Categories
فکشن

مُردوں کا روزنامچہ (اسد رضا)

موت کے قیدی کی گفتگو سے زیادہ اداس کیا چیز ہو سکتی ہے سوائے اس کی خاموشی کے۔ میں پچھلے تیس سال سے سنٹرل جیل میں سزائے موت کے قیدیوں کے روزنامچے لکھنے پر مامور ہوں۔ میں پچھلے تیس سال سے ایک پل کے لئے بھی نہیں سویا کیونکہ ایسے میں بہت سی قیمتی معلومات کھوجانے کا اندیشہ تھا۔ میں سزائے موت ہو جانے سے لے کر پھندے پر جھول جانے تک کے عرصے کی سبھی جزئیات اپنے بڑے سے سیاہ رجسٹر میں لکھتا ہوں۔ اب تک بلا مبالغہ سینکڑوں موت کے قیدیوں کی آخری دنوں کی تفصیلات کا اندراج کرچکا ہوں۔ میں اتنا با برکت ہوں کہ جس قیدی کو بھی ایک دفعہ درج کرلیتا پھر کوئی بھی واقعہ اسے پھندے تک پہنچنے سے نہ بچا سکتا۔ یہاں تک کہ آج تک کسی قیدی کو دل کا دورہ بھی نہیں پڑا تھا نہ ہی کسی قیدی کو کسی دوسرے قیدی نے ہلاک کیا تھا۔ صدر بھی رحم کی اپیلوں پر فیصلہ دینے سے پہلے میرے رجسٹر کی طرف رجوع کرتا ہے۔ میرے اس رجسٹر میں، شاہی خاندان کے افراد، فوجی جرنیلوں، باغیوں، بڑے بڑے ڈاکو، پیشہ ور قاتلوں، سیریل کلرز، غیرت کے نام پر قتل کرنے والے، تفریحاً قتل کرنے والے اور سبھی طرح کے لوگوں کے آخری ایام کے حالات قلم بند ہیں جن کو سزائے موت سنائی گئی تھی۔ میں نے ان کو چیخ و پکار سے لےکر بڑ بڑاہٹ تک ہر شے لکھ رکھی ہے۔ میں نے وہ دلاسے، وہ دعائیں، وہ خواہشیں اور وہ معافی نامے سن رکھے ہیں جو قیدی رات کی تنہائی میں سبق کی طرح بار بار دہراتے ہیں۔ موت کا قیدی ایک ہی یاد کو اتنی بار دہراتا ہے کہ کوفت ہونے لگتی ہے۔ میں قدموں کی تعداد بھی بتا سکتا ہوں جو قیدی زندان کے اندر چہل قدمی کرتے ہوئے لیتے ہیں۔ کوٹھری سے لے کر پھانسی گھاٹ کا فاصلہ (جس کا حساب معین ہے) اس کو طے کرنے میں کس قیدی نے کتنی دیر لگائی میرے پاس سب درج ہے۔ میں نے اپنے رجسٹر کے باب لڑکھڑاہٹ میں وہ سب تفصیلات لکھی ہیں کہ قیدی جب پھانسی گھاٹ کی طرف جا رہا ہوتا ہے تو وہ کتنی بار لڑکھڑاتا ہے۔ میں قیدیوں کے آنسوؤں کے قطروں سے لے کر کپڑوں میں پیشاب خطاء ہونے تک کی گیلاہٹ کا حساب بھی بخوبی جانتا ہوں۔ دیواروں پر کندہ نام، قیدیوں کی محبوباؤں کے نام، ان کے ناجائز بچوں کی تفصیلات، ان کی آدھی ادھوری تحریریں اور پینٹنگز، ان کے خفیہ وصیت نامے اور ایسی لاکھوں چیزوں کے بارے میں میں مکمل آگاہی رکھتا ہوں۔ میں نے قیدیوں کے وہ اعترافات لکھ رکھے ہیں جو وہ پادریوں کے سامنے کرنے سے گریزاں رہے ہیں۔ کتنے ہی قیدیوں کو میں نے موت سے چند دن بیشتر دونوں ہاتھوں سے مشت زنی کرتے دیکھا ہے۔ اففف ان میں کچھ تو اتنے جنونی تھے کہ اگران کی ریڑھ ہڈی نہ ہوتی تو وہ اپنے دانتوں سے اپنے عضوء تناسل کو چبا جاتے۔ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ کتنے قیدیوں نے اپنے ملنے والوں کے بعد کتنی دیر تک کوٹھری کی ٹھنڈی سلاخوں پراپنے چاہنے والوں کا لمس ڈھونڈا ہے۔ اس کے علاوہ یہ چیز بھی میرے علم میں ہے کہ صبح سورج کی روشنی سب سے پہلے جیل کے کس حصے پر پڑتی ہے اوراس روشنی کو اپنے وجود کے انتہائی تاریک گوشوں میں اتارنے کے لئے بعض قیدی کتنی مضحکہ خیز حرکتیں کرتے ہیں۔ روشنی ہی پر کیا منحصر میں تو یہ بھی جانتا ہوں کہ باہر کی تازہ ہوا جیل کی جالیوں میں کس حصے میں کتنی دیر بعد قیدیوں تک پہنچتی ہے۔ میں نے قیدیوں کو پورے اشتیاق کے ساتھ باسی بدبودار کھانا کھاتے ہوئے دیکھا ہے۔ شاید آپ لوگ یہ بات نہ جانتے ہوں مگرایک قیدی کو کھانا کھاتے دیکھ کر اس میں موجود موت کے خوف کو جانچا جا سکتا ہے۔ میں نے رات کی تاریکی میں دعاؤں کو خود کشی کرتے دیکھا ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ جب قیدی “چکی” کی سزا کاٹ کر پہلی بار روشنی میں آتا ہے تو وہ ایک معصوم پاگل بچے کی طرح دکھتا ہے۔ وہ یا تو بالکل خاموش ہو جاتا ہے یا جیلر سے بات کرتے ہوئے نہایت منافقانہ خوش اخلاقی سے کام لینے لگتا ہے۔ میرے رجسٹر میں ایک باب “رسومات” کے نام سے ہے جس میں ان تمام رسومات کا ذکر ہے جو موت کے قیدی ایجاد یا دریافت کرتے ہیں۔ ان میں سے سب سے دلچسپ رسم “مکالمہ” ہے۔ اس میں ایک قیدی خود کو دو، تین یا اس سے زیادہ افراد میں بدل لیتا ہے اور سنجیدگی کے ساتھ مکالمہ کرنے لگتا ہے۔ یقین جانیے یہ محض وقت گزاری کے لئے نہیں ہوتا۔ عام طورپر قیدی یا تو اس شخص سے گفتگو کرتا ہے جسے اس نے قتل کیا ہوتا ہے یا پھر اپنے کسی قریبی عزیز دوست یا رشتہ دار سے۔ بعض اوقات وہ اپنے آپ سے بھی مکالمہ کرتا ہے لیکن اس کا تجربہ زیادہ خوشگوار نہیں ہوتا لہذا وہ جلد ہی اسے ترک کردیتا ہے۔ اس کے علاوہ دوسری اہم رسم “پراسرار طاقتوں کا حصول” ہے۔ یہ رسم عام طور پر رات کی تنہائی میں ادا کی جاتی ہے۔ قیدی کافی دیر تک مراقبے میں رہتا ہے اور بنیادی طورپر دو طاقتوں کا حصول چاہتا ہے۔ ماضی میں واپسی یا غائب ہو جانا، کچھ قیدی اسے مرنے کے بعد زندہ رہنے کے لئے بھی استعمال کرتے ہیں۔ لیکن یہ رسم صرف غیر سنجیدہ قیدیوں ہی میں مقبول ہے۔ اس کے علاوہ کچھ رسمیں جسموں پر نام کندوانے، راتوں کو عریاں پھرنے، کھانے میں پیشاب ملانے وغیرہ جیسی بھی میں نے تفصیل سے درج کی ہوئی ہیں۔ عموماً قیدی موت سے کئی دن پہلے اپنی کوٹھری میں ان مردہ لوگوں کی روحوں سے بات چیت کرتے ہیں جو ان سے پہلے اس کوٹھری کے مکین رہے ہوں۔ میں نے بہت بار قیدیوں سے کہا کہ مجھے بھی اس گفتگو میں شامل کرلو میں اس کی تفصیلات اپنے رجسٹر کے باب بعد از موت میں لکھنا چاہتا تھا پروہ کبھی بھی اس پر تیار نہ ہوئے۔ ان کا کہنا ہے کہ مردہ لوگوں کی روح سے بات کرنے کے لئے موت کا قیدی ہونا ضروری ہے۔ میں کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ میری بور خیس سے ملاقات ہوتی تو میں اسے بتاتا کہ قیدی کے خیالات قلمبند کرتے ہوئے اس سے کہاں کہاں چوک ہوئی، میں سارتر کو بتاتا کہ وہ باغیوں کی گفتگو بیان کرتے ہوئے کس قدر مبالغے سے کام لیتا رہا ہے۔ میں کافکا کو بتانا چاہتا تھا کہ مرتے ہوئے شخص کی آنکھوں کی پتلیاں کس سمت کتنی دفعہ حرکت کرتی ہیں۔ میں وکٹر ہیو گو کو یہ بات بھی سمجھانا چاہتا ہوں کہ ایک موت کے قیدی کو اپنی بچپن سے جوانی تک سب یاد کرنے میں کل چودہ منٹ لگتے ہیں جنہیں چودہ صفحات میں لکھنا ناممکن ہے۔ میں مارکیز کی۔ ٹالسٹائی اور دیگر بے شمار مصنفوں کی غلطیوں کو درست کرنا چاہتا ہوں پر مجھے فرصت ہی نہیں ملتی اور ایمانداری کی بات ہے کہ میں خود بھی ابھی تک سیکھ رہا ہوں۔ ہر قیدی کچھ نہ کچھ ایسا مختلف ضرور کرتا ہے کہ میرے اندازے غلط ہو جاتے ہیں۔ اب میں نے کسی بھی قیدی کے متعلق پیشگی اندازے لگانا بند کردیئے ہیں۔ پچھلے تیس سالوں میں چھ جلاد اور چودہ جیلربدل چکے ہیں۔ تین کوٹھریوں کی از سرِ نو تعمیر ہوئی ہیں، چارکا رنگ و روغن ہوا ہے۔ پھانسی گھاٹ کے لیور کو چھ سو تیرہ مرتبہ تیل دیا گیا ہے اور پھندے کی رسی کی لمبائی میں چار دفعہ کمی بیشی کی گئی ہے۔ اگرچہ یہ سب لکھنا میرے فرائض میں نہیں تھا۔ جیسے ہی کوئی قیدی پھندے پر جھول جاتا ہے میں سگریٹ سلگا لیتا ہوں اور آنکھیں بند کرلیتا ہوں۔ ایسے لمحے بڑے الہامی ہوتے ہیں اگرمیں شاعر ہوتا تو ایسے ہی لمحوں میں شاعری کرتا۔ بعض اوقات جب جیلر اور جلاد سوئے ہوتے ہیں تو میں خاموشی سے پھانسی گھاٹ کی طرف نکل جاتا ہوں۔ میں اس کی ایک ایک شے کو اپنی انگلیوں سے محسوس کرتا ہوں۔ پھندے کی رسی کو چھوتے ہوئے جو کپکپی میرے وجود پر طاری ہوتے ہے میں پہروں اس کی لذت سے سرشار رہتا ہوں۔ میں نے ایک دوبار سوچا کہ اس رسی کو اپنے گلے میں ڈال کر دیکھوں مگرایک انتہائی بزدل شخص ہوں لہذا ایسا کبھی نہیں کرپایا۔

