Categories
نان فکشن

باب 20 شانتا راما: چکلہ بستی میں (ترجمہ: فروا شفقت)

نئی فلمیں بنانا ہی میرا کام ہے! یہ کام ہی جیون ہے! جیون جینے کے لیے ہے! اسے اصل میں جینا چاہیئے! میری سوچ اس طرح پختہ ہوتی جا رہی تھی۔

اور اُسی سمے یاس پسندی کو اجاگر کرنے والی ایک فلم ‘دیوداس’ لوگوں کو بہت متاثر کر رہی تھی۔ کلکتہ کی نیو تھئیٹرز فلم کمپنی کی بنائی اس فلم کے ڈائرکٹر تھے پرمتھیش بروا۔ ایک فلم کے روپ سے وہ بہت ہی سُندر تھی۔ اس میں سہگل کا گایا ایک گیت ”دکھ کے اب دن بیتت ناہیں” بہت ہی سُندر تھا۔ آج بھی وہ گیت مجھے بہت پسند ہے، لیکن یہ یاس پسند فلم نوجوان نسل کے من میں ایک طرح کی مایوسی پیدا کرتی جا رہی تھی۔ دیوداس شراب کا عادی ہو جاتا ہے، ویشیا کے یہاں جانے لگتا ہے اور آخر میں پیار کی خاطر اپنے آپ کو شراب میں پورا ڈبو دیتا ہے۔ اُسی میں اس کا انت ہو جاتا ہے۔ اس فلم کو دیکھتے سمے جوان لوگ رونے لگتے تھے۔ سچے پریم کے لیے مر جانا چاہیئے، خود کشی بھی کر لینی چاہیئے، یہ کھوکھلا آدرش جوان نسل کے من پر حاوی ہونے لگا تھا۔ لیکن ہمارے سماج کو اس طرح ناامید، غیر فعال نوجوانوں کی ضرورت نہیں تھی۔ اِسے تو چاہیئے تھے ایسے نوجوان لوگ جو دکھ میں بھی راستہ نکالتے ہوے سورماؤں کی طرح جیون کی راہ پر امنگ اور خوشی کے ساتھ چلتے ہی رہیں۔ پیار کی ناکامی کے کارن دکھ سے چُور ہو کر مر جانے کا نام جیون نہیں۔ جیون تو اِسی کو کہتے ہیں جو اپنے پیار کی یاد کو من میں سنجو کر فرض کی ادائیگی موت تک کرتا ہے۔ جوانوں کو اِس نتیجے پر پہنچانے والی مقصدی اور اُمید پرست فلم بنانے کا میں نے فیصلہ کیا۔ ‘دیوداس’ کے کارن نا امیدی کی جو لہر اٹھی تھی، اس کو روکنا سماجی مفاد کے لیے بے حد ضروری تھا۔

اسی سوچ سے میں نے اپنے معاون بھاسکرراؤ امینبل کو سارا خیال بتا دیا اور اس پر ایک کہانی کا موٹا خاکہ بنا کر لانے کو کہا۔ اس خاکے کے مطابق نئی فلم کے بارے میں ہمارے خیالات دھیرے دھیرے واضح ہوتے گئے۔ ‘دیوداس’ کی اصل کتھا مشہور بنگالی لیکھک شری چندر چٹرجی کی تھی۔ وہ بہت ہی مضبوط قلم کے دھنی تھے۔ ان کی یاس پسند فکر کو کرارا جواب دینے والی کہانی تیار کرنے کے چیلنج کو میں نے خود پہل کر قبول کیا۔

ظاہر ہے کہ محض بذلہ سنجی اور محاوروں سے بھرے مکالمے ایسے اثر کی تخلیق نہیں کر سکتے تھے، کہانی تو ایسے آدمیوں کی ہونی چاہیئے جو بالکل ہی سادہ اور عام جیون جیتے ہیں۔ وہ لوگ چھوٹے ہوتے ہیں۔ ان کا سکھ دکھ بھی عام ہوتا ہے۔ اپنے خوف، ہمت، خوبی، خامی وغیرہ کے کارن ہی وہ لوگ آدمی کہلاتے ہیں، آدمی لگتے بھی ہیں۔ ہماری کوشش تھی کہ ان کے جیون پر مبنی کہانی ہو۔ اس طرح جانے انجانے میں ہی نئی فلم کا نام ‘آدمی’ طے ہو گیا۔

سوچا کہ ‘آدمی’ کا ہیرو راستے پر گشت لگاتا ایک معمولی پولیس والا ہو۔ پولیس کو ڈیوٹی کرنے کے لیے کسی بھی محلے میں جانا پڑتا ہے۔ اس کام میں اس کا شہر کے مختلف طبقے کے لوگوں سے رابطہ ہوتا ہے۔ اِسی چکر میں ایک دن جوے کے ایک اڈے پر چھاپہ مارتے سمے اس معمولی پولیس والے یعنی ہمارے ‘آدمی’ کے ہیرو کی ملاقات ایک ویشیا سے ہو جاتی ہے۔ اس کے من میں اس ویشیا کے لیے ہمدردی جاگتی ہے۔ دونوں میں آگے چل کر میل جول بڑھتا جاتا ہے یہ تھا اِس سکرین پلے کا آغاز۔

اِس کے لیے ہم لوگوں نے پولیس والوں کا گھریلو جیون، ان کے مکانوں کی حالت اور پریڈ جا کر دیکھی۔

اب باری تھی ویشیاؤں کے جیون کو غور سے دیکھنے کی! اِس کے بارے میں ہم نے کئی کہانیاں سنی تھیں۔ لیکن صرف سنی سنائی باتوں پر کہانی لکھتے تو وہ حقیقت سے دور رہ جاتی۔ اس لیے ویشیاؤں کے چکلوں میں جا کر اُن کے جیون، رہن سہن، اُن کی کٹھنائیاں اور سوال وغیرہ کا خود معائنہ کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں، یہ جان کر میں اور بھاسکرراؤ بمبئی گئے۔ بابوراؤ پینڈھارکر کے ایک واقف کار دتارام کو ہم نے پکڑا۔ اُس کی مدد سے ہم ہر رات چکلہ بستی میں جانے لگے۔ میں تو کبھی پان تک نہیں کھاتا تھا۔ لیکن یہ جتانے کے لیے کہ میں اِس بستی میں روز کا آنے والا ہوں، میں دو تین پان چبا کر ہونٹ لال کر لیتا، بِنا ٹوپی کے گھومتا، اور شکل ایسی بنا لیتا کہ کچھ نہ پوچھیے۔ بال بکھرے ہوے، کپڑے مٹ میلے اور سلوٹیں پڑے ہوے، منہ میں پان، رنگیلے ہونٹ۔۔۔ ایسے جاتا تھا میں اس بستی میں۔ سب سے آگے ہوتا تھا ہمارا رہبر دتارام، اس کے پیچھے میں، میرے پیچھے پیچھے بابوراؤ پینڈھارکر اور سب سے آخر میں پسینے پسینے ہو رہے بھاسکرراؤ، ایسی ہوتی تھی ہماری پلٹن کی تیاری۔

ہمارا رہبر دتارام دھندا کرنے والا یا ویشیاؤں کا کوئی بھڑوا نہیں تھا۔ یقیناً وہ ایک سماج سیوک تھا۔ اسے سب طرح کی چکلہ بستیوں کی جانکاری تھی۔

شروع میں ہم لوگ نچلے طبقے کی چکلہ بستی میں گئے۔ وہاں کا ماحول دیکھ کر مجھے تو گِھن سی آ گئی۔ ایک کمرے میں رسی باندھ کر اُس پر پرانے کپڑے پردے جیسے ڈالے گئے تھے اور ان کے پیچھے ایک جوڑے کے سونے کا انتظام کیا گیا تھا۔ اس طرح سے چار پانچ ‘بیڈ’ اسی کمرے میں بنائے گئے تھے۔ باہر صحن میں ایک لڑکی بالوں میں کافی تیل ڈالے، چہرے پر پوڈر پوت کر ہونٹوں پر بھڑکیلی لپ سٹک لگائے کسی گاہک کے ساتھ بڑے پیار سے اِٹھلا رہی تھی۔ تبھی اندر سے شراب کے نشہ میں دھت ایک شخص اپنے کپڑوں کو سنوارتا ہوا باہر آیا۔ اس کے پیچھے پیچھے اُسی طرح سے تڑک بھڑک کاسٹیوم پہنے ہوئی ایک لڑکی بھی باہر آئی۔ وہ کھلکھلا کر ہنستی ہوئی اس آدمی کے کپڑوں کو کھینچنے لگی۔ صحن میں کھڑی وہ لڑکی فوراً ہی اپنے گاہک کو ہاتھ پکڑ کر اس مٹ میلے پردے کی اوٹ میں لے گئی۔

من گِھن سے بھر گیا تھا۔ لیکن چہرے پر اس کا ذرا بھی احساس نہ دکھاتے ہوے ہم وہیں بے شرمی سے ہنستے ہوے کھڑے رہے۔ ایک بڑھیا ہمارے پاس آئی۔ اس کا پہناوا بھی چمک دمک والا تھا اور رنگ روغن بھڑکیلا۔ اپنی عمر سے سیدھی بے میل شوخی اور ادا سے عاشقانہ ادا پھینک کر اس نے ہنستے ہوے کہا، “تھوڑا صبر کیجئے۔ ابھی ایک ایک لڑکی خالی ہوئی جاتی ہے۔ پھر وہ آپ لوگوں کو اندر لے جائیں گی۔۔۔ آپ کو بہت ہی جلدی ہو، تو میں جو حاضر ہوں!”

میں نے اُس بڑھیا کا اپنی فلم میں کہیں نہ کہیں کچھ استعمال کرنا طے کیا۔

لوگوں کی اتنی آمد ورفت میں ویشیا جیون اور ان کے کاروبار کے بارے میں کچھ اور جانکاری حاصل کرنا ناممکن ہی تھا۔ وہاں تو بیٹھنے تک کے لیے جگہ نہیں تھی۔

دوسرے دن ہم نے کچھ اونچے طبقے والی چکلہ بستی میں جانا طے کیا۔ کینیڈی برِج پر ایک گووا والی رہتی تھی۔ اس کے یہاں جانا تھا۔ لیکن ہمارے کتھا لیکھک بھاسکرراؤ وہاں آنے کو تیار نہیں ہو رہے تھے۔ اُن کے بڑے بھائی وہیں کہیں آس پاس رہتے تھے۔ کسی نے اُس بائی کے کوٹھے پر جاتے دیکھ لیا تو خیر نہیں، یہ خوف انہیں وہاں جانے سے روک رہا تھا۔ وہ کافی ٹال مٹول کرتے رہے، لیکن میں نے انہیں چھوڑا نہیں۔ آنکھیں بند کر چوری سے دودھ پینے والی بلی کی طرح بھاسکرراؤ بِنا اِدھر اُدھر دیکھے، سر جھکائے سیدھے اس بائی کے کوٹھے میں گھس گئے۔

بائی کے گھر کی سجاوٹ عام مڈل کلاس کے لوگوں کے گھروں جیسی تھی۔ بائی نے ہمارے لیے پان بنوائے اور بڑی نشیلی ادا سے دیکھتے ہوے ہمیں دے دیے۔ اس نے ایک گانا بھی سنایا۔ اس کا گانا ایک دم معمولی تھا۔ اُس کے من کی بات جاننے کے لیے ہم نے اس سے باتیں شروع کیں۔ لیکن اس کی باتوں سے ہم ایک بات جان گئے: ویشیا کے یہاں آنے والے لوگ صرف لطف لینے کے لیے ہی آتے ہیں، لہذا انہیں اپنی بھلی بُری آپ بیتی سنا کر دکھی کرنا کہاں تک مناسب ہے؟ اسی بھاونا سے وہ اپنے من کی ذرا بھی گہرائی پانے نہیں دے رہی تھی۔ اس کے رویے میں اتنی فارملیٹی تھی کہ ہمیں وہ ذہنیت وہاں مل پانا لگ بھگ ناممکن لگنے لگا تھا، جس کی کہ ہمیں تلاش تھی۔ ہم نے اسے سو روپے دے دیے، اور فوراً وہاں سے کھسک آئے۔ کل کی طرح آج کا دن بھی اس طرح بے کار گیا تھا۔

میں ‘آدمی’ کی ہیروئین کی تلاش میں تھا، لیکن قِسم قِسم کے چکلوں کے زینے چڑھنے اترنے کے باوجود وہ مجھے مل نہیں رہی تھی۔ ایک رات دتارام ہمیں ایک ایسی جگہ پر لے گیا جہاں ایک ٹھیک ٹھاک چہرے والی ادھیڑ گوری عورت نے ہمارے سامنے اپنی پسند چننے کے لیے سات آٹھ جوان لڑکیوں کو کھڑا کر دیا۔ سب نے مجھے دیکھا۔ میں بھی کسی پرانے کھلاڑی کی نظر سے انہیں دیکھنے لگا۔ شاید ابھی ابھی اس کاروبار میں آئی لڑکی اپنا درد دل بتلا دے گی، یہ سوچ کر میں نے ان میں سے ایک خوبصورت لڑکی کو پسند کیا۔ اوپری منزل کے ایک کمرے میں وہ مجھے لے گئی۔ اس کمرے میں لکڑی کی ایک پارٹیشن لگی تھی۔ اس چھوٹے سے کمرے میں ایک پلنگ اور ایک کرسی جیسے تیسے جمع کر رکھی تھی۔ نیچے دیوان خانے میں دتارام، بابوراؤ پینڈھارکر اور بھاسکرراؤ میری راہ دیکھ رہے تھے۔

کوئی آدھ گھنٹے کے بعد میں نیچے آیا۔ وہ سب لوگ شرارت سے مسکرا رہے تھے۔ ہم سب لوگ وہاں سے چلنے کو تیار ہوے۔ زینے کی سیڑھیاں اترنے ہی لگے تھے کہ اس ادھیڑ کُٹنی نے میرے گھنگھرالے بال پکڑ کر کھینچے اور اپنی طرف اشارہ کرتی ہوئی بولی، “اجی، یہ بھی اچھا خاصا تجربے کار مال ہے!” میں نے اپنے بالوں کو جھٹکا دے کر چھڑا لیا اور تیزی سے سیڑھیاں اتر آیا۔

دوسرے دن شام ہو جانے کے بعد چکلہ بستی میں گھومنے کے لیے ہم نے ایک وکٹوریہ کرائے پر لیا۔ وکٹوریہ میں بیٹھتے ہی دتارام نے میرے چرن چھو لیے اور کہنے لگا، “آپ واقعی دیوتا ہیں!”

میں نے اسے کندھے پکڑ کر اٹھا لیا۔

بھاسکرراؤ نے پوچھا، “دیوتا؟”

“اور نہیں تو؟ اجی کل آپ اس جوان چھوکری کو لے کر اوپر گئے اور ویسے ہی سوکھے رہ کر نیچے چلے آئے۔ لیکن اِن کے اس طرح سب سے نیارے طرز عمل کے کارن آج مجھے کافی کچھ بھلا بُرا سننا پڑا۔”

بابوراؤ اور بھاسکرراؤ دونوں میرا منھ تاکتے رہ گئے۔

بابوراؤ نے دتارام سے پوچھا، “کیوں، اور کیا ہو گئی بات؟”

“ہونا جانا کیا تھا؟ چکلے کی اس کٹنی نے آج مجھے بلا بھیجا اور پھٹکارتی ہوئی بولی کل تم نے جس آدمی کو لایا تھا، وہ چھوکری کو لے کر اوپر گیا۔ وہ چھوکری اس کے سامنے ننگی ہو گئی لیکن وہ سُسرا اس کے سنگ سویا ہی نہیں۔ بےکار کی پوچھ تاچھ کرتا رہا۔ لگتا ہے شی۔آئی۔ڈی C.I.D)) کا آدمی ہوے گا۔ پھر کبھی ایسے شی۔ آئی۔ڈی والے کو اِہاں لائے تو میری جوتی ہو گی اور تیرا سر، سمجھے؟”

بابوراؤ سے رہا نہیں گیا۔ انہوں نے حیرانی سے پوچھا، “یعنی شانتارام بابو۔ پھر آپ اوپر جا کر آخر کیا کر آئے؟”

“کچھ بھی تو نہیں۔ اوپر گیا۔ جاتے ہی وہ بائی پلنگ پر لیٹ گئی اور ”چلو! آؤ!! بیٹھو!!!” کہہ کر مجھے اپنے پاس سونے کی درخواست کرنے لگی۔ میں نے اُس سے کہا، “اری، ایسی بھی کیا جلدی پڑی ہے؟ آؤ، پہلے کچھ باتیں کر لیں۔” ــ سچ تو یہ تھا کہ میں اس سے پہلے کے اس کے جیون کے بارے میں کچھ باتیں جاننا چاہتا تھا۔ اسے تھوڑا پچکار کر، سہلا سہلا کر سہج بھاؤ سے اس سے ساری باتیں نکلوانی چاہیئے تھیں۔ لیکن ایسے موقع کے لیے میں بھی تو ایک دم اناڑی تھا۔ اس لیے میں نے اسے سیدھے رنگیلے ڈھنگ سے پوچھا، ”تم کس گاؤں سے آئی ہو؟‘‘ اس پر وہ جَھلّا کر بولی، “تم کو کیا کرنا ہے؟ آؤ، بیٹھو!”

“میں تو کرسی سے مانو چپک کر ہی بیٹھا تھا۔ میں نے اس سے کہا، “اری! یہ بیٹھو، بیٹھو، کیا لگا رکھا ہے؟ پہلے کچھ باتیں ہو جائیں۔ اچھا بتاؤ، تم اپنی خوشی سے یہاں آئی ہو کیا؟ یا کوئی تمہیں ورغلا کر، دھوکا دے کر یہاں پھنسا گیا ہے؟”

“اس چھوکری کو میری اِن باتوں پر کافی غصہ آیا۔ پاس ہی والے پارٹشن کی طرف منہ کیے وہ زور زور سے بڑبڑانے لگی۔ وہ کنڑ بھاشا میں بول رہی تھی۔ پارٹشن کے اُس پار سے بول رہی عورت نے اسے چیتاونی دی کہ مجھے کوئی بھی جانکاری نہ دے۔ کنڑ میں تھوڑی سمجھ لیتا تھا، اسی لیے میں یہ بات جان سکا۔”

“اس کے بعد کافی دیر تک اس کا ‘آؤ، بیٹھو’ جاری تھا۔ میں نے لاکھ کوششیں کیں کہ اس کا نجی جیون معلوم کر لوں، لیکن کچھ بھی ہاتھ نہ لگا۔ اس کا ریٹ دو روپے تھا۔ میں نے اس کے ہاتھ پر پانچ پانچ کے پانچ نوٹ رکھ دیے اور چلنے کو تیار ہوا۔ اس نے مجھے روکا اور بولی، “تو ہم پر بیٹھا نہیں اور پیسہ کیوں دیتا ہے؟ ہم کو نئ (نہیں) چییے پھوکٹ (چاہیے مفت) کا پیسہ!”

“ایک ویشیا کے منہ سے ایسے معتبر خیالات سن کر مجھے کافی حیرانی ہوئی۔ میں نے اس کے ہاتھوں میں ان نوٹوں کو زبردستی ٹھونس دیا اور کمرے سے باہر چلا آیا۔” یہ سارا قصہ سن کر سبھی لوگ حیرت میں پڑ گئے۔

اس کے بعد اور پانچ چھ دن ہم لوگ مختلف چکلوں پر گئے، لیکن ہمیں ایسی ویشیا نہیں ملی جو اپنی صحیح کہانی دل کھول کر ہمیں بتاتی۔ ہوا اتنا ہی کہ ہمیں الگ الگ ڈھنگ کا ماحول، طرح طرح کی شخصیت اور ان کے جذبات وغیرہ دیکھنے کو ملے۔ اِدھر اُدھر کی تھوڑی بہت جانکاری بھی ملی، لیکن ہیروئین کی شخصیت کی اچھی کہانی کہیں نہیں مل رہی تھی۔ ہر روز ان غیر مہذب بستیوں میں بے کار ہی جانے سے ہم لوگ اوب چکے تھے۔

رات ہو گئی۔ روز کی منڈلی چالو ہو گئی۔ آج جہاں گئے، وہاں دو ادھیڑ عورتیں ملیں۔ کمرا اچھا خاصا بڑا تھا۔ اسی کمرے میں ایک کونے میں پردہ لگوا کر اوٹ تیار کی گئی تھی۔ ان دونوں عورتوں میں ایک بہت ہی باتونی تھی۔ دتارام کو دیکھتے ہی اس نے کہا، “ارے، اتنے دن کہاں چھپا بیٹھا تھا؟” بعد میں فوراً ہماری جانب مڑ کر بولی، “آئیے، آئیے۔ بیٹھیے۔ چائے لیں گے نا آپ؟” کہتی ہوئی ہمارا جواب جاننے سے پہلے ہی میرے بدن پر جھکتی ہوئی کھڑکی سے نیچے دیکھ کر زور سے آواز لگائی، “اے چائے والا، چار چائے بھیجنا۔”

نیچے سے لوٹتی آواز میں سوال آیا، “سنگل یا ڈبل”

”ڈبل!” اس نے جواب دیا اور ہماری طرف ہنس کر دیکھتے ہوے آنکھ مارتی ہوئی شوخی سے کہنے لگی، “کیا پوچھتا ہے گدھا کہیں کا؟ اِہاں سب ڈبل ہی لگت (لگتا) ہے!”

اپنے اس فحش مذاق پر خوش ہو کر وہ خود ہی کھی کھی کھی کر ہنسنے لگی۔ ہم بھی اس کی ہنسی میں شامل ہو گئے۔ ‘ڈبل’ کہنے کی اس کی ادا مجھے اچھی طرح یاد رہی۔ وہ بائی ان پڑھ تھی۔ اس کی بول چال دیہاتی شہراتی کھچڑی تھی۔ اس کی بولی میں کنڑ، پنجابی، گجراتی وغیرہ کئی بھاشاؤں کی ملاوٹ تھی۔

میں نے سہج بھاؤ سے اس سے کہا، “تمہارے اس کاروبار کے کارن تمہیں شاید ناٹک، سنیما دیکھنے کا سمے نہیں ملتا ہوگا، ہے نا؟”

اس پر وہ دھڑلے سے کہنے لگی، “کیوں، اِہاں ہم لوگ کیا جیل میں بیٹھے ہیں؟ تین کا شو ہم تھئیٹر میں دیکھتے ہیں۔ دیکھتے دیکھتے اپنا گاہک بھی ڈھونڈ لیوت ہیں۔ پھر چلے آوت ہیں وہ لوگ ہمرے پیچھے پیچھے!” لیکن فوراً ہی وہ سٹپٹا گئی اور بولی، “لیکن وہ ہمرا راجہ بنت ہے خالی گھڑی دو گھڑی کو!”

باتیں کرتے کرتے اب وہ کافی کھلتی جا رہی تھی۔ اس سے اور زیادہ کہلوانے کے لیے میں نے کہا، “حال میں کون سا سنیما دیکھا تم نے؟”

“دو چار دن پہلے دیکھا وہ ‘دنیا نہ مانے’ بہوت بڑھیا تھا! کچھ بھی کہیو، وہ شانتارام سالا سنیما بہوت بڑھیا بناوت ہے!”

میرے نام پر اس نے جو گالی جوڑ دی، سن کر ہم سبھی کو بڑی ہنسی آئی۔ پھر ہم لوگوں نے اس کے منہ سے ‘دنیا نہ مانے’ کی کہانی سنی۔ لیکن کہانی سناتے سناتے اس نے اس میں اپنے من سے اتنی تبدیلی کر دی، کہ میں خود تذبذب میں پڑ گیا کہ میری ڈائرکٹ کی ‘دنیا نہ مانے’ یہی تھی یا کوئی اور۔ تبھی وہ چائے والا چھوکرا چائے لے کر آیا۔ اس کی وہ میلی کچیلی پلیٹیں، گھسے پٹے کپ، لال کالی چائے وغیرہ دیکھ کر اس چائے کو پی پانا میرے لیے مشکل سا لگ رہا تھا۔ لیکن بے کار ہی اپنے بارے میں کوئی شک کھڑا نہ ہو، اس وچار سے میں نے وہ چائے جیسے تیسے پی لی۔

چائے پان کے بعد وہ اور بھی کُھل گئی۔ اپنے جسم کے چھپے انگوں کے بارے میں وہ کھلم کھلا اس ڈھنگ سے بولے جا رہی تھی کہ ایسا لگتا تھا، وہ اپنے آپ کو ایک زندہ ناری نہ مان کر مردوں کی ہوس مطمئن کرنے کی ایک مشین سمجھ رہی ہے۔ باتیں کرتے کرتے وہ اچانک سیدھے میری گود میں آ کر بیٹھ گئی اور بولی، “چاہیں تو آپ خود پڑتال کر دیکھ لیجیے!”

میں پس و پیش میں پڑ گیا۔ اتنی کوشش کرنے کے بعد ایک ویشیا ملی جو کھل کر باتیں کر رہی تھی۔ اب میرے دقیانوسی رویے سے کہیں اس کے من میں شُبہ جاگا تو سارا گُڑ گوبر ہو جائےگا! میں اسی حالت میں بیٹھا رہا۔ لیکن اس بار دتارام نے میری مدد کی۔ وہ لپک کر آگے آیا اور اس نے اسے اٹھا کر ایک طرف ہٹایا۔ میں نے راحت کی سانس لی۔ نظر اٹھا کر سامنے دیکھا، تو وہاں بھگوان کی تصویر ٹنگی دیکھی۔ تصویر پر چڑھائے گئے پھول تازہ تھے۔ میں نے جان بوجھ کر کھسیانے کے لیے اس بائی سے پوچھا، “کی ماں کو، یہاں تم ایسا گندہ بولتی ہو اور وہاں بھگوان کی تصویر لٹکا کر اس پر پھول بھی چڑھاتی ہو!”

جیسی کہ مجھے امید تھی، وہ ایک دم جھلّا اٹھی۔ میری بات کو بیچ میں ہی کاٹ کر بولی، “اے صاب! تم ہم کو کیا سمجھتا ہے؟ ہر روز سویرے اٹھ کر بھگوان کی پوجا کیے بِنا ہم منہ میں پانی تک ناہیں ڈالت ہیں، سمجھا؟”

میں دنگ رہ گیا۔

“تم کو کیسے پتہ ہوے گا، ہم موئی یہ دھندا کیوں کرت ہیں؟ ہم کو اچھا لگت ہے اس لیے؟ صاب، ہمری پیڑھا ہم ہی جانت ہیں! کبھی کبھی ایسا بھی ہووے ہے کہ کوئی گاہک آتا ہی نہیں۔ پھر تو گھر کا برتن بھانڈا گروی رکھ کر چولھا جلانا پڑت ہے! اور تب بھی منہ پِچکا کر ہنس کر نئے گاہک کی باٹ جوہنا (انتظار کرنا) پڑت ہے! کچھ پھوکٹ والے موالی شراب پی کر آوے ہیں۔ ان کو بھی ناراض کیسے کر پاوے؟ تو ان کی آگ میں بھی اِی شریر (جسم) جھونکنا پڑے ہے۔ کمرے کا کرایہ لینے کے لیے مکان مالک کا نوکر آوت ہے، تو اس کو بھی خوش کرنا ہی پڑے ہے! زندگی ایک دم نرک بن گئی ہے نرک!”

“کبھی کوئی بڑا آدمی بنا آوت ہے۔ ہمرے ادھار (نجات) کی یا نہ جانے کاہے کاہے کی، لمبی چوڑی ڈینگیں ہانکت ہے اور خود رات ما ہمرے سنگ رنگ رلی اڑا کے منھ اندھیرا ما چور کی نائی (چور کی طرح) منھ چھپائے بھاگ جاوت ہے!”

“صاب، کبھی کبھی لاگے ہے، اِی گندا کام چھوڑ چھاڑ کے چنگی زندگی جیوے، پر دو جون کھانے کو کون دیوے گا؟ اُدھر ہمرے گاؤں میں ماں باپ ہیں، چھوٹے بھائی بہن ہیں، سبھی کو لالے پڑ جاویں گے نا۔۔۔ صاب، اِہاں کوئی نوکری ڈھونڈنے آئی ہتی میں، پر کون دیوے ہے نوکری؟ تو بس سہیلی کے سنگ لگ گئی اسی دھندے ما۔۔۔”

اس کا درد پھوٹ پھوٹ کر سامنے آنے لگا تھا۔

بیچ میں وہ چپ ہو گئی۔ پھر یکایک بولی، “صاب تم لوگ ایہاں مزہ لوٹن کے واسطے آئے اور میں موئی اپنی کرم کہانی سنان لگی۔ چھما (معاف) کرو صاب!”

سچ پوچھو تو مجھے اس کی باتوں سے کوئی تکلیف نہیں ہو رہی تھی۔ میں نے اسے ویسا بتا بھی دیا۔ پھر ساری رات وہ ہمیں اپنے جیون کے ایک سے زیادہ واقعات جی کھول کر سناتی رہی۔ اس کا من اتنا دو ٹوک ہو گیا تھا کہ جیون میں بیتی اور ہر دن دن بیت رہیں گندی گھناؤنی باتیں وہ بے شرمی کے ساتھ کھلے عام کہتی جا رہی تھی۔ اس کی بھاشا بہت ہی بھدی اور فحش تھی۔ جذبات میں تو اتنی مسخ تھی کہ وہ جو کچھ بتا کر دکھا رہی تھی، اس کا دس فی صد بھی میں اپنے فلم میں لا نہیں سکتا تھا۔ اور لاتا بھی، تو یقینی ہی سنسر اسے ہرگز پاس نہیں کرتا۔ اس کے درد اور تکلیف نے میرے دل کو ہلا دیا۔ ‘آدمی’ کی ہیروئین اپنی تمام بے عزتی اور قابل رحم درد دل کے ساتھ زندہ ہو کر میرے سامنے کھڑی تھی۔

بمبئی سے لوٹا تو معلوم ہوا کہ داملے جی اور فتے لال ‘گوپال کرشن’ کے باہری شوٹنگ کے لیے بمبئی کے پاس ہی ڈونبِولی گئے ہیں۔ پندرہ دن ہو گئے شوٹنگ کے لیے گئے ان کے گروپ کے واپس آنے کے کوئی آثار دکھائی نہیں دیے۔ کام بھی کوئی خاص زیادہ تو تھا ہی نہیں۔ میں سوچ میں پڑ گیا۔ تبھی بابوراؤ پینڈھارکر کا فون آیا کہ ”آپ خود یہاں آ کر ایک بار شوٹنگ کے کام کو دیکھ جائیں۔” میں ڈونبِولی گیا۔ شوٹنگ کافی دھیمی رفتار سے چل رہی تھی۔ فوراً شوٹنگ کی ساری ذمہ داری میں نے اپنے ہاتھ میں لی اور چار پانچ دن میں وہاں کا سارا کام پورا کر پُونا واپس لوٹ آیا۔ پُونا لوٹتے ہی سٹوڈیو کے کھلے احاطے میں ایک سیٹ کھڑا کیا اور اس پر بھی شوٹنگ شروع کر دی۔

ایک دن دیکھا کہ داملے جی، فتے لال شوٹنگ کا کام بیچ ہی میں روک کر آرام سے بیٹھ گئے ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا تو کہنے لگے — “شوٹنگ کرتے سمے ہمیں غش کھا کر گرنے جیسا لگا، یہ چلچلاتی دھوپ ایک دم ناقابل برداشت ہو رہی ہے۔”

میں نے ان سے کہا، “کوئی بات نہیں۔ آپ یہیں آرام کریں، شوٹنگ میں کیے دیتا ہوں۔”میں فوراً باہر آیا اور وہاں کی ساری شوٹنگ پوری کر لی۔

کنس کے سینا پتی (سپاہ سالار) کیشی نے کرشن کو اپنے کیمپ میں قیدی بنا لیا ہے۔ اسے رہا کرانے کے لیے کرشن کے گوپ گوالے ساتھی گایوں اور بیلوں کا گروہ لے کر کیشی کے کیمپ پر دھاوا بول دیتے ہیں۔ کیشی اور اس کے سپاہیوں کی ناک میں دم کر دیتے ہیں۔ یہ سین شوٹنگ کے نقطہ نظر سے بے حد کٹھن تھا۔ اس میں براہ راست گائے بیلوں اور ان کی ‘ڈمیز’ کا استعمال ناممکن تھا۔ سین کو انتہائی پراثر بنانا ضروری تھا۔ اس سین کا پورا آوٹ ڈور شوٹ بھی داملے جی فتے لال جی کے کہنے پر مجھے ہی کرنا پڑا۔

‘گوپال کرشن’ کی ایڈیٹنگ کا کام شروع ہوا۔ لیکن اس کے ڈائرکٹر داملے جی اور فتے لال بھولے سے بھی ایڈیٹنگ روم کے پاس نہیں آئے، نہ ہی انہوں نے کبھی یہ بھی پوچھا کہ ایڈیٹنگ کا کام کہاں تک آیا ہے۔ کبھی کبھی تو ایسا لگتا جیسے انہیں اس ‘گوپال کرشن’ سے کوئی سروکار ہی نہیں ہے۔

‘گوپال کرشن’ ریلیز ہو گئی۔ اس نے بڑی شہرت حاصل کی۔ اس میوزیکل فلم کے گیت لوگوں کو بہت ہی پسند آئے۔ اس میں کھیل کھیل کے جو سین ڈالے ان کو تو ناظرین نے سر پر اٹھا لیا۔ ‘گوپال کرشن’ کے ریلیز ہونے کے دوسرے دن اس کے سکرین پلے لیکھک شِورام واشیکر، بابوراؤ پینڈھارکر آفس میں مجھ سے ملنے آ گئے۔ دیکھتے ہی انہوں نے کہا، “شانتارام بابو، ‘گوپال کرشن’ کی کہانی کا کریڈٹ لینے میں مجھے بڑی ہچکچاہٹ ہو رہی ہے۔

“اجی وشیکرن جی، آپ یہ کیا کہہ رہے ہیں؟”

“سچ ہی تو کہہ رہا ہوں۔ اس کے خاص سین، اس کی بذلہ سنجی کے ساتھ میں نے ویسے کے ویسے اتار لیے جیسے آپ نے بتائے تھے۔ آپ بتاتے گئے، میں لکھتا گیا۔ لہذا اس کا سارا کریڈٹ اصل میں آپ کو جانا چاہیے، آپ کی محنت کو ملنا چاہیے۔ میری یہی پکی سوچ ہے، اور پریس کانفرنس بلا کر میں اس کا اعلان بھی کرنے جا رہا ہوں۔”

“نہیں، نہیں۔ ویسا آپ کچھ بھی نہیں کریں گے۔ آپ کا کرِئیر اس میں مات کھا جائے گا۔ آپ کو جو لگتا ہے اسے آپ ایمانداری سے قبول کرتے ہیں، یہی کافی ہے۔ مجھ سے پوچھیں تو کہوں گا کہ یہ احساس ہی آپ کی مستقبل میں ترقی کا اشارہ ہے۔”

‘گوپال کرشن’ کی ریلیز کے سمے ہم سبھی لوگ بمبئی گئے تھے۔ وہاں بابوراؤ پینڈھارکر نے ہمیں ایک بہت ہی اچھی خبر سنائی کہ بمبئی کا پوتھے سنیما (آج کل اس کا نام سوستک سنیما ہو گیا ہے) بیچا جانے والا ہے۔

‘پوتھے’ سنیما میں گیلری وغیرہ کچھ بھی نہیں تھی، اسی لیے مجھے وہ بہت پسند تھا۔ بمبئی میں ‘پربھات’ کی فلم کی ریلیز کے لیے اس سنیما گھر کو خرید لینے کی رائے سب نے ظاہر کی۔ اس سے پہلے پُونا کا ‘پربھات تھئیٹر’ بھی ہم لوگوں نے لیا تھا اور اس کا کامیاب استعمال ہم کر رہے تھے۔ ہم نے بابوراؤ پینڈھارکر کو ‘پوتھے’ کے مالک سے فوراً ملنے کو کہا اور اس سے باتیں کر کے ضروری دستاویز اور کانٹریکٹ وغیرہ بنوا لینے کے بھی ہدایات دیں۔ داملے جی پُونا گئے۔ میں اور فتے لال جی دو دن بمبئی میں ہی رہے۔ ہم دونوں ‘پوتھے’ سنیما دیکھنے کے لیے گئے۔ فتے لال جی بڑے چاؤ سے مجھے سمجھا رہے تھے کہ ایک فلم کی نظر سے اس تھئیٹر میں کیا کیا تبدیلیاں کرنی ہوں گی۔ میں بھی تکنیکی نظر سے اس تھئیٹر کا ٹھیک ٹھیک معائنہ کر رہا تھا۔ بابوراؤ ہمارے ساتھ ہی تھے۔ اپنی ہمیشہ کے اتاولے پن سے میں نے ان سے کہا، “آج ہی سودا پکا کر سیل پتر تیار کروا لیجیے۔”

بابوراؤ نے کہا، “میں نے کل ہی انہیں ایک لاکھ چالیس ہزار روپے کی پیشکش کی ہے۔ کل تک راہ دیکھتے ہیں۔ دوسری صورت میں ان کی مانگ کے مطابق ڈیڑھ لاکھ روپے میں سودا طے کیے لیتے ہیں۔” میری بہت دنوں کی چاہ تھی کہ ‘پربھات’ کی بنائی فلم ریلیز کرنے کے لیے ملک بھر میں سنیما گھروں کی ایک سیریز ہو۔ اب اپنا وہ سپنا کچھ کچھ سچ ہوتا دیکھ کر میرا من کافی پرجوش ہو اٹھا۔

پُونا لوٹنے کے بعد دوسرے دن سویرے کمپنی کا اخبار دیکھ رہا تھا کہ داملے جی، فتے لال جی اور سیتارام پنت کلکرنی میرے آفس میں آئے۔ انہیں دیکھتے ہی میں نے کافی جوش سے پوچھا، “سیتارام بابو کو ‘پوتھے’ کے بارے میں وہ خوش خبری دی نہ آپ نے؟”

انہوں نے ‘ہاں’ کہا۔ لیکن سب کے چہرے بہت ہی گمبھیر دکھائی دے رہے تھے۔ داملے جی نے پوچھا، “کیا ‘پیسے’ کا قرارنامہ ہو گیا ہے؟”

“نہیں، لیکن بابوراؤ سے اسے فائنل کرنے کے لیے ہم کہہ آئے ہیں۔ ممکنہ آج ہو جائے گا۔”

داملے جی نے گمبھیر ہو کر کہا، “میری راۓ میں ہمیں وہ تھئیٹر نہیں خریدنا چاہیئے!”

داملے جی کی وہ بات سن کر مجھے دھچکا لگا۔ اس سے پہلے کہ میں کچھ کہتا، داملے جی نے ہی آگے کہا، “پیسے کی زمین تھئیٹر کے مالک کے پاس لمبی لیز پر ہے۔”

“جی ہاں، اسی لیے تو وہ تھئیٹر ہمیں اتنی کم قیمت پر مل رہا ہے۔”

اُس جگہ کا ماہانہ کرایہ تین ہزار روپے ہے۔ اتنے بھاری خرچ کا بوجھ ہم اپنے اوپر لیں، یہ ہمیں پسند نہیں!” میرا اپنا ماننا تھا کہ کاروبار اور ‘پربھات’ کی شہرت کی نظر سے تھئیٹر کو خریدنا بہت اہم ہے۔ میں دلیل کرنے لگا، “اجی، پُونا کا ‘پربھات’ سنیما گھر بھی لیز پر ہی تو ہے۔”

“لیکن اس کا کرایہ اتنا زبردست نہیں ہے۔ میری رائے میں ہر ماہ تین ہزار روپے کا بوجھ ہمیں ہرگز نہیں اٹھانا چاہیے!”

