Categories
فکشن

گمراہ

دیگر بچوں کی سی تیز طراری اس میں نہیں تھی۔۔۔اس کی بیرونی رسائی کا دائرہ نہایت محدود تھا۔

 

وہ امی سے اکثر پوچھتا کہ وہ کب اسکول جائے گا؟ امی اسے کہتیں کہ جب وہ پانچ سال کا ہوگا تب اسے اسکول میں داخل کروایا جائے گا۔ بہن بھائیوں کے علاوہ گھر کے سامنے سے گزرتی سڑک پر اسکول جانے والے بچے بچیوں کے قافلے اس کے ننھے منے ذہن میں اسکول جانے کی خواہش ابھارتے رہتے۔

 

جلد ہی وہ پانچ سال کاہو گیا۔

 

کلاس میں پہلی بار حاضری کے لیے اس کا نام پکارا گیا تو مسرت اس کے رگ و پے میں قلانچیں بھرنے لگی۔

 

پہلی بار نام پکارے جانے کے ساتھ ہی اس کے محلے سے تعلق رکھتے ماسٹر جی نے جو اضافی جملے ادا کیے انھوں نے قلانچیں بھرتی مسرت کودبوچ کر یکدم مفلوج بھی کر دیا۔

 

پہلے پہل کے وہ ہتک آمیز جملے اس کے معصوم لیکن حساس ذہن کے لیے پہلا دھچکا تھے۔کلاس میں موجود دیگر بچوں کی ہنسی نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔

 

گھر جا کر اس نے امی سے پوچھا “امی ہم کون ہیں؟؟”

 

“ہم۔۔۔؟؟”

 

اس کی امی کچھ کچھ کہتے کہتے رک گئیں۔

 

“اچھا مجھے وہ سبق سناؤ ذرا۔۔۔بتاؤ ہمارا رب کون ہے؟”

 

اس کی امی سوال دہرانے لگی اور وہ میکانکی انداز میں امی کے ہر سوال کا جواب دیتا گیا۔

 

“ہم سب کیا ہیں؟؟”

 

“بھائی بھائی!”

 

اس نے امی کے آخری سوال کا جواب دیا۔۔۔دہرائی پورا ہونے پر امی نے اسے ایک روپیہ دیا تھا اور دوڑتا ہوا گھر سے باہر چلا گیا۔

 

وہ مڈل سیکشن کی دہلیز پر کھڑا تھا۔۔۔ وہ ہر روز گٹر میں ڈبویا جاتا۔۔۔ ایک جملہ ایک ڈبکی۔۔۔ ایک اور جملہ۔۔۔ایک اور ڈبکی۔۔۔۔
وہ سر جھکاتا تو قمیض پر بٹنوں کی جگہ اسے لال بیگ دکھائی دیتے۔ ۔۔

 

کراہت کا وہ احساس اس کے حساس ذہن کے لیے ناقابلِ بیان اذیت کا باعث بنتا۔قمیض کے کالر پر اس کی مضبوط گرفت کی تاب نہ لاکر کوئی لال بیگ اس کی گود میں بھی جا گرتا۔ گود میں جب لال بیگ بھی اسے ہنستا ہوادکھائی دیتا تو وہ آنکھیں بند کر لیتا۔۔۔

 

سورج بنا رکے مصروف و مگن رہ کر اسے گیارہویں سال میں لے آیا تھا۔۔۔

 

ایک شام وہ ہانپتا کانپتا گھر میں داخل ہوا۔۔۔امی ابو کو ساری داستان سنائی۔۔۔اس کے قریبی دوست نے کچھ مقدس ہستیوں کے بارے میں ایسے گستاخانہ الفاظ استعمال کیے تھے جنھیں سن کر اس کا بھڑک اٹھنا یقینی تھا۔

 

امی ابو نے وہ سب کچھ سننے کے بعدایک نیا انکشاف کیا تھا۔۔۔ایک نئی شناخت۔۔۔اگرچہ وہ نئی شناخت جوش و خروش کے ساتھ تفاخر کی پلیٹ میں سجا کر پیش کی گئی تھی لیکن اس کے کے باوجود اسے اپنے کپڑوں کے اندر جسم پر ہزاروں لال بیگ رینگتے ہوئے محسوس ہوئے تھے۔۔۔

 

