Categories
فکشن

اُس کے قدموں کی مدھم آہٹ (ڈم بڈزو مارےچیرا)

[blockquote style=”3″]

ناول نگار، افسانہ نویس اور شاعر ڈم بڈزو مارے چیرا (Dambudzo Marechera) کا تعلق زمبابوے سے تھا۔ ان کے ادبی ورثے میں افسانوں کا ایک مجموعہ، دو ناول (جن میں سے ایک ان کی وفات کے بعد شائع ہوا)، نظم، نثر اور ڈراموں کا ایک مجموعہ اور شاعری کی ایک کتاب (یہ کتاب بھی ان کی وفات کے بعد شائع ہوئی) شامل ہیں۔ ان کی کہانی The Slow sound of His Feet کا ترجمہ عطا صدیقی نے کیا ہے جو آج کے شمارہ نمبر 9 میں شامل ہے۔

عطا صدیقی (پورا نام عطاء الرحمٰن صدیقی) 13 نومبر 1931 میں لکھنؤ میں پیدا ہوے، تقسیم کے بعد کراچی منتقل ہوے۔ کراچی یونیورسٹی سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد بندر روڈ پر واقع ایک سکول میں پڑھانا شروع کیا اور وہیں سے ہیڈماسٹر کے طور پر ریٹائر ہوے۔ ایک پڑھنے والے اور ترجمہ کار کے طور پر ان کی ادب سے عمربھر گہری وابستگی رہی۔ ان کے کیے ہوے بہت سی عالمی کہانیوں کے ترجمے آج کراچی اور دیگر رسالوں میں شائع ہوتے رہے۔ انھوں نے امرتا پریتم کی کتاب ’’ایک تھی سارا‘‘ کا ہندی سے ترجمہ کیا۔ عطا صدیقی کی ترجمہ کی ہوئی کہانیوں کا مجموعہ زیر ترتیب ہے۔ 13 اگست 2018 کو کراچی میں وفات پائی۔

عطا صدیقی کے تراجم لالٹین پر اجمل کمال کے تعاون سے پیش کیے جا رہے ہیں۔ اجمل کمال کراچی پاکستان سے شائع ہونے والے سہ ماہی ادبی جریدے “آج” کے بانی اور مدیر ہیں۔ آج کا پہلا شمارہ 1981 میں شائع ہو تھا۔ آج نے اردو قارئین کو تراجم کے ذریعے دیگر زبانوں کے معیاری ادب سے متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ اردو میں لکھنے والے ادیبوں اور شاعروں کے کام سے بھی متعارف کرایا۔ سہ ماہی آج کو سبسکرائب کرنے اور آج میں شائع ہونے والی تخلیقات کو کتابی صورت میں خریدنے کے لیے سٹی پریس بک شاپ یا عامر انصاری سے رابطہ کیا جا سکتا ہے:
عامر انصاری: 03003451649

[/blockquote]
تحریر: ڈم بڈزو مارے چیرا (4 جون 1952 تا 18 اگست 1987)
انگریزی سے ترجمہ: عطا صدیقی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس کے قدموں کی مدھم آہٹ
لیکن جو کسی دن میں یکسوئی سے اس گوشے میں بیٹھ کر کان لگاؤں
تو شاید میں اس جانب اُس کے قدموں کی مدّھم آہٹ پاؤں
جے ڈی سی پےلو

گزشتہ شب میں نے خواب دیکھا کہ پروشیا کے سرجن جاہن فریڈرخ ڈائی فن باخ نے تشخیص کر دیا کہ میں بولنے میں اٹکتا اس لیے ہوں کہ میری زبان بہت زیادہ لمبی ہے اور اس نے نوک اور کناروں سے ٹکڑے کاٹ چھانٹ کر اس دراز عضو کو متناسب کر دیا۔ والدہ نے یہ بتانے کے لیے مجھے جگایا کہ والد کو چورنگی پر کسی تیزرفتار کار نے ٹکر مار دی۔ میں ان کی شناخت کے لیے مردہ خانے گیا۔ اُن لوگوں نے ان کی کھوپڑی دوبارہ دھڑسے ملا کر سی رکھی تھی اور ان کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں۔ میں نے ان کو بند کرنے کی کوشش کی مگر وہ کسی جتن بند ہی نہیں ہوئیں۔ اور پھر ہم نے ان کو اسی طرح دفن کر دیا کہ ان کی آنکھیں اوپر کی جانب تک رہی تھیں۔

جس وقت ہم نے ان کو دفنایا، بارش ہو رہی تھی۔

بارش ہو رہی تھی جس وقت میری آنکھ کھلی، اور میری نگاہیں انھیں تلاش کرنے لگیں۔ ان کا پائپ مینٹل پیس پر اسی جگہ موجود تھا جہاں رکھا ہوتا تھا۔ جس وقت میری نظر اس پر پڑی، بارش بہت تیز ہو گئی اور ٹین کی اس چھت پر جسے ان کی یاد کہیے، تڑاتڑ گرنے لگی۔ ان کی چرمی جلد والی کتابیں بک شیلف پر گم سُم اور سیدھی تنی کھڑی تھیں، جن میں سے ایک اولیور بلڈشٹائن کی لکھی ’’رہنمائے لکنت‘‘ تھی۔ وہیں ایک لوح بھی تھی جو اس اصل کی ہوبہو نقل تھی جس پر صدیوں قبلِ مسیح لکنت کی اذیت سے نجات پانے کی دلی دعا خطِ پیکانی میں تحریر تھی۔ انھوں نے مجھے بتایا تھا کہ موسیٰ، ڈیموستھینیز اور ارسطو کو بھی لکنت کی شکایت تھی اور یہ کہ شہزادہ باٹس نے ہاتف کی ہدایت پر شمالی افریقیوں پر فتح حاصل کر کے اپنی لکنت کو زیر کیا تھا، اور یہ بھی کہ ڈیموستھینیز نے کنکر منھ میں لے کر سمندر کے شور سے زیادہ پاٹ دار آوازیں نکال کر خود کو بغیر اٹکے بولنا سکھایا تھا۔

جب میں بستر پر دراز ہوا اور میں نے اپنی آنکھیں موندیں، بارش جاری تھی اور میں ان کو بھیگی قبر میں پاؤں پسارے اور اپنے نچلے جبڑے کو حرکت دینے کی کوشش کرتے دیکھ سکتا تھا۔ جب میری آنکھ کھلی تو میں خود اپنے وجود میں ان کو محسوس کر سکتا تھا۔ وہ کچھ بولنے کی کوشش کر رہے تھے، مگر میں بول نہیں سکتا تھا۔ ارسطو نے میری زبان کے بارے میں زیرلب کچھ کہا کہ غیرمعمولی موٹی اور سخت ہے۔ بقراط نے تب زبردستی میرا منھ کھولا اورآبلے ڈالنے والی اشیا میری زبان پر ڈالیں تاکہ فاسد مادّہ بہہ نکلے۔ کیلس نے سر ہلایا اور بولا، زبان کو بھرپورغرغرہ اور مالش درکار ہے۔ مگر جالینوس نے، وہ پیچھے کیسے رہ جاتا، بتایا کہ میری زبان محض بہت زیادہ سرد اور نم ہے۔ اور فرانسس بیکن نے تندوتیز شراب کا ایک جام تجویز کیا۔

شراب خانے کی طرف جاتے ہوے میں نے ٹاؤن شپ کے پھاٹک پر فوجی گاڑیوں کی ایک لمبی قطار دیکھی۔ وہ سب کے سب گورے سپاہی تھے۔ ان میں سے ایک کودا اور اپنی بندوق میرے جسم میں چبھاتے ہوے میرے شناختی کاغذات دیکھنے کو مانگے۔ میرے پاس فقط یونیورسٹی کا شناختی کارڈ تھا۔ اس کی پڑتال میں اس نے اتنی دیر لگائی کہ میں حیران ہوا کہ نہ جانے اس میں کیا خامی نکل آئی۔

’’پسینے کیوں چھوٹ رہے ہیں تمھیں؟‘‘ اس نے پوچھا۔
میں نے جیب سے کاغذ اور پنسل نکالی، کچھ لکھا اور اسے دکھایا۔
’’گونگے ہو، ایں؟‘‘
میں نے اقرار میں سر ہلایا۔
’’اور سمجھتے ہو میں بھی بس گونگا ہی ہوں، ایں؟‘‘
میں نے انکار میں اپنا سر ہلایا، لیکن اس سے پہلے کہ میں سر کی جنبش کو روکتا، اس نے بڑھ کر میرے جبڑے پر ایک تھپڑ دے مارا۔ بہتے ہوے خون کو پونچھنے کے لیے میں نے اپنا ہاتھ اٹھایا ہی تھا کہ اس کو راہ ہی میں روک کر اس نے مجھے دوبارہ مارا۔ میرے مصنوعی دانت چٹخ گئے اور میں ڈرا کہ کہیں کرچیاں نگل نہ جاؤں، سو اپنا ہاتھ منھ تک لائے بغیر میں نے ان کو تھوک دیا۔
’’دانت بھی نقلی،ایں؟‘‘
میری آنکھیں جل رہی تھیں۔ میں اس کو صاف طور سے دیکھ بھی نہیں سکتا تھا، مگر میں نے اقرار میں سر کو ہلایا۔
’’تو شناخت بھی نقلی؟‘‘
بہت شدت سے جی چاہا کہ اپنے جبڑوں کو حرکت دوں اور اپنی زبان کو مجبور کروں کہ وہ سب کچھ دُہرا دے جو میرا شناختی کارڈ اس گورے پر ظاہر کر چکا تھا، لیکن میں صرف بےمعنی غوں غوں ہی کر پایا۔ میں نے اس کاغذ اور پنسل کی طرف اشارہ کیا جو زمین پر گر چکی تھی۔
اس نے سر ہلا دیا۔
لیکن جوں ہی میں انھیں اٹھانے کے لیے جھکا، اس نے اچانک اپنا گھٹنا یوں دے مارا کہ میری گردن تقریباً توڑ ڈالی۔
’’توپتھر ڈھونڈ رہے تھے تم، ایں؟‘‘

میں نے انکار میں سر ہلایا جس سے اتنی شدید تکلیف ہوئی کہ میں سر کا ہلنا روک نہیں سکا۔ اپنے پیچھے سے مجھے دوڑتے قدموں کی دھمک اور اپنی والدہ اور بہن کی چیخ پکارسنائی دی۔ پھر بندوق دغنے کا زوردار دھماکا ہوا۔ اَدھ رستے میں والدہ کو گولی لگی، اور ان کا جسم اس کی بُودار ہوا سے ٹھٹکا، اور ان کی نظریں سامنے گری رہیں۔ ایک سیکنڈ بعد ان کے اندر جیسے کچھ ٹوٹا اور وہ تیورا کر ڈھیر ہو گئیں۔

میری بہن کا میرے چہرے کو چھونے کے لیے بڑھا ہوا ہاتھ خود اس کے اپنے کھلے ہوے منھ کی سمت لپکا، اور میں دیکھ سکتا تھا جیسے وہ میرے منھ سے چیخنے کی خاطر اپنے صوتی عضلات پر زور ڈل رہی ہو۔

والدہ نے ایمبولینس میں دم توڑ دیا۔

جب میں نے ان کو دفنایا، سورج اپنی بےزبانی سے چنگھاڑ رہا تھا۔ اس کی آب دار چمک کے گرد گرم اور سرد ہالے تھے۔ میری بہن اور میں، ہم دونوں واپس گھرلوٹنے کے لیے چارمیل پیدل چلتے صرف افریقیوں کے ہسپتال، صرف یورپیوں کے ہسپتال، برٹش ساؤتھ افریقہ پولیس کیمپ، پوسٹ آفس اور ریلوے اسٹیشن کے پاس سے گزرتے اور میل بھر چوڑے سبزہ زار کو پار کرتے، کالوں کی ٹاؤن شپ میں پہنچے۔

کمرہ اتنا خاموش تھا کہ میں محسوس کر سکتا تھا کہ وہ مجھ سے ہم کلام ہونے کے لیے اپنی زبان ہلانے اور جبڑے چلانے کی کوشش کر رہا ہے۔ میں کمرے کی کڑیوں کو گھور رہا تھا۔ میں اپنی بہن کو اپنے کمرے میں، جو میرے کمرے کے ساتھ ہی تھا، بےچینی سے اِدھر اُدھر ٹہلتے ہوے سن سکتا تھا۔ میں خود ان کو اپنے وجود میں شدت سے محسوس کر سکتا تھا۔ میرے لوہے کے پلنگ، میری ڈیسک، میری کتابوں اور میرے ان کینوسوں کے سوا جن پر میں ایک مدت سے اپنے اندر کی خاموش مگر بےچین آواز کے احساس کو پینٹ کرنے کی کوشش کرتا رہتا تھا، میرے کمرے میں کچھ نہیں تھا۔ میں نے جلتے ہوے آنسوؤں کو روکا اور ان کو اپنے وجود میں اتنی شدت سے محسوس کیا کہ میں برداشت نہ کر سکا۔ لیکن دروازہ رحم دلانہ وا ہوا، اور وہ ان کے ہاتھ کو سہارا دیے انھیں اندرلائے۔ وہ بےداغ سفید پیرہن میں ملبوس تھیں۔ ایک ہلکی نیلگوں روشنی ان میں ظہور کر رہی تھی۔ ان کے چھوٹے چھوٹے پیروں میں چمکدار سیف چمڑے کے سینڈل تھے۔ ان کے گوشت پوست سے عاری چہرے، آنکھوں کی جگہ خالی گڑھوں، نکلی ہوئی کھیسوں (ان کا ایک دانت تھوڑا جھڑ گیا تھا) اور رخسار کی ابھری ہڈیوں اور بےدردی سے گم ناک، ان سب کے مقناطیسی سحر سے میری نظریں ان پر جم کر رہ گئیں۔ یہاں تک کہ یوں لگا جیسے میری پھٹی پھٹی آنکھیں ان کی بےلوچ اور بےحس موجودگی میں دفعتاً جذب ہو گئی ہوں۔

وہ سیاہ لباس میں تھے۔ والدہ کا بے گوشت پوست ہاتھ ان کی بے گوشت پوست انگلیوں میں ساکت پڑا تھا۔ ان کا سر، جو دوبارہ ٹھیک طرح سے سیا نہیں گیا تھا، ایک جانب تشویشناک حد تک ڈھلکا ہوا تھا، اور یوں لگتا تھا جیسے اب گرا کہ تب گرا۔ ان کی کھوپڑی میں پیشانی کے درمیان سے لے کر نچلے جبڑے تک ایک نوکیلے کناروں والی دراڑ پڑی ہوئی تھی۔ کھوپڑی کو بھی اس حد تک بےڈھنگےپن سے اپنی اصلی حالت پر جمایا گیا تھا کہ لگتا تھا کسی بھی لمحے علیحدہ ہو کر بکھر جائے گی۔

میری آنکھوں کا درد ناقابلِ برداشت تھا۔ میں نے آنکھیں بند کر لیں۔ جب میں نے آنکھیں کھولیں، وہ جا چکے تھے۔ ان کی جگہ اب میری بہن کھڑی تھی۔ وہ گہرے گہرے سانس لے رہی تھی، جن کی وجہ سے میرے سینے میں ایک درد اٹھا۔ میں نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور اس کو چھوا۔ وہ حرارت سے پُر تھی اور زندہ تھی اور اس کی ہی سانس میری آواز میں ایک دردناک اندیشہ بن گئی تھی۔ مجھے کچھ نہ کچھ کہنا لازم تھا۔ مگر اس سے پہلے کہ میری ذرا سی بھی آواز نکلتی، وہ میرے اوپر جھکی اور پیار کر لیا، جس کی تپتی تمتماہٹ سے لرز کر ہم دونوں ایک دوسرے سے چمٹ گئے۔ باہر رات ہماری چھت پر منھ ہی منھ میں اول فول بک رہی تھی اور ہوا نے کھڑکیوں پر اپنی گرفت مضبوط کر لی تھی اورہم کہیں دور سے فوجی بینڈ کو تانیں اڑاتے سن سکتے تھے۔

Artwork by Dariusz Labuzek
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج اور اجمل کمال کے تعاون سے شائع کی جانے والی مزید تحاریر اور تراجم پڑھنے کے لیے کلک کریں۔
Categories
فکشن

بڑے بڑے پروں والا ایک بوڑھا پھُوس (گابریئل گارسیا مارکیز)

[blockquote style=”3″]

عطا صدیقی کے تراجم لالٹین پر اجمل کمال کے تعاون سے پیش کیے جا رہے ہیں۔ اجمل کمال کراچی پاکستان سے شائع ہونے والے سہ ماہی ادبی جریدے “آج” کے بانی اور مدیر ہیں۔ آج کا پہلا شمارہ 1981 میں شائع ہو تھا۔ آج نے اردو قارئین کو تراجم کے ذریعے دیگر زبانوں کے معیاری ادب سے متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ اردو میں لکھنے والے ادیبوں اور شاعروں کے کام سے بھی متعارف کرایا۔ سہ ماہی آج کو سبسکرائب کرنے اور آج میں شائع ہونے والی تخلیقات کو کتابی صورت میں خریدنے کے لیے سٹی پریس بک شاپ یا عامر انصاری سے رابطہ کیا جا سکتا ہے:
عامر انصاری: 03003451649

[/blockquote]
انگریزی سے ترجمہ:عطا صدیقی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لگاتار بارشوں کے تیسرے دن وہ اتنے بہت سے کیکڑے ٹھکانے لگا چکے تھے کہ پیلایو کو اپنا پانی بھرا صحن پار کر کے ان سب کو سمندر میں پھینکنے کے لیے جانا پڑا۔ بات یہ تھی کہ نومولود بچے کو تیز بخار تھا، اور وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ اس کا سبب اِن کیکڑوں کی بساند ہے۔ منگل کے دن سے سارا عالم اداس اداس تھا۔ کیا سمندر اور کیا آسمان، سب ایک جیسے گدلے گدلے دکھائی دے رہے تھے، اور ساحل کی وہ ریت جو مارچ کی راتوں میں مثل افشاں کے جھلملایا کرتی تھی، اس وقت کیچڑ اور سڑے بُسے گھونگوں کی گاد بن چکی تھی۔ عین دوپہر میں بھی روشنی اتنی کم کم تھی کہ پیلایو جب کیکڑے پھینک کر گھر واپس آ رہا تھا تو اس کے لیے یہ اندازہ لگانا مشکل تھا کہ آخر وہ کیا شے ہے جو صحن کے پچھواڑے رینگ رہی ہے اور کراہ رہی ہے۔ یہ دیکھنے کے لیے کہ وہ ایک بڈّھا ہے، اسے اس کے بہت ہی قریب جانا پڑا: ایک پیرِ فرتوت جو منھ کے بل کیچڑ میں پڑا ہے اور سرتوڑ کوشش کے باوجود اپنے بڑے بڑے پروں کی وجہ سے اٹھ نہیں پا رہا۔

اس کابوس سے دہشت زدہ ہو کر پیلایو اپنی بیوی ایلی سیندا کو بلانے لپکا، جو کہ بیمار بچے کے ماتھے پر گیلی پٹیاں رکھ رہی تھی، اور اس کو لے کر صحن کے پچھواڑے تک آیا۔ وہ دونوں زمین پر پڑے ہوے اس جسم کو گم سُم، پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھتے رہے۔ وہ چِندیاں بٹورنے والوں کا سا لباس پہنے تھا۔ اس کی سپاٹ چَندیا پر چند گنے چنے بال رہ گئے تھے اور منھ میں دانت بھی اکّادکّا تھے، اور اس کی تربتر، سگڑداداؤں والی افسوسناک حالت نے اس کی رہی سہی شان کو، جو اس میں کبھی رہی ہو گی، خاک میں ملا دیا تھا۔ اس کے میلے، اَدھ نُچے، بڑے بڑے، عقاب جیسے پنکھ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے کیچڑ میں لت پت ہو چکے تھے۔ دونوں اُس کو اتنی دیر تک اور اتنے غور سے دیکھا کیے کہ پیلایو اور ایلی سیندا کی حیرانی دھیرے دھیرے جاتی رہی، اور ہوتے ہوتے وہ ان کو مانوس سا لگنے لگا۔ تب انھوں نے اس سے بات کرنے کی ہمت کی، جس کا جواب اس نے ملّاحوں کی سی بھاری آواز میں کسی انجانی زبان میں دیا۔ یوں انھوں نے پروں والی دقّت کو نظرانداز کرتے ہوے، اپنی دانست میں بڑی دانشمندی سے، یہ نتیجہ اخذ کیا کہ وہ طوفان کے مارے کسی شکستہ فرنگی جہاز کا آخری بچ جانے والا ہے۔ اس کے باوجود انھوں نے پڑوس کی اُس عورت کو بلا لیا جو زندگی اور موت کے بارے میں سب کچھ جانتی تھی، تاکہ وہ اس کا معائنہ کر لے۔ ان کے غلط اندازے کو جھٹلانے کے لیے اس عورت کا اس کو بس ایک نظر دیکھنا کافی تھا۔

’’یہ تو فرشتہ ہے،‘‘ اس نے ان کو بتایا۔ ’’وہ بچے کے لیے آ رہا ہو گا، پر بےچارہ اتنا بوڑھا ہے کہ بارش نے راستے ہی میں ڈھیر کر دیا۔‘‘

اگلے دن سب کو معلوم ہو چکا تھا کہ ایک جیتاجاگتا فرشتہ پیلایو کے گھر میں بند ہے۔ پڑوس کی سیانی عورت کی رائے کے برخلاف، جس کا کہنا تھا کہ آج کل کے فرشتے دراصل ایک آسمانی سازش کے بعد بچ جانے والے بھگوڑے ہیں، ان کا دل نہ مانا کہ وہ ڈنڈے مار مار کر اس کی جان نکال دیں۔ اپنا بیلِف والا ڈنڈا اٹھائے اٹھائے پیلایو ساری سہ پہر باورچی خانے میں بیٹھا اس کی نگرانی کرتا رہا، اور رات کو سونے سے قبل اس نے اسے کیچڑ میں سے گھسیٹا اور لے جا کر جالی دار دڑبے میں مرغیوں کے ساتھ بند کر دیا۔ آدھی رات گئے جس وقت بارش تھمی تو پیلایو اور ایلی سیندا ابھی کیکڑے ہی مار رہے تھے۔ تھوڑی دیر بعد بچّے کی آنکھ کھل گئی؛ اس کو بخار نہیں تھا اور وہ کچھ کھانے کو مانگ رہا تھا۔ تب ان کی دریادلی نے جوش مارا اور انھوں نے طے کر لیا کہ وہ فرشتے کو تازہ پانی اور تین دن کی رسد دے کر، ایک تختے پر سوار کرا کے، سمندر میں تن بہ تقدیر چھوڑ آئیں گے۔ مگر جب وہ منھ اندھیرے صحن میں گئے تو کیا دیکھا کہ پورا محلّہ ٹولہ دڑبے کے سامنے جمع، فرشتے کے ساتھ دل لگی بازی میں لگا ہے۔ وہ ٹوٹی ہوئی جالی میں سے کھانے کی چیزیں ذرا سے بھی ادب و احترام کے بغیر اس کی طرف اس طرح پھینک رہے تھے جیسے وہ کوئی علوی وجود نہ ہو بلکہ سرکس کا کوئی جانور ہو۔