“آپ ایک بات دھیان میں رکھیں۔ ‘سینٹرل’ اور ‘کرشن’ سنیما گھروں کے مالک بھی لیز کا بھاری کرایہ دیتے ہیں اور وہاں ہمارے ‘پربھات’ کی فلم ریلیز کر وہ ہر سال پچاس پچاس ہزار روپے کا منافع کما لیتے ہیں۔ پھر ہم ہی اس بات سے کیوں ڈریں؟ یہ بھی تو سوچئے کہ دیگر شہروں میں اس طرح ‘پربھات’ کے اپنے سنیما گھر ہوں تو ہر بار سنیما گھر کرائے پر لینے میں ہمارا جو پیسہ خرچ ہو جاتا ہے، اس میں کتنی بچت ہو گی؟”

میرے ان بیوپاری اور کاروباری دلائل کا بھی داملے جی پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ میں مایوس ہو گیا۔ آخر میں نے آج تک ‘پربھات’ کے زمانے میں بھی کبھی استعمال میں نہ لایا گیا ایک پینترا چلنے کا طے کیا۔ ہمارے حصہ داری کانٹریکٹ میں ایک دفعہ تھی کہ ‘پربھات’ کا سارا کاروبار ہمیشہ اکثریت سے چلایا جائے۔ اب اس دفعہ کا استعمال کرنے کا سمے آ گیا تھا! کل ہی میں اور فتے لال جی ‘پوتھے’ کی عمارت میں کھڑے کھڑے پتہ نہیں کیا کیا خیالی پلاؤ بنا چکے تھے۔ اس لیے میں نے سوچا کہ فتے لال جی ضرور ہی میری سائیڈ لیں گے۔ سیتارام بابو پشتینی بیوپاری ہیں، میری کاروباری بات انہیں بھی پسند آ ہی جائے گی مجھے امید تھی۔ لہذا من ہی من مجھے یقین ہو گیا کہ اکثریت میرے حق میں ہو گی۔ اپنا غصہ دبا کر ہنستے ہنستے میں نےکہا، “اکثریت سے جو طے رہے گا، اسے ہی مان لیتے ہیں۔”

“مجھے کوئی اعتراض نہیں۔” داملے جی نے کہا۔

میں نے سب سے پہلے سیتارام بابو سے پوچھا۔ ان کا جواب میں دھیان سے سن رہا تھا۔

انہوں نے کہا، “میرا خیال ہے، داملے جی کی بات میں کافی وزن ہے!” میں سن کر ٹھنڈا پڑ گیا۔ پھر بھی لگاتار مسکرا کر میں نے فتے لال جی کی طرف دیکھا۔ فتےلال جی نے کہا، “داملے جی کی بات صحیح ہے!” سامنے ہی بیٹھے داملے جی کے چہرے پر جیت کی مسکراہٹ چمکنے لگی۔ انہوں نے مجھ سے کہا، “تو پھر شانتارام بابو، بمبئی فون کر بابوراؤ پینڈھارکر سے کہیں گے نا آپ کہ سنیما گھر کے بارے میں آگے بات چیت نہ چلائیں؟”

میں مجبور تھا۔ بھاری من سے میں نے فون اٹھایا۔

Categories
نان فکشن

شانتا راما باب 4: بنا اجازت کے اندر آنا منع ہے (ترجمہ: فروا شفقت)

[blockquote style=”3″]

’’شانتاراما‘‘ برصغیر کی فلم انڈسٹری کے بانیوں میں شامل وی شانتا رام کی آپ بیتی ہے جو انھوں نے اپنی آخری عمر میں مراٹھی میں بول کر لکھوائی اور چھپوائی تھی۔ بعد میں اس کا ہندی روپ شائع ہوا۔ شانتارام جن کا پورا نام شانتارام راجارام وانکودرے تھا، 18 نومبر 1901 کو پیدا ہوے اور کو پیدا ہوے اور 30 اکتوبر 1990 کو وفات پائی۔ مہاراشٹر کے شہر کولھاپور میں، جو برٹش راج کے دور میں ایک رجواڑے یا نوابی ریاست کا صدرمقام تھا، انھوں نے خاموش فلمیں بنانے سے آغاز کیا اور بعد میں پونا اور بمبئی میں مراٹھی اور ہندی کی بےشمار فلمیں بنائیں۔ اس طرح شانتارام کی لمبی پیشہ ورانہ زندگی کی دلچسپ داستان اس خطےکی فلمی دنیا کی تاریخ بھی ہے۔ اس تاریخ کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے کرداروں میں مختلف علاقوں، ذاتوں، زبانوں، طبقوں اور پیشوں کے لوگ شامل ہیں جنھوں نے مل کر ایک رنگارنگ منظرنامہ تیار کیا جس کی جھلکیاں اردو میں سعادت حسن منٹو کی ان تحریروں میں ملتی ہیں جن کا پس منظر 1940 کی دہائی کا بمبئی شہر اور وہاں کی فلمی دنیا ہے۔ ’’شانتاراما‘‘ میں اس دنیا کے رفتہ رفتہ بننے اور پھیلنے کی کہانی بڑے بےتکلف اور دلچسپ اسلوب میں بیان کی گئی ہے۔ شانتارام کی معروف ہندی فلموں میں سے چند کے نام یہ ہیں: ’’ڈاکٹر کوٹنِس کی امر کہانی‘‘ (1946)، ’’امر بھوپالی‘‘ (1951)، ’’جھنک جھنک پایل باجے‘‘ (1955)، ’’دو آنکھیں بارہ ہاتھ‘‘ (1957)۔ ’’شانتاراما‘‘ کا اردو روپ ہندی متن کی بنیاد پر فروا شفقت نے تیار کیا ہے جو گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں پی ایچ ڈی سکالر ہیں۔

[/blockquote]

دوسرے ہی دن میں پرائیویٹ ہائی سکول کے پرنسپل وبھوتے کے دفتر پہنچ گیا۔ انھوں نے پوچھا، ’’کیوں رے، اتنے دن کہاں تھا؟ ہیں ؟‘‘
سنتے ہی مجھے رونا آ گیا۔
انھوں نے کہا، ’’اچھا اچھا، کوئی بات نہیں۔ رؤ مت، آ جاؤ۔ نیچے چوتھی جماعت میں بیٹھو اور دھیان سے پڑھائی کرو۔‘‘
میری تعلیم پھر سے باقاعدہ شروع ہو گئی۔
مجھے کھیل کود کا بھی کافی شوق تھا۔ ہم بہت سارے طالب علم گاؤں کے باہر والے گھاس کے میدان میں شام کو کھیلنے جایا کرتے۔ وہاں کرکٹ، ہاکی، فٹ بال وغیرہ کھیل کھیلا کرتے تھے۔

ایک بار کرکٹ کی بیٹ ہاتھ میں لے کر میں بڑی اکڑ سے سٹمپس کے سامنے جا کھڑا ہوا۔ پہلی ہی گیند اتنی سنسناتی ہوئی آئی کہ سیدھی میری پنڈلی پر آ لگی۔ درد جھنجھناتا ہوا سر تک پہنچ گیا۔ میں درد کے مارے ایک دم بیٹھ گیا۔

اُس دن سے لیدر بال کا ڈر من میں بیٹھ گیا۔ پھر بھی ڈرپوک کہلائے جانے کے ڈر سے میں اپنے آپ پر کرکٹ کھیلنے کی زبردستی کرتا رہا۔ لیکن بلّے بازی کرنے جب جب جاتا، اور سامنے والے سرے سے گیند پھینکی جاتی، تو ڈر کے مارے میری آنکھیں اپنے آپ مُند جاتیں۔ پھر بلّا انداز ے سے اوپر اوپر ہوا میں ہی گھوم جاتا، گیند سے اُس کی ملاقات ہی نہ ہوتی۔ بلّا اِدھر اُدھر گھوما اور گیند پیچھے وکٹ کیپر کے ہاتھوں میں پہنچ جاتی۔ کبھی کبھی تو گیند میرے بلے سے ہی کافی دور سے ہی چلی جاتی۔ کبھی بھولے سے بلے پر آ بھی جاتی، اُوٹ پٹانگ ڈھنگ سے میں اُسے مارتا، تو کیچ لے لیا جاتا، تو کبھی میرا بلا جہاں کا تہاں دھرارہ جاتا اور گیند سٹیمپس گرا کر چلی جاتی۔

ایک دن شام کو اپنے مِتروں کے ساتھ کھیل ہم واپس آ رہے تھے۔ ایک متر نے کہا، ’’بھائی، بات کیا ہے؟ گیند کو بلے سے پیٹنے کے بجاے تم تو ہر بار آنکھیں بند کر لیتے ہواور اسی لیے جلدی آؤٹ ہو جاتے ہو۔‘‘ اُس وقت میرا جواب تھا: ’’کیا بتاؤں یار، کی ماں کو، اماں کی ماں کو۔۔۔ پہلے دن ہی کی بات ہے، کی ماں کو۔۔۔ وہ پتھریلی لیدر کی گیند، کی ماں کو۔۔ سیدھی میری پنڈلی پر اتنے زور سے آ لگی کہ۔۔ کی ماں کو۔۔۔ مجھے تو چکر ہی آ گیا۔ اچھا۔۔ کی ماں کو۔۔ میں کرکٹ کھیلنا بند کر دیتا تو کی ماں کو۔۔ منھ بنا کر میری کھِلّی اڑاتے۔۔۔۔‘‘
میرے متر مجھے دیکھ کر زور زور سے ہنسنے لگے۔ جھنجھلاہٹ میں کچھ چمک کر میں نے پوچھا، ’’کی ماں کی کو۔۔ میں اتنے من سے سب کچھ بتا رہا ہوں، اور کی ماں کی، تم سب لوگ اِس طرح ہنسے جارہے ہو؟‘‘
اس پر ہماری ٹولی میں سے ایک نے ہنستے ہنستے کہا، ‘‘کاش، تم نے ابھی جتنی بار کی ماں کو، ماں کو، کی ماں کو، کہا ہے، اُس سے آدھی بار بھی بلے سے گیند کو مارا ہوتا! یہ کیا رٹ لگا رکھی ہے کی ماں کو، کی ماں کو؟‘‘

اپنے متروں کی صلاح پر میں نے اِس ’کی ماں کو‘ کا ساتھ چھوڑنے کی بڑی لگن سے کوشش کی، کافی حد تک کامیاب بھی رہا، لیکن آج بھی اچانک کبھی کبھار وہ اپنا وجود جتاہی جاتی ہے۔

اُس کے بعد دھیرے دھیرے میں نے کرکٹ کھیلنا چھوڑ کر فٹ بال کھیلنا شروع کیا۔ ایسے گندھروناٹک منڈلی میں ہی فٹ بال کھیلنا سیکھ گیا تھا۔ ایک بار کمپنی ناگپور میں تھی۔ میں نے فٹ بال کھیلتے وقت اتنے زور سے کک ماری تھی کہ میرے بائیں پاؤں کی چھوٹی انگلی کا ناخن جڑ سے اکھڑ کر الٹ گیا تھا۔ اُس کے بعد سکول میں میں نے کافی مہارت حاصل کر لی تھی۔

انہی دنوں مجھے تیرنے کا بھی کافی شوق ہو گیا۔ ایک بار ناٹک منڈلی ناسک میں تھی، تب گوداوری میں میں نے تیرنا سیکھ لیا تھا۔ کولھاپور میں ایک بڑا تالاب ہے، اُس کا فریم دو ڈھائی میل کا ہے، کچھ ماہر تیراک ایک ہی دم میں تالاب کا پورا چکر تیرکر لگا جاتے۔ دھیرے دھیرے مشق بڑھا کر میں بھی ایک ہی دم میں تالاب کا پورا چکر کاٹنے لگا۔ لیکن بعد میں اتنی بھوک لگتی کہ پریشان ہو جاتا۔ رنکالا سے واپسی پر مائی کا گھر پڑتا تھا۔ بھوک جب بےقابو ہو جاتی، میں سیدھے مائی کی رسوئی میں پہنچ جاتا اور پِیڑھا لگا کر بیٹھ جاتا۔ مائی فوراً ہی مجھے جوار کی گرم گرم روٹیاں اور ساگ پروستی۔ بڑی ممتا سے کھلاتی۔ لیکن اِس طرح ہر روز مائی کے یہاں جانا اچھا بھی نہیں لگتا تھا۔ تیر کر گھر لوٹ جانے پر میں ہر کھانے میں باجرے کی بڑی بڑی دو ڈھائی روٹیاں ڈکوسنے لگ گیا۔ لیکن میں نے اندازہ کیا کہ گھر کے باقی سارے لوگ آدھی پون روٹی پر گزارہ کر لیتے ہیں، میرا دو ڈھائی روٹیاں اکیلے کھانا ٹھیک نہیں۔ میں نے تیرنے جانا بند کر دیا۔

لگ بھگ انہی دنوں کولھاپور میں سنیما کا تھیٹر بن گیا تھا۔ ناٹکوں کی نمائش جس شِواجی تھیٹر میں ہوا کرتی تھی اُسی میں تبدیلی کر اب سنیما دکھانے کا انتظام کیا گیا تھا۔ جیسے شِواجی تھیٹر کی کایاکلپ ہی ہو گئی تھی۔ کولھاپور میں دو پینٹر بھائی تھے، آنند راؤ اور بابو راؤ۔ دونوں پینٹر بھائیوں نے اپنے تخیل کا پورا پورا استعمال کر کے تھیٹر کی اندرونی سجاوٹ کو پوری طرح بدل ڈالا تھا۔ لگتا تھا شِواجی تھیٹر ایک دم نیا بن گیا ہے۔ اس کام میں کولھاپور کے ایک کپڑے کے بیوپاری واشیکر نے پونجی لگائی تھی اور سنیما کے لیے ساری ضروری مشینری خرید کر لے آئے تھے۔ انھوں نے شِواجی تھیٹر کا نام بدل ڈالا تھا۔ اب وہ ’’ڈیکن‘‘ (Deccan) سنیما کے نام سے جانا جانے لگا۔

اس سے پہلے، یعنی میں جب دس گیارہ سال کا تھا، کولھاپور کے دادُو لوہار بمبئی سے سنیما دکھانے کی ایک چھوٹی سی مشین خرید لائے تھے۔ اس پر دادُوجی ایک اکھنڈ جڑا تصویروں کا فیتہ چڑھاتے۔ پھر اُس مشین کا ہینڈل ہاتھوں سے گھما کر سامنے والے پردے پر اُس تصویری فیتے کے منظروں کو دکھاتے۔ تصویری فیتے کے پیچھے ایک دیا ہوتا تھا۔ اُس دیے کی روشنی فلم کے فیتے پر پڑتی اور سامنے لگے شیشوں کے لینز سے گزر کر آگے کچھ فاصلے پر لگائے گئے چھوٹے سے پردے پر انہی منظروں کو دکھاتی تھی۔ اُن دنوں اِن چلتی تصویروں کو دیکھ کر لوگوں کو بڑا مزہ آتا تھا۔ دادُو لوہار یہ سنیما دکھانے کے لیے ایک پیسہ، دو پیسہ ٹکٹ لیا کرتے تھے۔ اُس ہینڈل کو ایک ہی رفتار میں بِنا جھٹکا دیئے گھمانا میں نے سیکھ لیا تھا۔

اس مشین پر دکھائی جانے والی ایک فلم میں ایک ماں اپنے بچے کو چمچ سے کچھ کھلا پلا رہی ہے، ایسا سین تھا۔ پوری فلم میں وہ عورت بس یہی کرتی ہے۔ ایک اور فلم تھی، جس میں ایک مرد ایک عورت کو لگاتار چومتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ سنیما دکھانے کے اِس سٹائل میں بعد میں میں طرح طرح کے تجربے کرنے لگا۔ خصوصاً اس چومنے والی فلم کو شروع میں بہت دھیمی رفتار سے گھماتا اور بعد میں ہینڈل گھمانے کی رفتار بڑھاتا جاتا۔ نیتجتاً آخر میں میں تھوڑا فٹافٹ چومتا دکھائی دیتا تھا۔ اس پر لوگوں میں ہنسی کے فوّارے چھوٹتے تھے۔

سنیما کا یہ طریقہ فلم تو نہیں کہا جا سکتا تھا، ہاں اُسے تصویری پٹی یا فیتے کہنا مناسب ہو گا۔ آج کی فلموں کے مقابلے میں اُس سنیما کی حالت گھٹنے کے بل چلنے والے بچے جیسی تھی۔

کولھاپور میں بنے نئے ڈیکن سنیما میں ’’پروٹیا‘‘ نامی ایک غیرملکی خاموش فلم قسط وار دکھائی جاتی تھی۔ اِس میں پراسرار عورت کا کردار اہم تھا۔ اُسی عورت کے نام پر خاموش فلم کو ’’پروٹیا‘‘ کا نام دیا گیا تھا۔ یہ پروٹیا پوری فلم میں کالے رنگ کے تنگ کپڑے پہن پہن کر کام کرتی تھی۔ یہ خاموش فلم اُن دنوں کولھاپور میں کافی مقبول ہو گئی۔ ہم بہن بھائیوں نے دیکھی۔ اور بھی ایک دو فلمیں دیکھی تھیں۔ اصل میں بات یہ تھی کہ اتنی ساری فلمیں دیکھنے کی ہم لوگوں کی حیثیت نہیں تھی، پھر بھی ہمارے ماں باپو جتنا ہو سکے وہاں تک، لاڈپیار میں ہم بچوں کی فرمائشیں، ضرورتیں برابر پوری کرتے تھے۔
باپو کی فطرت میں کچھ حجاب تھا۔ اُس کا ناجائز فائدہ اٹھا کر کافی گاہک دکان سے مال ادھار لے جاتے۔ ناٹک کمپنیوں کو تو کریانہ مال اور پیٹرومیکس ادھار دینا پسند کرتے تھے۔ پھر اُن لوگوں کا یہ حال ہوتا کہ کولھاپور سے چلتے وقت کہہ دیتے، ’’ارے راجا رام باپو، کوئی پرائے تھوڑی ہی ہیں، اپنے ہی آدمی ہیں۔ اُن کے پیسے اگلے مرحلے پر دے دیں گے۔ ‘‘ اور بس چلتے بنتے۔ لہٰذا کئی بار باپو اپنے پیسے وصولنے کے لیے ناٹک کمپنی کے پیچھے پیچھے دھول چھانتے پھرتے تھے۔ یہ بات مجھے آج بھی یاد ہے، جیسے کام پر باپو جب گاؤں سے باہر جاتے تو دکان میں کام کرنے والے نوکر کی اچھی بن آتی تھی۔ دکان کا مال چوری چھپے بیچاجاتا۔ اُس سے آنے والے پیسے خود ہی خرچ کر ڈالتا۔ اِن سبھی وجوہات کی بناء پر ہم لوگوں کو غریبی روز بہ روز زیادہ ہی محسوس ہونے لگی تھی۔

ایسی حالت میں میرے من میں آنے لگا کہ کسی طرح کچھ کام کر کے گھر گرہستی چلانے میں باپو کی مدد کرنی چاہیے۔ گرمی کی چھٹیوں میں ’شری وینکٹیشور پریس‘ میں،میں نے کمپوزیٹر کا کام کرنا شروع کر دیا۔ پہلے پندرہ دنوں میں میں نے سیاہی کا رولر چلانا اور ٹائپ جمانا سیکھ لیا۔ یہاں میں نے مہینے بھر کام کیا۔ اس کے لیے مجھے چھ روپے ملے۔ بعد میں ہر سال گرمی کی چھٹیوں میں میں چھاپاخانے میں یہ کام کیا کرتا تھا۔ بدلے میں حاصل پیسوں سے میرے سکول کی کاپیوں اور کتابوں وغیرہ کا خرچ تھوڑا بہت نکل آتا تھا۔

گندھرو ناٹک منڈلی میں رہ کر بال گندھرو کی مُدھر اور سریلی آواز میں گائیکی لگاتار سننے کو ملتی تھی۔ نیتجتاً سنگیت میں میری بھی دلچسپی ہو چلی تھی۔ دیول کلب میں گانے بجانے کی محفل ہمیشہ کی طرح ہوتی تھیں۔ کولھاپور دربار کے سنگیت رتن استاد اللہ دیا خاں صاحب کا گانا کلب میں ہوتا، تو نہ صرف کلب کھچاکھچ بھر جاتا بلکہ سیڑھیوں پر اور سڑک پر بھی لوگ کھڑے ہو کر اُن کا گانا سنا کرتے تھے۔ سنگیت کے ایسے پروگرام سن کر مجھے کلاسیکل سنگیت اچھے لگنے لگے تھے۔ رحمت خان، بھاسکربوابکھلے، عبدالکریم خان، سوائی گندھرو وغیرہ گائیک فنکاروں کا گانا مجھے پسند آنے لگا تھا۔ پھر بھی ستار اور ہارمونیم کے پروگرام مجھے بہت زیادہ بھاتے تھے۔ کئی بار گوبند راؤ ٹینے کے کولھاپور آنے پر اُن کے ہارمونیم بجانے کے پروگرام بھی ہوا کرتے تھے۔ لوگوں کے اصرار پر وہ کبھی کبھی ہارمونیم کے سُروں میں خود دبی آواز میں گا بھی لیا کرتے تھے۔ ہارمونیم کے سُروں کے ساتھ وہ اپنا سُر اتنا بڑھیا ملا دیتے تھے کہ سامعین داد دیے بغیر نہیں رہتے۔

ایسی محفلوں میں تانپورے پر بیٹھنے کے لیے کوئی نہ ملا تو مجھے ہی پکڑ بیٹھایا جاتا۔ منع کرتا بھی کیسے؟ مشہور گندھرو ناٹک منڈلی کی مہر جو مجھ پر لگی تھی! تانپورے پر بیٹھنے کی بوریت سے اپنا الاپ چھڑانے کے لیے، پروگرام شروع ہونے سے پہلے ہی میں کسی بڑے سے کھمبے کے پیچھے چھپ کر بیٹھتا۔ لیکن تبھی سامنے سے بابا دیول پکارتے، ’’ارے شانتارام، چلو آؤ، اٹھاؤ تانپورا۔‘‘ پھر میری کون سنتا؟ ہم تانپورا سنبھالنے کے لیے سٹیج پر پہنچ ہی جاتے۔ اس طرح زبردستی تانپورا بجاتے بجاتے میں تانپورا بجانے میں ماہر ہو گیا۔ (یہ دوسری بات ہے کہ تانپورا بجانا کچھ بھی مشکل نہیں!)

دیول کلب میں ہونے والے پروگروموں کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے بابا دیول کے من میں آیا کہ کیوں نہ کلب کی کوئی اپنی خودمختار عمارت ہو! بس، من میں آنا ہی تھا کہ انھوں نے اِس عمارت کے فنڈ کے لیے کلاسیکل موسیقی اور گائیکی کا ایک جلسہ منعقد کیا۔ جلسے کے بعد دیول جی نے اور رقم جمع کرنے کی غرض سے کلب کی طرف سے سٹیج پر ’وینور‘ نامی ناٹک پیش کرنےکا فیصلہ کیا۔اس ناٹک کے ایک زنانہ کردار کے لیے مجھے چنا گیا۔ ناٹک منڈلی میں سال بھر کام کرنے کی وجہ سے اب ساڑھی باندھ کر کام کرنے میں مجھے کوئی دقت محسوس نہیں ہوتی تھی۔اس ‘وینود’ نامی ناٹک میں نوجوان رادھا کے نثری مکالمے کا رول میں بہت ہی چستی سے کی کرتا تھا۔ اس ناٹک کو کولھاپور اور سانگلی میں تین بار پیش کیا گیا۔ دیول کلب کی عمارت کے چندے کے لیے پیسہ اچھا اکٹھا ہوا۔ اِس ناٹک میں میری چست اور جاندار اداکاری دیکھ کر ہی آگے چل کر کولھاپور کی ایک شوقیہ ناٹک کمپنی نے ’مان اپمان‘ ناٹک میں مجھے بھامنی کا کردار دینا طے کیا۔ اِس کردار میں کام کرنے کے لیے مجھے ایک ناٹک کے پورے بیس روپے ملتے تھے۔ لیکن دو بار سٹیج ہونے کے بعد ہی یہ ناٹک بند ہو گیا۔

اُسی وقت روٹین کی زندگی میں ایک واقعہ ہوا۔ اُسے کیا کہا جائے،عجیب یا سکھ دینے والا؟ پتا نہیں۔ لیکن وہ ایک دم بےوقت پیش آیا۔ میں گندھرو ناٹک منڈلی میں تھا، تب ہماری ہی کمپنی میں کام کرنے والے ایک خاندان کے ساتھ میرا تعارف ہو گیا تھا۔ اُس خاندان میں ایک دس گیارہ سال کی لڑکی تھی۔ اُس کا نام بڑا میٹھا تھا، ’’چیتی‘‘۔ میں اسے’’چیتا‘‘ کہا کرتا تھا۔

اس وقت میں تیرہ سال کا تھا۔ یہ لہنگا پہننے والی چیتی کئی بار ہمارے گھر آئی تھی۔ ہمارے مکان میں اوپری منزل پر ایک چھوٹی سی کوٹھری تھی۔ کئی بار بےسبب ہی اس کوٹھری میں آ کر چیتی چہکتی رہتی۔ میں اس کو نظرانداز کرتا اور سامنے رکھی کتاب پر بہت زیادہ دھیان دینے کی کوشش کرتا رہتا تو پھر ہار کر وہ مجھے ٹکٹکی باندھے دیکھتی رہتی تھی۔ اُس کی نگاہ بڑی نوکیلی تھی۔ لگتا تھا وہ مجھے چبھتی جا رہی ہے۔ اس پر میں سوچتا کہ اُس کی اِس نظر سے تو اُس کا پُھدک پُھدک کر چہچاتے رہنا ہی اچھا ہے۔ ایک دن اُس کی نظر ناقابلِ برداشت ہونے کی وجہ سے غصے میں میں نے اُس کا ہاتھ پکڑا اور زور سے مروڑ دیا۔ میرا خیال تھا کہ اب وہ چیخے گی، چلّائے گی۔ لیکن الٹا وہ ایک دم مجھ سے لپٹ گئی۔ لگا، جیسے کوئی ملائم چڑیا ہو! اُس کے جسم کی گرماہٹ، ملائم کوملتا مھے بہت ہی بھا گئی۔ میں نے بھی اُسے کس کر بانہوں میں سمیٹ لیا۔ اُس کی وہ تھوڑی سی شرماہٹ اپنی سی لگی۔ ہم نے لگاتار ایک دوسرے کو چومنا شروع کیا، چومتے ہی رہے۔

اُس کے بعد کئی بار دوپہر کی تنہائی میں وہ ہمارے یہاں آتی۔ میں بھی من ہی من میں اُس کا انتظار کرتا رہتا۔ وہ تب آتی جب گھر میں کسی کا آنا جانا نہ ہوتا، تو ہم دونوں کبوتر کے جوڑے کی طرح ایک دوسرے کو مضبوط حصار میں جکڑ لیتے۔ پھر کچھ دنوں بعد مالی مشکلات کے باعث ہم لوگوں نے اس گلی کا مکان چھوڑ دیا اور کہیں دور چلے گئے۔ تب سے وہ پھر کبھی مجھ سے نہیں ملی۔ چیتی آج اس دنیا میں ہے بھی یا نہیں، میں نہیں جانتا۔ لیکن اُس کے اُس پہلے (ملاپ؟) کی یاد آج بھی میرے دل کو گرماتی ہے۔

میری پڑھائی آگے جا رہی تھی۔ ہر سال جیسے تیسے پاس ہو کر میں اگلی جماعت میں جاتا تھا۔ انہی دنوں مجھے سکول کی کتابوں کے علاوہ کچھ پڑھنے کا شوق ہو گیا۔ دوستوں، پڑوسیوں اور سکول سے جو کتابیں مل سکتی تھیں، سبھی لا کر میں نے پڑھ ڈالیں۔ ایساپنیتی، پنج تنتر، ٹھکسین کی کہانیاں، الف لیلہ وغیرہ۔ تخیلاتی کتابیں پڑھنے سے زیادہ پڑھنے کا شوق پیدا ہو گیا۔ اسے پورا کرنے کے لیے میں کولھاپور کی ’نیٹو لائبریری‘ کا ممبر بن گیا۔ دکھی کتابیں پڑھ کر میرا من بہت دکھی ہوتا۔ اِس لیے کتاب پڑھنا شروع کرنے سے پہلے میں دیکھ لیتا، اُس کا اختتام کیسے کیا گیا ہے اور اگر دکھی ہو تو بنا پڑھے واپس لوٹا دیتا۔ میں کیا پڑھتا ہوں، اِس پر میری ماں کا باریکی سے دھیان برابر رہتا۔ وہ ایک جماعت انگریزی بھی پڑھے ہونے کی وجہ سے میری لائی ہوئی کتابوں کے کچھ صفحے پلٹ کر ضرور دیکھ لیتی۔ من چلے ہیجانی ناولوں کا سایہ بھی مجھ پر پڑنے نہیں دینا چاہتی تھیں۔

رامائن، مہابھارت، بھگوت وغیرہ مذہبی کتابیں بھی میں نے پڑھ ڈالی تھیں۔ ہری نارائن آپٹے کے مقصدی شِوکالین (مذہبی) ناول بڑے چاؤ سے پڑھ کر پورے کیے تھے۔ دکھی کہانیوں اور ناولوں کو دور سے ہی سلام کرنے والا میں، ہری نارائن آپٹے کا ’’لیکن دھیان کون دیتا ہے؟‘‘ (پن لکشات کون گیتو؟) ناول جو سماج کے سلگتے مسائل پر مبنی دل کو چھو لینے والی دکھی کہانی ہے، بغور آخر تک پڑھ گیا۔ بیواؤں کا سر منڈوانا، جرٹھ کماری ویواہ (ادھیڑ عمرعورت کی شادی)، عورتوں کی خواندگی وغیرہ مسائل کو افادی ڈھنگ سے چھو لینے والا یہ ناول کئی سالوں تک میرے من میں آسن جمائے رہا۔ ’’چار آنے کتھا مالا‘‘ میں چھپنے والی ’سنہری گروہ‘ کہانیاں پڑھنے میں مجھے کافی لطف آتا تھا۔ ہر روز میں بلاناغہ بلونت کولھاپور کا ’’سندیش‘‘ اور مشہور بال گندھرو تلک کا ’’کیسری‘‘ برابر پڑھتا رہتا تھا۔ انھیں یا تو لائبریری سے لا کر پڑھتا یا پڑوسیوں سے مانگ کر۔ ’سندیش‘ میں ہمیشہ سنسنی خیز خبریں اور چٹ پٹے مضمون ہوا کرتے تھے۔ ’کیسری‘ میں علمی اور عصری سیاست پر مبنی مضمون ہوا کرتے تھے۔ اُن مضامین اور سیاست کا راز اپنی سمجھ میں کوئی خاص نہیں آتا تھا، لیکن پھر بھی ’کیسری‘ معمول کے مطابق پڑھتا تھا۔

کچھ اور بڑا ہو جانے پر میں نے وشنو شاستری چِپلونکرکے مضامین، تلک کے گیتا رہیسے (گیتا کا راز)، استقامت کے ساتھ پورا پڑھ لیا۔ اِن کتابوں میں لکھی باتیں پوری طرح میری سمجھ میں تب تو نہیں آتی تھیں۔ پھر بھی انجانے میں گیتا کا درشن (فلسفہ) کہیں جڑ پکڑ گیا۔ کُرمنیے وادھی کراستے ماپھایشو کداچن (’’کام کرنا تمھارے بس میں ہے، اس کا پھل تمھارے بس میں نہیں اس لیے اپنا فرض نبھاؤ اور انجام ایشورپر چھوڑ دو‘‘) کی سیکھ میرےکورے من پر کافی گہری چھاپ نقش کر گئی۔

ان اچھے گرنتھوں کی طرح میرے جسم کی ساخت بناوٹ کے برعکس نتیجہ خیز، عجیب عجیب کتاب بھی ان دنوں میرے ہاتھ لگی۔ لائبریری کی کیٹلاگ میں ایک ویدِک طبی گرنتھ تھا۔ میں نے کافی جوش سے پڑھنے کے لیے اُسے لے لیا۔ لیکن یہ کہ گرنتھ میں جن روگوں کا جائزہ لیا گیا تھا، اُن میں ایک سے زیادہ روگوں کی کچھ نہ کچھ علامات میرے جسم میں موجود ہونے کا احساس مجھے ہونے لگا۔ مجھے یقین ہونے لگا کہ وہ تمام بیماریاں مجھے ہو گئی ہیں۔ میرے چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگیں۔ رنگت پھیکی پڑنے لگی۔ وزن گھٹنے لگا۔ روز بہ روز صحت گرنے لگ گئی۔ میری طبیعت خراب پا کر ماں نے مجھے ہومیوپیتھک ڈاکٹر پرابھاولکر کے پاس جانے کے لیے کہا۔ میرے پورے خاندان کو وہ ڈاکٹر بغیر فیس کے دوائیاں دیتے تھے۔

میں پرابھاولکر جی کے پاس گیا۔ انھوں نے میری صحت کا چھی طرح معائنہ کیا اور حیرت سے پوچھا، ’’کیوں رے، آخر تمھیں ہو کیا گیا ہے؟‘‘ میں نے کافی سنجیدگی سے انھیں اپنا درد بتایا اور یہ بھی بتا دیا کہ لائبریری سے لائے گئے اس گرنتھ میں بیان کردہ تمام بیماریوں سے میں روگی ہوں، ایسا مجھے ہر دن لگتا ہے۔ پرابھاولکر جی نے اچھی طرح سے دیکھا بھالا، پرکھا اور بتایا، ’’تمھیں کوئی بیماری نہیں ہے۔ ایک کام کرو، وہ جو کتاب لے آئے ہو نا تم۔ اُسے پہلے پھینک دو، اُس میں تم نے جو کچھ پڑھا ہے، پوری طرح بُھلا دو۔ تمھاری اِس بیماری کی اور کوئی دوا نہیں ہے، سمجھے؟‘‘

میں گھر واپس آ گیا۔ اس گرنتھ کو لائبریری میں واپس پہنچا دیا۔ لیکن اُس میں جو کچھ پڑھا تھا، اُسے بھلانے میں مجھے لگ بھگ ایک سال لگ گیا۔ پھر میری صحت دھیرے دھیرے ٹھیک ہونے لگی۔ تبھی ڈیکن سنیما کے مالک آنندراؤ پنیٹر اور واشیکر کے درمیان کچھ اَن بَن ہو گئی۔ واشیکر نے یہ کیا کہ تھیٹر میں لگی مشینری ہٹا کر سنیما کو کسی دوسرے گاؤں لے جایا جائے۔ ہمارے باپو اور واشیکر اچھے مِتر تھے۔ باپو نے میرے دادا کو سنیما کا انجن، پروجیکٹر وغیرہ کا کام سِکھانے کے لیے اُن کے پاس بھیج دیا۔

اِدھر ہماری کریانہ دکان کا دیوالہ نکلنے کو تھا۔ لوگوں کے پیسے چکانے میں دیری ہو رہی تھی۔ باہر پیٹرومیکس میں سے پانچ چھ خراب ہو گئے تھے۔ نتیجتاً وہ دھندا بھی ٹھیک سے چل نہیں رہا تھا۔ کوئی اور کام دھندا کرنا ضروری ہو گیا تھا۔ ڈیکن سنیما کے مالک واشیکر نے باپو کو کچھ کام دینا چاہا۔ باپو سے انھوں نے جاننا چاہا کہ کیا وہ ہُبلی میں اُن کے سنیما میں لیکھاجوکھا (حساب کتاب) لکھنےاور مارکیٹ لیڈر کا کام کرنا پسند کریں گے؟ باپو نے آج تک ہمیشہ خودمختار کاروبار ہی کیا تھا، سچ پوچھا جائے تو نوکری ان کے بس کا روگ نہیں تھا۔ پھر بھی شاید ہم سب کا خیال کر، انھوں نے ہُبلی جانا قبول کیا تھا۔

باپو نے کریانہ مال کی وہ دکان بیچ دی۔ جو رقم آئی اس میں سے لوگوں کا جو تھوڑا بہت پیسہ دینا تھا، دے دیا۔ ڈیکن سنیما میں نوکری کرنے وہ ہُبلی چلے گئے۔ ہمارا گھروندہ بکھر گیا۔ دادا پہلے ہی دوسرے گاؤں میں سنیما کی نوکری کرنے چلا گیا تھا۔ وہ وہاں بجلی پیدا کرنے والی مشین چلاتا اور سنیما چالو ہونے پر اُس کے سین پر پیانو بجاتا۔ ولایتی خاموش فلموں میں دی جانے والی معلومات انگریزی میں ہوا کرتی تھیں۔ عام ناظرین کی سمجھ میں وہ نہیں آ پاتیں۔ دادا اُن کا مراٹھی ترجمہ کر تھیٹر میں زوردار آواز میں اُن کی جانکاری دیتا۔ باپو اور دادا کو جو تنخواہ ملتی تھی اُس میں کھانے پینے اور رہائش کا نظام بھی شامل تھا، اس لیے کل تنخواہ میں سے اپنے خرچ کے لیے رکھ کر باقی سارا پیسہ وہ ہمارے لیے کولھاپور بھیج دیتے تھے۔ ہُبلی سے آنے والے پیسوں میں سے ہمیشہ ضروری پیسے ہی ہم لوگ گھر میں رکھتے۔ باقی سارا پیسہ لوگوں کا قرض چُکتا کرنے میں خرچ ہو جاتا۔ ماں تو اب بہت زیادہ محنت کرنے لگی تھیں۔ ہمارے نانا ہر روز کچہری جاتے، لیکن کبھی کبھار ہی ایک آدھ روپیہ کما لاتے۔ گھر آتے ہی فوراً وہ سب کاموں میں ماں کا ہاتھ بٹانے میں جٹ جاتے۔ میں بھی جو مجھ سے ہو سکے اپنی ماں کی مدد کیا کرتا۔ حالت اتنی بری ہونے کے باوجود میری اور میرے تینوں چھوٹے بھائیوں کی تعلیم جاری تھی۔