مجھے بتایا جا رہا ہے کہ نئے صدارتی احکامات کے تحت ملک بھر میں سزائے موت کے قانون کو ختم کردیا گیا ہے۔ حکومت میری خدمات کے پیشِ نظر چاہتی ہے کہ اب میں عمر قید کے مجرموں کا روزنامچہ لکھوں پر میں نے معذرت کرلی ہے کیونکہ میں مردہ لوگوں کا روزنامچہ نہیں لکھ سکتا۔ میں اپنا رجسٹر جیلر کے حوالے کرنا چاہتا ہوں مگراُسے اس میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ ایک آخری دفعہ کوٹھری سے پیدل پھانسی گھاٹ تک چل کرجاؤں مگریہ فاصلہ یکایک کئی نوری سال پر محیط ہوگیا ہے اور مجھے لگتا ہے کہ اگرمیں نے چلنا شروع کیا تو میں نہ نظرآنے والی بھول بلیوں میں کھو جاؤں گا اور یہ سفر کبھی طے نہیں ہوپائے گا۔ میں نے جانے کتنے برسوں کے بعد آج آئینے میں اپنی شکل دیکھی ہے۔ میں خود کو پہچان نہیں پا رہا۔ ایسا لگتا ہے کہ بہت سے چہرے میرے چہرے پر تھوپ دیئے گئے ہیں۔ یہ سب بہت خوفزدہ کردینے والا ہے۔ میں نے اپنے رجسٹر کو بغل میں دبایا اور چپکے سے تھانے کی حدود سے باہر نکل آیا۔

میں ٹھیک سے یاد نہیں کرپا رہا کہ کب پہلی دفعہ میرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ اب مجھے مرجانا چاہیے۔ شایدسگریٹ پیتے ہوئے یا جیل کا دروازہ کراس کرتے ہوئے یا شاید آخری بارمڑکر دیکھتے ہوئے۔ بہرحال یہ خیال پوری طرح میرے وجود پر طاری ہو چکا تھا۔ جیل کے باہر سڑکوں پر لوگ ایسے سکون سے چل رہے ہیں گویا انہیں صدارتی حکم کی خبرہی نہیں۔ ان کے چہروں پر نہ ہی خوشی ہے نہ کوئی دُکھ۔ میں ان کے چہروں میں آنے والے دنوں کے قاتلوں کا چہرہ ڈھونڈنے کی کوشش کرتا ہوں۔ اب میری نظرایک دم کٹے کتے پر پڑی جو ایک ٹانگ سے لنگڑا کرچل رہا تھا۔ میں نے سوچا کہ وہ لڑائی کتنی زبردست ہوگی جس میں اس نے اپنی دُم کھوئی ہے۔ یہ یقیناً انا کی جنگ نہیں تھی اور نہ ہی یہ اپنے مالک کو خوش کرنے کے لئے اپنے سے طاقت ورکتے سے لڑا ہو گا۔ بلکہ اسے بقاء کی جنگ کہنا بھی شاید مناسب نہ ہو بلکہ یہ تو محض زندگی کی وحشت تھی جو موت کی خاموشی پر حملہ آور ہوئی تھی۔