اس عجیب و غریب خبر سے گھبرا کر پادری گون زاگا کوئی سات بجے سے پہلے ہی پہلے آ گئے۔ اس وقت تک صبح والوں سے ذرا کم شریر تماش بین آ چکے تھے، اور قیدی کے مستقبل کے بارے میں جو منھ میں آ رہا تھا رائے زنی کر رہے تھے۔ ان میں سب سے بھولے کا خیال تھا کہ اس کو ساری دنیا کا میئر نامزد کر دیا جائے۔ ذرا زیادہ عقل کے پوڑھوں نے محسوس کیا کہ اس کو پنج ستاری جنرل ہونا چاہیے کہ ساری جنگیں فتح کر لے۔ چند خیال پرستوں نے آس لگائی کہ اس سے نسل کَشی کا کام بھی لیا جا سکتا ہے کہ وہ روے زمین پر پَردار سیانوں کی ایک ایسی نسل پیدا کر دے جو پوری کائنات کا چارج سنبھال سکے۔ لیکن پادری گون زاگا پادری بننے سے پہلے ایک تنومند لکڑہارے رہ چکے تھے۔ جالی کے پاس کھڑے کھڑے انھوں نے جھٹ پٹ علمِ دینیات کے تمام سوالات و جوابات کو دماغ میں تازہ کیا اور ان لوگوں سے کہا کہ دروازہ کھولیں تاکہ وہ قریب سے اس دُکھیا آدمی کو دیکھیں جو حیران پریشان، مرغیوں کے درمیان خود ایک بڑی سی خستہ حال مرغی لگ رہا تھا۔ وہ ایک کونے میں پھلوں کے چھلکوں اور بچے کھچے ناشتے کی چیزوں کے درمیان، جو صبح کو آنے والے پھینک گئے تھے، پڑا اپنے پھیلے ہوے پروں کو دھوپ میں سُکھا رہا تھا۔ جس وقت پادری گون زاگا نے دڑبے میں داخل ہوکر لاطینی زبان میں صبح بخیر کہا تو اس نے دنیا کی گستاخیوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوے بس اپنی عمررسیدہ نظریں اٹھائیں اور اپنی بولی میں کچھ منمنایا۔ جب پادری گون زاگا نے دیکھا کہ نہ تو وہ خدا کی زبان جانتا ہے اور نہ اس کے خادموں کے استقبال کے آداب سے واقف ہے، تو ان کو پہلی بار اس پر جعلیا ہونے کا شبہ ہوا۔ پھر انھوں نے غور کیا کہ بہت قریب سے دیکھنے پر وہ بالکل آدمیوں جیسا ہے۔ اس کے پاس سے کھلے میں رہنے والوں کی سی ناقابلِ برداشت بو آ رہی تھی، اس کے پروں میں جوئیں بِجَک رہی تھیں اور زمینی ہواؤں نے اس کے اصل پروں کا برا حشر کر دیا تھا؛ اور اس میں کوئی بات بھی تو ایسی نہیں تھی جو فرشتوں کے قابلِ فخر وقار کے معیار پر پوری اترتی ہو۔ پھر وہ دڑبے سے باہر آئے اور ایک مختصر خطبے کے ذریعے متجسّس نفوس کو طبّاع بننے کے خطرات سے خبردار کیا۔ انھوں نے ان کو یاد دلایا کہ شیطان کی ایک بُری عادت کارنیوالی کرتبوں کا استعمال کرنا بھی ہے تاکہ غافلوں کو دھوکا دے سکے۔ انھوں نے دلیل پیش کی کہ اگر ہوائی جہاز اور عقاب میں فرق کرنے کے لیے پنکھ لازمی عنصر نہیں، تو فرشتوں کی پہچان کے لیے تو ان کی اہمیت اور بھی کم ہو گی۔ پھر بھی انھوں نے وعدہ کیا کہ وہ اپنے اُسقف کو عریضہ روانہ کریں گے، تاکہ وہ اپنے اُسقفِ اعظم کو اس بابت لکھیں، تاکہ وہ پاپاے روم کو لکھیں، اور یوں اعلیٰ ترین عدالت سے قولِ فیصل حاصل ہو جائے گا۔

ان کی دانشمندی چکنے گھڑوں پر ضائع گئی۔ اسیر فرشتے کی خبر اتنی تیزی سے پھیلی کہ چند گھنٹوں کے اندر اندر صحن میں بازار کی سی چہل پہل ہو گئی اور سنگین بردار سپاہی بلوانے پڑے تاکہ اس مجمعے کو منتشر کریں جو کہ مکان کو تلپٹ کیے دے رہا تھا۔ ایلی سیندا کو، جس کی کمر اتنا سارا بازاری گند جھاڑتے جھاڑتے دوہری ہو چکی تھی، یہ سوجھ گئی کہ صحن میں کٹہرا لگا دے اور فرشتے کو دیکھنے کے لیے ہر ایک سے پانچ پانچ سینٹ وصول کر لے۔ مشتاقانِ دید دور دور سے آنے لگے۔ ایک گشتی کارنیوال نے پھیرا لگایا؛ اس میں ایک اُڑان بھرنے والا نَٹ مجمعے کے سروں پر بار بار پھڑپھڑاتا پھِرا، مگر کسی نے اسے گھاس نہ ڈالی کیونکہ اس کے پَر فرشتوں کے مانند نہیں تھے بلکہ چمگادڑوں جیسے تھے۔ زمانے بھر کے بدنصیب ترین معذور لوگ تندرستی کی آس میں آنے لگے؛ ایک دُکھیاری جو بچپن سے دل کی دھڑکنیں شمار کر رہی تھی اور گنتے گنتے جس کی گنتی ہی ختم ہو گئی تھی؛ ایک پرتگالی مرد جو اس لیے سو نہیں سکتا تھا کہ ستاروں کا شور اس کو تنگ کرتا تھا؛ ایک نیند میں چلنے والا جو راتوں کو اٹھ اٹھ کر اپنے دن میں کیے ہوے کام بگاڑا کرتا تھا؛ اور دوسرے بہت سارے جن کے مرض ان سے ذرا کم تشویش ناک تھے۔ پیروں تلے کی زمین ہلا دینے والی، ڈوبتے جہاز جیسی اس ہڑبونگ کے بیچ پیلایو اور ایلی سیندا اپنی تھکن میں بھی مگن تھے، کیونکہ ایک ہفتے سے بھی کم مدت میں انھوں نے اپنا گھر رقم سے ٹھَساٹھَس بھر لیا تھا اور اب بھی اپنی باری کے منتظر زائرین کی قطار افق کے اُس پار تک پہنچی ہوئی تھی۔

فرشتہ ہی فقط ایک واحد ہستی تھا جو خود اپنے تماشے میں کوئی حصہ نہیں لیتا تھا۔ جالی کے نزدیک رکھے گئے تیل کے چراغوں اور عشاے ربانی والی موم بتیوں کی جہنّمی تمازت سے چکرایا چکرایا سا، وہ اپنا وقت اپنے مانگے کے ٹھکانے میں آسائش کی جستجو میں گزارتا۔ اوّل اوّل انھوں نے اس کو کپڑوں میں رکھنے والی گولیاں کھلانے کی کوشش کی، جو سیانی پڑوسن کے علم کے مطابق فرشتوں کی غذا تھی، لیکن اس نے کھانے سے انکار کر دیا، بالکل اسی طرح جیسے اس نے پوپ کا وہ خاصّہ کھانے سے انکار کر دیا تھا جو تائب لوگ لاتے تھے۔ وہ اتنا کبھی نہ جان سکے کہ اس کا سبب اس کا فرشتہ ہونا تھا یا یہ کہ وہ بوڑھا ہو چکا تھا۔ اور آخر کو وہ بینگن کے گودے کے سوا کچھ نہیں کھاتا تھا۔ اس کی قوتِ برداشت ہی ایک اکیلی خارقِ عادت بات نظر آتی تھی، خاص کر ابتدائی ایام میں، جب مرغیاں ان سماوی جوؤں کی تلاش میں جو اس کے پروں کے اندر بڑھی چلی جا رہی تھیں ٹھونگیں مارا کرتیں، اور اپاہج لوگ اپنے ناقص اعضا سے چُھوانے کے لیے اس کے پَر نوچا کرتے، اور سب سے زیادہ مہربان لوگ تک اس کو کھڑا کرنے کی کوشش میں پتھر مار دیا کرتے تاکہ وہ اس کو کھڑے قد دیکھ سکیں۔ وہ صرف ایک بار اس کو اپنی جگہ سے ہلانے میں کامیاب ہو سکے تھے، جب انھوں نے بچھڑوں کو داغنے والے لوہے سے اس کے پہلو میں چرکا لگا دیا تھا۔ بات یہ تھی کہ وہ اتنے گھنٹوں سے بے حس و حرکت پڑا تھا کہ انھوں نے سوچا کہیں مر نہ گیا ہو۔ وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا اور آنکھوں میں آنسو بھرے بھرے اپنی جنّاتی زبان میں بلبلانے لگا اور دو ایک بار اپنے پَر پھڑپھڑائے تو مرغیوں کی بِیٹ اور قمری خاک کا بگولا ناچنے لگا اور دہشت کا وہ جھکّڑ چلا جو اِس دنیا کا تو لگتا نہیں تھا۔ گو بہتوں نے سوچ لیا تھا کہ وہ خفگی کا نہیں بلکہ تکلیف کا مظاہرہ تھا، مگر اس دن کے بعد سے وہ سب احتیاط کرنے لگے کہ اس کو ناراض نہ کریں، کیونکہ اکثر لوگ سمجھ چکے تھے کہ اس کی مفعولیت اُس سورما کی سی نہیں جو اگلے حملے کے لیے سستا رہا ہو، بلکہ کسی خوابیدہ فتنے کی سی ہے۔

قیدی کی اصلیت کے بارے میں قولِ فیصل آنے کے انتظار کے دوران پادری گون زاگا نے مجمعے کی شرارتوں کو خادماؤں کی سی سوجھ بوجھ والے چٹکلوں سے قابو میں رکھا۔ مگر روم کی ڈاک نے آنے میں کوئی عجلت نہ دکھائی؛ کبھی وہ لوگ یہ دیکھتے کہ اس کی ناف ہے یا نہیں، کبھی یہ سوچتے کہ اس کی بولی کا تعلق آرامی زبان سے تو نہیں، کبھی یہ کہ ایک سوئی کی گھنڈی پر وہ کتنی مرتبہ سما سکتا ہے، یا یہ کہ کہیں وہ محض کوئی پَردار ناروے والا نہ ہو؛ اور یوں وہ لوگ اپنا وقت بِتایا کرتے تھے۔ اگر رحمتِ خداوندی نے آڑے آ کر پادری کی زحمتوں کا خاتمہ نہ کر دیا ہوتا تو یہ مختصر سے عریضے قیامت تک آتے جاتے رہتے۔

ہوا یہ کہ انھی دنوں میں آنے والے بہت سے کھیل تماشوں میں ایک ایسی عورت کا گشتی تماشا بھی آیا جس کو والدین کی نافرمانی کرنے پر مکڑی بنا دیا گیا تھا۔ اس کو دیکھنے کی قیمت نہ صرف یہ کہ فرشتے کی دید کی رقم سے کم تھی، بلکہ لوگوں کو اس بات کی بھی اجازت تھی کہ وہ اس کی مضحکہ خیز حالت کے بارے میں قسم قسم کے سوالات بھی پوچھ سکیں اور سر سے پیر تک اس کو چھو کر معائنہ بھی کر سکیں تاکہ کسی کو بھی اس ہولناک حقیقت پر کوئی شک و شبہ نہ رہے۔ وہ مینڈھے جتنی ایک ڈراؤنی ترَن تُولا مکڑی تھی جس کا سر ایک غمزدہ دوشیزہ کا سا تھا۔ تاہم سب سے بڑھ کر دل ہلا دینے والی شے اس کی نامانوس ہیئت نہ تھی بلکہ وہ پُرخلوص اندازِ بیاں تھا جس میں وہ اپنی بپتا کی ایک ایک تفصیل سناتی تھی۔ ابھی وہ بالی ہی تھی کہ ایک بار ناچ رنگ میں حصہ لینے کے لیے گھر سے چھپ کر چپ چاپ نکل گئی تھی، اور جب وہ بغیر اجازت لیے ساری رات ناچ لینے کے بعد جنگل میں سے ہوتی ہوئی گھر لوٹ رہی تھی تو ایک ہولناک کڑاکے نے آسمان کو دو کر دیا، اور شگاف میں سے لاوے کا برقی تیر سا لپکا جس نے اسے مکڑی بنا دیا۔ اس کا پیٹ فقط ان کوفتوں سے بھرتا تھا جو سخی لوگ اس کے منھ میں ڈال دیتے تھے۔ ایک ایسے نظارے کو، جس میں اتنی انسانی سچائی بھری ہو اور اتنی خوف دلانے والی نصیحت ہو، کوشش کیے بغیر ایک ایسے نک چڑھے فرشتے کی نمائش پر غالب رہنا ہی تھا جو فانی انسانوں کی طرف آنکھ اٹھانا بھی گوارا نہ کرتا تھا۔ علاوہ ازیں، جو تھوڑی بہت کرامات فرشتے سے منسوب کی گئیں ان میں بھی کچھ نہ کچھ عقل کا فتور نظر آیا— مثلاً وہ نابینا جس کو بینائی تو نہ ملی مگر تین نئے دانت نکل آئے، یا وہ مفلوج جو چل تو نہ سکا لیکن لاٹری تقریباً جیت لی، اور وہ کوڑھی جس کے زخموں کے اندر سے سورج مکھی پھوٹ نکلے۔ ان بہلانے والی کرامات کے سبب، جوکہ ہنسی دل لگی سے زیادہ کیا تھیں، فرشتے کی ساکھ گر تو چکی تھی کہ مکڑی بن جانے والی عورت نے آ کر آخرکار اس کو بالکل ملیامیٹ کر دیا، اور یوں پادری گون زاگا کا بےخوابی کا روگ بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جاتا رہا، اور پیلایو کا آنگن بھی پھر سے اتنا ہی خالی خالی رہنے لگا جتنا وہ اُس تین دن کی بارشوں کے زمانے میں تھا جب کیکڑے کمروں میں رینگا کرتے تھے۔

گھر والوں کے لیے کُڑھنے کی کوئی وجہ نہیں تھی۔ جو رقم انھوں نے اس دوران جمع کر لی تھی اس سے انھوں نے چھجّوں اور پھلواریوں والی دومنزلہ حویلی کھڑی کر لی جس میں اونچی اونچی جالیاں لگائی گئی تھیں کہ جاڑوں میں کیکڑے نہ گھس آئیں، اور دریچوں میں لوہے کی سلاخیں لگوائی گئی تھیں کہ فرشتے اندر نہ آ جائیں۔ پیلایو نے بستی کے قریب ہی خرگوش پالنے کا کاروبار جما لیا اور بیلف کی نوکری ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چھوڑ دی اور ایلی سیندا نے ساٹن کے اونچی ایڑی والے چند پمپ اور ست رنگی ریشم کی پوشاکیں خریدیں، وہی جو اس زمانے کی من موہنی عورتیں اتوار کے دن زیبِ تن کیا کرتی تھیں۔ بس مرغیوں کا دڑبا ہی ایک ایسی چیز تھا جس پر کوئی توجہ نہیں دی گئی تھی۔ جو وہ کبھی کبھار اس کی دھلائی کریولن سے کر دیتے تھے اور اس کے اندر مُر اور لوبان سلگا دیتے تھے تو یہ کوئی فرشتے کی عقیدت میں نہیں تھا بلکہ اس کا مقصد فُضلے کی اس سڑاند سے پیچھا چھڑانا ہوتا تھا جو آسیب کی طرح ہر وقت لپٹی رہتی تھی اور ان کے نئے مکان کو بھی پرانا کیے دے رہی تھی۔ جب بچے نے چلنا سیکھ لیا تو پہلے پہلے انھوں نے احتیاط کی کہ وہ دڑبے کے بہت نزدیک نہ جانے پائے؛ پھر رفتہ رفتہ ان کا خوف دور ہوتا گیا، اور وہ بدبو کے عادی ہوتے گئے، اور دوسرا دانت نکلنے سے پہلے ہی بچہ کھیلنے کے لیے جہاں سے جالی ٹوٹ رہی تھی دڑبے میں گھس گیا۔ فرشتہ بچے سے بھی اتنا ہی لیے دیے رہا جتنا وہ دوسرے لوگوں سے رہتا تھا، مگر وہ اس کی نت نئی چھیڑخانیوں کو اس کتّے کے سے صبر سے برداشت کرتا رہتا جس کو کوئی خوش فہمیاں نہ ہوں۔ دونوں کو ایک ساتھ خسرہ نکل آئی۔ جس ڈاکٹر نے بچے کا علاج کیا وہ فرشتے کے دل کی دھڑکن سننے کے شوق کو دبا نہ سکا، اور اس نے اس کے دل میں اس قدر سیٹیاں بجتی اور گردے میں اتنی آوازیں سنیں کہ اس کو فرشتے کا زندہ رہنا محال نظر آیا۔ پروں کی تُک نے اس کو سب سے زیادہ حیرت میں ڈالا۔ اس مکمل انسانی بدن پر وہ اتنے فطری لگتے تھے کہ ڈاکٹر کی سمجھ میں یہ نہ آ سکا کہ آخر سب انسانوں کے جسم پر وہ کیوں نہیں ہوتے۔

جس وقت بچے نے اسکول جانا شروع کیا تو مرغی خانے کو دھوپ اور بارشوں کی وجہ سے تباہ ہوے کچھ عرصہ گزر چکا تھا۔ فرشتہ ایک بھٹکتے ہوے جاں بہ لب آدمی کی طرح یہاں وہاں گھسٹتا پھرتا تھا۔ وہ اسے جھاڑو مار مار کر خوابگاہ میں سے نکالتے تو پل بھر بعد وہ باورچی خانے میں نظر آتا؛ وہ بیک وقت اتنے مقامات پر نظر آنے لگا کہ وہ یہ سوچنے لگے کہ وہ ایک سے دو ہو گیا ہے، کہ وہ گھربھر میں اپنی نوع کو بڑھاتا پھر رہا ہے؛ اور بھنّائی اور بولائی ہوئی ایلی سیندا چیخ پڑی کہ اس فرشتوں بھرے جہنّم زار میں جینا دُوبھر ہو گیا۔ وہ اب مشکل ہی سے کھا پاتا تھا، اور اس کی بوڑھی آنکھیں اتنی دُھندلا گئی تھیں کہ وہ ستونوں سے ٹکراتا پھرتا تھا۔ اب اس کے پاس جھڑے ہوے آخری پروں کے ننگے سرے ہی رہ گئے تھے۔ پیلایو اس پر کمبل ڈال دیتا اور اتنا احسان اور کرتا کہ اس کو سائبان میں پڑ رہنے دیتا۔ اور تب ہی انھوں نے دیکھا کہ رات کو اسے بخار ہو جاتا اور وہ ہذیانی سا ہو کر بوڑھے ناروے والوں کی طرح زبان گھمایا کرتا۔ یہ چند موقعوں میں سے ایک موقع تھا جب وہ پریشان ہو گئے، کیونکہ انھوں نے سوچا کہ اس کا آخری و قت آ گیا؛ اور پڑوس کی سیانی عورت بھی یہ بتانے سے قاصر تھی کہ وہ مرتے ہوے فرشتے کے لیے کیا کیا کریں۔

اس کے باوجود وہ نہ صرف یہ کہ اپنا بدترین موسمِ سرما جھیل گیا بلکہ دھوپ سے روشن دنوں کے شروع ہوتے ہی سنبھالا لیتا ہوا نظر آنے لگا۔ وہ صحن کے پرلے سرے پر، سب کی نظروں سے دور، کئی دنوں تک چاپ چاپ پڑا رہا، اور دسمبر شروع ہوتے ہی چند لمبے اور سخت پَر اس کے شہپروں پر نمودار ہونے لگے؛ بجوکے کے پَر جو اس سے کہیں زیادہ، ناتوانی کی ایک اور نحوست دکھائی دیتے تھے۔ مگر وہ اپنی تبدیلیوں کی وجہ ضرور جانتا ہو گا، اسی لیے وہ اس بات کا بہت خیال رکھتا تھا کہ کوئی ان تبدیلیوں کو دیکھ نہ لے، کوئی وہ سمندری گیت نہ سن لے جو وہ وقتاًفوقتاً تاروں کی چھاؤں میں گنگنایا کرتا تھا۔ ایک صبح ایلی سیندا بیٹھی پیاز کتر رہی تھی کہ ہوا کا ایک جھونکا، جو سمندروں پر سے ہوتا ہوا آ رہا تھا، باورچی خانے میں در آیا۔ وہ اٹھ کر دریچے کے پاس گئی اور تب ہی اس نے فرشتے کو اُڑان بھرنے کی ابتدائی کوششیں کرتے ہوے دیکھ لیا۔ یہ کوششیں اس قدر بھونڈی تھیں کہ اس کے ناخنوں نے سبزی کی کیاری میں گہرا نشان ڈال دیا تھا، اور اپنے پروں کی بھدی سی پھڑپھڑاہٹ سے، جو ہوا میں ٹِک نہیں پا رہے تھے، وہ سائبان کو گرانے ہی والا تھا۔ پھر بھی وہ تھوڑا بہت اوپر اٹھنے میں کامیاب ہو گیا۔ ایلی سیندا نے جب اس کو ایک پھُوس عقاب کی طرح تشویش ناک انداز میں پَر ہلا ہلا کر، اور کسی نہ کسی طرح خود کو ہوا میں سنبھالے سنبھالے، آخری مکانوں کے اوپر سے دور ہوتے دیکھا تو اس نے خود اپنے لیے اور اس کی خاطر اطمینان کا سانس لیا۔ وہ اسے دیکھتی رہی، پیاز کترنے سے فارغ ہونے کے بعد بھی وہ تکتی رہی، اور اس وقت تک نظریں جمائے رہی جب تک کہ وہ نظروں سے اوجھل نہ ہو گیا۔ کیونکہ اب وہ اس کے جی کا جنجال نہ تھا بلکہ سمندری افق پر ایک خیالی نقطہ تھا۔

