صفحے سے باہر ایک نظم
ابھی میرے دوستوں کے دوست لاپتہ ہو رہے ہیں
پھر میرے دوستوں کی باری ہے
اور اس کے بعد…
میں وہ فائل بنوں گا
جسے میرا باپ عدالت لے کر جائے گا
پھر میرے دوستوں کی باری ہے
اور اس کے بعد…
میں وہ فائل بنوں گا
جسے میرا باپ عدالت لے کر جائے گا
ہمیں اس جنگ سے کس دن مفر تھا

قسم رب کی
اور اس سب کی
جسے اس پالنے والے نے پالا ہے
ہمیں اس جنگ سے کس دن مفر تھا
مگر یہ کہ
عباؤں میں تمہارا اپنی تلواریں چھپانا
اور سجدوں میں ہمارا قتل ہو جانا
روایت ہے
اور اس سب کی
جسے اس پالنے والے نے پالا ہے
ہمیں اس جنگ سے کس دن مفر تھا
مگر یہ کہ
عباؤں میں تمہارا اپنی تلواریں چھپانا
اور سجدوں میں ہمارا قتل ہو جانا
روایت ہے
کچھ لوگ کبھی واپس نہیں آتے

بدن بستروں کو طلاق دے دیتے ہیں
انگلیاں تصویروں کے فریم تھامے لکڑی ہو جاتی ہیں
کلینڈر تاریخوں سے بهرے رہتے ہیں
لیکن دن خالی ہو جاتے ہیں
انگلیاں تصویروں کے فریم تھامے لکڑی ہو جاتی ہیں
کلینڈر تاریخوں سے بهرے رہتے ہیں
لیکن دن خالی ہو جاتے ہیں
سلمان حیدر کی ایک نظم

کسی بالوں کے گچھے کا
شریعت اور بلوغت سے
کوئی رشتہ نہیں ہوتا
شریعت اور بلوغت سے
کوئی رشتہ نہیں ہوتا