چلتے چلتے میں ایک پرانے سے درخت کے نیچے موجود ایک بینچ پر بیٹھ گیا ہوں۔ میں سوچتا ہوں کہ اس درخت کے پاس بھی یادوں کا کتنا عظیم الشان ذخیرہ ہو گا۔ وہ پریمی جوڑا جس نے اس کے سائے میں بیٹھ کر مستقبل کے عہدو پیمان باندھے ہوں گے اور درخت کے کسی حصے پرشاید اپنے نام کندہ کئے ہوں یا وعدے کی یاداشت کے طورپر کوئی سُرخ کپڑا باندھا ہو۔ اب وہ جوڑا اس درخت کو مکمل طورپر فراموش کرچکا ہوگا۔ یا کوئی قیدی پولیس سے بھاگتے ہوئے کچھ پل کے لئے اس درخت کے پیچھے چھپا ہوگا۔ درخت ان سب یادوں کو لئے ہوئے خاموشی سے اپنی جگہ کھڑا تھا۔ وہ اس بات سے قطعی طورپر لا علم تھا کہ اگلی خزاں کے آنے سے پہلے اسے کاٹ دیا جانا ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ ہم زندگی وہ یادیں جمع کرنے میں گزاردیتے ہیں جنہیں ہمارے مرنے کے بعد دوسرے لوگ دہرائیں گے۔ ہماری زندگی زندہ رہنے کی خواہش کے ایک پُر فریب بندوبست کے سوا کچھ نہ تھی۔ میرے پاس سیاہ رجسٹر میں تیس سالوں کی یادوں کے کباڑخانے کے سوا کچھ نہ تھے۔ یہ وہ یادیں تھیں جن میں میرا پنا آپ کہیں بھی موجود نہیں تھا۔ مجھ سے کچھ فاصلے پر دو بچے نہایت انہماک سے فٹ بال کھیل رہے ہیں اورایک لڑکی جو شاید ان کی والدہ ہے میرے بالمقابل بینچ پر بیٹھی ہے۔ اس نے ایک زردرنگ کا کوٹ پہن رکھا ہے اورایک ٹوپی سے اپنے سراورکان چھپا رکھے ہیں ایک کتاب پڑھنے میں مصروف ہے۔ وہ ایک نظرمیری طرف مسکرا کر دیکھتی ہے اورپھر کتاب پڑھنے میں مصروف ہوجاتی ہے۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ میں اس کتاب میں لکھی کہانی سے واقف ہوں بلکہ میں تمام ترکتابوں میں لکھی تمام کہانیوں سے واقف ہوں۔ مجھے وہ سارے موت کے قیدی یاد آنے لگے جو رات کی تاریکی میں سُرنگ کھود کر جیل سے فرار ہونے کی خواہش رکھتے تھے۔ میرے دل میں اس لڑکی سے بات کرنے کی شدید ترین خواہش پیدا ہوئی۔ میں اس کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں مگراس کا دھیان اس کتاب کی طرف ہے۔ لڑکیاں فرار کی داستانوں کو ایسے انہماک سے پڑھتی ہیں گویا وہ سچی داستانیں ہوں۔ میں اس لڑکی کے پاس جاتا ہوں اوراس سے سگریٹ مانگتا ہوں۔ وہ اپنے بیگ کو کھول کر سگریٹ نکال کر مجھے دیتی ہے۔ میری انگلیاں کوٹ میں ماچس ٹٹولنے کی کوشش کرتی ہیں۔ وہ لائٹر جلاتی ہے جب میں جھک کر سگریٹ سلگانے لگتا ہوں تو مجھے اس کے جسم سے سستے پرفیوم، زنگ، پسینے اور کچے پیاز کی ملی جلی خوشبو آنے لگتی ہے۔ میرے دل میں آتا ہے کاش میں ایک لمبی سے رسی نکالوں اور اس لڑکی کو اسی درخت پر پھانسی دے دوں اور اس کے نرخرے سے ابھرنے والی گڑگڑاہٹ کی گنتی اپنے رجسٹر میں نوٹ کرلوں۔ آہستہ آہستہ شام کے سائے پھیل رہے ہیں سورج کسی بھی لمحے غروب ہونے والا ہے۔ میرے لئے یہ بڑا حیران کن ہے کہ جیل کے باہر کسی کو بھی سورج کے غروب ہونے سے کوئی دلچسپی نہیں۔ کسی کو اس بات سے فرق نہیں پڑتا کہ ایک دن ختم ہونے والا ہے ایک اور شخص اپنے گلے میں پھندا لٹکا کر جھولنے والا ہے۔ یہ خیال مجھے غم زدہ کررہا ہے۔ مجھے وہ دس برس کا لڑکا یاد آتا ہے جو آج سے تیس سال پہلے اپنے والد کے ہمراہ جیل میں آیا تھا۔ اس کے والد پرالزام تھا کہ اس نے شہر کے تین پادریوں کو قتل کیا ہے جس کے سامنے وہ اپنے اعترافات کیا کرتا تھا۔ یہ لڑکا جو اپنے والد کو ایک پیغمبر سمجھتا تھا اس امید پر جیل میں آیا تھا کہ وہ شام کے کھانے سے قبل اپنے گھرواپس پہنچ جائے گا۔ مگراسے روک دیا گیا۔ یہاں وہ اگلے تین ماہ تک اپنے باپ کی تنہائیوں کا ساتھی بنا رہا اوراپنے باپ کے اعترافات اپنی ڈائری میں لکھتا تھا۔ اس نے اپنے باپ کو بتائے بغیر بہت سی دیگر معلومات بھی اس ڈائری میں لکھ لیں۔ اسے پہلا نکتہ یہ سمجھ آیا تھا کہ انسان ہمیشہ جھوٹ بولتا ہے۔ تنہائی میں بھی، پھانسی کے پھندے پر جھولتے ہوئے بھی۔ میں سوچنے لگا کہ آج اس لڑکے کی زندگی کا آخری دن ہے جلد ہی وہ تھکا دینے والی یادوں سےپیچھا چھڑا لے گا مگرایسا نہیں ہوا۔ میں بینچ سے اٹھ کر دکان پر گیا۔ وہاں سے ایک رسی لی اور لالچی شخص سے ایک ماہ کا ایڈوانس دے کر ایک کمرہ لیا۔ میں نے ڈائری کو آگ کے شعلوں کے حوالے کیا۔ پنکھے کے ساتھ رسی باندھی۔ ایک بینچ پر چڑھ کر رسی اپنے گلے میں ڈالی۔ مگراس کے بعد کے واقعات کچھ مبہم سے ہیں۔ میں رات بھرمردوں کی چیخیں سنتا رہا میں تلاش کرتا رہا کہ ان چیخوں میں دس سالہ بچے کی چیخیں کون سی ہیں۔ مگرمیرا خیال ہے وہ ایک رونے والی بلی کی منحوس آوازیں تھیں۔

اب میں ہرماہ اپنی پنشن لینے آتا ہوں لیکن میں نے کبھی قیدیوں کی بیرک کی طرف جانے کی کوشش نہیں کی۔ ویسے ان دنوں میں ایک خفیہ روزنامچہ لکھ رہا ہوں جس کی بابت میں نے کسی سے ذکر نہیں کیا۔

Categories
نقطۂ نظر

یہ زنجیر، یہ زنداں: یہ پھانسیاں، یہ وحشت ہائے وحشت

قومی منصوبۂِ عمل ( یعنی کہ نیشنل ایکشن پلان) نے پھانسی کی سزا کی بحالی کو ضروری سمجھا۔ دلِ گرفتہ کو کئی واہموں نے آ گھیرا۔ دن میں آنکھوں کے سامنے کئی رنگ بلکہ بد رنگ مناظر گھومنے لگے۔ خیال آیا کہ دہشت گرد نے وحشت کی مصنوعہ بازارِ روزانہ میں کیا کم ارزاں کیا ہوا تھا کہ اب ریاست بھی پائنچے اٹھائے میدان میں آ پڑی۔ گویا اب جان کی حفظ سے اپنے وجود کا اقرار مانگنے والا فوق ادارہ، ریاست، خود خون کا ایندھن برت کر سختی پہ اپنا ادھیکار آزمائے گا۔ کتنا متناقض خیال ہے، کیسا عجب پیرا ڈاکس!