آج اور اجمل کمال کے تعاون سے شائع کی جانے والی مزید تحاریر اور تراجم پڑھنے کے لیے کلک کریں۔
Categories
فکشن

دنیا بھر کا حسین ترین ڈوب مرنے والا (گابریئل گارسیا مارکیز)

[blockquote style=”3″]

عطا صدیقی کے تراجم لالٹین پر اجمل کمال کے تعاون سے پیش کیے جا رہے ہیں۔ اجمل کمال کراچی پاکستان سے شائع ہونے والے سہ ماہی ادبی جریدے “آج” کے بانی اور مدیر ہیں۔ آج کا پہلا شمارہ 1981 میں شائع ہو تھا۔ آج نے اردو قارئین کو تراجم کے ذریعے دیگر زبانوں کے معیاری ادب سے متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ اردو میں لکھنے والے ادیبوں اور شاعروں کے کام سے بھی متعارف کرایا۔ سہ ماہی آج کو سبسکرائب کرنے اور آج میں شائع ہونے والی تخلیقات کو کتابی صورت میں خریدنے کے لیے سٹی پریس بک شاپ یا عامر انصاری سے رابطہ کیا جا سکتا ہے:
عامر انصاری: 03003451649

[/blockquote]
انگریزی سے ترجمہ:عطا صدیقی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پہلے پہل جن بچوں نے اس پراسرار ڈولتے اُبھار کو سمندر کی جانب سے اپنی طرف بہہ کر آتے دیکھا انھوں نے خیال کیا کہ دشمن کا کوئی جہاز ہوگا۔ پھر ان کو نظر آیا کہ اس پر نہ تو کوئی مستول ہے اور نہ کوئی پھریرا، تو اس کو ویل سمجھا۔ مگر جب وہ کنارے آ لگا اور جب انھوں نے اس پر سے سمندری جھاڑ جھنکار، جیلی فش کے پنجے، مچھلیوں کے بچے کھچے حصے اور تیرنے والا کباڑ صاف کرلیا، تب ہی ان کو معلوم ہوا کہ وہ کوئی ڈوب کر مر جانے والا ہے۔

ساری سہ پہر وہ اس سے کھیلتے رہے؛ کبھی اس کو بالُو میں دبا دیتے، کبھی اس کو نکال لیتے، کہ اتفاقاً کسی کی نظر ان پر پڑ گئی اور اس نے گاؤں میں خبر پھیلا دی۔ جو لوگ اس کو اٹھا کر قریب ترین گھر تک لائے، انھوں نے دیکھا کہ وہ ان تمام مُردوں سے کہیں زیادہ بھاری بھرکم ہے جن سے اب تک ان کا سابقہ پڑا تھا۔ وہ قریب قریب گھوڑے جتنا لدّھڑ تھا۔ انھوں نے ایک دوسرے سے کہا کہ ہوسکتا ہے کافی عرصے تک پانی میں رہنے کی وجہ سے پانی اس کی ہڈیوں تک میں اتر گیا ہو۔ جب ان لوگوں نے اس کو فرش پر لٹا دیا تو بولے کہ یہ تو باقی سب لوگوں سے زیادہ دراز قد نکلا، کیونکہ گھر کے اندر اس کی سمائی کے لیے جگہ ناکافی تھی، مگر انھیں خیال آیا کہ شاید مر جانے کے بعد بھی بالیدگی کی صلاحیت بعض ڈوب مرنے والوں کی فطرت میں شامل ہو۔ اس میں سے سمندری بساند اٹھ رہی تھی اور صرف اس کی بناوٹ ہی سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا تھا کہ وہ کوئی انسانی لاش ہے کیونکہ اس کی جلد مٹی کی پپڑیوں اور مچھلیوں کے سفنوں سے ڈھکی ہوئی تھی۔

اتنا معلوم کرنے کے لیے کہ مرنے والا کوئی اجنبی ہے، انھیں اس کا چہرہ صاف کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ گاؤں میں کوئی بیس ایک پتھریلی انگنائیوں والے چوبی مکانات تھے جن میں پھول پودے نام کو نہیں تھے اور سب کے سب ایک ریتیلی راس کے کنارے کنارے پھیلے ہوے تھے۔ وہاں زمین اتنی کم تھی کہ مائیں ہر وقت ڈری سہمی رہتی تھیں کہ کوئی جھکّڑ کہیں ان کے بچوں کو اُڑا نہ لے جائے، اور وقتاً فوقتاً مر جانے والوں کو ساحلی چٹانوں کے کنارے لے جا کر سمندر میں ٹھنڈا کردیا جاتا تھا۔ مگر سمندر پُرسکون اور بڑا سخی داتا تھا اور گائوں کے کُل مرد سات کشتیوں میں سما جاتے تھے۔ اس لیے لاش ملنے کے بعد انھوں نے بس ایک نظر ایک دوسرے پر ڈال کر تسلی کرلی کہ وہ سب کے سب موجود ہیں۔

اس رات وہ اپنی روزی کی تلاش میں سمندر کی طرف نہیں گئے۔ مرد آس پاس کی بستیوں میں یہ معلوم کرنے نکل گئے کہ کہیں کوئی لا پتا تو نہیں، اور عورتیں ڈوب مرنے والے کی دیکھ بھال کے لیے پیچھے رہ گئیں۔ انھوں نے گھاس کی کوچیوں کی مدد سے اس کے بدن پر لگی ہوئی کیچڑ کو صاف کیا، اس کے بالوں میں پھنسی سمندری بالُو کو نکالا اور مٹی کے پپّڑوں کو مچھلیوں کے سفنے اتارنے والے اوزاروں سے کھرچا۔ یہ کام کرتے کرتے انھوں نے بھانپ لیا کہ جو جھاڑ جھنکاڑ اس کے جسم سے چمٹا ہوا ہے وہ دور دراز کے گہرے پانیوں سے آیا ہے اور اس کے بدن پر لبیریاں لگی ہوئی ہیں جیسے وہ مونگوں کی بھول بھلیوں میں سے ڈبکنیاں کھاتا ہوا آیا ہو۔ انھوں نے یہ بھی دیکھ لیا کہ وہ اپنی موت کو خودداری کے ساتھ سہہ رہا ہے؛ نہ تو اس کا منھ دوسرے ڈوب مرنے والوں کی مانند اُجاڑ اُجاڑ سا تھا اور نہ دریا میں غرق ہونے والوں کی طرح بھک منگوں کا سا اُترا اُترا تھا۔ اس کو پوری طرح پاک صاف کرلینے کے بعد ہی یہ عیاں ہوسکا کہ وہ کس قسم کا آدمی تھا، اور ان کا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا۔ نہ صرف یہ کہ وہ ان سب مردوں میں جو اب تک ان کی نظر سے گزرے تھے، سب سے زیادہ دراز قد، سب سے زیادہ توانا، سب سے زیادہ زور آور اور سب سے زیادہ خوش اندام تھا بلکہ اتنا تکے جانے کے باوجود وہ ان کے تصور میں سما نہیں پا رہا تھا۔

گاؤں بھر میں نہ تو اتنا بڑا پلنگ دستیاب تھا جس پر اس کو لٹایا جاسکتا اور نہ کوئی میز اتنی سخت تھی جو اس کی سوگ جاگ کے لیے استعمال کی جاسکتی۔ اس کے بدن پر نہ تو سب سے لانبے آدمی کا کوئی بڑھیا پتلون چڑھا، نہ سب سے موٹے آدمی کی اتوار کو پہنی جانے والی قمیص اور نہ سب سے بڑے پیر والے کے جوتے۔ اس کے پہاڑ سے تن و توش اور اس کے حسن سے مسحور ہوکر عورتوں نے طے کیا کہ وہ بادبان کے کسی بڑے ٹکڑے سے اس کے لیے پتلون بنائیں اور عروسی لنن سے قمیص تیار کریں، تاکہ وہ راہِ عدم کا سفر اپنی حیثیت کے مطابق طے کرسکے۔ جب وہ جھرمٹ مارے سلائی میں جٹی تھیں اور ٹانکے بھرتے بھرتے ٹکر ٹکر اس کو دیکھے جا رہی تھیں تو ان کو یوں لگا کہ نہ تو ہوا کبھی اتنی یکساں یکسا ں رفتار سے چلی اور نہ سمندر کبھی اس قدر بے چین بے چین سا رہا جس قدر وہ آج رات ہے، اور انھوں نے فرض کرلیا کہ ہو نہ ہو مرنے والے کا اس تبدیلی سے کوئی واسطہ ضرور ہے۔ انھیں خیال آیا کہ اگر وہ عظیم الشان انسان ان کے گاؤں میں رہتا ہوتا تو اس کے مسکن کے دروازے سب سے کشادہ، چھت سب سے بلند اور فرش سب سے مضبوط ہوتا؛ اس کی مسہری کسی جہازوں والی لکڑی کی پیٹیوں سے بنی ہوتی جن کو لوہے کے پیچوں سے کسا گیا ہوتا، اور اس کی بیوی خورسند ترین عورت رہی ہوتی۔ انھوں نے سوچا کہ اس کا اس قدر رعب و دبدبہ ہوتا کہ وہ مچھلیوں کو نام بہ نام پکار کر سمندر میں سے بلا لیا کرتا۔ اور اس نے اپنی زمینوں پر اس قدر محنت کی ہوتی کہ چٹانوں میں سے چشمے ابل پڑے ہوتے اور یوں اس نے سمندر کے ساحلی کراڑوں کو پھولوں کی تختہ بندی کے قابل بنا لیا ہوتا۔ دل ہی دل میں انھوں نے اس کا موازنہ اپنے اپنے مردوں سے کر ڈالا اور سوچا کہ وہ سب ساری عمر بھی کریں تو وہ سب کچھ نہیں کرسکتے جو وہ ایک رات میں کر گزرا ہوتا، اور انھوں نے اپنے اپنے دلوں کی گہرائیوں میں اپنے اپنوں کو زمانے بھر میں سب سے زیادہ بودا، سب سے زیادہ گھٹیا اور سب سے زیادہ نکما آدمی ٹھہرا کر دل سے نکال دیا۔ وہ اپنے تصورات کی بھول بھلیوں میں گم تھیں کہ اتنے میں ان میں سے سب سے بڑی عمر والی عورت، جو عمر رسیدہ ہونے کے باعث ڈوب مرنے والے کو محبت سے زیادہ شفقت بھری نظر سے دیکھ رہی تھی، بولی، ’’صورت تو اس کی ایستے بان نامی شخص کی سی ہے۔‘‘

بات پتے کی تھی۔ اس کا کوئی اور نام ہو ہی نہیں سکتا، اتنی بات مان لینے کے لیے ان میں سے اکثر کو اس پہ بس ایک نظر اور ڈالنی پڑی۔ وہ عورتیں جو عمر میں سب سے کم تھیں اور خود سر بھی، چند گھنٹے اس تصور میں مگن رہیں کہ جب وہ اس کو نئے کپڑے پہنا دیں گی اور وہ چمکدار جوتے ڈاٹے، پھولوں کے بیچ لیٹا ہوگا تو لاتارو نام شاید اُس پر زیادہ جچے، مگر یہ ایک خام خیال تھا۔ ان کے پاس کینوس خاطرخواہ نہیں تھا، پھر بُرابیونتا گیا اور خراب تُرپا گیا پتلون تنگ بھی بہت تھا، اور درونِ دل کسی دبی قوت سے اس کی قمیص کے بٹن بھی پٹ پٹ کھل گئے تھے۔ ہوا کی سائیں سائیں بند ہوچکی تھی اور سمندر کو بھی اپنی بدھ کے دن والی اونگھ آگئی تھی۔ اس سکوت نے گویا ان کے آخری شبہات بھی دور کردیے؛ وہ ایستے بان ہی تھا۔ جب ان کو اس کا فرش پر گھسیٹا جانا مجبوراً برداشت کرنا پڑا تو وہ عورتیں جنھوں نے اس کے کپڑے بدلائے تھے، بال سنوارے تھے، ناخن تراشے تھے اور حجامت بنائی تھی، ترس کے مارے کپکپانے سے باز نہ رہ سکیں۔ اس وقت کہیں جاکر ان کی سمجھ میں آیا کہ وہ اپنے اس جہاز کے جہاز ڈیل ڈول کے ہاتھوں کتنا تنگ رہتا ہوگا جبکہ مرنے کے بعد بھی اس قباحت نے اس کا پیچھا لے رکھا ہے۔ وہ اس کو جیتا جاگتا دیکھ سکتی تھیں؛ دروازوں میں سے ترچھا ہو کر گزرنے کی سزا بھگتتے ہوے، چھت کی کڑیوں سے سر ٹکراتے ہوے؛ کہیں ملنے گیا تو کھڑا رہنے پر مجبور، اس الجھن میں مبتلا کہ اپنے نرم گلابی سیل نما ہاتھوں کا کیا کرے، جبکہ خاتونِ خانہ گھر بھر کی سب سے مضبوط کرسی چن کر اپنا دم خشک کیے کیے اس کو پیش کرتی، لو ایستے بان اس پر بیٹھ جاؤ، اور وہ دیوار سے ٹیک لگائے لگائے مسکراتا، نہیں مادام تکلف کی ضرورت نہیں، میں ایسے ہی ٹھیک ہوں؛ ہر ملاقات پر بار بار یہی کرتے کرتے اس کے تلوے چھلنی اور پیٹھ سوختہ ہوچکی تھی مگر کرسی توڑ دینے کی شرمندگی سے بچنے کے لیے ہمیشہ وہی ایک بات: نہیں مادام، تکلف کی ضرورت نہیں، میں ایسے ہی ٹھیک ہوں، اور غالباً اس بات سے قطعی ناآشنا رہتے ہوے کہ جو ابھی ابھی یہ کہتیں کہ رُکو ایستے بان، کافی تیار ہونے تک تو رک جاؤ، وہی پیٹھ مڑتے ہی زیرِ لب بول اٹھتیں، آخرکار ٹل گیا دیوپیکر بوبک، اچھا ہوا خوبصورت بھوندو گیا۔ دن نکلنے سے ذرا پہلے لاش کے چاروں طرف بیٹھی ہوئی عورتیں یہی کچھ سوچ رہی تھیں۔ بعد میں جب انھوں نے رومال سے اس کا منھ اس لیے ڈھک دیا کہ دھوپ اس کو کہیں نہ ستائے، تو وہ ان کو جنم جنم کا مرا ہوا لگا، بے یار و مددگار، بالکل ان کے اپنے مردوں کا سا، اور رقت نے ان کے کلیجوں میں ابتدائی دراڑیں ڈال دیں۔ وہ کوئی نوجوان عورت تھی جس نے پہلے پہل رونا شروع کیا؛ دوسری عورتیں بھی اس کی دیکھا دیکھی ٹھنڈی آہوں سے لے کر بین تک کرنے لگیں، اور جتنی زیادہ وہ سسکیاں بھرتیں اتنا ہی زیادہ ان کا دل امنڈتا کہ ڈوب مرنے والا اب ان کی نظروں میں عین مین ایستے بان ہوتا جا رہا تھا؛ چنانچہ وہ خوب پھوٹ پھوٹ کر روئیں، کیونکہ وہی تو دنیا بھر میں سب سے زیادہ محروم، سب سے زیادہ صلح کل، سب سے زیادہ بامروت تھا، بے چارہ ایستے بان۔ اس لیے جب مرد لوگ یہ خبر لے کر لوٹے کہ مرنے والا آس پاس کی کسی بستی کا نہیں تو عورتوں کو اپنے آنسوئوں کی جھڑی میں مسرت پھوٹتی محسوس ہوئی۔
’’خداوند کی حمد ہو،‘‘ انھوں نے ٹھنڈی سانس بھری، ’’یہ اپنا ہے!‘‘

مردوں نے اس کہرام کو زنانہ خرافات جانا۔ رات بھر کی کٹھن پوچھ تاچھ سے بے حال ہوچکنے کے بعد وہ تو بس اتنا چاہتے تھے کہ کسی طرح اس خشک اور ہوا بند دن، دھوپ چڑھ جانے سے پہلے پہلے، اس نووارد کے جھنجھٹ سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے فارغ ہوجائیں۔ انھوں نے فالتو پڑے ہوے بادبانوں اور ماہی گیری کے نیزوں کو جوڑ جاڑ کر ایک ڈولا سا بنایا اور اس کو رسیوں سے خوب کس کس کر باندھا تاکہ وہ اس کا بوجھ اس وقت تک برداشت کر لے جائے جب تک وہ چٹانوں کے کنارے تک نہ پہنچ جائیں۔ وہ بار بردار جہاز کا لنگر بھی باندھنا چاہتے تھے تاکہ وہ بہ آسانی قعرِ دریا میں اتر جائے جہاں مچھلیوں کو بھی کچھ سجھائی نہیں دیتا اور جہاں غوطہ خور تک خشکی کی ہُڑک میں ختم ہوجاتے ہیں، اور پھر اس لیے بھی کہ تُند لہریں اس کو دوبارہ کنارے پر نہ لے آئیں، جیساکہ دوسری کئی لاشوں کے ساتھ ہوچکا تھا۔ مگر مرد جتنی جتنی عجلت کرتے، عورتیں وقت ٹالنے کی اُتنی اُتنی ترکیبیں نکالتیں؛ اپنے سینوں پر سمندری تعویذ جھلاتی وہ بے چین مرغیوں کی مانند کُڑکُڑاتی پھر رہی تھیں۔ کچھ ایک جانب سے مداخلت کرتیں کہ مرنے والے کو مبارک ہوا والا منّتی احرام پہنایا جائے تو چند دوسری جانب سے رائے دیتیں کہ اس کی کلائی پر قطب نما باندھا جائے؛ اور ’’ایک طرف ہوجا بی بی، راستے سے ہٹ، دیکھو دیکھو! مجھے مُردے پر گرا ہی دیا تھا‘‘ کی کافی سے زیادہ چِل پوں کے بعد آخرکار مردوں کے دلوں میں شکوک سر اٹھانے لگے اور انھوں نے بڑبڑانا شروع کردیا کہ ایک اجنبی کی خاطر بڑی قربان گاہ والے اتنے سارے چڑھاوے آخر کیوں، کیونکہ چاہے جتنی بھی میخیں چڑھائو اور متبرک پانی کے جتنے چاہو اتنے برتن چڑھادو، پر شارک بہرصورت اس کو چٹ کر جائیں گی۔ مگر عورتیں تھیں کہ لپک جھپک گرتی پڑتی اپنے تبرکات کا سارا کباڑ لا لا کر اس پر نچھاور کیے جا رہی تھیں اور ساتھ ہی ساتھ جو کچھ اپنے آنسوئوں سے ظاہر نہیں کر پا رہی تھیں وہ ٹھنڈی آہوں کی صورت نکال رہی تھیں، یہاں تک کہ مرد لوگ آپے سے باہر ہوگئے۔ ’’ارے ایک بھٹکتی لاش، ایک انجانے بے حقیقت آدمی، ایک بُدھواری ٹھنڈے گوشت کی خاطر اتنے چونچلے کبھی کاہے کو ہوے تھے جو اَب ہونے لگے؟‘‘ احترام کی اس کمی سے دل برداشتہ ہوکر ان میں سے ایک عورت نے مرنے والے کے منھ پر سے رومال ہٹا دیا، اور پھر تو مردوں کی بھی اوپر کی سانس اوپر اور نیچے کی نیچے رہ گئی۔

وہ ایستے بان تھا۔ اس کو پہچان لینے کے لیے ان کے سامنے اس کا نام دہرانے کی ضرورت نہیں تھی۔ اگر کہا جاتا کہ سر والٹرریلے، تو وہ شاید اس کے فرنگی لہجے، اس کے کندھے پر بیٹھے طوطے، اس کی آدم خوروں کو مارنے والی توڑے دار بندوق کے رعب میں آگئے ہوتے، مگر ایستے بان تو سارے عالم میں بس ایک ہی تھا، اور وہ سامنے پڑا تھا، بالکل سفید ویل کی طرح، جوتے اتارے، کسی بونے کا پتلون چڑھائے، سخت سخت ناخونوں والا، جن کو چاقو سے تراشنا پڑا تھا۔ یہ جان لینے کے لیے بس اس کے چہرے سے رومال ہٹنے کی دیر تھی کہ وہ بہت نادم ہے،یوں کہ اس میں اس کا کوئی قصور نہیں کہ وہ اتنا جہاز کا جہاز، اتنا بھاری بھرکم اور اتنا صورت دار ہے، اور جو کہیں اس کو یہ معلوم ہوجاتا کہ سب کچھ یوں ہوگا تو اس نے اپنی غرقابی کے لیے کوئی الگ تھلگ سی جگہ دیکھی ہوتی۔ مذاق نہیں، میں تو بلکہ حالات سے بیزار ہوجانے والے آدمی کی طرح اپنے گلے میں کسی جنگی جہاز کا لنگر باندھ بوندھ کر کسی کراڑ پر سے جا لڑھکتا تاکہ اب تو اس بدھواری لاش کی طرح لوگوں کو پریشان نہ کروں۔ بقول آپ لوگوں کے، ٹھنڈے گوشت کے اس غلیظ لوتھڑے سے کسی کا ناک میں دم کیوں کیا جائے جس سے اب میرا کوئی واسطہ بھی نہ ہو۔ اس کے انداز میں اس قدر کھری صداقت تھی کہ نہ صرف ان سب سے زیادہ وہمی لوگوں کے، جو کہ سمندر میں گزاری ہوئی ان بے انت راتوں کی تلخیوں کو محسوس کرسکتے تھے جن میں ان کو یہ خوف کھائے جاتا تھا کہ کہیں ان کی عورتیں ان کے خواب دیکھتے دیکھتے تھک ہار کر غرق ہوجانے والوں کے خواب نہ دیکھنے لگی ہوں، بلکہ دوسرے ان سے بھی بڑھ کر سخت لوگوں تک کے تن بدن کے رونگٹے ایستے بان کی بے ریائی پر کھڑے ہو گئے۔

