے دیوورت کے ساتھ کھیلنے اور اس کی دلآویز کلکاریاں سننے کے لیے کرن کیا کیا الٹی سیدھی حرکتیں کرتے رہتے تھے۔اب بھی یاد آتا ہے تو بے ساختہ ہنسی چھوٹ جاتی ہے۔
ایک بارایسا ہوا کہ کرن نے مجھے آدھی رات کو جگایا اور بڑے سنجیدہ ہو کر کہا کہ ہمارے آپسی رشتے کو لے کر انہیں کوئی بہت ضروری بات کرنی ہے۔ ان کے ہنس مکھ چہرے پر اس قدر سنجیدگی نے مجھے ڈرا ہی دیاتھا۔ من کی مٹی میں برسوں سے گڑا بُت ا چانک سر ابھارنے لگاتھا۔ میں نے سہم کر کہا، ’بولئے… کیا بات ہے؟‘ انھوں نے مسکراتے ہوئے مجھے اپنی بانہوں میں سمیٹ لیا اور بولے، ’ ’میں تمہارا شکریہ ادا کرنا چاہتا تھا۔تم خوشیاں بانٹنے والی ایک دیوی ہو جس نے مجھے دیو ورت سا پیارا تحفہ دیا ہے۔۔۔شکریہ‘‘ کرن اپنے سیدھے سوبھاؤ اور خوش مزاجی کی وجہ سے مجھے پتی سے زیادہ اپنے دوست لگتے ہیں۔ ان کے ساتھ رہتے ہوئے میرے من کی کتنی ہی الجھنیں اپنے آپ سلجھ گئیں اور کتنے داغ دھل کر صاف ہوگئے۔
کرن کی بڑی خواہش تھی کہ ہمارا ایک اور بچہ ہو جو دیو ورت کے ساتھ کھیلے۔ دیو ورت کے چھ سات سال بعد بھی جب ہماری کوئی اور اولاد نہ ہوئی تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ ہم دونوں کسی ڈاکٹر سے معائنہ کروا لیں۔ میں کانپ اُٹھی تھی۔مجھے معلوم تھا کا معائنے کا رزلٹ کیا آئے گا۔ میں نے کہا ، “جب ہمارا ایک بچہ ہے تو بھلا ہمیں کیا پڑی ہے ڈاکٹروں سے معائنے کراتے پھریں”۔ خیر بات کسی طرح ٹل گئی اور اس کے بعد کرن بھی ٹیسٹ ویسٹ کا خیال بھول بھال گئے ۔ پھرکئی سال بیت گئے۔ ہماری زندگی کسی خوب صورت گیت کی طرح بہت پرسکون اور خوشگوار گزر رہی تھی ۔
پھر اچانک ایک دن کرن، چیتن کو گھرلے آئے۔ وہی سیاہ راز جو میرے اندر کہیں مدفون تھا ، یک بارگی کسی وحشی کی طرح میرے سامنے آ کھڑا ہوا۔
کرن نے اپنے مخصوص مزاحیہ انداز میں چیتن کو جموں کی نشانی کہتے ہوئے مجھ سے متعارف کروایا۔ کچھ لمحوں کے لئے تو ماضی کے کسی بھوت نے مجھے پوری طرح اپنی گرفت میں لے لیاتھا۔’’میڈم جی۔۔۔۔ اب انہیں اندر بھی بلاؤ گی یا یوں ہی دروازے پر کھڑی ہمارا راستہ بند کیے رکھو گی؟” کرن کی آواز پرچونک کر میں اس بھوت کے چنگل سے باہر آگئی۔
چیتن نے مجھے ہاتھ جوڑ کر نمستے کیا۔ وہ غالباََ یہی ظاہر کرنا چاہتا تھا کہ ہم ایک دوسرے کے لیے اجنبی ہیں ۔ لیکن میں ان چند لمحوں میں ہی اپنے من کے ساتھ ایک عہدکر چکی تھی۔ میں نے بڑے سلیقے اور رکھ رکھاؤ سے اسے پوچھا،’’ چیتن جی ،آپ یہاں کیسے؟
کرن نے مسکرا کرکچھ حیرت سے پوچھا،’’تو آپ دونوں ایک دوسرے کو جانتے ہو؟‘‘