 

اے کاش ریاست کا بھی ضمیر ہو۔ یہ اس ضمیر کو سہلاتے سہلاتے کہے کہ اے کاش میں نے اس “رسّے” پہ جُھولنے والے کو بِیتے دنوں میں کبھی شفقت کا جُھولا بھی جُھلایا ہوتا تو آج یہ اس “رسّے” کا سزاوار نا ہوتا۔
ہوا وہی جو خدشہ تھا۔ ملکِ عزیز میں بھی خدشے کیسے خرگوش کی اولاد ایسے ہیں کہ بچے سے بچے جَنتے جاتے ہیں۔ چاند کے چاند نئی اولاد! ذرا چُوکنے کا نام نہیں لیتے، ایامِ زچگی اور طفولیت کی مرگ ان خدشات کی خرگوش اولادوں پہ جانے کیوں وارد نہیں ہوتی۔ شاید ہم ادنٰی پاکستانی ہی ان طاری کردہ عذابوں کی مرغوب غذا ہیں! اِس گئے گذرے لفظوں کے بھکاری، جس کی سطریں آپ اس وقت خواندگی کر رہے، اس نے ورڈ پریس پہ ایک چھوٹا سا بلاگ کیا۔

 

بلاگ کا معروضہ یہ تھا کہ صاحبان، دیکھنا لاشوں کا ایک نیا میلہ نا لگا دینا، وحشت کے تجارتی کاروبار کی نوزائیدہ نمائش نا کھول دینا۔ قومی منصوبۂِ عمل کے اولین دنوں ہی میں ہمارے صحنوں، لاؤنجوں، آرام گاہوں کے اس “دیکھے بھالے اجنبی ساتھی” یعنی ٹیلی ویژن نے پھانسی کے پھندوں کی ساز و شور آلود بولی شروع کر دی۔ اس انداز سے، اس گھن گرج سے سماعتوں پہ ٹوٹتی بجلیاں، بریکنگ خبریں بنا کے سنائی گئیں کہ ایسے لگا جیسے آج پھر ایک وحشت ناک چہرے والا خودکشی کا نیا نصاب کھولنے آ گیا۔ وحشت پہلے چھپ کے آتی تھی، اب نمائش کرکے آنے لگی۔ پہلے بنا شکل کا دیشت گرد تھا۔ اب جو ترقی کا نیا قرینہ شکل پذیر ہوا تو سجے چہرے والا تشخص وحشت پھیلانے لگا۔ ریاست اب لوگوں کو “رسّے” پہ جُھلانے لگی۔

 

اے کاش ریاست کا بھی کوئی ضمیر ہوا کرے۔ اس کے اندر بھی دل ہوا کرے۔ یہ بھی مُونس والدین کی طرح ہو۔ اسے بھی خیال آئے کہ میرا بچہ کیونکر سہم جاتا ہے۔ مکرر کہنے دیجئے کہ اے کاش ریاست کا بھی ضمیر ہو۔ یہ اس ضمیر کو سہلاتے سہلاتے کہے کہ اے کاش میں نے اس “رسّے” پہ جُھولنے والے کو بِیتے دنوں میں کبھی شفقت کا جُھولا بھی جُھلایا ہوتا تو آج یہ اس “رسّے” کا سزاوار نا ہوتا۔

 

اے کاش وحشت کے غیر رسمی اور رسمی میلے اور موت کے رقص کے تہوار ختم ہوں۔ اے کاش موت کی سزا ختم ہو۔ مبادا کہ معاشرے کے چند افراد کا ضمیر اور خوشیوں اور تہواروں کے پیمانے بھی جَھول کھا جائیں، بھٹک جائیں۔
لیکن وطنِ عزیز میں ریاست کب ماں کے جیسے ہو پائی ہے۔ کب ضمیر کو جواب دہی کے بلند آدرش پوس سکتی ہے۔ یہاں پھانسی پہ لگی پابندی کو ہٹایا گیا تو گویا موت نے ایک نیا رقص شروع کیا۔ موت اب بریکنگ نیوز کی تھاپ پر جُھومتی تھی اور ریاست اس کی ہم رقص تھی۔ معاشرہ اپنے تئیں معصوم ہوتا ہے۔ احساس و تجربہ اور تشخص میں نمُو البتہ قبولتا رہتا ہے۔ ہاں مگر معاشرے کا ضمیر کچھ لوگوں میں ضرور شکل پذیر ہوتا ہے۔ وہ اس رقص کی رسم سے پہلے بھی تڑپے اور رقص جب اپنے دم سے باہر ہوا، روز روز کی مشق سے پختہ کار ہو گیا، وہ تب بھی آنسو آنسو ہیں۔ لیکن اس معاشرے کا ایک بہت بڑا حصہ اب موت کے رقص سے بہلنا شروع ہو گیا ہے۔ اس نے اس رقص کو اب ایک تہوار سمجھ لیا ہے، بچہ جو تھا۔ جیسے آپ نے عادی کردیا ویسے ہی وہ ڈھل گیا۔ لیکن ہمیں ابھی بھی ایک ضمیر زائیدہ خلش اپنا منہ کھولے چِڑاتی ہے۔

 

یہ رواں ہفتے کا دوسرا دن تھا۔ ناشتہ کر لیا تھا۔ چائے کے کپ کو لبوں سے لگایا ہوا تھا۔ اس دوران فون پہ ایک کال آئی۔ ان اوقات میں فون عام طور پر موصول نا کرنے کی عادت ہے۔لیکن آج اٹھا لیا۔ اے کاش نا اٹھاتا تو کچھ ببُولے دل کے کم جاگتے۔ ان فون کرنے والے صاحب نے سیدھے سبھاؤ کہہ ڈالا “مبارک ہو!”۔ حیرانی جو ہوئی تو پوچھا، کہ کاہے کی مبارک بھیاّ؟ تو جواب آیا:

 

“ممتاز قادری رسّہ جُھول گیا!”