اور یوں انھوں نے اپنی ذہنی اُڑان کے مطابق ایک لاوارث ڈوب مرنے والے کا جنازہ بڑی دھوم دھام سے اٹھایا۔ جب کچھ عورتیں پھولوں کی تلاش میں قریب کے گاؤں میں گئیں تو وہاں سے ان عورتوں کو ساتھ لے آئیں جن کو سنی سنائی پر اعتبار نہ آیا تھا، اور جب انھوں نے مرنے والے کے دیدار کرلیے تو وہ مزید پھول لانے چل دیں اور پھر تو اور آتے گئے، اور آتے گئے، یہاں تک کہ وہاں اس قدر پھول اور اتنی زیادہ خلقت جمع ہوگئی کہ پیر سرکانے بھر کی جگہ نہ رہی۔ آخری لمحات میں ان کا دل اس بات پر دُکھا کہ اس کو یتیمی کی حالت میں پانی کے سپرد کردیا جائے، اور انھوں نے اپنے معتبرین میں سے اس کے باپ اور ماں کو منتخب کیا، اور خالائیں اور پھوپھیاں اور چچا اور ماموں اور خلیرے اور چچیرے اور ممیرے بھائی بند، یہاں تک کہ اس کے توسط گائوں کا گائوں ایک دوسرے کا قرابت دار بن گیا۔ چند ملاح جنھوں نے دور سے ان کے بین سنے، اپنے راستے سے بھٹک گئے؛ اور لوگوں نے ایک کے بارے میں یہاں تک سنا کہ اس نے قدیم داستانوں کی سائرن عورتوں کا گمان کرتے ہوے خود کو مرکزی مستول سے کس کر بندھوا لیا۔ جس وقت وہ سب چٹانو ں کی کھڑواں رپٹ پر اس کو اپنے اپنے کاندھوں پر اٹھانے کے شرف کے لیے ٹوٹے پڑ رہے تھے، اس وقت اپنے ڈوب مرنے والے کے کرّوفر اور حسن کا سامنا کرتے ہوے، کیا مرد اور کیا عورتیں، سب ہی کو پہلی بار اپنی گلیوں کی ویرانی، اپنی انگنائیوں کی بے برگ و باری اور اپنے خوابوں کی تنگ دامنی کا احساس ہوا۔ انھوں نے اس کو لنگر کے بغیر ہی جانے دیا تاکہ اگر وہ آنا چاہے تو واپس آ سکے، جب بھی وہ آنا چاہے۔ اور جُگوں کے اس مختصر ترین پل تک وہ سب دم سادھے رہے جب تک کہ لاش گہرائی میں نہ پہنچ گئی۔ یہ جان لینے کے لیے کہ وہ سب نہ اب وہاں موجود ہیں اور نہ کبھی ہوں گے، انھیں ایک دوسرے کی طرف دیکھنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ مگر وہ اتنا ضرور جان گئے تھے کہ اس وقت کے بعد ہر چیز کی کایا پلٹ جائے گی؛ اب ان کے گھروں کے دروازے کشادہ، چھتیں بلند اور فرش مضبوط ہوا کریں گے، تاکہ ایستے بان کی یاد جہاں چاہے کڑیوں سے سر ٹکرائے بغیر آجا سکے اور آئندہ کسی کو بھی زیرِ لب یہ کہنے کی ہمت نہ ہو کہ دیوپیکر بوبک آخرکار مر گیا، بہت برا ہوا خوبصورت بھوندو انجام کار جاتا رہا، کیونکہ اب وہ ایستے بان کی یاد کو ہمیشہ ہمیشہ تازہ رکھنے کے لیے اپنے گھروں کو باہر سے چٹکیلے رنگوں سے رنگنے جا رہے تھے اور چٹانوں کے درمیان سے چشمے نکالنے اور کراڑوں پر پھولوں کی تختہ بندی کرنے کے لیے جی توڑ مشقت کرنے جا رہے تھے، تاکہ آنے والے زمانوں میںصبح سویرے بڑے بڑے جہازوں کے مسافر سمندر پر آتی ہوئی پھولوں کی مہکار سے گھٹ کر جاگ اٹھیں، اور کپتان کو اپنی پوری وردی، اپنے اسطرلاب، اپنے قطب تارے اور جنگ میں کمائے ہوے اپنے تمغوں سمیت عرشے پر اتر کر آنا پڑے، اور پھر سامنے افق پر گلابوں کی پٹی کی جانب اشارہ کرتے ہوے وہ چودہ زبانوں میں کہے: اُدھر دیکھو جہاں ہوا اتنی پُرسکون ہے جیسے کیاریوں میں پڑی نیند لے رہی ہو، اُدھر جہاں دھوپ اتنی روشن روشن ہے کہ سورج مکھی بھی حیران ہے کہ کدھر منھ کرے، وہاں اُس طرف، وہی ایستے بان کا گاؤں ہے۔

آج اور اجمل کمال کے تعاون سے شائع کی جانے والی مزید تحاریر اور تراجم پڑھنے کے لیے کلک کریں۔
Categories
فکشن

ہیلو مایا

للت منگوترہ
مترجم: جنید جاذب

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ کہانی کچھ یوں میرے من میں آئی جیسے کسی انجان جگہ سے کوئی ننھی منی، نازک سی چڑیا اڑتی ہوئی آئے اور صدیوں سے چپ چاپ کھڑے برگد کے اس پیڑ کی ایک ٹہنی پر آ ن بیٹھے۔ اور پھر، پل بھر کے لئے سارے ماحول میں شوخ رنگوں اور سریلی آوازوں کا جادو بکھیرکر، جھٹ سے کہیں اُڑ جائے۔۔۔۔۔کہیں دور،بہت دور۔ خیر،آپ کہانی سنئے!

کار سے اترکر آہستہ سےاس نے کار کا دروازہ بند کیا۔ آگے بڑھ ہی رہا تھا کہ وہ سامنےآگئی۔ایک ادھیڑ عمر خاتون جس کے گھنے کالے بالوں میں اب چاندی کی دھاریاں شامل ہو چکی تھیں۔وہ مسکرائی۔مسکراتے ہوئے اس کے لب ہلکے سے ایک جانب ڈھلک کر کچھ ترچھے سے ہو گئے۔ترچھے ہونٹوں کے پیچھے سے دانتوں کی سفید قطار چمکی۔اپنی یاداشت میں محفوظ یہ مسکراہٹ اس نے فوراً پہچان لی اور خود بھی مسکرادیا۔

“ہیلو مایا”
“ہیلو شیکھر”
“تم اگر مسکراتی نہیں تو میں تمھیں نہیں پہچانتا”
“تم بھی گاڑی سے اترکر سر کو یوں جھٹکا نہ دیتے جیسے بالوں سے پانی جھٹک رہے ہو تو میں بھی تمھیں نہ پہچان پاتی”

“کتنے سال ہوگئے ہوں گے”
“یہی کوئی تیس سال”
دونوں پھر ہنس دیے۔

جوانی کی یادوں کی خوشبو باہیں پھیلاتی ہوئی آس پاس بکھر گئی۔شیکھر نے سوال کیا،”کسی خاص کام سے جارہی ہو؟”
“نہیں بس ایسے ہی نکلی تھی۔ ایک مدت کےبعد یہاں آئی ہوں۔۔۔۔۔تم کدھر۔۔۔۔؟کسی کام سے جارہے ہوشاید؟”
کوشش کرنے کے باوجود شیکھر کو یاد نہیں آیا کہ وہ کس کام سے نکلاتھا۔”نہیں۔۔۔ میں ں ں فری ہوں،ایک پرندے کی طرح فری”اس نے بانہیں پھیلا دیں جیسے سچ مچ اڑنے لگا ہو۔مایا قہقہہ مار کر ہنس دی اور بولی “تو پھر چلو ہم دونوں اُڑتے ہیں۔۔۔۔ اس نیلے آسمان کی وسعتوں میں”۔

شیکھر نے سر اٹھاکر آسمان کی جانب دیکھا۔ آسمان واقعی کسی صوفی سنت کے ذہن کی طرح شفاف اور گہرا تھا۔من کو کسی انوکھی گہرائی کا احساس دلانے والا نیلا پن اس نے مدتوں بعد دیکھا تھا۔
” چلو اُڑتے ہیں۔۔۔مگر کہاں،کس طرف؟”
“کہیں بھی۔۔۔۔کسی بھی طرف چلو۔اڑنے کا لطف اڑان میں ہے کسی خاص طرف میں نہیں” مایا نے جواب دیا۔
شیکھر ہنس دیا”تو تشریف لائیے” کار کا اگلا دروازہ کھولتے ہوئے اس نے کہا۔

گاڑی ملائم سیدھی سڑک پر جیسے تیررہی تھی۔ڈرائیو کرتے ہوئے شیکھر نے مسکراکر مایا کی طرف دیکھا۔وہ سامنے سڑک پر دیکھ رہی تھی اور ساتھ ساتھ مسکرا رہی تھی۔”تمھیں یاد ہے جب میں نے پہلی بار اپنے پیار کا اظہار کیا تھا؟”
“وہ دن بھلا کوئی کیسے بھول سکتا ہے”مایا نے گہری نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔

شیکھر یادوں میں کھو گیا۔اس دن اس نے کالج میں اپنے نئے دوستوں اور کچھ ہم جماعتوں کے لئے ایک پارٹی رکھی تھی۔جب سب لوگ آگئے تو اس نے بتایا کہ دراصل اس روز اس کا جنم دن تھا۔موقعہ ملتے ہی مایا کو اکیلا پاکر وہ پاس چلا گیا۔

“تم نے مجھے کوئی تحفہ نہیں دیا؟”شیکھر نے شرارت سے پوچھا تھا۔

“میں تو ایسے ہی چلی آئی تھی۔مجھے کیا پتہ آج تمھارا جنم دن ہے” وہ کچھ معصومیت سے بولی۔
“اب تو پتہ چل گیاہے”
“ٹھیک ہے۔تحفہ مل جائے گا”۔
اس کے بعد جب بھی وہ مایا سے ملتا پوچھ بیٹھتا”تحفہ نہیں دو گی؟” اور مایا مسکرادیتی”مجھے کیا پتہ تمھیں کیا پسند ہے”
اور یہ سلسلہ کئی روز تک چلتا رہا۔ ایک دن سیڑھیوں کے آخری زینے پہ کھڑی مایا نے اس کے روایتی سوال کے جواب میں کہا کہ مجھے کیا معلوم تمھاری پسند کیا ہے تو وہ چپ نہ رہا
“تیری پسند کیا ہے یہ مجھ کو نہیں خبر

میری پسند یہ ہے کہ مجھ کو ہے تو پسند” شیکھر نے بالی وڈ گانے کا سہارا لے لیاتھا۔
لیکن اتنا کہنے کے بعد وہ مایا کے چہرے پہ ابھرے تاثرات دیکھے بنا ہی فوراً پلٹا اور ایک بار بھی پیچھے دیکھےبغیر سیدھا آگے بڑھ گیا۔
اس نے ڈرائیو کرتے ہوئے وہی گانا گنگنایا۔

“تیری پسند کیا ہے یہ مجھ کو نہیں خبر
میری پسند یہ ہے کہ مجھ کو ہے تو پسند”
مایا پھر زور سے ہنس دی۔
“تمھیں مجھ سے ایسا کچھ سن کر کیسا لگا تھا؟”شیکھر نے بات چھیڑی۔

“تمھیں ایسا کچھ کہہ کر کیسا لگا تھا؟”مایا نے سوال کے جواب میں سوال داغ دیا۔شیکھر تھوڑی دیر تک خاموش رہا۔پھر بولا
“ہاں یہ بات بھی سوچنے کی ہے کہ یہ کہنا زیادہ رومانٹک ہے کہ میں تمھیں پیار کرتا ہوں یا جسے کوئی من ہی من میں چاہتاہو اس سے یہ سننا کہ وہ تمھیں پیارکرتا ہے؟”

“مگر تم نے بتایا نہیں کہ تمھیں یہ کہہ کرکیسا لگا تھا؟”مایا نے اصرار کیا۔

“ہاں۔۔۔۔اس وقت یہ کہتے ہوئے سوائے اپنے دل کی دھک دھک کے مجھے اور کچھ خاص محسوس نہیں ہوا تھا” کچھ دیر سوچتے ہوئے وہ پھر گویا ہوا۔
“دیکھا جائے تو جب کوئی چیز واقع ہورہی ہو ٹھیک اسی لمحے تم دکھ یا سکھ کے تجربے سے نہیں گزرتے۔حال اس قدر تیزرو ہوتا ہے کہ اس کا ‘ح” بولنے میں ہی یہ بیت کر ماضی میں گھُل مِل چکا ہوتا ہے۔اتنے مختصر اور اُتاولے لمحوں میں تم کچھ بھی محسوس نہیں کرسکتے۔اس پل کی مٹھاس یا کڑواہٹ کا احساس اس وقت ہوتا ہے جب وہ یادوں کے گُچھے کا حصہ بن چکا ہوتا ہے۔جب میں نے تمھیں یہ کہاتھا کہ میں تمھیں چاہتا ہوں اس وقت تو وہ پل بیت چکا تھا۔ لیکن اس کےبعد دیر تک میں اپنے کہے اس فقرے کے سرور میں غرق مست ہواؤں میں اڑتا آسمان کی بلندیوں میں گھومتا رہا”۔

شیکھر نے ایک ہوٹل کے باہر کار پارک کردی۔سیڑھیاں چڑھ کر وہ بالکونی میں لگی کرسیوں پر جا بیٹھے۔سامنے وسیع و عریض وادی اور اس میں مچلتا دریا،ہوا میں پھیلی نیلاہٹ بھری مخملی دھند کے اس پار پہاڑوں کی قطاریں دِکھ رہی تھیں۔شیکھر کے آرڈر پر گرما گرم کافی کے ساتھ چکن پیٹیز اور مایا کے پسندیدہ کرارے کرارے ساگ پکوڑے آ گئے تھے۔

شیکھر نے ایک طرف کھڑے لمبے قد کے گورے چٹے ویٹر کو پاس بلایا،” یار آج تو مزہ ہی اور ہے۔شیف بدل گیا یا ریسیپیز نئی ٹرائی کررہے ہو؟”
ویٹر،جس کا چہرہ مانو مسکرانے کے لئے ہی بنا تھا مسکراتے بولا،” نہیں سر،ایسا کچھ نہیں۔شیف بھی وہی ہے اور رسیپیز بھی وہی پرانی۔سب کچھ روز کی طرح کا ہی ہے سر”۔

مایا کی طرف دیکھتے ہوئے ویٹر کی مسکراہٹ مزید نکھر گئی جسے چہرے پر سجائے وہ اندر چلا گیا۔
میز پر ٹکے مایا کے ہاتھوں پر نرمی سے اپنے ہاتھ رکھتے ہوئے شیکھر نے پوچھا،”مایا تم بھی تو بتاؤ جب میں نے تمھیں کہا تھا کہ تم مجھے پسند ہو تو تمھیں کیسا لگا تھا؟”

مایا دھند کی چادر میں لپٹی وادی کو نہارتے ہوئے بولی،”یہ بتانے کے لئے کہ مجھے کیسالگا تھاالفاظ کم پڑ جائیں گے۔پر تمھیں یاد ہے جب تم نے یہ بات کہی تھی تب میں اپنے گھر کے دروازے کی پہلی سیڑھی پہ کھڑی تھی۔مگر سچ بتاؤں تو جب تم نے ایک بار اکیلے میں مجھ سے پوچھا تھا کہ مجھے کیسا انسان پسند ہے میں تبھی سمجھ گئی تھی کہ تم ایسا ہی کچھ کہنے والے ہو۔بلکہ اندر اندر سے تو میں اس کی منتظر بھی تھی۔اصل میں تم نے چاہے منہ سے نہیں بولا تھا لیکن تمھارا چہرہ،تمھاری آنکھیں اور تمھارا سارا وجود یہ سب پہلے ہی کہہ چکا تھا۔اوراس دن جب تم نے یہ کہا تھا، تو کہتے ہی جھٹ سے مڑ کر واپس چل دئے تھے۔میں کچھ دیر جوں کی توں کھڑی تمھیں جاتے دیکھتی رہی اورپھر اندر چلی گئی۔مجھے لگا تھاجیسے ہمارے گھر میں نئی سفیدی کی گئی ہو، جیسے گملوں میں رکھے پودوں کے پتے زیادہ ہرے اور تروتازہ ہوگئے ہوں اور پھولوں کے رنگ اور بھی گہرے ہو چلے ہوں۔میں نے محسوس کیاتھا جیسے وِوِدھ بھارتی کی بورنگ ٹیون اصل میں کتنی میٹھی اور سریلی ہے۔مجھے لگاتھا جیسے برتن مانجھتی کام والی باہگڑی لڑکی کی آنکھیں کتنی سندر اور چمک دار ہیں۔مجھے لگا کہ یہ زندگی کتنی حسین اور جینے لائق ہے۔

مایا نے چہرہ شیکھر کی طرف گھمایا اور اپنا دوسراہاتھ بھی اس کے ہاتھ پر رکھ دیا۔ ڈوبتے سورج کی سنہری کرنوں نہائی مایا کی چمکیلی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے شیکھر بولا،”جب تمھارے دل میں کسی کی محبت کاغنچہ پھوٹتا ہے تو اس کے توسط سے دراصل تم کائنات کے حسن کو اس کی آخری حدوں تک دیکھ اور محسوس کرنے کی اہلیت اور صلاحیت پا لیتے ہو۔میں نے بھی یہ محسوس کیا کہ تمھیں پیار کرنے کے بعد میں اپنی جان پہچان کے ہرانسان سے محبت کرنے لگا ہوں”

شیکھر نے کافی کا گھونٹ بھرا۔کسی پرانی یاد پہ وہ بے ساختہ ہنس دیا۔ہلکے سے مایا کا ہاتھ دباتے ہوئے بولا،”مایا تمھیں وہ یاد ہے ایک بار جب آدھی رات کو ہم چور کو ڈھونڈھنے نکلے تھے؟”
”کون سااااا۔۔۔۔؟” مایا نے ذہن پہ زور ڈالتے ہوئے پوچھا۔

”ارے وہی جب آدھی رات کو تمھارے آنگن میں ہوئی کھڑکھڑاہٹ سن کر تمھارے پڑوسی کے نوکر نے ہلہ مچا دیا تھا کہ تمھارے گھر میں چور گھس آیا ہے۔اور پھر سارے پڑوسی،جن میں میں بھی شامل تھا، ہاتھوں میں ٹارچیں لئے گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ چور کو ڈھونڈھتے رہے۔چور خاک ملنا تھا۔وہ آواز تو مجھی سے ہوئی تھی،تمھارے کمرے کی کھڑکی سے کودتے ہوئے ” وہ زور سے ہنسا اور محلے والوں نے تو چوری کی واردات سے بچنے کے لئے محلہ چوکسی کمیٹی تک بناڈالی تھی۔کچھ یاد آیا؟”

مایا مسکرائی،”تمھیں کچھ دھوکہ ہورہا ہے۔نہ مجھے کوئی ایسا واقعہ یاد ہے اور نہ ہی تمھارا گھرہمارے پڑوس میں تھا”۔
”ارے نہیں تم بھول گئی ہو۔تم لوگوں نے خود اپنا گھر بدلا تھا اور ہمارے پڑوس میں آکر کرائے پر رہنے لگے تھے”
”کوئی اور آیاہوگا۔۔۔”مایا ہنس دی۔”ہم نے تو کبھی اپنا مکان نہیں بدلا”
شیکھر ایک قہقہ ہوا میں بکھیر دیا۔

”مایا تمھاری مذاق کی عادت اب تک گئی نہیں”۔
مایا مسکراتی رہی۔اسے اس طرح مسکراتا دیکھ کر شیکھر بول پڑا،”اب یہ نہیں بولنا کہ تمھیں وہ بھی یاد نہیں جب میں تمھارا ہاتھ مانگنے تمھارے پاپا کے پاس آیا تھا”

مایا کی مسکراہٹ میں شرارت سی شامل ہو گئی ”او کے۔۔۔تم بتاؤ پھرکیا ہواتھا۔ممکن ہے مجھے بھی یاد آ جائے”اس نے اتساہ سے شیکھر کی اور دیکھا۔شیکھر پہلے تو قہقہے مار مار ہنستا رہا پھر شرارت بھری نظروں سے مایا کو دیکھ کرگویا ہوا،” ان سے بات کرنے کی ہمت مجھ میں تھی نہیں۔میرے دوستوں، جوشی اور سلاتھیا،نے ایک راستہ نکالا۔تمھاری گلی کے باہر بازار میں ایک وائن شاپ ہوا کرتی تھی۔وہ مجھے وہاں لے گئے اور وہسکی کا ایک گلاس میرے حلق سے اتار کر مجھے تمھارے گھر کی طرف دھکیل دیا۔لیکن راستے میں میں پھر حوصلہ ہارگیا۔انھوں ایک اور پیگ پلایا اور پھرتمھارے گھر کی طرف موڑ دیا۔لیکن وہ بھی کام نہ آیا۔اس طرح تمھارے گھر پہنچنے سے پہلے میں سات پیگ اندر کرگیا تب جاکر کہیں تمھارے گھر تک پہنچ پایا۔لیکن اس حالت میں میں تمھارے اور تمھارے ہمسائے گھر کو پہچاننے کی پوزیشن میں نہیں رہا تھا۔سچ پوچھو تو اب ذہن ہی کام نہیں کررہاتھا۔بڑی ابتر حالت میں کسی طرح میں نے تمھارے گھر کی ڈور بیل پر ہاتھ رکھا۔تمھارے پاپ نے دروازہ کھولا۔انھیں سامنے پاکر،منصوبے کے مطابق، میں فوراً ان کے پاؤں چھونے کے لئے جھکا۔تمھارے پاپا نے مجھے اوپر اٹھانے کی کوشش کی لیکن میں تو نشے میں دھت تھا”شیکھر پھر ہنس دیا۔ مایا بھی ہنس دی۔

”مجھے آج تک پتہ نہیں کہ اس کے بعد تم پر کیا بیتی”
”مجھ پہ کیا بیتنی تھی”،مایا مسکرائی،”تمھیں دھوکا ہورہاہے۔تم کبھی اس طرح میرے گھر نہیں آئے۔اور ہاں میرے گھر کے آس پاس کہیں کوئی بار نہیں ہے”
”یہ کیسے ممکن ہے کہ میں تمھارے گھر نہیں آیاتھا؟” اس کا جوش ایک دم سے کچھ سرد پڑ گیا
موقعے کا مزہ لیتے ہوئے مایا ہنسی۔پھر بولی،”تم ضرور کسی اور کے گھر گئے ہوگے۔جس حالت میں تم تھے،تمھیں کیا ہوش کس کے پاپا کے پاؤں چھو رہے ہو”
شیکھر کے چہرے پر ہنسی کی جگہ حیرانی امڈ آئی۔
”اچھا کیا تمھیں وہ یاد ہے جب گوا میں تم نے بے ہوش ہو جانے کا ناٹک کیا تھا اور میں نے منہ سے منہ لگا کر تمھاری سانسیں بحال کی تھیں؟”۔
”نہیں مجھے یاد نہیں” مایا کا جواب تھا۔
”اور جب میں نے سینڈ وچ میں لپیٹ کر تمھیں خط دیا تھا جسے تم کھا گئی تھیں؟”
”نہیں”
”مایا تم سچ کہہ رہی ہو۔ سچ مچ تمھیں کچھ بھی یاد نہیں؟”شیکھر نےتعجب سے سوال کیا
”یہ میری یاد کا مسئلہ نہیں۔اس طرح کی کوئی بات کبھی میرے ساتھ نہیں ہوئی۔یہ سب ممکن ہے کسی اور لڑکی یا لڑکیوں کے ساتھ ہوا ہو۔مجھے کیسے یاد ہو گا؟”

