Categories
شاعری

جبر کی دنیا

جبر کی دنیا
زندگی کا ہیولہ سرچ ٹاور پر گھومتے سورج کی طرح
سیاہ پٹی سے ڈھکی آنکھوں کے سامنے
رات جیسے دن میں کئی بار گزرتا ہے
دن کو کرۂ ارض پر بچھی سرد ٹائلیں تلووں سے گننے میں صرف ہوتا ہے
کرۂ ارض جس کا شمالی قطب اس کے جنوبی قطب سے نو قدم دور ہے
رزق کا دروازہ مجھے کل تک زندہ رکھنے کے لیے دن میں تین بار کھولا جاتا ہے
میں من و سلویٰ کی چھلکتی پلیٹ ہتھکڑی لگے ہاتھ سے سنبھالنے میں مہارت حاصل کر چکا ہوں
مجھے یہ بھی معلوم ہو چکا ہے کہ شہادت کی انگلی گلے پر پھیری جائے تو پسینہ پیشانی سے پھوٹتا ہے
پیشاب کی بوتل جس نل کے نیچے خالی کی جاتی ہے اس سے پینے کا پانی بھرنا مشکل ہوتا
اگر گالیوں اور کراہوں کے بیچ کی خاموشی پر مجھے موت کا گمان نہ ہوتا
انگلیوں کی پوریں دیوار پر کھدے وہ سب نام یاد کر چکی ہیں
جنھوں نے جبر کی دنیا مجھ سے پہلے دریافت کی
Categories
شاعری

گونگے لفظ چبانے والو

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

گونگے لفظ چبانے والو

[/vc_column_text][vc_column_text]

گونگے لفظ چبانے والو
اندھے حکم سنانے والو
سلوٹ سلوٹ لہجوں پر
قانون کا پالش کیا ہتھوڑا
ٹھک ٹھک ٹھک برسانے والو
لفظ چبائے جا سکتے ہیں
حکم سنائے جا سکتے ہیں
چند زبانیں ظل الہی کے بارے میں
اپنی اپنی ماں بولی میں
نازیبا باتیں کرتی ہیں
ان پر تالے ڈل سکتے ہیں
لب سلوائے جا سکتے ہیں
جن جبڑوں میں اپنی زبانیں روکنے کی طاقت بھی نہیں ہے
ان کو توڑا جا سکتا ہے
ان کے لیے کسی آہن گر سے خاص شکنجے بھی بنوائے جا سکتے ہیں
لیکن پستولوں کو طمنچہ کہہ دینے سے
بولی کو گولی نہیں لگتی
اور آئین کے تختہ سیاہ پر لکھ دینے سے
کوئی زباں نافذ نہیں ہوتی۔۔۔۔۔۔۔۔

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

نامکمل

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

نامکمل

[/vc_column_text][vc_column_text]

میں رات رات بھر
پوری آنکھیں کھولے
اپنا آدھا دھڑ کہنیوں پر بلند رکھتا ہوں
تاکہ
دانت پر دانت جمائے
ہتھیلیوں میں ناخن گاڑ کر
ایک نظم جن سکوں
میرے ماتھے کا نمک آنکھوں کے پانی سے
لفظ بناتا ہے
جو بھنچے ہوئے جبڑوں کے بیچ سے تھوکے جاتے ہیں
میرے عضلات کا تشنج سطروں کی لمبائی کا فیصلہ کرتا ہے
نظمیں روتی ہوئی پیدا ہوتی ہیں
اور میں ان کے استقبال میں مسکراتا ہوں
یہ نظم مجھے ایک اذیت زدہ انتظار میں رکھے
پیروں کے بل پیدا ہو رہی ہے
میں اس کا چہرہ دیکھ سکوں
تو اسے ایک نام دوں
اسی اذیت میں پیدا ہونے والی نظموں سے مختلف
ایک نام
میں اس سے پہلے ایسی نظمیں جن چکا ہوں جن کا چہرہ نہیں تھا
میں نے ان نظموں کو ان کی آنول کے ساتھ کاغذوں میں دفنا دیا

Image: Bobby Becker
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]