ہر گزرتے دن کے ساتھ امی، ابو اور دوست بھی اسے ماسٹر جی لگنے لگے۔۔۔اس کا دل چاہتاکہ اس کی امی اس سے پھر وہی سبق سنیں جو اسکول جانے سے پہلے پڑھایا کرتی تھیں۔۔۔اس کے دماغ میں سینکڑوں سوالات کلبلاتے۔۔۔ لیکن امی ابو تو ماسٹر جی بن چکے تھے۔۔۔ وہ پوچھتا تو کس سے۔۔۔

 

دن رات کا ادل بدل جاری تھا۔۔۔

 

بظاہر وہ ہزاروں لاکھوں کروڑوں لوگوں کی طرح طے شدہ راستے پر چلا جا رہا تھا۔۔۔

 

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس پر اور اس کے ارد گرد لوگوں پر کوئی نہ کوئی نیا لیبل چسپاں ہوتا رہا۔۔۔

 

امی کا یاد کروایا پہلا سبق ایک کڑی کسوٹی بن کر اس کے دل و دماغ کے دروازے پر مضبوط چٹان کی طرح گڑا ہوا تھا۔۔۔

 

ہر نیا سبق اس کے دل و دماغ کی دہلیز پار کرنے سے پہلے ہی اس چٹان سے ٹکرا کر پاش پاش ہو جاتا۔۔۔

 

لیکن ارد گرد کے ٹھوس حقائق سے آنکھیں چرانا بھی اسکے بس میں نہیں تھا۔۔۔وہ سبق بھی اپنی اہمیت کھو رہا تھا۔۔۔

 

چٹان اپنی جگہ چھوڑ رہی تھی۔۔۔

 

اتنی کراہت۔۔۔اس قدر اذیت۔۔۔بلا کا اضطراب۔۔۔

 

یہ کیسی شناختیں تھیں جو اسے بے شناختی کی طرف لیے جا رہی تھیں۔۔۔

 

اس کے اندر جاری ٹوٹ پھوٹ کے لیے شدت کا لفظ اپنی تمام تر صورتوں سمیت بہت ہی چھوٹا تھا۔۔۔

 

اسے منزل کی جگہ کبھی آگ دکھائی دیتی اور کبھی دلکش اور حیات افروز وادیاں۔۔۔

 

اس کے آس پاس ایک دوسرے کو آگ میں دھکیل کر خوشیاں مناتے لوگ تھے۔۔۔

 

اپنی اپنی حرکات و سکنات کی بنا پیندے کی صراحی میں شرابِ طہور کے نظارے لینے والے لوگ۔۔۔

 

کشمکش، اضطراب اورتشکیک کا خوفناک بگولہ بِن رکے اسے گھمائے اور اٹھائے چلا جا رہا تھا۔۔۔

 

اس کے قدم کب کے وہ زمین چھوڑ چکے تھے جس پر اس نے آنکھ کھولی تھی۔۔۔

 

اور جب بگولے نے اسے پٹخا تو اس نے خود کو ایک ایسے راستے کے کنارے پر کھڑاپایا جس پر کروڑوں کی بھیڑ ناک کی سیدھ میں بڑھی چلی جا رہی تھی۔۔۔اس بھیڑ میں اس کے امی،ابو اور بہن بھائی دوست حتیٰ کہ اس کے استاد بھی شامل تھے۔۔۔

 

چھوٹے بڑے کی تفریق اور تخصیص کے بغیر ہر فرد جو بھیڑ کا حصہ تھا اپنی آنکھوں پر بندھی پٹی سے لا علم تھا۔۔۔یا شاید وہ نادیدہ پٹی صرف اسے ہی دکھائی دے رہی تھی۔۔۔

 

اس نے امی ابو کو پکارا۔۔۔

 

اپنے بہن بھائیوں کو۔۔ اپنے دوستوں کو متوجہ کرنے کی کوشش کی۔۔۔

 

لیکن سب نے اُسے ایسے دیکھا جیسے کسی بھٹکے ہوئے یاگمراہ کو دیکھا جاتا ہے۔۔۔

 

دور کہیں بہت دوراُس مرکزی راستے کا آغاز اُسے صاف دکھائی دے رہا تھا۔۔۔اُس رستے کا آغاز جس پر سب کے سب اندھا دھند ناک کی سیدھ میں بڑھے چلے جا رہے تھے۔۔۔نادیدہ پٹیاں بانٹی جا رہی تھی۔۔۔گروہ در گروہ۔۔۔طبقہ در طبقہ۔۔۔