شیکھر کی حیرانی تیزی سے بے چینی میں بدل رہی تھی۔
”لیکن شیکھر !کیا تم یہ سب سچ کہہ رہے تھے” مایا شیکھر کی الجھن صاف محسوس کرہی تھی۔
شیکھر نے اثبات میں سرہلایا،”یقیناًً”
”اگر تمھیں اتنا سب کچھ یاد ہے تو پھر اس سے فرق نہیں پڑتا کہ کسی دوسرے کو بھی کچھ یاد ہے یا نہیں۔تم اپنی یاد کے ساتھ جیو۔اگر یہ واقعی تمھاری یادداشت کا جز ہے تو یہی سچائی ہے۔تم بے فکر رہو”

شیکھر کو لگا مایا صحیح کہہ رہی ہے۔اس نے ایک نظر سامنے پھیلی وادی پرڈالی اور ایک گہری سانس بھرتے ہوئے گھاٹی کی ہوا کو محسوس کیا۔پھر بولا،”واہ کیا نظارہ ہے”

”تم روز یہاں آتے ہو؟”
”نہیں”
”کیوں نہیں آتے؟”مایا نے تعجب سے پوچھا
”دوسرے کاموں میں مصروف ہوتا ہوں”
مایا نے مزید حیرانی سے سوال کیا،” اس وادی کی بے پناہ خوب صورتی کا لطف لینے سے زیادہ اہم بھی کوئی کام ہو سکتاہے؟”
شیکھر کچھ حیرانی سے بولا،”شاید نہیں”
تھوڑے توقف کے بعد مایا نے کہا”ہمیں چھت پر جا کر اس کا نظارہ کرنا چاہیے۔نہیں؟”
شیکھر نے مسکراتے ہوئے ویٹر کو بلا کر چھت پر جانے کا راستہ پوچھا
” یہاں دیکھئے۔۔۔۔یہ آپ کے سامنے۔۔۔یہ سیڑھیاں اوپر جاتی ہیں” ویٹر نے ایک طرف اشارہ کرتے ہوئے پروفیشنل تابعداری کے ساتھ کہا۔ رنگ برنگی ریشمی رسیوں سے بنی سیڑھی ٹھیک ان کے سامنے لٹک رہی تھی۔شیکھر کی حیرت کو بھانپتے ہوئے ویٹر نے کہا،”یہ خاص طور سے ان مہمانوں کےلئے بنائی گئی ہیں جو چھت پرسےوادی کا نظارہ کرنا چاہتے ہیں”

دونوں اپنی اپنی کرسیوں سے اٹھے اور چھت پر جانے والی سیڑھی کی طرف بڑھ گئے۔مایا آگے اور اس کے پیچھے شیکھر۔وہ سیڑھی کو پکڑ کر اوپر چڑھنے لگی۔اس نے ابھی تین چار سیڑھیاں ہی چڑھی ہوں گی کہ ریشمی رسی پر سے اس کے ہاتھ پھسل گئے۔ چشم زدن میں سیڑھی اس کے ہاتھوں سے چھوٹ گئی۔مایا نیچے گر گئی۔مگر یہ کیا ؟وہ نیچے گرنے کے بجائے ہوا میں تیرتی ہوئی وادی کی طرف جیسے اڑنے لگی۔ اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے وہ کسی پرندے کی طرح اڑتی ہوئی وادی کے اوپر پھیلتی دھند میں روپوش ہوگئی۔شیکھر بس دیکھتا رہ گیا۔

شیکھر کو جھٹکا سا لگا۔ پاس سے بھاگتی ہوئی گاڑی کے تیز ہارن نے اسے واپس موڑا۔وہ ابھی اپنی کار کے ساتھ کھڑاتھا۔اس نے ابھی کار کا دروازہ بند کیا تھا بلکہ ایک ہاتھ ابھی بھی ہینڈل پہ ٹکا تھا۔ اسی جانی پہچانی مسکراہٹ کے ساتھ وہ ادھیڑ عمر عورت اس کی طرف آ رہی تھی۔

اس نے بڑھ کر کہا، ”ہیلو مایا”
‘ہیں ں ں ں؟” خاتون حیرت سے تکنے لگی۔
شیکھر تھوڑا جھجک گیا۔پھر مخاطب ہوا،”آ اآپ مایا ہیں نا؟”
”جی نہیں”
شیکھر نے عادتاً اپنا سر جھٹکا، لیکن خاتون نے، ”ہیلو شیکھر” نہیں کہا۔اس کی آنکھوں میں جان پہچان کی کوئی چمک نہیں کوندی۔

Categories
شاعری

نزار قبانی کی رومانی شاعری

[blockquote style=”3″]

“معروف عربی شاعر نزارقبانی کا عملی دورانیہ بیسویں صدی کے نصفِ ثانی پر محیط ہے، ان کے اشعار، نقوشِ فکر اور ان کے رنگارنگ تخیلات مسلسل ایک نسل سے دوسری نسل کی طرف منتقل ہورہے ہیں، نزارقبانی 30 اپریل 1998ء کو وفات پاگئے، مگر ان کا ادبی، شعری و تخلیقی کارنامہ اپنی قوت و انفرادیت کی بدولت ہنوز تازہ و شاداب ہے۔ نزارقبانی نے اپنے باہم متناقض افکار و شعریات کے ذریعے پوری زندگی ادبی و فکری سطح پر ایک قسم کا ہیجان برپا کئے رکھا، وہ بیسویں صدی کے نصفِ آخر کے عربی معاشرے کے تضادات کو ان کی حقیقی شکل وصورت میں بیان کرتے تھے۔ وہ واحد ایسے عربی شاعر تھے جس نے ایک طویل زمانے سے قائم معاشرتی رسوم و رواج کے خلاف پوری جرأت و ہمت سے ہلہ بولا۔ اس نے بھرپور آزادی اور باغیانہ تیور کے ساتھ جہاں ایک طرف فکری، عملی اور شعوری سطح پر اس وقت کے عالمِ عربی کو درپیش مسائل پر اظہارِ خیال کیا وہیں معاشرتی منکرات اور حرام و حلال جیسے نازک موضوعات بھی اس کی ناوک افگنی سے محفوظ نہ رہے۔”

نزّار قبانی عرب دنیا کا ایک معروف نام ہے۔ وہ شام میں پیدا ہوئے اور وہیں پلے بڑھے۔ قانون کی تعلیم حاصل تو کی مگر کبھی عملی طور پر قانون دان یا منصف کی ذمہ داریاں ادا نہیں کیں۔ ملازمت کے طور پر انہوں نے سفارت کاری کا انتخاب کیا اور وہ ملک شام کی طرف سے کئی ملکوں میں سفیر کے فرائض سرانجام دیتے رہے۔ ملازمت کے بعد ڈیڑھ دہائی تک یورپ میں مقیم رہے اور 30 اپریل 1998ء کو ان کا انتقال ہوا۔

نزّار قبانی زمانہء طالب علمی سے ہی شاعری لکھنا شروع کر چکے تھے اور یہ زیادہ تر رومانوی شاعری ہوتی تھی۔ دوسری عالمی جنگ نے آدھی سے زیادہ دنیا کو متاثر کیا اور پھر اس جنگ کے خاتمے کے بعد عالمی سطح پر بڑی بڑی تبدیلیاں بھی آئیں۔ اس دور کی عرب دنیا کو نزّار قبانی نے بہت غور سے دیکھا اور انہوں نے عربوں کی حالت زار اور ان کے رویئے کو اپنی شاعری کے ذریعے تنقید کا نشانہ بنایا۔

انہوں نے فلسطین کی سرزمین پر اسرائیل کے غاصبانہ قبضے کے خلاف بھی بھرپور آواز اٹھائی۔ وہ آخر تک استبداد کی مخالفت میں مزاحتمی شاعری کرتے رہے۔

ذاتی زندگی میں وہ ایک نہایت دکھی انسان تھے جن کی پہلی بیوی شادی کے فوراً بعد ہی ایک بم دھماکے میں جاں بحق ہوگئی۔ جس کے بعد انہوں نے اپنی ایک پرانی دوست کے ساتھ دوسری شادی کی اور ان کا بھی جلد انتقال ہو گیا۔ اس کے علاوہ ان کا بیٹا ایک ٹریفک حادثے میں چل بسا۔ اصل زندگی کی تلخیوں سے انہوں نے ایسی شاعری کشید کی کہ جس میں مزاحمتی کڑواہٹ کے علاوہ رومانوی مٹھاس بھی شامل ہے۔

ان کی رومانوی شاعری کے حوالے سے سنگِ میل پبلی کیشنز نے ‘محبت کی 101 نظمیں’ کے عنوان سے ایک کتاب بھی شائع کی ہے جس میں ان کی نظموں کے منظوم تراجم آنجہانی منّو بھائی نے کئے ہیں۔ اس مجموعے میں شامل نظموں کے علاوہ ‘ایک روزن’ کے قارئین کیلئے ہم نے نزّار قبانی کی کچھ مزید رومانوی نظمیں ترجمہ کی ہیں۔ ہر نظم کے آخر میں دیئے گئے ویب لنک سے یہی نظم عربی اور انگریزی میں بھی پڑھی جا سکتی ہے۔

[/blockquote]

مجھے جب محبت ہوتی ہے

مجھے جب محبت ہوتی ہے
تو لگتا ہے میں وقت کا شہنشاہ بن گیا ہوں
زمین اور جو کچھ بھی اس میں ہے، میری ملکیت بن چکا ہے
اور میں گھوڑے پر سوار سورج کی سیر کو نکل کھڑا ہوتا ہوں۔

مجھے جب محبت ہوتی ہے
تو میں بہتی ہوئی روشنی میں ڈھل جاتا ہوں
کہ نظر جسے دیکھ نہ سکتی ہو
اور میری ڈائریوں میں لکھی نظمیں
ببول اور پوست کے کھیت بن جاتی ہیں۔

مجھے جب محبت ہوتی ہے
پانی میری انگلیوں سے پھُدک کر بہہ نکلتا ہے
گھاس میری زبان پر اُگنے لگتی ہے
جب میں محبت کرتا ہوں

میں اس سبھی وقت سے باہر کا کوئی وقت بن جاتا ہوں۔

جب مجھے کسی عورت سے محبت ہوتی ہے
تو تمام درخت میری طرف
ننگے پائوں دوڑنے لگتے ہیں۔

http://www.adab.com/en/modules.php?name=Sh3er&doWhat=shqas&qid=56


محبت کا گَر موازنہ کیجے

میری جانِ من میں تمہارے باقی چاہنے والوں جیسا نہیں ہوں
اگر کوئی دوسرا تمہیں بادل لا کر دیتا ہے
تو میں تمہیں بارش پیش کروں گا
اگر وہ تمہیں لالٹین عطا کرتا ہے، تو میں
تمہیں چاند لا کر دوں گا
اگر وہ دے تمہیں ایک شاخ
تو میں تمہیں پیڑ کے پیڑ لا دوں گا
اور اگر کوئی دوسرا تمہیں بحری جہاز لا کردے
تو میں تمہیں سفر تحفہ کروں گا۔

http://www.adab.com/en/modules.php?name=Sh3er&doWhat=shqas&qid=55


جب میں تم سے محبت کرتا ہوں

جب میں تم سے محبت کرتا ہوں
ایک نئی زبان پُھوٹ پڑتی ہے
نئے شہر، نئے ملک دریافت ہونے لگتے ہیں
گھنٹے ننّھے کتوں کی مانند سانس لینے لگتے ہیں
کتابوں کے صفحوں کے بیچ سے اناج کے خوشے اُگ آتے ہیں
پرندے تمہاری آنکھوں سے شہد کی بوندیں چُرا کر اڑنے لگتے ہیں
انڈین پھلیوں سے لدے قافلے تمہارے پستانوں سے روانہ ہونے لگتے ہیں
ہر طرف آم ہی آم گرنے لگتے ہیں
جنگل آگ پہن لیتے ہیں
اور چہارسُو نیوبین ڈھول بجنے لگتے ہیں۔

جب میں تم سے محبت کرتا ہوں
تمہاری چھاتیاں لاج شرم جھٹک دیتی ہیں
یہ نُور میں بدل جاتی ہیں، گرج دار ہو جاتی ہیں
تلوار لگنے لگتی ہیں اور ایک ریتلا طوفان بن جاتی ہیں
جب میں تم سے محبت کرتا ہوں تو عرب شہر چھلانگنے لگتے ہیں
اور ڈٹ جاتے ہیں صدیوں کے استبداد کے خلاف
اور انتقام کے خلاف جو قبائلی قوانین کی آڑ میں ان سے لیا جاتا رہا
اور میں، جب میں تم سے محبت کرتا ہوں
تو مارچ کرنے لگتا ہوں
بدصورتی کے خلاف
نمک کے بادشاہوں کے خلاف
صحرا کو ادارہ جاتی بندوبست میں جکڑنے کے خلاف
اور میں تب تک تمہیں چاہتا رہوں گا جب تک کہ دنیا کا سیلاب نہیں آن پہنچتا
میں تب تک تم سے یونہی محبت کرتا رہوں گا جب تک کہ دنیا کا سیلاب نہیں آن پہنچتا۔

http://www.adab.com/en/modules.php?name=Sh3er&doWhat=shqas&qid=61


میری محبوبہ مجھ سے پوچھتی ہے

میری محبوبہ مجھ سے پوچھتی ہے:
‘میرے اور فلک کے بیچ کیا فرق ہے؟’
فرق یہ ہے، میری جان
کہ جب تم ہنستی ہو
میں آسمان کو بھول جاتا ہوں۔

http://www.adab.com/en/modules.php?name=Sh3er&doWhat=shqas&qid=334


اے میری چاہت

اے میری چاہت
اگر تم پاگل پن میں میرے برابر ہوتی
تو تم اپنے گہنے اتار پھینکتی،
اپنے تمام کنگن بیچ کر
میری آنکھوں میں آ کر سو جاتی۔

http://www.adab.com/en/modules.php?name=Sh3er&doWhat=shqas&qid=335


میں جب جب تمہیں چُومتا ہوں

میں جب جب تمہیں چومتا ہوں
ایک لمبی جدائی کے بعد،
مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے
کہ جیسے میں کسی سرخ لیٹر باکس میں
جلدی سے محبت نامہ ڈال رہا ہوں۔

http://www.adab.com/en/modules.php?name=Sh3er&doWhat=shqas&qid=336


روشنی لالٹین سے مقدّم ہے

روشنی لالٹین سے مقدّم ہے
نظم ڈائری سے زیادہ اہم ہے
اور بوسہ لبوں سے زیادہ قیمتی ہے

تمہارے نام میرے خط
ہم دونوں سے زیادہ عظیم بھی ہیں اور مقدم بھی
صرف یہی وہ دستاویز ہیں
جہاں لوگ تلاش کرسکیں گے
تمہارا حسن
اور میرا پاگل پن۔

http://www.adab.com/en/modules.php?name=Sh3er&doWhat=shqas&qid=338

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حالات زندگی
http://www.adab.com/en/modules.php?name=Sh3er&doWhat=ssd&shid=2

شاعری
http://www.adab.com/modules.php?name=Sh3er&doWhat=lsq&shid=7&start=0

Categories
فکشن

نیا والو

تحریر: لارا سالومن
ترجمہ: مبشر احمد میر ۔ گجرات

میرے خاندان میں دل کے امراض عام ہیں۔ میرے والد کو اپنے تیسرے عشرے کے آغاز میں اپنا ایک والو، سور کے والو سے بدلوانا پڑا اور میرے چچا کی وفات پچاس کے پیٹے میں ہارٹ فیل ہونے سے ہوئی۔ میں نیوزی لینڈ کے شہر نیلسن میں واقع فائبر بورڈ کےایک پلانٹ میں ملازمت کرتا ہوں اور میرا دل بھی بڑھا ہوا ہے۔ دو ہفتے قبل انھوں نے تشخیص کی کہ دل کا والو صحیح کام نہیں کر رہا اور صرف نو فی صد خون کو گزرنے دے رہا ہے۔ مجھے نیلسن ہسپتال میں داخل کر دیا گیا اور انھوں نے مجھے بتایا کہ مجھے بذریعہ ہوائی جہاز ولنگٹن جانا ہو گا تاکہ میری اوپن ہارٹ سرجری کر کے والو بدلا جا سکے۔ پہلے ان کا خیال تھا کہ وہ سور کا والو استعمال کریں گےجیسا کہ انھوں نے ابا کے ساتھ کیا تھا لیکن پھر انھوں نے اپنا ارادہ بدل لیا اور کہا کہ میری عمر۔۔۔ تینتالیس برس۔۔۔ بہت کم ہےاور یہ کہ سور کا والو میری ساری زندگی نہیں چلے گا اور یہ کہ وہ اس کے بہ جائے ٹائٹینیم کا استعمال کریں گے۔ میں سموکنگ نہیں کرتا تھا۔ بیمار دل وہ بے کار پتا تھا جو تاش کے کھیل میں میرے ہاتھ آیا تھا۔

میری گرل فرینڈ کیری میرے لیے فکرمند رہتی ہے، میری ولنگٹن پرواز سے پہلے کےدنوں وہ ہسپتال کے گرد منڈلاتی رہی۔ میرے والدین اسے حقارت کی نگاہ سے دیکھتے کیوں کہ وہ سنگل ماں ہے اور مال و دولت نہیں رکھتی، چناں چہ ماحول میں ایک نوع کی کشیدگی پائی جاتی تھی۔ میں نے لطیفے سنا کر ماحول خوش گوار بنانے کی کوشش کی حالاں کہ نیلسن ہسپتال میں کمر کے بل چت لیٹے۔۔۔ یہ سوچتے کہ کب وہ مجھے ولنگٹن لے جائیں گے اور آیا میرا آپریشن کامیاب ہو گا یا نہیں۔۔۔ میرا ہنسنے کا کوئی موڈ نہیں تھا لیکن میں نے ماحول کو تھوڑا سا خوش گوار بنانے کی کوشش کی۔ کیری ایک حساس دل کی مالک ہے جو چاہا جانا پسند کرتی ہے، اس نے میرے والدین کی نخوت کو پسند نہیں کیا۔

“وہ مجھے جانچ رہے ہیں” اس سے مجھے بتایا، “جب کہ انھوں نے میری شخصیت کو سمجھنے کی کوشش تک نہیں کی۔ وہ میرے بارے میں میرے ظاہر سے اندازہ لگا رہے ہیں۔ یہ درست نہیں ہے۔ میں ایک اچھی، مہربان شخصیت کی حامل ہوں،میری نگاہ تمھارے مال پر نہیں۔ میں تمھارے بارے میں فکرمند رہتی ہوں، تم پر جو بیتتی ہے، میں اس کے بارے میں پریشان رہتی ہوں۔ مجھے ہمیشہ تمھارا خیال رہتا ہے۔”

لگتا نہیں کہ میرے والدین کے نزدیک مہربانی اور فکرمندی کی کوئی اہمیت ہے۔ ان کی نگاہ میں اصل اہمیت، دولت، مرتبے اور فرد کے مرتبے کی ہے۔ کیری ڈسٹرکٹ ہیلتھ بورڈ میں بہ طور مددگار کارکن، ایک خاتون، جس کے برین ٹیومر کا آپریشن ہوا تھا، کی نگہ داشت کر رہی تھی، لیکن میرے خاندان کے نزدیک یہ کوئی باعزت کام نہیں تھا۔

اتوار کی فلائیٹ کے ذریعے وہ مجھے ولنگٹن لے گئے۔ اس وقت شدید طوفانی بارش ہو رہی تھی اور میں آنے والے وقت کے تصور سےکانپ رہا تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی افواج نے گزشتہ شب افغانستان میں داعش کے غاروں پر “بموں کی ماں” کو گرایا تھا۔ اس سے چند روز قبل اس نے شام میں ٹام ہاک کروز میزائل داغنے کا حکم دیا تھا جب کہ سال کے آغاز میں یمن میں القائدہ سے متعلق ایک کمپلکس پر فوجی حملہ کیا گیا تھا۔ ٹرمپ خود کو جنگ کا چیمپئن ثابت کر رہا تھا اور لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ تاریخ میں جنگجو صدر کی حیثیت سے جانا جائے گا۔ اگرچہ نیوزی لینڈ آدھی دنیا دور جنوبی اوقیانوس کے نچلے حصّے میں واقع تھا، پھر بھی میں کَہ نہیں سکتا تھا کہ ایسے جارح اور ہوسِ جنگ میں مبتلا صدر کے دور میں زندہ رہنا کیسا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ بم دورانِ جنگ استعمال ہونے والا سب سے بڑا غیر ایٹمی ہتھیار تھا۔ میں نے انٹرنیٹ پر اس کے آزمائشی تجربے کی تصاویر دیکھیں اور اُن لوگوں کے بارے میں سوچا جن کی زندگیاں برباد ہو گئیں۔ امریکا کا دعوا تھا کہ صرف داعش کے ارکان مارے گئے ہیں لیکن میں سمجھتا تھا کہ یہ سب بکواس ہے۔ بم گرائے جانے سے میں نے خود کو حقیر، بے بس اور غیر اہم محسوس کیا، جیسے میری زندگی ایک آن میں ختم کی جا سکتی ہے۔ میرے ذہن کے عقب میں “بموں کی ماں” گونج رہی تھی۔ میرے بڑے آپریشن سے پہلے بمباری نے میرا تذبذب مزید بڑھا دیا تھا۔ آخر کو وہ میرے سینے کی پسلیاں کاٹنے اور میرے دل۔۔۔ وہ عضو جو میری نبض کو متحرک رکھتا ہے، میرے جسم کو خون سپلائی کرتا ہے۔۔۔ کا آپریشن کرنے جا رہے تھے۔ سرجن کے بلیڈ کی صرف ایک لغزش ہو گی اور۔۔۔ روشنی بجھ جائے گی اور کھیل ختم۔۔۔ میرا کیا کرایا سب ختم ہو جائے گا۔ وہ میرے ڈیتھ سرٹیفکٹ پر آپریشن ٹیبل پر دم توڑا، یا، آپریشن تھیٹر میں فوت ہوا، لکھیں گے۔

