Laaltain

خواب (عبدالسلام العجیلی)

[block­quote style=“3”] عبدالسلام العجیلی 1918ء میں شام کے مقام رقّہ میں پیدا ہوے اور وہیں طبیب کے طور پر کام کرتے ہیں۔ لکھنے کے علاوہ انھوں نے سیاست میں بھی حصہ لیا ہے اور کئی وزارتی عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں، جن میں وزیر ثقافت کا عہدہ بھی شامل ہے۔ عطا صدیقی (پورا نام […]

آگ (تخلیق: لنڈا ہیگن، ترجمہ: نسیم سید)

زندگی کے لئے ایک عورت کو بس سانس لینا ہی کافی نہیں اس کو لازم ہے وہ کوہساروں کی آواز سنتی ہو نیلے افق کی حسیں، بے کراں وسعتوں کو اسے علم ہو وہ زن باد شب جانتی ہو کہ کیسے طرح دے کے سب گھٹنائیوں کو نکل جائے کیسے وجود اپنا خود میں سمیٹے […]

اُس کے قدموں کی مدھم آہٹ (ڈم بڈزو مارےچیرا)

[block­quote style=“3”] ناول نگار، افسانہ نویس اور شاعر ڈم بڈزو مارے چیرا (Dambud­zo Marechera) کا تعلق زمبابوے سے تھا۔ ان کے ادبی ورثے میں افسانوں کا ایک مجموعہ، دو ناول (جن میں سے ایک ان کی وفات کے بعد شائع ہوا)، نظم، نثر اور ڈراموں کا ایک مجموعہ اور شاعری کی ایک کتاب (یہ کتاب […]

دنیا بھر کا حسین ترین ڈوب مرنے والا (گابریئل گارسیا مارکیز)

[block­quote style=“3”] عطا صدیقی کے تراجم لالٹین پر اجمل کمال کے تعاون سے پیش کیے جا رہے ہیں۔ اجمل کمال کراچی پاکستان سے شائع ہونے والے سہ ماہی ادبی جریدے “آج” کے بانی اور مدیر ہیں۔ آج کا پہلا شمارہ 1981 میں شائع ہو تھا۔ آج نے اردو قارئین کو تراجم کے ذریعے دیگر زبانوں […]

کنجڑا، قصائی

[block­quote style=“3”] یہ افسانہ اس سے قبل سہ ماہی تسطیر کے اگست 2017 کے ایڈیشن میں بھی شائع ہو چکا ہے۔ [/blockquote] تحریر: انور سہیل انتخاب و ترجمہ: عامر صدیقی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “کنجڑے قصائیوں کو تمیز کہاں۔۔۔ تمیز کا ٹھیکہ تمہارے سیدوں نے جو لے رکھا ہے۔” محمد لطیف قریشی عرف ایم ایل قریشی بہت دھیرے […]

کائنات کی ساخت (تحریر: کارلو رویلی، ترجمہ فصی ملک، زاہد امروز)

تیسرا سبق: کائنات کی ساخت کارلو رویلی ترجمہ: زاہد امروز، فصی ملک اسی سلسلے کے مزید اسباق پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔ بیسویں صدی کی ابتدائی دہائیوں میں آئن سٹائن نے اپنی تحقیق کے ذریعے واضح کیا کہ زمان و مکاں کیسے کام کرتے ہیں جب کہ نیل بوہر(Neil Bohr) اوراس کے شاگردوں نے مادہ […]

ایک زندگی، چارپہلو

میرا آج صبح سے ہی موڈ خراب ہے،اوریہی وجہ ہے کہ میں اب تک گھر بھی نہیں گیا ۔حالانکہ باہراب مجھے کرنے کو کچھ بھی نہیں، لیکن گھرجانے کا بالکل بھی من نہیں کررہا۔