 

بانٹنے والوں کے مخصوص حلیے اس کی آنکھوں کی ریٹیناپر جیسے جم سے گئے تھے۔۔۔

 

اس نے راستے کے اختتام کی طرف دیکھا اور بے انتہا تپش سے اس کی غیر مرئی نگاہیں تک بھاپ میں تبدیل ہو گئیں۔۔۔
اس نے آنکھیں بند کر لیں۔۔۔

 

اسے اپنی گردن کے پیچھے کوئی چیز رینگتی ہوئی محسوس ہوئی۔۔۔شایدکوئی لال بیگ ابھی باقی تھا۔۔۔

 

آخری لال بیگ نے اس کے بائیں کندھے پر کچھ دیر ٹھہر کر اسے جانی پہچانی لیکن بری نظروں سے دیکھا۔۔ اور اپنے معدے میں خود ساختہ فاضل جکڑ بندیوں کی باقیات چھپائے ایک اڑان بھر کر سامنے راستے پر والدین کی انگلی تھامے ایک بچے کے سر پر جا بیٹھا۔۔۔
Categories
نقطۂ نظر

ہمار اثقافتی ورثہ ؟؟

شمالی شام اور عراق کے کچھ علاقوں پر گزشتہ دو سال سے زائد عرصے سے وحشیوں کا قبضہ ہے اور اُن کے زیر نگیں علاقوں میں نہ تو سالوں کی عمر پانے والے انسان محفوظ ہیں اور نہ ہی صدیوں کی عمر پانے والے آثارِ قدیمہ۔
ابھی قدیم میسوپوٹیمیا کی تہذیب کے وارث “بابل” شہر کے آثار کی کی تباہی کے انمٹ نشانوں کا الم گہرا تھا کہ خبر ملی ”شام میں واقع پائیلمارا شہر میں جہاں ان دنوں درندوں کا راج ہے وہاں موجود قدیم عہد کے رومی و یونانی معبدوں میں بارود نصب کر دیا گیا ہے ” پھر یہ اطلاع آئی کہ وہاں رہائش پذیر ان آثار کے تحفظ اور تحقیق پر مامور خلدالاسعد نامی ضعیف ماہر آثار قدیمہ کا سر قلم کردیا گیا ہے۔ قصور یہ تھا کہ وہ بوڑھا قدیم بت پرستی کے عہد کی عمارات کا محافظ تھا۔ ابھی تصاویر جاری ہوئی ہیں کہ سب سے قدیم معبد کو بارود کے ذریعے تباہ کر دیا گیا ہے۔ یونیسکو اور دیگر عالمی اداروں کے مذمتی بیانات جاری ہو رہے ہیں۔ شامی کی حکومت کا کہنا ہے کہ دولت اسلامیہ صرف شام کی سالمیت کو ہی درپیش خطرہ نہیں ہے بلکہ یہ تنظیم شام کے تہذیبی ورثے، شناخت اور شاندار ماضی کو بھی تاراج کردینا چاہتی ہے۔
شامی کی حکومت کا کہنا ہے کہ دولت اسلامیہ صرف شام کی سالمیت کو ہی درپیش خطرہ نہیں ہے بلکہ یہ تنظیم شام کے تہذیبی ورثے، شناخت اور شاندار ماضی کو بھی تاراج کردینا چاہتی ہے۔

 

جونہی تہذیبی ورثہ، شناخت اور شاندار ماضی جیسے الفاظ نے ذہن کے دروازے پردستک دی تو یکلخت کچھ چھناکے سے ٹوٹ گیا۔

 

عکسی مفتی صاحب لکھتے ہیں کہ” پاکستان میں ثقافتی محکموں کے کسی اہلکار سے اگر پوچھا جائے کہ ہماری ثقافت کیا ہے تو وہ فوری طور پر ناچ گانا، مصوری اور ممکن ہے کہ پتنگ بازی کانام لے اور پھر مفتی جی ہی فرماتے ہیں کہ اگر یہی سوال کسی سیاستدان، نامور صحافی یا محب وطن دانشور سے پوچھ لیا جائے تو وہ نظریہ پاکستان کا تحفظ، تصور پاکستان کی آبیاری، پورے جوش وولولے سے قائد اور اقبال کے فرامین کی روشنی میں تحریک پاکستان، قراردادِ پاکستان اور دو قومی نظریے کی بات شروع کردے گا”۔

 