میں ڈونلڈ ٹرمپ اور اس کی حرکتوں سے پریشان تھا۔ امریکیوں کے اسے ووٹ دینے کا کیا مطلب تھا؟ کہیں ایسا تو نہیں تھا کی ڈونلڈ کو ووٹ دینا ہلیری کے خلاف ووٹ دینا تھا اور اس طرح یہ اس امر کی علامت تھی کہ تاحال امریکا انتہائی پرکشش تھا؟ میرے پاس ان سوالوں کا کوئی جواب نہیں تھا لیکن اس کے باوجود میرے ذہن میں سوالات اٹھنے ختم نہیں ہوئے۔

ہسپتال کا ایک اردلی مجھے ائیر پورٹ پر ملا اور اپنے ہم راہ ایک ٹیکسی میں ہسپتال لے گیا۔ انھوں نے مجھے وارڈ نمبر ۶ جنوبی میں رکھا۔ میری ایک جانب وین تھا جس کا ٹرپل بائی پاس ہونا تھا اور دوسری جانب کیرن۔۔۔ ایک سموکر۔۔۔ تھی، جس کے پھیپھڑے کے ٹیومر کا آپریشن تھا۔ وارڈ نمبر ۶ جنوبی ستم ظریفی کا مکمل مظہر تھا۔ کسی آدمی نے کیرن کو گلابی۔۔۔ صحت مند پھیپھڑوں کا رنگ۔۔۔ للی کے پھولوں کا گُل دستہ بھیجا تھا۔ جب کہ کسی دوسرے نے Get Well Soon چھپا ہوا غبارہ وین کے بستر کی پائینتی سے باندھا تھا۔ اس ساری بناوٹی خوش دلی اور حوصلہ افزائی سے مجھے اپنی طبعیت مزید بگڑتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔ میرا بستر فی الحال بے رنگ تھا۔ تاہم میں ابھی ابھی پہنچا تھا، چناں چہ ابھی وقت تھا۔

میری سوچوں کا دھارا میری گرل فریننڈ کیری کی جانب مڑ گیا اور میں سوچنے لگا، آیا وہ مجھے کوئی تحفہ۔۔۔ کوئی کارڈ، کچھ چاکلیٹ یا چند پھول۔۔۔ بھیجے گی؟ کیری نیلسن یونی ورسٹی سے ایڈوانس فکشن کا کورس کر رہی تھی۔ اور ان کے نصاب میں شامل کہانیوں میں سے ایک سٹیفن کنگ کی “پوسٹ مارٹم روم نمبر ۴” بھی تھی۔ میں نے بھی یہ کہانی پڑھی تھی، اس کہانی نے تو گویا میری روح فنا کر دی۔ یہ کہانی ایک ایسے آدمی کے بارے میں ہے، جسے سانپ مفلوج کر دیتا ہے۔ اسے مردہ قرار دے دیا جاتا ہے، جب کہ عین اس وقت جب وہ اس کا پوسٹ مارٹم کرنے جا رہے ہوتے ہیں وہ حواس کا حامل ہوتا ہے لیکن بول نہیں سکتا اور نا ہی حرکت کر سکتا ہے۔ایک ایسی کہانی جس کے بارے میں آپ ایک بڑے آپریشن سے پہلے سوچنا پسند نہیں کریں گے۔

میں اپنا لیب ٹاپ اپنے ساتھ لایا تھا۔ میں نے ایک اردلی سے پوچھا کہ کیا مجھے وائی فائی کا پاس ورڈ مل سکتا ہےتاکہ میں دینا کے حالات سے آگاہ رہوں اور اپنے ذہن کو “پوسٹ مارٹم روم نمبر ۴” کی سوچوں سے توجہ ہٹا سکوں۔ اس نے مہربانی کی اور کہنے لگی، “پریشان نہ ہو، زیادہ سوچنے سے گریز کرو۔ کل تمھارا ایک بڑا آپریشن ہے۔” میں مسکرایا اور اثبات میں سر ہلایا، پھر کمپیوٹر لاگ اون کر لیا۔

اس وقت ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انتہائی طاقت ور بحری بیڑے کو خلیجَ کوریا کی جانب روانہ کیا تھا اور ٹوئیٹر کے ذریعے شمالی کوریا کو متنبہ کیا تھا کہ وہ مصیبت کو دعوت دے رہا ہے۔۔۔ تلواروں کی جھنکار، فوجی قوت کا اظہار۔ اگرچہ صدر نے اس کی تردید کی تاہم کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ افغانستان پر بم باری کے ذریعے ٹرمپ شمالی کوریا میں کم یونگ بن کو پیغام بھیج رہا تھا۔ اِدھر، نیچے، بحرِ اوقیانوس کے نیچے جنوب میں، میں بستر میں پڑا اپنے بڑے آپریشن کا منتظر تھا۔ اُدھر وہاں، نارتھ ہمپشائر میں، دنیا کی سٹیج پر خبطِ عظمت کا روپ دھارے دو کردار اکڑ دکھا رہے تھے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ دہشت گردی اور شمالی کوریا دنیا کے لیے شدید خطرہ تھے، لیکن کیا ٹرمپ کا نسخہ۔۔۔ مزید جنگ۔۔۔ کوئی مناسب علاج تھا؟ آخر، میں اسے کس طرح حل کرنا تجویز کروں گا؟ القاعدہ کے چند ارکان اور ایک مترجم کے ساتھ چائےکی میز پر بٹھا کر مسئلے کے حل پر دوستانہ ماحول میں منطقی گفتگو کی جائے؟ میرا دماغ چکرانے لگا۔ میرے بابا ہمیشہ یہی کہتے تھے کہ امریکن خود کو دنیا کا تھانے دار سمجھتے ہیں۔ کیا ٹرمپ اب پولیس کمشنر بن رہا تھا؟ میرے سینے میں، خراب والو اس کوشش میں کہ اپنی ذمہ داری پوری کر سکے، زور آزمائی کرتے ہوئے پھڑپھڑا رہا تھا۔اگلی صبح میں نے آپریشن کے لیے رضا مندی کے فارم پر دست خط کیے۔

ایک نرس آئی اور مجھے ہسپتال کے جراثیم سے پاک غسل خانے میں لے گئی۔ اس نے میری قمیص اتاری اور ایک چھوٹے بک ریزر سے میرے پیٹ، چھاتی اور بازؤں کی شیو کی۔

مجھے واپس اپنے وارڈ میں لایا گیا۔ وارڈ میں ایک کھڑکی تھی، جس سے ہسپتال کی پارکنگ دکھائی دیتی تھی۔ میں اپنی موجودہ الجھی ہوئی صورتِ حال سے اکتایا ہوا باہر دیکھ رہا تھا۔ تب ہی اچانک میں نے ایک لیکسس کو پارکنگ میں رکتے دیکھا۔ ڈرائیور کی جانب کی دروازہ کھلا اور گہرے سیاہ بالوں والا ایک طویل قامت پر اعتماد آدمی نمودار ہوا۔ وہ ہسپتال کے صدر دروازے کی جانب بڑھا۔ دس منٹ بعد وہ میرے سرجن کی حیثیت سے اپنا تعارف کراتے ہوئے، میرے بستر کے پاس کھڑا تھا۔

“ہیلو! میں گریمی ینگ ہوں۔” اس نے مسکراتے ہوئے کہا، “میرا خیال ہے کہ ہمیں ایورٹک والو کی سکڑن کا سامنا ہے۔”

میں نے بے زاری سے تائید میں سر ہلایا۔

“تمام تر قصور میرا نہیں۔” میں نے کہا، “میں دنیا کی بہترین خوراک کھانےوالا نہیں ہوں۔ تاہم یہ مرض جزوی طور پر خاندانی ہے اور جزواً ذہنی پریشر۔۔۔ زیادہ تر کام کے پریشر۔۔۔ کی وجہ سے ہے۔ میں سگرٹ نہیں پیتا۔”

“ٹھیک ہے۔”

کمرے میں ایک نرس داخل ہوئی۔

“کیا سب کچھ ٹھیک ہے؟”

“بالکل!” گریمی نے اطمینان سے جواب دیا، “یہ سب مجھ پر چھوڑ دو۔”

اُس نے آنکھ ماری۔

آنکھ سے اشارے بازی مجھے بری لگی۔ یقیناً سرجری سنجیدگی کا تقاضا کرتی ہے، یہ کوئی ایسا کام نہیں جس میں اشارے بازی کی جائے۔

سرجن کمرے سے رخصت ہوا اور میں ٹیلی وژن اور اپنے سوڈوکو Sudoku (نمبر ترتیب دینے کا ایک کھیل) کے ساتھ اکیلا رہ گیا۔ ٹیلی وژن پر عالمی خبریں لگی ہوئی تھیں، جو سب کی سب ٹرمپ اور اس کی بحری افواج کی ایک ایٹمی آب دوز کے خلیجِ کوریا بھیجے جانے کے بارے میں تھیں۔ میں نے سوچا، اس کا ایک ایٹمی آبدوز کو یہ سوچتے ہوئے بھیجنا کہ وہ شمالی کوریا اور اس کے ایٹمی پروگرام سے نفرت میں اتنا بڑھا ہوا ہے، کس قدر مضحکہ خیز ہے۔ گوگل نے مجھے یہ بھی بتایا کہ امریکا کے پاس ڈیڑھ ہزار ایٹمی ہتھیار ہیں، جب کے شمالی کوریا کے پاس ان کی تعداد صرف بیس کے لگ بھگ ہے۔ مجھے اپنی سانسیں گھٹتی ہوئی سی محسوس ہوئیں اور اس جوہری تباہ کاری کے تصور سے میرے دل نے دھک دھک کرنا شروع کر دیا۔

ایک نرس آئی اور مجھے آپریشن تھیٹر سے ملحقہ کمرے میں لے گئی۔ اس نے مجھے میرا آپریشن کے لیے رضامندی والا فارم دکھایا اور مجھ سے دریافت کیا کہ کیا میں اپنے دست خطوں کی تصدیق کرتا ہوں؟ انستھیزیسٹ آیا اور اپنا تعارف کارل مائیر کے نام سے کرایا۔ میں نے خود کو نفسیاتی اعتبار سے آنے والی صورتِ حال پر آمادہ کرنے سے بہت دور پایا،لیکن سب کچھ تیزی سے ہو رہا تھا۔ وہ وہیل چیئر دھکیل کر مجھے آپریشن تھیٹر میں لے گئے۔ انستھیزیسٹ نے میرے بازو میں ایک سوئی داخل کی، اور یہ آخری بات تھی جو مجھے یاد رہی۔

“تو رات تم اپنے آپ میں مگن تھے۔” میں نے کسی کو کہتے ہوئے سنا۔

پہلے تو میں یہی سمجھا کہ کوئی مجھ سے مخاطب ہے۔ میں نے بولنے کی کوشش کی، لیکن میرے گلے میں کچھ اٹکا ہوا تھا۔

“ضرور سانس کی نالی ہو گی۔” میں نے سوچا۔

میں نے سوچا کہ شاید آپریشن مکمل ہو گیا ہے اور ممکن ہے ان کی غلطی سے سانس کی نالی اندر رہ گئی ہے۔

“اوہ، ارے دیکھنا! اس آدمی کا دل واقعی بڑھا ہوا ہے۔ اسے نکال کر چیک کرو، یہ بہت پھیل چکا ہے۔”

اس مرتبہ میں نے سرجن کی آواز پہچان لی۔ وہ میرا دل کس طرح دیکھ سکتا ہے؟ میں جاگ رہا تھا۔۔۔ حواس میں۔ یقیناً اس وقت وہ میرا آپریشن نہیں کر رہے تھے، یہ سب خواب کی طرح لگتا تھا۔ میں نے اپنی آنکھیں کھولنے کی کوشش کی لیکن کچھ ایسا تھا جیسے میرے پپوٹے کسی سُپر گِلو سے چپکائے گئے ہوں۔

“والو لگانے کرنے کا مرحلہ آ گیا، پلیز۔” میں نے سرجن کی آواز سنی۔

دھات سے دھات ٹکرانے سے۔۔۔ ٹائٹینیم والو کے آپریشن ٹرے میں رکھنے پر۔۔۔ ٹن کی آواز آئی۔ میں کچھ محسوس نہیں کر رہا تھا، لیکن میں سب کچھ سن سکتا تھا۔ میں مفلوج تھا اور اپنی آنکھیں نہیں کھول سکتا تھا کہ ان سے اشارہ کر کے کسی کو بتا سکوں کہ میں جاگ رہا ہوں۔ میں خود کو بے بس محسوس کر رہا تھا۔۔۔ گوند میں پھنسے کسی کیڑے کی طرح۔ پس منظر میں کسی مشین۔۔۔ میرے خیال میں پھیپھڑوں سے دل جدا کرنے کی مشین۔۔۔ کے گھرگھرانے کی آواز آ رہی تھی۔ میرے حواس جزوی طور پر بحال کیوں ہوئے تھے؟ کیا اس کا مطلب یہ تھا کہ انستھیزیاجزوی طور پر غیر موثر تھا یا مجھے اس کی صحیح مقدار نہیں دی گئی تھی؟ اگر میں اس مرحلے پر پہنچ گیا تھا تو کیا اس کا مطلب ہے کہ میرے مزید حواس بحال ہوں گے؟ میں نے ہارٹ سرجری کے بارے میں تھوڑی بہت ریسرچ کی تھی اور میں یہ جانتا تھا کہ وہ دل کو کام سے روک دیتے ہیں۔ کیا میں آپریشن کے دوران مر گیا تھا؟ کیا اس وقت میں ایک روح تھا؟ کیا اسی وجہ سے میں وہ سب سن سکتا تھا، جو ہو رہا تھا؟ کیا کم جون ینگ نے میرے آپریشن کے دوران آسٹریلیا پر نیوکلئیر بم گرا دیا تھا؟ کیا کسی کو اس امر کا ادراک تھا شمالی کوریا ایٹمی دوڑ میں بہت آگے تھا؟ میرے خون سے خالی دل کو دہشت کے سرد ہاتھ نے بھینچ لیا۔اس سے پہلے صرف ایک مرتبہ میں نے خود کو اسی طرح بے بس محسوس کیا، اس وقت پیش آیا جب میری عمر سات سال تھی، کرسمس کے دن میرے بڑے کزن نے میرے منہ میں کپڑا ٹھونسا اور میرے ہاتھ پاؤں باندھنے کے بعد مجھے کپڑوں کی الماری میں بند کر دیا اور پھر بڑوں کے ساتھ ڈنر کھانے چلا گیا۔

“چلیں، والو فکس ہو گیا، اب مریض کے ٹانکوں کی باری ہے”

میں نے اپنے دل میں سے سوئی تاگا دھاگہ گزرنے کا تصور کیا۔ ایک ٹانکے کے بعد ایک ٹانکا، جیسے مجھے اکٹھا کیا جا رہا ہو۔

“اس پسلی کو تار سے باندھو۔” اگلی ہدایت تھی، جو میرے سُن کانوں تک پہنچی۔

میں نے ہاتھ سے اشارہ کر کے یہ بتانے کی کوشش کہ میں ہوش میں ہوں، مگر میرے دماغ نے عضلات کو سگنل نہیں بھیجا۔ کاش میں اپنے ایک پاؤں کو ہی حرکت دے سکتا۔ انستھیزیا نے اثر کیوں نہیں کیا؟ کیا میرا آپریشن کرنے والے احمق ہیں؟ کیا اس کا اثر مزید کم ہو گا؟ کیا میں رُکے ہوئے دل کے ساتھ مردہ آدمی کا درد محسوس کرنے والا ہوں؟

ایک زنانہ آواز سنائی دی۔

“ایک منٹ رکو، میں نے ایک آنکھ کو پھڑکتے دیکھا ہے۔ یہ ٹھیک نہیں۔۔۔ کارل تم اپنا کام کرو۔ ہمیں ضرورت ہے کہ تم اپنے کام پر پوری توجہ دو۔”

“ارے خانہ خراب۔۔۔ سوری” بڑبڑاہٹ میں جواب سنائی دیا، “میں ابھی مقدار بڑھا دیتا ہوں۔”

تو میں نوسکھیوں کے ہتھے چڑھ گیا ہوں۔ لعنت ہے نیوزی لینڈ کے میڈیکل سسٹم پر۔ کیا ان لوگوں نے کوئی ڈھنگ کی تعلیم حاصل نہیں کی؟ کیا ان کی عملی تربیت نہیں ہوئی؟ دل کا آپریشن ہو گیا تھا اور اب وہ مجھے واپس بحال کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

اس کے بعد جو مجھے یاد رہا، میں ہسپتال کے ایک سنسان وارڈ میں جاگ رہا تھا۔ میں مارفین کے زیرِ اثر تھا، جس وقت نرس کی راہ نمائی میں سرجن مجھے دیکھنے آیا۔ مارفین کی غنودگی کے باوجود میں نے اپنی روداد سنانے کی ٹھان لی۔ میں شدید غصے میں تھا۔ انستھیزیسٹ نے اپنا کام ٹھیک سے کیوں نہیں کیا؟

“ہمارے مریض کا کیا حال ہے؟”

“قطعاً ٹھیک نہیں۔ میں آپریشن کے دوران ہوش میں کیوں آیا؟ مجھے اس کی بہت سے باتیں یاد ہیں۔ مجھے تمھارا ہدایات دینا یاد ہے۔ پھر ایک عورت کا کہنا کہ مجھ پر دوا کا پورا اثر نہیں ہوا، اور یہ کہ اس نے میری ایک آنکھ کو پھڑکتے دیکھا ہے۔ مکی ماؤس ٹائپ کے تم لوگ یہاں کیا کر رہے ہو؟

سرجن نے قہقہہ لگایا، جب کہ نرس سٹپٹا گئی۔

“اوہ! بسا اوقات مریض آپریشن کے دوران اس نوع کے ان ہونے مناظر دیکھتے ہیں۔ یہ انستھیزیا کے زیرِ اثر ہوتا ہے۔”

“نری بکواس، مجھے سب پتا ہے، جو میں نے سنا۔”

سانس کی ٹیوب جس جگہ میرے گلے کو چھوتی ہوئی گزر رہی تھی، وہ جگہ سوجی ہوئی تھی لیکن میں ٹھان چکا تھا کہ اپنی بات پوری کر کے رہوں گا۔ سرجن نے میرا ہاتھ تھپتھپایا۔

“پریشان نہ ہوں۔ آپ ایک خوف ناک تجربے سے گزرے ہیں۔ کسی حد تک بے یقینی کا شکارہونا معمول ہے۔ آپ کی گرل فرینڈ نے فون کیا تھا، اس کا کہنا ہے، اس نے پیچھے گھر پر تمھارے لیے سب بندوبست کر لیا ہے۔”

اس کا فون بجنے لگا۔

“اوہ، کسی کو میری ضرورت ہے۔”

وہ راہ داری کو چل دیا، نرس اس کے پیچھے پیچھے تھی۔

میں ایک ہفتہ مزید وارڈ میں رہا۔ کیری ہر رات فون کرتی۔ مجھے اس کی آواز سُن کر مسرت ہوتی۔ کوئی ایسی بات سننا جو مجھےنیلسن کی یاد دلائے، اچھا لگتا تھا۔ مجھے بتایا گیا تھا کہ سرجری کے بعد چار مہینے تک میں اپنے کام پر نہیں جا سکوں گا۔ چناں چہ مجھے بہت سا وقت اپنے گھر پر گزارنا تھا۔۔۔ مطالعہ کرتےاور ساحل پر سیر کرتے۔۔۔ اس کوشش میں کہ اپنے بڑے آپریشن کے بعدبحال ہو سکوں۔

نرسوں میں سے ایک نے مجھے مشورہ دیا کہ اٹھوں اور زیادہ سے زیادہ، جتنا پیدل چل سکوں، چلوں۔ میں نے راہ داریوں میں۔۔۔ آگے پیچھے، پیچھے آگے، کسی آوارہ روح کی مانند۔۔۔ آہستہ آہستہ چلنا شروع کر دیا، اور پھر ہمت کر کے سیڑھیوں پر چڑھنے لگا۔

جس روز انھوں نے مجھے ڈسچارج کیا، میں اپنا مثانہ خالی کرنے مردانہ واش روم گیا۔ مجھے یورینیٹر کی طرف سے آتی ہوئی ایک جانی پہچانی آواز سنائی دی۔

“خدایا! اس رات زبردست پارٹی تھی۔ میں اتنا دھت تھا کہ اگلے روز بڑی مشکل سے اٹھا، اس کے باوجود کام پر پہنچ گیا۔ میں اپنی ملازمت کھونے کا خطرہ مول نہیں لے سکتا تھا۔ اس روز ایک اوپن ہارٹ سرجری کی۔”

میں نے جلدی سے ٹوائلٹ میں پانی بہایا اور بڑے کمرے میں نکل آیا۔۔۔ انستھیزیسٹ کو دیکھنے، جو اس وقت اپنی زپ بند کر رہا تھا۔ میں نے کچھ نہیں کہا لیکن کم از کم میرے اندیشوں کی تصدیق ہو گئی تھی۔

اگلے روز میں ہوائی جہاز کے ذریعے واپس نیلسن پہنچ گیا۔ کیری نے مکان کو گھر میں بدل دیا تھا۔۔۔ بستر پر تکونے تکیے اور باقی سب کچھ ۔ میرے والدین کی مرضی کے برعکس وہ میرے پاس شفٹ ہو گئی، تاکہ میرا زیادہ سے زیادہ خیال رکھ سکے۔۔۔ وہ اب بھی اپنے کام پر جا رہی تھی۔ میں وارفارِن warfarin اور پین کلرز استعمال کر رہا تھا۔ وار فارِن سے میرے بدن پر نیل پڑ گئے۔ جو کچھ ہوا تھا میں اس سے اتنا سہما ہوا تھا کہ سرجری کے بعد ایک ماہ تک میں دن بھر Fuzzy نامی شراب کی بوتل، جو کیری میرے لیے لائی تھی، ہاتھ میں تھامے بستر میں پڑا رہتا۔ میری والدہ بہت فکرمند تھیں۔ انھوں نے مجھے ایک ڈاکٹر کے پاس بھیجا کہ میرے لیے کوئی اینٹی ڈیپریشن دوا تجویز کرے۔ جو میں محسوس کرتا تھا، وہ ڈیپریشن نہیں بل کہ دہشت اور بے چینی تھی۔کس طرح نام نہاد میڈیکل سپشلسٹوں نے اس کا ستیاناس کیا؟ انستھیزیسٹ کو کام کرنے کی کیوں اجازت دی گئی؟ کیا آپریشن سے پہلے کسی نے نہیں دیکھا کہ وہ کس حالت میں ہے؟ ایسے غیر ذمہ دار شخص کو ملازمت پر کیوں رکھا گیا؟