 

ہم نے پتا نہیں رسمِ مروّت نبھائی یا معلوم نہیں کہ کیسے چُپ سے ہی رہ گئے۔ قرینِ قیاس ہے کہ اعصاب شَل ہو گئے تھے۔ اپنے اس “مبارک” کے سماعت کے لمحے کو یاد میں سے از سرِ نو شعوری سطح پہ لانے میں دشواری ہو رہی ہے۔ کچھ سریلیت کا سا سماں در پیش ہوا تھا شاید۔ لیکن کچھ عرصہ پہلے کے گذرے ماضی سے اتنا یاد آ ہی رہا ہے کہ جب سلمان تاثیر صاحب کو بزور بازو پروردگار کے سونپا گیا، ہم تب بھی ٹُوٹ گئے تھے۔ پر جب ممتاز قادری کو رسّہ جُھلایا گیا اور اس پہ “مبارک” موصول ہوئی تو اندر کا رہا سہا انسان بھی مصنوعی تنفس پہ ڈل گیا۔ اے کاش وحشت کے غیر رسمی اور رسمی میلے اور موت کے رقص کے تہوار ختم ہوں۔ اے کاش موت کی سزا ختم ہو۔ مبادا کہ معاشرے کے چند افراد کا ضمیر اور خوشیوں اور تہواروں کے پیمانے بھی جَھول کھا جائیں، بھٹک جائیں۔ دل کچھ افتخار عارف صاحب کی اس غزل کا ایک پارہ ہوا پڑا ہے:

 

بستی بھی، سمندر بھی، بیاباں بھی مِرا ہے
آنکھیں بھی مِری، خوابِ پریشان بھی مِرا ہے
جو ڈوبتی جاتی ہے وہ کشتی بھی مِری ہے
جو ٹوٹتا جاتا ہے وہ پیماں بھی مِرا ہے
جو ہاتھ اٹھے تھے وہ سبھی ہاتھ تھے میرے
جو چاک ہوا وہ گریباں بھی مِرا ہے

 

۰۰۰

 

میں وارثِ گُل ہوں کہ نہیں ہوں مگر اے جان
خمیازۂِ توہینِ بہاراں بھی مِرا ہے
مٹی کی گواہی سے بڑی دل کی گواہی
یوں ہو تو یہ زنجیر، یہ زنداں بھی مِرا ہے
Categories
اداریہ