ذرا گہرائی میں چلے جائیں تو وہ صاحب اردو زبان کو ہی اوڑھنے بچھونے پر زور دیتے ہوئے عرب کے صحراوں اور وسط ایشیاء کے سبزہ زاروں میں جا نکلیں گے اور جھٹ سے اپنی مقامی، علاقائی اور لسانی شناخت سے جڑے ہوئے افراد کو غدار اور غیر ملکی ایجنٹ قرار دیں گے۔

 

پیرس کی کچی آبادی میں رہائش پذیر اپنا سب کچھ علمی اداروں کے نام کر دینے والے، پاکستان کے پہلے ڈائرایکٹر جنرل ادراہ برائے آثارِ قدیمہ مونسیو کر یال سے جب عکسی مفتی صاحب کی ملاقات ہوئی تو اُنہوں نے سوال کیا کہ وہ یونیسکو کے چئیرمین کیوں نہیں لگ جاتے؟ جواب میں مونسیو کریال کے الفاظ سے صرف مفتی جی کی ہی نہیں میری آنکھیں بھی حیرت سے کھل گئیں ” مفتی! پاکستان کے آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے ڈائرایکٹر جنرل کا عہدہ چئیرمین یونیسکو سے کہیں بلندتر ہے۔ یونیسکو کا چئیرمین کیا ہوتا ہے سوائے ایک دفتری ملازم کے، پاکستان کے آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ کا ڈی جی دنیا کی تین خوبصورت تہذیبوں کا وارث ہوتا ہے، موہنجوداڑو، گندھارا ، اور مغل عہد کے قلعے اور عمارات”۔
کبھی سوچا بھی ہے؟
مفتی! پاکستان کے آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے ڈائرایکٹر جنرل کا عہدہ چئیرمین یونیسکو سے کہیں بلندتر ہے۔ یونیسکو کا چئیرمین کیا ہوتا ہے سوائے ایک دفتری ملازم کے، پاکستان کے آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ کا ڈی جی دنیا کی تین خوبصورت تہذیبوں کا وارث ہوتا ہے، موہنجوداڑو، گندھارا ، اور مغل عہد کے قلعے اور عمارات۔

 

(مفتی صاحب کی سوچ پڑھنے کے لیے ان کی تحریر کردہ کتاب ”پاکستانی ثقافت ” سے رجوع کیجئے یہاں ان کے خیالات درج کرنا مناسب امر نہیں ہے۔)

 

شنید ہے کہ یونیسکو نے سرد جنگ کے خاتمے کے دنوں میں عالمی ورثے کے تحفظ کی مہم کی کامیانی کے بعد ‘انٹیلکچوئل پراپرٹی’ اور ‘کریٹو رائٹس’ کے تحفظ کی مہم کا آغاز کیا تھا ۔

 

حیف ! کہ وطن عزیز سے منسوب دو خبریں جی جلاتی ہیں۔ پہلی یہ کہ بی ایس اے نامی عالمی ادارے کی رپورٹ کے مطابق پاکستان چھیاسی فیصد شرح کے ساتھ دنیا کے پہلے تین ممالک میں شامل ہے جہاں پائریسی اور انٹیلیکچوئل پراپرٹی رائٹس کی شدید خلاف ورزی کی جاتی ہے۔

 

دوسری خبر یہ ہے کہ پاکستان سے چوری ہوکر برطانیہ اور اٹلی اسمگل ہونے والے تین سو سے زائد ناقابل بیان مالیت کے حامل قیمتی نوادرات جنہیں اِن ممالک میں موجود سفارتخانوں کے حوالے کر دیا گیا تھا پچھلے آٹھ سالوں سے وطن واپس نہیں لائے جا سکے۔ جس جگہ ان قدیم نوادرات کو عارضی طور پر رکھا گیا ہے وہاں ان کی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

 

سوچتا ہوں کہ ہماری شناخت، ہمارے ماضی اور قدیم روایات کے حامل ان آثارکو تو کسی دولت اسلامیہ العراق و الشام سے کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے پھر میں ان سلامتی اور تحفظ کے لئے نوحہ کناں کیوں ہوں۔ سرجھٹک کر کام میں لگیئے صاحب!
؎ تجھ کو کسی کی کیا پڑی اپنی گزار تو ۔۔۔ !!!