بالآخر کیری نے مجھے باہر ساحلِ سمندر پر سیر کرنے اور اس کے بعد گرما گرم چاکلیٹ پینے پر آمادہ کر ہی لیا۔ یہ سیر اور اس کا انعام چاکلیٹ ہمارا روزانہ کا معمول بن گیا۔ جس کا اب میں ہر روز انتظار کرتا تھا۔۔۔ ہم چکر لگائیں گے۔ ساحلی پٹی پر اور پھر عقبی پٹی پر، جہاں لوگ اپنے کتے ٹہلاتے ہیں۔۔۔ پھر کیفے کی جانب۔

اگرچہ یہ بچگانہ محسوس ہو گا۔ میں نے اپنے ذہن کو مصروف رکھنے کے لیے بہت سی گیمز۔۔۔ کاٹان، ایگری کولا، ڈسک ورلڈ، کلائیڈو اور فرسٹ اراؤنڈ دی ورلڈ بھی کھیلتا۔میرے آجروں کا کہنا تھا کہ وہ چار مہینے تک میری نشست خالی رکھیں گے تاکہ اس دوران میں اپنی صحت بحال کر سکوں۔ آپ نیوزی لینڈ میں کسی معالج کے خلاف مقدمہ نہیں کر سکتے لیکن کیری کا کہنا تھا کہ مجھے ہیلتھ اینڈ ڈس ایبلٹی کمشنر کو باضابطہ شکایت کرنی چاہیے۔ میں نے اپنے بیان لکھا کہ میں دورانِ آپریشن ہوش میں آ گیا تھا اور پھر بعد میں انستھیزیسٹ کو یہ ڈینگ مارتے ہوئے بھی سنا کہ ایک رات پہلے وہ کتنا مدہوش تھا۔ میرے خط کی رسید ایک پرنٹڈ چٹ کے ذریعے دی گئی۔ پھر آٹھ ہفتے بعد مجھے ایک تحریر موصول ہوئی کہ وہ انستھیزیسٹ اب ہسپتال میں کام نہیں کرتا اور یہ کہ کوئی فردِ جرم عائد نہیں کی جائے گی۔

“اس کا کتنا زبردست اثر ہوا۔” میں نے سوچا، “انصاف کے لیے یہ بہت ہے۔”

میں نے اپنے بیمار دل کے ذمہ دار اپنے گندے خون پر لعنت بھیجی۔چوتھے مہینے کے اختتام پر میں نے خود کو معمول کے مطابق صحت مند محسوس کرتے ہوئے واپس لگے بندھے معمولات کی جانب، اپنےکام پر جانے کا منتظر پایا۔ کیا یہ سب انسان کو مایوسیوں کی گہرائیوں میں غوطے کھانے سے بچاتے ہیں؟ کیری نے گھر میں کچھ کتابیں رکھی تھیں، میں نے ان میں سے مختصر کہانیوں کے ایک مجموعے کو، جس میں پوسٹ مارٹم روم ۴ شامل تھی پہچان لیا، لیکن مجھے ہمت نہ ہوئی کہ اسے کھولوں اور ایک مرتبہ پھر سے پڑھوں۔

مجھے بار بار ڈراؤنے خواب دکھائی دینے لگے۔ جن میں سب سے خوف ناک یہ تھا کہ دوبارہ ہسپتال میں تھا، جہاں ڈونلڈ ٹرمپ کے ہاتھوں میرا آپریشن ہو رہا ہے۔ساحل پر طویل چہل قدمی بھی اس دہشت ناک خواب سے میرا پیچھا نہیں چھڑا سکی۔ جہاں تک ڈونلڈ ٹرمپ کا تعلق ہے تو وہ کسی حد تک ٹھنڈا ہو گیا تھا، یہاں تک کہ کم جون ینگ کے ساتھ مصالحانہ گفتگو کی باتیں کر رہا تھا۔ تاہم، وہ تمام اسلحہ جو ان دونوں کے پاس تھا، میرے ذہن پر سوار تھا۔ ایٹمی اسلحہ ٹائم بم کی مانند تھا، اس ٹائٹینیم والو کی مانند ٹک ٹک کرتا ہوا جو میرے دل میں لگایا کیا گیا تھا۔

Categories
شاعری

روشنی زیادہ اہم ہے لالٹین سے

شاعر: نزار قبانی
ترجمہ: افتخار بخاری
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
روشنی زیادہ اہم ہے
لالٹین سے

نظم زیادہ اہم ہے
بیاض سے

اور بوسہ زیادہ اہم ہے
ہونٹوں سے

تمہارے نام میرے خطوط
زیادہ اہم ہیں
ہم دونوں سے

کہ فقط یہ وہ دستاویزات ہیں
جہاں لوگ دریافت کریں گے
تمہارا حسن
اور میرا پاگل پن

Categories
شاعری

غیر حاضر مالک مکان

شاعر ۔ چارلس سیمیِچ
ترجمہ ۔ حسین عابد

یقینآ آسان کر سکتا ہے وہ
مسئلہ جب یہ ہو
کہ ہمیں اس کا اتا پتا معلوم ہو
لگام دے سکتا ہے ہمارے تخریبی شکوک کو
ٹھنڈا کرسکتا ہے ہمارے بلند بانگ غصے کو

وہ چاہے تو ہمیں اکیلا نہ چھوڑے
اس عجیب وغریب احساس میں
جو آ لیتا ہے ہمیں کبھی کبھی
کہ کوئی بڑا مقصد پوشیدہ ہے
یہاں ہمارے قیام میں
جہاں کچھ بھی ٹھیک نہیں
اور ہر شئے کی مرمت ہونے والی ہے

کم از کم وہ ایک تختی تو لگا سکتا تھا
’’ کاروباری دورے پر روانہ‘‘
جسے ہم دیکھ سکیں
قبرستان پر، جس کا کرایہ وہ وصول کرتا ہے
یا رات کے آسمان پر
جس کے نام ہم اس کی شکایتیں بھیجتے ہیں

Image: Nguyen Thai Tuan

Categories
شاعری

اِس دنیا میں خدا کا ہاتھ ہے

اِس دنیا میں خدا کا ہاتھ ہے
نظم: یاہودا امیخائی
ترجمہ : زاہد اِمروز

(۱)
اِس دنیا میں خدا کا ہاتھ ہے
جس طرح ہفتے کی شام میری ماں کا ہاتھ
ذبح کی ہوئی مرغی کی انتڑیوں میں ہوتا ہے
جب خدا کے ہاتھ زمین تک پہنچتے ہیں
وہ کھڑکی میں سے کیا دیکھتا ہے؟
اِسی طرح
میری ماں کیا دیکھتی ہے؟
(۲)
میرا دُکھ میرا جدِ امجد ہے
اِس نے میرے دُکھوں کی دو نسلوں کو جنم دیا
جو اُس کی ہم شکل ہیں
میری امیدوں نے میرے اندر اِس ہجوم سے بہت دور
سفید گھروں کے منصوبے تعمیر کیے
لیکن میری محبوبہ اپنی محبت
پگڈنڈی پر گری سائیکل کی طرح بھُول گئی
جو رات بھرَ اوس میں بھیگتی رہتی ہے
بچے میری زندگی کے ادوار
اور یروشلم کے ادوار
گلی میں سفید چونے سے نشان زد کرتے ہیں
اور ایسی دنیا میں خدا کا ہی ہاتھ ہے
Categories
شاعری

اسیری

اسیری
شاعرہ: لی میرے کل
ترجمہ: نسیم سید

میں اب تک تمہیں
یعنی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنے غاصبوں کو
یقین دلانے کی
کوشش کرتی رہی
“بے وقوف نیٹوعورتیں”
نہیں!!
نہیں !!
میں ان جیسی نہیں ہوں
میں تمہارے بنائے
اور تمہارے سمجھائے
سانچے میں
ڈھل چکی ہوں
میں نے تمہاری
پلائی ہوئی
شراب کے نشہ سے
خود کودھت کرلیا
تمہاری زبان
بڑی محنت سے سیکھی
تمہاری عورتوں جیسا
بننے کی کوشش کی
مگر۔۔۔۔۔۔
آج یہ نطم لکھتے ہوئے
میرے ماتھے پر
شرمندگی کا پسینہ ہے
تمہارے معیار پر
پورا اترنے کی کوشش
میری سوچ کی
اسیری کا ثبوت ہے گویا
گویا !!
میں اب تک اسیر ہوں
Categories
فکشن

درد مشترک

[blockquote style=”3″]

لالٹین پر یہ افسانہ “عالمی ادب کے اردو تراجم” کے تعاون سے شائع کیا جا رہا ہے۔ ہم یاسر حبیب کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے اس افسانے کی اشاعت کی اجازت دی۔

[/blockquote]

افسانہ نگار: او ہنری
مترجم: ابنِ انشاء

 

چور جھپاک سے کھڑکی کے اندر کودا اور پل بھر دم لینے کو ٹھٹک گیا۔ سکہ بند چور چور گھر کی متاع میں سے کچھ لینے سے پہلے تھوڑا دم ضرور لیتے ہیں۔

 

کہتے ہیں گھر کے بھاگ دروازے سے پہچانے جاتے ہیں۔ چور نے بھی ایک نظر میں بھانپ لیا کہ بی بی اس وقت کسی ہوٹل میں کسی ہمدرد کے ساتھ بیٹھی رونا رو رہی ہو گی کہ ابھی تک اس کے دل کو کسی نے نہیں سمجھا، کسی نے اس کے دکھ کو نہیں اپنایا۔ چوتھی منزل کے سامنے والی کھڑکیوں میں روشنی کا مطلب یہ تھا کہ صاحبِ خانہ گھر آ گئے ہیں اور جلد ہی بتی بجھا کر سو جائیں گے۔ ستمبر کا مہینہ ایسا ہوتا ہے کہ لوگ ہوٹلوں اور کیفے اور لڑکیوں کی صحبت کو لہو و لعب خیال کرتے ہیں اور پہلے سے گھر پہنچ کر بی بی کے آنے کی راہ دیکھتے ہیں۔

 

یہ چور معمولی یعنی تیسرے درجے کا تھا۔ تیسرے درجے کا چور اوباش ہوتا ہے۔ پہلے اور دوسرے درجے کے چوروں کی طرح نہیں جو دن میں جنٹلمین بنے رہتے ہیں۔ عمدہ لباس پہنتے ہیں۔ اچھے ہوٹلوں میں آمدورفت رکھتے ہیں۔ دیواروں پر کاغذ منڈھنے اور فرنیچر وغیرہ مہیا کرنے کے بہانے گھروں کی کھوج لگاتے ہیں اور جھٹ پٹا ہوتے ہی اپنی آئی پر آ جاتے ہیں۔ اخباروں میں ایسے لوگوں کو خوب اچھالا جاتا ہے۔ ان کی، ان کی بیویوں کی اور بیسیوں آشناؤں کی تصویریں چھاپی جاتی ہیں۔ وہ بیٹھے بٹھائے ہیرو بن جاتے ہیں۔
لیکن یہ چور اس قسم کا نہیں تھا۔ ادنٰی درجے کا تھا۔ اس کا ٹھاٹ باٹ بڑے چوروں جیسا نہ تھا۔ نہ لالٹین ،نہ نقاب، نہ بے آواز تلے والے جوتے۔ بس سیدھا سبھاؤ آدمی تھا۔ منہ میں پیپر منٹ کا چیونگم رکھے جگالی کرتا ہوا۔

 

فرنیچر پر گرد جم رہی تھی۔ چور کو اس گھر سے کوئی بڑا خزانہ ملنے کی امید نہ تھی۔ اس کی منزل مدھم روشنی والا وہ کمرہ تھاجس میں صاحب خانہ استراحت فرما رہے تھے۔ وہاں کسی گھڑی، کچھ کھلے پیسوں یا ایسی ہی کسی چیز کا ملنا خارج از امکان نہ تھا۔

 

گھڑی، چابیاں، بجھے ہوئے سگریٹ، بال باندھنے کے گلابی ریشمی فیتے اور ایک بوتل سوڈا واٹر کی۔ صبح دم نوش جاں کرنے کے لئے۔
چورنے سنگھار میز کی طرف قدم بڑھایا لیکن یکایک وہ سویا ہوا شخص پہلو بدل کر جاگ اٹھا اور آنکھیں کھول دیں۔ اس کا داہنا ہاتھ تکیے کے نیچے گیا لیکن وہیں کا وہیں رہ گیا۔

 

“چپ لیٹے رہو۔”چور نے آہستگی سے کہا۔ اس شخص نے چور کے ہاتھ میں پستول کی نال دیکھی اور بےحس و حرکت پڑ رہا۔

 

“اب اپنے دونوں ہاتھ اوپر اٹھاؤ۔”چور کا لہجہ تحکمانہ ہو گیا۔
اس شخص کی چھوٹی سی کھچڑی داڑھی تھی، جیسی بغیر درد دانت نکالنے والے ڈاکٹروں کی ہوتی ہے۔وہ جھنجھلایا سا معلوم ہوتا تھا۔

 

“دوسراہاتھ بھی اوپر اٹھاؤ، تمہارا کیا ہے۔ بائیں ہاتھ سے پستول داغ دو۔ میں دو تک گنتا ہوں۔۔۔ایک۔۔۔”

 

“یہ ہاتھ میں نہیں اٹھا سکتا۔”اس شخص نے کہا

 

“کیوں؟” چور نے پوچھا

 

“گٹھیا کا درد ہے۔کاندھے میں”

 

“ورم کے ساتھ؟”

 

“پہلے ورم تھا اب نہیں ہے”

 

چور اسی طرح دو لمحے ٹھٹکا کھڑا اسے دیکھتا رہا۔ پستول کی نال اسی طرح اس شخص کی طرف تھی۔ اس نے سنگھار میز کی چیزوں پرنظر دوڑائی۔ اس کے بعد اس شخص کے چہرے پر ایک تشنج سا پھیل گیا۔

 

“منہ مت بناؤ۔”اس شخص نے کہا،”اگر تمہیں چوری کرنی ہے تو کرو۔یہ میز پر دھری ہیں سب چیزیں”

 

“اتفاق سے میں بھی اس موذی مرض گٹھیا کا پرانا مریض ہوں۔میرے بھی یہ بائیں بازو میں ہے، کوئی اور ہوتا تو تمہارا بایاں پنجہ اٹھتا نہ دیکھ کر دھائیں سے گولی داغ دیتا۔”

 

“تمہیں یہ درد کب سے ہے؟”اس شخص نے پوچھا

 

“چار سال سے۔۔۔۔ گٹھیا تو میں سمجھتا ہوں کہ ایسی چیز ہے کہ جان جائے پر گٹھیا نہ جائے۔”

 

“کبھی کوڑیالے سانپ کا تیل استعمال کیا؟”

 

“سیروں بلکہ منوں۔ جتنے سانپوں کا تیل میں نے استعمال کیا ہے اگر ان کو باندھ کر رسی بنائی جائے تو آٹھ بار یہاں سے چاند تک اور چاند سے زمین تک آ سکتی ہے”

 

“بقراطی گولیاں استعمال کیں؟”

 

“پانچ مہینے متواتر۔”چور نے جواب دیا۔ “کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ ہاں حبوب کبیر، معجون فلاسفہ اور اطریفل جالینوس خاص الخاص استعمال کئے تھے، اس سے کچھ فائدہ ہوا لیکن زیادہ افاقہ لعوق خراسانی سے ہوا جو میں جیب میں رکھتا تھا۔”

 

“تمہارا درد صبح کو زیادہ ہوتا ہے یا رات کو؟” اس شخص نے دریافت کیا

 

“رات کو۔ اور رات ہی میرے کام دھندے کا وقت ہوتا ہے۔”چور بولا،”اچھا اب یہ ہاتھ نیچا کر لو۔ہاں ہاں کر لو۔ جم کر دو چار مہینے ماء اللحم دو آتشہ پی دیکھنا۔ فائدہ دیتا ہے”

 

“ہاں وہ نہیں پیا۔تم یہ بتاؤ۔تمہارے اس بازو میں ٹیس اٹھتی ہے یا ایک سا درد رہتا ہے؟”شخص مذکور بولا

 

اب چور آ کر اس شخص کی پائنتی بیٹھ گیا اور پستول کو اپنے گھٹنوں پر رکھ لیا۔

 

“یکایک ٹیس اٹھتی ہے۔ کبھی کبھی تو میں سیڑھیاں بھی نہیں چڑھ پاتا۔ بس آدھے راستے میں آ لیتا ہے۔ میں تو کہتا ہوں ڈاکٹر کے پاس اس کا علاج ہی نہیں سب چور ہیں۔”

 

“میرا بھی یہی خیال ہے۔ہزاروں روپیہ ڈاکٹروں کو کھلا دیا، دھیلا بھر آرام نہیں ، تمہیں کچھ تو افاقہ ہوا۔”

 

“ہاں صبح کو ذرا چین رہتا ہے۔ لیکن ذرا سا مینہ کا چھینٹا پڑا اور جان کو آ بنی۔”

 

“یہی حال ادھر ہے۔ بادل کا ٹکڑا کہیں سے اٹھے۔ اس کی نمی سیدھی میرے کندھے میں آ گھستی ہے اور پھر داڑھ کے درد کی سی اذیت۔”
چور نے پستول اٹھایا اور ذرا سی جھینپکے ساتھ جیب میں ڈال لیا۔ تھوڑے تامل کے بعد وہ بولا،”اچھا یہ بتاؤ کبھی فاسفورس کے تیل کی بھی مالش کروائی ہے؟”

 

“بہت۔ اس سے تو سرسوں کا تیل اچھا ہے۔”

 

“ٹھیک کہتے ہو ٹھیک کہتے ہو۔”چور نے کہا،”بہت معمولی چیز ہے۔ ہاتھ بانہہ پر معمولی خراش میں تو فائدہ دیتا ہے لیکن اس سے آگے نہیں۔ہم دونوں کی حالت اس معاملے میں ایک سی ہے بس اس کی تو ایک ہی دوا ہے۔ واہ وا۔ کیا موقعے پر یاد آئی۔شراب کے دو گھونٹ جو کام کرتے ہین وہ ان تیلوں معجونوں کے بس کی بات نہیں۔چلو ذرا کپڑے پہنو۔ باہر کوئی شراب خانہ کھلا ہو تو دو گھونٹ پی آئیں۔”چور نے کہا۔

 

“ایک ہفتے سے تو یہ حالت ہے کہ کپڑے بھی خود نہین پہن پاتا۔ نوکر پہنا دیتا ہے۔ وہ اس وقت سو رہا ہو گا۔”

 

“اس کی فکر نہ کرو، میں پہناتا ہوں کپڑے۔ ذرا سی ہمت کر کے بستر سے نکل آؤ”

 

یکایک اس شخص کو خیال آیا کہ اس نے اپنی داڑھی پر ہاتھ پھیر کر کہا، “عجیب قصہ ہے عقل کام نہیں کرتی۔”

 

“یہ لو قمیض اپنی۔ایک صاحب بتاتے تھے کہ اونچے پل کے پاس ایک ڈاکٹر کے پاس مجرب نسخہ ہے ۔کوئی مرہم ہے ، دو ہفتے میں درد آدھا رہ جاتا ہے”

 

دروازے سے نکلتے ہوئے صاحب خانہ نے کہا،”ارے میں پیسے تو بھول ہی چلا تھا۔ٹھہرو۔ میز پر سے لے لوں۔”

 

“نہیں نہیں۔ “چور نے اس کی آستین تھام کر کہا،”میرے پاس پیسے ہیں فکر مت کرو تمہیں میٹھے تیل میں لونگ ڈال کے ذرا مالش بھی کروانی تھی۔”
Categories
شاعری

ہمیشہ بدمست رہو

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

ہمیشہ بدمست رہو

[/vc_column_text][vc_column_text]

شاعر: بادلیئر
مترجم: عاصم بخشی

 

ہمیشہ بدمست رہو
اس کے علاوہ اور ہے ہی کیا
واحد راستہ کہ
یہ ہیبت ناک کوہِ زماں کاندھوں کو چٹخ نہ دے،
تمہیں زمین پر چت نہ کر دے
سو تمہیں بے رحم مستیوں میں ڈوب جانا چاہئے
لیکن آخر کس شے کا خمار؟
بادہ و ساغر!
شعر و سخن!
عبادت و ریاضت!
جو نشہ بھی تمہیں راس آئے،
لیکن بدمست رہو
پھر اگر کسی لمحے
تمہاری آنکھ کسی محل کی سیڑھیوں،
اترائیوں میں کسی قطعۂ سبز،
یا اپنے حجرے کی تنہا اداسیوں میں اس طرح کھلے
کہ خمار اتر رہا ہو اور مستی غائب ہو
تو ہوا سے دریافت کرو
لہر سے پوچھو
ستارے، پرندے، گھڑیال،
ہر گامزن شے،
ہر کراہتی شے،
ہر گھومتی، آہیں بھرتی، بولتی شے کا دامن پکڑو
سوال کرو کہ وقت کیا ہوا ہے،
ہوا، لہر، ستارہ، پرندہ، گھڑیال یہی جواب دے گا کہ ’’یہ لمحۂ خمار ہے!
سو وقت کی جنگ میں کام آئے پیادوں میں شمار ہونے کی بجائے ہمیشہ بدمست رہو!
بادہ و ساغر، شعر و سخن، یا عبادت و ریاضت
جو نشہ بھی تمہیں راس آئے۔۔۔‘‘

Image: Jeremy Geddes
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

ہمارے لوگ

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

ہمارے لوگ

[/vc_column_text][vc_column_text]

شاعرہ: Diane Burns
مترجم: نسیم سید

 

اب میری طرف دیکھو
اور بتاؤ
میرے مستقبل کے لئے
میرے پاس کیا ہے؟
ہم سب اپنے اپ سے جھوٹ بولتے ہیں
کہ ” ہم ٹھیک ہیں ”
لیکن ہماری روحوں کے کھلے ہوئے زخموں سے
لہو بہہ رہا ہے
ہم سب مل کے
اپنے اپنے زخموں کو سینے سے لگائے
چپ چاپ انہیں سہلا تے رہتے ہیں
لیس کورٹ اور ریلز کی برف پگھل رہی ہے
کینڈین گیز گھروں کی طرف لوٹ رہی ہیں
واشنگٹن سکوائر پارک میں
درختوں پر سبزہ پھوٹ رہا ہے
اور سبز جیکٹ والے فوجی
اپنی طاقت کا اشتہار بانٹ رہے ہیں
وہ ایک دوسرے سے سر گوشی کرتے ہیں
“جوڑ جوڑ ڈھیلے پڑچکے ہیں ”
” دیکھو۔۔۔۔۔۔ یہ جوڑ جوڑ سے ڈھیلے پڑ چکے ہیں ”
اور میں بنچ پر بیٹھی
سورج کے نکلنے کا انتظار کر رہی ہوں
مجھے اپنا گھر یاد آ رہا ہے
میں اپنے کھیتوں کی ہوا سو نگھ رہی ہوں
میری کلائی قید با مشقت جھیل رہی ہے
مگر میری انگلیاں بر چھی تراش رہی ہیں
قلم کی برچھی
مجھے اس برچھی سے
اپنے لوگوں کی جنگ لڑنی ہے