سزائے موت حل نہیں

پشاور سانحہ پر ملک بھر میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے لیے سیاسی اتفاق رائے اگرچہ خوش آئند ہے اور اس کی ضرورت بہت عرصہ سے محسوس کی جارہی تھی تاہم اس سانحہ کے ردعمل میں سزائے موت پر عائد غیر رسمی پابندی اٹھائے جانے کا فیصلہ بحث طلب ہے۔ عوامی جذبات اور عسکری قیادت کے دباو کے تناظر میں کیا جانے والا یہ فیصلہ جلدبازی اور سول قیادت کی کم زور ی کا مظہر ہے۔ نو گیارہ کے بعد دنیا بھر میں انسداددہشت گردی کے سخت قوانین اپنائے گئے ہیں اور بعض ممالک نے ان قوانین کے تحت دہشت گردوں کے لیے موت کی سزا رکھی ہے تاہم پاکستان میں تھانے سے لے کر عدالتوں تک موجود نقائص سزائےموت جیسی سخت سزا کے جواز کو مزید کم زور کرتے ہیں۔پاکستان میں قوانین کے غلط استعمال کی روایت موجود ہونے کے باعث دہشت گردی کے واقعات کو بنیاد بنا کر ریاست کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا باعث بننے والے قوانین مرتب کرنے اور سزائیں دینے کا اختیار کسی صورت نہیں دیا جا سکتا۔
نو گیارہ کے بعد دنیا بھر میں انسداددہشت گردی کے سخت قوانین اپنائے گئے ہیں اور بعض ممالک نے ان قوانین کے تحت دہشت گردوں کے لیے موت کی سزا رکھی ہے تاہم پاکستان میں تھانے سے لے کر عدالتوں تک موجود نقائص سزائےموت جیسی سخت سزا کے جواز کو مزید کم زور کرتے ہیں۔
ریاستی اداروں اور عام افراد کی جانب سے انسداد دہشت گردی کے قوانین کے غلط استعمال کی مثالوں کی موجودگی میں ان قوانین کے تحت قائم کیے جانے والے مقدمات کے اندراج کے طریقہ کار ، تفتیش اور سماعت کے نظام میں غلطی کی گنجائش یقیناً عام اندازوں سے کہیں زیادہ ہے۔ جسٹس پراجیکٹ پاکستان کی رپورٹ Terror on Death Rowکے مطابق دہشت گردی کی مبہم تعریف، انسداد دہشت گردی کے قوانین کے غلط استعمال، پولیس تشدد کے ذریعہ اعتراف جرم اورسماعت کے ناقص عمل کے باعث یہ قوانین دہشت گردی کی روک تھا م میں موثر ثابت نہیں ہو سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ پھانسی کی سزا کی متنازعہ حیثیت سے قطع نظرموجودہ عدالتی نظام کالعدم دہشت گرد گروہوں کے بااثر اراکین کو سزا دینے میں ناکام ہو چکا ہے جس کی اہم ترین مثال لشکر جھنگوی، لشکر طیبہ اور دیگر جہادی تنظیموں کے کارکنان کا عدالتوں سے باآسانی رہا ہوجانا ہے۔
دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج کیے جانے والے مقدمات کے تحت سزائے موت پانے والے افراد کی سزا پر عملدرآمد کے عوامی مطالبہ پشاور واقعہ کا جذباتی ردعمل ہے لیکن اس بناء پر سزائے موت کو جائز قرار نہیں دیا جاسکتا۔گوموت کی سزااپنی قانونی اور اخلاقی بنیاد کھو چکی ہے اور اسے کسی بھی طرح جائز قرار نہیں دیا جا سکتا تاہم اگر بوجوہ دہشت گردوں کو سزائے موت دینا ناگزیر بھی ہے تو اس عمل کی شفافیت کو یقینی بنانا بھی ریاست کی ہی ذمہ داری ہے۔ تفتیشی اورعدالتی نظام کے نقائص دور کیے بغیر سزائے موت پر عملدرآمد نہ صرف غیر انسانی بلکہ ظالمانہ اقدام ہے جس کی مذمت کی جانی چاہئیے۔
شدت پسند جہادی نظریات کا متبادل بیانیہ تشکیل دیے بغیر محض چند شدت پسندوں کو پھانسی دینے سے نہ تو ان گروہوں کو خوف زدہ کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی انہیں دہشت گردکارروائیوں سے روکا جا سکتا ہے۔
شدت پسند جہادی نظریات کا متبادل بیانیہ تشکیل دیے بغیر محض چند شدت پسندوں کو پھانسی دینے سے نہ تو ان گروہوں کو خوف زدہ کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی انہیں دہشت گردکارروائیوں سے روکا جا سکتا ہے۔ سیاسی حکومت کا عوامی مطالبہ پر سزائے موت پر عمدرآمد کا فیصلہ دہشت گردوں کے علاوہ ان عام قیدیوں کی سزائے موت پر عملدرآمد کا باعث بھی بن چکاہے جو کال کوٹھڑیوں میں موت کی سزا پانے کے بعد سے قید ہیں اور جن کی اپیلیں زیر سماعت ہیں۔ اخباری اطلاعات کے مطابق17 دہشت گردوں سمیت 55 افراد کو اگلے چند روز میں موت کی سزا دے دی جائے گی۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق اس وقت پاکستانی جیلوں میں آٹھ ہزار افراد سزائے موت کے منتظر ہیں جن میں سے محض 522 افراد سنگین جرائم یا دہشت گردی کی دفعات کے تحت اس سزا کے مرتکب ٹھہرائے گئے ہیں۔ ان میں سے بہت سے قیدی عمر قید کی حد کے برابر سزا کاٹ چکے ہیں اور انہیں پھانسی کی سزا دینا ایک ہی جرم میں دو بار سزادینے کے مترادف قرار دیا جا سکتا ہے۔
سیاسی قیادت کو اس بات کا ادراک کرنا ہوگا کہ دہشت گردی کی روک تھام کے لیے خطرناک دہشت گردوں کی سزائے موت پر عملدرآمد اگر ناگزیر ہے تو حکومت کو انسداد دہشت گردی کے قوانین کو موثر بنانے ، ان کے غلط استعمال کی روک تھام اور دہشت گردی کے علاوہ دیگر جرائم میں سزائے موت کو ختم کرنے کو یقینی بنانا ہوگا۔سزائے موت کو دہشت گردی کے مسئلے کے حل کے طور پر دیکھنے کی بجائے انسانی حقوق کے تناظر میں دیکھا جانا چاہئیے۔ اس ضمن میں سیاسی قیادت کو سزائے موت کے حوالے سے باقاعدہ عوامی اور پارلیمانی بحث کا آغاز کرنا ہوگا تاکہ موت کی سزا جیسی غیر انسانی سزا کا متبادل تجویز کیا جاسکے۔
Categories
نقطۂ نظر