[spacer color=”B2B2B2″ icon=”Select a Icon” style=”1″]

پاکستانی ثقافت ازعکسی مفتی

1. http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/08/150825_pakistan_copy_rights_zz
2. http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/08/150813_pak_artefacts_smuggling_zz
3. http://www.bbc.com/urdu/world/2015/08/150819_isis_kill_palmyra_custodian_mb

Categories
نان فکشن

اکیسویں صدی کی غزل کا انفرادی و اجتماعی منظرنامہ

قسط اول
اکیسویں صدی کی شاعری کا منظر نامہ اردو شاعری کے افق پر ایک ایسی تشکیل کے عمل سے گزر رہا ہے جس کی بنیادوں میں جہاں مابعد جدید عہد کا اجماعی لاشعور کار فرما ہے وہیں انفرادی انسانی جبلتوں کے نقوش بھی بدرجہ اتم دیکھے جا سکتے ہیں۔ دیکھا جائے تو شاعری کی نئی کھیپ کسی مخصوص فکر۔ تحریک یا نظریے کی پابند نظر نہیں آتی ہے۔ وہ اپنے تمام تر نطری و فکری بیانیے میں مکمل آزادی کی ظرف پیش قدمی کرتی نظر آتی ہے اور یہی آزادی وہ اپنے صوتی و فکری آہنگ کو بھی دینے کی قائل نظر آتی ہے۔آج کے شاعر نے اپنے بدن سے روایتی، گھسی پٹی کلیشے زدہ معاشرتی ، سیسی، نظریاتی، اور فکری پابندیوں کی ردا اتار پھینکی ہے۔ وہ موجودہ عہد سے اپنی فظری بالیدگی کے ساتھ سنجیدگی سے مکالمہ آراءہے۔ یہ مکالمہ کہیں اسے نفسیاتی کشمکش میں مبتلا کرتا اور کہیں اسے بے معنویت اور تہذیبی مغائرت کی دیواروں سے سر ٹکرانے پر اکساتا ہے۔آج کا شاعر اپنے اندر دبی ہوئی ان تمام چیخوں کو آواز دینا چاہتا ہے جنہیں کبھی قومیت کے نام پر، کبھی مذاہب کے نام پر، کبھی نطریاتی فریم ورک کے نام پر اور کبھی مفادات اور مصلحت کے نام پر دبایا جاتا رہا ہے۔
اکیسویں صدی کی شاعری کا منطر نامہ اردو شاعری کے افق پر ایک ایسی تشکیل کے عمل سے گزر رہا ہے جس کی بنیادوں میں جہاں مابعد جدید عہد کا اجماعی لاشعور کار فرما ہے وہیں انفرادی انسانی جبلتوں کے نقوش بھی بدرجہ اتم دیکھے جا سکتے ہیں۔
آج کے شاعر کے پاس بہت سے سوالات ہیں ان سوالات کی کوکھ سے جنم لیتا اضطراب اور بے چینی ہے شکستگی کا اظہار ہے ۔سماجی، فکری اور جنسی تفاوت کی فضا میں تصادم آمیز اظہاریہ سے احتجاج کا شعلہ بر آمد ہوتا دکھائی دیتا ہے ۔ اس شعلے سے آج کی غزل سے برآمد ہوتے ہوئے معنیاتی کینوس پر معروف معانی سے غیر معروف یا غیر مانوس معانی کی بر آمدگی اپنی جگہ پر ایک الگ اکتشافی عمل کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔
اپنے سے ما قبل بیانیے سے مختلف ہونااس کے لیے ایک ضروری عمل کے طور پر سامنے آیا ہے،یہ اور بات کہ اس انفرادیت کے حصول میں وہ کہیں اپنی جمالیات کا سودا کرنے پر تیار ہے اور کہیں وہ اسے اپنی تخلیقی بازیافت کے عمل کا لازمی جزو مانتے ہوئے اسے روایت کے شعور سے منطبق کر کے اپنی تخلیقی پیشکش کا قائل ہے۔