میں اب ساتویں میں تھا۔ ہماری کلاس اوپری منزل پر لگا کرتی تھی۔ کلاس کے باہر ہی چھجا بنا تھا، لیکن اُس میں کوئی دیوار یا جافری نہیں لگی تھی۔ ایک دن کی بات ہے، پتا نہیں کس دُھن میں میں کسی سے باتیں کرتے الٹا پیچھے پیچھے جا رہا تھا۔ ہمارے ایک گروجی واسو نانا کُلکرنی اُدھر ہی سے جا رہے تھے۔ انھوں نے کہا، ’’گدھے! نیچے گرنا ہے کیا؟‘‘ کہتے ہوئے بائیں کنپٹی پر اتنی زور سے چانٹا مارا کہ میرا کان زخمی ہو گیا اور بعد میں تو بہنے بھی لگ گیا۔ کُلکرنی جی کا کس کر مارا ہوا وہ چانٹا آج تک مجھے اچھی طرح یاد ہے، کیونکہ تبھی سے بائیں کان سے میں کچھ اونچا سننے لگا ہوں۔
میٹرک کی کلاس پاس آتی جا رہی تھی۔ اُسی وقت مجھے سردرد کی بیماری ہو گئی۔ ڈاکٹروں نے کچھ سال تک عینک لگانے کی صلاح دی۔ یونیورسٹی کا انٹری ٹیسٹ ہو گیا۔ اُس میں سنسکرت میں ہم فیل ہو گئے۔ ہمارے سنسکرت کے پرچے واسو نانا کُلکرنی گروجی نے ہی چیک کیے تھے۔ میرے من میں بیکار ہی ایک بچگانہ خیال آ گیا کہ ہو نہ ہو، انھوں نے جان بوجھ کر مجھے فیل کیا۔ جیسا کہ اُن دنوں رواج تھا، انٹری ٹیسٹ میں فیل ہونے والے طالب علم کو میٹرک کی کلاس کا فارم نہیں دیا جاتا تھا اور میری سکول کی تعلیم ختم ہو گئی۔

تب تک ماں نے باپو کا کافی قرض اتار دیا تھا۔ جن چند لوگوں کا پیسہ دینا باقی تھا۔ انہیں پورا یقین تھا کہ باپوان کاپیسہ ایک نہ ایک دن ضرور چکا دیں گے، کھا نہیں لیں گے۔ ایسی حالت میں ایک دن باپو کا ہُبلی سے خط آیا۔ انھوں نے ہم سب کو ہُبلی بُلا لیا تھا۔ ماں نے سارا سامان بٹورا اور باقی لین داروں کو یقین دہانی کرا، کہ ہُبلی سے اُن کا پیسہ ضرور بھیج دیں گے، ہم سب کولھاپور سے رخصت ہوئے۔

اُس حالت میں بھی، ہم سب پھر سے ایک ہی جگہ پر آ گئے، اِس کی راحت ہم سب نے محسوس کی۔ ہمارا ہُبلی کا مکان بہت ہی چھوٹا تھا۔ دادا تو تھیٹر میں ہی سوتا اور باقی ہم لوگ ایک دوسرے سے کافی سٹ کر ہاتھ پاؤں سمیٹے جیسے تیسے ایک ہی کمرے میں سو لیتے تھے۔ ہُبلی میں مراٹھی زبان بولنے والوں کی تعداد بہت ہی کم تھی۔ زیادہ تعداد میں لوگ کنّڑ ہی بولتے تھے۔

کچھ دنوں بعد خبر ملی کہ محکمۂ ڈاک میں کلرکوں کی نوکری کے لیے ہُبلی میں امتحان لیا جانے والا ہے۔ اُس میں پاس ہونے والوں کو سرکار میں مستقل نوکری ملنے والی تھی۔ اس امتحان میں بیٹھنے کا میں نے فیصلہ کیا۔ کافی محنت کر اُس کے لیے تیاریاں کیں۔ کچھ دنوں بعد رزلٹ آیا۔ میں بالکل فیل ہو گیا۔ پھر ایک بار فیل! میٹرک کا امتحان دینے کے لیے سکول نے مجھے نااہل ٹھہرا ہی دیا تھا، اب محکمۂ ڈاک نے بھی مجھے نالائق قرار دیا۔ اندر ہی اندر میں ٹوٹ چکا تھا۔

کچھ دن یوں ہی بیکار بِتائے۔ ایک دن باپو نے مجھ سے پوچھا، ’’یہاں ہُبلی میں ریلوے کی ایک بڑی ورکشاپ ہے۔ اُس میں کام کرنے والے ایک بڑے افسر میری پہچان والے ہیں۔ اُن کی سفارش سے اُس ورکشاپ میں فٹر کی نوکری تمھیں مل سکتی ہے، محنت بھی کافی کرنی پڑے گی۔ تم کرو گے نا فٹر کا کام؟‘‘
’’فٹر کا ہی کیوں؟ کسی جھاڑ ووالے کا کام ہو تو وہ بھی کرنے کو میں تیار ہوں،‘‘ میں نے جواب دیا۔

باپو نے کوشش کی۔ ریلوے ورکشاپ میں فٹر کے کام پر مجھے نوکری مل گئی۔ تنخواہ تھی روز کے آٹھ آنے۔ ہر روز میں صبح سات بجے کام پر حاضر ہو جاتا۔ ساڑھے گیارہ بجے ایک بھونپو بجتا۔ وہ کھانے اور آرام کا شارہ ہوتا۔ میں فوراً دوڑ کر گھر جاتا، باجرے کی روٹی سبزی کھا کر پھر لگ بھگ دوڑتے بھاگتے لوٹ بھی آتا، اور ساڑھے بارہ بجے کام پر حاضر ہو جاتا۔ شام چھ بجے تک کام جاری رہتا۔

اِس طرح دن بھر کام کرنے کے بعد ہر روز رات میں ڈیکن سنیما کے دروازے پر ڈورکیپر کا کام بھی میں کیا کرتا۔ اس کام کا مجھے کوئی پیسہ ویسہ نہیں ملتا تھا۔ فائدہ اتنا ہی تھا کہ سبھی فلمیں مفت میں دیکھنے کو مل جایا کرتی تھیں۔ یہیں میں نے ایڈی پولو وغیرہ اداکاروں کی خاموش فلمیں بالترتیب دیکھی تھیں۔ ان فلموں میں اکثر گھڑدوڑ، پستول بازی، مار پیٹ وغیرہ کے منظروں کی بھر مار ہوا کرتی تھی۔ کبھی کبھاربھولے سے ایک آدھ بڑھیا جذباتی فلم بھی دیکھنے کو مل جایا کرتی تھی۔

اسی ڈیکن سنیما میں ہی میں نے داداصاحب پھالکے کی بنائی اور ڈائریکٹ کی گئی ’’لنکادہن‘‘، ’’بھسما سُر موہنی‘‘، ’’کرشن جنم‘‘ بھی دیکھی تھیں۔ اس سے پہلے کولھاپور میں میں نے پھالکے جی کی ’’ہیر چندر‘‘ نامی خاموش فلم بھی بڑی عقیدت سے دیکھی تھی۔ مجھے وہ بہت اچھی لگی تھی۔ اُس میں عورتوں کے کردار مردوں نے نبھائے تھے۔ ولائتی فلموں میں عورتوں کا کردار عورتیں ہی کیا کرتی تھیں اور انھیں دیکھنے کی عادت پڑجانے کی وجہ سے ’’ہیر چندر‘‘ خاموش فلم کی یہ بات اتنی بھا نہیں سکی تھی۔ لیکن یہ تو ماننا ہی پڑے گا کہ اُن کے معجزوں پر مبنی حیرت انگیز باتوں کو دکھانے والی خاموش فلمیں لوگوں کے ذہنوں پر چھا گئی تھیں، حاوی ہو گئی تھیں۔ کہتے ہیں، بمبئی میں ’’لنکادہن‘‘ دکھائی گئی، تب تو اتنا پیسہ ملا کہ گاڑیاں بھر بھر کر ماہانہ پیسہ لے جایا گیا تھا۔ اُس کے بعد بھی ان کی کئی فلمیں بہت ہی کامیاب رہی تھیں۔ پھالکے جی اُن گاؤوں میں جہاں تھیٹر نہیں ہوتے تھے، اپنا پروجیکٹر لے کر جاتے اور لوگوں کو سنیما دکھاتے تھے۔ اُن کی انہی کوششوں کے نتیجے میں عوام میں تفریح کے اچھے ذریعے کے روپ میں سنیما کے لیے ایک قسم کے تجسس اور کشش کا آغاز ہو گیا تھا۔

ریلوے ورکشاپ میں جلد ہی چیٹلے، اردھ گول آکار، گول آکار، اور دیگر چھوٹے موٹے قسم کی سٹیل ریتوں کی مدد سے ریلوے ڈبوں کے متنوع حصوں کو تراشنا، پالش کرنا وغیرہ کاموں میں ماہر ہو گیا۔ میری اِس ترقی کو دیکھ کر فورمین نے ریلوے یارڈ میں ریپئری (مرمت) کے لیے لائی گئی ویگنوں کے بفرز ٹھیک کرنے کے کام کی پوری ذمےداری مجھے سونپ دی۔ میری تنخواہ بڑھ گئی۔ اب ہر روز بارہ آنے ملنے لگے۔ میرا جوش بڑھا اور ویگنوں کے بفرز کو ٹھیک کرنے کے کام میں میں بڑے چاؤ سے جُٹ گیا۔

ایک دن ریلوے یارڈ میں ویگنوں کے بفر کی جانچ پڑتال کر خرابی کو ٹھیک کرتے وقت میں اکیلا تھا۔ پہلے دو ڈبوں کے بفرز دیکھ چکا۔ اُن کی سپرنگ کوائلز ٹھیک حالت میں تھیں۔ جو تھوڑی سی گڑبڑ تھی اُسے میں نے ٹھیک کر دیا اور تیسری ویگن کے پاس پہنچا۔ بڑی ہی خوداعتمادی سے اُس کے ایک بفر سپرنگ دیکھنے کے لیے لوہے کا وہ گولا دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر زور سے اندر کی طرف دبایا۔ لیکن اُس بفر میں سپرنگ تھے ہی نہیں، اس لیے میری انگیاں بفر میں پھنس کر زوروں سے کچلی گئیں۔ میں زور سے چیخ کر بےہوش ہو کر گر پڑا۔ میری چیخ سننے والا آس پاس کوئی نہیں تھا۔ دو تین گھنٹے بعد ہوش آیا تو دیکھا کہ میرے دائیں ہاتھ کی انگیاں خون سے لت پت ہو گئی ہیں۔ یارڈ سے ورکشاپ تک جیسے تیسے پہنچ گیا اور سُوجن کی وجہ سے پھولا ہوا ہاتھ فورمین کو دکھا کر گھر لوٹ آیا۔

اس حادثے کے بعد کافی دن مجھے بخار آتا رہا۔ انگیوں میں ہوئے زخموں کے گھاؤ بھرنے اور سوجن اترنے میں کافی دن لگ گئے۔ اس حادثے کے باعث میری شہادت کی انگلی کے پاس کی انگلی ٹیڑھی میڑھی ہو چکی ہے۔ ہُبلی ورکشاپ میں کیے کام کی یاد کے روپ میں آج بھی وہ ویسی ہی ٹیڑھی ہے۔

لیکن کئی دن بیمار رہنے کی وجہ سے میری ریلوے کی وہ نوکری جاتی رہی۔ میں پھر بیکار ہو گیا۔ انہی دنوں ڈیکن سنیما کے سامنے ایک مہاشے نے فوٹوگرافی کا سٹوڈیو مارڈن سائن بورڈ پنیٹنگ کی دکان کھولی تھی۔ باپو نے مجھے اُن مہاشے کے پاس دونوں کام سیکھنے کے لیے بھجوایا۔ وہاں ڈویلپنگ کے فن سے میرا پہلا رابطہ ہوا۔ فوٹو نکالنا، اُس کے شیشے دھونا، پرنٹ نکالنا، فوٹو ماؤنٹ پر چڑھانا وغیرہ، ساری باتیں میں دھیرے دھیرے سیکھ گیا اور انھیں اچھی طرح سے کرنے بھی لگا۔ بڑی بڑی دکانوں پر اُن کے نام کے جو فلیکس لگائے جاتے، انھیں میں اچھی طرح رنگنے بھی لگا تھا۔ دکان کا سارا کام سیکھ چکنے کے بعد بھی مہاشے مجھے تنخواہ تو دیتے ہی نہیں تھے۔ بلکہ مجھے سکھانے کے احسان کے بدلے دونوں وقت ہمارے یہاں روٹی کھانے کے لیے آ جمتے تھے۔ اپنی طرف سے میں گرہستی میں ایک پائی کی بھی شراکت نہیں کر پا رہا تھا، بلکہ الٹا میری تربیت کی وجہ سے گھر میں ایک اور آدمی کو کھلانے پلانے کا خرچ بڑھ گیا۔ اس کی چبھن میرے من کو کھائے جا رہی تھی۔

ایک دن ہم لوگوں کو معلوم ہوا کہ باپو اور ڈٰیکن سنیما کے مالک واشکیر میں ناراضی ہو گئی ہے۔ باپو نے سنیما کی نوکری چھوڑ دی۔ اُن کے ساتھ دادا کو بھی وہاں کی نوکری چھوڑنی پڑی۔ واشیکر، اُن کے خاندان، باپو اور دادا کا کھانا بنانے کے لیے ایک باورچی انھوں نے رکھا تھا۔ اُس کا بھی واشیکر کے ساتھ جھگڑا ہو گیا اور اُس نے بھی نوکری چھوڑ دی۔ لیکن اس کی صلاح بھی یہی تھی کہ باپو اور وہ دونوں مل کر ساجھے داری میں ایک ہوٹل شروع کریں۔ پیٹ پالنے کے لیے دوسرا کوئی چارہ نہ ہونے کی وجہ سے باپو نے اُس کا مشورہ مان لیا۔

باپو نے ہوٹل شروع کیا۔ اس سے آمدنی بھی اچھی ہونے لگی۔ ہم لوگوں کا کُنبہ پھر سے اچھے دن دیکھنے لگا۔ گاڑی پھر پٹری پر آ گئی۔ لیکن کچھ ہی دن بعد اُس باورچی کے من میں برائی جاگی۔ ایک دن لڑجھگڑ کر وہ چلا گیا۔ ہوٹل بند کرنے کی نوبت آ گئی۔

لیکن تب میری ماں کمر کس کر آگے آئی۔ بولی، ’’ہوٹل کے بند وَند کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ہوٹل کے سارے کھانے میں خود تیار کروں گی۔‘‘
باپو ماں کی طرف دیکھتے ہی رہے، بولے، ’’تم؟ تم ہوٹل کی کھانے پینے کی چیزیں بناؤ گی؟‘‘

ماں نے مضبوطی سے کہا، ’’جی ہاں! آپ ہوٹل کو چالو رکھیے۔ آخر گھر میں میں کھانا تو پکاتی ہی ہوں نا؟ وہی کچھ زیادہ لوگوں کے لیے یہاں پکا لوں گی۔ تھوڑا زیادہ وقت دوں گی۔ گھر میں اپنے پانچ بچوں کے لیے بناتی ہوں، ہوٹل میں آنے والے سب کو اپنے ہی بچے مان کر اُن کے لیے بھی بنایا کروں گی۔‘‘
سارے سنسار کی پرورش کرنے والی جیتی جاگتی جگن ماتا (دیوی ماں) بھوانی میری ماں کے روپ میں بولی تھی۔ باپو نے ہوٹل کو جاری رکھا۔ ماں تڑکے چار بجے اٹھتی اور تبھی سے کمر کس کام میں جُٹ جاتی۔ کھانے پینے کے سامان کی چیزیں اتنی مزیدار اور رسیلی بناتی کہ ہمارا ہوٹل پہلے سے بھی زیادہ اچھا چلنے لگا۔ سویرے چار بجے سے لے کر رات دس بجے تک چولھے کی آنچ میں تپ کر لال لال بنا اُس کا چہرہ، اور کانوں کے پیچھے سے اترتی پسینے کی دھار دیکھ کر میرے پیٹ میں بل پڑتے۔ ماں کی اتنی ساری محنت لاچار ہو کر دیکھتا، دیکھتا ہی رہ جاتا۔ اتنی محنت کرنے کے باوجود ہم نے ماں کو کبھی یہ کہتے نہیں سُنا، تھک گئی رے بھیا، اب یہ سب مجھ سے نہیں ہوتا! کئی بار رات میں فوٹوگرافی کے سٹوڈیو سے لوٹ آنے کے بعد میں ماں کے پاؤں دبانے بیٹھتا۔ اتنی ہی اُس تھکے ہوئے جسم کی سیوا ہو پاتی!

کچھ دنوں بعد میرا خالہ زاد بھائی بابو (بابوراؤ پینڈھارکر) بابوراؤ پینٹر کی کولھاپور میں بنائی ’’سیرنگری‘‘ نامی خاموش فلم ڈیکن سنیما میں دکھانے کے لیے ہُبلی آیا۔ بابوراؤ پنیٹر کی مہاراشٹر فلم کمپنی میں منیجر تھا (میرا کزن) بابوراؤ۔ جوئے میں ہارے پانڈو خفیہ طور پر وِراٹ راجا کے محل میں بھیس بدل کر رہتے ہیں، مہا بھارت کے اِس ایک واقعے پر وہ فلم بنائی گئی تھی۔ اِس فلم میں عورتوں کے کردار عورتوں نے ہی کیے تھے۔ بابوراؤجی پینٹر نے فلم کی ڈائریکشن بڑی سوجھ بوجھ اور اُپج سے کی تھی۔ اُس میں فنکاری بھی کافی تھی۔ سبھی کی اداکاری بھی اتنی بَڑھیا تھی کہ سبھی کردار جاندار اور سچ مچ کے لگتے تھے۔ خاص فخر کی بات یہ تھی کہ فلمسازی کے لیے بابوراؤ جی پینٹر نے کمال دیسی کیمرا بنایا تھا۔ پنیٹرجی کے خود بنائے ہوئے کیمرے پر فلمائی گئی یہ فلم پونا میں جانے مانے تلک جی نے دیکھی اور انھوں نے اس فلم کی، اور اُس مقامی کیمرے کی بہت بہت تعریف کرتے ہوئے اُسے ایک گولڈمیڈل اور تصدیقی خط سرٹیفیکٹ دیا تھا۔

میں نے اس فلم کو باربار یکھا۔ سوچا، بابو کے ساتھ میں بھی چلا جاؤں مہاراشٹر فلم کمپنی میں۔ فوٹوگرافی تو میں نے سیکھ ہی لی تھی۔ لہٰذا ہمت اکٹھی کر میں نے بابو سے پوچھا، ’’بابو، کیا تمھاری فلم کمپنی میں مجھے کچھ کام مل سکتا ہے؟ بات یہ ہے کہ صرف ایک وقت کا کھانا مل جائے تو اُتنے پر ہی ہر کام کرنے کے لیے میں تیار ہوں۔‘‘

بابو نے کچھ سوچ کر بتایا، ’’ٹھیک ہے، تم کولھاپور آ جاؤ۔ کمپنی شِواجی تھیٹر میں ہے۔ وہاں آ کر مجھے ملنا۔ میں تمھیں بابوراؤ پینٹر کے سامنے کھڑا کر دوں گا۔ وہ تمھیں دیکھیں گے، بس!‘‘
’’اس کا مطلب تو یہ رہا کہ بابوراؤ پینٹر مجھے دیکھ کر پاس یا فیل کر دیں گے، ہے نا؟‘‘

بابو مجھے ڈھارس بندھاتے ہوئے بولا، ’’بھئی، ڈرتے کیوں ہو؟ تم آؤ تو سہی کولھاپور۔‘‘ اتنا کہہ کر وہ سنیما گھر میں چلا گیا۔ سنیما کے دروازے پر کھڑے کھڑے میں سوچنے لگا، بابوراؤجی پینٹر مجھے دیکھیں گے۔ اُن کی نظر کے امتحان میں بھی کیا میں پاس ہو پاؤں گا؟ کہتے ہیں، کوئی بات دو بار ہوئی تو تیسری بار بھی ضرور ہو جاتی ہے۔ دو بار تو میں فیل ہو چکا تھا، اب تیسری بار ہونے جا رہی ہے، اس امتحان میں بھی میں فیل رہا تو؟ اس کا تصور بھی میرے لیے ناقابل برداشت تھا۔ ہاتھ جوڑ کر، آنکھیں بند کرتے ہوئے میں بڑبڑایا: ’’اب کی بار تو مجھے فیل مت کرنا میرے پربھو!‘‘

’’سیرنگری‘‘ فلم کو دکھانے کے بعد بابو فلم کے ڈبے لے کر کولھاپور واپس چلا گیا۔ اُسے گئے دو تین ہفتے بیت گئے۔ تب میں نے باپو سے مہاراشٹر فلم کمپنی میں کام کے لیے جانے کی بات چھیڑی۔ انھوں نے ہاں یا نا کچھ بھی نہیں کہا۔ شاید اب تک وہ اچھی طرح جان چکے تھے کہ میں جو بات ٹھان لیتا ہوں، پوری کر کے ہی رہتا ہوں۔ باپو نے میرے ہاتھ پر ریلوے کا ٹکٹ اور پندرہ روپے رکھے اور بولے، ’’اور پیسوں کی ضرورت پڑ جائے تو لکھنا۔‘‘ ان سے پیسے لیتے وقت مجھے کافی عجیب سا لگا۔

چلتے وقت میں نے باپو کے پاؤں میں ماتھا ٹیکا، ماں کے بھی پاؤں پڑا۔ لگاتار کام کرتے رہنے کی وجہ سے کھردری ہتھیلی بڑی مامتا سے میرے چہرے پر گھما کر ماں نے مجھے چوم لیا۔ ہُبلی سے کولھاپور جانے والی ریل میں بیٹھتے وقت میں نے پکا ارادہ کر لیا کہ اب جو بھی ہو، جو بھی کام کرنا پڑے، اپنے پاؤں پر کھڑا ہو کر ہی چین لوں گا۔ زندگی کے دن جیسے بھی گزارنا پڑے، باپو سے پیسے نہیں منگواؤں گا! اِسی سوچ وچار میں ایسا الجھ گیا کہ کولھاپور کب آ گیا پتا ہی نہ چلا۔ گاڑی صبح چھ بجے کولھاپور پہنچی۔ سٹیشن کے باہر صرف ایک ہی تانگہ کھڑا تھا۔ تانگے والا بوڑھا تھا۔ اُس سے میں نے پوچھا، ’’تانگے والے بابا، مجھے شِواجی تھیٹر تک لے جاؤ گے؟‘‘

’’ضرور، کیوں نہیں! آؤ بیٹھو، چار آنہ لوں گا۔‘‘
’’چار نہیں، دو آنے دوں گا۔‘‘
’’اچھا اچھا، بیٹھو بچے۔ اپنا مکان بھی اُدھر ہی ہے۔ آؤ بیٹھو۔‘‘
میں تانگے میں بیٹھ گیا۔ تانگہ چلنے لگا۔ میں تو شِواجی تھیٹر پہنچنے کے لیے بےتاب ہو رہا تھا لیکن تانگہ تو چیونٹی کی رفتار سے چلتا ظاہر ہو رہا تھا۔ میں نے تانگے والے بابا سے کہا، ’’ذرا تیز دوڑائیے نا تانگے کو۔‘‘
’’ارے بچے، دو آنے میں گھوڑا تیز کیسے بھاگ سکتا ہے؟‘‘
میں نے ہنس کر کہا، ’’گھوڑا تھوڑے ہی جانتا ہے، دو آنے ملے یا چار۔‘‘
’’پر وا کو مالک تو جانت ہے نا؟‘‘ (پر اس کا مالک تو جانتا ہے نا؟) ایسا کہہ کر اُس نے زور سے ٹہوکا لگایا اور گھوڑے کو ایک ہنٹر جما دیا۔

تانگہ سرپٹ بھاگنے لگا۔ میرے دماغ میں سوچوں کا چکر بھی اتنی ہی رفتار سے چلنے لگا۔ ’’سیرنگری‘‘ کا منظر ذہن میں آ گیا۔ میں مہاراشٹر فلم کمپنی میں کسی نہ کسی کام پر لگ گیا ہوں۔ نئی فلم کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ میں وہاں سب کو میک اپ کر رہا ہوں۔ اپنا بھی میک اپ کر اُس فلم میں کبھی بہادر سپاہی کا، تو اُس سے اگلی فلم میں راجا کے بیٹے کا رول ادا کر رہا ہوں۔ میری اکڑ اور ادا کو بابو فخر کے ساتھ دیکھ رہا ہے۔ بابوراؤ پینٹر میرے کام سے خوش ہو کر میری پیٹھ تھپتھپا رہے ہیں، شاباشی دے رہے ہیں اور۔۔۔

اور تبھی زور سے جھٹکا لگا۔ میں ہڑبڑا کر ہوش میں آ گیا۔ تانگہ رُک گیا تھا اور تانگے والا کہہ رہا تھا، ’’جی، اب اُتر جاؤ چھوٹے بابو، شِواجی تھیٹر آن پہنچے ہیں۔‘‘

تانگہ شِواجی تھیٹر کے دروازے پر ہی کھڑا تھا۔ میں نے تانگے والے کو پیسے دیے، اپنا صندوق اور بستر لے کر نیچے اُترا اور بڑے جوش اور اُمنگ کے ساتھ تھیٹر کے پورچ سے ہوتا ہوا اندر جانے لگا۔ نظر کچھ اونچی اٹھی اور پاؤں ایک دم تھم گئے۔ ایک بڑی سی تختی پورچ کی چھت سے نیچے لٹک رہی تھی۔ اُس پر لکھا تھا: ’’بنا اجازت کے اندر آنا منع ہے۔‘‘

(جاری ہے)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لالٹین پر وی شانتا رام کی خود نوشت سوانح کا ترجمہ سہ ماہی “آج” کے بانی اور مدیر “اجمل کمال کے تعاون سے شائع کیا جا رہا ہے۔ اس سوانح کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

[blockquote style=”3″]

انتساب: میں ترجمے کا یہ عمل دو ہستیوں کے نام کرتی ہوں، اپنے دادا ابو شوکت علی کہ انہوں نے اس ایلس کی راہ کے کانٹے چنے اور اپنی ہندی گرو مسز شبنم ریاض کہ جنہوں نے ایلس کو ایک نئی دنیا کا راستہ دیکھایا۔

[/blockquote]

Categories
نان فکشن

شانتا راما باب 3: گھنگھریالے بالوں کی بغاوت (ترجمہ: فروا شفقت)

[blockquote style=”3″]

’’شانتاراما‘‘ برصغیر کی فلم انڈسٹری کے بانیوں میں شامل وی شانتا رام کی آپ بیتی ہے جو انھوں نے اپنی آخری عمر میں مراٹھی میں بول کر لکھوائی اور چھپوائی تھی۔ بعد میں اس کا ہندی روپ شائع ہوا۔ شانتارام جن کا پورا نام شانتارام راجارام وانکودرے تھا، 18 نومبر 1901 کو پیدا ہوے اور کو پیدا ہوے اور 30 اکتوبر 1990 کو وفات پائی۔ مہاراشٹر کے شہر کولھاپور میں، جو برٹش راج کے دور میں ایک رجواڑے یا نوابی ریاست کا صدرمقام تھا، انھوں نے خاموش فلمیں بنانے سے آغاز کیا اور بعد میں پونا اور بمبئی میں مراٹھی اور ہندی کی بےشمار فلمیں بنائیں۔ اس طرح شانتارام کی لمبی پیشہ ورانہ زندگی کی دلچسپ داستان اس خطےکی فلمی دنیا کی تاریخ بھی ہے۔ اس تاریخ کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے کرداروں میں مختلف علاقوں، ذاتوں، زبانوں، طبقوں اور پیشوں کے لوگ شامل ہیں جنھوں نے مل کر ایک رنگارنگ منظرنامہ تیار کیا جس کی جھلکیاں اردو میں سعادت حسن منٹو کی ان تحریروں میں ملتی ہیں جن کا پس منظر 1940 کی دہائی کا بمبئی شہر اور وہاں کی فلمی دنیا ہے۔ ’’شانتاراما‘‘ میں اس دنیا کے رفتہ رفتہ بننے اور پھیلنے کی کہانی بڑے بےتکلف اور دلچسپ اسلوب میں بیان کی گئی ہے۔ شانتارام کی معروف ہندی فلموں میں سے چند کے نام یہ ہیں: ’’ڈاکٹر کوٹنِس کی امر کہانی‘‘ (1946)، ’’امر بھوپالی‘‘ (1951)، ’’جھنک جھنک پایل باجے‘‘ (1955)، ’’دو آنکھیں بارہ ہاتھ‘‘ (1957)۔ ’’شانتاراما‘‘ کا اردو روپ ہندی متن کی بنیاد پر فروا شفقت نے تیار کیا ہے جو گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں پی ایچ ڈی سکالر ہیں۔

[/blockquote]

’’شانتارام، اٹھاؤ اپنا سامان۔ تمھیں تمھارے رہنے کی جگہ دکھاتا ہوں۔‘‘

گنپت راؤ ٹینبے کا وہ حکم سن کر میں ہوش میں آیا۔ میں گندھرو ناٹک منڈلی کی رہائش گاہ پر گنپت راؤ جی کے کمرے میں کھڑا تھا۔ باپو مجھے وہاں چھوٖڑ کر پہلے ہی چلے گئے تھے۔ اس ننھی سی عمر میں ماں اور باپو کے بغیر اتنی دور اِس سے پہلے کبھی نہیں رہا تھا۔ نم آنکھوں سے میں نے گنپت راؤ کی طرف دیکھا۔ لیکن آنسو اتنے بھر آئے تھے کہ اُن کی شکل ٹھیک سے صاف دکھائی نہیں دی۔ میری پیٹھ سہلاتے ہوے انھوں نے کہا، ’’دھت تیری، پاگل! تم رو رہے ہو؟ آؤ تمھیں دکھاتا ہوں، یہاں تمھاری عمر کے کتنے لڑکے رہتے ہیں!‘‘

میں ایک دم تن کر کھڑا ہو گیا۔ ناٹک میں آنے کا فیصلہ میرا اپنا ہی تو تھا، پھر یہ کیا ہو رہا ہے! نہیں نہیں! ایسے کام نہیں چلے گا۔ یہ سوچ کر میں نے فوراً اپنا پیٹی بستر اٹھایا۔ آنکھوں میں رُکے آنسو اندر ہی رہ گئے، چھلکے نہیں تھے۔

وہ مجھے ایک بڑے ہال میں لے گئے۔ وہاں میرے جیسے بہت سے لڑکے تھے۔ گنپت راؤ نے کہا، ’’بچو، یہ ہے شانتارام، اسے بھی اپنے ساتھ شامل کر لو!‘‘
میری ہی عمر کا ایک گورا سا لڑکا سامنے آیا۔ مسکرا کر اُس نے میرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اور بولا، ’’آؤ شانتارام، وہاں رکھو اپنا سامان۔‘‘ ایک خالی جگہ کی طرف انگلی سے اشارہ کر کے اُس نے کہا۔ وہاں میں نے اپنا بستر رکھا۔ اُس کے پاس ہی اپنا صندوق بھی رکھ دیا۔ اُس کمرے کے باقی لڑکے میری طرف بےتابی سے دیکھ رہے تھے۔ میری بغل میں ہی ایک دری بچھی تھی۔ میرا ہاتھ تھامنے والا وہ لڑکا اُس پر آ بیٹھا اور اِدھر اُدھر کی باتیں کرنے لگا۔ اس کا نام تھا گووند مُلگناوکر۔ وہ گووا کا رہنے والا تھا۔

شام ہو گئی۔ ہم سب لوگ کھانا کھانے گئے۔ کھانا پنڈتوں جیسا تھا۔ رات ہو گئی۔ کولھاپور سے پونا تک کے سفر سے کافی تھکان محسوس کر رہا تھا، لیکن من بے چین تھا۔ گھر کے سبھی لوگوں کی یاد ستا رہی تھی۔ کروٹیں بدلتے کب نیند آ گئی، پتا ہی نہیں چلا۔

آنکھیں ملتے ہوے سویرے نیند کھلی۔ گووند پکار پکار کر مجھے جگا رہا تھا۔ میں فوراً اٹھ بیٹھا۔ صبح کے معمول اور نہانے وغیرہ سے نپٹ کر دیگر لڑکوں کے ساتھ میں بھی تیار ہو گیا۔ تعلیم کی اطلاع دینے والی گھنٹی بجی۔ ہم سب لوگ جلدی جلدی رقص کی تعلیم کے لیے پہنچ گئے۔ رقص کے استاد مگن لال ہم سب لڑکوں سے ناٹک کے رقصوں کی مشق کرانے لگے۔ اُس دن تو میں ایک طرف بیٹھ کر سب کچھ دیکھتا رہا۔

رقص کی تعلیم ختم ہوتے ہوتے دوپہر ہو گئی۔ سب نے کھانا کھایا۔ ناٹک رات میں ہوتے تھے اور سب کو جاگنا پڑتا تھا۔ لہٰذا کمپنی کا اصول تھا کہ سب لڑکوں کو دوپہر میں لازمی سو لینا چاہیے۔ شام کو گیان کی تعلیم کا وقت تھا۔ سب کے ساتھ مِیں بھی حاضر ہو گیا۔ کمپنی میں گیان سکھانے کے لیے پنڈھرپورکر بابا آئے تھے۔ وہ مشہورموسیقار تھے۔ ناٹکوں میں گائیک کرداروں کے روپ میں بھی وہ کام کرتے تھے۔ میں اجنبی تھا۔ قدرتی طور پر انھوں نے مجھ سے بات چیت کی۔ حال پوچھا اور سوال کیا، ’’گانا جانتے ہو؟‘‘ میں نے ٹکا سا جواب دیا، ’’نہیں جانتا۔‘‘ اُن کے چہرے پر مایوسی چھا گئی۔ پھر بھی انھوں نے کہا، ’’چلو، گانا نہ سہی، سکول کی کوئی نظم تو آتی ہو گی نا؟‘‘ میں نے کہا، ’’جی ہاں۔‘‘ میرے خیال سے میں نے اچھے سُر میں، پورے من سے نظم گا کر سنانا شروع کی:

’’تو پے لاگی آس مہان
سُمتی دیجے دیانی دھان‘‘

سامنے بیٹھے لڑکے شروع میں تو کچھ دیر چُپ تھے، لیکن بعد میں سبھی مجھے دیکھ کر اپنی ہنسی دبانے کی کوشش کرتے دکھائی دیے۔ پنڈھرپورکر کے چہرے پر مایوسی صاف نظر آ رہی تھی۔ نظم پوری ہونے کے بعد انھوں نے کہا، ’’ٹھیک ہے، بیٹھو تم۔ تمھیں ایک دَم شروع ہی سے گانا سِکھانا پڑے گا۔ کوئی بات نہیں۔ آہستہ آہستہ سیکھ جاؤ گے۔‘‘

گانے کی تعلیم ختم ہوئی۔ رات کا کھانا کھانے کے بعد میں اور گووند اپنی اپنی دری پر پاؤں پسارے بیٹھے تھے۔ اُس رات ناٹک نہیں تھا۔ میں نے متجسس ہو کر گووند سے پوچھا، ’’گووند، سچ بتاؤ، میں باباجی کے سامنے نظم سنا رہا تھا، تب سبھی لڑکے ہنس کیوں رہے تھے؟ تم لوگوں کو میرا گانا اچھا تو لگا نا؟‘‘

مجھے ناخوش ہوتا دیکھ کر میرا ہاتھ تھامے اُس نے کہا، ’’لو، تم برا مان گئے۔ اِس میں برا ماننے کی بات ہی کیا ہے؟ تم مَن لگا کر گانا سیکھو، دھیرے دھیرے سے اچھا گانے لگ جاؤ گے۔ بھئی، گانا تو ایک ایسا علم ہے جسے کافی دِنوں تک سیکھتے رہنا پڑتا ہے، کیا سمجھے؟‘‘
پتا نہیں میں کیا سمجھا تھا، لیکن دھیرے بُدبُدا گیا، ’’ٹھیک ہے۔‘‘

اِس طرح کچھ دن بیت گئے۔ کمپنی کے ماحول میں گھلتاملتا گیا۔ اب باقی لڑکوں کی طرح میں بھی دھوتی باندھنے لگا۔ نیکر پہننا چھوڑ دیا تھا۔ بال بھی بڑھانے لگا تھا۔ رقص میں میں اچھی ترقی کرتا جا رہا تھا۔ سوال تھا تو صرف گائیکی کا! اس شعبے میں میری مَت (عقل) کہو یا گلا، پنڈھرپورکر بابا کی خواہش کے مطابق کام نہیں کر پا رہا تھا۔ سبھی لڑکوں کے ساتھ میں بھی پوری تندہی سے اچھا گانے کی پوری کوشش کرتا رہا، لیکن کئی بار ایسا ہو جاتا کہ باباجی کے اشارے پر سبھی لڑکے برابر رُک جاتے اورمیری ہی اکیلی آواز کسی سُر کی کھوج میں لٹکتی سنائی دیتی رہتی۔

کچھ دنوں بعد ’مان اپمان‘ ناٹک کرنے کا دن آیا۔ اس ناٹک میں آخر میں سبھی لڑکے ہاتھوں میں مالا لیے ’شاندار یہ ہار‘ گانا گاتے گروپ میں رقص کرتے تھے۔ اس گانے کے تھوڑے ٹکڑے میں نے اچھی طرح تیار کر لیے تھے۔ گانا بھی منھ زبانی یاد کر لیا تھا۔ باباجی نے کہا، ’’کورَس گانا ہے، باقی لڑکوں کے ساتھ اُن کے سُر میں سُر ملا کر، لیکن تم اسے ذرا ہلکے سُرمیں گانا، سمجھے؟‘‘

رات میں سب لوگ تیار ہونے لگے۔ میں بھی میک اَپ روم میں گیا۔ میک اَپ آرٹسٹ نے مجھے میک اَپ کرنا سکھایا۔ رنگ لگانے کے بعد ڈریسنگ روم کے ماسٹرجی نے میرے ہاتھوں میں ایک ساڑھی، چولی تھما دی اور بولے، ’’جاؤ جلدی سے باندھ کر آؤ۔‘‘

ساڑھی ہاتھ میں لیے میں ساکت رہ گیا۔ آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ اچھا خاصا مرد ہوں اور ساڑھی باندھوں؟ چھی! ساڑھی باندھ کر ہر جمعے کو جوگوا (بھیک) مانگنے کے لیے نکلنے والے ہیجڑے آنکھوں کے سامنے ناچنے لگے۔ مجھے ایک دم گِھن ہو آئی۔ ناٹک میں کام کرنے کی اُمنگ میں یہاں ساڑھی باندھنی پڑے گی، یہ تو میں نے بُھلا ہی دیا تھا۔ مجھے وہاں بُت بنا کھڑا دیکھ کر ڈریسنگ روم کے ماسٹر چلّائے، ’’بھئی جلدی تیار ہو کر آؤ۔ ابھی تم لوگوں کا داخلہ ہونے ہی والا ہے۔‘‘

میں ہوش میں آیا۔ تبھی سامنے سے گووند مٹکتا ہوا آیا۔ چار پانچ اور لڑکے بھی تیار ہو کر آ گئے۔ ہاتھ میں ساڑھی لیے صرف میں رہ گیا تھا۔ مجھے دیکھ کر گووند نے کہا، ’’کیوں بھئی، رو کیوں رہے ہو؟ آؤ میں باندھ دیتا ہوں تمھیں ساڑھی۔‘‘ جو جو ہووے بھاگ میں، دل و جان سے کر قبول!

میک اَپ ماسٹر نے ڈانٹ پلائی، ’’اے، آنکھیں مت ملو۔ میک اَپ بگڑ جائے گا۔‘‘ میک اَپ بگڑ جائے گا! مجھ پر اندر ہی اندر کیا بیت رہی ہے، کسی کو کوئی پروا نہیں!