’’ہاں ہم ایک ہی محلے میں تو رہتے تھے‘‘ میں نے ایک طرح کی گرم جوشی دکھاتے ہوئے کہا ۔ لیکن چیتن نے اس میں جھوٹ کا فالودہ ملاتے ہوئے کرن سے کہا، ’’لیکن آپ کی شادی سے کچھ عرصہ پہلے ہم لوگ وہاں سے شفٹ ہو گئے تھے‘‘۔
کرن نے قہقہ لگا کر کہا،’’ گڈ گڈ…….تب تو میں نے اچھا ہی کیا کہ انھیں اپنے ساتھ گھر لیتاآیا‘‘۔
چیتن کا آنامیری زندگی کی شانت جھیل میں پتھر پھینک کر کھلبلی مچانے جیسا تھا۔ خیرکھلبلی ہوئی ضرور لیکن بس سطح پر؛ جب کہ یہ جھیل تو خاصی گہری ہے۔
وہ بھی کیا لمحے تھے جب اس تاریک راز نے جنم لیاتھا جس کا بوجھ میں آج تک اپنے باطن میں ڈھو رہی ہوں۔یہ بھی قدرت کا کیا ایک کھیل ہی ہے کہ انہی پلوں کی دین وہ خوشی بھی ہے جومیری اور کرن دونوں کی زندگی کو بامقصد اوربامعنی بنا تی ہے۔
میری زندگی میں ایک بیس برس پرانا، بند پڑا دریچہ کھل گیا ہے۔ گھر والوں کی طرف سے کرن کے ساتھ میرا رشتہ پکا کیا جاچکاتھا۔ شادی کی تاریخ بھی طے ہو چکی تھی۔ لیکن میں من ہی من میں کسی اور کی ہو چکی تھی۔ ماں کو میں نے اپنے دل کے فیصلے سے آگاہ کیا تو وہ بڑی مشکل میں پڑ گئیں۔ شادی کی تیاریاں زورو شوپر تھیں اس کے باوجود ماں نے باپو سے بات کی۔ باپو نے اسے میرابچپنا اور ذہنی فتور کہہ کر ماں کو ہی باتیں سنا ڈالی تھیں اور میرے لیے سندیسہ بھیجاکہ اگر اس طرح میں نے سماج میں ان کی ناک کٹوائی تو ان سے برا کوئی نہ ہو گا۔ میں ٹوٹ چکی تھی۔ زندگی کا میرے لئے کوئی مقصد نہیں رہ گیاتھا۔ میری خوشی کی کسی کو پرواہ تھی بھی نہیں۔ سب مجھے بیاہ دینے کی اپنی ذمے داری نبھا کر سماج میں سرخرو ہونا چاہتے تھے۔ دکھ اور غصے نے میرا اندر جلا کر رکھ دیا۔ میرے اندرباغیانہ چنگاریاں بھڑک اٹھیں اور ایک طرح کے انتقامی جذبے نے مجھے اپنے حصار میں لے لیا۔ میری خوشیوں کو دبوچ کر،جب سب نے اپنے دل کی کر لی ہے تو میں نے بھی فیصلہ کرلیاکہ میں بھی ایک بار اپنے من کی کر ہی گزروں گی۔ دیکھوں تو مجھے کون روکتا ہے ؟ کسی جلتے انگارے کی طرح میں باہر نکلی اور چیتن کی بانہوں میں پہنچ کر اپنا سب کچھ اسے سونپ دیا۔
اب میں اُن لمحوں سے متعلق سوچتی ہوں تو مجھے اندازہ ہوتا ہے کہ چیتن اس سب کے لئے تیار نہیں تھا۔ میرے ساتھ جسمانی تعلق کی خواہش سے زیادہ اس کے دل میں حیرت تھی۔ لیکن پھراس کے بعد جو ہوا وہ ایک تیز آندھی کی طرح ہوا اور پھر، سب کچھ پہلے جیسا شانت ہو گیا۔ اس کے بعد میرے دل میں ایک خالی پن سا رہ گیا۔ نہ کچھ ملنے کی خوشی نہ کچھ کھونے کا غم۔ جو کچھ میں نے کیا اس کا مجھے کوئی پچھتاوا نہیں تھا۔ میرے دل میں چیتن کے لئے جو چاہت مچلتی رہتی تھی، اس آندھی کے ساتھ وہ بھی ہوا ہو گئی۔ اگرچہ چیتن کے لئے اب میرے دل میں کوئی چاہت نہیں بچی تھی لیکن اس سے کوئی نفرت بھی نہیں تھی۔ اب میں پچھلا سب کچھ پیچھے چھوڑ کر آگے بڑھ رہی تھی۔ وہ دن ہے اور آج کا دن، کرن کے علاوہ کبھی میرے دل میں کسی اور کاخیال تک نہیں آیا۔
اب چیتن کبھی کبھار ہمارے گھر آنے لگاتھا۔ پھر کرن کا شطرنج کھیلنے کا پراناشوق جاگ اٹھا اور شطرنج کے بورڈ اور مہروں سے دھول مٹی جھاڑ کر انہوں نے ہر سنیچر کو چیتن کے ساتھ بازی لگانا معمول بنا لیا۔ رات گئے تک شطرنج کھیلی جاتی۔ پھرچیتن شام کا کھانا بھی ہمارے ہاں ہی کھاکر جانے لگا۔مجھے لگتا ہے ، کرن چیتن کو کافی پسند کرتے ہیں، اس کے ساتھ ہنستے کھیلتے اور مذاق کرتے رہتے ہیں۔ شائد اس لئے بھی وہ چیتن کے ساتھ لگاؤ رکھتے ہیں کہ وہ میرے مائکے جموں سے ہے۔
میں دل سے یہ چاہتی تھی کہ چیتن ہمارے گھر نہ ہی آئے تو اچھا ہے۔لیکن اس کے آنے سے مجھے کوئی زیادہ پریشانی بھی نہیں تھی۔ پریشانی کی اصل وجہ تو کچھ اور ہے۔ دراصل میری پریشانی اس وقت بڑھ جاتی ہے جب میں چیتن اور دیو ورت کو ایک ساتھ بیٹھے دیکھتی ہوں۔ ہوسکتا ہے یہ میرا وہم ہی ہو لیکن مجھے لگتا ہے کہ اگر کوئی بغور دیکھے تو ان کی چہروں میں مماثلت بآسانی ڈھونڈھ سکتا ہے، خاص کر دونوں کی آنکھیں تو بالکل ایک جیسی ہیں۔ دونوں کی آنکھوں کے کونوں پرجھریاں سی ہیں جس طرح چینیوں کی آنکھوں پر ہوتی ہیں، لیکن چیتن کی عینک کے پیچھے وہ نظر نہیں آتیں۔
حالانکہ چیتن نے کبھی مجھ پر ظاہر تو نہیں ہونے دیا لیکن مجھے پورا یقین ہے کہ وہ بھی سمجھ چکا ہے کہ دیو ورت اسی کا بیٹا ہے۔ پتہ نہیں کیوں، دیو ورت کو چیتن ایک آنکھ نہیں بھاتا۔
اکثر ایسا ہواہے کہ پانی کا گلاس یا کوئی اور چیز دیتے ہوئے چیتن کی انگلیوں سے میری انگلیاں مس ہو جاتیں۔ شروع شروع میں تومَیں نے اس طرف کوئی دھیان نہیں دیا لیکن جب ایسا کچھ زیادہ ہی ہونے لگا تو مجھے شک ہوا کہ چیتن جان بوجھ کرایسا کرتا ہے۔ اس کی حرکت مجھے بالکل اچھی نہیں لگی۔ پھر ایک دن جب چیتن ہمارے گھر آیا تو وہ نہ ہی اس کے آنے کادن تھا اور نہ ہی وقت ۔ گھر میں نہ کرن تھا ،نہ دیو ورت۔ میں نے اسے بٹھایا اورپانی پیش کیا۔ اس کی انگلیاں پھر میری انگلیوں سے مس ہوگئیں۔ میں نے اسے پوچھا کہ وہ اس وقت کس لئے آیا ہے؟ اس نے کہا،’’آج دفتر سے جلدی فارغ ہو گیا تھا سوچا گپ شپ ماریں گے اس لیے ادھر چلا آیا‘‘۔