آج کی شاعری میں موضوعاتی ، فکری اور نظری سطح پر جتنا تنوع نظر آتا ہے اس کے تحقیقی پس منظر کی تلاش بذات خود ایک فکری کلامیہ کو جنم دیتا ہوا نظر آتا ہے ۔۔ابہام، سریت، پر اسراریت، فرد کا ملال، تنہائی ، وجودی مسائل، مقامی تہذیبی استعارے و علامات، انسان ، تہذیب ، مابعد الطبعیاتی انفعالیت جیسے مختلف رجحانات ہماری روایت میں اپنے اپنے عصری منطرنامے کے زیر سایہ ایک محدود کینوس پر شعری اظہاریے کا حصہ رہے ہیں مگر آج کی شاعری میں یہ تمام رجحانات اپنی بھرپور تخلیقی بالیدگی اور شدت احساس کے ساتھ ایسے اظہاریے کی تشکیل کرتے ہیں جو ہمارے مابعد جدید عہد کے اجتماعی لاشعور میں نمو پذیر ہوتے فکری کلامیے کی جہات کو متعین کرتا ہے اور ان پر اپنے تخلیقی رد عمل بھی ظاہر کرتا ہے۔
ایک اور سظح پر ایک پہلو جو اکثر ہمارے سنجید قارئین کے ذہن میں اٹھتا ہے جو بہت اہم اور قابل توجہ ہے کہ نئی غزل میں آپ کو احساس اور لہجہ کی سطح پر انسلاک نظر آتا ہے اوراحساس کی سطح پر اجتماعیت کا پہلو نکلتا نظر آتا ہے اور یہاں آ کر وہ جدیدیت کے انفرادیت کے پہلو سے احساس کی سطح پر بغاوت کرتی محسوس ہوتی ہے شاید یہی احساس کی انفرادی پیشکش کا غیاب ہمارے بعض نئے لکھنے والوں کے مصرعہ سازی پر اثر انداز ہوتا ہے اور ایک تاثر یہ برآمد ہوتا ہے کہ کچھ لوگ ایک ہم اہنگ اسلوب میں جکڑے لگتے ہیں اور ان شاعروں کی غزلیات سے اگر نام ہٹا لیا جائے تو ہم شناخت نہیں کر پاتے کہ کس کی نمائندہ غزلیات ہیں مگر یہ تاثر بہت بڑے پیمانے پر اجاگر نہیں ہو پاتا۔
ہر کانفرنس ہر تقریب ہر مشاعرے میں صرف انہی چہروں کی تقریب رونمائی سو سو بار کرا کرا کر ان کے اصل چہروں کو اتنا مسخ کر دیا گیا ہے کہ اب ان کو دیکھ کر لفظوں کو بھی گھن آتی ہے۔
ہماری شاعری پر تنقید کو دیکھا جائے تو آج کی نسل کا تخلیقی مقدمہ لڑنے کو کوئی سقہ بند نقاد تیار نظر نہیں آتا۔مخصوص لابیاں ہیں جن میں صرف انہی لوگوں پر بات کرنا ضروری سمجھا جاتا ہے جو ان کی دادا گیری اور سلطنت عیاراں میں توسیع کا باعث بن سکتے ہیں۔ادب کو ہمارے نام نہاد ادبی حلقوں، آرٹس کونسلوں اور ابی اکیڈمیوں میں صرف محدود اشرافیہ کے نوازے ہوئے باسی مضامین کی جگالی کرتے چار چار پانج پانچ دہائیوں سے غاصبانہ قابض صرف انہی لوگوں کی لونڈی بنا دیا گیا ہے جن کی عیارانہ زنبیل میں بیس بیس سالوںسے ایک دو غزلوں یا نظموں کے سوا کچھ نہیں نظر آتا۔ ہر کانفرنس ہر تقریب ہر مشاعرے میں صرف انہی چہروں کی تقریب رونمائی سو سو بار کرا کرا کر ان کے اصل چہروں کو اتنا مسخ کر دیا گیا ہے کہ اب ان کو دیکھ کر لفظوں کو بھی گھن آتی ہے۔ دو تین معیاری رسالہ جات کے علاوہ نمائندہ ادبی رسالے جن کو ان جغادری ادیبوں اور بین الاقوامی ادبی تقریبوں کے منتظمین کی آشیرباد حاصل ہے ان میں کوئی چیز چھاپنے سے پہلے بھلے وہ کس تخلیقی کرب اور محنت سے لکھی گئی ہو، یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس چیز کے لکھنے والے کو سلظنت عیاراں کے کس بڑے پادری کی سند حاصل ہے اور یہ لکھنے والا کس لابی سے تعلق رکھتا ہے۔اسے بعض دفعہ مسلک ،بعض دفعہ نظریاتی وابستگی اور بعض جگہ مولویانہ پن ( دونوں انتہاؤں کا) اور کبھی زاتی مفادات کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ (جاری ہے)