مجھے ساڑھی بندھوا کر گووند باقی لڑکوں میں کھڑا ہو کر ناٹک کے توڑے ٹکڑے یاد کر رہا تھا۔ میں بھی باقی لڑکوں میں شامل ہو گیا۔
اینٹری آتے ہی ہم سب لوگ سٹیج پر پہنچ گئے۔ ’شاندار یہ ہار‘ یہ گیت ہاتھوں میں ہار لیے رقص کے لیے تال پر ختم ہوا۔ رقص کے آخر میں ہم لوگوں نے اپنے اپنے ہاتھوں کے ہاروں کو مخصوص شکل دے کر ’مان اپمان‘ کے حروف تیار کیے۔ ناظرین نے داد دے کر اپنی پسند ظاہر کرنے کے لیے تالیاں بجائیں۔
ناٹکوں کے پریوگ کے لیے ہم لوگ گاؤں گاؤں گھوم رہے تھے۔ رقص میں میری کارکردگی بہت ہی اچھی ہو رہی تھی۔ ایک ناٹک میں، اس کا نام اب ٹھیک سے یاد نہیں آ رہا، گووند ایک ٹھمری گایا کرتا اور اس پر میں رقص کیا کرتا تھا۔ ٹھمری کے بول تھے: ’دیکھو ری نا مانے شیام۔‘ رقص کی تعلیم کے وقت مگن لال ماسٹر دیگر لڑکوں سے ہمیشہ کہتے تھے، ’’ارے اس شانتارام کو دیکھا کرو، کتنی شان سے ناچتا ہے۔ اسی طرح سے لے تال میں ناچنا چاہیے!‘‘
کمپنی کے کچھ لوگ ہم میں سے کچھ لڑکوں کو ’مالک‘ کہہ کر پکارا کرتے تھے۔ اس کا راز کافی دنوں تک میں جان نہیں سکا۔ آخر اِس موضوع پر ایک آدمی سے پوچھا تو اس نے ہنس کر کہا:

’’ہم لوگوں کو کمپنی سے تنخواہ ملتی ہے اِس لیے ہم ہیں کمپنی کے نوکر۔ مالک کو کوئی تنخواہ نہیں ملتی اس لیے وہ ہیں مالک۔ آپ لوگوں کو بھی کمپنی تنخواہ نہیں دیتی، اس لیے آپ ہو گئے مالک!‘‘

گندھرو ناٹک منڈلی میں پہلے چھ ماہ تک مجھے کوئی تنخواہ نہیں ملتی تھی، صرف اوڑھنے بچھانے کے لیے چادریں، پہلے سے ہی طے کیے گئے کپڑے اور دو وقت کا کھانا، اتنا ہی ملا کرتا تھا۔

کمپنی کی رہائش گاہ پر مالک کے ساتھ ہم لوگوں کا کوئی خاص رابطہ نہیں ہوتا تھا۔ بال گندھرو کی مقبولیت اُن دنوں آسمان کو چھونے کی کوشش میں تھی۔ گووند راؤ ٹینبے مجھے کمپنی میں لے تو آئے تھے، لیکن میری ناٹک کی تربیت کی طرف انھوں نے خاص دھیان نہیں دیا تھا۔ لیکن چونکہ میں کچھ چست دکھائی دیتا تھا، گووند راؤ کی بیوی میرا زیادہ خیال رکھتی تھیں۔۔ میں بھی اُن کے کولھاپور والا جو تھا۔ وہ میرے لیے ممتا جتاتیں، تیج تہوار پر مجھے مٹھائیاں بھی کھلاتی تھیں۔ ویسے گندھرو ناٹک منڈلی میں کھانے پینے کی کمی نہ تھی۔ اُس میں بھرتی ہوا شخص چند دنوں میں ہی گول مٹول ہو جاتا تھا۔

ہمارے تیسرے مالک تھے گنپت راؤ بوڈس۔ مجھے اُن کی اداکاری سب سے زیادہ پسند تھی۔ ’شُکراچاریہ‘ کے کردار کے لیے وہ سفید داڑھی مونچھ لگوا لیتے تو ایک دم بڈھے رِشی لگنے لگتے۔ بڑی بڑی کالی اکڑباز مونچھیں لگاتے ہی ’مان اپمان‘ ناٹک کے لکشمی دھر بن جاتے۔ داڑھی مونچھیں لگوا کر نئے روپ اپنانے کے اُس جادوئی فن کو میں تجسس سے دیکھا کرتا۔ بال گندھرو کے سٹائل کو بھی بڑی باریکیوں کے ساتھ دیکھتا۔ کبھی کبھار چوری چھپے گنپت راؤ بوڈس کی طرح میں بھی مونچھیں لگا کر دیکھ لیا کرتا۔ اس کے لیے میک اَپ آرٹسٹ ماسٹر کی دو چار بار ڈانٹ بھی کھاتا تھا۔ اُن دنوں نئے ناٹک کے لیے تیار کیے جانے والے متنوع منظروں کے پردے، سین بدلتے ہی پیچھے کا پردہ بدلنے کا ہنر، تعلیم ماسٹر کی تعلیم کا طریقۂ کار وغیرہ، سبھی باتوں کا میں نے بالکل نزدیک سے معائنہ کیا۔

کمپنی بڑودہ آ گئی۔ بڑودہ نریش (راجہ) سیاجی راؤ گیکواڑ سے گندھرو ناٹک کمپنی کو سالانہ گرانٹ ملتی تھی۔ اپنے اشتہار میں کمپنی ’شریمنت سیاجی راؤ مہاراج، بڑودہ کی خاص پشت پناہی حاصل!‘ ایسا خصوصی طور پر لگایا کرتی تھی۔ بڑودہ کے ’وانکانیر‘ تھیٹر میں صرف مہاراج اور اُن کے خاندان کے افراد کے لیے گندھرو ناٹک منڈلی اپنے ناٹکوں کے خاص مظاہرے کیا کرتی تھی۔ اُن ناٹکوں کے لیے عام لوگوں کو داخلہ نہیں دیا جاتا تھا۔ ناظرین کے بیٹھنے کی جگہ کے بیچوں بیچ ایک موٹا پردہ کھڑا کیا جاتا تھا۔ اُس کے ایک طرف مہاراج اور راج خاندان کے دیگر مرد افراد اور دوسری طرف جالی دار پردے کے پیچھے مہارانی اور راج خاندان کی دیگر عورتیں بیٹھا کرتی تھیں۔ داسیاں بھی ناٹک دیکھنے آتیں اور ناٹک میں اچھا رنگ آنے پر سامنے والا جالی کا پردہ کھسکا کر مزے میں ناٹک دیکھا کرتی تھیں۔ مہاراج کے لیے دربار سے ایک خاص ملائم صوفہ لایا جاتا۔ ایک بار ناٹک شروع ہونے سے پہلے میں نے چوری سے اُس صوفے پر بیٹھ کے دیکھ لیا تھا۔ صوفہ بہت ہی نرم تھا۔ کسی نے بتایا تھا کہ اُس میں پروں کے گدے لگائے گئے ہیں۔ مہاراج کے لیے خاص روپ میں دربار سے لائے جانے والے اُس صوفے کے پاس ہی ایک گھنٹی لگی ہوتی تھی۔ ناٹک کا کوئی گیت یا بند پسند آ گیا، تب ناظرین میں سے کسی کو بھی تالیاں بجا کر داد دینے کی اجازت نہ ہوتی۔ پورے تھیٹر میں مرگھٹ جیسی شانتی چھائی رہتی۔ ایک دم سناٹا! لیکن مہاراج کو کوئی بند پسند آتا تو وہ سامنے والی اُس گھنٹی کا بٹن دبا دیتے۔ گھنٹی کی آواز وِنگ میں سنائی دیتی۔ اُسے سنتے ہی گائیک اداکار اُسی گیت کو پھر سے گاتا۔ بڑودہ کے لیے کیے جانے والے ناٹکوں کا دستور ایسا عجیب و غریب تھا۔

ہمارے بڑودہ قیام کے وقت مہاراج نے فرمائش بھیجی کہ اُن کی انّا صاحب کرِلوسکر کا ’شاکنتل‘ ناٹک دیکھنے کی خواہش مند ہے۔ انھوں نے حکم دیا کہ اُس ناٹک کو وہ پورا دیکھنا چاہتے ہیں تا کہ اُس میں سے کوئی حصہ کاٹا نہ جائے۔ ’شاردا‘، ’مرِچھ کٹِک‘ وغیرہ مشہور ناٹکوں کے لکھاری خود بہت ہی سخت نظم و ضبط کے تعلیم ماسٹر گووند بِلاس دیول کو اِس ناٹک کو ڈائریکٹ کرنے کے لیے مدعو کیا گیا۔ جلدی جلدی تعلیم شروع کی گئی۔ کمپنی کے مالک شری گنپت راؤ بوڈس نے اِس ناٹک میں مجھے شکنتلا کی سَکھی پری یامدا کا کردار دینے کا فیصلہ کیا۔ اُس سے پہلے میں رقص اور داسی کی کئی چھوٹے چھوٹے کردار کر چکا تھا، لہٰذا پریمدا کا کردار کرنے کا موقع ملے گا، اُس کی مجھے بہت خوشی ہوئی۔ مکالمہ (ڈائیلاگ) بولنے کی تعلیم گنپت راؤ بوڈس خود دیتے تھے۔ تعلیم کا اُن کا اپنا سٹائل کچھ نرالا ہی تھا۔ بوڈس جی کو کسی وید نے ہدایت دی تھی کہ آپ ہر روز کچھ دیر دھوپ میں سیر کرنے جائیے، تو وہ دھوپ میں چہل قدمی کرنے اور میں وانکانیر تھیٹر کی چھاؤں چھاؤں میں اُن کے ساتھ ٹہلتے ہوے زور زور سے اپنے ڈائیلاگ بولتا تھا۔ ڈائیلاگ کافی زور سے بولنے پڑتے تھے کیونکہ اُن دنوں تھیٹر میں مائیکروفون اور لاؤڈسپیکر کی سہولت نہیں ہوا کرتی تھی۔

ایک دن اچانک ہی ہماری تعلیم بند ہو گئی۔ میں نے چپ چاپ وجہ جاننے کی کوشش کی تو پتا چلا کہ بال گندھرو کے ساتھ کام کرتے وقت میں بہت ہی چھوٹا لگوں گا، اس لیے پریمدا کا میرا کردار رد کر دیا گیا ہے۔ اُس کی جگہ پر مجھے دُشینت مہاراج کی وتیروتی نامی داسی کا کردار دیا جا چکا ہے۔ اُس میں مکالمہ بہت ہی معمولی تھا۔ جیسے، ’’مہاراج، اِدھر سے آیا جائے، مہاراج اُدھر سے جایا جائے۔‘‘ ایک اچھا کردار ہاتھ سے جاتا رہا، اس کا مجھے کافی رنج رہا۔

کمپنی کے سبھی لوگ بڑی بھاگ دوڑ میں تھے۔ کوئی اپنے مکالمے یاد کر رہا تھا، کوئی گیت۔ ایک طرف مختلف منظروں کے پردے رنگے جا رہے تھے۔ دوسری طرف ڈریسنگ روم کے لوگوں کی دوڑ دھوپ چل رہی تھی۔ بڑا شورسرابہ تھا۔ ایک پاگل خانے کا روپ تھا گندھرو ناٹک کمپنی کا!

آخر وہ دن آ گیا جب ’شاکنتل‘ کو سٹیج ہونا تھا۔ اس میں دُشینت مہاراج کا کردار گووند راؤ ٹینبے کر رہے تھے۔ تیاری کے لیے وقت کم ہونے کی وجہ جلدبازی میں مکالمے کسی کو اچھی طرح یاد نہیں ہوے تھے۔ ابھی لوگ پراپمپڑ کے بھروسے ناٹک کرنے کے لیے کھڑے ہو گئے تھے۔ دونوں وِنگوں میں دو اور پردے کے پیچھے ایک، اس طرح تین تین پراپمپڑ ناٹک کو بڑھائے لیے جا رہے تھے۔ اس ناٹک میں گیتوں کی بھرمار تھی۔ شکنتلا کے گیتوں کے علاوہ دُشینت کے گیت بھی کافی تھے۔ وہ سارے گیت گووند راؤ کو یاد نہیں ہوے تھے۔

دروسا رِشی کے شراپ (بددعا) کی وجہ سے دُشینت کو شکنتلا کی یاد ستاتی ہے۔ بعد میں اُن کی طرف سے شکنتلا کو دی ہوئی انگوٹھی ایک مچھوے کو مل جاتی ہے۔ اُس انگوٹھی کو لے کر وہ مہاراج دشینت کے یہاں جاتا ہے۔ مہاراج کو شکنتلا کی یاد ستاتی ہے۔ وہ بہت ہی دل برداشتہ ہو جاتے ہیں۔
اس حوالے میں ہجر کا مارا دُشینت ایک کے بعد ایک پانچ چھ گیت گاتا ہے۔ اسی شکستہ حالت میں دشینت شکنتلا کی تصویر بناتا ہے۔ اس تصویر کو مہاراج کے سامنے تھامے بےچاری وتیروتی (یعنی میں) کھڑی رہتی ہے۔ مجھے سخت ہدایت دی گئی تھی کہ تصویر کو ایسے تھامے رہنا کہ ناظرین کو وہ کبھی دکھائی نہ دے۔ اس کی وجہ کیا تھی؟ یہی کہ اُس تصویر میں شکنتلا کی تصویر تھی ہی نہیں۔ اُس کی جگہ اُس سیاق و سباق میں دشینت کے گائے جانے والے بندوں کی پنکتیاں ( مصرعے) موٹے حرفوں میں لکھی ہوئی تھیں۔

گووند راؤ ٹینبے ہمیشہ عینک لگایا کرتے تھے۔ عینک کے بغیر بھی انھیں اُن مصرعوں کو پڑھنا آسان ہو، ایسے انداز سے مناسب فاصلے پر انھوں نے وہ لے کر مجھے کھڑا کیا تھا۔ گووندراؤ ایک ایک بند لمبے الاپ اور تانیں لے کر دل و جان سے گانے لگے اور اِدھر اس طرح کا گانا سنائی دیتے ہی جھپکی لینے کی میری پُرانی عادت حاوی ہو گئی۔ انھوں نے لپک کر تصویر آگے کھینچ لی۔۔۔ میں جاگ گیا۔ انھوں نے مجھ پر اپنی غصے بھری نظر ڈالی اور پھر اُسی شکستہ آواز میں ایسے گانے لگے جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ اُس کے بعد وہ سارا داخلہ منظم ڈھنگ سے ختم ہو گیا۔

اسی وقت کمپنی میں میرے چھ مہینے پورے ہو چکنے کی وجہ سے مجھے تنخواہ ملنی شروع ہو گئی۔ تب تک بِنا تنخواہ کام کرنے والا میں کمپنی کا مالک تھا، اب نوکر بن گیا۔ میری تنخواہ تھی فی مہینہ تین روپے۔

ہم بڑودہ میں تھے۔ انھی دنوں کولھاپور کے بابا دیول اپنے بیٹے سے ملنے کے لیے وہاں آئے۔ ان کا لڑکا بڑودہ میں انجینئر تھا۔ باپو کے کہنے پر وہ میرا حال چال پوچھنے کے لیے گندھرو منڈلی کی رہائش گاہ پر آئے۔ خیر خبر جان لینے کے بعد، پتا نہیں کیوں، شاید انھیں سنگیت سے بہت پیار تھا اِس لیے، یا اُن دنوں ناٹکوں میں سنگیت کو بھاری اہمیت حاصل تھی اس وجہ سے، انھوں نے باباجی سے بڑی عقیدت سے پوچھا:

’’کیا کرتا ہے ہمارا شانتارام؟ کیسا گاتا ہے وہ؟‘‘

میں وہیں کھڑا تھا۔ باباجی نے کہا، ’’کیا پوچھا آپ نے؟ شانتارام؟ اور کیسا گاتا ہے؟ سنیے، آپ سنیے اُس کا گانا!‘‘ کہہ کر انھوں نے میرا مخول اڑایا۔ اِس طرح کھِلّی اڑائی جانے سے مجھے بڑی کھیج آئی(جھنجھلاہٹ ہوئی)۔

بابا دیول گانا سننے کے لیے بیٹھ گئے پنڈھرپورکرباباجی نے ہارمونیم سنبھالا۔ شروع میں سا، رے، گا، ما، پا، دھا، نی، سا، کہا۔ اُس کے بعد سُر کی تمام باریکیاں تمام اتارچڑھاؤ کے ساتھ سنائے اور آخر میں گووند کی طرف سے گائی جانے والی ٹھمری ’دیکھو ری نہ مانے شیام‘ بھی گا کر سنا دی۔
گانا ختم ہوا۔ میں نے باباجی کی طرف دیکھا۔ باباجی ششدر ہو کر میری طرف دیکھ رہے تھے۔ بولے، ’’ارے شانتارام، آج تجھے ہو کیا گیا ہے؟‘‘

میں نے ڈرتے ڈرتے پوچھا، ’’کیوں؟ کیا مجھ سے کچھ غلطی ہو گئی؟‘‘

’’بالکل نہیں۔ ارے آج تو تم شروع سے آخر تک سر میں گاتے رہے، کہیں پر ایک بھی غلطی نہیں کی۔ کمال ہو گیا!‘‘

میں نے دیول بابا کی طرف دیکھا۔ انھوں نے میری پیٹھ تھپتھپائی۔ وہ مطمئن ہو گئے تھے۔ میری خوشی کا ٹھکانہ نہیں تھا۔ لیکن میری جیون مین وہ سنہری دن ایک ہی بار آیا۔ سر میں گانے کا وہ جیون کا پہلا اور آخری دن۔

لگ بھگ انھی دنوں ایک مہان شخص سے میرا رابطہ ہوا۔ یہ مہان شخص تھے مشہور ناٹک کار شری رام گینش گڈکری۔ کولھاپور میں میں نے اُن کا لکھا ’پریم سنیاس‘ ناٹک دیکھا تھا۔ اس میں جن سماجی مسائل کو ابھارا گیا تھا ان کا اندازہ کر پانا میری عقل کے باہر کی بات تھی۔ ایک تو میں چھوٹا تھا، پھر چونکہ وہ ناٹک دکھی تھا، مجھے خاص بھایا بھی نہیں تھا۔ پھر بھی اُس کے بھلکّڑ کردار ’گوکُل‘ پر میں نہایت خوش تھا۔ بڑا مزاحیہ کردار تھا وہ۔ اس کے سٹیج پر آتے ہی میں ہنسی کے مارے لوٹ پوٹ ہو جاتا تھا۔

گڈکری گروجی گندھرو ناٹک کمپنی کے لیے ایک نیا ناٹک لکھنے کے لیے کمپنی کی رہائش گاہ پر آئے تھے۔ اور کچھ دن وہیں رہنے والے تھے۔ ایسے کسی بڑے مہمان کی آمد پر کمپنی کی طرف سے ہم میں سے کسی ایک چھوکرے کو ان کی سیوا میں لگا دیا جاتا تھا۔ چونکہ میں انگریزی تیسری تک پڑھا تھا، گڈکری نے مجھے ہی چُنا۔ انھوں نے کہا، ’’شانتارام، آج سے تم میرے سیکرٹری۔‘‘
میں نے پوچھا، ’’سیکرٹری؟ یعنی مجھے کیا کیا کام کرنے ہوں گے؟‘‘

’’ارے کچھ خا ص نہیں۔ میرے اِس صندوق میں ایک مسودے کے صفحے رکھے ہیں۔ تمھیں انھیں پڑھ کر ٹھیک ترتیب اور سلسلے سے لگانا ہو گا۔ بس۔‘‘
میں نے ان کاغذوں کو ٹھیک ترتیب سے لگا دیا۔ وہ ناٹک کون سا تھا، آج مجھے ٹھیک یاد نہیں۔ لیکن اُس کا ہیرو نشئی تھا۔ ناٹک ادھورا تھا۔ اِس کام کے علاوہ دھوبی کے یہاں سے ان کے کپڑے لے آنا، ان کے لیے چائے بیڑی وغیرہ لا کر دینا، ان کی چٹھیاں لیٹربکس میں ڈالنا وغیرہ چھوٹے چھوٹے کام بھی میں انتہائی مستعدی سے کیا کرتا تھا۔

چند دنوں میں ہی ان کے من میں میرے لیے ممتا جاگی۔ شاید قریبی رابطے میں آئے شخص سے اپنی دلی فطرت کے مطابق محبت کرنا ان کی فطرت ہو گا۔ میرے سرنیم ونکودرے کے بارے میں وہ اکثر کہا کرتے تھے، ’’شانتارام، یہ خاندانی نام کہاں سے پیدا کیا بھائی؟ چلو اسے بدل دیتے ہیں۔ کولھاپور یا کچھ ایسا ہی نام کیسا رہے گا؟‘‘ میں ’’بس، جیسا آپ چاہیں،‘‘ کہہ کر بات ٹال دیتا۔

دورہ کرتے کرتے کمپنی بمبئی آ گئی۔ اس وقت کمپنی کے ناٹک ایلفنٹسن تھیٹر میں ہوا کرتے تھے۔ گندھرو ناٹک کمپنی میں اتنے دنوں سے شامل ہونے پر بھی تھیٹر میں کسی کردار میں اپنے جوہر دکھانے کا موقع مجھے کبھی ملتا ہی نہیں تھا۔ سنگیت کے معاملے میں میرا پہلو ایک دم لنگڑا تھا۔ عمر میں چھوٹے ہونے کی وجہ سے بڑے نثری کام بھی مجھے نہیں دیے جاتے تھے۔ لیکن اتنے دن کمپنی میں کام کرتے ہوے میں نے کچھ باتیں تیزنظری سے نوٹ کر لی تھیں۔ کوئی گائیک اداکار تین چار سُروں میں اٹکنے جیسا بکری الاپ کافی لمبا کھینچ لیتا تو شائقین تالیوں کی بوچھاڑ کرتے۔ یہ تالیاں گائیک کے سُروں میں مہارت کے لیے ہوتی تھیں یا گائیک کو سانس لینے کی راحت دلانے کے لیے، پتا نہیں! اسی طرح نثری اداکار ایک ہی سانس میں کوئی لمبا مکالمہ اونچی آواز میں پورا کر لیتے، تب بھی تالیاں بجتی ہیں، میں نے غورکیا۔ لہٰذا میں نے بھی طے کر لیا کہ جو بھی ہو، اپنے کام کے لیے بھی اِسی طرح کی تالیوں کی گڑگڑاہٹ کرا کر ہی مانوں گا۔ من میں یہ جوت جاگ اٹھی۔ اس کے لیے میں بےتاب ہونے لگا۔ ایک دن میں نے فیصلہ کر لیا کہ آج تو ’تالیاں‘ لے کر رہوں گا۔

اُس رات ’سُبھدرا‘ ناٹک ہونے والا تھا۔ اُس ناٹک میں رُکمنی کی داسی کا کردار مجھے ملا تھا۔ میں شروع سے ہی تیاری میں تھا۔ میرا داخلہ شروع ہو گیا۔ میرے مکالمے میں جملے تھے: ’’دیّا ری! سرکار اِدھر ہی تشریف لا رہے ہیں۔ اب کیا کروں؟ انھیں جگاؤں تو بھی مشکل، نہ جگاؤں تو بھی مشکل۔ بائی صاحب، بائی صاحب! یہ تو جاگنے سے رہیں۔ کیا کیا جائے۔

میں نے پہلا جملہ ہی ایک دم اونچی آواز میں شروع کیا۔ اگلا جملہ اُس سے بھی اونچی آوازمیں بول دیا، اس سے آگے کا اور بھی اونچی آواز میں، بس میں یہی کرتا گیا اور آخری جملہ تو شاید میں نے گلا پھاڑ کر، چلّا کر کہا۔ اور تبھی آڈیٹوریم تالیوں کی گڑگڑاہٹ میں گونج اٹھا۔ ایک طرف ونگ میں انٹری کی تیاری میں شری کرشن کے کردار میں کھڑے گنپت راؤ بوڈس میری طرف ساکت دیکھتے ہی رہ گئے۔ دوسرے ونگ میں کام کر رہے سبھی لوگ یہ دیکھنے کے لیے حیرت میں جمع ہو گئے کہ اِس اینٹری میں آخر اتنی تالیاں کس بات پر ملی ہیں۔ سٹیج پر گہری نیند میں سونے کی اداکاری کر رہی رُکمنی بھی ذرا سا سر اٹھا کر اَدھ مچی آنکھوں سے مجھے گھورنے لگی۔ اُس کی نظر میں بھی حیرانی تھی۔ میں توخوشی سے پھولا نہیں سما رہا تھا۔ میرا کام ہو گیا تھا، بات بن گئی تھی۔ میں کسی فتحیاب وِیر، نہیں نہیں، ہیروئن کی طرح پلّو کمر پر کس کر کسی طرف بغیر دیکھے سب کے سامنے سے اکڑ کے ساتھ سٹیج پر سے ونگ میں چلا گیا۔

گاؤں گاؤں ناٹکوں کو سٹیج کرتے کرتے ہم لوگ واپس پونا پہنچ گئے۔ اب کمپنی میں داخل ہوے مجھے ایک سال ہو چکا تھا۔ ناٹکوں کو لگاتار سٹیج کرنے اور سفر کی وجہ سے سبھی لوگ تھکے ماندے تھے۔ بال گندھرو کو اپنے گلے کے بارے میں بھی کچھ شکایتیں رہنے لگی تھیں۔ ان کی آواز کو کم سے کم کچھ دنوں کے لیے آرام کی ضرورت تھی۔ گنپت راؤ کی آواز تو ہمیشہ خراب ہی رہتی تھی۔ اب اُن کی شکایت کچھ زیادہ ہی بڑھ گئی تھی۔ مالکوں نے اسی لیے ایک ماہ کی چھٹی کا اعلان کر دیا تھا۔ سبھی لوگ اپنے اپنے گاؤں جانے کی تیاریاں کرنے لگے۔ میں نے بھی دوسرے ہی دن کولھاپور جانے کا فیصلہ کیا۔ گڈکری جی کو میں نے بتا بھی دیا۔ ان کا مکان پونا میں ہی تھا۔ اُس دن انھوں نے مجھے اپنے گھر کھانے پر بلایا۔

شام ہوتے ہی میں ان کے یہاں گیا۔ وہ میرا ہی انتظار کر رہے تھے۔ مجھے دیکھ کر انھیں خوشی ہوتی دکھائی دی۔ میں کچھ جھینپ سا گیا۔ اتنے بڑے ناٹک کار، شاعر، لکھاری، اور میرے جیسا بارہ سال کی عمر کا ننھا سا لڑکا اُن کا مہمان! تھوڑی دیر اِدھر اُدھر کی باتیں ہوتی رہیں۔ یعنی وہ ہی زیادہ تر بولتے رہے اور میں صرف ’ہاں‘ ’ناں‘ کرتا رہا۔ ان کی ماں نے کھانا تیار ہونے کی اطلاع دی۔ ہم دونوں کھانے پر بیٹھ گئے۔ گڈکری گروجی نے کہا، ’’چلو کرو شروع۔‘‘
میرا ہاتھ تھالی کی طرف بڑھا ہی تھا کہ اچانک رک گیا۔ کٹوری میں تری دار مٹن رکھا ہوا تھا۔

’’کیوں بھائی، رک کیوں گئے؟ کھاؤ نا، شرماؤ نہیں۔‘‘
میں نے کچھ رُک رُک کر جواب دیا، ’’گروجی، میں مٹن کھاتا نہیں۔‘‘
’’مٹن نہیں کھاتے؟ تو اب کیا ہو گا؟‘‘
’’میں صرف چپاتی، چاول، مُٹھا، ایسا ہی کچھ کھا لوں گا۔ آپ فکر نہ کریں۔‘‘
’’بھئی واہ! یہ تو تم نے خوب کہی۔ ایسا کیسے ہو سکتا ہے بھلا۔‘‘ انھوں نے اپنی ماں کو کہا، ’’ماں، اِس کے لیے کچھ میٹھا لاؤ نا!‘‘

ان کی ماں پھرتی سے تھالی کٹوری لے کر باہر چلی گئیں۔ گروجی کھانا کھاتے کھاتے رک گئے۔ لگ رہا تھا انھیں بہت ہی افسوس ہوا۔ بولے:
’’بھئی، میں نے تمھیں کھانے کے لیے بُلایا اور لگتا ہے اب تمھیں بھوکا ہی رہنا پڑے گا! لیکن تم بھی کیسے عجیب آدمی ہو! کیا تم نے کبھی مٹن کھایا ہی نہیں؟‘‘

’’جب میں چھوٹا سا تھا تب کبھی کبھار مٹن کھا لیا کرتا تھا۔ ہمارے والد پکّے سبزی خور اور ماں مراٹھی۔ اِس لیے ہم بچوں کی پسند جان کر ماں کبھی کبھی چپکے سے مٹن پکا کر ہمیں کھلاتی تھیں۔ ایک بار ہمارے گھر کے سامنے رہنے والے ایک امیر کسان نے فصل کاٹ لانے کی خوشی میں رواج کے مطابق بکرا کاٹ کر محلے کے سب لوگوں کو مٹن کی دعوت دینا طے کیا۔ دروازے کے سامنے ہی بکرا کاٹا گیا۔ اُسے کاٹنے سے لے کر اس کی چمڑی چھیل چھیل کر الگ کرنے، مٹن کو کاٹ کاٹ کر اس کے باریک ٹکڑے بنانے تک کا سارا سلسلہ میں نے بہت نزدیک سے دیکھا۔ بعد میں کھاتے وقت وہی ساری باتیں آنکھوں کے سامنے دکھائی دیں اور مجھے بھڑبھڑا کر اُلٹی ہو گئی۔ اُس دن سے مجھ میں مٹن کی ایسی گِھن بیٹھی کہ تب سے میں نے مٹن، مچھلی وغیرہ کھانا ایک دم چھوڑ دیا۔‘‘

’’ارے، یہ بات تھی تو مجھے پہلے ہی بتا دیتے۔ میں ماں سے کہہ دیتا کہ ہمارے یہاں بٹو بمن کھانے کے لیے آنے والا ہے۔‘‘

تبھی ان کی ماتاجی واپس آ گئیں۔ انھوں نے پڑوسن کے گھر سے لایا گیا مربہ تھالی میں پیش کیا اور تھالی میں تڑکا لگی دال۔ میں نے ڈٹ کر کھانا کھایا۔ گڈکری جی بھی اس سے مطمئن ہوے۔ لکھاری ہونے کے ناتے ان کی بڑائی کو تو میں آگے چل کر بڑا ہونے کے بعد ہی سمجھ سکا، لیکن مجھ جیسے ایک معمولی لڑکے کی آؤبھگت میں دل کی جو عظمت دکھائی، اس سے میں ان کے اندر کے آدمی کی بڑائی کا اُسی وقت اندازہ کرنے لگا تھا۔

دوسرے دن میں پونا سے چل دیا۔ گھر پہنچا۔ مجھے دیکھ کر ماں کو بےانتہا خوشی ہوئی۔ گھر میں قدم رکھتے ہی میں نے سب سے پہلے اپنی تنخواہ سے بچے نو روپے ماں کی ہتھیلی پر رکھ دیے اور ان کے قدموں پر ماتھا ٹیکا۔ انھوں نے میرے سر سے کتھئی رنگ کی فر کی ٹوپی اتار لی۔ اُس کے ساتھ اندر باندھ کر رکھے میرے لمبے گھنگھریالے بال گردن، کندھوں تک جھومنے لگے۔ میرا وہ روپ شاید ماں کو بہت پسند آیا۔ مجھے چومتے ہوے بولیں:
’’شانتا !کتنا پیارا پیارا لگ رہا ہے رے تو! ٹھہر تجھ پر ابھی مرچیاں اُتار پھینک کر واری واری جاتی ہوں، تاکہ تجھے کسی کی نظر نہ لگ جائے۔‘‘

ماں جلدی سے اندر گئیں۔ دونوں مٹھیوں میں نمک، سرسوں اور مرچیاں لے کر آئیں اور نظر اُتارنے کے انداز سے اس سامگری کو میرے پر وارتی گئیں۔ بعد میں وہ ساری چیزیں اپنے جلتے چولھے میں جھونک دیں۔ چولھے کے نیچے سے راکھ انگلی پر لے کر اُس سے میرا تلک کیا اور کہنے لگیں:
’’دیکھانا، کتنی تاڑ پھاڑ پھوٹ رہی ہیں مرچیاں! تمھیں تو بچپن سے ہی نظر لگ جایا کرتی تھی یک دم!‘‘

نہانے وغیرہ سے فارغ ہو کر میں دھوپ میں بال سکھانے بیٹھا تھا، تبھی دکان سے باپو آ گئے۔ آج تو ماں نے میری تھالی باپو کے ساتھ ساتھ پروسی تھی۔ اِدھر اُدھر کی باتیں کرتے کرتے کھانا پورا ہو گیا۔ باپو ہمیشہ کی طرح کھانے کے بعد کچھ آرام کرنے کے لیے لیٹ گئے۔ ان کے پائتنی کی طرف میں بھی لیٹ گیا۔ باپو نے پوچھا، ’’تو شانتارام، سال بھر میں کیا کیا سیکھ کر آئے ہو، بتاؤ بھی؟‘‘

میں باپو کے اِس سوال کا جواب کھوجنے لگا۔ واقعی سال بھر میں کیا کیا سیکھ پایا ہوں میں؟ تھوڑا سا ناچ، دو چار چھوٹے موٹے کام، گائیکی کے نام پر تو پلے کچھ بھی نہیں! میری آنکھوں سے ساون بھادوں بہنے لگے۔ جواب دینے کے لیے منھ سے لفظ نہیں نکل پا رہا تھا۔ مجھے چپ بیٹھا دیکھ کر باپو نے یہ جاننے کے لیے سر اٹھا کر دیکھا کہ بات کیا ہے۔ میری روتی صورت دیکھ کر انھوں نے کروٹ بدل کر میری طرف سے منھ پھیر لیا اور تھوڑی دیر بعد ہی اٹھ کر وہ دکان چلے گئے۔

میں بےچین ہو کر چھٹپٹا رہا تھا۔ ’’شانتارام، کیا کیا سیکھ کر آئے ہو سال بھر میں؟‘‘ یہی سوال مجھے ستا رہا تھا۔ میں اپنے آپ سے یہی سوال کرتا رہا۔ اسی میں پوری دوپہر ڈھل گئی۔ شام ہو گئی۔ رات آ گئی۔ رات کا کھانا بھی میں ٹھیک سے نہیں کھا پایا۔ ساری رات بےتابی میں گزار دی۔ من کی گہری تہہ میں کہیں گہرے خلا کا اندازہ کر رہا تھا میں۔

دوسرے دن سویرے کچھ طے کر کے ہی میں دکان پر گیا۔ باپو کے سامنے کھڑا ہو میں نے کہا، ’’باپو، ابھی اسی وقت کسی نائی کو بُلوائیے گا۔‘‘
’’نائی کو؟ کس لیے؟‘‘

’’مجھے اپنے یہ سارے بال اُسترے سے صاف کرانے ہیں۔ ایک دم پورا سر منڈوانا ہے مجھے۔‘‘
’’آخر کیوں؟‘‘
’’مجھے نہیں جانا ہے پھر سے کسی ناٹک کمپنی میں!‘‘
’’یہ کیا کہہ رہے ہو شانتارام؟ ناٹک کمپنی میں نہیں جانا ہے؟ لیکن کیوں؟‘‘
’’پچھلے سال بھر میں، میں وہاں گانا وانا کچھ نہیں سیکھ پایا ہوں!‘‘

’’ارے بیٹے، گانا کیا ایک سال میں آ جاتا ہے؟ اس کے لیے تو سالوں سال ریاض کرنا پڑتا ہے۔ آ جائے گا، تمھیں بھی گانا آ جائے گا دھیرے دھیرے۔‘‘

’’نہیں، میں کبھی گانا نہیں گا سکوں گا! گائیکی میں میری کوئی ترقی نہیں ہے۔ معمولی داسی کے کردار کرنے پڑتے ہیں وہاں۔ بڑا ہو جاؤں گا تو جاؤں گا۔ تب بھی زیادہ سے زیادہ نثری مکالمے ہی مجھے ملیں گے۔ ایسے کاموں کا وہاں کوئی مول نہیں ہوتا، کوئی قدر نہیں ہوتی۔ وہاں میں صرف ناچتا ہوں ساڑھی پہن کر، کسی ناچ والے لونڈے کی طرح!‘‘

’’ارے بابا، اِس طرح آپے سے باہر ہو جانے سے کام کیسے چلے گا؟ ابھی تو تمھیں ایک ماہ کی چھٹی ملی ہے۔ جلدی کیا ہے؟ جو کرنا ہو آرام سے سوچنے کے بعد طے کریں گے۔‘‘

میرا ضدی رویہ پھر اُچھلا۔ میں نے بغاوت کی۔ اپنے لمبے گھنگھریالے بالوں کو ہاتھوں میں زور سے بھینچ کر انھیں کھینچتے ہوے میں نے کہا، ’’باپو، اِن لمبے بالوں کی وجہ سے ہی مجھے پھر سے ناٹک میں جانے کی چاہ ہو سکتی ہے۔ آپ نائی کو بلا بھیجیے، ابھی، اسی وقت!‘‘

باپو نے پھر ایک بار میری ضد مان لی۔ نائی آیا۔ میں اس کے سامنے بیٹھ گیا۔ نائی نے اُسترے سے میرا سر اچھی طرح سے مونڈ دیا۔ آنکھوں سے آنسوؤں کی دھارا بہہ نکلی تھی۔ نائی کے استرے کی وجہ سے نیچے گر رہے میرے گھنگھریالے بالوں کے ساتھ ہی ناٹکوں کے لیے میرا موہ بھی جڑوں سے اکھڑ کر نیچے گر رہا تھا۔ نائی نے سارے بال مونڈ کر صرف ایک چٹیا سر پر رکھ چھوڑی تھی۔

دکان سے گھر لوٹتے وقت راستے میں میری نظر اَکوّ ماسی کی دکان کی طرف گئی۔ وہ وہاں نہیں تھی۔ وہاں کسی اور چیز کی دکان لگی تھی۔ اس دکان میں بیٹھے شخص سے میں نے پوچھا، ’’جی، یہاں اَکّو ماسی کی دہی کی دکان تھی نا پہلے؟ اب وہ کہاں ہے؟ اَکّو ماسی کہاں ہے؟‘‘
اس آدمی نے بتایا، ’’اَکّو گوالن مر گئی۔‘‘

اَکّو ماسی مر گئی، یہ لفظ سنتے ہی میں سسک سسک کر رونے لگا۔ ناٹک کمپنی میں جاتے وقت میں جان کر اس سے ملنے کے لیے گیا تھا۔ ہمیشہ کی طرح اُس نے میری ہتھیلی پر دہی ڈالا تھا اور نم، بھرّائی آنکھوں سے مجھے دیکھتے ہوے بولی تھی، ’’بڑا ہو گیا، اچھا نام کما کر آئیو۔‘‘ یہ اَکّو ماسی کا آخری آشیرواد تھا جس کے ساتھ اُس نے مجھے رخصت کیا تھا۔ اس کی اِس چاہت کی وجہ سے میں خوشحال واپس لوٹ آیا تھا۔ پر جس نے میری ہتھیلی دہی سے بھر دی تھی وہ ایسے لمبے سفر پر چلی گئی جہاں سے کوئی لوٹ کر نہیں آتا۔ اِس ایک سال میں میں نے کیا کھویا، کیا پایا، اِس کا لیکھا جوکھا جو ہو، ہوتا رہے، لیکن آج اَکّو ماسی کی دکان کے سامنے سر منڈوا کر کھڑا ہونے پر میں نے اندازہ لگایا کہ میں کئی چیزوں کو کھو چکا ہوں۔