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

بٹوارہ اُس برّعظیم کا

[blockquote style=”3″]

سر سیرل ریڈ کلف جب ہندوستان آیا تو اسے ایک اجنبی سرزمین کی تقسیم اور انہیں اقتدار کی منتقلی کے لیے بھیجا گیا تھا۔ تقسیم اور انتقالِ اقتدار کے لیے اس کے پاس محض پانچ ہفتے کا وقت تھا۔ ریڈ کلف کے ریڈ کلف کو بہت سے لوگ تقسیم کے دوران ہونے والے خون خرابے کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں اور ہندوستان اور پاکستان دونوں کی جانب سے اس پر جانبداری کے الزامات عائد کیے جاتے ہیں۔ ڈبلیو ایچ آڈن کی یہ نظم ریڈکلف کے فیصلوں اور تقسیم کے عمل میں اس کے کردار پر ایک زبردست تنقید ہے۔ یہ نظم طنزیہ آہنگ میں ہے اور یہ 1966 میں لکھی گئی۔

[/blockquote]
[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

بٹوارہ اُس برّعظیم کا

[/vc_column_text][vc_column_text]

شاعر: ڈبلیو ایچ آڈن
مترجم: یاسر چٹھا

 

جب اس (ریڈ کلف) نے اپنے اہم مقصد کے لئے اس سر زمین پر قدم رکھے
تو کم از کم اس وقت تک
وہ کسی کا طرفدار نہ تھا
اسے اس سر زمین کے حصے بخرے کرنے کو بھیجا گیا
جس کو اس نے کبھی بُھولے سے بھی دیکھا نہ تھا
وہ ان دو قوموں کے درمیان منصفی کرنے کے محال کام سے دو چار تھا
جو باہم خطرناک حریف تھے
ان کے بیچ اُسے منصفی کرنا تھی
جن کی غذائین باہم مختلف تھیں
جن کے معبود قطعی طور پر آپسی میل تک نہیں کھاتے تھے
لندن میں ہی اسے بتا دیا گیا کہ
“وقت بہت ہی کم ہے،
بلکہ یہ اس نہج پر ہے کہ
صلح و تفہیم کا کوئی امکان باقی نہیں،
اب کسی عقل کو ہاتھ مارنے کا محل باقی نہیں۔
وقت اور حالات نے اب صرف
بَٹوارہ ہی مقدر ٹھہرا دیا ہے۔
وائسرائے کا بھی یہی خیال ہے
اور اس کا اپنے نام کے خط میں بھی
یہی لکھا پاؤ گے
کہ وائسرائے سے جس قدر دُوری پر رہو گے،
بھلے میں رہو گے۔
سو ہم نے آپ کے لئے الگ قیام گاہ کا بندو بست کیا ہے۔
ہم آپ کو مدد و مشورہ کے لئے چار جج دیں گے؛ دو مسلمان اور دو ہندو
لیکن کہیں بھول نا جائے کہ
قولِ فیصل آپ کو ہی سزاوار ہے۔”

 

وہ ( ریڈ کلف) ایک بہت بڑی حویلی میں اکیلے آن گُھس بیٹھا،
جس کے باغوں کے چاروں طرف پولیس دن رات گشت پر مامور رہتی
کہیں کوئی شر پسند،
کوئی قتل کے ارادے سے ادھر نا آن ٹپکے۔
اُس نے اپنے کارِ عظیم کو ہاتھوں ہاتھ لیا؛
کام بھی ایسا کہ
اس کے ہاتھ کروڑوں انسانوں کی قسمت لکھنے کا قلم تھما تھا۔
اس کو دیئے گئے نقشے وقت کے ہاتھوں پِٹے ہوئے، ہارے ہوئے، گئے گزرے پارچے تھے؛
اور مردم و خانہ شماری کی ساری کتابیں
اور حساب کھاتے قریب قریب سر تا پا
غلطیوں سے اٹے تھے۔
لیکن ان کی جانچ کا وقت کس کے پاس تھا، قضیات کو پرکھنے اور
ان پر فیصل ہونے کی کس کو فرصت تھی۔
اوپر سے موسم بھی تو بلا کا گرم تھا۔
رہی سہی کسر اس کو لاحق پیچش کی مروڑوں نے
اُس کی دوڑیں لگوا کے پوری کی ہوئی تھی۔
لیکن سات ہفتوں کی مار میں یہ کام فِشوں چکر ہوا؛
سرحدوں اور سِیماؤں کی کترنیں بن چُکیں۔
پورے کا پورا برّعظیم آن کی آن میں بَٹ چُکا۔

 

اگلے دن کا سورج انگلستان پِدھارنے کا چڑھا۔
جہاں پہنچتے ہی ایک سکہ بند و پیشہ ور وکیل کی طرح
کسی عام سے مقدمے کی مِثل
اِس مہان بٹوارے کا مقدمہ بھی اُس نے پلک جھپکنے میں
اپنی یاد سے محو کردیا۔
اس نے یہاں کا پھر کبھی مُنھ نہ کرنا تھا،
وہ اپنے کلب کے دوستوں کو بتا چلا تھا
کہ واپس لوٹنے کا معنٰی
بجُز سیدھے گولی کا نشانہ بننے کے
کچھ اور نا تھا۔

Image: “Hail and Welcome.” Leader 24 March, 1947
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
فکشن

اور دیکھنا اس پیکرِ کمال کو، چیت کی ایک سہانی صبح

[blockquote style=”3″]

معروف جاپانی مصنف ہاروکی مورا کامی کی کہانی “On seeing the 100% perfect girl one beautiful April morning” کا ترجمہ حسنین جمال نے کیا ہے جسے لالٹین کے قارئین کے لیے شائع کیا جا رہا ہے۔

[/blockquote]

اپریل کی ایک خوب صورت صبح ٹوکیو کے سب سے فیشن ایبل علاقے ہاروجوکو سے گزرتے ہوئے میں نے وہ لڑکی دیکھی جو سو فی صد میرے خوابوں کے جیسی تھی۔

 

سچ کہوں تو وہ اتنی حسین دکھنے والی نہیں ہے۔ وہ کسی بھی طرح دوسروں سے الگ نہیں دکھتی۔ اس کے کپڑے بھی کچھ ایسے خاص نہیں ہیں۔ سر کی پچھلی طرف اس کے بال ایسے مڑے ہوئے ہیں جیسے ابھی سو کر اٹھی ہو۔ وہ اتنی کم عمر بھی نہیں ہے۔کم از کم تیس کے قریب ضرور ہو گی۔ تو کل ملا کر کچھ ایسی خاص لڑکی بھی نہیں ہے۔ لیکن میں، پچاس گز دور سے دیکھ کر ہی یہ کہہ سکتا ہوں کہ یہ وہ لڑکی ہے جو سو فی صد میرے لیے ہی بنی ہے۔ جب میں نے اسے دیکھا تو میرے سینے سے ایک لمبی سانس نکلی اور میرا منہ خشک تھا۔

 

کسی لڑکی کی خوب صورتی کے لیے ہو سکتا ہے آپ کا معیار کچھ اور ہو۔ جیسے، اس کے پاؤں نازک ہونے چاہییں، یا، کہہ لیجیے کہ اس کی آنکھیں بڑی ہوں، یا پتلی انگلیاں اور یا آپ بغیر کسی خاص وجہ کے، صرف ایسی لڑکیوں میں کشش محسوس کرتے ہوں جو ہر کھانے کے ساتھ مکمل انصاف کرتی ہیں۔ اچھا، اب ظاہر ہے میری کچھ اپنی ترجیحات ہیں۔ کبھی کبھی ایسا بھی ہو گا کہ میں صرف ایک خوب صورت ناک کے چکر میں سالم لڑکی کو گھورتا ہوا پایا جاوں گا۔

 

لیکن اب یہ کون کہہ سکتا ہے کہ کسی شخص کے معیار کے سو فی صد مطابق پائی جانے والی لڑکی اس سے بالکل ویسے ہی بات چیت کرے جیسے وہ پہلے سے طے کیے بیٹھا ہے۔ کیوں کہ عموماً میری توجہ ہر طرح کی ناک کی بناوٹ پر ہی ہوتی ہے اس لیے میں صحیح طور سے جسمانی نشیب و فراز پر کچھ روشنی نہیں ڈال سکتا۔ اس کا جسم تھا بھی یا نہیں۔ ہاں، جہاں تک یاد پڑتا ہے وہ کچھ خاص خوب صورت نہیں تھی۔

 

‘کل، سر راہ میں نے ایک ایسی لڑکی دیکھی جو سو فی صد میرے خوابوں کے جیسی تھی’ میں نے کسی سے کہا۔

 

‘ہیں’، وہ بولا، ‘کیا وہ خوب صورت تھی؟’

 

‘نہیں، اب ایسا بھی نہیں۔’

 

‘تو پھر تمہاری کچھ خاص پسند کا معاملہ تھا؟’

 

‘میں کچھ کہہ نہیں سکتا، بس یوں لگتا ہے جیسے مجھے اس کے بارے میں کچھ بھی یاد نہ ہو۔ جیسے اس کی آنکھیں کیسی تھیں، یا اس کے حسین جسمانی ابھار کیا تھے۔’

 

‘حد ہے!’

 

‘ہاں، ہے تو عجیب ہی۔’

 

اب وہ بوریت سے کہنے لگا، ‘چلو پھر بھی، تم نے کیا کیا؟ بات کی؟ اس کے پیچھے گئے؟’

 

‘نہیں، بس گلی میں یوں ہی اس کے ساتھ سے گزرا تھا۔’

 

وہ مغرب کی سمت جا رہی ہے اور میں اس سمت سے آ رہا ہوں۔ اپریل کی یہ صبح واقعی حسین ہے۔

 

کاش میں ا س سے بات کر سکتا۔ آدھ گھنٹہ ہی کافی ہوتا۔ کرنا ہی کیا تھا، کچھ اس کے بارے میں پوچھتا، کچھ اپنا بتاتا۔ بہت کہہ پاتا تو اسے یہ بتاتا کہ قسمت کی ستم ظریفی کیسے اپریل 1981 کی ایک خوب صورت صبح ہاراجوکو میں ہمیں سرراہ ایسے پاس سے گزار دیتی ہے۔ اس معاملے میں یقیناً کئی راز چھپے تھے۔ عین وہی سکون اس واقعے سے پہلے تھا جیسا دنیا میں گھڑی کی ایجاد سے پہلے ہوتا ہو گا۔ یوں ہی سا معاملہ تھا یہ سب۔

 

بات کرنے کے بعد ہم کہیں کھانا کھا لیتے یا وڈی ایلن کی دل چسپ سی کوئی فلم دیکھ لیتے۔ یا راستے میں کسی ہوٹل کے بار سے کچھ پینے رک جاتے۔ اور پھر کیوپڈ کا ایسا میربان تیر چلتا کہ یہ ملاقات بستر تک جا کر ختم ہوتی۔
یہ سب کچھ حقیقت میں بدلنے کا خیال میرے دل میں دھڑکنے لگا۔

 

اب ہمارے بیچ پندرہ گز کا فاصلہ رہ گیا تھا۔

 

میں اس کے پاس جاوں، کہوں کیا؟

 

‘صبح بخیر، کیا ایک مختصر سی بات چیت کے لیے آپ صرف آدھا گھنٹہ مجھے دے سکیں گی؟’

 

تف ہے، میں بالکل ایسا لگوں گا جیسے کوئی بیمہ پالیسی بیچنے والا ہو۔

 

‘معاف کیجیے گا، یہاں آس پاس کوئی ایسی لانڈری ہے جو راتوں رات کپڑے دھو کر تیار کر دے؟’

 

نہیں بھئی، یہ بھی ویسا ہی احمقانہ خیال ہے، اور میرے پاس تو کوئی میلے کپڑے بھی نہیں۔ ویسے بھی کسی ملاقات میں پہلی بات ہی اس طرح کی، کون کرنا چاہے گا۔

 

شاید سیدھے سبھاو بات کرنا بہتر رہے گا۔ ‘صبح بخیر، آپ سو فی صد میرے خوابوں میں پائی جانے والی لڑکی ہیں۔’
نہیں، وہ اس پر یقین ہی نہیں کرے گی۔ اور اگر کر بھی لیا تو بھی شاید وہ مجھ سے بات ہی نہ کرنا چاہے۔ وہ یہ بھی کہہ سکتی ہے کہ ٹھیک ہے، میں ہوں گی سو فی صد آئیڈیل لڑکی آپ کے لیے، مگر بصد معذرت، میرے آپ کے بارے میں ایسے کوئی خیالات نہیں ہیں۔

 

ایسا ہو بھی سکتا ہے۔

 

اور اگر ایسا ہو گیا تو میں وہیں بکھر کر رہ جاوں گا۔ میں اس صدمے سے شاید کبھی باہر نہ آ سکوں۔ اب میں بتیس برس کا ہو چلا ہوں، اور بس یہی سارا معاملہ ہے۔

 

ہم ایک پھولوں کی دکان کے سامنے سے گزرتے ہیں۔ تازہ ہوا کا ایک لطیف سا جھونکا مجھے محسوس ہوتا ہے ۔ راستے کی گھٹن اچانک تازہ گلاب کی خوشبو آنے سے کچھ اور کم ہو جاتی ہے۔ میں اپنے آپ کو اس سے بات کرنے پر آمادہ نہیں کر پاتا۔اس نے ایک سفید سوئیٹر پہن رکھا ہے اور اس کے داہنے ہاتھ میں ایک سفید براق خط کا لفافہ ہے، اس پر صرف ٹکٹ نہیں لگا ہوا۔ تو گویا اس نے کسی کو خط لکھا ہے۔ اور ویسے اس کی آنکھوں کے خمار سے بھی یہی لگتا ہے جیسے ساری رات شاید یہی لکھنے میں بتا دی۔ اس لفافے میں شاید وہ تمام راز ہوں جو ابھی تک ان کہے ہیں۔

 

بے چینی سے میں وہیں منڈلاتا رہا اور ایک بار جو مڑا تو وہ ہجوم میں غائب ہو چکی تھی۔

 

اب ظاہر ہے مجھے بالکل واضح ہو گیا کہ دراصل میں اس سے کیا بات کرتا۔ وہ، ایک لمبی تقریر ہوتی۔ جی ہاں، وہ اتنی لمبی ہوتی کہ میں اسے ٹھیک سے ادا ہی نہ کر پاتا۔ اف! مجھے جو بھی خیالات آتے ہیں وہ زیادہ قابل عمل نہیں ہوتے۔

 

اوہ، یاد آیا، ‘ایک دفعہ کا ذکر ہے’ بات اس جملے سے شروع ہوتی اور ‘کیا یہ واقعی ایک اداس کہانی نہیں؟’ اس پر ختم ہو جاتی۔

 

ایک دفعہ کا ذکر ہے، ایک لڑکا اور ایک لڑکی ہوتے تھے۔ لڑکا اٹھارہ سال کا تھا اور لڑکی سولہویں سال میں تھی۔ لڑکا بہت زیادہ خوب رو نہیں تھا، وہ لڑکی بھی اتنی دلکش نہیں تھی۔ وہ دونوں بالکل عام سے ایک لڑکا لڑکی تھے۔ جیسے کوئی بھی دوسرا ہو سکتاہے۔ مگر انہیں پورا یقین تھا کہ اس دنیا میں کہیں نہ کہیں ان کا ایک چاہنے والا موجود ہے جو سو فی صد ان کے خوابوں جیسا ہے۔ جی ہاں انہیں معجزوں پر یقین تھا۔ اور وہ معجزہ واقعی میں ہو گیا۔

 

ایک دن وہ دونوں ایک گلی کے موڑ پر آمنے سامنے آ گئے۔

 

لڑکا بولا، ‘یہ بہت حیران کن بات ہے، میں تمام عمر تمہیں تلاش کرتا رہا ہوں، تم شاید اس بات پر یقین نہ کرو، مگر تم سو فی صد وہی لڑکی ہو جیسی میرے خوابوں میں موجود تھی۔’

 

‘اور تم’، لڑکی اس سے کہنے لگی، ‘تم سو فی صد میرے خوابوں کے شہزادے ہو۔ عین ویسے ہی، جیسے میں نے کبھی سوچا تھا۔ یہ سب کہیں خواب تو نہیں؟’

 

وہ دونوں قریب ہی موجود باغ میں ایک بینچ پر ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے بیٹھ جاتے ہیں اور کئی گھنٹے ایک دوسرے کو اپنی کہانیاں سناتے رہتے ہیں۔ وہ اب اکیلے نہیں تھے۔ انہیں اپنا خواب، اپنا سو فیصد مثالی ساتھی مل گیا تھا۔ یہ کیا ہی خوب صورت بات ہے کہ آپ کو اپنا سو فی صد آئیڈیل مل بھی جائے اور آپ بھی اس کے آئیڈیل ہوں۔ یہ تو بھئی معجزہ ہوا۔ کائنات کا ایک حیران کن معجزہ!

 

اب وہ بیٹھے رہے اور بات کرتے رہے۔لیکن ایک معمولی سی، بالکل باریک سی شک کی ایک دراڑ ان کے ذہنوں میں موجود تھی۔ کیا ایسا ممکن ہے کہ کسی کے خواب اتنی آسانی سے حقیقت میں بدل جائیں؟

 

اور تب، جب ان کی باتوں میں دم لینے کو ایک وقفہ آیا تو لڑکے نے لڑکی سے کہا۔ ‘ہمیں صرف ایک بار اس بات کا جائزہ لینا چاہیے کہ کیا واقعی ہم سو فی صدی ایک دوسرے کے لیے بنے ہیں؟ اگر واقعی ایسا ہے، تو ہم کہیں نہ کہیں، کبھی نہ کبھی ملیں گے ضرور۔ اور جب ایسا ہو گا اور ہم جانتے ہوں گے کہ ہم سو فی صد ایک دوسرے کے لیے بنے ہیں تو ہم وہیں کے وہیں شادی کر لیں گے۔ کیا خیال ہے؟’

 

‘ہاں’، لڑکی نے کہا، ’ہمیں واقعی یہی کرنا چاہیے۔’

 

اور پھر وہ جدا ہو گئے۔ لڑکی مشرق کو اور لڑکا مغرب کی سمت چلا گیا۔

 

ویسے یہ آزمائش جس کے بارے میں وہ دونوں متفق تھے، قطعی غیر ضروری تھی۔ انہیں یہ بات کبھی نہیں ماننا چاہیے تھی کیوں کہ دراصل وہ دونوں واقعی میں سو فی صد ایک دوسرے کے لیے ہی بنے تھے۔ اور یہ ایک معجزہ تھا کہ وہ ایسے مل لیے تھے۔ مگر اس کم عمری میں ان کے لیے یہ جاننا ممکن نہیں تھا۔ قسمت کے سمندر کی سرد اور بے نیاز لہروں نے انہیں بے رحمی سے اچھال دیا تھا۔

 

ایک دفعہ سردیوں میں لڑکے اور لڑکی، دونوں کو بہت شدید موسمی زکام نے آ لیا۔ کئی ہفتے وہ دونوں زندگی اور موت کی بے کراں سرحدوں پر بھٹکتے رہے۔ یہاں تک کہ انہیں گذشتہ زندگی کے تمام واقعات بھول گئے۔ جب وہ صحت یاب ہوئے تو ان کے دماغ بالکل ایک کوری تختی کے مانند تھے۔ اتنے خالی کہ جیسے کبھی بچپن میں بے چارے ڈی۔ایچ۔لارنس کی گلک ہوتی ہو گی۔

 

وہ دونوں پرعزم اور ذہین تھے، اور اس کے ساتھ ساتھ اپنی ان تھک کوششوں کی وجہ سے دوبارہ اس قابل ہو گئے تھے کہ وہ تمام علم اور حسیات دوبارہ سیکھ جائیں کہ جن کی مدد سے وہ معاشرے میں کارآمد ہو سکتے تھے۔

 

خدا نے اپنا فضل کیا۔ وہ دونوں واقعی معاشرے کے معزز شہری بن گئے۔ وہ یہ جانتے تھے کہ ایک سب وے لائن سے دوسری پر کس طرح جانا ہے۔ وہ یہ جانتے تھے کہ ڈاک سے رجسٹری کس طرح بھیجی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ انہیں دوبارہ مبتلائے محبت ہونے کا بھی اتفاق ہوا جو 75 فیصد اور کبھی 85 فیصد تک بھی ہو جاتا تھا۔ وقت ناقابل یقین تیزی سے گزرا، جلد ہی لڑکا بتیس سال کا اور لڑکی تیس سال کی ہو گئی۔

 

اپریل کی ایک خوشگوار صبح تھی۔ دن کا آغاز گرماگرم کافی کے ایک کپ سے کرنے کے خیال میں گم لڑکا مغرب سے مشرق کی طرف جا رہا تھا۔ جب کہ لڑکی مشرق سے مغرب کو اس خیال میں رواں تھی کہ ایک خط رجسٹرڈ ڈاک سے بھجوایا جا سکے۔ مگر ٹوکیو کے نواح میں واقع ہاروجوکو کی اسی تنگ سی گلی سے گزرتے ہوئے عین گلی کے درمیان وہ ایک دوسرے کے قریب سے گزرے۔ ان کے دلوں میں گمشدہ یادوں کی ہلکی سی ایک کرن صرف ایک لمحے کو نمودار ہوئی۔ دونوں نے اپنے سینوں میں ایک سرد سی آہ محسوس کی۔ اور وہ جانتے تھے۔

 

وہ لڑکی سو فیصد میرے خوابوں کی شہزادی ہے۔

 

وہ لڑکا سو فیصد میرے خوابوں کا شہزادہ ہے۔

 

مگر ان یادوں کی چمک بہت کم تھی۔ اور چودہ سال گزرنے کی وجہ سے وہ سب یادیں پہلے کی سی واضح نہیں تھیں۔
ایک لفظ کہے بغیر وہ ایک دوسرے کے پاس سے گزرے اور ہمیشہ کے لیے ہجوم میں کھو گئے۔

Image: Duy Huynh