کال کوٹھڑیوں سے

پاکستان میں جہاں ہزاروں لوگ بھوک اور سیلاب سے مر رہےہیں وہیں عدالتوں اورنظام انصاف نے انسانی جانوں کے ضیاع میں اضافے کے لئے موت کا ہاتھ بٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔ پاکستان میں گزشتہ 6 برس سے جاری سزائے موت پر غیر رسمی تعطل 18 ستمبر کو اڈیالہ جیل میں شعیب سرور کو پھانسی دینے کے عمل سے ختم ہونے کا اندیشہ ہے۔گزشتہ اور موجودہ حکومت بارہاطریقہ تفشیش، قانون شہادت اور عدالتی نظام میں کمزوریوں اور خامیوں کا اعتراف کرتےہوئے سزائے موت کے خاتمہ اور متبادل سزاؤں کے نفاذ کا عندیہ دے چکی ہے۔اس سلسلے میں ترجمان وزارت داخلہ عمر حمیدخان 3 اکتوبر 2013میں بین الاقوامی وعدوں کا پاس کرتے ہوئے سزائے موت پر عملدرامد کی معطلی کے فیصلے کو جاری رکھنےکی یقین دہانی کراچکے ہیں، وزارتِ خارجہ بھی 6 دسمبر 2013 کویورپی منڈیوں تک رسائی کے لئے سزائے موت ختم کرنے کا ارادہ ظاہر کر چکی ہے۔ سابق وزیر اعظم گیلانی جون 2011 جبکہ سابق صدر آصف زرداری کے ترجمان فرحت اللہ بابر نومبر 2012 میں سزائے موت ختم کرنے کے لئے ایک بل سینٹ میں پیش کر نے کا اعلان کر چکے ہیں جس پر تاحال عمل نہیں ہو سکا۔ ان وعدوں اور یقین دہانیوں کے بنا پر ہی پاکستان کویورپین یونین جی ایس پی پلس ریاست کا درجہ دیا گیا تھا جس کی بدولت پاکستان کی مصنوعات کو یورپی منڈیوں تک ڈیوٹی فری رسائی حاصل ہوئی اور اس کی بگڑتی معیشت کو سہارا ملا۔
سزائے موت پر عملدرآمد روکنے کے حوالے سے عالمی اور مقامی سطح کی یقین دہا نیوں کے باوجود شعیب سرور کی سزائے موت پر عملدرآمد کے فیصلے نے حکومت کی موت کی سزاختم کرنے کی یقین دہانیوں پر سوال کھڑے کر دیے ہیں۔چند روز قبل راولپنڈی ہائی کورٹ نے شعیب سرور کے بلیک وارنٹ جاری کرتے ہوئے اسے 18 ستمبر کو پھانسی دینے کا حکم جاری کیا ہے۔ شعیب سرور کو قتل کے الزام میں 1998 میں سزائے موت سنائی گئی تھی اور 18 سال قید میں رہنے کے بعد اس کی موت کی سزا پر عمل درآمد کا حکم جاری کیا گیا ہے۔سزائے موت پر عملدرآمد کے حالیہ فیصلہ سے متعلق اہم ترین سوال یہ ہے کہ کیا گزشتہ 6 برس سے عدالتی نظام کی جن خرابیوں کی بنا پر یہ سزا معطل تھی کیا انہیں دور کر دیا گیاہے؟ کیا ملک میں تفشیش کا نظام ٹھیک ہو گیا ہے؟ کیا پولیس کا محکمہ کرپشن بد عنوانی، اقربا پروری ،سیاسی دھونس اور دھاندلی سے پاک ہو گیا ہے؟ کیا ملک کے نظام انصاف میں اب کوئ سقم نہیں اور کوئی بے گناہ معصوم پھانسی کے تختے پر نہیں چڑھے گا؟
امریکہ کے جدید ترین طریقہ تفتیش اور عدالتی نظام کے باوجود وہاں 1970 سے اب تک 140 معصوم افراد پھانسی کی سزا پا چکے ہیں ، ایسے میں پاکستان کے ناقص عدالتی نظام، بدعنوان پولیس اور قانون میں پائی جانے والی خامیوں کی بناء پر موت کی سزا پر عمل درامد کرنا یقیناً ایک تشویش ناک اور غیر انسانی عمل ہے۔
پاکستانی جیلوں میں سزائے موت کے منتظر کئی قیدیوں کی طرح شعیب سرور کی سزائے موت پر عمل درآمد ایک ہی جرم کی دو سزائیں بھگتنے کے مترادف ہو گا۔شعیب سرور اور سزائے موت کے منتظر بہت سے دیگر قیدی قانونی چارہ جوئی کے طویل عمل ،سست رو عدالتی کاروائی اور اپیلیں کرنے اور پیشیاں بھگتنے کے تھکا دینے والے عمل کے دوران کئی کئی برس جیل میں کاٹ چکے ہیں۔ اسی سے پتہ چلتا ہے کہ ہمارے ملک میں کچھ نہیں بدلا آج بھی وہی حالات ہیں جو آج سے چھے سال پہلے تھے تو پھر سزاَئے موت پر عمدرآمد پر غیر رسمی معطلی کے خاتمہ کا کوئی منطقی جواز فراہم کرنا ممکن نہیں۔
ترقی یافتہ ممالک نظام انصاف میں پائے جانی والی خامیوں کی بناء پر موت کی سزا کی جگہ متبادل سزائیں تجویز کر رہے ہیں،۔ ریاست اور نظام انصاف کی چھوٹی سی غلطی محض شبہ کی بنیاد پر کسی بھی شخص کی جان لینے کا باعث بن سکتا ہے۔ امریکہ کے جدید ترین طریقہ تفتیش اور عدالتی نظام کے باوجود وہاں 1970 سے اب تک 140 معصوم افراد پھانسی کی سزا پا چکے ہیں ، ایسے میں پاکستان کے ناقص عدالتی نظام، بدعنوان پولیس اور قانون میں پائی جانے والی خامیوں کی بناء پر موت کی سزا پر عمل درامد کرنا یقیناً ایک تشویش ناک اور غیر انسانی عمل ہے۔
پاکستان میں سزائے موت کے قیدیوں کی قانونی مدد اور نمائندگی کرنے والے ادارے جسٹس پراجیکٹ پاکستان نے اس فیصلے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کا فیصلہ سمجھ سے بالا تر ہے ایک طرف تو حکومت کا دعویٰ رہا ہے کہ وہ سزائے موت کے قانون کو ختم کرنے جا رہی ہے اور اسی کی بدولت دوسرے ممالک سے مراعات اور امداد لے رہی ہے دوسری طرف اس قسم کا فیصلہ آنے کے باوجود حکومت کی طرف سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا اور نہ ہی وہ اس فیصلے کے خلاف اپنا کوئی کردار ادا کرتی نظر آرہی ہے۔انسانی حقوق کی دیگر تنظیموں جیسے ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے بھی سزائے موت پر عمدرآمد روکنے کی درخواست کی ہے۔ اس فیصلے نے نہ صرف حکومت کے سزائے موت کی سزا ختم کرنے کے عہد اور یقین دہانیوں کا بھرم توڑا ہے بلکہ اس سے مستقبل میں ملک کے معاشی اور اقتصادی حالات پر برے اثرات بھی مرتب ہوں گے۔
جسٹس پراجیکٹ پاکستان اور ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان جیسے انسانی حقوق کے اداروں کی تجویز کے مطابق حکومت کو سزائےموت پر عمل درآمد روکنے کے لئے قانون سازی کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کے ملکی اور بین الاقوامی معاہدوں، وعدوں اور انسانی حقوق کے عالمی اعلامیوں کا تقاضہ ہےکہ فی الفور اس فیصلے پر نظر ثانی کرتے ہوئے شعیب سرورسمیت پاکستان کی جیلوں میں قید ان 8500 افراد کی سزائے موت معطل کرنے کے لئِے قانونی جواز فراہم کرے وگرنہ شعیب سرور کی سزا کال کوٹھڑیوں میں کئی کئی سالوں سے پڑے ہزاروں افراد کے لئے موت کا دروازہ کھول دے گی۔