(جاری ہے)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لالٹین پر وی شانتا رام کی خود نوشت سوانح کا ترجمہ سہ ماہی “آج” کے بانی اور مدیر “اجمل کمال کے تعاون سے شائع کیا جا رہا ہے۔ اس سوانح کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

[blockquote style=”3″]

انتساب: میں ترجمے کا یہ عمل دو ہستیوں کے نام کرتی ہوں، اپنے دادا ابو شوکت علی کہ انہوں نے اس ایلس کی راہ کے کانٹے چنے اور اپنی ہندی گرو مسز شبنم ریاض کہ جنہوں نے ایلس کو ایک نئی دنیا کا راستہ دیکھایا۔

[/blockquote]

Categories
نان فکشن

شانتا راما – باب 2: جوا (ترجمہ: فروا شفقت)

[blockquote style=”3″]

’’شانتاراما‘‘ برصغیر کی فلم انڈسٹری کے بانیوں میں شامل وی شانتا رام کی آپ بیتی ہے جو انھوں نے اپنی آخری عمر میں مراٹھی میں بول کر لکھوائی اور چھپوائی تھی۔ بعد میں اس کا ہندی روپ شائع ہوا۔ شانتارام جن کا پورا نام شانتارام راجارام وانکودرے تھا، 18 نومبر 1901 کو پیدا ہوے اور کو پیدا ہوے اور 30 اکتوبر 1990 کو وفات پائی۔ مہاراشٹر کے شہر کولھاپور میں، جو برٹش راج کے دور میں ایک رجواڑے یا نوابی ریاست کا صدرمقام تھا، انھوں نے خاموش فلمیں بنانے سے آغاز کیا اور بعد میں پونا اور بمبئی میں مراٹھی اور ہندی کی بےشمار فلمیں بنائیں۔ اس طرح شانتارام کی لمبی پیشہ ورانہ زندگی کی دلچسپ داستان اس خطےکی فلمی دنیا کی تاریخ بھی ہے۔ اس تاریخ کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے کرداروں میں مختلف علاقوں، ذاتوں، زبانوں، طبقوں اور پیشوں کے لوگ شامل ہیں جنھوں نے مل کر ایک رنگارنگ منظرنامہ تیار کیا جس کی جھلکیاں اردو میں سعادت حسن منٹو کی ان تحریروں میں ملتی ہیں جن کا پس منظر 1940 کی دہائی کا بمبئی شہر اور وہاں کی فلمی دنیا ہے۔ ’’شانتاراما‘‘ میں اس دنیا کے رفتہ رفتہ بننے اور پھیلنے کی کہانی بڑے بےتکلف اور دلچسپ اسلوب میں بیان کی گئی ہے۔ شانتارام کی معروف ہندی فلموں میں سے چند کے نام یہ ہیں: ’’ڈاکٹر کوٹنِس کی امر کہانی‘‘ (1946)، ’’امر بھوپالی‘‘ (1951)، ’’جھنک جھنک پایل باجے‘‘ (1955)، ’’دو آنکھیں بارہ ہاتھ‘‘ (1957)۔ ’’شانتاراما‘‘ کا اردو روپ ہندی متن کی بنیاد پر فروا شفقت نے تیار کیا ہے جو گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں پی ایچ ڈی سکالر ہیں۔

[/blockquote]

کولھاپور کے مہالکشمی مندر کے احاطے میں میرا جیون بڑھتا پھولتا جا رہا تھا۔ مندر میں ایک بڑی سی گھنٹی لگی تھی۔ اس کے گھن گھن کٹوروں سے کولھاپور ہر روز جاگتا تھا۔ اس گھنٹے کی آواز کی تھوڑی ہی دیر بعد اُوشا آرتی ہوتی تھی۔ اس کے ساتھ ہی پرانے راج محل کے نقارخانے سے اٹھتی شہنائی کی مدھر آواز پُروائی کے جھونکوں پر سوار ہو کر دھیمے سُروں کے روپ میں یک جا ہو کر لہرانے لگتی تھی۔ طلوع صبح کا سارا ماحول اوشا آرتی اور راج محل کی شہنائی کی آوازوں سے بھر جاتا تھا، پاک ہو جاتا تھا۔

ایسے وقت کبھی کبھی میری نیند کھل جاتی تھی۔ تب گھر گھر میں چکیاں پیسنے کی آواز سنائی دیتی تھی۔ ہمارے گھر میں ماں چکی چلاتے چلاتے لوک گیت گایا کرتی تھیں۔ کسی پڑوس کے مکان سے صبح کی عبادت کا پاٹھ سنائی دیتا تو کہیں تعلیم کی آواز گونجتی، اکھاڑوں میں پہلوانوں کے ہنکاروںکی لیَ شروع ہو جاتی۔ ہر اکھاڑے میں کسَے ہوئے جسم کے سڈول جوان اپنی مستی میں مست ہو کر ورزش میں لگے دکھائی دے جا سکتے تھے۔ کوئی ڈنڑ پیلتا، کوئی بیٹھکیں لگاتا تو کوئی مُگدر گھمانے کی کسرت کرتا تھا۔ پسینے سے تر قوی و توانا جوان اکھاڑے کی نرم ملائم مٹی میں کشتیوں کے داؤپیچ لڑاتے تھے۔ ان کو کُشتی سکھانے والا استاد بھی انھیں ورزش کی خوبیاں سمجھاتا دکھائی دیتا۔ پہلوانی ان دنوں کولھاپور کے باسیوں کی ایک زبردست دُھن تھی، ایک شوق تھا۔

اسی ماحول میں کسی کھڑکی سے راگ داری کے ریاض کی آواز بھی سنائی پڑتی۔ اس وزن دار اتارچڑھاؤ کے ساتھ ہی کسی میراثن کی لہکتی لَے کاری ماحول میں رچ بس جاتی۔ شاید کوئی گائیکہ اپنے استاد کے چرنوں میں بیٹھ کر گانے کا ریاض کرنا سیکھتی ہو۔ آہستہ آہستہ یہ آوازیں ہنکار ایک دوسرے میں گھل مل جاتے اور میں گُدڑی میں سمٹ کر پھر گہری نیند سو جاتا۔

’’ارے شانتیا، اب اٹھو بھی!‘‘ ماں کی پکار گُدڑی میں بھی سنائی دیتی۔ میں فوراً اٹھتا۔ نیند بھاگ جاتی۔ جلدی سے گھر کے باہر کی طرف جاتا۔ دروازے آنگن میں ماں کی کھینچی ہوئی رنگولی کی ریکھاؤں کو دیکھ کر سحرزدہ ہو جاتا۔ باہر سڑکوں پر جھاڑ بوچھاڑ شروع ہوتی۔ جھاڑنے پونچھنے والوں کے لمس سے بچتے بچاتے، نالیوں کو پھلانگتے، اپنی ریشمی دھوتی سنوارتے مندر کی طرف جانے والے لال کنٹوپی والے براہمنوں کی اچھل کود کو دیکھ کر مجھے ہنسی آتی۔ تبھی کہیں دور سے گھوڑوں کی ٹاپوں کی گونج سنائی دیتی۔ ساتھ ہی ایک رتھ نما گاڑی (جسے کولھاپور میں ’کھڑکھڑا‘ کہا جاتا تھا) کے پہیوں میں لگی لوہے کی پٹی کی کھڑکھڑاہٹ بھی سنائی دیتی۔ اس کھڑکھڑے کو ہانکنے والا شخص بہت ہی رعب دار تھا۔ ساڑھے چھ فٹ لمبا قد، قلعے کے پَٹ سی شاندار سخت چھاتی، بھاری بھرکم جسم، خوبصورت پُرجلال مکھڑا، چمکدار آنکھیں اور سرپٹ دوڑنے والے گھوڑوں کی مضبوطی سے تھامی باگیں۔۔ ایسا ہوتا تھا اس شخص کا رعب داب والا بھیس۔ ایک دم سادہ، دیہاتی سر پر کسانی ڈھنگ سے باندھا کیسری رنگ کا صافہ، ململ کا کُرتا، گنگی کولھاپوری بناوٹ کی موٹی چپلیں۔ وہ شاندار مرد تھے چھترپتی شاہُو مہاراج بھوسلے، کولھاپور ریاست کے راجہ۔ راستے پر کھڑے سبھی لوگ انھیں احتراماً جھک جھک کر پرنام کرتے۔ کچھ لوگ کھڑکھڑے کی آواز سن کر اپنا کام چھوڑ، پھرتی سے باہر آ کر انھیں عقیدت بھرا سلام کرتے۔ شاہو مہاراج گاؤں کے باہر بنے ہوے راج محل میں قیام کرتے تھے، لیکن ہر روز صبح وہاں سے اپنے پُرانے راج محل میں گھرانے کی بھگوتی ماں بھوانی کے مندر میں اس کا درشن کرنے دستور کے مطابق آیا کرتے تھے۔ پُرانے راج محل کے خاص دروازے پر دونوں طرف ہاتھی کھڑے رہتے تھے۔

چڑھتے دن کے ساتھ سڑکوں پر آمدورفت بڑھنے لگتی۔ سبزی لے لو سبزی۔۔۔ بھاجی ! کہتی ہوئی سبزی والی محلے سے نکل جاتی۔ کبھی کبھار ہی ماں اس سے سبزی لیتی اور بدلے میں اسے چھاج سے اناج دیتی۔ کبھی کبھی مورپنکھ لگی اونچی ٹوپی پہنے ’واسودیو‘ جھجانجھ بجاتا، گاتا، اپنے ہی چاروں طرف گول گول جھومتا ناچتا آتا۔ ماں اس کی جھولی میں کچھ اناج ہی ڈالتیں۔ وہ آشیرواد دے کر آگے چلا جاتا۔

میری اس ننھی سی دنیا میں کتنی ہی باتیں ایسی تھیں جن کے تئیں مجھے کشش، خواہش، حیرت اور ڈر بھی ہوتا تھا۔ آج کہہ پانا بھی مشکل ہے۔ گیروے کپڑے پہن کر رام رکشا کہتے ہوے محلے سے جانے والا رام داسی سادھو، ہر جمعے کو چونڈکے کا تار بجا کر رینوکا دیوی کا بھجن گاتے وقت بیچ ہی میں’’اُدے گا آئی اُدے… اُدے…‘‘ کی آواز دیتی ہوئی جوگوا (خیرات) مانگنے والی جوگنیں، سولہ ہاتھ کی ساڑھی پہنے ہیجڑے، گوبو گوبو گوبوِ کی لے میں ڈھولک بجاتے آنے والے نندی بیل، سنکرانت کے دن مٹی کے چھوٹے چھوٹے خیراتی پیالے اور گنپتی تہوار کے دنوں کالی گیلی مٹی کی گنیش مورتیاں بیچنے کے لیے لانے والے کمہار اور ناگ پنچمی کے دن سپیرا مداری، سبھی بہت ہی مزے دار ہوا کرتے تھے۔ سپیرا ہمارے دروازے پر آتا۔ سر پر رکھی پٹاری اُتارتا۔ پھر اپنی بین سے بہت ہی مدھر سُر نکالتا۔ اس کی دھن سن کر کچھ ہی لمحوں میں پھن کو دس کا ہندسہ بنا پیلا پیلا ناگ پھن اٹھا کر پھنکارتا ہوا باہر آتا۔ سپیرا اور بھی چاؤ سے بین بجاتا، ناگ کے سامنے ناچتے جھومتے لگتا اور وہ ناگ دیوتا بھی اس کی دھن پر مست ہو کر اس کی لے پر جھومنے لگتا۔ اور وہ کڑک لکشمی! باپ رے باپ! اُس شخص کے کپڑے، بکھرے بکھرے بال اور اپنی ہی پیٹھ پر تڑاک تڑاک کوڑے لگانے کی اس کی ادا! میں تو بہت ہی ڈر جاتا تھا۔ اس شخص کو کڑک لکشمی کہتے تھے۔ اس کے ساتھ ایک عورت سر پر ایک بند صندوق لیے آیا کرتی تھی۔ وہ عورت اس صندوق کو پھر اس شخص کے سامنے لا کر دھر دیتی۔ اپنے پر ہی کوڑے برسانے کا وہ سلسلہ کافی دیر تک چلتا رہتا۔ اس کے بعد وہ شخص اس صندوق کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ جاتا اور آواز دیتا، ’’بیا، بیا، دروازہ کھولو، بیا، کواڑ کھولو!‘‘ پھر صندوق اپنے آپ کھل جاتا۔ لوگ اس کے اندر رکھی دیوی کے مکھوٹے کا درشن کرتے اور اس کڑک لکشمی کو اناج دیتے۔

دن اور چڑھ آتا۔ اب سڑک کے ایک سرے پر شور مچنے لگتا۔ شاہو مہاراج کے شکاری چیتے شہر میں گھومنے پھرنے کے لیے لائے جاتے۔ اُن چیتوں سے مہاراج ہرنوں کا شکار کراتے۔ شکار کی پریکٹس برابر بنائے رکھنے کے لیے ایک آدمی لکڑی کی ایک بڑی سی کرچھی میں گوشت کا ایک بڑا ٹکڑا لیے ان چیتوں کے سامنے سے ہو کر بھاگتا بھاگتا جاتا۔ اُس کے پیچھے پیچھے مضبوط رسیوں سے بندھے دو دو آدمیوں کے سنبھالے چیتے لپک کر اس گوشت کو چھین جھپٹ لیتے اور دیکھتے ہی دیکھتے صاف کر جاتے۔ کبھی کبھی پرانے راج محل کے وہ ہاتھی بھی اپنے گلے میں بندھی گھنٹیوں کی آواز کرتے ہوے شہر میں گھومنے کے لیے لائے جاتے۔

ہر شام مندر میں کتھا کیرتن ہوتا۔ کیرتنوں میں قدیم قصے سنائے جاتے۔ مجھے وہ بہت ہی پسند تھے۔ ان قصوں کو دلچسپ بنانے کے لیے بیچ بیچ میں لائق کیرتن کارگیت گاتے جاتے۔

جھانجھ، منجیرے اور مِردَنگ کی لَے تال میں گائے جانے والے وہ چھوٹے چھوٹے گیت من پر بڑا اثر ڈالتے تھے۔ مہاراشٹری روایت میں کیرتن کے درمیانی وقفے میں کالے رنگ کا ٹیکا لگایا جاتا ہے۔ اسے ’بوکا‘ کہتے ہیں۔ کیرتن کار کالا بوکا لگا کر کتھا کے قصے اس ہم آہنگی سے سناتے کہ رام بن باس کی کتھا سناتے وقت ان کی آنکھیں جھرنے لگتیں۔ رام راون جنگ کا بیان کرتے وقت وہ ویررس کی مورت بن جاتے۔ ثنا کیرتن (بھجن) لے تال سوزو آواز میں جب ایک روپ ہو جاتا تو کیرتن کار جذباتی ہو کر ناچنے لگ جاتے تھے۔ ایسے وقت میں بھی اپنے آپ کو بُھلا کر کتھا کے ساتھ ایک روپ ہو جایا کرتا تھا۔

آرتی کے وقت مندر کا کوئی سیوک جھنگٹ بجاتا تھا۔ جھنگٹ یعنی پتیل کی ایک موٹی تھالی، جسے لکڑی کے موٹے ڈنڈے سے آرتی کے تھال میں بجایا جاتا۔ وہ پوجا کا ایک حصہ ہی بن گیا تھا۔ مجھے جھنگٹ بجانے کا بڑا شوق تھا۔ مندر میں ہر روز جھنگٹ بجا کر اکتایا وہ سیوک جھنگٹ کو مجھ جیسے شوقیہ لڑکے کے حوالے خوشی سے کر دیتا۔ وہ بھی خوش، ہم بھی خوش۔ آرتی کے وقت میں اس جھنگٹ کو کافی چاؤ اور جوش کے ساتھ بجایا کرتا تھا۔ پھر اس آرتی کو مندر کے احاطے میں واقع سبھی مندروں میں گھمایا جاتا۔ مہالکشمی کی آرتی کے سامنے وہ وزن دار جھنگٹ بجاتا ہوا مَیں ناچتا پھرتا تھا۔ میرے پیچھے پیچھے پجاری آرتی کا تھال لیے چلا آتا تھا۔ ایک بار وہ وزنی جھنگٹ زور سے میرے پاؤں پر گِرا، پاؤں پھول گیا۔ ماں نے پوچھا بھی، پاؤں کیسے پھول گیا؟ میں نے جھوٹ کہہ دیا کہ موچ کھا گیا تھا۔ ماں کے غصے سے بچنے کے لیے میں ایک دم سفید جھوٹ بول گیا تھا۔

مندر کا وہ جھنگٹ بجانے کی خواہش کی طرح شمالی دیوار پر لگی وِشال گھنٹی بجانے کا موقع پانے کی تمنا بھی من میں تھی۔ میں باربار سوچتا، کاش کم سے کم ایک بار وہ بڑی گھنٹی بجانے کو مل جائے! گھنٹی تک پہنچنے کے لیے شمالی دیوار کی کافی سیڑھیاں چڑھ کر جانا پڑتا تھا۔ وہاں کی گھنٹی بجانے کا کام جس بھٹ جی کے ذمے تھا اسے ’بھٹ جی ماما‘ کہہ کر، کافی مکھن بازی کر، وہ گھنٹی بجانے کی خواہش بھی میں نے ایک بار پوری کر لی تھی۔

مہالکشمی کے تہواروں پر درباری گائیک استاد اللہ دیا خاں صاحب روایت کے مطابق حاضری لگاتے تھے۔ ایسے پروگراموں کے لیے لوگوں کی بھاری بھیڑ جمع ہوا کرتی تھی۔ اللہ دیا خاں صاحب کولھاپور کی بڑی معزز ہستی تھے۔ ان کے فن کی خوبیوں کی خود شاہو مہاراج بہت ہی محبت بھری عزت کیا کرتے تھے۔

کچھ خاص موقعوں پر ہاتھی کی ساٹھ ماری کا کھیل بھی منعقد کیا جاتا تھا۔ اسے دیکھنے کے لیے کئی بار تو ہم لڑکے سکول سے بھی چھٹی مارتے تھے۔ ساٹھ ماری کے کھیل میں ایک میدان میں ہاتھی کو مدہوش کر کے چھوڑ دیا جاتا۔ اس ہاتھی کے سامنے چند لوگ رنگین رومال ہلا ہلا کر اسے کافی غصہ دلاتے۔ غصّیل ہو کر جب وہ بدمست ہاتھی ان میں سے کسی آدمی پر دھاوا بول دیتا تو مخصوص لوگ شورشرابا کر کے اس کا دھیان بٹانے کی کوشش کرتے۔ اس کھیل میں کبھی کبھی تو متوالا بدمست ہاتھی کسی ایک شخص کے پیچھے پڑ جاتا۔ تب وہ شخص میدان میں بنائے گئے پتھر کے بُرجوں میں چھپ جاتا۔ جان بچانے والے میدان میں کچھ بُرج بنے ہوتے۔ کھیل کھیل میں بدمست ہاتھی آپے سے باہر ہو کر میدان میں من چاہا دوڑنے چنگھاڑنے لگتا۔ کبھی کبھی تو اس طرح بدمست ہاتھی سامنے نظر آنے والے آدمی کو اپنی سونڈ میں لپیٹ کر اونچا اٹھا لیتا۔ تب ہاتھی کے پیروں میں زبردست چٹکیاں کاٹ کر اسے آزاد کریا جاتا۔ ہم نے سنا تھا کہ دو ایک بار تو ایسا بھی دیکھا گیا کہ غصے میں پاگل ہاتھی نے آدمی کو سونڈ میں لپیٹ کر اوپر اٹھایا اور نیچے پٹک کر پیروں تلے روند ڈالا۔

ایسے میدان میں کبھی کبھی مدہوش ہاتھیوں کی آپس میں ٹکر بھی کرائی جاتی۔ مستی پر اتر آئے مدہوش ہاتھی کبھی تو مقابل ہاتھی کو اپنی سونڈ میں اتنا کس کر لپیٹتے اور اتنے زوروں سے دھکا دیتے کہ دیکھنے والوں کو لگتا کہ اب کسی نہ کسی ہاتھی کو جان سے مار کر ہی اس ٹکر کا کھیل رُکے گا۔ ایسی حالت میں پٹاخوں کی آواز، بارود کے انار اور آتش بازی کر کے ہاتھیوں کو ڈرایا جاتا، جس سے ڈر کر وہ دور ہو جاتے۔

کولھاپور کے اس طرح کے متنوع رنگارنگ ماحول میں میرا تن من شکل لے رہا تھا، اس ماحول کے ڈھانچے میں ڈھالا جا رہا تھا۔ میں دس سال کا ہو چکا تھا۔ شاہو مہاراج نے انھی دنوں کولھاپور میں ’ایرینا‘ سٹائل کی کشتیوں کے دنگل کا ایک شاندار میدان بنوا کر پورا کر دیا تھا۔ نئے دنگل میدان میں چالیس پچاس ہزار ناظرین آسانی سے بیٹھ سکتے تھے۔ انھوں نے کافی ماہر ہوشیار اور تیار پہلوانوں کو سہارا دیا تھا۔ میدان کے افتتاح کے موقع پر ہندوستان کے بڑے بڑے اور مشہور پہلوانوں کی کشیتوں کا انتظام کیا گیا تھا۔

آج بھی مجھے اچھی طرح یاد ہے، میں بھی ان دنوں اکھاڑے میں جا کر یوں ہی ڈنڑ (ڈنڈ) پیلنے لگا تھا، بیٹھکیں مارنے لگا تھا۔ تھوڑی بہت کشتی بھی کھیل لیتا تھا۔ ویسے میرا بدن تھا تو چھریرا ہی، جیسے سدا ماسی جی کا بھائی ہوں! پھر بھی اکھاڑے کی لال مٹی شوقیہ اپنی قمیض پر لگا لیتا اور مٹھیاں بغل میں دبا کر بانہوں کو پھلاتا ہوا بالشت بھر کا سینہ تان کر پہلوان کی اکڑ سے میں بھی سڑکوں پر یوں ہی سیرسپاٹا کر آتا تھا۔

میدان کے افتتاح کا دن آیا۔ سارے کولھاپور میں مسرت ٹھاٹھیں مارنے لگی تھی۔ جگہ جگہ، گاؤں گاؤں اور پاس پڑوس کے بڑے شہروں سے آئے پہلوانوں سے میدان کھِل اٹھا تھا۔ میدان کے باہر بھی کافی بڑا میلہ لگ گیا تھا۔ اس میں طرح طرح کے کھیل اور کھانے پینے کی دکانیں تھیں، چکر جھولے تھے۔ اس میلے میں کھانے پینے اور موج کرنے کے لیے باپو نے مجھے دو آنے دیے تھے۔ دو آنے! یعنی پورے آٹھ پیسے! ایسا لگتا تھا جیسے ساری دنیا کی دولت اس دن میری مٹھی میں آ گئی تھی۔

میلے کا مزہ لوٹتے لوٹتے، ٹہلتے بھٹکتے میں آرام سے چل رہا تھا۔ ایک جگہ پر کافی بھیڑ دیکھی۔ لوگوں نے ایک گھیرا سا بنا لیا تھا۔ اندر ایک آدمی چلّا چلّا کر لوگوں کا دھیان کھینچ رہا تھا۔ ’’ایک پیسے کے پانچ پیسے، ایک پیسے کے پانچ پیسے!‘‘ بھیڑ میں سے راستہ نکال کر میں سب سے آگے پہنچ گیا۔ اس آدمی نے زمین پر ایک چادر بچھائی تھی۔ اس پر چھ تصویریں تھیں: ہل، گھوڑا، مرغا، بیل، ہرن اور شیر! میں سارا ماجرا بڑی بےتابی سے دیکھتا رہا۔

اس آدمی کے ہاتھ میں ایک ٹین کا چھوٹا سا ڈبا تھا۔ اس کے اندر کوئی چیز رکھی تھی۔ ڈبا ہلتے ہی کھڑکھڑ کھڑکھڑ آواز سنائی دیتی تھی۔ گھیر کر کھڑے لوگوں میں سے کچھ لوگ چادر پر بنی تصویروں میں سے کہیں پر پیسے رکھے جا رہے تھے۔ کسی تصویر پر ایک، کسی تصویر پر دو، کسی پر تین تین بھی پیسے ڈالے گئے تھے۔ اس طرح سبھی تصویروں پر پیسے رکھے جانے کے بعد اس نے وہ ڈبا پھر ایک بار زور سے ہلا کر چادر پر الٹا رکھا۔ اب سب لوگ سانس روک کر اس ڈبے کو دیکھنے لگے۔ اس نے ڈبا اٹھا لیا۔ ڈبے کے اندر انھی چھ تصویروں والا ایک پانسا تھا۔ اس پر ہل کی تصویر اوپر آئی تھی۔ جس شخص نے ہل کی تصویر پر پیسہ لگایا تھا اسے پانچ پیسے مل گئے۔ وہ بہت خوش ہو گیا۔ مجھے بھی لطف آیا۔ ایک پیسہ لگانے کو میرا بھی جی کرنے لگا۔ ایک پیسہ لگا کر اگر پانچ پیسے مل گئے تو میلے میں کتنا ہی اور مزہ لیا جا سکتا ہے، میں نے سوچا۔ دماغ میں وہ پانسا الٹنے پلٹنے لگ گیا تھا۔
میرا ارادہ پکّا ہو گیا۔ میں نے بھی ایک پیسہ ہل پر ہی پھنیکا۔ ڈرتے ڈرتے، کھیل کب شروع ہوتا ہے، آنکھیں پھاڑ کر دیکھنے لگا۔

سبھی تصویروں پر پیسے پھینکے گئے تھے۔ وہ آدمی ڈبا کھڑکھڑانے لگ گیا تھا۔ میرا جوش انتہائی حد پر پہنچ گیا تھا۔ اس نے ڈبا پھر الٹا رکھ دیا اور آرام سے اٹھا دیا۔ مجھے اپنی آنکھوں پر بھروسا نہیں ہو رہا تھا! ہل والی تصویر پھر پانسے پر اوپر آ گئی تھی۔ مجھے پانچ پیسے مل گئے تھے۔ اب میرے پاس بارہ پیسے ہو گئے تھے۔ میلہ، مٹھائی، چکرجھولا وغیرہ، ساری باتوں کو بھلا بیٹھا تھا۔ سامنے بس وہ تصویریں، ان پر لگائے جانے پیسے اور زیادہ پیسے دلانے والے اس آدمی کے ڈبے کے اندر کا وہ پانسا ہی دکھائی دے رہا تھا!اب کی بار میں نے ہرن پر پیسہ لگایا۔ پھر وہی سب شور ہوا اور ڈبا اٹھانے سے پہلے کی وہی عجیب خاموشی چھا گئی۔

اس نے ڈبا اٹھا دیا۔ ہرن کی تصویر اوپر تھی۔ اے شاباش! میں پھر جیت گیا تھا۔ میری قسمت زوروں پر تھی۔ میں لگاتار جیتتا ہی چلا گیا۔ اب میرا حوصلہ بڑھ گیا تھا۔ میں تصویر پر ایک کے بجاے کبھی دو تو کبھی چار پیسے بھی لگاتا گیا۔ اس طرح میرے پاس پورے دو روپے کی ریزگاری جمع ہو گئی۔ اتنے پیسے میں نے کبھی اپنے پاس رکھے نہیں تھے۔

اب تو اس کھیل کا نشہ ہی مجھ پر سوار ہو گیا۔ میں اب تصویروں پر زیادہ پیسے لگانے لگا۔ لیکن بیچ بیچ میں میں ہارنے بھی لگا۔ ہارے ہوے پیسوں کو پھر سے جیتنے کی ضد بھی سر پر سوار ہوتی گئی۔ اور ساتھ ہی ہارنے کا سلسلہ بھی زوروں سے جاری رہا۔ میرے پاس جمع دو روپے کی ریزگاری میں سے صرف دو آنے ہی میرے ہاتھ رہے! باقی سارے پیسے میں ہار گیا تھا۔ بچے تھے صرف دو آنے! باپو کی طرف سے میلے میں کھانے پینے اور مزہ کرنے کے لیے دیے گئے دو آنے! لیکن میں انھیں بھی بھلا بیٹھا تھا۔ بس ایک ہی دھن سوار تھی۔ کچھ ہی لمحے پہلے، کچھ ہی لمحے پہلے میرے ہاتھ آئی وہ دو روپے کی ریزگاری مجھے پھر سے جیتنی ہے۔ میں کھیلتا گیا۔ پیسے لگاتا گیا۔ اب میرے پاس صرف ایک ہی پیسہ بچا تھا، آخری پیسہ! ہارے ہوے سارے پیسے پھر سے جیت سکنے کی خواہش دلانے والا وہی اکلوتا پیسہ تھا!

ان سبھی دیوی دیوتاؤں کو جن کے نام مجھے یاد تھے، یاد کر کے میں نے وہ آخری پیسہ پھر سے ’ہل‘ پر لگا دیا۔ پہلے پانچ پیسے اس تصویر نے جو جِتا دیے تھے۔ وہ آدمی ڈبا کھڑکھڑانے لگا۔ مجھے لگا، وہ بیکار ہی زیادہ آواز کیے جا رہا ہے۔ کیرتن کار کے وسیلہ سے سنایا گیا کوروؤں پانڈوؤں کے درمیان ہوئی جنگ کا، یعنی جوئے کا اکھیان (بیان) یاد آنے لگا۔ پھر سے سارے راج کو جیت لینے کی خواہش سے دھرم راج نے دروپدی کو بھی داؤ پر لگانے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں دکھائی تھی۔ میں تو صرف آخری پیسہ ہی لگا چکا تھا۔۔۔ بھئی یہ آدمی اس ڈبے کو کب تک کھڑکھڑاتا ہی رہے گا؟

آخر میں اس نے ڈبا الٹا رکھا۔ میں سانس روک کر دیکھنے لگا۔ روح آنکھوں میں آ گئی تھی۔ اس نے ہولے سے ڈبا اٹھا دیا۔ پانسے کے اوپر والے حصہ پر ہل کی تصویر نہیں تھی۔

ایک کونے میں بیٹھ کر میں جی بھر کر رویا۔ میں آخری پیسہ بھی ہار چکا تھا۔ میرے پاس پورے آٹھ پیسے تھے۔ لیکن میں مورکھ۔۔۔ بری باتوں کے لالچ میں باپو کے دئیے گئے سارے پیسے گنوا بیٹھا تھا۔ مٹھائی والے کی دکان میں لگی مٹھائی مجھ پر ہنس رہی تھی، مجھے چڑا رہی تھی۔ سامنے چکروں میں گھومنے والے جھولے بھی ’کرکر‘ آواز کرتے ہوے مجھے منھ بنا کر جیسے چِڑا ہی رہے تھے۔ لیکن اب کیا ہونا تھا؟ میں سارے پیسے ہار گیا تھا۔ میرے کومل من پر اس بات کا اتنا زبردست صدمہ ہوا کہ اس کے بعد جیون میں آج تک، مذاق کے لیے بھی، میں نے کبھی جوا نہیں کھیلا۔

میرے باپو کی کرانے کی دکان کوئی خاص نہیں چل پا رہی تھی۔ لوگ باگ نقد دینے کے بجاے ادھار لے جانا ہی زیادہ پسند کرتے تھے۔ اس لیے دکان سے ہونے والی آمدنی خاندان کے گزارے کے لیے کم پڑنے لگی۔ حالات بد سے بدتر ہوتے گئے۔ کئی بار ہم لوگوں کو اپنے مکان بھی بدلنے پڑے۔ ہر بار کرائے پر لیا گیا مکان پہلے مکان سے چھوٹا ہونے لگا۔ سوال کم کرائے کا جو تھا۔ آخر میں تو ہم منگلوار بازار میں ایک ایسے مکان میں پہنچ گئے جس میں ڈیڑھ کمرہ تھا۔

لہٰذا کریانے کی دکان کے ذیلی کاروبار کے طور پر باپو نے کہیں سے قرضہ لے کر بارہ(12) گیس بتیاں پونا جا کر خرید لیں۔ یہ گیس بتیاں شادی بیاہوں میں اور ناٹکوں کے استعمال کے لیے کرائے پر دی جاتی تھیں۔ شاہو مہاراج کی فیاضانہ شاہی سرپرستی کی وجہ سے مشہور ناٹک کمپنیاں اپنے ناٹکوں کا مظاہرہ کرنے کے لیے کولھاپور آتی تھیں۔

خاص باغ کے دنگل میدان کے ساتھ ہی مہاراج نے ’پیلس‘ نامی ایک نیا تھیٹر بھی بنوایا تھا۔ ’لکشمی پرساد‘ اور ’شِواجی‘ نامی دو پرانے تھیٹر بھی چلتے تھے۔ باپو کا ناٹک منڈلیوں کے قیام کی جگہوں پر آنا جانا تھا اور اچھی جان پہچان تھی۔ پیٹرومیکس جب کرائے پر جاتے تو میں بھی باپو کے ساتھ ان کی مدد کرنے کے لیے جایا کرتا تھا۔ گیس کی بتیاں جلانا، ان میں ہوا بھرنا، ہوا کو کم زیادہ کرنا، ایک ادھ ہی اچانک ہی جل اٹھتی تو اسے بجھا کر پھر جلانا وغیرہ کام مَیں کیا کرتا تھا۔

ان پیٹرومیکسوں کی وجہ سے اُن دنوں میں نے کافی ناٹک دیکھے۔ ناٹک مشہور اور اچھا ہوتا تو ماں بھی دیکھنے آیا کرتیں۔ اس زمانے میں عورتوں کے بیٹھنے کا الگ انتظام ہوتا تھا۔ عورتوں کے لیے اکثر تھیٹر کی اوپری منزل پر ایک طرف کا کمرہ مخصوص رہتا تھا۔ باقی ہم سب لوگ نیچے کی منزل پر کرسیوں پر بیٹھا کرتے تھے۔ وہ زمانہ سنگیت ناٹکوں کا تھا۔ سنگیت ناٹکوں کا کافی دھوم تھی۔ ان ناٹکوں کو مقبولیت بھی حاصل تھی۔ لیکن سنگیت ناٹکوں کا نام سنتے ہی اپنے تو رونگٹے کھڑے ہو جاتے تھے۔ بات یہ تھی کہ ان ناٹکوں میں جو گیت ہوتے تھے وہ اتنی دیر تک گائے جاتے کہ لگتا یہ ختم ہوں گے یا نہیں۔ پدگیان شروع ہوتے ہی مجھے جمائی جھپکی آنے لگتی۔ بیچ میں تالیوں کی گڑگڑاہٹ ہوتی تو میں چونک کر جاگ پڑتا اور تالیاں بجانے لگتا تھا۔ گیت ختم ہونے کی خوشی میری تالیوں میں زیادہ ہوا کرتی تھی۔ لیکن یہ اطمینان قلیل مدتی ہوتا، کیونکہ وہ تالیاں گیت ختم ہونے کے لیے نہیں بلکہ ’ونس مور‘ کے لیے ہوتی تھیں۔ پھر سے وہی گیت اور بھی زیادہ الاپ اور تسلسل کے ساتھ گایا جاتا۔ اس درمیان ناٹک کی کہانی وہیں رکی رہتی۔ اس پر میں اپنے چاروں طرف دیکھتا، یہ جاننے کے لیے کہ کہیں یہ سب لوگ پاگل واگل تو نہیں ہو گئے ہیں؟ لیکن سبھی ناظرین کو پھر سے وہی گیت گائے جانے پر بےحد خوشی ہوتی دکھائی دیتی، اور اپنے رام پھر سو جاتے!