میں نے اپنے اندر کی سختی پرنرمی کا غلاف چڑھا لیا اورچیتن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسے صلاح دی،’’ آپ تبھی آیا کریں جب کرن گھر میں موجود ہوں۔ خیر آپ بیٹھیں میں آپ کے لئے چائے بنا لاتی ہوں اور ہاں جب تک کرن نہیں آتے آپ آرام سے بیٹھیں اور ٹی وی دیکھیں‘‘۔
اس کے بعد چیتن کبھی بے وقت ہمارے گھر نہیں آیا۔
دیو ورت اور چیتن کے رشتے کو لے کر میں کسی غلط فہمی کا شکار نہیں ۔ دیو ورت کی پیدائش کی وجہ چاہے چیتن رہا ہو یا کرن لیکن اس کے پاپا صرف اور صرف کرن ہیں۔ یہی سچائی ہے۔ میں کرن کے سوائے کسی اور کواپنے بیٹے کے پتا کے روپ میں دیکھ ہی نہیں سکتی۔ ہاں، میں اتنا ضرور چاہتی ہوں کہ میرا بیٹا دیو ورت،چیتن سے اس قدر نفرت نہ کرے۔ اس کاچیتن کے تئیں ایسارویہ مجھے بالکل اچھا نہیں لگتا۔
چوتھا رخ ۔ کرن
چیتن جب پہلی بار میرے ساتھ گھر آیا تو پاروتی کا رویہ مجھے کچھ عجیب سا لگا۔ میرے ساتھ جب بھی کوئی مہمان گھر میں آتا، پاروتی بڑے خلوص اور گرم جوشی سے اس کا استقبال کرتی۔ اس کے اعلیٰ اخلاق و اطوار کا میں ہمیشہ قائل رہا ہوں۔ لیکن چیتن کا سواگت کرتے ہوئے اس کی وہ مہمان نوازی اور گرم جوشی کہیں غائب تھی۔ مجھے اور بھی حیرت اس لئے ہوئی کہ چیتن کا تعلق پاروتی کے اپنے شہر جموں سے تھا ۔۔۔ وہ جموں جس کی تعریفیں کرتے کرتے پاروتی کبھی نہیں تھکتی۔کتنی بار میں اور دیو ورت اس کی اس عادت کا مذاق اڑاتے رہتے ہیں ۔ اسی جموں سے آنے والے مہمان کا سواگت ا تنی سرد مہری سے ؟؟؟
مجھے لگا کہ برسوں سے میرے من میں بیٹھے سوالوں کا ، ہو نہ ہو،کچھ نہ کچھ تعلق چیتن سے ضرور ہے۔ وہ سوال جنہیں ہمیشہ میں نے اپنے اندر دفنا دینے کی کوشش کی ہے۔
یہ کوئی دس بارہ سال پرانی بات ہو گی۔ دیو ورت کے بعدجب کافی دیر تک ہمارا کوئی دوسرا بچہ نہیں ہوا تو میں نے پاروتی کو صلاح دی کہ ہمیں میڈیکل چیک اپ کروالینا چاہیئے، کہیں پہلے بچے کے بعد کوئی نقص یا بیماری نہ ہو گئی ہو۔ پاروتی نے میری یہ صلاح جھٹ سے خارج کردی تھی۔ اس نے اپنی نرم طبیعت کے بالکل الٹ رویہ دکھاتے ہوئے جس طر ح سرے سے ہی چیک اپ سے منع کردیا تھا اس پر مجھے بڑی حیرانی ہوئی۔ پھر بھی میں نے پاروتی کو بتائے بناڈاکٹر سے اپنا معائنہ کرواہی لیا۔ ٹیسٹ کا جو نتیجہ آیا وہ بڑا حیران کن تھا۔ ڈاکٹر کے مطابق نہ میں باپ بننے کے قابل تھا اور نہ کسی علاج کی توقع تھی۔ یہ کوئی پیدائشی جنیاتی بیماری تھی جس کا کوئی بھی علاج موجود نہیں تھا۔