کبھی کبھار ایسے ناٹک بھی آیا کرتے تھے جن میں گیت نہ ہوتے۔ لیکن عام ناظرین کا رجحان سنگیت ناٹکوں کی طرف ہی زیادہ تھا۔ جو بھی ہو، ناٹک کا پلاٹ وغیرہ باتیں سنگیت ناٹکوں سے زیادہ پسند تھیں۔ ’شاہو نگرواسی‘ نامی ایک ناٹک منڈلی صرف نثری ناٹکوں کے لیے کافی مشہور ہو چکی تھی۔ مشہور اداکار گنپت راؤ جوشی اس منڈلی کے مالک تھے۔ وہ خود ناٹکوں میں بہت ہی بہترین اداکاری کیا کرتے تھے۔ آواز زبردست تھی اور کافی دور تک آسانی سے سنی جا سکتی تھی۔ اداکاری تو ایک دم جاندار ہوتی تھی۔ جو بھی کردار گنپت راؤ کرتے، بس اس کے ساتھ ہی ایک روپ (یک جان) ہو جاتے تھے۔ ’رانا بھیم دیو‘ ناٹک میں بھیم دیو، ’پنّا دائی‘ میں پنّا کے شوہر اور ’ ہیملٹ‘ ناٹک میں ہیملٹ کا جو کردار گنپت راؤ کیا کرتے تھے، آج بھی مجھے اچھی طرح یاد ہے۔ میرا خیال ہے کہ ہیملٹ کا اُن کا کردار سب سے زیادہ مقبول تھا۔ جس دن جس کردار کی اداکاری کرنی ہوتی، گنپت راؤ اس دن وہی کردار بن جاتے تھے۔ اتنی جان وہ اپنی اداکاری میں لایا کرتے تھے۔ ہیملٹ ناٹک کا ایک سین تو میں آج تک بھلا نہیں پایا ہوں۔

ہیملٹ کے باپ کا قتل اس کا چچا کرتا ہے۔ اس کی ماں بعد میں اسی چچا کے ساتھ شادی کر لیتی ہے۔ ہیملٹ ان دونوں کے سامنے اپنے باپ کے قتل کا ناٹک کراتا ہے۔ اُس ناٹک کو دیکھنے کے بعد اُس کے چچا اور ماں دونوں بےچین ہو کرتذبذب میں مبتلا ہو کر وہاں سے چلے جاتے ہیں۔ اُس ناٹک کا مطلوبہ نیتجہ برآمد ہوا دیکھ کر ہیملٹ کا کردار ادا کرنے والے گنپت راؤ جوشی ایک دم ایک بچّے کی حرکت سے اچھل کر اپنا مکالمہ ’’تالی دو پریالا، تالی!‘‘ ادا کرتے۔ اِس طرح بولنے کی اُن کی اس ادا پر تالیوں کی گونج سے ناظرین سارا تھیٹر گونجا دیتے تھے۔ میری بھی پُرجوش تالیاں اُن میں شامل رہا کرتی تھیں۔

اُس زمانے میں عورتوں کے کرداروں کی ادا کاری مرد ہی کیا کرتے تھے۔ بھلے چنگے مردوں کو عورتوں جیسی ساڑھیاں پہن کر تھیٹر میں کام کرتے دیکھ کر مجھے بہت ہی عجیب لگتا تھا۔ بدسلیقہ، بے سرو پیر، اٹ پٹا لگتا تھا۔ ایک دن میں نے باپو سے پوچھ ہی لیا کہ ناٹکوں میں عورتوں کا پارٹ مرد کیوں ادا کرتے ہیں؟ باپو نے صاف لفظوں میں دھتکار دیا تھا۔ ’’چل ہٹ، تم تو نرے بے وقوف ہو!‘‘ ناٹکوں میں عورتوں کا پارٹ مردوں کی طرف سے کیا جانا اور میری بےوقوفی، دونوں کا کیا تعلق ہے، میری سمجھ میں تو خاک نہیں آیا۔

ایک بار کولھاپور میں صرف عورتوں کی ایک ناٹک منڈلی آئی تھی۔ ان کا دستور ایک دم الٹا تھا۔ ان کے ناٹکوں میں ہیروئن یا اس کی سہیلیوں کا کردار نوجوان عورتیں ادا کرتی تھیں۔ اس میں وہ خوب پھبتی بھی تھیں۔ لیکن ناٹک کے ہیرو یا دیگر مرد کرداروں کی ادا کاری انھی دوشیزاؤں کی مائیں یا خالائیں چچیاں کرتی تھیں تو وہ بہت ہی بھونڈی لگتی تھیں۔ ان کا انگ بھدا ہی رہتا تھا۔ مردوں کا بھیس اختیار کر کے جب وہ اپنے گھیرے دار کولھے مٹکاتی سٹیج پر اِدھر سے اُدھر چلتیں تو میں ہنسی سے لوٹ پوٹ ہو جاتا تھا۔

ان سب باتوں کے ساتھ ہی میری تعلیم بھی دھیرے دھیرے آگے بڑھ رہی تھی۔ ہر سال پاس ہوتے ہوتے میں پرائیویٹ انگریزی ہائی سکول کی تیسری جماعت میں جا پہنچا تھا۔ زبان اور پینٹنگ کے مضامین میں ترقی کافی اچھی تھی۔ ریاضی کے ساتھ میری ذرا کم ہی بنتی تھی۔

سال کے آخر میں سکول میں ایک میلہ ہوا کرتا تھا۔ اُس کی تیاری کافی دن پہلے ہی شروع ہو جاتی تھی۔ اس وقت سکول میں سارا ماحول کافی جوش و خروش اور میل ملاپ کا ہوا کرتا تھا۔ ہر میلے میں ایک اچھا مقبول ہو چکا ناٹک سٹیج کیا جاتا۔ اس کا انتظام طلبا ہی کرتے۔ اس ناٹک کو پیش کرنے، اس کی ہدایتکاری، ریہرسل کرانے میں ساٹھے گروجی ہمیشہ پہل کرتے۔ سال بھر ایک دم مشکل، سخت اور غصّیل رہنے والے ساٹھے گروجی ناٹک کے دنوں طلبا سے بڑی ہی ملنساری کا مظاہرہ کرتے تھے۔ ہنسی مذاق سے ماحول بھر دیا کرتے تھے۔

اس سال نرسنگھ چنتامنی کیلکر کا لکھا ’توتیا چے بنڈ‘ نامی تاریخی ناٹک سٹیج کرنے کے لیے چنا گیا تھا۔ سبھی اہم پارٹ بڑی کلاس والے طلبا کو دیے جا چکے تھے۔ میرا خالہ زاد بھائی بابو (بابوراؤ پنڈھارکر) بھی ایک کردار پانے میں کامیاب ہو گیا تھا۔ پتا نہیں کیوں اور کیسے، مجھے، دادا ( کاشی ناتھ) کو اور میرے ایک اور خالہ زاد بھائی بھالو (بھالجی پنڈھارکر) کو بھی اس ناٹک میں پارٹ مل گئے تھے۔ ہمیں قلعے کے باہر پہرہ دینے والے محافظوں کے کردار ملے۔ میں تو بہت ہی خوش تھا۔

ناٹک کی تعلیم شروع ہو گئی۔ میرا کردار ویسے بہت ہی چھوٹا سا تھا، اس لیے میرے پاس فالتو وقت کافی ہوا کرتا تھا۔ اس کا استعمال میں تعلیم کے وقت باقی سب کے کرداروں کا، ان کے مکالموں کے ڈھنگ کا، اور خاص اداکاری کا باریکی سے جائزہ لینے میں کیا کرتا تھا۔ کسی منچلے لڑکے نے یہ بات ساٹھے گروجی کے پاس چغل خوری کر کے پہنچا دی۔

شام کو ناٹک کی ریہرسل ہوئی۔ اس کا ناظرین کے سامنے مظاہرہ کل پرسوں ہونے والا تھا۔ ساٹھے گروجی نے اپنی کڑکتی آواز میں مجھے پکارا: ’’شانتارام، ادھر آؤ۔ کیوں بچے جی، سنا ہے تم ہر کسی کی نقل کرتے پھرتے ہو؟ ہیں؟ ماجرا کیا ہے؟‘‘

’’نا۔۔۔ نا۔۔۔ نا۔۔۔ نا۔۔۔ ہیں۔‘‘
’’نہیں؟ جھوٹ بولتے ہو؟ گدھے کہیں کے!‘‘ گروجی گرجے۔ مجھے لگا اب تو ناٹک کا پارٹ ختم ہی سمجھو۔
’’ن۔۔۔ نہیں سر،۔۔۔ سر،۔۔ جی۔۔ ہاں۔۔۔ گروجی۔۔‘‘

’’یہ نہیں اور جی کیا لگا رکھا ہے؟ پاگل ہو گئے ہو کیا؟ میں بھی تو دیکھوں، کیسی نقل کرتے ہو!‘‘ گروجی کی مونچھوں میں مسکان کھِلی۔ کمال ہو گیا۔
اس سے مجھے ڈھارس بندھ گئی۔ میں نے سب سے پہلے اپنے باپو کی نقل کر کے دکھائی۔ لگا کہ گروجی کو پسند آئی۔ میری بھی ہچکچاہٹ جاتی رہی۔ پھر تو میں نے باری باری سے ناٹک کے سبھی کرداروں کی نقلیں ان کی ٹھیک ادا کے ساتھ پیش کر دیں۔ سبھی لڑکے کھلکھلا کر ہنس رہے تھے۔ ساٹھے گروجی کی مونچھیں بھی ہنسنے کی وجہ سے بِلّے کی مونچھ جیسی پھیل گئی تھیں۔

اب تو میرا سارا ڈر ختم ہو گیا تھا۔ میں نے ساٹھے گروجی سے پوچھا، ’’سر، اس فلم میں کام کرنے والے لوگوں کے چلنے کی اٹھنے بیٹھنے کی، گرنے کی نقل میں کر کے دکھا سکتا ہوں۔ دیکھنا پسند کریں گے آپ؟’’

گرو جی نے ’’ہاں‘‘ کہا۔ میں نے ’فولز ہیڈ‘ فلم باپو کے ساتھ دیکھی تھی۔ وہ خاموش فلم تھی اور بےحد مزاحیہ تھی۔ بہت مزہ آتا تھا۔ ان دنوں فلمیں خاموش ہی ہوا کرتی تھیں۔ سنیما سکرین کی ساری مشینری ابھی بنیادی ابتدائی حالت میں ہونے کی وجہ سے شوٹنگ میں اور کئی بار تو فلم دیکھتے وقت بھی کرداروں کی سر گرمیاں کافی دلچسپ ہو جاتی تھیں۔ ایسا دکھائی دیتا تھا کہ کرداروں پر کپکپی طاری ہے، انھیں جھٹکے لگتے معلوم ہو رہے ہیں۔ میں نے اس فلم کے سبھی کرداروں کی نقل اس کپکپی اور ان جھٹکوں کے ساتھ کر کے دکھا دی۔ ہنستے ہنستے لڑکوں کے پیٹ میں بل پڑتے دکھائی دیے اور گروجی تو بہت زیادہ ہنسنے کی وجہ سے آنکھوں میں آیا پانی اپنے اپرنے سے پونچھتے نظر آئے۔

فن فیئر کا دن آ گیا۔ صبح سے ہی سکول میں کافی چہل پہل ہونے لگی۔ شروع میں طرح طرح کے کھیل ہوے۔ مختلف قسم کے مقابلے بھی ہوے۔ اس میں ہی صبح کا سارا وقت بیت گیا۔ ساتھ مل کر کھانے کا پروگرام ہوا۔ اس کے بعد ساری دوپہری گپیں لڑانے، بند کمروں میں کھیلے جانے والے کھیل کھیلنے میں کب بیت گئی، پتا ہی نہ چلا۔ شام ہوتے ہی ہم ناٹک میں کام کرنے والے لڑکے اس کی تیاری میں جٹ گئے۔ ہر کوئی جلدی میں تھا۔ اس سال ہمارا ناٹک ’’پیلس‘‘ تھیٹر میں ہونے والا تھا۔

ناٹک شروع ہو گیا۔ تین چھوٹے چھوٹے محافظوں کی آمد شروع ہوئی۔ یہ تین محافظ تھے میں، بھالو اور دادا۔ بھالو گانا گایا کرتا تھا، دادا اِکتارا بجاتا اور میں جھانجھ۔ ہم تینوں اپنے کرداروں میں کھو گئے تھے۔ گانے کی لِے بدلتے ہی میری جھانجھ بجنے کا ڈھنگ بھی اپنے آپ بدل جاتا تھا۔ لوگوں نے تالیوں کی گڑگڑ اہٹ کی۔ مجھے لگا شاید بھالو کے گانے کو داد دی گئی ہے۔ ہم تینوں خوش ہو کر وِنگ میں واپس چلے گئے۔ گروجی ونگ میں ہی کھڑے تھے۔ شاباشی دینے کے انداز میں میری پیٹھ تھپتھپاتے ہوے بولے، ’’واہ بھئی! بہت بہت شاباش! کیا ہی بڑھیا لَے تال میں جھانجھ بجائی ہے تم نے۔ لوگوں کی تالیاں جو سمیٹیں! بہت اچھے!‘‘ سن کر میرا بھی جی بھر گیا۔

ناٹک ختم ہوا۔ سارے ناظرین چلے گئے۔ اب تو تھیٹر میں بچے تھے سکول کے طلبا اور ناٹک میں کام کر چکے طلبا۔ گروجی نے اچانک پھر مجھے آواز دی۔ بولے، ’’ہاں تو شانتارام، ہو جائے اب تمھاری نقلوں کا پروگرام!‘‘

آہستہ آہستہ میری نقلیں کر دکھانے کا فن کی شہرت کافی پھیل گئی۔ ہمارے باپو نئے قائم ہوے دیول کلب میں ہمیشہ جایا کرتے تھے۔ کولھاپور میں بابا دیول نامی ایک سنگیت پریمی سجن نے اس کلب کو حال ہی میں قائم کیا تھا۔ کولھاپور کے لکشمی پرساد تھیٹر کے پچھواڑے میں لوکتوکے نامی سجن رہا کرتے تھے۔ ان کے گھر کی اوپری منزل پر دیوان خانے میں یہ دیول کلب تھا۔ اس کلب کی زیر نگرانی باہر گاؤں سے آئے بڑے بڑے گایکوں (گویّوں) کی محفلیں برپا کی جاتی تھیں۔ دوسری صورت میں وہ لوگوں کی گفتگو کا ایک اڈا ہوتا تھا۔ ایسے موقعوں پر کئی بار نقلیں کرنا، چٹکلے سنانا جیسے پروگرام بھی ہوتے تھے۔ کئی بار ہمارے باپو بھی نقلیں کیا کرتے تھے۔ ایک شرابی کی نقل اور ایک توتلے نائی اور اس کے توتلے گاہک کی باپو کی طرف سے پیش کی جانے والی نقلیں کافی مقبول ہو چکی تھیں۔ ان توتلوں کی نقل پیش کرتے کرتے باپو بھی تھوڑا سا تُتلانے لگے تھے۔

کولھاپور کے مشہور ہارمونیم فنکار گووِندراؤ ٹینبے نے تھیٹر کے مشہور گائیک، اداکار بال گندھرو اور گنپت راؤ بوڈس کے تعاون سے ’گندھرو‘ نامی منڈلی قائم کی تھی۔ دورہ کر کے جب کولھاپور آتے تو اس دیول کلب میں بھی آتے تھے۔ ایک دن بابا دیول جی نے گوبند راؤ جی ٹینبے کے سامنے مجھے اپنے سکول میں پیش کی گئی ساری نقلیں کر کے دکھانے کو کہا۔ گوبند راؤ جی کو وہ بہت بھائیں۔ بعد میں میں تو گھر چلا آیا۔ تھوڑی دیر بعد باپو بھی گھر آئے۔ کھانا کھاتے وقت انھوں نے ماں سے کہا، ’’آج گوبند راؤ جی نے شانتا رام کی نقلیں دیکھیں۔ انھوں نے اسے خوب سراہا۔ کہہ رہے تھے، تمھارا یہ شانتارام کافی چست دماغ والا لڑکا معلوم ہوتا ہے۔ تمھارے پانچ لڑکے ہیں۔ کیوں نہیں ایک کو ہماری ناٹک کمپنی میں بھرتی کراتے؟‘‘
ماں نے باپو سے پوچھا، ’’آپ نے کیا کہا؟‘‘
’’میں نے منع کر دیا۔‘‘

ماں کے چہرے پر اطمینان جھلکتا دکھائی دیا۔ میں نے یہ ساری باتیں سن لی تھیں۔ کھانا کھانے کے بعد باپو اکیلے ہی آرام سے بیٹھے تھے۔ میں ان کے سامنے جا کر کھڑا ہو گیا اور کہا، ’’باپو، میں ناٹک کمپنی میں جاؤں گا۔‘‘
باپو منھ بنائے دیکھتے ہی رہ گئے۔ بات بدلنے کے مقصد سے بولے:
’’ارے بھئی، وہ تو گنپت راؤ نے یوں ہی کہہ دیا تھا۔‘‘
’’انھوں نے بھلے ہی یوں ہی کہا ہو، لیکن میں ناٹک کمپنی میں جانا چاہتا ہوں۔‘‘

کوئی بات من میں بیٹھ جانے کے بعد فوراً فیصلہ کرنے کا رجحان شاید ان دنوں بھی مجھ میں رہا ہو گا۔ باپو نے مجھے اپنے پاس بیٹھا کر کافی سمجھایا۔ ناٹک کمپنی میں ماحول کیسا ہوتا ہے۔ بری عادتوں اور لتوں میں پڑے لوگوں کے ساتھ بیٹھے رہنا پڑتا ہے۔ ہمیشہ گھر سے دور ہی کیسے کیسے دورے نکلتے ہیں۔ پھر پڑھائی لکھائی گول ہو جاتی ہے۔ سوانگ وغیرہ، ساری باتیں وہ مجھے کافی دیر تک سمجھاتے رہے، ہدایتیں دیتے رہے، انتباہ بھی کرتے رہے۔ لیکن مجھ پر ناٹک کمپنی میں بھرتی ہونے کا نشہ سا سوار ہو چکا تھا۔

آخر باپو نے ہار مان لی۔ مجھے ساتھ لے کر وہ پونا میں گندھرو ناٹک کمپنی میں گئے، مجھے گوبند راؤ کے سپرد کیا اور بولے:
’’آپ کی خواہش کے مطابق اِس شانتارام کو یہاں لے آیا ہوں۔ اب آپ ہی اس کا پالن کیجیے۔‘‘ کہتے کہتے باپو کا گلا رُندھ گیا۔ سسکی کو وہ روک نہ سکے۔ فوراً ہی آنکھیں پونچھتے پونچھتے وہ وہاں سے چلے گئے۔

(جاری ہے)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لالٹین پر وی شانتا رام کی خود نوشت سوانح کا ترجمہ سہ ماہی “آج” کے بانی اور مدیر “اجمل کمال کے تعاون سے شائع کیا جا رہا ہے۔ اس سوانح کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
[blockquote style=”3″]

انتساب: میں ترجمے کا یہ عمل دو ہستیوں کے نام کرتی ہوں، اپنے دادا ابو شوکت علی کہ انہوں نے اس ایلس کی راہ کے کانٹے چنے اور اپنی ہندی گرو مسز شبنم ریاض کہ جنہوں نے ایلس کو ایک نئی دنیا کا راستہ دیکھایا۔

[/blockquote]

Categories
نان فکشن

شانتا راما – باب 1: ہتھیلی بھر دہی (ترجمہ: فروا شفقت)

[blockquote style=”3″]

’’شانتاراما‘‘ برصغیر کی فلم انڈسٹری کے بانیوں میں شامل وی شانتا رام کی آپ بیتی ہے جو انھوں نے اپنی آخری عمر میں مراٹھی میں بول کر لکھوائی اور چھپوائی تھی۔ بعد میں اس کا ہندی روپ شائع ہوا۔ شانتارام جن کا پورا نام شانتارام راجارام وانکودرے تھا، 18 نومبر 1901 کو پیدا ہوے اور کو پیدا ہوے اور 30 اکتوبر 1990 کو وفات پائی۔ مہاراشٹر کے شہر کولھاپور میں، جو برٹش راج کے دور میں ایک رجواڑے یا نوابی ریاست کا صدرمقام تھا، انھوں نے خاموش فلمیں بنانے سے آغاز کیا اور بعد میں پونا اور بمبئی میں مراٹھی اور ہندی کی بےشمار فلمیں بنائیں۔ اس طرح شانتارام کی لمبی پیشہ ورانہ زندگی کی دلچسپ داستان اس خطےکی فلمی دنیا کی تاریخ بھی ہے۔ اس تاریخ کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے کرداروں میں مختلف علاقوں، ذاتوں، زبانوں، طبقوں اور پیشوں کے لوگ شامل ہیں جنھوں نے مل کر ایک رنگارنگ منظرنامہ تیار کیا جس کی جھلکیاں اردو میں سعادت حسن منٹو کی ان تحریروں میں ملتی ہیں جن کا پس منظر 1940 کی دہائی کا بمبئی شہر اور وہاں کی فلمی دنیا ہے۔ ’’شانتاراما‘‘ میں اس دنیا کے رفتہ رفتہ بننے اور پھیلنے کی کہانی بڑے بےتکلف اور دلچسپ اسلوب میں بیان کی گئی ہے۔ شانتارام کی معروف ہندی فلموں میں سے چند کے نام یہ ہیں: ’’ڈاکٹر کوٹنِس کی امر کہانی‘‘ (1946)، ’’امر بھوپالی‘‘ (1951)، ’’جھنک جھنک پایل باجے‘‘ (1955)، ’’دو آنکھیں بارہ ہاتھ‘‘ (1957)۔ ’’شانتاراما‘‘ کا اردو روپ ہندی متن کی بنیاد پر فروا شفقت نے تیار کیا ہے جو گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں پی ایچ ڈی سکالر ہیں۔

[/blockquote]
میں چار یا پانچ سال کا بچہ تھا، شاید تب کی بات ہے۔ ہم لوگ کولھاپور سے کہیں دور گاؤں میں رہتے تھے۔ میں، دادا (مجھ سے بڑا بھائی)، ماں اور باپو، ڈیڑھ سال کا چھوٹا بھائی کیشو۔ میں اور دادا گھر کی دہلیز پر بیٹھے آنگن میں جو کچھ ہو رہا تھا، دیکھ رہے تھے۔

آنگن میں ایک اجنبی بابا آئے تھے۔ انھوں نے ایک بڑی سی ٹکٹھی (سٹینڈ) پر ایک بھورے رنگ کی لکڑی کی ایک پیٹی جمائی تھی۔ ٹکٹھی بھی لکڑی کی، پیٹی بھی لکڑی کی۔ پیٹی پر سے ہوتا ہوا ایک کالا پردہ ڈالا تھا۔ پہلے باپو گھر سے باہر آئے۔ انھوں نے سر پر رومال باندھا ہوا تھا، کندھے پر اَپرنا (انگوچھا) لیے ہوئے تھے۔ آنگن میں آتے ہی انھوں نے ماں کو پکارا۔ ماں بھی جلدی جلدی باہر آگئیں۔ ماں نے بہت اچھے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ ماں اور باپو اس چوکھٹی پیٹی کے سامنے کھڑے ہو گئے۔

ماجرا کیا ہے؟کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔ اس پیٹی کی طرف انگلی دِکھا کر میں نے ماں سے ڈرتے ڈرتے پوچھا، ’’آئی (ماں)، وہ کیا چیز ہے؟آپ لوگ کیا کر رہے ہیں؟‘‘
جواب باپو نے دیا، ’’یہ فوٹو اتارنے کی مشین ہے، کیا سمجھے؟‘‘
میں گھبرایا سا دیکھ رہا تھا۔ پھر پوچھ بیٹھا، ’’تو آپ یہاں کھڑے کیوں ہیں؟‘‘
’’ارے، یہ بابا ہیں نا، یہ ہماری فوٹو اتار رہے ہیں۔ چلو ہٹو، ایک طرف ہو جاؤ۔ ‘‘
فوٹو کا نام لیتے ہی میں اور دادا دونوں ضد کر بیٹھے۔ ہم بھی فوٹو میں آئیں گے!
کاشی ناتھ دادا اس وقت چھ سات سال کا ہو گا۔ آئی اور باپو نے باربار ہمیں سمجھانے کی کوشش کی، لیکن ہم بھلا کہاں ماننے والے تھے۔ بس گلا پھاڑ کر رونا شروع کر دیا۔ ایسا ہنگامہ کھڑا کر دیا کہ پوچھیے نہیں! مٹی میں لیٹ کر ہاتھ پاؤں پٹکنے لگے۔ آنگن میں لوٹ پوٹ ہونے لگے۔

آخرکار اس فوٹو والے بابا نے کہا، ’’راجارام باپو، ان دونوں بچوں کو اپنے اغل بغل میں کھڑا ہونے دیجیے۔ کیا فرق پڑنے والا ہے!‘‘ ہم دونوں کی باچھیں کھِل گئیں۔ کودتے پھاندتے اندر گئے، ٹوپی پہنی، تلک لگایا اور روتی شکل کو ہنس مکھ بنا کر باہر آئے۔

فوٹو والے بابا اس کالے پردے کے اندر گھسے، باہر آئے اور بولے، ’’دیکھیے، ہم ایک… دو… تین… کہیں گے۔ ہلنا ڈولنا نہیں۔ ایک دم بت جیسے کھڑے رہنا۔‘‘
ہم سب لوگ سانس روکے کھڑے رہے۔ بابا نے اس بھوری پیٹی کے سامنے لگا ایک گول ڈھکنا اٹھایا اور زور سے بولے، ’’ایک…دو… اور یہ تین! ‘‘ وہ گول ڈھکنا اس نے پھر سے اس پیٹی پر لگا دیا۔ بس اتر آئی فوٹو۔

اس کے دو تین دن بعد میں نے آئی اور باپو کو فوٹو دیکھتے ہوئے دیکھا۔ میں تو کھیلنے کی دھن میں فوٹو والی بات ہی بھول گیا تھا۔ بیتاب، میں بھی پیچھے سے جھانک کر دیکھنے لگا۔ فوٹو تو صرف آئی اور باپو کی ہی نکلی تھی، اور وہ بھی صرف کمر تک ہی۔ ہم دونوں بھائیوں کا فوٹو میں نام و نشان بھی نہیں تھا۔ پھر رونا پیٹنا ہوا۔

آخر باپو نے سمجھایا، ’’ ارے بابا، بات یہ ہے کہ ابھی تم لوگ چھوٹے سے ہو، اسی لیے فوٹو میں نہیں آئے ہو۔ آپ لوگ ہمارے جیسے اونچے ہو جاؤ گے تو آپ کی بھی فوٹو برابر نکلے گی۔ ‘‘

باپو کی بات ہماری سمجھ میں آ گئی۔ ان کی اس بات پر پورا بھروسا رکھ کر میں بیتابی سے اونچا ہونے کا انتظار کرنے لگا۔

میری بچپن کی یادیں فوٹو نکالنے کے اس زمانے کے بھی سیدھے سادے طریقے کے جیسی ہی ہیں! وقت کے ساتھ کچھ دھندلی ہو گئی ہیں، گھٹاؤں سے گھر گئی ہیں، تو کچھ ایک دم دھنک جیسی ست رنگی ہیں۔ کچھ تو بس صرف نیگیٹو جیسی ہیں، جس کی چھاپ کچھ وقت بعد ہی یادداشت پر اٹھتی ہے، اور کچھ یادیں تو پتا نہیں کہاں کھو گئی ہیں، بکھر گئی ہیں۔ ٹھیک اس فوٹو کی طرح جو اس فوٹوگرافر نے مجھے اور دادا کو چھوڑ کر نکالی تھی۔

لگاتار بہتی ہی جانے والی ندی کی دھارا کی مانند میرا جیون طوفانی رفتار سے آگے بڑھتا چلا گیا۔ ندی کی فطرت کی طرح ہی پورے جوش کے ساتھ کِل کِل کرتے آگے بڑھتے وقت کے ساتھ کہیں حسین ٹاپو بن گئے، کہیں خوفناک بھنور، تو کہیں بیچ دھارا میں اتھاہ ڈباؤ۔ جیون دھارا نے کبھی بڑے درختوں کو جڑوں سے اکھاڑ دیا، کبھی کائی اور گھاس جھکتے گئے۔ کبھی کبھی تو جیون اچانک ایسے ایسے موڑ سے گزرا کہ سوچ کر حیرانی ہوتی ہے، آخر ان سب کا راستہ دکھانے والا کون ہے، کنٹرولر کون ہے؟اس جل دھارا کی اپنی تیز رفتار یا قسمت؟

فوٹو نکلنے کا یہ واقعہ تب پیش آیا جب ہم اس بڑے گھر کے ایک بڑے کمرے میں رہتے تھے۔ اب کچھ دھندلا سا یاد ہے، وہاں رہنے والے لوگ گاؤں گاؤں جا کر ناٹک کھیلا کرتے تھے۔ میرے باپ راجارام باپو باباجی ونکوٹے کو وہ سب لوگ ’منیجر‘ کہہ کر پکارا کرتے تھے۔ ایسا لگتا تھا کہ میرے باپو ان لوگوں کے خیال میں بہت اہم شخص تھے۔ یہ لوگ ’شاردا‘ نامی ایک ناٹک کھیلا کرتے تھے۔ ناٹک میں میرا دادا شاردا کے چھوٹے بھائی کا کردار ادا کرتا تھا۔ ناٹک کا ایک سین آج بھی مجھے اچھی طرح یاد آتا ہے۔

شاردا کو شادی کے لیے پسند کرنے کے لیے کچھ لوگ آتے ہیں۔ وہ سوال کرتے ہیں، ’’بیٹا، تم کہاں تک پڑھی ہو ؟‘‘شاردا اس سوال کا ٹھیک ڈھنگ سے جواب دیتی ہے۔ پھر وہ لوگ اس کے چھوٹے بھائی سے بھی یہی سوال کرتے ہیں۔ تب دادا پیر کا انگوٹھا پکڑ، اسے ان لوگوں کے سامنے ترچھا ہلاتے ہوئے کہتا، ’’مجھے کُو…چھ بھی نہیں آتا۔ ‘‘ دادا کے اس پردرشن (مظاہرے) پر اور ’’کو…چھ (کچھ) بھی نہیں‘‘ کہنے کی ادا پر ناظرین ٹھہاکا مار کر ہنس پڑتے تھے۔ دادا کی جو پذیرائی ہوتی تھی اسے دیکھ کر میرے بھی من میں ناچار کچھ ویسا ہی کرنے کی خواہش جاگتی تھی۔

اس کے بعد، پتا نہیں کب، ہم لوگ کولھاپور آ گئے۔ آگے چل کر اس ناٹک کمپنی کا کیا بنا اور ہمارے باپو نے اسے کیوں چھوڑ دیا، میں نہیں جانتا۔ کولھاپور میں جوشی راؤ کا گنپتی کا ایک مندر ہے۔ اس کے پیچھے والی ایک تنگ سی گلی میں ہم لوگ رہا کرتے تھے۔ ہمارے ہاں ہماری ایک موسی (خالہ) کا ہمیشہ آناجانا رہتا تھا۔ ہم لوگ اسے’’مائی‘‘ کہا کرتے تھے۔ آئی اور مائی سگی بہنیں تھیں۔ ویسے مائی کا نام رادھا تھا لیکن چونکہ وہ آئی سے بڑی تھی، آئی اسے ’’اکاّ‘‘ کہہ کر پکارا کرتی تھی، میری ماں کا نام کملا تھا۔ مائی کے سارے بچے پیار میں لاڈ سے میری ماں کو ’’ننو‘‘ کہہ کر پکارا کرتے تھے۔

میرے نانا کولھاپور میں وکالت کرتے تھے۔ ہم لوگ انھیں بابا کہا کرتے تھے۔ ہر روز کچہری سے لوٹتے وقت وہ سبزی منڈی سے ساگ سبزی لے آیا کرتے۔ میں کبھی کبھی ان کے ساتھ جایا کرتا تھا۔ سبزی بیچنے والیوں کے ساتھ وہ بہت زیادہ بھاؤتاؤ کرتے۔ کئی بار تو خود ہی تھوڑی سی زیادہ سبزی ان سے چھین کر اپنے جھولے میں رکھ لیتے۔ نتیجہ یہ رہا کہ بابا کو بازار میں آتا دیکھتے ہی سبزی والیاں منھ پھیر لیتیں اور آپس میں ایک دوسری کو ہوشیار کر دیتیں:’’وکیل آیا ری، وکیل آیا!‘‘ بابا ہم بچوں سے بہت پیار کرتے۔ ہر روز شام کے کھانے کے بعد وہ ہمیں اچھی اچھی کہانیاں سناتے اور تھپک کر سلاتے۔ ان کا اصرار رہتا کہ بچوں کو رات آٹھ بجے سے پہلے ضرور ہی سو جانا چاہیے۔

کسی کے یہاں سے بابا کو کھانے کا دعوت نامہ آتا تو ہم شرارتی بچے ان کے واپس آنے کا بڑی بیتابی سے انتظار کیا کرتے۔ ان دنوں رواج تھا کہ کسی کے یہاں دعوت پر کھانے کے لیے جانا ہو تو پینے کا پانی بھر لوٹا اور پیالہ ساتھ میں لے جانا چاہیے۔ لیکن بابا کے لوٹے میں کبھی پانی نہیں ہوا کرتا تھا۔ لوٹا بھی اچھا خاصا بڑا ہوتا تھا۔ اس خالی لوٹے میں بابا مٹھائی، جیسے لڈو، جلیبی وغیرہ، ہمارے لیے چھپا کر لے آتے۔ گھر لوٹتے ہی وہ ساری مٹھائی ہمیں بانٹ دیا کرتے۔ ہم لوگ بہت ہی آنند کے ساتھ ان چیزوں کا مزہ لیتے تھے۔

نانی کی شاید ایک ہی بات یاد ہے۔ یوں تو ایسا موقع یاد ہی نہیں آتا کہ انھوں نے کبھی لاڈپیار سے مجھے بیٹھایا ہو، کبھی دُلار سے سہلایا ہو۔ ہم لوگ نانی سے بہت ڈرا کرتے تھے۔ اس کی واحد یاد من میں بیٹھ گئی۔ وجہ اس کی کچھ نرالی ہی تھی۔ ہمارے باپو بیڑی پیتے تھے۔ جہاں تک ہو سکے وہ ہم بچوں کے سامنے بیڑی پینا ٹال دیتے تھے، پھر بھی ہم لوگ انھیں بیڑی پیتے دیکھ ہی لیتے۔ ان کی ناک سے بیڑی کا دھواں نکلتا۔ کم سے کم مجھے تو اس دھویں کے لیے بڑی کشش محسوس ہوتی تھی۔ باربار میں اپنے آپ سے پوچھتا، ’’کیا مزہ آتا ہو گا بیڑی کا کش لگانے میں؟‘‘ دوپہر کا وقت تھا۔ گھر میں سناٹا تھا۔ باپو کی پی کر پھینکی گئی بیڑی کا ایک ٹکڑا مجھے مل گیا۔ چولھے سے میں نے انگارہ نکالا اور وہ بیڑی سلگائی۔ طبیعت سے ایک زوردار کش لگایا ہی تھا کہ زبردست کھانسی آ گئی اور اس کے ساتھ ہی ایک کس کے جھانپڑ پڑا۔ پیچھے مڑ کر دیکھا۔ نانی یاد آ گئی۔ خود نانی جی غصے سے لال پیلی کھڑی تھیں۔ مجھے تو جیسے سانپ سونگھ گیا۔

’’بیڑی پینے لگا گدھے کے بچے! پیے گا پھر سے؟ لگائے گا ہاتھ بیڑی کو؟ بول!‘‘ کہتے ہوئے انھوں نے مار مار کر میرا حلیہ ٹائٹ کر دیا۔ ’’میں پھر بیڑی نہیں پیوں گا…نہیں پیوں گا بیڑی…‘‘ روتے روتے میں گڑگڑا کر بولا۔

بس، نانی کی یہی ایک یاد آج بھی تازہ ہے۔ میں اسے کبھی بھلا نہیں پایا۔ تب سے آج تک اتنے سال بیت گئے، بیڑی یا سگریٹ پینے کا لالچ مجھے کبھی نہیں ہوا۔
معصوم بچپن میں کئی واقعات ایسے بھی ہو جاتے ہیں جو یادداشت پر پہیلی کی طرح نقش ہو جاتے ہیں۔ ان پہیلیوں کو بچہ بوجھ نہیں پاتا۔ اسی طرح کی ایک عجیب و غریب یاد ہے۔

باپو دوپہر دکان بند کر کھانا کھانے کے لیے گھر آتے تھے۔ وہ خود اپنے ہاتھوں سے کھچڑی پکاتے تھے، اس پر گھی، اچار، پاپڑ، چٹنی ڈال کر کھاتے۔ آئی اپنی بہت ہی مزےدار رسوئی اور نئی طرح کے کھانے بناتی تھیں۔ لیکن باپو ان کی بنائی رسوئی کبھی نہیں کھاتے تھے۔ ایسا کیوں، یہ بات کچھ بڑا ہو جانے کے بعد مجھے معلوم ہوئی۔

بات یہ تھی کہ باپو جین تھے اور اماں ہندو۔ دونوں کا بین المذہبی بیاہ ہوا تھا 1896 میں۔ کہنے کی بات نہیں، ان دنوں مذہب، مصلحت وغیرہ باتوں کا سماج، دل، ذہن پر زبردست اثر تھا۔ معمولی سے معمولی مذہبی یا سماجی بات کو لوگ بڑی باریکیوں سے دیکھتے پرکھتے تھے۔ ذرا سی لکیر سے ہٹ کر کسی نے کوئی بات کی اور سماج نے اس کے ساتھ روٹی پانی کا برتاؤ بند کیا۔ اس کا بائیکاٹ کر دیا۔

یہ سمجھو دستور ہی بن گیا تھا۔ ایسے زمانے میں بین المذہب بیاہ کرنا کتنے حوصلے کی بات رہی ہو گی۔ کولھاپور میں تو ایسی شادی ناممکن ہی تھی، اس لیے کولھاپور سے تیس میل دور شری دتّاتریہ کے پوتر مقام نرسوبا کی باڑی میں جا کر باپو نے یہ بیاہ کیا۔ صرف سماج کے لحاظ کی خاطر باپو اپنا کھانا الگ سے پکا کر کھاتے تھے۔

باپو اپنے دیوی دیوتاؤں کو مانتے، جین مذہب کے سب اصولوں کا پالن کرتے۔ آئی ہندو مذہب کے سبھی تیج تہوار مناتیں، اپنے سب دیوتاؤں کی پوجاپاٹھ کرتی کراتی، اپنے اصولوں کے مطابق برت وغیرہ رکھتی تھیں۔ لیکن اس بات کو لے کر باپو اور آئی کے بیچ کبھی کوئی ان بن نہیں ہوئی۔ ہمارے گھر کے اندر جو ایک پوجاگھر بنا تھااس میں آئی اور باپو دونوں کے دیوی دیوتا سُکھ سے رہتے تھے۔

صرف سماج کے خیال سے اپنایا ہوا وہ الگ کھانا پکانے کا اصول بھی وقت کے ساتھ باپو نے تیاگ دیا اور وہ ہم سب کے ساتھ آئی کے ہاتھوں کا بنا کھانا بڑے پیار اور سواد سے کھانے لگے۔ رسم و رواج کی زنجیر میں قید سماج میں رہتے ہوئے بھی باپو نے جس بےباکی کے ساتھ اس بین المذہبی شادی کو کامیابی سے نبھایا، وہ آج بھی دنگ کر دینے والی بات ہے۔ باپو کی یہ بےباکی آج صرف قابلِ تعریف ہی نہیں لگتی بلکہ آج بھی مجھے ان کی اس ترقی پسند روش پر فخر محسوس ہوتا ہے۔

کولھاپور میں مہادوار کے پاس ہی باپو نے ایک چھوٹی سی دکان لگائی۔ سہاگ سیندور، گھٹّی کا سامان، کھلونے وغیرہ چیزیں اس میں بیچنے کے لیے رکھی جاتی تھیں۔ تب میں پانچ برس کا ہو چکا تھا آئی نے مجھے پیار سے گلے لگا کر کہا، ’’دیکھو، شانتیا، کل سے تمھیں بھی اپنے بڑے بھیا کاشی ناتھ کے ساتھ سکول جانا چاہیے۔ ‘‘

میں نے پوچھا’’آخر کیوں؟‘‘
’’ میرے بیٹے، لکھنا پڑھنا سیکھنے کے لیے، ‘‘ آئی نے کہا۔
’’ میں نہیں جاؤں گا سکول!‘‘
’’وہ خود ہی تمھیں کل سکول میں داخلہ دلوا دیں گے!‘‘آئی نے سختی سے کہا۔ میں کافی بھنبھناتا رہا لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔

دوسرے دن سکول جانے سے پہلے رو رو کر میں نے سارا گھر سر پر اٹھا لیا۔ کافی اُدھم مچایا۔ لیکن ہم سب بھائیوں پر باپو کی دھاک جمی ہوئی تھی۔ انھوں نے دھمکاتے ہوئے کہا، ’’سنو شانتا رام، آج سے سکول جانا ہی پڑے گا۔ رونے دھونے سے کوئی فائدہ نہیں۔ سمجھے؟‘‘
باپو نے میرا بازو پکڑا اور ہم روتے میاں آنکھیں ملتے ملتے سکول پہنچا دیے گئے۔

ان دنوں سکول جوشی راؤ کے گنپتی مندر کے پاس ہی کسی سردار کے باڑے میں لگا کرتا تھا۔ سکول کا نام، ’ہری ہر سکول‘۔ مجھے کچی جماعت میں بٹھایا گیا۔ مجھے سکول میں چھوڑ کر باپو چلے گئے۔ اپنی حالت تو بس دیکھتے ہی بنتی تھی۔ بڑی قابلِ رحم حالت تھی۔ پاس ہی بیٹھے ایک لڑکے سے میں نے روتے روتے پوچھا:

’’یہاں کب تک بیٹھنا پڑتا ہے؟‘‘
’’ کوئی گیارہ بجے تک، ‘‘اس نے کہا۔
میں نے بہت ہی گڑگڑا کر پوچھا، ’’ گیارہ یعنی کتنے؟‘‘

اس لڑکے نے جھلا کر کہا، ’’ دیکھو سامنے گھنٹی رکھی ہے نا، وہ جب بجائی جاتی ہےتب گیارہ بجتے ہیں۔ سکول کی چھٹی ہو جاتی ہے۔‘‘
میں نے پاگل کی طرح سر ہلایا اور سکول کی زمین ناخن سے کریدتا بیٹھا رہا۔

گھنٹی بجی۔ سکول کی چھٹی ہو ئی۔ بھاگتے بھاگتے گھر ایسے پہنچا جیسے کانجی ہاؤس سے رہائی ملی ہو، اور ماں کی گود میں منھ چھپا کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ باپو دوپہر کو دکان بند کرکھانے کے لیے گھر آیا کرتے تھے۔ کھانے کے بعد کچھ دیر آرام کیا کرتے تھے۔ میں نے آئی کے پاس ایک ہی رَٹ لگا رکھی تھی: ’’ میں پھر سے سکول ہرگز نہیں جاؤں گا۔‘‘

باہر سے باپو نے آواز دی: ’’ شانتارام، ذرا ادھر آؤ تو!‘‘

میں گھبرا گیا۔ سوچا، شامت آ گئی۔ ضرور دو چار چانٹے پڑنے والے ہیں۔ اسی گھبرائی کیفیت میں باہر دالان میں گیا۔ میرا خیال غلط نہیں نکلا۔ پر باپو نے مجھے مارا نہیں بلکہ پاس بیٹھا کر کمر سہلاتے ہوئے بولے:
’’دیکھو بیٹے! ہر شُکروار کو بھنے چنے کھانے کے لیے ہم تمھیں ایک پیسہ دیا کریں گے۔ لیکن تمھیں سکول ہر روز بنا روئے جانا ہو گا۔‘‘
کولھاپور میں آج بھی شُکروار (جمعے)کو مہالکشمی کو پرساد کے روپ میں بھنا چنا ہی چڑھایا جاتا ہے۔ باپو کہہ رہے تھے:
’’بیٹے، سکول جا کر لکھناپڑھنا سیکھنے پر آدمی بڑا بنتا ہے، سیانا بنتا ہے…تو کیا خیال ہے تمھارا؟ جاؤ گے نا سکول؟ اور دیکھو! چپ چاپ سیدھی طرح نہ گئے تو یہ دیکھا…؟‘‘

دیکھا، باپو نے چانٹا مارنے کے لیے ہاتھ اٹھایا تھا۔ میں ڈر گیا۔ باپو کا چانٹا کتنا سخت اور کرارا ہوتا ہے، میں جانتا تھا۔ ان کا چانٹا کھانے کے بجائے ہر جمعے کو بھنا چنا کھانے میں ہی خیر تھی۔ دوسرے ہی دن سے میں بنا کسی طرح روئے دھوئے سکول جانے لگا۔

ہر جمعے کو بھنے چنے کی خوراک شروع ہو گئی تھی۔ پھربھی کبھی کبھار سکول سے تڑی (چھٹی) مار جانے کی سنک مجھ پر سوار ہو ہی جاتی۔ پھر کبھی تو میرا سر اچانک درد کرنے لگتا۔ اس سر درد سے ایک پنتھ دو کاج ہو جاتے تھے، سکول جانے سے چھٹی مل جاتی تھی اور ماں کے ماہر ہاتھوں سے بنا میرا من چاہا گرم گرم نرم نرم حلوہ کھانے کو مل جاتا تھا۔ سر درد کا ظالم علاج ہونے کی وجہ یہ حلوہ آئی خالص گھی میں بناتی تھیں۔ بڑا میٹھا ہوتا تھا یہ حلوہ۔ گھر میں تو حالات ایسے تھے کہ ایسا حلوہ تیج تہواروں پر ہی بن پاتا تھا۔ لہٰذا حلوہ کھا کر کافی دن ہو چکنے پر میرا سر ضرور ہی درد کرنے لگتا۔ بخار، زکام کا سوانگ رچنا مشکل ہے، لیکن سردرد ہے یا نہیں، کون جان سکتا ہے؟ بہت دیر تک میں کراہتا رہتا۔ بیچاری آئی ہمدردی سے پوچھتیں:

’’شانتا، تھوڑا سا کچھ کھاؤ گے؟‘‘
’’اوو…نہہ!‘‘
پھر آئی اور بھی منتیں کرتیں۔ ’’تھوڑی سی کھیر لے لو نا ساگودانے کی!‘‘
ساگودانے کی کھیر کا نام لیتے ہی مجھے متلی آنے لگتی: با…ک ! گئے مارے!
اس کھیر کا نام سن کر آج بھی میرا ماتھا ٹھنکتا ہے۔ میں بسک کر کہتا، ’’وہ تو قطعی نہیں لوں گا۔‘‘
میرا کراہنا پھر دُگنے زور سے شروع ہو جاتا۔ آئی گھبرا کر کہتیں، ’’ارے کچھ تو کھا لو، ورنہ پِت (صفرا) کا قہر بڑھے گا۔‘‘
یہاں تھا کس کو پِت کا قہر، جو بڑھتا! لیکن سردرد کا اپنا ناٹک رنگ لاتا دیکھ کر میں اور بھی کراہتا ہوا بے چین آواز میں کہتا:
’’ بہت ہی زور دے رہی ہو ماں تو تھوڑا سا حلوہ ہی بنا دو۔ کھا لوں گا جیسے تیسے…‘‘
آئی فوراً ہی حلوہ بنانے کی تیاریوں میں جٹ جاتیں۔ گرم گرم حلوہ بھری کٹوری سامنے آتے ہی میرا آدھا سردرد جاتا رہتا اور کھا چکنے کے بعد پورا غائب ہو کر میں ایک دم چنگا پھرتیلا بن جاتا۔

لیکن کچھ ہی دنوں میں یہ سردرد اور وہ فرمائش کچھ زیادہ ہی بار ہونے لگی تو ماں کو شبہ ہو گیا کہ ہو نہ ہو، ضرور دال میں کچھ کالا ہے! اور میرا پول کھل گیا۔
حلوہ کھانے کے لیے للچایا وہ سردرد جب ایک دن پھر سے پیدا ہو گیا تو درد کے مارے میرے سر کی نسوں کے بجائے آئی کے ماتھے کی نسیں تن گئیں۔ تب تو انھوں نے میری وہ پٹائی کی، وہ پٹائی کی کہ حلوے کے بجائے اپنا حلیہ ہی ٹائٹ ہو گیا!

ویسے سکول میں ہونہار شاگردوں میں میری گنتی کبھی نہیں ہوئی۔ شاید زبان میں میری حالت اچھی رہی ہو گی۔ لگتا ہے خاص کر کتابوں میں دیے سبق کا پاٹھ میں زوردار آواز میں اچھی طرح کرتا تھا۔ گروجی ہمیشہ مجھے ہی کھڑے ہو کر سبق پڑھنے کے لیے کہتے تھے، اور شاگردوں سے کہا کرتے تھے، ’’ذرا دھیان سے سنو، سُسرو! سبق اس طرح پڑھا جاتا ہے!‘‘

گروجی کی طرف سے کی گئی تعریف سے میں پھولا نہ سماتا اور بڑی اکڑ کے ساتھ سبق پورا کر نیچے بیٹھتا۔ لیکن میں اچھا پڑھتا ہوں یعنی کیا کرتا ہوں، یہ بات یقینی طور سے اپنی تو سمجھ میں کبھی نہیں آئی۔

کچھ دنوں بعد باپو نے سہاگ سیندور کی وہ چھوٹی سی دکان بند کر دی اور مہالکشمی روڈ پر پنساری کی ایک بڑی سی دکان لگوائی۔ کرانے کا سامان بھی اس میں رکھا تھا۔ دکان پہلی دکان سے کافی بڑی تھی لیکن تب تک ہمارا کنبہ بھی بڑھ گیا تھا۔ میرے دو اور بھائی بھی ہو گئے تھے: رام کرشن اور اودھوت۔ ہماری اس نئی دکان میں اناج، گڑ، مونگ پھلی، مسالے، چائے اور چینی وغیرہ کئی چیزیں بیچی جاتی تھیں۔ کبھی کبھی چیجی (چیز) کے روپ میں ہم بچوں کو گڑ، پھلی دانے اور گال(کھوپڑے) کے ٹکڑے ملتے تھے۔میرا خیال ہے کہ شاید انہی دنوں میں میں نے ہری ہر سکول کی چوتھی جماعت پاس کی تھی۔ جیسا ان دنوں رواج تھا، چوتھی کے بعد انگریزی سکول میں داخلہ لینا پڑتا تھا۔ ہماری دکان سے ایک پرائیویٹ انگریزی ہائی سکول کے طالب علم کبھی کبھی سامان لے جایا کرتے تھے۔ ان کی پہچان سے مجھے انگریزی سکول میں داخلہ مل گیا۔ دادا بھی اسی سکول میں جاتا تھا۔
کچھ دن تو ٹھیک سے گزر گئے۔ فیس بھرنے کا دن آیا۔ باپو نے فوراً ہی فیس کے پیسے مجھے دے دیے۔ میں نے کوٹ کی جیب میں رکھ لیے۔ سکول شروع ہوا۔ کلاس ٹیچر تشریف لائے۔ ان کا نام تھا شری کھنڈے جی۔ ان کا سلوک ان کے نام جیسا ہی مدھر تھا۔ بہت ہی مامتا سے وہ باتیں کرتے تھے۔ سبھی لڑکے فیس بھرنے لگے۔ میں نے بھی اپنی فیس دے دی۔ میرے پیسے لیتے وقت شری کھنڈے جی نے کہا، ’’اچھا تم ہاف فری طالب علم ہو۔‘‘
میری سمجھ میں کچھ بھی نہیں آیا۔

دوپہرمیں لنچ بریک ہوئی۔ ہم لوگ ٹولی بنا کر کھڑے آپس میں باتیں کر رہے تھے۔ تبھی اچانک ہی ایک لڑکے نے پوچھا:
’’کیوں بھائی، بات کیا ہے؟ماسٹر جی نے تم سے فیس کے پیسے اتنے کم لیے؟‘‘
’’ مجھے کیا معلوم؟ پتاجی نے دیے، وہ سارے پیسے میں نے ماسٹر جی کو دے دیے۔‘‘
دوسرے لڑکے نے پہلے سے کہا، ’’تم بھی نرے بدھو ہو! ماسٹرجی نے کیا کہا تھا، تم نے سنا نہیں؟‘‘
’’کیا؟‘‘
’’کیا پوچھتے ہو؟ ارے وہ ہاف فری طالب علم ہے۔ اس کی آدھی فیس سکول نے معاف کر دی ہے۔‘‘
’’کیوں بھئی؟ سچ ہے؟‘‘ اس پہلے لڑکے نے پھر سوال کیا۔
میں چپ ہی رہا۔ وہ لڑکے آپس میں باتیں کر رہے تھے۔
’’ارے بھئی سکول ایسے بچوں کی آدھی فیس معاف کیا کرتا ہے جن کے ماں باپ غریب ہوتے ہیں۔‘‘

زندگی میں پہلی بار میں نے ’غریب‘ لفظ کا تجربہ کیا۔ آدھی فیس…غریب…غریبی ! یوں دیکھا جائے تو ہم لوگ دن میں دو بار سادہ ہی سہی، لیکن پیٹ بھر کر کھانا کھاتے تھے۔ ہمیں کبھی بھوکا سونا پڑا ہو، یاد نہیں۔ چھوٹاسا ہی سہی، ہمارا اپنا مکان تھا۔ کرائے کا بھلے ہی ہو، لیکن ہمارے سر پر چھت تھی، ایک آسرا تھا۔ پھر کیوں ہمیں غریب بتایا جا رہا تھا؟
ہاں، ایک بات آج بھی کچھ کچھ یاد آتی ہے۔ تھوڑا سا لگا ضرور تھا کہ ہو نہ ہو، ہمارے باپو کے پاس زیادہ پیسے نہیں تھے۔ اسی لیے شاید، دادا کے پرانے کپڑے یا اونچے ہو جانے اور تنگ ہو جانے والے کپڑے مجھے پہننے پڑتے تھے۔ ماں کے پاس میں اس بات کی شکایت بھی اکثر کیا کرتا تھا۔ ہمارے باپو بازار سے کپڑا بھی ایسا خرید کر لاتے تھے کہ وہ پھٹنے کا نام ہی نہ لیتا۔ میں بہت ہی ضد کر بیٹھتا تو پھر کسی تہوار پر مجھے نیا کپڑا مل جاتا تھا۔ یہی حال کتابوں کا تھا۔ دادا پاس ہو کر اوپر کی جماعت میں گیا کہ اس کی پرانی کتابیں مجھے دی جاتی تھیں۔ ہو سکتا ہے اسے ہی غریبی کہا جاتا ہو۔
لیکن غریبی کیا ہوتی ہے؟ اس کی جھلک مجھے مل گئی۔

کولھا پور میں مشہور کِرلوسکر ناٹک منڈلی آئی تھی۔ سبھی کلاکاروں کا قیام کولھاپور کے شِواجی تھیٹر میں تھا۔ ناٹک منڈلی میں فوٹوگرافر بھی تھے۔ باپو سے ان کی اچھی جان پہچان تھی۔ ایک بار باپو نے طے کیا کہ ہم بچوں کے ساتھ ایک فوٹو کھنچوایا جائے۔ فوٹو کے لیے ماں نے، اس کے پاس جو بھی ساڑھیاں تھیں، ان میں سے سب سے اچھی ساڑھی پہن لی۔ باپو کے کپڑے ٹھیک ہی تھے۔ جو بھی ہو، ہم سب لوگ بارات جیسی شان سے شواجی تھیٹر پہنچ گئے۔ ہمارے کپڑوں کا حال دیکھ کر ان فوٹوگرافر مہاشے نے ہم بچوں کو ناٹک میں راجکمار کا کام کرنے والے بچوں کے زری کا کام کیے مخمل کے کپڑے فوٹو کے لیے دلوائے۔ زری کی ٹوپیاں بھی دلوائیں۔ وہ کپڑے ہم لوگوں کو کچھ ٹھیک سے نہیں آ رہے تھے۔ بڑے اور کچھ ڈھیلے ہو رہے تھے۔ پھربھی انہی کپڑوں کو پہن کر ہم لوگ راجکماروں جیسے اکڑ کر فوٹو کے لیے کھڑے ہو گئے۔ میرے من میں رہ رہ کر اُس پہلے فوٹو کی یاد آ رہی تھی۔ باپو نے تب کہا تھا، ’’ارے تم لوگ ہمارے جتنے اونچے نہیں ہو نا، اسی لیے فوٹو میں نہیں آ پائے ہو‘‘۔ لیکن آج بھی ہم میں سے ایک بھی بھائی باپو جتنا اونچا نہیں ہوا تھا، پھر بھلا ہماری فوٹو آج بھی کیسے آ سکتی ہے؟ میں نے آئی اور باپو کی طرف دیکھا۔ کرسیوں پر بیٹھ کر دونوں نے اپنی اونچائی ہمارے جتنی کر لی تھی، تاکہ ہم لوگ بھی برابر فوٹو میں آ سکیں۔

فوٹو کھنچوانے کے لیے ہمیں دیے گئے وہ سارے ملائم اور بھاری قیمت کے کپڑے ہم لوگوں نے بعد میں لوٹا دیے۔ صرف فوٹو کے لیے وہاں کے کپڑے پہن لینے میں ہم نے کوئی چھوٹاپن محسوس نہیں کیا۔ پھر سے اپنے ہمیشہ کے کپڑے میں نے پہن لیے۔ فوٹو کے لیے دیے گئے قیمتی کپڑے ہمیں کبھی نہیں ملتے۔ تو کیا اس کو غریبی کہتے ہیں؟…ہم لوگ غریب ہیں؟ سکول میں ملی وہ ہاف فیس… میرے من میں سوالوں کا انبار سا لگ گیا۔ ہمیشہ کی عادت کے مطابق ایسے سبھی سوالوں کا جواب دے سکنے والی ماں کے پاس جا کر میں نے پوچھا:

’’آئی، کیا ہم لوگ غریب ہیں؟‘‘
’’کیوں پوچھ رہے ہو یہ؟‘‘ ماں نے جواب میں سوال کیا۔

’’آئی، بتاؤ نا، سکول میں میری آدھی فیس معاف کس لیے کی گئی ہے؟ غریب لڑکوں کی ہی تو فیس معاف کی جاتی ہے نا؟ ہم لوگ غریب ہیں؟‘‘
’’ارے بابا، ہم لوگ غریب نہیں ہیں۔‘‘ آئی نے میرے سوال کا سیدھا جواب نہیں دیا۔
’’حال ہی میں باپو نے اتنی بڑی دکان جو کھولی ہے…‘‘ میری بحث جاری رہی۔

’’دیکھو، بات یہ تھی کہ پہلی دکان سے ہم لوگوں کا گزارہ نہیں ہوتا تھا، اس لیے اناج اور کرانے کی دکان لگائی ہے۔ اس کے لیے لوگوں سے کافی رقم ادھار لی ہے۔ تم ہی سوچو نا، تم ہو پانچ بھائی، سب کی کتابوں اور فیس کے لیے پیسہ کہاں سے لائیں؟‘‘

’’تو اس کا مطلب ہے کہ ہمیں ہمیشہ آدھی فیس میں ہی پڑھائی کرنی ہو گی؟ کلاس کے اور لڑکے پوری فیس دیتے ہیں۔ مجھے شرم آتی ہے اس آدھی فیس پر!‘‘
’’شرم آتی ہے نا؟ تب تو تم اچھی پڑھائی کر کے بہت بڑے آدمی بنو، تاکہ تمھیں اپنے بچوں کو آدھی فیس میں سکول میں داخل کرنے کے لیے مجبور نہ ہونا پڑے!‘‘

اتنا کہہ کر آئی گھر کے کام کاج میں جٹ گئیں۔ میری ماں ہمیشہ گھر کے کاموں میں لگی رہتی تھیں۔ چولھا چوکا، آٹا چکی، جھاڑنا پونچھنا، کپڑے دھونا، پانی بھرنا، سب کچھ وہ اکیلے ہی کرتی رہتیں۔ پوپھٹتے ہی ماں جب چکی پیسنے بیٹھتیں تو میری بھی نیند کھل جاتی اور میں بھی ہولے ہولے چکی چلانے میں ان کی مدد کرتا۔ وہ اوکھلی میں موسل چلاتیں تو میں بھی ان کا ہاتھ بٹاتا۔ برتن مانجھنے میں بھی میں ماں کی جو ہو سکے، بن سکے، اتنی مدد ضرور کرتا تھا۔

ہر مہینے ماہواری میں آئی چار دن ایک کونے میں بیٹھی رہتی تھیں۔ اُن دنوں وہ ہم میں سے کسی کو چھوتی نہیں تھیں۔ رسوئی بھی نہیں بناتی تھیں۔ ہمارے گھر میں اور کوئی عورت نہیں تھی۔ گھر کے سارے کام اور بھگوان کی پوجا کی پوری ذمےداری میرے اور دادا پر آ جاتی تھی۔ ہمیشہ کام میں لگی رہنے والی ماں اس طرح الگ کیوں بیٹھی رہتی ہیں، اس کا تجسس مجھے بہت تھا۔ ’’مجھے کوّا چھو گیا ہے، چار دن تک میرے پاس نہ آنا!‘‘

اس پر ایک دن آئی سے پوچھ ہی بیٹھا، ’’ہم لوگ جب کوّے کے پاس جاتے ہیں تو وہ اڑ جاتا ہے۔ تمھیں ہی وہ اس طرح بار بار کیسے چھو جاتا ہے؟‘‘
’’چپ بھی کرو اب! بیکار کے جھگڑے میں پڑے ہو۔ چلو جاؤ یہاں سے، جلدی جلدی چولھا جلاؤ اور لگ جاؤ کھانا بنانے میں۔‘‘

اس طرح ڈپٹ کر آئی مجھے دور بھگا دیتی تھیں۔ ضرورت پڑنے پر وہ دور سے ہی تیل، نمک، مرچ کتنی ڈالنی ہے، اس کا دھیان رکھتی تھیں۔ آگے چل کر کافی بڑا ہو جانے کے بعد معلوم ہوا کہ ماہواری کے دنوں میں پورا آرام دلانے کے لیے ہی عورتوں کو اس طرح اچھوتا بنا کر بیٹھانے کی روایت ہے۔

غرض کے مارے ہو یا عادت کی وجہ سے، آئی کو میں نے ہمیشہ کام میں لگا ہی دیکھا ہے۔ انھیں کبھی میں نے فرصت میں پایا ہی نہیں۔ درمیان میں تھوڑا وقت مل جاتا تو وہ سونے کے منکوں کو چھوٹے اوزار سے ٹھوک پیٹ کر گول بنانے کا کام کیا کرتی تھیں۔ اس کام میں میں بھی کبھی کبھی شامل ہو جاتا تھا۔ اس طرح سو منکے ایک جیسی شکل کے بنا کر سنار کو دینے پر کچھ پیسے مل جاتے تھے۔

آئی ہمارے لیے ہمیشہ ایک گانا گا کر سنایا کرتی تھیں۔ ’’چندر کانت راجہ کی کنیا سگون روپ کھنی… (چندر کانت راجہ کی بیٹی سگھڑ اور خوبصورت)‘‘ مجھے یہ گیت بہت پیارا تھا۔ کئی بار میں ان سے اسے سنانے کے لیے کہا کرتا تھا۔ ہماری ماں تھوڑی انگریزی بھی جانتی تھیں۔ میں انگریزی سکول میں جانے لگا، تو کبھی کبھی رسوئی بناتے بناتے بھی وہ مجھے میری ہی کتاب کے الفاظ معانی رٹوا دیتی تھیں:’’سی اے ٹی کیٹ یعنی بلی…آر اے ٹی ریٹ یعنی چوہا، ‘‘ وغیرہ وغیرہ۔ ۔ لفظوں کے ہجے کرنے میں میری غلطی کو بھی سدھار دیتی تھیں۔

اب میں ہر روز سکول جانے لگا تھا۔ اس نئے سکول کی ایک یاد آج بھی تازہ ہے۔ ہمارے ساٹھے گروجی کی۔ وہ ہمیں مراٹھی پڑھایا کرتے تھے۔ ایک دن انھوں نے ایک نظم پڑھائی۔ انھوں نے اس نظم کو لے میں گا کر بھی سنایا اور اگلے دن اسے یاد کر کے آنے کا حکم دیا۔ ساٹھے گروجی نے اس نظم کو جس طرز اور لَے میں گایا تھا وہ کافی پرانی اور گھسی پٹی تھی۔ نظم کو یاد کرتے وقت اس طرز سے جی اکتا گیا۔ جی میں آیا، کیوں نہ ایک نئی طرز پر اسے گایا جائے؟

پتا نہیں کیسے، گنگناتے ہوئے اس نظم کے لیے ایک نئی طرز اچانک ہی میرے ہونٹوں پر آ گئی۔ گروجی کی طرف سے بنائی گئی طرز سے یہ طرز مجھے کافی اچھی لگی۔ بس پھر کیا تھا، میں نے من ہی من میں فیصلہ کر لیا۔ جماعت میں اس نظم کو نئی دھن دینے کی دھن دن بھر مجھ پر سوار رہی۔ میں کچھ نیا کر سکتا ہوں، اس خوشی میں جھومتا ہوا دوسرے دن سکول پہنچا۔ ایک طرح کے سپنے میں کھو گیا تھا کہ ساٹھے گروجی کے حکم پر میں نے اس نظم کو اپنی طرز پر گایا ہے، میرے دوستوں نے میری بہت بہت تعریف کی ہے، اور خود ساٹھے گروجی نے شاباشی دینے کے لیے میری کمر محبت سے تھپتھپائی ہے۔

مراٹھی کا سبق شروع ہوا۔ تین چار طالب علموں نے وہ نظم گا کر سنا دی۔ میری باری آئی۔ میں کھڑا ہو گیا اور اپنی بنائی نئی طرز پر اسے گانے لگا۔ کلاس کے سارے طالب علم مجھ پر ہنسنے لگے۔ میں نے ان کی طرف دیکھا۔ تبھی جانگھ پر ایک بینت سپک کر پڑی۔ میں ششدر رہ گیا۔ گروجی آگ بگولا ہوئے جا رہے تھے۔ آخر کیوں؟ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔ ساٹھے گروجی چلّائے، ’’گدھے کے بچے ! ٹھیک سے سناؤ نظم!‘‘

سوچا، میری بنائی گئی طرز انھیں پسند نہیں آئی، اس لیے میں اپنی ہی ایک اور نرالی طرز پر نظم سنانے لگا۔ پھر لگاتار بینت پڑنے لگیں۔ دن میں تارے دکھائی دینے لگے۔ گروجی کا پارہ ساتویں آسمان پر چڑھتا دکھائی دیا۔ ان کی آواز بجلی کی طرح کڑکنے لگی۔ میں بھی ضد کر بیٹھا۔ میری بنائی گئی نئی طرز کو سراہنے کے بجائے گروجی مجھے پیٹتے جا رہے تھے۔ میں کھسیانا ہو گیا۔ اس نظم کو میں بار بار اور ہر بار ایک دم نئی طرز میں سنانے لگا۔ گروجی جھلاً اٹھے۔

’’مورکھ! میرا مذاق اڑاتے ہو؟ تمھاری یہ مجال؟‘‘
کہتے کہتے وہ دہاڑنے لگے اور ساتھ ہی مجھ پر بینتیں برساتے گئے۔ آخر ان کا ہاتھ رکا۔ شاید انھوں نے سوچا ہو گا کہ بہت پیٹ چکے اسے۔ پھر بھی ہاتھ میں بینت نچا کر انھوں نے پوچھا، ’’کیوں، اور چاہیے یا کافی ہو گیا؟‘‘
میں نے جبراً کہہ دیا، ’’کافی ہے۔‘‘ میں نے پٹائی سے ڈر کر ’’کافی ہے‘‘ نہیں کہا پر اس وقت مجھے چوتھی طرز نہیں سوجھی اس لیے میں چپ بیٹھ گیا۔ وہ بینتوں کی مار نا قابلِ برداشت ہو چکی تھی۔ میں کراہنے لگا۔
اس دن ساٹھے گروجی کے سامنے میں ہار گیا، لیکن آج جب اس واقعے کو یاد کرتا ہوں تو ضرور لگتا ہے کہ لکیر سے ہٹ کر کچھ نئی بَکُوات کر دکھانے کا نظریہ وہیں سےتو نہیں پھوٹا تھا؟
دن میں تارے دکھانے کی حدتک دھنائی پٹائی کرنے والے سخت مزاج ساٹھے گروجی کی طرح اَکّو گوالن کی یاد بھی من میں اتنی ہی تازہ ہو جاتی ہے۔ اَکّو گوالن بےسبب ہی میرے ساتھ ممتا بھرا سلوک کرتی تھی۔ اس کی ممتا بھری مورت آج بھی میری آنکھوں کے سامنے بیدار ہو جاتی ہے۔
ہماری کرانے کی دکان کا پہلا دن تھا۔ باپو نے پان سپاری کی چھوٹی سی تقریب کی تیاری کی تھی۔ ہم سب لوگ اس دن دکان پر گئے۔ تقریب ختم ہونے کے بعدمیں اکیلا ہی آرام سے ٹہلتا ہوا گھر لوٹ رہا تھا۔ تین چار مکان آگے جانے کے بعد میں نے دیکھا، چبوترا نما اونچی جگہ پر ایک چھوٹی سی دکان بنی ہے۔ اس میں ایک ادھیڑعمر عورت بیٹھی ہے۔ گول چہرہ، ماتھے پر روپے کی شکل سے بھی بڑے گول آکار کا خوبصوت سیندور، کالی سانولی، بھاری بھرکم جسم، سر پر پلاّ، یہ تھا اس ادھیڑعمر عورت کا روپ۔ اس کے سامنے ہی ایک مٹی کا بڑا سا برتن رکھا تھا۔ اس میں دہی تھا۔ کوئی گاہک آتا تو دہی بیچنے کے لیے اس گھڑے کا ڈھکنا کھولنے کی اس کی ایک خاص ادا تھی۔ وہ جھول کر ڈھکنا ہٹاتی، لکڑی کی کرچھی سے دہی نکالتی، گاہک کے برتن میں اسے ڈالتی، پیسے لیتی، چھنن کھنن آواز کرتی ہوئی اسے اپنے گلّے کے بکسے میں پھینکتی، اور پھر ڈھکنا گھڑے پر سِرکا دیتی۔ اسے دیکھ کر میں ریجھ گیا۔ بڑا مزہ آتا رہا۔ پتا نہیں کتنی دیر میں اس کی وہی ادا دیکھتا رہا۔ تھوڑی دیر بعد اس کا دھیان میری طرف ہوا۔ وہ ہنسی۔ سر ہلا کر اس نے مجھے پاس بلا لیا۔ پاس جاتے ہی اس نے پوچھا، ’’دے(دہی)کھاؤ گے؟‘‘

میں چپ ہی رہا۔ اس نے گھڑے میں سے کرچھی سے دہی نکالا اور بولی، ’’لیجو،بڑھاو ہاتھ۔ کاہے سرماتے ہو؟ لیجو بہوت بڑھیا دے (دہی) رہن ہمار۔‘‘(لو ہاتھ بڑھاو کیوں شرماتے ہو؟ لو بہت بڑھیا دہی ہے ہمارا۔)

شرماتے لجاتے میں نے ہاتھ آگے بڑھایا۔ اتنا گاڑھا دہی تھا جیسے پنیر کا ٹکڑا کاٹ کر ہتھیلی پر رکھ دیا ہو۔ میری پوری ہتھیلی بھر گئی۔ میں سارا دہی منٹوں میں چاٹ گیا۔ گھڑے کی کوری مٹی کی خستہ خوشبو سے دہی میں ایسا مزے دار ذائقہ آ گیا تھا کہ میں ہتھیلی چاٹتا ہی رہا۔ پھر اس کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں بڑی ممتا دکھائی دی۔ اس نے ہنس کر پھر سے پوچھا:

’’اچھا لگا؟‘‘
’’جی ہاں، بہت اچھا تھا۔‘‘
میں خوشی کے مارے اچھلتا کودتا پھاندتا گھر کی طرف دوڑا۔

دوسرے دن سکول جاتے وقت ہاتھ میں سلیٹ اور بستہ لیے میں اس کی دکان کے سامنے زبردستی کھڑا ہو گیا۔ اچھا ہو کہ اس کے اس گھڑے میں رکھا دہی پھر سے کھانے کو مل جائے۔ سامنے والا گاہک چلا گیا اور اس نے میری طرف دیکھا۔ اب تو میں بن بلائے ہی اس کے پاس گیا اور ہاتھ بھی پھیلا دیا۔ اس نے میری ہتھیلی پر دہی رکھا۔ میں نے دہی کھانا شروع کیا۔ ابھی ابھی جو گاہک چلا گیا تھا، اس کے منھ سے میں نے اس کا نام سن لیا تھا۔ لوگ اسے اَکّو گوالن کہا کرتے تھے۔ دہی کھا چکنے کے بعد قمیض کی آستین سے منھ پونچھتے ہوئے میں نے کہا:

’’آج تو دہی بہت ہی مزیدار تھا، اَکّو موسی!‘‘
موسی لفظ سنتے ہی اس نے فوراً مڑ کر میر طرف بڑے پیار سے دیکھا اور بولی:
’’کے نام ہے تمہارا، بچھوا؟‘‘ (تمہارا کیا نام ہے ،بچے ؟)
’’شانتارام۔‘‘
’’شانتارام، ہر روج یہاں آتے رہیو، بھلا؟‘‘ (شانتا رام ، روز یہاں آتے رہنا، ٹھیک ہے؟)

’’اچھا‘‘ کہتا ہوا میں سکول کی طرف بھاگ گیا۔ اس کے بعد ہر روز اَکّو موسی کے اس کالے گھڑے کا مزیدار دہی میں کھاتا۔ اب تو ہچکچاہٹ اور لحاظ بھی جاتا رہا۔ دکان پر کبھی بھیڑ ہو اور سکول جانے کے لیے مجھے دیر ہو رہی ہو تو میں ویسے ہی بغیر دہی کھائے بھاگتا۔ لیکن اَکّو موسی مجھے فوراً آواز دیتی اور اس جلدبازی میں بھی مجھے دہی کھلاتے بغیر چین نہ پاتی۔ آگے چل کر تو میں خود ہی اس کے سامنے ہتھیلی پھیلا کر دہی مانگتا جیسے وہ میرا حق ہو۔

ایک دن مجھے لگا، باقی سارے لوگ پیسے دے کر اَکّو موسی سے دہی لیتے ہیں، ایک میں ہی ایسا ہوں جو مفت میں دہی کھاتا ہوں۔ یہ غلط بات ہے۔ اس دن جمعہ تھا۔ باپو نے ہمیشہ کی طرح مجھے بھنا چنا کھانے کے لیے ایک پیسہ دے دیا تھا۔ اس دن بھنے چنے میں نے نہیں لیے۔ اَکّو ماسی کی دکان پر گیا اور ہتھیلی پر وہ ایک پیسہ رکھ کر اس کے سامنے کر دیا۔

’’ای کا کرت ہو بچھوا؟‘‘
’’اَکّو موسی، میں تم سے ہر روز دہی جو کھاتا ہوں، یہ لو پیسہ اس کا۔‘‘
وہ میری طرف نظریں گاڑ کر بولی، ’’تم ہم کا کس نام پکارت رہن؟‘‘ (تم ہمیں کس نام سے پکارتے ہو؟)
’’اَکّو موسی۔‘‘
’’تو اپنی موسی کے اِی ہاں کھانے پینے جاوت ہو نا؟ تب وا کو پیسہ دیہی ہو کا؟‘‘ (تو اپنی خالہ کے ہاں کھانے پینے جاتے ہو نا؟تب اس کو پیسے دیتے ہو کیا؟)
’’نہیں۔‘‘
’’تو ہمے کو پیسہ کاہے دیت ہو بچھوا؟ ہم کا بھی موسی کہت ہو نا؟‘‘ ( تو ہمیں پیسہ کیوں دیتے ہو، بچے ہمیں بھی تو خالہ کہتے ہو نا؟)
میں دیکھتا ہی رہا۔ وہ بولی:
’’چل بھاگ جا پگلے کہیں کو! موسی کو پیسہ دیوت ہے چھورو۔ اسی پیسے کا بھونا چنا لئی جیا جاؤ، بھاگو۔ ‘‘ (چل بھاگ جا پاگل کہیں کا!خالہ کو پیسے دیتا ہے لڑکا۔ اسی پیسے کا بھونا چنا لو اور کھا جاؤ، بھاگو!)
میں بھنا چنا خریدنے کے لیے چلا گیا۔ واپس اس کے پاس جا کر میں نے کہا:
’’ہوں، یہ لو دیوی بھگوتی کا پرساد!‘‘

اور دونوں مٹھی بھر بھنے چنے اس کے ہاتھ پر رکھ دیے۔ اس نے صرف ایک ہی چنا اٹھا لیا اور ماتا بھگوتی کا نام لے کر اسے ماتھے پر لگا کر منھ میں ڈال لیا۔ اس کے بعد ہر جمعے کو میں اسے اپنے بھنے چنے میں سے کچھ چنے پرساد کہہ کر دیتا رہا۔

ایسی تھی وہ ممتا بھری اَکّو موسی! اس عورت نے مجھے پتا نہیں کیوں، بےسبب اتنا پیار دیا! وہ میری کون لگتی تھی؟ کیا لگتی تھی؟ رشتہ نہ ناتا، پھر بھی کتنی محبت بھری تھی اس کی ممتا۔ کتنی ممتا سے ہنستی تھی وہ۔ اس کا دیا وہ میٹھا، سفید پنیر جیسا گاڑھا دہی! اس کے دہی سے میری پوری ہتھیلی بھر جاتی تھی۔ کہتے ہیں سفر پر نکلے راہی کی ہتھیلی پر تھوڑا سا دہی دیتے ہیں، اس لیے کہ اس کی یاترا سپھل ہو۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ جیون کے سفر کی شروعات کرتے وقت اَکّو موسی نے اتنے پیار اور ممتا سے میری ہتھیلی پر دہی رکھ کر میری لمبی جیون یاترا کا مبارک آرمبھ کر دیا تھا!