میرے من میں سوالوں کے طوفان کا برپا ہونا قدرتی تھا۔لیکن میں پاروتی کو اتنی اچھی طرح سے جانتا اور سمجھتا تھا کہ اس پر شک کرنا اپنے اوپر شک کرنے جیسا تھا۔ پاروتی کا اخلاق، اس کی خو خصلت،عزت نفس، خلوص اور میرے لئے اس کی خود سپردگی مجھے اس کے بارے میں کچھ بھی غیراخلاقی سوچنے کی اجازت نہیں د یتے ۔ اگر پاروتی نے کوئی بات مجھے بتانا مناسب نہیں سمجھا تو اس کا بتانا واقعی ضروری نہیں ہوگا۔
دیو ورت ممکن ہے میرا خون نہ ہو لیکن وہ بیٹا میرا ہی ہے۔کیا بے اولاد جوڑے بچے گود لے کر نہیں پالتے اور ان پر اپنا سب کچھ لٹا نہیں دیتے؟ کچھ بھی ہو دیو ورت نے پاروتی کی کوکھ سے جنم لیا ۔۔۔ وہ پاروتی جسے میں دنیا میں سب زیادہ چاہتا ہوں۔
جس طرح چیتن کی آمد پر پاروتی نے انجانا سا رخ اپنالیاتھا اس سے جیسے میری تیسری آنکھ کھل گئی جو سامنے رونما ہونے والے واقعات کے پیچھے بھی کچھ دیکھ لیتی ہے۔ میری اسی تیسری آنکھ نے دیکھا کہ پاروتی کو چیتن کالگاتار ہمارے گھر آنا کچھ زیادہ نہیں بھاتا ۔ مجھے یہ سمجھنے میں زیادہ دیر نہیں لگی کہ دیو ورت ،چیتن کی ہی اولاد ہے۔ چیتن کے دل میں پاروتی کے لئے پیار اور پاروتی کی طرف سے مکمل بے حسی بھی میری نظروں سے پوشیدہ نہیں۔
اب پاروتی سمجھتی ہے کہ اس نے جو راز اپنے سینے میں دفن کررکھا ہے، وہ اس کے سوا کسی کو نہیں معلوم ۔ حالانکہ چیتن سمجھ چکا ہے کہ دیو ورت اسی کا بیٹا ہے۔ چیتن سوچتا ہے کہ مجھے اس بات کی کوئی خبر نہیں۔ اور میں یہ سوچتا ہوں کہ شائد ہم سب کی سوچ اپنی اپنی جگہ صحیح ہے اور ہم سب کے لیے بہتر بھی، خاص کر پاروتی کے لیے۔ مجھے یہ بھی پتہ ہے کہ پاروتی جیسی انسان کے لیے ایک راز کا یہ بوجھ زندگی بھر ڈھوتے جانا کتنا کٹھن اور عذاب دہ ہے۔لیکن خدانخواستہ اس کی اپنی یا کسی اور کی غلطی کے باعث اگر کبھی یہ بھید میرے سامنے کھل گیا ، تو وہ جیتے جی مرجائے گی۔ پھر میں اسے چاہے کتنا بھی یقین دلاؤں کہ اس کے ماضی سے اس کے حال پر کوئی اثر نہیں پڑنے والا، وہ کبھی نہیں مانے گی ۔ میں کبھی بھی،کسی قیمت پر بھی، یہ نہیں چاہوں گا کہ پاروتی اپنے تئیں کسی طرح کی ذلت محسوس کرے ۔ چیتن کے ہمارے گھر میں آنے سے بھی مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا کیوں کہ میں جانتا ہوں پاروتی کے دل میں اس کے لئے کوئی جگہ نہیں۔اور اگر بے چارے چیتن کو ہمارے گھر میں آکر کوئی خوشی حاصل ہوتی ہے تو ہم کیوں اسے اس سکھ سے محروم کریں۔ ہاں اگر کبھی وہ خود یہ فیصلہ کر لے کہ اب اسے ہمارے گھر نہیں آنا چاہیئے تو یہ اس کی مرضی۔۔۔۔