(جاری ہے)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لالٹین پر وی شانتا رام کی خود نوشت سوانح کا ترجمہ سہ ماہی “آج” کے بانی اور مدیر “اجمل کمال کے تعاون سے شائع کیا جا رہا ہے۔ اس سوانح کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
[blockquote style=”3″]

انتساب: میں ترجمے کا یہ عمل دو ہستیوں کے نام کرتی ہوں، اپنے دادا ابو شوکت علی کہ انہوں نے اس ایلس کی راہ کے کانٹے چنے اور اپنی ہندی گرو مسز شبنم ریاض کہ جنہوں نے ایلس کو ایک نئی دنیا کا راستہ دیکھایا۔

[/blockquote]

Categories
نان فکشن

ہجوم سے بچھڑا ہواشخص۔۔۔اوم پوری

[blockquote style=”3″]

نوٹ: خرم سہیل کی اوم پوری صاحب کے حوالے سے ماضی قریب میں دو تحاریر ڈان اردو اور دنیا پاکستان پر شائع ہو چکی ہیں ، زیرِ نظر تحریر خصوصی طور پر لالٹین کے لیے تصنیف کی گئی ہے۔

[/blockquote]

بھارت کے معروف اداکار اوم پوری، دنیا سے ہمیشہ کے لیے چلے گئے،ان کی ناگہانی موت کے بعد، جتنے منہ،اتنی باتیں ہیں۔ یہ صرف ایک فردکی موت نہیں ہوئی، بلکہ اچھے تعلقات کاموسم بھی رخصت ہوا، جن سے پاکستان اور بھارت، دونوں ملکوں پر خوشی کی بہار اتری تھی۔ دونوں طرف سے تخلیق کاراپنے اپنے فن کی داد وصول کر رہے تھے۔اوم پوری ہی نہیں گئے، ایک احساس رخصت ہوا۔ وہ دونوں طرف کے مداحوں کی دھڑکنوں میں شامل تھا۔ اُس نے دونوں طرف کے انتہاپسندوں کویہ جواب دیاکہ آپس کی لڑائی میں، اس حدتک نہ چلے جاؤ، جہاں فلسطین اوراسرائیل کے حالات پہنچ گئے ہیں۔

 

اوم پوری کی آواز میں دونوں اطراف کے لیے سانجھا درد تھا اورفکرمندی بھی، اس سارے منظر نامے پر سب سے زیادہ حیرت کی بات، ہندوستان میں پاکستان دوست آوازوں کا خاموش ہونا ہے۔ سامنے کی مثال مہیش بھٹ کی ہے۔ ساراہندوستان بول رہا ہے، وہ خاموش ہیں۔ حتیٰ کہ ان کاکوئی تعزیتی بیان بھی سامنے نہیں آیا۔ اوم پوری کی موت کے بعد بالی وڈ میں، فنکاروں کا محتاط رویہ دال میں کچھ کالا کی خمازی کرتا ہے۔

 

اوم پوری نے پاکستان میں ایک فلم “ایکٹران لا” میں کام کیا، جس میں انہوں نے اپنی شاندار اداکاری کی بدولت فلم میں چارچاند لگادیے۔اس فلم کی شوٹنگ کراچی میں ہوئی، اس موقع پر مجھے بھی ان سے ملاقات کاموقع ملا۔ ان کو بے حد مشفق اور پاکستان دوست پایا۔ پاکستان میں کئی ٹیلی وژن شوز میں اپنی گھن گرج والی آواز سے مداحوں کے دل جیتے، لیکن انہیں، اپنے ہی ملک کے ایک ٹاک شو میں متنازعہ گفتگو کرنے پر اُکسایا گیا۔

 

طیش میں آکر وہ کچھ متنازعہ باتیں کر بیٹھے، مگروہ ان کے ذاتی خیالات تھے، اس وجہ سے ان کی تذلیل کاایک نہ رکنے والاسلسلہ شروع ہو گیا، ان حالات سے وہ دلبرداشتہ ہوئے، جان کو بھی خطرہ لاحق تھا، اس وجہ سے امریکا منتقل ہونے کافیصلہ کرلیا۔جس رات ان کی پراسرار موت ہوئی، اس سے اگلی صبح انہیں امریکی سفارت خانے جاناتھا،اس بات کی تصدیق ان کے ڈرائیور رام مشرانے کی، جن کا ویڈیو بیان بھی ریکارڈ پر ہے۔

 

انڈیا میں اوم پوری کی موت کے فوری بعد، یہ خبر آئی کہ ان کو دل کا دورہ پڑا ہے، مگر ان کے دوست اوربھارتی فلم ساز خالد قدوائی اور ڈرائیور کے بیانات کے بعد بات سمجھ آتی ہے کہ یہ سب کچھ طے شدہ تھا۔ موت کی آہٹ پاکر اوم پوری کی پدرانہ شفقت نے بھی جوش مارا، اس رات، وہ اپنے بیٹے سے بھی ملنا چاہتے تھے، جس کے لیے انہوں نے کوشش بھی کی،کسی طرح رابطہ کر کے بیٹے سے مل لیں، مگر قدرت کو یہ منظور نہ تھا۔

 

ہندوستان میں دو طرح کا سینما تخلیق ہوا، جس کو کمرشل اور پیرلل یعنی آرٹ سینما کہا جاتا ہے۔ اوم پوری دونوں قسم کے سینما میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکے تھے، اسی لیے وہ نہ صرف ہندوستان میں مقبول تھے، بلکہ انہوں نے ہالی وڈ، یورپین سینما اور پھر پاکستان کی فلمی صنعت میں بھی اپنے فن کا بھرپور مظاہرہ کیا تھا۔ ہالی ووڈ میں افغان جہاد کے تناظر میں جب فلم “چارلی ولسن” بنی، تو اس فلم میں جہاں ایک طرف پاکستان کے معروف اداکارنعیم طاہر کے بیٹے فرحان طاہر کام کر رہے تھے، تو دوسری طرف اوم پوری فلم میں، ضیاالحق کا کردار نبھا رہے تھے۔

 

اوم پوری نے “سٹی آف جوائے” جیسی فلم کے ذریعے، بنگال میں کلکتہ کے سائیکل رکشہ چلانے والے کی زندگی کواپنی اداکاری سے اجاگر کیا۔ ہندوستان کی بے شمار آرٹ فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔ بھارت میں آرٹ فلموں کے سب سے بڑے فلم ساز “ستیہ جیت رائے “کے ساتھ بھی کام کیا۔ اپنے جگری دوست نصیرالدین شاہ کے ساتھ زندگی کے اچھے برے دن دیکھے۔ ان کی اپنے سماج سے بغاوت کاعنصر شروع سے موجود تھا، جب ہی فلم ‘ماچس’ میں وہ بغاوت کے سپہ سالار کے طور پر بھی دکھائی دیے۔ پاکستانی فلم “ایکٹران لا” میں ایک نیک صفت اورشفیق باپ کا کردار نبھایا۔ پاکستان سے محبت کی قیمت بھی اوم پوری صاحب کو بھارت میں دینا پڑی۔

 

اوم پوری کو، پاکستان اور ہندوستان کے اخبارات کے علاوہ، امریکا کے نیویارک ٹائمز اور برطانیہ کے دی گارڈین نے بھی، ان کی شاندار فلمی خدمات کا اعتراف کیا۔ وہ برصغیر کی اداکاری کا ایک آفتاب تھے، جو طلوع تو انڈین سینماسے ہوا، مگر غروب پاکستان میں ہوا، ان کی زندگی کی آخری قابلِ ذکر فلم پاکستان میں ریلیز ہونے والی فلم ایکٹر ان لا تھی۔ اوم پوری نے تقریباً 300 فلموں میں کام کیا۔ برطانیہ میں ان کو جس فلم سے شہرت ملی،اس کا نام “ایسٹ از ایسٹ” تھا، جس میں انہوں نے ایک پاکستانی خاندان کے سربراہ کا کردار نبھایا تھا۔

 

انبالے کے سپوت، اوم پوری صاحب کو دنیا بھر میں کہیں بھی ان کی مادری زبان بولنے والا مل جاتا، تووہ اس سے گفتگو کرنے میں پنجابی زبان کو ترجیح دیتے، اس بات کااعتراف بھی انہوں نے مجھ سے انٹرویو میں کیا تھا۔ میں نے پوچھا “آرٹ سینما دیکھنے والے تو تنہارہ گئے؟” اس سوال پر وہ اداس ہو گئے، شاید ان کی تنہائی، آرٹ سینما کے شائقین کی تنہائی سے بھی زیادہ تھی، جس کااحساس مجھے بھی بعد میں ہوا۔ اوم پوری کہاکرتے تھے “میں خواب نہیں دیکھتا، کیونکہ وہ خواب پورے نہ ہوں، تو دل ٹوٹتا ہے، میں اس توڑ پھوڑ کوبرداشت نہیں کر پاؤں گا، اس لیے میں خواب ہی نہیں دیکھتا۔” اوم پوری صرف ایک فنکار ہی نہیں، ہجوم سے بچھڑا ہوا شخص بھی تھا، جس کی آنکھوں میں گئی رتوں کے خواب تھے۔

 

خرم سہیل، اوم پوری اور ایکٹر ان لاء کی کاسٹ کے ہمراہ
خرم سہیل، اوم پوری اور ایکٹر ان لاء کی کاسٹ کے ہمراہ
اوم پوری نہیں جانتے تھے، خواب دیکھے نہیں جاتے، خوبصورت شعور اور حساس مزاج رکھنے والوں کے ہاں خواب اُترا کرتے ہیں، تصور کے راستے سے، آنکھوں کے اندر اور روح میں سرایت کرتے ہیں۔ وہاں کوئی ضبط کام نہیں آتا، آپ نے پاکستان اوربھارت کی دوستی کا خواب دیکھا تھا، آپ ٹھیک کہتے تھے، جب خواب پورے نہ ہوں تو دل ٹوٹ جاتاہے۔ آپ کی آواز کی خاموشی میں، دونوں ملکوں کاتعلق ہی نہیں ٹوٹا، بلکہ کئی پاکستان دوست آوازیں بھی ٹوٹتی محسوس ہو رہی ہیں۔ مہیش بھٹ اور گلزار خاموش ہیں۔۔۔کراچی اور لاہور ہی اداس نہیں، انبالہ اور ممبئی بھی غم میں ڈوبے ہوئے ہیں مگر بے آواز۔۔۔
Categories
تبصرہ

نیلے آسمان پر رُکی ہوئی رُت کی کتھا۔ ۔ ۔ سانوریا

زندگی صرف آگے بڑھ جانے کانام ہی نہیں، کبھی رُک کر پیچھے دیکھنے کاعمل بھی ہے۔ رواں برس کی شروعات پر، 2007میں ریلیز ہونے والی ایک فلم “سانوریا” کو اب کہیں جا کر دیکھنے کاموقع ملا۔ یہ حُسنِ اتفاق تھا، مگر صاحب، ایسا محسوس ہوا، جیسے کسی نے یاد کے کینوس پر، جاناپہچانا منظر کھول کر انڈیلاہے، اتنا وقت گزرجانے کے باوجود، جس کے رنگ تازہ بلکہ اب تک گیلے ہیں۔ یہ نمی شاید جذبے کی ہے، ورنہ گزرے ماہ وسال کے ہندسے، تو اسے نیا ماننے سے انکاری ہیں۔

 

زمانہ طالب علمی کاتھا اورموسم رومان کا۔ ایک صبح بیدار ہونے پراندازہ ہوا، تاخیر ہو گئی، یونیورسٹی پہنچنا تھا، وہاں یار دوست انتظار میں ہوں گے۔ اسی لمحے، ایک دم خیال آیا، ایک دن ہوگا، ایسے ہی آنکھ کھلے گی، مگر کہیں نہیں جانا ہو گا اور دوست بھی منتظر نہیں ہوں گے۔ یہ سوچ کر دل اداسی کی آماجگاہ بن گیا۔ اسی کیفیت میں یونیورسٹی پہنچے اوردوستوں کو اس حالت سے آگاہ کیا۔ دوستوں نے بات ہنسی مذاق میں اڑادی، لیکن کتنی سفاک حقیقت ہے، آج نیند سے بیدار ہوتے ہیں، تو یونیورسٹی میں کوئی دوست انتظار نہیں کر رہا ہوتا۔ سب دوست اپنی اپنی منزلوں کو روانہ ہو گئے۔ اب یادوں کی شاہراہ پر، دل کے مسافرخانے میں صرف خاک اڑتی ہے۔

 

زندگی کے اسی منظر نامے پر کبھی کوئی گیت، فلم، تصویر، نظم یا کوئی آواز سیدھی دل کے پردے چاک کرتی، اس گمشدہ احساس تک جاپہنچتی ہے، جس کی تلاش ہمیں بھی ہوتی ہے، مگر ہم اس کو ڈھونڈ نہیں پاتے۔ یہ فلم”سانوریا” بھی ایسے ہی دنوں کی یاد کا جھونکا ہے، جس احساس کو پلٹ کرآنے میں بہت وقت درکار ہوتاہے۔ وہ دوست، جو اپنے دوستوں سے بچھڑے ہوئے ہیں، یہ فلم اورتحریر انہی کے لیے ہے۔

 

فلم “سانوریا” 2007 میں نمائش کے لیے پیش کی گئی تھی۔ اس فلم نے رواں برس ایک دہائی مکمل کرلی، یعنی 10برس بیت گئے، لیکن اسے دیکھ کربالکل اندازہ نہیں لگایا جا سکتا، شاید اس کی تھیم، موسیقی، کہانی اور کرداروں میں زندگی کی رمق بہت تیز ہے، دھڑکنیں ابھی تک برقرار ہیں۔ ہجر وفراق کے مرحلے، پانے اورکھونے کے احساس سے لبریز، عشق کی سانسوں کے اتار چڑھاؤ، محبت کے طے ہوتے قدموں کی چاپ سے گونجتی، اس فلم میں محسوس کرنے کے لیے بہت کچھ ہے، بشرطیکہ آپ پر کبھی نہ کبھی رومان کاموسم اترا ہو۔

 

اس تخلیق کے پیش کار “سنجے لیلا بھنسالی” ہیں، جن کے کریڈٹ پر فلم سازی اورہدایت کاری کے شعبے ہیں۔ سنجے لیلا بھنسالی کی شخصیت کے دو واضح رخ بہت نمایاں ہیں، وہی ان کی فلموں میں بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔ یہ دو طرح کی فلمیں بناتے ہیں، ایک تووہ فلمیں، جن میں یہ صرف فلم ساز کے طورپرشریک ہوتے ہیں اور وہ فلم کمرشل پہلوؤں سے بھی اپنا وزن رکھتی ہے، بلکہ یوں کہہ لیں، اس طرح کی فلموں میں، صرف اس بات کاہی خیال رکھا جاتاہے کہ وہ باکس آفس پر اچھے نتائج حاصل کریں۔ اس تناظر میں، ایک مثال “راؤڈی راٹھور” جیسی فلم ہے، جوخالص کمرشل تھی۔

 

دوسری طرح کی فلمیں وہ ہیں، جن میں یہ خود ہدایت کاربھی ہوتے ہیں، ان فلموں کوبناتے ہوئے، کوئی سمجھوتہ نہیں کیاجاتا، نہ ہی باکس آفس کے نتائج کی پرواہ کی جاتی ہے، بس فلم کو اس کی پوری جمالیات کے ساتھ تخلیق کیا جاتا ہے، اس طرح کی فلموں میں، اگر مثال لی جائے، توباجی راؤ مستانی، گزارش، بلیک، دیوداس، ہم دل دے چکے صنم، خاموشی جیسی فلمیں ہیں، جبکہ زیر نظر فلم “سانوریا” بھی ان کا حسن نظر ہے، جس کو انہوں نے سینما کے پردے کے لیے فلمایا تھا۔ اب ان کی ہدایت کاری میں بننے والی اگلی فلم “پدماوتی” تاریخ کے ایک اہم کردار “علاؤ الدین خلجی” کے عہد کو تازہ کرنے کرنے کے لیے رواں برس کے اختتام پر نمائش کے لیے پیش کر دی جائے گی۔

 

فلم “سانوریا” اجنبی گلیوں میں ملنے والے پریمی جوڑے کی ہے، جن کی محبت نہایت اثر انگیز لیکن تکونی ہے۔ فلم کامرکزی کردار یعنی ہیرو، اس فلم میں اپنی ہیروئن سے محبت کرتا ہے، مگر اس کا محبوب کوئی اور ہے۔ اس کے باوجود وہ ہیرو کی محبت کوقدر کی نگاہ سے دیکھتی اوراس کو، دوستی کے تقاضوں میں نبھانے کی کوشش بھی کرتی ہے۔ اب صاحب دوستی بھلا محبوب کی محبت کابدل تو نہیں ہو سکتی۔ ایک طرف دیوانگی ہے، تو دوسری طرف عشق، دونوں میں گاڑھی چھنتی ہے، یہی اس فلم کا مرکزی خیال ہے۔ فلم کی کہانی کامرکزی خیال تو روس کے شہرہ آفاق ادیب “فیودور دستوئیفسکی” کی کہانی “وائٹ نائٹس” سے لیا گیا ہے، مگر سنجے لیلابھنسالی نے، اس میں اپنی محبتوں کے نیلے اور سنہرے رنگ ڈال کر، تصورکے پردے کو مزید خوبصورت کردیا۔ رہی سہی کسر موسیقی کے حسین امتزاج سے پوری ہو گئی ہے۔ فلم کے موسیقار مونٹی شرما ہیں۔

 

فلم کامنظر نامہ بے حد خوبصورت ہے۔ نیلے رنگ میں رنگے ہوئے درودیوار اور رات کے ماحول کے تناظر میں ایک شاندار سیٹ بنایا گیا، جس کے تخلیق کار “امنگ کمار”ہیں، جنہوں نے سنجے لیلا بھنسالی کے ساتھ اس سے پہلے، فلم “بلیک” میں بھی اپنی غیرمعمولی صلاحیتوں کوثابت کیا۔ نیم تاریکی میں گلیوں اوربل بورڈز کی تشکیل، ندی کے بہاؤ پرایک پل کی تعمیر، بڑے گھڑیال اوردیگر چیزوں سے سیٹ کو سجا دیا۔ اس پر چلتے پھرتے کردار آنکھوں کو بھلے لگتے ہیں۔ اس فلم میں جن اداکاروں نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا، ان میں مرکزی کرداروں میں رنبیر کپور، سونم کپورکے علاوہ دیگر اداکاروں میں سلمان خان، رانی مکھرجی، زہراسہگل، بیگم پارا اوردیگر شامل ہیں۔

 

کسی چھٹی کے دن، فراغت کے لمحوں میں، اس فلم کودیکھیے، مجھے یقین ہے، آپ کی ملاقات کسی نہ کسی گمشدہ احساس سے ضرور ہو جائے گی، یہی اس فلم کا کمال ہے اور سنجے لیلا بھنسالی کی ہدایت کاری کا جادو، سر چڑھ کر جو بول رہا ہے، دل کی تنہائی میں۔۔۔۔۔
Categories
تبصرہ

اے دل ہے مشکل

فلم کی دنیامیں کچھ کہانیاں فرض کرکے لکھی جاتی ہیں، مگر وہ کسی حقیقت پر مبنی بھی ہوسکتی ہیں۔ نہ جانے کیوں ”اے دل ہے مشکل” دیکھ کر یہی خیال وارد ہوا۔ اس کی کہانی کامرکزی خیال، وہ دوستی ہے، جس کو عشق کی پوشاک میں لپیٹ کر دکھایاگیاہے۔ جذبوں کی سردی گرمی کے موسم، اس کہانی سے ہوکر گزرے ہیں۔ احساسات کے اتارچڑھاؤ سے کہانی کوباندھ کر اس طرح پیش کیا گیاہے کہ فلم بین بھی بندھے رہیں گے، جب تک پوری کہانی سمجھ نہ لیں گے۔

 

ایک انتہائی روایتی انداز میں، کمرشل مقاصد کے تحت بنائی گئی، اس فلم نے بھی دل کے تاروں کو چھیڑدیاہے، یہ کمال کی بات ہے، ظاہر ہے، کمرشل چیزیں بنانے والے لوگ بھی تو انسان ہی ہوتے ہیں، کہیں نہ کہیں ان کا اپناپن بھی توچھلک پڑتاہوگا۔ یہی وجہ ہے، فلم میں کئی جگہ بے جا مناظر اور مکالموں کے باوجود کہیں کہیں دل کٹ سا گیا، کچھ مکالمے جان لیوا ہیں۔

 

کیا ہی اچھا ہوتا، اس فلم کو دوملکوں کی محبت کی علامت بھی بنا دیا جاتا، مگر افسوس نفرت انڈیل کر اپنی ہی بہترین کاوش کی تاثیر کوبالی ووڈ نے زائل کر دیا۔ ان تمام نفرتوں کے باوجود فلم سے نہ تو محبت کم ہوئی اورنہ پاکستانیت، نفرت کرنے والے کیاجانیں، تاثیر کی مار کیاہوتی ہے۔ اس فلم میں یہی مار ہے، جس کی ضربیں کبھی کبھی روح پر بھی پڑیں، مکالمے حروف کی معنویت میں پگھل کر اظہار میں کیا ڈھلے، ایسا محسوس ہوتاہے، کوئی سیال مادہ روح میں اتارا جا رہا ہے، اس آتشِ خیال کے بعد کہنے کو باقی کیا رہ جاتا ہے، پھر بھی بیان کیے دیتے ہیں۔

 

کہانی

 

فلم کی سب سے جاندار چیز اس کی کہانی ہے، جس کے مرکزی خیال کو ”کرن جوہر” نے تراشا۔ وہ اس فلم کے ہدایت کار اور شریک فلمسازبھی ہیں۔ کہانی کے مکالمے تخلیق کرنے میں “نرانجان لینگر” نے ساتھ نبھایا اوربہت حد تک اپنی کاوش میں کامیاب رہے، البتہ فلم کی کہانی میں کرن جوہر نے ماضی کی طرح، انگریزی ادب اورفلموں سے استفادہ کرنے کی روایت بھی برقرار رکھی، حیرت انگیز طورپر اس فلم کے لیے پاکستانی شعروادب سے بھی خوب استفادہ کیا۔

 

[blockquote style=”3″]

فلم کی سب سے جاندار چیز اس کی کہانی ہے، جس کے مرکزی خیال کو ”کرن جوہر” نے تراشا۔

[/blockquote]

اس فلم کی کہانی میں، پروین شاکر کے شعر”یہ بازی عشق کی بازی ہے”کاعکس بھی مکالموں میں کہیں کہیں دکھائی دیا، فیض احمد فیض کی غزل “مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ” کے گہرے رنگ بھی مکالمات میں نچھاور کیے گئے۔ فیاض ہاشمی کی “آج جانے کی ضد نہ کرو” کی صدائیں بھی جگائی گئیں، فواد خان اورعمران عباس نے اپنی اداکاری سے دل کو بھی موہ لیا۔ مرکزی کرداروں میں آیان، الیزے خان، صباخان، طاہر خان، ڈاکٹر فیصل، ڈی جے علی، جیسے مانوس نام بھی کہانی کا حصہ بنے، فریدہ خانم کی گائی ہوئی مدھر غزل ”آج جانے کی ضد نہ کرو”عجیب مگر بے حد لطف دیا۔ بلھے شاہ کا ذکر بھی آیا، مگر افسوس، مکمل جذبات کی فلم میں کئی کریڈیٹ ادھورے رہ گئے، کسی کاتذکرہ ملا اور کسی کانہیں، محبت کے احساس پر بننے والی فلم میں کافی کچھ نفرت کی نذرکر دیا گیا۔ اس کے باجود کہانی کااثر ابھی تک باقی ہے۔

 

کردار

 

کمرشل اداکاروں میں، رنبیرکپور مکمل اداکار ہے، نہ جانے ایک گلوکار کے کردار میں یہ کیوں اتنا جچتا ہے، اس طرح کے کردار وہ اپنے فلمی کیرئیر میں پہلے بھی ادا کر چکا ہے۔ اس سے قبل فلم “راک اسٹار” میں رنبیر نے ‘جے جے’ کے کردار میں اپنی اداکارانہ صلاحیتوں کامظاہرہ کیا۔ حسب توقع فلم کی کہانی میں جس قدر ٹوٹ کر جذبات کابیان چاہیے تھا، اس کو وہ ہی ادا کر سکتا تھا، اس کی اداکاری میں تصنع نہیں، اس کے اداکیے ہوئے مکالموں پریقین کرنے کو دل کرتا ہے۔

 

[blockquote style=”3″]

رنبیر کی اداکاری میں تصنع نہیں، اس کے اداکیے ہوئے مکالموں پریقین کرنے کو دل کرتا ہے۔

[/blockquote]

انوشکا شرما کی اداکاری ایک خاص بناوٹی انداز کی ہے، اس کی پہلی فلم”رب نے بنادی جوڑی”سے لے کر آج تک اس میں کوئی زیادہ تبدیلی نہیں آئی، مگر نہ جانے کہانی کا اثر تھا، جو اس فلم میں کہیں کہیں جذبات اس کی بناوٹ پر غالب آ گئے۔ حیرت انگیز طور پر ایشوریہ رائے نے اچھی اداکاری کامظاہرہ کیا، فلمی دنیا میں طویل عرصے بعد واپسی کا کرشمہ بھی ہے، اس نے اپنے تئیں کردار کو خوب نبھایا۔ فواد خان نے بھی اپنے مختصر لیکن مرکزی کردار میں اپنی اداکارانہ صلاحیتوں کابھرپور مظاہرہ کیا۔ مہمان اداکاروں میں شاہ رخ خان، عمران عباس، لیزاہیڈون، عالیہ بھٹ نے بھی اپنے کردار بخوبی نبھائے۔

 

رنبیر اور ایشوریہ نے اپنے کردار بخوبی نبھائے
رنبیر اور ایشوریہ نے اپنے کردار بخوبی نبھائے
فلمسازی و ہدایت کاری

 

فلم سازی کے شعبے میں تین پروڈیوسروں، اپرووا مہتا، ہیرویش جوہر اور کرن جوہر نے مل کر یہ فلم بنائی، سوکروڑ کے بجٹ میں تین بڑے شہروں، ویانا، پیرس اور لندن میں اس کی عکس بندی کی۔ تمام لوکیشن کرن جوہر کی دیگر فلموں کی طرح خوبصورت اور رومانوی تھیں۔ فلم کی ہدایت کاری میں کہیں کہیں جھول دکھائی دیئے، جیسے فلم کی ہیروئن کاتعلق لکھنو کے ایک مسلمان خاندان سے دکھایا گیاہے، مگر فلم میں اس کے کردار میں نہ تو مسلم ثقافت کا کوئی شائبہ محسوس ہوا اور نہ ہی وہ لکھنو والی کوئی بات دکھائی دی۔ ہدایت کاروں کے ذہن سے ـ”رب نے بنادی جوڑی“والی انوشکاشرما نکل نہیں رہی۔ اس لیے وہی اکھڑا اور دوٹوک انداز باربار دہرایا جاتا ہے۔

 

موسیقی

 

فلم کے موسیقار “پریتم”ہیں، جن کی صلاحیتوں کا اعتراف نہ کرنا تو ناانصافی ہوگی، لیکن اس موسیقار کے ساتھ یہ مسئلہ ہے کہ یہ دوسرے لوگوں کی چیزوں پر ہاتھ صاف کرنے کے بھی ماہر ہیں، بغیر کریڈٹ کے کافی کچھ اپنے نام سے بالی ووڈ میں جعلی نوٹ کی طرح بغیر بتائے چلا دیتے ہیں، جس طرح اس فلم میں انہوں نے ایک معروف پاکستانی غزل ”آج جانے کی ضد نہ کرو” کے ساتھ کیا۔ فلم کی تشہیر میں اس گیت کا کہیں تذکرہ ہی نہیں، بس اس کو ذرا ری میکس کر کے اپنے کھاتے میں ڈال لیا، یہ کوئی اچھی بات نہیں، جبکہ اس فلم کے دیگر گیت اچھے ہیں، البتہ کسی کا کریڈٹ ہے، تو وہ دینے میں بخل سے کام نہیں لینا چاہے، نہ جانے پریتم یہ ہنر کب سیکھ پائیں گے۔

 

گلوکاروں اورگیت نگاروں نے اپناکام بخوبی اداکیاہے، گلوکاروں میں ارجیت سنگھ امیت مشرا، شلپا راؤ، جونیتا گاندھی، بادشاہ، نقش عزیز، پردیپ سنگھ سرن، ایش کنگ اورششویت سنگھ نے اپنی آوازوں سے گیتوں کو سجایااورگیت نگاروں میں بالخصوص مرکزی گیت ”اے دل ہے مشکل” کے گیت نگار ”امیتابھ بھٹاچاریہ” نے خوب لکھااوردوسرے گیت ”بلھیا” کی گیت نگاری اوردھن نے دل کو چھو لیا۔ ان تمام گیتوں کی دھنوں سے لے کر عکس بندی تک سب اچھا کی رپورٹ ہے۔

 

رنبیر ایک گلوکار کا کردار بخوبی نبھاتے ہیں
رنبیر ایک گلوکار کا کردار بخوبی نبھاتے ہیں
حرف آخر
فلم نے ریلیز سے پہلے ہی مقبولیت حاصل کر لی تھی، کیونکہ رواں برس پاکستان اور انڈیا کے مابین تلخیوں نے زور پکڑا، توساران زلہ پاکستانی فنکاروں پر اترا، جس میں سرفہرست، یہ فلم متاثر ہوئی۔ کرن جوہرنے بڑی منتوں سماجتوں کے بعد، انڈیامیں سیاسی پنڈتوں سے اس فلم کو ریلیز کرنے کی اجازت لی، اس طرح یہ فلم ریلیز ہوئی اورباکس آفس پر اپنی کامیابی کے جھنڈے گھاڑ دیے۔ لکھنوکے علاوہ، لندن، پیرس اورویانامیں فلمائی جانے والی فلم کے پس منظر بھی انتہائی حسین اور کہانی کے لحاظ سے رومانوی تھے، جنہوں نے کہانی کا حسن مزید نکھار دیا۔ فلمی ناقدین نے یہ بھی کہا، یہ فلم کرن جوہر کی گزشتہ دو فلموں “کل ہو نہ ہو”اور”کبھی الوداع نہ کہنا”کا سیکوئل محسوس ہوئی۔ میرے خیال میں کرن جوہر اپنی ہر فلم ایک احساس سے دوسرا احساس تراش کربناتے ہیں، اس لیے ان کی فلموں مسابقت محسوس ہوتی ہے۔

 

[blockquote style=”3″]

اس فلم کو دیکھتے ہوئے دماغ کی بتی بند اور دل کاجگنو ٹمٹماتا رہے گا توفلم اورلطف دے گی، اس بات کی ضمانت ہے۔

[/blockquote]

آپ نے زندگی میں کوئی ایسا دوست بنایا ہے، جو کسی محبوب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہو اور پھر اسے کئی بار کھویا اور پایا بھی ہو، خاص طور پر وہ آپ کی بے وقوفیوں کا ہم راز ہو، دیوانگی کے احساس سے بھی واقف ہو، مگر آپ کی سمت آنے کی بجائے، مخالف سمت کی طرف چلا جائے، تو سمجھ لیں، یہ فلم آپ کے دیکھنے کی ہے، اس فلم کو دیکھتے ہوئے دماغ کی بتی بند اور دل کاجگنو ٹمٹماتا رہے گا توفلم اورلطف دے گی، اس بات کی ضمانت ہے۔
Categories
تبصرہ

“بینجو”؛ موسیقی کے دلدادہ سینما بینوں کے لیے ایک اچھی فلم

“بینجو” ایک میوزیکل ڈرامہ ہے۔ اگرچہ اس میں ایکشن کا تڑکا بھی لگایا گیا ہے۔ مگر مجموعی طور پر یہ فلم میوزیکل ڈرامہ یانرا سے ہی تعلق رکھتی ہے۔ اس کی کہانی پاکستانی فلم “ڈانس کہانی” سے کافی مماثل ہے۔ مگر سکرین پر اس کی پروجیکشن بے حد غیر متاثر کُن رہی؛ یعنی بینجو کا اسکرین پلے کمزور ہے۔

 

اداکاری کے شعبے میں رِتیش دیش مُکھ نے قدرے بہتر کام کیا مگر ان کا کیریکٹر ہاف-بیکڈ رہ گیا۔ یعنی نہ وہ ٹھیک سے بھتہ خور اسٹیبلش ہو پائے اور نہ ہی کسی طرح فطری صلاحیتوں سے مالامال ایک بینجو بجانے والے فنکار۔ ان کی نسبت دھرمیش یلندے کا کیریکٹر بہتر اور میچیور انداز میں سامنے آتا ہے۔ ایک نیچرل ڈرَمَر؛ میوزک اور ڈرم بِیٹس جس کی شریانوں میں رواں ہوں. مائکی کے کردار میں ‘لیوک کینی’ کی اداکاری بھی بہتر رہی، مگر ان کا کردار زیادہ دلچسپ ہے۔ ایک فیصلہ کُن مگر خاموش کردار رِتیش کو بینجو سکھانے والے بابا جی کا ہے۔ اُن کی اداکاری سے کہیں زیادہ ان کا کیریکٹر متاثر کُن رہا۔

 

بمبئے کے سَلَم ایریاز سے تعلق رکھنے والوں کے میک اپ قدرے بہتر کیے گئے۔ سَلَم ایریاز کی تفاصیل عمدگی سے عکسبند کی گئیں۔”بینجو” کے مکالمے غیر متاثر کُن نہیں۔ اچھے ہیں۔ البتہ نہ تو ان مکالموں کی مدد سے کامیڈی شامل کرنے کی جو کوشش کی گئی وہ کامیاب ہوئی؛ اور نہ ہی بعض مقامات پر غیر ضروری طور پر بولڈ مکالموں نے فلم کے تاثر کو بڑھایا بلکہ معاملہ برعکس رہا۔ بُری کامیڈی اور فحش مکالموں نے فلم کی لطافت کو پامال کیا۔

 

نرگس فخری اسکرین پر اگرچہ اچھی لگیں؛ گلیمرس بھی دکھائی دیں. مگر یہ رول اگر کسی اصلی گوری کو دے دیا جاتا تو بہت بہتر ہوتا۔ یعنی مِس کاسٹنگ ہو گئی نرگس کے معاملے میں۔

 

بمبئے کے سَلَم ایریاز سے تعلق رکھنے والوں کے میک اپ قدرے بہتر کیے گئے۔ سَلَم ایریاز کی تفاصیل عمدگی سے عکسبند کی گئیں۔”
ایڈیٹنگ کے شعبے میں ویوژل ایڈیٹنگ کا پلڑا آڈیو/ساؤنڈ ایڈیٹنگ کے مقابلے میں بھاری رہا۔ بروقت اور دلکش سلو موشنز، بِیٹ کے مطابق کَٹس اور پرانے وائپ اسٹائل کو عُمدگی سے استعمال کیا گیا۔ فیڈ اِن فیڈ آؤٹ بھی بر محل استعمال ہوئے اور ان کے استعمال کا مقصد پُورا ہوا یعنی توقف کے بعد سیکوئینس کی تبدیلی۔

 

کلاسک اسٹائل ایڈیٹنگ کو “فرِیکی علی” میں بھی عُمدگی سے اور تواتر سے استعمال کیا گیا۔ “بینجو” میں ایک جگہ “گرافِک میچ کَٹ” کو عمدگی سے استعمال کیا گیا۔ ہیرو کی بوتل سے شراب گلاس میں گرنا شروع کرتی ہے۔ یہاں سے کٹ کر کے دوسری لوکیشن کا گلاس بھرتا دکھایا جاتا ہے جو ولن کا ہے۔ فی زمانہ یہ کَٹ استعمال نہیں ہوتا۔ آؤٹ ڈیٹڈ لگتا ہے۔ مگر یہاں بھلا معلوم ہوا۔

 

عام سینما بین کی نظر سے دیکھا جائے تو یہ ایک فلاپ فلم ہے۔ اس کا ساؤنڈ ڈیزائن بھی کچھ زیادہ اچھا نہیں۔ مگر جہاں جہاں ڈرم اور بینجو بجے، سینما جھومنے لگا؛ جیسے کہ ‘اوم گنپتی’؛ ‘رحم و کرم’ اور بالخصوص ‘راڑا راڑا’ کے ٹریکس میں۔ اس کے علاوہ، جب رِتیش کے گروپ کی تصویر اخبار میں شائع ہوتی ہے تو بستی کے لوگ دیکھ دیکھ خوش ہو رہے ہوتے ہیں۔ اس دوران میں پس منظر میں بینجو بجتا رہتا ہے۔ جس پر سینما ہال میں بیٹھے فلم بینوں کے پاؤں دھیرے دھیرے تھرکنے لگتے ہیں۔ کاش بینجو کو بطور BGM زیادہ سیکوئینسز میں بجایا گیا ہوتا۔

 

میوزیکل فلم تو ایسی ہی ہوتی ہے کہ سارا عرصہ میوزک کا سحر نہ ٹُوٹے۔ میوزک بجے نہ بجے، اس کا جادو فلم بین پر قائم رہے۔ جس کا ہم نے سیّد نُور کی کلاسیک فلم “سرگم” میں تجربہ کیا، ساری فلم کلاسیکی موسیقی کے شہد میں ڈُوبی محسوس ہوتی ہے۔ مگر بدقسمتی سے “بینجو” ایسا تجربہ دینے میں ناکام رہی۔ اگرچہ گاہے بگاہے ایسے مقامات آتے رہے، مگر بینجو کا بطور ایک ساز کے سحر طاری نہیں ہو سکا۔

 

اس فلم کی سینماٹوگرافی اچھی ہے۔ دُھول اور روشنی کے کمبینیشن میں ایکشن بہتر انداز میں عکسبند کیا گیا۔ فریمنگ بھی عُمدہ ہے۔
اس فلم کی سینماٹوگرافی اچھی ہے۔ دُھول اور روشنی کے کمبینیشن میں ایکشن بہتر انداز میں عکسبند کیا گیا۔ فریمنگ بھی عُمدہ ہے۔ مجموعی طور پر لائٹ بھی بہتر ہے۔ کاسٹنگ بھی ملی جُلی ہے۔ زیادہ تر اچھی ہے۔ مگر چونکہ یہ اچھائیاں ٹکڑیوں میں بٹی ہوئی ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ مل کر ایک کُل بنانے میں ناکام رہتی ہیں۔ لہٰذا یہ فلم ایک سینما پِیس کی حیثیت سے غیر متاثر کُن رہتی ہے۔

 

بھارت مسلسل ایسی فلمیں بنا رہا ہے، جس سے ان کے عوام میں بھارت کے بارے میں مثبت جذبات اُبھرتے ہیں۔ ان میں اپنے مُلک کے بحرانوں اور مسائل کے بارے میں شعور بیدار ہوتا ہے۔ اور ان میں ان چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کا ارادہ جنم لینے کے امکانات پیدا ہوتے ہیں۔ ‘فلائنگ جٹ’ ہو، ‘سلطان’ ہو یا ‘پنک’۔۔۔۔۔۔ حتّٰی کہ باجی راؤ مستانی ایسے ماسٹر پِیس میں بھی سب میں ‘ہمارا بھارت مہان’ کا پیغام پوشیدہ ہے۔ پاکستان میں بھی ایسی فلمیں بن رہی ہیں۔ مگر اکا دکا؛ جیسے مُور، O21، نامعلوم افراد، میں ہوں شاہد آفریدی، وار، ایکٹر ان لاء وغیرہ۔ پاکستانی سینما کو سُلطان اور ایکٹر ان لاء ایسی فلموں کی زیادہ ضرورت ہے۔ سو، یہاں بجائے تیری میری لوّ اسٹوری، جاناں، ہجرت، بدل، اور سوال سات سو کروڑ ڈالر کا جیسی بے مزہ، بے رنگ بے بو بے ذائقہ فلموں کے؛ مُور اور نامعلوم افراد ایسی فلموں کی زیادہ ضرورت ہے۔
Categories
تبصرہ

پِنک: ایک عُمدہ سوشل ڈرامہ

بدلتے اور مسلسل ترقّی کرتے بھارتی سماج کو جن نئے چیلنجز کا سامنا ہے، انیرودھا رائے کی نئی فلم “پِنک” اس کا ایک رسپانس ہے۔ بھارتی بزرجمہر سماجی تبدیلی کی ضِمن میں سینما کی اہمیّت کا ٹھیک ٹھاک ادراک رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں آئے روز ایسی فِلمیں دیکھنے کو مِلتی ہیں جو تفریح کے ساتھ ساتھ سماج کو بہتری کی جانب مائل کرنے کا پیغام بھی اپنے اندر سموئے ہوتی ہیں۔

 

اس سلسلے میں کئی ایک مثالیں دی جا سکتی ہیں۔ ایک تازہ مثال ڈرامہ یانرا کی فِلم “پِنک” بھی ہے۔ اس میں سِوائے امیتابھ بچن کے، کوئی دوسرا سُپرسٹار نظر نہیں آتا. مگر پرفارمنسز سبھی کی نہایت پاورفُل ہیں۔

 

لیڈ رول میں ‘تاپسی پنّو’ نے اپنی خوبصورت اداکاری سے فلم بینوں کو متاثر کیا۔ کیرتی اور آندریا نے بھی جب جب موقع ملا، اچھی اداکاری کی۔ پیوش مشرا نے ڈَیوِلز ایڈووکیٹ کے رول میں اپنی بے ساختہ اداکاری سے جان ڈال دی.

 

بِگ بِی کو تو ‘شُجیت سرکار’ نے کاسٹ ہی اس لیے کیا ہوگا کہ جہاں جہاں پنچ مارنا ہو، بِگ بِی کی صلاحیتوں سے فائدہ اُٹھایا جائے۔ ورنہ اچھے ایشو پر بنائی گئی فلم غیر متاثر کُن انداز میں ختم ہو جانے کا خطرہ تھا۔ سُچیت بِگ بِی پر ایک ڈاکیومنٹری بھی بنا رہے ہیں۔ اور مدراس کیفے انہی کی ہدایتکاری کا نمونہ تھی۔ مگر شُجیت نے “پِنک” کو پروڈیوس کیا ہے، ڈائریکٹر اس کے انیرودھا رائے ہیں۔ اس فلم کی وجہ تسمیہ یعنی اس کا نام “پِنک” رکھنے کی وجہ اس کا موضوع ہے؛ تیزی سے بدلتے جدید بھارتی سماج میں عورت کو درپیش نُمایاں مشکلات۔۔۔۔۔۔۔

 

اس فلم کی ایڈیٹنگ میں خامیاں ہیں۔ اسکرپٹ تو اچھا ہے مگر اسکرین پلے ڈھیلا ہے۔ مکالمے البتہ بہت عُمدہ ہیں۔ سیٹ سادہ اور کاسٹیومز مناسب. اسکور بھی مناسب ہی رہا. ٹریکس اچھے ہیں بالخصوص ‘کاری کاری’ کی شاعری اچھی لگی۔ سینماٹوگرافی بتا رہی تھی کہ فلم کا مقصد صرف اور صرف کہانی میں پنہاں سندیس کی ترسیل ہے۔ فلم بین کے جمالیاتی حَظ کو ملحوظِ خاطر نہیں رکھا گیا۔

 

اگر آپ سینما کے لیے تیار کردہ عُمدہ سوشل ڈرامہ دیکھنا چاہتے ہیں، تو “پِنک” آپ کو مایوس نہیں کرے گی۔